Baaghi TV

Category: کھیل

  • رونالڈو کی پریمیئر لیگ کے کلب مانچسٹر یونائیٹڈ میں واپسی، تنخواہ کتنی ہو گی؟

    رونالڈو کی پریمیئر لیگ کے کلب مانچسٹر یونائیٹڈ میں واپسی، تنخواہ کتنی ہو گی؟

    فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈو پریمیئر لیگ کے کلب مانچسٹر یونائیٹڈ میں واپس آگئے ہیں-

    باغی ٹی وی : برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق مانچسٹر یونائیٹڈ کی جانب سے 36 سالہ رونالڈو کی کلب واپسی کی تصدیق کر دی گئی ہے رونالڈو کو ساڑھے چار ارب روپے تنخواہ ملے گی اور یہ معاہدہ 2 سال کے لیے طے ہوا ہے۔

    رونالڈو اس وقت پرتگال میں موجود ہیں جہاں وہ طبی معائنے کے بعد مانچسٹر یونائیٹڈ کے ساتھ معاہدے پر دستخط کریں گے رونالڈو نے یووینٹس کی طرف سے کھیلنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد مانچسٹریونائیٹڈ اور یووینٹس کے درمیان ٹرانسفر ڈیل پر اتفاق ہوگیا۔

    پرتگال سے تعلق رکھنے والے رونالڈو اس سے پہلے بھی مانچسٹر یونائیٹڈ کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

    اس سے قبل اطالوی کلب جوانٹس کے مینجر نے اعلان کیا تھا کہ اسٹار فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈو جوئنٹس کی طرف سے مزید نہیں کھیلیں گے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جووئنٹس کے منیجر ماسیمیلانو الیگری نے کہا تھا کہ رونالڈو کو کل کے میچ میں شامل نہیں کیا جائے گا رونالڈو نے کلب کی ترقی کیلئے کردار اد ا کیا، اس کیلئے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

  • پاکستان کرکٹ،دل کا روگ     تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    پاکستان کرکٹ،دل کا روگ   تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    جب سے ہوش سنبھالی ہے،اپنے وطن کی جمہوریت اور اپنی کر کٹ ٹیم کی بیٹننگ کو خطرے ہی میں پایا ہے۔

    لیکن بیٹنگ والی یہ کہانی ہوئ پرانی،اب تو اکثر باؤلنگ بھی دھوکا دے جاتی ہے۔

    جبکہ ہماری فیلڈنگ کی رنگ بازیاں تو دنیا بھر میں مشہور ہیں۔

    ابھی ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلی گئی حالیہ سیریز ہی کو لے لیں۔

    اس سیریز کا پہلا ٹیسٹ ہمیں جیتنا چاہیے تھا،

    مگر اس بہت ہی کلوز میچ کے آخری فیصلہ کن مرحلے میں کئی کیچز چھوڑ کر ہم نے ایک سنسنی خیز میچ ہار کر سیریز جیتنے کا موقع بھی گنوا دیا۔

    گزشتہ رات دوسرا اور سیریز کا آخری ٹیسٹ ایک اعصاب شکن مقابلے کے بعد جیت کر ہم نے وہ سیریز بمشکل برابر کر لی،

    جو ہمیں آرام سے جیتنی چاہیے تھی۔

    اگر دونوں ٹیموں کا موازنہ کیا جاۓ تو پاکستان ٹیم ٹیسٹ کر کٹ کے لحاظ سے ویسٹ انڈیز سے بہت مضبوط نظر آتی ہے۔

    ہماری ٹیم کا ہر دور میں مسئلہ رہا ہے کہ ٹیم کا بوجھ محض چند ایک کھلاڑی اٹھاتے ہیں،

    بقیہ کھلاڑیوں کی پرفارمنس دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ کسی تفریحی دورے میں گئے ہوۓ ہیں۔

    جیسا کہ آجکل ٹیم کو مشکلات سے نکالنے کا بیڑا بلے بازی میں بابر اعظم،محمد رضوان اور فواد عالم جبکہ باؤلنگ میں شاہین شاہ آفریدی نے اُٹھا رکھا ہے۔

    اس دوسرے ٹیسٹ کی جیت میں فواد عالم کی سنچری اور شاہین شاہ آفریدی کی دس وکٹوں نے اہم کردار ادا کیا۔

    اس میچ میں ہمارا مقابلہ ویسٹ انڈیز ٹیم کے ساتھ ساتھ بارش اور خراب موسم سے بھی تھا۔

    اس فیصلہ کن ٹیسٹ کو ہم نے 4دنوں میں اپنے حق میں کر کے فیصلہ کن بنانا تھا،

    کیونکہ ایک مکمل دن پہلے ہی بارش کی نظر ہو چکا تھا۔

    پھر کرتے کراتے جب ٹیسٹ میچ کےآخری دن لنچ کے بعد میچ بارش کے سبب رکا تو ،میچ ڈرا ہونے کے امکانات بھی پیدا ہو گئے تھے،

    کیونکہ اس وقت ویسٹ انڈیز کی آخری تین وکٹیں باقی تھیں۔

    تاہم ایمپائروں نے اس ٹائم کو کور اپ کرنے کے لئے ٹائم سے پہلے ہی چاۓ کے وقفے میں تبدیل کر کے بہتر حکمت عملی سے میچ کنڈکٹ کیا۔

    اس میچ میں قسمت کی دیوی مہربان رہی اور بالاخر آخری سیشن کا میچ شروع ہوا اور پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے آخری تین کھلاڑیوں کو ٹھکانے لگا کر ملک  کی لاج رکھ لی اور ہم یہ سیریز بچانے میں کامیاب ہو گئے۔

    سیریز ہارنے سے سیریز ڈرا کر لینا بحرحال ایک اچھا شگون ہے،

    جو کم ازکم ٹیم کا مورال تو بلند رکھے گا،

    جو ہمیں آنے والے ٹی20ورلڈ کپ میں ایک نئی توانائ فراہم کرے گا۔

    اس سیریز میں شاہین شاہ آفریدی شہنشاہ آفریدی کے روپ میں نظر آۓ۔

    انہوں نے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 18وکٹیں لیکر پاکستان کی طرف سے ایک نیا ریکارڈ بھی قائم کیا۔

    اس سے پہلے آج تک کوئ بھی پاکستانی تیز باولر دو ٹیسٹ میچوں میں اتنی وکٹیں نہیں لے سکا تھا۔

    کارکردگی کے لحاظ سے یہ سیریز عمران بٹ،عابد علی،اظہر علی اور یاسر شاہ جیسے کھلاڑیوں پر بہت بڑا سوالیہ نشان چھوڑ گئی ہے۔

    جو کھلاڑی ویسٹ انڈیز جیسی قدرے کمزور ٹیم کے خلاف کارکردگی نہیں دکھا سکے،وہ آسٹریلیا،بھارت اور انگلینڈ جیسی تگڑی ٹیموں کے خلاف کیسے کارکردگی دکھائیں گے؟

    عمران بٹ نے سیریز میں کیچز کا ریکارڈ قائم کیا،

    انہوں نے کئی ناممکن کیچز بھی لئے۔مگر اپنے اصل شعبے یعنی بیٹنگ میں بری طرح نا کام رہے۔

    اب رمیز راجہ کے بطور چیئرمین پاکستان کرکٹ بناۓ جانے سے امید پیدا ہوئ ہے کہ اب ٹیم سے سفارش اور اقربا پروری کا کلچر ختم ہو گا اور ٹیم میں صرف اہل کھلاڑی جگہ پانے میں کامیاب ہوں گے،

    جبکہ ریلو کٹوں کی چھٹی ہو جاۓ گی_

    ٹیم میں کچھ نئے کھلاڑیوں کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

    اظہر علی،شعیب ملک اور محمد حفیظ کو اور کتنے مواقع دئیے جائیں گے؟

    یہ کھلاڑی ہر بار کسی نہ کسی ڈومیسٹک یا علاقائ ٹورنامنٹ میں اچھی پرفارمنس دکھا کر یاپھر بورڈ کے خلاف بیان بازی کر کے ٹیم میں آجاتے ہیں۔

    جیسا کہ ابھی حالیہ دنوں میں ہونے والی کشمیر لیگ میں شعیب ملک نے پھر اچھے رنز بناۓ ہیں،

    جس کے بعد اسے پاکستان ٹیم میں دوبارہ شامل کرنے کے لئے لابنگ شروع ہو چکی ہے۔

    حتی کہ کپتان بابر اعظم نے بھی شعیب ملک کی واپسی کی درخواست کر دی ہے،

    جسے تادم تحریر بورڈ ماننے سے انکاری ہے۔

    میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی اچھی پرفارمنس کے حامل کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کروانا کپتان کا استحقاق ہوتا ہے،

    مگر صرف بڑے نام کی وجہ سے یازاتی تعلقات نبھانے یا کچھ پریشر گروپوں کے زیر اثر آکر کسی کو ٹیم میں ڈالنے کی بات نا مناسب لگتی ہے،

    خصوصا” ایک ایسے کھلاڑی کو لانے کی ضد،

    جو کئی سیریز میں مسلسل ناکام رہا ہو۔

    ہمیں پاکستان ٹیم میں سلیکشن کے معیار کو شفاف بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

    پرچی مافیا کی بدولت ٹیم کو پہلے ہی ناقابل تلافی نقصان پہچ چکا ہے۔

    ہماری رینکنگ تینوں شعبوں میں نیچے گر چکی ہے۔

    اگر ابھی بھی ٹیم سلیکشن میں شفافیت اور میرٹ آگے  نہ آیا تو پھر کبھی بھی نہیں آۓ گا۔

    کیونکہ اس وقت کا وزیر اعظم پاکستان عمران خان بزات خود دنیاکرکٹ کا ایک عظیم کھلاڑی رہا ہے۔

    ابھی تک کرکٹ ورلڈ اسے کامیاب ترین کپتان،نمبر ون آل راؤنڈر اور شاندار کھلاڑی کے طور پر جانتی ہے۔

    وہی عمران خان جس نے اپنے پورے کیرئر میں ایک بھی نو بال نہیں کروائ وہ کرکٹ بورڈ میں اتنی لوز بالیں کیسے برداشت کر سکتا ہے؟

    وقت آگیا ہے کہ بطور پیٹرن انچیف پاکستان کرکٹ بورڈ عمران خان کرکٹ بورڈز کے معاملات بشمول ٹیم سلیکشن اور مالی نظم ونسق کے،

    کچھ ایسا کر جائیں،

    جس سے دنیا ان کے ان اقدامات کی وجہ سے پاکستان کرکٹ میں ہونے والی بہتری کے خالق اور موجد کے طور پر بھی اسی طرح یاد رکھے،

    جس طرح بطور کرکٹر یاد رکھتی ہے۔

    اور جس عمران خان کو میں جانتا ہوں،اسکے لئے کرکٹ بورڈ کے معاملات اور کرکٹ ٹیم کو ٹریک پر لانا کوئ مشکل کام نہیں ہونا چاہیے#

     

    تحریر۔سیدلعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

    Regards,

  • ارشد ندیم کے خلاف منفی افواہیں پھیلانے پر نیرج چوپڑا بھارتی میڈیا پر برہم

    ارشد ندیم کے خلاف منفی افواہیں پھیلانے پر نیرج چوپڑا بھارتی میڈیا پر برہم

    پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم کے خلاف منفی افواہیں پھیلانے پر بھارتی ایتھلیٹ نیرج چوپڑا نے بھارتی میڈیا کو آڑے ہاتھوں لے لیا-

    باغی ٹی وی :بھارتی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں نیرج چوپڑا نے کہا تھا کہ اس نے تاخیر کے بعد جلدی سے اپنا پہلا تھرو لیا کیونکہ وہ اپنانیزہ نہیں ڈھونڈ سکا ، جسے اس نے پاکستان کے ارشد ندیم کے ہاتھوں میں دیکھا تاہم نیرج چوپڑا کی اس بات کو انڈین میڈیا نے خوب اچھالا اور ارشد ندیم کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا-

    جس پر جمعرات کو نیرج نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں کہا گیا کہ وہ اپنے تبصروں پر "رد عمل سے انتہائی مایوس” ہےمیں سب سے گزارش کروں گا کہ براہ کرم مجھے اور میرے تبصروں کو اپنے ذاتی مفادات اور پروپیگنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال نہ کریں-


    انہوں نے کہا کہ نیزے کو استعمال کرنے والے معاملے کو نہ اچھالا جائے، ارشد نے میرا نیزا اٹھایا تھا، یہ کھلاڑیوں کے لیے عام بات ہے اور فائنل کے دوران جو کچھ ہوا وہ قواعد کے مطابق تھا ، اور اس کو کوئی بڑا مسئلہ بنانے کی ضرورت نہیں تھی تاہم مجھے دکھ ہے کہ بھارتی میڈیا اس معاملے کو میرا سہارا لے کر اچھال رہا ہے۔

    نیر ج چوپڑا کا کہنا تھا کہ "ایک انٹرویو میں میرے ریمارکس پر ایک بڑا مسئلہ بنا دیا گیا ہےتمام جیولن تھرور آپس میں بہت پیار سے رہتے ہیں، اسپورٹس سب کو مل کر رہنا سکھاتا ہے میں اپیل کرتا ہوں کہ اس معاملے کو اتنا مت اچھالیں۔

    خیال رہے کہ بی بی سی کے مطابق اپنے وطن واپسی پر ایک انٹرویو میں نیرج نے کہا تھا کہ اگر پوڈیم پر ان کے ساتھ پاکستان کے ارشد ندیم بھی ہوتے تو ’ایشیا کا نام ہو جاتا اور یہ کتنا اچھا ہوتا‘۔

    اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اسامہ بن لادن نائن الیون کے حملوں میں ملوث تھا ،ذبیح اللہ مجاہد

    نیرج چوپڑا نے یہ بھی بتایا تھا طلائی تمغہ جیتنے کے ایک دن بعد انہوں نے اختتامی تقریب سے پہلے ڈائننگ ہال میں ارشد ندیم سے ملاقات کی تھی۔ دونوں نے بہت گرمجوشی سے ملاقات کی۔ نیرج چوپڑا کے مطابق ارشد ندیم نے ایک بڑی مسکراہٹ کے ساتھ انہیں مبارکباد دی تھی۔

    ارشد ندیم نے اپنی پہلی تھرو 82 اعشاریہ چار میٹر دور پھینکی، ان کی دوسری تھرو فاؤل قرار پائی جبکہ ان کی تیسری تھرو 84 اعشاریہ چھ دو میٹر دور پہنچی۔ اس تیسری تھرو کے باعث وہ 12 ایتھلیٹس میں سے پانچویں نمبر پر رہے۔

    ارشد ندیم نے ٹوکیو اولمپکس کے کوالیفائنگ مقابلوں میں 85 اعشاریہ 16 میٹرز دور جیولن پھینک کر فائنل راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کیا تھا۔ وہ کوالیفائنگ مقابلوں میں گروپ بی میں پہلے نمبر پر رہے تھے جبکہ مجموعی طور پر کوالیفائنگ راؤنڈ میں ان کی تیسری پوزیشن رہی تھی۔

    سابق صدر حامد کرزئی، عبد اللہ عبداللہ کو طالبان نے نظر بند کردیا

  • قومی کرکٹ ٹیم  ویسٹ انڈیز سے وطن کب واپس روانہ ہوگی

    قومی کرکٹ ٹیم ویسٹ انڈیز سے وطن کب واپس روانہ ہوگی

    قومی کرکٹ ٹیم 25 اگست بروز جمعرات کو ویسٹ انڈیز سے وطن واپس روانہ ہوگی-

    باغی ٹی وی : قومی اسکواڈ مقامی وقت کے مطابق شام بجے جمیکا سے براستہ لندن لاہور کے لیے اپنے سفر کا آغاز کرے گا قومی اسکواڈ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب 12:50 بجے لاہور پہنچے گا-

    چار کھلاڑی بیٹسمین اظہر علی، لیگ اسپنر یاسر شاہ، فاسٹ باؤلرز محمد عباس اور نسیم شاہ وطن واپس نہیں آئیں گےیاسر شاہ اور نسیم شاہ کیریبین پریمیئر لیگ میں شرکت کے لئے کچھ دیر بعد انٹیگا روانہ ہوجائیں گے محمد عباس اور اظہر علی کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کے لیے لندن میں قیام کریں گے-

    ہمارے ہر بیٹسمین کو فواد عالم سے سیکھنے کی ضرورت ہے بابر اعظم

    واضح رہے کہ کنگسٹن میں ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے بولنگ کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم کو 219 رنز پر آؤٹ کردیا۔ پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو فتح کے لیے 329 رنز کا ہدف دیا تھا تاہم ویسٹ انڈینز یہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہے اور انہیں 109 رنز سے شکست ہوئی۔

    میچ میں شاہین آفریدی نے بہترین بالنگ کا مظاہرہ کیا۔ شاہین آفریدی نے دوسری اننگز میں 4 جب کہ مجموعی طور پر اس میچ میں 10 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جس پر انہیں پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔ نعمان علی نے 3 اور حسن علی نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔ بیٹنگ میں پاکستانی بلے باز فواد عالم چھائے رہے، وہ 124 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

    ٹیسٹ میچ کے آخری روز ویسٹ انڈیز نے ایک وکٹ پر 49 رنز سے اپنی نامکمل اننگز کا آغاز کیا۔ویسٹ انڈیز کے کپتان کریگ بریتھ ویٹ سمیت کوئی بھی ویسٹ انڈین بلے باز پاکستانی بولرز کا جم کر مقابلہ نہ کرسکا، بریتھ ویٹ 39 رنز پرپویلین لوٹئ۔ نکروما بونر 2، روسٹن چیز 0، جرمین بلیک ووڈ 25 رنز، کائل میئر 32، جیسن ہولڈر 47، کیمروچ 7 اور جوشوا ڈی سلوا 15 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔

    پاکستان دوسرا ٹیسٹ میچ 109 رنز سے جیت گیا : تین میچوں کی سیریز برابر

  • ہمارے ہر بیٹسمین کو فواد عالم سے سیکھنے کی ضرورت ہے   بابر اعظم

    ہمارے ہر بیٹسمین کو فواد عالم سے سیکھنے کی ضرورت ہے بابر اعظم

    قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم ک کہنا ہے کہ آج کی جیت پوری ٹیم کی مشترکہ محنت کا نتیجہ ہےجب بھی جیت ملتی ہے بطور کپتان بہت اعتماد ملتا ہے
    تمام کھلاڑیوں نے شاندار کھیل پیش کیا-

    باغی ٹی وی : بابر اعظم نے کہا کہ وکٹ سے مدد نہیں ملی تو فیلڈنگ پوزیشنز بدل کر حریف ٹیم پر دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کیاخوشی ہے کہ پہلی اننگز میں جلدی وکٹیں گنوانے کے باوجود فواد عالم کے ساتھ پارٹنرشپ ہمیں میچ میں واپس لائی-

    انہوں نے کہا کہ شاہین شاہ آفریدی نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کیا شاہین شاہ آفریدی بہت بااعتماد باؤلر ہیں جب بھی انہیں باؤلنگ کا کہتا ہوں وہ جارحانہ باؤلنگ کرتے ہیں خوشی ہے کہ شاہین شاہ آفریدی جیسا باؤلر میرے پاس ہے-

    پاکستان دوسرا ٹیسٹ میچ 109 رنز سے جیت گیا : تین میچوں کی سیریز برابر

    قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان کا کہنا تھا کہ نوجوان فاسٹ باؤلر نے اپنی عمدہ باؤلنگ سے میزبان ٹیم کو بیک فٹ پر ہی رکھا ہم نے حکمت عملی کے تحت ویسٹ انڈیز کو چوتھے روز بیس اوورز کھیلائے-

    بابر اعظم نے کہا کہ ہمیشہ کہتا ہوں فواد عالم بہت تجربہ کار بیٹسمین ہیں مشکل کنڈیشنز میں انہوں نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا ڈومیسٹک کرکٹ میں دس ہزار رنز بنانے والے فواد عالم ٹیم کو مشکل صورتحال سے نکالنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں ہمارے ہر بیٹسمین کو فواد عالم سے سیکھنے کی ضرورت ہے-

  • کسی بھی میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کرنا فخر کی بات ہوتی ہے      شاہین شاہ آفریدی

    کسی بھی میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کرنا فخر کی بات ہوتی ہے شاہین شاہ آفریدی

    قومی کرکٹرشاہین شاہ آفریدی کا کہنا ہے کہ ویسٹ انڈیز کو پہلی اننگز میں جلد آؤٹ کرنے میں ہر کھلاڑی نے بھرپور حصہ ڈالاکل میچ کا آخری مگر اہم دن ہے
    کوشش ہوگی ویسٹ انڈیز کو مکمل آؤٹ کرکے سیریز برابر کریں –

    باغی ٹی وی : شاہین شاہ آفریدی کا کہنا ہے کہ میچ جیتنے کے لیے ہمیں اچھی اور نپی تلی باؤلنگ کرنی ہوگی ہمیشہ کہتا ہوں بیٹنگ کی طرح باؤلنگ میں بھی پارٹنرشپ کی ضرورت ہوتی ہےپہلی اننگز میں محمد عباس، فہیم اشرف اور حسن علی نے عمدہ باؤلنگ کی-

    انہوں نے کہا کہ دوسرے اینڈ سے عمدہ باؤلنگ نے حریف ٹیم پر دباؤ ڈالے رکھا کسی بھی میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کرنا فخر کی بات ہوتی ہےٹیسٹ کرکٹ میں آج اپنی بہترین باؤلنگ اپنے اہلخانہ کے نام کرتا ہوں-

    واضح رہے کہ دو میچوں پر مشتمل سیریز کے آخری ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز محمد عباس اور شاہین شاہ کی شاندار بولنگ کے باعث ویسٹ انڈیز 150 پر ڈھیر ہو گئی جمیکا میں کھیلے جا رہے بارش سے متاثرہ میچ میں پاکستان کو ویسٹ انڈیز پر 152 رنز کی برتری حاصل ہے-

  • فواد عالم نے معروف بھارتی بلے بازوں کو پیچھے چھوڑ دیا

    فواد عالم نے معروف بھارتی بلے بازوں کو پیچھے چھوڑ دیا

    پاکستانی کرکٹر فواد عالم نے اپنے کیرئیر کی پانچویں سنچری بنا کر کوہلی ٹنڈولکر، گنگولی اور گاواسکر کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز ویسٹ انڈیز کے خلاف سنچری سکور کر کے فواد عالم ایشیا میں سب سے کم اننگز میں 5 سنچریز بنانے والے بیٹسمین بن گئےہیں، انہوں نے یہ اعزاز 22 اننگز میں حاصل کیا۔

    بھارت کے چتیشور پجارا نے 24 اننگز میں 5 ٹیسٹ سنچریز بنا رکھی ہیں جبکہ ساروو گنگولی اور سنیل گاواسکر 5 سینچریاں 25 اننگز کھیل کے بنا سکے۔ اور ان کا اس فہرست میں تیسرا اور چوتھا نمبر ہےجب کہ پاکستان کی طرف سے یونس خان 28 اننگز میں یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں-

    فواد عالم نے ٹیسٹ کرکٹ میں تقریباً ایک سال قبل واپسی کی اور اب تک وہ چار سنچریز بنانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ انہوں نے یہ سچنریز نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ، زمبابوے اور ویسٹ انڈیز کے خلاف بنائی ہیں۔

    پانچ مختلف ممالک میں سنچریاں بنانے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں فواد عالم

    فواد عالم نے جنوبی افریقہ کے خلاف 109، نیوزی لینڈ کے خلاف 102، زمبابوے کے خلاف 140 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔

    واضح رہے کہ اس حوالے سے قومی کرکٹر فواد عالم کا کہنا تھا کہ پانچ مختلف ممالک میں سنچریاں بنانے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں ہ آج کی سنچری اپنے والدین کے نام کرتا ہوں میچ سے پہلے والدہ سے فون پر بات ہوئی تھی ماں نے کہا تھا کہ اس میچ میں تم سنچری بناؤ گےوالد کی بھی خواہش تھی کہ ویسٹ انڈیز میں سنچری اسکور کروں ماں کی دعا ساتھ ہو تو ہر مشکل آسان ہوجاتی ہے-

    فواد عالم کا کہنا تھا کہ وکٹ آسان تھی نہ موسم، میچ کے پہلے روز گرمی اور حبس بہت زیادہ تھا اللہ جب دیتا ہے چھپڑ پھاڑ کر دیتا ہے پانچ مختلف ممالک میں سنچریاں بنانے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں-

    انہوں نے کہا کہ ہمیشہ اپنے والد سے متاثر ہوا ہوں زندگی میں اونچ نیچ چلتی رہتی ہے مگر میرے والد نے ہمیشہ حوصلہ بڑھایا خوش قسمت ہوں کہ مشکل وقت میں میرے اہلخانہ نے ہمیشہ مجھے حوصلہ دیاوالد ہمیشہ کہتے تھے کہ لگے رہو تمہارا وقت ضرور آئے گا-

  • پانچ مختلف ممالک میں سنچریاں بنانے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں    فواد عالم

    پانچ مختلف ممالک میں سنچریاں بنانے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں فواد عالم

    قومی کرکٹر فواد عالم کا کہنا ہے کہ پانچ مختلف ممالک میں سنچریاں بنانے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں-

    باغی ٹی وی : فواد عالم نے کہا کہ ہمارا ہدف ویسٹ انڈیز کو جلد از جلد آؤٹ کرنا ہے کل میزبان ٹیم کو کم سے کم رنز پر آؤٹ کردیا تو میچ جیتنے کی پوزیشن میں ہوں گے-

    قومی کرکٹر نے کہا کہ آج کی سنچری اپنے والدین کے نام کرتا ہوں میچ سے پہلے والدہ سے فون پر بات ہوئی تھی ماں نے کہا تھا کہ اس میچ میں تم سنچری بناؤ گےوالد کی بھی خواہش تھی کہ ویسٹ انڈیز میں سنچری اسکور کروں ماں کی دعا ساتھ ہو تو ہر مشکل آسان ہوجاتی ہے-

    مکہ مکرمہ: غسل کعبہ کی روح پرور تقریب آج ہوگی

    فواد عالم کا کہنا تھا کہ وکٹ آسان تھی نہ موسم، میچ کے پہلے روز گرمی اور حبس بہت زیادہ تھا اللہ جب دیتا ہے چھپڑ پھاڑ کر دیتا ہے پانچ مختلف ممالک میں سنچریاں بنانے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں-

    انہوں نے کہا کہ ہمیشہ اپنے والد سے متاثر ہوا ہوں زندگی میں اونچ نیچ چلتی رہتی ہے مگر میرے والد نے ہمیشہ حوصلہ بڑھایا خوش قسمت ہوں کہ مشکل وقت میں میرے اہلخانہ نے ہمیشہ مجھے حوصلہ دیاوالد ہمیشہ کہتے تھے کہ لگے رہو تمہارا وقت ضرور آئے گا-

    سینچری کو سیلیبریٹ کرنے کے حوالے سے فواد عالم نے کہا کہ یہ سلیبیریشن اسٹائل ترکش ڈرامہ ارطغرل غازی سے متاثر ہوکر اپنایا ہے یہ سلیبیریش اسٹائل اظہر علی کے ساتھ طے کیا تھا ہم دونوں نے سینچری بنانے پر یہ اسٹائل اپنانے کا فیصلہ کررکھا ہے-

    واضح رہے کہ جمیکا ٹیسٹ کے تیسرے روز پاکستان نے اپنی پہلی اننگز 9 کھلاڑی آؤٹ 302 رنز پر ڈکلیئر کردی فواد عالم نے کیریئر کی پانچویں سنچری بنائی، وہ 124 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔

    پاکستان کی جانب سے بابراعظم 75، محمد رضوان 31 اور فہیم اشرف 26 رنز بنا کر نمایاں رہے۔

    ویسٹ انڈیز کی طرف سے کیماروچ اور جیڈن سیلز نے 3، 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ جیسن ہولڈر کے حصے میں 2 وکٹیں آئیں 302 رن کے جواب میں تیسرے دن کے اختتام پر ویسٹ انڈیز کے 39 رنز پر 3 کھلاڑی آؤٹ ہوگئے ہیں، دو وکٹیں شاہین شاہ آفریدی نے لیں جبکہ ایک کھلاڑی کو فہیم اشرف نے آؤٹ کیا۔

  • عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر۔ (  حصہ پنجم   ) تحریر چوہدری عطا محمد

    عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر۔ ( حصہ پنجم ) تحریر چوہدری عطا محمد

    جون 2016 میں پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں نواز شریف کے خلاف مبینہ طور پر اثاثے چھپانے کی بناء پر نااہلی کی درخواست دائر کر دی۔ اور یہی سے اگر کہا جاۓ تو نواز شریف کے اختتام کا آغاز ہوگیا تھا

    اس کے سے لے کر سب سے پہلے پاکستان تحریک انصاف ،جماعت اسلامی ،پاکستان عوامی تحریک ،اور عوامی مسلم لیگ نے سپریم کورٹ میں شریف خاندان کے خلاف کئی پٹیشنز دائر کی گئیں
    تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے ایک بار پھر کرپشن کے خلاف اپنے ساتھیوں کو بھر پور احتجاج جاری رکھنے کا کہا اور پھرعمران خان نے کرپشن کے خلاف ایک اور طویل دھرنے کا تصور پیش کیا جسے ‘اسلام آباد لاک ڈاؤن’ کا نام دیا گیا۔
    مگر یہ دھرنا دینے کی نوبت اس لئے نہ آئی کیوں کہہ اس دھرنا سے ایک دن پہلے سپریم کورٹ نے پاناما گیٹ پر پٹیشنز کی سماعت کی اور الزامات کی تحقیقات کے لیے ٹی او آرز طلب کیے۔
    اس کے بعد باقاعدہ طور پر اس کیس کی سماعت ہونی شروع ہوگئ پاناما کی کہانی آخر کار 6 جولائی 2018 کو اس وقت اختتام پزیر ہوئی جب احتساب عدالت نے نواز شریف، اور ان کی بیٹی مریم نواز، اور داماد کیپٹن صفدر کو کرپشن کرنے پر نااہل کر دیا اور جیل بھیج دیا۔

    پانامہ لیکس کے مقدمہ اور فیصلے کے درمیان کئ سیاستدان مقدمات کی زد میں آۓ پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان پر بھی ن لیگ کے حنیف عباسی کی طرف سے نااہلی کے لئے پیٹیشن دائر کی گئ جس کی لمبی سماعت کے بعد عدالت نے عمران خان کے خلاف دسمبر 2017 میں کیس خارج کر دیا جبکہ ان کے قریبی ساتھی جہانگیر ترین نااہل قرار پائے۔

    عمران خان نے 2018 میں اپنی تیسری شادی بشریٰ بی بی سے کر لی۔ بشریٰ بی بی پاک پتن سے تعلق رکھتی ہیں اور عمران خان دو سال سے ان کے پاس باقاعدگی سے جایا کرتے تھے۔ یہ شادی لاہور میں سادگی سے ہوئی۔
    پھر الیکشن قریب آگیا اور آخر کار کپتان عمران خان کی مخنت رنگ لے آئی اور 25 جولائی کے عام انتخابات میں پاکستان کو بے مثال انداز میں قومی اسمبلی کی 116 نشستیں حاصل ہوئیں۔ عمران خان نی پانچ سیٹوں پر الیکشن لڑا اور پانچوں نشستوں سے کامیاب ہوئے کپتان کی اس کامیابھی کے بعد دیگر جماعتیں بوکھلا گئ اور انتخابات کو بغیر کسی ثبوت کے پورے کے پورے الیکشن کو ہی دھاندلی زدہ قرار دے دیا
    قومی اسمبلی میں آزاد امیدواروں کو اپنے ساتھ ملانے اور مخصوص نشستوں پر اپنے امیدواروں کو نامزد کرنے، اور عمران خان اور دو دیگر ارکانِ قومی اسمبلی کی جیتی گئی اضافی نشستیں خالی کرنے کے بعد ان کا نمبر 152 تک پہنچ گیا۔
    پارٹی کے اس وقت کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ اپنے اتحادیوں کی مدد سے پارٹی کو 180 سے زائد ارکانِ قومی اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔
    اگر مقبولیت کی بات کی جاۓ تو جیسے ہی انتخابات کے نتائج آنے شروع ہوئے تھے اور پی ٹی آئی اکثریتی پارٹی بن کر سامنے آئی تھی تو عمران خان کو ‘اگلا وزیرِ اعظم’ کہا جانے لگا تھا جبکہ پارٹی سربراہ عمران خان نے انتخابات کے اگلے دن ہی ایک فاتحانہ تقریر بھی بنی گالہ سی کی تھی
    اور اگر اس تقریر کی بات کی جاۓ تو وہ عمران خان کی یادگار تقریروں میں سے ایک تقریر تھی جس میں انہوں نے ثابت کیا تھا کہہ وہ ایک حقیقی رہنماء ہیں اپنی تقریر میں انہوں نے بہت ساری تاریخی باتیں کی جس میں سے ایک عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا تھا، "میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میں سیاست میں کیوں آیا۔ میں سیاست سے کچھ لینے نہیں آیا اور نہ سیاست مجھے کچھ دے سکتی ہی ۔ میں صرف پاکستان کو وہ ملک بنانا چاہتا تھا جس کا خواب میرے رہنما قائدِ اعظم محمد علی جناح نے دیکھا تھا۔”

    اللہ پاک ارض پاک کو قائد اعظم محمد علی جناح کے رہنماء اصولوں پر چلنے کی توفیق دے

    اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر۔ (  حصہ چہارم  ) تحریر: چوہدری عطا محمد

    عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر۔ ( حصہ چہارم ) تحریر: چوہدری عطا محمد

    پاکستان تحریک انصاف نے2013میں بننے والی ن لیگ کی حکومت کے اگلے سال ہی الیکشن میں دھاندلی اور پاکستان تحریک انصاف کے منشور کے مطابق سیاستدانوں کے احتساب کے لئے ایک احتاجاجی تحریک کا آغاز کر دیا

    2014 میں عمران خان نے اپنی اس احتجاجی تحریک کا دائرہ وسیع کر دیا اور دارالحکومت تک لانگ مارچ لے گئے اور 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف طویل ترین دھرنا دیا۔
    انہوں نے اس دھاندلی کے لیے ن لیگ کی حکومت کو اس کا زمہ دار ٹھہرایا احتجاجی تحریک میں چار چاند اس وقت لگ گے جب عمران خان نے علامہ طاہرالقادری سے سے ہاتھ ملا لیے جو کہ ماڈل ٹاؤن سانحے کے متاثرین کو انصاف دلوانے کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔
    اور پھر دونوں رہنماؤں نے مل کر لانگ مارچ کا آغاز کر دیا
    مسلم لیگ ن کے بھرپور ہتھکنڈوں جیسا کہہ گوجرانوالہ میں عمران خان کے قافلہ پر پتھراؤ اور گولیوں کے باوجود یہ دونوں رہنما اپنے اپنے قافلہ کو لانگ مارچ کی صورت میں بزریعہ جی ٹی روڈ اسلام آباد لانے میں کامیاب ہوگے
    اس میں ان کو عوام کی طرف سے بھر پور حمایت حاصل تھی دارلحکومت اسلام آباد پہنچ کر تاریخ کا ایک لمبا ترین 126دن کا دھرنا دے دیا اور اس میں حکومت کو بہت مشکل ٹائم دیا اس دھرنا میں جو مطالبات تھے وہ نواز شریف کا استعفی اور چار حلقوں کے الیکشن کھولنے اور ماڈل ٹاؤن کے زمہ داروں کو کٹہرے میں لانا تھا
    دھرنے میں جہاں بہت سی مشکلات آئی الزامات لگے جاوید ہاشمی نے پارٹی چھوڑ دی اور اسٹیبلشمنٹ پر الزامات لگاۓ اور دھرنا کا زمہ دار ان کو ٹھہرایا لیکن عمران خان نے ہمت نہیں ہاری اور ڈٹے رہے
    اسی دوران انہوں نے ایک صحافی خاتون ریحام خان سے شادی بھی کر لی
    شادی بنی گالہ میں سادی سی تقریب کی شکل میں منعقد ہوئی اس شادی کو عوام نے شروع میں بہت سراہا
    دھرنا اس وقت ختم کرنا پڑا جب آرمی پبلک سکول پشاور میں دہشتگردوں نے ایک بڑا حملہ کر دیا جس میں 135افراد شہید ہوۓ جن میں زیادہ تعداد سکول کے معصوم بچوں کی تھی
    دھرنا میں پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت عروج پر جانے کم بعد جب کم ہونے لگی تو اسی اثناء میں تب ہی اپریل 2016 میں پاناما پیپرز اسکینڈل سامنے آیا۔ عمران خان، جنہوں نے لیکس کو "خدائی تحفہ کا بھیجا گیا” قرار دیا تھا، نے وزیرِ اعظم نواز شریف پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ وہ اپنی دولت کا حساب دیں۔
    احتساب کے اسی طرح زور دینے کے دوران کچھ مہینوں میں حکومت اور اپوزیشن کا شریف خاندان کے خلاف الزامات کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی شرائطِ تحقیقات پر ڈیڈلاک برقرار رہا۔اور ریفرینس کی ٹرمز نہ تہہ ہوسکی

    جون 2016 میں پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی قیادت میں الیکشن کمیشن آف پاکستان میں نواز شریف کے خلاف مبینہ طور پر اثاثے چھپانے کی بناء پر نااہلی کی درخواست دائر کر دی۔ یہ نواز شریف کے اختتام کا آغاز تھا۔اور کپتان عمران خان کے عروج کا وقت پھر سے شروع ہونے لگا۔ جاری ہے

    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین

    تحریر چوہدری عطا محمد

    @ChAttaMuhNatt