Baaghi TV

Category: کھیل

  • افغانستان کے خلاف  ون ڈے سیریز،قومی ٹیم کا کپتان کون ہوگا اہم فیصلہ سامنے آ گیا

    افغانستان کے خلاف ون ڈے سیریز،قومی ٹیم کا کپتان کون ہوگا اہم فیصلہ سامنے آ گیا

    سری لنکا میں افغانستان کے خلاف ون ڈے سیریز میں قومی ٹیم کی کپتانی شاداب خان کریں گے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق بورڈ کی جانب سے یہ فیصلہ کھلاڑیوں کے ورک لوڈ کو کم کرنے اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے تناظر میں لیا گیا ہے سری لنکا میں شیڈول تین میچوں پر مشتمل سیریز کے لیے قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم سمیت محمد رضوان، شاہین آفریدی اور حسن علی کو آرام دیا جا سکتا ہےچاروں کرکٹرز گزشتہ ایک سال سے متواتر طور پر مختلف سیریز کھیلتے آ رہے ہیں۔

    قومی ٹیم کے وکٹ کیپر محمد رضوان نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ گزشتہ دس ماہ کے دوران ہم مسلسل سیریز کھیلتے آ رہے ہیں اور وہ بھی بائیو ببل میں جو کہ کافی مشکل ہوتا ہے ہمارا سب سے اہم ہدف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ہے، جس کی وجہ سے ہمارے اہم کھلاڑیوں کو آرام درکار ہے تاکہ وہ ورلڈ کپ کے لیے تازہ دم ہو کر آئیں۔

    غیر ملکی کرکٹ ٹیموں کا دورہ پاکستان: سیکیورٹی ایکسپرٹ ڈیوڈ سنیئر لاہور پہنچ گئے

    افغان کرکٹ آفیشل کےمطابق طالبان نے کہا ہے کہ وہ افغان قومی کرکٹ ٹیم کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے ٹی 20 لیگ کو بھی نہیں روکا جائے گا کرکٹ افغانستان کا سب سےمقبول کھیل ہے، اور حالیہ عرصے میں کھیلوں کے میدان میں بڑی کامیابی کے طور پر سامنے آیا ہے۔

    واضح رہے کہ افغانستان کی سری لنکا میں پاکستان اور سری لنکا کے خلاف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز ستمبر میں شیڈول ہے-

    فواد عالم لاجواب فارم میں ہیں وہ زبردست کھیل پیش کررہے بابر اعظم

  • غیر ملکی  کرکٹ ٹیموں کا دورہ پاکستان:  سیکیورٹی ایکسپرٹ ڈیوڈ سنیئر لاہور پہنچ گئے

    غیر ملکی کرکٹ ٹیموں کا دورہ پاکستان: سیکیورٹی ایکسپرٹ ڈیوڈ سنیئر لاہور پہنچ گئے

    نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے دورہ پاکستان سے قبل انتظامات کے جائزے کے لئے سیکیورٹی ایکسپرٹ ڈیوڈ سنیئر لاہور پہنچ گئے ہیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے دورہ پاکستان سے قبل انتظامات کے جائزے کے لئے سیکیورٹی ایکسپرٹ ڈیوڈ سنیئر لاہور پہنچ گئے ہیں جبکہ دوسرے ایکسپرٹ ریگ ڈیکاسن کل صبح پہنچیں گے۔

    رپورٹس کے مطابق نیوز ی لینڈ اور انگلینڈ بورڈز نے دورہ پاکستان کے لئے سیکیورٹی ماہرین کی خدمات حاصل کی ہیں اور ماہرین آئندہ ہفتے سے کا م کا باقاعدہ آغاز کریں گے جبکہ سیکیورٹی ماہرین کو پنجاب اور فیڈرل افسر بریفنگ دیں گے۔

    ذرائع کے مطابق سیکیورٹی افسر قذافی سٹیڈیم اور راولپنڈی سٹیڈیم کا دورہ بھی کریں گے ۔

    نیوزی لینڈ کے سابق کرکٹر کیرنز کامیاب سرجری کے بعد صحتیاب ہونے لگے

    واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم 18 سال بعد پاکستان کا دورہ کرے گی دونوں ٹیموں کے مابین ون ڈے انٹرنیشنل سیریز میں شامل تینوں میچز راولپنڈی میں کھیلے جائیں گے پاکستان اور نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا پہلا ایک روزہ میچ 17 ستمبر کو ہو گا-

    پی سی بی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم میں 3 ایک روزہ میچز اور 5 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جائیں گےدونوں ٹیموں کے درمیان 3 ایک روزہ میچز راولپنڈی اور 5 ٹی ٹوینٹی میچز لاہور میں ہوں گے جو 25 ستمبر سے 3 اکتوبر تک جاری رہیں گے-

    غیر ملکی کرکٹ ٹیم 18 سال بعد پاکستان میں سیریز کھیلنے کے پُرامید

    نیوزی لینڈ وہ پہلی ٹیم ہوگی جو پاکستان میں موجود شائقین کرکٹ کے لیےترتیب دیئے گئے بمپر کرکٹ سیزن 22-2021 میں شرکت کے لیے پاکستان کا دورہ کرے گی نیوز ی لینڈ کے بعد انگلینڈ کی مینز اور ویمنز ٹیمیں پاکستان کا دورہ کریں گی، جس کے بعد ویسٹ انڈیز کی ٹیم تین ون ڈے اور تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلنے کراچی پہنچے گی۔آسٹریلیا بھی آئندہ سال فروری مارچ میں پاکستان کا دورہ کرے گی-

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کا شیڈول جاری

  • فواد عالم لاجواب فارم میں ہیں وہ زبردست کھیل پیش کررہے         بابر اعظم

    فواد عالم لاجواب فارم میں ہیں وہ زبردست کھیل پیش کررہے بابر اعظم

    کپتان قومی کرکٹ ٹیم بابر اعظم کا کہنا ہے کہ فواد عالم لاجواب فارم میں ہیں وہ زبردست کھیل پیش کررہے –

    باغی ٹی وی : ویسٹ انڈیز کیخلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن کے کھیل کے حوالے سے بابر اعظم نے کہا کہ دن کے آغاز میں باؤلرز کو پچ سے مدد مل رہی تھی ابتدائی تین وکٹیں جلد گرنے کے بعد فواد عالم نے بھرپور ساتھ دیا-

    بابر اعظم نے کہا کہ فواد عالم سے کہا تھا کہ ٹیم کو مشکل سے نکالنے کیلئے لمبی پارٹنرشپ لگانی ہوگی دونوں نے طے کیا تھا کہ رنز بنانے کیلئے زیادہ دیر کریز پر رکنا ضروری ہےپارٹنرشپ کے دوران فواد کے ساتھ سیشن بائی سیشن اپنے اہداف مقرر کیے-

    کپتان قومی کرکٹ ٹیم نے کہا کہ پہلی اننگز میں 300 سے 350 رنز بنانے ہمارا ہدف ہے محمد رضوان اور فہیم اشرف کریز پر موجود ہیں، امید ہے ہم دوسرے روز ہدف حاصل کرلیں گےطویل فارمیٹ کی کرکٹ میں انفرادی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے محنت کررہا ہوں خوشی ہے کہ محنت کا پھل مل رہا ہے-

    انہوں نے کہا کہ فواد عالم لاجواب فارم میں ہیں، وہ زبردست کھیل پیش کررہے مشکل وقت میں جس طرح فواد عالم کھیلتے ہیں، ہمیں ان سے سیکھنا چاہیے فواد عالم کو بیٹنگ کے دوران کریمپس پڑے ہیں، ٹیم ڈاکٹر اور فزیو ان کا ٹریٹمنٹ کررہے ہیں فواد عالم کل بیٹنگ کے لیے میدان میں آئیں گے-

  • عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر۔ (  حصہ سوم ) تحریر چوہدری عطا محمد

    عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر۔ ( حصہ سوم ) تحریر چوہدری عطا محمد

    25 اپریل 1996 کو عمران خان نے اپنی سیاسی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی بنیاد رکھی۔ 1997 کے عام انتخابات، جو پی ٹی آئی کے پہلے انتخابات تھے، میں پارٹی نے کوئی بھی نشست نہ جیتی۔یعنی عمران خان کو پزیرائی نہ ملی

    پاکستان تحریک انصاف چونکہ کوئی ایک سیٹ بھی نہ جیت سکی تو کچھ ریٹائرڈ فوجی جو پارٹی کا حصہ تھے اور کچھ تجربہ کا منجھے ہوۓ سیاستدانوں نے پارٹی یہ کہہ کر چھوڑ دی کہ عمران خان کسی کی بھی بات نہیں سنتے۔ حالانکہ پارٹی چھوڑنے کیوجہ یہ نہیں تھی پارٹی ان سب نے اس لئے چھوڑی کہہ اس پارٹی میں رہ کر وہ اقتدار میں تو دور کی بات کبھی اسمبلی حال کی دہلیز تک بھی نہیں پہنچ سکیں گے

    پھر جب 1999 میں الیکشن ہوۓ تو پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان جنرل پرویز مشرف کی کچھ کچھ اور کہیں پر حمایت کرنے لگے اور سابق فوجی جنرل کے تحت ہونے والے 2002 کے عام انتخابات میں ان کی جماعت نے ایک نشست، جو کہ عمران خان کی تھی وہ نشست جیت لی۔

    مگر پھر عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف پاکستان جس کے وہ خود چئیرمین بھی ہیں نے ان پر 2007 میں کراچی میں ہونے والے قتلِ عام کے بعد قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دینے کے لیے بہت دباؤ ڈالا۔ اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے 2008 کے انتخابات کا یہ کہہ کر بائیکاٹ کر دیا کہ ایک باوردی صدر کے ماتحت منتخب پارلیمنٹ کی کوئی حیثیت نہیں تھی

    اس طرح پاکستان تحریک انصاف نے 2008کے عام انتخابات جو جنرل پریز مشرف کی صدارت میں ہوۓ ان میں بھی حصہ نہ لیا اور 2008کے الیکشن میں بھی پاکستان تحریک انصاف کا کوئی ممبر اسمبلی میں نہ جا سکا

    2007 کے تقریباً درمیان میں میں وکلاء کی ایک تحریک چلی جنرل پرویز مشرف کے خلاف اس میں عمران خان نے بھی حصہ لیا اور پرویز مشرف کے کریک ڈاؤن میں پہلی دفع عمران خان کو بھی اس وقت گرفتار کر لیا گیا بجب وہ پنجاب یونیورسٹی میں ایک مظاہرے کی قیادت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    بیشک اس گرفتاری کا دورانیہ بہت ہی مختصر تھا اگر ہم بینظیر بھٹو کے قتل کی بات کریں تو عمران احمد خان کا شمار بھی ان شخصیات میں ہوتا ہے جہنوں نے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہے

    پھر2011 میں عمران خان کو لوگوں نے پھر ایک بار سیاست میں سرگرم دیکھا۔ عمران خان نے کراچی اور لاہور میں بہت بڑے بڑے جلسے کئے جن میں عوام نے بھر پور شرکت کی اب یہ وہ وقت تھا جب عمران خان کے جلسوں میں لوگوں کی تعداد بڑھنے لگی

    اس کے باوجود 2013 کےعام انتخابات میں بھرپور مہم چلانے کے باوجود تحریک انصاف پاکستان عمران خان کی پارٹی مرکز میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی اور 32 نشستوں کے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھ گئی۔

    لیکن عمران خان کی پارٹی خیبر پختونخواہ میں جماعتِ اسلامی کے ساتھ اتحاد کر کے حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئ جاری ہے
    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر  حصہ اوّل  تحریر چوہدری عطا محمد

    عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر حصہ اوّل تحریر چوہدری عطا محمد

    ارض پاک اسلامی جہموریہ پاکستان کے 22وزیز اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیر اعظم پاکستان جناب عمران احمد خان نیازی نے آج سے تقریباً 24سال سے کچھ قبل اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا اب پاکستان کے 22 وزیرِ اعظم جناب عمران احمد خان نیازی 5 اکتوبر 1952 کو پنجاب کے خوبصورت شہر میانوالی کے ایک نیازی پشتون گھرانے میں پیدا ہوئے۔ عمران خان کا کا خاندان بعد میں لاہور میں مقیم ہوگیا جہاں انہوں نے اپنی جوانی لڑکپن کا زیادہ تر حصہ گزارا۔
    اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا اور چار بہنوں کا لاڈلا بھائی زرا طبعیت میں تیز مزاج کہا جاتا تھا عمران احمد خان نیازی سے ہمیشہ ہی اس بارے میں جب سوال کیا جاتا ہے تو وہ اس کی تردید کرتے ہی نظر آتے ہیں عمران خان صاحب کے بارے میں مشہور تھا کہہ وہ لڑکپن میں شرمیلی طبعیت کے مالک ہوتے تھے اور اکثر اوقات اپنے آپ میں ہی رئیتے تھے سکول کے دور سے ہی عمران خان کو کرکٹ سے کافی لگاؤ تھا
    اس کی ایک وجہ ان کا تعلق ایک بہت اچھے عظیم کرکٹ گھرانے سے تھا ان کے دو کزن جو ننھیالی تھے جاوید برکی اور ماجد خان آکسفورڈ سے پڑھے اور پاکستان کرکٹ ٹیم کی کپتانی بھی کر چکے تھے
    عمران احمد خان نیازی نے ایچی سن کالج میں تعلیم حاصل کی پھر کیتھڈرل اور پھر برطانیہ میں رائل گرامر سکول میں تعلیم حاصل کی

    اس کے بعد انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے معاشیات میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی۔ آکسفورڈ میں اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے شوق کو بھی برقرار رکھا اسی وجہ سے وہ 1974 میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی بنے
    شروع میں تو اپنے کالج کے لئے ہی کھیلتے رہے بعد میں انگلش کاؤنٹی ورسسٹر کے لئے کھیلتے رہے پاکستان کے لئے قومی کرکٹ ٹیم کا پہلا میچ تقریباً 18 سال کی عمر میں 1971 میں برمنگھم میں کھیلا اپنی مخنت اور کرکٹ سے لگن کیوجہ سے جلد ہی قومی ٹیم میں مستقل اپنی جگہ بنا لی
    اےک بہترین آل راؤنڈر کی طرح تمام شعبوں بیٹنگ فیلڈنگ اور خصوصا باؤلنگ میں سوئنگ کیوجہ سے ٹیم کے لئے کافی فائدہ مند ثابت ہوۓ

    پاکستان کو 1992 میں کرکٹ ورلڈ کپ کی پہلی اور اےک یاد گار فتح دلوانے کے بعد عمران خان نے اپنے اسپوٹس کریئر کے عروج پر کرکٹ چھوڑ دی۔
    اس وقت تک وہ ٹیسٹ کرکٹ میں 362 وکٹیں حاصل کر چکے تھے اور 3807 رنز بھی بنا چکے تھے۔
    زندگی کا کافی عرصہ گزارنے کیوجہ سے عمران احمد خان نیازی کو کچھ مشہور شخصیات اور ایکسپرٹ ان کو مشرق اور مغرب کا بہترین امتزاج’ کہتے ہیں۔

    1987 میں جب عمران خان نے پاکستان کو انڈیا کے خلاف پہلی ٹیسٹ سیریز جتوائی تواس وقت ارض پاک کے صدر اور فوجی جنرل ضیاء الحق نے انہیں اپنی قائم کردہ پاکستان مسلم لیگ (پی ایم ایل) میں نہ کہ صرف شمولیت کی دعوت دی بلکہ ساتھ پارٹی میں عہدے کی پیشکش کی۔ جسے عمران خان نے شائستگی سے یہ پیشکش رد کردی۔
    1992 کے ورلڈ کپ کے بعد کرکٹ سے اپنی حقیقی ریٹائرمنٹ کے بعد عمران خان ایک سرگرم فلاحی شخصیت کی شکل میں ابھر کر سامنے آۓ سیاست اور فلاحی زندگی پر بات جاری رہے گی حصہ دوم میں
    اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • کشمیر پریمئیر لیگ کا فائنل آج کھیلا جائے گا

    کشمیر پریمئیر لیگ کا فائنل آج کھیلا جائے گا

    مظفر آباد:کشمیر پریمئیر لیگ (کے پی ایل )کا فائنل آج شام 7 بجے راولاکوٹ ہاکس اور مظفر آباد ٹائیگرز کے درمیان کھیلا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : مظفر آباد ميں کھیلے جارہے کشمیر پریمیئر لیگ کے اہم میچ میں شاہد آفريدی اور شعيب ملک کی ٹیموں کے درمیان مقابلہ تھا، راولا کوٹ ہاکس نے میر پور رائلز کو 4 وکٹوں سے شکست دے کر فائنل کے لیے اپنی جگہ بنائی۔

    پہلی بیٹنگ میں میرپور رائلز کی جانب سے شرجيل خان نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 12 چھکوں اور 12 چوکوں کی مدد سے 63 گیندوں پر 141 رنز کی اننگز کھیلی، ٹیم نے مد مقابل ٹیم کومقررہ اوورز میں 4 وکٹوں پر 236 رنز کا ہدف دیا-

    راولا کوٹ کو جیت کے لیے 239 رنز کا ہدف ملا، ناک آؤٹ ميچ ميں کاشف علی نے صرف 51 گيندوں پر 114 رنز بنا ئے آخری اوور کی چوتھی گیند پر انہوں نے چھکا لگا کر اپنی ٹیم کو کامیابی دلائی کاشف علی کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

  • پاکستان اور ويسٹ انڈيز کي ٹيسٹ تاريخ تحریر: انيلا سلطان

    پاکستان اور ويسٹ انڈيز کي ٹيسٹ تاريخ تحریر: انيلا سلطان

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز آج سے کنگسٹن میں شروع ہوگی۔ ميچ کے پانچوں روز بارش کي پيشگوئي کا امکان ہے۔ پاکستان نے ٹيسٹ سيريز کيلئے 19 رکني اسکواڈ کا اعلان کرديا ہے۔ اسکواڈ کا اعلان قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم نے ورچوئل پریس کانفرنس میں کیا۔ کپتان بابراعظم نے ہیڈ کوچ مصباح الحق کی مشاورت سے حارث رؤف اور محمد نواز کو وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں ٹیموں کے مابین سیریز کے دونوں ٹیسٹ میچز سبینا پارک کنگسٹن میں کھیلے جائیں گے۔ سیریز کا پہلا ٹیسٹ آج سے شروع ہوگا اور دوسرا ميچ 20 اگست سے شروع ہوگا۔ یہ دونوں میچز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ ہیں، لہٰذا دونوں ٹیمیں سیریز میں عمدہ کارکردگی پیش کرکے ٹیسٹ چیمپئن شپ کے نئے سائیکل کے کامیاب آغاز کے لیے پرامید ہیں۔

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین کھیلی جانے والی یہ 18ویں ٹیسٹ سیریز ہوگی۔ دونوں ٹیموں کے مابین کھیلی گئی گزشتہ 17 ٹیسٹ سیریز میں سے 6 پاکستان اور 5 ویسٹ انڈیز نے جیتیں جبکہ 6 برابری کی بنیاد پر ختم ہوگئیں۔ مگر ويسٹ انڈيز کي سرزمين پر پاکستان صرف ايک سيريز جيتنے ميں کامياب ہوا اور اسے آٹھ ميں سے چار سيريز ميں شکست ہوئي جبکہ 3 سیریز ڈرا ہوگئیں۔ دونوں ٹیمیں آخری مرتبہ 2017میں کیریبیئن سرزمین پر ٹیسٹ کرکٹ ميں مدمقابل آئی تھیں۔ تین میچز پر مشتمل اس سیریز میں پاکستان نے 1-2 سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے سات وکٹوں، دوسرے میں ویسٹ انڈیز نے 106 رنز جبکہ آخری میچ میں پاکستان نے 101 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔ چار سال قبل کھیلی گئی اس سیریز میں یاسر شاہ کو عمدہ کارکردگی کی بنیاد پر پلیئر آف دی سیریز کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔ اس سیریز میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ 271 رنز بنانے والے مصباح الحق فی الحال جمیکا میں موجود قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ ہیں جبکہ سیریز میں 261 رنز بنانے والے پاکستان کے دوسرے بہترین بیٹسمین اظہر علی بھی موجودہ قومی ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ ہیں۔

    دونوں ٹیموں کے مابین اب تک 52 ٹیسٹ میچز کھیلے جاچکے ہیں،جس میں سے 20 پاکستان اور 17 ویسٹ انڈیز نے جیتے ہیں۔ اس دوران 15 ٹیسٹ میچز ڈرا رہے ہیں۔ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ رینکنگ ميں پاکستان کا 5 واں اور ویسٹ انڈیز کا 7واں نمبر ہے۔ اگر پاکستان کی ٹیم اس سیریز میں وائٹ واش کرتی ہے تو اس کی درجہ بندی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا تاہم ویسٹ انڈیز کی ایک درجہ تنزلی ضرور ہوجائے گی جبکہ ویسٹ انڈیز کے سیریز وائٹ واش کرنے کی صورت میں میزبان ٹیم کی درجہ بندی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا تاہم پاکستان ایک درجہ تنزلی کرجائے گا۔ سیریز 1-1سے برابر ہونے کی صورت میں کسی بھی ٹیم کی درجہ بندی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ پاکستان کے کپتان بابراعظم اوراظہر علی آئی سی سی ٹیسٹ پلیئرز بیٹنگ رینکنگ میں بالترتیب 10ویں اور 17ویں نمبر پر موجود ہیں۔ میزبان ٹیم کا کوئی بھی کھلاڑی اس فہرست کا حصہ بننے والے پہلے 40 بلے بازوں میں شامل نہیں ہے۔ بولنگ میں ویسٹ انڈیز کے جیسن ہولڈر اور کیمار روچ بالترتیب 11ویں اور 13ویں جبکہ پاکستان کے حسن علی اور محمد عباس مشترکہ طور پر 15ویں پوزیشن پر موجود ہیں۔

  • اولمپکس اور ہماری صورتحال تحریر: عفان احمد سلہری

    اولمپکس اور ہماری صورتحال تحریر: عفان احمد سلہری

    بحیثیتِ قوم ہم لوگ صرف دوسروں کی خوشیوں میں شریک ہو سکتے ہیں مشکل وقت میں کوئی کسی کے کام نہیں آتا
    فائنل سے پہلے کسی کو معلوم بھی نہ تھا کہ جیولین تھرو بھی کوئی گیم ہے اور جب غریب مستری کا بیٹا ارشد ندیم فائنل میں پہنچا تو پوری قوم کی دعائیں اس کے ساتھ ہو گئیں جب وہ محنت کر رہا تھا تب کسی کو اس کی پرواہ نہ تھی
    لوگ جن کو لفظ جیولین پڑھنا بھی نہیں آتا تھا تھا وہ جیولین تھرو کے ماہر بن بیٹھے ۔ سب اسے بتانے لگے کہ جیولین کیسے پکڑتے ہیں وغیرہ وغیرہ

    اسی طرح نوجوان ویٹ لفٹر طلحہ طالب نے اولمپکس سے قبل کئی مقابلوں میں پاکستان کا نام روشن کیا لیکن کسی نے نہیں سراہا اب جبکہ اس کا مقابلہ براہِ راست نشر ہوا تو لوگ سراہنے کے ساتھ ساتھ ماہرانہ تجزیہ نگار بھی بن بیٹھے کے ویٹ کم اٹھایا وغیرہ وغیرہ

    بدقسمتی سے پاکستان میں کھیلوں پر کوئی خاص توجہ کسی بھی حکومت میں نہ دی گئی خواہ وہ حکومت نواز شریف کی ہو زرداری کی یا پھر عمران خان کی عمران خان کے اقتدار میں آتے ہی یہ گمان کیا جا رہا تھا کہ کھیلوں کی صورتحال بدل جائے گی لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوا شاید حکومت کھیلوں پر توجہ دے ہی نہیں رہی ۔ معاملات تب درست سمت میں جائیں گے جب کھیلوں کے اداروں پر قبضہ جمائے بیٹھے لوگ اپنے گھروں کو جائیں گے ۔ ان سے سوال ہونا چاہیے کہ انہوں نے اتنا عرصہ اداروں کی صدارت کرتے ہوئے پاکستان کو کیا دیا ۔
    اب بھی وقت ہے پاکستان کو کھیلوں پر خوب توجہ دینی ہوگی ہمارے ہاں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ سہولیات بھی موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے یہ سہولیات حقدار ایتھلیٹس تک پہنچنے کے بجائے غائب ہو جاتی ہیں
    ہمیں کھیلوں کی جامع پالیسی بنانا ہوگی ۔ اس ضمن میں ہمیں اپنے ہمسایہ ملک کی جانب دیکھنا چاہیے۔ بھارت نے کھیلوں پر بہت توجہ دی اور نہ صرف کرکٹ پر بلکہ تمام کھیلوں پر یکساں توجہ دی گئی جس کے نتائج آج ہمارے سامنے ہیں ۔ کرکٹ ، ہاکی ،جیولین تھرو، ریسلنگ ،بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس، باکسنگ ،ہر جگہ بھارت کی حکمرانی نظر آتی ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کے پاس ٹیلنٹ موجود نہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ٹیلنٹ کو نکھارنے کی سہولیات فراہم کرنا ہوں گی ۔ اگر آج بھی کھیلوں پر مکمل توجہ دی جاتی ہے تو ہمارے ایتھلیٹس اتنے ہنر مند ہیں کہ تین سال کی قلیل مدت میں پاکستان کو چیمپئن بنا سکتے ہیں ۔
    قصہ مختصر ہمیں بحیثیت قوم اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا اور کھیلوں پر بھرپور توجہ دینا ہوگی گی ابھی کیوں کہ کھیلوں سے ہیں ہیں دیگر قوموں کو کو ایک دوسرے کے ملک کے متعلق جانکاری حاصل ہوتی ہے ۔ جو قومی کھیلوں میں ترقی نہیں کرتی ان میں مشکل وقت میں فیصلوں کی طاقت نہیں رہتی ۔

  • کھیلوں کی ثقافت تحریر: عتیق الرحمن

    کھیلوں کی ثقافت تحریر: عتیق الرحمن

    تقریبا ایک دہائی میں پہلی بار پاکستان کو اولمپک میڈل کی جیت کی سنجیدہ امید تھی جب 1992 کے بعد ایتھلیٹکس میں پہلی بار ارشد ندیم ہفتے کے روز مردوں کے جیولین فائنل کے لیے ٹوکیو اولمپک اسٹیڈیم پہنچے۔ گیمز کے لیے کوالیفائی کرنے والے پاکستان کے پہلے ٹریک اینڈ فیلڈ ایتھلیٹ ارشد نے فائنل میں پہنچنے کے بعد تاریخ رقم کی تھی اور اس کا مقصد ویٹ لفٹر طلحہ طالب سے بہتر کرنا تھا جو پہلے ٹوکیو میں کانسی سے محروم ہو گیا تھا۔ ارشد بالآخر پانچویں نمبر پر رہا ، یعنی پاکستان کا اولمپک میڈل کا انتظار 2024 میں پیرس میں کھیلوں تک جاری رہے گا۔ ارشد اور طلحہ کی پرفارمنس نے ظاہر کیا کہ پاکستان 2016 کے ریو اولمپکس کے بعد سے بہتر ہوا ہے۔ لیکن اسے وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے کسی بھی حوصلہ افزائی سے محروم نہیں کیا جا سکتا ، حالانکہ ایک سابقہ ​​کھلاڑی کے طور پر وہ کھیلوں کے شعبے کو گھیرنے والی سنگین خامیوں سے بخوبی واقف ہیں۔ ارشد اور طلحہ نے اپنی اپنی صلاحیتوں اور جدوجہد کی وجہ سے ہماری امیدوں کو اپنے متعلقہ فیڈریشنوں کی تھوڑی سی مدد سے بلند کیا تھا۔ پیرس کی الٹی گنتی اب شروع ہو رہی ہے۔ اگر ارشد اور طلحہ 2024 میں اپنی پرفارمنس میں بہتری لانا چاہتے ہیں اور اولمپک میڈلز جیتنا چاہتے ہیں تو پاکستان کو ابھی سے کام شروع کرنا ہوگا۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اولمپکس ایک ایسے مرحلے کی وضاحت کرتا ہے جہاں بہترین یا بہترین کے قریب رہنے والے اوپر آتے ہیں۔ یہ تب ہی ہوتا ہے جب کوئی نظام موجود ہو – ہر سطح پر۔ پاکستان میں کھیلوں میں تیزی آئی ہے ، ٹوکیو اولمپکس مسلسل دوسرے کھیلوں کی نشاندہی کر رہا ہے جس کے لیے قومی ہاکی ٹیم ملک کے 10 اولمپک تمغوں میں سے آٹھ کی فاتح کوالیفائی ہی نہیں کر سکی۔ یہاں تک کہ غیر اولمپک کھیلوں جیسے کرکٹ اور اسکواش میں ، جہاں پاکستان کبھی غلبہ رکھتا تھا ، کارکردگی خراب ہوگئی ہے۔ حکومت ، اسپورٹس فیڈریشنز اور اولمپک ایسوسی ایشن کے درمیان اختلافات مدد نہیں کرتے اور 18 ویں ترمیم کے مطابق صوبوں کو کھیلوں کی منتقلی نے اپنی ہی رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں ، جس سے پاکستان اسپورٹس بورڈ کو صرف محدود اختیارات حاصل ہیں۔ وزیر اعظم کے لیے ضروری ہے کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی میٹنگ فوری طور پر بلائے اور آگے کا راستہ وضع کرے اور ملک میں کھیلوں کی ثقافت کی تعمیر کے لیے کام کریں۔ یہ کھیلوں تک رسائی کو آسان بنانے کے لیے ماحول بنانے کے بارے میں ہے جس سے سکول لیول سے ہی بچوں میں تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے شعبے میں بھی ہم آہنگی پیدا کی جاسکے۔ اولمپکس میڈلز جیتنے والے سبھی ممالک سکول کے بچوں کو ہی تربیت دینا شروع کردیتے ہیں جس سے ایک تو ٹیلنٹ ہنٹ میں آسانی ہوتی ہے اور دوسری طرف مقابلوں کا وقت آنے تک انکی دماغی اور جسمانی پختگی پیدا ہوجاتی ہے مگر اس کے لئے ایک جامع منصوبہ بندی اور کھیلوں کے مقابلوں کی اشد ضرورت ہے۔ کھیلوں کی سہولیات کی تزئین و آرائش اور ترقی اس کی طرف پہلا قدم ہے ، جو کہ نچلی سطح کے پروگراموں کو پنپنے میں مدد دے گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسکولوں کو اپنے آپ کو حکومتی منصوبے کے مطابق کرنا چاہیے اور جسمانی تندرستی اور کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے کافی وقت اور وسائل مختص کرنا ہوں گے۔ یہ ایک سے زیادہ عہدیداروں کی چین کا ڈھانچہ ہونا چاہیے جو باصلاحیت افراد کو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں قومی سطح تک لے جائے جہاں فیڈریشن ، مثالی طور پر کھیلوں کے پیشہ ور افراد کے زیر انتظام ، انہیں اگلے درجے تک لے جائیں گے۔ ترقی پذیر کھیلوں کی ثقافت نہ صرف کھلاڑیوں کی ایک وسیع بنیاد فراہم کرے گی بلکہ مقابلہ اور نمائندگی میں بھی اضافہ کرے گی ، جس سے عالمی مقابلوں میں تمغے جیتنے کے زیادہ امکانات پیدا ہوں گے۔

    @ AtiqPTI_1

  • کرکٹ کی تاریخ میں چند ایسے کھلاڑی جنہوں نے اپنے پورے کیریئر میں ایک بھی نوبال نہیں کروائی تحریر:واصل بٹ

    کرکٹ کی تاریخ میں چند ایسے کھلاڑی جنہوں نے اپنے پورے کیریئر میں ایک بھی نوبال نہیں کروائی تحریر:واصل بٹ

    کرکٹ کی تاریخ میں چند ایسے کھلاڑی جنہوں نے اپنے پورے کیریئر میں ایک بھی نوبال نہیں کروائی

    نوبال کرکٹ کے کھیل میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

    کرکٹ میں نوبال کا بڑا حصہ ہوتا ہے کئی دفعہ نوبال کی وجہ سے میچ کا پاسا پلٹ جاتا ہے اور صرف نوبال کی وجہ سے ہار رہی ٹیم جیت جاتی ہے اور جیت رہی ٹیم ہار جاتی ہے اور یہ فیلڈنگ کرنے والی ٹیم کے لیے مہنگا ثابت ہوتا ہے۔

    پہلے نو بال کروانے پر بیٹنک کرنے والی ٹیم کو ایک اضافی ڈلیوری دی جاتی تھی اور ایک اضافی رن دیا جاتا تھا لیکن آج کے دور میں اس کے ساتھ (فری ہٹ) بھی دی جاتی ہے جس میں بلے باز کے آوٹ ہونے کا کوئی خدشہ نہیں ہوتا جوکہ گیند باز کے لیے سخت سزا ہے۔

    کرکٹ کی تاریخ میں بہت سے کھلاڑی ایسے ہیں جنہوں نے بہت سی نوبال کرائیں لیکن کرکٹ کی تاریخ میں چند ایسے کھلاڑی بھی ہیں جنہوں نے اپنے پورے کیریر میں ایک بھی نوبال نہیں کروائی یہ وہ کھلاڑی ہیں جو میدان میں بالنگ کے لیے آتے تو بڑے بڑے بلے بازوں کے پسینے چھوٹ جاتے تھے اور ان گیند بازوں کی فہرست درج زیل ہے

    1- عمران خان

    پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا شمار بھی ایسے ہی کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے کرکٹ کے پورے کیریئر میں ایک بھی نوبل نہیں کروائی وہ ایسے آل راؤنڈر تھے جن کے میدان میں اترتے ہیں مدمقابل کھلاڑی محتاط ہو جاتا تھا انہوں نے ہمیشہ اپنے کھیل سے قوم کا سر بلند کیا اور بطور آل راؤنڈر اپنی ٹیم کو جتوا کر پاکستان کی عزت بڑھائی آل راؤنڈر کے طور پر حیران کن پرفارمنس دی۔ 1971 میں 18 سال کی عمر میں انہوں نے بین الاقوامی سطح پر اپنے کرکٹ کیرئیر کا آغاز کیا اور 1992 میں اپنی قوم کو ورلڈ کپ کا تحفہ دے کر آپ نے کرکٹ کیریئر کا اختتام کیا۔

    عمران خان نے اپنے 21 سالہ کیریئر میں 88 ٹیسٹ اور 175 ون ڈے کھیلنے اور ٹیسٹ کیریئر میں 362 اور ون ڈے میں 182 وکٹیں لینے میں کامیاب رہے اور ٹیسٹ میں 3807 اور ون ڈے میں 3709 رنز بنائے جو کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے انہوں نے بین الاقوامی کرکٹ میں 270000 گیندیں کروائیں جن میں سے ایک بھی نوبال نہیں ہوئی جو کہ ایک شاندار کار نامہ ہے۔ عمران خان پاکستان کے عظیم کپتانوں میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں جنہوں نے ٹیم کو ساتھ لے کر محنت کی اور کامیابی حاصل کی اور ریٹائرمنٹ کے بعد اسی حکمت عملی نے انہیں سیاست کے میدان میں بھی کامیاب کیا

    2- لانس گبز

    لانس گبز ویسٹ انڈیز کے وہ مایا ناز کھلاڑی تھے جنہوں نے عالمی کرکٹ میں بہت سے ریکارڈ اپنے نام کیے وہ 300 وکٹیں لینے والے دنیا کے دوسرے بالر تھے جبکہ جبکہ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے دنیا کے پہلے اسپنر بھی تھے انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز 1958 میں کیا اور 1976 تک کھیلتے رہے۔
    گبز نے 79 ٹیسٹ اور تین ون ڈے کھیلے اور انہوں نے ٹیسٹ میں 309 اور ون ڈے میں 2 وکٹیں حاصل کیں۔ لانس گز نے بھارت کے خلاف 38 رنز کے بدلے 8 وکٹیں لے کر ویسٹ انڈیز کو فتح سے ہمکنار کیا
    انہوں نے اپنے کیرئیر میں 27000 بالز کروائیں لیکن کوئی بھی نوبال نہیں دی اور کرکٹ کی تاریخ میں لانگ گبز پہلے کھلاڑی بن گئے جنہوں نے پورے کیریئر میں نو بال نہ کروانے کا ریکارڈ اپنے نام کیا اس سے پہلے کوئی بھی یہ ریکارڈ نہ بنا سکا جس نے اپنے پورے کیریئر میں ایک بھی نوبال نہ کروائی ہو۔

    3- آئن بوتھم

    آئن بوتھم کا شمار دنیا کے بہترین آل راؤنڈرز میں ہوتا ہے انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران بہت سے غیر معمولی ریکارڈ قائم کیے 1976 میں انہوں نے اپبین الاقوامی سطح پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور 1992 میں اپنے کیریئر کا اختتام کیا ٹیسٹ کرکٹ میں انہوں نے حیرت انگیز کارنامے انجام دیے۔

    آئن بوتھم نے 102 ٹیسٹ اور 116 ون ڈے کھیلے ٹیسٹ کرکٹ میں انہوں نے 5200 اور ون ڈے میں 2113 رنز بنانے میں کامیاب ہوئے

    آئن بوتھم نے ٹیسٹ میں 338 اور ون ڈے میں 145 وکٹیں حاصل کیں انہوں نے تقریبا 28000 گیندے کروائی جن میں ایک بھی نو بال نہیں کروائی جوکہ کرکٹ کی تاریخ میں انکا ایک ریکارڈ ہے۔

    4- ڈینس للی

    ڈینس للی آسٹریلیا کے سابق فاسٹ بالر تھے جنہوں نے 70 کی دہائی میں تہلکہ مچایا ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے کھلاڑی بن کر 1984 میں ریٹائرڈ ہوئے
    ڈینس للی کا جیف تھامسن کے ساتھ بہترین کیریئر تھا جو آسٹریلوی کرکٹ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا

    انہوں نے اپنے کرکٹ کیرئیر میں 70 ٹیسٹ اور 63 ون ڈے میچ کھیلے ٹیسٹ میں 355 اور ون ڈے میں 103 وکٹیں حاصل کیں۔ ڈینس للی کی جارحانہ پرفارمنس ہمیشہ تماشائیوں کو حیران کر دیتی تھی اور آسٹریلوی شائقین یہ جان کر بہت خوش ہوں گے کہ انہوں نے اپنے پورے کیرئیر میں ایک بھی نوبال نہیں کروائ۔

    5- باب ولس

    باب ولس انگلینڈ کے عظیم گیند بازوں میں سے ایک تھے 1971 میں انہوں نے اپنے بین الاقوامی کرکٹ کیریئر کا آغاز کیا 1978 میں انہوں نے ون ڈے (کرکٹر آف دی ائیر) ایوارڈ حاصل کیا۔1984 میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرڈ ہوئے ریٹائرمنٹ کے بعد اسٹار اسپورٹس کے ساتھ بھی کام کیا۔
    باب ولس نے 90 ٹیسٹ اور 64 ون ڈے میچ کھیلے ٹیسٹ میں انہوں نے 325 اور ون ڈے میں 80 وکٹیں حاصل کیں انہوں نے تقریباً 21000 بالز کروائیں لیکن ایک بھی نو بال نہیں کروائی۔

    2019 میں "باب ولس” 70 سال کی عمر میں کینسر کے باعث انتقال کر گئے