Baaghi TV

Category: بچوں کی دنیا

  • موٹیویشن کی دنیا — ریاض علی خٹک

    موٹیویشن کی دنیا — ریاض علی خٹک

    دنیا کی سب سے خوبصورت موٹیویشن ماں اور باپ ہیں ۔ آپ اگر بچے ہیں تو موٹیویشن باہر کیوں ڈھونڈ رہے ہیں ؟

    ماں آپ کو بے لوث ان تھک محبت کرنا یہ محبت کر کے سکھاتی ہے۔ یہ آپ کو رشتہ نبھا کر رشتہ بنانا سکھاتی ہے۔ باپ اپنی زندگی آپ کیلئے گزار کر آپ کو زندگی گزارنا سکھاتا ہے۔ ان کی صبح شام آپ کیلئے ہوتی ہے آپ لیکن ان کی زندگی میں کہاں ہیں ؟

    آپ بڑے ہیں تو اولاد آپ کی موٹیویشن ہے۔ کیونکہ موٹیویشن کی ضرورت ہمیشہ کسی مقصد کیلئے ہوتی ہے ۔ اولاد کی پرورش سے بڑا اور اہم مقصد کیا ہوگا ؟ جینے کا مقصد اگر زندگی میں ہے تو آپ کہاں ہیں ؟ ہم اکثر جینے کی موٹیویشن باہر ڈھونڈتے ہیں ۔ باہر سے ایک دوسرے کو تسلی ترتیب و ترکیب تو مل سکتی ہے ۔ موٹیویشن نہیں ملتی۔

    اپنی موٹیویشن گم نہ کردیں اس کیلئے اپنی موٹیویشن کی دنیا میں خود کو دستیاب رکھیں ۔

  • بچوں کے مصنف؛ سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کا چوبیسواں  یوم شہادت

    بچوں کے مصنف؛ سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کا چوبیسواں یوم شہادت

    بچوں کے مصنف؛ سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کا چوبیسواں یوم شہادت

    بچوں کیلئے دلچسپ تحریریں لکھنے والے معروف مصنف اور سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کی شہادت کو آج 24 برس مکمل ہوچکے ہیں۔ حکیم محمد سعید کی ملک و قوم اور بچوں کیلئے تحریری و سماجی خدمات بھلائی نہیں جاسکتیں۔ سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید نے حکمت کے ساتھ ساتھ علومِ دینی، حفظِ قرآن اور بچوں کے ادب پر زبردست کام کیا۔ ان کی علمی و ادبی خدمات اور گورنرسندھ کے طور پر قومی خدمات تاریخ کا روشن باب بن گئیں۔

    معروف مصنف و محقق حکیم محمد سعید شہید کی تصانیف بڑی تعداد میں عوام الناس کیلئے وسیلۂ روزگار اور تحصیلِ علم کا ذریعہ ثابت ہو رہی ہیں۔ آپ ایک عالمی شہرت یافتہ معالج، مایہ ناز ادیب اور طبی محقق تھے جن کی کامیابیوں کی داستان طویل ہے۔ سابق گورنر حکیم محمد سعید 9 جنوری 1920ء کے روز بھارتی دارالحکومت دہلی میں پیدا ہوئے، ابھی عمر 2 برس ہی تھی کہ والد کی وفات نے آپ کی زندگی کو مشکلات سے دوچار کردیا، پھر بھی آپ نے 9 برس کی عمر میں قرآن حفظ کرکے دنیا کو حیران کردیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے کہا سبسڈیز نہیں دینی چاہئیں. وزیر خزانہ
    بنوں:سیکورٹی فورسزکا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن:ایک دہشت گرد ہلاک
    ڈاکٹرمحمد بن عبدالکریم الیسہ کےدورہ سےپاکستان اورسعودی عرب کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے: طاہراشرفی
    پاکستان آزاد ہوا تو آپ نوجوان تھے، جس کے بعد آپ نے سب کچھ بھارت میں چھوڑ کر پاکستان کو اپنا وطن بنانے کا فیصلہ کیا اور اہلِ خانہ کے ہمراہ 9 جنوری 1948ء کو شہرِ قائد آ پہنچے اور قائدِ اعظم محمد علی جناح کی زندگی میں انہیں دیکھا۔ حکیم محمد سعید نے 11 ستمبر 1948ء کو قائدِ اعظم کی وفات سے لے کر یومِ وفات تک ملک کی سیاسی و قومی تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کیا۔ آپ کو 17 اکتوبر 1998ء کے روز دہشت گردوں نے روزے کی حالت میں فائرنگ کرکے شہید کردیا تھا۔

  • بالی کی مسکراہٹ — اسامہ منور

    بالی کی مسکراہٹ — اسامہ منور

    کلاس میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے میں نے اُن بچوں کو کھڑا کیا جو آج بھی یونیفارم پہن کر نہیں آئے تھے. مختلف لائنوں سے سات بچے کھڑے ہوگئے اور ان بچوں میں آج پھر بالی(اقبال) بھی شامل تھا. میں سب بچوں کے پاس باری باری جا کر ان سے یونیفارم اور جوتوں کے متعلق پوچھ رہا تھا. سب بچے کوئی نہ کوئی جواب دے کر اپنے طور مجھے مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور میں انھیں بیٹھنے کا کہہ کر آگے بڑھ رہا تھا. مجھے غصہ نہیں آ رہا تھا بلکہ دکھ ہو رہا تھا کہ بچے روزانہ ہی کوئی نیا بہانہ بنا کر سکول آ جاتے ہیں، کسی کے پاس ٹائی نہیں تو کوئی بیلٹ کے بغیر ہے. کسی کی یونیفارم پریس نہیں ہوئی تو کوئی رنگ برنگی پینٹ اور شوخ جوتوں کے ساتھ آیا ہے. کسی کا منہ نہیں دھلا تو کوئی بالوں کو سلجھائے بغیر ہی سکول آ گیا ہے.

    یہ کام ان کے والدین کا تھا جو سکول میں اساتذہ کو کرنا پڑتا تھا اور اسی میں کلاس کا بہت سارا وقت ضائع ہو جاتا تھا.

    اگر والدین اور اساتذہ مل کر بچوں کی تربیت کا بیڑہ اُٹھا لیں تو پاکستان کا مستقبل سنور سکتا ہے.

    میں یہ باتیں سوچتا ہوا بالی کے پاس جا پہنچا.بالی حسب معمول سر جھکائے کھڑا گہری سوچوں میں گُم تھا. میں نے بالی سے یونیفارم کے متعلق پوچھا تو بالکل خاموش رہا. اس کا سر اُٹھا کر میری طرف نہ دیکھنا مجھے اور پریشان کر گیا. خیر میں نے تین دن کی وارننگ دی کہ سب بچے اپنی یونیفارم مکمل کریں تاکہ کلاس کے نظم و ضبط کو بہتر بنایا جا سکے.

    سکول کا وقت ختم ہوا تو میں گھر آ گیا. کچھ دنوں تک میرے چچازاد کی شادی تھی جس میں سب گھر والے ہی شامل ہو رہے تھے. بیگم نے مجھے بھی کہہ دیا کہ جمعہ والے دن شاپنگ کرنی ہے اور میں جانتا تھا کہ ہم تینوں کی شاپنگ پر ایک پوری تنخواہ لگ جانی ہے. شاید ہماری پوری قوم کو ہی فضول خرچی کی عادت پڑ گئی ہے. ایک ہزار کی جگہ دس ہزار کا خرچہ کرنا معمول بن گیا ہے.

    میں اپنی بیوی کے ساتھ شاپنگ کے متعلق باتیں کر رہا تھا جب میرا بیٹا کمرے میں داخل ہوا، اندر آتے ہی اس نے اپنے مخصوص انداز میں کہا! "بابا اس دفعہ شادی پر میں نے تھری پیس لینا ہے اور ساتھ وہ والے جوتے جو اس دن بازار میں دیکھے تھے…….. اور…….. اور ساتھ گھڑی بھی، عینک بھی اور پیسے بھی لینے ہیں”.

    میں اپنے بیٹے کی باتیں سن کر مسکرا دیا اور اس سے وعدہ کیا کہ جو وہ بولے گا لے دوں گا.

    رات کو سوتے سے پہلے میں نے اندازہ لگایا کہ تو پتا چلا کہ شادی کی شاپنگ پر چالیس ہزار لگ رہا ہے. یہی سوچتے سوچتے آنکھ لگ گئی.

    اگلے دن معمول کے مطابق سکول پہنچا. مسکراتے ہوئے کلاس میں داخل ہوا تو پوری کلاس کھڑی ہو گئی، حالانکہ میں نے سب کو اپنے لئے کھڑا ہونے سے منع کیا تھا. میں نے بیٹھنے کا کہا اور پھر یونیفارم کے لیے چیکنگ شروع کی اور یہ بات دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ پوری کلاس یونیفارم میں تھی مگر اس بات کا دکھ ہوا کہ بالی آج بھی یونیفارم کے بغیر تھا. میں اس پاس گیا اور خوب باتیں سنائیں. سخت سردی تھی مگر بالی کے پاس نا تو جرسی تھی اور نا ہی بند جوتا تھا.

    بالی میری باتیں سن کر بلک بلک کر رو دیا. میں نے اسے کلاس میں پہلی دفعہ یوں روتے دیکھا تھا. میرا دل پسیج گیا اور آنکھیں بھر آئیں. بوجھل دل سے لیکچر دیا اور پھر اگلی کلاس میں چل دیا.

    میں سارا دن بالی کے متعلق ہی سوچتا رہا. وہ میرے بیٹے کی عمر کا ہی تھا. چھٹی کے فوراً بعد میں چپکے سے بالی کے پیچھے ہو لیا کہ دیکھوں وہ کہاں جاتا ہے.

    سکول کے سامنے والی سڑک کو پار کر کے بالی سر جھکائے کچے رستے پر چل رہا تھا. اس کے قدم بوجھل لگ رہے تھے. اسے پیدل چلتے بیس منٹس ہو چکے تھے جب وہ رکا اور ایک حویلی کے اندر داخل ہو گیا. میں باہر انتظار کرتا رہا مگر طویل انتظار کے بعد بھی وہ باہر نہ نکلا تو مجھے تشویش ہوئی. کیونکہ یہ گھر نہیں لگ رہا تھا. میں گاڑی کھڑی کر کے گیٹ کے اندر داخل ہوا.

    تبھی مجھے اندر سے ایک بابا جی ملے اور آنے کی وجہ پوچھی تو میں نے انھیں بالی کے متعلق پوچھا.

    بزرگ نے مجھے دائیں طرف جا کر بالکل سیدھا جانے کا کہا.

    میں جلدی جلدی اس سمت ہو لیا. تبھی میرا دھیان اس طرف گیا جہاں پر کچھ بچے بھوسہ پیک کر رہے تھے، ان میں ایک بالی بھی تھا. جو اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے بھوسے کے بنڈل بنا رہا تھا. اسے دیکھتے ہی مجھے اپنا بیٹا یاد آ گیا اور میری آنکھیں بھیگ گئی.

    پوچھنے پر پتا چلا کہ بالی اکلوتا بھائی ہے، باپ کی وفات ہو چکی ہے اور ماں کچھ عرصہ سے بیمار ہے. بالی چوہدری کے ڈیرے پر کام کرتا ہے اور بدلے میں چوہدری ان کے چولہے کا خیال رکھتا ہے.

    یہ سن کر مجھ سے مزید وہاں رکا نہ گیا اور جلدی سے گاڑی میں آ بیٹھا. میرا اونچی اونچی رونے کو جی چاہ رہا تھا. ہمارے ارد گرد ایسے کتنے بچے موجود تھے مگر ہم بے حس ہو چکے تھے.

    گھر پہنچ کر میں نے بیگم سے پوچھا کہ اگر شادی پر نئے کپڑے نہ لیے جائیں تو گزارا ہو جائے گا؟؟

    بیگم نے معمولی سے استفسار کے بعد ہاں میں سر ہلا دیا اور کہا کہ ہمارے پاس بہت اچھی حالت میں کپڑے اور جوتے موجود ہیں. بیٹے کو بھی میں نے جیسے تیسے منا لیا اور پھر بینک چلا گیا. وہاں سے بازار جا کر کچھ نئے گرم کپڑے، جوتے یونیفارمز اور کھانے کے لیے ایک ماہ کا راشن خریدا اور بیگم بیٹے کو لے کر بالی کے گھر جا پہنچا. بالی مجھے اپنے گھر دیکھ کر ششدر رہ گیا. میری بیگم نے سارا سامان بالی کی اماں کے حوالے کیا اور ہر ماہ راشن پہنچانے کا وعدہ کر کے ہم لوگ واپس آ گئے.

    اگلے دن میں سکول پہنچا اور کلاس میں داخل ہوتے ہی میری نظر پہلی لائن میں بیٹھے بالی پر پڑی. جو نئی یونیفارم اور چمکدار جوتا پہنے ہوئے بیٹھا مسکرا رہا تھا، اور آج پہلے دن مجھے معلوم ہوا کہ استاد کا کام صرف کتابیں پڑھانا نہیں بلکہ بچوں کو پڑھنا بھی ہے

  • یونیورسٹیز میں وائس چانسلرز میرٹ پر لگائے ہیں اورسفارشی کلچر کو ختم کیا جارہا ہے۔ گورنر پنجاب

    یونیورسٹیز میں وائس چانسلرز میرٹ پر لگائے ہیں اورسفارشی کلچر کو ختم کیا جارہا ہے۔ گورنر پنجاب

    فیصل آباد(عثمان صادق)گورنر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا ہے کہ تاریخ میں محلات،بڑے عہدوں اور دولت رکھنے والے نہیں انسانیت کی خدمت کر نیوالے ہی زندہ رہتے ہیں، جذبہ اور محنت ہو تو دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا۔یونیورسٹیز میں وائس چانسلرز میرٹ پر لگائے ہیں اور یونیورسٹیز میں سفارشی کلچر کو جڑوں سے ختم کیا جارہا ہے۔وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں وفاقی اور پنجاب حکومت خواتین کو ہر شعبے میں آگے بڑ ھانے کے مواقعے فراہم کر نے کے لئے تمام اقدامات کو یقینی بنا رہی ہے۔وہ بدھ کے روز گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آباد کے پہلے کانووکیشن سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے جبکہ اس موقع پر چیئر مین اینٹی نارکوٹکس پنجاب حاجی رمضان پرویز،کمشنر زاہد حسین،وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ فاروق،کنٹرولر امتحانات پروفیسر رضوانہ تنویر رندھاوا،رجسٹرار یونیورسٹی آصف علی،بانی وائس چانسلر ڈاکٹر ذکر حسین،وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ڈاکٹر اقرار حسین سمیت دیگر بھی موجود تھے جبکہ گورنر پنجاب و یونیورسٹی چانسلر چوہدری محمدسرور نے مختلف شعبہ جات میں فارغ الحتصل ہونیوالی طالبات میں نمایاں کارکردگی دکھانے پر میڈلز بھی تقسیم کئے اور ان کو کامیابی پر مبارکباد بھی دی۔ تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کے دوران گورنر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا کہ میں سو فیصددعویٰ سے کہتاہوں کسی سفارش کے بغیر میں نے سو فیصد میرٹ پر پنجاب کی مختلف یونیورسٹیز کے 20سے زائد وائس چانسلرزلگائے ہیں اور ہمارا مشن یونیورسٹیز میں ہر سطح پر شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانا ہے جہاں بھی کوئی غیر قانونی کام ہوگا وہاں سخت ایکشن لیا جائے گا کیونکہ شفافیت اور میرٹ سے ہی ادارے مضبوط ہوتے ہیں یونیورسٹیز میں میرٹ لانے کی وجہ سے آج پنجاب کی یونیورسٹیز کا شمار دنیا کی بہتر ین پانچ سو یونیورسٹیز میں ہورہا ہے۔ گورنر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا کہ میں یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل ہونیوالی طالبات سے کہنا چاہتاہوں وہ جس بھی شعبے میں جائیں وہاں انسانیت کی خدمت کیلئے اپنے عہدے سے انصاف کریں کیونکہ تاریخ میں صرف انسانیت کی خدمت کر نیوالے ہی زندہ رہتے ہیں مجھے اس بات پر بھی فخر ہے کہ پاکستانی خواتین صرف اپنے ملک ہی نہیں دنیا میں بھی اپنے ملک کانام روشن کر رہی ہیں۔ معاشرے کے تمام طبقات کی ذمہ داری ہے کہ وہ خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے سمیت انکے دیگر حقوق کے لئے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ کسی بھی ملک میں جب تک خواتین مضبوط نہیں ہوتیں وہ ملک بھی مضبوط نہیں ہوتے موجودہ حکومت خواتین کی مضبوط ترقی اور خوشحالی پر یقین رکھتی ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ فاروق نے کہا کہ ہم یونیورسٹی میں اعلی اور معیادی تعلیم کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں اور آج گور رنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آبادہائر ایجوکیشن رینکنگ کے مطابق پنجاب میں پہلے اور پاکستان میں دوسرے نمبر پر ہے انشاء اللہ ہم مزید کامیابیوں کیساتھ آگے بڑھیں گے آج یونیورسٹی سے ڈگریاں لینے والی طالبات پر لازم ہے کہ وہ پاکستان کی ترقی اور استحکام کے ساتھ ساتھ خواتین کی مضبوطی اور تعلیم کو عام کر نے کے لیے بھی اپنا کردار ادا کر یں۔

  • بچوں کی پرورش تحریر: صداقت حسین علوی

    بچوں کی پرورش تحریر: صداقت حسین علوی

    آج ایک انتہائی اہم عنوان پر قلم کو جنبش دینے کی کوشش کی ہے جس کی وجہ سے معاشرہ میں بہت زیادہ مسائل درپیش ہیں وہ ہے بچوں کی تعلیم و تربیت۔

     دین اسلام کے مطابق بچوں کی بہترین تعلیم و تربیت والدین پر فرض کی گئی ہے آج ہم معاشرے میں دیکھتے ہیں کہ بچے والدین کا احترام نہیں کرتے اور آئے دن ویڈیو سوشل میڈیا کی زینت بن رہی ہیں جن میں بچے والدین کو مار پیٹ رہے ہوتے ہے اور بعض تو گھر سے نکال دیتے ہیں 

    آج اسکول کیا کالج کیا یونیورسٹیوں میں بھی لوگ غلط کاریوں میں مصروف ہیں لڑکیوں کی خریدوفروخت کا دھندا بھی عروج پر ہے سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ٹیچرز کا احترام نہیں کیا جاتا یہ سب کچھ اس وجہ سے ہو رہا ہے ہے کہ والدین اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں کوتاہی کرتے ہیں آج نہ صرف لڑکے بلکہ لڑکیاں بھی چرس شراب اور دیگر نشہ آور اشیاء کا استعمال کرتی نظر آ رہی ہیں بچے زناء کا ارتکاب کرتے نظر آ رہے ہیں موبائل جیسی لعنت نے اتنا بگاڑ پیدا کر دیا ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کو غیر اخلاقی تصاویر شیئر کر رہے ہیں جو اکثر اوقات لیک ہو جاتی ہیں جو نہ صرف انکی بلکہ انکے والدین کی بدنامی کا باعث بن رہی ہیں آج شادیوں میں مجرا پارٹیاں کروائی جا رہی ہیں جن میں بچوں کی پرورش پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے 

    یقیناً سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے دنیا نے ترقی بھی حاصل کی ہے لیکن اسی کے ساتھ ساتھ اس نے معاشرے میں بہت زیادہ نقصانات بھی پہنچایا ہے آج اگر پوری دنیا میں سروے کیا جائے تو سب سے زیادہ پاکستانی عوام غیر اخلاقی مواد انٹرنیٹ پر دیکھتے ہیں بچے اکثر اوقات موبائل میں غیر اخلاقی مواد رکھتے ہیں جس سے انکی ذہنی نشوونما خراب ہو رہی ہے اور انکو طرح طرح کی جسمانی بیماریوں کا مسئلہ درپیش آتا ہے  

    اس لئے اپنے بچوں کو برائیوں سے دور رکھنے کے لئے ان کی بہترین تعلیم و تربیت پر توجہ دینی چاہیے اور ان کی روزمرہ کی نقل و حرکت پر کڑی نگاہ رکھنی چاہیے 

    اسلام نے بچوں کی پرورش یعنی تعلیم و تربیت کے لیے کئی رہنما اصول وضع کیے ہیں جن پر عمل کرکے ہم معاشرے کو بہتر سے بہتر افراد مہیا کر سکتے ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انکی اہلبیت علیہ السّلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے بچوں کو بہترین تعلیم و تربیت دی ہمیں انکی سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنے بچوں کی پرورش کرنی چاہیے

    جب آپ اپنے بچوں کو دینی اور دنیاوی تعلیم دلوائیں گے تو یقیناً وہ نہ صرف والدین کا احترام کریں گے بلکہ خود بھی معاشرہ میں عزت دار تصور ہوں گے معاشرہ بھی انکی تعریف کرتا نظر آئے گا جب معاشرے میں آپ کے بچوں کی تعریف ہوگی تو یقیناً والدین کا بھی دل باغ باغ ہو گا 

    موجودہ حکومت نے اسی چیز کے پیش نظر نصاب کو اسلام کے مطابق بنایا ہے اور کوشش کی ہے کہ قرآن و حدیث کو بھی نصاب میں شامل کیا جائے پرائیویٹ اسکولز کو بھی حکومت نے پابند بنایا ہے کہ وہ قرآن و حدیث کو اپنے نصاب میں شامل کریں یقینا اس حکومت نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے کہ پورے پاکستان میں ایک نصاب ہوگا الحمدللہ

    اس لیے اسلام کے مطابق بچوں کی تعلیم و تربیت کو یقینی بنائیں تاکہ بہترین معاشرہ معرض وجود میں آئے جب بہترین معاشرہ پرورش پائے گا تو نا صرف خاندانی ترقی ہو گی بلکہ ملکی ترقی میں بھی نمایاں اضافہ ہو گا۔ 

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو بچوں کی بہترین پرورش کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثمہ آمین

    Twitter I’d: @AlviViews

  • اولاد کی پرورش میں والدین کا کردار تحریر۔نعیم الزمان

    اولاد کی پرورش میں والدین کا کردار تحریر۔نعیم الزمان

    اولاد اللہ تعالیٰ کی انسان کو عطاء کردہ نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے۔ اولاد کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ” یعنی اللہ تعالیٰ نے جو اولاد تمہارے لیے مقدر فرمائی ہے اس کو نکاح کے ذریعے تلاش کرو”۔

     حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک جتنے بھی انسان اس دنیا میں آئے اور اپنی زندگی بسر کرنے کے بعد اس دنیا فانی سے رخصت ہوئے۔مگر اللہ پاک نے ہر انسان کو اولاد کی صورت میں اپنے بندوں کی پرورش کی توفیق بخشی اور اللہ نے سب کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ سب اپنے پیچھے دین اور دنیا کا جانشین چھوڑ کر جائیں۔ اولاد کی پیدائش پر رب العالمین کے آگے سجدہ شکر ادا کرنا چاہیے۔ اور اولاد میں خیروبرکت کے لیے دعا مانگی چائیے۔ اولاد نہ ہونے کی صورت میں اللہ کے حضور نیک اور صالح اولاد کی دعا مانگنی چاہیے۔ 

    بچے قدرت کا انمول تحفہ ہوتے ہیں۔زندگی میں خوشیاں اولاد ہی کی بدولت ہوتی ہیں۔ اگر کسی گھر میں بچے نہ ہوں وہ گھر تمام تر نعمتوں کے باوجود خالی خالی سا لگتا ہے۔ اولاد کے لیے گھر پہلی درسگاہ ہوتا ہے۔ بچے اپنی ابتدائی عمر میں والدین سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔اور اپنے والدین کے نقشے قدم پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔اسی لیے بچوں کی پرورش کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیم و تربیت پر زیادہ سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ ذمہ داری خاص کر والدہ پر زیادہ عائد ہوتی ہے جس کو اولاد کی پہلی معلمہ کا درجہ دیا گیاہے۔ اکثر اوقات والدین بچوں کو مہنگے ترین سکولوں میں داخل کروا کر ان کی ضروریات پوری کرکے سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زمہ داری پوری کر لی ۔ لیکن یہ سب اس وقت ممکن ہوتا ہے جب آپ اور میں تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کو اچھی تربیت دینے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اولاد کی تربیت کے بارے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "ماں باپ کا اپنی اولاد کو سب سے بہترین عطیہ اچھی تربیت ہے” 

    بغیر تعلیم و تربیت کے لاڈ اور پیار سے اگر گھر کا ایک بچہ بگڑ جائے تو پورے گھر کا عیش و عشرت برباد ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسی لیے اچھی پرورش ،تعلیم کے ساتھ اچھی تربیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو ہر والدین پر قرض ہے۔ اولاد ہر والدین کو پیاری ہوتی ہے۔چاہے والدین غریب ہوں یا امیر۔ والدین اپنی اولاد کی پرورش اور تعلیم کے لیے ہر طرح کی قربانی سے دریغ نہیں کر تے ۔اس کے ساتھ ساتھ اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ اولاد کی تربیت پر زیادہ توجہ دی جائے ۔ بچوں کو ابتدا سے ہی اچھی عادتیں ڈالیں۔ ہر کام شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھ کر ابتدا کرنا گھر میں موجود بڑوں سے اخلاق سے پیش آنا گھر میں بغیر اجازت کس کمرے میں نہ جانے کی عادتیں ڈالیں۔ صفائی ستھرائی کا خیال رکھنے کی عادت ڈالیں۔بچوں کے مثبت کاموں پر حوصلہ افزائی کر یں ۔ بچوں کا مذاق اڑانے سے گریز کریں۔اور غلط کاموں پر فوری سرزنش کرنی چاہیے تا کہ بچوں میں غلط عادتیں پروان نہ چڑھ سکیں۔ والدین کو بچوں کے سامنے لڑنے جھگڑنے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ اس طرح کے اقدامات بچوں کی شخصیت کو متاثر کرتے ہیں۔ بچوں کو کسی بھی غلطی پر ڈانٹے سے پہلے اس کی تحقیقات کر لینی چاہیے۔ بلاوجہ ڈانٹنے پیٹنے سے پرہیز کریں کیونکہ اس سے بچے احساس کمتری ذہنی اور جسمانی  کمزوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور اس سے بچے کی پرورش اور پڑھائی پر گہرا اثر پڑتا ہے۔والدین بچوں پر تنقید سے گریز کریں جن بچوں پر زیادہ تنقید کی جاتی ہے وہ زندگی میں کو شش کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ بچوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اپنے رویے میں غصہ محسوس نہ ہونے دیں اور دوستانہ رویے سے پیش آئیں۔ بچوں کو کھیل کود اور سیر تفریح کے لیے بھی مناسب وقت دیں۔تا کہ وہ زیادہ تنگی کا شکار نہ ہو جائیں ۔ بحثیت والدین بچوں کو کبھی بھی مہمانوں اور باہر کے لوگوں کے سامنے برا بھلا کہنے سے گریز کریں۔ اس سے بچوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور وہ بہت ساری منفی سرگرمیوں کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ دوسروں کے سامنے بچوں کی خوبیاں بیان کرنی چاہیے جس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ اچھے کاموں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔کوئی بھی قوم اخلاق کے بغیر خاک کے ڈھیر کی ماند ہوتی ہے۔ اس لیے اخلاقیات پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ اخلاقی تربیت سیکھانے کا بہترین وقت بچپن کا  ہوتا ہے۔ اگر والدین اپنے بچوں کو ابتدا سے ہی اخلاقی اصولوں سے اچھی طرح روشناس کر دیں تو یقیناً بچوں کے بالغ ہونے کے بعد ان کے بد اخلاق ہونے اور جرائم کی دنیامیں بھٹکنے کے مواقع تقریباً ختم ہو جاتے ہیں۔موجودہ حالات کے پیش نظر بچوں کو بلاوجہ گھروں سے باہر نہ جانے دیں ۔اگر جانا ضروری بھی ہو تو کسی بڑے کا ساتھ ہونا لازم ہے۔ایک متوازن  پرورش اور تربیت ہی بچے میں خود اعتمادی پیدا کرتی ہے۔جو زندگی گزارنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے یہی دعا ہے ہم سب کو اپنے بچوں کو رزق حلال کھلانے ان کی اچھی پرورش اور تعلیم و تربیت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔اور ان تمام احباب کو اولاد نرینہ عطاء فرمائے جو اس نعمت سے محروم ہیں۔ اور بچوں کو اپنے والدین کا فرمانبردار بنائے۔ دنیا اور آخرت میں خیر کا باعث بنائے ۔آمین 

    @786Rajanaeem

  • بچوں کے بناؤ اور بگاڑ کا ذمہ دار کون؟  دوسرا حصہ:  تحریر: احسن ننکانوی 

    جی اسلام علیکم اس دن ہم نے بات کی تھی کہ بچے کے بناؤ اور بگاڑ کا اصل ذمہ دار کون ہوتا ہے۔

    جس میں بات کی تھی کہ والدین اور اساتذہ کرام کی کتنی کتنی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اور وہ کس حد تک بچے کے بناؤ اور بگاڑ کا ذمہ دار ہوتے ہیں۔

    آج ایک بہت ہی اہم پہلو پر روشنی ڈالیں گے جو کسی بھی بچے کے بناؤ یا بگاڑ میں بہت حد تک ذمہ دار ہوتا ہے۔ اور جیسے جیسے وہ اثرات مرتب کرتا ہے اسی طرح بچہ بگڑتا یا سنورتا ہے۔

    آپ نے علامہ اقبال کا وہ مشہور شعر تو سنا ہوگا جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ شاہین کا بچہ بلند پرواز کر تو سکتا تھا لیکن زاغوں اور کوؤں کی بری صحبت نے اسے بگاڑ دیا۔

    آپ میرے شعر سے سمجھ تو گئے ہوں گے کہ میں کس چیز کی بات کر رہا ہوں میرا اصل اشارہ اس طرف ہے کہ معاشرہ ماحول بچے پر بہت اثرات مرتب کرتا ہے۔

    کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو والدین اور اساتذہ کرام پر ساری ذمہ داری ڈال دیتے ہیں حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ معاشرتی ماحول بھی بچے پر مختلف قسم کے اثرات ڈالتا ہے۔

    الحمدللہ پاکستان میں تقریبا 95 فیصد والدین اور اساتذہ کرام ایسے ہیں جو اپنے بچوں کو ایک اچھا انسان بنتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔

    اور اپنی زمہ داری بہت ہی احسن طریقے سے سر انجام دیتے ہیں۔

    اس لئے بچوں کے بگڑنے اور سنورنے کی ساری ذمہ داری والدین اور اساتذہ پر ڈال دینا ایک بہت ہی ناانصافی اور زیادتی والی حرکت ہے۔

    والدین اور اساتذہ کرام کی ایک واضح اور غالب اکثریت ایسی بھی ہے جو اپنے بچوں کواسلامی اور روحانی طور پر ایک اچھا انسان بنتا ہوا دیکھنا چاہتی ہے۔ اور معاشرے میں کچھ کر گزرنے کی صلاحیتیں ان کے بچے میں ہوں۔

    لیکن ماحول اور معاشرے کے سامنے وہ اپنی جائز اور نیک آرزو کا خون ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔

    جب تک ایک صحت مند ماحول اور معاشرہ بچے کو نہیں ملے گا تو والدین یا اساتذہ کرام جتنی مرضی محنت کر لیں۔

    ان کی ساری محنت پر پانی پھر جاتا ہے جو بہت ساری آرزوئیں لے کر اپنے بچے کو ایک اسلامی طرز عمل اور اسلامی زندگی پر چلتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔

    بتائیے آج کا بگڑا ہوا ماحول اور معاشرہ ہمارے والدین کی نیک تمناؤں کے لیے کارساز ہے۔

    بتائے کیا ہمارے معاشرے میں کمر توڑ مہنگائی اور دوسری جو ماحول خراب کرنے والی چیزیں ہیں انھوں نے والدین اور بچوں کو ذہنی مریض بنا کے رکھ دیا ہے اور بہت زیادہ آبادی اس مسئلے سے دوچار ہیں۔

    معاشرہ اتنا بگڑ چکا ہے کہ والدین اور اساتذہ کرام جیسے مرضی اپنا ذمہ داری نبھائیں لیکن جب بچے باہر نکلتے ہیں تو فحش فلمیں اور گانے وغیرہ سنتے ہیں۔

    تو جو والدین اور اساتذہ کرام نے بچوں کو روحانی تعلیم دی ہوتی ہے تو اس پر پانی پھر جاتا ہے جب وہ باہر کے ماحول میں جاتے ہیں۔

    اس لئے ہم صرف یہ نہیں کہہ سکتی کہ والدین یا اساتذہ کرام سے صرف بچوں کے ذمہ دار ہوتے ہیں ماحول معاشرہ بھی ایک بہت بڑا ذمہ دار ہوتا ہے جس میں ہمارے بچے جوان ہوتے ہیں۔

    اب اسی سے نوے فیصد تک سلجھے ہوئے اور نیک گھرانے بھی اپنے بچوں کو سنبھال نہیں پا رہے۔

    نیک اور صالح والدین بھی بہت ساری کوشش کے باوجود پریشان ہیں۔

    سب سے پہلی ہر بندے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ماحول کو ٹھیک کرنے کا سوچے اور جو جو اس پر ذمہ داری عائد ہو اس کے مطابق وہ ماحول کو ٹھیک کرے اس طرح معاشرہ ٹھیک ہوگا اور لوگوں کی اچھی اچھی ترجیحات ہو اس طرح سے جب ماحول ٹھیک ہو گا تو ہمارے بچوں کی پرورش بھی اچھے ماحول میں ہوگی تو جب وہ جوان ہوں گے تو اس وقت تک معاشرہ بہت پاک صاف ہو چکا ہوگا۔

    اور آنے والی نسلیں ایک پاک صاف معاشرے میں پروان چڑھ سکیں گی ۔

    ‎@AhsanNankanvi

  • بچوں کے بناؤ اور بگاڑ کا ذمہ دار کون ؟  تحریر: احسن ننکانوی

    بچوں کے بناؤ اور بگاڑ کا ذمہ دار کون ؟  تحریر: احسن ننکانوی

    سوال یہ ہے کہ بچوں کے بناؤ یا بگاڑ کا اصل ذمہ دار کون ہوتا ہے۔ والدین اساتذہ کرام گھر کا ماحول یا پھر باہر کا معاشرہ۔ 

    آج کے نوجوان کا کردار انتہائی گھناؤنا اس لئے ہے نہ گھر والوں نے اس کے کردار پر تنقیدی نظر ڈالی اور نہ ہی سکول و کالج می میں اساتذہ دیکھتے ہیں۔ کہ ہمارے نوجوان کس ڈگر پر چل نکلے ہیں۔

    ہمارے نوجوان کا جو آج کل کردار ہے اس پر اقبال نے بھی کیا خوب کہا 

                لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی 

    بے شک آپ اس بات کو نہ ماننے کے لئے تیار ہوں برحال آپ کو یہ بات ماننا ہو گی ۔جب سے والدین اور اساتذہ کرام نے بچوں کی تربیت سے مکمل بے اعتنائی اور بے پرواہی برتی ہے ۔ تب سے اس معاشرے کا نوجوان علمی و اخلاقی دونوں پہلوں میں دیوالئے پن کا شکار ہو چکا ہے ۔

    اب میں یہ نہیں کہوں گا کہ سارا معاشرہ ہی ایسا ہے یا سارے والدین اور اساتذہ کرام ہی ایسے ہیں۔ 

    نہیں ایسا ہرگز نہیں لیکن بہت سارے ہیں بھی۔ آپ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کر سکتے کہ آج کل کے والدین اپنے بچوں کے ہمراہ بیٹھ کر ٹی وی پر بے ہودہ فلمیں دیکھتے ہیں۔

    اساتذہ خود اپنے شاگردوں کے ہمراہ سینما ہال میں موجود ہوتے ہیں  ۔ اور اس چیز کو کونفیڈینس کا نام دیا جاتا ہے ۔ 

    اس حقیقت پر کسی کو شبہ نہیں ہونا چاہیے۔کہ بچہ فطری طور پر نقال ہوتا ہے  ۔ وہ تو گھر میں اپنے والدین اور سکول و کالج میں اپنے اساتذہ کا خوب اچھی طرح مطالعہ کرتے ہیں۔ اور آپ نے یہ بھی ایک مشہور مثل سنی ہو گی کہ ‘خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے ‘ 

    جو عمل اور کردار والدین کا ہوگا بیٹا اور شاگرد بھی وہی کرے گا ۔ یہ سچ ہے ماں اگر نماز پڑھے گی تو بچہ اس کے ساتھ کھڑا ہوگا اس کی طرح ہی رکوع اور سجود کرے گا ۔ ماں کی طرح ہی دعا کے لئے اپنے ننھے منے ہاتھ اٹھا دے گا ۔

    ہاں اگر ماں ایسا نہ کرتی ہو۔ اگر ماں فلمیں اور ڈرامہ پسند کرتی ہے تو بچہ بھی پھر وہی چیز پسند کرے گا ۔ 

    اگر باپ آوارہ اور اوباش لوگوں میں بیٹھے گا تو بیٹا بھی ویسے ہی دوست چنے گا ۔ ایسا ہی طریقہ اساتذہ کا اتا ہے ان کا ماحول دیکھ کر بچہ سیکھتا ہے ۔ بہر حال کلاس کا کمرہ اور گھر کا ماحول پہلی سٹیج ہے جہاں سے بچے کے بناؤ اور بگاڑ کے سفر کا آغاز ہوتا ہے  ۔ آج کا بچہ علامہ اقبال یا محمد علی جوہر تب بنے گا ۔ جب اس کی ماں اس کو

     لاالہ الااللہ کی لوری سنائے گی  ۔ 

    یہاں پر مجھے علامہ اقبال کا ایک شعر یاد آگیا 

    شکایت ہے یا رب مجھے  خدا وندان مکتب سے 

    سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا 

    بہر حال اساتذہ اور والدین پرندے کے دو پر ہیں۔ جب تک پرندے کے دونوں پر اپنی رفتار اور پرواز جاری نہیں رکھیں گے۔ دونوں اخلاق و کردار کا نمونہ پیش نہیں کریں گے ۔ تب تک پرندہ بلند پرواز شاہین کی مانند نہیں ہو گا ۔ اور اپنی منزل مقصود پر نہیں پہنچے گا ۔

    بہر حال میں اپنا مؤقف پھر دہراؤں گا ۔ کہ والدین اور اساتذہ کرام کو اپنا اپنا کام صحیح طور پر سرانجام دینا چاہیے۔ کیونکہ جب تک یہ دونوں بزرگ اپنا کام نہیں کریں گے ۔ تو معاشرے میں شاہین نہیں کرگس ہی پیدا ہوں ۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بچوں کے بناؤ اور بگاڑ کا ذمہ دار تو باہر کا ماحول اور معاشرہ ہوتا ہے ۔ ہاں اس میں وہ بھی کافی حد تک شامل ہے ۔ اس پر الگ سے کسی دن لکھا جائے گا ۔ انشاءاللہ 

     

    @AhsanNankanvi

  • والدین کی ذمہ داری تحریر : فرح بیگم

    والدین کی ذمہ داری تحریر : فرح بیگم

    بچے اپنے والدین کے انداز سے ہی متاثر ہوتے ہیں ۔اس طرح ہم لوگ بھی اپنے بچوں کی پرورش بھی اپنے ماں باپ کی طرح کرتے ہیں ۔ بچوں کی پرورش میں والدین کا بہت اہم کردار ہوتا ہے ۔ہمیں چاہیئے کہ ہمیں اچھے ماں باپ بننے کی کوشش کرنی چاہیئے ۔اس سے معاشرے میں نمایاں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔ کیونکہ جیسے والدین تربیت دیں گے بچے اسی طرح ماحول کو اپنائیں گے ،اسی طرح کی سوسائٹی کو اپنائیں گے ۔
    آپ لوگ اس بات سے اتفاق کرتے ہونگے کے ہم سب اپنے بچوں سے بہت پیار کرتے اور ان کو آزادی بھی دیتے ہیں کہ وہ اپنی من چاہے چیزیں کریں، پر ایک وقت آتا ہے کہ ہم اس حد کو پار کر دیتے ہیں اور پھر ہاتھ پے ہاتھ دھرے بیٹھ جاتے ہیں ۔اور اس وقت سمجھ نہیں آتا کے کیا جائے ۔ جو کے سراسر غلط ہے ۔ہمیں اپنے بچوں کو ایک حد تک پیار، آزادی اور لاڈ دینا چاہیئے کیونکہ یہی پیار اور لاڈ بچے کو بگھاڑ بھی دیتا اور کھبی کھبی کھبی سنوار بھی دیتا ہے ۔ اور ان کی حدود کا تعین خود ماں باپ کو ہی کرنا چاہیئے ۔اب آپ کے ذہن میں سوال آئےگا کے "پیار کی حد کا تعین کیسے کیا جائے؟” تو جواب یہ ہے کے آپکو اپنا کردار بہتر کرنا ہوگا کیونکہ بچے اپنے والدین سے ہی سیکھتے ہیں ۔ تو پھر جیسا والدین کا سلوک ،اخلاق اور رہن سہن ہو گا تو بچے وہی سیکھیں گے اور اپنائیں گے ۔
    کچھ عرصہ پہلے جاپان میں ایک سروے کیا گیا اور کچھ لوگو کے انٹرویو لیے گے تو اس سروے کے مطابق والدین اور بچوں میں رابطہ بہت کم ہے ۔ اور والدین کا رویہ بچوں کے لیے بہت نرم بھی ہے ۔ ساتھ ہی سروے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک چوتھائی نے تسلیم کیا ہے کہ ان کا برتاؤ بچوں کو لے کر بہت سخت ہے ۔ یہ بات صرف مشرقی ممالک تک ہی
    محدود نہیں ہے ۔اس وجہہ سے بچوں اور والدین میں دوستی کا رشتہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔
    والدین کو یہ بھی چاہیئے کہ بچوں کی پرورش کے ساتھ ساتھ اپنی مرضی بھی ان پر مسلط نہ کرے۔ انکو بات بات پر نہ ٹوکا کریں ۔ انکے ہر موڈ کو تسلم کریں۔ ہمیں اپنے بچوں کے تمام جذبات اور احساسات کو قبول کرنا چاہیئے تا کے جب ہم انکو غصہ کریں تو وہ پریشان نہ ہو اور اپنا دل چھوٹا نہ کریں۔ والدین کی یہ بھی کوشش ہوتی ہے کہ اسکا بچہ ہار وقت خوش رہے لیکن یہ بھی ممکن نہیں ہے کیونکہ ماہر نفسايات کے مطابق یہ ہے کہ آپ کا بچہ ہر وقت خوش نہیں رہ سکتا اس لئے والدین کا فرض ہے کہ بچے کے ہر موڈ کو قبول کرے اور اسکو مجبور نہ کرے کے وہ اسکی وجہ بتاۓ۔ کیونکہ اس سے انکا موڈ اور خراب ہو جائے گا اور یہ لازم ہے کہ وہ پھر اپنے ،والدین سے باتمیزی کریں۔
    آپ(والدین) اپنے بچے کا انسانی عکس ہوتے ہیں ۔ہم اپنے بچوں کے ساتھ جو بھی بتاؤ کرتے ہیں وہی بتاؤ انکی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔اگر والدین کچھ اپنے بچے کو سمجھنا چاھتے ہیں تو وہ ان کو ہنسی مزاق میں اس بات کا ذکر کریں اور سمجھیں۔ کوشش کریں جب ملیں ان سے تو ہمیشہ خوشی سے ملیں۔ لیکن اگر آپ کے بچے کا رویہ برا ہے اور وہ آپکو اپنے اس رویہ سے کچھ محسوس یا کچھ بتانا چاہتا ہے تو آپکو اصل مطلب تلاش کرنا چاہیئے پھر اسکو حل کرنے کے لیے انکی مدد کریں ۔

    Twittet ID: @iam_farha

  • سٹریٹ چائلڈز کا بے رنگ بچپن   تحریر: محمد امین 

    سٹریٹ چائلڈز کا بے رنگ بچپن تحریر: محمد امین 

    آپ نے اپنا بچپن خوشیوں بہاروں رنگینیوں میں گزارا ہو گا آج بھی بچپن کے وہ سہانے دن یاد آتے ہوں گے اور سوچتے ہونگے کاش  وہی بچپن وہ زندگی کے مزے دوبارہ آجائیں. لیکن آپکے پاس ہی ایک ایسی بستی ایسا معاشرہ ہے جہاں بچے تو ہوتے ہیں مگر انکا بچپن نہیں ہوتا. آپ نے تو بچپن کھلونوں سے کھیل کر کے گزارا ہو گا مگر انھیں اسی چھوٹی سی عمر میں حالات سے مجبور ہو کر سڑک پر کھلونوں اور کتابوں کی بجائے ہاتھ میں اوزار لیکر کام کرنے نکلنا پڑتا ہے. نہ تو ان کے سر پر چھت ہوتی ہے نہ ہی کوئی سہارا.ان کو پورے خاندان کی زمہ داریاں بچپن میں مل جاتی ہیں. انکے پاس رہنے کا کوئی ٹھکانہ ہوتا وہ اپنا سارا بچپن سڑک کی غلاظت میں گزار دیتے ہیں. ان بچوں کے لیے کوئی عید کوئی خوشی کوئی تہوار نہیں ہوتا. کتنا درد ہوتا ہو گا ان نونہال بچوں کو جب کھلینے کودنے کی عمر میں انکے ہاتھوں میں مشقت کے چھالے پڑ جاتے ہیں. 

    بچے کسی بھی ملک کا مستقبل اور اثاثہ ہوتے ہیں.لیکن ان بچوں کے ہسنے کھیلنے کے دنوں میں انکو کام پر لگا دیا جاتا ہے تاکہ گھر کا نظام چل سکے دو وقت کی روٹی نصیب ہو سکے.سکول میں جانے کی عمر میں ان معصوم پھولوں کو ہوٹلز, بسوں,چائے خانوں,مارکیٹوں, دکانوں یا ورک شاپس پر مشقت کےلیے لگایا جاتا ہے. آپ نے بےشمار گلشن کے پھولوں کو کچروں کے ڈھیر میں رُلتے دیکھا ہو گا. گلیوں میں بسنے والے بچوں کو کوئی سہارا نہیں دیتا. وہ خود کما کر اپنا پیٹ بھرتے ہیں اور اسی  سڑک پر سو کر زندگی بسر کرتے ہیں.کچھ غریب خاندان بچوں کو سڑکوں پر چھوڑ جاتے ہیں اور وہ معصوم بال بھیک مانگ کر اپنے خاندان کو پالتے ہیں اور خود زندگی سڑک پر گزار دیتے ہیں.

    اسٹریٹ چائلڈ ایک عالمی مسلہ بن چکا ہے ایک سروے کے مطابق دنیا بھر میں ان کی تعداد 150 ملین کے لگ بھگ ہے. لیکن اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے.اسٹریٹ چلڈرن ایک معاشرتی چیلنج ہے. انکے پھیلاو کی بنیادی وجوہات غربت,قحط,مہنگائی,شہرکاری بےروزگاری,حکومتی عدم توجہ ہے. یہ خونی معاشرہ ظالم سماج انھیں بھوک اور تنگ دستی کی وجہ سے کچل دیتا ہے.کیونکہ جینے کے لیے خوراک بھی اتنی ہی ضروری ہے جیسے پانی اور سانس. 

    دنیا کے دیگر ترقی پزیر ملکوں کی طرح پاکستان کو بھی اسٹریٹ چلڈرن  کا مسئلہ درپیش ہے. عالمی اداروں کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 33فیصد بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں، یہاں ایک کروڑ بیس لاکھ سے زیادہ بچے چائلڈ لیبر کے طور پر کام کررہے ہیں اور دن بدن اس میں اضافہ ہو رہا ہے. اسکی بڑی وجہ شہری آبادی میں مسلسل اضافہ اور آمدن کے وسائل میں مسلسل کمی ہے. بے روزگاری اور بےگھر افراد کی شرح پہلے ہی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہیں. اسی وجہ سے جب غریب خاندان غذائی قلت کا شکار ہوتے ہیں تو بال مزدوری اسٹریٹ چلڈرن جیسے چیزیں پنپنے لگتی ہیں.اور اس وقت یہ ایک المیہ بن چکا ہے معاشرے میں ایک ناسور کی طرح پھیل رہا ہے

    اس بے رحم معاشرے میں ان پھولوں کو بے شمار چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے. ان سے بچپن میں ہی سخت مشقت کروائی جاتی ہے معمولی باتوں پر تشدد کیا جاتا ہے جنسی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں. انکی تعلیم اور صحت کا خیال نہیں رکھا جاتا. طرح طرح کی بے رحمیوں ناانصافیوں,مظالم ,دکھ درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ان پھولوں مسل دیتے ہیں. کم عمری میں ہی غلط کاریوں میں لگا دیا جاتا ہے کیونکہ ان معصوم پھولوں کا نگہبان کوئی نہیں ہوتا.بس اوپر آسمان چھت اور سڑک انکا بستر ہے.یہ حالات کی چکی میں پس رہے ہوتے ہیں مگر کوئی انکو نہیں تھامتا نہ انکی فریاد سنتا ہے. 

    آخر میں اتنا کہ اب اگر اس لعنت کو ختم کرنا ہے تو حکومت کے ساتھ معاشرے کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے. اپنے آس پاس غریب خاندان کے بچوں کی کفالت کا زمہ اٹھانا چاہے یہ ہم پر فرض ہے. معاشرے پر لازم ہے کہ وہ ان بچوں سے مزدوری محنت مشقت کروانے کی بجائے انکی صحت تعلیم اور خوارک کے انکی سپورٹ کرے. اور ریاست تو ماں ہے اس ماں کے ہوتے ہوئے یہ پھول کیوں در بدر سڑکوں کچرے خانوں میں رُل رہے ہیں. اگر یہ معصوم پھول یوں ہی اجڑتے رہے تو یہ چمن بھی اجڑ جانا ہے.افسوس یہ کلیاں پھول کھلنے سے پہلے ہی مسل دی جاتی ہیں

    نظام بدلنے تک یہ درد بھی سہنا ہے

    مزدور کے بچے کو مزدور ہی رہنا ہے

    ‏Twitter Handle: @ameyynn