Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • تبصرہ کتب،الف سے اے آئی تک،تحریر: مبراء عبدالقیوم

    تبصرہ کتب،الف سے اے آئی تک،تحریر: مبراء عبدالقیوم

    جب میں نے ناول "الف سے اے آئی تک” مکمل کیا تو دل و دماغ دونوں ایک عجیب سی کیفیت میں مبتلا ہو گئے۔ بظاہر یہ ایک جدید موضوع پر لکھا گیا ناول ہے مگر جب اس کی گہرائی میں اتر کر دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ محض ٹیکنالوجی یا مصنوعی ذہانت کی کہانی نہیں بلکہ انسان، اس کے جذبات، سوچ، رویوں، تعلقات اور بدلتے ہوئے زمانے کی ایک خوب صورت تصویر ہے۔ یہ ناول قاری کو صرف ایک کہانی نہیں سناتا ہے۔بلکہ اسے اپنے ساتھ ایک ایسے فکری سفر پر لے جاتا ہے جہاں ہر موڑ پر کوئی نہ کوئی سوال اس کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔

    مصنف ریحان خان نے ناول کے عنوان ہی میں ایک نہایت خوب صورت اور بامعنی تصور پیش کیا ہے۔ "الف” ہمارے لیے ابتدا، علم، شعور اور سیکھنے کے سفر کی علامت بن سکتا ہے، جبکہ "اے آئی” موجودہ دور کی جدید ترین ٹیکنالوجی کی نمائندگی کرتا ہے۔ الف سے اے آئی تک کا یہ سفر دراصل انسانی علم کے ارتقا کا سفر ہے۔ انسان نے اپنے اردگرد کی دنیا کو سمجھنے کے لیے سوالات سے آغاز کیا، پھر مشاہدہ کیا، علم حاصل کیا، نئی ایجادات کیں اور آج مصنوعی ذہانت جیسے حیرت انگیز مرحلے تک پہنچ گیا ہے۔ ناول اسی طویل سفر کو ایک ایسے انداز میں ہمارے سامنے رکھتا ہے جو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
    اس ناول کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ مصنف نے مصنوعی ذہانت کو محض ایک تکنیکی موضوع بنا کر پیش نہیں کیا ہے۔ اس کے ذریعے انسانی زندگی پر پڑنے والے اثرات، انسانی سوچ میں آنے والی تبدیلیاں اور مستقبل کے امکانات کو بھی زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ آج ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں، وہاں ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور مختلف ڈیجیٹل ذرائع سے آگے بڑھتے ہوئے اب اے آئی ہماری تعلیم، کاروبار، تحریر، تحقیق اور روزمرہ زندگی تک پہنچ چکی ہے۔ ایسے وقت میں اس موضوع پر ایک ادبی تخلیق یقیناً اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے۔
    ناول پڑھتے ہوئے بارہا یہ احساس ہوتا ہے کہ مصنف کا اصل سوال صرف یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت انسان کے لیے کتنی مفید ہے؟ بلکہ سوال اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے کہ انسان خود اپنی تخلیق کردہ ٹیکنالوجی کے ساتھ کہاں تک جائے گا؟ کیا مشین انسان کی مددگار رہے گی یا کبھی ایسا وقت بھی آئے گا جب انسان خود اپنی تخلیق پر انحصار کرنے لگے گا؟ کیا تیز رفتار ترقی کے ساتھ انسان اپنے احساس، تخیل، فیصلہ سازی اور اخلاقی ذمہ داری کو بھی محفوظ رکھ پائے گا؟ ایسے سوالات ناول کو محض ایک دلچسپ داستان کے بجائے ایک فکری تجربہ بنا دیتے ہیں۔
    اس ناول کی ایک اور قابلِ ذکر خوبی اس کا کہانی پن ہے۔ اگر کوئی تحریر صرف معلومات کا مجموعہ بن جائے تو قاری جلد اکتا جاتا ہے۔ لیکن یہاں مصنف نے معلومات اور کہانی کے درمیان ایک مناسب توازن قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔ واقعات کا بہاؤ، مکالموں کی روانی اور مختلف صورتِ حال کی منظرکشی قاری کی دلچسپی برقرار رکھتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم صرف صفحات نہیں پڑھ رہے بلکہ ایک ایسی دنیا میں داخل ہو رہے ہیں جہاں انسان اور ٹیکنالوجی ایک دوسرے کے ساتھ قدم ملا کر چل رہے ہیں۔
    کرداروں کے ذریعے بھی ناول کے بنیادی خیالات کو آگے بڑھایا گیا ہے۔ انسانی کرداروں کے جذبات، الجھنیں، فیصلے اور ردِعمل اس بات کو نمایاں کرتے ہیں۔ ٹیکنالوجی خواہ کتنی ہی ترقی کر لے، انسان کے اندر موجود احساسات اور جذبات اپنی الگ اہمیت رکھتے ہیں۔ مشین معلومات دے سکتی ہے، رفتار بڑھا سکتی ہے اور کئی مشکل کام آسان بنا سکتی ہے، لیکن انسانی محبت، ہمدردی، ضمیر اور احساس کی گہرائی کو سمجھنا ایک مختلف معاملہ ہے۔ یہی فرق اس ناول کے فکری پہلو کو مزید مضبوط بناتا ہے۔
    مجھے خاص طور پر ناول کا وہ پہلو قابلِ توجہ محسوس ہوا جہاں ترقی کے ساتھ اس کی ذمہ داری کا سوال سامنے آتا ہے۔ ہم اکثر ٹیکنالوجی کے فوائد پر بات کرتے ہیں مگر اس کے غلط استعمال، انسانی انحصار، اخلاقی حدود اور مستقبل کے ممکنہ خطرات پر اتنی سنجیدگی سے غور نہیں کرتے ہیں۔ ناول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر نئی ایجاد اپنے ساتھ امکانات کے ساتھ ساتھ ذمہ داریاں بھی لاتی ہے۔ اگر علم اور ٹیکنالوجی انسان کی بہتری کے لیے استعمال ہوں تو یہ نعمت بن سکتے ہیں، لیکن اگر اخلاقی اصولوں کو نظرانداز کر دیا جائے تو یہی ترقی مسائل کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
    مصنف کا اسلوب بھی ناول کی کشش میں اضافہ کرتا ہے۔ جدید موضوع کو ادبی انداز میں پیش کرنا آسان نہیں ہوتا، کیونکہ کہیں نہ کہیں معلوماتی پن کہانی پر حاوی ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ تاہم "الف سے اے آئی تک” میں جدید اصطلاحات اور فکری نکات کو کہانی کے تناظر میں پیش کرنے کی کوشش اسے عام روایتی موضوعات سے مختلف بناتی ہے۔ یہی جدت اس ناول کو موجودہ دور کے قاری کے لیے زیادہ متعلقہ بناتی ہے۔
    مختصراً اگر کہا جائے تو "الف سے اے آئی تک” صرف ایک ناول نہیں بلکہ ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان ایک فکری پل ہے۔ یہ ہمیں اس سفر کی یاد دلاتا ہے جو انسان نے علم کی پہلی منزل سے شروع کیا اور آج مصنوعی ذہانت کے دور تک پہنچ چکا ہے۔ مگر اس سارے سفر کے باوجود سب سے اہم سوال اپنی جگہ موجود ہے: آخر انسان کی اصل پہچان کیا ہے؟
    میرے نزدیک اس ناول کا سب سے خوب صورت پیغام یہی ہے کہ ترقی ضرور کیجیے، علم حاصل کیجیے، نئی ٹیکنالوجی کو سمجھیے اور اس سے فائدہ اٹھائیے، لیکن اپنی انسانیت کو کہیں پیچھے نہ چھوڑ دیجیے۔ کیونکہ مشین کتنی ہی ذہین کیوں نہ ہو جائے، انسان کی اصل عظمت اس کے احساس، شعور، اخلاق اور ضمیر میں ہے۔
    واقعی اس ناول کو پڑھ کر بے حد لطف آیا۔ یہ تحریر نہ صرف دلچسپ ہے بلکہ ذہن کو جھنجھوڑنے اور سوچ کے نئے دروازے کھولنے والی بھی ہے۔ "الف سے اے آئی تک” ایک ایسا ناول ہے جو اپنے موضوع کی جدت کے ساتھ ساتھ اپنے فکری سوالات کی وجہ سے بھی دیر تک قاری کے ذہن میں رہتا ہے۔ ایسے ناول اردو ادب میں نئے موضوعات، نئی سوچ اور نئے زاویۂ نظر کو جنم دیتے ہیں۔ اور یہی کسی بھی اچھی تخلیق کی حقیقی کامیابی ہے۔

  • افسانہ،صفراوی ،صفدر بھٹی

    افسانہ،صفراوی ،صفدر بھٹی

    (یہ مکمل چودہ صفحات کا ناولٹ ہے جن میں سے چار صفحات حاضرِ خدمت ہیں امید ہے پسند آئیں گے)

    اوئلِ دسمبر کی خنک سہہ پہر … ابر کےچھوٹے بڑے قطعات آسمان کے وسیع آنگن میں چہل قدمی میں مشغول تھے جو وقتاً فوقتاً ابدی منبعِ ضیاء کو پردے سے ڈھانک کر اہلِ زمین کو آفتاب کی لطیف حدت سے محروم کر دیتے. اور پھر دفعتاً سردی سے ٹھٹھرتے پرندوں پر ترس کھاتے ہوئے ربِّ ذوالجلال اس حجاب کوایک طرف کھینچ کر ناسپاس مخلوق کی شادمانی کاسامان فراہم کر دیتے.

    دفتری امور، جن میں قریب ایک دہائی گزرنے کے بعد بھی اُس کی دلچسپی نہ ہونے کےبرابر تھی، نمٹانے کے بعد جب وہ مسکن پر پہنچا تو اشتہا کے باوجود کھانا موخر کر کے سیدھا کمرے میں آ گیا. دفتری لباس تبدیل کر چکنے کے بعد اُس نے اپنا انتہائی ارزاں موبائل فون قمیص کی سامنے والی جیب میں رکھا اور بھورے رنگ کی اُون سے بنی چادر میں لپٹ کر کمرے کے سامنے والے لان میں رکھے لوہے کے بنچ کی نکڑ میں بیٹھ گیا.

    بتیس برس کا نحیف جوان….. جو دور سے دیکھنے والوں کو اپنی لاغر جسامت کے باعث چودہ پندرہ سالہ لڑکا جبکہ قریب والوں کو سر کے آدھے بالوں کی معدومی ، چہرے کی جھریوں اور وقت کے بے رحم تھپیڑوں سے رونما ہونے والی بوسیدگی کے سبب کوئی پنتالیس پچاس برس کا بوڑھا دکھائی دیتا.

    وہ لڑکا جوان یا بوڑھا… آپ اب اُسے جس لقب سے بھی پکاریے… لوہے کے اُس پنچ پر بیٹھا لان کے دوسرے کونے میں کھڑے زرد پتوں کے زیور سے آراستہ درختوں کو فسردگی سے دیکھ رہا تھا. کبھی کبھی جب بادلوں کا پردہ سمٹ کر سورج کو دنیائے عالم کی دگرگوں رعنائیوں پر جھانکنے کی اجازت دیتا تو وہ جوان رو بہ قفا ہو کر آفتاب پر بھی نظر کر لیتا.

    اچانک اُس نے اپنی جیب میں رکھا رابطے کا جدید آلہ نکالا اور مخصوص حروف میں محفوظ ایک نمبر ملانے لگا. فون بجتے بجتے منقطع ہو گیا اور ” مطلوبہ نمبر سے جواب موصول نہیں ہو رہا ” کا اعلان نشر کیا جانے لگا. وہ یہی عمل مسلسل دہرائے جا رہا تھا اور دوسری طرف سے وہی اعلان نشر کیا جا رہا تھا. لگ بھگ پچیس بار کی دلدوز کوشش کے بعد آخرِ کار ایک جانی پہچانی نسوانی آواز نے رکشوں کے شور میں عجلت کے ساتھ ” ہاں جی ” کہا

    کہاں ہو ؟
    کاملی چوک
    کہاں گئی تھی ؟
    ابھی گاؤں سے آ رہی ہوں تھوڑی دیر بعد گھر پہنچ جاؤں گی تب فون کرنا”. اور رابطہ منقطع ہو گیا

    ” جانے کس کے پاس سے آ رہی ہے”؟ اور اسی نوعیت کے دیگر سوالات و خیالات نے اُس کے ذہن کو جہنم کر دیا. مگر اب وہ اس دوزخ کا عادی ہو چکا تھا اور اُن شدت آمیز جذباتی صدمات کو جو نوواردان کو خون رُلا دیا کرتے ہیں خاموشی سے سہنے کا ڈھنگ سیکھ چکا تھا. لیکن وہ اضطراب جو غالباً محبت کی روح ہوتا ہے سے بھلا کون چشم پوشی کر سکتا ہے. ایسی ہی بے چینی نے اُسے دو منٹ بعد دوبارہ فون ملانے پر مجبور کر دیا
    ” میں ابھی راستے میں ہوں ” دوسری طرف سے قدرے ہانپتی ہوئی آواز اُبھری، ” صبح بہن کو ملنے جانا ہے وہ زچگی کی زد پر ہے اور میرے پاس پیسے ہیں نہیں گھر جا کر صبا سے کہتی ہوں کہ دو ہزار پندرہ سو ادھار دے دے”
    ” کس جگہ پہنچی ہو”؟

    ” جس گلی کو انہوں نے نیا بنانے کے لیے اکھاڑ رکھا ہے وہاں، لیکن تمیہں پتا نہیں ہو گا کیونکہ جب سے یہ شروع ہے تم نہیں آئے ہو”

    ” ٹھیک ہے گھر پہنچ کر صبا سے بات کر لو پھر بتانا” یہ کہہ کر نوجوان نے فون منقطع کر دیا

    شیری….. فون پر بات کرنے والی عورت اسی نام سے پہچانی جاتی تھی، کہتی ہے میرے ابا مجھے شیرو کہ کر پکارتے تھے، اُس کی ساس بھی اسے شیرو ہی بلاتی تھی لیکن دھندے کی دنیا میں سننے والوں کے دلوں میں جازبیت کا رس گھولنے کیلیے اُس نے ‘ شیری ‘ ایسا خوش کن نام اپنا رکھا تھا. مگر صفراوی .. صفراوی نوجوان کا نام تھا، نے جب پہلی ملاقات میں نام دریافت کیا تو اُس نے ان دونوں سے مختلف ایک تیسرا نام بتایا تھا.

    شیری سے ہونے والی گفتگو سے صفراوی کا دل بیٹھ سا گیا. ہمدردی اور محرومی کے خیالات کی زد پر وہ خاموش، سوچوں میں غرق دل ہی دل میں خود سے ہمکلام تھا. اُس کے اکاؤنٹ میں ساڑھے تین ہزار روپے موجود تھے جن میں سے اٹھائیس سو اُس نے ایک موٹر سائیکل کی قسط بھرنے کیلیے رکھے ہوئے تھے جو چھ ماہ پہلے ایک عزیز کو دلوائی گئی تھی اور اسی طرح کی ضروریات پوری کرتے کرتے چھ میں سے تین اقساط ادا کر پایا تھا. شیری کی تقریباً ہمیشہ کی بے اعتنائی اور ناروا سلوک کے باوجود اُس نے یہی فیصلہ کیا کہ چلو دو ہزار دے دیتے ہیں بے چاری کس سے مانگتی پھرے گی. اور ساتھ ہی دوبارہ فون لگا دیا

    ‘ ہاں صبا سے بات ہو گئی’؟
    ‘ نہیں، ابھی تو پہنچی ہوں ‘
    ‘ میں دے جاؤں ‘؟
    ‘ دے جاؤ، جیسے تمہاری مرضی’ وہ ذرا بے رُخی سے بولی
    ‘ پندرہ سو کافی ہیں ‘؟
    ‘ نہیں، بہن کو چادر اور گرم کپڑے خرید کر دینے ہیں، ذاکر ( شیری کا شوہر ) اور امی بھی ساتھ جائیں گے پانچ سو تو کرایہ لگ جائے گا’
    ‘ چلو ٹھیک ہے میں دے جاتا ہوں’
    ‘ کب تک پہنچو گے’ شیری نے استفسار کیا
    ‘ پانچ چھ گھنٹے لگ جائیں گے ‘
    ‘ چلو ٹھیک ہے، میں فتیں سے بات کرتی ہوں اُسی کے ہاں رات گزاریں گے’
    فتیں اُس کی نند تھی جس نے ایک مکان کرایہ پر لے رکھا تھا جہاں عورتوں سے دھندہ کرواتی تھی

    (جاری)

  • میرا تعارف،اعجاز الحق عثمانی

    میرا تعارف،اعجاز الحق عثمانی

    اس گلابی پہاڑوں کے پکھیرو کی آنکھ آبائی گاؤں خوشحال گڑھ میں کھلی۔ پرائمری تک تعلیم مکمل کرنے کے بعد آبائی گاؤں سے مزید تعلیم کے لیے رخصتی ہوئی، تو جھیل کنارے آباد کلرکہار کی رنگین فضاؤں میں،مختلف علمی کنوؤں سے پیاس بجھاتے بجھاتے آخر سائنس کالج کی حویلی مسکن بنی۔عارضی پنچھی نے شاہینوں کے شہر سرگودھا کی راہ لی۔اور یہاں بالآخر طبیعت بے قرار کو چار سال قرار رہا۔اور پھر شہر ادب لاہور کی گنجان آباد بے ہنگم آبادی میں حصول علم کےلیے رہا۔دال دلیہ کمانے کے ساتھ ساتھ جب کبھی طبیعت بوجھل ہو تو قلم سے آڑی ترچھی لکیریں بھی کھینچ لیتا ہوں۔ لکھنے کا سفر کالج کے زمانے سے شروع ہوا، پہلے شاعری پھر نثر میں طالب عالمانہ کوششیں کیں۔ 17 سال کی عمر میں پہلی بار تحریریں کالج کے میگزین "طاؤس” میں شائع ہوئیں ۔ 18 برس کی عمر میں پہلی کتاب” انسائیکلوپیڈیا آف کلرکہار” شائع ہوئی تو یکے بعد دیگرے باغی ٹی وی، ہم سب اور روزنامہ اساس راولپنڈی کے صفحات مطبوعہ بھی افکار و مضامین کی پذیرائی اور اشاعت کا وسیلہ بنتے چلے گئے۔ریڈیو ۔۔۔۔۔۔۔اور پھر معروف سوشل میڈیا چینل اردو پوائنٹ کو بطور اینکر جوائن کیا۔ اور گزشتہ برس دوسری کتاب "عثمانی نامہ” بھی پریس مشینوں کی مشقت کاٹ کر سامنے آگئی ہے۔

    تاحال سفر اور چلہ کشی جاری ہے۔ سیم تھور زدہ اور کلف نما معاشرہ قبول کرتا ہے، یا ساغر صدیقی کی طرح فٹ پاتھوں پر بیٹھنا پڑتا ہے، نہیں معلوم۔ مگر اندر کا خوابیدہ عثمانی چین سے نہیں بیٹھنے دیتا تو لکھنے پڑھنے لگتا ہوں۔
    میں کیوں لکھتا ہوں؟بے حس معاشرے خودرو جھاڑیوں کو بھلا کب اہمیت دیتا ہے؟ پرواہ نہیں۔ یاران تیز گام کے ساتھ کچھوے کی چال چلنا چاہتا ہوں۔تیز رفتاری سے حرکت قلب بند ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ میری علمی اور ادبی سفری روداد غم جاناں، غم دوراں ہے۔لکھنے پڑھنے سے اندرونی کیفیت پر قابو پاتا ہوں۔عمر عزیز کے آوائل میں دو کتابوں کا خالق ہوں، مگر عاشق مخلوق خدا کا ہوں۔پہاڑوں کا مرید ہوں اور وادیاں میری محبوبائیں۔ لفظوں سے تصویریں بنا بنا کر سکون حاصل کرنے کا متمنی ہوں۔ خیر اور محبت بانٹنا چاہتا ہوں۔والدین نے بولنا اور لفظوں کا استعمال سکھایا۔ اساتذہ نے لفظوں کی صحیح ادائیگی کا شعور دیا۔ بوڑھے تاش کے پتوں تک رسائی نہیں۔زندگی کے میلے میں اکیلا ہی ہوں۔فقیروں اور پنچھیوں کے مستقل گھر نہیں ہوتے۔ جامد نہیں سیارہ ہوں۔زندگی پرانا لحاف سہی۔پیوند کاری کا عمل تو جانتا ہوں،مگر پوندکاری کا نہیں۔

    طفل مکتب ہوں۔ زمانے سے جینے کا ڈھنگ سیکھ رہا ہوں۔ دریافت کا عمل درپیش ہے۔۔۔۔رام کہانی ترتیب دینی ہے۔لفظی کہانیاں بہت لکھ چکا ہوں۔کوچہ ادب کے دلداروں کا دلدادہ ہوں۔ اپنے خیالات میں غرقاب اور نیلاب کی کہانی لکھی۔ گرداب میں رہا تو شاداب خوشاب کی کہانی لکھی۔ یہ میں ہوں جی ہاں! مامے پھلے سے باتیں کرنے والا اعجاز الحق عثمانی

  • میرا تعارف،نادر فہمی

    میرا تعارف،نادر فہمی

    ادب اور فن کے میدان میں مجھ خاکسار کو نادر فہمی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ میرا تعلق ضلع قصور کی سرزمین سے ہے جہاں لفظوں کی خوشبو اور کرداروں کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔

    میں نے اپنی زندگی کے 3 شعبوں کو اپنا مشن بنایا ہے

    1۔ شاعری
    میرا کلام انسان کے جذبات، سماجی مسائل اور خاص طور پر ہریانوی ثقافت کی ترجمانی کرتا ہے۔ میری کوشش ہے کہ میری شاعری صرف تفریح نہ ہو بلکہ شعور اور اصلاح کا ذریعہ بھی بنے۔

    2۔ رائٹنگ
    میں نے مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا۔ میری تحریروں کا مقصد نئی نسل کو اپنی زبان، اپنی تہذیب اور اپنی جڑوں سے جوڑنا ہے

    3۔ ایکٹنگ
    اسٹیج اور سکرین پر میں نے ہریانوی کرداروں کو زندہ کرنے کی کوشش کی تاکہ ہریانوی ثقافت کو ایک نئی پہچان ملے۔

    الحمدللہ مجھے درج ذیل اعزازات سے نوازا گیا:
    🏆:شان پاکستان ایوارڈ 2025
    🏆:شان پاکستان ایوارڈ 2026
    🏆:بہترین ہریانوی شاعر نوشاد قاصر ایوارڈ 2025
    🏆:بہترین ہریانوی ایکٹر ایوارڈ 2024
    🏆:الوکیل ادبی ستارے ایوارڈ 2025

    میرا ماننا ہے کہ ادب، فن اور ثقافت ہی کسی قوم کی اصل پہچان ہوتے ہیں۔ میں اپنے قلم، اپنی آواز اور اپنے فن سے اسی مقصد کی تکمیل کے لیے کوشاں ہوں۔

    دعا ہے کہ اللہ تعالی مجھ سے ادب، زبان اور وطن کی خدمت لیتا رہے۔ آمین

  • میرا تعارف، نیہا علی

    میرا تعارف، نیہا علی

    قلمی نام: الـــلـــہ کی لاڈلـــی

    میرا نام نیہا علی ہے اور میرا تعلق پنجاب کے ایک نسبتاً چھوٹے مگر تہذیبی و ثقافتی رنگ سے معمور شہر ڈیرہ غازی خان سے ہے۔ اردو ادب سے میری وابستگی کو تقریباً چار برس کا عرصہ بیت چکا ہے۔ میرے لیے ادب محض الفاظ کی ترتیب، جذبات کی ترجمانی یا وقت گزاری کا وسیلہ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا فکری و روحانی سفر ہے جس میں انسان اپنے باطن کی آواز سنتا، اپنے گردوپیش کو نئے زاویوں سے دیکھتا اور معاشرے کے دکھ،خوشی، محرومی، امید اور خواب کو لفظوں کا جامہ پہناتا ہے۔

    مجھے بچپن ہی سے لکھنے اور مطالعے سے خاص شغف رہا۔ الفاظ ہمیشہ سے مجھے اپنی طرف متوجہ کرتے رہے اور دل میں اٹھنے والے احساسات کو قرطاس پر منتقل کرنے کی خواہش وقت کے ساتھ مزید گہری ہوتی گئی۔ تاہم باقاعدہ ادبی سفر کا آغاز 2022ء میں میرے پہلے افسانے "کرن کی روشنی” سے ہوا۔ یہ میرے لیے محض ایک تحریر نہیں بلکہ میرے ادبی سفر کی پہلی باقاعدہ دستک تھی۔ اس تحریر کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میرے اندر موجود احساسات اور مشاہدات کو ایک سمت دی جا سکتی ہے اور قلم کو محض اظہار نہیں بلکہ مقصد بھی بنایا جا سکتا ہے۔

    ابتدائی دور میں مجھے ایسا موزوں ادبی پلیٹ فارم میسر نہ آ سکا جہاں میں تسلسل کے ساتھ اپنی تحریریں پیش کر سکتی۔ راستے میں کئی دشواریاں آئیں، مواقع محدود رہے اور بعض اوقات حوصلہ شکن حالات کا سامنا بھی کرنا پڑا، مگر میں نے قلم کا دامن نہیں چھوڑا۔ میرا یقین تھا کہ اگر نیت میں اخلاص، جستجو میں تسلسل اور مقصد میں پختگی ہو تو راستے خود بنتے چلے جاتے ہیں۔

    2022ء ہی میں میں نے تقریباً پندرہ افسانے تحریر کیے۔ یہ مرحلہ میرے لیے تجربات، سیکھنے اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کا زمانہ تھا۔ ہر افسانے کے ساتھ میری سوچ میں وسعت، مشاہدے میں گہرائی اور اظہار میں پختگی پیدا ہوتی گئی۔ میں نے محسوس کیا کہ افسانہ صرف ایک قصہ نہیں بلکہ انسانی زندگی کے ان پہلوؤں کا آئینہ ہے جنہیں عام نگاہ اکثر نظرانداز کر دیتی ہے۔

    مسلسل محنت، جستجو اور ادبی سرگرمیوں میں شمولیت کے بعد مجھے محترمہ ناتشہ سیٹھی کے ادبی پلیٹ فارم "فخرِ وکالت” سے وابستہ ہونے کا موقع ملا۔ یہ میرے ادبی سفر کا ایک اہم سنگِ میل تھا۔ اس پلیٹ فارم پر مجھے نہ صرف اپنی تحریریں پیش کرنے کا موقع ملا بلکہ تقریباً ایک برس تک بطور ایڈمن اپنی خدمات انجام دینے کا شرف بھی حاصل ہوا۔ اس تجربے نے میری شخصیت میں انتظامی بصیرت پیدا کی اور مجھے ادبی سرگرمیوں کے نظم و نسق، قلم کاروں سے رابطے اور تخلیقی ماحول کو قریب سے سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔

    اس کے بعد میرے ادبی سفر کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔ مختلف ادبی پلیٹ فارمز پر لکھنے کے مواقع ملے اور میری تحریریں متعدد ادبی مجموعوں، کتب اور انتخاب کا حصہ بنتی رہیں۔ میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ میری بعض تحریریں بھارت سے شائع ہونے والی کتابوں میں بھی شامل ہوئیں۔ ایک نسبتاً چھوٹے شہر سے تعلق رکھنے والی لکھاری کے لیے یہ تجربہ یقیناً حوصلہ افزا بھی تھا اور یادگار بھی، اس نے میرے اس یقین کو مزید مستحکم کیا کہ قلم کے لیے جغرافیائی حدود کوئی معنی نہیں رکھتیں- اگر لفظ میں تاثیر ہو تو وہ سرحدوں سے آگے بھی اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔

    میری ادبی دلچسپی کا محور صرف افسانہ نگاری تک محدود نہیں رہا۔ میں نے مختلف اصناف ادب میں اظہار خیال کی کوشش کی اور نظم، غزل، نثری نظم، کالم، افسانچہ اور دیگر تخلیقی اصناف کے ذریعے اپنے احساسات اور مشاہدات کو لفظوں میں ڈھالنے کی سعی کی میرا بنیادی مقصد یہ رہا ہے کہ میری تحریر محض خوب صورت الفاظ کا مجموعہ نہ ہو بلکہ اس میں کوئی فکر، کوئی احساس، کوئی سبق یا زندگی کی کوئی سچی جھلک ضرور موجود ہو۔

    2025ء میں میں نے اپنی کتاب "خوابوں کی حقیقت” پر باقاعدہ کام شروع کیا۔ یہ منصوبہ میرے لیے محض ایک کتاب کی تیاری نہیں بلکہ میرے ادبی خوابوں کو ایک مستقل صورت دینے کی کوشش ہے۔ اس کتاب کے ساتھ ساتھ مختلف ادبی منصوبوں، مجموعوں اور کتابوں میں لکھنے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ ہر نئے منصوبے نے مجھے اپنے قلم کو مزید سنوارنے، اپنی کمزوریوں کو پہچاننے اور اظہار کے نئے امکانات تلاش کرنے کا موقع دیا۔

    میری تحریروں میں انسانی جذبات، رشتوں کی نزاکت، عورت کے احساسات، معاشرتی رویے، والدین کی محبت، زندگی کی تلخ حقیقتیں، امید، صبر، خود شناسی اور روحانی وابستگی جیسے موضوعات نمایاں رہے ہیں۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ قاری میری تحریر پڑھ کر صرف الفاظ سے نہ گزرے بلکہ کچھ دیر ٹھہرے، سوچے اور اپنے اندر کسی احساس کو جاگتا ہوا محسوس کرے۔

    میرے نزدیک ایک اچھا قلم کار وہ نہیں جو صرف مشکل الفاظ لکھنے پر قادر ہو، بلکہ وہ ہے جو سادہ بات کو بھی اس انداز میں بیان کر سکے کہ وہ دل میں اتر جائے۔ ادب میرے نزدیک معاشرے کی اصلاح، احساس کی بیداری اور انسان کو انسان سے جوڑنے کا ایک مؤثر وسیلہ ہے۔ اسی لیے میں چاہتی ہوں کہ میرے الفاظ میں حسنِ بیان کے ساتھ ساتھ مقصدیت، شائستگی اور فکری پختگی بھی موجود ہو۔میں نے اپنے سفر میں یہ سیکھا ہے کہ ادبی دنیا میں مقام حاصل کرنا کسی مختصر راستے کا نام نہیں۔ یہاں مسلسل مطالعہ، مشاہدہ، محنت، تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ اور اپنے اسلوب کو بہتر بنانے کی جستجو درکار ہوتی ہے۔ میں آج بھی خود کو ایک طالبِ علم سمجھتی ہوں اور ہر نئی تحریر کے ساتھ کچھ نیا سیکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔میرا قلم میرے لیے صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ میرے خوابوں کا ترجمان ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ میرے الفاظ ان لوگوں کی آواز بنیں جن کے احساسات اکثر خاموش رہ جاتے ہیں، ان دلوں کو حوصلہ دیں جو حالات سے شکستہ ہو چکے ہیں اور ان آنکھوں میں امید جگائیں جو زندگی کی گرد میں اپنے خواب بھول بیٹھی ہیں۔محدود وسائل، نسبتاً چھوٹے شہر اور ناموافق حالات کے باوجود میں نے اپنے خوابوں کو کبھی محدود نہیں ہونے دیا۔ میرا یقین ہے کہ بلند منزلوں کے لیے وسیع راستوں سے زیادہ بلند حوصلے درکار ہوتے ہیں۔ میں نے جو کچھ حاصل کیا، اسے اپنی منزل نہیں بلکہ سفر کا ایک مرحلہ سمجھتی ہوں۔آج بھی میری خواہش ہے کہ میرا قلم اردو ادب میں ایک منفرد اور معتبر شناخت قائم کرے۔ میں چاہتی ہوں کہ میری تحریریں وقت کے ساتھ محض محفوظ نہ رہیں بلکہ پڑھی جائیں، محسوس کی جائیں اور یاد رکھی جائیں۔میری منزل ابھی باقی ہے، میرے خواب ابھی زندہ ہیں اور میرا قلم ابھی بہت کچھ لکھنا چاہتا ہے۔

    میں نیہا علی ہوں-
    قلمی نام "اللہ کی لاڈلی” کے ساتھ،اور میری سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ میں لفظوں سے محبت کرتی ہوں،
    اور لفظوں کے ذریعے دلوں تک پہنچنے کا خواب دیکھتی ہوں۔

  • میرا تعارف،طاہر محمود

    میرا تعارف،طاہر محمود

    میرا نام طاہر محمود ہے اور مجھے اس نسبت پر فخر ہے کہ میرا تعلق سنگ تراشوں کے دیس، تاریخی و تہذیبی شہر ٹیکسلا سے ہے؛ وہ شہر جس کی مٹی میں صدیوں کی تاریخ، علم، تہذیب، فن اور دانائی کی خوشبو رچی بسی ہے۔ میری ابتدائی تعلیم بھی اسی شہر میں ہوئی اور شاید یہی وجہ ہے کہ کتاب، علم اور قلم سے میرا رشتہ محض شوق نہیں بلکہ میری شخصیت کا ایک مستقل حوالہ بن گیا۔

    بچپن ہی سے مطالعہ میری زندگی کا حصہ رہا۔ چوتھی جماعت کا طالب علم تھا جب اردو کے قومی اخبارات پڑھنے لگا۔ کتابوں سے محبت کا عالم یہ تھا کہ کئی کتابیں اپنے بستر کے قریب رکھتا اور مطالعہ کرتے کرتے نیند کی آغوش میں چلا جاتا۔ میرے لیے کتاب کبھی محض الفاظ کا مجموعہ نہیں رہی؛ یہ فکر کی کھڑکی، شعور کا چراغ اور زندگی کو سمجھنے کا ایک وسیلہ رہی ہے۔ شاید یہی وہ ابتدائی سفر تھا جس نے میرے اندر سوال کرنے، سوچنے اور پھر اپنی سوچ کو لفظوں میں ڈھالنے کی خواہش پیدا کی۔

    میری فکری تشکیل میں مرزا غالب، میر تقی میر، الطاف حسین حالی، علامہ محمد اقبال، فیض احمد فیض، مجید امجد، احمد ندیم قاسمی، احمد فراز اور جون ایلیا کی شاعری نے گہرے نقوش چھوڑے، جبکہ ڈاکٹر اشفاق احمد، بانو قدسیہ، سعادت حسن منٹو اور ابنِ انشا کی نثر نے میرے فکری ذوق کو جلا بخشی۔ عالمی ادب میں ولیم شیکسپیئر، لیو ٹالسٹائی، وکٹر ہیوگو اور خلیل جبران سے استفادہ کیا۔ مختلف علمی و فکری شخصیات سے سیکھنے کے مواقع نے بھی میری سوچ کے دائرے کو وسعت دی۔

    یہی چراغِ علم ہے جو دل سے دل تک جاتا ہے
    قلم وہ حرف ہے جو وقت سے آگے رہ جاتا ہے

    وقت کے ساتھ کتاب سے پیدا ہونے والا یہ تعلق قلم تک پہنچا اور قلم نے مجھے صحافت کی دنیا میں لے آیا۔ صحافت میرے لیے محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری بن گئی۔ میں نے قومی، سماجی، ادبی، ثقافتی اور بین الاقوامی موضوعات کو اپنے قلم کا موضوع بنایا اور ہمیشہ کوشش کی کہ تحریر محض خبر یا رائے بن کر نہ رہ جائے بلکہ قاری کو سوچنے، سوال اٹھانے اور اپنے معاشرے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنے کی دعوت دے۔

    ’’نوکِ نایاب‘‘ کے عنوان سے میرے کالم پاکستان کے معروف و مؤقر اخبارات میں باقاعدگی سے شائع ہوتے رہے ہیں۔ صحافتی سفر نے مجھے مختلف ذرائع ابلاغ کے ساتھ کام کرنے کا موقع دیا اور مختلف ذمہ داریوں نے میرے تجربے اور مشاہدے کو مزید وسعت دی۔ اس وقت میں بیورو چیف، سرعام نیوز و سٹی انفارمیشن ڈیٹ، ڈائریکٹر نیوز، قومی سفیر، اے بی سی سرٹیفائیڈ میڈیا گروپ آف پاکستان، ڈائریکٹر، میڈیا اسٹار گروپ آف ٹیکسلا اور ایگزیکٹو ایڈیٹر، نوائے عدل اسلام آباد کی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہوں۔ پیشہ ورانہ صحافت کے لیے ڈاکٹر اے کیو خان یونیورسٹی ملتان سے صحافت میں ڈپلومہ حاصل کیا۔ پاکستان پروفیشنل جرنلسٹس ایسوسی ایشن، راولپنڈی ڈویژن کی صدارت بھی انجام دی اور اس وقت آل پاکستان ڈیجیٹل میڈیا ایسوسی ایشن، راولپنڈی ڈویژن کے ڈویژن پریذیڈنٹ کی حیثیت سے صحافتی و تنظیمی کردار ادا کر رہا ہوں۔

    صحافت کے اس سفر میں قلم کی پذیرائی بھی ہوئی اور خدمات کا اعتراف بھی۔ میری صحافتی و سماجی خدمات کے اعتراف میں روٹری کلب شکاگو، امریکہ کی جانب سے بہترین صحافتی و سماجی خدمات کا اعزاز میرے لیے باعثِ فخر ہے۔ میرے کالم عالمی سطح پر قارئین تک پہنچتے ہیں اور مختلف زبانوں میں ان کے تراجم و مطالعے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ تقریباً 150 ممالک تک پھیلے اس عالمی رابطے میں میرے الفاظ کا قارئین تک پہنچنا میرے لیے اعزاز کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔

    امریکہ کے 250 سالہ جشنِ آزادی کے موقع پر ٹیکسلا پریس کلب میں مجھے اعزازی بیج اور شیلڈ سے نوازا گیا۔ پاکستان کے معروف و مؤقر اے بی سی سرٹیفائیڈ اخبارات کی جانب سے بھی میری صحافتی اور قلمی خدمات کے اعتراف میں اعزازی شیلڈز اور تعریفی اسناد ملیں۔ میں ان اعزازات کو اپنی ذات سے زیادہ قلم، مطالعے اور صحافت کی پذیرائی سمجھتا ہوں، کیونکہ اصل اعزاز اس وقت ملتا ہے جب لفظ کسی دل تک پہنچے، کوئی فکر کسی ذہن میں سوال پیدا کرے اور کوئی تحریر کسی مثبت تبدیلی کا سبب بنے۔

    اسی فکری سفر کا اگلا پڑاؤ میری زیرِ تکمیل کتاب ’’خود سے خود تک‘‘ ہے، جو انسانی عظمت، انسانی وقار، انسانی شناخت اور قرآنِ کریم کے تصور ’’احسنِ تقویم‘‘ کے گرد گھومتی ہے۔ اس کتاب کے ذریعے میری کوشش ہے کہ انسان دوسروں کو سمجھنے سے پہلے خود کو پہچانے، اپنے وجود، کردار اور مقصدِ زندگی پر غور کرے، کیونکہ خود شناسی ہی شعور اور کردار کی تعمیر کی پہلی منزل ہے۔

    کتاب نے مجھے سوچنا سکھایا، مطالعے نے فکر دی، فکر نے لفظ عطا کیے، لفظوں نے قلم کا راستہ دکھایا اور قلم نے زندگی کو ایک مقصد بخشا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی میرے لیے لکھنا محض اظہار نہیں بلکہ اپنے عہد سے مکالمہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ لفظ کی اصل طاقت اس کی گہرائی، سچائی اور اثر میں ہوتی ہے، نہ کہ اس کی طوالت میں۔

    سنگ تراشوں کے دیس ٹیکسلا سے شروع ہونے والا یہ سفر آج بھی جاری ہے۔ راستے بدلتے رہے، موضوعات بدلتے رہے، مگر کتاب، قلم اور شعور کا رشتہ قائم رہا۔ میری منزل صرف لکھنا نہیں؛ لکھ کر سوچ پیدا کرنا، سوچ سے شعور جگانا اور شعور سے انسانیت کو مضبوط کرنا ہے۔

    کتاب سے قلم تک، قلم سے شعور تک،
    اور شعور سے انسانیت تک—
    یہی میرے سفرِ زندگی کا حاصل ہے۔

  • میراتعارف،سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    میراتعارف،سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    میرا نام سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی ہے۔ حق لکھنا میری وارثت اور تحقیق میرا شغف ہے۔
    میرا تعلق مانچسٹر آف پاکستان فیصل کے ایک نامور علمی و ادبی سادات گھرانے سے ہے۔ علم و ادب سے لگاؤ مجھے وارثت میں ملا ہے۔ میں درس و تدریس اور تحقیق کے شعبہ سے وابستہ ہوں۔ اور اسکالر، ماہرِ تعلیم، شاعرہ، ادیبہ، سینئر کالم نگار، معاشی تجزیہ کار، ماہرِ معاشیات، محقق، موٹیویشنل اسپیکر اور سماجی کارکن ہوں۔ میں اردو، پنجابی اور انگریزی زبان میں تخلیقی و تحقیقی تحریر کرتی ہوں۔ "باغی ٹی وی رائٹرز” کے ساتھ میں قریبا دو سال سے لکھ رہی ہوں۔

    میرے ادبی، معاشی اور حالاتِ حاضرہ سے متعلق مضامین، کالمز اور تحقیقی مقالات قومی و بین الاقوامی موقر اخبارات و رسائل اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں۔ میں تعمیرِ نو ادبی فورم پاکستان کی سینئر نائب صدر اور متعدد علمی و ادبی تنظمیوں سے وابستہ ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ انگلش اخبار ڈیلی سون ٹائمز (کراچی، سرگودھا، اسلام آباد) کی مستقل و سینئر کالم نگار اور مختلف اخبارات و جرائد کے ادبی اور بازئچۂ اطفال صفحات کی بطور معاون مدیرہ فرائض انجام دے رہی ہوں۔

    اردو زبان میں معاشیات و بزنس (Economics) کے اہم موضوعات پر گوگل سرچ انجن کے لیے مواد فراہم کرنے میں بھی میرا کردار نمایاں رہا ہے۔ میری شاعری، تحقیقی مضامین اور کالمز آن لائن ادبی و تحقیقی پلیٹ فارمز پر بھی دستیاب ہیں۔ میرے متعدد تحقیقی مقالہ جات کو بیرونِ ملک ریسرچ اسکالرز میں خاص پذیرائی حاصل ہوئی، جب کہ بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی سکھر، سندھ کی جانب سے بھی میرے تحقیقی مقالے شائع کیئے جا چکے ہیں۔

    تحقیق و تحریر کے ساتھ ساتھ میں نئے لکھاریوں کی رہنمائی، فکری تربیت اور ادبی آبیاری کے لیے بھی سرگرمِ عمل ہوں۔ الحمدللہ میں نے مختلف تعلیمی و رہنمائی پروگرامز کا آغاز کیا، جو کامیابی کے ساتھ جاری ہیں۔

    علمی، ادبی اور تحقیقی خدمات کے اعتراف میں مجھے متعدد قومی ایوارڈز اور اعزازی اسناد سے نوازا جا چکا ہے۔ الحمدللہ میرا قلم ہی میری پہچان ہے۔

    سب کے لئیے دعا گو؛
    سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

  • جم خانہ کی وہ شام، بڑے نام اور ایک چھوٹا سا لکھاری،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

    جم خانہ کی وہ شام، بڑے نام اور ایک چھوٹا سا لکھاری،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

    میڈیا کی فیلڈ کو خیرباد کہے مجھے تقریباً چار سے پانچ برس کا عرصہ گزر چکا ہے۔ میڈیا کے دنوں میں بحیثیت رپورٹر کچھ پریس کانفرنسز کور کرنے کا موقع ملا۔ ایک دفعہ CPNE کی کانفرنس میں بھی شمولیت ہوئی، جہاں ملک کے کئی نامور صحافیوں کو قریب سے دیکھنے اور سننے کا موقع ملا۔ اس وقت شاید اندازہ نہیں تھا کہ صحافت سے یہ مختصر سا تعلق ایک دن یوں دوبارہ میرے سامنے آ کھڑا ہوگا۔

    وقت گزرتا گیا اور میں میڈیا کی دنیا سے تقریباً دور ہوگیا۔ لکھنے پڑھنے کا سلسلہ بھی کہیں پیچھے رہ گیا۔ پھر کچھ عرصہ قبل باغی ٹی وی سے منسلک ہونے کا موقع ملا، جس کی سرپرستی سینئر صحافی اور معروف اینکر پرسن مبشر لقمان صاحب کر رہے ہیں۔ اس پلیٹ فارم کی بدولت مجھے ایک بار پھر لکھنے کا موقع ملا اور یوں محسوس ہوا جیسے صحافت سے میرا وہ پرانا تعلق، جسے میں تقریباً بھول چکا تھا، دوبارہ زندہ ہو رہا ہے۔

    آج باغی رائٹرز فورم کے لاہور سے تعلق رکھنے والے اراکین اور لکھاریوں کی مبشر لقمان صاحب کے ساتھ لاہور جم خانہ کلب میں ایک تعارفی نشست تھی۔ میرے لیے یہ محض ایک تعارفی نشست نہیں تھی۔ شاید کئی برس بعد یہ میرے لیے ایسا دن تھا جب میں خود کو ایک بار پھر صحافت سے جڑا ہوا محسوس کر رہا تھا۔ میرے اندر ایک عجیب سی خوشی، جوش اور بے چینی تھی۔ میں شام ساڑھے چھ بجے جم خانہ کلب پہنچا۔

    ہال میں داخل ہوا تو میرے احساسات یکسر بدل گئے۔ وہاں بیٹھا ہر شخص اپنی ایک دنیا تھا۔ ہر ایک کا اپنا تعارف، اپنا تجربہ، اپنی جدوجہد اور اپنی خدمات تھیں۔ کوئی برسوں سے صحافت سے وابستہ تھا، کوئی کالم نگاری کے میدان میں اپنا مقام بنا چکا تھا اور کوئی ادب و فکر کے حوالے سے اپنی شناخت رکھتا تھا۔ میں ان سب کے درمیان بیٹھا خود کو بہت چھوٹا محسوس کر رہا تھا، لیکن اسی لمحے یہ احساس بھی ہو رہا تھا کہ شاید انسان سیکھتا ہی تب ہے جب وہ اپنے سے بڑے لوگوں کے درمیان بیٹھتا ہے۔

    کہتے ہیں انسان کی سوچ اس کے ماحول سے بنتی ہے۔ آپ جیسے لوگوں میں بیٹھتے ہیں، ویسا ہی سوچنے لگتے ہیں۔

    پھر تعارفی سیشن شروع ہوا۔ ایک ایک کرکے سب اپنا تعارف کروا رہے تھے۔ میں خاموشی سے سب کو سن رہا تھا اور اندر ہی اندر سوچ رہا تھا کہ جب میری باری آئے گی تو میں کیا بتاؤں گا؟ میرے پاس شاید اتنا کچھ نہیں تھا جتنا اس محفل میں بیٹھے دوسرے لوگوں کے پاس تھا پھر میری باری آگئی۔

    مبشر لقمان صاحب نے میری طرف دیکھا اور کہا:

    *”جی، آپ بتائیں۔”*

    بظاہر یہ ایک عام سا جملہ تھا، لیکن میرے لیے اس لمحے اس کی اہمیت شاید کچھ اور تھی۔ میں نے اپنا مختصر سا تعارف کروانا شروع کیا۔ میں بول رہا تھا اور مبشر لقمان صاحب میری بات سن رہے تھے۔ ان کی طرف سے ملنے والی وہ توجہ میرے لیے غیر معمولی تھی۔

    مجھے اچانک انضمام الحق یاد آگیا۔ وہ انضمام الحق جس کی خراب پرفارمنس کے باوجود عمران خان اس کے اندر ایک ونر دیکھ رہا تھا۔

    آج شاید مجھے بھی اسی طرح کا ایک لمحہ محسوس ہوا۔ میں کوئی بڑا نام نہیں تھا، میرے پاس سنانے کو کوئی بہت بڑی داستان نہیں تھی، لیکن مبشر لقمان صاحب کا میری طرف دیکھنا، میری بات کو توجہ سے سننا اور مجھے اپنی بات مکمل کرنے کا موقع دینا میرے لیے حوصلے کی بات تھی۔ شاید کبھی کبھی انسان کو آگے بڑھنے کے لیے صرف ایک بڑے آدمی کی طرف سے یہ احساس چاہیے ہوتا ہے کہ تمہاری بات بھی اہم ہے۔

    لیکن آج کی نشست میں میرے لیے اصل حاصل یہ نہیں تھا۔ اصل حاصل وہ ایک جملہ تھا جو مبشر لقمان صاحب نے گفتگو کے دوران کہا اور جو میرے اندر کہیں بہت گہرائی میں اتر گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم بہت علمی باتیں لکھتے ہیں، لیکن ایک عام آدمی کا مسئلہ، اس کی پریشانی اور اس کی غربت لکھنا زیادہ ضروری ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ بین الاقوامی سطح پر کیا ہو رہا ہے، دنیا میں کون سے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور ہمارا عام آدمی، خاص طور پر ہماری نوجوان نسل، ان مواقع سے کس طرح فائدہ اٹھا سکتی ہے، اس بارے میں بھی لکھا جائے۔

    یہ بات میرے لیے صرف ایک مشورہ نہیں تھی۔ یہ میرے لکھنے کے پورے انداز کے لیے ایک سوال تھا۔ ہم اکثر لکھتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم کتنا جانتے ہیں۔ ہم بڑے بڑے موضوعات چنتے ہیں، مشکل الفاظ استعمال کرتے ہیں، فلسفے اور نظریات پر گفتگو کرتے ہیں اور کبھی کبھی ہماری تحریر میں لکھنے والے کی ذات اتنی نمایاں ہوجاتی ہے کہ وہ شخص غائب ہوجاتا ہے جس کے لیے وہ تحریر لکھی جانی چاہیے۔

    شاید ایک صحافی اور لکھاری کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ وہ اپنے الفاظ کا رعب ڈال سکے یا یہ ثابت کرے کہ وہ کتنا پڑھا لکھا ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ اس شخص کی آواز بن سکے جو خود اپنی بات ایوانوں تک نہیں پہنچا سکتا۔ وہ نوجوان جو ڈگری ہاتھ میں لیے روزگار تلاش کر رہا ہے، وہ مڈل کلاس باپ جو اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے پریشان ہے، وہ ماں جو اپنے بیٹے کے بہتر مستقبل کے خواب دیکھ رہی ہے، وہ مزدور جو مہنگائی کے سامنے اپنی زندگی کا حساب لگا رہا ہے، اور وہ طالب علم جو یہ جاننا چاہتا ہے کہ دنیا میں اس کے لیے کون سے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں

    صحافت شاید انہی سوالوں کو زبان دینے کا نام ہے۔ آج کی نشست کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ شاید مجھے اپنے لکھنے کا انداز بدلنا ہوگا۔ مجھے وہ نہیں لکھنا جو میری سوچ ہے بلکہ مجھے وہ لکھنا ہے جو عام آدمی کی آواز ہے۔ ایسی تحریر جسے پڑھ کر ایک مڈل کلاس نوجوان یہ کہہ سکے:
    "یہ تو میری بات ہے، یہ تو وہی مسئلہ ہے جس سے میں گزر رہا ہوں۔” ایسی تحریر جو کسی پریشان باپ کی آواز بنے، کسی بے روزگار نوجوان کو دنیا میں موجود کسی نئے موقع کی خبر دے، کسی طالب علم کو آگے بڑھنے کا راستہ دکھائے اور کبھی کسی صاحبِ اختیار کو یہ سوچنے پر مجبور کرے کہ اگر ہم نے آج اپنی نوجوان نسل کے سوالات کا جواب نہ دیا تو کل شاید بہت دیر ہوچکی ہوگی۔

    شاید آج کی اس نشست کا میرے لیے سب سے بڑا حاصل یہی تھا کہ میں کئی برس بعد صرف صحافت کے قریب نہیں آیا بلکہ صحافت کے مقصد کے قریب آیا ہوں اور شاید یہی باغی رائٹرز فورم کی آج کی نشست کی اصل خوبصورتی تھی۔ یہ صرف لکھنے والوں کا تعارف نہیں تھا۔ یہ مختلف سوچوں، تجربات اور آوازوں سے متعارف ہونے کی ایک خوبصورت کوشش تھی۔

    میرے لیے تو آج ایک نشست ہوئی، ایک جملہ سنا اور شاید میرے لکھنے کا راستہ بدل گیا۔ اب کوشش یہی ہوگی کہ میری تحریر میں صرف "میں” نہ ہو، بلکہ وہ "ہم” ہو جس میں اس ملک کا عام آدمی اپنی آواز سن سکے۔

  • میرا تعارف،انعم عباسی

    میرا تعارف،انعم عباسی

    میرا نام انعم عباسی ہے۔ میں ایک لکھاری اور شاعرہ ہوں اور گزشتہ کئی برسوں سے اردو ادب سے وابستہ ہوں۔ میرا تعلق اُس دورِ قلم سے ہے جب لفظوں کے سفر کے لیے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نہیں، بلکہ کاغذ، قلم اور کتابیں ہوا کرتی تھیں۔ میں نے اُس زمانے سے لکھنا شروع کیا جب تحریر کا رشتہ دل سے، اور لفظ کا تعلق کاغذ سے ہوا کرتا تھا۔

    میری پہلی شعری کتاب „دل جہاں پہ ٹھہرا ہے“ 2014ء میں علم و عرفان پبلیکیشنز کے پلیٹ فارم سے شائع ہوئی۔ اس کے بعد میری دوسری کتاب „روح کا سفر“ منظرِ عام پر آئی، جس میں روح کے موضوع کو اسلامی اور سائنسی زاویۂ نظر سے سمجھنے اور سمجھانے کی ایک کوشش کی گئی ہے۔الحمدللہ، میری تیسری کتاب بھی ان شاء اللہ جلد ہی قارئین کے ہاتھوں میں ہوگی، جس کا موضوع „جنات ، ایک آتشی مخلوق“ ہے۔

    میں نے اردو ادب کا باقاعدہ مطالعہ کیا ہے اور تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ ہوں۔ میرے لیے ادب محض الفاظ کو خوبصورت انداز میں ترتیب دینے کا نام نہیں، بلکہ یہ احساس، فکر، مشاہدے اور زندگی کو سمجھنے کا ایک وسیلہ ہے۔

    میری ہمیشہ سے ایک ہی کوشش رہی ہے کہ ادب سے وابستہ لوگوں کو پڑھوں، سنوں، ان کے خیالات سے سیکھوں اور اپنے ادبی سفر کو مزید وسیع کروں۔ شاید یہی جستجو مجھے آج اس خوبصورت ادبی حلقے تک لے آئی ہے۔
    امید ہے آپ سب کی محبت، رہنمائی اور ادبی رفاقت سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔
    آپ سب کی ادبی محفل میں شامل ہو کر خوشی محسوس ہو رہی ہے۔

  • میرا تعارف ،ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

    میرا تعارف ،ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

    تمہید: ایک قلم کئی جہتیں ؛
    ادب کسی عہد کے اجتماعی شعور، تہذیبی رویّوں اور انسانی احساسات کا آئینہ ہوتا ہے، جو قلم کار اپنے گردوپیش کی زندگی کو محض دیکھتا نہیں بلکہ اسے محسوس کرتا، سمجھتا اور لفظوں میں ڈھالتا ہے۔
    وہ اپنے عہد کی ادبی تاریخ میں ایک الگ شناخت پیدا کرتا ہے۔ڈاکٹر شاہد ایم شاہد بھی ایسے ہی ادبی قافلے میں شامل ہیں جن کی علمی و ادبی شخصیت مختلف جہتوں سے عبارت ہے۔ ان کے ہاں ادب، صحافت، تعلیم، صحت، روحانیت اور معاشرتی شعور ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک ہی فکری سلسلے کی مختلف کڑیاں محسوس ہوتے ہیں۔

    25 مارچ 1979ء کو فیصل آباد میں پیدا ہونے والے شاہد مسیح نے ادبی دنیا میں ’’شاہد ایم شاہد‘‘ کے قلمی نام سے اپنی شناخت بنائی۔ ان کا تعلق ایک ایسے خطے سے ہے جس کی مٹی میں محنت، تہذیب، سادگی اور زندگی کی گہماگہمی رچی بسی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے فکری سفر میں عام انسان کی زندگی، اس کے مسائل، امیدیں، خواب اور روحانی و اخلاقی سوالات نمایاں طور پر جگہ پاتے ہیں۔

    تعلیم: علم کی طرف ایک مسلسل سفر ؛
    ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کی شخصیت کا بنیادی وصف ان کا علمی شغف ہے۔ انھوں نے اپنی تعلیم کو کسی ایک مرحلے پر محدود نہیں کیا بلکہ مختلف علمی مدارج طے کرتے ہوئے اپنے دائرۂ مطالعہ کو وسعت دی۔ میٹرک کی تعلیم بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فیصل آباد سے حاصل کرنے کے بعد انھوں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ایف اے اور بی اے کیا۔ ایف ایس سی کے لیے معادلہ سرٹیفکیٹ انٹر بورڈ کمیٹی چیئرمین اسلام آباد سے حاصل کیا، جب کہ بی ایس سی کی معادلہ ڈگری وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد سے حاصل کی۔
    ان کی علمی زندگی کا اہم سنگِ میل ایم اے اردو ہے، جو انھوں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے کیا۔ اردو ادب کی یہ باقاعدہ تعلیم ان کے ادبی شعور کو علمی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ زبان، ادب، اسلوب اور تنقیدی فکر سے ان کی وابستگی اسی وسیع مطالعاتی پس منظر میں پروان چڑھی۔

    تعلیم سے تربیت تک :
    علم اگر کردار اور خدمت میں ڈھل جائے تو اس کی معنویت بڑھ جاتی ہے۔ ڈاکٹر شاہد ایم شاہد نے علمی تعلیم کے ساتھ پیشہ ورانہ تربیت کو بھی اہمیت دی۔ انھوں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی ایڈ کیا، جب کہ ڈی ایچ ایم ایس پنجاب ہومیوپیتھک میڈیکل کالج ڈگلس پورہ فیصل آباد سی پاس کیا اور نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی، حکومتِ پاکستان نے انہیں رجسٹرڈ ڈپلومہ جاری کیا۔
    یہ امتزاج ان کی شخصیت کا ایک دل چسپ پہلو ہے۔ ایک طرف اردو زبان و ادب کا مطالعہ اور دوسری طرف تعلیم و صحت کا عملی شعور۔ یہی تنوع ان کے قلم کو ایک وسیع موضوعاتی دائرہ عطا کرتا ہے۔ ان کی تحریروں میں زندگی کو محض ادبی استعارے کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت کے طور پر دیکھنے کا رجحان محسوس ہوتا ہے۔

    کتاب: فکر کے موتی اور تجربے کی روشنی ؛
    ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کا اصل تعارف ان کی تصانیف پڑھنے سے سامنے آتا ہے۔ان کی پہلی کتاب ’’بکھرے خواب اجلے موتی‘‘ 2019ء میں شائع ہوئی۔ یہ عنوان ہی اپنے اندر ایک علامتی کیفیت رکھتا ہے۔ خوابوں کا بکھرنا اور پھر انہی بکھرے خوابوں میں سے موتیوں کی تلاش دراصل انسانی زندگی کے تجربے، شکست و امید اور فکر و شعور کی ایک خوب صورت تمثیل بن جاتا ہے۔
    2020ء میں ان کی دوسری کتاب ’’آؤ زندگی بچائیں‘‘ منظرِ عام پر آئی۔یہ عالمی دنوں پر مشتمل ہے جو عالمی ادارہ صحت کے زیر اہتمام منائے جاتے ہیں۔اس کتاب میں دنوں کا تعارف ، بیماریوں کی مکمل تفصیل اور علاج و معالجہ درج ہے۔ اس عنوان میں محض صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ زندگی کی قدر، انسانی ذمہ داری اور اجتماعی شعور کا پیغام بھی پوشیدہ ہے۔ 2022ء میں تیسری تصنیف ’’گوہر افشاں‘‘،شائع ہوئی جس میں ادبی مضامین شامل ہے جو ہر انسان کو ایک ایسے جہان میں لے جاتے ہیں جہاں زندگی کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ چوتھی تصنیف ’’الفاظ و افکار‘‘ 2023ء میں شائع ہوئی۔آپ اسے یوں سمجھ لے جس میں ایک لفظ کی پانچ سمتیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک لفظ پانچ اقوال زریں جو لفظ کی حرمت اور آبیاری میں پیش پیش ایک دوسرے کا پیرا ہن پکڑ کر چلتے ہیں۔
    الفاظ و افکار‘‘ جیسی تصنیف اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کے نزدیک لفظ محض اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ فکر کی ترسیل کا ذریعہ بھی ہے۔ ایک اچھا لکھنے والا الفاظ کو سجاتا نہیں، بلکہ انھیں معنی بھی عطا کرتا ہے۔ اسی طرح ’’گوہر افشاں‘‘ اور ’’ابرِ گوہر‘‘ جیسے عنوانات میں تخلیقی جمالیات اور فکری معنویت کا امتزاج دکھائی دیتا ہے۔
    ان کی تحریروں کا ایک نمایاں پہلو مثبت اور تعمیری فکر ہے۔ وہ زندگی کے مسائل کو محض المیہ بنا کر پیش کرنے کے بجائے ان میں امید، اصلاح اور آگے بڑھنے کی گنجائش تلاش کرتے ہیں۔ یہی رویہ ان کے ادبی مزاج کو انسانی اور معاشرتی معنویت عطا کرتا ہے۔
    2024ء میں پانچویں تصنیف ’’ابرِ گوہر‘‘ کی اشاعت نے ان کے تصنیفی سفر کو مزید وسعت دی۔اس کتاب میں چھوٹے چھوٹے نثری مضامین شامل ہیں جس کی تقریب رونمائی 10 اپریل 2025 کو اکادمی ادبیایات پاکستان میں منعقد ہوئی تھی۔ چھٹی تصنیف
    ’’نقوشِ زرنگار‘‘ اقوالِ زریں اور منظوم نگار پروفیسر ونسینٹ پیس عصیم سے متعلق ایک منفرد ادبی کاوش ہے۔
    ان کتابوں کے عنوانات کو سامنے رکھا جائے تو ’’خواب‘‘، ’’زندگی‘‘، ’’گوہر‘‘، ’’الفاظ‘‘، ’’افکار‘‘ اور ’’ابر‘‘ اور نقوش جیسے الفاظ ایک ایسی فکری دنیا تشکیل دیتے ہیں جس میں جذبہ، خیال، تجربہ اور انسانی زندگی باہم مربوط دکھائی دیتے ہیں۔

    زیرِ اشاعت کتب: موضوعات کی وسعت ؛
    ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کی علمی سرگرمی ان کی شائع شدہ کتابوں تک محدود نہیں۔ ان کی متعدد کتب زیرِ اشاعت ہیں جن سے ان کے مطالعاتی اور موضوعاتی دائرے کا اندازہ ہوتا ہے۔
    ’’پھلوں کی افادیت‘‘ اور ’’کینسر سے بچیں‘‘ صحت اور عوامی آگاہی سے متعلق موضوعات ہیں۔ ’’پس پردہ‘‘ روحانی کالموں کا مجموعہ ہے ۔ ’’صحرا میں پھول‘‘ ادبی مضامین کا مجموعہ ہے جو ان کے تنقیدی اور فکری ذوق کی نمائندگی کرتا ہے۔ان کی ایک زیر طبع کتاب جو انشائیوں پر مشتمل ہے۔جلد منظر عام پر آنے والی ہے۔
    یہاں ایک اہم بات قابلِ توجہ ہے کہ ان کے موضوعات ایک ہی دائرے میں مقید نہیں۔ صحت سے روحانیت تک، اقوال سے ادبی مضامین تک، ان کی دل چسپی زندگی کے مختلف مظاہر کو اپنے حصار میں لیتی ہے۔

    صحافت: عہد سے براہِ راست مکالمہ ؛
    ادب جہاں انسان کے باطن سے مکالمہ کرتا ہے، صحافت اسے اپنے عہد کے مسائل سے جوڑتی ہے۔ ڈاکٹر شاہد ایم شاہد نے صحافت اور کالم نگاری کے میدان میں بھی مسلسل کام کیا ہے۔ ان کی تحریری وابستگی مختلف اخبارات و جرائد سے رہی ہے، جن میں روزنامہ آفتاب کوئٹہ/اسلام آباد، روزنامہ ایکسپریس سنڈے میگزین، روزنامہ جنگ سنڈے میگزین، ہفت روز آگاہی کراچی، ماہنامہ معالج کراچی، ماہنامہ نیا تادیب لاہور، کرسچن نیوز الرٹ لندن اور پندرہ روزہ کیتھولک نقیب لاہور شامل ہیں۔
    مختلف اخبارات و رسائل میں لکھنے کا تجربہ ان کے قلم کو مختلف طبقات، موضوعات اور قارئین سے جوڑتا ہے۔ کالم نگاری میں روزمرہ زندگی، معاشرتی مسائل، انسانی رویّوں اور فکری موضوعات کو عام فہم انداز میں پیش کرنا ایک اہم ادبی و صحافتی خدمت ہے۔

    ڈیجیٹل عہد اور اردو کا نیا قاری ؛
    وقت کے ساتھ ابلاغ کے ذرائع تبدیل ہوئے تو ڈاکٹر شاہد ایم شاہد نے بھی اپنے قلم کو ڈیجیٹل دنیا تک وسعت دی۔ مکالمہ، ہم سب، پرتلپی، تادیب ڈاٹ او آر جی اور دی وائٹ پوسٹ ڈاٹ کام ، روزنامہ پہچان پاکستان ، باغی رائٹر فورم جیسی ویب سائٹس پر ان کی تحریروں کی اشاعت اس بات کی علامت ہے کہ وہ جدید ذرائع ابلاغ کی اہمیت سے واقف ہیں۔
    آج کا قاری صرف کتاب اور اخبار تک محدود نہیں۔ وہ موبائل اسکرین پر پڑھتا ہے، مختصر وقت میں مختلف موضوعات سے گزرتا ہے اور دنیا کے کسی بھی حصے سے اردو تحریر تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ ایسے میں ڈیجیٹل پلیٹ فارم اردو قلم کار کے لیے ایک نئی ادبی بستی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

    علمی و ادبی دنیا میں پذیرائی :
    کسی ادیب کے لیے اس سے بڑھ کر علمی اعتراف کیا ہوگا کہ اس کی کتابیں باقاعدہ تعلیمی و تحقیقی مطالعے کا موضوع بنیں۔ ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کی دو کتب ’’بکھرے خواب اجلے موتی‘‘ اور ’’گوہر افشاں‘‘ کا مطالعاتی تجزیہ وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد کی بی ایس اردو کی طالبہ عنبرین پطرس نے اپنے مقالے کے طور پر کیا۔
    یہ واقع ان کی ادبی خدمات کی ایک اہم جہت سامنے لاتا ہے۔ جب کسی تخلیق کو یونیورسٹی کی سطح پر تحقیق و مطالعے کے قابل سمجھا جائے تو اس کے ادبی وجود کو ایک نئی معنویت حاصل ہوتی ہے۔ اس سے یہ امکان بھی پیدا ہوتا ہے کہ مستقبل میں ان کی دیگر تصانیف پر بھی تحقیقی کام سامنے آئے۔

    اعزازات: اعترافِ قلم ؛
    ادبی سفر میں ایوارڈز منزل نہیں ہوتے، مگر وہ اہلِ قلم کی خدمات کے اجتماعی اعتراف کی علامت ضرور بنتے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کو مختلف اوقات میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔
    پاکستان کرسچن رائٹرز گلڈ واہ کینٹ کی جانب سے 2011ء میں ’’بیسٹ کالمسٹ ایوارڈ‘‘ اور 2016ء میں ’’جرنلسٹک سروسز ایوارڈ‘‘ دیا گیا۔ 2018ء میں ’’بی ایم حسرت ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔ 2019ء میں ایٹرنل لائف منسٹری پاکستان اور آئزک ٹیلی ویژن لاہور کی جانب سے ’’بیسٹ کالمسٹ اینڈ جرنلسٹ ایوارڈ‘‘ حاصل کیا۔2025 میں روزنامہ پہچان پاکستان کی طرف سے عہد ادیب ایوارڈ دیا گیا۔
    ان کی تصانیف کی تقریباتِ رونمائی بھی ان کی علمی و ادبی پذیرائی کا باعث بنیں۔ ’’بکھرے خواب اجلے موتی‘‘، ’’آؤ زندگی بچائیں‘‘ اور ’’گوہر افشاں‘‘ کی تقریبات کے مواقع پر انہیں تعریفی، تحسینی اور تہنیتی اعزازات سے نوازا گیا۔

    ادب، معاشرہ اور انسانی ذمہ داری :
    ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کی ادبی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کا سماجی شعور ہے۔ ان کے ہاں ادب زندگی سے کٹا ہوا کوئی مجرد فن نہیں بلکہ انسانی مسائل اور معاشرتی ذمہ داریوں سے جڑا ہوا عمل محسوس ہوتا ہے۔ صحت کے موضوع پر تحریر ہو یا روحانی کالم، ادبی مضمون ہو یا فکری تحریر، ان کے موضوعات میں انسانی زندگی کی بہتری کا جذبہ نمایاں ہے۔
    یہی وہ مقام ہے جہاں ادب محض تفریح نہیں رہتا بلکہ تہذیبی ذمہ داری بن جاتا ہے۔ ایک قلم کار اپنے عہد کے انسان کو سوچنے، سوال کرنے، بہتر زندگی کی تلاش اور مثبت اقدار کی طرف متوجہ کرسکتا ہے۔ ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کی قلمی کاوشوں میں یہی رویہ نمایاں نظر آتا ہے۔

    اختتامیہ: سفر ابھی جاری ہے ؛
    ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کی علمی و ادبی زندگی کو ایک مسلسل سفر سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ فیصل آباد کی سرزمین سے اٹھنے والا یہ قلم تعلیم کے مختلف مدارج طے کرتا ہوا اردو ادب تک پہنچا، پھر صحافت اور کالم نگاری کے میدان میں سرگرم ہوا اور اب مطبوعہ ادب کے ساتھ ڈیجیٹل دنیا میں بھی اپنا وجود منوا رہا ہے۔
    ان کی تصانیف، زیرِ اشاعت کتب، صحافتی وابستگیاں، تحقیقی مطالعے اور اعزازات ان کی علمی و ادبی سرگرمیوں کے مختلف نقوش ہیں۔ تاہم کسی بھی صاحبِ قلم کی اصل قدر اس کے اعزازات سے زیادہ اس کے قلم کے تسلسل میں ہوتی ہے۔ ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کے ہاں یہ تسلسل موجود ہے۔
    ان کی شخصیت کو ’’لفظ، فکر اور خدمت‘‘ کے تین دائروں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ لفظ ان کا وسیلہ ہے، فکر ان کا موضوع اور انسانی و معاشرتی خدمت ان کے قلم کا ایک بنیادی مقصد دکھائی دیتی ہے۔ یہی امتزاج انہیں ایک ایسے معاصر قلم کار کے طور پر سامنے لاتا ہے جو ادب کو زندگی سے جوڑنے، زندگی کو شعور سے آشنا کرنے اور شعور کو مثبت انسانی اقدار میں ڈھالنے کی کوشش میں مصروف ہے۔
    اردو ادب کی یہ بستی وسیع ہے اور اس میں ہر عہد اپنے نئے لہجے، نئے سوالات اور نئے قلم کار پیدا کرتا ہے۔ ڈاکٹر شاہد ایم شاہد بھی اسی عہد کے ایک سرگرم اہلِ قلم ہیں جن کے لفظ ابھی سفر میں ہیں، جن کے موضوعات ابھی وسعت پذیر ہیں اور جن کے قلم سے آنے والے وقت میں مزید علمی و ادبی کاوشوں کی توقع کی جاسکتی ہے۔