Baaghi TV

Category: بچوں کی دنیا

  • بچوں کے بناؤ اور بگاڑ کا ذمہ دار کون؟  دوسرا حصہ:  تحریر: احسن ننکانوی 

    ‏

    جی اسلام علیکم اس دن ہم نے بات کی تھی کہ بچے کے بناؤ اور بگاڑ کا اصل ذمہ دار کون ہوتا ہے۔

    جس میں بات کی تھی کہ والدین اور اساتذہ کرام کی کتنی کتنی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اور وہ کس حد تک بچے کے بناؤ اور بگاڑ کا ذمہ دار ہوتے ہیں۔

    آج ایک بہت ہی اہم پہلو پر روشنی ڈالیں گے جو کسی بھی بچے کے بناؤ یا بگاڑ میں بہت حد تک ذمہ دار ہوتا ہے۔ اور جیسے جیسے وہ اثرات مرتب کرتا ہے اسی طرح بچہ بگڑتا یا سنورتا ہے۔

    آپ نے علامہ اقبال کا وہ مشہور شعر تو سنا ہوگا جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ شاہین کا بچہ بلند پرواز کر تو سکتا تھا لیکن زاغوں اور کوؤں کی بری صحبت نے اسے بگاڑ دیا۔

    آپ میرے شعر سے سمجھ تو گئے ہوں گے کہ میں کس چیز کی بات کر رہا ہوں میرا اصل اشارہ اس طرف ہے کہ معاشرہ ماحول بچے پر بہت اثرات مرتب کرتا ہے۔

    کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو والدین اور اساتذہ کرام پر ساری ذمہ داری ڈال دیتے ہیں حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ معاشرتی ماحول بھی بچے پر مختلف قسم کے اثرات ڈالتا ہے۔

    الحمدللہ پاکستان میں تقریبا 95 فیصد والدین اور اساتذہ کرام ایسے ہیں جو اپنے بچوں کو ایک اچھا انسان بنتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔

    اور اپنی زمہ داری بہت ہی احسن طریقے سے سر انجام دیتے ہیں۔

    اس لئے بچوں کے بگڑنے اور سنورنے کی ساری ذمہ داری والدین اور اساتذہ پر ڈال دینا ایک بہت ہی ناانصافی اور زیادتی والی حرکت ہے۔

    والدین اور اساتذہ کرام کی ایک واضح اور غالب اکثریت ایسی بھی ہے جو اپنے بچوں کواسلامی اور روحانی طور پر ایک اچھا انسان بنتا ہوا دیکھنا چاہتی ہے۔ اور معاشرے میں کچھ کر گزرنے کی صلاحیتیں ان کے بچے میں ہوں۔

    لیکن ماحول اور معاشرے کے سامنے وہ اپنی جائز اور نیک آرزو کا خون ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔

    جب تک ایک صحت مند ماحول اور معاشرہ بچے کو نہیں ملے گا تو والدین یا اساتذہ کرام جتنی مرضی محنت کر لیں۔

    ان کی ساری محنت پر پانی پھر جاتا ہے جو بہت ساری آرزوئیں لے کر اپنے بچے کو ایک اسلامی طرز عمل اور اسلامی زندگی پر چلتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔

    بتائیے آج کا بگڑا ہوا ماحول اور معاشرہ ہمارے والدین کی نیک تمناؤں کے لیے کارساز ہے۔

    بتائے کیا ہمارے معاشرے میں کمر توڑ مہنگائی اور دوسری جو ماحول خراب کرنے والی چیزیں ہیں انھوں نے والدین اور بچوں کو ذہنی مریض بنا کے رکھ دیا ہے اور بہت زیادہ آبادی اس مسئلے سے دوچار ہیں۔

    معاشرہ اتنا بگڑ چکا ہے کہ والدین اور اساتذہ کرام جیسے مرضی اپنا ذمہ داری نبھائیں لیکن جب بچے باہر نکلتے ہیں تو فحش فلمیں اور گانے وغیرہ سنتے ہیں۔

    تو جو والدین اور اساتذہ کرام نے بچوں کو روحانی تعلیم دی ہوتی ہے تو اس پر پانی پھر جاتا ہے جب وہ باہر کے ماحول میں جاتے ہیں۔

    اس لئے ہم صرف یہ نہیں کہہ سکتی کہ والدین یا اساتذہ کرام سے صرف بچوں کے ذمہ دار ہوتے ہیں ماحول معاشرہ بھی ایک بہت بڑا ذمہ دار ہوتا ہے جس میں ہمارے بچے جوان ہوتے ہیں۔

    اب اسی سے نوے فیصد تک سلجھے ہوئے اور نیک گھرانے بھی اپنے بچوں کو سنبھال نہیں پا رہے۔

    نیک اور صالح والدین بھی بہت ساری کوشش کے باوجود پریشان ہیں۔

    سب سے پہلی ہر بندے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ماحول کو ٹھیک کرنے کا سوچے اور جو جو اس پر ذمہ داری عائد ہو اس کے مطابق وہ ماحول کو ٹھیک کرے اس طرح معاشرہ ٹھیک ہوگا اور لوگوں کی اچھی اچھی ترجیحات ہو اس طرح سے جب ماحول ٹھیک ہو گا تو ہمارے بچوں کی پرورش بھی اچھے ماحول میں ہوگی تو جب وہ جوان ہوں گے تو اس وقت تک معاشرہ بہت پاک صاف ہو چکا ہوگا۔

    اور آنے والی نسلیں ایک پاک صاف معاشرے میں پروان چڑھ سکیں گی ۔

    ‎@AhsanNankanvi

  • بچوں کے بناؤ اور بگاڑ کا ذمہ دار کون ؟  تحریر: احسن ننکانوی

    بچوں کے بناؤ اور بگاڑ کا ذمہ دار کون ؟  تحریر: احسن ننکانوی

    سوال یہ ہے کہ بچوں کے بناؤ یا بگاڑ کا اصل ذمہ دار کون ہوتا ہے۔ والدین اساتذہ کرام گھر کا ماحول یا پھر باہر کا معاشرہ۔ 

    آج کے نوجوان کا کردار انتہائی گھناؤنا اس لئے ہے نہ گھر والوں نے اس کے کردار پر تنقیدی نظر ڈالی اور نہ ہی سکول و کالج می میں اساتذہ دیکھتے ہیں۔ کہ ہمارے نوجوان کس ڈگر پر چل نکلے ہیں۔

    ہمارے نوجوان کا جو آج کل کردار ہے اس پر اقبال نے بھی کیا خوب کہا 

                لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی 

    بے شک آپ اس بات کو نہ ماننے کے لئے تیار ہوں برحال آپ کو یہ بات ماننا ہو گی ۔جب سے والدین اور اساتذہ کرام نے بچوں کی تربیت سے مکمل بے اعتنائی اور بے پرواہی برتی ہے ۔ تب سے اس معاشرے کا نوجوان علمی و اخلاقی دونوں پہلوں میں دیوالئے پن کا شکار ہو چکا ہے ۔

    اب میں یہ نہیں کہوں گا کہ سارا معاشرہ ہی ایسا ہے یا سارے والدین اور اساتذہ کرام ہی ایسے ہیں۔ 

    نہیں ایسا ہرگز نہیں لیکن بہت سارے ہیں بھی۔ آپ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کر سکتے کہ آج کل کے والدین اپنے بچوں کے ہمراہ بیٹھ کر ٹی وی پر بے ہودہ فلمیں دیکھتے ہیں۔

    اساتذہ خود اپنے شاگردوں کے ہمراہ سینما ہال میں موجود ہوتے ہیں  ۔ اور اس چیز کو کونفیڈینس کا نام دیا جاتا ہے ۔ 

    اس حقیقت پر کسی کو شبہ نہیں ہونا چاہیے۔کہ بچہ فطری طور پر نقال ہوتا ہے  ۔ وہ تو گھر میں اپنے والدین اور سکول و کالج میں اپنے اساتذہ کا خوب اچھی طرح مطالعہ کرتے ہیں۔ اور آپ نے یہ بھی ایک مشہور مثل سنی ہو گی کہ ‘خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے ‘ 

    جو عمل اور کردار والدین کا ہوگا بیٹا اور شاگرد بھی وہی کرے گا ۔ یہ سچ ہے ماں اگر نماز پڑھے گی تو بچہ اس کے ساتھ کھڑا ہوگا اس کی طرح ہی رکوع اور سجود کرے گا ۔ ماں کی طرح ہی دعا کے لئے اپنے ننھے منے ہاتھ اٹھا دے گا ۔

    ہاں اگر ماں ایسا نہ کرتی ہو۔ اگر ماں فلمیں اور ڈرامہ پسند کرتی ہے تو بچہ بھی پھر وہی چیز پسند کرے گا ۔ 

    اگر باپ آوارہ اور اوباش لوگوں میں بیٹھے گا تو بیٹا بھی ویسے ہی دوست چنے گا ۔ ایسا ہی طریقہ اساتذہ کا اتا ہے ان کا ماحول دیکھ کر بچہ سیکھتا ہے ۔ بہر حال کلاس کا کمرہ اور گھر کا ماحول پہلی سٹیج ہے جہاں سے بچے کے بناؤ اور بگاڑ کے سفر کا آغاز ہوتا ہے  ۔ آج کا بچہ علامہ اقبال یا محمد علی جوہر تب بنے گا ۔ جب اس کی ماں اس کو

     لاالہ الااللہ کی لوری سنائے گی  ۔ 

    یہاں پر مجھے علامہ اقبال کا ایک شعر یاد آگیا 

    شکایت ہے یا رب مجھے  خدا وندان مکتب سے 

    سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا 

    بہر حال اساتذہ اور والدین پرندے کے دو پر ہیں۔ جب تک پرندے کے دونوں پر اپنی رفتار اور پرواز جاری نہیں رکھیں گے۔ دونوں اخلاق و کردار کا نمونہ پیش نہیں کریں گے ۔ تب تک پرندہ بلند پرواز شاہین کی مانند نہیں ہو گا ۔ اور اپنی منزل مقصود پر نہیں پہنچے گا ۔

    بہر حال میں اپنا مؤقف پھر دہراؤں گا ۔ کہ والدین اور اساتذہ کرام کو اپنا اپنا کام صحیح طور پر سرانجام دینا چاہیے۔ کیونکہ جب تک یہ دونوں بزرگ اپنا کام نہیں کریں گے ۔ تو معاشرے میں شاہین نہیں کرگس ہی پیدا ہوں ۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بچوں کے بناؤ اور بگاڑ کا ذمہ دار تو باہر کا ماحول اور معاشرہ ہوتا ہے ۔ ہاں اس میں وہ بھی کافی حد تک شامل ہے ۔ اس پر الگ سے کسی دن لکھا جائے گا ۔ انشاءاللہ 

     

    @AhsanNankanvi

  • والدین کی ذمہ داری تحریر : فرح بیگم

    والدین کی ذمہ داری تحریر : فرح بیگم

    بچے اپنے والدین کے انداز سے ہی متاثر ہوتے ہیں ۔اس طرح ہم لوگ بھی اپنے بچوں کی پرورش بھی اپنے ماں باپ کی طرح کرتے ہیں ۔ بچوں کی پرورش میں والدین کا بہت اہم کردار ہوتا ہے ۔ہمیں چاہیئے کہ ہمیں اچھے ماں باپ بننے کی کوشش کرنی چاہیئے ۔اس سے معاشرے میں نمایاں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔ کیونکہ جیسے والدین تربیت دیں گے بچے اسی طرح ماحول کو اپنائیں گے ،اسی طرح کی سوسائٹی کو اپنائیں گے ۔
    آپ لوگ اس بات سے اتفاق کرتے ہونگے کے ہم سب اپنے بچوں سے بہت پیار کرتے اور ان کو آزادی بھی دیتے ہیں کہ وہ اپنی من چاہے چیزیں کریں، پر ایک وقت آتا ہے کہ ہم اس حد کو پار کر دیتے ہیں اور پھر ہاتھ پے ہاتھ دھرے بیٹھ جاتے ہیں ۔اور اس وقت سمجھ نہیں آتا کے کیا جائے ۔ جو کے سراسر غلط ہے ۔ہمیں اپنے بچوں کو ایک حد تک پیار، آزادی اور لاڈ دینا چاہیئے کیونکہ یہی پیار اور لاڈ بچے کو بگھاڑ بھی دیتا اور کھبی کھبی کھبی سنوار بھی دیتا ہے ۔ اور ان کی حدود کا تعین خود ماں باپ کو ہی کرنا چاہیئے ۔اب آپ کے ذہن میں سوال آئےگا کے "پیار کی حد کا تعین کیسے کیا جائے؟” تو جواب یہ ہے کے آپکو اپنا کردار بہتر کرنا ہوگا کیونکہ بچے اپنے والدین سے ہی سیکھتے ہیں ۔ تو پھر جیسا والدین کا سلوک ،اخلاق اور رہن سہن ہو گا تو بچے وہی سیکھیں گے اور اپنائیں گے ۔
    کچھ عرصہ پہلے جاپان میں ایک سروے کیا گیا اور کچھ لوگو کے انٹرویو لیے گے تو اس سروے کے مطابق والدین اور بچوں میں رابطہ بہت کم ہے ۔ اور والدین کا رویہ بچوں کے لیے بہت نرم بھی ہے ۔ ساتھ ہی سروے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک چوتھائی نے تسلیم کیا ہے کہ ان کا برتاؤ بچوں کو لے کر بہت سخت ہے ۔ یہ بات صرف مشرقی ممالک تک ہی
    محدود نہیں ہے ۔اس وجہہ سے بچوں اور والدین میں دوستی کا رشتہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔
    والدین کو یہ بھی چاہیئے کہ بچوں کی پرورش کے ساتھ ساتھ اپنی مرضی بھی ان پر مسلط نہ کرے۔ انکو بات بات پر نہ ٹوکا کریں ۔ انکے ہر موڈ کو تسلم کریں۔ ہمیں اپنے بچوں کے تمام جذبات اور احساسات کو قبول کرنا چاہیئے تا کے جب ہم انکو غصہ کریں تو وہ پریشان نہ ہو اور اپنا دل چھوٹا نہ کریں۔ والدین کی یہ بھی کوشش ہوتی ہے کہ اسکا بچہ ہار وقت خوش رہے لیکن یہ بھی ممکن نہیں ہے کیونکہ ماہر نفسايات کے مطابق یہ ہے کہ آپ کا بچہ ہر وقت خوش نہیں رہ سکتا اس لئے والدین کا فرض ہے کہ بچے کے ہر موڈ کو قبول کرے اور اسکو مجبور نہ کرے کے وہ اسکی وجہ بتاۓ۔ کیونکہ اس سے انکا موڈ اور خراب ہو جائے گا اور یہ لازم ہے کہ وہ پھر اپنے ،والدین سے باتمیزی کریں۔
    آپ(والدین) اپنے بچے کا انسانی عکس ہوتے ہیں ۔ہم اپنے بچوں کے ساتھ جو بھی بتاؤ کرتے ہیں وہی بتاؤ انکی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔اگر والدین کچھ اپنے بچے کو سمجھنا چاھتے ہیں تو وہ ان کو ہنسی مزاق میں اس بات کا ذکر کریں اور سمجھیں۔ کوشش کریں جب ملیں ان سے تو ہمیشہ خوشی سے ملیں۔ لیکن اگر آپ کے بچے کا رویہ برا ہے اور وہ آپکو اپنے اس رویہ سے کچھ محسوس یا کچھ بتانا چاہتا ہے تو آپکو اصل مطلب تلاش کرنا چاہیئے پھر اسکو حل کرنے کے لیے انکی مدد کریں ۔

    Twittet ID: @iam_farha

  • سٹریٹ چائلڈز کا بے رنگ بچپن   تحریر: محمد امین 

    سٹریٹ چائلڈز کا بے رنگ بچپن تحریر: محمد امین 

    آپ نے اپنا بچپن خوشیوں بہاروں رنگینیوں میں گزارا ہو گا آج بھی بچپن کے وہ سہانے دن یاد آتے ہوں گے اور سوچتے ہونگے کاش  وہی بچپن وہ زندگی کے مزے دوبارہ آجائیں. لیکن آپکے پاس ہی ایک ایسی بستی ایسا معاشرہ ہے جہاں بچے تو ہوتے ہیں مگر انکا بچپن نہیں ہوتا. آپ نے تو بچپن کھلونوں سے کھیل کر کے گزارا ہو گا مگر انھیں اسی چھوٹی سی عمر میں حالات سے مجبور ہو کر سڑک پر کھلونوں اور کتابوں کی بجائے ہاتھ میں اوزار لیکر کام کرنے نکلنا پڑتا ہے. نہ تو ان کے سر پر چھت ہوتی ہے نہ ہی کوئی سہارا.ان کو پورے خاندان کی زمہ داریاں بچپن میں مل جاتی ہیں. انکے پاس رہنے کا کوئی ٹھکانہ ہوتا وہ اپنا سارا بچپن سڑک کی غلاظت میں گزار دیتے ہیں. ان بچوں کے لیے کوئی عید کوئی خوشی کوئی تہوار نہیں ہوتا. کتنا درد ہوتا ہو گا ان نونہال بچوں کو جب کھلینے کودنے کی عمر میں انکے ہاتھوں میں مشقت کے چھالے پڑ جاتے ہیں. 

    بچے کسی بھی ملک کا مستقبل اور اثاثہ ہوتے ہیں.لیکن ان بچوں کے ہسنے کھیلنے کے دنوں میں انکو کام پر لگا دیا جاتا ہے تاکہ گھر کا نظام چل سکے دو وقت کی روٹی نصیب ہو سکے.سکول میں جانے کی عمر میں ان معصوم پھولوں کو ہوٹلز, بسوں,چائے خانوں,مارکیٹوں, دکانوں یا ورک شاپس پر مشقت کےلیے لگایا جاتا ہے. آپ نے بےشمار گلشن کے پھولوں کو کچروں کے ڈھیر میں رُلتے دیکھا ہو گا. گلیوں میں بسنے والے بچوں کو کوئی سہارا نہیں دیتا. وہ خود کما کر اپنا پیٹ بھرتے ہیں اور اسی  سڑک پر سو کر زندگی بسر کرتے ہیں.کچھ غریب خاندان بچوں کو سڑکوں پر چھوڑ جاتے ہیں اور وہ معصوم بال بھیک مانگ کر اپنے خاندان کو پالتے ہیں اور خود زندگی سڑک پر گزار دیتے ہیں.

    اسٹریٹ چائلڈ ایک عالمی مسلہ بن چکا ہے ایک سروے کے مطابق دنیا بھر میں ان کی تعداد 150 ملین کے لگ بھگ ہے. لیکن اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے.اسٹریٹ چلڈرن ایک معاشرتی چیلنج ہے. انکے پھیلاو کی بنیادی وجوہات غربت,قحط,مہنگائی,شہرکاری بےروزگاری,حکومتی عدم توجہ ہے. یہ خونی معاشرہ ظالم سماج انھیں بھوک اور تنگ دستی کی وجہ سے کچل دیتا ہے.کیونکہ جینے کے لیے خوراک بھی اتنی ہی ضروری ہے جیسے پانی اور سانس. 

    دنیا کے دیگر ترقی پزیر ملکوں کی طرح پاکستان کو بھی اسٹریٹ چلڈرن  کا مسئلہ درپیش ہے. عالمی اداروں کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 33فیصد بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں، یہاں ایک کروڑ بیس لاکھ سے زیادہ بچے چائلڈ لیبر کے طور پر کام کررہے ہیں اور دن بدن اس میں اضافہ ہو رہا ہے. اسکی بڑی وجہ شہری آبادی میں مسلسل اضافہ اور آمدن کے وسائل میں مسلسل کمی ہے. بے روزگاری اور بےگھر افراد کی شرح پہلے ہی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہیں. اسی وجہ سے جب غریب خاندان غذائی قلت کا شکار ہوتے ہیں تو بال مزدوری اسٹریٹ چلڈرن جیسے چیزیں پنپنے لگتی ہیں.اور اس وقت یہ ایک المیہ بن چکا ہے معاشرے میں ایک ناسور کی طرح پھیل رہا ہے

    اس بے رحم معاشرے میں ان پھولوں کو بے شمار چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے. ان سے بچپن میں ہی سخت مشقت کروائی جاتی ہے معمولی باتوں پر تشدد کیا جاتا ہے جنسی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں. انکی تعلیم اور صحت کا خیال نہیں رکھا جاتا. طرح طرح کی بے رحمیوں ناانصافیوں,مظالم ,دکھ درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ان پھولوں مسل دیتے ہیں. کم عمری میں ہی غلط کاریوں میں لگا دیا جاتا ہے کیونکہ ان معصوم پھولوں کا نگہبان کوئی نہیں ہوتا.بس اوپر آسمان چھت اور سڑک انکا بستر ہے.یہ حالات کی چکی میں پس رہے ہوتے ہیں مگر کوئی انکو نہیں تھامتا نہ انکی فریاد سنتا ہے. 

    آخر میں اتنا کہ اب اگر اس لعنت کو ختم کرنا ہے تو حکومت کے ساتھ معاشرے کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے. اپنے آس پاس غریب خاندان کے بچوں کی کفالت کا زمہ اٹھانا چاہے یہ ہم پر فرض ہے. معاشرے پر لازم ہے کہ وہ ان بچوں سے مزدوری محنت مشقت کروانے کی بجائے انکی صحت تعلیم اور خوارک کے انکی سپورٹ کرے. اور ریاست تو ماں ہے اس ماں کے ہوتے ہوئے یہ پھول کیوں در بدر سڑکوں کچرے خانوں میں رُل رہے ہیں. اگر یہ معصوم پھول یوں ہی اجڑتے رہے تو یہ چمن بھی اجڑ جانا ہے.افسوس یہ کلیاں پھول کھلنے سے پہلے ہی مسل دی جاتی ہیں

    نظام بدلنے تک یہ درد بھی سہنا ہے

    مزدور کے بچے کو مزدور ہی رہنا ہے

    ‏Twitter Handle: @ameyynn

  • والدین و اولاد کے حقوق و فرائض تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    والدین و اولاد کے حقوق و فرائض تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    اولاد سے حق مانگتے ہیں مگر اس سے پہلے فرائض کا ادا کرنا نہایت اہم امر ہے۔جو آج والدین ہیں وہ کل خود اولاد تھے، جو آج اولاد ہیں وہ کل والدین ہونگے۔ سب کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ وقت کا چکر ہے، اگر حق کل چاہئیے تو آج حقوق ادا کریں اور اپنے فرائض کی بجا آوری میں کوتاہی مت کریں۔

    پہلی بات تو سمجھنے کی ہے کہ اولاد ہے کیا؟ کیا آپ ان پر ولی ہیں یا ان کے آقا؟ کیا آپ ان کے مالک ہیں یا رکھوالے؟ اولاد اللہ نے عطا فرمائی ہے، والدین کو کچھ اہم ذمہ داریاں دے کر ان کو ولی کیا۔باپ کو فقط دو فرائض دیے گئے۔
    1۔ بہترین نام رکھو۔
    2۔ بہترین تعلیم و تربیت کرو۔
    "بہترین” ہر شخص کی استطاعت اور معاشی و معاشرتی حیثیت سے مشروط ہے۔ اس ضمن میں پہلی بات تو ہے کہ انسان دوسرے انسان کا آقا نہ بنے اور اولاد کو ایک امانت مان کر انکی بہترین حفاظت کرے اور اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر انکی تربیت کا اہتمام کرے۔

    معاشرہ افراد سے مل کر بنتا ہے، اگر لوگ ایک دوسرے سے شاکی رہنے لگیں تو معاشرے میں بے حسی، ابتری اور ایک دوسرے سے تناؤ کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔

    آج کل ہمارا معاشرہ بھی اسی ابتری کا شکار ہے اور ہر شخص دوسرے سے نالاں نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے حقوق کا تو پتا ہے مگر ہم نے اپنے فرائض بُھلا دیے ہیں۔ ہم برملا یہ تو کہتے ہیں کہ ہمارے حقوق ادا نہیں کیے جاتے لیکن ہم خود اپنے فرائض سے پہلو تہی کرتے نظر آتے ہیں۔ گھر کی چار دیواری سے لے کر محلے اور پھر ملکی سطح پر ایک خود غرضی اور بے حسی کی فضا مسلط ہے۔

    افسوس! قربانی، ایثار، وفا اور محبت کے اسباق ہم نے فراموش کر دیے ہیں۔ گھر کی چار دیواری میں والدین اولاد سے اور اولاد والدین سے، بہن بھائیوں سے اور بھائی بہنوں سے، بیوی شوہر سے اور شوہر بیوی سے نالاں ہے۔ ہمسائے، ہمسائے سے، رشتے دار رشتے داروں سے، استاد شاگرد سے، شاگر د استاد سے، عوام حکم رانوں سے اور حکم ران عوام سے غرض ہر شخص دوسرے سے بے زار ہے۔ ساتھ رہنا، نہ چاہتے ہوئے بھی تعلق نبھانا محض مجبوری ہے۔
    والدین کہتے ہیں اولاد ہماری نافرمانی کرتی ہے ہماری نگہہ داشت نہیں کرتی، ہمارا کہنا نہیں مانتی، ہمارا حق ادا نہیں کرتی، ہم نے اپنی خواہشات کو پس پشت ڈال کر ان کی خواہشات پوری کیں مگر ان کے پاس ہمارے لیے وقت نہیں، انہیں انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، معاشرے میں باعزت روزگار کے لیے پیٹ کاٹ کر تعلیم دلائی مگر اب شادی بیاہ جیسے معاملات میں ہمیں چھوڑ کر دوسروں کو اولیت دیتی اور ہماری رائے کو کوئی اہمیت نہیں دیتی۔

    اولاد کا کہنا ہے ماں باپ ہم سے محبت نہیں کرتے، ہمیں پیدا کیا اچھی پرورش کی، تعلیم دلائی یہ ان کا فرض تھا مگر ہمارے والدین ہم پر اب ہر وقت احسان جتاتے ہیں، ہم جوان ہوچکے ہیں انہیں اپنی لڑائی جھگڑے سے فرصت نہیں، ماں باپ کی ہر وقت کی لڑائی کی وجہ سے ہمارا گھر آنے کو دل نہیں چاہتا، گھر میں سکون نام کو نہیں، ہمیں اپنی مرضی نہیں کرنے دیتے جب ہم نابالغ تھے تو ان کی ہر بات مانی اب ہم اپنی مرضی سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں مگر ہمیں تھوڑی سی بھی آزادی میسر نہیں، ہم کوئی کام اپنی مرضی سے نہیں کرسکتے، یہاں تک اپنی پسند سے مضمون کا انتخاب بھی نہیں کرسکتے۔ والدین ہمیں رشتے داروں اور دوستوں کے سامنے ڈانٹتے ہیں۔

    اصل حقیقت یہ ہے کہ دونوں اپنے حق کی بات تو کرتے ہیں مگر فرائض دونوں بُھول چکے ہیں۔ انسان کو زمانے کے مطابق تبدیل ہونا چاہیے۔ یہ بات بالکل سچ ہے جو کل فیشن تھا وہ آج تبدیل ہو چکا ہے، والدین کا فرض ہے کہ وہ بچوں سے محبّت کریں، ان کی اچھی تربیّت کریں، انہیں اچھی تعلیم دلائیں، جب وہ بالغ ہوجائیں تو ان کی شادی کرائیں، ان سے دوستانہ سلوک کریں، کچھ ان کی مانیں اور کچھ اپنی منوائیں تاکہ انہیں احساس ہوکہ والدین کے نزدیک ان کی اہمیت ہے۔ کسی کے سامنے انہیں ڈانٹیں نہیں، لڑائی جھگڑا نہ کریں۔ اکثر بچے والدین کی آپس کی ناچاقی سے اور دوسروں کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ سے احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اپنے بچوں کو پُرسکون ماحول دیں۔ زمانے کی تبدیلی کے مطابق جینے کا حق دیں تاکہ بچے معاشرے کے مفید رکن بن سکیں۔ پرانی روایات کوجدید دور سے ہم آہنگ کریں تا کہ بچے اسے اپنانے میں عار محسوس نہ کریں۔ برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔

    ایسے والدین جو اپنے فرائض کو اچھی طرح سے سر انجام دیتے ہیں وہی جنّت میں گھر بنانے کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ گالی گلوچ، مار پیٹ اور اپنے فرائض کو درست طریقے سے انجام نہ دینے والے والدین سے جنّت بھی روٹھ جاتی ہے۔ اسی طرح اولاد کا فرض ہے کہ وہ والدین کی خدمت کریں ان کی حکم عدولی نہ کریں اگر کسی بات پر اختلاف ہے تو آرام اور تحمّل سے اپنی بات سمجھائیں ان کو وقت دیں اور یہ باور کرائیں کہ والدین ان پر بوجھ نہیں بل کہ والدین کے دم سے ان کے گھر میں برکت ہے۔

    اﷲ تعالیٰ اپنے حقوق میں پہلوتہی تو معاف کر دے گا مگر اس انسان کو اُس وقت معافی نہیں جب تک وہ انسان اُسے معاف نہ کرے جس کا اُس نے دل دکھایا ہو۔ ہمیں اپنے فرائض اور حقوق کا ادراک ہونا چاہیے تاکہ ہم اسلامی معاشرہ تشکیل دے سکیں۔

  • اولاد کی تربیت کا آسان طریقہ  تحریر: خالد عمران خان

    اولاد کی تربیت کا آسان طریقہ تحریر: خالد عمران خان

    آجکل کے دور میں جب دنیا بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور دن با دن مصروفیت بڑھتی جا رہی ہے ایسے وقت میں ماں باپ اپنی مصروفیات کے ساتھ اپنی اولاد کی پرورش کے لیے پریشان ہیں بہت آسان طریقے کار کو اپنا کر آپ بچوں کی اچھی تربیت کر سکتے ہیں.

    بچوں کو دین کے بارے میں سیکھانا سب سے اہم ہے جب اذان سنتے ہی آپ ٹیلی ویژن بند کر دیتے ہیں اور فورا نماز کے لئے تّیاری کرتے ہیں تو عنقریب آپ اپنے اس طرز عمل سے اپنے بچوں کو نماز کا پابند بنانے کا طریقہ سیکھا دیں گے جب بچے ماں باپ کو نماز پڑھتا دیکھتے ہیں جب بچے اور ازان کا احترام کرتا دیکھتے ہیں تو بچے آپ سے سیکھتے ھیں وہ نماز کے بھی پابند بنتے ہیں اور ازان کے وقت ازان کو احترام سے سنتے ہیں.

    جب آپ گھر میں داخل ہوتے وقت سب سے پہلے سب کو سلام کرتے ہیں تو بچے بھی آپکی یہ عادت اپنا لیتے ہیں بچے آپ کے عادت کو خاص طور پر دیکھتے ہیں اور اور لازمی اپنے والدین کی عادات اپنانے کی کوشش کرتے ہیں.

    والدین خاص طور اس بات کا خیال رکھیں کے جس رویئے سے وہ اپنے بڑوں سے پیش آتے ہیں اسّی طرح جب آپ اپنے والدین کا احترام کر تے ہے تو اپنے بچوں کے سامنے اور ان کے ہاتھوں کو بوسا دیتے ہیں تو آپ کے بچے آپکے اس عمل سے ماں باپ کی عزت کرنا سیکھتے ہیں اور وہ آپ سے عزت آی پیش آتے ہیں.

    جب والدین یہ میاں بیوی مختلف کام کاج میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتے ہیں تو اس سے آپ کے بچے بھی سیکھتے ہیں اور ایک
    دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے تعاون کرنا سیکھتے ہیں اس طرح کی چیزیں وہ بچپن سے ہی سیکھ رہے ہوتے ہیں تو لازمی آپ ان باتوں کا خیال رکھیں اور اپنے رویے گھر میں خاص طور پر ٹھیک رکھیں۔بچوں کے سامنے خاص طور پر کسی قسم کے جھگڑے سے دور رکھیں ایسا کوئی عمل ان کے سامنے نہ کریں تاکہ ان میں بھی اس طرح کی عادت نہ پڑے۔

    جو ماں باپ نماز اور تلاوت قرآن کی پابند ہو تو اسے دیکھ کر اس کی بچے بھی نماز اور
    تلاوت قرآن کی پابند بنیں گے.

    جو ماں باپ گھر میں مُحبت کا ماحول رکھتے ہیں باہمی اتفاق و مفاہمت کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں، اپنی اولاد کے سامنے لڑائی جھگڑا اور بلند آواز سے بات نہیں کرتے تو ان کے بچے گھر سے ماں باپ سے بہن بھائیوں سے محبت کرنے والے، اپنے اِرد گرد کے لوگو کے ساتھ الفت و محبت اور باہمی اتفاق ومفاہمت سے زندگی گزارنے والے بن جاتے ہیں.

    7- جو والدین اپنے رشتے داروں سے نرمی برتے ہیں کر اپنے عزیز و اقارب کی عزت کرتے ہیں تو ان کی اولاد بھی اس سے نرمی اور حسن سلوک سیکھتی ہے۔

    جو والدین آپس میں با ہمی مشورے سے مختلف امور میں ایک دوسرے سے رائے لیتے ہیں اور بچوں سے بھی راۓ مشورے لیتے ہیں اور ان کے ساتھ بیٹھ کر گفت و شنید کر تے ہیں اور اپنے بچوں کی رائے کا بھی احترام کر تے ہے تو اس سے بھی ان کے بچوں میں بھی باہمی راۓ مشورے اور مثبت رویہ اپنانے کی عادت پیدا ہوتی ہے آسان اور چھوٹے چھوٹے سے طریقے اپنا کر آپ اپنے گھر کا ماحول بہتر کر سکتے ہیں.

    Twitter handle
    @KhalidImranK

  • بچوں میں کتب بینی کا شوق تحریر : محمد وقار

    بچوں میں کتب بینی کا شوق تحریر : محمد وقار

    دورِ حاضر میں بچوں میں کتب بینی کی عادت ہونا بہت ضروری ہے. بچوں میں مطالعے کا شوق نہ صرف تعلیمی میدان میں بلکہ اور بھی پہلوؤں سے کارآمد ہے. بچوں کو کتابیں پڑھانا تو اتنا مشکل کام نہیں جتنا ان میں مطالعے کا شوق اور دلچسپی ابھارنا مشکل ہے. کسی بھی عادت کی داغ بیل بچپن میں ڈال دیناضروری ہوتا ہے اور مطالعے کی عادت تو باالخصوص بچپن ہی سے پروان چڑھنی چاہیے. مطالعے سے بچے کی زبان و بیان میں نکھار آئے گا، جہاں بولے گا مدلل گفتگو کرے گا. تعلیمی میدان کے معرکے بھی آسانی سے سر کر لے گا.
    بچوں کے اندر کسی بھی قسم کی تبدیلی لانے کے لیے صرف نصیحت کرنا ہی کافی نہیں ہوتا، بچے ان نصائح کی عملی شکل ہمارے اندر دیکھنا چاہتے ہیں اور پھر وہ اسی بات کو نقل کرتے ہیں جو وہ بڑوں کو کرتا دیکھتے ہیں. لہٰذا بچوں کے سامنے بیٹھ کر روزانہ مطالعے کو اپنا معمول بنا لیں. بچے بھی ساتھ بیٹھ کر اگر ورق گردانی کرتے رہیں تو انہیں ڈانٹ ڈپٹ نہ کریں کیونکہ بچوں کو سکھانا ہے تو اس مرحلے کو بھی خوش اسلوبی سے طے کرنا ہوگا تا کہ بچے کتابوں سے متنفر نہ ہوں بلکہ پیار کریں.
    کتب بینی کا شوق پیدا کرنے کے لیے بچوں کے لیے رنگ برنگی تصاویر والی کہانیاں لے کر آئیں، پہلے خود انہیں تصاویر کی مدد سے دلچسپ انداز میں کہانی سنائیں، آسان الفاظ کا استعمال کریں اور بالکل بچے کی ذہنی اور تعلیمی سطح کو ذہن میں رکھیں. کہانی سنانے کے بعد چھوٹے چھوٹے سوالات کریں اور پھر آخر میں بچے سے وہ کہانی ان کے اسلوب میں سنیں.
    گھر میں چھوٹی سی لائبریری کا ہونا بہت ضروری ہے جہاں بچوں کی پہنچ آسان ہو. تا کہ بچے اپنی پسند کی کتابیں اٹھا کر پڑھ سکیں.
    ہم بچوں کو جس طرح ان کی پسند کے کپڑے اور کھلونے دلوانے لے جاتے ہیں اس طرح انہیں بازار لے جانا چاہئیے جہاں وہ اپنی پسند کی کتابیں خرید سکیں. اکثر کتب میلہ لگا کرتا ہے وہاں اپنے ہمراہ لے جائیں تا کہ بچوں کو کتابوں کی اہمیت اور قدر و قیمت کا اندازہ ہو.
    بچے کو کتابیں لا کر دے کر یا اس کے سامنے دو دن کتابیں پڑھ لینے سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ بچہ اب کتابوں کا شوقین ہو گیا ہے، اس ضمن میں صبر سے کام لینا انتہائی ضروری ہے کیونکہ جلد بازی کسی بھی طور اثر انگیز ثابت نہیں ہو سکتی.
    اگر بچہ کسی اچھی کتاب کا انتخاب کرے، اس کو خود ہی آپ کی غیر موجودگی میں پڑھ کر آپ کے آنے پر آپ سے ڈسکس کرے تو بھلے اس کا تبصرہ کیسا بھی ہو اس کی کھل کر تعریف کریں اسے سراہیں، حوصلہ افزائی کسی بھی انسان سے کوئی بھی کام کروا لیتی ہے.
    اگر ہم ترقی کی شاہراہ پہ قدم رکھنا چاہتے ہیں تو اس کا بہترین ذریعہ یہ ہے کہ لوگوں میں کتب بینی کی عادت ہو،کیوں کہ علم کی فصل قلم و کتابت کی جس زمین پر اگتی ہے اسے پڑھنے کا شوق رکھنے والے لوگ ہی سیراب کر سکتے ہیں. جس معاشرے میں مطالعے کا شوق ختم ہو جائے وہاں علم کی پیداوار بھی ختم ہو جاتی ہے.
    ‎@WaqarKhan104

  • میں اور میری امی جان تحریر ۔  فرزانہ نیازی

    میں اور میری امی جان تحریر ۔ فرزانہ نیازی

    ‏
    آج میں آپ کو اپنے بارے میں کچھ بتانا چاہتی ہوں زندگی میں میں نے جو چاہا وہ ملا خود کو بہت خوش نصیب بھی سمجھتی ہوں پر کہیں سے بدنصیب بھی ہوں شاید آپ کی آنکھ میں آنسو بھی آجائیں میرے الفاظ سن کر میں اپنی امی سے بہت محبت کرتی تھی مجھے لگتا تھا میں مر جاؤں گئی اگر امی مجھے ایک منٹ بھی مجھ سے دور رہی تو ہمیشہ اپنی امی سے یہ شکایت رہی کہ وہ مجھ سے زیادہ بھائی سے پیار کرتیں ہیں امی کے ساتھ سونے کی بات آئی تو دونوں کی ضد میں جیت بھائی کی ہوئی لیکن میرا بھائی میری جان تھا
    کھانا کھلانے کی باری آتی تو پھر سے وہی ضد،اور جیت پھر بھائی کی
    تب میں ناراض ہوتی تو امی مجھے ہمیشہ یہی کہتیں تھیں
    بیٹیاں ضد نہیں کرتی ہوتی وہ بات مانتی اچھی لگتی ہیں ایک دن مجھ سے وعدہ لیا اپنے بھائیوں کا خیال رکھو گئی
    اس وقت میں سوچتی تھی پتا نہیں امی ایسا کیوں بول رہی ہے مجھے سمجھ نہیں آتی تھی انکی باتیں بس یہی سوچتی تھی بات نہیں مانوں گی
    میں بہت ضدی ہوتی گئی کسی کی نہیں سنتی سب کی لاڈلی تھی امی میرے لیے بہت پریشان ہوتیں اور کہتیں تھیں
    اس لڑکی میں پارہ بھرا ہے نچلا بیٹھنا اسے آتا ہی نہیں
    پتا نہیں زندگی میں کیسے چلے گی
    وہ گھر میں لڑکیوں کو قرآن پاک پڑھایا کرتی تھی امی کہتی تھی
    میں ان کو پڑھاتی ہوں یہ میرے لیے صدقہ جاریہ بن جائیں گی
    میں نے کبھی نہیں سوچا کہ صدقہ جاریہ کیا ہوتا ہے
    مسجد سے کسی کے فوت ہو جانے کا اعلان سنتیں تو فورا کام چھوڑ چھاڑ قرآن پاک لے کر بیٹھ جاتیں میں پوچھتی
    اپکو کیا پتہ کون فوت ہوا ہےاور فوت ہونے والے کو کیا پتہ آپ کون ہیں
    تو کہتیں
    الله کو تو پتہ ہے نہ پھر جب میں کسی کو ایصال ثواب کروں گی تو ہی تو کوئی مجھے بھی کرے گا
    مجھے انکی باتوں کی کبھی سمجھ نہیں آئی میں صرف 8 سال کی تھی انہوں نے کبھی اپنے حق میں کچھ نہیں بولا
    خاموشی
    یہ انکا معمول رہا ہر مہینہ کے شروع میں چاول بنا کر مدرسہ کے بچوں کو کھلاتی تھی
    تو بہت پیار سے کہتیں
    یہ گناہوں سے پاک ہوتے ہیں الله کے باغ کے پھولاس لیے انہیں کھلاتی ہوں
    وہ ایسی ہی تھیں کبھی کسی سے شکایت نہیں کی ہر تکلیف خاموشی اور صبر سے برداشت کر لیتیں تھیں پر وہ بیمار رہنے لگی ایک دن میں سکول میں تھی واپس آئی تو امی نہیں تھی مجھے چھوڑ کر اپنے گھر نانو پاس چلی گئی جب کہ میں دادا جان دادو جان کی لاڈلی تھی میں ادھر کی رہتی تھی کبھی نہیں گئی نانو گھر امی وہاں 2 دن رہی 3 دن کی صبح وہ اللہ کے پاس چلی گئی جب ہمیں پتا چلا تو مجھے یقین ہی ہوا پہلے بس دل بند ہو رہا تھا سوچ سوچ کر پھر پتا نہیں کیا ہوا جب امی سامنے تھی تھی تو بلکل نہیں روئی بلکے بھائیوں کو سنبھال لیا بابا ہمیں دیکھ کر بہت روتے تھے نانو صدمے سے اپنے حوش و حواس کھو بیٹی وہ وقت آج بھی یاد ہے مجھے آج میں 22 سال کی ہو گئی ہوں پورے خاندان کو یہی لگتا میرے بغیر کچھ میں اپنے بھائیوں بابا کیلئے سب کچھ ہوں دل میں اس بات کا افسوس ہے امی مل نہیں پائی دعا ہے اللّٰہ پاک امی کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ ایک چھوٹی سی نصیحت ہے جو لوگ مجھے پڑھ رہے ہیں اپنی کی قدر کریں زندگی شاید آپ کی ہو پر آپکی ماں شاید بہت ہی کم رہا گئی ہو جتنا ہو سکے وقت دیا کریں انھیں ۔۔!!!
    ‎@Miss__niazi

  • ‏پاکستان میں غربت کی وجوہات اور غربت کا خاتمہ    تحریر: زاہد کبدانی

    ‏پاکستان میں غربت کی وجوہات اور غربت کا خاتمہ تحریر: زاہد کبدانی

    غربت پاکستان کا ایک سماجی مسئلہ ہے اس حقیقت کے ساتھ کہ اکثر لوگوں کے پاس محدود اقتصادی وسائل ہیں اور ان کا معیار زندگی کم ہے۔ عوام تعلیم ، صحت ، مواصلات اور اچھی خوراک میں جدید سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں۔ ایسے لوگ آمدنی کے وسائل کی کمی کی وجہ سے پریشان ہیں اور وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ متوازی زندگی گزارنے کے لیے اپنی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ مقابلے کے اس دور میں وہ اپنے حقوق سے محروم محسوس کرتے ہیں اور کمتریاں ان پر حاوی ہوتی ہیں۔ وہ کنبے کے ساتھ بیٹھنے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔ انہیں اچھے لوگوں کے ساتھ ازدواجی تعلقات نہیں دیے جاتے کیونکہ وہ غربت کی وجہ سے ناپسندیدہ ہیں۔ یہ لوگ زیادہ تر ناخواندہ ہوتے ہیں اور ان کی دوستی ایک ہی قسم کے لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کا معیار زندگی تعلیم اور معاشی وسائل کے بغیر نہیں بڑھتا۔ غربت خود ایک سماجی مسئلہ ہے کیونکہ غریب لوگ نئے رجحانات پر عمل کرنے سے قاصر ہیں اور وہ سماجی زندگی میں نئے طریقے اپنانے میں ناکام رہتے ہیں۔

    غربت ایک سماجی مسئلہ ہے کیونکہ وہ اپنی آمدنی کے وسائل بڑھانے میں ناکام رہے ہیں۔ غربت کو ایک سماجی مسئلہ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ لوگ آگے بڑھنے والے لوگوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور ترقی کے طریقے نہیں سمجھتے: وہ زیادہ تر مایوس ہوتے ہیں جب ان کی ضروریات زندگی نہیں ہوتی
    پوری. مایوسی میں وہ جارحانہ ہو جاتے ہیں اور ایسی حرکتیں کر سکتے ہیں جو کہ مجرمانہ نوعیت کی ہیں۔ دوسروں کی نفرت کی وجہ سے وہ رد عمل لیتے ہیں اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ وہ معاشی عدم مساوات کی وجہ سے امیر لوگوں کی گاڑیاں اور املاک تباہ کرتے ہیں۔ بعض اوقات امیر آدمی کا بچہ اغوا ہو جاتا ہے۔ کبھی اس کی گاڑی اٹھا لی جاتی ہے اور کبھی ”اس کے گھر میں ڈاکو ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ امیر آدمی پر قتل جیسے زیادہ گھناؤنے جرم کی طرف جاتا ہے۔ اس طرح سے. غربت ایک سماجی مسئلہ ہونے کی وجہ سے سنگین نوعیت کے دیگر سماجی مسائل پیدا کرتا ہے۔
    ایک معاشرتی مسئلہ کے طور پر غربت۔
    غربت ایک سماجی مسئلہ ہے کیونکہ یہ کئی سماجی مسائل کو جنم دیتا ہے جو کہ ذیل میں دیے گئے ہیں۔
    1. غربت ناخواندگی اور جہالت پیدا کرتی ہے۔
    بہت سے بچے اس مسئلے کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ ہر سال لاکھوں بچے معاشی مسائل کی وجہ سے تعلیم کے بجائے کمانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
    2۔ دہشت گردی بھی غربت کی پیداوار ہے۔
    دہشت گرد بہت سارے پیسے دے کر چھوٹے بچوں اور غریب نوجوانوں کو پھنساتے ہیں اور انہیں ملک کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دہشت گرد بننے کی تربیت دیتے ہیں۔
    3. جرائم اور معاشرتی برائیاں:
    جرائم اور معاشرتی برائیاں کے تحت پیدا ہوتی ہیں۔ غربت کی چھتری لوگ غربت کی وجہ سے جرائم کرتے ہیں۔ بہت سی سماجی برائیاں بھی اس کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔
    4: اقتصادی اور سماجی ترقی میں رکاوٹ:
    5: غربت ملک کی معاشی اور سماجی ترقی میں بھی رکاوٹ ہے جو پوری قوم کو پریشان کرتی ہے۔ تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ غربت ایک سماجی مسئلہ ہے اور یہ بھی ہے
    کہ، بہت سے دوسرے سماجی مسائل کی ماں ہے،

    غربت کی وجوہات۔
    غربت کی کئی وجوہات ہیں جو کہ ذیل میں دی گئی ہیں۔ جن میں. قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے کی کمی:
    ہم قدرتی ماحول سے معاشی وسائل حاصل کرنے سے قاصر ہیں جو خدا نے ہمیں دیا ہے۔ یہ زمین ، پہاڑ ، پہاڑ ، دریا اور آبشار ہیں جہاں سے ہم اپنی تکنیکی مہارت سے دولت حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم پہاڑوں سے بہنے والے پانی کو ڈیموں میں کنٹرول اور موڑ سکتے ہیں جہاں سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے اور نہروں کو آبپاشی کے لیے۔
    کم معیار کے کام سے بچیں:
    2: ہماری قوم کے لوگ محنت اور مشقت سے گریز کرتے ہیں۔ وہ ، سڑک پر اور سڑک پر کام کرنے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔ وہ مزدوری میں کام نہ کرکے بلکہ صاف ستھرا لباس پہن کر اپنے آپ کو قابل احترام سمجھتے ہیں۔ احترام اور وقار کا یہ تصور انہیں گھروں میں گھس جاتا ہے ، رہنے کے لیے گندی جگہیں اور ان کے رہائشی علاقوں میں صفائی ستھرائی کی سہولتوں سے محروم معیاری کھانا۔
    محنت کی کمی منشیات کی لت کا باعث بنتی ہے:
    3: ایسے لوگ جو محنت سے گریز کرتے ہیں غریب آدمی کی زندگی گزارتے ہیں اور زیادہ تر منشیات کے عادی ہوتے ہیں۔ وہ ہیروئین ، چرس اور زیادتی کی دوسری چیزوں میں گھس جاتے ہیں۔ ممنوعہ حرکتیں ان کی عادات میں داخل ہو جاتی ہیں اور وہ ناجائز سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتی ہیں ، جو زندگی میں مجرمانہ کارروائیوں کا باعث بنتی ہیں۔
    مخالف سماجی عادات:
    4: بے روزگار اور بے روزگار لوگ بھی ایسی عادتوں میں پڑ جاتے ہیں ، جو کہ سماج مخالف ہیں ، جیسے ’جوا ، شراب نوشی ، دھوکہ دہی ، چوری اور ڈکیتی۔ ایسے لوگ اپنے آپ کو ان اقسام کے ساتھیوں میں مطمئن محسوس کرتے ہیں۔ وہ مطمئن رہتے ہیں اور اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے گھر سے چیزیں چوری کرتے ہیں۔ تمباکو نوشی اور جھوٹ بولنا بری عادت ہے جو ایسے بے کار بالغوں کے عمومی رویے میں پیدا ہوتی ہے۔ وہ بیکار اور بیکار لوگ ہیں جو اچھے شہریوں سے نفرت کرتے ہیں۔

    ‎@Z_Kubdani

  • تعلیم و تربیت تحریر : راجہ حشام صادق

    تعلیم و تربیت تحریر : راجہ حشام صادق

    اس دنیا میں آنے والا انسان پہلے دن سے ہی عالم نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ انسان بغیر استاد کے کچھ سیکھ سکتا ہے۔دنیا میں آنے کے بعد بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود کہلایا گیا ہے ۔میرے نزدیک والدین ہی اپنے بچے کے بہترین استاد ہوتے ہیں۔ ان کی دی گئی تربیت بچے کی زندگی کو اسی راستے پر لاتی ہے۔ جس پر والدین نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا ہوتا ہے۔اور کچھ سبق زندگی سکھا دیتی ہے۔ تو کچھ استاد کی محنت کا نتیجہ ہوتا ہے۔

    استاد جس علم کی روشنی کو تقسیم کرتا ہے اس سے بہت سارے چراغ روشن ہوتے ہیں۔ علم ایک سے دوسرے میں منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور جاری رہےگا۔ قارئین علم بغیر عمل کے بے فائدہ ہے تعلیم آپ نے حاصل کر بھی لی اگر کسی چیز کے بارے میں تعلیم مکمل کرلیں اور اس کو یاد بھی کر لیا۔ لیکن اس پر خود عمل نہیں کرتے تو ایسے علم کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ علم پھیلانا دوسروں میں تقسیم کرنا صدقہ جاریہ ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں ہوتا کیا ہے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انسان کے اندر تکبر آ جاتا ہے۔جسے اپنے علم پر گھمنڈ ہو جو تعلیم یافتہ دوسروں کو خود سے کمتر سمجھے تو ایسے عالم سے وہ جاہل بہتر ہے جس کے اندر کسی چیز کا گھمنڈ نہیں ہوتا بڑی عاجزی کے ساتھ بات سنتا اور عمل بھی کرتا ہے۔

    ہونا تو یہ چاہیے کہ ایک علم والا اپنے بہترین اخلاق اور بہترین تعلیمات کے ذریعے علم و شعور کی بیداری کے لئے اپنا کردار ادا کرے تاکہ سننے پڑھنے والوں کے اندر مطالعہ کا ذوق و شوق پیدا ہو اور اس کو حاصل کرنے کے بعد عمل کرنے کی تربیت بھی دی جائے۔
    بہت سی ایسی شکایات سننے کو ملتی ہیں کہ نوجوان نسل بدتمیز ہے اور ان میں کوئی شعور نہیں ہے۔ لیکن یہاں پر یہ سوال بھی جنم لیتا ہے ۔

    کیا آج کے دور میں علم تقسیم کرنے والے خود باعمل ہیں ؟
    کیا ان کا مقصد دوسروں تک علم کو امانت سمجھ کر پہنچانا ہے۔ یا پھر حصول روزگار کے لئے اس شعبے کا انتخاب کیا جاتا ہے ۔اور ترجیحات میں صرف ذاتی فائدہ اٹھانا ہوتا ہے۔

    یاد رکھیں جہاں آج ایک نسل کو بد اخلاق تصور کیا جاتا ہے وہاں صرف آج کی پروان چڑھتی یہ نوجوان نسل قصوروار نہیں۔ بلکہ اس نسل کے والدین بھی اس کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے بغیر تحقیق کیئے اپنے بچوں کی تربیت کے لئے ایسا انتخاب کیا ہے ۔ ہمارے معاشرے میں بسنے والا ہر باشعور شخص قصوروار ہے ۔ان سب کے سامنے علم کو صرف بیچا گیا ہے۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج جہاں علم کی قیمت لگائی جاتی ہے علم کو بیچا جا رہا ہے۔ اس کے خریدار بھی اتنے ہی زیادہ ہیں جو جتنا طاقتور ہے وہ تعلیم کی ڈگریاں خرید لیتا ہے۔وہ لوگ جو دن رات محنت کرنے والوں بچوں کے حق پر ڈاکا ڈالتے ہیں۔ وہ کردار ذمہ دار ہیں جو بیچتے اور خریدتے ہیں سچ کہوں تو برا لگے گا حقیقت تو یہ ہے اب علم کی منڈی لگی ہوئی ہے۔ جو جتنا پیسے والا ہو گا اس کے پاس اتنی بڑی ڈگری ہو گی۔ اب ایسی تعلیم کا کیا فائدہ جس کو خرید تو لیا جائے لیکن بے عمل ہو اس منڈی میں جب علم کے ہی سودے ہوں گے تو قوم میں علامہ اقبال کے شاہین نہیں بلکہ ایک جاہل نسل پروان چڑھے گی۔

    پھرہو گا کیا یہ کتابیں کسی سڑک کے کنارے آپ کو ملیں گی یا کسی کباڑیے کے پاس چند کوڑیوں کے عوض بک رہی ہوں گی۔ جب تعلیم حاصل کرنے کا مقصد روزگار ہو پھر کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ ایک باشعور شہری ہیں اس ملک کے یا ایک پڑھے لکھے جاہل ہیں ۔

    اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @No1Hasham