Baaghi TV

Category: بچوں کی دنیا

  • دو بوند،تحریر:ایمن ریاض

    دو بوند،تحریر:ایمن ریاض

    دادا جان پریشانی سے اپنے کمرے میں ادھر سے ادھر چکر لگا رہے تھے۔ ان کے چہرے کی جھریاں اور پریشان نگاہیں اس بات کا پتہ دے رہی تھیں کہ ان کے ذہن میں بہت بڑا خدشہ پنپ رہا ہے۔ وہ بچوں کے بے باک اور لاپروا رویے سے شدید پریشان تھے اور سوچ رہے تھے کہ آخر کس طرح ان معصوموں کے دل و دماغ میں پانی جیسی نایاب اور عظیم نعمت کی اہمیت کو اتارا جائے۔
    کچھ ہی دیر میں کمرے کا دروازہ ٹھاہ کی زوردار آواز سے کھلا اور تین بھاگتے، دوڑتے بچے اندر داخل ہوئے۔

    السلام علیکم دادا جان! جلدی سے کہانی سنانا شروع کریں!
    بچوں نے پھولی سانسوں کے ساتھ السلام علیکم کہا اور ساتھ ہی اپنی دیرینہ فرمائش بھی پیش کر دی۔
    دادا جان نے بچوں کی طرف غور سے دیکھا، ان کے معصوم اور نادان چہروں کو تکا اور پھر کچھ سوچ کر ان کے بوڑھے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ پھیل گئی۔ انہوں نے بچوں کو اپنے قریب بٹھایا اور لمبا سانس لے کر کہانی کا آغاز کیا۔
    پیارے بچو! یہ کہانی کسی دور دراز دیس کی نہیں، بلکہ ہمارے ہی جیسے ایک گھرانے کی ہے… دادا جان نے دھیمی اور پراسرار آواز میں بولنا شروع کیا۔
    صبح ہوتے ہی اس نے روز کی طرح گاڑی دھونے اور نہانے کے نام پر پانی بہانا شروع کر دیا تھا۔ پائپ سے تیز رفتار پانی بہہ رہا تھا اور گلی میں کیچڑ اور پانی کے چھوٹے چھوٹے تالاب بن چکے تھے۔
    احمد! کتنی بار تم سے کہا ہے کہ پانی کا استعمال سوچ سمجھ کر کیا کرو۔ اگر ہم سب اسی طرح بے دریغ پانی بہاتے رہے تو بہت جلد ہم پانی کی بوند بوند کو ترس جائیں گے۔
    دادا جان نے ہمیشہ کی طرح آج پھر احمد کو سمجھانے کی کوشش کی، ان کے لہجے میں فکر اور التجا تھی۔
    اوہو دادا جان! جب وہ وقت آئے گا تب کی تب دیکھی جائے گی۔ ابھی تو آپ مجھے یوں ڈرانا چھوڑ دیں!” احمد نے پائپ کا رخ دوسری طرف کرتے ہوئے دادا جان کی بات کو ہوا میں اڑا دیا۔
    احمد کا لاپروا جواب سن کر دادا جان نے تاسف سے سر ہلایا، ان کی آنکھوں میں نمی تیر گئی اور وہ زیرِ لب استغفار کا ورد کرنے لگے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ نعمتوں کی ناشکری کا انجام کتنا ہولناک ہوتا ہے۔
    سال گزرتے گئے اور احمد کی لاپرواہی میں کوئی کمی نہ آئی۔ لیکن قدرت کا اپنا ایک نظام ہے۔ چند ہی سالوں میں اس علاقے کو بدترین خشک سالی نے گھیر لیا۔ بارشیں تھم گئیں، ندی نالے سوکھ گئے اور زمین کے نیچے سے پانی کی سطح مسلسل نیچے گرتی چلی گئی۔ جو کنویں اور بورنگ کل تک شاداب تھے، وہ اب گرد و غبار کے سوکھے گڑھے بن چکے تھے۔
    ایک دن ایسا بھی آیا کہ پینے کے پانی کا ایک ایک قطرہ سونے کے بھاؤ ملنے لگا۔
    پانی… پانی… دادا جان کی نحیف و نزار آواز نے یوسف کی سوچوں کے تسلسل کو توڑا اور وہ ماضی کے حسین اور شاداب دن یاد کرتا ہوا اچانک حال کی خوفناک حقیقت میں آ کھڑا ہوا۔
    یوسف بھاگ کر کچن کی طرف گیا۔ کچن کے ایک ایک برتن کو ٹٹولتے ہوئے وہ صرف دو گھونٹ پانی کی تلاش میں تھا، لیکن ہر مٹکا، ہر جگ اور ہر بوتل خالی پڑی تھی۔ نلکے سے نکلنے والی خشک ہوا اس کے بے بس وجود کا مذاق اڑا رہی تھی۔
    پانی نہ پا کر وہ الٹے قدموں دادا جان کے پاس واپس لوٹا اور ان کا سر اپنی گود میں رکھ کر اونچا اونچا رونے لگا۔ وہ تڑپ رہا تھا کہ کاش اس کے پاس صرف دو بوند پانی ہوتا جو وہ اپنے بسترِ مرگ پر پڑے دادا جان کے خشک حلق میں ٹپکا سکتا۔ لیکن حسرت اور پچھتاوے کے سوا وہاں کچھ نہ تھا۔
    پھر کیا ہوا دادا جان؟
    بچوں نے بے قراری اور خوف سے سوال کیا۔ ان کے ننھے چہروں پر کہانی کی دہشت صاف دکھائی دے رہی تھی۔

    دادا جان نے ایک گہری آہ بھری اور بولے:
    مسلسل قحط سالی کی وجہ سے گاؤں میں بہت سی اموات ہوئیں، جن میں ایک وہ بوڑھا دادا بھی شامل تھا جو پیاس کی شدت سے دم توڑ گیا… اور وہ احمد کوئی اور نہیں، بلکہ ماضی کا وہی لاپروا لڑکا تھا جس کی ناشکری نے اپنے ہی گھر کی خوشیاں نگل لیں۔
    کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ تینوں بچے سہمے ہوئے دادا جان کو دیکھ رہے تھے۔
    دادا جان نے بچوں کے سر پر ہاتھ پھیرا اور درد بھرے لہجے میں کہا:
    پیارے بچو! یہ بات ہمیشہ یاد رکھو کہ پانی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ یہ صرف زندگی گزارنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ خود زندگی ہے۔ اور قدر نہ کرنے پر اکثر نعمتیں چھین لی جاتی ہیں۔ جب تک پانی بہتا رہتا ہے ہمیں اس کی قدر نہیں ہوتی لیکن جس دن یہ رک جائے گا، اس دن انسان اپنا سب کچھ دے کر بھی پانی کا ایک قطرہ خرید نہیں سکے گا۔
    کہانی ختم ہو چکی تھی لیکن بچوں کے دائرہ فکر میں انقلاب آ چکا تھا۔ وہ تینوں خاموشی سے اٹھے۔ سب سے چھوٹے بچے نے فوراً جا کر واش روم کا وہ نلکا مضبوطی سے بند کیا جس سے ہلکی سی بوند ٹپک رہی تھی۔

    بچوں نے دادا جان کے گرد اپنے معصوم ہاتھ لپیٹ لیے اور عہد کیا:
    دادا جان! ہم آج کے بعد کبھی پانی کا ایک قطرہ بھی ضائع نہیں کریں گے۔ ہم اس نعمت کی حفاظت کریں گے۔ دادا جان کے چہرے پر اطمینان بخش مسکراہٹ پھیل گئی۔ ان کی آنکھوں میں شکرانے کے آنسو چمک رہے تھے، کیونکہ ان کی بات بچوں کے دلوں میں اتر چکی تھی اور آفت سے بچنے کا پہلا قدم اٹھایا جا چکا تھا۔

  • ختمِ نبوت ،تحریر:نیہا علی

    ختمِ نبوت ،تحریر:نیہا علی

    نیہان : السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ! عارئش
    آج تم اتنے خاموش کیوں ہو
    عارئش :وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
    نیہان ! آج ہمارے مدرسے میں ختمِ نبوت ﷺ کے موضوع پر بیان ہوا ہے،
    تو دل میں ایک سوال پیدا ہوا کہ ختمِ نبوت سے کیا مراد ہے؟
    نیہان: میں آپ کو بتاتا ہوں ختم نبوت کا مطلب کیا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔
    عارئش : کیا قرآنِ مجید میں بھی اس کی واضح دلیل موجود ہے
    نیہان جی ہاں! اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاحزاب میں ارشاد فرمایا:
    "مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ”
    ترجمہ : یعنی محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، بلکہ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔
    عارئش سبحان اللہ! اس آیت میں تو عقیدۂ ختم نبوت بالکل واضح ہے۔
    نیہان بالکل! اور رسول اللہ ﷺ نے بھی مختلف احادیث میں واضح فرمایا کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔
    عارئش :پھر ایک مسلمان کے لیے ختم نبوت پر ایمان رکھنا کتنا ضروری ہے؟
    نیہان : یہ ایمان کا بنیادی عقیدہ ہے۔ ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ دل سے یقین رکھے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔
    عارئش : اگر کوئی شخص آپ ﷺ کے بعد کسی نئے نبی کو مانے تو؟
    نیہان: ایسا عقیدہ قرآن و سنت کے صریح احکامات کے خلاف ہے۔ ہمیں ایسے باطل عقائد سے خود بھی بچنا چاہیے اور دوسروں کو بھی حکمت، علم اور اچھے اخلاق کے ساتھ صحیح عقیدہ سمجھانا چاہیے۔
    عارئش : ہمارے لیے ختم نبوت کی حفاظت کا بہترین طریقہ کیا ہے؟
    نیہان : سب سے پہلے اپنے عقیدے کو قرآن و سنت کی روشنی میں مضبوط کرنا چاہیے۔ سیرت طیبہ کا مطالعہ کرنا چاہیے، مستند علماء سے دین سیکھنا چاہیے اور ہر بات کو تحقیق کے بغیر آگے نہیں پھیلانا چاہیے۔
    عارئش : یعنی صرف جذبات کافی نہیں، علم بھی ضروری ہے؟
    نیہان: بالکل! محبت رسول ﷺ کا تقاضا یہ ہے کہ ہم آپ ﷺ کی تعلیمات کو سمجھیں، ان پر عمل کریں اور اپنی زندگی کو سنت کے مطابق بنائیں۔
    عارئش : واقعی! ختم نبوت صرف ایک عقیدہ نہیں بلکہ ہمارے ایمان کا نہایت اہم حصہ ہے۔
    نیہان: درست کہا ہمیں چاہیے کہ اپنے دلوں میں نبی کریم ﷺ کی محبت پیدا کریں، آپ ﷺ پر کثرت سے درود و سلام بھیجیں اور آپ ﷺ کی سنت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
    عارئش : آج کی گفتگو سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عقیدۂ ختمِ نبوت پر ثابت قدم رکھے اور نبی کریم ﷺ کی سچی محبت عطا فرمائے۔
    نیہان : آمین! اور ہمیں قرآن و سنت پر عمل کرنے کی توفیق بھی عطا فرمائے۔
    دونوں مل کر صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا-

  • اسکرین کی چمکتی دنیا بچوں کے بچپن پر خاموش حملہ،تحریر: دانش رحمان

    اسکرین کی چمکتی دنیا بچوں کے بچپن پر خاموش حملہ،تحریر: دانش رحمان

    اسکرین کی چمکتی دنیا بچوں کے بچپن پر ایک خاموش حملہ ہے آج کے دور میں موبائل فون ٹیبلیٹ ٹیلی ویژن اور ڈیجیٹل مواد بچوں کی معصومیت اور قدرتی نشوونما کو مسلسل نقصان پہنچا رہی ہے یہ دلکش دائرہ تعلیم تفریح اور رابطے کا وعدہ تو کرتا ہے مگر اس کی روشنی کے نیچے بچوں کے دماغی جسمانی جذباتی اور سماجی بڑھوتری پر گہرا اثر پڑ رہا ہے والدین کی مصروفیات اور سوشل میڈیا کی لت نے بچوں کو حقیقی دنیا سے دور کر کے مصنوعی دائرے میں قید کر دیا ہے یہاں حرکت کی جگہ بے حرکتی اپنے تخیل کی جگہ تیار کردہ مواد اور حقیقی رشتوں کی جگہ مصنوعی رابطے غالب ہیں یہ محض عادت نہیں بلکہ بچوں کی صحت اور مستقبل کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے ابتدائی سالوں میں بچوں کا دماغ قدرتی تجربات حقیقی کھیل اور آمنے سامنے کی بات چیت سے بہتر بڑھتا ہے مگر اسکرینوں کا زیادہ استعمال اس عمل کو روک رہا ہے اور دماغ میں نشے جیسی لت پیدا کر رہا ہے

    یہ مسئلہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو ویڈیو کالز کے علاوہ اسکرین استعمال نہیں کرنا چاہیے دو سے پانچ سال کے بچوں کے لیے ایک گھنٹے سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے بڑے بچوں کے لیے تفریحی استعمال دو گھنٹوں تک محدود رکھیں مگر پاکستان میں شہروں اور دیہاتوں کے بچے اس حد سے کہیں زیادہ وقت اسکرینوں پر گزار رہے ہیں مطالعات بتاتے ہیں کہ سکول جانے والے بچے روزانہ چار سے سات گھنٹے یا اس سے زیادہ ڈیوائسز پر وقت صرف کرتے ہیں تعطیلات میں یہ تعداد اور بڑھ جاتی ہے کورونا وبا کے وقت آن لائن کلاسوں نے اس رجحان کو تیز کیا اب بہت سے گھروں میں اسکرین بچوں کی دیکھ بھال کرنے والی بن چکی ہے اس وجہ سے بچے باہر کھیلنے دوڑنے اور حقیقی ماحول سے سیکھنے کے بجائے گھر کے اندر بیٹھے رہتے ہیں

    جسمانی نقصان اس حملے کا سب سے واضح پہلو ہے انسانی جسم حرکت کے لیے بنایا گیا ہے مگر اسکرینوں کی وجہ سے بچے گھنٹوں ایک جگہ بیٹھے رہتے ہیں اس سے موٹاپے کا خطرہ بڑھتا ہے زیادہ بیٹھنے اور غیر ضروری کھانے سے وزن بڑھتا ہے دل کی بیماریوں کا امکان بڑھتا ہے اور جسم کمزور ہوتا ہے آنکھوں کی صحت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے قریب کی نظر خشک آنکھیں اور آنکھوں کی تھکاوٹ عام ہو گئی ہے بڑے شہروں کے ڈاکٹر بتاتے ہیں کہ شہری بچوں میں قریب کی نظر تیزی سے بڑھ رہی ہے کیونکہ وہ قریبی فاصلے پر اسکرین دیکھتے رہتے ہیں اور کمرے میں روشنی مناسب نہیں ہوتی نیلی روشنی نیند کے ہارمون کو خراب کرتی ہے نتیجے میں بچے دیر سے سوتے ہیں نیند ٹوٹی پھوٹی رہتی ہے اور اگلے دن تھکاوٹ اور توجہ کی کمی ہوتی ہے ہاتھ پاؤں کی نشوونما جو دوڑنے چڑھنے اور حقیقی چیزوں سے کھیلنے سے ہوتی ہے اب کمزور پڑ رہی ہے بچوں کے ماہرین لکھائی میں مشکل توازن کی کمی اور ہم آہنگی کے مسائل والے بچوں کی تعداد میں اضافہ دیکھ رہے ہیں

    علمی اور تعلیمی اثرات بھی فکر انگیز ہیں اگرچہ کچھ مواد تعلیمی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے مگر زیادہ تر مواد توجہ بکھیرتا ہے اور گہری سوچ کم کرتا ہے بچوں کی ایک کام پر دیر تک توجہ دینے کی صلاحیت کم ہو رہی ہے پڑھنے کی برداشت گھٹ رہی ہے اور تخلیقی صلاحیتیں محدود ہوتی جا رہی ہیں انسانی بات چیت دماغی رابطے مضبوط کرتی ہے مگر اسکرینوں کا غیر فعال مواد زبان سیکھنے میں تاخیر پیدا کرتا ہے چھوٹے بچوں میں الفاظ سیکھنے اور بات کرنے میں سست روی دیکھی جا رہی ہے تعلیم کے میدان میں بھی اسکرینوں نے فرق پیدا کر دیا ہے اساتذہ کہتے ہیں کہ کلاس میں بچوں کی توجہ کم ہو گئی ہے روایتی تعلیم کے ساتھ اسکرینوں کا زیادہ انحصار بچوں کو حقیقی سوچنے اور مسائل حل کرنے کی مشق سے دور کر رہا ہے

    سماجی اور جذباتی نقصان سب سے گہرا ہے بچپن سماجی مہارتیں ہمدردی اور جذبات کنٹرول کرنے کا زمانہ ہوتا ہے آزادانہ کھیل بچوں کو بات چیت جھگڑا حل کرنے اور دوسروں کے ساتھ رہنے کی تربیت دیتا ہے مگر اسکرینوں نے ان مواقع کو کم کر دیا ہے سوشل میڈیا پر فلٹر والی تصاویر اور لائکس کی دوڑ بچوں میں موازنہ اور کم خود اعتمادی پیدا کر رہی ہے آن لائن دھمکیاں اور زہریلا مواد اضطراب اور اداسی بڑھا رہا ہے پاکستان میں ذہنی صحت کے ماہرین بتاتے ہیں کہ اسکرین کا زیادہ استعمال بچوں میں چڑچڑاپن الگ تھلگ رہنے اور جذباتی بے چینی بڑھا رہا ہے حقیقی دوستیاں کم ہو رہی ہیں جبکہ مجازی رابطوں نے ان کی جگہ لے لی ہے خاندانی وقت جیسے کھانے کی میز پر بات چیت بھی اسکرینوں کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے لڑکے گیمنگ کی طرف زیادہ جاتے ہیں یہ سب بچوں کی شخصیت کو کمزور بنا رہے ہیں اور انہیں زندگی کی حقیقی مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں کر رہے

    ثقافتی نقصان بھی بہت بڑا ہے پاکستان کی روایتی ثقافت میں بچپن پتنگ اڑانے گلیوں میں کرکٹ کھیلنے کہانیاں سننے اور گھریلو کاموں سے بھرا ہوتا تھا یہ سرگرمیاں تفریح کے ساتھ ساتھ اچھی اقدار اور برادری کا احساس بھی سکھاتی تھیں مگر اسکرینوں نے ان روایات کو کمزور کر دیا ہے بچے عالمی تیار کردہ مواد میں کھو جاتے ہیں جس سے مقامی زبان روایات اور اقدار متاثر ہو رہی ہیں بزرگوں کا احترام اور خاندانی رشتے کمزور پڑ رہے ہیں بچپن کی آزادانہ کھیلنے کی صلاحیت خطرے میں ہے اسکرینوں نے بچوں کو گھر کے اندر بند کر کے ان کی تخلیقی اور جسمانی طاقت محدود کر دی ہے

    ٹیکنالوجی بنانے والی کمپنیاں نشے جیسے فیچرز استعمال کرتی ہیں جیسے لامتناہی سکرولنگ اور خود بخود چلنے والا مواد یہ بچوں کی خود کنٹرول کی صلاحیت کم کرتے ہیں پاکستان میں قوانین موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد کمزور ہے آگاہی مہمات اور سخت قوانین کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کو برے مواد سے بچایا جا سکے

    اس مسئلے کا حل ممکن ہے اگر سب مل کر کوشش کریں والدین سب سے اہم ہیں گھر میں اسکرین سے پاک وقت اور جگہیں بنائیں جیسے کھانے کی میز سونے کا وقت اور صبح کے پہلے گھنٹے والدین خود نمونہ بنیں اور بچوں کے ساتھ پارک جانا کتابیں پڑھنا گھر میں کھیلنا اور باہر نکلنا شامل کریں سکولوں میں باہر کی تعلیم فنون لطیفہ کھیل اور تخلیقی کاموں کو بڑھاوا دیں اساتذہ کو اسکرین کے اثرات کی تربیت دیں حکومت عوامی آگاہی مہمات چلائے مضبوط قوانین بنائے اور کمیونٹی پارکس پر سرمایہ کاری کرے برادریوں مساجد اور محلے والوں کو اسکرین سے پاک پروگرام کہانیوں کے حلقے اور کھیلوں کی ٹیمیں بنانی چاہییں تاکہ بچے حقیقی ماحول میں واپس آ سکیں

    بچپن ایک مختصر دور ہے یہ حیرت تجسس اور خالص خوشی کا زمانہ ہے ایک بار گزر جائے تو واپس نہیں آتا اسکرینوں کی چمک بچوں کو حقیقی دنیا سے دور کر رہی ہے جہاں وہ آزادانہ کھیل سکتے ہیں تجربات حاصل کر سکتے ہیں اور مضبوط بنیادوں پر بڑھ سکتے ہیں والدین معاشرہ اور حکومت کو مل کر اس خاموش حملے کا مقابلہ کرنا چاہیے ٹیکنالوجی کو صرف ایک محدود حیثیت دیں اور اسے بچوں کی زندگی کا حکمران نہ بننے دیں پاکستان کا مستقبل صحت مند ذمہ دار تخلیقی اور مضبوط نسل پر منحصر ہے جو حقیقی تجربات سے سیکھے یہ فیصلہ کا وقت ہے اگر آج سنجیدہ اقدامات کریں تو کل کا بچپن محفوظ رہے گا ورنہ آنے والی نسلیں اس خاموش چوری کا شکار رہیں گی آئیے سب مل کر حقیقی دنیا کی روشنی منتخب کریں جہاں بچے کھل کر جی سکیں اور معاشرے کا قیمتی سرمایہ بنیں

  • بچوں کو سوشل میڈیا کے خطرات سے بچانے کا بہترین طریقہ

    بچوں کو سوشل میڈیا کے خطرات سے بچانے کا بہترین طریقہ

    دنیا بھر میں بچوں اور نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات اور خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں۔ کچھ حلقے اس بات کے حامی ہیں کہ نوجوانوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگائی جائے یا اس کی عمر کی حد بڑھا دی جائے، تاہم ایک ماہر تعلیم کا کہنا ہے کہ اصل حل پابندی نہیں بلکہ بچوں کو “تنقیدی سوچ” سکھانا ہے۔

    نیو زی لینڈ کی یونیورسٹی آف آکلینڈ کی سینئر لیکچرر اور نئی کتاب “Teaching Critical Thinking to Teenagers” کی مصنفہ ڈاکٹر ماری ڈیوس کے مطابق اگر بچوں کو چھوٹی عمر سے یہ سکھایا جائے کہ وہ آن لائن معلومات کو سوال کی نظر سے دیکھیں، تو وہ جھوٹی خبروں، فراڈ اور غلط معلومات سے بہتر طور پر بچ سکتے ہیں۔ڈاکٹر ڈیوس کے مطابق تنقیدی سوچ کا مطلب یہ ہے کہ انسان کسی بھی معلومات، خیال یا دعوے کو قبول کرنے سے پہلے اس کا تجزیہ کرے، سوال اٹھائے، اور ثبوت دیکھے۔ اس میں مختلف آرا کو سمجھنا اور یہ جانچنا شامل ہے کہ کون سا مؤقف زیادہ مضبوط ہے۔ان کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں سوشل میڈیا اور اس کے الگورتھمز کی وجہ سے نوجوان بغیر سوچے سمجھے معلومات قبول کرنے کے عادی ہو رہے ہیں، جو انہیں غلط معلومات اور آن لائن دھوکے کے خطرات سے دوچار کرتا ہے۔

    ڈاکٹر ڈیوس کے مطابق صرف سوشل میڈیا پر پابندی لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ جب بچے بڑے ہوں گے تو وہ بغیر تیاری کے سوشل میڈیا استعمال کریں گے۔ ان کے مطابق اصل ضرورت یہ ہے کہ بچوں میں خود اعتمادی اور سمجھ بوجھ پیدا کی جائے تاکہ وہ خود فیصلہ کر سکیں کہ کون سی معلومات درست ہے اور کون سی غلط۔وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ تنقیدی سوچ بچوں کی ذہنی صحت پر بھی مثبت اثر ڈال سکتی ہے، کیونکہ جب انسان کو حالات پر کنٹرول کا احساس ہو تو اس کی بے چینی کم ہو جاتی ہے۔

    ماہر تعلیم کے مطابق والدین بچوں کو تنقیدی سوچ سکھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وہ مشورہ دیتی ہیں کہ والدین بچوں کے ساتھ مل کر خبروں اور معلومات پر بات کریں، مثال کے طور پر یہ کہیں “یہ خبر دلچسپ لگتی ہے، آؤ ہم مل کر اس کے بارے میں مزید تحقیق کریں۔”اسی طرح والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں سے سوال کریں جیسے “تمہیں یہ بات کہاں سے ملی؟”“اس کے پیچھے کیا ثبوت ہے؟”اس طرح بچوں میں سوال کرنے اور سوچنے کی عادت پیدا ہوتی ہے۔

    ڈاکٹر ڈیوس کے مطابق نوجوانوں کو صرف پڑھنے لکھنے کی نہیں بلکہ بات چیت کرنے اور سوال کرنے کی بھی تربیت دینی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بچے اعلیٰ سطح کے سوال کرنا سیکھ جائیں جیسے “اس کی مثال کیا ہے؟”، تو وہ گہرائی میں جا کر سوچنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ماہر تعلیم کا کہنا ہے کہ مستقبل کی نوکریوں میں تخلیقی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت سب سے اہم ہوگی۔ ان کے مطابق اگر نوجوان صرف اے آئی یا ٹیکنالوجی پر انحصار کریں گے تو وہ خود سوچنے کی صلاحیت کھو سکتے ہیں، جو مستقبل میں ان کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ڈاکٹر ڈیوس یہ بھی بتاتی ہیں کہ 11 سے 12 سال کی عمر بچوں کے دماغ کی نشوونما کا اہم دور ہوتا ہے۔ اس وقت جو مہارتیں سیکھی جاتی ہیں وہ مضبوط ہو جاتی ہیں، جبکہ جن چیزوں کو استعمال نہ کیا جائے وہ آہستہ آہستہ کمزور ہو سکتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان سے بات کریں اور ان کی سنیں۔ اگرچہ نوجوان بعض اوقات دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن انہیں پھر بھی اپنے والدین کی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بچوں کے ساتھ مضبوط تعلق قائم ہو تو وہ مشکل حالات جیسے آن لائن دباؤ یا غلط اثرات کے بارے میں والدین سے کھل کر بات کر سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کے بجائے بچوں کو سوچنے، سوال کرنے اور معلومات کو پرکھنے کی صلاحیت دینا زیادہ مؤثر حل ہے۔ یہی مہارتیں انہیں نہ صرف آن لائن خطرات سے بچاتی ہیں بلکہ مستقبل میں بہتر اور کامیاب انسان بنانے میں بھی مدد دیتی ہیں۔

  • موٹیویشن کی دنیا — ریاض علی خٹک

    موٹیویشن کی دنیا — ریاض علی خٹک

    دنیا کی سب سے خوبصورت موٹیویشن ماں اور باپ ہیں ۔ آپ اگر بچے ہیں تو موٹیویشن باہر کیوں ڈھونڈ رہے ہیں ؟

    ماں آپ کو بے لوث ان تھک محبت کرنا یہ محبت کر کے سکھاتی ہے۔ یہ آپ کو رشتہ نبھا کر رشتہ بنانا سکھاتی ہے۔ باپ اپنی زندگی آپ کیلئے گزار کر آپ کو زندگی گزارنا سکھاتا ہے۔ ان کی صبح شام آپ کیلئے ہوتی ہے آپ لیکن ان کی زندگی میں کہاں ہیں ؟

    آپ بڑے ہیں تو اولاد آپ کی موٹیویشن ہے۔ کیونکہ موٹیویشن کی ضرورت ہمیشہ کسی مقصد کیلئے ہوتی ہے ۔ اولاد کی پرورش سے بڑا اور اہم مقصد کیا ہوگا ؟ جینے کا مقصد اگر زندگی میں ہے تو آپ کہاں ہیں ؟ ہم اکثر جینے کی موٹیویشن باہر ڈھونڈتے ہیں ۔ باہر سے ایک دوسرے کو تسلی ترتیب و ترکیب تو مل سکتی ہے ۔ موٹیویشن نہیں ملتی۔

    اپنی موٹیویشن گم نہ کردیں اس کیلئے اپنی موٹیویشن کی دنیا میں خود کو دستیاب رکھیں ۔

  • بچوں کے مصنف؛ سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کا چوبیسواں  یوم شہادت

    بچوں کے مصنف؛ سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کا چوبیسواں یوم شہادت

    بچوں کے مصنف؛ سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کا چوبیسواں یوم شہادت

    بچوں کیلئے دلچسپ تحریریں لکھنے والے معروف مصنف اور سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کی شہادت کو آج 24 برس مکمل ہوچکے ہیں۔ حکیم محمد سعید کی ملک و قوم اور بچوں کیلئے تحریری و سماجی خدمات بھلائی نہیں جاسکتیں۔ سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید نے حکمت کے ساتھ ساتھ علومِ دینی، حفظِ قرآن اور بچوں کے ادب پر زبردست کام کیا۔ ان کی علمی و ادبی خدمات اور گورنرسندھ کے طور پر قومی خدمات تاریخ کا روشن باب بن گئیں۔

    معروف مصنف و محقق حکیم محمد سعید شہید کی تصانیف بڑی تعداد میں عوام الناس کیلئے وسیلۂ روزگار اور تحصیلِ علم کا ذریعہ ثابت ہو رہی ہیں۔ آپ ایک عالمی شہرت یافتہ معالج، مایہ ناز ادیب اور طبی محقق تھے جن کی کامیابیوں کی داستان طویل ہے۔ سابق گورنر حکیم محمد سعید 9 جنوری 1920ء کے روز بھارتی دارالحکومت دہلی میں پیدا ہوئے، ابھی عمر 2 برس ہی تھی کہ والد کی وفات نے آپ کی زندگی کو مشکلات سے دوچار کردیا، پھر بھی آپ نے 9 برس کی عمر میں قرآن حفظ کرکے دنیا کو حیران کردیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے کہا سبسڈیز نہیں دینی چاہئیں. وزیر خزانہ
    بنوں:سیکورٹی فورسزکا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن:ایک دہشت گرد ہلاک
    ڈاکٹرمحمد بن عبدالکریم الیسہ کےدورہ سےپاکستان اورسعودی عرب کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے: طاہراشرفی
    پاکستان آزاد ہوا تو آپ نوجوان تھے، جس کے بعد آپ نے سب کچھ بھارت میں چھوڑ کر پاکستان کو اپنا وطن بنانے کا فیصلہ کیا اور اہلِ خانہ کے ہمراہ 9 جنوری 1948ء کو شہرِ قائد آ پہنچے اور قائدِ اعظم محمد علی جناح کی زندگی میں انہیں دیکھا۔ حکیم محمد سعید نے 11 ستمبر 1948ء کو قائدِ اعظم کی وفات سے لے کر یومِ وفات تک ملک کی سیاسی و قومی تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کیا۔ آپ کو 17 اکتوبر 1998ء کے روز دہشت گردوں نے روزے کی حالت میں فائرنگ کرکے شہید کردیا تھا۔

  • بالی کی مسکراہٹ — اسامہ منور

    بالی کی مسکراہٹ — اسامہ منور

    کلاس میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے میں نے اُن بچوں کو کھڑا کیا جو آج بھی یونیفارم پہن کر نہیں آئے تھے. مختلف لائنوں سے سات بچے کھڑے ہوگئے اور ان بچوں میں آج پھر بالی(اقبال) بھی شامل تھا. میں سب بچوں کے پاس باری باری جا کر ان سے یونیفارم اور جوتوں کے متعلق پوچھ رہا تھا. سب بچے کوئی نہ کوئی جواب دے کر اپنے طور مجھے مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور میں انھیں بیٹھنے کا کہہ کر آگے بڑھ رہا تھا. مجھے غصہ نہیں آ رہا تھا بلکہ دکھ ہو رہا تھا کہ بچے روزانہ ہی کوئی نیا بہانہ بنا کر سکول آ جاتے ہیں، کسی کے پاس ٹائی نہیں تو کوئی بیلٹ کے بغیر ہے. کسی کی یونیفارم پریس نہیں ہوئی تو کوئی رنگ برنگی پینٹ اور شوخ جوتوں کے ساتھ آیا ہے. کسی کا منہ نہیں دھلا تو کوئی بالوں کو سلجھائے بغیر ہی سکول آ گیا ہے.

    یہ کام ان کے والدین کا تھا جو سکول میں اساتذہ کو کرنا پڑتا تھا اور اسی میں کلاس کا بہت سارا وقت ضائع ہو جاتا تھا.

    اگر والدین اور اساتذہ مل کر بچوں کی تربیت کا بیڑہ اُٹھا لیں تو پاکستان کا مستقبل سنور سکتا ہے.

    میں یہ باتیں سوچتا ہوا بالی کے پاس جا پہنچا.بالی حسب معمول سر جھکائے کھڑا گہری سوچوں میں گُم تھا. میں نے بالی سے یونیفارم کے متعلق پوچھا تو بالکل خاموش رہا. اس کا سر اُٹھا کر میری طرف نہ دیکھنا مجھے اور پریشان کر گیا. خیر میں نے تین دن کی وارننگ دی کہ سب بچے اپنی یونیفارم مکمل کریں تاکہ کلاس کے نظم و ضبط کو بہتر بنایا جا سکے.

    سکول کا وقت ختم ہوا تو میں گھر آ گیا. کچھ دنوں تک میرے چچازاد کی شادی تھی جس میں سب گھر والے ہی شامل ہو رہے تھے. بیگم نے مجھے بھی کہہ دیا کہ جمعہ والے دن شاپنگ کرنی ہے اور میں جانتا تھا کہ ہم تینوں کی شاپنگ پر ایک پوری تنخواہ لگ جانی ہے. شاید ہماری پوری قوم کو ہی فضول خرچی کی عادت پڑ گئی ہے. ایک ہزار کی جگہ دس ہزار کا خرچہ کرنا معمول بن گیا ہے.

    میں اپنی بیوی کے ساتھ شاپنگ کے متعلق باتیں کر رہا تھا جب میرا بیٹا کمرے میں داخل ہوا، اندر آتے ہی اس نے اپنے مخصوص انداز میں کہا! "بابا اس دفعہ شادی پر میں نے تھری پیس لینا ہے اور ساتھ وہ والے جوتے جو اس دن بازار میں دیکھے تھے…….. اور…….. اور ساتھ گھڑی بھی، عینک بھی اور پیسے بھی لینے ہیں”.

    میں اپنے بیٹے کی باتیں سن کر مسکرا دیا اور اس سے وعدہ کیا کہ جو وہ بولے گا لے دوں گا.

    رات کو سوتے سے پہلے میں نے اندازہ لگایا کہ تو پتا چلا کہ شادی کی شاپنگ پر چالیس ہزار لگ رہا ہے. یہی سوچتے سوچتے آنکھ لگ گئی.

    اگلے دن معمول کے مطابق سکول پہنچا. مسکراتے ہوئے کلاس میں داخل ہوا تو پوری کلاس کھڑی ہو گئی، حالانکہ میں نے سب کو اپنے لئے کھڑا ہونے سے منع کیا تھا. میں نے بیٹھنے کا کہا اور پھر یونیفارم کے لیے چیکنگ شروع کی اور یہ بات دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ پوری کلاس یونیفارم میں تھی مگر اس بات کا دکھ ہوا کہ بالی آج بھی یونیفارم کے بغیر تھا. میں اس پاس گیا اور خوب باتیں سنائیں. سخت سردی تھی مگر بالی کے پاس نا تو جرسی تھی اور نا ہی بند جوتا تھا.

    بالی میری باتیں سن کر بلک بلک کر رو دیا. میں نے اسے کلاس میں پہلی دفعہ یوں روتے دیکھا تھا. میرا دل پسیج گیا اور آنکھیں بھر آئیں. بوجھل دل سے لیکچر دیا اور پھر اگلی کلاس میں چل دیا.

    میں سارا دن بالی کے متعلق ہی سوچتا رہا. وہ میرے بیٹے کی عمر کا ہی تھا. چھٹی کے فوراً بعد میں چپکے سے بالی کے پیچھے ہو لیا کہ دیکھوں وہ کہاں جاتا ہے.

    سکول کے سامنے والی سڑک کو پار کر کے بالی سر جھکائے کچے رستے پر چل رہا تھا. اس کے قدم بوجھل لگ رہے تھے. اسے پیدل چلتے بیس منٹس ہو چکے تھے جب وہ رکا اور ایک حویلی کے اندر داخل ہو گیا. میں باہر انتظار کرتا رہا مگر طویل انتظار کے بعد بھی وہ باہر نہ نکلا تو مجھے تشویش ہوئی. کیونکہ یہ گھر نہیں لگ رہا تھا. میں گاڑی کھڑی کر کے گیٹ کے اندر داخل ہوا.

    تبھی مجھے اندر سے ایک بابا جی ملے اور آنے کی وجہ پوچھی تو میں نے انھیں بالی کے متعلق پوچھا.

    بزرگ نے مجھے دائیں طرف جا کر بالکل سیدھا جانے کا کہا.

    میں جلدی جلدی اس سمت ہو لیا. تبھی میرا دھیان اس طرف گیا جہاں پر کچھ بچے بھوسہ پیک کر رہے تھے، ان میں ایک بالی بھی تھا. جو اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے بھوسے کے بنڈل بنا رہا تھا. اسے دیکھتے ہی مجھے اپنا بیٹا یاد آ گیا اور میری آنکھیں بھیگ گئی.

    پوچھنے پر پتا چلا کہ بالی اکلوتا بھائی ہے، باپ کی وفات ہو چکی ہے اور ماں کچھ عرصہ سے بیمار ہے. بالی چوہدری کے ڈیرے پر کام کرتا ہے اور بدلے میں چوہدری ان کے چولہے کا خیال رکھتا ہے.

    یہ سن کر مجھ سے مزید وہاں رکا نہ گیا اور جلدی سے گاڑی میں آ بیٹھا. میرا اونچی اونچی رونے کو جی چاہ رہا تھا. ہمارے ارد گرد ایسے کتنے بچے موجود تھے مگر ہم بے حس ہو چکے تھے.

    گھر پہنچ کر میں نے بیگم سے پوچھا کہ اگر شادی پر نئے کپڑے نہ لیے جائیں تو گزارا ہو جائے گا؟؟

    بیگم نے معمولی سے استفسار کے بعد ہاں میں سر ہلا دیا اور کہا کہ ہمارے پاس بہت اچھی حالت میں کپڑے اور جوتے موجود ہیں. بیٹے کو بھی میں نے جیسے تیسے منا لیا اور پھر بینک چلا گیا. وہاں سے بازار جا کر کچھ نئے گرم کپڑے، جوتے یونیفارمز اور کھانے کے لیے ایک ماہ کا راشن خریدا اور بیگم بیٹے کو لے کر بالی کے گھر جا پہنچا. بالی مجھے اپنے گھر دیکھ کر ششدر رہ گیا. میری بیگم نے سارا سامان بالی کی اماں کے حوالے کیا اور ہر ماہ راشن پہنچانے کا وعدہ کر کے ہم لوگ واپس آ گئے.

    اگلے دن میں سکول پہنچا اور کلاس میں داخل ہوتے ہی میری نظر پہلی لائن میں بیٹھے بالی پر پڑی. جو نئی یونیفارم اور چمکدار جوتا پہنے ہوئے بیٹھا مسکرا رہا تھا، اور آج پہلے دن مجھے معلوم ہوا کہ استاد کا کام صرف کتابیں پڑھانا نہیں بلکہ بچوں کو پڑھنا بھی ہے

  • یونیورسٹیز میں وائس چانسلرز میرٹ پر لگائے ہیں اورسفارشی کلچر کو ختم کیا جارہا ہے۔ گورنر پنجاب

    یونیورسٹیز میں وائس چانسلرز میرٹ پر لگائے ہیں اورسفارشی کلچر کو ختم کیا جارہا ہے۔ گورنر پنجاب

    فیصل آباد(عثمان صادق)گورنر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا ہے کہ تاریخ میں محلات،بڑے عہدوں اور دولت رکھنے والے نہیں انسانیت کی خدمت کر نیوالے ہی زندہ رہتے ہیں، جذبہ اور محنت ہو تو دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا۔یونیورسٹیز میں وائس چانسلرز میرٹ پر لگائے ہیں اور یونیورسٹیز میں سفارشی کلچر کو جڑوں سے ختم کیا جارہا ہے۔وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں وفاقی اور پنجاب حکومت خواتین کو ہر شعبے میں آگے بڑ ھانے کے مواقعے فراہم کر نے کے لئے تمام اقدامات کو یقینی بنا رہی ہے۔وہ بدھ کے روز گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آباد کے پہلے کانووکیشن سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے جبکہ اس موقع پر چیئر مین اینٹی نارکوٹکس پنجاب حاجی رمضان پرویز،کمشنر زاہد حسین،وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ فاروق،کنٹرولر امتحانات پروفیسر رضوانہ تنویر رندھاوا،رجسٹرار یونیورسٹی آصف علی،بانی وائس چانسلر ڈاکٹر ذکر حسین،وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ڈاکٹر اقرار حسین سمیت دیگر بھی موجود تھے جبکہ گورنر پنجاب و یونیورسٹی چانسلر چوہدری محمدسرور نے مختلف شعبہ جات میں فارغ الحتصل ہونیوالی طالبات میں نمایاں کارکردگی دکھانے پر میڈلز بھی تقسیم کئے اور ان کو کامیابی پر مبارکباد بھی دی۔ تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کے دوران گورنر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا کہ میں سو فیصددعویٰ سے کہتاہوں کسی سفارش کے بغیر میں نے سو فیصد میرٹ پر پنجاب کی مختلف یونیورسٹیز کے 20سے زائد وائس چانسلرزلگائے ہیں اور ہمارا مشن یونیورسٹیز میں ہر سطح پر شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانا ہے جہاں بھی کوئی غیر قانونی کام ہوگا وہاں سخت ایکشن لیا جائے گا کیونکہ شفافیت اور میرٹ سے ہی ادارے مضبوط ہوتے ہیں یونیورسٹیز میں میرٹ لانے کی وجہ سے آج پنجاب کی یونیورسٹیز کا شمار دنیا کی بہتر ین پانچ سو یونیورسٹیز میں ہورہا ہے۔ گورنر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا کہ میں یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل ہونیوالی طالبات سے کہنا چاہتاہوں وہ جس بھی شعبے میں جائیں وہاں انسانیت کی خدمت کیلئے اپنے عہدے سے انصاف کریں کیونکہ تاریخ میں صرف انسانیت کی خدمت کر نیوالے ہی زندہ رہتے ہیں مجھے اس بات پر بھی فخر ہے کہ پاکستانی خواتین صرف اپنے ملک ہی نہیں دنیا میں بھی اپنے ملک کانام روشن کر رہی ہیں۔ معاشرے کے تمام طبقات کی ذمہ داری ہے کہ وہ خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے سمیت انکے دیگر حقوق کے لئے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ کسی بھی ملک میں جب تک خواتین مضبوط نہیں ہوتیں وہ ملک بھی مضبوط نہیں ہوتے موجودہ حکومت خواتین کی مضبوط ترقی اور خوشحالی پر یقین رکھتی ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ فاروق نے کہا کہ ہم یونیورسٹی میں اعلی اور معیادی تعلیم کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں اور آج گور رنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آبادہائر ایجوکیشن رینکنگ کے مطابق پنجاب میں پہلے اور پاکستان میں دوسرے نمبر پر ہے انشاء اللہ ہم مزید کامیابیوں کیساتھ آگے بڑھیں گے آج یونیورسٹی سے ڈگریاں لینے والی طالبات پر لازم ہے کہ وہ پاکستان کی ترقی اور استحکام کے ساتھ ساتھ خواتین کی مضبوطی اور تعلیم کو عام کر نے کے لیے بھی اپنا کردار ادا کر یں۔

  • بچوں کی پرورش تحریر: صداقت حسین علوی

    بچوں کی پرورش تحریر: صداقت حسین علوی

    آج ایک انتہائی اہم عنوان پر قلم کو جنبش دینے کی کوشش کی ہے جس کی وجہ سے معاشرہ میں بہت زیادہ مسائل درپیش ہیں وہ ہے بچوں کی تعلیم و تربیت۔

     دین اسلام کے مطابق بچوں کی بہترین تعلیم و تربیت والدین پر فرض کی گئی ہے آج ہم معاشرے میں دیکھتے ہیں کہ بچے والدین کا احترام نہیں کرتے اور آئے دن ویڈیو سوشل میڈیا کی زینت بن رہی ہیں جن میں بچے والدین کو مار پیٹ رہے ہوتے ہے اور بعض تو گھر سے نکال دیتے ہیں 

    آج اسکول کیا کالج کیا یونیورسٹیوں میں بھی لوگ غلط کاریوں میں مصروف ہیں لڑکیوں کی خریدوفروخت کا دھندا بھی عروج پر ہے سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ٹیچرز کا احترام نہیں کیا جاتا یہ سب کچھ اس وجہ سے ہو رہا ہے ہے کہ والدین اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں کوتاہی کرتے ہیں آج نہ صرف لڑکے بلکہ لڑکیاں بھی چرس شراب اور دیگر نشہ آور اشیاء کا استعمال کرتی نظر آ رہی ہیں بچے زناء کا ارتکاب کرتے نظر آ رہے ہیں موبائل جیسی لعنت نے اتنا بگاڑ پیدا کر دیا ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کو غیر اخلاقی تصاویر شیئر کر رہے ہیں جو اکثر اوقات لیک ہو جاتی ہیں جو نہ صرف انکی بلکہ انکے والدین کی بدنامی کا باعث بن رہی ہیں آج شادیوں میں مجرا پارٹیاں کروائی جا رہی ہیں جن میں بچوں کی پرورش پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے 

    یقیناً سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے دنیا نے ترقی بھی حاصل کی ہے لیکن اسی کے ساتھ ساتھ اس نے معاشرے میں بہت زیادہ نقصانات بھی پہنچایا ہے آج اگر پوری دنیا میں سروے کیا جائے تو سب سے زیادہ پاکستانی عوام غیر اخلاقی مواد انٹرنیٹ پر دیکھتے ہیں بچے اکثر اوقات موبائل میں غیر اخلاقی مواد رکھتے ہیں جس سے انکی ذہنی نشوونما خراب ہو رہی ہے اور انکو طرح طرح کی جسمانی بیماریوں کا مسئلہ درپیش آتا ہے  

    اس لئے اپنے بچوں کو برائیوں سے دور رکھنے کے لئے ان کی بہترین تعلیم و تربیت پر توجہ دینی چاہیے اور ان کی روزمرہ کی نقل و حرکت پر کڑی نگاہ رکھنی چاہیے 

    اسلام نے بچوں کی پرورش یعنی تعلیم و تربیت کے لیے کئی رہنما اصول وضع کیے ہیں جن پر عمل کرکے ہم معاشرے کو بہتر سے بہتر افراد مہیا کر سکتے ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انکی اہلبیت علیہ السّلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے بچوں کو بہترین تعلیم و تربیت دی ہمیں انکی سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنے بچوں کی پرورش کرنی چاہیے

    جب آپ اپنے بچوں کو دینی اور دنیاوی تعلیم دلوائیں گے تو یقیناً وہ نہ صرف والدین کا احترام کریں گے بلکہ خود بھی معاشرہ میں عزت دار تصور ہوں گے معاشرہ بھی انکی تعریف کرتا نظر آئے گا جب معاشرے میں آپ کے بچوں کی تعریف ہوگی تو یقیناً والدین کا بھی دل باغ باغ ہو گا 

    موجودہ حکومت نے اسی چیز کے پیش نظر نصاب کو اسلام کے مطابق بنایا ہے اور کوشش کی ہے کہ قرآن و حدیث کو بھی نصاب میں شامل کیا جائے پرائیویٹ اسکولز کو بھی حکومت نے پابند بنایا ہے کہ وہ قرآن و حدیث کو اپنے نصاب میں شامل کریں یقینا اس حکومت نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے کہ پورے پاکستان میں ایک نصاب ہوگا الحمدللہ

    اس لیے اسلام کے مطابق بچوں کی تعلیم و تربیت کو یقینی بنائیں تاکہ بہترین معاشرہ معرض وجود میں آئے جب بہترین معاشرہ پرورش پائے گا تو نا صرف خاندانی ترقی ہو گی بلکہ ملکی ترقی میں بھی نمایاں اضافہ ہو گا۔ 

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو بچوں کی بہترین پرورش کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثمہ آمین

    Twitter I’d: @AlviViews

  • اولاد کی پرورش میں والدین کا کردار تحریر۔نعیم الزمان

    اولاد کی پرورش میں والدین کا کردار تحریر۔نعیم الزمان

    اولاد اللہ تعالیٰ کی انسان کو عطاء کردہ نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے۔ اولاد کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ” یعنی اللہ تعالیٰ نے جو اولاد تمہارے لیے مقدر فرمائی ہے اس کو نکاح کے ذریعے تلاش کرو”۔

     حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک جتنے بھی انسان اس دنیا میں آئے اور اپنی زندگی بسر کرنے کے بعد اس دنیا فانی سے رخصت ہوئے۔مگر اللہ پاک نے ہر انسان کو اولاد کی صورت میں اپنے بندوں کی پرورش کی توفیق بخشی اور اللہ نے سب کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ سب اپنے پیچھے دین اور دنیا کا جانشین چھوڑ کر جائیں۔ اولاد کی پیدائش پر رب العالمین کے آگے سجدہ شکر ادا کرنا چاہیے۔ اور اولاد میں خیروبرکت کے لیے دعا مانگی چائیے۔ اولاد نہ ہونے کی صورت میں اللہ کے حضور نیک اور صالح اولاد کی دعا مانگنی چاہیے۔ 

    بچے قدرت کا انمول تحفہ ہوتے ہیں۔زندگی میں خوشیاں اولاد ہی کی بدولت ہوتی ہیں۔ اگر کسی گھر میں بچے نہ ہوں وہ گھر تمام تر نعمتوں کے باوجود خالی خالی سا لگتا ہے۔ اولاد کے لیے گھر پہلی درسگاہ ہوتا ہے۔ بچے اپنی ابتدائی عمر میں والدین سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔اور اپنے والدین کے نقشے قدم پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔اسی لیے بچوں کی پرورش کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیم و تربیت پر زیادہ سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ ذمہ داری خاص کر والدہ پر زیادہ عائد ہوتی ہے جس کو اولاد کی پہلی معلمہ کا درجہ دیا گیاہے۔ اکثر اوقات والدین بچوں کو مہنگے ترین سکولوں میں داخل کروا کر ان کی ضروریات پوری کرکے سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زمہ داری پوری کر لی ۔ لیکن یہ سب اس وقت ممکن ہوتا ہے جب آپ اور میں تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کو اچھی تربیت دینے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اولاد کی تربیت کے بارے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "ماں باپ کا اپنی اولاد کو سب سے بہترین عطیہ اچھی تربیت ہے” 

    بغیر تعلیم و تربیت کے لاڈ اور پیار سے اگر گھر کا ایک بچہ بگڑ جائے تو پورے گھر کا عیش و عشرت برباد ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسی لیے اچھی پرورش ،تعلیم کے ساتھ اچھی تربیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو ہر والدین پر قرض ہے۔ اولاد ہر والدین کو پیاری ہوتی ہے۔چاہے والدین غریب ہوں یا امیر۔ والدین اپنی اولاد کی پرورش اور تعلیم کے لیے ہر طرح کی قربانی سے دریغ نہیں کر تے ۔اس کے ساتھ ساتھ اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ اولاد کی تربیت پر زیادہ توجہ دی جائے ۔ بچوں کو ابتدا سے ہی اچھی عادتیں ڈالیں۔ ہر کام شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھ کر ابتدا کرنا گھر میں موجود بڑوں سے اخلاق سے پیش آنا گھر میں بغیر اجازت کس کمرے میں نہ جانے کی عادتیں ڈالیں۔ صفائی ستھرائی کا خیال رکھنے کی عادت ڈالیں۔بچوں کے مثبت کاموں پر حوصلہ افزائی کر یں ۔ بچوں کا مذاق اڑانے سے گریز کریں۔اور غلط کاموں پر فوری سرزنش کرنی چاہیے تا کہ بچوں میں غلط عادتیں پروان نہ چڑھ سکیں۔ والدین کو بچوں کے سامنے لڑنے جھگڑنے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ اس طرح کے اقدامات بچوں کی شخصیت کو متاثر کرتے ہیں۔ بچوں کو کسی بھی غلطی پر ڈانٹے سے پہلے اس کی تحقیقات کر لینی چاہیے۔ بلاوجہ ڈانٹنے پیٹنے سے پرہیز کریں کیونکہ اس سے بچے احساس کمتری ذہنی اور جسمانی  کمزوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور اس سے بچے کی پرورش اور پڑھائی پر گہرا اثر پڑتا ہے۔والدین بچوں پر تنقید سے گریز کریں جن بچوں پر زیادہ تنقید کی جاتی ہے وہ زندگی میں کو شش کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ بچوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اپنے رویے میں غصہ محسوس نہ ہونے دیں اور دوستانہ رویے سے پیش آئیں۔ بچوں کو کھیل کود اور سیر تفریح کے لیے بھی مناسب وقت دیں۔تا کہ وہ زیادہ تنگی کا شکار نہ ہو جائیں ۔ بحثیت والدین بچوں کو کبھی بھی مہمانوں اور باہر کے لوگوں کے سامنے برا بھلا کہنے سے گریز کریں۔ اس سے بچوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور وہ بہت ساری منفی سرگرمیوں کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ دوسروں کے سامنے بچوں کی خوبیاں بیان کرنی چاہیے جس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ اچھے کاموں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔کوئی بھی قوم اخلاق کے بغیر خاک کے ڈھیر کی ماند ہوتی ہے۔ اس لیے اخلاقیات پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ اخلاقی تربیت سیکھانے کا بہترین وقت بچپن کا  ہوتا ہے۔ اگر والدین اپنے بچوں کو ابتدا سے ہی اخلاقی اصولوں سے اچھی طرح روشناس کر دیں تو یقیناً بچوں کے بالغ ہونے کے بعد ان کے بد اخلاق ہونے اور جرائم کی دنیامیں بھٹکنے کے مواقع تقریباً ختم ہو جاتے ہیں۔موجودہ حالات کے پیش نظر بچوں کو بلاوجہ گھروں سے باہر نہ جانے دیں ۔اگر جانا ضروری بھی ہو تو کسی بڑے کا ساتھ ہونا لازم ہے۔ایک متوازن  پرورش اور تربیت ہی بچے میں خود اعتمادی پیدا کرتی ہے۔جو زندگی گزارنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے یہی دعا ہے ہم سب کو اپنے بچوں کو رزق حلال کھلانے ان کی اچھی پرورش اور تعلیم و تربیت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔اور ان تمام احباب کو اولاد نرینہ عطاء فرمائے جو اس نعمت سے محروم ہیں۔ اور بچوں کو اپنے والدین کا فرمانبردار بنائے۔ دنیا اور آخرت میں خیر کا باعث بنائے ۔آمین 

    @786Rajanaeem