Baaghi TV

Category: باغی ٹی وی الیکشن سیل

باغی ٹی وی کی طرف سے عام انتخابات 2024 کے لیے خصوصی کوریج

  • بلوچستان اسمبلی میں 31 فیصد نئے چہرے  پہنچے

    بلوچستان اسمبلی میں 31 فیصد نئے چہرے پہنچے

    کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی میں 31 فیصد نئے چہرے پہنچے ہیں، 69 فیصد ایسے اراکین ہیں جو دوسری سے آٹھویں بار بلوچستان اسمبلی کا حصہ بننے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : 41 فیصد نومنتخب ارکان 2018 کی بلوچستان اسمبلی کا بھی حصہ تھے،عام انتخابات 2024 میں بلوچستان اسمبلی کی 51 جنرل نشستوں پر انتخاب ہوا ہے جبکہ 14 مخصوص نشستیں بعد میں پارٹی پوزیشن کے حساب سے تقسیم کی جائیں گی۔

    اعداد و شمار کے مطابق 51 جنرل نشستوں پر منتخب ہونے والوں میں 16 ارکان ایسے ہیں جو پہلی مرتبہ بلوچستان اسمبلی کا حصہ بنیں گے،نئے چہروں میں تین کا تعلق جے یو آئی، تین کا پیپلز پارٹی اور دو کا مسلم لیگ ن سے ہے۔

    جمعیت علمائے اسلام کے سید ظفرآغا، فضل قادر مندوخیل، ڈاکٹر محمد نواز کبزئی، پیپلزپارٹی کے سردار زادہ فیصل جمالی، صمدخان گورگیج اور عبیداللہ گورگیج، ن لیگ کے زرک خان مندوخیل اور برکت علی رند پہلی مرتبہ بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں، نیشنل پارٹی کے خیر جان بلوچ، جماعت اسلامی کے عبدالمجید بادینی، حق دو تحریک کے مولانا ہدایت الرحمان، تین آزاد امیدوار بخت محمد کاکڑ، ولی محمد نورزئی اور لیاقت لہڑی بھی پہلی مرتبہ ایوان کا حصہ بنے ہیں، ان میں فیصل جمالی، صمد خان گورگیج، زرک خان مندوخیل اور برکت علی رند کا تعلق سیاسی خاندانوں سے ہیں اور ان کے بھائی، والد، سسر یا دوسرے قریبی رشتہ دار ایوانوں کا حصہ رہ چکے ہیں۔

    بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی اور سینیٹر پرنس احمد عمر زئی اگرچہ ایوان بالا کا حصہ ہیں مگر وہ پہلی مرتبہ بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں، بلوچستان اسمبلی کی 51 جنرل نشستوں پر منتخب ہونے والے اراکین میں سے 35 لوگ یعنی 69 فیصد پرانے چہرے ہیں ان میں 15 ارکان دوسری، سات ارکان تیسری، سات چوتھی، دو ارکان پانچویں بار، دو ارکان چھٹی بار اور دو ارکان آٹھویں بار بلوچستان اسمبلی کے رکن بنے ہیں۔

    دوسری بار بلوچستان اسمبلی پہنچنے والوں میں پیپلز پارٹی کے سرفراز احمد بگٹی، میر نصیب اللہ مری اور علی مدد جتک، اور مسلم لیگ ن کے سابق وزیراعلیٰ جام کمال خان اور شعیب نوشیروانی شامل ہیں، جمعیت علمائے اسلام کے زابد علی ریکی، اصغر ترین، یونس عزیز زہری، خلیل الرحمان دمڑ، غلام دستگیر بادینی، بلوچستان عوامی پارٹی کے ضیاء اللہ لانگو، عوامی نیشنل پارٹی کے ملک نعیم بازئی، آزاد امیدوار اسفند یار کاکڑ، عبدالخالق اچکزئی اورمولوی نور اللہ دوسری بار بلوچستان اسمبلی پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

    پیپلز پارٹی کے سردار سرفراز ڈومکی، ظہور احمد بلیدی اور میر اصغر رند، ن لیگ کے محمد خان طور اتمانخیل، جمعیت علمائے اسلام کے ظفراللہ زہری اور نیشنل پارٹی کے رحمت بلوچ تیسری بار بلوچستان اسمبلی کے رکن بنے ہیں، سات ارکان چوتھی بار بلوچستان اسمبلی پہنچے ہیں ان میں سابق وزیراعلیٰ جمعیت علمائے اسلام کے نواب محمد اسلم رئیسانی، مسلم لیگ ن کے سردار عبدالرحمان کھیران، محمد سلیم کھوسہ اور سردار مسعود لونی، پیپلز پارٹی کے محمد صادق عمرانی، بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی ) کے اسد بلوچ اور عوامی نیشنل پارٹی کے انجینیئر زمرک خان اچکزئی شامل ہیں۔

    نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ سردار اختر مینگل پانچویں مرتبہ بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں، بلوچستان عوامی پارٹی کے نوابزادہ طارق مگسی اور مسلم لیگ ن کے میر عاصم کرد گیلو چھٹی بار بلوچستان اسمبلی میں اپنے حلقوں کی نمائندگی کریں گے۔

    بلوچستان اسمبلی کے سب سے سینیئر ارکان میں سابق وزیراعلیٰ پیپلز پارٹی کے نواب ثناء اللہ زہری اور بلوچستان عوامی پارٹی کے سردار محمد صالح بھوتانی شامل ہیں دونوں آٹھویں بار بلوچستان اسمبلی کے رکن بنے ہیں۔ نواب ثناء اللہ زہری 1988 سے اب تک صرف 1997 میں بلوچستان اسمبلی سے باہر رہے، تاہم اس عرصے میں وہ سینیٹ کے رکن رہے۔

    سردار صالح بھوتانی 1985 سے اب تک صرف 2002 اور2008 کی اسمبلیوں سے باہر رہے اور ان کی جگہ ان کے چھوٹے بھائی محمد اسلم بھوتانی نے انتخاب لڑا اور دو مرتبہ بلوچستان اسمبلی کے رکن رہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ 51 جنرل نشستوں پر منتخب ہونے والوں میں 21 افراد یعنی 41 فیصد پچھلی ( 2018 کی) بلوچستان اسمبلی کا بھی حصہ تھے۔

    ان میں جام کمال، نواب اسلم رئیسانی، زمرک خان اچکزئی، اسد بلوچ، ثناء اللہ زہری، عبدالرحمان کھیتران، طارق مگسی، ملک نعیم بازئی، زابد علی ریکی، صالح بھوتانی، سرفراز ڈومکی، محمد خان طور اتمانخیل، اصغر علی ترین، نصیب اللہ مری، سردار مسعود لونی، ضیاء اللہ لانگو، محمد خان لہڑی، یونس عزیز زہری، مولوی نور اللہ، محمد سلیم کھوسہ، ظہور احمد بلیدی شامل ہیں۔

    بلوچستان اسمبلی میں نو منتخب ارکان میں نواب ثنا اللہ زہری اور ظفر اللہ زہری آپس میں بھائی ہیں، نومنتخب رکن عبیداللہ گورگیج کے والد ملک شاہ گورگیج 8 فروری 2024 کے انتخابات میں این اے 259 کیچ کم گوادر سے رکن قومی اسمبلی، جبکہ نوابزادہ طارق مگسی کے بھائی نوابزادہ خالد مگسی حالیہ انتخابات میں این اے 254 جھل مگسی کم کچھی کم نصیرآباد سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ آٹھ نومنتخب ارکان ایسے ہیں جن کے والد بھی ماضی میں بلوچستان اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں ان میں جام کمال خان، نواب اسلم رئیسانی، سردار اختر مینگل، سرفراز ڈومکی، عبدالرحمان کھیتران، سردار مسعود لونی، خلیل الرحمان دمڑ اور شعیب نوشیروانی شامل ہیں، سردار صالح بھوتانی، فیصل جمالی، محمد خان لہڑی، ضیاء اللہ لانگو کے بھائی، زرک مندوخیل کے سسر، سلیم کھوسہ اور پرنس عمر احمد زئی، ظہور احمد بلیدی، برک علی رند، میر اصغر رند کے کئی قریبی رشتہ دار ماضی میں بلوچستان اسمبلی کا حصہ رہ چکے ہیں۔

    ان میں پیپلز پارٹی کے ملک شاہ گورگیج، نوابزادہ جمال رئیسانی، جمعیت علمائے اسلام کے مولوی سمیع الدین، نیشنل پارٹی کے پھلین بلوچ، تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار عادل خان بازئی، آزاد امیدوار میاں خان بگٹی شامل ہیں، سابق وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کے بھتیجے 25 سالہ نوابزادہ جمال رئیسانی قومی اسمبلی کے سب سے کم عمر ارکان میں ایک ہیں۔

    جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پہلی بار بلوچستان سے قومی اسمبلی کا رکن بنے ہیں، تاہم وہ اس سے پہلے اپنے آبائی صوبے خیبر پشتونخوا سے پانچ مرتبہ ایوان زیریں کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے جنرل سیکریٹری مولانا عبدالغفور حیدری تیسری بار قومی اسمبلی پہنچے ہیں۔

    پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی چھ سال بعد قومی اسمبلی میں واپسی ہوئی ہے۔ وہ 2002،1997،1993،1990 اور 2013 میں بھی قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں سابق وفاقی وزیر مسلم لیگ ن کے سردار یعقوب خان ناصر پانچویں بار قومی اسمبلی کے رکن بنے ہیں۔ وہ اس سے پہلے 1990، 1997، 2002 اور 2008 میں بھی قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔

    بلوچستان عوامی پارٹی کے نوابزادہ خالد مگسی مسلسل تیسری بار قومی اسمبلی کے رکن بنے ہیں، مسلم لیگ ن کے سابق وزیراعلیٰ جام کمال خان اور خان محمد جمالی، جمعیت علماء اسلام کے محمد عثمان بادینی دوسری بار قومی اسمبلی کے رکن بنے ہیں، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ سردار اختر مینگل تیسری بار قومی اور صوبائی اسمبلی کا انتخاب بیک وقت جیتے ہیں۔ 1997 میں انہوں نے صوبائی اور2018 میں قومی اسمبلی کی نشست کو ترجیح دی۔

  • میہڑ:الیکشن میں مبینہ دھاندلی، جمیعت علمائے اسلام کا احتجاج

    میہڑ:الیکشن میں مبینہ دھاندلی، جمیعت علمائے اسلام کا احتجاج

    میہڑ،باغی ٹی وی (نامہ نگارمنظورعلی جوئیہ)فروری کو ہونے والی الیکشن میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے خلاف جمیعت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کرکے نعرے بازی کی گئی

    جے یو آئی کہ رہنماؤں اظہارالحق اور مسعود احمد کی قیادت میں ریلی نکال کرپریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا، مظاہرین نے کہاکہ 8فروری کو ہونے والی الیکشن کوہم مسترد کرتے ہیں اور اس دھاندلی کے نظام کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہیں

    ان کا کہنا تھا کہ قائدنے اسمبلی کےآگے 10لاکھ عوام کو اکٹھےہونے کا پیغام دیا ہے جس میں جے یو آئی میہڑ کے کارکنان بھرپور شرک کرینگے.

  • ان انتخابات کی ساکھ صفر فیصد ہے جو حکومت بنے گی وہ چلے گی کیسے؟  شاہ محمود

    ان انتخابات کی ساکھ صفر فیصد ہے جو حکومت بنے گی وہ چلے گی کیسے؟ شاہ محمود

    راولپنڈی: تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بلاول کس منہ سے مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد کریں گے۔

    باغی ٹی وی : راولپنڈی اڈیالہ جیل میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جو جماعتیں پی ٹی آئی کو توڑ کر بنائی گئیں ان کے لیے شرمندگی ہے، ہمارے جیتے ہوئے الیکشن نہیں مان رہے، درخواست ہے عوام کا مینڈیٹ چوری نہ کریں، الیکشن میں جیتے ہوئے لوگ بھی اس الیکشن کو نہیں مان رہے، انتخابات میں عوام کا مینڈیٹ چرایا گیا ہے،تمام سیاسی جماعتیں جن کامینڈیٹ چرایا گیا ہے وہ اکٹھی ہو جائیں-

    پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ آئین کے ساتھ کھلواڑ ہوا ہے، چیف جسٹس تحقیقات کرائیں، ان انتخابات سے سیاسی استحکام نہیں آ سکتا،قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے،انتخابات کے بعد بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں ہوئی میری بیٹی 14 ہزار کی لیڈ سے جیت رہی تھی، ایک دم رزلٹ آنا بند ہوگئے، 4 بجے تک جاگتا رہا رزلٹ نہیں آرہے تھے، میری بیٹی کے پاس 281 پولنگ اسٹیشن کے فارم 45 موجود ہیں، 16 ہزار 555 ووٹ مسترد ہوئے اس کے باوجود جیت رہے تھے-

    سری لنکا میں عام انتخابات اگلے برس کرانے کا فیصلہ

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ لنگڑی لولی حکومت بنا بھی لی تو چل نہیں سکے گی، لاہور ہائی کورٹ کی ہدایت پر ہم الیکشن کمیشن جارہے ہیں،ان انتخابات کی ساکھ صفر فیصد ہے جو حکومت بنے گی وہ چلے گی کیسے؟ اگر حکومت بن بھی گئی تو قوم اسے قبول نہیں کرے گی، عالمی میڈیا پاکستان میں ہونے والے الیکشن کو دھاندلی زدہ کہہ رہا ہے۔

    علی امین گنڈا پور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نامزد

  • پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    جماعت اسلامی نے تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد پر لاتعلقی کا اعلا ن کر دیا،

    جماعت اسلامی کے رہنما پروفیسر محمد ابراہیم خان کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کا پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں ہوا، پی ٹی آئی جس کے ساتھ بھی حکومت بنانا چاہے ان کو اختیار ہے, جماعت اسلامی کا نام استعمال کرنے کا اخلاقاً کوئی جواز نہیں بنتا،

    جماعت اسلامی کے رہنما عنایت اللہ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے کامیاب امیدوار جماعت اسلامی کو جوائن کر سکتے ہیں ،ابھی صرف ٹیلی فونک رابطے ہوئے ہیں، بیٹھ کر ہی فیصلہ کیا جاسکتا ہے، جماعت اسلامی غیر مشروط بات کرے گی،

    ترجمان جماعت اسلامی قیصر شریف کا کہنا ہے کہ فارم 45 کے مطابق کے پی کی تینوں سیٹیں جماعت اسلامی جیتی ہوئی ہے،تینوں نشستوں پر جماعت اسلامی کو واضح بر تری حاصل ہے،ایک غیر جمہوری رویہ جماعت اسلامی کے ساتھ اپنایا جارہا ہے،جماعت اسلامی کے طرف سے اتحاد سے متعلق ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا،مشاورت کے بعد پی ٹی آئی کو حتمی فیصلے سے آگاہ کر دیا جائے گا،

    رہنما جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ ہم تعاون کیلئے تیار ہیں لیکن پہلے اندرونی مشاورت کی جائے گی، فی الوقت کوئی زنانی یا تحریری معاہدہ نہیں ہوا،سینیٹ یا وزیراعظم کے چنائو سے متعلق فی الحال کوئی بات نہیں ہوئی

    مجلس وحدت مسلمین عمران خان کی اپنی جماعت ہے، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری
    دوسری جانب مجلس وحدت المسلمین کے رہنما علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کاکہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ کامیاب اراکین اسمبلی کی مجلس وحدت مسلمین میں شمولیت کے فیصلے پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین عمران خان کی اپنی جماعت ہے اور وہ اس جماعت کے حوالے سے جو چاہے فیصلہ کر سکتے ہیں ہم اسے بلامشروط اورمن و عن قبول کریں گے۔ہمارا روز اول سے یہ موقف بھی رہا ہے اور ہم نے اپنے عمل و کردار سے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ ہم کسی جماعت پر بوجھ نہیں بنتے بلکہ مشکل وقت میں باوفا دوست بن کر ساتھ نبھاتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہمارا اتحاد ، آزاد خارجہ پالیسی، داخلی خودمختاری،سرحدوں کےتحفظ، عالمی طاقتوں کی غلامی سے انکار،مسلم ممالک سے برادرانہ تعلقات اور گلگت بلتستان کے لیے آئینی حقوق کے حصول بیانیہ کی بنیاد پر ہے جو خون کے آخری قطرے تک قائم رہے گا۔عمران خان کی قیادت میں پوری قوم مل کر وطن عزیز کو ایک آزاد، خود مختار اور باوقار ریاست بنانے میں بھرپور کردار ادا کرے گی۔

    تحریک انصاف نے سیاسی جماعتوں سے اتحاد کا اعلان کر دیا،
    ترجمان تحریک انصاف رؤف حسن کا کہنا تھا کہ وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم کیساتھ اتحاد ہوگا.خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کریں گے،فارم 45 اور اصل نتائج کے مطابق ہماری قومی اسمبلی میں 180 نشستیں ہیں،کچھ کور کمیٹی کے حوالے سے خان صاحب نے بتایا ہے اس پر بھی عمل درآمدکیا جائے گا،مجھے یہ اہم ذمہ داری دی ہے خان صاحب نے کہ مختلف جماعتوں کے ساتھ رابطہ قائم کروں،ہم دوسرے جماعتوں کے ساتھ بھی بات چیت کرنے کو تیار ہیں، ایک اور یہ بھی فیصلہ کیا کہ کے پی کے میں علی امین گنڈا پور حکومت بنائے گا،عمران خان نے عامر ڈوگر کو ایک بار پھر قومی اسمبلی میں چیف و ہپ مقرر کر دیا، اور کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن جتنی ہوسکے وہ کروائیں،انٹرا پارٹی الیکشن دس دن میں کرانے کی ہدایت کی گئی،

    اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی نہیں،شریفوں اور زرداری سے لڑائی ہے ان سے لڑیں گے،ترجمان تحریک انصاف
    رؤف حسن کا کہنا تھا کہ میز کے آمنے سامنے ہم بیٹھے تھے، سرکار پیچھے بیٹھی تھی، کچھ اہم بات کرنی ہوتی تو وہ کان قریب لاتے ، اشارہ کرتے، لیکن سب کچھ برداشت کرنے کے باوجود عمران خان کی سمائل نہیں گئی، ویسے ہی سمائل کررہا تھا، یہ ناقابل یقین ہے۔موجودہ صورتحال میں مستحکم حکومت کی ضرورت ہے، آئی ایم ایف کے پاس جانا مسئلے کا حل نہیں،مسئلے کا حل اوورسیز پاکستانیز کی سرمایہ کاری ہے، اسٹیبلشمنٹ سے کوئی لڑائی نہیں، ان سے نہیں لڑیں گے،شریفوں اور زرداری سے لڑائی ہے ان سے لڑیں گے،عوام نے جو مینڈیٹ دیا ہے اس کے مطابق حکومت بنانے دی جائے،

    قبل ازیں نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے تحریک انصاف کے ساتھ رابطوں کی تصدیق کردی،جماعت اسلامی نے تحریک انصاف کو حکومت سازی کے لیے اتحاد کا گرین سگنل دے دیا،لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ آزاد امیدواروں کے تحفظ کیلئے اگر پی ٹی آئی کو جماعت اسلامی کی ضرورت پڑی تو ویلکم کہیں گے،

    ایم کیوایم ،پیپلز پارٹی، ن لیگ سے اتحاد نہیں، چھوٹی جماعتوں سے اتحاد کریں گے، بیرسٹر گوہر
    ہمیں اصل مینڈیٹ جو عوام نے دیا وہ دیں تو کل حکومت بنا لیں ،بیرسٹر گوہر
    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ہم 4 سیٹوں پر کامیاب ہوئے ہیں،پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کی 180 نشستیں جیتی ہیں، اس مینڈیٹ کا احترام کیا جائے ،سپریم کورٹ سے درخواست کی تھی کی آراوز عدلیہ سے دیئے جائیں ، عوام نے ہمیں جو مینڈیٹ دیا ہے اس پر ڈاکا ڈالا گیا ہے، اسلام آباد کی تینوں سیٹیں ہم جیت چکے ہیں،ہمیں اصل مینڈیٹ جو عوام نے دیا وہ دیں تو کل حکومت بنا لیں ،جن لوگوں کو اپروچ کیا گیا انہیں 25 ، 25 کروڑ کی آفر کی گئی، کسی جماعت سے منصوب آزاد امیدواروں کو اپروچ کرنا غیر اخلاقی اور غیر آئینی ہے،سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے اہم عہدوں کیلئے نام تجویز کیے ہیں،تحریک انصاف قومی اسمبلی کی 180 سیٹیں جیت چُکی ہے، یہ عوام کا مینڈیٹ ہے، وائٹ پیپر میں فارم 45 جاری کریں گے،5 دن کے اندر اندر 3 سزائیں دی گئیں، 14، سال 10 سال اور 7 سال کی سزائیں دی گئیں ،عوام کو یہ میسج دینے کی کوشش کی گئی کہ خان صاحب اندر چلے گئے اب کسی اور طرف دیکھیں ،ایم کیو ایم کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کریں گے،ہم چھوٹی پارٹیوں کو ملا کر حکومت بنائیں گے،ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں کریں گے،لیڈر شپ جیل میں ہوتے ہوئے بھی پی ٹی آئی نے کامیابی حاصل کی،بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے علی امین گنڈاپور کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نامزد کر دیا ہے،اللہ نے ہمیں عوام کی طاقت سے سرخرو کیا ہے،پاکستان میں پہلی بار ایسا الیکشن ہوا کہ لیڈر شپ اور نشان نہ ہونے کے باوجود جیت گئے، جیت کا سرچشمہ عوام ہے اور غلامی نامنطور ہے، عوام نے بڑا مینڈیٹ دیا ہے ،بلوچستان کی 16 سیٹوں میں سے ہم 4 اور پنجاب کی 115 سیٹیں جیت گئے ،

    مریم ، شہباز، نواز ،سب ہارے ہوئے ان کو اپوزیشن میں بیٹھنا چاہئے ،علیمہ خان
    عمران خان کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے کہ عمران خان آج بہت خوش تھے ، اُنہوں نے پوری قوم کے لیے مبارک باد دی ہے، اکثریت پی ٹی آئی کو ملی، لیکن دھاندلی کی گئی، عمران خان ، پی ٹی آئی دو تہائی جیتیں سیٹ چکی ہے، پی ٹی آئی کو حکومت بنانی چاہئے ایک چھوٹا سا مسئلہ آ گیا ہے، امیدواروں کے ہاتھ میں 45 ہے، لیکن 47 میں انہیں ہروا دیا گیا، دو راستے ہیں ،ایک، عمران خان کا خاص پیغام ہے کہ معیشت کو اس طرح کر کے مزید گڑھے میں دھکیل دیں گے، مینڈیٹ چوری ہو گا تو لوگوں کو کون جواب دے گا، ایک راستہ یہی ہے کہ ووٹ چوری رکھیں، چوری مینڈیٹ اور سیٹوں کی یہ ن لیگ، ایم کیوایم نے کی ہے، ایم کیو ایم نے پی ٹی آئی کی ساری سیٹیں اٹھا لی ہیں، پیپلز پارٹی نے بھی چوری کی ہے یہ تینوں جماعتیں پی ٹی آئی کی سیٹیں لے کر شرمندہ ہو ں گے،مریم ، شہباز، نواز ،سب ہارے ہوئے ہیں، سب کو ان کو اپوزیشن میں بیٹھنا چاہئے ایک اچھے طریقے سے خوش اسلوبی سے یہ سیٹیں واپس کر دیں،

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

  • این اے 47اور 48: شعیب شاہین ، علی بخاری اور عامر مغل کی درخواستوں پر الیکشن کمیشن کونوٹس جاری

    این اے 47اور 48: شعیب شاہین ، علی بخاری اور عامر مغل کی درخواستوں پر الیکشن کمیشن کونوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے این اے 47اور 48کے کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن کالعدم قرار دینے کی شعیب شاہین ، علی بخاری اور عامر مغل کی درخواستوں پر الیکشن کمیشن کونوٹس جاری کرتے ہوئے کل تک جواب طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائیکورٹ میں این اے 47اور 48کے کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن کالعدم قرار دینے کی درخواستوں پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواستوں پر سماعت کی-

    دوران سماعت وکیل شعیب شاہین نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسر کو حتمی نتائج جاری کرنے سے روکا،الیکشن کمیشن کے آرڈر کے بعد ہم مطمئن ہو گئے،آر او نے اس کے باوجود حتمی نتائج دیئے اور الیکشن کمیشن نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    پیپلز پارٹی کی سی ای سی کا بلوچستان میں حکومت بنانے کا فیصلہ

    چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کہ الیکشن کمیشن میں اسٹے کا نوٹس تاحال زیرالتوا ہے؟شعیب شاہین نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسر سے 3دن میں رپورٹ مانگی تھی،الیکشن کمیشن میں اس کیس میں بعد میں کوئی سماعت ہی نہیں ہوئی،الیکشن کمیشن نے اپنا آرڈر موجود ہوتے ہوئے نوٹیفکیشن کیسے جاری کردیا-

    پی ایس ایل 9 کیلئے ٹرافی کی رونمائی کردی گئی

    چیف جسٹس عامر فاروق نے کہاکہر یٹرننگ افسر نے تو جو کیا وہ کیا ، الیکشن کمیشن نے کیسے نوٹیفکیشن جاری کردیا، الیکشن کمیشن آپ کی درخواست پر فیصلہ کر دیتا،درخواست منظور کرنی تھی یا مسترد، فیصلہ تو کر دیتے،درخواست مسترد کرتے تو آپ آگے کسی فورم سے رجوع کر لیتے،عدالت نے شعیب شاہین اور علی بخاری اور عامر مغل کی درخواستوں پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرکے کل تک جواب طلب کرلیا۔

    علی امین گنڈا پور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نامزد

  • این اے 130، نواز شریف کی کامیابی کا نوٹفکیشن جاری

    این اے 130، نواز شریف کی کامیابی کا نوٹفکیشن جاری

    الیکشن کمیشن نے نواز شریف کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا

    نواز شریف کی بطور رکن قومی اسمبلی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا، الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹفکیشن کےمطابق سابق وزیراعظم نواز شریف این اے 130 لاہور سے رکن قومی اسمبلی قرار دیئے گئے ہیں

    شہباز شریف،مریم نواز، حمزہ شہباز، عطا تارڑ کی بطور رکن قومی اسمبلی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری
    الیکشن کمیشن کی جانب سے ن لیگی رہنما مریم نواز کی بطور رکن قومی اسمبلی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا،حمزہ شہباز کی بطور رکن قومی اسمبلی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا،عطا تارڑ کی بطور رکن قومی اسمبلی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا، سابق وزیراعظم شہباز شریف کی کامیابی کا نوٹفکیشن بھی جاری کر دیا گیا،ن لیگی رہنما شہباز شریف مریم نواز، حمزہ شہباز، عطا تارڑ لاہور سے جیتے ہیں

    عون چودھری،امیر مقام کی کامیابی کا نوٹفکیشن جاری
    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دو مزید حلقوں کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا ،الیکشن کمیشن نے این اے 128 لاہور سے عون چوہدری کی کامیابی کا حتمی نوٹیفیکیشن جاری کردیا ،الیکشن کمیشن نے شانگلہ این اے 11 سے امیر مقام کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا

    این اے 69،ن لیگی امیدوار کی کامیابی کا نوٹفکیشن جاری
    قبل ازیں الیکشن کمیشن نے این اے 69 منڈی بہاوالدین سے بھی ایم این اے کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا،الیکشن کمیشن نے این اے 69 منڈی بہاوالدین سے مسلم لیگ ن کے ناصر بوسال کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ،ناصر اقبال نے 1 لاکھ 13 ہزار ووٹ حاصل کیے،آزاد امیدوار کوثر پروین 1 لاکھ 8 ہزار 9 سو ووٹ لے کر دوسرے نمبر پررہیں،

    پاکستان میں 8 فروری کو الیکشن منعقد ہوئے، الیکشن کمیشن 21 فروری تک حتمی اور سرکاری نتائج جاری کرنے کا پابند ہے،21 فروری سے 24 فروری تک 3 دن کے اندر آزاد ارکان کسی پارٹی میں شامل ہو سکتے ہیں،25 فروری اور 26 فروری تک الیکشن کمیشن خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے اراکین کی نوٹیفیکیشن جاری کریگا،28 فروری کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے گا،موجودہ سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نومنتخب ممبران سے حلف لیں گے،اس کے بعد اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا الیکشن ہوگا،3 مارچ 2024ء تک نیا وزیر اعظم اپنے عہدے کا حلف اٹھائے گا.

    این اے 65،ریٹرننگ افسر سے 20فروری تک رپورٹ طلب
    الیکشن کمیشن میں این اے 65 لالہ موسی میں انتخابی عذردای کیس کی سماعت ہوئی،چیف الیکشن کمشنر اور ممبر خبیرپختوانخوا نے کیس کی سماعت کی ،وکیل امیدوار نے کہا کہ سید وجاہت حسنین 90 ہزار کی لیڈ سے جیت چکے ہیں، قمر زمان کائرہ دوسرے نمبر پر ہیں، ن لیگ کے تیسری پوزیشن نصیر عباس کو جیتا دیا گیا،فارم 45 کے مطابق میری موجودگی میں فارم 49 پر مبنی نتائج جاری کیے جائیں، ممبر کے پی نے کہا کہ ریٹرنگ افسر نے 12 فروری کو مکمل نتائج جاری کیے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ٹوٹل کاسٹ ووٹ اور مسترد ووٹ کو جمع کریں اعدوشمار غلط بنتے ہیں،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم اسکی انکوائری نہ کروالیں، وکیل نے کہا کہ سر یہ سیدھا دو جمع دو کا کیس ہے، الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسر سے 20فروری تک رپورٹ طلب کر لی،این اے 65 میں کیس کی سماعت 20 فروری تک ملتوی کر دی گئی،

    الیکشن کمیشن نے پی پی 71 سرگودھا میں نعیم حیدر پنجوتھہ کی درخواست پر دوبارہ ووٹوں کی گنتی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا،الیکشن کمیشن نے این اے 70 سیالکوٹ میں فارم 47 کے مطابق ووٹوں کی دوبارہ گنتی پر ریٹرننگ افسر سے رپورٹ منگوا لی،

    پیپلز پارٹی کے سید یوسف رضا گیلانی کے ووٹوں میں کمی،لیڈ صرف 141 کی رہ گئی
    ملتان ، این اے 148 ، ریٹرننگ آفیسر نے نیا فارم 49 جاری کردیا ،پیپلز پارٹی کے سید یوسف رضا گیلانی کے ووٹوں میں کمی ، لیڈ 293 سے کم ہوکر 141 پر آگئی ، یوسف رضا گیلانی نئے فارم 49 کے مطابق 141 ووٹوں سے جیت گئے ہیں، آر او ارشد کا کہنا ہے کہ سابق فارم 47 میں کلیریکل غلطیاں تھیں جنہیں درست کیا گیا ، ووٹوں کی دوبارہ گنتی نہیں ہوئی ، یوسف رضا گیلانی کی موجودہ لیڈ میں پوسٹل بیلٹ ووٹ شامل ہیں ،

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

  • پی پی 49، سیالکوٹ سے آزاد امیدوار ن لیگ میں شامل

    پی پی 49، سیالکوٹ سے آزاد امیدوار ن لیگ میں شامل

    سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے نومنتخب ارکان اسمبلی کی ملاقات ہوئی ہے

    پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 49 سیالکوٹ سے کامیاب آزاد امیدوار رانا فیاض نے پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کر دیا،رانا فیاض نے نواز شریف پر مکمل اعتماد کا اظہار کر دیا،نومنتخب رکن قومی اسمبلی وسیم قادر کی بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر سے ملاقات ہوئی،وسیم قادر پہلے ہی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں ،شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کرنے پر رانا فیاض اور وسیم قادر کو خوش آمدید کہا اور شکریہ ادا کیا ،شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم سب پاکستان کو خوشحال بنائیں گے اور عوام کی زندگیوں میں آسانی لائیں گے،پاکستان کو درپیش چیلنجوں کا مقابلہ اتحاد، اتفاق اور قومی تعاون کی سوچ سے ہو سکتا ہے،

    قبل ازیں گزشتہ روزسابق وزیر اعظم شہباز شریف سے 5 آزاد منتخب ارکان اسمبلی نے ملاقات کی اور ن لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا۔سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے آزاد منتخب ہونے والے پانچ ارکان اسمبلی نے ملاقات کی۔ این اے 189 سے سردار شمشیر مزاری، پی پی 195 سے عمران اکرم، پی پی 240 سے سہیل خان، پی پی 297 سے خضر حسین مزاری اور پی پی 249 سے صاحبزادہ محمد گزین عباسی ملاقات کرنے والوں میں شامل تھے۔ تمام ارکان نے قائد نواز شریف پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کیا،

    قبل ازیں قومی اسمبلی حلقہ این اے 127 سے کامیاب پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار وسیم قادر نے باضابطہ طور پر پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کر دیا ،وسیم قادر نے پاکستان مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز کے ہمراہ ویڈیو پیغام میں کہا کہ میں وسیم قادر جنرل سیکرٹری پاکستان تحریک انصاف لاہور اپنے گھر واپس آگیا ہوں میں اپنے علاقے کی ترقی کیلئے اور اپنے علاقے کے لوگوں کے لئے پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کرتا ہوں

    علاوہ ازیں پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 97 چنیوٹ سے نومنتخب آزاد امیدوار ثاقب خان چدھڑ مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئے،لاہور میں ثاقب خان چدھڑ نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف سے ملاقات کی اور ن لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا،شہباز شریف نے ثاقب خان چدھڑ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا اور انہیں مبارک باد دی۔

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

  • این اے 128،دھاندلی کے ثبوت پیش،سلمان اکرم راجہ کی درخواست پر نوٹس جاری

    این اے 128،دھاندلی کے ثبوت پیش،سلمان اکرم راجہ کی درخواست پر نوٹس جاری

    این اے 128 لاہور پر سلمان اکرم راجہ کی عذرداری کی دو درخواستوں پر سماعت ہوئی

    سلمان اکرم راجہ ذاتی حیثیت میں الیکشن کمیشن پیش ہوئے،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ این اے 128 میں رات دس بجے تک کچھ پولنگ سٹیشنز کے نتائج آئے، رات دس بجے یونیفارم میں ملبوس کچھ افراد پولنگ سٹیشنز پر آئے،مجھے زبردستی پولنگ سٹیشن سے باہر نکال دیا گیا جس پر میں نے احتجاج کیا، پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد نے ریٹرننگ افسر کے آفس کا محاصرہ کرلیا، میرے ساتھ میری اہلیہ اور بیٹیاں تھیں، ہمارے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا جیسے ہم کوئی دہشتگرد ہیں،سلمان اکرم راجہ نے عون چوہدری کو کیس میں فریق بنانے کی درخواست کردی، اور کہا کہ امن و امان کی خراب صورتحال کے باوجود ریٹرننگ افسر نے ووٹوں کی گنتی جاری رکھی، تمام پولنگ سٹیشنز سے میرے پولنگ ایجنٹس کو گنتی کے وقت باہر نکال دیا گیا، اگلے روز میں نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا،

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردیتے ہیں، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن حتمی فیصلے تک این اے 128 کے حتمی نتائج روکے، سلمان اکرم راجہ نے این اے 128 کے اوریجنل فارم 47 الیکشن کمیشن میں جمع کراد یئے اور کہا کہ 437 پولنگ سٹیشنز پر میں کامیاب ہوا، مجموعی پور پر 443 پولنگ سٹیشنز تھے،

    سلمان اکرم راجہ نے این اے 128 لاہور مین بدترین دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ میرے ایک لاکھ 59 ہزار سے ذائد ووٹ تھے، عون چوہدری صرف 43 ہزار ووٹ لے سکے، دھاندلی کر کے عون چوہدری کے ووٹوں میں ایک لاکھ 10 ہزار ووٹوں کا اضافہ کیا گیا، جعلی ووٹ ڈالنے کے باعث ووٹر ٹرن آؤٹ میں حیران کن اضافہ ہوا،این اے 128 اور پی پی 169 کے پولنگ سٹیشنز میں ڈالے گئے ووٹوں میں 80 ہزار کا فرق ہے ،

    الیکشن کمیشن نے این اے 128 لاہور سے عون چوہدری اور دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کردیے،الیکشن کمیشن نے این اے 128 کے ریٹرننگ افسر سے تین دن میں رپورٹ طلب کرلی،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ این اے 128 کے ریٹرننگ افسر کو اوریجنل فارم 45 الیکشن کمیشن ساتھ لانے کی ہدایت کی جائے،الیکشن کمیشن نے این اے 128 پر کامیابی کا نوٹیفکیشن روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا،الیکشن کمیشن نے سماعت 19 فروری تک ملتوی کردی

    این اے 130 لاہور ، نواز شریف جیل میں گرفتار یاسمین راشد سے جیت گئے

    بلاول کا "تیر” چل گیا، پیپلز پارٹی اب تک قومی کی ایک،صوبائی کی 5سیٹوں سے کامیاب

    آٹھ گھنٹے گزر گئے، الیکشن کمیشن نتائج دینے میں ناکام،آصف زرداری اسلام آباد،نواز گھر چلے گئے

    آبائی نشست سے متوقع ہار ،نواز شریف افسردہ ،ماسک پہن کر ماڈل ٹاؤن سے روانہ،تقریر بھی رہ گئی

    مخلوط حکومت کانام نہ لیں ایک پارٹی کی اکثریت ضروری ہے،نواز شریف

    انتخابات ابھی تک تو پُر امن ہیں،نگران وزیراعظم

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    قبل ازیں این اے 128 سے آزاد امیدوار سلمان اکرم راجہ نے ووٹوں کی گنتی میں بیٹھنے کی اجازت نہ دینے کا اقدام ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا تھا تا ہم لاہور ہائیکورٹ نے آر او سے رجوع کر نے کی ہدایت کر دی، عدالت نے سلمان اکرم راجہ کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی،سلمان اکرم راجہ کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں ریٹرنگ آفیسر سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا تھا. درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ این اے 128 سے آزاد حیثیت سے انتخاب لڑ رہا ہوں ،الیکشن ایکٹ کے تحت انتخابی نتائج میں امیدوار کی موجودگی ضروری ہوتی ہے،ریٹرنگ آفیسر نے ووٹوں کی گنتی کے عمل سے باہر کر دیا ہے، عدالت ریٹرنگ آفیسر کو امیدوار کی موجودگی میں ووٹوں کی گنتی کرنے کا حکم دے،

  • اکثریت ہوئی تو اکیلے حکومت،ورنہ اپوزیشن میں بیٹھٰیں گے،لطیف کھوسہ

    اکثریت ہوئی تو اکیلے حکومت،ورنہ اپوزیشن میں بیٹھٰیں گے،لطیف کھوسہ

    رہنما تحریک انصاف لطیف کھوسہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی عوام کا اختیار ہے کہ وہ اپنے منتخب نمائندوں کو اسمبلی میں بھیجیں ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئینی طور پر وفاداری کا مظاہرہ کرے،

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ہم نے 25 کروڑ عوام کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کر دیا، بانی پی ٹی آئی کو غیر آئینی اور غیر قانونی سزائیں دی گئیں ،بانی پی ٹی آئی کے وکیل کو صفائی کا موقع نہیں دیا گیا،عوام نے ظلم کا بدلہ ووٹ سے دیا، بانی پی ٹی آئی کی سزائیں کالعدم قرار دے کر انہیں فی الفور رہا کیا جائے، پی ٹی آئی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر سامنے آئی ہے ،ہم نے جتنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ان پر پی ٹی آئی لکھا تھا،پی ٹی آئی پر پابندی نہیں ، ہم سے صرف نشان چھینا گیا ہے ،یہ واحد الیکشن تھا جس میں ووٹر امیدوار کو ڈھونڈ رہا تھا، سعد رفیق کو سراہتا ہوں کہ شکست کو تسلیم کیا اور فون پر مبارکباد دی،5 سال میں الیکشن کرانا ضروری تھا جو چھٹے سال ہوا، پی ٹی آئی کو ہاتھ پاؤں باندھ کر میدان میں اتارا گیا، عوام نے پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دے کر چاروں شانے چت کردیا،

    لطیف کھوسہ کا مزید کہنا تھا کہ ہم مزید 50 نشستیں ملنے کا انتظار کریں گے اور مل گئیں تو اکیلے حکومت بنائیں گے ورنہ اپوزیشن میں بیٹھیں گے،جس پارٹی کے پاس سب سے زیادہ ارکان ہوں اسے ہی حکومت بنانے کے لیے مدعو کیا جاتا ہے اتحادی حکومت بنانے کا ہمارا تجربہ کامیاب نہیں رہا، ایک وسیم قادر کے سوا ہمارے باقی سب ارکان ہمارے ساتھ کھڑے ہیں، وسیم قادر اغوا ہوئے، روحیل اصغر شریف خاندان کے ممبر ہیں،ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والے ووٹ کو تار تار کررہے ہیں، ہم لوٹ مار کرکے باہربھاگنے والے نہیں، یہ آتے ہیں پاور گریب کرتے ہیں اور لوٹ مار کرنے کے بعد باہر بھاگ جاتے ہیں

    عمران خان کو تجویز دوں گا ملک گیر احتجا ج کی کال دیں، شیر افضل مروت
    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں بڑی ڈکیتی ہوئی، عدالت جانا قانونی حق ہے اور احتجاج کرنا ہمارا جمہوری حق ہے جماعت اسلامی نے کراچی میں پی ٹی آئی کی سیٹ چھوڑ دی، اپنی سیٹیں حاصل کرنے کے لیے بھرپور کوشش کریں گے،ہمیں کسی پر عدم اعتماد نہیں، سارے امیدوار پارٹی کے ساتھ ہیں، جنہوں نے ہمیں چھوڑنا تھا وہ چھوڑ چکے ہیں ، بانی پی ٹی آئی سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سمیت حکومت سازی پر بات کریں گے،پاکستان کی تاریخ میں بڑی ڈکیتی ہوئی،یہی آر اوز ہمارے خلاف تھری ایم پی اوز کیسز کر رہے تھے،آج خان صاحب سے ملوں گا، تجویز دونگا کہ پاکستان بھر میں احتجاج کی کال دے، اپنی سیٹوں کو حاصل کرنے کیلئےبھر پور کوشش کریں گے، قانون کی بالادستی کو تباہ کردیا گیا،اللہ نے جہانگیر ترین اور پرویزخٹک کو ذلیل کیا، جو بھی بانی چیئرمین پی ٹی آئی کا ساتھ چھوڑے گا ان کا یہی حال ہوگا، ہمیں کسی پر عدم اعتماد نہیں، سارے امیدوار پارٹی کے ساتھ ہیں، مجبور ہو کر کوئی ہمیں چھوڑے تو اس کیلئے ان سے حلف لے رہے ہیں،بانی چیئرمین پی ٹی آئی سے وزیراعلیٰ کے پی سمیت حکومت سازی پر بات کریں گے،

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

    بانی پی ٹی آئی کی سیاست کو ختم کرنے والے آج خود سیاست سے دستبردار ہو چکے ہیں،اسد قیصر
    تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نےاسلام آباد ہائی کورٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے درخواست لے کر ہائی کورٹ آیا ہوں ،عوام نے ہمیں سیلیکٹ کیا ہے کوشش ہوگی عوام کی توقعات پر پورا اتریں،صحافی نے سوال کیا کہ جماعت اسلامی اور ایم ڈبلیو ایم میں سے کس پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنے جا رہے ہیں؟اسد قیصر نے جواب دیا کہ ہماری مشاورت چل رہی ہے پارٹیوں سے رابطے بھی چلتے رہتے ہیں حتمی فیصلہ بانی پی ٹی آئی ہی کریں گے،ہمیں کہا گیا تھا بانی پی ٹی آئی کی سیاست ختم ہو چکی ہے لیکن جو خدا کرتا ہے وہی ہوتا ہے ،بانی پی ٹی آئی کی سیاست کو ختم کرنے والے آج خود سیاست سے دستبردار ہو چکے ہیں

  • کون بنے گا وزیراعظم؟ بلاول یا شہباز، سیاسی جماعتیں متحرک،اجلاس طلب

    کون بنے گا وزیراعظم؟ بلاول یا شہباز، سیاسی جماعتیں متحرک،اجلاس طلب

    عام انتخابات، کون بنے گا وزیراعظم؟ کس کی بنے گی حکومت، جوڑ توڑ ، رابطے جاری، پانچ دن گزر گئے سیاسی جماعتیں کسی فیصلے پر متفق نہ ہو سکیں،ن لیگ حکومت بنانے کے لئے مسلسل سیاسی جماعتوں سے رابطے کر رہی ہے،پیپلز پارٹی کا آج دوسرے دن بھی اجلاس ہو گا وہیں جے یو آئی کا اجلاس بھی آج ہو گا

    اسلام آباد سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے، ایم کیو ایم رہنما بھی اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، پیپلز پارٹی کی قیادت بھی اسلام آباد میں موجود ہے، ، نواز شریف بھی آج مریم نواز کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ جائیں گے،مسلم لیگ ق کے چودھری شجاعت بھی اسلام آباد پہنچیں گے،چوہدری شجاعت حسین کی اسلام آباد میں سیاسی رہنماؤں سے ملاقات ہو گی،پیپلزپارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور ایم کیو ایم کے ساتھ ملاقاتوں کا امکان ہے،ملاقاتوں میں حکومت سازی اور اتحاد بنانے سے متعلق امور پر بات چیت ہوگی

    ایم کیو ایم پاکستان اور مسلم لیگ ن کی قیادت کے درمیان رابطہ ہوا ہے،دونوں پارٹیوں کی اعلیٰ قیادت کے مابین آج شام مشاورت کا امکان ہے،رابطے میں اعلیٰ سطحی ملاقات کے حوالے سے گفتگو کی گئی،ایم کیو ایم پاکستان کا وفد آج شام مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرے گا،ملاقات میں پاور شئیرنگ فارمولے، کراچی کے امور پر بات ہو گی،

    گزشتہ روز پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں شراکت اقتدار سے متعلق کوئی فیصلہ نہ ہوا جس کے بعد اجلاس آج سہ پہر تین بجے پھرہو گا،اسلام آباد میں اجلاس کے بعد شیری رحمان نے کہا کہ ابھی کوئی حتمی فیصلے نہیں ہوئے، پیپلز پارٹی تمام سیاسی جماعتوں سے بات چیت کے لیے رابطہ کمیٹی بنائے گی جس کے ناموں کا اعلان آج کر دیا جائے گا ، پیپلز پارٹی رہنما فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ الیکشن سے متعلق چاروں صوبوں میں تحفظات ہیں، اجلاس میں بہت سی تجاویز آئیں، آج حتمی فیصلہ کریں گے

    ن لیگ کی کوشش ہے کہ شہباز شریف وزیراعظم بنیں، پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ بلاول وزیراعظم بنیں تا ہم ایک دوسر ے سے اتحاد کئے بغیر وزیراعظم کوئی بھی نہیں بن سکتا شہباز شریف نے الیکشن سے ایک روز قبل کہا تھا کہ کہ اگر سادہ اکثریت نہ ملی تو نواز شریف وزیراعظم کے امیدوار نہیں ہوں گے،

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے وی لاگ میں انکشاف کیا کہ ن لیگی وفد بلاول ہاؤس گیا جس میں شہباز شریف، ملک احمد خان و دیگر شامل تھے، وفد نے آصف زرداری اور بلاول سے ملاقات کی، آصف زرداری نے ن لیگی وفد سے کہا کہ ہماری شرط ہے کہ بلاول کو وزیراعظم بنایا جائے، وفاق میں وزارتیں دی جائیں ،پنجاب آپ رکھ لیں، اگر ایسا نہیں کرنا چاہتے تو پنجاب او ر بلوچستان کی وزارت اعلیٰ ہمیں دے دیں، ہم آپ کے وزیراعظم کوووٹ دے دیں گے،اب دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں جماعتوں نے ایک اعلامیہ جاری کیا، دونوں کے اعلامیہ میں فرق تھا، ن لیگ نے کہا ساتھ چلنے کو تیار ہیں ،پیپلز پارٹی کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ اجلاس میں فیصلہ کریں گے پھر بتائیں گے،

    سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے نجی ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کے وزیراعظم بننے کا امکان زیادہ ہے، تحریک انصاف کے مزید ارکان اپنی وفاداریاں تبدیل نہیں کریں گے، حلقے کے عوام لوٹوں کا جینا دوبھر کردیں گے، فیصل واوڈا نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جو آزاد اراکین عدالت میں جا رہے ہیں ان میں سے سات آٹھ سیٹیں واپس مل جائیں گی باقی کچھ نہیں ہو گا.

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا نام وزیراعلیٰ پنجاب کے طور پر سامنے آ رہا ہے کہ پنجاب میں ن لیگ کو واضح اکثریت ہے، تو مریم نواز وزیراعلیٰ پنجاب ہوں گی، تاہم گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے اجلاس میں یہ باز گشت سنائی دی کہ مریم نوازممکنہ طور پر وزیر خارجہ بننا چاہ رہی ہیں، پیپلز پارٹی اجلاس میں یہ تجویز بھی آئی کہ تحریک انصاف کے آزاد امیدواروں کے ساتھ اتحاد کر لیا جائے، یہ تجویز ندیم افضل چن نے پیش کی جس کی کسی نے مخالفت نہیں کی، پیپلز پارٹی کا اجلاس آج پھر دوبارہ ہو گا جس میں اہم فیصلے متوقع ہیں.

    حالیہ عام انتخابات پر جمعیت علمائے اسلام ف کے تحفظات،جے یو آئی کی مرکزی مجلس عاملہ اور صوبائی امراء ونظماء کا اہم اجلاس آج ہوگا،جے یو آئی کا اجلاس ان کیمرہ ہوگا،اجلاس کی صدرات جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کریں گے۔اجلاس میں قومی انتخابات کا تفصیلی جائزہ لیا جائےگا،اسمبلیوں میں بیٹھنے یا نہ بیٹھنے سے متعلق فیصلہ بھی ایجنڈے میں شامل ہے،جے یو آئی ایف اجلاس میں حکومت یا اپوزیشن میں بیٹھنے پر بھی غور کرے گی،اجلاس میں صوبائی جماعتیں انتخابات کے حوالے سے اپنی رپورٹ پیش کریں گی

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

    پنجاب میں ن لیگ کی ہی حکومت بنے گی، احسن اقبال
    سینئر ن لیگی رہنما، سابق وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت قائم کریں گے،ان شاء اللّٰہ تعالیٰ 2024 سے 2029 کا سفر پاکستان میں ترقی کا سفر ہو گا، نوجوانوں کو بہترین ہنر دیں گے اور ان کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں گے، مسلم لیگ ن کو پنجاب میں بھرپور مینڈیٹ حاصل ہوا ہے، اپنی حکومت قائم کریں گے

    بدقسمتی سے ملک میں کسی کو بھی واضح مینڈیٹ نہیں ملا،مصدق ملک
    مسلم لیگ ن کے رہنما مصدق ملک کا کہنا ہے کہ ہماری توقعات سے بہت کم نشستیں ملیں، سروے بتا رہے تھے 85 اور 100 کے قریب نشستیں ہوں گی،بدقسمتی سے ملک میں کسی کو بھی واضح مینڈیٹ نہیں ملا، خواہش اور کوشش تھی کسی ایک پارٹی کو واضح مینڈیٹ ملے، ہمیں مینڈیٹ نہیں ملا ہمیں بھی بہت افسوس ہے،سوچنا چاہیے ہم میں کس وجہ سے خوش فہمی ہوئی، جتنے سروے ہو رہے تھے ان سے ہماری نشستیں کم آئیں،سینیٹ میں الیکشن ہوا تو ہم سے نشان لے لیا گیا تھا، ہمیں کہا گیا کسی اور پارٹی کو جوائن کر لیں لیکن کوئی نہیں گیا، پی ٹی آئی کو سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں شکست کا اعتراف کرنا چاہیے، ہم پہلا قدم اٹھا چکے ہیں، حکومت میں تھے تو شہباز شریف نے میثاق جمہوریت کے لیے کہا تھا،پی ٹی آئی حکومت کے وقت بلاول نے بھی کہا تھا قدم اٹھاؤ ہم آپ کے ساتھ ہیں، اس وقت بانی پی ٹی آئی نے کہا مر جاؤں گا بات نہیں کروں گا.