Baaghi TV

Category: کشمیر

  • مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی سرحد کے قریب رات کا کرفیو

    مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی سرحد کے قریب رات کا کرفیو

    بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ضلع مجسٹریٹ سامبا نے لائن آف کنٹرول سے 2 کلومیٹر تک کے علاقوں میں رات کا کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ آیوشی سوڈان کے جاری کردہ حکم کے مطابق کرفیو آئندہ دو ماہ تک روزانہ رات دس بجے سے صبح پانچ بجے تک نافذ رہے گا یہ فیصلہ پاکستان اور بھارت کی سرحدی نگرانی کو بڑھانے اور رات کے اوقات میں شہریوں کی نقل و حرکت کو ریگولیٹ کرکے غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے سیکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کیا گیا۔ کرفیو کے اوقات کے دوران نقل و حرکت کی اجازت صرف ضروری وجوہات کی بناء پر دی جائے گی اور لوگوں کو بی ایس ایف یا پولیس اہلکاروں کے مطالبے پر پیش کی جانے والی شناخت اپنے ساتھ رکھنی ہوگی۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  • خاموش زخم، زندہ جدوجہد،تحریر: اقصیٰ جبار

    خاموش زخم، زندہ جدوجہد،تحریر: اقصیٰ جبار

    5 اگست 2019—دنیا کے لیے ایک معمول کا دن، لیکن کشمیریوں کے لیے تاریخ کا ایک اور زخم، ایک اور سانحہ۔ اس روز بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت، آرٹیکل 370 اور 35A، کو ختم کر کے نہ صرف کشمیریوں کے آئینی و سیاسی حقوق سلب کیے بلکہ ان کی شناخت اور مستقبل پر بھی حملہ کیا۔ یہ دن کشمیریوں کے لیے یومِ سیاہ تھا، اور دنیا کے لیے ایک آزمایش—جسے وہ آج تک نہیں نبھا سکی۔

    کشمیر کی وادی، جو کبھی "جنتِ نظیر” کہلاتی تھی، آج فوجی محاصرے، لاک ڈاؤن، اور گولیوں کی آوازوں میں گھری ہوئی ہے۔ 5 اگست کے بعد وہاں جو کچھ ہوا وہ کسی فلمی منظرنامے سے کم نہ تھا—موبائل نیٹ ورک بند، انٹرنیٹ سروس معطل، اخبارات خاموش، ٹی وی اسکرینیں سیاہ، اور لاکھوں لوگ خوف کے سائے میں مقید۔ یہ سب کچھ ایک ایسی جمہوریت کے ہاتھوں ہو رہا تھا جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتی ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ بھارت کا اقدام نہ صرف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے منافی تھا بلکہ اس کے اپنے آئین اور وفاقی ڈھانچے کے بھی خلاف تھا۔ جموں و کشمیر، جو اقوامِ متحدہ کے مطابق ایک متنازعہ علاقہ ہے، اس کی حیثیت کو یک طرفہ طور پر تبدیل کرنا بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ عالمی برادری اس سب پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ انسانیت، حقوق، آزادی—سب صرف الفاظ بن کر رہ گئے ہیں، جب مظلوم مسلمان ہو۔

    یومِ استحصال ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کشمیر صرف جغرافیہ کا مسئلہ نہیں، یہ ایک قوم کی شناخت، وقار اور خودارادیت کی لڑائی ہے۔ آج بھارت آبادیاتی تبدیلیوں کے ذریعے وہاں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ غیر ریاستی باشندوں کو زمینیں دی جا رہی ہیں، ڈومیسائل جاری کیے جا رہے ہیں، اور کشمیریوں کی زمینیں چھینی جا رہی ہیں۔ یہ سب کچھ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت کیا جا رہا ہے تاکہ کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو مٹا کر اسے ایک ہندو اکثریتی خطہ بنا دیا جائے۔

    اس سارے منظرنامے میں پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے، لیکن اب صرف بیانات، تقاریر یا قراردادیں کافی نہیں۔ پاکستان کو سفارتی محاذ پر مزید جارحانہ اور نتیجہ خیز اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ کشمیر کو عالمی ضمیر پر دستک دینے کے لیے ایک منظم، مسلسل اور بلند سطح کی سفارتی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ دنیا کے سامنے یہ واضح کرنا ہو گا کہ کشمیر محض دو ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ ہے۔

    داخلی طور پر بھی پاکستان کو سمجھنا ہو گا کہ ایک مستحکم، خوشحال اور متحد پاکستان ہی کشمیریوں کے لیے اصل امید ہو سکتا ہے۔ جب ہم خود آپس میں تقسیم ہوں گے، معیشت کمزور ہو گی، ادارے بکھرے ہوں گے، تو ہماری آواز عالمی سطح پر سنجیدگی سے نہیں سنی جائے گی۔

    کشمیر کی جدوجہد آج بھی جاری ہے۔ گولیاں ان کے حوصلے کو نہیں مار سکتیں، قید ان کی سوچ کو قید نہیں کر سکتی، اور لاک ڈاؤن ان کے جذبے کو کمزور نہیں کر سکتا۔ ہر شہید نوجوان، ہر آنسو بہاتی ماں، ہر زخمی بچہ اس جدوجہد کا زندہ استعارہ ہے۔

    5 اگست کو یومِ استحصال کے طور پر منانا صرف رسمِ احتجاج نہیں، بلکہ یہ ہمیں یہ یاد دلانے کا دن ہے کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا فرض ہے، کہ خاموشی جرم ہے، اور کہ کشمیریوں کا خون ہم پر قرض ہے۔جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا، یہ زخم رستا رہے گا—خاموش، لیکن گواہ؛ اور جدوجہد جاری رہے گی—زخمی، لیکن زندہ۔

  • دروازے جو کبھی کھلے  نہیں،تحریر ؛ اقصیٰ جبار

    دروازے جو کبھی کھلے نہیں،تحریر ؛ اقصیٰ جبار

    کبھی کچھ دن تاریخ میں ایسے آتے ہیں جن کے ہونے سے زیادہ ان کا "نہ کھلنا” ہمیں یاد رہ جاتا ہے۔ 13 جولائی 1931ء بھی ایسا ہی ایک دن ہے۔ سری نگر کی فضا اُس دن خاموش نہ تھی، لیکن آج تک گونجی جا رہی ہے۔ جیل کے باہر سینکڑوں کشمیری جمع تھے۔ وہ کسی احتجاجی مارچ، کسی ہنگامہ آرائی، یا کسی بیرونی سازش کے لیے نہیں آئے تھے۔ وہ فقط ایک اذان مکمل کرنا چاہتے تھے۔ مگر ریاست نے یہ سادہ ترین مذہبی حق بھی برداشت نہ کیا۔ اذان شروع ہوئی، گولی چلی۔ ایک نوجوان شہید ہو گیا۔ دوسرا آگے بڑھا، پھر گولی۔ یہاں تک کہ بائیس نوجوانوں نے اذان کے ہر جملے پر اپنی جان دے دی، تب جا کے اذان مکمل ہوئی۔

    یہ اذان، صرف نماز کی دعوت نہیں تھی۔ یہ اذان، استبداد کے خلاف مزاحمت تھی۔
    یہ بغاوت نہیں، حق کی بازیافت تھی۔
    لیکن اُس دن جو دروازہ بند تھا—انصاف کا، آزادی کا، انسانیت کا—وہ آج 90 سال بعد بھی کھلا نہیں۔

    کشمیر کو "مسئلہ” کہنے والے اسے ایک زمینی تنازع، دو ملکوں کی ضد، یا علاقائی سیاست کا فٹ بال سمجھتے ہیں۔ لیکن جو کشمیری اپنی زندگی، عزت، شناخت اور دین کی حفاظت کے لیے روز جیتا اور مرتا ہے، اس کے لیے یہ مسئلہ نہیں، زندگی کا سوال ہے۔ اور یہ سوال، اُس دن سے باقی ہے جب بائیس جنازے اٹھے، اور دروازے بند رہ گئے۔

    وقت بدل گیا۔
    راجہ ہری سنگھ کی آمریت ختم ہوئی، مگر نئے چہرے نئے ہتھکنڈوں کے ساتھ آئے۔
    1947 کے بعد کشمیر کا ایک حصہ پاکستان کے ساتھ اور دوسرا بھارت کے قبضے میں چلا گیا۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں منظور ہوئیں، استصوابِ رائے کا وعدہ کیا گیا، لیکن وہ وعدے بھی ان بند دروازوں کے ساتھ دفن ہو گئے۔

    5 اگست 2019 کو جب بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، تو گویا آخری قفل بھی جڑ دیا گیا۔
    نہ اب وہاں کوئی پرچم بلند ہو سکتا ہے، نہ آواز۔
    انٹرنیٹ بند، صحافت پر پابندی، سیاسی کارکن لاپتہ، اور ہر کشمیری ایک قیدی۔
    ایک ایسا قیدی جس کے ہاتھ میں زنجیر بھی ہے، اور دنیا اس کی زنجیروں کی آواز سن کر بھی انجان بن چکی ہے۔

    یہ بات قابلِ افسوس ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرنے والا بھارت کشمیر میں بدترین آمریت کی مثال بن چکا ہے۔ پیلٹ گنز سے بچوں کی بینائی چھینی گئی، خواتین کو ہراساں کیا گیا، بزرگوں کی داڑھیاں نوچی گئیں، اور نوجوانوں کو بنا مقدمے کے قید کر دیا گیا۔

    لیکن ان مظالم سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ان سب پر دنیا خاموش ہے۔
    اقوامِ متحدہ اپنی قراردادوں کو فراموش کر چکی ہے، مسلم دنیا مفادات کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے، اور ہم—ہم صرف سال میں ایک دن، 5 فروری یا 13 جولائی کو، چند تقریریں، چند پوسٹر، اور کچھ اخباری مضامین کے ذریعے اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لیتے ہیں۔

    یہ بند دروازے صرف بھارت نے بند نہیں کیے،
    ہم نے بھی اپنی بے حسی، کمزوری، اور وقتی جذباتی ردِعمل سے ان دروازوں پر تالا ہی ڈالا ہے۔
    ہم نے کشمیریوں کو امید ضرور دی، لیکن عملی طور پر ان کے ساتھ کھڑا ہونے کا حوصلہ نہ دکھا سکے۔

    آج اگر کشمیر میں گولی چلتی ہے، تو اس کی بازگشت پاکستان کے دل میں سنائی دینی چاہیے۔
    کیونکہ کشمیر کوئی علیحدہ سرزمین نہیں، یہ ہماری شہ رگ ہے۔
    لیکن اگر شہ رگ میں درد ہو اور ہم اُسے محسوس نہ کریں، تو ہمیں اپنے ضمیر پر سوال اٹھانا ہوگا۔

    مسئلہ کشمیر، صرف کشمیریوں کا نہیں—یہ انسانیت کا امتحان ہے۔
    اور اس امتحان میں ناکامی صرف مظلوم کی شکست نہیں، ظالم کے حوصلے کی جیت بھی ہے۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف ماضی کی قربانیوں کو یاد کرنے تک محدود نہ رہیں،
    بلکہ یہ طے کریں کہ ان بند دروازوں کو کھولنے کے لیے اب ہمیں کتنی ہمت، کتنی عقل، اور کتنی حکمت درکار ہے۔
    کشمیر کو آزاد دیکھنے کی خواہش اگر دل میں زندہ ہے،
    تو یاد رکھیں—دعاؤں کے ساتھ ساتھ فیصلوں کی بھی ضرورت ہے۔

    وہ اذان تو مکمل ہو گئی تھی،
    مگر جو دروازے اُس دن بند ہوئے تھے،
    اب اُنہیں کھولنے کی ذمہ داری ہم سب پر ہے۔

  • آزاد کشمیر : ضلع حویلی میں کوسٹر کھائی میں گرنے سے 5 افراد جاں بحق

    آزاد کشمیر : ضلع حویلی میں کوسٹر کھائی میں گرنے سے 5 افراد جاں بحق

    آزاد کشمیر کے ضلع حویلی میں کوسٹر کھائی میں گرنے سے 5 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : پولیس کنٹرول روم کے مطابق حویلی میں کوسٹر کے کھائی میں گرنے کا واقعہ پھسلن کی وجہ سے پیش آیا، ڈرائیور گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا اور گاڑی کھائی میں جاگری پولیس کنٹرول روم کا بتانا ہے کہ حادثے کے زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کے لیے مقامی افراد اور امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پر موجود ہیں۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی گاڑی کہوٹہ فارورڈ سے راولپنڈی جا رہی تھی کہ حویلی میں محمود گلی کے قریب کھائی میں جا گری۔

    دوسری جانب ایبٹ آباد کے علاقے ترنوائی میں ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا، جہاں ایک اسکول وین کھائی میں جاگری، جس کے نتیجے میں 2 بچیاں جاں بحق اور 11 افراد زخمی ہوگئے۔

    کراچی: سرنگ کھود کر تیل کی لائن سے چوری ، 6 ملزمان گرفتار

    پولیس کے مطابق، حادثے کے فوراً بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں، تاہم راستہ دشوار گزار ہونے کی وجہ سے ریسکیو ٹیموں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    تھانہ مانگل کے حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    انسانی اسمگلرز کے گرد گھیرا تنگ، جائیدادیں ضبط، 416 گرفتار

  • کشمیریوں کا حق خودارادیت اور اقوام متحدہ کا کردار .تحریر  :  ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    کشمیریوں کا حق خودارادیت اور اقوام متحدہ کا کردار .تحریر : ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    اے دنیا کے منصفو ، سلامتی کے ضامنو
    کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے ہوئے خون کا شور سنو

    27 اکتوبر 1947 ء کو نام نہاد بھارت نے تقسیم ہند کی مخالفت کرتے ہوئے کشمیر میں اپنی فوجیں اتار کر غاصبانہ قبضہ کیا ۔ اسی قبضے کے تناظر میں کشمیری عوام ہر سال 5 فروری کو اپنا حقِ خودارادیت استعمال کرتے ہوئے یوم یکجہتی کشمیر مناتے ہیں ۔
    78 سال قبل 5 جنوری 1949ء کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد منظور کی ، جس میں کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینے کی حمایت کی گئی ، تاہم اس قرارداد پر آج تک عمل درآمد نہ ہو سکا ۔ آج اقوام متحدہ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینے کے لئے کردار ادا کرے ۔
    آج 2025 ء میں 78 سال گزرنے کے باوجود کشمیری عوام پر بھارت نے ظلم و ستم اور درندگی کی ہر حد پار کر لی ، نہ ہی کسی کی بزرگی کا خیال کیا اور نہ ہی عورتوں کا اور نہ ہی بھوک اور پیاس سے سسکتے بلکتے معصوم بچوں کا ، بس اپنی ہی دھن میں مگن بھارت نے ظلم وستم کے پہاڑ توڑے ہیں ، بارود اور گولیوں کی وحشت سے کشمیریوں کے دل دہلائے ہیں ۔
    سفاک اور انتہا پسند بھارت ، کشمیر پر جتنے مرضی ظلم کے پہاڑ توڑ دے ، جتنا مرضی پابند سلاسل کردے ، لیکن جلد یا بدیر فتح انشاء اللہ حق کی ہوگی اور کشمیری عوام ظلمت کی تاریک رات کو مٹا کر آزادی کے سورج کو خوش آمدید کہیں گے اور کشمیری عوام ایک بار پھر اس روشن صبح کو طلوع اسلام کا سورج قرار دیں گے ۔
    (انشاء اللہ)
    یارانِ جہاں یہ کہتے ہیں کہ کشمیر ہے جنت
    جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی

  • مقبول بٹ شہید کی 41 ویں برسی ، ایک عزم، ایک جدوجہد .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    مقبول بٹ شہید کی 41 ویں برسی ، ایک عزم، ایک جدوجہد .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    مقبول بٹ شہید کا نام تحریکِ آزادیٔ کشمیر میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ وہ ایک ایسے مجاہد تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی کشمیر کی آزادی کے لیے وقف کر دی اور بالآخر اسی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔ ان کی شہادت محض ایک واقعہ نہیں بلکہ تحریکِ آزادی کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ 11 فروری 1984 کو دہلی کی تہاڑ جیل میں ان کی پھانسی نے کشمیر کے عوام میں ایک نیا جوش و ولولہ پیدا کیا، جو آج بھی جاری ہے۔مقبول بٹ 18 فروری 1938 کو وادی کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے ترہگام گاؤں میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک عام کشمیری گھرانے سے تعلق رکھتے تھے لیکن ان کی سوچ غیر معمولی تھی۔ وہ بچپن سے ہی غلامی اور ناانصافی کے خلاف حساس تھے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے انہوں نے سری نگر اور پھر پاکستان کا رخ کیا، جہاں انہوں نے صحافت اور سیاست میں اپنی فکری نشوونما جاری رکھی۔

    ان کی سیاسی زندگی کا آغاز 1958 میں ہوا جب وہ کشمیریوں کے حقوق کے لیے سرگرم ہوئے۔ وہ سمجھتے تھے کہ کشمیر کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ یہ لاکھوں کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔ ان کی سوچ واضح تھی: کشمیر کو ایک خودمختار، آزاد ریاست ہونا چاہیے جو کسی بھی بیرونی تسلط سے پاک ہو۔
    1965 میں مقبول بٹ نے "جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ” (JKLF) کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد کشمیر کی مکمل آزادی تھا۔ یہ تنظیم کشمیری قوم پرستی اور آزادی کے نظریے پر قائم کی گئی تھی۔ مقبول بٹ نے عسکری جدوجہد کا راستہ اختیار کیا، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ طاقت کے بغیر کوئی قابض حکومت آزادی نہیں دیتی۔انہوں نے مسلح جدوجہد کے ذریعے بھارتی تسلط کے خلاف آواز بلند کی۔ 1966 میں وہ ایک اہم مشن کے دوران گرفتار ہوئے اور ان پر بغاوت، قتل اور غیر قانونی سرحد پار کرنے کے الزامات لگائے گئے۔ بھارتی حکومت نے انہیں سزائے موت سنائی، لیکن وہ 1968 میں جیل سے فرار ہو کر پاکستان پہنچ گئے، جہاں انہوں نے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔پاکستان میں مقبول بٹ کو ایک اور چیلنج درپیش تھا۔ یہاں پر کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے مختلف نقطہ نظر موجود تھے۔ کچھ لوگ کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانا چاہتے تھے، جبکہ مقبول بٹ کشمیر کی مکمل خودمختاری پر یقین رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے خیالات کو ہر جگہ مکمل حمایت نہ مل سکی۔ تاہم، انہوں نے اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور مسلسل اپنی جدوجہد کو جاری رکھا۔1976 میں وہ دوبارہ بھارت گئے، جہاں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ بھارتی حکومت نے انہیں دوبارہ سزائے موت سنائی، اور طویل عرصے تک قید میں رکھا گیا۔ اس دوران ان کے نظریات اور مقاصد مزید واضح ہو گئے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر انہیں شہید کر دیا جائے تو ان کی قربانی کشمیری عوام کے لیے ایک نئی تحریک کو جنم دے گی۔

    11 فروری 1984 کو، بغیر کسی قانونی ضابطے کی تکمیل کے، بھارتی حکومت نے مقبول بٹ کو دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی۔ ان کی لاش کو بھی کشمیری عوام کے حوالے نہیں کیا گیا، بلکہ جیل کے اندر ہی دفن کر دیا گیا۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے پورے کشمیر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔مقبول بٹ کی شہادت نے کشمیری نوجوانوں میں آزادی کی ایک نئی روح پھونکی۔ ان کی شہادت کے بعد کشمیر میں مسلح جدوجہد مزید شدت اختیار کر گئی، اور یہ تحریک آج بھی مختلف شکلوں میں جاری ہے۔مقبول بٹ کی قربانی نے کشمیر کی جدوجہد کو مزید مضبوط کر دیا۔ آج بھی کشمیری عوام ہر سال 11 فروری کو "یومِ شہادت” کے طور پر مناتے ہیں۔ ان کا فلسفہ سادہ تھا: آزادی کی جدوجہد میں اگر جان بھی دینی پڑے تو یہ ایک معمولی قربانی ہے۔کشمیریوں کے لیے مقبول بٹ صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک تحریک کا نام ہے۔ وہ نظریاتی، فکری اور عملی جدوجہد کی علامت ہیں۔ ان کے نظریات آج بھی کشمیری نوجوانوں کو متحرک کرتے ہیں اور آزادی کے حصول کی راہ میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔مقبول بٹ کی شہادت کے بعد بھی عالمی برادری نے کشمیر کے مسئلے پر وہ توجہ نہیں دی جو دی جانی چاہیے تھی۔ بھارت نے ہمیشہ اس معاملے کو "داخلی مسئلہ” قرار دے کر دبانے کی کوشش کی، جبکہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے باوجود مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو سکا۔یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا عالمی طاقتیں انصاف کے اصولوں پر قائم ہیں یا صرف اپنے مفادات کے تابع ہیں؟ مقبول بٹ کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیری عوام کے حقوق کو نظر انداز کیا گیا اور آج بھی ان کی قربانیوں کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔مقبول بٹ کی قربانی رائیگاں نہیں گئی۔ وہ ایک ایسا بیج بو گئے جو آج تناور درخت بن چکا ہے۔ کشمیر کے بچے، بوڑھے، جوان سبھی ان کی جدوجہد کو اپنا رہنما سمجھتے ہیں۔ ان کے نظریات آج بھی زندہ ہیں اور کشمیریوں کی جدوجہد میں ان کا عکس نظر آتا ہے۔

    کیا کشمیری عوام کو وہ حق ملے گا جس کے لیے مقبول بٹ نے جان دی؟ کیا عالمی برادری انصاف کرے گی؟ یہ سوال آج بھی موجود ہیں، لیکن ایک بات طے ہے کہ جب تک کشمیری عوام میں مقبول بٹ جیسے جذبے موجود ہیں، آزادی کی یہ شمع کبھی نہیں بجھے گی۔

  • مسلمانان جموں کشمیر کی تاریخی جدوجہد اور یکجہتی کشمیر کے تقاضے

    مسلمانان جموں کشمیر کی تاریخی جدوجہد اور یکجہتی کشمیر کے تقاضے

    تحریر: تنویرالاسلام (سابق چئیرمین متحدہ جہاد کونسل جموں کشمیر)

    ریاست جموں و کشمیر دلکش قدرتی حسن اور جغرافیائی اہمیت کے سبب ”جنتِ نظیر” کہلاتی ہے حقیقت میں صدیوں پر محیط ظلم و جبر اور انسانی تکالیف کی وجہ سے ”دکھوں کی سر زمین” ہے جہاں لوگ مدت مدید سے اپنی بقاءاور حقوق کی جنگ لڑرہے ہیں اور ان کی جدوجہد” مزاحمت اور استقامت” کی ایک روشن مثال بنی ہوئی ہے ۔کشمیری مسلمانوں کی لازوال قربانیاں اور غیر متزلزل عزم اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ اپنی عزت، وقار اور حق خودارادیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔کشمیری مسلمانوں کو پشت در پشت سیاسی محرومی، معاشی استحصال اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا رہا ہے اس کے باوجود انہوں نے ہمیشہ اپنے تشخص اور اسلامی اقدار کو بچائے ر کھا ہے۔
    کشمیری مسلمانوں پر منظم جبر کا آغاز 1819ءمیں سکھ حکمرانی کے دور سے ہوا ۔اس دور میں بھاری ٹیکسوں، مذہبی بغض و عناد، سماجی و قانونی استحصال اور ظلم و جبر نے مسلمانوں کو سیاسی، سماجی اور معاشی طور پر بدحال کیا ۔1846ءمیں برطانوی سامراج نے معاہدہ امرتسر کے تحت کشمیر کو 75 لاکھ نانک شاہی سکوں کے عوض ڈوگرہ مہاراجہ گلاب سنگھ کو فروخت کر دیا جس کے نتیجے میں کشمیر میں ظلم و جبر کا ایک نیا دور شروع ہوا ۔ڈوگرہ حکمرانی کے دوران کشمیری مسلمانوں کو ناقابلِ بیان مظالم، مذہبی پابندیوں، جبری مشقت (بیگار)، بھاری ٹیکسوں اور معاشی استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔
    29 اپریل 1865 ءکو کشمیری شال بافوں نے ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف صدائے احتجاج بلندکی ۔ اس احتجاج کے دوران 28 معصوم کاریگروں کو بے دردی سے شہید کردیا گیا۔ 21 جولائی 1924 ءکو سرینگر ریشم خانہ کے مزدوروں نے اجرتوں میں اضافے کے لیے پرامن احتجاج کیا جس کو ڈوگرہ حکمرانوں نے طاقت کے زور پر دبایا۔اس احتجاج کے دوران گولیوں کی بوچھاڑ سے 10 مزدور شہید اور 20 زخمی ہوگئے ۔یہ مظاہرہ جنو بی ایشاءکی تاریخ میں مزدوروں کے حقوق کے لیے اپنی نوعیت کا پہلاواقعہ تھا جس کو بزور طاقت کچلا گیا ۔ریاستی مسلمانوں نے اس ظلم کے خلاف 1930ءمیں ایک موثر تحریک شروع کی۔ 13 جولائی 1931ءکو سرینگر کی سنٹرل جیل کے باہر مظاہرین پر اندھا دھند گولیاںچلائی گئی جس سے 21 معصوم مسلمان شہید کر دئے گئے ۔اس سانحہ نے کشمیری عوام کی تحریک کو جلا بخشی اور اس تحریک کو برصغیر کے مسلمانوں کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی جس کے نتےجے میں پنجاب میں مقیم کشمیری مسلمانوں نے ”آل انڈیا مسلم کشمیر کمیٹی” کا قیام عمل میں لایا ۔اس کمیٹی نے کشمیری مسلمانوں سے اظہاریکجہتی کے لیے 14 اگست 1931ءکو لاہور کے موچی دروازہ میں ڈاکٹر علامہ اقبال ؒکی صدارت میں ایک عظیم الشان جلسے کا انعقا د کیا ۔اس دن کو ”یومِ کشمیر” کے طورپر منایا گیا اور یہ دن کشمیری مسلمانوں کی جدوجہد آزادی میں تاریخی سنگ میل ثابت ہوا ۔کشمیر کمیٹی کے خاتمے تک ہر سال 14 اگست کو یوم کشمیر کے طور منایا جاتا رہا ۔کشمیری عوام کے حقوق اور حق حکمرانی کی تحریک اپنے عروج پر تھی جب برصغیر کے مسلمانوں نے قیام پاکستان کی منظم تحریک کا آغازکیا اور اس دوران قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے 1944ءمیں کشمیر کا دورہ کیا ۔کشمیری مسلمانوں نے علامہ اقبال ؒکے ملی نظریے کی تقلید کرتے ہوئے ملت اسلامیہ کے ساتھ وحدت کا مظاہرہ کرکے تحریکِ پاکستان میںبھر پور شمولیت اختیار کی جو اس عزم کی عکاسی تھی کہ کشمیری اپنے مستقبل کو آزادی اور اسلام کے نام پر قائم ہونے والے مملکت پاکستان کے ساتھ وابستہ دیکھتے تھے ۔بدقسمتی سے برصغیر کی آزادی اور قیام پاکستان کے بعد برطانوی سامراج اور کانگریسی قیادت کی ملی بھگت کے سبب کشمیر کو پاکستان کا حصہ بننے نہیں دیا گیا۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے ابتدا ءمیں پاکستان کے ساتھ ‘ا’سٹینڈ سٹل ایگریمنٹ” کیا مگر بعد میں بھارت سے الحاق کرلیا۔ 27 اکتوبر 1947ءکو بھارت نے اپنی فوجیں ریاست جموںکشمیر میں داخل کر کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ۔کشمیریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اور صوبہ سرحد کے قبائلی عوام کی مدد سے ریاست کے ایک حصے کو آزاد کرایا جو آج آزاد کشمیر کہلاتا ہے۔
    بھارت نے پاکستان پر دراندازی کا الزام لگا کر مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں پیش کیا جس کے نتےجے میں اقوام متحدہ نے 5 جنوری 1949ءکو کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کے لیے ایک تاریخی قرارداد منظور کی جس میں آزادانہ استصوابِ رائے کے ذریعے کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا گیا۔ تاہم بھارت نے آج تک ان قراردادوں پر عملدرآمد نہیں کیا اور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حق سے محروم رکھا گیالیکن جموں کشمیر کی غیور عوام نے حق خودارادیت کے حصول کے لئے سیاسی اور سفارتی جدوجہد جاری رکھی لیکن حق آزادی سے محروم رہے۔ تنگ آمدبہ جنگ آمد کے مصداق سال 1989ءمیںمسلح جدوجہد کا آغاز کیاسال 1990 ءمیں مقبوضہ کشمیر میں عسکری تحریک عروج پر پہنچی ۔جب بھارتی مظالم میں شدت آگئی تو 5 فروری 1990 ءکو جماعتِ اسلامی پاکستان کے امیر مرحوم قاضی حسین احمد نے کشمیریوں کی حمایت میں ہڑتال کی اپیل کی جسے اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد نواز شریف اور وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی مکمل حمایت حاصل ہوئی جب سے یہ دن ہر سال”  یوم یکجہتی کشمیر "کے طور پر پاکستان میں جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس دن ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے، ریلیاں، سیمینارز، اور مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر کی سنگینی سے آگاہ کیا جا سکے۔ اس دوران مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی مظالم کی تاریخ ایک لاکھ سے زائد شہداء، ہزاروں زخمی اور بے شمار نقل مکانی کرنے والے افراد کی قربانیوںاور کھربوں روپے کے املاک اور کاروباری نقصانات سے عبارت ہیں ۔بھارت نے کشمیریوں کے جائز مطالبے حق خودارادیت دینے کے بجائے کشمیر کی داخلی خودمختاری سلب کرکے مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کو تقسیم کر کے بھارت میں ضم کردیا
    مسلمانان جموں و کشمیر 5اگست 2019ءکے بعد بھارت کی پاکستان اور مسلم دشمنی، سخت گیر انتقامی پالسیوں اور امتیازی قانون سازی کی وجہ سے مذہبی آزادی، انسانی حقوق کی شدید پامالیوں ، ثقافتی استحصال کے علاوہ معاشی، معاشرتی، سیاسی اور تعلیمی تنزلی کے شکار ہیں۔ بھارت نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے مسئلہ کشمیر کو مزید گمبھیربنایا ہے جو بنیادی طور پر آزادی کشمیر، پاکستان کی سلامتی و استحکام اورہر پاکستانی کے امن و خوشحالی کا مسئلہ ہے۔ بھارتی حکومت کے ”ہندو توا نظریہ“ اور خطرناک منصوبوں کے پیش نظر جہاں آج کشمیری مسلمانوں کاتحفظ و بقا،اسلامی تشخص اور تحریک آزادی کشمیر کا تسلسل انتہائی مشکلات کا شکار ہے وہاں آزاد کشمیر کی سلامتی ،پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات ، سندھ طاس معاہدہ اور سی پیک کا منصوبہ بھی سنگین خطرات کے زد میں ہے۔
    ہندوتوا نظریے کی علمبردار بھارتی حکومت کے جارحانہ عزائم اور کشمیری مسلمانوں کو درپیش سنگین چیلنجز سے نمٹنے کے لیے محض بیانات کافی نہیںبلکہ عملی اقدامات ناگزیر بن چکے ہیں ۔کشمیریوں کے ساتھ حقیقی یکجہتی کا تقاضا ہے کہ رسمی تقاریب کے بجائے موثر حکمت عملی اپنا کر مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے، انسانی حقوق کی تنظیموں کو متحرک کرنے ، کشمیری عوام کی معاشی بدحالی اور متاثرین تحریک کی بحالی کے لئے موثر اقدامات کئے جائیں جو وقت کی اہم ضرورت ہے ۔کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی بقاءو ترقی کے لئے حکمت و دانائی سے دور جدید کے تقاضوں کے ہم آہنگ اقدامات کرنے ہوں گے اور دنیا کو باورکرا نا ہوگا کہ کشمیر اور پاکستان ملت واحدہ ہیں اور مسئلہ کشمیر کا عوامی امنگوں کے مطابق منصفانہ حل جنوبی ایشاءکی امن و ترقی کے لئے لازم و ملزوم ہے

  • سرحد کے اس پار .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    سرحد کے اس پار .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی برف باری بھی بڑھ چکی تھی۔ کشمیر کی پہاڑیوں پر ہر طرف سفید چادر تنی ہوئی تھی۔ برف کے ننھے گالے آسمان سے گرتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے کوئی نرمی سے چھو رہا ہو، مگر حقیقت میں یہ لمس بے حد ٹھنڈا تھا، بالکل ویسا ہی جیسا نصیب کے تھپڑ ہوتے ہیں۔

    ریحان اپنی کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ اس کی نظریں ان پہاڑوں پر جمی تھیں جن کے اس پار وہ دنیا تھی جس سے اس کا ناطہ خون کے رشتے کی طرح تھا، مگر وہ وہاں جا نہیں سکتا تھا۔ اس کا گھر، اس کا بچپن، اس کے خواب… سب وہیں کہیں رہ گئے تھے، لکیر کے اس پار۔پانچ فروری کی صبح تھی۔ پورے علاقے میں احتجاج کا شور تھا۔ کشمیر کی آزادی کے نعرے گونج رہے تھے۔ بچے، بوڑھے، جوان سبھی سڑکوں پر تھے۔ ریحان کا دل بھی چاہا کہ وہ بھی باہر جائے، چیخے، چلاّئے، مگر وہ جانتا تھا کہ چیخنے سے زنجیریں نہیں ٹوٹتیں۔ وہ سوچنے لگا کہ آخر یہ دن صرف ایک دن کیوں محسوس ہوتا ہے؟ یہ دن تو سال کے ہر دن ہونا چاہیے، ہر لمحہ، ہر سانس کے ساتھ۔ریحان کی زندگی ایک عام کشمیری نوجوان کی طرح ہی تھی، مگر جب اس کے والد کو رات کے اندھیرے میں گھر سے اٹھا کر لے جایا گیا، تو وہ عام زندگی نہیں رہی تھی۔ والد کے غائب ہونے کے بعد اس کی ماں صرف چند مہینے زندہ رہ سکی۔ وہ خاموشی سے مر گئی۔ کسی کو پتہ بھی نہ چلا کہ بیماری نے مارا یا غم نے۔اب ریحان کے پاس کھونے کو کچھ نہیں تھا، سوائے اس امید کے جو وہ برسوں سے سینے میں دبائے جی رہا تھا۔ وہ ہر روز اپنی بہن حنا کی تصویریں دیکھتا، جو سرحد پار رہ گئی تھی۔ جب ہجرت کے وقت وہ دونوں بچھڑ گئے، تب حنا صرف چھ سال کی تھی۔ آج وہ کیسی ہوگی؟ شاید بڑی ہو گئی ہو، شاید اس نے بھائی کو بھلا دیا ہو، یا شاید وہ بھی ہر روز کھڑکی سے اسی پہاڑ کو دیکھتی ہو جس پر وہ نظریں جمائے بیٹھا تھا۔آج وہ سڑک پر نکل آیا۔ مظاہرے میں شامل ہونا اس کا خواب تھا، مگر حقیقت میں یہ خواب ایک خطرہ بھی تھا۔ باہر فوجی موجود تھے، آنسو گیس کے شیل برس رہے تھے، گولیاں چل رہی تھیں، مگر لوگوں کی آواز دب نہیں رہی تھی۔ نعرے بلند ہو رہے تھے، "ہم کیا چاہتے؟ آزادی!”

    اچانک گولیوں کی آواز گونجی۔ ہجوم میں بھگدڑ مچ گئی۔ آنکھوں میں دھواں، کانوں میں چیخیں اور دل میں ایک عجیب سا خوف تھا۔ مگر ریحان نہیں رُکا۔ وہ آگے بڑھا۔ اسے اپنے والد کی گمشدگی، ماں کی خاموش موت، بہن کی جدائی، سب یاد آ رہا تھا۔ایک دم، سب کچھ ساکت ہو گیا۔ ایک دھماکہ ہوا اور ریحان کے قدم لڑکھڑا گئے۔ اس نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا۔ گرم خون اس کی انگلیوں سے بہنے لگا۔ وہ زمین پر گرنے ہی والا تھا کہ کسی نے اسے تھام لیا۔آنکھ کھلی تو وہ ایک خیمے میں تھا۔ زخموں کی جلن شدت اختیار کر چکی تھی۔ آس پاس کچھ لوگ زخمی پڑے تھے۔ ایک بوڑھا شخص قریب آیا، "بیٹا، تم بہت بہادر ہو۔ اللہ تمہیں سلامت رکھے۔”

    ریحان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، "یہ کب تک چلے گا؟ کب تک ہم ایسے ہی تڑپتے رہیں گے؟”بوڑھے نے آہ بھری، "جب تک ہم خاموش نہیں ہوتے، جب تک ہم اپنے حق کے لیے لڑتے رہتے ہیں۔ پانچ فروری ایک دن نہیں، ایک عہد ہے، ایک وعدہ کہ ہم اپنی زمین، اپنے خون، اپنی پہچان کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔”ریحان نے زخمی ہاتھ سے اپنی جیب میں رکھا ایک کاغذ نکالا۔ یہ ایک خط تھا جو اس نے کبھی اپنی بہن حنا کے لیے لکھا تھا، مگر بھیج نہیں سکا تھا۔

    "پیاری بہن،
    مجھے نہیں معلوم کہ تم کیسی ہو، کہاں ہو، مگر میں جانتا ہوں کہ تمہیں بھی میرا انتظار ہوگا۔ میں نے کبھی تمہیں بھلایا نہیں، اور نہ کبھی بھلا سکوں گا۔ جب بھی تم آسمان میں چاند دیکھو، سمجھ لینا کہ میں بھی وہی چاند دیکھ رہا ہوں۔ ایک دن، ہم ضرور ملیں گے… سرحد کے اس پار یا اس پار نہیں، بلکہ ایک آزاد سرزمین پر!”
    ریحان نے خط کو چوم کر آنکھوں سے لگایا۔ باہر نعرے اب بھی گونج رہے تھے۔ "ہم لے کر رہیں گے آزادی!”وہ جانتا تھا کہ یہ سفر طویل ہے، مگر وہ تھکنے والا نہیں تھا۔ اس کا خواب، اس کی امید، اس کی جدوجہد… سب زندہ تھے۔ پانچ فروری محض ایک تاریخ نہیں، بلکہ ایک یاد دہانی تھی کہ آزادی کا سورج جلد یا بدیر طلوع ہوگا۔انشاالله

    ریحان نے زخمی ہاتھ سے آنکھوں کے کنارے پر آئے آنسو صاف کیے اور آسمان کی طرف دیکھا۔ برف باری رک چکی تھی، مگر سرد ہوا اب بھی چل رہی تھی، جیسے شہداء کی سرگوشیاں فضا میں گھل رہی ہوں۔
    اس نے دل میں ایک دعا کی:”یا اللہ! یہ جو زمین تیرے نام پر بنی ہے، اسے آزادی نصیب کر۔ ان آنکھوں میں جو خواب ہیں، انہیں تعبیر دے۔ جو مائیں اپنے بیٹوں کے انتظار میں بیٹھی ہیں، انہیں خوشخبریاں دے۔ جو بہنیں اپنے بھائیوں کی راہ دیکھ رہی ہیں، ان کے دروازے خوشیوں سے بھر دے۔ اے رب! ہمیں وہ دن دکھا، جب یہ سرزمین پھر سے آزاد ہو، جب کوئی دیوار، کوئی لکیر ہمارے پیاروں کو ہم سے جدا نہ کرے۔ جب ہم اپنی وادی میں سکون سے سانس لے سکیں، جب کشمیر کے دریا صرف پانی نہیں بلکہ خوشی کے ترانے بہائیں۔ یا اللہ! ہمیں وہ آزادی دے جس کا وعدہ تو نے مظلوموں سے کیا ہے، اور جس کی گواہی یہ برف پوش پہاڑ صدیوں سے دے رہے ہیں۔ آمین!”

    ریحان نے آنکھیں کھولیں۔ خیمے کے باہر آزادی کے نعروں کی گونج تھی۔ اس کے لبوں پر ایک زخمی مگر پُرعزم مسکراہٹ آگئی۔ وہ جانتا تھا کہ یہ جنگ لمبی ہے، مگر اسے یقین تھا کہ دعا اور جدوجہد کی روشنی کبھی بجھنے نہیں دی جائے گی۔ ایک دن، کشمیر ضرور آزاد ہوگا، ضرور آزاد ہوگا

  • مقبوضہ کشمیر کی سڑکوں پر وزیراعظم، آرمی چیف اور وزیراعظم آزاد کشمیر کے پوسٹرز آویزاں

    مقبوضہ کشمیر کی سڑکوں پر وزیراعظم، آرمی چیف اور وزیراعظم آزاد کشمیر کے پوسٹرز آویزاں

    سرینگر(باغی ٹی وی رپورٹ) مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام نے پاکستان کی جانب سے یومِ یکجہتی کشمیر منانے پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم آزاد کشمیر کے پوسٹرز آویزاں کر دیے۔

    کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کے مطابق سری نگر سمیت مقبوضہ وادی کے مختلف شہروں اور قصبوں میں یہ پوسٹرز لگائے گئے ہیں، جن میں کشمیری عوام نے پاکستان کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا ہے۔

    ان پوسٹرز پر پاکستانی قیادت کی تصاویر کے ساتھ ساتھ مختلف نعرے بھی درج ہیں، جن میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور بھارتی تسلط کے خلاف مزاحمت کی حمایت کا اظہار کیا گیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیری عوام ہر سال 5 فروری کو پاکستان کی جانب سے یومِ یکجہتی کشمیر منانے کو امید کی ایک کرن کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ دن پہلی مرتبہ 1990 میں منایا گیا تھا اور تب سے ہر سال پاکستانی عوام کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہیں، جس پر مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جانب سے والہانہ پذیرائی کی جاتی ہے۔

    مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مقبوضہ وادی میں ایسے پوسٹرز لگانے پر بھارتی فورسز کی جانب سے سخت ردِ عمل متوقع ہے۔ ماضی میں بھی ایسے کسی بھی اظہارِ یکجہتی پر بھارتی سیکیورٹی فورسز نے کارروائیاں کی ہیں اور درجنوں کشمیریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

    واضح رہے کہ بھارت کے غیر قانونی تسلط کے خلاف کشمیری عوام طویل عرصے سے مزاحمت کر رہے ہیں، اور پاکستان ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

  • شہہ رگ کشمیر کے ساتھ ایک دن کی یکجہتی کافی؟تحریر: جان محمد رمضان

    شہہ رگ کشمیر کے ساتھ ایک دن کی یکجہتی کافی؟تحریر: جان محمد رمضان

    کشمیر، پاکستان کی شہ رگ ہے، اور یہ صرف ایک جغرافیائی حقیقت نہیں بلکہ ایک جذباتی اور نظریاتی رشتہ بھی ہے۔ کشمیر کا مسئلہ نہ صرف پاکستان بلکہ ہر مسلمان کے دل میں گہرائی سے بیٹھا ہوا ہے، کیونکہ ہمارے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہمارا رشتہ صرف جغرافیائی نہیں بلکہ دینِ اسلام کے اصولوں پر مبنی ہے۔ ہم سب کا عقیدہ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے، اور یہ رشتہ کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ ہماری حمایت کو مضبوط کرتا ہے۔

    کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں کشمیری بھائیوں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ کئی دہائیوں سے بھارت نے کشمیر پر غیر قانونی قبضہ جما رکھا ہے اور کشمیری عوام اپنے حقِ خود ارادیت کے لئے مسلسل لڑ رہے ہیں۔ ان کی قربانیاں، ان کا خون، اور ان کی جدوجہد کبھی رائیگاں نہیں جائے گی۔ ہم کشمیریوں کے ساتھ اپنے عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ان کی آزادی تک ان کا ساتھ دیتے رہیں گے۔یوم یکجہتی کشمیر ہر سال منایا جاتا ہے، اور دنیا بھر میں مختلف ممالک میں کشمیریوں کی آزادی کے لئے جلوس، ریلیاں اور سیمینار منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس سے کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں مدد ملتی ہے، مگر اس مسئلے کا حل صرف الفاظ سے نہیں، بلکہ عملی اقدام سے ممکن ہے۔ آزادی کے لیے صرف باتیں نہیں کرنی ہوںگی، بلکہ میدانِ عمل میں قدم اٹھانا ہوگا۔

    پاکستانی قوم کا یقین ہے کہ کشمیر کی آزادی کے لیے جہاد کے بغیر کوئی راہ نہیں۔ بھارتی افواج نے کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم و تشدد کی انتہاء کر رکھی ہے، اور اس ظلم کا مقابلہ کرنے کے لیے جہاد ایک لازمی اقدام بن چکا ہے۔ اس مقصد کے لئے پوری قوم کو متحد ہو کر ایک نظریے کے تحت کام کرنا ہوگا۔ حکومتِ پاکستان کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے۔ عالمی سطح پر کشمیریوں کی حمایت کے لئے پاکستان کو ہر ممکن سفارتی ذرائع استعمال کرنا ہوں گے تاکہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو مجبور کیا جا سکے کہ وہ کشمیر کے مسئلے کا حل نکالیں۔ اقوام متحدہ سے پرزور مطالبہ کرنا چاہیے کہ کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دیا جائے اور بھارت کے غیر قانونی قبضے کو ختم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔

    یوم یکجہتی کشمیر ہر سال منایا جاتا ہے، مگر ہمیں اس دن کو صرف یادگار نہیں بلکہ عملی اقدامات کے طور پر منانا ہوگا۔ ہمیں کشمیر کے لوگوں کی مدد کے لئے ہر ممکن قدم اٹھانا ہوگا۔ کشمیر کی آزادی تک اس جدوجہد کو جاری رکھنا ہوگا۔ ہمیں اپنی آواز بلند کرنی ہوگی، دنیا کو بتانا ہوگا کہ کشمیر کی آزادی ہمارے لئے ایک مقدس مقصد ہے۔کشمیر کا مسئلہ پاکستان اور کشمیریوں کے لئے صرف ایک سیاسی یا جغرافیائی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک نظریاتی جنگ ہے۔ ہمیں اس جنگ کو شعور، جذبے اور عمل کے ساتھ لڑنا ہوگا۔ کشمیر کی آزادی کا خواب تب ہی حقیقت بنے گا جب ہم اس مسئلے کے حل کے لیے خود کو میدانِ عمل میں شامل کریں گے اور عالمی برادری پر دباؤ ڈالیں گے۔

    jaan