ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ذرائع کے مطابق ایران کے عبوری وزیرِ دفاع مجید بن الرضا اسرائیلی اور امریکی حملے میں شہید ہوگئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجید بن الرضا نے سابق وزیرِ دفاع امیر نصیر زادہ کی شہادت کے دو روز بعد عہدہ سنبھالا تھا۔ ان کی ہلاکت کے بعد ایران کی عسکری قیادت میں ایک بار پھر بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے۔
تاحال ایرانی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ تصدیق جاری نہیں کی گئی، جبکہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
Blog
-

ایرانی عبوری وزیرِ دفاع مجید بن الرضا حملے میں شہید
-

خلیجی ممالک کے پاس میزائل گرانے والے انٹرسیپٹرز کا ذخیرہ ختم ہونے کا خدشہ
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں دفاعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی فضائی کارروائیاں موجودہ رفتار سے “ایک یا دو ہفتوں سے زیادہ” جاری رہیں تو خلیجی ممالک کے لیے اپنے دفاع کو برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے بلوم برگ کی شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات اورقطراپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہے ہیں۔ تاہم دونوں ممالک کے پریس دفاتر نے الگ الگ بیانات میں واضح کیا کہ ان کے فضائی دفاعی نظام کمزور نہیں ہوئے اور ان کے پاس دفاعی سازوسامان وافر مقدار میں موجود ہے۔اماراتی وزارتِ دفاع کے مطابق اب تک 182 میں سے 169 میزائلوں کو فضا میں تباہ کیا جا چکا ہے جبکہ 645 ڈرون مار گرائے گئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 44 میزائل یا ڈرون ریاستی حدود کے اندر آ کر گرے۔دوسری جانب قطر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 104 میں سے 101 میزائل ناکارہ بنائے اور 39 میں سے 24 ڈرون تباہ کیے۔
اگرچہ یہ شرح کامیابی بظاہر مؤثر دکھائی دیتی ہے، لیکن دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس رفتار کو زیادہ عرصے تک برقرار رکھنا مشکل ہو گا۔سنگاپور کی National University of Singapore سے وابستہ مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے فیلو Jean-Loup Samaan نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا “ایرانی حملوں کی شدت کو دیکھتے ہوئے (متحدہ عرب امارات) ایک یا دو ہفتوں سے زیادہ اپنے موجودہ دفاعی وسائل پر انحصار نہیں کر سکتے۔”
دوسری جانب برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کے دفاعی ایڈیٹر Shashank Joshi کے مطابق ایران کے پاس مختلف رینج کے تقریباً 2,500 میزائل موجود ہونے کا اندازہ ہے، جبکہ “شاہد” ڈرونز کی درست تعداد واضح نہیں۔جوشی نے خبردار کیا کہ اگر اسی نوعیت کے حملے مزید ایک ہفتہ جاری رہے تو “انتہائی جدید انٹرسیپٹر میزائلوں کی شدید قلت” پیدا ہو سکتی ہے۔
ادھر لندن میں قائم تھنک ٹینک ے سینئر فیلو Hasan Alhasan کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک ممکنہ طور پر دفاعی حکمتِ عملی سے ہٹ کر جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کرنے پر بھی غور کر سکتے ہیں۔ایک پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا “اگر خلیجی ریاستیں اپنی جدید اور متنوع فضائی افواج کو متحرک کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو میدان کسی حد تک کھلا ہو سکتا ہے۔”
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتِ حال نہ صرف خلیجی ممالک کے دفاعی ذخائر پر دباؤ ڈال رہی ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اگر حملوں کا سلسلہ طویل ہوا تو اس کے اثرات تیل کی منڈیوں، فضائی حدود کی سیکیورٹی اور عالمی سفارتی کوششوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کی صورتِ حال کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
تاہم یواے ای اور قطر نے انٹر سیپٹرز کی کمی سے متعلق خدشات مسترد کر دیے،یواے ای اور قطر کا کہنا ہے کہ خلیجی اور عرب ریاستوں کے پاس امریکی فوجی نظام کے ساتھ دنیا کے سب سے جدید فضائی دفاعی نظام موجود ہیں، امریکی اخبار کے مطابق یوکرین کی 4 سالہ جنگ میں معاونت کے بعد پینٹاگون کے پاس بھی دفاعی نظام پیٹریاٹ کے میزائلوں کا ذخیرہ کم ہوتا جا رہا ہے ۔
-

ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں شہادتوں کی تعداد 787 ہوگئی، ایرانی ہلال احمر
ایرانی ہلال احمر کے مطابق ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 787 ہو گئی ہے۔
ہلال احمر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں کے دوران 153 ایرانی شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ادارے کے مطابق ان شہروں میں 500 سے زائد مقامات پر ایک ہزار سے زیادہ فضائی حملے کیے گئے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور طبی سہولیات فراہم کر رہی ہیں جبکہ نقصانات کا مکمل تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے۔
تاحال امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ان اعداد و شمار پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ -

مجتبیٰ خامنہ ای کی شہادت کی خبریں بے بنیاد قرار، ایرانی میڈیا کی وضاحت
ایرانی میڈیا نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کی شہادت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای زندہ اور مکمل طور پر صحتیاب ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ وہ ملک کے اہم امور کی نگرانی کر رہے ہیں اور معمول کے مطابق ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ بعض غیر ملکی میڈیا اداروں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ حالیہ حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ ان کے صاحبزادے بھی جاں بحق ہو گئے ہیں، تاہم ایرانی میڈیا نے ان اطلاعات کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔ -

پاکستانی فضائی حدود ایران پر حملے میں استعمال ہونے کا بے بنیاد دعویٰ
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہو رہی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران پر حالیہ حملے میں پاکستانی فضائی حدود استعمال کی گئی۔ پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ایک کمانڈر نے پاکستان کو اس اقدام پر نتائج بھگتنے کی دھمکی دی۔
تحقیقی جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ اس دعوے کی تائید کسی مستند سرکاری بیان یا معتبر بین الاقوامی خبر ایجنسی کی رپورٹ سے نہیں ہوتی۔ تاحال نہ ایرانی حکام کی جانب سے ایسا کوئی مصدقہ بیان جاری کیا گیا ہے اور نہ ہی پاکستانی حکومت کی طرف سے اس نوعیت کے کسی واقعے کی تصدیق سامنے آئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حساس علاقائی حالات میں سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ دعوے تیزی سے پھیل جاتے ہیں، اس لیے عوام کو چاہیے کہ وہ معلومات شیئر کرنے سے قبل مستند ذرائع سے تصدیق کریں۔
-

ایران کو چین و روس کی حمایت، اسرائیل کے جوہری آپشن پر خدشات: سابق امریکی کرنل
امریکی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ریٹائرڈ امریکی کرنل ڈگلس میکگریگر نے دعویٰ کیا ہے کہ چین اور روس ایران کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور مبینہ طور پر سیٹلائٹ انٹیلی جنس فراہم کر رہے ہیں، جس کے باعث ایران کو حالیہ جھڑپوں میں برتری حاصل ہوئی۔
پروگرام کے میزبان میٹ گیٹز کے سوال کے جواب میں میکگریگر نے کہا کہ چین اور روس بظاہر براہ راست جنگ میں شامل نہیں مگر پس پردہ تعاون کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایران ایک بڑی آبادی اور وسیع رقبے کا حامل ملک ہے جس کی دفاعی صلاحیتیں برقرار ہیں اور اس کے میزائل نظام کو نمایاں نقصان نہیں پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کو لاجسٹک چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ فوجی کارروائیوں کے لیے مسلسل سپلائی درکار ہوتی ہے، جبکہ ایران ایک زمینی طاقت ہونے کے باعث اندرونی وسائل پر زیادہ انحصار کر سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے اور بعض صورتوں میں امریکی افواج کو متبادل بندرگاہوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکا کو لاجسٹک مشکلات کا سامنا ہے اور بحری ضروریات کے لیے بھارت کی بندرگاہوں سے رجوع کیا جا رہا ہے، جو ان کے بقول مثالی صورتحال نہیں۔
میکگریگر نے خبردار کیا کہ اگر کشیدگی طویل عرصے تک جاری رہی تو خطے میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ ان کے بقول اصل سوال یہ ہے کہ اسرائیل کب اس مرحلے پر پہنچے گا جہاں وہ سخت ترین آپشنز پر غور کرے۔
انہوں نے کہا کہ اس ممکنہ پیش رفت پر عالمی قیادت کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کیونکہ کسی بھی بڑے فیصلے کے خطے اور دنیا پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ -

نطنز جوہری مرکز کو شدید نقصان: سیٹلائٹ تصاویر سے انکشاف، تین اہم عمارتیں تباہ
بی بی سی ویریفائی (BBC Verify) اور انٹیلیجنس کمپنی ‘وینٹر’ (Venture) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین سیٹلائٹ تصاویر نے ایران کے حساس ترین جوہری مرکز، نطنز کو پہنچنے والے نقصان کی تصدیق کر دی ہے۔ ان تصاویر کے گہرے تجزیے سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ حملے کے نتیجے میں جوہری مرکز کی تین اہم عمارتیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔
تجزیے کے اہم نکات:
اسٹریٹجک اہمیت: رپورٹ کے مطابق، یہ تینوں عمارتیں زیرِ زمین ’افزودگی سینٹر‘ اور یہاں موجود گاڑیوں و اہلکاروں کے لیے استعمال ہونے والے داخلی و خارجی راستوں سے براہِ راست جڑی ہوئی تھیں، جس سے ان تنصیبات کی حساسیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ریڈیولوجیکل خدشات: دوسری جانب، انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ ان حملوں کے بعد فی الحال کسی قسم کے ‘ریڈیولوجیکل نتائج’ (یعنی ماحول میں تابکاری کے خطرناک اخراج) کا خدشہ نہیں ہے
ماضی کے حملوں سے موازنہ: یہ تصاویر نطنز پر گذشتہ برس ہونے والے امریکی حملے کے بعد کے مناظر سے کافی مماثلت رکھتی ہیں، جو خطے میں جاری کشیدگی اور ایران کی جوہری تنصیبات پر مسلسل حملوں کی شدت کو ظاہر کرتی ہیں۔
خطے میں جاری موجودہ کشیدہ صورتحال کے تناظر میں، نطنز کے مرکز کو پہنچنے والا یہ نقصان ایران کے جوہری پروگرام اور عسکری صلاحیتوں کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔ -

اڈیالہ جیل: بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے خصوصی ملاقات
اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کی طبی حالت کے حوالے سے پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پمز (PIMS) اور الشفاء ٹرسٹ آئی اسپتال کے ماہرین پر مشتمل ایک خصوصی میڈیکل ٹیم نے ان کی متاثرہ آنکھ کا طبی معائنہ کیا۔ اس ٹیم میں ریٹینا اسپیشلسٹ ڈاکٹر ندیم قریشی کے ساتھ ڈاکٹر عارف اور ڈاکٹر اوصل بھی شامل تھے۔ اس ٹیم نے جدید طبی آلات اور ضروری سہولیات سے لیس گاڑی کے ساتھ جیل کا دورہ کیا، جہاں جیل اسپتال کے عملے نے بھی ان کی معاونت کی۔ ڈاکٹروں نے بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا تفصیلی فالو اپ چیک اپ مکمل کیا اور جانچ کے بعد وہاں سے روانہ ہو گئے۔
طبی معائنے کے عمل کے ساتھ ساتھ جیل حکام نے بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ، بشریٰ بی بی کے ساتھ ان کی ملاقات بھی کرائی۔ یہ ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں منعقد کی گئی، جو جیل مینوئل کے طے شدہ ضوابط کے عین مطابق تھی۔ یہ ملاقات تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی، جس کے دوران بشریٰ بی بی نے ان کی طبیعت اور آنکھ کے طبی معائنے کے بارے میں دریافت کیا۔ اس تمام عمل کے دوران جیل انتظامیہ سیکیورٹی اور دیگر انتظامی امور کی نگرانی کرتی رہی۔ -

ایران میں شدید بمباری کا سلسلہ جاری: گزشتہ 24 گھنٹوں میں 96 افراد شہید
ایران کے مختلف شہروں پر جاری شدید فضائی حملوں اور عسکری کارروائیوں کے نتیجے میں انسانی نقصان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں ہونے والی بمباری میں 96 افراد شہید ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق، یہ ہلاکتیں شہری آبادیوں اور حساس سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے باعث ہوئیں۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، جبکہ امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں۔ یہ گزشتہ چند دنوں میں ہونے والا سب سے زیادہ جانی نقصان ہے، جس نے ملک بھر میں شدید اضطراب کی فضا پیدا کر دی ہے۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے شہریوں کی ہلاکتوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور جنگ کے فریقین سے انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے فوری جنگ بندی یا محفوظ راہداریوں کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔ -

خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کریں گے: متحدہ عرب امارات کا میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد سخت ردعمل
متحدہ عرب امارات (UAE) نے اپنی خودمختاری اور دفاعی صلاحیتوں کے حوالے سے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے ہر حال میں تیار ہیں۔ وزارت خارجہ میں ایک اہم مشترکہ پریس بریفنگ کے دوران وزارت دفاع، خزانہ اور نیشنل ایمرجنسی اتھارٹی کے حکام نے ملک کی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔
ترجمان وزارت دفاع نے حملوں کی سنگینی اور دفاعی کارروائیوں کا ڈیٹا جاری کیا:
میزائل حملے: ایران کی جانب سے مجموعی طور پر 186 میزائل داغے گئے، جن میں سے 172 کو فضا میں کامیابی سے تباہ کیا گیا، 13 میزائل سمندر میں گرے، جبکہ صرف 1 میزائل اماراتی سرزمین پر گرا۔
ڈرون حملے: اس جارحیت کے دوران 812 ڈرونز استعمال کیے گئے، جن میں سے 755 کو اماراتی فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی مار گرایا۔
پریس بریفنگ میں حکام کا کہنا تھا کہ "ہم نے اپنی خودمختاری پر نہ کبھی سمجھوتہ کیا ہے اور نہ کریں گے۔” ترجمان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ متحدہ عرب امارات اپنی سرزمین کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گا اور ملک کے پاس طویل عرصے تک اپنے دفاع کو جاری رکھنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔