Baaghi TV

Category: کھیل

  • پاک انگلینڈ مقابلہ: ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کے لیے پیشن گوئی — نعمان علی ہاشم

    پاک انگلینڈ مقابلہ: ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کے لیے پیشن گوئی — نعمان علی ہاشم

    پاکستان بمقابلہ انگلینڈ سات ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز مکمل ہوئی. آئندہ ہونے والے ورلڈ کپ مقابلوں کے لیے یہ میچز ہماری تیاری کو ظاہر کرتے ہیں. پاکستان نے پچھلے چند برسوں سے مختصر طرز کی اس کرکٹ میں بہت سے گراں قدر ریکارڈ قائم کیے. فتوحات کا تناسب بھی زیادہ رہا. مگر اس سیریز کے بعد ایک سوال زبان ذد عام ہے. کیا یہ ٹیم ورلڈ کپ جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہے.؟ یوں تو مشہور معقولہ ہے کہ "cricket is by chance” مگر آجکل کے دور میں چانس اسی کے لیے ہے جو بہترین ٹیم اور زبردست مائنڈ سیٹ کے ساتھ میدان میں اترتا ہے. سوال کی طرف آتے ہیں کہ کیا پاکستان کی موجودہ ٹیم میں ورلڈ کپ جیتنے کی صلاحیت موجود ہے؟ تو اس کا سادہ سا جواب ہے نہیں.

    ٹی ٹونٹی کرکٹ ہائی رسک گیم ہے. بلے باز کو اسکور کرنے کے لیے خراب گیند کا انتظار کیے بغیر شارٹ بنانے پڑتے ہیں. اور باؤلر کو وکٹ کے حصول کے لیے ان جگہوں پر بال کرنی پڑتی ہے جہاں آؤٹ کے ساتھ ساتھ باؤنڈریز لگنے کے چانسز بہت زیادہ ہوتے ہیں.

    پاکستانی ٹیم کی موجودہ صورتحال پر بات کریں تو اس وقت پاکستان کے پاس دو ایسے بلے باز ہیں جو وائٹ بال کرکٹ میں اپنا ثانی نہیں رکھتے. دونوں نے اپنے بلے سے اتنے رنز اگل دیے ہیں کہ آنے والی کئی دہائیوں میں انہیں یاد رکھا جائے گا. یہ دونوں بلے باز اس وقت گیم کے اس فارمیٹ میں اوپنر کی حیثیت سے کھیل رہے ہیں. جی ہاں پاکستانی کپتان بابر اعظم اور وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان دونوں ہی رنز مشین کے طور پر جانے جاتے ہیں. لمبی پارٹنر شپس کی وجہ سے دونوں بلے بازوں نے اس طرز کی کرکٹ میں اپنا لوہا منوایا ہے. پاکستان کے زیادہ تر ریکارڈ جو پچھلے تین سالوں میں بنے انہی دو کی بدولت بنے.

    مگر کرکٹ میں ہر روز کسی کھلاڑی کا چل جانا عجائبات میں سے ہے. کھلاڑیوں کا اچھا برا دن بھی آتا ہے. ہم نے پچھلے تین سالوں سے یہ محسوس کیا ہے کہ جب بھی پاکستانی اوپنرز نے پرفارم نہ کیا پوری ٹیم دھڑم تختہ ہو گئی. پچھلے کئی سالوں سے ہماری مڈل آڈر اور لوور مڈل آرڈر کی خامیاں رضوان اور باہر کی پرفارمنس کے پیچھے چھپی ہوئی ہیں. بابر اور رضوان کی پرفارمنس کے بغیر ہماری ٹیم کی فتوحات کا تناسب 7 فیصد سے بھی کم ہو جاتا ہے.

    اب سوال یہ ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟

    پاکستان کے مڈل آرڈر میں کھیلنے والے جو بلے باز پچھلے دو تین سال سے آزمائے جا چکے ان کا متبادل کیا ہے؟

    ابھی بھی پاکستان جن کھلاڑیوں کو مڈل آڈر میں مواقع فراہم کر رہا ہے ان کی گیم نیچر اوپنرز والی ہے. فخر زمان، شان مسعود اور حیدر علی کی کلاس اور گیم سینس مڈل آرڈر بیٹنگ والی نہیں ہے.
    .
    حال میں مڈل آرڈر میں کھیلنے والے بلے باز افتخار احمد، خوشدل شاہ، حیدر علی، شان مسعود، آصف علی نے بہت لمبا چانس ملنے کے باوجود پرفارم نہیں کیا.

    پاکستان کے ڈومیسٹک اور لیگ سیٹ اپ میں کوئی بھی ایسا نیا بلے باز نظر نہیں آتا جس میں مڈل آرڈر کو سنبھالے کی صلاحیت موجود ہو. جتنے بھی نئے ٹیلنٹڈ کھلاڑی سامنے آ رہے ہیں تقریباً سبھی اوپنرز ہیں. البتہ سسٹم میں دو تین پرانے کھلاڑی ایسے موجود ہیں جو ٹیم کے مڈل آرڈر کو سنبھال سکتے ہیں. شعیب ملک جو ابھی تک اپنی فارم اور فٹنس سے سب کو حیران رکھے ہوئے ہیں بدقسمتی سے بورڈ کی آنکھ کے تارے نہیں بن پا رہے. بورڈ محض نئے ٹیلنٹ کو کھلانے کی خاطر ان کی خدمات لینے سے انکاری ہے. اور نیا ٹیلنٹ ہمارے ساتھ جو کر رہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں.

    دوسرا نام بائیں ہاتھ کے بلے باز حارث سہیل کا ہے. جن کی فارم اور کلاس میں کسی قسم کا شبہ نہیں. مگر انہیں ہمیشہ سے فٹنس مسائل کا سامنا رہا ہے. یہی وجہ ہے کہ پی سی بی اب انہیں کنسیڈر کرنے سے اعراض برت رہی ہے.

    تیسرا نام ڈومیسٹک میں بے شمار رنز کرنے والے کامران غلام کا ہے. جنہیں ٹیم کے ساتھ تو رکھا گیا مگر انہیں کھلانے سے جانے کس چیز نے روکے رکھا.

    یہ تینوں نام مڈل آرڈر کے لیے بہترین ہیں. اگر ورلڈ کپ کے لیے وننگ کمبینیشن بنانا ہے تو بیٹنگ آڈر میں ان تینوں تبدیلیوں کی اشد ضرورت ہے.
    .
    پاکستانی باؤلنگ لائن اپ کی کلی بھی شاہین شاہ کی انجری کے بعد مکمل طور پر کھل چکی ہے. نسیم شاہ ینگ ہونے کے باوجود فٹنس اور ہیلتھ کے مسائل کا شکار ہیں. حارث روف نئے بال کے ساتھ ناکام ہیں. اور محمد حسنین پیس کے علاوہ اپنی باؤلنگ میں کوئی مہارت نہیں رکھتے. اگر شاہین شاہ فٹ نہیں ہوتے تو پاکستان کے لیے یہ ورلڈ کپ جیتنے کی پوزیشن انتہائی مشکل ہو جائے گی.

    سپن باؤلنگ کی بات کریں تو محمد نواز اور شاداب نے اس شعبے کو مکمل طور پر سنبھالا ہوا ہے. اس میں کسی قسم کی تبدیلی کی ضرورت کو محسوس نہیں کیا جاتا.

    البتہ ان دونوں کے متبادل کے طور پر جو کھلاڑی لائے جا رہے ہیں ان کی بابت کوئی رائے دینا مشکل ہے.

    پاکستان کی ٹیم دو شعبوں میں مکمل اور دو شعبوں میں ادھوری ہے. مڈل آرڈر اور لوور مڈل آرڈر کے مسائل کے حل کے بغیر ورلڈ کپ کی جیت کا خواب محض دیوانے کا خواب ہے. اوپر سے فاسٹ باؤلرز کے فٹنس مسائل کی تلوار الگ سے لٹک رہی ہے.

  • ایک میچ کہ کھلاڑی کو سٹار مت بنائیں — ضیغم قدیر

    ایک میچ کہ کھلاڑی کو سٹار مت بنائیں — ضیغم قدیر

    شارٹ ویڈیوز دیکھنے والے ینگسٹر جانتے ہونگے کہ اکثر شارٹس میں استعمال ہونے والے گانے بہت ہی عمدہ ہوتے ہیں مگر جب ہم اوریجنل مکمل گانا سنتے ہیں تو دل گالیاں دینے کو کرتا ہے۔

    بالکل یہی حساب قومی کرکٹ ٹیم کیساتھ ہوتا ہے۔ کوئی بڑے پیج کا ایڈمن ایک شارٹ میچ دیکھ لیتا ہے جس میں کوئی پلئیر اچھا کھیل رہا ہے اور پھر کمپین شروع ہو جاتی ہے کہ اس کو کھلاؤ۔

    اور یوں اس کھلاڑی کی بکواس گیم دیکھ کر ہم جیسے شائقین کڑھتے رہتے ہیں۔

    خوشدل شاہ برا کھلاڑی نہیں مگر اس کو ڈومیسٹک اور لیگ میچز کھلانے چاہیں۔ اس غریب نے ایک میچ میں اچھی سینچری بنائی تھی اور شائد ایک ٹورنامنٹ اچھا کھیلا تھا کمپین چلی کہ خوشدل شاہ ٹیم کا حصہ ہونا چاہیے۔ ہر یوٹیوبر کرکٹر نے زور دیا ٹیم میں آیا تو پرچی بن گیا۔

    شان مسعود، عزم خان، حیدر علی ان کے بارے میں باقاعدہ کمپینز چلی ہیں کہ یہ مہا توپ کھلاڑی ہیں ان کو کھلائیں مگر ہر بار انہوں نے ثابت کیا ہے کہ ان کو کیوں نہیں کھلانا چاہیے ہے۔

    آجکل خیر سے شرجیل خان کا چرچا کسی نے چلوا دیا ہے ساتھ ساتھ عماد وسیم اور شعیب ملک کا بھی کارڈ کھیلا جا رہا ہے حالانکہ یہ پہلے ورلڈکپس میں کیا کر چکے ہیں سب کو معلوم ہے۔ اب اگر ایک ایک ٹورنامنٹ انکا اچھا گزر گیا ہے تو پھر سے ان کو ہم پر لوگ عذاب بنوا کر نازل کروانا چاہتے ہیں۔

    دوسری طرف انڈیا کا سوریا کمار یادو ہے۔ سکائی کو بارہ سال لگے انڈین نیشنل ٹیم میں آنے کے لئے، اس دوران اس نے بہترین فرسٹ کلاس کھیلی، تین سال آئی پی ایل میں پانی پلایا اور پھر موقعہ ملا اور اب جاکر قومی ٹیم کا حصہ بنا ہے اور شروع سے اب تک اس کی پرفارمنس بہترین رہی ہے۔

    یہی حساب حارث رؤف کا ہے حارث نے دو سال باہر بیٹھ کر میچ دیکھے پھر دوبئی لیگ اور پھر لاہور قلندر سے پرفارمنس شروع کی اور اب تک چلتا ہی جا رہا ہے۔ وہیں باقی ایک ایک ٹورنامنٹ والے کھلاڑی جن میں مجارٹی مڈل آرڈر میں ہے وہ ہمیں ہر میچ میں مایوس اور ذلیل کرتے ہیں جس پر ہر میچ میں دل خون کے آنسو روتا ہے۔ مگر ان کے ٹیم میں لانے کے قصوروار وہی ہیں جو آج ان کو پرچی پرچی کہہ رہے ہیں۔

    ابھی ورلڈکپ میں یہی ٹیم ہوگی لیکن میری امید فقط بابر، رضوان، فخر، افتخار، حارث، شاہین اور شاداب سے جڑی ہے باقی پرچیوں کو دیکھنے کا بھی دل نہیں کرے گا نا کرتا ہے۔ وہیں ایک ٹورنامنٹ کے کھلاڑی کو ہیرو بنا کر پیش کرنے والوں کو اتنا ہی کہونگا کہ

    Don’t make one match sensation a super star.

  • یہ ہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی، لیکن کب؟؟؟ — سیدرا صدف

    یہ ہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی، لیکن کب؟؟؟ — سیدرا صدف

    یہ ہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی۔۔۔لیکن کب؟؟؟ "کب” پر ہی سارا مسئلہ کھڑا ہے۔۔کافی عرصے سے نشان دہی کی جا رہی تھی کہ ہمارا مڈل آرڈر کمزور ہے۔۔۔جو سیریز ہم نے حفیظ اور ملک کے بغیر کھیلیں اس میں دشواری آئی۔۔لہذا بار بار ملک اور حفیظ کی شمولیت ہوتی تھی۔۔ یہاں سے غلطی کا آغاز ہوا تھا۔۔۔جب دونوں کے متبادل دستیاب نہیں تھے تو انکو لگاتار کھیلایا جاتا اور سیریز یا ٹورنمنٹ کے غیر اہم میچز میں ریسٹ دے کر کسی نئے کھلاڑی کو عین اس نمبر اور رول کے لیے تیار کیا جاتا۔۔

    صورتحال یہ ہے کہ ٹیم میں مڈل آرڈر کا ایک بھی جارحانہ اور سمجھدار بلے باز نہیں ہے۔۔۔اچھا بلے باز ہر نمبر پر کھیل سکتا ہے لیکن ہر کھلاڑی ایڈجسٹ کر لے ضروری نہیں ہے۔۔۔مسئلہ اوپننگ جوڑی کو چھیڑ کر بابر کو ون ڈاؤن کرنے سے بھی حل نہیں ہونا کیونکہ پہلی تین پوزیشنز ٹاپ آرڈر کی ہیں۔۔۔ہمارا اصل سر درد مڈل آرڈر ہے۔۔۔اس سردرد میں کچھ حصہ غیر معیاری سلیکشن,کچھ حصہ کھلاڑیوں کی غیر ذمہ داری, اور باقی حصہ بیٹنگ آرڈر مس منیجمنٹ کا ہے۔۔۔

    انگلستان کی طرف سے ہر میچ میں مڈل آرڈر نے پرفارم کیا۔۔بھارت کے خلاف دوسرے ٹی ٹوئینٹی میں ساؤتھ افریقین مڈل آرڈر نے بتا دیا رنز کا تعاقب کیسے کیا جاتا ہے۔۔سری لنکا کو ایشین چمئین بنانے میں 50 فیصد حصہ مڈل آرڈر کا رہا۔۔۔سوریا کمار کی مثالیں دی جا رہی ہیں تو سوریا کمار بھی نمبر چار پر آ کر بلے بازی کرتے ہیں۔۔بلکہ سوریا, دنیش کارتک اور پانڈیا تینوں مڈل آرڈر میں پرفارمنسز دے رہے ہیں۔۔

    بابر کی کپتانی کبھی بہترین اور کبھی انتہائی بدترین درمیانی راہ نہیں ہے۔۔۔فائنل کا درجہ لیے میچ میں آؤٹ آف فارم خوشدل کو حیدر کی جگہ لانے کی سوچ سمجھ سے باہر تھی۔۔۔حیدر اور خوشدل دونوں ہی مسلسل ناکام جا رہے تھے لیکن فیصلہ کن میچ میں آپ اسی کھلاڑی کے ساتھ جائیں گے جو پہلے سے کھیل تھا اور آخری میچ میں نسبتاً بہتر کھیلا تھا۔۔

    خوشدل کے لیے پرچی کے نعرے لگے جو کہ تکلیف دہ تھے۔۔۔ہوم کراؤڈ اگر کسی کھلاڑی کے آؤٹ ہونے پر خوشیاں منائے تو وہ زناٹے دار طمانچہ ٹیم منیجمنٹ کے منہہ پر ہے۔۔۔۔قصور ٹیم منیجمنٹ کا ہے جس نے آؤٹ آف فارم ڈراپ کھلاڑی کو فیصلہ کن میچ میں کھیلایا اور پھر 200 کے تعاقب میں نمبر چار پر اتار دیا جبکہ محمد نواز دستیاب تھے۔۔۔

    آصف علی کا ٹیلینٹ دو درجن گیندوں تک محدود ہو گیا ہے۔۔۔آخری اوورز میں باری آئے تو کچھ چھکے لگنے کے چانسز ہیں اگر باری 12ویں اوور تک آ گئی تو میچ کی صورتحال سے قطع نظر وہ اننگز نہیں جما پاتے ہیں حالانکہ وہ بطور "مستند بلے باز” کھیلتے ہیں۔۔
    شان مسعود جس فارم کو لے کر ٹیم میں شامل ہوئے تھے وہ کھو چکی ہے۔۔۔افتخار احمد پر شاید ٹیم منیجمنٹ کی ہدایات کا اثر ہے۔۔شاداب اور نواز کا بیٹنگ میں کیا رول ہے اس کا اللہ کے سوا ٹیم منیجمنٹ کو پتہ ہے۔۔۔۔دونوں کھلاڑیوں کو ٹیم منیجمنٹ ضائع کر رہی ہے۔۔۔۔

    فاسٹ باؤلنگ ڈیپارٹمنٹ بھی شاہین اور حارث نکال کر تشویشناک ہے۔۔۔شاہین انجری سے واپس آئیں گے ان پر دباؤ ہو گا۔۔نسیم شاہ بھی واپسی کریں گے۔۔۔۔وسیم جونیئر, حسنین اور دھانی وہ اسلحہ ہیں جو ملک اور دشمن کے لیے بیک وقت خطرہ ہے کسی طرف بھی چل سکتے ہیں۔۔

    اگر انہی چراغوں سے روشنی کرنی ہے تو ہر بلے باز کو ایک مستقل نمبر اور رول دیں۔۔۔ٹاپ یا مڈل آرڈر کے مستند بلے باز بہتر کھیلیں تو آخری اوورز میں زیادہ چھکوں کی آس نہیں رہتی ہے۔۔۔ البتہ کسی غیر معمولی صورتحال میں بیٹنگ آرڈر ایڈجسٹ ہو سکتا ہے۔۔

    اس سیریز میں نہ تو کھلاڑی ذمہ داری لینے کے موڈ میں لگے نہ ہی ٹیم منیجمنٹ کا کوئی پلان نظر آیا۔۔۔کسی کھلاڑی نے کوشش نہیں کی کہ مثبت ذہن سے کھیلے اور کسی مسئلے کا حل ثابت ہو۔۔

    نیوزی لینڈ میں شیڈول سیریز کے بعد ورلڈکپ میں جانا ہے۔۔۔اس سیریز میں مسئلے حل نہ ہوئے تو ورلڈکپ میں ہمیں فرشتوں کی مدد درکار ہو گی جو کم از کم ہمیں کیچز ہی پکڑ دیں باقی گزارا ایک دو کھلاڑیوں کے چلنے سے ہو جائے گا۔۔

  • چترال میں دس روزہ  ڈسٹرکٹ یوتھ پولو فیسٹیول اختتام پذیر

    چترال میں دس روزہ ڈسٹرکٹ یوتھ پولو فیسٹیول اختتام پذیر

    باغی ٹی وی چترال (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)چترال میں دس روزہ ڈسٹرکٹ یوتھ پولو فیسٹیول اختتام پذیر ہوا جس میں 17 پولو ٹیموں نے حصہ لیا فائنل میچ میں چترال پولو ٹیم نے ایک کے مقابلے میں تین گولوں سے دروش پولو ٹیم کو شکست دیکر ٹرافی اپنے نام کردی۔ بادشاہوں کے اس کھیل کو دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں تماشائی میدان میں موجود تھے۔ تفصیل گل حماد فاروقی کی اس رپورٹ میں

  • پاکستان میں بھی آر ایس ایس ذہنیت ہے!!! — سیدرا صدف

    پاکستان میں بھی آر ایس ایس ذہنیت ہے!!! — سیدرا صدف

    وکرانت گپتا اور بہت سے بھارتی یو ٹیوبرز نے محمد رضوان کے ایک بیان کو بہت پسند کیا۔۔۔رضوان نے کہا تھا کہ۔۔!

    ” اللہ محنت اور ایمانداری کو پسند کرتا ہے۔۔۔۔اگر ہم محنت نہیں کریں گے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ ہمیں فتح دے دیں۔۔۔اگر حریف ٹیم ہم سے زیادہ محنت کرے گی تو وہ فتح پائے گی۔۔۔”

    اپنے دین کی اس سے خوبصورت خدمت نہیں ہوسکتی کہ آپ اپنے خالق کو "انصاف کرنے والا” قرار دیں۔۔۔اس ایک جملے میں دین اسلام کی روح ہے۔۔۔۔

    ایک صاحب محمد رضوان کے شدید ناقد ہیں۔ انکی تنقید مجھے ہمیشہ غیر منطقی لگی۔۔ یوں لگا جیسے رضوان سے کھیل کی بجائے کوئی ذاتی مسئلہ ہو۔۔۔پھر وہ کھل ہی گئے۔۔۔۔فرما ہی دیا کہ مسئلہ رضوان کے دین پسند ہونے سے ہے۔۔۔۔کرکٹ سے تعلق ہونے کی وجہ سے موصوف کو رضوان کے "مولانا پن” پر اعتراض ہے۔۔۔اور یہ صرف ایک شخص کی رائے نہیں اور بھی لوگ ایسے اعتراضات رکھتے ہیں۔۔۔

    رضوان اگر کرتا شلوار, سر پر ہیلمنٹ کی بجائے سفید ٹوپی اور ہاتھ میں بلے اور ستانے کی جگہ تسبیح تھامے کھیلنے آتے ہیں تو مسئلہ سمجھ بھی آتا۔۔۔یا میچ روک کر رضوان گراؤنڈ میں کھلاڑیوں کو اکھٹا کر کے صحیح احادیث سناتے تو بھی اعتراض درست ہوتا۔۔۔

    عین آر ایس ایس ذہنیت رکھتے ہوئے انکے دین پسند ہونے پر اعتراض ہے کہ اللہ کا نام کیوں لیتے ہیں,نماز کیوں پڑھتے ہیں۔۔خواتین سے فاصلہ کیوں رکھتے ہیں۔۔۔یہ ہی اعتراضات ہیں نا اس کے علاوہ کیا ہیں۔۔؟

    اگر کوئی شخصیت عوامی مقام پر شراب نوشی یا دیگر اخلاق باختہ حرکات کرتی نظر آ جائے تو یہی طبقہ اسے ذاتی چوائس کا نام دیتا ہے۔۔معاشرے کو گھٹن زدہ قرار دیتا ہے۔۔۔۔شخصی آزادی کی بات ہوتی ہے۔۔۔لیکن جیسے ہی معاملہ دین سے جڑتا ہے شخصی آزادی ہوا ہو جاتی ہے حالانکہ دینی معاملات صرف شخصی نہیں اجتماعی بھی ہیں۔۔۔

    شخصی آزادی اچھی سوچ ہے لیکن پھر سب کو بلاتفریق یہ آزادی دیں۔۔۔

  • پاکستان اچھا نہیں کھیلا!!! — سیدرا صدف

    پاکستان اچھا نہیں کھیلا!!! — سیدرا صدف

    آخری میچ پر ایک رائے ہے کہ پاکستان اچھا نہیں کھیلا لہذا اس جیت کو جیت نہ سمجھا جائے۔۔۔کل پہلی اننگز پر میری بھی یہ رائے ہے کہ بیٹنگ آرڈر کو درست استعمال نہیں کیا گیا۔۔

    پچ قدرے سلو تھی, انگلستانی بالرز نے باؤلنگ بھی بہت اچھی کی,ریورس سوئنگ کا بھی استعمال کیا۔۔لیکن اس کے باوجود ٹیم منیجمنٹ نے دو غلطیاں کیں۔۔۔ون ڈاؤن پوزیشن پر آصف علی یا محمد نواز کو استعمال کرنا چاہیے تھا۔۔۔آصف علی کا دوسرا اچھا استعمال بھی ضائع کیا جب خوشدل کی جگہ انکو بھیجا جا سکتا تھا۔۔۔۔

    سلو پچ پر بال کو ٹائم کرنے والے بلے باز مشکلات کا شکار رہتے ہیں لہذا دوسرے اینڈ سے پاور کا استعمال کرنے والے بلے بازوں سے لگاتار چانس لیا جاتا تاکہ چار پانچ وکٹس گر بھی جاتی تو شاید بیس سے تیس رنز زیادہ بن جاتے۔۔۔
    نوجوان بالرز کا لائن لینتھ سے زیادہ رفتار پر فوکس, آخری اوورز میں ورائیٹی سے بال نہ کرانا نیز ہر میچ میں ایک اہم ڈراپ کیچ بھی ٹیم پاکستان کا سر درد ہے۔۔۔

    لیکن ان غلطیوں کے باوجود کچھ مثبت فیکٹر بھی سامنے آئے۔۔ورلڈکپ سے پہلے ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ کونسا کھلاڑی کتنا موثر ہے۔۔۔یہ سیریز کبینیشن طے کرنے کے لیے ضروری ہے۔۔ہمیں اچھا ٹیم کمبینیشن مل گیا تو یہ ہی اس سیریز کا نتیجہ ہو گا۔۔۔ نیوزی لینڈ میں تین ملکی سیریز اور ورلڈکپ پریکٹس میچز کمبینیشن کو کنڈیشن سے ہم آہنگ ہونے میں مدد کریں گے۔۔۔۔

    افتخار احمد نے پریشر صورتحال میں اچھی باؤلنگ کرا کر ثابت کیا کہ افتخار ایک سمارٹ بالر ہے ۔۔ایشیا کپ فائنل میں بھی افتخار نے اچھی باؤلنگ کی تھی۔۔۔محمد نواز کو استعمال نہ کرنا بہرحال غلط فیصلہ تھا۔۔۔دونوں کو استعمال کیا جا سکتا تھا۔۔۔اور کل یہ ایک اچھا آپشن ملا ہے۔۔۔۔

    حارث رؤف نے ثابت کیا کہ ایک دلیر بالر خراب بال یا اچھی بال پر باؤنڈی کھا کر ہتھیار نہیں پھینکتا ہے۔۔۔بیشک دو رنز رہ جائیں فائیٹ ضرور کرنی چاہیے۔۔بلے باز چڑھائی کرے تو ذہانت سے ہرایا جا سکتا ہے۔۔۔شاہ نواز دھانی اور محمد حسنین کے سیکھنے کے لیے یہ بہت بڑا سبق ہے۔۔۔نسیم شاہ کو بھی جہاں سوئنگ نہ ملے مشکلات شکار رہتے ہیں۔۔ٹی ٹوئینٹی کرکٹ میں ایک اچھے بالر کو ہر طرح کی ورائیٹی درکار ہے تاکہ اسکی کمزوری حریف کی طاقت نہ بن سکے۔۔۔

    بابر اعظم کے لیے یہ سبق ہے کہ کرکٹ کو ناک سیدھ میں چلانے کی بجائے بعض دفعہ دلیری سے فیصلے لینے ہوتے ہیں۔۔۔پہلی اننگز میں بیٹنگ آرڈر کی جو غلطی کی فیلڈ میں وہ نہیں دہرائی۔۔۔افتخار اور نواز نے اچھی باؤلنگ کی تو عثمان قادر کی بجائے دونوں کے ساتھ کنٹینیو کیا۔۔

    ماضی میں پاکستانی بالرز فلیٹ پچز پر رنز روکتے رہے ہیں۔۔۔کرکٹ کا حسن اسی میں ہے کہ مقابلے کا توازن جاری رہے۔۔۔فلیٹ پچز پر ٹاس جیتو میچ جیتو تھیوری ناکام ہونی چاہیے۔۔۔فیلڈنگ ٹیم کو کم رنز پر بھی جان لڑانی چاہیے اور کل کی فتح اس حوالے سے مورال بلند کرے گی۔۔۔

  • چونیاں ۔ باڈی بلڈنگ ایسوسی ایشن کا گزشتہ روز باڈی بلڈنگ کے حوالے سے اہم  اجلاس

    چونیاں ۔ باڈی بلڈنگ ایسوسی ایشن کا گزشتہ روز باڈی بلڈنگ کے حوالے سے اہم اجلاس

    باغی ٹی وی : چونیاں ۔(نامہ نگار) باڈی بلڈنگ ایسوسی ایشن کا گزشتہ روز باڈی بلڈنگ کے حوالے سے اہم اجلاس شیخ محمود سابق مسٹر پاکستان ، ماسٹر پاکستان امجد علی تبسم کے زیر صدارت منقد ہوا جس میں تحصیل چونیاں۔پتوکی پھول نگر آلہ آباد۔کوٹرادھاکشن سمیت ضلع قصور کے سابقہ مسٹرز نے شرکت ۔ اس میٹنگ میں ضلع قصور کے سینئر باڈی بلڈرز اور ڈسٹرکٹ باڈی بلڈنگ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ابو ہریرہ نے مہمان خصوصی کے طور شرکت کی میٹنگ میں مہمان خصوصی سابق مسٹر قصور ابو ہریرہ نے دسمبر میں ہونے والے سالانہ باڈی بلڈنگ کے مقابلہ کے حوالے سے تمام جم اونر سے گفتگو کرتے ہوئے کہاں کہ ہم نے سابقہ ڈسٹرکٹ باڈی بلڈنگ ایسوسی ایشن کی باڈی کو کچھ غلط پالیسیوں کی بدولت تحلیل کر دیا ہے اب نئی کابینہ 25دسمبر کو ہونے والے مقابلے میں مسٹر قصور کے لے ہنڈا125۔جونیر مسٹر کے لے چائنا 70 اور رنراپ کے لے 10000ہزار نقدی انعامات دے گئی جس کے بعد جیتنے والے لڑکوں کو لاہور اور پنجاب کے مقابلاجات میں قصور باڈی بلڈنگ مکمل سپورٹ کرے گئی انہوں نے کہا اس مرتبہ باڈی بلڈنگ کے کو ایک نئے اور پروفیشنل انداز میں متعارف کروایا جائے گا۔اجلاس میں سابقہ مسٹر پاکستان مسٹر ماسٹر پاکستان امجد علی تبسم۔ سابقہ مسٹر قصور استاد پرویز پتوکی ۔سابقہ جونیئر مسٹر قصور شیخ محمود۔پھول نگر ۔سابقہ مسٹر پنجاب رنراپ پنجاب استاد فیاض احمد دھون چونیاں۔مسٹر قصور ذیشان علی۔جونئیر مسٹر قصور راحیل۔سابق مسٹر قصور استاد بولا ودیگر کلب کوچ و چونیاں پتوکی ۔پھول نگر باڈی بلڈنگ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اس موقع پر چونیاں پتوکی پھول نگر باڈی بلڈنگ ایسوسی ایشن کے صدر استادپرویز۔ چیرمین فیاض دھون۔ بانی امجد علی تبسم شیخ محمود۔صابر علی۔سرفراز۔خرم ندیم اور ارشد منیر نے مہمان خصوصی ابو ہریرہ کو قصور باڈی بلڈنگ ایسوسی ایشن حافظ وارث گروپ سے مکمل الحاق کی یقین دہانی کروائی اور آئندہ 15تاریخ کو قصور میں قصور باڈی بلڈنگ ایسوسی کے اہم اجلاس میں بھر پور شرکت کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا

  • ڈیرہ – محکمہ سپورٹس کی زیر نگرانی 28 ستمبر سے سکول کرکٹ چیمپئن شپ کا آغاز کیا جارہا ہے

    ڈیرہ – محکمہ سپورٹس کی زیر نگرانی 28 ستمبر سے سکول کرکٹ چیمپئن شپ کا آغاز کیا جارہا ہے

    محکمہ سپورٹس کی زیر نگرانی 28 ستمبر سے سکول کرکٹ چیمپئن شپ کا آغاز کیا جارہا ہے
    باغی ٹی وی :ڈیرہ غازی خان (۔شزادخان کی رپورٹ )محکمہ سپورٹس کی زیر نگرانی 28 ستمبر سے سکول کرکٹ چیمپئن شپ کا آغاز کیا جارہا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ،ضلعی انتظامیہ، تعلیم اور لوکل گورنمنٹ کے اشتراک سے فلڈ لائٹس کرکٹ سٹیڈیم ڈیرہ غازی خان میں مقابلے ہوں گے۔ضلع کے منتخب 12 سکولوں کی ٹیمیں حصہ لیں گی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل صابر حسین نےڈویزنل سپورٹس آفیسر عطاء الرحمن،کرکٹ سٹیڈیم ایڈمنسٹریٹر یاسر چنگوانی اور افسران کے ہمراہ فلڈ لائٹس کرکٹ سٹیڈیم کا دورہ کیا۔کرکٹ پچ،گراونڈ اور دیگر معاملات کا جائزہ لیا۔ڈویژنل سپورٹس آفیسر عطاء الرحمن نے بتایا کہ ٹیموں کو کرکٹ کٹ دی جائے گی۔سکولوں کی ٹیموں سے ڈسٹرکٹ چیمپئن کا انتخاب کیا جائے گا اور یہی ٹیم پنجاب لیول کے مقابلوں میں ضلع کی نمائندگی کرے گی

  • آئی سی سی ٹی ٹوئینٹی بالرز رینکنگ!!! — سیدرا صدف

    آئی سی سی ٹی ٹوئینٹی بالرز رینکنگ!!! — سیدرا صدف

    آئی سی سی ٹی ٹوئینٹی بالرز رینکنگ دیکھیں تو دس میں سے شاید سات پوزیشنز اسپنرز کے پاس ہیں۔۔۔وہ وقت کب کا ختم ہو چکا جب اسپنرز ٹی ٹوئینٹی میں غیر موثر سمجھے جاتے تھے۔۔۔اسپنرز کی اہمیت تسلیم ہوئی اور اب وہ وقت ہے کہ اچھا اسپنرز کسی بھی کپتان کے لیے اہم ترین ہتھیار ہے۔۔۔پاور پلے میں اسپنرز رنز روک رہے ہیں, وکٹس لے رہے ہیں۔۔۔

    پاکستان نے ہمیشہ بہترین اسپنرز اور اسپنرز کو کھیلنے والے بہترین بلے باز پیدا کیے ہیں لیکن مڈل آرڈر کا اسپنرز کے سامنے لگاتار ایکسپوز ہونا تشویشناک ہے۔۔

    شاید اسکی وجہ مڈل آرڈر میں ٹیلینٹ کا فقدان ہے۔۔۔مڈل آرڈر میں بہت زیادہ چوائسز نہیں ہیں۔۔۔کئی اسپنرز باؤلنگ کا آغاز بھی کرتے ہیں لیکن پرانے بال کے ساتھ پچ کی صورتحال کے مطابق کھیلنا مڈل آرڈر میں ہی بہتر آتا ہے۔۔۔اور ٹی ٹوئینٹی کرکٹ میں بھی اب دیکھا جاتا ہے کہ سلو پچز پر دس اوور بعد ہی بال رک کر بلے پر آتا ہے۔۔

    ڈومیسٹک اور پی ایس ایل میں ٹاپ بلے باز پہلی دو پوزیشنز پر ہی سامنے آ رہے ہیں۔۔ایسا لگ ریا ہے کہ سب کو ہی اوپنر بننا ہے۔۔۔۔مڈل آرڈر میں کسی کو دلچسپی نہیں ہے۔۔۔جو چند اچھے بلے باز ہیں ان سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔۔

    سبھی اوپنرز بیک وقت اوپننگ نہیں کر سکتے ہیں پھر پوزیشن ایڈجسٹمنٹ کرنا پڑتی ہے جیسے شان مسعود اور حیدر علی کی ہوئی ہے۔۔۔۔ اب انکو اتنے میچز ضرور دینے ہوں گے جس کے بعد پرفارمنس کا جائزہ لیا جا سکے۔۔۔امید اور دعا ہے کہ دونوں ہی حل ثابت ہوں۔۔۔

    اچھا بلے باز ٹی ٹوئینٹی میں کسی بھی نمبر پر کھیل سکتا ہے لیکن وہ اچھا بلے باز ہر کوئی نہیں ہوتا ہے۔۔۔نمبر تین, چار اہم پوزیشن ہے۔۔

    لوئر آرڈر میں ہٹر بھی چاہیے لیکن یہ شرط نہیں ہونی چاہیے کہ ان ہٹرز کو دو اوورز سے پہلے نہ آنے دیا جائے۔۔۔ایسی شرطیں گلی محلے کے کھیل میں اچھی لگتی ہیں۔۔۔اچھے لوئر آرڈر بلے باز کا کام ہے کہ میچ کو بنائے اگر بنا ہوا ملا ہے تو فنش کرے۔۔۔۔

    دو سال پہلے اوپننگ پوزیشن سر درد تھی تو اب مڈل آرڈر ہے۔۔کیا اس وقت ایک کامیاب جوڑی کو ڈسٹرب کرنے کا رسک لینا چاہیے۔۔۔؟؟

    یعنی بابر یا رضوان میں سے ایک ون ڈاؤن آئے۔۔۔میرے خیال سے کامیاب اوپننگ جوڑی کو ڈسٹرب کیے بنا مڈل آرڈر کا حل نکالنا چاہیے تاکہ اگر ٹاپ آرڈر فیل ہو تو میچ سنبھالا جا سکے۔۔۔۔۔شعیب ملک, سرفراز احمد اور حارث سہیل کو مڈل آرڈر میں کردار دیے جا سکتے تھے۔۔۔حارث سہیل کی واپسی کے بابت غیر مصدقہ اطلاعات تو ہیں لیکن حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔۔۔

  • ورلڈکپ کے لیے ٹیم کا اعلان — سیدرا صدف

    ورلڈکپ کے لیے ٹیم کا اعلان — سیدرا صدف

    انگلستان سے ہوم سیریز اور ورلڈکپ کے لیے ٹیم کا اعلان کر دیا ہے۔۔۔۔شاہ نواز دھانی, محمد حارث اور فخر زمان کو متبادل کھلاڑیوں جبکہ شان مسعود کو 15 رکنی اسکوڈ میں شامل کیا گیا ہے۔۔شاہین آفریدی کی بھی واپسی ہوئی ہے۔.۔۔باقی اسکوڈ ایشیا کپ والا ہے۔۔

    اندازہ ہے کہ فخر زمان زخمی نہیں ہیں۔۔۔دو ہی صورتیں ہیں۔۔۔شاید پی سی بی کی ہمت نہیں ہے انکو ڈراپ کرنے کی لہذا انجری کا بہانہ کر کے متبادل کھلاڑیوں میں رکھا گیا ہے۔۔۔ فخر زمان کو 15 رکنی اسکوڈ میں کسی کو دوبارہ زبردستی زخمی ظاہر کر کے بلا لیا جائے گا۔۔۔
    یا ٹی ٹوئینٹی فارمیٹ میں غیر تسلسل کارکردگی پر فخر زمان کو جتنا سپورٹ کرنا تھا کر لیا اور ٹیم منیجمنٹ بابر اور رضوان کے پیئر کو نہیں چھیڑنا چاہتی ہے۔۔۔

    اگر ماضی میں دیکھیں تو ہم نے اسٹار کھلاڑیوں کو خراب پرفارمنس پر ٹیم سے باہر ہوتے دیکھا ہے۔۔بعض کھلاڑی خود بھی کچھ وقت بریک لے لیتے تھے۔۔۔حال ہی میں بیڈ فارم سے دوچار کوہلی نے ذہنی طور پر فریش ہونے کے لیے بریک لی تھی۔۔۔ایسی سپورٹ کم دیکھی گئی ہے کہ کسی فارمیٹ میں کھلاڑی غیر تسلسل کارکردگی پر ڈراپ ہونے کی بجائے نئی پوزیشن پر آئے۔۔پھر دوسری پوزیشن پر بھی غیر تسلسل کارکردگی کے باوجود ناصرف لگاتار کھیلتا رہے بلک فین کلب کی بھرپور سپورٹ دوبارہ پہلی پوزیشن پر بحالی کے لیے بھی میسر ہو۔۔۔

    باقی میرے خیال سے محمد حارث کو 15 رکنی اسکوڈ میں شامل کرنا چاہیے تھا۔۔۔۔ورلڈکپ سے پہلے دو سیریز ہیں جس میں دو مختلف کمبینیشن ٹرائی ہو سکتے ہیں۔۔۔۔پہلا کمبینیشن وہی ہے جو پچھلے لگ بھگ دو سال سے جاری ہے۔۔۔۔جبکہ دوسرے کمبینیشن میں محمد حارث اور بابراعظم بطور اوپنر ٹرائی کیے جا سکتے تھے۔۔۔رضوان اور شان مسعود مڈل آرڈر کا بوجھ اٹھاتے۔۔۔حیدر علی کو بھی انگلستان کے خلاف سیریز میں چانس دینا چاہیے۔۔۔

    سلیکٹرز نے آصف , خوشدل اور افتخار پر بھی اعتماد کا اظہار کیا ہے۔۔۔۔خوشدل اور آصف کوالٹی اسپنرز کے آگے گلی محلے کے لڑکے لگتے ہیں لیکن امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستانی اور آسٹریلین پچز پر اچھا کھیلیں گے۔۔۔

    ورلڈکپ کے لیے توقع یہ ہی تھی کہ ایشیا کپ کھیلنے والے زیادہ تر کھلاڑی دوبارہ جگہ بنائیں گے۔۔۔ویسے ورلڈکپ سے عین پہلے زیادہ اکھاڑ پچھاڑ کا بھی فائدہ نہیں ہے۔۔۔