Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • قومی لباس ہماری پہچان ،تحریر:عمارہ کنول چودھری

    قومی لباس ہماری پہچان ،تحریر:عمارہ کنول چودھری

    کسی بھی قوم کی پہچان اس کی زبان، ثقافت اور لباس سے ہوتی ہے۔ یہی عناصر اس کے تشخص کو زندہ رکھتے اور آنے والی نسلوں تک منتقل کرتے ہیں۔ بطور بانیٔ تحریک میرا مقصد یہی ہے کہ ہم اپنی قوم کو اس کی اصل شناخت سے جوڑیں اور زبان و قومی لباس کے فروغ کو اپنی اجتماعی ذمہ داری بنائیں۔
    زبان صرف اظہارِ خیال کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیب و تاریخ کی امین ہوتی ہے۔ جب کوئی قوم اپنی زبان سے دور ہوتی ہے تو وہ اپنی جڑوں سے کٹنے لگتی ہے۔ ہماری تحریک اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ قومی زبان کو تعلیم، ابلاغ اور روزمرہ زندگی میں نمایاں مقام دیا جائے تاکہ نوجوان نسل اپنی ثقافت پر فخر محسوس کرے۔ ہمیں چاہیے کہ گھروں، تعلیمی اداروں اور سماجی تقریبات میں اپنی زبان کو ترجیح دیں اور اسے ترقی کے سفر میں ساتھ لے کر چلیں۔

    اسی طرح قومی لباس ہماری روایت، سادگی اور اقدار کی علامت ہے۔ بدلتے ہوئے رحجانات کے دور میں اپنی روایتی پوشاک کو نظرانداز کرنا دراصل اپنی پہچان کو کمزور کرنا ہے۔ ہمارا پیغام یہ نہیں کہ ہم جدیدیت سے منہ موڑ لیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنی روایات کو جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔ قومی لباس کو فخر اور وقار کے ساتھ اپنانا ہماری ثقافتی بقا کی ضمانت ہے۔
    ہماری تحریک کا عزم ہے کہ تقریبات ،سماجی ذرائع ابلاغ ،ثقافتی میلوں اور آگاہی مہمات کے ذریعے عوام میں شعور بیدار کیا جائے۔ ہم نوجوانوں کو اس کارِ خیر میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ زبان و ثقافت کا چراغ روشن رہے۔
    آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی قوم کی زبان اور قومی لباس کے فروغ میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔ کیونکہ جو قوم اپنی پہچان کو سنبھال کر رکھتی ہے، وہی دنیا میں عزت و وقار کے ساتھ زندہ رہتی ہے۔
    تحریک صرف قومی زبان کے نفاذ کا مطالبہ نہیں کرتی بلکہ عملی طور پر فروغِ اردو کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جس کے تحت تحریک کے زیر اہتمام تربیتی نشستوں اور کارگاہوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ لکھاریوں کے لیے ایک روزہ تربیتی نشست ( رموزِ اوقاف) دس روزہ ( اصنافِ ادب )تیس روزہ ، شاعرات کے لیے ( علمِ عروض) خواتین اہلِ قلم کے لیے چالیس روزہ (تزئین کارگاہ) اور اس نوعیت کی دیگر سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے تا کہ اردو زبان کو فروغ دیا جائے۔

    تحریک میں موجود طالبات کی مدد اور آسانی کے لیے تعلیمی، علمی ،ادبی مواد کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے اور رومن رسم الخط کے متعلق آگاہی دی جاتی ہے کیونکہ قومی زبان دنیا بھر میں ہماری شناخت ہے، اور جو قومیں اپنی زبان کو عزت دیتی ہیں، دُنیا ان کو عِزت دیتی ہے۔

  • سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما،تبصرہ نگار : عبدالغفار مجاہد

    سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما،تبصرہ نگار : عبدالغفار مجاہد

    دارالسلام کی شائع کردہ زیر تبصرہ کتاب’’سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما‘‘اپنے موضوع پر ایک منفرد اور خوبصورت کتاب ہے۔اس کتاب کی مقبولیت کااندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ بہت کم وقت میں اس کاپہلا ایڈیشن ہاتھوں ہاتھ لیا گیا ۔ یہ کتاب کادوسرا ایڈیشن ہے جسے پہلے ایڈیشن سے بھی زیادہ بہتر انداز میں شائع کیا گیا ہے ۔ یہ کتاب ہمیں خانوادہ نبوت کے مہکتے پھولوں سے محبت کرنا اور ان کا احترام کرنا سیکھاتی ہے۔ وہ مہکتے پھول جن کی تربیت رسول ﷺنے خود کی تھی۔ جن کی مسحور کن خوشبو سے نبوی آنگن مہکتا تھا۔ اس کتاب کے ذریعے اسلام کی ان دو معتبر شخصیات سے شرفِ ملاقات کی جاسکتی ہے جو ہمارے لیے چراغِ ہدایت اور مینارئہ نور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا ذکرِ خیر دلوں کے لیے باعثِ اطمینان ہے۔ ان سے محبت اللہ تعالی کے قرب کا ذریعہ اور ایمان کی علامت ہے۔ ان شہزادوں کو اللہ کے رسول چوما کرتے تھے۔ ہم تک اسلام کی نعمت اس معزز گھرانے کی بدولت ہی پہنچی ہے۔ اس عظیم گھرانے نے ہم تک اسلام پہنچانے کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ جناب سیدین حسنین کریمین رضی اللہ عنھماکے حالات زندگی پڑھناسعادت اوراہل ایمان کے لئے حلاوت ہے ۔اس کتاب کے مصنف سیدحسن حسینی ہیں۔وہ سیدسادات میں سے ہیں۔مملکت بحرین کے نامور سکالر ہیں۔ وہاں کے دینی، عملی ،ادبی حلقوں میں نہایت ہی قدرومنزلت اورمحبت واحترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ فاضل مولف سیدحسن حسینی عرصہ دراز سے سیرت حسن و حسین بیان کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ٹی وی پروگرام ہوں یا مختلف کالجوں ، سیمناروں، مساجد اور پبلک مقامات پر اسی موضوع پر بولتے ہیں انھوں نے برس ہا برس اس موضوع پر تحقیق کی ہے، وہ تاریخ اور سیرت سے خوب واقف ہیں۔ انھوں نے یہ کتاب روایتی انداز میں نہیں لکھی بلکہ اس کتاب کو لکھ کر انھوں نے صدیوں کا قرض چکایا ہے۔ زیر نظر کتاب انھی کی طویل تحقیقی اورعلمی مساعی کا ثمرہ ہے جس میں سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنھما کی سیرت سے متعلقہ واقعات و حقائق کا احاطہ کیا گیا ہے۔سید حسن حسینی کہتے ہیں ’’یہ کتاب میرے برسوں کے مطالعۂ سیرت و تاریخ کا نچوڑ ہے جسے میں اپنی بساط کے مطابق خوبصورت طریقے سے عوام الناس کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔اس گرانقدرکتاب کوشائع کرنے کی سعادت دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ ’’دارالسلام انٹر نیشنل ‘‘ کوحاصل ہوئی ہے ۔دارالسلام کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہدکہتے ہیں جہاں تک اس کتاب کے علمی مواد کا تعلق ہے تو قارئین اس کتاب کو پڑھنے کے بعد ہی اس کا اندازہ کر سکیں گے۔ تاہم میں یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس موضوع پر لکھی ہوئی بہت ساری کتابوں میں سے یہ ایک لاجواب کتاب ہے۔ اس کا انداز آسان اور عام فہم ہے۔ ان شاء اللہ مجھے یقین ہے کہ قارئین ہماری دیگر مطبوعات کی طرح اس کتاب کو بھی پسند کریں گے۔ اس کتاب کا مطالعہ کرنے سے اہل ایمان کی ہاشمی خاندان سے محبت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ اس کتاب کو شائع کرتے ہوئے مجھے روحانی مسرت ہو رہی ہے ۔

    اس کتاب کی خاصیت یہ ہے کہ دارالسلام انٹرنیشنل نے اسے اس موضوع کے مروجہ سٹائل سے ہٹ کر نئی طرز پر تیار کیا ہے۔ کتاب کی ظاہری خوشنمائی کی طرح اس کے باطن کی ثقاہت کا بھی بھرپور اہتمام کیا گیا ہے۔ افراط و تفریط سے اجتناب کرتے ہوئے راہِ اعتدال کو اختیار کیاگیا ہے۔ یوں اپنے موضوع پر یہ مستند دستاویز ہے جو یقینااہل ایمان کو پسند آئے گی۔کتاب چودہ ابواب پرمشتمل ہے ۔ جن میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی منگنی ، حق مہر ،جہیز ، شادی کی تقریب ، تقریب ِ ولیمہ ، سیدہ فاطمہ کی رخصتی ، سیدہ فاطمہ کاگھر، سیدین حسنین کریمین کی ولادت باسعادت ، سیدین حسنین کے نانا ،نانی دادا ، دادی ، والد،والدہ، سیدین حسنین کریمین کے سگے اورسوتیلے بہن بھائی، سیدین کی بیویاں اوراولاد،سیدین کے اوصاف واخلاق،معاشرتی زندگی،اساتذہ وتلامذہ،فضائل سیدین حسنین کریمین،حادثہ کربلااورشہادت جیسے اہم موضوعات شامل ہیں ۔کتاب کی قیمت 685روپے ہے ۔نہایت ہی خوبصورت سرورق،مضبوط جلدبندی کے ساتھ عمدہ پیپرپرشائع کردہ یہ کتاب ہرگھر ، ہر مسجد ،لائبریریز اورتعلیمی اداروں کی ضرورت ہے ۔ کتاب دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئرمال لاہور نزدسیکرٹریٹ سٹاپ ، کراچی ،اسلام آبادمیں دارالسلام کے شورومز یاملک بھرمیں دارالسلام کے سٹاکٹس سے حاصل کی جاسکتی ہے ۔ یاکتاب براہ راست حاصل کرنے کے لئے درج ذیل نمبر04237324034پررابطہ کیاجاسکتاہے ۔

  • زندہ لوگ: ایاز مورس کی قلمی کاوش، جو زندہ رہنے کا سلیقہ سکھاتی ہے،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    زندہ لوگ: ایاز مورس کی قلمی کاوش، جو زندہ رہنے کا سلیقہ سکھاتی ہے،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    کتابوں سے میرا رشتہ کئی برسوں پر محیط ہے، مگر کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو محض پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ سوچنے، محسوس کرنے اور اپنے اردگرد بکھرے ہوئے گمنام ہیروز کو پہچاننے کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ ایاز مورس صاحب کی کتاب "زندہ لوگ” بھی ایسی ہی ایک کاوش ہے۔

    ایاز مورس صاحب سے پہلی دفعہ 2020 میں سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ ہوا، اور یہ رابطہ محض رسمی تعارف تک محدود نہ رہا۔ ان دنوں میں نوجوان لکھاریوں اور طالب علموں کے لیے ایک تنظیم "میں شاہین ہوں اقبال کا” کے پلیٹ فارم سے کام کر رہا تھا۔ میری درخواست پر ایاز مورس صاحب نے ہمارے لیے کئی موٹیویشنل سیشنز دیے، جن سے نوجوانوں نے بھرپور استفادہ کیا۔ ان کی گفتگو میں ایک خاص بات تھی، سادگی، اپنائیت اور تجربے کی گہرائی، جو اب ان کی تحریر میں بھی نظر آتی ہے۔

    کچھ عرصہ رابطہ نہ رہا، مگر یہ رشتہ ٹوٹا نہیں۔ چند دن قبل ایاز مورس صاحب نے دوبارہ رابطہ کیا اور اپنی تازہ تصنیف "زندہ لوگ” مجھے بھیجی۔ کتاب ہاتھ میں آتے ہی نام نے توجہ کھینچ لی، "زندہ لوگ”، یعنی وہ لوگ جو اپنے کردار، خدمت اور ایمانداری کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، چاہے وہ اس دنیا میں موجود ہوں یا نہ ہوں۔

    پہلے ایاز مورس صاحب کا مختصر تعارف ضروری ہے۔ وہ ضلع لیہ کے ایک گاؤں، چک نمبر 270، میں پیدا ہوئے۔ یہاں سے سفر کا آغاز کر کے وہ آج ملک کے نامور کارپوریٹ ٹرینر، ایجوکیشنل کنسلٹنٹ اور سپیکر کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ ماسٹر ٹی وی کے سی ای او کے طور پر بھی، اس کے علاوہ روزنامہ ایکسپریس میں ان کے کئی مضامین میری نظر سے گزر چکے ہیں۔ جن میں ہمیشہ ایک مثبت اور تعمیری سوچ کی جھلک نظر آتی ہے۔۔

    "زندہ لوگ” دراصل 32 ایسے افراد کی سچی کہانیوں اور انٹرویوز کا مجموعہ ہے، جنہوں نے اپنے میدان میں ایمان، کردار اور خدمت کے جذبے سے نام کمایا۔ یہ کتاب رواں پبلشرز کراچی نے شائع کی ہے، اور اس کا انتساب ایاز مورس صاحب نے اپنے دادا، رحمت مسیح، کے نام کیا ہے۔کتاب میں شامل شخصیات کا تنوع اپنی جگہ ایک خوبصورت گلدستہ ہے۔ ڈاکٹر ایچ ایم اے ڈریگو، احفاظ الرحمن، انیل دتا، موہنی حمید، ڈاکٹر جیمز شیرا، ڈاکٹر اکبر ایس احمد، محمد نفیس زکریا، فلپ ایس لال، جسٹس اے آر کارنیلیس، ڈاکٹر ڈینس آئزک، پروفیسر گلزار فاروق چوہدری، ایف ای چوہدری، گروپ کیپٹن سیسل چوہدری، ڈاکٹر خالد سہیل، بابا نجمی، ڈاکٹر جاوید اقبال، اعظم معراج، انتھنی نوید، سسٹر زیف، پروفیسر سلامت اختر، اقبال مسیح، ڈاکٹر میرا فلیوس، کامران ذیشان رضوی، پروفیسر وسن ولیم، پروفیسر عمانوایل ممتاز، انجم ہیرالڈ گل، آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد، ڈاکٹر پیٹر ڈیوڈ، کارڈینل جوزف کوٹس، پوپ فرانسس، اور اعجاز ہدایت، یہ سب نام ایک ہی صفحے پر اس لیے جمع ہوئے ہیں کیونکہ ان سب نے اپنے اپنے دائرہ کار میں انسانیت، علم، صحافت، فن، تعلیم اور خدمت کی شمعیں روشن کی ہیں۔
    کتاب پر تاثرات لکھنے والوں میں بھی معروف نام شامل ہیں، عرفان جاوید، عثمان جامعی، آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد، وارث رضا اور ڈاکٹر شاہد ایم شاہد۔ ان شخصیات کی رائے کتاب کے وقار میں مزید اضافہ کرتی ہے۔

    کتاب میں موجود احفاظ الرحمن، ڈاکٹر خالد سہیل، بابا نجمی، ڈاکٹر جاوید اقبال، اقبال مسیح اور کامران ذیشان رضوی، یہ نام میرے لیے اجنبی نہیں تھے، کسی نہ کسی حد تک ان کے کام اور شہرت سے واقفیت تھی۔ مگر "زندہ لوگ” نے ان شخصیات کے بارے میں معلومات کے کئی نئے در کھولے۔ ایسی تفصیلات، ایسے واقعات اور ایسی جزئیات سامنے آئیں جو شاید میری نظر سے تو اوجھل رہتی۔
    ان کے علاوہ مجھے جس کہانی نے متاثر کیا،وہ گلوبل ٹیچر پرائز 2023 جیتنے والی پاکستانی استاد رفعت عارف، المعروف سسٹر زیف کی داستان ہے۔ ان کی کہانی پڑھ کر دل عقیدت سے بھر گیا۔ سسٹر زیف نے اپنے ہی گھر سے ایک عملی اور خاموش تحریک کا آغاز کیا۔ گھر کی دیوار پر سکول کا نام لکھوایا اور خود گھر گھر جا کر بچوں کو جمع کرنا شروع کیا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ انہوں نے اس نیک کام کو کسی ایک مذہبی یا طبقاتی دائرے میں محدود نہیں رکھا، بلکہ تعلیم کی روشنی ہر بچے تک پہنچانے کو اپنا مقصد بنایا۔ ایسی شخصیات ہی دراصل معاشرے کا حقیقی سرمایہ ہوتی ہیں۔

    اسی طرح پروفیسر سلامت اختر کی کہانی بھی دلچسپی سے بھرپور ہے۔ ایک عظیم استاد ایک قلم کار اور تحریک پاکستان کے ایک فعال کارکن کی حیثیت سے ان کی خدمات کو پڑھنا گویا تاریخ کے ایک گمشدہ ورق کو دوبارہ زندہ کرنا تھا۔

    مجموعی طور پر "زندہ لوگ” محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک ایسا حوالہ ہے جو آنے والی نسلوں کو یہ بتاتا ہے کہ کردار، خدمت اور دیانت سے جینے والے لوگ کبھی مرتے نہیں، وہ اپنے کاموں کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ ایاز مورس صاحب نے ان شخصیات کو ایک جگہ جمع کر کے اور ان کی کہانیاں عام قاری تک پہنچا کر یقینا ایک خدمت کی ہے۔

    اس کاوش پر ایاز مورس صاحب شکریہ کے مستحق ہیں، اور دل کی گہرائیوں سے اس بہترین کتاب کی اشاعت پر انہیں نیک تمنائیں اور مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ امید ہے کہ "زندہ لوگ” جیسی کاوشیں آگے بھی جاری رہیں گی، تاکہ معاشرے کے اصل ہیروز کو وہ پہچان مل سکے جس کے وہ حق دار ہیں۔

  • بہروپیا(افسانہ) :میمونہ فرحت

    بہروپیا(افسانہ) :میمونہ فرحت

    صبح کا وقت تھا اور موسم بڑا خوشگوار تھا لیکن کمرے میں سگنلز کی عدم موجودگی نے خوشگواری کا تسلسل توڑنا چاہا سگنلز ضروری تھے کیونکہ آج میری پسندیدہ انفلوئنسر نے لائیو آنا تھا میں چائے کا کپ اٹھائے بالکونی میں جا کھڑا ہوا کیونکہ وہاں نیٹ بہتر چلتا تھا ۔۔۔میرے فون پہ نوٹیفیکیشن آیا ۔۔۔۔۔” دی سوپر اسٹار اسمارا اپلوڈڈ آ سٹوری ” میں نے جلدی سے کھولی تو اس میں درج تھا کہ ابھی کسی تکنیکی مسئلے کی وجہ سے وہ لائیو نہیں آسکتیں شاہد شام میں آئیں بحرحال آپکو آگاہ کردیا جائیگا مجھے غصہ تو بہت آیا لیکن کیا کیا جا سکتا تھا۔ میں نے موبائل سائڈ پہ رکھتے ہوئے چائے کی ایک اور چسکی لی تو میری نظر برابر والے گھر سے نکلتی ہوئی اسما پر پڑی جو نہایت عام سی شکل وصورت ،قمیص شلوار میں ملبوس سفید چادر اوڑھتی ہوئی موٹر سائیکل پر سوار ہوئی ،وہ بہت اکڑو تھی کسی سے بات کرنا پسند نہیں کرتی تھی ۔۔اور پھر مجھ سے مزاج کا انسان تو اس سے بلکل بات کرنا بھی پسند نہ کرے ۔مجھے تو اسمارا جیسی لڑکیاں بھاتیں۔۔۔میں کچھ دیر وہاں ٹہلتا رہا پھر دفتر جانے کی تیاری میں مشغول ہو گیا ۔شام کے قریباً چار بج رہے تھے میں دفتر سے واپس آرہا تھا کہ مجھے رستے میں اسما نظر آئی اسکی موٹر سائیکل غالباً چوری ہوچکی تھی اور اب ٹیکسی کے انتظار میں تھی ،جتنی وہ عجیب اور نخرے باز تھی میرا دل تو نہیں تھا مدد کا مگر میرے اندر موجود انسانیت کی دکان اسے قرض دیے بغیر رہ نہ سکی میں نے بریک لگائی اور کہا : اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں آپ کو گھر چھوڑ سکتا ہوں میرا گھر آپکے گھر کے برابر میں ہی ہے ۔پہلی دفعہ تو اس نے بات سنی ان سنی کر دی میں نے دو تین مرتبہ اصرار کیا پھر جا کر وہ پچھلی سیٹ پر آ کر براجمان ہوئی،اور بیٹھتے اپنے موبائل میں لگ گئی۔میں نے گاڑی سٹارٹ کی تو میرے فون پہ نوٹیفکیشن آیا۔دی اسمارا اپلوڈڈ سٹوری میں نے دیکھا تو اس میں درج تھا فکس آدھے گھنٹے کے بعد وہ لائیو آئیں گی میں نے غصے سے اسما کی طرف دیکھا جو کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی اگر وہ میرا وقت ضائع نہ کراتی تو میں اب تک گھر ہوتا۔جیسے تیسے میں نے بیس منٹ میں اسما کو گھر چھوڑا اپنی گاڑی پارک کی اور سیدھا بالکنی کی طرف روانہ ہوا موبائل وہاں سیٹ کیا چائے منگوا لی ٹھیک پانچ منٹ بعد وہ لائیو آگئی ۔۔ سو سوری گائز میں نے صبح لائیو آنے کا وعدہ کیا تھا لیکن کچھ مسائل کی وجوہات پر میں نہ سکی تو کیسے ہیں آپ سب ؟

    سیاہ بال جو کبھی لمبے ہو جاتے تو کبھی چھوٹے کبھی سیدھے اور کبھی گھنگریالے ہر روز فیشن کے نام پر نیا تجربہ اور ہر بار تجربہ ثمر پار ثابت ہوتا وہ ہر طرح کے حلیے میں حسین ترین لگتی تھی۔کبھی کبھار ہی لائیو آتی لوگ اس سے سوال پوچھتے ہیں جواب دیتی اس سے جواب پا لینا بھی کسی کی خوش قسمتی ہی ہوتی تھی میں نے بھی کئی دفعہ پیغام چھوڑا لیکن مجھ پہ قسمت کبھی اتنی مہربان نہیں ہوئی۔اچھا تو اگلا سوال ہے اسماء کا انہوں نے کہا ہے کہ آپ بہت پیاری ہیں تھینک یو سو مچ اسما آپ بھی بہت پیاری ہیں ہم سب ہی پیارے ہوتے ہیں۔یہ بات اس نے کہہ تو دی تھی لیکن شاید اس نے اسماء کو حقیقت میں نہیں دیکھا تھا اگر وہ دیکھتی تو کبھی یہ نہ کہتی کہ سب حسین ہوتے ہیں

    اچھا گائز پھر کبھی لائیو آؤں گی اور ڈھیر ساری باتیں کریں گے اللہ حافظ۔ابھی وہ گئی تھی کہ امی آ گئی تم ہر وقت اس موبائل میں گھسے رہتے ہو مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔کیا بات کرنی ہے اماں ؟دیکھو لمبی چوڑی باتیں کرنا مجھے پسند نہیں سیدھا کہتی ہوں۔۔۔۔دروازے کی گھنٹی بجے میں دروازہ کھولنے گیا تو دروازے پہ موجود موٹر سائیکل پر سوار دو لڑکیاں تھی جو غالباً پولیو کے قطرے پلانے آئیں تھیں موٹر سائیکل کچھ دیکھا دیکھا لگ رہا تھا اور ان میں سے ایک لڑکی کی آواز بھی جانی پہچانی تھی لیکن میں نے غور نہیں کیا اور انہیں یہ بتا کر دروازہ بند کر دیا کہ یہاں میں سب سے چھوٹا بچہ ہوں۔

    واپس آیا ہاں تو اماں اپ کچھ کہہ رہی تھی۔۔اب میں نے کیا کہنا ہے ساری بات کا تسلسل خراب کر دیا صبح بات کریں گے۔۔
    صبح ناشتے کی میز پر ہی میں نے اماں سے پوچھا۔
    اماں آپ نے کچھ کہنا تھا شام میں، کوئی پریشانی کی بات تو نہیں ہے نا, بات تو میں بتاتی ہوں پر پہلے تو مجھ سے وعدہ کر کہ تو میری بات مانے گا۔۔ اماں شادی کے علاوہ جو بات منوانی ہے منوا لو۔۔
    نہیں نہیں اس دفعہ بس تمہیں میرے ساتھ چلنا ہے۔بس دس منٹ کے لیے ،وعدہ شادی کی بات نہیں کروں گی ۔۔لیکن اماں جانا کہاں ہے؟ زیادہ سوال نہیں کرو میرے ساتھ چلو۔

    اچھا اماں آپ چلیں میں کپڑے بدل کر آتا ہوں۔ میں اماں کے بتائے ہوئے رستے پر ان کے ہمراہ چل پڑا کچھ دیر کے بعد ہم ایک آستانے پر پہنچے تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ گھنگریالے بال، بڑی بڑی آنکھوں میں بہت زیادہ سرمہ پیلے دانت ،سیاہ رنگ کا کرتا گلے میں رنگ برنگی تسبیحات ڈالے ایک عورت نما کوئی جاندار چیز بیٹھی دم درود پڑھ رہی تھی۔ خوف اور مسکراہٹ کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ میں نے اماں کی طرف دیکھا۔۔تو اماں نے اسکے جواب مجھے ڈانٹنے والی نظروں سے دیکھا۔۔اور چپ رہنے کا اشارہ کیا۔۔کچھ دیر وہاں بیٹھنے کے بعد ہمارا نمبر آیا اماں نے اسے بتایا کہ میں شادی نہ کرنے پر بضد تو اس نے اماں کو کوئی کاغذ پکڑایا جس پر نہ جانے کیا لکھا تھا اور ان کے کان میں کوئی بات کی جو بہر حال مجھے سنائی نہیں دے سکی۔۔۔اماں نے ان سے اجازت چاہی ۔۔ویسے میرا دل تو معذرت چاہنے کا تھا۔۔۔۔وہاں سے ہم گھر کے لیے روانہ ہوئے اور اسمارہ نے دوبارہ لائیو آنا تھا گھر پہنچے موسم کچھ خراب ہو گیا ، ایک دم آندھی آگئی جو کپڑے چھت پر پھیلائے تھے وہ پڑوسیوں کے گھر جاگرے تو میں نے اماں کو بتایا کیونکہ اسما کے گھر جانا مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا تھا گھر میں بس وہ ماں بیٹی ہی رہتی ہیں تو یوں مناسب نہیں لگتا اماں نے مجھے مجبور کیا کہ جاگ کر میں کپڑے لے آؤں تجھے کیا کہنا ہے ان لوگوں نے اتنی دیر میں نوٹیفیکیشن آیا پندرہ منٹ بعد لائیو آؤں گی ۔ ۔۔میں نے جلدی جلدی پڑوسیوں کا دروازہ بچایا تو اس کی اماں نے دروازہ کھولا میں نے بتایا کہ ہوا کی وجہ سے کپڑے گر گئے تھے وہ پکڑا دیں انہوں نے مجھے اندر بلا لیا بیٹھنے کو کہا میں نے منع کیا اور کہا کہ مجھے کپڑے دے دے اب کیونکہ میں ان کے گھر پہلی دفعہ گیا تھا تو وہ کپڑے لینے کے بجائے کچن میں چلی گئی مجھے جلدی تھی اور ان کے منصوبے لمبے نظر آرہے تھے لیکن میں مجبور تھا انہوں نے مجھے بتایا کہ کپڑے گندی جگہ پر گر گئے تھے تو اسمإ نے دوبارہ دھو کر چھت پر پھیلا دیے ہیں اب بیٹا میری ٹانگوں میں تو اتنی جان نہیں کہ میں چھت پر جاؤں اور اسما کسی کام میں مصروف ہے اپنا ہی گھر ہے چھت سے میرا بیٹا جا کر کپڑے لے آؤ۔مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں ان کو کیا کہوں ؟ مجھے دیر ہو رہی تھی اور وہ میری امی کی طرح بات نہیں سمجھ رہی تھیں میں بھاگتا بھاگتا چھت پر جا رہا تھا برآمدے میں کمرے کے آگے سے گزرا اس کا دروازہ آد کھلا تھا سامنے دیوار پہ مجھے ایک لڑکی کی تصویر نظر آئی جو آدھی دکھ رہی تھی اور تصویر لگ بھی دیکھی دیکھی رہی تھی تو میں نے لاشعوری طور پر کمرے کا دروازہ کھول دیا اس وقت مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں کہاں جاؤں ،پیروں تلے زمین نکلنا اس سے پہلے تک میرے لیے صرف ایک محاورہ تھا۔۔اس دن میرے لیے ایک عجیب قسم کا تجربہ تھا وہ تصویر وہی تصویر تھی جو اسمارا کے سٹوڈیو میں لگی نظر آتی تھی جب بھی وہ لائیو آتی تھی،اور وہاں شیشے کے سامنے ایک لڑکی جو میرا خواب تھی کائنات کی حسین ترین لڑکی اپنے حسن کو مزید سنوار رہی تھی۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی موٹر سائیکل کی چابی، سفید چادر ،پولیو کے قطرے پلانے والا نیلے رنگ کا ڈبہ سیاہ رنگ کا کرتا ایک طرف لٹکا تھا اور اسی کے ساتھ رنگ برنگی تسبیحات پڑی تھیں ،ایک جانب لینز کی ڈبی پڑی تھی جو اکثر اسمارہ لگایا کرتی تھی اور دوسری جانب ایک ڈبیا میں پیلے دانت یہ سارا منظر کچھ لمحوں کا بھی نہیں تھا میں کیسے وہاں سے گھر پہنچا نہیں معلوم کپڑے لائے نہیں لائے لیکن سوال بہت سارے لے آیا تھا۔
    مجھے نہیں معلوم تھا کہ قسمت نے مجھ پر اس طرح مہربان ہونا تھا۔

  • تبصرہ کتب،سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی زندگی کے سنہرے واقعات

    تبصرہ کتب،سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی زندگی کے سنہرے واقعات

    عبدالمالک مجاہد کی کتاب ’’ سیرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی زندگی کے سنہرے واقعات ‘‘ یہ کتاب دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ دارالسلام نے آرٹ پیپرپر ، دیدہ زیب سرورق اور چہار رنگ کے ساتھ شائع کی ہے ۔ 313عنوانات مشتمل یہ کتاب مختصر ہونے کے ساتھ اس قدر جامع ہے کہ سیدنا عثمان کی بیاسی سالہ زندگی کے تمام پہلو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔ کتاب میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا نسب نامہ، القاب ، ولادت ، حلیہ مبارک ، قبول اسلام ، نکاح، اولاد ، بیٹے ، بہنیں ، ماں جائے بھائی ، ماں جائی بہنیں ، ایام جاہلیت میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا مقام و مرتبہ ، تاریخ وانساب پر آپ کا عبور ، اعلیٰ اخلاق ، قریش میں اہمیت ، ہجرت حبشہ ، قرآن کریم کے ساتھ تعلق ، حفظ ِ قرآن کا اہتمام ، کثرت تلاوت ، قرآن کریم کی نشرواشاعت کے لئے خدمات ، سیدنا عثمان اور غزوہ بدر ، مدینہ منورہ کے قائم مقام گورنر کی حیثیت سے خدمات، غزوہ احد میں شرکت ، بیعت رضوان ، حدیبیہ کے میدان میں بیعت ، تین مرتبہ بیعت کرنے کااعزاز ، غزوہ تبوک میں شرکت ، غزوہ تبوک کے لشکر کے لئے بیمثال تعاون ، سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے شادی ، بئر رومہ کی خریداری اور مسلمانوں کے لئے وقف ، مسجد نبوی کی توسیع ، جنت کی بشارت ، خلعت ِ خلافت کی خوشخبری ، اللہ کے رسول کی جدائی کا غم ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں رائے ، شرم وحیا کے پیکر ، عہد صدیقی میں معاشی بحران حل کرنے میں کردار ، عہد عمرفاروق میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خدمات ، امہات المئومنین کے ساتھ حج کی سعادت ، آپ کی رحمدلی ، انتخاب خلیفہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی فراست ، بطور خلیفہ حضرت عثمان رضی اللہ کا انتخاب ، طرز حکومت ، صحابہ کے ہاں مقام ومرتبہ ، خطوط ، حکام بالاکے لئے ہدایات ، مجلس شوریٰ کی تشکیل ، خود کواحتساب کے لئے پیش کیا ، سیدنا عثمان اور قرآن ، اخلا ص اور تقوی ، بے مثال حلم عفو ودرگز ، عالی ظرفی اور فراخ دلی ، تواضع اورعجزوانکسار ، حیاداری ، فخر ومباہات سے اجتناب ، جودوسخا، حرمت خلافت کے لئے جان کی قربانی ، مسلمانوں کے لئے آسانیاں ، حرم کعبہ کی توسیع ، جمعہ کے معمولات ، شکر وسپاس اور قدر شناسی ، عذاب قبر کا خوف ، تواضع ، غلاموں کے لئے وظائف ، لوگوں کی خبر گیری ، اراضی الاٹ کرنے کے لئے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی پالیسی ،آپ کے دور خلافت میں سرکاری چراگاہیں ، بطور خلیفہ آپ کے اخراجات ، پہلا اسلامی بیڑے کی تیاری، بندرگاہ کی شیعبہ سے جدہ منتقلی ،شاہرائوں کے اطراف میں کنوئوں کی کھدائی ، سپاہیوں کی تنخواہوں میں اضافہ ، پولیس کا شعبہ ، فتوحات ، رومیوں کو عبرتناک شکست ، بطور سپہ سالار ، تدوین قرآن ، صوبوں میں ارسال کردہ صحیفوں کی تعداد ، رعیت کی اصلاح کیلئے اقدامات ، اپنے پیاروں کے ساتھ بھی انصاف ، امرا اور گورنروں کے نام خطوط ، کھانے میں سادگی ، عجز انکسار ، قلعوں کی تعمیر ، خلافت عثمانی میں مدینہ منورہ ، آخری خطاب ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دشمن کون تھے ؟ عوام الناس کے نام کھلا خط ، شرپسندوں کی مدینہ آمد ، مخالفین کو قتل کرنے سے انکار ، سبائیوں پر اتمام حجت ، فتنوں پروروں کا مدینہ پر قبضہ ، شرپسندوں سے مذاکرات ، فتنہ کیسے پیدا ہوا ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور محاصرہ کرنے والوں کے مابین مذاکرات ، فتنہ پروروں کے سرغنے کون تھے ؟ باغیوں سے خطاب ، اجل صحابہ سے رابطہ ، مظلوم ِ مدینہ منورہ ، عزیمت کے چالیس دن ، شہادت عثمان رضی اللہ عنہ ، آخری رات نبی ﷺ کی زیارت ، آخری دن قرآن کی تلاوت ، قاتلوں کاآخری حملہ ، جسد خاکی ، نماز جنازہ اور کفن دفن ۔یہ کتاب ان تمام موضوعات کااحاطہ کئے ہوئے ہے ۔ اس کتاب میں قارئین سیدنا عثمان بن عفان کی فضلیت اور منقبت کے حوالے سے دیگر بہت سارے واقعات پڑھیں گے ۔ اس کتاب میں جہاں سیدنا عثمان کے دور کے جرنیلوں کے حالات سے قارئین کو آگاہی ہوگی ، وہاں یہ بھی اندازہ ہوگاکہ ان کے دور میں لاکھوں مربع میل کا رقبہ مسلمانوں کی حکومت میں شامل ہوتا ہے ۔ ان کے تمام کارناموں کی تفصیل اس کتاب میں سمونے کی کوشش کی گئی ہے ۔ تاریخ کی بیشمار کتب میں موجود واقعات اس کتاب میں جمع کردیے گئے ہیں ۔ اس کتاب میں چہار کلر نقشے بھی شامل ہیں ۔اور پوری کوشش کی گئی ہے کہ کتاب میں بیان کردہ تمام واقعات درست اور صحیح ہوں ۔ کتاب 113گرام کے نہایت اعلی پیپر پر شائع کی گئی ۔
    کتاب کی قیمت 4000روپے ہے ۔ یہ کتاب درارلسلام کے مرکزی شوروم لوئر مال نزدسیکرٹریٹ سٹاپ دستاب ہے ۔ یاکتاب براہ راست حاصل کرنے کیلئے درج ذیل فون نمبر042-37324034پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

  • خواب لئے پھرتا ہوں….دلاورچودھری کے خواب سب کے لئے

    خواب لئے پھرتا ہوں….دلاورچودھری کے خواب سب کے لئے

    روزنامہ نوائے وقت پاکستان کی صحافتی تاریخ کا ایک معتبر اور درخشاں باب ہے، جو دو قومی نظریے کے فروغ اور قومی تشخص کے تحفظ کا علمبردار ہے،نوائے وقت اخبار مظلوم کشمیریوں کی آواز بن کر ان کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو اجاگر کرتا ہے۔ وطنِ عزیز کے خلاف سازشوں اور ملک دشمن عناصر کے مقابلے میں نوائے وقت ہمیشہ جرأت و استقامت کے ساتھ صف آرا رہا ہے، اس کے صفحات پر شائع ہونے والی تحریریں حب الوطنی، قومی غیرت اور پاکستان سے والہانہ محبت کی روشن ترجمانی کرتی ہیں،نوائے وقت کے چیف نیوز ایڈیٹر،ورلڈ کالمسٹ کلب کے چیئرمین،سینئر صحافی دلاور چودھری ایک ایسا معتبر اور روشن نام ہیں جنہوں نے اپنے قلم کو شعور، فکر اور آگہی کی شمع بنا رکھا ہے، ان کی تازہ تصنیف "خواب لیے پھرتا ہوں” کا پہلا ایڈیشن منظرِ عام پر آ چکا ہے، جو دراصل ان کی فکری ریاضت، علمی جستجو اور صحافتی تجربات کا نچوڑ ہے،کتاب کا انتساب انہوں نے اپنے والدین کے نام کیا ہے، جو ان کی شخصیت کے جذباتی اور روحانی پہلو کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔ دلاور چودھری لکھتے ہیں کہ وہ بیس برس کی عمر میں کان پر قلم رکھ کر صحافت کے خارزار میں اترے تھے۔ تین دہائیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود ان کی "صحافتی آوارہ گردی” کا سفر جاری ہے؛ وہ آج بھی نگری نگری پھرتے ہیں، علم و آگہی کی تلاش میں ہر اجنبی سے گویا گھر کا پتہ پوچھتے ہیں۔ان کے بقول صحافت ان کا پیشہ ہے مگر کتاب ان کا عشق، یہی عشق ان کے کالموں میں پوری آب و تاب کے ساتھ جھلکتا ہے۔

    "خواب لیے پھرتا ہوں” میں شامل 83 کالم ایک حساس اور بیدار ذہن کے وہ خواب ہیں جو جاگتی آنکھوں سے دیکھے گئے۔ ان صفحات میں بے شمار کتابوں کا تعارف سمویا گیا ہے، حتیٰ کہ اگر ان تمام کتابوں کو یکجا کر دیا جائے تو ایک معیاری لائبریری وجود میں آ سکتی ہے، ان میں متعدد ایسی نایاب تصانیف بھی شامل ہیں جو پاکستان میں آسانی سے دستیاب نہیں،دلاور چودھری کی کتاب خواب لیے پھرتا ہوں‌ پر ملک کی نامور علمی و صحافتی شخصیات نے اپنی آرا کا اظہار کیا ہے۔ سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی کے مطابق دلاور چودھری کے کالم معنویت، گہرائی اور تحقیقی بصیرت کے اعتبار سے منفرد ہیں۔ وہ سطحی گفتگو کے بجائے تاریخ، جغرافیہ اور عالمی سیاست کے پس منظر میں مسائل کا جائزہ لیتے ہیں۔ سہیل وڑائچ کے نزدیک ان کی تحریروں میں بین الاقوامی دانش کی جھلک نمایاں ہے اور وہ دنیا کے تجربات سے سیکھ کر معاشرتی مسائل کے حل کی راہیں تلاش کرتے ہیں۔

    سابق آئی جی ذوالفقار چیمہ نے اس کتاب کو فقر، درویشی اور انکساری کا پیغام قرار دیا ہے، جبکہ لیفٹیننٹ کرنل (ر) سید احمد ندیم قادری (تمغۂ امتیاز) کے مطابق دلاور چودھری کے کالم نوجوان نسل میں مطالعے اور کتب بینی کا شوق بیدار کرتے ہیں۔ سینئر صحافی وکالم نگار،نوائے وقت کے ایڈیٹوریل ہیڈ ادیب سعید آسی نے انہیں تاریخ و ادب کا انسائیکلوپیڈیا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے کالم مستند حوالوں اور وسیع المطالعگی کا شاہکار ہیں، قیوم نظامی، راؤ منظر حیات، حاجی محمد نواز رضا اور علامہ عبدالستار عاصم نے بھی کتاب کی فکری و ادبی اہمیت کو سراہا ہے۔

    دلاور چودھری سے جب بھی ملاقات ہو، علم و محبت کی محفل چائے کی خوشبو کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ ان کی گفتگو میں کتابوں کی مہک، تاریخ کی گہرائی اور انسان دوستی کی حرارت محسوس کی جا سکتی ہے۔ وہ علم، تحقیق اور مطالعے کی ایک چلتی پھرتی درسگاہ ہیں،اپنے گھر میں بنائی گئی لائبریری کے دورےکی دعوت بارہا مل چکی اب اسے بھی قبول کرنے کا وقت آ گیا ہے،کتاب قلم فاؤنڈیشن نے شائع کی ہے، قیمت 2500 روپے درج ہے تاہم رعایتی قیمت 1500 روپے ہے،

  • رہنمائے حج وعمرہ ،تبصرہ نگار عبدالغفار مجاہد

    رہنمائے حج وعمرہ ،تبصرہ نگار عبدالغفار مجاہد

    اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے بیت اللہ کا حج ہے۔بیت اللہ کی زیارت او رفریضہ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے ہر صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے۔ اس کا منکردائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے تمام کتب حدیث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں۔حدیث نبوی ﷺ ہے کہ ’’ حج مبرور کا ثواب جنت کے سوا کچھ اور نہیں ‘‘ ۔ مگر یہ اجر وثواب تبھی ہے جب حج او رعمر ہ سنت نبوی کے مطابق اوراخلاص نیت سے کیا جائے اور تمام منہیات سے پرہیز کیا جائے ورنہ انسان حج وعمرہ کے ا جروثواب سے محروم رہے گا ۔ حج وعمرہ ایسی عبادت ہے جس میں انسان بڑی مقدار میں مال بھی صرف کرتا ہے ۔ نقل وحرکت بھی کرتا ہے اور شدید قسم کی جسمانی سعی ومشقت بھی کرتا ہے ۔ اسلئے حج وعمرہ میں یہ بات بے حد ضروری ہے کہ انسان انھیں سنت طریقے کے مطابق بجالائے ۔ ان عبادات کا جتنا اجر وثواب ہے ان کے بجالانے میں احتیاط بھی اسی قدر ضروری ہے ۔ حج وعمرہ کے ثواب میں رسول اللہ ﷺ سے بے شمار احادیث موجود ہیں جن سے ان عبادات کی اہمیت وفضیلت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ حج وعمرہ کیلئے جانے والے اکثر لوگ ان کے بجالانے میں بہت سی غلطیاں کر جاتے ہیں جن سے ارکان حج وعمرہ کے رائیگاں جانے کا خدشہ رہتا ہے ۔ اسی ضرورت کے پیش نظر دارالسلام نے ’’ رہنمائے حج وعمرہ ‘‘ کتاب تیار کی ہے ۔ یہ کتاب حجم میں جتنی مختصر ہے موضوع کے اعتبار سے اتنی ہی اہم ہے ۔ کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس میں شامل عنوانات سے کیا جاسکتا ہے ۔مثلاََ : ارکان حج کتنے ہیں ؟ فرائض حج کون کون سے ہیں ؟ اقسام حج کتنے ہیں ؟ مردوں اور عورتوں کے لیے احرام حج کی پابندیاں کون سی ہیں ؟وہ کون سے ایسے کام ہیں جو احرام کی حالت میں کیے جاسکتے ہیں ؟ کوئی شخص احرام کی حالت میں فوت ہوجائے تو اس کی تدفین کیسے کی جائے ؟ میقات پر کیا جائے ؟ مکہ کی طرف روانگی کے تقاضے کیا ہیں ؟ مسجد الحرام میں کیسے داخل ہواجائے اور اس دوران کیا پڑھا جائے ؟ حجر اسود کو کیسے بوسہ دیا جائے ؟ طواف کیسے کیا جائے ؟ مقام ابراہیم پر کیا جائے ؟ صفا ومروہ کی سعی کیسے کی جائے اور اس دوران کیا پڑھا جائے ؟ حلق یعنی ٹنڈ کروانے کے احکامات کیا ہیں ؟ حجر اسود کو کیسے بوسہ دیا جائے اور اس دوران کیا پڑھا جائے ؟ طواف کیسے کیا جائے اور دوران طواف کیا پڑھا جائے ؟مقام ابراہیم پر کیا جائے ؟منیٰ کی طرف روانگی ( آٹھ ذی الحجہ ) کے دن کرنے والے کام اور دعائیں ؟ منیٰ پر پہنچے کے بعد کیا جائے اور کون سی دعائیں پڑھی جائیں ؟ میدان عرفات(9ذی الحجہ ) میں کیا جائے اور کون سی دعائیں پڑھی جائیں ؟ مزدلفہ میںرات کیسے گزاری جائے ، اس کے آداب ، تقاضے اور دعائیں ؟ یوم النحر ( 10ذی الحجہ ) والے دن کیا کیا جائے ؟ ایام تشریق ( 11,12,13ذی الحجہ ) میں کرنے والے ؟ طواف وداع اور اس کی دعائیں ؟ حج اکبر کا کیا مطلب ہے ؟ مسجد نبوی شریف کی زیارت کیسے کی جائے اور اس دوران کیا پڑھاجائے ؟ مسجد قبا اور بقیع قبرستان کی زیارت کرتے وقت کیا پڑھا جائے ؟ حج یا عمرے سے واپسی پر رسول اللہ ﷺ کے معمولات کیا تھے ؟ ۔ ان عنوانات سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ کتاب اپنے ایک جامع اور رہنما کتاب ہے ۔ حجم میں بالکل مختصر ہے اسے دوران سفر ساتھ رکھنا آسان بھی ہے ۔کتاب کی قیمت 200روپے ۔ اس کتاب کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ باتصویر ہے جس سے حج وعمرہ کی عبادات بجا لانا بالکل آسان ہوگیا ہے ۔ لہذا اب جبکہ حج مبارک کی تیاریاں جاری ہیں حج پر جانے والے تمام مردو وخواتین کے لیے اس کتاب کا مطالعہ بے مفید ثابت ہوگا ان شاء اللہ ۔یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شو روم نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال ، لاہور پر دستیاب ہے یا کتاب براہ راست حاصل کرنے کیلئے درج ذیل نمبر 042-37324034پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔ ’’ رہنمائے حج وعمرہ ‘‘ کتاب کے علاوہ ’’ مسنون عمرہ ، مکمل طریقہ ، فضیلت وآداب اور دعائیں ‘‘ کے نام سے ایک اذکار کارڈ بھی دستیاب ہے ۔ یہ کارڈ بھی بہت جامع اور نافع ہے ۔ عمرہ کے خواہشمند احباب کے لیے اس کارڈ کا مطالعہ بھی مفید ثابت ہوگا ان شاء اللہ ۔

  • تبصرہ کتب،حجیت ِ حدیث یعنی شریعتِ اسلامیہ میں حدیثِ رسول ﷺ کا مقام ومرتبہ

    تبصرہ کتب،حجیت ِ حدیث یعنی شریعتِ اسلامیہ میں حدیثِ رسول ﷺ کا مقام ومرتبہ

    اسلامی علوم میں سب سے اہم اور بنیادی حیثیت قرآن و سنت کو حاصل ہے۔ قرآنِ کریم شریعتِ اسلامیہ کی اساس ہے تو حدیثِ رسول ﷺ اس کی شرح، وضاحت اور عملی تفسیر ہے ۔ انہی دو سرچشموں سے امتِ مسلمہ کا دینی و اخلاقی نظام تشکیل پاتا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب "جیتِ حدیث” میں نامور محدث و محقق شیخ الحدیث ابو محمد حافظ عبد الستار حماد نے نہایت مدلل، علمی اور تحقیقی انداز میں سنتِ رسول ﷺ کی حجیت، اہمیت اور استنادی حیثیت کو ثابت کیا ہے۔یہ کتاب دو ابواب پر مشتمل ہے پہلے باب میں ’’ حدیث کی استنادی حیثیت قرآن و سنت اور عملِ صحابہ کی روشنی میں ‘‘ پر گفتگو کی گئی ہے ۔ شیخ الحدیث ابو حماد حافظ عبدالستار حماد نے حدیثِ نبوی ﷺ کی حیثیت کو قرآنِ مجید کے ساتھ تعلق کے تناظر میں بیان کیا ہے۔ صاحب کتاب نے عملِ صحابہ رضی اللہ عنہ کی روشنی میں مدلل انداز میں بتایا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ہر معاملے میں حدیثِ رسول ﷺ کو فیصلہ کن حجت مانا۔ وہ قرآن کے بعد سنت کو ہی قانون و شریعت کا دوسرا بنیادی ماخذ سمجھتے تھے۔کتاب کا دوسرا حصہ ’’ فتنہ انکارِ حدیث ،اسباب، شبہات و مغالطات کا مدلل جواب‘‘ پر مشتمل ہے ۔ یہ باب آج کے فکری و اعتقادی انتشار کے پس منظر میں نہایت اہمیت رکھتا ہے۔شیخ الحدیث حافظ عبدالستار حماد نے انکارِ حدیث کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا ہے کہ اس فتنہ کی جڑیں ابتدا میں خارجی اور معتزلی فکر میں پائی جاتی ہیں۔اس باب میں انھوں نے انکارِ حدیث کے اہم شبہات جیسے:حدیث انسانی یادداشت کا نتیجہ ہے، وحی نہیں، قرآن کافی ہے، منصب رسالت سے بے اعتنائی ، سنت کی ضرورت نہیں، محدثین نے حدیث بعد میں جمع کی اور منکرین حدیث کی خود ساختہ اصطلاح ’’ مرکزملت ‘‘ کا نہایت علمی و عقلی تجزیہ کرتے ہوئے دلائلِ قرآن و سنت، تاریخِ حدیث اور علمِ رجال کی روشنی میں مکمل اور مدلل رد کیا ہے۔وہ بتاتے ہیں کہ حدیث دراصل وحیِ غیر متلو ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے قلب پر نازل فرمایا۔اس باب میں منکرین کے دس اعتراضات کے مدلل جوابات بھی دیے گئے ہیں ۔انھوں نے مثالوں کے ذریعے واضح کیا ہے کہ اگر سنت کو نظر انداز کر دیا جائے تو قرآنِ کریم کی بہت سی آیات کا عملی فہم ممکن ہی نہیں رہتا مثلاً نماز، زکوٰۃ، حج، نکاح، طلاق اور حدود کے احکام۔حقیقت یہ ہے کہ شیخ عبد الستار حماد کا اسلوب واضح، مدلل، اور اعتدال پر مبنی ہے ایک طرف یہ کتاب حدیث کے علمی مقام کو سمجھنے کا ذریعہ ہے تو دوسری طرف فتنہ انکارِ حدیث کا توڑ بھی ہے ۔مختصر یہ کہ "حجیت ِ حدیث ” ایک ایسی جامع، مدلل اور ایمان افروز تصنیف ہے جو علمِ حدیث کے دفاع میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ کتاب صرف محدثین اور طلبہ کے لیے نہیں، بلکہ ہر اس مسلمان کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے جو یہ جاننا چاہتا ہے کہ سنتِ رسول ﷺ شریعت کا زندہ اور لازمی حصہ ہے۔کتاب میں جہاں عقلی استدلال موجود ہے، وہاں نقلی دلائل کی روشنی میں ایمان افروز تاثر بھی نمایاں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہر نکتے کو قرآن، حدیث اور آثارِ سلف سے مضبوط کیا گیا ہے۔ہر صفحے پر علمی وقار، ترتیب اور تحقیقی توازن جھلکتا ہے۔جبکہ دارالسلام نے حسبِ روایت اس کتاب کو نہایت معیاری طباعت، دیدہ زیب سرورق اور مستند حوالہ جاتی انداز میں شائع کیا ہے۔اس بیش قیمت علمی کتاب کی قیمت 250روپے ہے ۔ یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شو روم لوئر مال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور سے حاصل کی جاسکتی ہے یا کتاب براہ راست حاصل کرنے کیلئے درج ذیل نمبر 042-37324034پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

  • تبصرہ کتب،دعائوں کی قبولیت کے سنہرے واقعات

    تبصرہ کتب،دعائوں کی قبولیت کے سنہرے واقعات

    عبدالمالک مجاہد کانام کسی تعارف کامحتاج نہیں ۔ وہ بلاشبہ بین الاقوامی شہرت کے حامل ہیں ۔ انہوں نے ’’ دارالسلام ‘‘ کے نام سے ایک ایسے ادارے کی بنیادرکھی جوآج پوری دنیامیں پاکستان کی نیک نامی کا سبب بن رہاہے ۔ عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں کہ آج میں جس مقام پرہوں یہ میرے والدین کی دعائوں کانتیجہ ہے ۔عبدالمالک مجاہد کی پیش نظرکتاب’’ دعائوں کی قبولیت کے سنہرے واقعات ‘‘ بھی دعائوں کی قبولیت اور فضائل پرلکھی گئی ہے ۔ یہ کتاب ظاہری اعتبار سے جتنی خوبصورت ہے موضوع کے اعتبار اس سے کہیں زیادہ مفید ، دیدہ زیب ، لوں کو موہ لینے والی اور سبق آموز ہے ۔ 150موضوعات و واقعات پر مشتمل اس میں بتایا گیاہے کہ دعا۔۔۔در اصل وہ التجا ہے جو بندہ اپنے رب سے کرتا ہے ۔ بندہ جس وقت بھی رب سے مانگے اس کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا ۔ یوں تو دعا کیلئے کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہے۔مگر پھر بھی کچھ اوقات ایسے ہیں جن میں اللہ تعالی کی رحمتیں زیادہ وسیع ہوجاتی ہیں ۔ اس کی مہربانیوں کے دروازے مزید کھول دیے جاتے ہیں۔ان اوقات میں دعائوں کی قبولیت کے امکانات یقینی ہو جاتے ہیں ۔کتاب میں ان اوقات کاذکر تفصیل سے کیاگیا ہے۔ اسی طرح کتاب میں روزمرہ کی دعائیں بھی مذکورہیںاور دعائوں کی قبولیت کے نہایت ہی سبق آموز واقعات بھی بیان کئے گئے ہیں جنہیں پڑھ کریقین کامل ہوجاتاہے کہ سب سے بڑاہتھیاردعا ہی ہے ۔ کتاب میں دعاکی قبولیت کاایک نہایت ہی سبق آموز واقعہ ’’ اے اللہ اس کاخاتمہ بالخیر ہو ‘‘ کے عنوان سے بیان کیاگیا ہے ۔ اس واقعہ میں بتایاگیاہے کہ سعودی عرب کے ایک شخص نے کئی دن تک ایک خواب دیکھا۔ خواب میں اسے کہاجارہاتھاکہ فلاں بستی کے فلاں شخص کو عمرہ کرائو ۔ خواب دیکھنے والے شخص نے مذکورہ شخص سے رابطہ کیااوراسے بتایا کہ مجھے خواب میں تمہیں عمرہ کروانے کاحکم دیاگیا ہے ۔ یہ سن کروہ شخص زورسے ہنسااور کہنے لگاتم کون سے عمرے کی بات کرتے ہومیں نے توکبھی زندگی میں نماز بھی نہیں پڑھی اور تم مجھے عمرہ کرواناچاہتے ہو۔ جس شخص نے خواب دیکھاتھاوہ کہنے لگابس مجھے خواب میں تمہیں عمرہ کروانے کاحکم دیاگیا ہے ۔ میں تمہاری منت سماجت کرتاہوں کہ تم عمرے کے لئے تیارہوجائوسارے اخراجات میرے ذمہ ہوں گے ۔ آخر وہ خواب دیکھنے والے کے بے حداصرار پر راضی ہوگیا ۔ غسل کیا، احرام باندھااور حرم شریف کی جانب دونوں روانہ ہوگئے ۔ وہاں پہنچ کر بیت اللہ کاطواف کیا، مقام ابراہیم پردورکعت نماز اداکی، سعی کی ، سروں کومنڈوایااور اس طرح سے عمرہ مکمل ہوگیا ۔ واپسی کے لئے رخت سفرباندھا ۔ حرم سے نکلنے لگے تووہ شخص جسے بہت کوشش سے عمرے پرآمادہ کیاگیاتھاکہنے لگا: دوست حرم چھوڑنے سے پہلے میں دورکعت نفل اداکرناچاہتاہوں ۔ سواس نے نفل اداکرناشروع کئے سجدے میں گیاتواس کاسجدہ لمباہوتاچلاگیا جب کافی دیر گزرگئی تواس کے دوست نے اسے بلایا۔ جب کوئی حرکت اس کے جسم میں نہ ہوئی تواس نے اسے ٹٹولا۔ اچانک اس پرانکشاف ہواکہ اس کے ساتھی کی روح حالت سجدہ ہی میں پرواز کرچکی تھی ۔اسے آب زم زم سے غسل دیاگیا ، احرام پہناکر حرم میں اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ لاکھوں فرزندان اسلام نے حرم کعبہ میں اس کاجنازہ پڑھا اوراس کی مغفرت کے لئے دعاکی گئی ۔ ادھر عمرہ کروانے والے کواپنے ساتھی کی ایسی موت پر بڑارشک آیا وہ روپڑاکہ کاش ایسی موت میرے نصیب میں ہوتی ۔خواب دیکھنے والے شخص نے فوت شدہ کی میت کواس کے گائوں پہنچادیا جہاں اسے دفن کردیاگیا ۔ چند ایام گزرنے کے بعد جس شخص کوخواب میں عمرہ کروانے کاحکم دیاگیاتھا اس نے فوت ہونے والے کی بیوہ کوفون کیا۔تعزیت کے بعداس نے کہامیں جانناچاہتاہوں کہ تمہارے خاوند کی کون سی ایسی نیکی تھی کہ اس کاانجام اس قدرعمدہ ہوا۔ بیوہ نے کہابھائی تم درست کہتے ہومیراخاوندکوئی اچھاآدمی نہ تھا۔ اس نے ایک لمبی مدت سے نمازروزہ چھوڑرکھاتھا ۔ میں اس کی کوئی خاص خوبی بیان نہیں کرسکتی ۔ ہاں ایک خوبی اس میں یہ تھی کہ ہمارے ہمسایہ میں ایک نہایت فقیربیوہ رہتی ہے ۔جس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ۔ میراخاوندجب بھی بازارکوجاتاتو جہاں وہ اپنے بچوں کے لئے روزہ مرہ کی اشیا راشن وغیرہ خریدتاتووہاں وہ بیوہ اوراس کے یتیم بچوں کے لئے بھی راشن خریدلاتااوراس کے دروازے پر سامان رکھ کرآوازدیتاکہ سامان اٹھالو۔ بیوہ عورت جب سامان اٹھاتی توساتھ ہی میرے خاوند کے لئے دعاکرتی ’’اللہ تمہاراخاتمہ بخیر کرے ۔‘‘ اللہ تعالی ہم سب کو صرف اپنے ہی در پر جھکنے اور اسی سے مانگنی کی توفیق عطا فرمائے ۔ میرے علم میں خاوندکی یہی ایک نیکی ہے جس وجہ سے اس کاخاتمہ خیر پرہواہے ۔ کتاب میں دعائوں کی قبولیت کے اس طرح کے بیشمار واقعات لکھے ہیں ۔ جنہیں پڑھنی سے ہماری زندگیاں بدل سکتی ہیں ۔ اس طرح کے سب آموز واقعات کے لئے یہ کتاب ہرگھر اور ہرفرد کی ضرورت ہے ۔آرٹ پیپر ، چہار رنگ اور خوبصورت طباعت سے آراستہ کتاب کی قیمت 3750 روپے ہے ۔ کتاب دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئرمال نزدسیکرٹریٹ سٹاپ پردستیاب ہے یاکتاب براہ راست حاصل کرنے کے لئے درج ذیل نمبر042-37324034پر رابطہ کیاجاسکتاہے ۔

  • اردو، اقتدار کی زبان اور عوامی محرومی،تحریر:اخلاق حیدرآبادی

    اردو، اقتدار کی زبان اور عوامی محرومی،تحریر:اخلاق حیدرآبادی

    اخلاق حیدرآبادی ،اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو ،رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی فیصل آباد کیمپس ،رکن مرکزی مجلس عاملہ۔ پاکستان رائٹرز گلڈ (ادارہ مصنفین پاکستان)

    اردو اس خطے کی تہذیبی روح اور عوامی اظہار کی سب سے توانا علامت رہی ہے مگر اقتدار کے ایوانوں میں اس کی حیثیت بتدریج کمزور ہوتی چلی گئی ہے۔ ریاستی نظام میں رائج لسانی ترجیحات نے عام شہری اور اقتدار کے مراکز کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کر دی ہے۔ جب حکمرانی اور فیصلے عوام کی فہم سے باہر زبان میں کیے جائیں تو محرومی اور بیگانگی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ یہ لسانی ناانصافی صرف زبان کا مسئلہ نہیں بل کہ سماجی مساوات اور شہری حقوق سے جڑا ہوا ایک سنگین معاملہ ہے۔ زیر نظر تجزیہ اسی المیے کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے تاکہ زبان اور اقتدار کے اس نابرابر رشتے کو سمجھا جا سکے۔

    آئینی حیثیت کے باوجود اردو کی نظراندازی: قومی زبان اور عملی تضاد
    (آئینِ پاکستان، عدالتی فیصلے اور سرکاری وعدے بمقابلہ عملی صورتِ حال)
    آئینِ پاکستان اردو کو قومی زبان کا درجہ دیتا ہے اور واضح طور پر یہ تقاضا کرتا ہے کہ ریاستی امور، سرکاری مراسلت اور عدالتی کارروائیاں اسی زبان میں انجام پائیں مگر عملی سطح پر یہ آئینی شق محض کاغذی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ سرکاری دفاتر میں فائلوں کی زبان، قوانین کے مسودے، احکامات اور نوٹیفکیشنز ایسی زبان میں مرتب کیے جاتے ہیں جو عام شہری کی فہم سے بالاتر ہے۔ اس صورتِ حال میں قومی زبان کا حق تسلیم کیے جانے کے باوجود اس سے مسلسل انحراف ایک واضح تضاد کو جنم دیتا ہے۔ عوام جنھوں نے ریاست کو وجود بخشا، وہی اپنے ہی ملک میں سرکاری زبان کے ذریعے اجنبی بنا دیے گئے ہیں۔ آئین کا مقصد یہ تھا کہ زبان کے ذریعے ریاست اور عوام کے درمیان قربت پیدا ہو مگر موجودہ طرزِ عمل نے اس رشتے کو کمزور کر دیا ہے۔ اردو کی نظراندازی صرف ایک لسانی مسئلہ نہیں بل کہ یہ شہری حقوق کی پامالی کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ جب قانون، فیصلہ اور ہدایت عوام کی زبان میں نہ ہوں تو وہ ان کے لیے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ اس طرزِ عمل سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ آئینی وعدے محض رسمی ہیں اور ان پر عمل درآمد ریاست کی ترجیح نہیں۔ قومی زبان کو نظر انداز کرنا دراصل قومی شناخت سے روگردانی کے مترادف ہے۔ یہ رویہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر آئین کی بنیادی شقوں پر ہی عمل نہ ہو تو عوام کا ریاستی نظام پر اعتماد کیسے برقرار رہ سکتا ہے۔ اردو کے ساتھ یہ سوتیلا سلوک معاشرتی ناہمواری کو بڑھاتا ہے اور شہریوں کو فیصلہ سازی کے عمل سے دور کر دیتا ہے۔ اس تضاد کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب آئین کو محض ایک دستاویز نہیں بل کہ عملی رہنما سمجھا جائے اور قومی زبان کو واقعی اس کا جائز مقام دیا جائے۔

    انگریزی بطور طاقت کی زبان: طبقاتی تفریق اور عوامی بیگانگی
    (زبان کا استعمال بطور اقتدار، اشرافیہ اور عام شہری کے درمیان فاصلہ)
    یہ موضوع محض لسانی بحث نہیں بل کہ طاقت، اختیار اور سماجی درجہ بندی کا گہرا مسئلہ ہے۔ انگریزی بطور طاقت کی زبان دراصل ایک ایسے نظام کی علامت بن چکی ہے جس میں علم، مواقع اور اختیار چند مخصوص طبقات تک محدود ہو جاتے ہیں جب کہ عوام کی اکثریت خود کو اس دائرے سے باہر محسوس کرتی ہے۔ یہ زبان رفتہ رفتہ علمی برتری، ذہانت اور قابلیت کا پیمانہ قرار دے دی گئی ہے جس کے نتیجے میں مقامی زبانوں سے وابستہ افراد کمتر، غیر متعلق اور پس ماندہ سمجھے جانے لگتے ہیں۔ تعلیمی اداروں، دفتری نظام اور ریاستی بیانیے میں اسی زبان کی بالادستی طبقاتی تفریق کو مزید گہرا کرتی ہے کیوں کہ جسے اس زبان پر عبور حاصل نہیں وہ فیصلہ سازی، اظہارِ رائے اور سماجی ترقی کے عمل سے عملاً خارج ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں زبان محض رابطے کا ذریعہ نہیں رہتی بل کہ ایک ایسا ہتھیار بن جاتی ہے جو عوام کو ان کی اپنی ثقافت، فکری روایت اور اجتماعی شعور سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ یوں معاشرہ دو واضح حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ایک وہ جو زبان کے ذریعے طاقت سے جڑا ہے اور دوسرا وہ جو اسی زبان کے باعث خود کو اجنبی، خاموش اور بے اختیار محسوس کرتا ہے۔ اگر زبان کو علم اور شعور کی ترسیل کے بجائے سماجی امتیاز کا ذریعہ بنا دیا جائے تو یہ عمل نہ صرف عوامی بیگانگی کو جنم دیتا ہے بل کہ فکری انصاف اور ثقافتی توازن کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے۔

    عدالتی زبان اور انصاف تک رسائی: فہم کی رکاوٹ یا انصاف کی نفی؟
    (انگریزی عدالتی اصطلاحات، عام سائل کی مجبوری اور انصاف میں تاخیر)
    عدالتی زبان اور انصاف تک رسائی کا مسئلہ دراصل عام شہری اور ریاستی نظام کے درمیان فاصلے کی علامت ہے، جہاں پیچیدہ، اجنبی اور غیر مانوس زبان فہم کی راہ میں ایک مضبوط دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ جب عدالتوں میں ایسی زبان رائج ہو جو عوام کی اکثریت کی روزمرہ بول چال اور فکری سطح سے ہم آہنگ نہ ہو تو انصاف محض ایک نظری تصور بن کر رہ جاتا ہے، کیونکہ جسے بات ہی سمجھ نہ آئے وہ اپنے حق کا مطالبہ کیسے کرے۔ عدالتی اصطلاحات، طویل جملے اور مبہم اسلوب عام فرد کو خوف، الجھن اور بے بسی میں مبتلا کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ وکیلوں، کاتبوں اور دلالوں پر غیر معمولی انحصار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں انصاف کا عمل سادہ حق کے بجائے ایک مہنگی اور پیچیدہ رسم بن جاتا ہے جو صرف باخبر اور صاحبِ وسائل طبقے کے لیے قابلِ حصول رہتی ہے۔ یوں زبان انصاف کی وضاحت کا ذریعہ ہونے کے بجائے اس کی نفی کا سبب بننے لگتی ہے کیوں کہ فہم کے بغیر انصاف محض فیصلے کا اعلان ہے، شراکت اور اطمینان کا ذریعہ نہیں۔ اگر عدالتی زبان عوام کی ذہنی سطح اور لسانی روایت سے قریب نہ ہو تو یہ نظام خود اپنی اخلاقی بنیادوں کو کمزور کر دیتا ہے اور انصاف ایک زندہ حقیقت کے بجائے دور، سرد اور غیر متعلق تصور میں ڈھل جاتا ہے۔

    سرکاری دفاتر میں لسانی الجھن: فائل، فارم اور فرد کی بے بسی
    (درخواستیں، نوٹیفکیشنز، دفتری کارروائی اور عوامی مشکلات)
    سرکاری دفاتر میں لسانی الجھن عام شہری کی روزمرہ زندگی کو اذیت ناک تجربہ بنا دیتی ہے جہاں کاغذی کارروائی، درخواست نامے اور دفتری تحریریں ایک ایسی زبان میں ہوتی ہیں جو عوام کی فہم اور تجربے سے میل نہیں کھاتیں۔ جب ایک سادہ انسان کسی کام کے لیے دفتر کا رخ کرتا ہے تو وہ پہلے ہی خوف اور تذبذب کا شکار ہوتا ہے، مگر اجنبی اصطلاحات، پیچیدہ جملے اور غیر مانوس اسلوب اس کی بے بسی کو مزید گہرا کر دیتے ہیں۔ دفتری تحریر کا مقصد رہنمائی اور سہولت ہونا چاہیے لیکن جب زبان رکاوٹ بن جائے تو شہری اپنی ہی درخواست کا مفہوم سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔ اس صورتِ حال میں وہ اہلکاروں کی مرضی، ترجمانوں کے سہارے اور غیر ضروری سفارشات کا محتاج بن جاتا ہے، جس سے عزتِ نفس مجروح اور اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ یوں زبان خدمت کا ذریعہ بننے کے بجائے اقتدار کی علامت بن جاتی ہے جہاں عام فرد خود کو نظام کے سامنے بے زبان اور بے اختیار محسوس کرتا ہے۔ اگر سرکاری دفاتر میں زبان عوام کے مزاج اور فہم کے مطابق نہ ہو تو یہ لسانی الجھن شہری اور ریاست کے درمیان فاصلے کو بڑھا دیتی ہے، اور انتظامی عمل سہولت کے بجائے مستقل اذیت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

    اردو رسم الخط کی بگڑتی صورت اور تعلیمی و ثقافتی بحران
    (غلط املا، رومن اردو، نصابی کمزوری اور تہذیبی شناخت کا زوال)
    اردو رسم الخط کی بگڑتی ہوئی صورت دراصل ہمارے تعلیمی اور ثقافتی بحران کی گہری علامت ہے جہاں سہولت اور جلد بازی کے نام پر زبان کی اصل ہیئت کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ تعلیمی اداروں میں درست املا اور خوش خطی کی تربیت بتدریج نظر انداز ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں نئی نسل حروف کی ساخت، صوتی آہنگ اور لفظی تہذیب سے کٹتی چلی جا رہی ہے۔ ذرائع ابلاغ اور روزمرہ تحریر میں بے احتیاطی نے رسم الخط کو ایک غیر واضح اور منتشر شکل دے دی ہے جس سے نہ صرف فہم میں دشواری پیدا ہوتی ہے بل کہ تہذیبی تسلسل بھی ٹوٹنے لگتا ہے۔ رسم الخط محض لکھنے کا وسیلہ نہیں بل کہ صدیوں کی فکری روایت، شعری ذوق اور علمی وراثت کا امین ہوتا ہے اور جب اسی کو بگاڑ دیا جائے تو ادب، تاریخ اور ثقافت سبھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس بگاڑ کے نتیجے میں طلبہ زبان سے رغبت کے بجائے اجنبیت محسوس کرتے ہیں اور یوں اردو آہستہ آہستہ تعلیمی دائرے سے سکڑ کر رسمی یا جذباتی اظہار تک محدود ہو جاتی ہے۔ اگر اس صورتِ حال کا سنجیدہ ادراک نہ کیا گیا تو اردو رسم الخط کے ساتھ جڑا ہوا پورا تہذیبی شعور کمزور پڑ. جائے گا اور ہم اپنی شناخت کے ایک بنیادی ستون سے محروم ہوتے چلے جائیں گے۔