Baaghi TV

Category: کشمیر

  • ایک اورکشمیری نوجوان شہید کردیا گیا:مسرت عالم بٹ کا کشمیریوں کی منظم نسل کشی پر اظہار تشویش

    ایک اورکشمیری نوجوان شہید کردیا گیا:مسرت عالم بٹ کا کشمیریوں کی منظم نسل کشی پر اظہار تشویش

    سرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جمو ں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے نظربند چیئرمین مسرت عالم بٹ نے قابض بھارتی فورسزکی طرف سےعلاقے میں جاری قتل وغارت اورانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہارکیاہے۔

    مسرت عالم بٹ نے نئی دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل سے ایک پیغام میں کہاکہ یہ انتہائی تشویش کی بات ہے کہ مقبوضہ علاقے میں بسنے والے ایک کروڑ لوگوں کو 10 لاکھ سے زائد قابض فوجیوں نے مسلسل محاصرے میں رکھا ہوا ہے جنہیں لوگوں کوقتل کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔

    نظربند حریت چیئرمین نے کہاکہ تمام کالے قوانین کو نافذ کر دیا گیا ہے اور مقبوضہ علاقے کی مسلم اکثریت کی منظم نسل کشی کے لیے بھارتی فورسز کو ہرقسم کا تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے بھارت کے مذموم عزائم کی مذمت کرتے ہوئے حریت چیئرمین نے کہا کہ اب جموں اور لداخ کی ہندو برادری کو بھی یہ احساس ہو گیا ہے کہ غیر ریاستی شہریوں کوبڑے پیمانے پر اراضی اور ڈومیسائل سرٹیفکیٹ فراہم کیے گئے جس سے مقبوضہ علاقے پر سماجی اور ثقافتی جارحیت کے علاوہ متعلقہ علاقوں کے روزگار اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات پڑر ہے ہیں۔

    انہوں نے بھارت کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے میں حریت پسندکشمیری عوام کے شاندار کردار کو سراہا اور بھارتی تسلط، ریاستی دہشت گردی اور اس کی سامراجیت کاایک نئے جوش و جذبے کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے کشمیر کے بہادر عوام کے بلند حوصلوںپر اطمینان کا اظہار کیا۔

    انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری نسل کشی، ماورائے عدالت قتل، خواتین کی بے حرمتی اور انسانی حقوق کی دیگر سنگین خلاف ورزیوں کا سخت نوٹس لیں۔ حریت چیئرمین نے1948 سے زیر التواءاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے جلد حل پر زور دیا۔

    ادھرغیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں آج ضلع شوپیان میں ایک کشمیری نوجوان کو شہید کردیا۔

    فوجیوں نے نوجوان کو ضلع کے علاقے نادی گام میں محاصرے اورتلاشی کی ایک کارروائی کے دوران شہید کیا۔ اس سے قبل بھارتی فوج ، پیراملٹری سینٹرل ریزروپولیس فورس اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے علاقے کے تمام داخلی اور خارجی راستوںکو بند کردیااور گھر گھر تلاشی کی کارروائی شروع کی۔آخری اطلاعات آنے تک علاقے میں فوجی آپریشن جاری تھا۔

  • مقبوضہ کشمیر: قابض فوج نے مزید 5 نوجوانوں کو شہید کر دیا:گجر اور بکروال خاندانوں کا احتجاجی دھرناجاری

    مقبوضہ کشمیر: قابض فوج نے مزید 5 نوجوانوں کو شہید کر دیا:گجر اور بکروال خاندانوں کا احتجاجی دھرناجاری

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر: قابض فوج نے مزید 5 نوجوانوں کو شہید کر دیا:گجر اور بکروال خاندانوں کا احتجاجی دھرناجاری ،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ظلم کی داستان رقم کرتے ہوئے مزید 5 نوجوانوں کو شہید کر دیا۔

    مقبوضہ وادی میں ایک اور سیاہ دن،سرچ آپریشن کی آڑ میں کشمیریوں کی نسل کشی جاری ہے۔ بھارتی فوج نے ضلع پلوامہ اور بڈگام میں مزید پانچ نوجوانوں کو شہید کردیا۔ کئی علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔بھارتی فوج کے اقدام کے خلاف کشمیری سڑکوں پر نکل آئے اور شدید احتجاج کیا، مظاہرین بھارتی فوج اور مودی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے رہے۔

    واضح رہے کہ مودی حکومت کے 2019 میں لاک ڈاون کے اقدام کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے بھارتی حکومت کی جنت نظیر وادی میں غیر انسانی سرگرمیوں کی متعدد بار مذمت کی گئی ہے۔

    ادھر غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جمو ں و کشمیر میں قابض حکام کے ہاتھوں بے گھرہونے والے گجر اور بکروال خاندان گزشتہ کئی ہفتوں سے جموں کے علاقے روپ نگر میں احتجاجی دھرنا دے رہے ہیں۔

     

     

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یہ مسلمان گجر اور بکروال خاندان انصاف اور رہنے کے لیے پناہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ 70 سال سے علاقے میں رہ رہے ہیں لیکن قابض حکام نے ان کے مکانات مسمار کر دیے۔ بے گھر ہونے والے لوگوں اور ان کے وکیل ایڈووکیٹ شیخ شکیل احمدنے کہا کہ جموں کی ایک سیشن عدالت کی طرف سے سٹے آرڈر کے باوجود مکانات کو مسمار کر دیا گیا۔ ایڈووکیٹ شکیل نے کہاکہ انہیں صرف اس لیے گھروں سے محروم کردیا گیا ہے کہ وہ غریب لوگ ہیں اور کوئی ان کی بات نہیں سنتا۔ اگر قانون کی حکمرانی ہوتی تو حکام ان کے گھر مسمار کرنے سے پہلے انہیں نوٹس دیتے۔اس کے علاوہ مارچ تک ایڈیشنل سیشن جج کا سٹے آرڈر بھی موجود ہے۔

    ایک سماجی کارکن ستویر سنگھ منہاس نے کہاکہ ہم ان کے لئے اور مویشیوں کے لیے پناہ گاہ کے حق کے لیے لڑ رہے ہیں۔ یہ ہمارے آئین کی طرف سے دیا گیا حق ہے۔انہوں نے کہاکہ وہ تجاوزات کرنے والے یا زمین پر قبضہ کرنے والے نہیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ دفعہ 370 کے تحت جموں وکشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت اور ریاستی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد حکام اور بی جے پی نے بار بار قبائلیوں کو مزید حقوق دینے کی بات کی ہے لیکن گزشتہ دو سال سے ان گجر اور بکروال خاندانوں کو علاقے بے دخل اور ان کے گھروں کو مسمار کیاجارہاہے۔

  • بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہےاور مودی اس کا روح رواں‌ ہے: منیر اکرم

    بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہےاور مودی اس کا روح رواں‌ ہے: منیر اکرم

    نیویارک :بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہےاور مودی اس کا روح رواں‌ ہے:اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ بھارت دہشت گردی سے متاثر نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارت نے 1989سے اب تک اپنے غیر قانونی زیر تسلط جموںو کشمیر میں96ہزارسے زائد کشمیریوں کو شہید کیاجبکہ اس دوران مقبوضہ علاقے میں تقریبا 23ہزارخواتین کو بیوہ، 11ہزار سے زائد خواتین کی بے حرمتی کی گئی اور ایک لاکھ مکانات اور اسکولوں سمیت دیگر عمارتوں کو تباہ کیاگیا۔

    منیراکرم نے کہاکہ 5اگست 2019کے بعد سے 9لاکھ سے زائد بھارتی فوجی مقبوضہ کشمیر میں تعینات ہیںجبکہ بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے کے لیے جعلی مقابلوں کا سہارا لیا جا رہا ہے، کشمیریوں کی املاک کو تباہ اورنظر آتش کر کے انہیںاجتماعی سزائیں دی جا رہی ہیں۔ان کامزید کہنا تھا کہ بھارتی فوجیوں نے مہلک پیلٹ گن کا استعمال کر کے سیکڑوں کشمیری بچوں کونابینا کردیا ہے جبکہ 13ہزار کشمیری نوجوانوں کو زبردستی حراست میں لیا گیا اور مقبوضہ کشمیر کو مسلم اکثریتی ریاست سے ہندو اکثریتی علاقے میں تبدیل کرنے کا عمل جاری ہے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہاکہ پاکستان نے گزشتہ سال ایک جامع اور تحقیق شدہ ڈوزئیر جاری کیاتھا جس میں 1989سے بھارتی قابض افواج کے جنگی جرائم کے تین ہزار 432واقعات کے آڈیو اور ویڈیو شواہد شامل کئے گئے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم سلامتی کونسل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان جرائم کے مصدقہ ثبوتوں کا نوٹس لے اور جنگی جرائم و بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھارتی اہلکاروں کو جوابدہ ٹھہرائے۔

    پاکستانی مندوب نے کہاکہ بھارت دہشت گردی کا شکار نہیں ہے بلکہ بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے جبکہ پاکستان نے 2014سے انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں سے اپنی سرزمین کو دہشت گرد گروپوں سے پاک کیا۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا سب سے بڑا چیلنج بھارت اور افغانستان کی سرزمین سے مسلسل دہشت گردانہ حملے ہیں، ان دہشت گرد حملوں کی مالی معاونت، سرپرستی اور حمایت کی جاتی ہے، بھارتی خفیہ ایجنسی کے تعاون سے ٹی ٹی پی اور جے یو اے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے مزید بتایا کہ 2020میں پاکستانی فوجی اور شہری اہداف کے خلاف ایک ہزار سے زائد سرحد پار دہشت گرد حملے کیے گئے، بھارت نے 29 جون 2020کو کراچی اسٹاک ایکسچینج سمیت پاکستانی فوجی اور شہری اہداف پر حملوں میں معاونت کی، بھارت نے سلامتی کونسل کی فہرست میں شامل دہشت گرد اداروں کی مالی اعانت اور حمایت کی، 23جون 2021کو لاہور اور 14جولائی 2021کو داسو میں چینی اور پاکستانی انجینئروں کا قتل کیا۔

    منیر اکرم نے سلامتی کونسل کی توجہ فروری 2020میں نئی دلی میں مسلم مخالف قتل عام کی طرف بھی مبذول کرائی ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت میںروزانہ کی بنیاد پر مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی، گزشتہ سال بھارت میں عیسائی گرجا گھروں پر 400حملے کیے گئے۔پاکستانی مندوب نے کہاکہ دو ہفتے قبل انتہا پسند ہندوتوا کی طرف سے بھارت کے مسلمانوں کی نسل کشی کا اعلان کیا گیا، سلامتی کونسل کو جینوسائیڈ واچ کے سربراہ کی بات ماننی چاہیے کہ ہندوستان میں نسل کشیُ ہو سکتی ہے۔

  • پاکستان میں‌ اظہار رائے کی آزادی کے خواہاں وزیراعظم مودی نے باپ بیٹے کوجیل میں ڈال دیا

    پاکستان میں‌ اظہار رائے کی آزادی کے خواہاں وزیراعظم مودی نے باپ بیٹے کوجیل میں ڈال دیا

    سری نگر:پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی کے خواہاں وزیراعظم مودی نے باپ بیٹے کوجیل میں ڈال دیا،اطلاعات کے مطابق بھارت میں وزیراعظم مودی ، مودی حکومت ، مودی نواز شخصیات اور ریاستی اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز،کمنٹس اور خیالات کے خلاف بھارتی سائبر کرائم نے سخت کارروائی شروع کردی ہے

    اس‌حوالے سے تازہ واقعہ میں‌مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج نے سوشل میڈیا پربھارتی وزیراعظم مودی کے مظالم کے خلاف وائرل ویڈیو میں باپ بیٹے کو گرفتار کرکے پولیس کے حوالے کردیا ہے ،

    سری نگر سے ذرائع کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی پولیس نے سوشل میڈیاپر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف توہین آمیز ویڈیو پوسٹ کرنے پر ضلع راجوری میں با پ اوربیٹے کو گرفتار کرلیا ہے ۔

    ضلع راجوری کے علاقے دہریاں سے تعلق رکھنے والے شوکت حسین اوراس کے والد سلام دین کو فیس بک پر وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں ایک توہین آمیز ٹک ٹاک اپ لوڈ کرنے پر بی جے پی کے کارکنوں کی شکایت پر گرفتار کیاگیا ۔ پولیس کے مطابق اس ویڈیو کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر بھی جے پی کے حمایتوں نے پولیس کے پاس مقدمہ درج کرایا جس پر ضلع کے علاقے چنگس سے تعلق رکھنے والے باپ بیٹے کوگرفتار کیا گیا۔ویڈیو میں وزیر اعظم مودی کے خلاف توہین آمیز اور قابل اعتراض الفاظ موجود تھے ۔

    دوسری طرف کشمیریوں کا کہنا ہے کہ بھارت اور بھارتی وزیراعظم پاکستان ،کشمیر اور تحریک آزادی کشمیر کےخلاف جو پراپیگنڈہ کررہا ہے اور کچھ ماہ قبل جو پراپیگنڈہ افشاں ہوا ہے اس کے بعد دنیا کی آنکھیں کھل جانی چاہیں تھیں ،

    بھارت کے زیرقبضٰہ وادی کشمیر سے مودی کی فسطائیت سے تنگ کشمیریوں کا کہنا ہے کہ مودی اور مودی نواز جو کہ ایک طرف پاکستان میں اظہاررائے کی آزادی کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں اور پاکستان کی حکومت اور ریاستی اداروں کے خلاف ناسمجھ لوگوں کو اکسا رہے ہیں تو دوسری طرف بھارت کے اندر اور بھارت کے زیرقبضہ وادی کشمیر میں کسی کو اپنےجزبات بھی زبان پرلانے کی اجازت نہیں جو کوئی بھارتی فوج کے مظالم کی تکلیف پر آہ کرتا ہے تواسے جیل ڈال دیا جاتا ہے کہاں ہیں پاکستان میں اظہاررائے کی آزادی پرواویلہ کرنے والے

  • پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے کل یوم جمہوریہ کے موقع پربھارت کوئی جعلی آپریشن کرسکتا ہے:خفیہ ذرائع

    پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے کل یوم جمہوریہ کے موقع پربھارت کوئی جعلی آپریشن کرسکتا ہے:خفیہ ذرائع

    نئی دہلی :پاکستان اور سکھوں کو بدنام کرنے کیلئے کل یوم جمہوریہ کے موقع پربھارت کوئی جعلی آپریشن کرسکتا ہے،اطلاعات کے مطابق بھارت کے یوم جمہوریہ کے حوالے سے بعض اہم ذرائع کے حوالےسے آنے والی خبروں نے پریشان کررکھا ہے کہ بھارت بہت غلط اور منفی منصبوں پر عمل پیرا ہے ، خبروں میں یہ بھی انکشاف کیاگیا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسیاں ہندوتوا حکومت کی ایماء پر پاکستان، مسلمانوں اور سکھوں کو بدنام کرنے کے لیے ملک کے 75ویں یوم جمہوریہ کی تقریبات کے موقع پر جعلی آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

    بھارت کے اندر ہونے والی اس پاکستان مخالف موومنٹ کے متعلق کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بھارت کی سیکورٹی ایجنسیوں کی طرف سے نام نہاد سیکورٹی الرٹ جاری کیاگیا ہے جس میں انہوں نے کل 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت کرنے والی بڑی شخصیات پر ممکنہ حملے کے بارے میں انتباہ جاری کیا ہے۔

    اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ نو صفحات پر مشتمل نام نہاد انٹیلی جنس رپورٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی اور یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت کرنے والی دیگر اہم شخصیات کے لیے خطرہ ظاہر کیاگیا ہے،بھارت درحقیقت پاکستان، مسلمانوں اور سکھوں کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے لیے پلوامہ جیسا ڈرامہ رچا نے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔

    بھارت کی خفیہ ایجنسیاںمسلمان تنظیموں کے علاوہ خالصتان نواز گروپوں پر دہشت گردی پھیلانے اور پنجاب اور دیگربھارتی ریاستوں میں ٹارگٹڈ حملوں کے لیے اپنے کارکنوں کو متحرک کرنے کا الزام لگا رہی ہیں۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بھارتی ایجنسیاں عوامی اجتماعات، اہم اداروں اور پرہجوم علاقوں کو ڈرون حملوں سے خود نشانہ بنا سکتی ہیں تاکہ بھارت اور پاکستان میں مسلمانوں اور سکھوں کے خلاف بدنیتی پر مبنی ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا سکے۔ نام نہاد سیکورٹی الرٹ کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے مودی حکومت نے پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔

    دلی پولیس کی طرف سے جاری حکمنامے میں کہاگیا ہے کہ یوم جمہوری کی پریڈ کے انتظامات کے پیش نظر تمام پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ ماہرین نے یقین ظاہر کیا ہے کہ بی جے پی حکومت متعدد مذموم مقاصد کیلئے یوم جمہوریہ کی تقریبات کے دوران کوئی ڈرامہ رچا سکتی ہے۔

  • پاکستان کا اقوام متحدہ پر مسئلہ کشمیر کے فوری حل کیلئے زور

    پاکستان کا اقوام متحدہ پر مسئلہ کشمیر کے فوری حل کیلئے زور

    جنیوا:پاکستان نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی کوششوں میں تیزی لائے اور مسئلہ کشمیر کو فوری طور پر حل کرے تاکہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کو روکا جا سکے اور علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کو روکا جا سکے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے منیر اکرم نے اقوام متحدہ کے سربراہ کی تنظیم کے کام سے متعلق رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو بتایا کہ اقوام متحدہ کو امن و سلامتی کاموں کا مرکز رہنا چاہیے۔ پاکستانی سفیر نے اپنی تقریر میں کہا ہم سلامتی کونسل اور سیکریٹری جنرل پر زور دیتے ہیں کہ وہ جموں و کشمیر کے تنازعہ کے جلد اور پرامن حل کو فروغ دینے اور کشمیری عوام کے خلاف بھارتی دہشت گردی کے راج کو ختم کرنے کے لیے اپنے اختیارات کا خاطر خواہ اختیار استعمال کریں۔

    انہوں نے کہا کہ اگر سلامتی کونسل کچھ نہیں کر رہی تو سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے چارٹر کی طرف سے فراہم کردہ اختیار کو مکمل طور پر استعمال کرتے ہوئے جنرل اسمبلی میں کارروائی کر کے امن اور سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔

    منیر اکرم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں بنیادی خطرہ جموں و کشمیر کے تنازعہ سے لاحق ہے اور بھارت کی طرف سے مسلم اکثریتی مقبوضہ جموںوکشمیر کو ہندو اکثریتی علاقے میں تبدیل کرنے کی کوشش سلامتی کونسل کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی ہے جس میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری کے ذریعے کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

    منیر اکرم نے مقبوضہ جموںوکشمیر میں بھارت کی طرف سے کئے گئے وسیع غیر قانونی اقدامات کی مذمت کی اور کونسل اور سیکرٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کے جلد اور پرامن حل کیلئے کوششوں کا آغاز کریں۔

    انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں سنگین جرائم کیلئے بھارت سے اب تک کوئی جوابدہی نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بھارت کے کالے قوانین ان نو لاکھ فورسز اہلکاروں کو مکمل استثنیٰ فراہم کرتے ہیں جنہیں بھارت نے مقبوضہ علاقے میں تعینات کرکھا ہے۔۔ سفیر منیر اکرم نے کہا کہ کشمیر پریس کلب پر حالیہ حملہ اور اسکی بندش مقبوضہ علاقے میں مجرمانہ کارروائیوں اور نسل کشی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو خاموش کرنے کے لیے بھارتی وحشیانہ جبر کی ایک اور مثال ہے ۔

  • ضیا مصطفی کا ماورائےعدالت قتل:مقبوضہ کشمیرمیں جنگی جرائم کی تحقیقات پر گول میز کانفرنس

    ضیا مصطفی کا ماورائےعدالت قتل:مقبوضہ کشمیرمیں جنگی جرائم کی تحقیقات پر گول میز کانفرنس

    اسلام آباد: ضیا مصطفی کا ماورائےعدالت قتل:مقبوضہ کشمیرمیں جنگی جرائم کی تحقیقات پر گول میز کانفرنس ،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں جنگی جرائم کی تحقیقات کے حوالے سے اسلام آباد میں گول میز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں لیگل فورم کشمیر کے مرکزی رہنماؤں نے بریفنگ دی۔

    گول میزکانفرنس میں ضیاء مصطفی پر ڈوزئیر کا اجرا کیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر کے وکیل ناصر قادری ایڈوکیٹ نے بریفنگ میں بتایا کہ ضیاء مصطفی کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا، ڈوزئیر میں 111 فرضی پولیس مقابلوں کا ذکر ہے جوسنہ 2000 سے 2021تک کیے گئے۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضیاء مصطفے غلطی سے راولا کوٹ سے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوا تھا، اس کی عمر صرف پندرہ سال تھی جب اسے پکڑا گیا تھا ، اٹھارہ سال سے کم عمر بچے کو قانونی طور پر جیل میں قید نہیں کیا جاسکتا ۔کیس ٹرائل کورٹ شپیاں میں چلا جس میں 38گواہوں کو پیش کیا گیا ۔

    پولیس ضیا کے خلاف کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی ، ہائی کورٹ نے بھی اپیل خارج کرکے ضیا کو معصوم قراردیا ،بعد ازاں سپریم کورٹ میں تاخیر سے اپیل دائر کی گئی ، اکتوبر میں سری نگر میں ضیا کو جعلی پولیس مقابلے میں شہید کردیا گیا۔

    حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا کہ 5 اگست کے بعد سے بھارتی فوج کو کشمیریوں کی نسل کشی کے احکامات دئیے گئے ہیں ، عالمی برادری اپنی مجرمانہ خاموشی ختم کرے ۔

    مشتاق اسلام کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیر میں آزادی کی آواز دبانے کے لیے مہلک ہتھیاروں کا استعمال کررہا ہے۔

    ڈوزیئر میں مزید کہا گیا ہے کہ اسٹوک وایئٹ کی رپورٹ میں اس بات کے دو ہزار سے زائد ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں کہ بھارتی حکام جموں و کشمیر میں شہریوں کے خلاف جنگی جرائم میں ملوث ہیں۔

    آزاد جموں و کشمیر کے راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے ضیا مصطفی کا کیس 18 سال سے زیر سماعت تھااور وہ جموں کی کوٹ بھلوال جیل میں قید تھے۔ بھارتی پولیس کے مطابق ضیا مصطفی کو پونچھ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران ایک ٹھکانے کی نشاندہی کے لیے بھاٹا دوریاں لے جایا گیا اور بعد ازاں کراس فائر میں شہید کر دیاگیا۔
    تاہم، ان کے اہل خانہ کے مطابق ضیا کو ایک جعلی مقابلے میں مارا گیا۔ انہوں نے 17 سال سے زائد عرصے سے جیل میں قید ایک شخص کو اس طرح شہید کرنے اور بھارتی فورسز کے ظلم پر بھی سوال اٹھایا۔
    ضیا مصطفی ولد عبدالکریم برمگ کلاں تحصیل راولاکوٹ ضلع پونچھ آزاد جموں و کشمیر کا رہائشی تھا جسے بھارتی فورسز نے 13 جنوری 2003 کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ نادانستہ طور پر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پار کرکے دوسری جانب چلا گیا تھا۔ ضیا کے بھائی عامر حامد کے مطابق ایل او سی پار کرنے کے وقت ضیا مصطفی کی عمر15 سال تھی۔
    بھارت نے اس کی گرفتاری کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، کیونکہ وہ ایجنسیاں اس کی گرفتاری کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتی تھیں، اس لیے ضیا کی باقاعدہ گرفتاری مارچ 2013 میں جنوبی کشمیر کے ضلع اسلام آباد سے نادیمرگ میں دکھائی گئی، جہاں نامعلوم مسلح افرادنے 24 کشمیری پنڈتوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ .
    ضیا کو شوپیاں کی ضلعی عدالت میں مقدمے کا سامنا تھا جہاں مقبوضہ کشمیر کے حکام ان کے خلاف کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔ ٹرائل کورٹ نے کیس کومستردد کر دیا ۔مقبوضہ جموں کشمیر کے حکام نے جموں کشمیر ہائی کورٹ سری نگر ونگ میں فوجداری اپیل دائر کی جسے بھی خارج کر دیا گیا۔

  • چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی کا لیگ سے تنخواہ اور الاؤنس نہ لینے کا اعلان

    چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی کا لیگ سے تنخواہ اور الاؤنس نہ لینے کا اعلان

    چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی کا لیگ سے تنخواہ اور الاؤنس نہ لینے کا اعلان،اطلاعات کے مطابق چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی نے پاکستان کی سب سے اہم لیگ جسے کشمیرپریمیئر لیگ کے نام سے دنیا جانتی ہے سے تنخواہ نہ لینے کا اعلان کرکے کشمیرپریمیئر لیگ کے ساتھ محبت اور اس کی کامیابی کے لیے اپنے خلوص کا زبردست انداز میں اظہار کیا ہے ،

    چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی نے اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں اعلان کرتا ہوں کہ میں کشمیر پریمیئر لیگ سے کوئی تنخواہ اور الاؤنس نہیں لوں گا،

    چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی اس موقع پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ کشمیر پریمیئر لیگ کے تمام وسائل صاف اور شفاف طریقے سے استعمال کیے جائیں گے،

    چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ میری تنخواہ کشمیر میں کرکٹ اور کرکٹ کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے استعمال کی جائے۔

    چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی کا کہنا ہے کہ کشمیر پریمیئر لیگ ایک مشن اور ایک مقصد ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں تمام فرنچائز مالکان کا شکر گزار ہوں کہ جس طرح سے تمام چھ فرنچائزز نے میرے چیئرمین، چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ بننے کے بعد مجھ پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

  • جنرل بپن راوت کومقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے قاتل کے طورپر یاد رکھا جائیگا:مشعال ملک

    جنرل بپن راوت کومقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے قاتل کے طورپر یاد رکھا جائیگا:مشعال ملک

    بھارت کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت کو انسانیت کے قاتل کے طور پر یاد رکھا جائے گا کیونکہ بھارتی فوج کے سربراہ کی حیثیت سے ان کے دور میں غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کشمیریوں کے قتل عام کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو ا تھا ، ان خیالات کا اظہار کشمیری رہنما یٰسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کیا ہے ،

    یاد رہے کہ بپن راوت گزشتہ سال 8دسمبر کو بھارتی ریاست تامل ناڈو میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے

    چئیرمین پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن مشعال ملک نے کہاہے کہ بھارتی آرمی چیف کی حیثیت سے ان کے دور میں مقبوضہ کشمیر میں تشویشناک حد تک کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔

    مشعال حسین ملک کاکہناتھا کہ بدنام زمانہ بپن راوت نے بھارت کو مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ جگہ بنانے کے آر ایس ایس کے تربیت یافتہ نریندر مودی کے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وادی کشمیر کو جہنم میں تبدیل کر دیا۔مودی بھارت کو اقلیتوں سے پاک کرنے کے ظالمانہ مشن پر ہیں۔

    مشعال ملک نے کہا کہ دنیا کو بھارت میں جاری مسلمانوں مقبوضہ کشمیر سمیت دیگر اقوام پر ہونیوالے مظالم کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ مودی دور حکومت میں ہندوستان میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا۔

     

     

    چئرمین پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن مشعال ملک کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں انتہائی دائیں بازو کے ہندو رہنما کھلے عام مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بھارت میں مذہبی اقلیتوں پر بلا روک ٹوک حملے عالمی برادری کے لیے ایک چیلنج ہے۔ عالمی برادری اور عالمی طاقتوں کو بھارت کو اقلیتوں کے خلاف اس کے جرائم کا جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ جنرل بپن راوت آر ایس ایس کا کارکن اور مودی کا دائیاں ہاتھ تھا۔ وہ مسلمانوں کے خلاف ظلم و بربریت اوراپنے تعصب کے لیے بدنام اورمقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث تھے ۔جنرل راوت کشمیریوں کو بھارتی مظالم کے خلاف مزاحمت کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے تھے اور ان دھمکیوں سے ان کا کشمیرمخالف تعصب ظاہرہوتاہے ۔

    رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ بپن راوت کے جارحانہ بیانات سے ان کی ہندوتوا ذہنیت کی عکاسی ہوتی تھی اور انہوں نے پاکستان مخالف جذبات کو بھڑکانے کو رواج بنایا ۔رپورٹ کے مطابق مودی حکومت نے جنرل بپن راوت کی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے طورپر تقرری کیلئے یہ عہدہ قائم کیاتھا تاکہ وہ بھارتی فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد ہندوتوا کاز کی خدمت کرسکیں۔

  • جنرل بپن راوت کومقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے قاتل کے طورپر یاد رکھا جائیگا:اہل کشمیرکافیصلہ

    جنرل بپن راوت کومقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے قاتل کے طورپر یاد رکھا جائیگا:اہل کشمیرکافیصلہ

    سری نگر:جنرل بپن راوت کومقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے قاتل کے طورپر یاد رکھا جائیگا:اہل کشمیرکافیصلہ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت کو انسانیت کے قاتل کے طور پر یاد رکھا جائے گا کیونکہ بھارتی فوج کے سربراہ کی حیثیت سے ان کے دور میں غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کشمیریوں کے قتل عام کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو ا تھا ۔راوت گزشتہ سال 8دسمبر کو بھارتی ریاست تامل ناڈو میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنرل بپن راوت آر ایس ایس کا کارکن اور مودی کا دائیاں ہاتھ تھا۔ وہ مسلمانوں کے خلاف ظلم و بربریت اوراپنے تعصب کے لیے بدنام اورمقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث تھے ۔

    کشمیری قوم کا کہنا تھا کہ جنرل راوت کشمیریوں کو بھارتی مظالم کے خلاف مزاحمت کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے تھے اور ان دھمکیوں سے ان کا کشمیرمخالف تعصب ظاہرہوتاہے ۔

    رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ بپن راوت کے جارحانہ بیانات سے ان کی ہندوتوا ذہنیت کی عکاسی ہوتی تھی اور انہوں نے پاکستان مخالف جذبات کو بھڑکانے کو رواج بنایا ۔رپورٹ کے مطابق مودی حکومت نے جنرل بپن راوت کی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے طورپر تقرری کیلئے یہ عہدہ قائم کیاتھا تاکہ وہ بھارتی فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد ہندوتوا کاز کی خدمت کرسکیں۔

    ادھر غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع راجوری میں دو بھارتی فوجی فائرنگ کے پراسرارواقعے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فائرنگ کا یہ واقعہ کنٹرول لائن کے ساتھ راجوری کے علاقے Hanjanwaliمیں پیش آیا جس میں دو بھارتی فوجی زخمی ہو گئے بعدازاں و ہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے ۔ غیر مصدقہ اطلاعات میں اس واقعے کو فوجیوں کی آپس میں فائرنگ کا نتیجہ قراردیاگیا ہے ۔