Baaghi TV

Category: کشمیر

  • بھارت کی قابض فوج نے کشمیر کو قتل و غارت گری کا میدان بنا دیا ہے:  الطاف حسین وانی

    بھارت کی قابض فوج نے کشمیر کو قتل و غارت گری کا میدان بنا دیا ہے: الطاف حسین وانی

    Press Release
    Sunday, April 12, 2020.

    بھارت کی قابض فوج نے کشمیر کو قتل و غارت گری کا میدان بنا دیا ہے: الطاف حسین وانی
    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں کشمیریوں کی حالت زار کو اجاگر کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا

    اسلام آباد: معروف حریت رہنما اور سینئر وائس چیئرمین جموں کشمیر نیشنل فرنٹ (جے کے این ایف) الطاف حسین وانی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں کشمیری نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی پامالیوں اور انکے بہیمانہ قتل عام پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برداری سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا فی الفور نوٹس لے۔

    اتوار کے روز یہاں جاری ایک بیان میں، جے کے این ایف رہنما نے کہا، ”وادی طول و عرض میں تعینات ہندوستانی قابض فورسز نے مقبوضہ خطے کو ایک قتل و غارت گری کے میدان میں تبدل کر دیا ہے جہاں صبح و شام بے گناہ شہریوں کوبے رحمی سے شہید کیا جاتا ہے۔
    ”.
    ہندوستانی ریاستی دہشت گردی کے حالیہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے الطاف حسین وانی نے کہا، ”کشمیری نوجوانوں کا قتل قابض فوج کے لئے ایک نیا معمول بن گیا ہے جو متنازعہ علاقے میں نافذ مختلف کالے قوانین کے تحت استثنیٰ سے لطف اندوزہورہے ہیں۔” انہوں نے نشاندہی کی کہ کالے قوانین کے تحت فوجی جوانوں کو قانونی چارہ جوئی سے چھٹکار ادر حقیقت جموں و کشمیر کے متنازعہ علاقے میں حقوق کی پامالی کی ایک بڑی وجہ ہے۔

    مسٹر وانی نے بھارتی قابض افواج کے ذریعہ تشدد اور عوامی املاک میں توڑ پھوڑ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ”کشمیری عوام جنہوں نے سات ماہ سے طویل عرصے سے فوجی محاصرے اور معلومات کی ناکہ بندی برداشت کی ہے، اب انہیں بھارت کی طرف سے اجتماعی سزا دی جا رہی ہے۔” ایک ایسے وقت میں جب مہذب دنیا COVID-19 کے خلاف جنگ میں مصروف ہے،دنیا کی نام نہاد سب سے بڑی جمہوریت (بھارت) کشمیریوں کو محکوم بنانے کی بے دریغ سازش کر رہی ہے جس نے ہندوستان کے سامراجی ایجنڈے کو مسترد کردیا ہے اور اس کی مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی مذموم اسکیم کو ناکام بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اتنہائی افسوسناک بات ہے کہ کورونا وائرس قابض حکام کے لئے کشمیریوں پر ظلم و ستم ڈالنے کے لئے ایک نیا آلہ گیا ہے۔

    وانی نے ایک نیوز رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی فوج وادی میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کو ان کے فون ریکارڈز، اے ٹی ایم ہسٹری اور دیگر معلومات کا استعمال کرکے پریشان کررہی ہے، انہوں نے کہا کہ لوگوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سخت نگرانی کا عمل قابض حکام کے ذریعہ کرونا وبائی امراض کے تحت کیا جارہا ہے اس حقیقت کے باوجود کوئی قانون انھیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ انہوں نے افسوس کے ساتھ کہا کہ کشمیریوں کی پریشانی جو وبائی امراض اور ایک عسکری ریاست کے مابین پھنس چکے ہیں، خاص طور پر 5 اگست 2019 کے بعد جب ہندوستان نے آئینی دہشت گردی کا سہارا لے کر اس خطے کو اپنی خودمختار حیثیت سے الگ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ گرفتاریوں، ماورائے عدالت قتل اور کبھی نہ ختم ہونے والی گھریلو تلاشی، فوجی کریک ڈاؤن اور بھارتی فوج کی رات کے چھاپوں نے کشمیریوں کی زندگی کو زندہ جہنم بنا دیا ہے۔

    مقبوضہ علاقے میں بگھڑتی ہوئی صورتحال سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے جے کے این ایف رہنما نے کہا کہ بھارت نے کنٹرول لائن (ایل او سی) پر جان بوجھ کر تناؤ بڑھایا ہے۔ وانی نے بھارتی جارحانہ عزائم کی مذمت کرتے ہوئے کہا، ”مہلک وبا سے لڑنے کے لئے مہذب دنیا کیجانب سے کی جانی والی کوششوں میں شامل ہونے کے بجائے،بھارت نے کنٹرول لائن پر بے گناہ شہریوں کوقتل کرنے کے اپنے مذموم منصوبے پر عملدرآمد کرنے کا انتخاب کیا ہے۔ ”۔ جے کے این ایف کے رہنما نے شہری آبادی کے خلاف بھارتی جارحیت کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے کی صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لیں۔

    وانی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں کشمیریوں کی حالت زار کو اجاگر کرنے پر بھی پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا کو صورتحال کا موثر نوٹس لینا چاہئے اور اس تنازعہ کو پرامن طریقے سے حل کرنے میں مدد کرنا چاہئے۔

    مسٹر وانی نے کشمیری سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے بھی اظہار تشکر کیا جس نے ان قیدیوں کی رہائی کے لئے آواز اٹھائی ہے۔

    For more information, please contact Altaf Wani (+41 77 9876048 / saleeemwani@hotmail.com)

  • لاک ڈاؤن  از قلم، عشاء نعیم

    لاک ڈاؤن از قلم، عشاء نعیم

    لاک ڈاؤن از قلم عشاء نعیم

    ہائے! وہ کشمیر میں قید تھے
    جنھیں لوگ سبھی تھے بھول گئے
    وہ رات دن تھے پکارتے
    ہم اپنی تجارت تاڑتے
    وہ لاشیں اٹھاتے جاتے تھے
    ہم آگے بڑھتے جاتے تھے
    ڈر تھا ذرا پل جو ٹھہرے
    شاید چھا جائیں اندھیرے
    خون دیکھا ، سی لیں زبانیں
    تم نے چمکانی تھیں دکانیں
    آواز ضمیر کی یوں دبا لی
    کوئی کر ڈالی ایک آدھ ریلی
    ضمیر کی ہر مار جھیلی
    ذرا نکلی جو سسکاری دبا لی

    پھر آہوں نے رستہ پایا
    خدا کو جا کر دکھڑا سنایا
    عرش بھی کانپ گیا ہوگا
    ہر فرشتہ رو دیا ہوگا
    پھر رب کی رحمت روٹھ گئی
    پھر قہر کی یوں بارش ہوئی
    پھر تجارت ساری بھول گئی
    پھر قید ہی سب کو قبول ہوئی
    اور تجارت کو یوں لاک لگا
    تجارت کا نام ہی خوف بنا
    کہتے تھے جنگ کے متحمل نہیں
    بن تجارت کے کچھ بھی نہیں
    اب ساری دنیا کو جاں کی پڑی
    یاد آئے برما، کشمیر و فلسطیں؟
    اب جاں ہی سب کو پیاری ہے
    یہ مال و دولت کچھ بھی نہیں

  • پاکستانیوں کا مقبوضہ کشمیر کے اسیران کو  ٹویٹر پر خراج تحسین ، ٹاپ ٹرینڈ

    پاکستانیوں کا مقبوضہ کشمیر کے اسیران کو ٹویٹر پر خراج تحسین ، ٹاپ ٹرینڈ

    پاکستانیوں کا مقبوضہ کشمیر کے اسیران کو ٹویٹر پر خراج تحسین ، ٹاپ ٹرینڈ

    باغی ٹی وی : پاکستان صارفین نے مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے لڑنے والے رہنماؤں یاسین ملک ، آسیہ اندرابی ،قاسم فنکو ،مسرت عالم بٹ اور شبیر شاہ کو ان ثابت قدمی جرات اور بہادری پر ٹویٹر پر خراج تحسین پیش کیا


    ایک صارف نے کہا کہ ہم ان لوگوں کے لئے منصفانہ حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں جو قید ہیں ، اور ان پر ریاست کے خلاف مجرمانہ سازش کا الزام عائد کرتے ہیں


    ایک کشمیری رہنما یاسین ملک 1 سال سے جیل میں ہیں


    ایک صارف نے آسیہ انداربی کی گرفتاری پرسوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ خواتین کی تمام نام نہاد تنظیمیں کہاں ہیں؟ چیئر پرسن ڈی ای ایم آسیہ اندربی بھی خواتین ہیں اور بغیر کسی وجہ کے تہاڑ جیل میں بھارتی ظلم و بربریت کا سامنا کررہی ہیں۔ کیوں ؟؟؟؟


    ایک صارف کے مطابق کشمیر کا حل طلب مسئلہ متحدہ اقوام کی ایک بڑی ناکامی ہے
    https://twitter.com/AwaKashmir/status/1248975462824660994
    ایک صارف نے لکھا کہ 2008 کے بعد سے ، کشمیریوں کے حق خودارادیت اور بھارتی فوجی قبضے سے آزادی کی تحریک نے پرامن احتجاج اور زبردست عوامی تحریک کے ذریعے بھاری اکثریت سے اظہار خیال کیا اور مدد کی درخوست کی
    https://twitter.com/MNaeemShehzad/status/1248983019056173057
    ایک صارف نے لکھا کہ خوراک پانی اور راشن کی ضرورتیں ہر کوئی پوری کرنے کو تیار ہے کشمیر میں قید سے رہائی کے منتظر لوگوں کی ضرورتیں کون پوری کرے گا کون انہیں انصاف اور آزادی مہیا کرے گا


    ایک صارف نے اقوام متحدہ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کہاں ہے؟کیا وہ سو رہے ہیں اور کیا وہ کشمیر کی ماؤں اور بیٹیوں پر بھارتی ظلم و ستم نہیں دیکھ رہے ہیں؟


    ایک صارف نے انسانی حقوق کی تنظیموں ست اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہم یو این اور دیگر تمام نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھارتی جیلوں میں سیاسی اور بے گناہ کشمیریوں کے لئے آواز بلند کرنے کے لئےاپیل کرتے ہیں ایسی وبائی حالت میں انھیں آزاد ہونا چاہئے


    ایک صارف نے سوال اٹھایا کہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن ورلڈ والو! "کسی وائرس کی صورت میں مودی کشمیر کی انسانیت کو چھین رہے ہیں۔ کیا یہ کام نہیں کرتا؟اقوام عالم مودی کی دہشت گردی کا نوٹس لے کر ان رہنماؤں کی زندگی بچائیں ار ان کو قید سے آزادی دلوائیں
    https://twitter.com/AwaKashmir/status/1248975245920415746?s=19
    ایک صارف نے کہا کہ انسداد بغاوت کی پُرتشدد مہموں میں ہزاروں کشمیری ہلاک ہوچکے ہیں ، ہندوستانی فوجی اہلکاروں کے خلاف اب تک کوئی سنجیدہ کاروائی نہیں ہوئی ہے

    واضح رہے کہ 54 سالہ یاسین ملک 3 اپریل 1966 ء کوسری نگر میں پیدا ہوئے کشمیری علیحدگی پسند رہنما اور سابق عسکریت پسند ہیں جو بھارت اور پاکستان دونوں سے کشمیر کی علیحدگی کی وکالت کرتے ہیں۔ مارچ 2020 میں ، ملک پر 1990 میں ایک حملے کے دوران ہندوستانی فضائیہ کے چار اہلکاروں کے قتل کا الزام عائد کیا گیا تھا اور اس وقت ان پر مقدمہ چل رہا ہے اور یہ ایک سال سے بھارتی حکومت کی قید میں ہیں غلام قادر ملک کے بیٹے اور مشال ملک کے شوہر ہیں

    آسیہ اندرابی دختران ملت کی کشمیری اور بانی رہنما ہیں۔یہ گروہ وادی کشمیر میں علیحدگی پسند تنظیم ‘آل پارٹیز حریت کانفرنس’ کا حصہ ہے اور حکومت ہند نے اسے "کالعدم دہشت گرد تنظیم” قرار دیا ہے 1962 سالہ 58 میں سری نگر میں پیدا ہوئیں یہ کشمیری رہنما سید علی شاہ گیلانی کی صاحبزادی ہیں اور یہ بھی ایک سال سے بھارتی حکومت کی قید میں ہیں

    66 سالہ شبیر احمد شاہ ، شبیر شاہ کے نام سے مشہور ، انڈی ناگ ، کدی پورہ ، کشمیر میں ، جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے بانی اور صدر ہیں ، جموں و کشمیر کے "حق خودارادیت” کے حصول کی ایک اہم علیحدگی پسند سیاسی تنظیم ہے 14 جون 1953 اننت ناگ میں پیدا ہوئے

    قاسم فکٹو ایک کشمیری علیحدگی پسند رہنما ہیں جو "کشمیر کے نیلسن منڈیلا” کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ کشمیر میں ہندوستان کی حکمرانی کی سخت مخالف ہیں اور ہندوستان کو ایک شاہی طاقت سمجھتے ہیں وہ 1993 سے اکتوبر 2016 تک جیل میں رہے فکٹو پر ایک کارکن دل ناتھ وانچو کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے 53 سالہ ڈاکٹر قاسم فکٹو23 مارچ 1967 کو سری نگر میں پیدا ہوئے

    این آئی اے نے 2017 میں دہشت گردی کی مالی اعانت کے معاملے میں جے کے ایل ایف کے سربراہ یاسین ملک اور دیگر کے خلاف دہلی کی عدالت کے سامنے ضمنی چارج شیٹ داخل کی تھی چارج شیٹ میں علیحدگی پسند آسیہ اندرابی ، شبیر شاہ ، مسرت عالم بھٹ کو بھی ملزم نامزد کیا گیا تھا

    مرکزی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کو غیر فعال قرار دینے اور ریاست کو دو مرکزی علاقوں میں تقسیم کرنے کی پیشرفت کرنے پرعلیحدگی پسند رہنماؤں سمیت سیاسی قیادت کو یا تو بند کردیا گیا یا مختلف مقامات پر نظربند کر دیا گیا دوسرے درجے کے سیاستدانوں کو ریاست سے باہر رکھا گیا ہے ملک یاسین ، آسیہ اندرابی ، مسرت عالم اور شبیر شاہ اس وقت دہلی کی تہاڑ جیل میں ہیں

    کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے چیئرمین یاسین ملک ، دختران ملت کے سربراہ آسیہ اندرابی اور آل پارٹی حریت کانفرنس کے جنرل سکریٹری مسرت عالم پر 2010 اور 2 مین016 غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت دہشت گردی کی کارروائیوں اور پتھراؤ کے الزام اور پاکستان سے فنڈز وصول کرنے کے الزام بھی عائد کئے گئے

    بھارت باز نہ آیا، ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ جاری، دو خواتین سمیت 6 افراد زخمی

    کشمیر قربانی مانگتا ہے از قلم۔۔مشی حیات

    مودی نے مقبوضہ کشمیر جنت نظیر کو جہنم میں بدل دیا ہے ٹویٹر پرٹاپ ٹرینڈ بن گیا

  • بریکنگ:بھارتی حکومت نے یاسین ملک کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کر لیا

    بریکنگ:بھارتی حکومت نے یاسین ملک کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کر لیا

    سرینگر:بریکنگ:بھارتی حکومت نے یاسین ملک کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کر لیا ،اطلاعات کےمطابق حریت رہنما یٰسین ملک کو بھارتی حکومت نے سزائے موت دینے کا فیصلہ کرلیاہے ، ادھرذرائع کےمطابق مقبوضہ کشمیر میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے نظربند چیئرمین محمد یاسین ملک کے اہلخانہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے کہاہے کہ یاسین ملک کو انکے خلاف دائر مقدمہ میں منصفانہ سماعت سے محروم رکھا جارہا ہے ۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق بھارتی حکومت نے کالعدم لبریشن فرنٹ کے چیئرمین کو دہائیوں پرانے جھوٹے مقدمے میں نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں نظربند کر رکھا ہے۔گزشتہ سال اپریل میں بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے یاسین ملک کو جب گرفتار کیاتو وہ پہلے ہی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت مقبوضہ کشمیر کی ایک جیل میں نظربند تھے ۔ ان کیخلاف 1990میں بھارتی فضائیہ کے چارافسروں کے قتل کا مقدمہ درج کیاگیا تھا جس کی سماعت جموں کی ٹاڈا عدالت میں جاری ہے اور سی بی آئی مقدمے کی پیروی کر رہی ہے ۔

    یاسین ملک کیخلاف متعدد مقدمات کی تیزی سے سماعت سے خدشہ ظاہر کیاجارہا ہے کہ بھارتی حکومت نے پہلے ہی ان کی سزائے موت کا فیصلہ کر رکھا ہے ۔ ساوتھ ایشین وائرکے مطابق یاسین ملک کے اہلخانہ نے قطری ٹی وی چینل الجزیرہ ٹی وی کو بتایا کہ قتل کے30سال پرانے جھوٹے مقدمے کودوبارہ کھولنے اور تیزی سے اس کی سماعت سے بھارتی قابض انتظامیہ کے خطرناک مذموم عزائم ظاہر ہوتے ہیں۔

    مقدمے میں یاسین ملک کی پیروی کرنے والے وکیل طفیل راجہ نے کہاہے کہ لبریشن فرنٹ کے چیئرمین کیخلاف جھوٹے مقدمے دائر کئے گئے ہیں تاہم انہوںنے کہاکہ وہ کسی قسم کے دباو میں ہرگز نہیں آئیں گے ۔

    انسانی حقوق کے معروف علمبردار اورجموںوکشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے سربراہ خرم پرویز نے کہاہے کہ مقدمے کی منصفانہ سماعت کا حق عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اگر آپ کیخلاف اچانک دہائیوں پرانا مقدمہ دوبارہ کھول دیا جاتا ہے اور آپ کو دفاع کا حق نہیں دیا جاتا تو یقینا اس پورے عمل پر سوالہ نشان لگ جائے گا۔

    آزاد کشمیرکے ایک محقق فیضان بٹ نے کہاکہ جب کشمیری سیاسی نظربندوں کی بات آتی ہے تو بھارتی ریاست کے علاوہ عدلیہ بھی تمام اصولوںاور قوانین کو بالائے طاق رکھ دیتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح یاسین ملک کے خلاف مقدمے کی تیزی سے سماعت کی جارہی ہے اس سے یہ شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں کہ تاریخ خود کو دوہرانے جارہی ہے ۔

    سابق بھارتی سفارتکار وجاہت حبیب اللہ نے جو 1990کی دہائی میں فوجی اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروںکے ہمراہ یاسین ملک سے متعد د بار ملاقاتیں کر کے ہیں یاسین ملک کے عدالتی قتل کے بارے میں قیاس آرائیوں کو تسلیم کیا ہے ۔

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ اے ایس دلت نے کہاہے کہ وہ یاسین ملک کو پھانسی پر چڑھانے کے بارے میں قیاس آرائیوں پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے تاہم اگر انہیں ایک پرانے مقدمے میں پھانسی دی جاتی ہے تو یہ بہت افسوسناک ہوگا۔

  • مودی وائرس کشمیر کو قتل کر رہا ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    مودی وائرس کشمیر کو قتل کر رہا ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    مودی وائرس کشمیر کو قتل کر رہا ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    باغی ٹی وی :سماجی رابطوں کی ویب سائٹ‌ ٹویٹر پر modiviruskillingkashmir # ہیش ٹیگ مودی وائرس کلنگ کشمیر، یعنی مودی ایسا وائرس ہے جو کشمیرویوں کو ختم کر رہا ہے ٹاپ ٹرینڈ بن گیا .مودی کی جانب سے کشمیریوں کا عرصہ حیات جو تنگ کیا جا رہا ہے یہ سلسلہ تو پون صدی سے جاری ہے

    مودی اور اس کے ہندو دہشت گردوں کا ظلم و ستم کی داستان بہت پرانی ہے لیکن حالیہ دنوں تازہ کاروائی میں بھارتی فوج، پولیس نے ہفتے کو صبح کولگام کے منژگام گاوں ہارڈمنڈ گوری میں مشترکہ سرچ آپریشن شروع کیا۔ جس کے دوران گھروں میں گھس کر خواتین سے بد تمیزی بھی کی گئی، بھارتی فوج نے تین کشمیریوں کو شہہید کیا ہے، جن کی شناخت اعجاز احمد نائکو ساکنہ چندر، شاہد صادق ملک ساکنہ کھل نور آباد اور عادل احمد ٹھوکر ساکنہ پمبئی کولگام کے طور پر ہوئی ہے.

    جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں میں جمعے کی رات سے جگہ جگہ تلاشی کی کاروائیاں کی جارہی تھیں۔اورکئی دنوں سے بھارتی فوج کی جانب سے مختلف علاقوں کا محاصرہ کیا جارہا تھا،علاقے کی طرف جانے والے تمام راستوں کو خار دار تاروں سے سیل کردیا گیا۔ جمعے کے روز مقبوضہ کشمیر میں 6نوجوانوں کو عسکریت پسندوں کی مدد کے الزام میں گرفتار کر لیا گیاتھا۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال 2020میں اب تک بھارتی فوج نے مختلف آپریشنز میں26واقعات میں45نوجوانوں کو شہید کیا ہے ۔جن میں جنوری میں 22،فروری میں 11اور مارچ میں 8افراد شہید کئے گئے۔

  • برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر کے حوالے سے قائم ” کل جماعتی پارلیمانی گروپ” کی طرف سے کشمیر پر بحث کرونا کی نظر ہو گئی

    برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر کے حوالے سے قائم ” کل جماعتی پارلیمانی گروپ” کی طرف سے کشمیر پر بحث کرونا کی نظر ہو گئی

    لندن:برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر کے حوالے سے قائم ” کل جماعتی پارلیمانی گروپ” کی طرف سے کشمیر پر بحث کرونا کی نظر ہو گئی،اطلاعات کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر کے حوالے سے قائم ” کل جماعتی پارلیمانی گروپ” کی طرف سے کشمیر پر بحث ملتوی کر دی گئی ہے۔

    پارلیمنٹ نے گروپ کی چیئرپرسن ڈیبی ابراہیم کی طرف سے پیش کی گئی تحریک منظور کرتے ہوئے اس پر بحث کیلئے 26مارچ کی تاریخ مقرر کی تھی ۔

    پارلیمنٹری کشمیر گروپ کی چیئرپرسن ایم پی ڈیبی ابراھم اور جموں و کشمیر بین الاقوامی تحریک حق خود ارادیت کے سربراہ راجہ نجابت حسین نے ساوتھ ایشین وائر کو بتایا کہ برطانوی پارلیمنٹ کورونا وائرس کے باعث 21اپریل تک بند کر دی گئی ہے جس وجہ سے یہ بحث بھی ملتوی ہو گئی ہے۔

    برطانوی پارلیمنٹ میں اس سے قبل بھی تین مرتبہ کشمیر کے حوالے سے بحث ہو چکی ہے جن میں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے پر زور دیا گیا ۔

  • مظلوموں کی پکار،عذاب الہی کی یلغار،کرونا وائرس کی برمار—از–ڈاکٹرماریہ نقاش

    مظلوموں کی پکار،عذاب الہی کی یلغار،کرونا وائرس کی برمار—از–ڈاکٹرماریہ نقاش

    اگر ماضی کے دریچوں میں جھانک کر دیکھا جائے یا تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھے جائیں تو ماضی کے بھیانک چہرے سے کچھ خوفناک مناظر جھانکتے ہوئے آپکو نظر آئیں گے…جو آپکو خوفزدہ کر دینے کیلئیے کچھ کم نہیں ہیں..

    جی ہاں قارئین!
    میں بات کر رہی ہوں پچھلی قوموں پر آئے ہوئے مختلف عذاب اور انکے اسباب کی …تاریخ اپنا آپ دہرا رہی ہے…
    چشم فلک یہ مناظر پہلے بھی دیکھ چکی ہے…

    فضاء پہلے بھی موذی امراض سے آلودہ ہو چکی ہے…
    یہ کائنات پہلے بھی موت کی ہچکیوں سے گونج چکی ہے….

    یہ دھرتی پہلے بھی کئ ذی روح کو مہلک امراض کے ساتھ اپنے سینے میں دفن کر چکی ہے…
    اس زمین پر پہلے بھی موت کی تکلیف سے ایڑیاں رگڑی جا چکی ہیں…
    ہاں مگر اسباب اور وجوہات الگ الگ تھیں…

    کہیں نافرمان قوموں پر اللہ کا عذاب آگ کے گولوں کی صورت میں برس چکا ہے…
    اور کہیں آسمان سے برستے پتھروں کی صورت میں دیکھا گیا ہے….
    کہیں پانی میں ڈوب کر پوری قوم غرق ہوتی پائ گئ ہے…

    اور کہیں پہاڑوں میں دھنستے اور بندروں کی شکلیں اختیار کرتے لوگ سنے گئے ہیں…
    کہیں ابابیل کے لشکر سے ہاتھیوں سمیت انسانوں کو خاک ہوتے قرآن میں پڑھا گیا ہے…
    کبھی طاعون مرض سے ہلاک ہوتے لوگ دیکھے گئے ہیں….

    تو قارئین کرام..! کبھی بھی عذاب بے سبب یا بے وجہ نہیں آئے…اجکل پوری دنیا جس عذاب میں گھر چکی ہے وہ کرونا وائرس ہے….جس سے تقریبن تمام ممالک ہی متاثر ہو چکے ہیں… ہر طرف ہنگامی صورتحال برپا ہے….احتیاطی تدابیر کی جا رہی ہیں….مگر سب سے اہم تدبیر تو شاید ہم بھول رہے ہیں…

    قارئین یہ وقت ہے اپنے گناہوں کو پہچاننے کا …انکی روک تھام کا…اور توبہ کا..انفرادی و اجتماعی گناہوں کا ازالہ کرنے کا…یہ وقت ہے اپنے نفس پر غورو فکر کا….اور اپنے رب سے گڑگڑا کر معافی کا….جانے انجانے میں جو حق تلفیاں ہوئ ہیں ہم سے انہیں تسلیم کر کے….آئندہ نہ کرنے کا عہد باندھنے کا….

    قومیں تب تک عذاب کا شکار نہیں ہوتیں….جب تک رب کی حدود تجاوز نہیں کرتیں….رب تعالی کے قہر کو آواز نہیں دیتیں…گناہوں اور نا فرمانیوں کا عروج نہیں کر دیتیں…
    یہ بات صرف مذہب اسلام میں ہی نہیں ہر مذہب میں جانی اور مانی جاتی ہے…ہر مذہب کے لوگ اپنے God کو اپنے طریقے سے منا رہے ہیں…لکین معافی کس بات پر مانگی جا رہی ہے….آیا کہ یہ غلطی وہی ہے…جسکے باعث اللہ تعالی کا عذاب نازل ہوا..?

    آیا کہ ہم نے وہ غلطیاں ترک کیں جس کی وجہ سے رب ناراض ہوا…? یہ کیسے پتا چلے گا…یا ہم کیسے جان پائیں گے…?
    تو اسکا ایک آسان کلیہ میں قارئین کو بتاتی چلوں…انفرادی لحاظ سے ہمارے گناہ کونسے ہیں…وہ ہم سب خود کو بہتر جانتے اور پہچانتے ہیں…ان سے توبہ کرنے کے بعد اجتماعی گناہوں کو پہچاننا اور اس سے توبہ کرنا اور ان گناہون کو دوبارہ نہ دہرانا …ان سے باز رہنا…بہت ضروری ہے… اس کیلئے ہمیں غور کرنا ہے کہ کہیں یہ انسانیت پر برپا ہونے والا ظلم تو نہیں….? جو نہ صوف مسلمانون پر ہے بلکہ کہیں نا کہیں کسی نہ کسی طبقے میں کسی نہ کسی صورت میں کسی صاحب حیثیت اونچی ذات والے شخص کے ہاتھوں مظلوموں اور غریبوں پر ہوتا ہی چلا آ رہا ہے…?

    یہ تحریر صرف مسلمانوں کیلئے ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر ہے…لہذا پہلے میں مخاطب ہوں ان لوگوں سے جو اینیملز رائٹس کی بات کرتے ہیں…جو خلا میں بلی کے بھیجے جانے پر چیخ اٹھتے ہیں….اگر انسانیت سے زیادہ قدریں جانوروں کو حاصل ہیں…تو چین میں ہونے والے جانوروں پر مظالم کے ویڈیو کلپس تو آپ نے بھی دیکھیں ہونگے…زندہ جانوروں کو پکنے کیلیئے آگ پر رکھ دینا گھی میں فرائی کر دینا…

    جانوروں کے سروں پر ڈنڈوں سے وار کر کے انہیں ہلاک کر کے کھانا کیا یہ ظلمیت کا منہ بولتا ثبوت نہیں…شاید یہی وجہ ہے زندہ چوہوں کو کھولتے پانی میں ابال کر جلد اتار کے ڈشوں میں پکا کر کھانے والے لوگوں پر چوہوں سے ہی پیدا ہونے والا اک وائرس حملہ آور ہو چکا ہے…جسکی شرح اموات بنسبت چوہوں کے 23% زیادہ ہے…چلیں جانوروں سے ہٹ کر اب ہم عالمی سطح پر ہونے والے انسانی ظلم کی بات کرتے ہیں…
    کہیں جنگلوں میں آدم خور قبیلے کا انسانوں کو ذبح کر کے کھانے جیسا ظلم دیکھنے اور سننے میں آیا ہے…

    اور کہیں زندہ انسانوں کے اعضاء نکال کر ہسپتالوں میں بیچنے کے کیسز سامنے آئے ہیں…
    اور اس سے بھی بڑی درندگی کی مثال کہاں ملے گی کہ انسانوں کا پیٹ چاک کر کے اس میں نشہ آور اشیاء اسمگل کی جا رہی ہیں…
    یہ تو چند مثالیں تھیں عالمی سطح پر قوم و مذہب کا امتیاز کئیے بغیر انسانیت پر برپا ہونے والے مظالم کا عکس…

    اب بحیثیت مسلم میں بات کروں گی انسانیت کے سب سے گھنائونے ناسوز اور دلگیر دہشت کے نشان… ظلم وستم کے اس پہلو کی کہ جس کے چند مناظر بڑے بڑے دل گردوں والوں کو بھی ایک بار مفلوج کر کے رکھ دیتے ہیں …
    لیکن وہ کیسے درندے ہیں کیسے حیوان صفت انسان ہیں جنہیں یہ ظلم ڈھاتے ہوئے سسکتے بلکتے انسانیت کے اس کمزور لاچار وجود پر رحم نہیں آتا جو نہ تو اپنے دفاع کی حالت میں ہیں اور نہ تو اس قابل کہ آگے سے صدائے رحم بلند کر سکیں….

    جب پتھر پر گردن رکھ کے اوپر سے پتھر مار مار کر مسلمان ہلاک کئیے جائیں گے تو کیا کرونا نہیں آئے گا?
    جب سوئے مار مار کر اعضاء جسم سے الگ اور چھلنی کئیے جائیں گے اور یہ عمل موت کے بعد بھی جاری رہے گا تو کیا عذاب الہی نہیں آئے گا…
    جب حاملہ خواتین کو پیٹ میں برچھے مار کر بچہ باہر گرا دیا جائے گا تو..کیا قہر الہی نہیں برسے گا?

    جب ماں کا (ہائے میرا بچہ) پکارنے پر بچے کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ماں کو کھلایا جائے تو خداوند تعالی ناراض نہیں ہونگے?
    خب بھارتی درندے کتوں کی طرح سونگھتے پھر رہے ہوں تو کشمیری مائیں بچوں کی آواز سے گھبرا کر خود اپنے ہی بچوں کا گلہ گھونٹ کر قتل کر کے انہیں آسان موت دے دیں تو کیا وائرس جیسی وباء نہیں آئے گی?

    جب کشمیری لڑکیون کے چہرہ انور اور پاکیزہ بدن کہ (جنکو چشم فلک نے بھی جی بھر کر نہ دیکھا ہو) سر بازار برہنہ کئیے جائیں تو کیا یہ مہلک امراض جنم نہیں لیں گے….?
    جب باپ کاکندھا کاٹ کر بیٹے کے ہاتھ میں پکڑایا جائے…اور بیٹے کی ٹانگ کاٹ کر باپ کے ہاتھ میں تھمائی جائے تو یہ کائنات کیا زلزلے سے لرزے گی نہیں?

    جب جلتی آگ میں انسان جلائے جائیں…اور زندہ انسانوں کی کھالیں اتاری جائیں…تو کیا دنیا بھر میں عذاب کے باعث ہلاکتیں نہیں ہونگی?
    آج جب ماں کرونا سے متاثر بچے کو اپنی ممتا سے دور آئسو لیشن میں دیکھتی ہو گی تو اسے کشمیری ماں یاد تو آتی ہو گی…

    آج جب اس وباء سے ایک باپ اپنے بیٹے کو مرتا ہوا موت کی ہچکیاں لیتے ہوئے دیکھتا ہے تو…اسے کشمیری باپ یاد تو آتے ہونگے…
    آج جب جوان بیٹا بوڑھے باپ کی لاش دیکھتا ہے اور وائرس سے متاثر ہونے پر اس لاش سے کئیے جانے والا برتائو اسکا دل چھلنی کرتا ہے تو اسے کشمیری جوانوں کی صدائیں تو سنائی دیتی ہونگی…

    آج اپنے پیاروں کو اس حال میں دیکھ کر انسانی جان کی قدر اگر تمہیں معلوم ہو گئ ہے تو…لازم ہے کہ ان جانوں کا تصور بھی روز آتا ہو گا جو کشمیر میں ایک ہی دن میں ایک ہی وقت میں ایک ہی گھر میں ضائع کی جاتی ہیں….
    اگر عالمی سطح پر انسانیت میں رحم اور کشمیریوں کا شعور اب بھی بیدار نہ ہوا تو پھر کرونا جیسے مرض سے بڑھ کر عذاب الہی برسے گا…

    جب انسانی بصارت دیکھنے اور انسانی سماعت سننے سے قاصر ہو جائے تو یاد رکھو اوپر عرشوں کا مالک آسمانوں کے اوپر سے سب دیکھ رہا ہے…وہ کائنات کے کسی بھی گوشے میں ہونے والی سرسراہٹ کو سن بھی رہا ہے….
    اور چیونٹی جیسی چھوٹی مخلوق کی ہر حرکت کو دیکھ بھی رہا ہے…اور پھر رب تعالی تو بہتر حکمت والا اوف بہتر سبب بنانے والا ہے…
    لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ 70 مائوں سے زیادہ پیار کرنے والا رب اس قدر ناراض ہے تو ہمارے گناہوں اور بے حسی کا کیا عالم ہو گا….

    80 لاکھ کشمیریوں پر دن رات ہونے والے مظالم اور اموات کو نظر انداز کر کے 165 ممالک میں 7987 ہلاکتوں پر اظہار فکر کریں گے تو…پھر جان لو کہ مظلوم کی آہ تو عرش سے ٹکراتی ہی ہے…
    80 لاکھ کشمیریوں کے بالمقابل 1 لاکھ 98 ہزار 4 سو بائیس کرونا سے متاثر افراد دریافت کر کے انہیں طبی نگہداشت دینا اور حکومت کی طرف سے ضرورت مندوں میں راشن پیکج تقسیم کییے جانا …اور اسکے برعکس کشمیریوں کی بھوک پیاس اور بیماری کو مسلسل نظر انداز کیا جائے گا تو عذاب الہی تو آئے گا نا…

    جب قرآن کہ رہا ہو کہ تم مسلمانوں کو ظلم کی چکی میں پستے دیکھو تو تم پر جہاد واجب اور فرض ہے…ایسے وقت میں جہادی تنظیمیں بند کر دی جائیں… مجاہدین کو قید کر دیا جائے…. اور جہاد روک دیا جائے…تو رب تعالی پھر اپنی مخلوق سے جنگ تو کریں گے نا…

    جب سپر پاور ممالک آسمانوں کے مالک کے کاموں میں….. اس کے طے کردہ امور میں دخل اندازی کریں گے تو پھر جہانوں کا مالک ناراض ہو کر اس سپر پاور کو ایک نہ نظر آنے والی چھوٹی مخلوق کے ہاتھوں بے بس کر کے تباہی کے دوہانے پر لا کھڑا کرے گا نہ….انکا غرور خاک تو کرے گا نہ…

    جب مظلوم کشمیریوں کی التجائیں عرش بریں سے جا ٹکرائیں گی تو رحمن اور رحیم کو رحم تو آئے گا نہ وہ بے رحم کائنات کو کرونا جیسے عذاب سے جھنجھوڑے گا تو سہی نہ?
    تو قارئین اس وقت میں آپ اور ہم سب اس نازک مراحل میں داخل ہو چکے ہیں کہ جسکا اگلا مرحلہ موت بھی ہو سکتی ہے… لہذا توبہ کا دروازہ اب بھی کھلا ہے…وقت اب بھی باقی ہے…دیکھنا یہ ہے کہ ہم میں وہ کامیاب لوگ کون ہیں جو انفرادی اور اجتماعی استغفار کر کےآئندہ ان گناہوں کو نہ دہرانے کا عہد کر کے اپنے رب کی عطا کردہ مغفرت کے مستحق بن کر موت کو اپنے دروازے سے ناکام لوٹا سکتے ہیں…

    مظلوموں کی پکار
    عذاب الہی کی یلغار
    کرونا وائرس کی برمار

    ✍بقلم
    ڈاکٹر ماریہ نقاش

  • لاک ڈاؤن بمقابلہ لاک ڈاؤن !!! تحریر: محمد طارق

    لاک ڈاؤن بمقابلہ لاک ڈاؤن !!! تحریر: محمد طارق

    ابھی سندھ، پنجاب ، آزاد کشمیر، کے پی اور گلگت بلتستان میں لاک ڈائون کو صرف 3 دن ہوئے ہیں پاکستان کے کسی بھی حصے میں لاک ڈائون کے دوران نہ تو کسی کو غدار قرار دے کر گولی مارنے کا حکم ہے اور نہ ہی ضروریات زندگی کی اشیاء کی تمام دوکانیں بند ہیں، نہ گلی گلی بندوق بردارکھڑے ہیں لیکن پھر بھی لوگوں کو فکر ہے کہ لاک ڈائون کے دوران کیا ہو گا عوام تو عوام اربوں کھربوں ڈالر اور بے پناہ طاقت کے وسائل رکھنے والی پاکستانی حکومت بھی پریشان ہے کہ 14 دن کے لاک ڈائون کے نتائج کیا ہوں گے؟ دوسری طرف 7 ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے لاک ڈائون کر رکھا ہے جس کو دل چاہا اور جس شہر یا چوک میں چاہا غدار قرار دے کر گولیوں سے چھلنی کر دیا، 7 ماہ سے 8 لاکھ ظالم فوج 80 لاکھ کشمیری مسلمانوں پر بندوق تانے کھڑی ہے گھر سے باہر جیسے ہی قدم رکھا جاتا ہے درجنوں گولیاں جسم کے آر پار کر دی جاتی ہے بچے بھوک سے تڑپ تڑپ کر جان دے رہے ہیں اور جوان مسلمان لڑکیوں کو گھروں سے اٹھا کر بے آبرو کر دیا جاتا ہے، درجنوں والدین کی روزانہ شہادت سے سینکڑوں بچے یتیم ہو رہے ہیں لیکن اس لاک ڈائون پر نہ کسی کی زبان ہلی، نہ کوئی آنکھ نم ہوئی۔ نہ کوئی محمد بن قاسم آیا اور نہ ہی دنیا میں امن کی ٹھیکیدار اقوام متحدہ کی نیٹو نے بھارتی فوج کا ہاتھ روکا۔ غرض یہ کہ دنیا میں کشمیری قوم تن تنہا بھارتی فوج کا ظلم برداشت کر رہی ہے۔ ہر مذہب (مسلمان، ہندو، عیسائی، بدھ مت اور غیر مذہب) نے ان کو تنہا چھوڑ دیا لیکن نہیں چھوڑا تو میرے پروردگار آللہ تعالیٰ کی ذاتِ نے ان کو تنہا نہیں چھوڑا،
    میرے دوستو مجھے اجازت دو تو میں آج کہہ دینا چاہتا ہوں کہ شائد کشمیری اللہ تعالیٰ کو اتنے پیارے لگے ہیں کہ ان پر ہونے والے مظالم کو دیکھ کر چپ رہنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے سزا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اس لیے کرونا وائرس کا لاک ڈائون سب سے پہلے دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت چین سے ہوا۔ خودساختہ سپر پاور امریکہ بھی شکنجے میں جکڑا گیا۔ بھارت کا یار ایران بھی سخت عذاب کا مستحق ٹھرا ہے جانوروں کے حقوق پر جلوس نکالنے والا یورپ اور کشمیر میں لاکھوں شہادتوں پر چپ رہنے والے یورپ کا حال دیکھ کر بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اب مظلوم قوم کا ہمسائے ملک پاکستان کی بھی حالت تشویشناک اور قابل رحم ہوتی جا رہی ہے دنیا میں کرونا وائرس کے نام پر ہونے والے لاک ڈائون اور اس کے بعد والے حالات سے لاکھوں بلکہ کروڑوں ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے
    میں یہاں پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر دنیا چاہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ کرونا وائرس کا لاک ڈائون ختم کرے اور دنیا وائرس سے محفوظ ہو جائے تو ہمیں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا لاک ڈائون ختم کرنا ہو گا اور ساتھ ساتھ ظلم پر خاموشی اختیار کرنے والے گناہ پر توبہ کرنی ہو گی ہو سکتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے لاک ڈائون کے بعد اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کرتے ہوئے دنیا میں کرونا وائرس کا لاک ڈائون ختم کر دے۔

  • آزاد جموں و کشمیر حکومت نےسیاحوں  پر پابندی لگادی

    آزاد جموں و کشمیر حکومت نےسیاحوں پر پابندی لگادی

    آزاد جموں و کشمیر حکومت نےسیاحوں پر پابندی لگادی

    باغی ٹی وی :آزاد جموں و کشمیر حکومت نے کورونا وائرس کے پیش نظر ابتدائی طور پر سیاحوں کی آمدورفت پر تین ہفتے کی پابندی عائد کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق آج آزاد جموں و کشمیر کابینہ کے ارکان کا اجلاس ہوا جس میں کورونا سے نمٹنے کیلیے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

    اس ضمن میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات مشتاق منہاس نے بتایا ہے کہ اسٹیٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد کی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ آزاد کشمیر میں کورونا کا کوئی کیس نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے تمام اسپتالوں میں کورونا سے نمٹنے کیلیے وارڈز مختص ہیں اور ابتدائی طور پر پچاس لاکھ روپے جاری کر دئیے گئے ہیں۔ مشتاق منہاس کا کہنا تھا کہ محکمہ اطلاعات سمیت دیگر محکمے سوشل میڈیا کمپینز چلا رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ گیارہ انٹری پوانٹس پر سکریننگ کیلیے ٹیمیں موجود ہیں، وبائی امراض سے نمٹنے کے ایکٹ 1958 کے تحت اقدامات کئے گئے ہیں۔

    خیال رہے کہ صوبہ سندھ میں ایک دن میں کرونا وائرس کے مزید 52 کیسز سامنے آ گئے ہیں، جس کے بعد صوبے میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 87 جب کہ ملک بھر میں کرونا کے مریضوں کی تعداد 105 ہو گئی ہے۔ کرونا نے 157 ممالک کو لپیٹ میں لے لیا ہے، وائرس کے خوف سے ہر سو سناٹا پھیل گیا، بازار ویران ہو گئے، دنیا بھر میں وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 6,521 ہو چکی ہے جب کہ متاثرہ افراد کی تعداد 169,925 تک پہنچ گئی ہے
    ادھر کرونا وائرس کے پیش نظر محکمہ اوقاف نے مساجد بند کرانا شروع کر دیں. خان پور میں‌ محکمہ اوقاف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مسجد میں اذان کے بعد نمازی حضرات گھر میں نماز ادا کریں ، حکم جاری کیا گیا ہے کہ تا حکم ثانی مساجد بند رہیں گی ، مساجد کے دروازوں پر نوٹس آویزاں کر دیئے گئے.ادھر وزیر اعلی پنجاب سے علماء کئ وفد نے ملاقات کی اس میں کہا گیا کہ مساجد بند نہیں کریں گے.

  • عسکری تحریک میں کشمیری خواتین کا لازوال کردار……. تحریر: یاسمین میر

    عسکری تحریک میں کشمیری خواتین کا لازوال کردار……. تحریر: یاسمین میر

    بھارت کو کشمیر میں خونی پنجے گاڑے ستر برس بیت گئے مگر سلام ہو ان بہادر ونڈر کشمیری مردوزن پر کہ نہتے ہو کر بھی دشمن کے دانت کٹھے کر رہے ہیں۔

    1989 سے آج تک لاکھوں جانوں کا نذرانہ دینے کے باوجود وطن کی آزادی کے لیے کشمیر ی اب بھی کٹ مرنے کو تیار ہیں۔ کشمیر کی مائیں اپنے بیٹوں میںبے جگری سے جینے اور شوق شہادت کا یہ جذبہ نسل درنسل منتقل کرتی چلی آرہی ہیں۔

    تحریک کے روز اول سے ہی کشمیری خواتین اپنے بیٹوں ‘ بھائیوں اور شوہروں کو وطن پر قربان کرنے کیلئے ہر لمحہ تیارر ہتی ہیں ۔ عملی طورپر دیکھیں تو عسکری تحریک میں کشمیری خواتین کا کردار نہیں ملتا لیکن کشمیر مومنٹ کے تیز ہونے کے بعد 1989 میں کشمیری خواتین نے تنظیم سازی کرنے لگیں تو ساتھ ہی حریت تحریکوں کے خواتین ونگ بھی بننا شروع ہو گئے۔

    اس وقت سے آسیہ اندرابی ’ دختران ملت،زمردہ حبیب تحریک خواتین، یاسمین راجہ مسلم خواتین مرکز، فریدہ بہن جی ماس مومنٹ جموں وکشمیر اور پروینہ آہنگر اے پی ڈی چلا رہی ہیں۔

    ان خواتین کے تنظیموں میں سینکڑوں خواتین ممبرز بھی موجود ہیں جو نہ صرف عام کشمیری کو آزادی کی اہمیت سے آگاہ کرتی ہیں۔ بلکہ 90 کے دہائی میں جب درندہ صفت بھارتی فوجیوں نے خواتین کی عزتیں پامال کرنا شروع کیں تو آسیہ اندرابی نے آگاہی مہم کے دوران خواتین کو اپنے پاس چاقو رکھنے اور دفاع کے طورپر اس کو استعمال کرنے کے طریقے بھی سیکھائے ۔

    یہی نہیں تحریک کے آغاز سے اب تک کشمیری خواتین مجاہدین کو پناہ دینے ان تک کھانا پہنچانے اور انہیں سیکورٹی فورسز سے بچانے میں بھی پیش پیش رہی ہیں۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد تو ہم مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے بڑے احتجاجی مظاہرے دیکھ رہے ہیں ۔

    لیکن پہلا آرگنائز احتجاجی مظاہرہ 1990 میں دختران ملت کی کال پر ہوا اور اس وقت خواتین نے مسجد میں جاکر نعرہ لگائے۔ اب وادی میں وہ دور لوٹ آیا ہے جب کشمیری خواتین کا اپنے رشتہ داروں کی تلاش اور کیسیز کی پیروی کے لیے دہلی کی عدالتوں اور تہاڑ جیل کے چکر لگانا معمول بن چکا ہے ۔

    پاکستانی قوم بھی کشمیری بھائیوں اور بہنوں سے بے خبر نہیں، تحریک آزادی کے ستر سالوں کے اعصاب شکن مراحل سے گزر کرگزشتہ دو سو دنوں میں آزادی کی جد جہد میں عورتوں کی بھرپور شمولیت آنے والی صبح نو کے لیے امید کا پیغام دے رہی ہے۔ جہدوجد آزادی میں خواتین کے سرگرم کردار اور زمینی حقائق کے متعلق دختران ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی کہتی ہیں کہ میں کئی بار جیل گئی انڈر گر اؤنڈ رہی حتی کہ حال ہی میں برہان وانی کی شہادت کے بعد تین مہینے کے لیے جیل میں رکھا گیا اور اس وقت بھی ہاؤس اریسٹ ہوں ۔

    مگر آخری دم تک کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد میں خواتین کے سرگرم کردار اور زمینی حقائق کے متعلق دختران ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی کہتی ہیں کہ میں کئی بار جیل گئی انڈر گر اؤنڈ رہی حتی کہ حال ہی میں برہان وانی کی شہادت کے بعد تین مہینے کے لیے جیل میں رکھا گیا اور اس وقت بھی ہاؤس اریسٹ ہوں ۔ مگر آخری دم تک کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھوں گی۔

    چوبیس سال سے میرے شوہر جیل میں ہیں۔ لاکھوں کشمیری خواتین ایسی ہیں جن کے شوہر کئی سالوں سے لاپتہ ہیں اور تاریخ میں پہلی بار کشمیری خواتین کے لیے (آدھی بیوہ )کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔ مگر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بھارت کچھ بھی کر لے ہمارے اٹل ایمان کو شکست نہیں دے سکتا۔

    چیئرپرسن جموں کشمیر ماس موومنٹ فریدبہن جی کہتی ہیں کہ میرے بھائی بلال پر پاکستان سے وابستگی کا الزام لگا کر گرفتار کیا گیا بعدازاں دہلی دھماکوں کے بعد بھارتی فوجیوں نے نہ صرف مجھے گرفتار کیا بلکہ پانچ سال کے لیے تہاڑ جیل بھیج دیا اور 2001ء میں جیل سے رہا ہوئی تو بھارت کی جیلوں میں قید کشمیری قیدیوں کی قانونی مددکا بیڑہ اٹھایا۔ زمردہ حبیب تحریک خواتین کشمیر کی چیئرپرسن ہیں ۔

    وہ 1992ء سے آزادی کی تحریک میں متحرک ہیں اور اسی پاداش میں 5 سال کے لیے تہاڑ جیل بھی کاٹ چکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی خواتین کے قربانیاں گواہ ہیں کہ کشمیری عورت کو ڈرایا یا دھمکایا نہیں جاسکتا۔ مسلم خواتین مرکز کی چیئرپرسن یاسمین راجہ جو غلام نبی بٹ کی بیٹی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بچپن سے ہی پاکستان کی نغمے گاتی تھی۔

    ایک مرتبہ پاکستانی قومی ترانہ پڑھنے پر مجھے سکول سے نکال دیا گیا۔ مگر میری پاکستان کے ساتھ لگن کم نہیں ہوئی۔ اس دوران کئی بار جیل گئی ہوں اور رہا ہوئی ہوں۔ تحریک آزادی کشمیر کی ان چند نمایاں خواتین کے علاوہ دیگرکشمیری خواتین کا بھی آزادی کی جدوجہد میں کلیدی کردار رہا ہے۔

    اسلام اور آزادی کی اس شمع کو جلا رکھنے کے لیے برہان وانی کی شہادت کے بعد سے چلنے والی تیز ترین عوامی جدوجہدکو دبانے کے لیے بھارت کے ظلم وستم سے جہاں سو کشمیری شہید ہو ئے ان میںخواتین بھی شامل ہیں

    گزشتہ چھ ماہ میں یاسمین رحمان‘ سعیدہ بیگم ‘ نیلوفر‘ یاں اور فوزیہ صدیق سمیت کئی خواتین نے جام شہادت نوش کیا۔ وہیں خواتین کے پرامن ریلیوں ‘ جلسوں ‘ اور حتی کہ گھروں میں گرنے والے آنسووں گیس کے گولوں ‘ پیلٹ گن کے چھروں سے انشاء مقبول ‘ عرفی جان‘ شیروزہ میر‘ افراء جان‘ شیروزہ شکور کو آنکھوں کی روشنی سے ہاتھ دھونا پڑا۔

    یہی نہیں اس وقت ہزاروں کشمیری مائیں غربت کے باعث بچوں کی آنکھوں کا علاج نہیں کروا پا رہی ہیں ۔ جو پیلٹ گن کے چھرو ںسے متاثر ہوئے ہیں۔ ریاستی اخبار کی رپورٹ کے مطابق 9 جولائی 2016ء سے 31 دسمبر 2016ء تک 1008 نوجوان پیلٹ گنوں کا نشانہ بنے اور زخمی ہوئے ۔ ان میں سے سو سے زائد کے والدین نے غربت کے باعث ان کی آنکھوں کا علاج ادھورا چھوڑ دیا ۔

    اعدادو شمار کے آئینے میں دیکھیں تو کشمیر میڈیا سروسز کے مطابق 1989ء سے 31 دسمبر 2016 ء تک کشمیر میں بیوہ خواتین کی تعداد 22,835 ہے۔ جبکہ 10,825 خواتین کی اجتماعی عصمت دری کے واقعات پیش آچکے ہیں اور شہادتوں کے نتیجے میں 107,603بچے یتیم ہو چکے ہیں۔یہ شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ تحریک آزادی میں سرگرم کشمیری خواتین مالی پریشانی کے باوجودفلسطینی بہنوں کی طرح ہمت و حوصلہ کی مثال قائم کئے ہوئے ہیں۔

    کشمیر کی مظلوم عورتیں اسلام کے علمبردار خواب غفلت میں
    تحریر: یاسمین میر