Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ نے رمضان بازاروں کا دورہ کیا

    شیخوپورہ(نمائندہ باغی ٹی وی) ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ سید طارق محمود بخاری کا ضلع بھر کی مختلف رمضان بازاروں کا دورہ، اشیا خوردو نوش کو چیک کیا اور اشیا کے معیار پر تسلی کا اظہار کیا.

    اس موقع پر انہوں نے عوام الناس سے سوالات کر کے حکومتی اقدامات پر ان کی رائے بھی لی تاکہ اگر کہیں کوئی مسئلہ موجود ہوتو اسے دور کیا جا سکے

  • تبدیلی کی ابتدا، مگر کہاں سے؟؟؟  اسامہ چوہدری

    تبدیلی کی ابتدا، مگر کہاں سے؟؟؟ اسامہ چوہدری

    شوارموں میں مُردہ مرغی کا گوشت، ہوٹلوں میں گدھوں کا گوشت، گدھے نہ بھی ہوں تو بیمار مریل جانوروں کا سستا گوشت، گاڑی دیکھتے ہی سبزی کا، فروٹس کا ریٹ اچانک سے بڑھا دینا، مرچوں میں اینٹیں, پیس کر ملانا، چائے کی پتی میں اصل پتی کی جگہ چنوں کا رنگ کیا ہوا چھلکا استعمال کرنا،ٹائروں میں ایک پنکچر کی جگہ زیادہ پنکچر کرنا،کالی مرچ کی جگہ اونٹوں کی ایک خاص غذا کو کالی مرچ بنا کر فروخت کرنا، استادوں کا صرف اخبار پڑھنےکے لئے اسکول جانا اور پھر حکومت سے گلے شکوے کرنا کہ حکومت نے تعلیم کا بیڑا غرق کردیا ،سرکاری ڈاکٹرز کا ہسپتال میں آئے مریضوں کو دھکے دے کر ہسپتال میں سے باہر نکالنا،پولیس والوں کا بغیر رشوت کے کام نہ کرنا اور کام کرنے کے عوض سائل سے مٹھائی ،پولیس موبائل کے لئے ڈیزل کے پیسے اور چائے کےلئے پیسے وصول کرنا،ایک الیکٹریشن کا چند ٹکوں کی خاطرالیکٹرک چیزوں کو خود سے خراب کر دینا ،ہمارا صفائی کے بعد گھروں اور دکانوں کا کوڑا باہر سڑک پر پھینک دینا اور اپنا کاروبار چمکانے کی خاطر وال چاکنگ کر کر کے اس ملک کی دیواروں کو گندا کرنا یہ سب کام ہم خود کرتے ہیں اور گلے شکوے کرتے ہیں حکومتوں سے کہ ہماری حکومت ٹھیک نہیں ہے ،حکومت کام نہیں کررہی۔حکومت کام تب ہی کرے گی جب ہمیں اس ملک کا احساس ہوگا جب ہم اس ملک کو اپنا گھر سمجھیں گے اور اس کی حفاطت اسی طرح کریں گے جیسے اپنے گھروں کی اور اپنے ذاتی سامان کی حفاظت کرتے ہیں ،جی ہاں یہ ملک تب ہی ترقی کرے گا جب ہم اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں گے جب ہم اپنے وطن کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں گے اور اس کی عملی تصویر بھی پیش کریں گے تب آئے گی تبدیلی ،تب بنے گا ہمارا ملک ایشین ٹائیگر ،تب سنورے گی یہ پاک دھرتی اور تب ہم اس قابل ہوں گے کہ دنیا کہ کسی بھی کونے میں جائیں ہم وہاں فخر سے رہ سکیں ،جب ہم کسی غیر ملکی ائیرپورٹ پہ اتریں تو ہمیں بغیر تلاشی کے آزادانہ گھومنے پھرنے کی اجازت ہو اور ہمارا چہرہ دنیا کے سامنے ایک مہذب، پرامن اور ایک اچھی قوم کے طور پہ سامنے آئے تو ہمیں سب سے پہلے خود کو بدلنا ہوگا، ہمیں سب سے پہلے اپنی ذات میں انقلاب لانا ہوگا۔

  • آفتاب جو غروب ہوا ۔۔۔ محمد طلحہ سعید

    آفتاب جو غروب ہوا ۔۔۔ محمد طلحہ سعید

    وہ ہمت جرات غیرت کا پیکر مجسم تھا۔وہ سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت کا متلاشی تھا۔وہ نور کرنوں میں لپٹا چہرا ہزاروں دلوں کی امیدوں کا محور تھا۔وہ صحابہ کرام کے رستوں پر چلنے والا ایک مرد مسلم تھا۔وہ خزاں کے دور میں بہار کی آخری امید تھا۔وہ لاکھوں بہنوں ،ماؤں اور بیٹیوں کی عفت و عصمت کا محافظ تھا۔وہ فتح علی بن حیدر علی ٹیپو تھا۔
                              اس نے بچپن سے ہی شیروں سے کھیلنا سیکھا تھا۔اس نے بچپن سے ہی اپنے باپ سے عزت کی زندگی گزارنا سیکھا تھا۔اس نے بچپن سے ہی انگریزوں اور مرہٹوں سے ان ہزاروں لاکھوں خون کے قطروں کا انتقام لینے کا عزم کیا ہوا تھا جو بنگال کی مٹی پی گئی تھی۔اس نے بچپن سے ہی مسلمانوں کو انگریزوں کے خلاف آخری قلعہ سمجھا تھا۔اس نے بچپن سے ہی طاقت و جرات کے غیر معمولی جوہر سیکھے تھے۔
            سلطان کی عمر ابھی کم ہی تھی کہ انہیں ان کے والد نے مختلف محاذوں مرہٹوں اور انگریزوں کے خلاف بھیج دیا۔سلطان معظم کی بہادری اور جرات کے اوپر سارا میسور رشک کرتا تھا۔پھر ایک تاریک رات میں،ایک ٹمٹماتا چراغ بھج گیا۔میسور کی عزت کا محافظ اور سلطان ٹیپو کے والد نواب حیدر علی وفات پاگئے۔جنگی صورتحال تھی۔میسور ایک وقت میں مرہٹوں، میر نظام علی اور انگریزوں کے خلاف مد مقابل تھا۔ایسی صورتحال میں جب حیدر علی وفات پاگئے، میسور کو انتہائ خطرناک نتائج مل سکتے تھے لیکن سلطان فتح علی حیدر ٹیپو کی مدبرانہ پالیسی نے میسور کے گرتے قلعے کو سنبھالا۔
         اس اولوالعزم مجاہد نے ہندوستان کے مسلمانوں کے دور انحتاط میں محمد بن قاسم کی غیرت،محمود غزنوی کے جاہ و جلال اور احمد شاہ ابدالی کے عزم و استقلال کی یاد تازہ کر دی تھی۔ہندوستان کے مسلمانوں پر جب مایوسی و بے بسی چھا رہی تھی، تب سلطان ٹیپو کی ریاست میں امیدوں اور ولولوں کی نئ دنیا آباد ہورہی تھی۔جب ہندوستان پر مسلمانوں کے قلعے مسمار کیے جارہے تھے تب میسور میں سرنگا پٹم، چتل ڈرگ اور منگلور میں سلطنت خداداد کے معمار نئے قلعے اور حصار تعمیر کر رہے تھے۔
                           سلطان ٹیپو کا تمام دور عہد جنگوں میں گزری۔سلطان کے خلاف تین طاقتیں تھی۔مگر جس ایک طاقت سے سلطان لڑنا نہیں چاہتا تھا وہ میر نظام علی کی طاقت تھی۔تاریخ گواہ ہے کہ میر نظام علی ہی وہ حکمران تھا جو مسلمانوں کے چراغ بھجا رہا تھا اور انہیں غلامی کی تاریکیوں میں دھکا دے رہا تھا۔اس حکمران نے اپنے مفاد، فقط اپنے مفاد کیلیے لاکھوں عزتوں کا سودا کیا۔سلطان ٹیپو اس سے اس لیے نہیں لڑنا چاہتے تھے کہ اس کے ساتھ فوج مسلمان تھی۔سلطان ہرگز یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی فوج کے ہاتھ مسلمان کے خون سے رنگے جائیں۔تاریخ گواہ ہے سلطان معظم نے ہر ممکن کوشش کی کہ اگر ان کا ساتھ حاصل نہ ہوسکے تو کم از کم انہیں میدان جنگ میں نہ لایا جائے۔مگر میر نظام علی کا تو مقصد صرف خزانے بھرنا تھا۔
                  بالآخر ٹیپو کی ایک ریاست، تین دشمنوں کے ساتھ محو جنگ ہوئ۔اب یہ ایک فیصلہ کن جنگ تھی۔سلطان ٹیپو اس جنگ کو فتح کرسکتے تھے مگر ایمان فروشوں نے سلطان کی مخبریاں کرکے اسے شکست دلوائ۔میر صادق، پورنیا، میر قمر الدین اور میر معین الدین جیسے غداروں نے صرف میسور کا ہی سودا نہیں کیا تھا بلکہ تمام ہندوستان کے  مسلمانوں کی عزت کا سودا کیا تھا۔تاریخ گواہ ہے کہ اس سودے سے انکے اپنے گھر محفوظ نہ رہے۔جنگ جیتنے کے بعد انگریزوں نے انکی اپنی بہنوں،بیٹیوں کو نہیں چھوڑا تھا۔
                                ٹیپو سلطان 4 مئی 1799ء کو انگریزوں کے خلاف فیصلہ کن معرکہ لڑنے میدان میں آئے۔سلطان نے میسور کے  ہراول دستوں کیساتھ لڑا۔سلطان معظم پر ایک انگریز نے گولی چلائ۔مگر سلطان نے زخم کی فکر نہ کی۔سلطان کے جسم نے خون نکل رہا تھا مگر سلطان معظم اس خون سے سرنگاپٹم کی زمین کو سیراب کرنا چاہتے تھے۔سلطان پر ایک اور گولی لگی اور سلطان پر نقاہت کے آثار ظاہر ہونے لگے مگر وہ لڑتے رہے۔جب زخموں کھ باعث سلطان کی ہمت جواب دینے لگی تو سلطان کے باڈی گارڈ دستے نے سلطان سے کہا "عالی جاہ!اب اس کے سوا کوئ چارہ نہیں کہ آپ اپنے آپ کو دشمن کے حوالے کردیں”
      سلطان نے جواب دیا؛ "نہیں______میرے لیے شیر کی زندگی کا ایک لمحہ گیدڑ کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے!”
                                  سلطان کے گھوڑے پر ایک گولی لگی تو اس نے گرتے ہی دم توڑ دیا۔گھوڑے کیساتھ گرتے وقت سلطان کی دستار ان سے علحیدہ ہوگئ۔سلطان نے اٹھنے کی کوشش کی مگر ایک گولی سلطان کے سینے پے لگی۔پاس ہی ایک انگریز نے سلطان کی کمر سے مرصع پیٹی اتارنے کی کوشش کی۔لیکن سلطان میں ابھی زندگی کے چند سانس باقی تھے۔انہوں نے یہ توہین برداشت نہ کی۔سلطان نے اچانک اٹھ کر تلوار بلند کی اور پوری شدت کیساتھ اس پر وار کیا۔انگریز نے اپنی بندوق آگے کی۔اس کے ساتھ ہی سلطان کی تلوار ٹوٹ گئ۔اس کے ساتھ ہی ایک اور انگریز نے اپنی بندوق کی نالی کا سرا سلطان کی کنپٹی کے ساتھ لگاتے ہوئے فائر کردیا اور وہ آفتاب جس کی روشنی میں اہل میسور نے آذادی کی حسین منازل دیکھی تھیں، ہمیشہ کیلیے غروب ہوگیا۔اس آفتاب کے روپوش ہونے کے ساتھ ہی ہندی مسلمانوں کے اوپر ایک تاریک دور آگیا۔
                                اگلے روز سلطان کا جنازہ جب محل سے نکلا تو سرنگاپٹم کا ہر بچہ اس جنازے میں شریک ہوا۔ہر چشم سلطان کے غم میں پرنم تھی۔اس روز شدید آندھی کے آثار آسمان پر تھے۔جیسے ہی سلطان کے مقدس جسم کی تدفین ہوئ ویسے ہی بادلوں نے اشک جاری کردیے۔
                           تاریخ گواہ ہے کہ اس دن اتنی بارش ہوئ کہ سرنگاپٹم کی گلیاں بازار ندیوں کا منظر پیش کر رہے تھے۔
                                دیکھنے والوں نے دریائے کاویری کی طغیانی دیکھی۔کاش وہ غدار جنہوں نے قوم کے مستقبل کا سودا کیا تھا، ایک دن اور انتظار کرلیتے تو دشمن کی فوج اسی دریا میں ڈوب جاتی______کاش،
                           سلطان معظم!
                            قوم کی جس آذادی کا آپنے خواب دیکھا تھا،وہ آذادی ایک ایسی قوم کو ملی ہوئ ہے جس کو دنیا پاکستانی کے نام سے جانتی ہے۔جو ریاست میسور آپنے قائم کی تھی، اور جو پورے ہند کے مسلمانوں کی محافظ تھی، آج اس جیسی ایک اور ریاست قائم ہے جسے دنیا پاکستان کے نام سے جانتی ہے۔اور یہ ریاست تمام عالم اسلام کی محافظ ہے۔قوم کے جو رضاکار آپکے قافلے میں شامل تھے، وہی رضاکار اس قافلے میں شامل ہیں۔یہ آفت و مصیبت کے وقت، یہ زلزلے اود سیلاب کے وقت امداد کی ناقابل یقین داستانیں رقم کردیتے ہیں۔اور میدان جنگ میں وہ افواج کے دوش دبدوش لڑتے ہیں۔اگر اس ریاست میں کہیں باغیانہ شعور بیدار ہو تو یہ رضاکار اٹھتے ہیں اور لوگوں کی اصلاح کیلیے چل دوڑتے ہیں۔مصائب جھیلتے ہیں، آہنی چٹانوں کو سر کرتے ہیں، اپنے لوگوں کے طعنے سنتے ہیں مگر آپکی طرح،آپکے رضاکاروں کی طرح،آپکی قوم کی طرح یہ لوگ اپنے حوصلے کم نہیں ہونے دیتے،اپنے منشور میں پیچھے نہیں ہٹتے۔
                             سلطان معظم!
                                           جس طرح آپکی ریاست اہل کفر اور انکے ہاتھوں میں کھیلتے نام نہاد مسلمانوں کی آنکھوں میں کھٹکتی تھی اسی طرح یہ ریاست کفار اور ان کے چیلے نام نہاد مسلمانوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتی تھی۔
                                                  جس طرح آپ کی فوج کم تعداد ہوتے ہوئے بھی دشمن پر غالب رہتی تھی،اسی طرح اس ریاست کی فوج بھی بہادری کے جوہر دکھاتی ہے۔دشمن یہ سوچ کر ان پر حملہ کرتا ہے کہ یہ سو رہے ہوں گے، مگر یہ بیدار رہتے ہیں اور دشمن کو ایسا سبق سکھا جاتے ہیں کہ وہ کبھی بھول نہ پائے۔
                          سلطان معظم!
                                     جس طرح آپکی ریاست میں غدار تھے جو آپکی ریاست کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی کوششیشیں کر رہے تھے اسی طرح اس ریاست میں بھی غدار پائے جاتے ہیں۔کچھ پہلے حکمران بن کر آتے ہیں،کچھ  الگ بھیس میں آتے ہیں-مگر پھر آفریں کہ اس ریاست کی چاک و چوبند افواج اور اس کے ساتھ ساتھ اس ریاست کی عوام ان غداروں کو انجام تلک پہنچاتے ہیں۔
                   اس ریاست کے لوگ اے سلطان معظم! آپکو بہت یاد کرتے ہیں۔اس ریاست کے لوگ آپ کو اپنی انسپائریشن سمجھتے ہیں۔اس ریاست کے لوگ آپکے ہی اس قول پر یقین رکھتے ہیں کہ:
      "شیر کی ایک لمحہ کی زندگی،گیدڑ کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے۔”
                 اللہ سلطان معظم اور انکے ساتھیوں کے درجات بلند فرمائے جو آج کے دن یعنی 4 مئی کو انگریزوں کے خلاف لڑتے لڑتے شہید ہوئے اور ہماری اس ریاست پاکستان میں ان جیسے حکمران پیدا فرمائے۔
    اللہ پاکستان کا حامی و ناصر۔
    آخر میں علامہ اقبال کے کچھ اشعار:
    آں شہیدان محبت را امام
    آبروئے ہند و چین و روم شام

    نامشں از خورشید و مہ تابندہ تر
    خاک قبرش از من و تو زندہ تر

    ازنگاہ خواجہ بدر و حنین
    فقر سلطان وارث جذب حسین ؓ

  • قلم کے مزدوروں کو سلام

    آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر مظفرگڑھ پریس کلب میں” صحافی کو عزت دو” کے عنوان سےخصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیاجس میں مقامی صحافیوں کو درپیش مشکلات مسائل اور ان مسائل پرصحافتی تنظموں کی پراسرار خاموش پر تشسیش کا اظہار کیاگیا .آزادی صحافت کے عالمی دن کے حوالے سے مظفرگڑھ پر یس کلب میں ہونے والے اس تقریب میں مقامی صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے صحافیوں اور صحافت کو درپیش مسائل پر اظہار خیال کیا مقررین کا کہناتھا کہ موجودہ دور پاکستان کی صحافتی تاریخ کا بدترین دور ہے آج کا صحافی بیرونی کے ساتھ ساتھ ادارتی سازشوں کا بھی شکار ہے۔خبر کی تلاش میں جہاں صحافی کو بااثر طبقہ کی جانب سے مزاحمت کا سامنا رہتا ہے وہی متعدد بارصحافتی اداروں کے مفادات بھی اس کے آڑے آجاتے ہیں۔ تقریب سے مظفرگڑھ پریس کلب کے صدر اے بی مجاہد، نذیر لشاری۔ جمشید ستاری، سید شبر شاہ اور دیگر مقررین نے خطاب کیا مقررین کا کہنا تھاکہ علاقائی سطح پر صحافی عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ میڈیا ہاؤسز کے مالکان کی جانب سے بھی صحافی شدید دباؤ اور اذیت میں مبتلا ہیں مقررین کے مطابق پاکستان میں صحافیوں اور صحافت کو مختلف مسائل کا سامنا ہے جس کے لیے حکومتی سطح پر عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔تقریب میں سینئر صحافی رائے مراد،ماجد رحیم خانزادہ،عدنان بھٹہ،احمد سعید چوہدری،کاشف نذیر،رانا عبدالروف ،ثاقب خان اور چوہدری اعجاز الحق نے شرکت کی۔