Baaghi TV

Category: باغی ٹی وی الیکشن سیل

باغی ٹی وی کی طرف سے عام انتخابات 2024 کے لیے خصوصی کوریج

  • این اے 130،نواز شریف کی کامیابی کیخلاف  آر او کو درخواست دینے کی ہدایت

    این اے 130،نواز شریف کی کامیابی کیخلاف آر او کو درخواست دینے کی ہدایت

    لاہور ہائیکورٹ: نواز شریف کی کامیابی کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس علی باقر نجفی نے این اے 130 کے امیدوار اشتیاق چوہدری کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار نے کہا کہ نواز شریف کو مبینہ طور پر دھاندلی کے ساتھ کامیاب کروایا گیا،اس حلقے میں میں بھی امیدوار تھا 14 امیدواروں کو صفر ووٹ ملے،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ریٹرننگ افسر کو درخواست دی، درخواست گزار نے کہا کہ عدالت میری اس پٹیشن کو ہی درخواست تصور کرلے،عدالت نے درخواست گزار کو ریٹرنگ افسر کو درخواست دینے کی ہدایت کردی، درخواست گزار نےکہا کہ اگر عدالت ڈائریکشن جاری کردے کہ آج ہی درخواست پر فیصلہ کردیں، عدالت نے آج ہی درخواست پر فیصلہ کرنے کی استدعا مسترد کردی

    حمزہ شہباز کی صوبائی اسمبلی 147 کی نشست پر کامیابی کیخلاف درخواست خارج
    لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کی صوبائی اسمبلی 147 کی نشست پر کامیابی کیخلاف درخواست خارج کردی،عدالت نے درخواست گزار کو الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی،جسٹس علی باقر نجفی نے محمد خان مدنی کی درخواست پر سماعت کی، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مجھے 1100 ووٹوں سے شکست دی گئی ہے،فارم 45 کے مطابق میں جیت چکا ہوں، فارم 47 میں حمزہ شہباز کو کامیاب قرار دے دیا گیا،عدالت فارم 45 کے مطابق نتائج جاری کرنے کا حکم دے،

    لاہور ہائیکورٹ: پی پی 164 میں شہباز شریف سمیت دیگر امیداروں کے دوبارہ ووٹوں کی گنتی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی،الیکشن کمیشن کے وکیل نے مہلت کی استدعا کردی،عدالت نے وکیل کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ،جسٹس علی باقر نجفی نے آزاد امیدوار یوسف مئیو کی درخواست پر سماعت کی ،وکیل درخواست گزا ر نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کل دوبارہ ووٹوں کی گنتی کرنے کے احکامات جاری کرچکا ہے، کل دوبارہ ووٹوں کی گنتی نہیں ہوئی، عدالت الیکشن کمیشن کے احکامات کی روشنی میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم جاری کرے،

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

  • این اے 47،78کامیابی کا نوٹیفکیشن اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    این اے 47،78کامیابی کا نوٹیفکیشن اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    اسلام آباد ہائیکورٹ،این اے 48 کے پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد امیدوار علی بخاری ہائیکورٹ پہنچ گئے

    علی بخاری نے این اے 48 کے لیگی امیدوار راجہ خرم کی کامیابی کا نوٹیفکیشن چیلنج کر دیا،الیکشن کمیشن کا این اے 48 کے کامیاب امیدوار کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دینے کی استدعا کر دی گئی، علی بخاری نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہمیں سنے بغیر نوٹیفکیشن جاری کر دیا،آر او سمیت سب کے خلاف قانونی کارروائی کی درخواست کرینگے،

    این اے 47 کے پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار شعیب شاہین نےبھی ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا،شعیب شاہین نے لیگی امیدوار طارق فضل چوہدری کی کامیابی کا نوٹیفکیشن چیلنج کردیا ،درخواست میں الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دینے کی استدعاکی گئی

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

    اسلام آباد کی تینوں نشستوں پر امیدواروں کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری
    الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کی تینوں نشستوں پر امیدواروں کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، این اے 46 سے ن لیگ کے انجم عقیل خان .این اے 47 سے ن لیگ کے طارق فضل چوہدری،این اے 48 سے ن لیگی حمایت یافتہ راجہ خرم نواز کامیاب قرار پائے.الیکشن کمیشن کے مطابق آزاد امیدوار 3 دن میں کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہوسکتے ہیں

  • حکومتوں کا حصہ بننا ہے یا نہیں فیصلے   آئندہ چوبیس گھنٹے میں ہو گے، جے یو آئی

    حکومتوں کا حصہ بننا ہے یا نہیں فیصلے آئندہ چوبیس گھنٹے میں ہو گے، جے یو آئی

    اسلام آباد: جمعیت علماءاسلام کے انتخابی نتائج پر تحفظات سامنے آگئے –

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق جے یو آئی نے انتخابی نتائج کو بندر بانٹ قرار دیتے ہوئے آئندہ چوبیس گھننوں میں ٹھوس لائحہ عمل مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے نتائج تسلیم کرنے ہیں یا نہیں،حکومتوں کا حصہ بننا ہے یا نہیں فیصلے اجلاس میں ہوں گے-

    جے یو آئی کی مجلس عاملہ اور صوبائی قائدین کا اجلاس شیڈول سے ایک دن پہلے طلب کیا گیا ہے ،جمعیت علماءاسلام کی مرکزی مجلس عاملہ اور صوبائی قیادت کا مشترکہ اجلاس کل اسلام آباد میں ہوگا اس سے قبل چودہ فروری کو اجلاس کا شیڈول جاری کیا گیا تھا،مجلس عاملہ اور صوبائی قائدین کے اجلاس کی صدارت مولانا فضل الرحمان کریں گے –

    اجلاس میں قومی اسمبلی کے انتخابی نتائج کا جائزہ لیا جائے گا ،اجلاس میں جمعیت علماءاسلام کی صوبائی قیادت انتخابات سے متعلق اپنی رپورٹس پیش کرے گی-

    راولپنڈی: پی پی 19 سے آزاد امیدوار قاتلانہ حملے میں جاں بحق

    پیر پگارا کا احتجاجاً سندھ اسمبلی کی دو نشستیں چھوڑنےکا اعلان

    7 نومنتخب ارکان پنجاب اسمبلی کی ن لیگ میں شمولیت

  • این اے 251  میں پوسٹل بیلٹ،جے یو آئی امیدوار کامیاب

    این اے 251 میں پوسٹل بیلٹ،جے یو آئی امیدوار کامیاب

    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 251 قلعہ سیف اللہ میں پوسٹل بیلٹ پیپرز کی گنتی کے بعد جمیعت علمائے اسلام (ف) کے امیدوار سید سمیع اللہ کو کامیاب قرار دے دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی: این اے 251 قلعہ سیف اللہ، ژوب، شیرانی میں پوسٹل بیلٹ پیپرز کی گنتی کے بعد پشتونخوا میپ کے امیدوار خوشحال کاکڑ کو 93 ووٹوں سے شکست ہوئی، خوشحال کاکڑ ٹوٹل 46117 ووٹ حاصل کر سکے جبکہ کامیاب ہونے والے جے یو آئی کے امیدوار سید سمیع اللہ نے 46210 ووٹ حاصل کئے، پوسٹل بیلٹ میں خوشحال کاکڑ کو 405 جبکہ سید سمیع اللہ کو 1447 ووٹ ملے۔

    پوسٹل بیلٹ پیپرز کے شمار کیے جانے کا مرحلہ گزشتہ روز شروع ہوا تھا، جس کیلئے آر اوز نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں اور ان کے نمائندوں کو طلب کیا تھا، اس دوران پوسٹل بیلٹ پیپرز کا شمار بھی نتائج میں شامل کیا گیا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل ووٹوں کی گنتی میں پشتونخوا میپ کے خوشحال کاکڑ کو کامیاب قرار دیا گیا تھا-

  • پی ٹی آئی نے حکومت سازی کیلئے خصوصی کمیٹیاں قائم کردیں

    پی ٹی آئی نے حکومت سازی کیلئے خصوصی کمیٹیاں قائم کردیں

    اسلام آباد: پی ٹی آئی کی کور کمیٹی نے کہا ہے کہ جمہوریت کے بہیمانہ قتل اور عوام کے ووٹ کی حرمت پامال کرنے والوں کا پارلیمان کے اندر اور باہر ہر جگہ پر تعاقب کریں گے-

    باغی ٹی وی: پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا،اجلاس میں اہم حکومتی، پارلیمانی عہدوں کیلئے نامزدگیوں کو جلد مکمل کرنے پر اتفاق کیا گیا، اجلاس میں کور کمیٹی نے کہا ہے کہ 8 فروری کو اپنے ووٹ کے ذریعے پاکستان کے عوام نے اپنی سیاسی و جمہوری پختگی کا سکّہ منوایاعوامِ نے ووٹ کےذریعےعمران خان کو حب الوطنی کا بےمثال سرٹیفکیٹ دیتے ہوئے ان کی جماعت کو واضح اکثریت سے نوازا ہے۔

    کور کمیٹی نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈال کر پاکستان کو مجرموں کے حوالے کرنے کی غیرجمہوری، غیرقانونی، غیر سیاسی اور غیراخلاقی کوششوں کی ہر سطح پر بھرپور مزاحمت کریں گے، عوام کے مینڈیٹ کی کھلی توہین کرتے ہوئے مسترد شدہ گروہوں کے مابین اقتدار کی شرمناک بندر بانٹ عوام کی رائے اور فیصلے کو جوتے کی نوک پر رکھنے کے مترادف ہے۔

    7 نومنتخب ارکان پنجاب اسمبلی کی ن لیگ میں شمولیت

    کورکمیٹی کا کہنا تھا کہ جمہوریت کے بہیمانہ قتل اور عوام کے ووٹ کی حرمت پامال کرنے والوں کا پارلیمان کے اندر اور باہر ہر جگہ پر تعاقب کریں گی، جس بےرحمی سے عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی جارہی ہے اس پر ملک کے اندر ہی سے نہیں بلکہ پوری دنیا سے آوازیں بلند ہورہی ہیں-

    انڈونیشیا میں فٹبال میچ کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے ایک کھلاڑی کی موت

    کور کمیٹی میں بتایا گیا کہ مرکز، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں حکومت سازی کی حکمتِ عملی کے لیے خصوصی کمیٹیاں قائم کردی گئیں، کمیٹیوں کی سفارشات اور حکمتِ عملی کی روشنی میں اہم حکومتی اور پارلیمانی عہدوں کے لیے نامزدگیوں کا عمل جلد مکمل کرنے پر اتفاق ہوا۔

    راولپنڈی: پی پی 19 سے آزاد امیدوار قاتلانہ حملے میں جاں بحق

  • مراد علی شاہ کو تیسری مرتبہ وزیر اعلی  سندھ بنائے جانے کا امکان

    مراد علی شاہ کو تیسری مرتبہ وزیر اعلی سندھ بنائے جانے کا امکان

    کراچی: پاکستان پیپلزپارٹی نے سندھ اسمبلی میں برتری حاصل کرنے کے بعد سندھ میں حکومت بنانے اور کابینہ میں وزارتوں کے قلمدان دینے کے حوالے سے مشاورت شروع کردی ہے۔

    باغی ٹی وی: پیپلزپارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت اعلی کے لئے سید مراد علی شاہ مضبوط امیدوار ہیں مراد علی شاہ کو تیسری مرتبہ وزیر اعلی بنایا جائے گا، جس کی چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زراداری اور آصف زرداری نے منظور دے دی ہےاس کے علاوہ کابینہ میں شرجیل میمن، ناصرشاہ، سعید غنی، امتیاز شیخ، سہیل انور سیال، ارباب لطف اللہ، اسماعیل راہو، عذرا پیچوہو، سردار شاہ، مکیش چاؤلہ ، مخدوم محبوب الزمان کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔

    جام خان شورو، تیمور تالپور کو بھی سندھ کابینہ میں شامل کرنے پر غور کیا جارہا ہے تاہم دونوں میں سے کسی ایک کو وزارت دینے کا فیصلہ پارٹی قیادت کی مشاورت سے کیا جائے گا،سندھ کابینہ کے حوالے سے پی پی قیادت کی جانب سے فیصلے جلد متوقع ہیں-

    پیر پگارا کا احتجاجاً سندھ اسمبلی کی دو نشستیں چھوڑنےکا اعلان

    دوسری جانب پاور شیئرنگ فارمولے پر پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اہم اجلاس اسلام آباد میں جاری ہے،سابق صدر آصف زرداری اور بلاول بھٹو اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں، نیئربخاری، شیری رحمان، راجہ پرویز اشرف، یوسف رضا گیلانی ، شازیہ مری، سرفر از بگٹی اجلاس میں شریک ہیں، اس کے علاوہ تاج حیدر ، سعیدغنی، مراد علی شاہ ، عبدالقادر پٹیل اور دیگر اجلاس میں شریک ہیں۔

    راولپنڈی: پی پی 19 سے آزاد امیدوار قاتلانہ حملے میں جاں بحق

    7 نومنتخب ارکان پنجاب اسمبلی کی ن لیگ میں شمولیت

  • پیر پگارا کا احتجاجاً سندھ اسمبلی کی دو نشستیں چھوڑنےکا اعلان

    پیر پگارا کا احتجاجاً سندھ اسمبلی کی دو نشستیں چھوڑنےکا اعلان

    کراچی: گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس ( جی ڈی اے) اور مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر صبغت اللہ شاہ راشدی پیر پگارا نے احتجاجاً سندھ اسمبلی کی دو نشستیں چھوڑنےکا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ دو نشستیں بھی زرداری صاحب کو دے دیں-

    باغی ٹی وی : کراچی میں جی ڈی اے کے اجلاس کے بعد میڈیا سےگفتگو میں پیر پگارا کا کہنا تھا کہ جب فیصلہ ہوچکا کہ سندھ پیپلزپارٹی کو دینا ہے تو یہ دو نشستیں بھی زرداری صاحب کو دے دیں،پیر پگارا نے دعویٰ کیا کہ مجھےکہا گیا کہ زرداری صاحب سے الائنس کرلو، نشستیں مل جائیں گی، منع کیا تو کہا کہ پھر جی ڈی اے کے سامنے صفر لکھا ہوا ہے، ایم کیو ایم کے سامنے15ہے۔

    پیر پگارا کا کہنا تھا کہ ہم الیکشن کے نتائج کو مسترد کرتے ہیں، یہ اینٹی اسٹیٹ الیکشن تھا، یہ ریٹرننگ افسران کا نہیں کسی اورکا کام ہے، ہم یہ 2 سیٹیں بھی واپس کر دیں گے، ہم قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کریں گے، ہمارے احتجاج میں ایمبولینس کوکوئی نہیں روکےگا، ہم کوئی خیرات کی سیٹیں نہیں لیں گے، مجھے کسی دوست نے مشورہ دیا کہ جی ڈی اے ختم کردو،آپ کو دو تین ایم این اے اور ایم پی اے مل جائیں گے، میں نےکہا کہ میں جی ڈی اے ختم نہیں کرسکتا، کہا گیا ایم کیو ایم کا پیپلز پارٹی کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں، ایم کیو ایم کا پی ٹی آئی سے جھگڑا ہے۔

    سرفراز احمد کا کراچی میں مفت تعلیم کیلئے یونیورسٹی بنانے کا اعلان

    جی ڈی اے رہنما صفدر عباسی نے کہا کہ ہمارے دو ارکان اسمبلی میں حلف نہیں لیں گے، ہم دیگر جماعتوں کے ساتھ بھی رابطے کریں گے،ہم اگلی حکومت نہیں چلنے دیں گے، جب تک شفاف انتخابات نہیں ہوتے ہم احتجاج کرتے رہیں گے، 16 فروری کو حیدرآباد بائی پاس پر دھرنا دیں گے-

    قطر میں جاسوسی پرسزائے موت پانے والے بھارتی بحریہ کے 8 سابق افسر رہا

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

  • 7 نومنتخب ارکان پنجاب اسمبلی کی  ن لیگ میں شمولیت

    7 نومنتخب ارکان پنجاب اسمبلی کی ن لیگ میں شمولیت

    لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینیٹر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز شریف سے 7 نومنتخب ارکان پنجاب اسمبلی نے ملاقات کی-

    باغی ٹی وی:مریم نواز شریف سے پی پی 240 بہاولنگر سے سہیل خان، پی پی 48 سیالکوٹ سے خرم ورک، پی پی 249 احمد پور شرقیہ سے شہزادہ گزین عباسی نے ملاقات کی ، راجن پور سے خضر مزاری، پی پی 96 چنیوٹ سے ذوالفقار علی شاہ، پی پی 49 پسرور سے رانا فیاض اور پی پی 97 چنیوٹ سے ثاقب چدھڑ بھی ملاقات کرنے والوں میں شامل تھے

    مریم نواز شریف نے آزاد ارکان کو مسلم لیگ (ن) میں شمولیت پر مبارک دی اور ان کے فیصلے کا خیرمقدم کیا کہا کہ آپ کا فیصلہ پاکستان کے عوام کی مشکلات کے حل کا ذریعہ بنے گا، آپ کا اعتماد عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے میں محمد نواز شریف کے ہاتھ مضبوط کرے گا-

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    https://x.com/pmln_org/status/1757039876095062054?s=20
    دوسری جانب آزاد ارکان اسمبلی نے میاں محمد نواز شریف کی قیادت اور عوام کی خوش حالی کے ایجنڈے پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا-

    ماہرہ خان کے ہاں ننھے مہمان کی آمد متوقع؟

    قطر میں جاسوسی پرسزائے موت پانے والے بھارتی بحریہ کے 8 سابق افسر رہا

  • موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    عام انتخابات، الیکشن کمیشن نے دھاندلی کی تصدیق کر دی، امیدواروں کو متعلقہ فورم جانے کامشورہ دے دیا

    عام انتخابات آٹھ فروری کو ہوئے، آزاد امیدوار، جماعت اسلامی،پیپلز پارٹی، تحریک لبیک سمیت متعدد جماعتیں کہہ رہی ہیں کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی، آراوز نے گنتی کے وقت امیدواروں کو نکال دیا،دھاندلی کے خلا ف ملک گیر احتجاج بھی جاری ہے،کئی شہروں میں احتجاج کرنیوالوں کےخلاف مقدمے بھی درج ہوئے، گرفتاریاں بھی ہوئیں اب الیکشن کمیشن نے تسلیم کر لیا ہےکہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی تا ہم اکا دکا واقعات سامنے آئے،

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ "انتخابات کے انعقاد سے پہلے اور انتخابی عمل کے دوران الیکشن کمیشن کو بے پناہ چیلنجز درپیش تھے جن سے عہدہ براء ہونے کے لیے وقتاً فوقتاً مختلف اقدامات عمل میں لائے گئے۔اس حوالے سے یہ بات زبان زدعام تھی کہ انتخابات کا انعقاد مقررہ تاریخ پر نہیں ہو پائے گا۔ الیکشن کمیشن نے اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے تمام ممکن عملی اقدامات کیے اور انتخابات مقررہ تاریخ پر کروائے۔8 فروری کے انتخابات کے کامیاب انعقاد کے لیے الیکشن کے عمل کو پرامن اور منظم رکھنا، پولنگ عملے کی زندگیوں کی حفاظت کو یقینی بنانا، پولنگ میٹریل کی بحفاظت نقل و حمل کو محفوظ بنانا اور درست نتائج کی ترتیب و تدوین انتہائی اہم ترجیحات تھیں جنہیں بقیہ تمام عوامل پر مقدم رکھا گیا اور سیکیورٹی کے چیلنجز کے باوجود پر امن پولنگ کے انعقاد کو یقینی بنایا گیا۔نتائج میں تیزی کی خاطر انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنا یا نتائج کی درستگی کو مشکوک بنانا نامناسب تھا۔ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کے واقعات بالخصوص انتخابات کے نزدیک مختلف مقامات پرسیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی شہادت نے انتخابات کے انعقاد کو ایک چیلنج بنا دیا۔ایسی صورت حال میں انتخابی عمل اور بالخصوص نتائج کی تیزی کے لیے انسانی جانوں کو خطرات میں جھونکنے سے پورے انتخابی عمل کے سبو تاژ ہونے کا خطرہ موجود تھا جس کے تدارک کے لیے ترجیحی اقدامات کیے گئے۔سیکیورٹی اداروں کے مشورہ پر وفاقی حکومت کی جانب سے موبائل فون کی بندش کے علاوہ پولنگ کے عمل کو پرامن اورمنظم رکھنے اور پولنگ عملے اور پولنگ میٹریل کی حفاظت کے لیے گروپوں کی صورت میں سیکیورٹی کے حصار میں نقل و حمل کو یقینی بنایا گیا۔ تاہم موبائل نیٹ ورک کی عدم دستیابی کے باعث رابطہ نہ ہونے، پولنگ سٹیشنوں کے طویل فاصلوں اور دور دراز جگہوں پر واقع ہونے، رات کے اندھیرے میں سفر ،بعض علاقوں میں موسم کی شدت اور برف کی موجودگی اور بعض مقامات پر شاہراؤں پر ہارنے والے امیدواروں کے حامیوں کے جانب سے دھرنے دیے جانے کے باعث پولنگ عملے کو نقل و حمل میں مشکلات پیش آئیں۔بلوچستان کے بعض علاقوں میں پولنگ عملے اور پولنگ میٹریل کی نقل و حمل کے لیے ہیلی کاپٹر بھی استعمال کرنا پڑے۔ملک کے کئی حصوں میں سیکیورٹی کی صورت حال اور کوآرڈی نیشن میں آسانی کے لیے پانچ سے چھ ریٹرننگ آفیسرز کے دفاتر ایک ہی جگہ پر بنائے گے تاہم ان دفاتر پر جہاں پولنگ عملے کی آمد سے رش بڑھا وہاں کئی جگہوں پر ریٹرننگ آفیسرز کے دفاتر کے سامنے بے پناہ ہجوم بھی اکٹھا ہوا جس کے باعث پولنگ عملے کو پولنگ میٹریل جمع کرانے میں مشکلات پیش آئیں جن کا انتخابی نتائج کی ترتیب و تدوین پر بھی فرق پڑا۔تاہم یہ امر قابل ذکر ہے کہ جن علاقوں میں انتخابی نتائج میں تاخیر بھی ہوئی وہاں نتائج کا ملا جلا رحجان رہا اور کسی ایک جماعت کو کسی طور پر فائدہ یا نقصان نہیں پہنچا۔EMS کا بنیادی کام R.O. کے دفاتر میں پریزائیڈنگ آفیسرزکے ذریعے جمع کرائے گئےنتائج کی تیاری اور تدوین تھا اور فارم۔47 (غیر حتمی نتیجہ) تیار کر کے نتائج کا اعلان کرنا تھا۔پریزائیڈنگ آفیسرز کو پولنگ سٹیشن پر فارم۔45 تیار کر کے اسے اپنے موبائل فون کی مدد سے الیکٹرانک طریقے سے اپنے آر او کو بھیجنا تھا۔نیز الیکشنز ایکٹ2017 کے سیکشن 90 کے تحت پریزائیڈنگ آفیسر نے اپنے ریٹرننگ آفیسر کے دفتر ذاتی طور پر پہنچنا تھا۔یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ آ ر اوکے دفاتر میں نصب ای ایم ایس کا نظام کنیکٹوٹی پر منحصر نہیں تھا اور ای ایم ایس نے آر او کے دفتر میں تسلی بخش کام کیا۔ تاہم پریزائیڈنگ آفیسرز کے فونز میں انسٹالڈ ای ایم ایس موبائل ایپ کو فارم۔45 الیکٹرانک طور پر بھیجنے کے لیے سیلو لر کنیکٹوٹی کی ضرورت تھی۔چونکہ سیلولر سگنلز کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند کر دیا گیا تھا اس لیے پریزائیڈنگ آفیسرز، ریٹرننگ آفیسرز کو الیکٹرانک ڈیٹا بھیجنے سے قاصر رہے۔مزید یہ کہ معمول کی کوآرڈی نیشن اور انتظامی نقل و حمل کے مجموعی عمل کو موبائل سگنلز کی بندش نے بری طرح متاثر کیا، جو کہ مزید تاخیر کا باعث بنا۔ یہ بتانا ضروری ہے کہ 2018ء کے جنرل الیکشن میں پہلا نتیجہ صبح 4 بجے موصول ہوا جبکہ 2024ء میں پہلا نتیجہ رات 2 بجے موصول ہوا۔اسی طرح 2018 میں نتائج کی تدوین تقریباً 3 دن میں مکمل ہوئی جبکہ اس مرتبہ کچھ حلقوں کے علاوہ ڈیڑھ دن میں انتخابی نتائج مکمل ہوئے۔ان مشکلات اور مسائل کے باوجود الیکشن کمیشن 8 فروری کو الیکشن کے عمل کو پرامن اور منظم رکھنے میں کامیاب رہا۔یہ ایک بہت بڑا آپریشن تھا جو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا جس کا اعتراف سول سوسائٹی تنظیموں، مقامی و عالمی مبصرین اور میڈیا نے بھی کیا اور پولنگ کے انتظامات، پولنگ عملے کی تربیت، پولنگ سٹیشنوں پر نظم و ضبط اور عوام کی ایک بڑی تعداد کے ووٹنگ کےعمل میں شریک ہونے کو سراہا جو انتخابی عمل کی کامیابی کی دلیل ہے”.

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ "الیکشن کمیشن انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو یکسر مسترد کرتا ہے تاہم اکا دکا واقعات سے انکار نہیں جس کے تدارک کے لیے متعلقہ فورمز موجود ہیں اور الیکشن کمیشن ان دنوں میں بھی دفتری اوقات اور دفتر کے بعد بھی دیر تک ایسی شکایات کو وصول کر رہا ہے اور ان پر فوری فیصلے بھی کیے جا رہے ہیں۔الیکشن کمیشن انتخابات کے پرامن انعقاد پر نگران وفاقی حکومت، نگران صوبائی حکومتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، پاک فوج، دیگر اداروں اور پولنگ سٹاف کا شکریہ ادا کرتا ہے”۔

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

  • آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    اسلام آباد، تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن اپنی استدعا لے کر آئے ہیں،

    سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ 8 فروری کو عوام نے ووٹ ڈال خوف کے بت توڑے، رات دس کے بعد سب کچھ بدل گیا، رزلٹ بدلنے کا فیصلہ کس نے کیا مجھے معلوم نہیں؟ آر او نے مجھ سمیت دیگر کو باہر نکال دیا، میں این اے 128 کے فارم 45 سے 90 ہزار سے جیت رہا تھا لیکن فارم 47 میں مجھے ہرا دیا گیا،مجھے اتنا پتا ہے دھاندلی ہوئی لیکن کس نے کروائی یہ نہیں معلوم، وکلاء برادری اس معاملے پر بھلے اکٹھی نہ ہو لیکن عوام کو اکٹھا ہونا پڑے گا، 8 فروری کو انٹرنیٹ بند نہ ہوتا تو شاید حالات کچھ اور ہوتے،ہم ہر قانونی راستے کو اپنائیں گے، اپنی استدعا دائر کردی ہے، اُمید ہے کل شنوائی ہوگی، آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران ان کے معاون تھے۔ عوام کو موقع دیں کہ وہ منتخب کریں کس نے حکومت میں رہنا ہیں اور کس نے نہیں، ہمیں کمروں سے نکال کر فارم 45 پر نمبرز ڈالے گئے.

    سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ دھاندلی کو ریاست ہی روک سکتی ہے اور یہاں ریاست ہی دھاندلی کروا رہی ہے، یہاں‌فریقین کے مابین دھاندلی کم ہوئی اصل دھاندلی آر اور اور پولیس افسران نے کئے، گنتی امیدوار کی موجودگی میں ہوتی انہوں نے ہمیں نکال کر دوسرے کو جتوا دیا،

    قبل ازیں این اے 128 سے آزاد امیدوار سلمان اکرم راجہ نے ووٹوں کی گنتی میں بیٹھنے کی اجازت نہ دینے کا اقدام ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں ریٹرنگ آفیسر سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا . درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ این اے 128 سے آزاد حیثیت سے انتخاب لڑ رہا ہوں ،الیکشن ایکٹ کے تحت انتخابی نتائج میں امیدوار کی موجودگی ضروری ہوتی ہے،ریٹرنگ آفیسر نے ووٹوں کی گنتی کے عمل سے باہر کر دیا ہے، عدالت ریٹرنگ آفیسر کو امیدوار کی موجودگی میں ووٹوں کی گنتی کرنے کا حکم دے،

    این اے 130 لاہور ، نواز شریف جیل میں گرفتار یاسمین راشد سے جیت گئے

    بلاول کا "تیر” چل گیا، پیپلز پارٹی اب تک قومی کی ایک،صوبائی کی 5سیٹوں سے کامیاب

    آٹھ گھنٹے گزر گئے، الیکشن کمیشن نتائج دینے میں ناکام،آصف زرداری اسلام آباد،نواز گھر چلے گئے

    آبائی نشست سے متوقع ہار ،نواز شریف افسردہ ،ماسک پہن کر ماڈل ٹاؤن سے روانہ،تقریر بھی رہ گئی

    مخلوط حکومت کانام نہ لیں ایک پارٹی کی اکثریت ضروری ہے،نواز شریف

    انتخابات ابھی تک تو پُر امن ہیں،نگران وزیراعظم