Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • تبصرہ کتب،سیرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

    تبصرہ کتب،سیرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

    خلیفہ اول کے شرف وفضل ، خلافت اور تاریخی کارناموں کا دلنشین اور مستند تذکرہ

    تبصرہ نگار : عبدالغفار مجاہد

    زیر تبصرہ کتاب ’’ سیرتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ‘‘ میں سیرتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ‘‘ کے تابندہ نقوش کو نہایت مدلل، رواں اور دل نشیں انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اسلوب اور تحقیقی اعتبار سے سیرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ پر لکھی جانے والی کتب میں پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز العمری کی یہ کتاب ایک نیا اضافہ ہے ۔ ڈاکٹر عبدالعزیز العمری کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔ وہ 1958ء سعودی عرب کے شہر بریدہ میں پیدا ہوئے تاہم ڈاکٹر صاحب کا اصل اور قابل فخر تعارف یہ ہے کہ وہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مبارک نسل میں سے ہیں اس لیے وہ اپنے نام کے ساتھ ’’ العمری ‘‘ لکھتے ہیں ۔ ڈاکٹر عبدالعزیز عصرِ حاضر کے معروف محقق، سیرت نگار اور اسلامی علوم کے ممتاز اہلِ علم ہیں۔ انہوں نے قرآن، حدیث، تاریخِ اسلام اور سیرتِ نبویﷺ کے میدان میں قابلِ قدر علمی خدمات انجام دی ہیں، جس کی بدولت ان کی تصانیف علمی حلقوں اور عام قارئین میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی قابل قدر تالیف ’’ سیرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ‘‘ دارالسلام انٹرنیشنل نے خوبصورت اور جاذب نظر ٹائٹل کے ساتھ شائع کی ہے ۔ یہ کتاب عربی زبان میں لکھی گئی ہے جبکہ دارالسلام انٹر نیشنل کے سینئر ریسرچ سکالر حافظ صداقت اکرام نے اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔ کتاب کا ترجمہ رواں اور شستہ ہے ۔ صرف صحیح اور مستند روایات کو ہی بنیاد بنایا ہے ۔ کتاب کا آغاز سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نسب، اخلاق و کردار اور نمایاں اوصاف سے ہوتا ہے، پھر اسلام قبول کرنے کی سعادت، رسول اکرم ﷺ سے بے مثال محبت، دعوت و تبلیغ، ہجرت، غارِ ثور، غزوات میں شرکت، خلافت، فتنۂ ارتداد کے خلاف استقامت، قرآنِ کریم کی جمع و تدوین، عدل و انصاف، حسنِ انتظام اور دیگر تاریخی و ایمانی موضوعات کو تسلسل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ فہرستِ مضامین ہی اس امر کی گواہی دیتی ہے کہ کتاب نے سیرتِ صدیقی کے تقریباً ہر اہم گوشے کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا ہے۔
    اس کتاب کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف تاریخی واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ کردار سازی کا ایک مؤثر نصاب بھی ہے۔ صداقت، وفاداری، شجاعت، حلم، سخاوت، عبادت، زہد، علم، قیادت، عدل اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل جیسے اوصاف کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی عملی زندگی کے آئینے میں پیش کیا گیا ہے۔ یوں قاری محض معلومات حاصل نہیں کرتا بلکہ اسے اپنی شخصیت سنوارنے اور اپنی عملی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ عبارت میں غیر ضروری پیچیدگی نہیں، اسلوب میں روانی اور اندازِ بیان میں علمی وقار کے ساتھ ادبی لطافت بھی نمایاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب مدارس کے طلبہ، جامعات کے محققین، خطباء ، ائمہ، اساتذہ اور عام قارئین سبھی کے لیے یکساں مفید ہے۔ ہر باب قاری کو اگلے باب کی طرف متوجہ کرتا ہے اور مطالعہ کسی بوجھ کے بجائے ایک خوشگوار علمی سفر بن جاتا ہے۔ آج کے دور میں جبکہ مسلم معاشرہ فکری انتشار، اخلاقی کمزوری اور قیادت کے بحران سے دوچار ہے، ایسی کتابیں محض تاریخی سرمایہ نہیں بلکہ اصلاحِ احوال اور تعمیرِ کردار کا مؤثر ذریعہ بھی ثابت ہوتی ہیں۔ یہ کتاب ہر اس شخص کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے جو خلافتِ راشدہ کے پہلے خلیفہ کی عظیم شخصیت کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھنا چاہتا ہے اور اپنی زندگی میں صداقت، اخلاص، ایثار اور وفاداری جیسی صدیقی صفات کو اپنانے کا خواہاں ہے۔ موجودہ دور میں جب معاشرہ اخلاقی انحطاط، سیاسی انتشار، قیادت کے بحران، بدعنوانی، وعدہ خلافی، مفاد پرستی اور عدل و دیانت کی کمی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے، اس تناظر میں "سیرتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ یہ کتاب صرف عوام ہی نہیں بلکہ حکمرانوں، اربابِ اقتدار، منتظمین، علماء ، اساتذہ اور نوجوان نسل کے لیے بھی ایک عملی رہنما ہے جو ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ریاست کی حقیقی مضبوطی طاقت، دولت یا اقتدار سے نہیں بلکہ صداقت، عدل، امانت، دیانت، مشاورت، جواب دہی اور اللہ تعالیٰ کے خوف سے قائم ہوتی ہے۔256صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت 1400روپے ہے ۔ یہ کتاب دارالسلام انٹرنیشنل کے مرکزی شور روم ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور پر دستیاب ہے یا کتاب براہ راست حاصل کرنے کے لیے درج ذیل نمبر 042-37324034پر بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

  • باغی ٹی وی کے سینئر تجزیہ کارشہزاد قریشی کی کتاب "میرا سفر،میری کہانی” شائع

    باغی ٹی وی کے سینئر تجزیہ کارشہزاد قریشی کی کتاب "میرا سفر،میری کہانی” شائع

    باغی ٹی وی کے سینئر تجزیہ کارشہزاد قریشی کی کتاب "میرا سفر،میری کہانی” شائع ہو گئی ہے

    پاکستان سے نیدرلینڈز تک ہجرت، جدوجہد، امید اور ذاتی ترقی کے سفر پر مبنی نئی کتاب "میرا سفر، میری کہانی” شائع کر دی گئی ہے۔ باغی ٹی وی کے سینئر تجزیہ کارشہزاد قریشی نے میرا سفر میری کہانی میں اپنی زندگی کے مختلف مراحل، مشکلات، کامیابیوں اور بیرونِ ملک نئی زندگی کے تجربات کو نہایت سادہ اور مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔کتاب کا مقصد قارئین، خصوصاً نوجوانوں اور بیرونِ ملک جانے کے خواہش مند افراد کو یہ پیغام دینا ہے کہ محنت، عزم اور امید کے ذریعے زندگی کے بڑے چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے۔”میرا سفر، میری کہانی” جولائی 2026 میں شائع ہوئی ہے اور اسے اردو اور ڈچ دونوں زبانوں میں پیش کیا گیا ہے تاکہ پاکستان اور نیدرلینڈز سمیت مختلف ممالک کے قارئین اس سے استفادہ کر سکیں۔

    کتاب میں مجموعی طور پر 82 صفحات شامل ہیں ،اس کی اصل قیمت 1,600 روپے مقرر کی گئی تھی، تاہم تعارفی رعایتی قیمت 1,499 روپے رکھی گئی ہے۔

    میر ا سفر، میری کہانی ایک دل کو چھو لینے والی سوانحی کتاب ہے جو ہجرت، جدوجہد، امید اور شکرگزاری کے سفر کو نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں بیان کرتی ہے۔ یہ صرف ایک فرد کی زندگی کی کہانی نہیں بلکہ ہر اُس شخص کی نمائندگی کرتی ہے جس نے بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنا وطن چھوڑا، نئی سرزمین پر خود کو منوایا، اور محنت، صبر اور حوصلے سے اپنی شناخت قائم کی۔مصنف نے ہالینڈ میں اپنے ابتدائی دنوں، ثقافتی تبدیلیوں، زندگی کے نشیب و فراز، اور وہاں کے معاشرے سے حاصل ہونے والے تجربات کو خلوص اور سچائی کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔ اس سفر میں قاری کو صرف واقعات ہی نہیں بلکہ زندگی کے قیمتی اسباق، انسانیت، احترام، محنت، ایمان اور تعلق کی گہری جھلک بھی ملتی ہے۔یہ کتاب اُن تمام قارئین کے لیے ایک متاثر کن تحفہ ہے جو حقیقی زندگی کی کہانیوں، ہجرت کے تجربات، ذاتی کامیابیوں اور مثبت سوچ سے بھرپور تحریروں سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ میر ا سفر، میری کہانی امید، عزم اور شکرگزاری کا ایسا سفر ہے جو ہر قاری کے دل پر دیرپا اثر چھوڑتا ہے۔

  • سلسلہ قصص الانبیاء ( تیس حصے ) ،تبصرہ نگار : عبدالغفار مجاہد

    سلسلہ قصص الانبیاء ( تیس حصے ) ،تبصرہ نگار : عبدالغفار مجاہد

    سادہ زبان ، دلکش اسلوب اور ایمان افروز واقعات کا حسین امتزاج ۔بچوں ، بڑوں اور خواتین کے لیے تعلیم ، تربیت اور اصلاح کا ایک مکمل نصاب

    انسانی تاریخ کے سب سے روشن، سب سے پاکیزہ اور سب سے مقدس صفحات وہ ہیں جن پر انبیائے کرام علیہم السلام کی زندگیاں رقم ہیں۔ یہ وہ ہستیاں ہیں جن کے دل نورِ وحی سے روشن، جن کی زبانیں حق کی گواہ ا ور جن کے قدم انسانیت کو اندھیروں سے اجالوں کی طرف لے جانے والے چراغ تھے۔ دارالسلام انٹرنیشنل نے ’’ سلسلہ قصص الانبیاء ‘‘ کے انہی چراغوں کی روشنی کو تیس کتابوں میں سمیٹ کر ایک ایسا روحانی خزانہ پیش کیا ہے جو دل کو بیدار اور روح کو پاکیزہ کرتا ہے۔ یہ سلسلہ صرف کہانیوں پر مشتمل نہیں بلکہ یہ انسان کی پوری اخلاقی، معاشرتی اور روحانی تربیت کا ایک جامع نصاب ہے۔ ہر کتاب اپنے اندر ایک پیغام، ایک نکتہ، ایک نصیحت اور ایک ایمان افروز حقیقت رکھتی ہے۔

    ’’ سلسلہ قصص الانبیاء علیھم السلام ‘‘ کا آغاز قصہ سیدنا آدم علیہ السلام سے ہوتا ہے، جہاں انسان کی تخلیق، شیطان کا غرور، سجدہ آدم کا عظیم واقعہ اور آزمائش کا پہلا امتحان نہایت مؤثر اسلوب میں سامنے آتا ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ انسان کا اصل مقام اطاعت میں ہے غرور میں نہیں۔ پھر سیدنا ادریس علیہ السلام کا قصہ ہے جو قاری کو علم، حکمت اور تہذیب کی بلندیوں تک لے جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ ہولناک طوفان اور قصہ سیدنا نوح علیہ السلام انسان کے سامنے وہ عذاب کھول کر رکھتا ہے جس نے پوری دنیا کو پانی کے طوفان میں لپیٹ لیا۔موت کی ہوا اور سیدنا ہود علیہ السلام کا قصہ یہ بتاتا ہے کہ قومِ عاد کا غرور جب آسمان کو چھونے لگا تو ایک ہوا نے سب کچھ ملیا میٹ کر دیا ۔ا سی طرح ثمود کی تباہی اور سیدنا صالح علیہ السلام کی کتاب اس بات پر گواہ ہے کہ اللہ کی نشانی کو نقصان پہنچانا کیسے پوری قوم کی بربادی کا سبب بنا۔پھر آتی ہے ہولناک آگ ۔ یہ قصہ سیدنا ا براہیم علیہ السلام کا ایمان، نمرود کا غرور اور اللہ کی قدرت کا ایسا معجزہ ہے کہ جس سے آگ گلِ گلزار بن گئی۔ اس کے بعد عظیم قربانی میں سیدنا اسماعیل علیہ السلام کا وہ لمحہ آتا ہے کہ جب باپ بیٹے کی رضا کے ساتھ اللہ کے حکم کے سامنے جھک جاتا ہے۔ یہ داستان انسان کے ایمان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ انوکھے مہمان اور سیدنا اسحاق علیہ السلام کی خوشخبری اللہ کی رحمت اور قدرت کے نئے پہلو سامنے لاتی ہے، جبکہ پتھروں کی بارش میں قومِ لوط علیہ السلام کی گمراہی اور اس کا ہولناک انجام تاریخ کا ایسا ورق ہے جو آنکھیں نم کر دیتا ہے۔ سیدنا یعقوب علیہ السلام کی "عجیب بشارت” امید، صبر اور یقین کا درس دیتی ہے، جبکہ ظالم بھائی، بادشاہ کا خواب اور ستاروں کا سجدہ سیدنا یوسف علیہ السلام کی پاکیزہ زندگی کا ایسا ہمہ گیر بیان پیش کرتے ہیں جو کردار، بصیرت، معافی اور حسنِ اخلاق کا ایک آئینہ بن جاتا ہے۔سیدنا شعیب علیہ السلام کا قصہ "ہولناک عذاب” کے عنوان سے یہ سکھاتا ہے کہ ناپ تول میں کمی جیسا بظاہر معمولی گناہ بھی قوموں کو برباد کر دیتا ہے۔ اس کے بعد پرانی لاش، جادوگروں سے مقابلہ، عبرت کا نشان، سونے کا بچھڑا ، تین سوال اور زمین کی پکڑیہ چھ کتابیں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی عظیم جدوجہد، فرعون کی سرکشی، جادوگروں کی توبہ، بنی اسرائیل کی نافرمانی اور اللہ کے عذاب کے بے شمار عبرت ناک مناظر دکھاتی ہیں ۔ پھر سیدنا الیاس علیہ السلام کی داستان ایک مردِ مجاہد کی طرح سامنے آتی ہے جو ظالم بادشاہ کے سامنے بے خوف کھڑے ہو کر توحید کا پرچم بلند کرتے ہیں۔صندوق کی واپسی اورا ڑنے والا تخت یہ دونوں کتابیں بادشاہوں کے بادشاہ سیدنا دائود اور سیدنا سلمان کی ایسی شان دکھاتی ہیں جو انسانوں، جانوروں، پرندوں، جنّات اور ہواؤں پر حکم چلانے کے باوجود اللہ کے ایک سچے بندے کی عاجزی، عدل اور حکمت کو نمایاں کرتی ہیں۔ صبر کا بدلہ میں سیدنا ایوب کا ایمان انسان کی روح کو پاک کر دیتا ہے۔ ان کا صبر، بیماری کے شدید ترین حالات میں بھی اللہ پر بھروسہ ہر غم زدہ دل کے لیے ایک نعمت ہے۔خوش قسمت قوم سیدنا یونس کی قوم کی توبہ اور اللہ کی رحمت کا ظہور، اللہ کی قبولیت اور محبت کی خوبصورت دلیل ہے۔ اسی طرح انوکھی خوشخبری میں سیدنا زکریا کی دعا اور ان کے بڑھاپے میں عطا ہونے والے فرزند کی بشارت انسان کے دل میں امید کی شمع روشن کر دیتی ہے۔ ظالم ملکہ سیدنا یحیٰ علیہ السلام کی شہادت کا دردناک منظر پیش کرتی ہے، جبکہ پتھر کی گواہی میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات انسانیت کو اللہ کی قدرت کے حیرت انگیز جلوے دکھاتے ہیں۔ ا ور سب سے آخر میں ہے ۔۔۔۔’’ سب سے پیارے: محمد رسول اللہ ﷺ ‘‘ یہ کتاب صرف ایک قصہ نہیں بلکہ تمام قصص کی روشنی کا مرکز ہے۔ یہ کتاب اس محبوب ہستی کی زندگی کا نچوڑ ہے جن کے اخلاق قرآن ہیں ، جن کی زبان حق ہے ، جن کا دل رحمت ہے ، جن کی نگاہیں ہدایت ہیں اور جن کا وجود اللہ کی طرف سے انسانیت کے لیے سب سے بڑا تحفہ ہے ۔ دارالسلام نے اس عظیم سلسلے کو نہایت سادہ، دلکش، فصیح اور جامع انداز میں ترتیب دے کر ہر عمر کے مسلمانوں کے لیے نورِ ہدایت کا دروازہ کھول دیا ہے۔ یہ سلسلہ بچوں کے لیے سبق، بڑوں کے لیے عبرت، والدین کے لیے تربیت، خطباء کے لیے مواد اور ہر مسلمان کے لیے ایمان کی غذا ہے۔4کلر باتصویر اور آفسٹ پیپر پر طبع شدہ تیس حصوں پر مشتمل اس سیٹ کی قیمت 6600روپے ہے ۔ انبیاء علیھم السلام کے ایمان افروز حالات وواقعات پر مشتمل یہ حسین گلدستہ دارالسلام انٹرنیشنل کے مرکزی شوروم لوئر مال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ پر دستیاب ہے یا براہ راست حاصل کرنے کے لیے درج ذیل فون نمبر 042-37324034پر رابطہ کریں ۔

  • زبان کا صوتی نظام،تحریر  : پارس کیانی

    زبان کا صوتی نظام،تحریر : پارس کیانی

    ہر زبان کا اپنا صوتی نظام ہوتا ہے، جس میں کچھ مخصوص آوازیں زیادہ استعمال ہوتی ہیں اور کچھ آوازیں یا تو کم ہوتی ہیں یا موجود ہی نہیں ہوتیں۔ پنجابی زبان میں:
    "خ” [voiceless uvular fricative] ہے) کا استعمال اردو یا عربی کے مقابلے میں کم ہے۔
    لہٰذا بہت سے پنجابی بولنے والے اس آواز کو ادا کرنے کی عادت نہیں رکھتے یا مشکل محسوس کرتے ہیں۔
    جب پنجابی بولنے والے اردو بولتے ہیں، تو ان کی مادری زبان (پنجابی) کا لہجہ اور آوازوں کا اثر ان کی اردو پر بھی آتا ہے۔ اسے لسانیات میں زبان کی بین اللسانی مداخلت (interference) کہا جاتا ہے۔
    یہی وجہ ہے کہ "خ” کی جگہ "ہ” یا کبھی "ح” بول دیا جاتا ہے۔جیسے کہ:
    خوبصورت → ہوبصورت
    خطرہ → ہطرہ
    یہ لہجے کا فرق تو ہے، مگر اس کی جڑیں لسانیاتی نظام میں ہیں۔
    یہ فرق عام طور پر ان لوگوں میں زیادہ ہوتا ہے:
    جنھوں نے اردو کو ثانوی زبان کے طور پر سیکھا ہو۔
    یا جنھیں "خ” کی صحیح صوتی ادائیگی کی تربیت نہ ملی ہو۔
    تعلیم یافتہ پنجابی بولنے والے اگر اردو کو فصاحت کے ساتھ بولنا چاہیں تو وہ اس فرق پر قابو پا لیتے ہیں۔
    پنجاب کے دیہی علاقوں میں "خ” کی ادائیگی اکثر "ہ” کے طور پر ہوتی ہے۔
    شہری علاقوں میں، خاص طور پر لاہور جیسے شہروں میں، بہت سے لوگ اردو تلفظ کے قریب تر آنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    یہ فرق محض بولنے کا انداز (لہجہ) ہی نہیں، بلکہ زبان کی ساختی اور صوتی خصوصیات کا نتیجہ ہے۔ تاہم، اگر کوئی چاہے تو "خ” کی درست ادائیگی سیکھ سکتا ہے، اور اس میں کوئی لسانی رکاوٹ مستقل نہیں ہے۔

  • افسانچہ ۔ تضاد، مبصرہ : پارس کیانی

    افسانچہ ۔ تضاد، مبصرہ : پارس کیانی

    شیخ صاحب کا کشادہ اور خوبصورت لان پرسہ دینے والوں سے بھرا ہوا تھا۔ اندر کوٹھی میں بھی تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔
    وہ چونکہ سیاسی آدمی تھے اس لیے محلے والوں نے اتنا مجمع کبھی نہیں دیکھا تھا۔ شیخ صاحب کے کچھ
    ہہی خواہوں نے تو کھانے پینے کی چیزوں کا بھی مفت بندوبست کروایا تھا۔ شیخ صاحب نے قبر بھی پچھلے حصے میں کھدوائی تھی تاکہ تدفین کے بعد انکی چہیتی نظروں کے سامنے رہے۔
    چھ ماہ بعد جب اچانک ہارٹ فیل ہو جانے کی وجہ سے شیخ صاحب کی موت واقع ہوگئی تو محلے والے یہ دیکھ کر حیران ہو گئے کہ شیخ صاحب کی تدفین میں برائے نام لوگ شامل تھے۔تدفین سے واپسی پر ایک صاحب نے اپنے ساتھی سے پوچھا “یار تعجب ھے شیخ صاحب کے جنازے میں اتنے کم لوگ شامل تھے جبکہ ان کی بلی کی موت پر بے شمار لوگوں نے شرکت کی تھی۔۔۔۔۔۔”

    شہانہ اقبال صاحبہ کے افسانچے "تضاد” کا مطالعہ کیا جائے تو یہ ایک مختصر مگر معنی خیز افسانچہ ہے جو انسانی رویّوں، سماجی ترجیحات اور جذباتی وابستگیوں کے بدلتے ہوئے پیمانوں پر طنزیہ انداز میں روشنی ڈالتا ہے۔ اگرچہ یہ افسانچہ فنی اعتبار سے بعض کمزوریوں کا حامل ہے، لیکن اس کا مرکزی خیال اور اختتامی ضربِ تاثر اسے قابلِ توجہ بنا دیتی ہے۔
    "تضاد” اس افسانچے کا نہایت موزوں عنوان ہے۔ پوری کہانی ایک ایسے تضاد کو آشکار کرتی ہے جس میں ایک بلی کی موت پر غیر معمولی ہجوم جمع ہو جاتا ہے، لیکن خود اس کے مالک کے جنازے میں چند افراد ہی شریک ہوتے ہیں۔ یہی فرق اور متناقض صورتِ حال عنوان کے مفہوم کو مکمل کرتی ہے۔
    افسانچہ اس جملے سے شروع ہوتا ہے:
    "شیخ صاحب کا کشادہ اور خوبصورت لان پرسہ دینے والوں سے بھرا ہوا تھا۔”
    آغاز میں قاری یہ گمان کرتا ہے کہ شاید شیخ صاحب کا انتقال ہو گیا ہے اور لوگ تعزیت کے لیے جمع ہیں، لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ مجمع دراصل ان کی بلی کی موت پر اکٹھا ہوا تھا۔ اس طرح مصنفہ نے تجسس پیدا کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ مختصر افسانچے میں ایسا آغاز ایک مثبت فنی وصف شمار ہوتا ہے۔
    افسانچے کا پلاٹ انتہائی مختصر ہے جیسے کہ
    شیخ صاحب کی بلی مر جاتی ہے۔
    سیاسی اثر و رسوخ کی بنا پر بڑی تعداد میں لوگ تعزیت کے لیے آتے ہیں۔
    چھ ماہ بعد خود شیخ صاحب کا انتقال ہو جاتا ہے۔
    ان کے جنازے میں نہایت کم لوگ شریک ہوتے ہیں۔
    آخری جملہ پوری کہانی کا مفہوم واضح کر دیتا ہے۔
    یہ پلاٹ سادہ اور یک رخی ہے، لیکن افسانچے کی صنف میں پیچیدہ واقعات ضروری نہیں ہوتے۔ یہاں مقصد ایک خیال یا نکتے کو ابھارنا ہے، جو کسی حد تک پورا ہو جاتا ہے۔
    شیخ صاحب مرکزی کردار ہیں لیکن ان کی شخصیت کی تفصیلات نہیں ملتیں۔ ہمیں صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ:
    وہ سیاسی شخصیت تھے۔
    انہیں اپنی بلی سے غیر معمولی محبت تھی۔
    انہوں نے اپنی قبر بھی گھر کے احاطے میں تیار کروائی تھی۔
    مختصر صنف ہونے کے باعث کردار نگاری علامتی نوعیت اختیار کر جاتی ہے۔ شیخ صاحب دراصل ان افراد کی نمائندگی کرتے ہیں جو سماجی نمود و نمائش یا وقتی تعلقات پر بھروسہ کرتے ہیں۔
    افسانچے کی سب سے بڑی خوبی اس کا ڈرامائی انکشاف (Dramatic Revelation) ہے۔
    ابتدا میں قاری یہ سمجھتا ہے کہ شاید کسی اہم شخصیت کی وفات ہوئی ہے، لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب ایک بلی کی موت کا منظر تھا۔ پھر جب خود شیخ صاحب فوت ہوتے ہیں تو صورتِ حال بالکل الٹ ہو جاتی ہے۔ یہی الٹ پھیر افسانچے کی جان ہے۔

    اختتامی مکالمہ:
    "یار تعجب ہے، شیخ صاحب کے جنازے میں اتنے کم لوگ شامل تھے جبکہ ان کی بلی کی موت پر بے شمار لوگوں نے شرکت کی تھی۔”
    یہ اختتام پوری کہانی کا حاصل ہے۔ افسانچہ نگاری میں جسے ” punch line” یا "ضربِ اختتام” کہا جاتا ہے، وہ یہاں موجود ہے۔
    یہ جملہ قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ:
    کیا لوگ واقعی انسانوں سے محبت کرتے ہیں؟
    کیا سیاسی وابستگیاں محض مفاد تک محدود ہوتی ہیں؟
    کیا زندہ انسان کی قدر اس کے عہدے اور اثر و رسوخ سے وابستہ ہے؟
    یہ سوالات افسانچے کے بعد بھی ذہن میں گردش کرتے رہتے ہیں، جو ایک کامیاب افسانچے کی علامت ہے۔افسانچے میں کئی فکری پرتیں موجود ہیں مثلا :
    لوگ بلی کی موت پر اس لیے جمع ہوئے کہ شیخ صاحب زندہ تھے اور ان کا سیاسی و سماجی اثر و رسوخ موجود تھا۔انسانی رشتوں کی کھوکھلی بنیادوں کو نمایاں کیا گیا ہے کہ لوگ اصل انسان سے زیادہ اس کی حیثیت اور طاقت سے وابستہ ہوتے ہیں اور یہ کہ
    آخرکار انسان اپنی موت کے بعد تنہا رہ جاتا ہے۔
    زبان عام فہم اور سادہ ہے۔ افسانچہ پیچیدہ تراکیب سے گریز کرتا ہے، جو اس صنف کے لیے موزوں ہے۔
    تاہم ادبی اعتبار سے زبان میں مزید نکھار کی گنجائش موجود ہے۔ بعض جملے بیانیہ انداز میں ہیں اور ان میں تخلیقی چمک نسبتاً کم محسوس ہوتی ہے۔
    افسانچے میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ بلی کی موت پر اتنا بڑا مجمع آخر کیوں جمع ہوا۔ صرف سیاسی شخصیت ہونا اس قدر غیر معمولی ردعمل کی مکمل توجیہ فراہم نہیں کرتا۔شیخ صاحب کی شخصیت محض ایک علامت بن کر رہ جاتی ہے۔ اگر ان کے رویّے یا مزاج کی ایک دو جھلکیاں دی جاتیں تو اثر مزید گہرا ہو سکتا تھا۔بلی کی موت پر سینکڑوں افراد کا جمع ہونا حقیقت کے اعتبار سے کچھ مبالغہ آمیز محسوس ہوتا ہے۔ اگرچہ طنزیہ ادب میں مبالغہ قابلِ قبول ہے، لیکن یہاں بعض قارئین اسے غیر فطری بھی سمجھ سکتے ہیں۔جذباتی گہرائی کی کمی ہے۔افسانچہ فکر دیتا ہے مگر دل پر شدید جذباتی اثر نہیں چھوڑتا۔ یہ زیادہ تر طنزیہ اور فکری سطح پر کام کرتا ہے۔
    مجموعی طور پر یہ تحریر افسانچے کے بنیادی تقاضوں کو پورا کرتی ہے کیونکہ
    مختصر ہے۔ایک مرکزی خیال رکھتی ہے۔تجسس پیدا کرتی ہے۔
    اختتام میں چونکا دیتی ہے۔
    سماجی پیغام رکھتی ہے۔
    البتہ اسے اعلیٰ درجے کا شاہکار افسانچہ کہنا مشکل ہوگا کیونکہ اس میں کرداروں کی نفسیاتی گہرائی، علامتی وسعت اور فنی پختگی محدود ہے۔
    شہانہ اقبال صاحبہ کا افسانچہ "تضاد” سماجی منافقت اور مفاد پرستانہ تعلقات کی ایک مختصر مگر معنی خیز تصویر پیش کرتا ہے۔ اس کی اصل قوت اس کے چونکا دینے والے اختتام اور طنزیہ تاثر میں مضمر ہے۔ مصنفہ نے چند سطروں میں یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ دنیا اکثر انسان سے زیادہ اس کے مفادات اور اثر و رسوخ سے وابستہ ہوتی ہے۔ اگرچہ فنی سطح پر بعض کمزوریاں موجود ہیں، تاہم اختتامی ضرب، عنوان کی مناسبت اور مرکزی خیال کی معنویت اسے ایک کامیاب اور مؤثر افسانچہ بناتی ہیں۔

    مختصر یہ کہ افسانچہ فنی اعتبار سے اچھی سطح کا افسانچہ ہے، فکری اعتبار سے معنی خیز ہے، اور طنزیہ و سماجی تنقید کے حوالے سے قابلِ توجہ تخلیق شمار کیا جا سکتا ہے، لیکن اسے افسانچہ نگاری کے اعلیٰ ترین نمونوں میں شامل کرنے کے لیے مزید فنی گہرائی، نفسیاتی تہہ داری اور علامتی وسعت درکار ہے۔

  • دولتِ زر سے دولتِ نظر تک،”999 ٹریلین ڈالر کی کتاب” پر تبصرہ

    دولتِ زر سے دولتِ نظر تک،”999 ٹریلین ڈالر کی کتاب” پر تبصرہ

    زر کی نہیں، یہ فکر کی دولت کا پیام
    ہر باب میں ہے نورِ بصیرت کا مقام

    اخلاق احمد ساغر

    عہدِ حاضر میں جب مادّی ثروت کو کامیابی کا معیار، زر و جواہر کو عظمت کا مدار اور دولت و شہرت کو رفعت کا شعار سمجھ لیا گیا ہے، ایسے پُرفتن ماحول میں علامہ عبدالستار عاصم نے "999 ٹریلین ڈالر کی کتاب” تصنیف کرکے ایک نئی جہت، ایک نیا شعور اور ایک نیا دستور پیش کیا ہے۔ یہ کتاب صرف اعداد و شمار کا دفتر نہیں بل کہ افکار کا سمندر، کردار کا دفتر، اسرار کا مظہر اور انوار کا منبع ہے۔ اس کے صفحات پر وہ ہستیاں جلوہ گر ہیں جنھوں نے اپنی بصیرت سے زمانوں کو منور کیا، اپنی فراست سے تہذیبوں کو سنوارا، اپنی ریاضت سے علم کے چراغ روشن کیے اور اپنی عظمت سے انسانیت کو نئی منزلوں سے آشنا کیا۔ گویا یہ کتاب دولتِ زر سے بڑھ کر ولتِ فکر، ثروتِ مال سے بلند تر ثروتِ کمال اور سرمایۂ دنیا سے کہیں زیادہ سرمایۂ شعور و وقار کا ایک درخشاں استعارہ ہے۔
    یہ کتاب محض ٹریلین ڈالروں کی حکایت نہیں بل کہ اُن اربابِ علم و ہنر، اصحابِ فکر و نظر، صاحبانِ تدبر و بصیرت، اور معمارانِ تہذیب و تمدن کی زندہ داستان ہے جنھوں نے اپنی عقل سے جہالت کے اندھیروں کو شکست دی، اپنی حکمت سے زمانوں کو روشنی بخشی، اپنی ریاضت سے انسانیت کو رفعت بخشی اور اپنے کردار سے تاریخ کے ماتھے پر دوام و بقا کے چراغ ثبت کر دیے۔ گویا یہ کتاب دولتِ زر کی نہیں، دولتِ فکر کی؛ ثروتِ مال کی نہیں، ثروتِ کمال کی؛ اور سرمایۂ دنیا کی نہیں، سرمایۂ شعور و وقار کی آئینہ دار ہے۔

    علامہ عبدالستار عاصم نے اس گراں قدر تصنیف میں سائنس، فلسفہ، طب، ادب، معیشت، فنونِ لطیفہ، قیادت، صحافت، تعلیم، عمرانیات، کھیل، صنعت، فلکیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور روحانیات کے میدانوں میں درخشندہ ستاروں کو یک جا کرکے ایک ایسا گلستان آباد کیا ہے جس کی ہر کلی خوش بوئے آگہی سے معطر اور ہر شاخ ثمرِ دانائی سے بارآور ہے۔ ابوالقاسم الزہراوی، البیرونی، الفارابی، الرازی، ابن الہیثم، ابن بطوطہ، ابن خلدون، ابن سینا اور الخوارزمی جیسے اکابرِ علم ہوں یا سقراط، کانٹ، کارل یونگ، سگمنڈ فرائیڈ اور نوم چومسکی جیسے اربابِ فکر؛ آئن سٹائن، نیوٹن، گریگر مینڈل، ایلن ٹیورنگ، جیفری ہنٹن اور سٹیفن ہاکنگ جیسے معمارانِ سائنس ہوں یا لیونارڈو ڈاونسی، مائیکل اینجلو، پکاسو، موزارٹ، شیکسپیئر، غالب اور گبریل گارسیا مارکیز جیسے شہسوارانِ فن و ادب؛ ہر شخصیت ایک دبستان، ہر کارنامہ ایک داستان اور ہر باب ایک جہانِ معنی کی حیثیت رکھتا ہے۔

    اسی طرح صلاح الدین ایوبی، محمد علی جناح، کوفی عنان، یاسر عرفات، مارٹن لوتھر کنگ، مدر ٹریسا اور وانگاری ماتھائی جیسے انسان دوست قائدین ہوں یا ہنری فورڈ، جان ڈی راک فیلر، وارن بفیٹ، لیری پیج، سرگئی برن، مارک زکربرگ، جیف بیزوس، ایلون مسک اور سٹیو جابز جیسے دنیا کو نئی جہات عطا کرنے والے صاحبانِ صنعت و ایجاد، مصنف نے ان سب کے حالات و کمالات سے ایسے گوہر ہائے نایاب چنے ہیں جو نوجوان نسل کے لیے شمعِ راہ اور مشعلِ منزل ہیں۔

    اس کتاب کا امتیاز یہ ہے کہ یہ قاری کو صرف معلومات نہیں دیتی بل کہ شعور عطا کرتی ہے؛ صرف واقعات نہیں سناتی بلکہ جہات دکھاتی ہے؛ صرف خواب نہیں جگاتی بلکہ تعبیر کے راستے بھی بتاتی ہے۔ اس کے صفحات امید کی نوید، ہمت کی تاکید، عمل کی ترغیب اور کردار کی تمجید سے مزین ہیں۔ اس کا ہر عنوان پیامِ عمل، ہر سطر ترغیبِ مسلسل اور ہر باب جہدِ مسلسل کا علم بردار ہے۔
    مصنفِ محترم نے نہایت سادہ مگر دل آویز، شستہ مگر شگفتہ، عام فہم مگر پرمغز اسلوب اختیار کرکے اس کتاب کو عوام و خواص دونوں کے لیے یکساں مفید بنا دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تصنیف علم و حکمت کا گلستان، فکر و آگہی کا بوستان اور تعمیرِ انسانیت کی ایک تابندہ داستان ہے۔

    اگرچہ یہ شاہ کار اپنی جامعیت کے اعتبار سے لائقِ صد تحسین ہے، تاہم آئندہ اشاعتوں میں چند ایسی نابغۂ روزگار شخصیات کا اضافہ اس کی معنوی وسعت میں مزید اضافہ کرسکتا ہے جن کی خدمات عالمگیر اثرات کی حامل ہیں۔ خصوصاً حکیم الامت، شاعرِ مشرق، مفکرِ پاکستان حضرت علامہ محمد اقبالؒ، جنھوں نے خودی، عشق، حریت، اجتہاد اور بیداریٔ امت کا وہ چراغ روشن کیا جس کی ضیا آج بھی مشرق و مغرب کے افق پر جلوہ فگن ہے۔ اسی طرح امام غزالیؒ، شاہ ولی اللہ دہلویؒ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، نیلسن منڈیلا، کنفیوشس، چارلس ڈارون، عبدالسلام، جارج واشنگٹن، سید ابوالحسن علی ندویؒ، عبدالستار ایدھی اور فیض احمد فیض جیسی شخصیات بھی اس گلشنِ معارف کی رونق میں اضافہ کرسکتی ہیں۔

    ’’999 ٹریلین ڈالر کی کتاب‘‘ ایک کتاب نہیں، ایک مکتب ہے؛ ایک تصنیف نہیں، ایک تحریک ہے؛ ایک دفتر نہیں، ایک سمندر ہے؛ ایک سرمایہ نہیں، ایک خزانہ ہے۔ یہ انمول شاہ کار علم کی شوکت، فکر کی عظمت، کردار کی رفعت اور انسانیت کی خدمت کا ایسا مرقع ہے جس کی قیمت ٹریلین ڈالروں سے نہیں بل کہ بصیرت، حکمت، ہمت اور خدمت کے پیمانوں سے متعین ہوتی ہے۔

    بارگاہِ ایزدی میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ علامہ عبدالستار عاصم کے قلم کو مزید روانی، فکر کو مزید توانائی، علم کو مزید وسعت اور کاوشوں کو مزید مقبولیت عطا فرمائے تاکہ ان کے فیضانِ قلم سے تشنگانِ علم سیراب، طالبانِ فکر کامیاب اور متلاشیانِ حقیقت فیض یاب ہوتے رہیں۔

    نہ کوئی تاج، نہ تخت و نہ جاہ و زر کی بات
    یہاں تو فکر کی ہوتی ہے بس نگاہ کی بات
    یہی تو قوم کے بیدار خواب کا حاصل
    یہی ہے فرد کی تعمیر و ارتقا کی بات
    یہی تو رزق ہے فکروں کے قحط سالوں میں
    یہی ہے قوم کے روشن دل و نگاہ کی بات

  • نفاذِ اردو،ایک امید،تحریر: عاطفہ نواز

    نفاذِ اردو،ایک امید،تحریر: عاطفہ نواز

    یہ ہمارے لیے بہت بڑا المیہ ہے کہ ہم اپنی زبان اور اپنی شناخت کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ذہنی غلامی میں جی رہے ہیں۔ یہاں یہ دیکھا گیا ہے کہ ذہانت اور لائق ہونے کی دلیل انگریزی زبان میں مہارت کو سمجھا جاتا ہے۔
    ایک وقت تھا جب برصغیر میں انگریز تجارت کی غرض سے آئے اور اپنے قدم جمانے کے لیے انہوں نے مقامی زبان سیکھنے کی خاطر فورٹ ولیم کالج کی بنیاد رکھی۔ مترجمین اور مصنفین کو تلاش کیا گیا اور منشی مقرر کیے گئے۔
    اس طرح انتھک محنتوں اور قربانیوں کے بعد برصغیر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ ہم آزاد ہوئے تو ہمارے ذہنوں میں کہیں نہ کہیں وہ غلامی ٹھہر سی گئی، جو انگریزوں کے دور میں تھی۔ آج 79 سال گزر جانے کے باوجود ہمارے ذہنوں میں وہ غلامی موجود ہے۔

    ذہنی پستی کی انتہا ہے کہ ایک باشعور انسان اپنی قومی زبان اردو کی بجائے انگریزی زبان کو ترجیح دیتا ہے، حتیٰ کہ ہمارے کالجوں کے انگریزی داں پروفیسر صاحبان شعبۂ اردو کے طلبہ کو نالائق کہا کرتے تھے۔ ایک وقت تھا جب ہم اردو کی طالبات تھیں اور اکثر لائبریری جاتے ہوئے یا لائبریری میں موجود ہوتے تو پروفیسر ولی اللہ مروت، جو غالباً Lucky English Guide کے مصنف ہیں، اکثر ہم سے ایک بات کہا کرتے تھے:
    "اردو ڈیپارٹمنٹ نالائق ہے، آپ لوگوں کا لائبریری میں کیا کام ہے؟ اردو والے نہایت نالائق ہوتے ہیں۔”
    چونکہ وہ نظم و ضبط کے نگران استاد (Discipline Teacher) بھی تھے، اس لیے ہم خاموش ہو جاتے تھے، لیکن شعبۂ اردو کے دفتر میں داخل ہوتے ہی ہمارا سوال ہوتا کہ اپنی قومی زبان پڑھنے والے نالائق کیوں کہلائے جاتے ہیں؟

    انگریزی والے صرف انگریزی زبان پر اتراتے ہیں، حالانکہ انگریزی ایک فرنگی زبان ہے اور اس میں مہارت حاصل کرنا اتنی بڑی بات نہیں۔
    جس زبان میں آپ بول رہے ہیں، جو زبان آپ کے لیے اس معاشرے میں ابلاغ کا ذریعہ بنی، آج اسی زبان کو کمتر سمجھنا اور کہنا بڑی زیادتی ہے۔ انگریزی زبان کو بطور ایک زبان ضرور سیکھنا چاہیے، لیکن اس کی تقلید میں اپنی شناخت کو نہیں کھونا چاہیے۔
    المیہ یہ ہے کہ تمام سرکاری اور دفتری کام انگریزی میں ہوتے ہیں۔

    چونکہ بی ایس مکمل ہونے کے بعد ہمیں کوئی ایسا پلیٹ فارم، یعنی ذریعہ، نہ ملا جہاں ہم اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکتے، یا کوئی ایسی خاص سمت جو واقعی ہم اردو والوں کے لیے ہو، تو ایک دوست کے توسط سے جب "عمارہ کنول صاحبہ” سے رابطہ ہوا اور میں "تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس” میں شامل ہوئی تو مجھے احساس ہوا کہ اردو والوں کا دائرۂ کار تو بہت وسیع ہے۔
    ہم نے اردو ادب میں تحاریک پڑھی ہیں، اور جب میں اس حلقے کا تحریک کے نام سے ذکر کرتی ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ مستقبل میں عمارہ کنول صاحبہ کی محنت ضرور رنگ لائے گی اور اردو کا نفاذ ہوگا۔ وہ دن دور نہیں جب ہمارا ملک اور اس کے باشندے اپنی قومی زبان پر فخر کریں گے۔
    اس جدت، ترقی اور مصروف ترین زندگی میں سے بیش بہا قیمتی وقت جو عمارہ کنول صاحبہ اس تحریک کو دے رہی ہیں، ان شاء اللہ وہ ضائع نہیں جائے گا۔
    میں حیران بھی ہوں اور خوش بھی کہ کوئی ایسا ہے جو اردو زبان سے اتنی محبت کرتا ہے کہ وہ تمام اردو والوں کو جوڑے رکھنے کی نہ صرف کوشش کر رہا ہے بلکہ پُرامید بھی ہے کہ اردو کا نفاذ ہوگا۔ میرا یقین ہے کہ ہم اردو والے اس تحریک کو عمارہ صاحبہ کی محنت، اخلاص اور لگن کے باعث کامیاب ہوتا دیکھیں گے، ان شاء اللہ۔

  • ہم اردو والے ،تحریر: عمارہ کنول چودھری

    ہم اردو والے ،تحریر: عمارہ کنول چودھری

    پچھلے 75 سال سے سنتے،پڑھتے، لکھتے آئے ہیں کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے،مگر افسوس کہ قومی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ نہیں مل سکا۔
    قومی زبان اردو سے نا انصافی یہیں تک محدود نہیں رہی، بلکہ ہم نے اپنی اگلی نسلوں کو بھی اردو سے دور کر دیا۔
    والدین نے گھروں میں بچوں کے ساتھ انگریزی زبان میں روزمرہ گفتگو/ بات چیت شروع کر دی اور بچوں کو انگریزی لباس پہنانا شروع کر دیا۔
    آج ہمارے بچے اپنی قومی زبان و لباس دونوں سے دور ہو رہے ہیں۔
    نوجوان نسل کو رومن رسم الخط کے بغیر مکمل اردو میں ایک مختصر سی تحریر لکھنے کو کہا جائے تو ان کو لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔
    وطنِ عزیز میں قوم اتنا احساسِ کمتری کا شکار ہو گئی ہے کہ اردو بولنے والوں کو تحقیر و حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
    ذہنی غلامی کی اتنی مثالیں ہیں کہ بیان کرنا مشکل ہے۔

    اردو بولنے والوں سے ایک سوال جو لازمی پوچھا جاتا ہے وہ یہ کہ ” کیا آپ تعلیم یافتہ ہیں”؟
    کیا آپ کو انگریزی زبان آتی ہے ؟ آپ اردو میں پیغام لکھتے ہیں تو کیا آپ کو انگریزی لکھنا نہیں آتی؟
    میں اکثر ایسے لوگوں کو کہتی ہوں کہ” الحمدللّٰہ ہم اردو ،لکھنا،پڑھنا ،بولنا ، جانتے ہیں اور ہم نے English Medium انگریزی تعلیمی اداروں میں پڑھا ہے، لیکن ہم فخریہ اپنی قومی زبان کی نمائندگی کر رہے ہیں اور ترجیحاً اردو بولتے ہیں کیونکہ "ہم اردو والے” ہیں۔

    دنیا کے ہر ملک میں ان کی اپنی قومی زبان بطور سرکاری زبان رائج ہے صرف پاکستان واحد ملک ہے جہاں قومی زبان کو پسِ پشت ڈالا گیا ہے۔
    گزشتہ دنوں یہ خبر سننے میں آئی ہے کہ امریکہ،ایران امن معاہدہ میں انگریزی زبان کے ساتھ ساتھ فارسی متن میں بھی معاہدہ پر دستخط کیے گئے۔
    جی ہاں ،فارسی جو ایران کی قومی و سرکاری زبان ہے۔
    اس سے ایک تو امریکہ، عالمی طاقت کا یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا کہ ” ہم ایران کی ثقافت و تمدن مٹا دیں گے”
    دوسرا، ایران نے اپنی قومی زبان فارسی میں متن پر دستخط کر کے اور امریکہ سے دستخط کروا کے دنیا کو یہ دکھا دیا کہ غیرت مند قومیں،اپنی قومی زبان و ثقافت کا تحفظ و دفاع کیسے کرتی ہیں۔

    یہ امن معاہدہ ہمارے لیے ایک مثال ہے اور ہمیں دعوتِ فکر دیتا ہے کہ ہم اپنی قومی زبان سے روارکھی گئی نا انصافی پر نظرِ ثانی کریں۔

  • قومی لباس ہماری پہچان ،تحریر:عمارہ کنول چودھری

    قومی لباس ہماری پہچان ،تحریر:عمارہ کنول چودھری

    کسی بھی قوم کی پہچان اس کی زبان، ثقافت اور لباس سے ہوتی ہے۔ یہی عناصر اس کے تشخص کو زندہ رکھتے اور آنے والی نسلوں تک منتقل کرتے ہیں۔ بطور بانیٔ تحریک میرا مقصد یہی ہے کہ ہم اپنی قوم کو اس کی اصل شناخت سے جوڑیں اور زبان و قومی لباس کے فروغ کو اپنی اجتماعی ذمہ داری بنائیں۔
    زبان صرف اظہارِ خیال کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیب و تاریخ کی امین ہوتی ہے۔ جب کوئی قوم اپنی زبان سے دور ہوتی ہے تو وہ اپنی جڑوں سے کٹنے لگتی ہے۔ ہماری تحریک اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ قومی زبان کو تعلیم، ابلاغ اور روزمرہ زندگی میں نمایاں مقام دیا جائے تاکہ نوجوان نسل اپنی ثقافت پر فخر محسوس کرے۔ ہمیں چاہیے کہ گھروں، تعلیمی اداروں اور سماجی تقریبات میں اپنی زبان کو ترجیح دیں اور اسے ترقی کے سفر میں ساتھ لے کر چلیں۔

    اسی طرح قومی لباس ہماری روایت، سادگی اور اقدار کی علامت ہے۔ بدلتے ہوئے رحجانات کے دور میں اپنی روایتی پوشاک کو نظرانداز کرنا دراصل اپنی پہچان کو کمزور کرنا ہے۔ ہمارا پیغام یہ نہیں کہ ہم جدیدیت سے منہ موڑ لیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنی روایات کو جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔ قومی لباس کو فخر اور وقار کے ساتھ اپنانا ہماری ثقافتی بقا کی ضمانت ہے۔
    ہماری تحریک کا عزم ہے کہ تقریبات ،سماجی ذرائع ابلاغ ،ثقافتی میلوں اور آگاہی مہمات کے ذریعے عوام میں شعور بیدار کیا جائے۔ ہم نوجوانوں کو اس کارِ خیر میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ زبان و ثقافت کا چراغ روشن رہے۔
    آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی قوم کی زبان اور قومی لباس کے فروغ میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔ کیونکہ جو قوم اپنی پہچان کو سنبھال کر رکھتی ہے، وہی دنیا میں عزت و وقار کے ساتھ زندہ رہتی ہے۔
    تحریک صرف قومی زبان کے نفاذ کا مطالبہ نہیں کرتی بلکہ عملی طور پر فروغِ اردو کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جس کے تحت تحریک کے زیر اہتمام تربیتی نشستوں اور کارگاہوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ لکھاریوں کے لیے ایک روزہ تربیتی نشست ( رموزِ اوقاف) دس روزہ ( اصنافِ ادب )تیس روزہ ، شاعرات کے لیے ( علمِ عروض) خواتین اہلِ قلم کے لیے چالیس روزہ (تزئین کارگاہ) اور اس نوعیت کی دیگر سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے تا کہ اردو زبان کو فروغ دیا جائے۔

    تحریک میں موجود طالبات کی مدد اور آسانی کے لیے تعلیمی، علمی ،ادبی مواد کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے اور رومن رسم الخط کے متعلق آگاہی دی جاتی ہے کیونکہ قومی زبان دنیا بھر میں ہماری شناخت ہے، اور جو قومیں اپنی زبان کو عزت دیتی ہیں، دُنیا ان کو عِزت دیتی ہے۔

  • سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما،تبصرہ نگار : عبدالغفار مجاہد

    سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما،تبصرہ نگار : عبدالغفار مجاہد

    دارالسلام کی شائع کردہ زیر تبصرہ کتاب’’سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما‘‘اپنے موضوع پر ایک منفرد اور خوبصورت کتاب ہے۔اس کتاب کی مقبولیت کااندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ بہت کم وقت میں اس کاپہلا ایڈیشن ہاتھوں ہاتھ لیا گیا ۔ یہ کتاب کادوسرا ایڈیشن ہے جسے پہلے ایڈیشن سے بھی زیادہ بہتر انداز میں شائع کیا گیا ہے ۔ یہ کتاب ہمیں خانوادہ نبوت کے مہکتے پھولوں سے محبت کرنا اور ان کا احترام کرنا سیکھاتی ہے۔ وہ مہکتے پھول جن کی تربیت رسول ﷺنے خود کی تھی۔ جن کی مسحور کن خوشبو سے نبوی آنگن مہکتا تھا۔ اس کتاب کے ذریعے اسلام کی ان دو معتبر شخصیات سے شرفِ ملاقات کی جاسکتی ہے جو ہمارے لیے چراغِ ہدایت اور مینارئہ نور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا ذکرِ خیر دلوں کے لیے باعثِ اطمینان ہے۔ ان سے محبت اللہ تعالی کے قرب کا ذریعہ اور ایمان کی علامت ہے۔ ان شہزادوں کو اللہ کے رسول چوما کرتے تھے۔ ہم تک اسلام کی نعمت اس معزز گھرانے کی بدولت ہی پہنچی ہے۔ اس عظیم گھرانے نے ہم تک اسلام پہنچانے کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ جناب سیدین حسنین کریمین رضی اللہ عنھماکے حالات زندگی پڑھناسعادت اوراہل ایمان کے لئے حلاوت ہے ۔اس کتاب کے مصنف سیدحسن حسینی ہیں۔وہ سیدسادات میں سے ہیں۔مملکت بحرین کے نامور سکالر ہیں۔ وہاں کے دینی، عملی ،ادبی حلقوں میں نہایت ہی قدرومنزلت اورمحبت واحترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ فاضل مولف سیدحسن حسینی عرصہ دراز سے سیرت حسن و حسین بیان کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ٹی وی پروگرام ہوں یا مختلف کالجوں ، سیمناروں، مساجد اور پبلک مقامات پر اسی موضوع پر بولتے ہیں انھوں نے برس ہا برس اس موضوع پر تحقیق کی ہے، وہ تاریخ اور سیرت سے خوب واقف ہیں۔ انھوں نے یہ کتاب روایتی انداز میں نہیں لکھی بلکہ اس کتاب کو لکھ کر انھوں نے صدیوں کا قرض چکایا ہے۔ زیر نظر کتاب انھی کی طویل تحقیقی اورعلمی مساعی کا ثمرہ ہے جس میں سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنھما کی سیرت سے متعلقہ واقعات و حقائق کا احاطہ کیا گیا ہے۔سید حسن حسینی کہتے ہیں ’’یہ کتاب میرے برسوں کے مطالعۂ سیرت و تاریخ کا نچوڑ ہے جسے میں اپنی بساط کے مطابق خوبصورت طریقے سے عوام الناس کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔اس گرانقدرکتاب کوشائع کرنے کی سعادت دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ ’’دارالسلام انٹر نیشنل ‘‘ کوحاصل ہوئی ہے ۔دارالسلام کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہدکہتے ہیں جہاں تک اس کتاب کے علمی مواد کا تعلق ہے تو قارئین اس کتاب کو پڑھنے کے بعد ہی اس کا اندازہ کر سکیں گے۔ تاہم میں یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس موضوع پر لکھی ہوئی بہت ساری کتابوں میں سے یہ ایک لاجواب کتاب ہے۔ اس کا انداز آسان اور عام فہم ہے۔ ان شاء اللہ مجھے یقین ہے کہ قارئین ہماری دیگر مطبوعات کی طرح اس کتاب کو بھی پسند کریں گے۔ اس کتاب کا مطالعہ کرنے سے اہل ایمان کی ہاشمی خاندان سے محبت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ اس کتاب کو شائع کرتے ہوئے مجھے روحانی مسرت ہو رہی ہے ۔

    اس کتاب کی خاصیت یہ ہے کہ دارالسلام انٹرنیشنل نے اسے اس موضوع کے مروجہ سٹائل سے ہٹ کر نئی طرز پر تیار کیا ہے۔ کتاب کی ظاہری خوشنمائی کی طرح اس کے باطن کی ثقاہت کا بھی بھرپور اہتمام کیا گیا ہے۔ افراط و تفریط سے اجتناب کرتے ہوئے راہِ اعتدال کو اختیار کیاگیا ہے۔ یوں اپنے موضوع پر یہ مستند دستاویز ہے جو یقینااہل ایمان کو پسند آئے گی۔کتاب چودہ ابواب پرمشتمل ہے ۔ جن میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی منگنی ، حق مہر ،جہیز ، شادی کی تقریب ، تقریب ِ ولیمہ ، سیدہ فاطمہ کی رخصتی ، سیدہ فاطمہ کاگھر، سیدین حسنین کریمین کی ولادت باسعادت ، سیدین حسنین کے نانا ،نانی دادا ، دادی ، والد،والدہ، سیدین حسنین کریمین کے سگے اورسوتیلے بہن بھائی، سیدین کی بیویاں اوراولاد،سیدین کے اوصاف واخلاق،معاشرتی زندگی،اساتذہ وتلامذہ،فضائل سیدین حسنین کریمین،حادثہ کربلااورشہادت جیسے اہم موضوعات شامل ہیں ۔کتاب کی قیمت 685روپے ہے ۔نہایت ہی خوبصورت سرورق،مضبوط جلدبندی کے ساتھ عمدہ پیپرپرشائع کردہ یہ کتاب ہرگھر ، ہر مسجد ،لائبریریز اورتعلیمی اداروں کی ضرورت ہے ۔ کتاب دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئرمال لاہور نزدسیکرٹریٹ سٹاپ ، کراچی ،اسلام آبادمیں دارالسلام کے شورومز یاملک بھرمیں دارالسلام کے سٹاکٹس سے حاصل کی جاسکتی ہے ۔ یاکتاب براہ راست حاصل کرنے کے لئے درج ذیل نمبر04237324034پررابطہ کیاجاسکتاہے ۔