Baaghi TV

Category: کشمیر

  • بھارت:انتہاپسند ہندووں‌ نےمسلمان شخص کومارمارکرقتل کردیا:بہارمیں‌ نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی

    بھارت:انتہاپسند ہندووں‌ نےمسلمان شخص کومارمارکرقتل کردیا:بہارمیں‌ نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی

    پٹنہ :بھارت:آج پھرانتہاپسند ہندووں‌ نےمسلمان شخص کومارمار کر قتل کر دیا:بہارمیں‌ نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست بہار کے ضلع ارریہ میں ہندو تو ہجوم نے ایک مسلمان شخص کو مویشی چوری کرنے کا الزام لگا کر پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 52سالہ محمد صدیقی کو بدھ کے روز ضلع کے گاوں بھوانی پور میں ایک ہجوم نے مویشی چوری کرنے کے الزام میں قتل کر دیا۔ اس بہیمانہ حملے کی ویڈیو جمعہ کوسوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعدواقعے کے بارے میں پتہ چلا۔

    پھولکاہ تھانے کی انسپکٹر نگینہ کمار نے بتایا کہ محمدصدیقی کو لاٹھیاں اور مکے مارے گئے اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔انہوں نے کہا کہ نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے تاہم تاحال کوئی گرفتار عمل میں نہیں آئی ہے۔

    ادھر اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کتھر نے کھلی ج ہوںپر نماز ادا کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وزیر اعلیٰ کے حوالے سے ایک بیان میں کہا گیا کہ کھلی جگہوں پر نماز کے لیے دیے گئے تمام سابقہ احکامات کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے ۔ بیان میں کہا گیا کہ اب عوامی مقامات پر نماز ادا نہیں کی جائے گی۔

    انہوں نے کہاکہ امن و امان کے حوالے سے کوئی تناﺅ نہیں ہونا چاہئے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم وقف بورڈ کی اسکی جگہوں کو تجاوزات سے پاک کرانے میں مدد کریں گے اور اس وقت تک لوگوں کو اپنے گھروں وغیرہ میں نماز ادا کرنی چاہیے۔

    دریں اثنا ریاست ہریانہ کے گڑگاوں میں انتہا پسند ہندو تنظیموں کے ارکان نے مسلمانوں کو جمعہ کو ایک مرتبہ پھر کھلی جگہوں پر نماز کی اجازت نہیں دی۔گڑگاﺅں کے سیکٹر 37 میں نماز کی ادائیگی کو روکنے کے لیے آٹھ دسمبر کو ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہونے والے بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف بپن راوت، ان کی اہلیہ اور دیگر فوجی جوانوں کے لیے تعزیتی اجلاس منعقد کیے گئے ۔ ہندو انتہا پسند تنظیموں کے ارکان نے سیکٹر 44 میں واقع ایک پارک میں بھی نماز جمعہ میں خلل ڈالا۔

  • بھارت کشمیریوں کا قتل عام کررہا ہے اورعالمی برادری خاموش تماشائی بنی بیٹھی:ایک لاکھ سے زائد شہید

    بھارت کشمیریوں کا قتل عام کررہا ہے اورعالمی برادری خاموش تماشائی بنی بیٹھی:ایک لاکھ سے زائد شہید

    اسلام آباد:بھارتی ظالم ، قابض افواج کشمیریوں کا قتل عام کررہی ہیں اورعالمی برادری خاموش تماشائی بن بیٹھی:ایک لاکھ سے زائد شہید اطلاعات کے مطابق آج جب دنیا بھر میں آج انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جا رہا ہےجبکہ دوسری طرف بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی مسلسل دھجیاں اڑا رہی ہیں۔

    آج انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 10 دسمبر 1948 کا انسانی حقوق کاعالمی اعلامیہ بےشک ایک سنگ میل تھا لیکن کشمیریوں کےانسانی حقوق کی خلاف ورزیاںمسلسل جاری ہیں۔رپورٹ میں کہا کہ انسانی حقوق کےعالمی اعلامیے میں درج 30 بنیادی انسانی حقوق میں سے ایک بھی بھارت کےغیر قانونی زیرقبضہ جموں وکشمیرمیں موجود نہیں ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی قابض فورسز گزشتہ 74 برسوں سے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی خلاف ورزیاں کر رہی ہیں اور حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے کی پاداش میں بلا لحاظ عمر و جنس کشمیریوں کو بے رحمانہ طریقے سے قتل، گرفتار کر رہی ہیں او انہیں تشدد اور تذلیل کا نشانہ بنا رہی ہے۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں میں جنوری 1989 سے اب تک 95ہزار9سو25 بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیا ہے جن میں سے 7 ہزار 2سو15کو زیر حراست شہید کیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان شہادتوں کے نتیجے میں 22ہزار 9سو39 خواتین بیوہ اور 1لاکھ7ہزار8سو55 بچے یتیم ہوئے۔بھارتی فوجیوں نے اس عرصے کے دوران 11ہزار2سو46 خواتین کو بے حرمتی کا نشانہ بنایا اور 1لاکھ10ہزار4سو45 رہائشی مکانات اور دیگرعمارتوںکو نقصان پہنچایا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے اس عرصے میں 8ہزار سے زائد کشمیریوں کو دوران حراست لاپتہ کیا۔

    کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فورسز اہلکاروں کی طرف سے سے چلائے گئے پیلٹ چھروں سے سکول جانے والے ہزاروں کشمیری لڑکے اور اور لڑکیاں زخمی ہوئے جبکہ 19 ماہ کی حبہ جان، دس سالہ آصف احمد شیخ ، سولہ سالہ عاقب ظہور ، سترہ سالہ الفت حمید ، سترہ سالہ بلال احمد بٹ، انشاءمشتاق، انیس سالہ طارق احمد گوجری اور انیس سالہ فیضان اشرف تانترے سمیت درجنوں بچے پیلٹ لگنے سے مکمل طور پر اپنی بصارت سے محروم ہو گئے۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بھارتی فوجیوں نے رواں برس( 2021 ) کل جماعتی حریت کانفرنس کے سرکردہ رہنما محمد اشرف صحرائی اور بارہ کے لگ بھگ خواتین سمیت 484 کشمیریوں کو شہید کیا ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوجیوںنے زیادہ تر کشمیریوں کو محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوںکے دوران جعلی مقابلوں میں شہید کیا گیا۔فوجیوں نے رواں برس 1ہزار48 گھروں اور دیگر عمارتوں کو نقصان پہنچایا اور 118 خواتین کی بے حرمتی کی جبکہ بھارتی فوجیوں، پولیس اہلکاروں اور بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز، صحافیوں، معمر خواتین اور لڑکوں سمیت 17ہزار سے زائد افراد کو کالے قوانین کے تحت گرفتار کیا۔ اس عرصے میں مقبوضہ علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی 10ہزار 5سو کارروائیاں کی گئیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قابض بھارتی حکام نے رواں برس سرینگر کی تاریخی جامع مسجد اورعلاقے کی کئی دیگر بڑی مساجد، خانقاہوں اور امام بارگاہوں میں لوگوں کو نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکام نےعوام کو اس عرصے کے دوران محرم اور عید میلاد النبی ﷺ کے جلوس جیسے مذہبی اجتماعات کے انعقاد سے بھی کشمیریوںکو روک دیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محاصرے اور تلاشی کی مسلسل کارروائیوں کی وجہ سے کشمیریوں کی زندگی بری طرح متاثر ہے اور بھارتی فوجی محاصرے کی وجہ سے مقبوضہ علاقے کی معیشت کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، نعیم احمد خان، ایاز محمد اکبر، الطاف احمد شاہ، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال، فاروق احمد ڈار، امیر حمزہ، محمد یوسف میر، محمد رفیق گنائی، فیروز احمد خان، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، ظہور وٹالی، غلام محمد بٹ، سید شاہد یوسف، سید شکیل یوسف، محمد یوسف فلاحی، ظہور احمد بٹ، انجینئر رشید، حیات احمد بٹ، انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز اور صحافی آصف سلطان سمیت حریت رہنماوں، کارکنوں، نوجوانوں، انسانی حقوق کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کالے قوانین کے تحت مقبوضہ علاقے اور بھارت کی مختلف جیلوں میں بند ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قابض انتظامیہ نے حریت فورم کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق کو 5اگست 2019سے گھر میں نظر بند کر رکھا ہے اور انہیں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جا رہی حتیٰ کہ انہیں جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ ادا کرنے اور وہاں لوگوں سے خطاب کرنے سے بھی روکا جا رہا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری آگے آئے اور مقبوضہ جموںوکشمیر میں ریاستی دہشت گردی بند کرانے اور کشمیریوں کو انکا پیدائشی حق، حق خود ارادیت دلانے کیلئے بھارت پر دباو ڈالے۔

    دریں اثنا حریت رہنماوں نے اپنے بیانات میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی ابتر صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اپنی ٹیمیں علاقے میں بھیجیں۔

  • مقبوضہ کشمیر:مسلمانوں نے پنڈت خاتون کی آخری رسوم ادا کرکے مثال قائم کردی

    مقبوضہ کشمیر:مسلمانوں نے پنڈت خاتون کی آخری رسوم ادا کرکے مثال قائم کردی

    سری نگر :مقبوضہ کشمیر:مسلمانوں نے پنڈت خاتون کی آخری رسوم ادا کرکے حیران کردیا،اطلاعات کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے بیگام گاؤں میں مقامی مسلمانوں نے مذہبی ہم آہنگی، انسانیت اور کشمیریت کی عمدہ مثال قائم کی ہے جہاں وہ ایک عمر رسیدہ راجپوت ہندو خاتون کی آخری رسومات انجام دینے میں پیش پیش رہے۔

    تفصیلات کے مطابق عمر رسیدہ راجپوت ہندو خاتون لاجونتی دیوی کا جوں ہی انتقال ہوا تو یہ خبر سُنتے ہی مقامی مسلمان غمزدہ کنبوں کی ڈھارس بندھانے پہنچ گئے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جب مذکورہ خاتون کی موت واقع ہونے کی خبر گاؤں میں پھیل گئی تو گاؤں کے سارے لوگ ان کے گھر پر جمع ہوئے اور رات بھر وہیں ٹھہرے رہے تاکہ لواحقین کی ڈھارس بندھائیں’۔

    مقامی مسلمانوں نے انہیں تنہا ہونے کا احساس تک نہیں ہونے دیا۔ پورا گاؤں رات بھر ہمارے ساتھ تھا۔مقامی لوگوں نے ہی خاتون کی آخری رسومات انجام دینے کے لیے سارے انتظامات کئے۔ واضح رہے کہ مقامی مسلمانوں نے ہندو خاتون کی آخری رسومات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر دنیا کو پیغام دیا کہ وہ ہندو مسلم بھائی چارے کی شمع بھی فروزاں رہے

  • بھارت:جہاں‌روزانہ 3دلت خواتین کو عصمت دری کےبعد قتل کردیا جاتا ہے

    بھارت:جہاں‌روزانہ 3دلت خواتین کو عصمت دری کےبعد قتل کردیا جاتا ہے

    نئی دہلی :بھارت:جہاں‌روزانہ 3دلت خواتین کو عصمت دری کےبعد قتل کردیا جاتا ہے،اطلاعات کے مطابق فسطائی راشٹریہ سوائم سیوک سنگ کے زیر اثرمودی حکومت بھارت کو ایک ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم ملک میں دلتوں کو جوہندوئوںکی آبادی کاتقریبا ایک چوتھائی ہیں کو مساوی شہری نہیں سمجھا جاتا اور انہیں اونچی ذات ہندوئوںکے مندروں میں داخل ہونے کی بھی اجازت نہیں ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی جانیوالی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت دلت برادری جسے "اچھوت”بھی کہا جاتا ہے کو صدیوں سے نام نہاد اونچی ذات کے ہندوں کی طرف سے منظم ظلم وجبر کا سامنا ہے۔بھارت میں ذات اورپات اور ہندو ثقافت کے نظام تحت اونچی ذات کے ہندودلتوںکو یکساں حقوق نہیں دیے جاتے ہیں۔بھارت کے بعض دیہات میں دلتوں کو جوتے پہننے ، سائیکل یا گھوڑے پر سوارہونے، اونچی ذات کے ہندوئوں کے سامنے اپنی بارات لے جانے یا اونچی ذات کے ہندئوں کے مندر میں پوجا کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔

    گزشتہ کچھ برس کے دوران دلتوں پرڈھائے جانیوالے مظالم کے جائزے کے دوران اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ہندو سماج میں دلتوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا ہے۔قانون نافذ کرنے والے ادارے بشمول پولیس اور عدلیہ ہمیشہ اونچی ذات کے ہندومجرموں کی حمایت کرتے ہیں ۔بھارت میں 2011میں کی گئی مردم شماری سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت کی دلت آبادی کا تقریبا نصف حصہ چار ریاستوں میں مقیم ہے۔

    اتر پردیش شیڈول کاسٹ کی مجموعی طورپر20.5فیصدآبادی کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے، جب کہ دلت ہندوستان کی آبادی کا تقریبا 16.6فیصدہیں۔اتنی بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود دلتوں کو ہمیشہ اونچی ذات کے ہندوئوں کے ہاتھوں بے عزتی، ظلم و تشدد اور انکی خواتین کو عصمت دری کا خوف رہتا ہے ۔ دلت خواتین دنیا میں سب سے زیادہ مظلوم ہیں۔ مودی کے ہندوستان میں دلت خواتین کو عصمت دری اور بھوک کے علاوہ اور کچھ نہیں ملتا۔

    حال ہی میں ریاست اتر پردیش میں متھرا کے علاقے کوسی کلاں میں جسم فروشی سے انکار کرنے پر دلت لڑکی کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنایا گیاتھا۔ کے ایم ایس کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں دلت خواتین کواکثر عصمت دری کانشانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ اعلی ذات کے ہندو سمجھتے ہیں کہ انہیں ان کی عصمت دری کرنے کا حق حاصل ہے۔ بھارت میں روزانہ اوسطاً 3 دلت خواتین کی عصمت دری اور 2 و قتل کیا جاتا ہے۔ بھارت میں دلت لڑکیوں کے خلاف ہونے والے حملوں کو پولیس اور میڈیا اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔

  • بھارتی فوج کی طرف سے کشمیریوں کو معذور بنانے پیلٹ گنز اوروحشیانہ تشدد جاری

    بھارتی فوج کی طرف سے کشمیریوں کو معذور بنانے پیلٹ گنز اوروحشیانہ تشدد جاری

    سرینگر: بھارتی فوج کی طرف سے کشمیریوں کو معذور بنانے پیلٹ گنز اوروحشیانہ تشددکا استعمال کررہا ہے،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طورپر بھار ت کے زیر قبضہ جموںوکشمیر میں بھارتی فوجیوں کے وحشیانہ ہتھکنڈوں کی وجہ سے ہزاروں کشمیری عمر بھر کیلئے معذور ہو چکے ہیں جبکہ مقبوضہ علاقے میں پر امن مظاہرین پرمہلک پیلٹ گنزکی فائرنگ سے 200سے زائد افراد بصارت سے محروم ہو چکے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی گئی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فوجی کشمیریوں کو اپا ہج بنانے کیلئے انتہائی ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں جن میں پر امن مظاہروںاور سوگواران پرگولیوں ،پیلٹ گنز ، پا وا اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال شامل ہے۔ اسکے علاوہ وحشیانہ ظلم و تشدد، بجلی کے جھٹکے، ٹانگوں کے پٹھوں کو لکڑی کے رولر سے کچلنا ، گرم چیزوں سے جلانا اور تفتیشی مراکز میں الٹا لٹکانا بھی شامل ہیں جبکہ محکوم کشمیریوں کے خلاف کھلونانما بموں اور بارودی سرنگوں کا بھی استعمال کیا جارہا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فورسز کی طرف سے نہتے کشمیریوں کے خلاف مہلک پیلٹ گنز کے وحشیانہ استعمال سے مقبوضہ علاقے میں معذور ہونے والے افراد کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور اس وقت تین ہزار سے زائد کشمیری اپنی ایک یا دونوں آنکھوں کی بصارت کھونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ رپورٹ میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں نہتے شہریوں کو ایک منظم طریقے سے معذوربنانے کے بھارتی حکومت کے غیر انسانی اقدام کا فوری نوٹس لے۔

  • بھارت دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب کشمیریوں سے انکی زمینیں بھی چھین رہا ہے:عمرعبداللہ

    بھارت دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب کشمیریوں سے انکی زمینیں بھی چھین رہا ہے:عمرعبداللہ

    سری نگر : بھارت دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب کشمیریوں سے انکی زمینیں بھی چھین رہا ہے،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں‌ بھارتیوں کوکشمیریوں‌ کی زمینیں‌ چھین کردی جارہی ہیں ، اس حوالے سے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب لوگوں سے انکی زمینیں چھینی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس 370اور 35اے کی دفعات کی بحالی کی لڑائی میں کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹے گی ۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق عمر عبداللہ نے بھدرواہ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر یوں سے انکی زمینیں چھیننے کا مقصد کیا ہے ۔ انہوں نے کہا یہ زمینیں تو برسہا برس سے یہاں کے لوگوں کے تصرف میں ہیں تو آج یہ ان سے کیوں چھینی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر کو ہند مسلم سکھ اتحاد ورثے میں ملا ہے جبکہ یہاں کچھ سیاسی جماعتیں ایسی ہیں جو ہمیشہ اسی تاک میں رہتی ہیں کہ کسی طرح لوگوں میں جھگڑے پیدا کیے جائیں تاہم ہمیں ان کی سازشوں کو ناکام بنانا ہے اور اپنے بھائی چارے کو قائم و دائم رکھنا ہے۔

    انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اب کہا جا رہا ہے کہ جب کشمیر میں حالات مکمل طور پر ٹھیک ہو جائیں گے تب ریاست کا درجہ واپس دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی بتائے کہ گزشتہ اڑھائی برس میں یہاں کون سا امن قائم ہوا جبکہ الٹا امن کے ماحول کو بگاڑ دیا گیا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیر کو یونین ٹیری ٹری میں تبدیل کر کے یہاں کون سی بہتری آئی ہے ، کہاں امن قائم ہوا، کس کو روزگار ملا، کہاں سرمایہ کاری ہوئی ، کس جگہ پر نئی یونیورسٹی یا کالج بنا اور کون سا نیا منصوبہ شروع ہوا۔ انہوںنے کہا کہ بھارتی حکومت کے اس سب جھوٹ اور فریب کا جواب کون دے گا۔

    دیں اثنا انڈین نیشنل کانگریس کی مقبوضہ علاقے کی شاخ کے رہنما غلام نبی آزاد نے جموں خطے کے ضلع راجوری میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دفعہ 370کی منسوخی کے بعدجموںوکشمیر 30برس پیچھے چلا گیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ جموں وکشمیر کو خراب اور بہت ہی غریب کر دیا گیا ہے۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ جموںوکشمیر کو بھارت میں ضم کرنے سے پہلے جموں خطے میں تیرہ ہزار کے لگ بھگ صنعتی کارخانے تھے جن میں سے اب ساڑھے سات ہزار کارخانے بند ہو گئے ہیںجبکہ وادی کشمیر میں تما م کارخانے بند پڑے ہیں۔

     

     

  • بھارتی فوج میں‌ خودکُشی میں شدید اضافہ:کیسے کمی لائے جائے؟ کمیٹی قائم

    بھارتی فوج میں‌ خودکُشی میں شدید اضافہ:کیسے کمی لائے جائے؟ کمیٹی قائم

     

    نئی دہلی:بھارتی فوج میں‌ خودکُشی میں شدید اضافہ:کیسے کمی لائے جائے؟ کمیٹی قائم,اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج میں خودکشی کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے اور ہر روز کسی فوجی جوان اور افسرکی خودکشی کی خبر آرہی ہے ، ادھر اسی حوالے سے بھارت نے فورسز میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے وزارت داخلہ کے سینئر افسروں مشتمل ایک ٹاسک فورس قائم کر لی ہے۔

     

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ٹاسک فورس کی سربراہی بھارتی سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل کلدیپ سنگھ کر رہے ہیں جب کہ بی ایس ایف، آئی ٹی بی پی، سی آئی ایس ایف، ایس ایس بی اور آسام رائفلز کے خصوصی یا ایڈیشنل ڈی جی فورس کے رکن کے طور پر کام کریں گے۔ٹاسک فورس انفرادی سطح پر متعلقہ خطرے کے عوامل اور حفاظتی عوامل کی نشاندہی کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کرے گی۔

     

     

     

    بھارتی حکومت کی طرف سے اگست تک اپ ڈیٹ کیے گئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ چھ برسوں میں بھارتی سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز (سی اے پی ایف) یا مرکزی نیم فوجی دستوں کے 680 اہلکاروں نے خودکشی کی۔وزارت داخلہ کی طرف سے ٹاسک فورس سے کہا گیا ہے کہ وہ خطرے والے عوامل کی نشاندہی کرے جیسے فورسز اہلکار کی طرف سے ماضی میں خودکشی کی کوشش، شخصیت کی خاصیت کے طور پر جذباتیت، ذہنی بیماری، شراب یا منشیات کا استعمال، جارحانہ رجحانات، شدید جذباتی بحران، شدید جسمانی بیماری یا دائمی جسمانی بیماری۔

     

     

    بھارتی وزارت داخلہ کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ ٹاسک فورس فورسز میں خودکشیوں کے مسئلے کو جامع طریقے سے حل کرنے کی کوشش کر ے گی

  • بھارتی فوج  کے مظالم جاری :گزشتہ 3برس کے دوران 651 کشمیریوں کو شہید کیا

    بھارتی فوج کے مظالم جاری :گزشتہ 3برس کے دوران 651 کشمیریوں کو شہید کیا

    سرینگر:بھارتی فوج کے مظالم جاری :گزشتہ 3برس کے دوران 651کشمیریوں کو شہید کیا،اطلاعات کےمطابق مقبوضہ وادی کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کا سلسلہ جاری رہا اور تازہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے دوران 2019سے اب تک گزشتہ تین سال میں13خواتین سمیت 651کشمیریوں کو شہید کیاہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے جاری ایک رپورٹ کے مطابق ان میں سے 99کشمیریوں کو بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے حراست کے دوران جعلی مقابلوں میں شہید کیا۔ اس عرصے کے دوران بھارتی فوجیوں، پولیس اہلکاروں اور بدنام زمانہ اتحقیقاتی ادارے این آئی نے مقبوضہ علاقے میں کم سے کم 12ہزار694 محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں میں 18سے زائد حریت رہنمائوں، کارکنوں،کشمیری نوجوانوں، طلبا، صحافیوں، سول سوسائٹی کے ارکان اور خواتین کو گرفتار کیا۔

    ادھر غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما اور ڈیموکریٹک پولٹیکل موومنٹ کے چیئرمین خواجہ فردوس نے کہا ہے کہ کشمیری عوام بھارتی ظلم وتشدد اور بدترین ریاستی دہشت گردی کے باوجود اپنی حق پر مبنی جدوجہد آزادی سے ہرگز دستبردار نہیں ہو ں گے اور اپنی جدوجہد کو اسکے منطقی انجام تک پہنچا ئیں گے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق خواجہ فردوس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ علاقے میں رائج کالے قوانین کے تحت بھارتی فوجیوں کو نہتے کشمیریوں کے قتل عام کی کھلی چھوٹ حاصل ہے اور فوجی اہلکار ترقی اور انعامات کی لالچ میں بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میںملوث ہے ۔

    خواجہ فردوس نے کہا کہ بھارتی فوج چھاپوں کے دوران دانستہ طورپرچادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کررہی ہے تاکہ کشمیری عوام کو اپنی حق پر مبنی تحریک سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے اوریہ عالمی برادری کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے کو کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قرار دادوں کے مطابق حل کرانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قام ہوسکے۔

    حریت رہنما نے جموںو کشمیر اور بھارت کی جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظر بندحریت رہنمائوں اور کارکنوں کی حالت زار پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری نظر بند وں کو جیل مینول کے مطابق کوئی سہولیت فراہم کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر کشمیری قیدی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوچکے ہیں جنہیں علاج معالجے کی سہولت بھی فراہم نہیں کی جارہی ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ جیلوں میں نظر بند کشمیریوں کی فوری رہائی کیلئے اپنی آوازبلند کریں ۔

     

  • بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کی انتہا ہوچکی ہے:بھارت ظلم سے باز آجائے:وزیراعظم

    بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کی انتہا ہوچکی ہے:بھارت ظلم سے باز آجائے:وزیراعظم

    کراچی :بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کی انتہا ہوچکی ہے:بھارت ظلم سے باز آجائے:وزیراعظم کا کراچی میں خطاب ،اطلاعات کے مطابق آزادجموں و کشمیر کے وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی نے کہا ہےکہ بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کی انتہا ہوچکی ہے، آر ایس ایس کے غنڈے مسلمانوں کا قتل عام کررہے ہیں۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ وادی میں بھی بربریت جاری ہےاور عالمی برادری صورتحال کی سنگینی کا نوٹس لے۔

    سردار عبدالقیوم نیازی کا کہنا تھا کہ میں سندھ والوں کا مشکور ہوں، پاکستان میں اقلیتوں کو تمام حقوق حاصل ہیں، کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہورہا ہے، ہندوستان میں مودی اقلتیوں پر ظلم کررہا ہے۔

    وزیر اعظم آزاد کشمیر کا مزید کہنا تھا کہ بانی پاکستان کےمزار پر حاضری کا فریضہ دینا ہے،جذبے کے ساتھ استقبال پر شکرگزار ہوں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی جارحیت اور گولا باری جارہی ہے، ایسے خطے سے وزیراعظم ہوں جسے ایل او سی کہتے ہیں، میرا گھر ایک ہزار گز بھارتی توپوں کے سامنے ہیں اورمیں آج بھی اس ایل او سی پر چلتا ہوں۔

    دوسری طرف کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں بار بار وحشیانہ مظالم کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے اور بھارتی فوجیوں کی طرف سے جعلی مقابلوں میںبے گناہ لوگوں کو شہید کرنا مقبوضہ جموں وکشمیر میں ایک معمول بن چکا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ مودی حکومت نے مقبوضہ علاقے کے نہتے عوام کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے اور وہ کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے کے لیے اپنی فوجی طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ کشمیری سات دہائیوں سے بھارتی مظالم برداشت کر رہے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کشمیریوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے دہشت گردی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہندوتوا کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے لیکن بھارتی مظالم کشمیریوں کے عزم کو توڑنہیں سکتے کیونکہ ان مظالم سے کشمیریوں کا جذبہ آزادی مزید مضبوط ہوجاتا ہے۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی کا عنوان شہداءکے لہو سے لکھا گیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہو رہا ہے لیکن دنیا کی خاموشی سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں اپنے مظالم بڑھانے کے لئے بھارت کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ کشمیر کے بہادر عوام بھارت کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیں گے اور تحریک آزادی کو اس کے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کو مقبوضہ علاقے میں بھارت کی وحشیانہ کارروائیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کرنی چاہیے اور دنیا کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی مظالم کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہیے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ کشمیریوں کو بھارتی قبضے کے چنگل سے آزادی حاصل کرنے کے لیے عالمی برادری کی حمایت کی ضرورت ہے اور بھارت کو علاقے میں اپنی ریاستی دہشت گردی کی قیمت چکانا پڑے گی۔

     

     

     

     

  • حریت کانفرنس کا جیلوں میں نظر بند حریت رہنماوں اور کارکنوں کی حالت زار پر اظہارتشویش

    سری نگر: حریت کانفرنس کا جیلوں میں نظر بند حریت رہنماوں اور کارکنوں کی حالت زار پر اظہارتشویش ،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارت اور مقبوضہ علاقے کی بدنام زمانہ جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظر بند حریت رہنماوں اور کارکنوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی اور جیل مینول کے مطابق بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے کشمیری نظربندمتعدد امراض کا شکارہوچکے ہیں۔انہوں نے بھارتی فورسز کی طرف سے مقبوضہ علاقے کے طول وعرض میں اندھا دھند گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی مزاحمتی تحریک سے وابستہ ساڑھے چھ ہزار سے زائد رہنماﺅں اور کارکنوں کو بے بنیاد اور من گھڑت الزامات پر سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ہے۔

    ترجمان نے جبری گرفتاریوں کو سیاسی انتقام کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی جابرانہ پالیسیوں کا مقصد کشمیر ی عوام کے آزادی کے بیانیے کو تبدیل کرنا ہے جو علاقے پر غیر قانونی قبضے کے بعد فسطائی بھارتی حکومت کا خواب رہاہے۔

    ترجمان نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، وائس چیئرمین شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، ڈاکٹر شفیع شریعتی، ڈاکٹر محمد قاسم، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، ڈاکٹر غلام محمد بٹ، محمد یوسف میر، امیر حمزہ، محمد یوسف فلاحی، نعیم احمد خان، الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، شاہد یوسف، شکیل یوسف، ظہور وٹالی، طارق احمد ڈار، نذیر احمد ڈار، ظہور بٹ، رفیق گنائی، مقصود بٹ، ایوب میر، ایوب ڈار، نذیر پٹھان، غضنفر اقبال، عاقب نجار، عارف وانی، بشیر احمد، فاروق شیخ، ممتاز احمد، مظفر احمد ڈار، طارق پنڈت، حکیم شوکت، اسد اللہ پرے، معراج الدین نندا، عبدالرشید لون، ہلال احمد پیر، عابد زرگر، آصف سلطان، مولوی ناصر، مجاہد صحرائی اور راشد صحرائی سمیت غیر قانونی طور پر نظر بند حریت رہنماﺅں اور کارکنوں کی استقامت اور بہادری کو سراہا ۔

    انہوں نے کہا کہ ان نظربندوں نے کشمیر کاز کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔حریت ترجمان نے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام تمام ”ضمیر کے قیدیوں‘ ‘کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ غلامی کی زنجیروں کو توڑنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ طبی دیکھ بھال اور بنیادی سہولیات کے بغیربھارت اور مقبوضہ علاقے کی تمام جیلوں میں ڈیتھ سیلوں میں نظر بند کشمیری سیاسی قیدیوں کی حالت زار کا نوٹس لے۔ترجمان نے علاقائی اور عالمی امن و خوشحالی کے لئے تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔