Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • انا پرستی،معاشرے کا ناسور  تحریر حمزہ احمد صدیقی

    انا پرستی،معاشرے کا ناسور تحریر حمزہ احمد صدیقی

    "اَنا پرستی” ایک خطرناک نفسیاتی مرض ہے۔ اَنا پرستی ہی کی وجہ سے انسان منافق، جھوٹا اور غیر شفاف ہے۔ آج جب ہم اپنے اردگرد نظر دوڑاتے ہیں تو اس عفریت نے ہر دوسرے شخص کو اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے۔

    اَنا اُس زہر كی مانند ہے، جو انسان كو تباہ وبرباد كر دیتا ہے، جب تک انسان میں اَنا نہیں ہوتی وه سكون سے رہتا ہے، لیكن جیسے ہی اس میں اَنا آجاتی ہے، اس كا سكون محال ہو جاتا ہے، اَنا پرست لوگ اپنی "میں” میں مبتلا آگے بڑھتے ہوئے نہ جانے کتنے دلوں كو اپنے تلخ جملوں سے زخمی كر چكے ہوتے ہیں۔

    بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ اس اَنا پستی کے مرض کا کمینگی کی حد تک اسیر ہو چکا ہے، یہاں دو گز زمیں پر قتل ،گاڑی سٹینڈ کی پرچی پر قتل اور متعد واقعات پر جان کا خاتمہ۔ ہم نے اپنی اقدار اور اخلاقیات کو پس پشت ڈال دیا ہے اور ہمیں اس کا ادراک تک نہیں جو کہ زیادہ ہولناک ہے۔

    لفظ” مَیں” اور” اَنا "ہر شخص میں رچ بس چکا ہے ۔چاہے وہ چھوٹا ہے ،بڑا ہے، بوڑھا ہے، غریب ہے ،امیر ہے ،سیاستدان ہے، حکمران ہے ،مذہبی اسکالر ہے ،صحافی ہے، پولیس آفیسر ہے ،مالک ہے یا ملازمکوئی شرط نہیں۔سب ” میں ” اور "اَنا” کے مرض میں مبتلا ہیں۔

    ہم سب نے ایک زعم پال رکھا ہے کہ کرہ ارض پر مجھ سے بہتر عقل و دانش کا پیکر کوئی دوسرا نہیں۔ ہم دوسروں کو خود سے کم تر اور حقیر جانتے ہیں اور ہم خود کو علم و فضل اور لیاقت کا ہمالیہ سمجھ بیٹھے ہیں اور ہمارے نزدیک دوسروں کی اہمیت محض اجڈ، گنوار، کوڑھ مغز اور زمیں پر رینگنے والے حشرات کے برابر ہے۔ اَنا پرستی کے زیر سایہ ہم اس قدر تعصب پسند اور تنگ نظر ہو چکے ہیں، کہ ہمیں اپنی ذات کے سوا دوسرا کوئی نظر ہی نہیں آتا-

    معاشرے کو اَناٶں کے خاتمے کی اشد ضرورت ہے۔ یہاں ہر کوئی اپنی اَنا کی وجہ سے پھنے خاں بنا پھرتا اور دوسروں کو حقیر جانتا ہے، جس دن انسان اپنی اَنا پرستی کو شکست دے گا، اس کے اندر اور باہر کی دنیا میں تازگی اور کشادگی نازل ہو جائے گی۔ رسوم، رواج اور دستور کچھ نہیں، یہ انسانوں کی اَناؤں کی مدد کرتے ہیں اور انسان کو اپنا قیدی بناتے ہیں۔

    قارئين اکرام! ہم عہد کرتے ہیں اس عید پہ اپنی” اَنا” کو ذبح کردوں، جو بات بات پر میں میں کرتی ہے۔ہمارا
    معاشرہ میں” اَنا” و” میں” کی بھینٹ سینکڑوں لوگ چڑھ رہے ہیں۔یہ انا عید پر ہی نہیں زندگی کے ہر معاملے میں اکڑ جاتی اور معاشرے میں ناہمواری اور عدم استحکام پیدا کرتی ہے اس لیے اس عید پر اس” اَنا” کو قربان کر دیاجائے تو معاشرہ بربادہونے سے بچ سکتا ہے ۔”اَنا” کو شکست دو اور سچ کو پالو یہی حقیقت ہے اور زندگی کی حقیقی دلکشی ہے۔۔!!

    اللہ پاکﷻ ہمیں ہدایت دے- آمین یارب العالمین!!

    @HamxaSiddiqi

  • معاشرے میں تربیت کا کردار   تحریر : اعزاز شوکت

    معاشرے میں تربیت کا کردار تحریر : اعزاز شوکت

    کوئی معاشرہ بننے میں سب سے اہم کردار تربیت کا ہوتا ہے۔اور معاشرہ اسی کی بناء پر چلتا ہے۔
    جب ایک فرد کا جنم ہوتا ہے تو وہ پہلے جانداروں کی رو میں گنا جاتا ہے ۔پھر وہ حیوانوں اور جانوروں میں گنا جاتا ہے پھر وہ ایک چیز یعنی تربیت جس سے وہ ایک انسان بنتا ہے ۔یہ اُسکی تربیت پر ہوتا ہے کہ وہ ایک اچھا انسان بنے گا يا برا اور اُسکی تربیت میں معاشرے میں اچھے کام کے لیے استعمال ہو گی یا بری۔

    دوسرے جاندار بھی بالکل انسانوں کی طرح رہتے, کھاتے, سوتے اور نسل بڑھاتے ہیں۔ لیکن انسان کی عقل, تعلیم تربیت ,شعور انکو ان سے علحیدہ کرتا ہے. اسلیے اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے۔

    انسان کے پیدا ہونے سے شروع ہونے والی ماں کی دی گئی تربیت تا عمر انسان کے کردار کو متاثر کرتی ہے. انسان کی پہلی درسگاہ اس کی ماں کی گود ہوتی ہے جہاں سے اسکی تعلیم و تربیت شروع ہوتی ہے۔وہاں سے حاصل کی گئی تربیت آگے معاشرے پر اثرانداز ہوتی ہے۔

    معاشرہ خاندانی نظام سے بنتا ہے اور خاندان ایک ایک فرد سے ملکر بنتا ہے. یعنی ایک ایک انسان کو ملا کر پورا معاشرہ تیار ہوتا ہے.اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر آپکو مہذب معاشرہ چاہیے تو اس کے لیے آپکو مہذب انسانوں کی ضرورت ہے. اور مہذب انسان بننے کے لیے اچھی تربیت ہونا بہت لازم ہے.
    ابتدا میں ماں معاشرے کے بنیادی جز یعنی ایک انسان کی تربیت شروع کر کے معاشرے کی تشکیل شروع کرتی ہے. اب یہ تربیت جتنی زیادہ اچھی ہو گی وہ انسان آپکو بہترین خوش اخلاق معاشرہ دے گا. لیکن اگر کچھ خامی ۔رہ گئی تو معاشرہ کی بربادی کا سبب بنے گی
    تربیت معاشرے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کا کام کرتی ہے۔کسی بھی قوم کی پہچان اسکی تعلیم, تربیت اور اخلاق سے ہوتی ہیں۔
    ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ صرف تعلیم سے ہی انسان کو باشعور باکردار نہیں بنا سکتی بلکہ ساتھ ساتھ تربیت بھی لازم و ملزوم ہے. اگر تعلیم کے ساتھ تربیت نہ ہوگی تو کبھی کوئی معاشرہ عظیم ترین نہیں بن سکتا
    آپ نے دیکھا ہو گا کہ کچھ لوگ کتنی اعلی تعلیم حاصل کر لیتے ہیں، ڈگریوں کی قطار لگا دیتے ہیں، پھر اعلی عہدوں تک پہنچ جاتے ہیں، مگر پھر وہ اخلاق طور پر پست ہوتے ہیں، مہذب نہیں ہوتے۔اتنا پڑھ لکھ کر بھی بد عنوانی بے ایمانی لوٹ مار کرتے ہیں،اور ایسے وہ معاشرے کی تباہی کا سبب بنتے ہیں. اس سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ تعلیم کے ساتھ تربیت کتنی ضروری ہے

    انسان نہ تو پیدائشی شریف ہوتا ہے اور نہ ہی پیدائشی مجرم ،بلکہ یہ اس کی تربیت پر منحصر ہوتا ہے.۔اگر اس کے آس پاس اچھے اخلاق والے لوگ ہیں تو انکی تربیت بھی اچھی ہو گی اور وہ فطری طور پر باشعور بنے گا. اس کے برعکس اگر وہ اچھی تربیت سے عاری معاشرے میں رہے گا تو بلاشبہ وہ بد اخلاق اور برا ہوگا اور معاشرے پر منفی اثر چھوڑے گا

    نچوڑ یہ ہے کہ بہترین معاشرے کے لیے اچھی تربیت ایسے لازم ہے جیسے زندہ رہنے کے لیے سانس ,خوراک اور پانی
    تربیت کا ہمارے معاشرے پر اتنا گہرا اثر پڑتا ہے کہ اگر اچھی تربیت ہو گی تو معاشرے میں امن و سکون ہو گا۔اور اگر بری تربیت ہو گی تو اِس سے نہ صرف اُسکے خاندان والے بلکہ پورا معاشرہ اثر انداز ہو گا۔ہر کوئی ڈر ڈر کر زندگی گزارے گا کیونکہ ایسے لوگ برے کاموں میں ملوث ہو کر لوگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
    اگر تربیت اچھی ہو گی تو معاشرہ بھی اچھا ہو گا۔
    لیکن اگر تربیت بری ہو گی تو معاشرے کا نظام درہم برہم ہو جاۓ گا

    @Zee_PMIK

  • تعمیر اقوام . تحریر : ⁩عثمان رضا جولاہا

    تعمیر اقوام . تحریر : ⁩عثمان رضا جولاہا

    اوراق کی گرداب میں سے کوئی ہیرا تلاش کرنے کی جستجو میں ورق گردانی کرتے ہوئے برٹولت بریخت کا نام نظر کے سامنے سے گزرا۔ برٹولت بریخت معرف جرمن شاعر اور ڈرامہ نگار تھا۔ اس کے کھیل گلیلیو میں ایک طالب علم گلیلیو سے مخاطب ہو کر کہتا ہے

    ” بدنصیب ہے وہ دھرتی جہاں ہیرو پیدا نہیں ہوتے”

    بوڑھا گلیلیو جواب دیتا ہے
    "نہیں آندرے بدنصیب ہے وہ دھرتی جسے ہر روز ایک ہیرو کی ضرورت پیش آ جاتی ہے.”

    شاید اس وقت ہماری قوم کی حالت بھی یہی ہو چکی ہے جسے ہر چند برس بعد ایک ہیرو کی ضرورت پیش آ جاتی ہے اور پیش آئے بھی کیوں نا ہم کہاں قدر کرتے ہیں ہیروز کی ہم تو قدر کرتے ہیں سیاسی نعروں اور اپنے مفادات کی۔
    ایک شخص کے لیے سب سے بڑا ہیرو اس کا اپنا ضمیر ہوتا ہے جو اسے ہر کام سے پہلے بتاتا ہے کہ وہ ٹھیک ہے یا غلط
    میں کبھی سوچتا تھا کہ ہمیں ایک ہیرو ملے جو اس قوم کی ڈوبتی ہوئی ناؤ کو کنارے لگائے پر اب مجھے ادراک ہوا کہ تلاش رہبر میں ہم کہیں منزل سے دور ہی نہ نکل جائے۔ ہم کیوں کسی کا انتظار کرتے ہیں کہ وہ آئے اور قوم کو ترقی و سلامتی کا پروانہ تھما دے۔ ہم اپنے اندر کے ایک ہیرو کو تلاش کیوں نہیں کرتے۔ ایک مسند شاہی پر براجمان جمہوری نمائندے کرپشن کرتے ہوئے اپنے اندر کے ہیرو کی آواز کو کیوں دبا دیتے ہیں جو کہ چلا چلا کر کہتا ہے کہ تمہارے ہاتھوں میں اس قوم کا مستقبل ہے۔ منصب عدل پر فائز عدل و انصاف کا رکھوالا نظام عدل کو چند ٹکوں کے بہاؤ فروخت کرتے ہوئے اپنے اندر کے ہیرو کو کیوں بھول جاتا ہے جو اسے یاد دلا رہا ہوتا ہے کہ تجھے انصاف فروشی کے لیے نہیں بلکہ ترویج انصاف کے لیے اس منصب پر فائز کیا گیا ہے۔بیوروکریٹس اور ٹیکنوکریٹس منصوبہ سازی کرتے وقت قومی مفاد کے بجائے پسند نا پسند کے فارمولے کو اپنا کر اپنے اندر کے ہیرو کی آواز کو کیوں کچل دیتے ہیں۔

    اس قوم کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے سیاستدان آخر کیوں بھول جاتے ہیں کہ اس قوم کی بنیاد کو سینچنے کے لیے صدیوں کی محنتیں شامل ہیں۔ اس عمارت قوم کی بنیادیں فریب و جھوٹ سے کھوکھلی کرنے والے کیوں بھول جاتے ہیں کہ اس عمارت کو بنانے والوں نے کتنی محنت سے اتفاق و محبت کی مٹی کو اخلاص کے پانی سے گوندھ کر اس عمارت کو بنایا تھا۔

    جب تک ہم اپنے اندر کے ہیرو کی آواز کو نہیں سنتے اور اپنے مفادات سے بغاوت کر کے قومی مفادات کو ترجیح نہیں دیتے تب تک ہم تعمیر قوم میں اپنا کردار ادا نہیں کر سکتے۔ اس قوم کی ڈوبتی ہوئی ناؤ کو بچانے کے لیے ہمیں سیاسی نعروں اور سیاسی مفادات سے بغاوت کرنی ہو گی ہمیں ہر اس چیز سے بغاوت کرنی ہو گی جو ہماری قوم کے مستقبل کے لیے خطرہ ہے
    بقول حبیب جالب
    اس دور کے رسم و رواجوں سے
    ان تختوں سے ، ان تاجوں سے
    جو ظلم کی کوکھ سے جنتے ہیں
    انسانی خون سے پلتے ہیں
    جو نفرت کی بنیادیں ہیں
    اور خونی کھیت کی کھادیں ہیں
    میں باغی ہوں ۔ ۔ میں باغی ہوں
    جو چاہے مجھ پر ظلم کرو
    جن کے ہونٹ کی جنبش سے
    وہ جن کی آنکھ کی لرزش سے
    قانون بدلتے رہتے ہیں
    اور مجرم پلتے رہتے ہیں۔ ۔ ۔
    اُن چوروں کے سرداروں سے
    انصاف کے پہرے داروں سے
    میں باغی ہوں ۔ ۔ میں باغی ہوں
    جو قوم کے غم میں روتے ہیں
    اور قوم کی دولت دھوتے ہیں
    وہ محلوں میں جو رہتے ہیں
    اور بات غریب کی کہتے ہیں
    اُن دھوکے باز لٹیروں سے
    سرداروں اور وڈیروں سے
    میں باغی ہوں ۔ ۔ میں باغی ہوں
    جو عورت کو نچواتے ہیں
    بازار کی جنس بناتے ہیں
    پھر اس کی عصمت کےغم میں
    تحریکیں بھی چلواتے ہیں
    اُن ظالم اور بدکاروں سے
    بازار کے اُن معماروں سے
    میں باغی ہوں ۔ ۔ میں باغی ہوں
    جو مسلک کے بیوپاری ہے
    وہ سب سے بڑی بیماری ہے
    وہ جن کے سوا سب کافر ہے
    جو دین کا حرف آخر ہے
    اُن جھوٹے اور مکاروں سے
    مزہب کے ٹھیکیداروں سے
    میں باغی ہوں ۔ ۔ میں باغی ہوں
    جہاں سانسوں پر تعذیریں ہیں
    جہاں بگڑی ہوئی تقدیریں ہیں
    ذاتوں کے گورکھ دھندے ہیں
    جہاں نفرت کے یہ پھندے ہیں
    سوچوں کی ایسی پستی سے
    اس ظلم کی گندی بستی سے
    میں باغی ہوں ۔ ۔ میں باغی ہوں
    جو چاہے مجھ پر ظلم کرو ۔ ۔ ۔ ۔
    میرے ہاتھ میں حق کا جھنڈا ہے
    میرے سر پر ظلم کا پھندا ہے
    میں مرنے سے کب ڈرتا ہوں
    میں موت کی خاطر زندہ ہوں
    میرے خون کا سورج چمکے گا
    تو بچہ بچہ بولے گا
    میں باغی ہوں ۔ ۔ میں باغی ہوں
    میں باغی ہوں ۔ ۔ میں باغی ہوں

    usmanrazajolaha

  • ‏دروازے کے دکھ . تحریر:عمرخان

    ‏دروازے کے دکھ . تحریر:عمرخان

    چائے کا کپ ہاتھ میں لئے جب میں چھت پے بیٹھ کر غروب ہوتے سورج کو دیکھتا ہوں تو اداس ہو جاتا ہوں وجہ یہ نہیں ہوتی کہ سورج کیوں غروب ہو رہا ہے وجہ یہ ہوتی ہے کہ کل جب نیا دن نکلے گا تو کیا وہ وہی اداسی لے کر آئے گا جو پہلے ہی لاکھوں لوگوں کے گھروں میں گھر کر چکی ہے ؟
    میری بات کا شاید کوئی مطلب نہ سمجھ پایا ہو، تو چلو میں سمجھا دیتا ہوں.

    ہم روز کئی حادثات دیکھتے ہیں اخبارات پڑھتے ہیں اور ٹیلی ویژن پر بھی ہر روز نئی سے نئی خبر چل رہی ہوتی ہے کہ آج فلاں مر گیا.
    کیا کبھی سوچا ہے کہ وہ دکھ وہ تکلیف جو دوسرے برداشت کر رہے ہوتے ہیں خدانحواستہ ہمارے ساتھ بھی ہو سکتی ہے, کیونکہ مرنا تو ہر کسی نے ہے.موت تو برحق ہے تو پھر کیوں نہ ہم دوسروں کی تکلیف کو اپنی سمجھیں تاکہ معاشرے میں احساس باقی رہ سکے.
    پہلے ادوار کے معاشرے اللہ اور رسول اللہ کے قوانین کے مطابق چلتے تھے .لیکن آج کل کا معاشرہ صرف سوشل میڈیا کے مطابق چلتا ہے.
    پہلے قاضی اور انصاف نافذ کرنے والے ادارے اللہ سے ڈرتے تھے, لیکن آج کل کے قاضی اور انصاف نافذ کرنے والے ادارے سوشل میڈیا سے ڈرتے ہیں.

    کچھ چیزیں ہمارے معاشرے میں بہت ناپید ہو چکی ہیں جیسا کہ احساس، برداشت، عزت, صبر، اتفاق اور اخترام اور بہت کچھ.
    سوچتا ہوں معاشرہ کس ڈگر چل پڑا ہے ؟لوگوں نے جانا کہاں ہے ؟لوگوں کی منزل کہاں ہے ؟
    تو جواب خاضر ہے قبر, ہاں قبر ہی ہم سب کی منزل ہے. اور موت ہی اس معاشرے کی حقیقت ہے.
    اگر انسان بچ کر نکلنا بھی چاہے تو نہیں نکل سکتا کیونکہ یہی ہمارے دروازے کا دکھ ہے. اور اس دکھ سے کوئی نہیں بچ سکتا.
    افسوس کہ آج چائے پھر ٹھنڈی ہو گئی اور سورج پھر پوری طاقت کے ساتھ غروب ہو گیا ,اور سورج نے پھر مجھے موت کے سامنے مات دے دی.

    ‎@U4_Umer_

  • پابندی وقت  تحریر: نــــازش احمــــد

    پابندی وقت تحریر: نــــازش احمــــد

    وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا ۔ گھڑی کی سوئیاں کبھی نہیں رکتیں۔ جو وقت سے فائدہ اٹھا لیتا ہے وقت اس کے کام آ جا ہے اور جو وقت کی قدر نہیں کرتا وقت اسے کوسوں پیچھے چھوڑ کر آ گئے نکل جاتا ہے۔وقت ایک عظیم دولت ہے وہی شخص دنیا میں عزت و ثروت حاصل کرسکتا ہے جو وقت سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس کی قدر کرتا ہے اور اسے ضائع نہیں کرتا۔ہمیں چاہیے کہ وقت ضائع نہ کریں، ہر
    کام مقرر وقت پر کرنے کی عادت اختیار کریں اور کبھی آ ج کا کام کل پر نہ ڈالیں۔ کام اپنے مقررہ وقت پر کرنا چاہیے آ ج کا کام کل پر نہ ڈالنا چاہیے۔یہی پابندی وقت ہے۔
    جو لوگ وقت کی قدر نہیں کرتے وہ در حقیقت ایک قیمتی خزانہ ضائع کردتے ہیں۔گزرا ہوا وقت کبھی کسی قیمت پر بھی واپس نہیں آتا۔ پابندی وقت کے ساتھ اگر ہم محنت کریں تو ہم اپنی اقتصادی حالت درست کر سکتے ہیں۔ عزت کی زندگی بسر کر سکتے ہیں ہوں ہم کسی کے محتاج نہیں ہوں گے۔
    نظام کائنات بھی ہمیں پابندی وقت کا درس دیتا ہے۔ہر موسم اپنے مقررہ وقت پر بدلتا ہے۔ دن رات مقررہ وقت کے پابند ہیں۔ چاند۔ سورج ایک مقررہ وقت اور مقررہ نظام کے تحت طلوع اور غروب ہوتے ہیں۔ یہ اپنے پروگرام میں کبھی با قاعدگی نہیں آ نے دیتے ہیں۔ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ وہ اگر
    پابندی وقت کا عادی نہیں ہوتا تو یہ اس کی نا سمجھی اور نا اہلی کے سوا کچھ نہیں ہے۔
    "وقت کی قدر کریں
    وقت آ پ کی قدر کرے گا”
    @itx_Nazish

  • اولاد کا غم تحریر:  عائشہ رسول

    اولاد کا غم تحریر: عائشہ رسول

    اولاد ایک بڑی نعمت ہے. جنکی اولاد نہیں ہوتی وہ طرح طرح کے جتن کرتے ہیں. اگر اولاد راہ راست پر نہ ہو یعنی نافرمان ہو تو ایسی اولاد زندگی بھر کے لیے روگ بن جاتی ہے
    دورہ حاضر میں پاکستان میں ہی نہیں پوری دنیا میں ہی اس مسئلے کو لے کر لوگ پریشان ہیں

    اولاد کا غم’ غموں کا بادشاہ ہے جسے بھلایا نہیں جاسکتا’ جب یاد آتاہے تازہ ہو جاتا ہے
    نافرمان اولاد ہو یا بیوی وہ قابل قبول نہیں خواہ وہ نبی کی ہی کیوں نہ ہوں

    اسماعیل علیہ السلام بھی نبی کا بیٹا تھا اور نوح علیہ السلام کا بیٹا بھی نبی کا بیٹا تھا. نوح علیہ السلام کی بیوی بھی نبی کی بیوی تھی اور خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا بھی نبی کی بیوی تھی جنہیں جبرائیل علیہ السلام سلام بھیجتا تھا. حضرت مریم علیہا السلام بھی نبی ہی کی ماں تھیں.

    ماں کا نیک ہونا اولاد کیلئے فضیلت اور اولاد کا نیک ہونا والدین کیلئے. جو اولاد ماں باپ کی عزت و احترام کا خیال نہیں رکھتی وہ ساری زندگی گرم ریت اور کانٹوں پہ بسر کرتی ہے خواہ اس کے محلات اور دولت کے انبار ہی کیوں نہ ہوں. سکون انکے نصیب میں نہیں ہوتا
    والدین مہمان ہوتے اور اولاد میزبان. قدرت کے نظام میں تبدیلی نہیں آئی اج جو کچھ ہم اپنے والدین کے ساتھ کریں گے کل ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا

    اولاد جزبات سے سوچتی اور والدین جزبوں سے والدین کے جزبات بہت نازک ہوتے ایسے رویے مت رکھیں کہ والدین منہ بند ہو جائے اور آنکھیں ہونے کے باوجود اپکو دیکھنا بند کر دیں. اس عذاب کا بڑا سخت حساب ہوتا. اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو والدین کا فرمانبردار فرمائے.
    آمین ثم آمین

    @Ayesha__ra

  • ‏بچوں کی حوصلہ افزائی کیجئے . تحریر: خالد اقبال عطاری

    ‏بچوں کی حوصلہ افزائی کیجئے . تحریر: خالد اقبال عطاری

    یہ ایک حقیقت ہے کہ بنیاد مضبوط ہو تو عمارت بھی مضبوط ہوتی ہے. بالکل اسی طرح بچوں کی تربیت اچھی ہو تو وہ بڑے ہو کر گھر اور سوسائٹی کے اچھے فرد بن سکتے ہیں. بالخصوص اس میں والدین اور اساتذہ کرام کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے.
    پیارے والدین اوراساتذہ کرام اپنے بچوں کو با کردارو با صلاحیت بنانے میں حوصلہ افزائی کا نہایت ہی اہم کردار ہوتا ہے. ہمارے بزرگوں اور بڑوں کی سیرت سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ حوصلہ شکنی کے بجائے حوصلہ افزائی کی جائے. چنانچہ ایک بار حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے ایک آیت کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا؟ لوگ جواب نہ دے سکے لیکن آپ کے ایک شاگرد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اس کے متعلق میرے ذہن میں کچھ ہے. حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا اے میرے بھتیجے اگر تمہیں معلوم ہے تو ضرور بتاؤ اور اپنے آپ کو حقیر ( یعنی چھوٹا) نہ سمجھو.

    پیارے والدین اور اساتذہ کرام اگر چہ کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں حوصلہ افزائی کی ضرورت نہیں ہوتی وہ اپنی لگن اور محنت جستجو سے کامیابیاں حاصل کرتے ہیں. لیکن کچھ بچوں کو حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے جسمیں والدین اور اساتذہ کرام کنجوسی کرتے ہیں. حوصلہ افزائی کے حوالے سے مفید اقدامات حاضر ہیں.
    1: بچہ کوئی اچھا کام کرے کوئی اچھا کارنامہ انجام دے، کسی کی مدد کرے، اسکول ہوم ورک وغیرہ اچھا کرے تو اسکی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے تعریف کریں، شاباشی دیں، کوئی تحفہ دیں، اسکی پسند کی کوئی کھانے کی چیز بنا کر دیجئے اس سے بچہ آئندہ کام اچھے اور لگن سے کرے گا
    2: بچے کوئی مشکل کام سر انجام دیں یا ذیادہ محنت والا کام کریں تو انہیں یہ احساس دلائیں کہ آپ ان کے اس کام سے خوش ہیں یوں آئندہ وہ بچے اور مزید ذیادہ محنت کریں گے
    3: والدین اور اساتذہ بچوں کو کوئی چیلنج یا ٹارگٹ دیں اور پھر انہیں وہ ٹارگٹ مکمل کرنے پر حوصلہ افزائی کریں. اسطرح بچے اپنے گھر والوں اور دینی یا دنیاوی تعلیم دینے والوں کو اپنے قریب اور اپنا خیر خواہ سمجھے گا اور تنہائی محسوس نہیں کریں گے.
    4: انہیں بتائیں کہ امتحانات میں ذیادہ اچھے نمبر نہ آنے پر مایوس نہ ہوں. بلکہ مزید تعلیم پر توجہ دیں. اصل چیز قابلیت ہے اگر وہ ہے تو سب کچھ ہے.
    5: بچوں کے ساتھ وقت گزاریں. ان سے باتیں کریں انکے سوالات کے جوابات دیں اور خود ان سے ان کی پڑھائی کے متعلق سوالات کریں. اسطرح انکا حوصلہ بڑھے گا.
    6: اگر بڑوں کی موجودگی میں وہ کچھ بولنا چاہیں تو انہیں بولنے دیں ساتھ میں انہیں بڑوں سے کسطرح گفتگو کرنی چاہیے یہ بھی سکھائیں.
    7: اگر کسی بات پر بچہ صحیح ہو اور آپ غلطی پر تو اپنی غلطی کا اعتراف کیجئے یوں آپ کی عزت بڑھے گی.
    8: بچوں کی اسکول و مدرسہ کی تعلیم کا جائزہ لیجیے اور غلطی پر سمجھائیں اور اچھے کام پر حوصلہ افزائی کیجئے.
    9: ہر معاملے میں شاباشی اور تعریف نہ کریں بلکہ ان کی غلطیوں کی بھی نشاندہی کریں مگر بہترین انداز کے ساتھ.

    پیارے والدین و اساتذہ بچے گیلی مٹی کی طرح ہوتے ہیں ان سے جسطرح پیش آئیں گے انکی ویسی ہی شکل بن جائے گی لہذا انکی ہمت بندھایا کریں ذیادہ مارنے پیٹنے، ڈانٹنے سے حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے.
    بچوں کی حوصلہ افزائی کیجئے اور انکا مستقبل بہتر کیجئے.

    @AttariKhalid1

  • انصاف کمانا تحریر: عتیق الرحمان

    انصاف کمانا تحریر: عتیق الرحمان

    کسی بھی معاشرے کے بہتر نظام کی بنیادی اکائی انصاف ہے جو امیر اور غریب کے درمیان امتیازی سلوک کے بغیر فراہم کیا جانا چاہیے
    کھانے کے لئے روٹی رہنے کے لئے چھت اور صحت کے لئے دوائی ہر کوئی کسی نا کسی طرح حاصل کرہی لیتا ہے کیونکہ ان سب کے لئے بس ایک شرط ہے وہ ہے محنت
    لیکن انصاف کمایا نہیں جاسکتا بلکہ یہ معاشرے کے فیصلے کن افراد فراہم کرتے ہیں تاکہ معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے والی چیزوں کا تدارک ہوسکے
    بدقسمتی سےپاکستان میں اس سے بلکل اُلٹ ہے
    انصاف فراہم نہیں جا رہا بلکہ لوگوں سے کہا جارہا ہے کہ ہمت ہے تو کماؤ اور حاصل کرلو۔ اب یہاں بات ہے کہ انصاف کمانے سے کیا مراد ہے تو اسکا مطلب ہے خریدنا۔ یعنی جس کے پاس پیسہ ہے وسائل ہیں تو انصاف بھی اسی کو ملے گا ورنہ جس کے پاس یہ سب نہیں ہے وہ مظلوم ہوتے ہوئے بھی سزا کا حق دار کہلائے گا
    اسکی تازہ مثال عبدالمجید اچکزئی ہے جس نے سرعام لوگوں کے سامنے ایک کانسٹیبل کو اپنی لینڈ کروزر کے نیچے روند کر قتل کردیا لیکن عدالت نے فیصلہ دیا کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں لحاظہ انہیں باعزت بری کیا جاتا ہے۔ وہ قتل جسے بیچ چوراہے ہزاروں افراد نے اور سی سی ٹی وی فوٹیج لاکھوں افراد نے دیکھی اسکے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اسکا کیا مطلب ہوا کہ عبدالمجید اچکزئی نے انصاف کمایا اور کانسٹیبل کے گھر والے کما نہ سکے
    اس سے بدتر مثال یہ کہ تفتیش کرنے والے بھی بک جاتے ہیں۔ گاڑی میں سفر کررہا تھا تو ساتھ والی سیٹ پر سب انسپیکٹر پولیس بیٹھا ہوا تھا۔ اس راستے میں اسے بے شمار کالز آرہی تھی جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ کسی ریپ کیس کا تفتیشی آفیسر مقرر ہے یہ۔ پہلی کال مدعی کی آئی جسے جناب نے پیار سے بہلا پھسلا کر نہ جانے کون کون سے میڈیکلز کروانے کا کہہ کے بات ایک ہفتہ آگے کردی اور دوسری کال خود ان افراد کو ملائی جو مجرم تھے اور انہیں کہتا کہ میں جتنا ہوسکتا تھا اتنا آگے کردیا ہے معاملہ تو اب اس بیچ میں معاملات طے کرنے کی کوشش کرو میں صلح نامہ کروا دونگا
    اب ایسے حالات میں مظلوم جائے تو کہاں جائے جس کے پاس نہ وسائل نہ پیسہ نہ کوئی تگڑی سفارش تو وہ ظلم سہہ کہر بھی سزا پاتا ہے
    اللّہ ہمارے منصفوں کو ہدایت نصیب کرے

    تحریر: عتیق الرحمان
    @AtiqPTI_1

  • زبان اقوام کی پہچان . تحریر: مجاہد عباس خان تبسم

    زبان اقوام کی پہچان . تحریر: مجاہد عباس خان تبسم

    زندہ وطن میں روحِ ثقافت اسی سے ہے
    آزادیِ وطن کی علامت اسی سے ہے

    زبان کسی بھی قوم کی ثقافت کا بنیادی جزو ہے۔زبان ہی کے ذریعے انسان اپنے خیالات، جذبات اور احساسات دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ زبان کسی بھی قوم کی پہچان کی علامت ہوتی ہے۔ زبان ہر قوم کی قومی یکجہتی اور اتحاد کا مظہر ہوتی ہے۔ایسی زبان جو عوام کے درمیان اتحاد و اتفاق پیدا کرتی ہو اور اس قوم کے تمام لوگ اس زبان کو بذریعہ اظہار استعمال کرسکیں اسے قومی زبان کہتے ہیں۔
    زبانوں کا اختلاف دو قوموں کی ثقافت کو ایک دوسرے سے الگ کرتا ہے۔ بعض اوقات زبان کا تنازعہ دو مختلف ممالک کے قیام کا موجب بن جاتا ہے۔

    ہمارے ہاں تقسیم پاک و ہند ہو یا تقسیم مشرقی پاکستان و مغربی پاکستان اس تقسیم کی بنیادی وجہ زبان ہی تھی۔
    1867 میں بنارس میں ہونے والے اردو ہندی تنازعے کے بعد برصغیر کے مسلمانوں میں الگ وطن کے حصول کی خواہش اٹھی۔ سرسید احمد خان نے اسی تنازعے کے بعد دو قومی نظریہ کی بنیاد رکھی اور تمام دنیا کو باور کروایا کہ ہندوستان ایک برصغیر ہے ملک نہیں اور یہاں پر مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے اور مختلف زبانیں بولنے والے لوگ رہتے ہیں اور ان میں مسلمانوں کی الگ پہچان ہے۔زبان کا ہی تنازع قیام پاکستان کا سبب بنا۔

    کسی بھی ملک و قوم کی قومی یکجہتی کا انحصار اس ملک و قوم کی قومی زبان پر ہوتا ہے۔ قومی زبان ملت میں یگانگت کا سبب بنتی ہے۔ قوموں کی فلاح و بہبود اور زندہ ہونے کا ثبوت اس قوم کی زبان ہوتی ہے۔

    @mujahidabbasta1

  • امید کی کرن:  تحریر.عمرخان

    امید کی کرن: تحریر.عمرخان

    آگ تو ناجانے کب کی بُجھ گئی تھی۔ اب صرف راکھ بچی تھی اور میں اپنی سوچوں میں ڈوبا خواہشوں اور امیدوں کی تکمیل کا سوچتے اُس راکھ کو گورے جا رہا تھاجو دھیرے دھیرے یخ ٹھنڈی ہوئے جا رہی تھی۔
    میری سوچیں میرے دماغ پہ حاوی ہوئے جا رہی تھیں،
    آخر یہ اُمیدوں اور خواہشوں کی تکمیل کیونکر ممکن نہیں؟ کیونکر وقت کہ ساتھ ہر اُمید ختم ہوئے جاتی ہے؟ کیونکر میں خواہشوں کو تکمیل نہیں دے پا رہا؟لگتا تھا کہ اب کامیابی ممکن ہی نہیں۔ اب تو ناکامی مقدر ہے۔ لیکن یہ میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ راکھ جو میری آنکھوں کے سامنے بلکل بُھج چکی تھی‚ اس میں ایک ہلکی سی روشنی منور ہوئے جاتی ہے۔ یہ روشنی !!یہ روشنی کیسی ہے؟ ایک عجیب کشمکش میں مبتلا میں ایک اور سوچ سوچنے ہر مجبور ہوا کہ جیسے اس بُجھی ہوئی راکھ میں سے اس چھوٹی سی چنگاری نے اُمید نہ کھوتے ہوئے اپنے ہونے کا احساس مجھے دلایا تو میں انسان ہو کر نہ اُمید کیسے ہو سکتا ہوں ؟
    تب سمجھ آیا کہ انسان زندگی کہ کتنے ہی اندھیروں کا شکار کیوں نہ ہو ایک جگنو اُمید کا اسکے ہمدم ہوتا ہے جو ہر وقت اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ اندھیرا زیادہ دیر نہیں ہے خواہ وہ جگنو چھوٹا ہی ہوتا ہے لیکن اس سے جڑی امیدیں بہت بڑی ہوتی ہیں.
    انسان زندگی میں کتنا ہی بے سکون اورنہ اُمید کیوں نہ ہو اسکی زندگی مکمل امیدوں اور کاوشوں ہر انحصار کرتی ہے.
    امیدیں ایک ایسی ڈور ہیں جو انسان کو زندگی کی روشنیوں سے باندھے رکھتی ہیں. زندگی کی خوبصورتی انہی چھوٹی اور بڑی امیدوں کی تکمیل پر ہے. جب زندگی میں اُمید کی کوئی کرن جاگتی ہے تو اسے پورا کرنا جوش اور ولولہ انسان کو اس کے خالق کے قریب کر دیتا ہے بس عقل انسانی اپنی امیدوں کو پہچاننے سے قاصر ہے.
    اس بُجھی راکھ میں ایک چھوٹی سی چنگاری نے آگ مکمل نہ بُجھنے کا احساس دلا کر مجھے اس قابل بنایا کہ اپنی خواہشوں کی تکمیل کےلئیے اپنی اُمید کی کرن کو کبھی مرنے نہیں دینا اور یہی زندگی کی بھاگ دوڑ ہے۔

    ‎@U4_Umer_