انساں اور انسانیت…
(بقلم:جویریہ چوہدری)۔
اکثر لوگ ملتے ہیں…
چھاؤں سے دھوپ میں…
چلتے چلتے جو ڈھلتے ہیں…
وہ رفاقتوں کے فریب میں…
محبتوں کے آسیب میں…
منزلوں کے جنون میں…
دعوؤں کے ستون میں…
رنگِ منافقت بھرتے ہیں…
جھوٹ کی ملمع کاری سے…
لفظوں کی آبیاری سے…
ہمارے گرد وہ اکثر…
گہرا حصار کَستے ہیں…!!!
ساتھ کا یقین دلا کر…
لفظ وفا کا مشروب پلا کر…
مگر قدم پیچھے ہٹاتے ہیں…
زباں سے خوش وہ رکھتے ہیں…
دلوں کو چیر دیتے ہیں…!!!
یہ وقت جب پلٹا کھاتا ہے…
شب اور سحر دکھاتا ہے…
تو منزل کی دہلیز پہ بیٹھ کر…
شفق کی گہری سُرخی میں کھو کر…
اُفق سے نکلتے آفتاب کی…
جگمگاتی کرنوں میں…
سب چہرے یاد آتے ہیں…
اصل اپنی دکھاتے ہیں…
ذہن کے دریچوں پر منڈلا کر…
شفق میں ڈوب جاتے ہیں…!!!
تب ستاروں کی روشنی میں…
ایسے رویوّں کا ڈسا ہوا…
تھکا مسافر پھر راہ تلاشتا ہے…
راہ کے سب پتھر…
تنہا ہی وہ تراشتا ہے…!!!
راہوں کی سب رکاوٹیں…
عزم سے اپنے وہ ہٹا کر…
منزلوں کو پا کر…
آثارِ رہ بھی چھوڑتا ہے…
منافقانہ رویوّں کی…
سب کڑیاں وہ توڑتا ہے…!!!
گہری شب میں ہچکولے کھا کر…
راہ کے طوفاں و بگولے سہہ کر…
راز اک گہرا پاتا ہے…
آزمائش کا چکر اُسے…
سبق بڑا سکھاتا ہے…
تب دل میں اک ہوک سی اٹھتی ہے…
گہرائی میں اک کرن…
کوئی احساس کی چمکتی ہے…
اپنی راہ میں آئے اندھیروں میں…
اُس احساس کی شمع جَلا کر…
وہ دوسروں کو راہ دکھاتا ہے…
خود پہ لگے زخموں کی ٹیسوں سے…
وہ اوروں کو بچاتا ہے…
اک گہرے درد سے گزر کر ہی…
انساں انسانیت کو پاتا ہے…!!!
==============================
Category: ادب و مزاح
-

انساں اور انسانیت… بقلم:جویریہ چوہدری
-

عہدِ وفا احمد علی ہاشمی
عہدِ وفا
احمد علی ہاشمیدل مضطرب ہے میرا مجھے پیار ہو گیا ہے
تیری یاد میں یہ تڑپے اور تو مجھے ستائےتیری خبر ملے جو ، دل باغ باغ پاؤں
جو نہ رابطہ ہو تجھ سے مجھے چین پھر نہ آئےاے میری جان جاناں اک التجا ہے میری
مجھ سے خفا نہ ہونا سدا راضی مجھ سے رہناتیری چاہتوں کاطالب، میں تیرا ساتھ چاہوں
تیرا ہاتھ مانگتا ہوں رب سے یہی دعا ہےقندیل، میرا آنگن سدا چمکے تیری ضو سے
میرے پیار سے تو جاناں، تبسم سدا کا پائےیہ فیصلہ ہے میرا تجھے پاؤں گا خدا سے
پھر خار دار رستے نہ کوئی رسم ڈرائے -

ڈیجیٹل عاشق از ؛ نعیم ہاشمی
ڈیجیٹل عاشق
نعیم ہاشمیمجھے آن لائن پاکر کوئی ہیلو اور نہ ہائے
میں یہ کیسے مان جاؤں میری یاد ہے ستائےجو پوچھنے لگی وہ تیری نیند کیوں اڑی ہے
چھوڑیں نہ فیس بک کو خواہ فیس نکل آئےمیں نے کہا کہ چھوڑو اس فیس بک میں کیا ہے
مجنوں بنا ہوں تیرا، تو لیلیٰ نظر آئےمیرے رتجگوں سے پوچھو میرا حال کیا ہوا ہے
میرا دل چرا لیا ہے اور ستم آزمائےکہنے لگی کہ جاناں چاہت میری یہی ہے
میں پاس تیرے بیٹھوں اور وقت ٹھہر جائےہوا مضطرب بہت میں لاحول پڑھتے بولا
یہ وقت میری جاناں ہم پر کبھی نہ آئےاکیسویں صدی کا، میں ماڈرن ہوں عاشق
جب نیٹ میرا نہ آئے تیری یاد ہے ستائےلفظوں سے کھیلنے کا اک ہنر شاعری ہے
لازم ہے دور رہیے گر سمجھ کچھ نہ آئے -

میرا سائباں از ؛عائش نعیم
2سومیرا سائباں
عائش نعیم
(میرا جسم میری مرضی کے مقابل مشرقی روایات کی امین ایک خوبصورت نظم)قائم رہے سایہ تیرا
خوشیوں کی تو ہی ہے وجہیہ لالہ زار تجھ سے ہے
اس گھر کا تو سائباںیہ زندگی تجھی سے ہے
تو زندگی کی ہے بہاریہ رب نصیب نہ کرے
کہ ہو زندگی تیرے بناتیرے ہی دم سے ہر خوشی
اونچا رہے یہ نام تیرالاہوت ہو پرواز تیری
میرے لبوں پہ ہے دعاقائم رہے میرا سائباں
میری چھت، میرا مہرباں -

ظاہر و باطن…!!! بقلم:جویریہ چوہدری
ظاہر و باطن…!!!
(بقلم:جویریہ چوہدری)۔
وہ ہمیں پہ کڑکے…
ہمیں پہ گرجے…
اور ہمیں پہ برسے…
سو جگا گئے…
راہ دکھا گئے…
کر صفا گئے…!!!
مگر جو دیکھا__
پلٹ کر ہم نےاُنہیں…
اپنی ادا کو…
نہ وہ سنوار سکے…
بے وقت صدا کو…
نہ کردار سکے…!!!
نہ گفتار سکے…
وہ ہمیں پہ
چاہتے تھے برسنا…
سو ہم ہی کو نکھار گئے…!!!
نہ گریباں میں…
اپنے وہ جھانک سکے…
نہ اداؤں کو اپنی…
وہ تانک سکے…
جو مقام تھا کھوکھلا…
اُن کے دل میں ہمارا…
صد شکر وہ اپنے ہی…
لفظوں سے دل پہ ٹانک گئے…!!!
جو ظاہری صناعی کا…
تھا تعلق وقتوں سے…
اپنے ظاہر کی جھلکی میں…
باطن وہ اپنا دکھا گئے…
سو جگا گئے…
راہ دکھا گئے…!!!!!!
============================= -

وصالِ یار از ؛ نعیم ہاشمی
وصالِ یار
نعیم ہاشمیتیری چاہتیں ملی ہیں
اب اور کیا میں چاہوں
تم جو مل گئے ہو مجھ کو
اب اور کیا میں مانگوںنہیں دل میں کوئی حسرت
نہ ہی اور کوئی چاہت
تجھے پا لیا ہے میں نے
اب اور کیا میں پاؤںیہ بہارِ جاوداں ہے
تیرے ہی دم قدم سے
تو رہے سدا سلامت
اب اور کیا میں مانگوںعشرت کدے میں میرے
روشن قندیل تیری
رہے نور یہ فروزاں
یہی صبح و شام چاہوںرہے تا ابد سلامت
تیرا اور میرا تعلق
نہ میں چاہوں حورِ عینا
تیرا ساتھ ہی میں چاہوںتیرے ہی دم سے قائم
سانسوں کی ڈور میری
تیری رضا ملے جو
پھر اور کچھ نہ چاہوں -

کون ہےسپرپاور ؟ از :سفیر اقبال
#کون ہےسپرپاور
کون ہے سپر پاور کس کی ضرب کاری ہے؟
آج سب زبانوں پر کس کا نام جاری ہے…؟وقت کے فرعونوں پر اور کھلی فضاؤں پر
کس کی بادشاہی ہے؟ کسی کی پہرے داری ہے؟ہے شدید تر کتنا ِاس عذاب کا کوڑا
ساری دنیا پر واضح آج حکمِ باری ہےاک عظیم خالق کی یاد جب نہیں دل میں
اک حقیر وائرس کا خوف کتنا طاری ہےاپنے سیف ہاوسز میں مطمئن جو کل تک تھے
ان ثمود والوں پر سخت بے دیاری ہےبھولے ایک ہستی کو اور چھن گیا سب کچھ
سخت بے یقینی ہے، سخت بے قراری ہےکیوں نظر چراتے تھے ایک بستی سے کل تک
آج پوری دنیا میں لاک ڈاؤن جاری ہےکیسی بددعا تھی وہ پوچھو شامی بچے سے
سسکیوں میں ہی جس نے عمر اک گزاری ہےاک ایک پنچھی کو جس نے نوچ ڈالا تھا
خوف میں گھرا خود ہی آج وہ شکاری ہےجس نے ایک ساعت میں بستیاں کھنڈر کر دیں
ایک ایک ساعت کا آج خود بھکاری ہےعالمی مسیحاؤ ….! کچھ تو آج بتلاؤ
کیا علاج ہے اس کا؟ کیسی یہ بیماری ہے؟گر دوا نہیں تو پھر رب سے کچھ دعا کر لو
کس کو کیا خبر آخر کل کو کس کی باری ہے؟ماں کے پیار سے بڑھ کر رب کو پیار ہے ہم سے
اس کے پیار میں ہی بس عافیت ہماری ہے….!شاعری :سفیر اقبال
#رنگِ_سفیر
(نوٹ! تصویر اس دعا کی ہے جو اللہ تعالیٰ نے یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں سکھائی تھی…. اس وقت جب قیدِ تنہائی میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی سہارا اور مددگار نہیں تھا )
-

ہمیشہ بھول جاتا ہوں ؛ از منہال زاہد سخی
منہال زاہد سخی
کبھی کسے یاد کرکے میں ہمیشہ بھول جاتا ہوں
کسے سے فریاد کرکے میں ہمیشہ بھول جاتا ہوںکسی کو سہارا دے کر کنارے کنارے چلتا ہوں
کسی کی خلوت میں امداد کرکے ہمیشہ بھول جاتا ہوںغروب آفتاب کے منظر کو کبھی دیکھا جو ساحل سے
دل کو غموں سے آباد کرکے ہمیشہ بھول جاتا ہوںخودی کو اجنبی جانا خودی کو کوئی سمجھا غیر
کتنی بستیاں برباد کرکے ہمیشہ بھول جاتا ہوںکسی کو واسطہ واپسی کا سفر ادھورا رہتا ہے
اسے ناکام استاد کرکے ہمیشہ بھول جاتا ہوںکوئی پنجرہ صدائے محبت کم نہ کرسکا کبھی سخی
دل کی بلبل کو آزاد کرکے ہمیشہ بھول جاتا ہوں#قلم_سخی
-

غریب کا درد… بقلم: جویریہ چوہدری
غریب کا درد…
(بقلم:جویریہ چوہدری)دعا ہے یا رب یہ وبا بھی جلد ٹل جائے…
غریب بھی پھر اپنے آپ سنبھل جائے…
بھوک کا منڈلاتا سایہ خوفناک بہت ہے…
اس ڈر سے کہیں کوئی ہار نہ دل جائے…
سماجی فاصلے کا اُڑاتا ہے غریب مذاق…
کہیں حصولِ امداد کا گزر نہ پَل جائے…
مزدوری و دیہاڑی کے پھر لمحے لَوٹ آئیں…
مزدور کا بدن چاہے دھوپ سے جَل جائے…!!!
ہاتھ کی کمائی کا مزہ ہی کچھ اور ہے…
اس ذلت و پریشانی کا نکل کوئی حل جائے…!!!
دعوؤں سے بڑھ کر بھی کچھ ہوتا آئے نظر…
کہیں کاغذوں پر ہی صرف کام نہ چل جائے…!!! -

عجب محبت کی غضب کہانی–از—نسیم شاہد
اس کی آنکھوں میں ہلکی ہلکی نمی تھی ،اچانک وہ غیر متوقع طور پر میری طرف بڑھی ،اس نے سب کے سامنے مجھے جپھی ڈالی اور میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دئے
آج پرانی تصویروں میں سے ایک تصویر کیا ملی ،غضب ڈھا گئی دل کے تار ہلا گئی ۔ایمنڈا سیلی کی یاد تازہ ہو گئی اور میری بزدلی کی بھی کہ میں عشق کی خاطر اپنی زمین چھوڑنے سے ڈر گیا ۔1987 کی بات ہے میری ابھی شادی نہیں ہوئی تھی ۔
بہاءالدین زکریا یونیورسٹی میں ایشیا فاونڈیشن نے انگلش لینگوئج سنٹر قائم کیا ۔جس کا انچارج ایک امیریکن ڈگلس بروکس کو بنایا گیا ۔ایک دن وہ مجھے صدر بازار کینٹ میں ملا اور پھر ہم دوست بن گئے ۔اس نے گلگشت میں گھر لے لیا ،اچھے زمانے تھے وہ موٹر سائیکل پر گھومتا ،میرے پاس بھی آجاتا ۔اسے ملنے کیلئے اس کے دوست اور سہیلیاں امریکہ اور یورپ سے آتیں ۔وہ خوب پیتے پلاتے اور میں سائیڈ پر بیٹھا پھوکے مزے لیتا ۔
انہی دنوں امینڈا سیلی لندن سے آئی ،وہ ایک بھارتی نثراد عیسائی خاندان سے تعلق رکھتی تھی جو لندن میں مقیم تھا ۔ڈگلس نے اسے کہا یہ نسیم ہے ملتان کا انسائیکلو پیڈیا ،تمہیں پورا شہر دکھا دے گا ۔وہ روزانہ یونیورسٹی چلا جاتا اور ہم موٹر سائیکل پر ملتان کی سیر کرتے ۔ایک ہفتہ گزرا کہ مجھے لگا ایمنڈا کو عشق کا دورہ پڑنے لگا ہے ۔
ایک دن اس نے مجھ سے پوچھا تم نے شادی کیوں نہیں کی ؟ میں نے جھٹ کہا کوئی ملے گی تو کر لوں گا ،اس پر اس نے بے ساختہ پوچھا ،،کیا اب بھی ؟ ،، .میں جماندرو بھولا اس کی بات نہ سمجھا،بات آئی گئی ہو گئی ۔سچی بات ہے اتنے عرصے میں میں بھی اس کی باتوں ،اداوں اور مسکراہٹوں کا عادی ہوتا جا رہا تھا ،
پھر وہ دن آیا جب اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے پوچھا ،، نسیم کیا تم مجھ سے شادی کرو گے ؟،، ہائے ہائے کیا بم تھاجو اس نے مجھ پر گرایا ۔میں نے کہا مگر کیسے ،تم عیسائی ہو میں مسلمان تم لندن رہتی ہو میں ملتان ،، اس نے کہا ،، نو پرابلم میں کنورٹ ہو جاونگی ،، ۔میں نے کہا مگر تم ملتان میں نہیں رہو گی اور میں لندن نہیں جاسکتا ۔
اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا ،، کیا میری خاطر بھی نہیں ؟،،.بڑا جانکاہ لمحہ تھا ۔میں نے کہا سوچ کربتاوں گا ۔اس نے کہا میرے پاس وقت نہیں میں نے دو دن بعد چلے جانا ہے ،میں نے کہا اچھا ایک دن تو سوچنے دو ۔گھر گیا تو ساری رات کروٹیں لیتے گزری ،سوچیں ہی سوچیں ،کیا ایک اجنبی لڑکی کیلئے اپنی ماں چھوڑ دوں جو میرے تن کے روئیں روئیں سے واقف ہے ۔کیا بہن بھائیوں کو خیر باد کہہ دوں ،کیا اپنی مٹی اور شہر کی بوباس سے کنارہ کشی اختیار کر لوں ،ناں بھئی ناں مجھ سے یہ نہیں ہو سکے گا ۔
صبح ہوئی تو میں ایمنڈا سیلی سے ملنے گیا ،باتوں باتوں میں اسے کہا میں تم سے شادی نہیں کر سکتا ،اس کی آنکھوں میں مایوسی عود کر آئی ،، مگر کیوں ؟،، میں نے کہا میری ماں نہیں مانے گی ۔اس نے جھنجھلا کے کہا ،کیا مطلب زندگی تمہاری ہے تم نے گزارنی ہے ۔میں نے کہا ایمنڈا تم نہیں سمجھو گی ،
جب میری ماں جوان تھی تو اس نے میرے لئے زندگی واقف کی اب میں جوان ہوں تو مجھے اس کیلئے زندگی وقف کرنی ہے ،میری اس بات پر اس کی آنکھوں میں نمی سی تیرنے لگی ،اس نے بے ساختہ مجھے گلے لگایا اور کہا ،،نسیم آئی لو یو ،You Really Posses a wonderful Soul ،، .اگلے دن اس نے جانے کا پروگرم بنا لیا ۔
میں ،ڈگلس اور مشترکہ دوست عارف قریشی اسے چھوڑنے ملتان ائرپورٹ گئے ۔اس کی آنکھوں میں ہلکی ہلکی نمی تھی ،اچانک وہ غیر متوقع طور پر میری طرف بڑھی ،اس نے سب کے سامنے مجھے جپھی ڈالی اور میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دئے ،بس اس کے بعد اس وقت میرے پاس کہنے کو کچھ تھا نہ آج ہے ۔
عجب محبت کی غضب کہانی–از—نسیم شاہد
