دنیا بھر میں بچوں اور نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات اور خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں۔ کچھ حلقے اس بات کے حامی ہیں کہ نوجوانوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگائی جائے یا اس کی عمر کی حد بڑھا دی جائے، تاہم ایک ماہر تعلیم کا کہنا ہے کہ اصل حل پابندی نہیں بلکہ بچوں کو “تنقیدی سوچ” سکھانا ہے۔
نیو زی لینڈ کی یونیورسٹی آف آکلینڈ کی سینئر لیکچرر اور نئی کتاب “Teaching Critical Thinking to Teenagers” کی مصنفہ ڈاکٹر ماری ڈیوس کے مطابق اگر بچوں کو چھوٹی عمر سے یہ سکھایا جائے کہ وہ آن لائن معلومات کو سوال کی نظر سے دیکھیں، تو وہ جھوٹی خبروں، فراڈ اور غلط معلومات سے بہتر طور پر بچ سکتے ہیں۔ڈاکٹر ڈیوس کے مطابق تنقیدی سوچ کا مطلب یہ ہے کہ انسان کسی بھی معلومات، خیال یا دعوے کو قبول کرنے سے پہلے اس کا تجزیہ کرے، سوال اٹھائے، اور ثبوت دیکھے۔ اس میں مختلف آرا کو سمجھنا اور یہ جانچنا شامل ہے کہ کون سا مؤقف زیادہ مضبوط ہے۔ان کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں سوشل میڈیا اور اس کے الگورتھمز کی وجہ سے نوجوان بغیر سوچے سمجھے معلومات قبول کرنے کے عادی ہو رہے ہیں، جو انہیں غلط معلومات اور آن لائن دھوکے کے خطرات سے دوچار کرتا ہے۔
ڈاکٹر ڈیوس کے مطابق صرف سوشل میڈیا پر پابندی لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ جب بچے بڑے ہوں گے تو وہ بغیر تیاری کے سوشل میڈیا استعمال کریں گے۔ ان کے مطابق اصل ضرورت یہ ہے کہ بچوں میں خود اعتمادی اور سمجھ بوجھ پیدا کی جائے تاکہ وہ خود فیصلہ کر سکیں کہ کون سی معلومات درست ہے اور کون سی غلط۔وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ تنقیدی سوچ بچوں کی ذہنی صحت پر بھی مثبت اثر ڈال سکتی ہے، کیونکہ جب انسان کو حالات پر کنٹرول کا احساس ہو تو اس کی بے چینی کم ہو جاتی ہے۔
ماہر تعلیم کے مطابق والدین بچوں کو تنقیدی سوچ سکھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وہ مشورہ دیتی ہیں کہ والدین بچوں کے ساتھ مل کر خبروں اور معلومات پر بات کریں، مثال کے طور پر یہ کہیں “یہ خبر دلچسپ لگتی ہے، آؤ ہم مل کر اس کے بارے میں مزید تحقیق کریں۔”اسی طرح والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں سے سوال کریں جیسے “تمہیں یہ بات کہاں سے ملی؟”“اس کے پیچھے کیا ثبوت ہے؟”اس طرح بچوں میں سوال کرنے اور سوچنے کی عادت پیدا ہوتی ہے۔
ڈاکٹر ڈیوس کے مطابق نوجوانوں کو صرف پڑھنے لکھنے کی نہیں بلکہ بات چیت کرنے اور سوال کرنے کی بھی تربیت دینی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بچے اعلیٰ سطح کے سوال کرنا سیکھ جائیں جیسے “اس کی مثال کیا ہے؟”، تو وہ گہرائی میں جا کر سوچنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ماہر تعلیم کا کہنا ہے کہ مستقبل کی نوکریوں میں تخلیقی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت سب سے اہم ہوگی۔ ان کے مطابق اگر نوجوان صرف اے آئی یا ٹیکنالوجی پر انحصار کریں گے تو وہ خود سوچنے کی صلاحیت کھو سکتے ہیں، جو مستقبل میں ان کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ڈاکٹر ڈیوس یہ بھی بتاتی ہیں کہ 11 سے 12 سال کی عمر بچوں کے دماغ کی نشوونما کا اہم دور ہوتا ہے۔ اس وقت جو مہارتیں سیکھی جاتی ہیں وہ مضبوط ہو جاتی ہیں، جبکہ جن چیزوں کو استعمال نہ کیا جائے وہ آہستہ آہستہ کمزور ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان سے بات کریں اور ان کی سنیں۔ اگرچہ نوجوان بعض اوقات دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن انہیں پھر بھی اپنے والدین کی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بچوں کے ساتھ مضبوط تعلق قائم ہو تو وہ مشکل حالات جیسے آن لائن دباؤ یا غلط اثرات کے بارے میں والدین سے کھل کر بات کر سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کے بجائے بچوں کو سوچنے، سوال کرنے اور معلومات کو پرکھنے کی صلاحیت دینا زیادہ مؤثر حل ہے۔ یہی مہارتیں انہیں نہ صرف آن لائن خطرات سے بچاتی ہیں بلکہ مستقبل میں بہتر اور کامیاب انسان بنانے میں بھی مدد دیتی ہیں۔








