Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • پبلک ٹرانسپورٹ اور مسافر ،تحریر ۔ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    پبلک ٹرانسپورٹ اور مسافر ،تحریر ۔ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    لاہور سے شیخوپورپ جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ، خصوصاً جناح ٹرمینل سے چلنے والی ویگنوں میں مسافروں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک نہ صرف افسوسناک بلکہ انسانی وقار کی کھلی تذلیل ہے۔ روزانہ سینکڑوں مرد، خواتین، بزرگ، طلبہ اور مزدور ان ویگنوں میں ایسے سفر کرنے پر مجبور ہیں جیسے انسان نہیں بلکہ جانوروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا ہو۔ اوور لوڈنگ، من مانا کرایہ، خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خاموشی نے اس مسئلے کو ایک سنگین عوامی بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔

    جناح ٹرمینل لاہور بائی پاس سے شیخوپورہ جانے والی بیشتر ویگنوں میں “پھٹہ” کلچر عام ہو چکا ہے، یعنی گاڑی کی گنجائش سے کہیں زیادہ مسافر ٹھونس دیے جاتے ہیں۔ سیٹوں پر گنجائش ختم ہونے کے بعد مسافروں کو درمیان میں بٹھایا جاتا ہے، شدید گرمی، حبس اور دھکم پیل کے ماحول میں یہ سفر کسی اذیت سے کم محسوس نہیں ہوتا۔ حیران کن امر یہ ہے کہ یہ سب کچھ موٹر وے اور مرکزی شاہراہوں پر کھلے عام جاری ہے۔

    خواتین مسافروں کے مسائل اس سے بھی زیادہ سنگین ہیں۔ متعدد ویگن مالکان اور کنڈیکٹر خواتین کو فرنٹ سیٹ دینے سے انکار کرتے ہیں، حالانکہ یہ ان کی سہولت اور تحفظ کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔ خواتین، بزرگوں اور بچوں کو غیر مناسب انداز میں تنگ سیٹوں پر بٹھایا جاتا ہے جبکہ بعض ڈرائیور حضرات فرنٹ سیٹ کو ذاتی پسند یا اضافی کمائی کے لیے مخصوص رکھتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ سماجی اقدار کے بھی منافی ہے۔

    کرایوں کا معاملہ بھی کسی کھلی لوٹ مار سے کم نہیں۔ سرکاری کرایہ نامہ ایک طرف پڑا رہتا ہے جبکہ ویگن مالکان اپنی مرضی کے نرخ وصول کرتے ہیں۔ بارش ہو، رش زیادہ ہو یا عید کا موقع، کرایہ فوری بڑھا دیا جاتا ہے۔ غریب آدمی جو روزانہ مزدوری یا ملازمت کے لیے سفر کرتا ہے، اس استحصالی نظام کے سامنے بے بس دکھائی دیتا ہے۔

    سب سے اہم سوال National Highways and Motorway Police کی کارکردگی پر اٹھتا ہے۔ موٹر وے پولیس کا بنیادی مقصد محفوظ سفر کو یقینی بنانا، اوور لوڈنگ روکنا اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کروانا ہے، مگر لاہور شیخوپورہ روٹ پر صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ یا تو متعلقہ ادارے بے بس ہیں یا پھر بعض عناصر مبینہ “چمک” کے باعث خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اگر روزانہ درجنوں اوور لوڈ ویگنیں موٹر وے پر سفر کر رہی ہیں تو یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ قانون صرف کمزور کے لیے ہے یا طاقتور ٹرانسپورٹ مافیا کے لیے بھی؟

    یہ صورتحال National Highways and Motorway Police کے سربراہ، آئی جی موٹر وے پولیس کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اگر موٹر وے جیسے حساس اور جدید نظام پر بھی اوور لوڈنگ مافیا قابو پا لے تو پھر عام شہری کے اعتماد کا کیا بنے گا؟ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر کب تک انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال کر یہ غیر قانونی کاروبار جاری رہے گا۔

    ماضی میں اوور لوڈنگ کے باعث ہونے والے ٹریفک حادثات نے کئی خاندان اجاڑے، مگر اس کے باوجود زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوئے۔ جب تک سخت کارروائی، مستقل نگرانی اور کرپٹ عناصر کا احتساب نہیں ہوگا، تب تک یہ مافیا مزید مضبوط ہوتا جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ موٹر وے پولیس، ضلعی انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ اتھارٹی مشترکہ آپریشن کے ذریعے ان ویگنوں کے خلاف فوری ایکشن لے، سرکاری کرایہ ناموں پر عمل درآمد کروائے، خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کو یقینی بنائے اور اوور لوڈنگ میں ملوث ڈرائیوروں کے لائسنس معطل کیے جائیں۔

    یہ صرف ٹرانسپورٹ کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی عزت، شہری حقوق اور قانون کی عملداری کا معاملہ ہے۔ اگر آج بھی متعلقہ ادارے حرکت میں نہ آئے تو کل کسی بڑے سانحے کے بعد صرف افسوس اور مذمتی بیانات باقی رہ جائیں گے۔ عوام اب عملی اقدامات چاہتے ہیں، وعدے نہیں۔راقم نے موٹر وے پولیس کا موقف لیا تو ان کا کہنا تھا ہم چلان کرتے لوگ باز نہیں آتے اور دوسری بات مہنگائی ہے مطلب یہ ہوا کہ ،،چمک کا کام کرگئی
    عوامی سہولیات کے پیش نظر آئی جی موٹر وے پولیس پنجاب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا

  • عید کے کپڑوں میں ملبوس لاشے ،تحریر : بینا علی

    عید کے کپڑوں میں ملبوس لاشے ،تحریر : بینا علی

    ریاست کو ہمیشہ ماں کہا جاتا ہے۔ماں جو اپنے بچوں کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے ان کی بھوک، پیاس، سانسوں اور خوابوں کی محافظ ہوتی ہے۔ عوام کے جان و مال کا تحفظ، تعلیم، صحت اور بنیادی حقوق کی فراہمی ریاست کی سب سے مقدس ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔ مگر جب یہی ریاست اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑ لے، تو پھر سڑکوں پر صرف حادثے نہیں ہوتے جنازے اٹھتے ہیں۔ضلع حویلی کہوٹہ کے علاقے خورشید آباد میں پیش آنے والا المناک حادثہ صرف ایک خبر نہیں سات ماؤں کا نوحہ ہے۔سات نوجوان، سات خواب، سات گھروں کے چراغ ایک لمحے میں بجھ گئے۔

    دوستوں کا یہ گروہ ہلاں آبشار کی سیر کے لیے گیا تھا۔ وہ ہنستے ہوئے نکلے تھے مگر واپسی پر سفید کفنوں میں لپٹے لوٹے۔ واپسی کے دوران ان کا لوڈر رکشہ بے قابو ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے حویلی کی فضاؤں میں چیخیں گونج اٹھیں۔ ہر گلی ماتم کدہ بن گئی ہر دروازے پر کہرام برپا ہو گیا۔اور سوال یہ ہے کہ اُس وقت ہماری “ماں” ریاست کہاں تھی؟حضرت عمرؓ کا وہ قول آج بھی حکمرانوں اور ریاستی اداروں کے لیے ایک آئینہ ہے جب آپ نے فرمایا تھا:
    "اگر دریائے فرات کے کنارے ایک بکری کا بچہ بھی پیاس سے مر جائے، تو عمر اس کا بھی جوابدہ ہو گا۔” مگر سات نوجوان تڑپ تڑپ کر جان دے گئے تو سوال یہ ہے کہ ان معصوم جانوں کا جوابدہ کون ہو گا؟کون ان ماؤں کے آنسوؤں کا حساب دے گا؟
    کون ان اجڑے گھروں کی خاموشیوں کا بوجھ اٹھائے گا؟
    اور کون قیامت کے دن ان بجھتے چراغوں کے سامنے خود کو بے قصور ثابت کر سکے گا؟
    کیا زخمیوں کو بروقت ایمبولینس فراہم کی گئی؟

    اگر تمام سہولیات موجود تھیں تو پھر زخمی نوجوان نجی گاڑیوں اور ڈالوں میں ہسپتال کیوں منتقل کیے گئے؟ خون میں لت پت جسم، سڑک کنارے تڑپتی سانسیں، اور پیچھے خاموش کھڑی سرکاری مشینری یہ منظر کسی بھی حساس دل کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔دو نوجوان موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ پانچ شدید زخمی حالت میں رات گئے ہسپتال پہنچائے گئے۔ مگر سوال اب بھی زندہ ہے:
    کیا انہیں بروقت طبی امداد ملی؟
    کیا ایمبولینسوں میں آکسیجن سلینڈر موجود تھے؟
    کیا ابتدائی طبی سہولیات دستیاب تھیں؟یا پھر ان کی سانسیں بھی سرکاری غفلت کے اندھیروں میں بجھ گئیں؟پانچ زخمیوں کو ادویات تک میسر نہ ہونا حادثہ نہیں ایک بے حس نظام میں کھلا قتل ہے۔

    یہ صرف ایک ٹریفک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسا اجتماعی المیہ ہے جو ہماری انتظامی بے حسی، ناکارہ نظام اور مردہ ضمیر کی عکاسی کرتا ہے۔ جب ریاست ماں کے بجائے سوتیلی ماں کا کردار ادا کرنے لگے تو پھر بیٹے یوں ہی سڑکوں پر دم توڑتے ہیں۔گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ تو چیک کیے جاتے ہیں، مگر ان سرکاری ایمبولینسوں کی فٹنس کون دیکھتا ہے؟ان خطرناک سڑکوں پر حفاظتی بیرئیر کیوں موجود نہیں؟
    کیا یہاں انسان کی جان واقعی پتھروں سے بھی سستی ہو چکی ہے؟
    اور افسوس کی انتہا یہ ہے کہ انہی علاقوں سے منتخب ہو کر لوگ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتے ہیں، مگر کرسی ملتے ہی اپنے ہی لوگوں کے زخم بھول جاتے ہیں۔ اقتدار تو مل جاتا ہے، مگر احساس مر جاتا ہے۔

    عید کے دوسرے دن جب ہر گھر میں خوشیوں کی روشنی تھی حویلی کے سات گھروں میں قیامت اتر آئی۔ ایک روزہ سوگ کا اعلان کر کے شاید ذمہ دار ادارے بری الذمہ ہو جائیں، مگر ان والدین کی زندگی اب ہمیشہ کے لیے سوگ بن چکی ہے۔ جوان بیٹے کا جنازہ اٹھانا وہ درد ہے جو انسان کو زندہ رہتے ہوئے بھی اندر سے دفن کر دیتا ہے۔ اولاد چند ماہ کی بھی ہو تو اس کا چھوٹا سا جنازہ باپ کے کندھے جھکا دیتا ہے اور یہاں تو سات گھروں کے سہارے ایک ساتھ چھین لیے گئے۔یہ دکھ، یہ ماتم، یہ المیے آخر حویلی کے نصیب ہی کیوں بنا دیے گئے؟

    ابھی عمر راٹھور معصوم کی ترازو کے نیچے دبی چیخوں کے زخم بھرے بھی نہ تھے کہ سات نئے زخم دلوں پر ثبت ہو گئے۔ اب ان گھروں میں عیدیں شاید کبھی پہلے جیسی نہ آئیں۔ ان کے دروازوں پر خوشیوں کے بجائے خاموشیاں دستک دیں گی۔ جنہوں نے اپنا جگر کا ٹکڑا کھویا ہو صرف وہی اس اذیت کو محسوس کر سکتے ہیں۔
    اور ایک سوال دل کو چیر دیتا ہے۔۔
    اگر ان نوجوانوں کی جگہ کسی وزیر، مشیر یا بااختیار شخصیت کے بچے ہوتے تب بھی کیا یہی ہوتا؟
    کیا تب بھی ایمبولینسیں دیر سے پہنچتیں؟
    کیا تب بھی سڑکوں پر حفاظتی انتظامات نہ ہوتے؟
    کیا تب بھی خاموشی چھا جاتی؟
    ہم صرف مظلوم نہیں، کہیں نہ کہیں ظالم بھی ہیں
    ظالم اس لیے کہ ہم خاموش ہیں۔ہم لاشیں گنتے ہیں، چند دن افسوس کرتے ہیں اور پھر اگلے سانحے کا انتظار شروع ہو جاتا ہے۔محکمہ صحت کو دیے گئے فنڈز کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔ان سڑکوں پر ہونے والے کام کی حقیقت بھی سامنے آنی چاہیے۔ کہیں یہ ترقی بھی مظفر آباد کے فلائی اوور جیسی تو نہیں، جو نام کا منصوبہ اور حقیقت میں کھنڈر ثابت ہوا؟

    اور اگر واقعی ہم ایسے سانحات کو روکنا چاہتے ہیں تو صرف افسوس اور تعزیتی بیانات کافی نہیں ہوں گے۔ خطرناک سڑکوں پر مضبوط حفاظتی بیرئیر نصب کیے جائیں، ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کروایا جائے سیاحتی مقامات پر ریسکیو مراکز اور مکمل سہولیات سے آراستہ ایمبولینسیں ہر وقت موجود ہوں۔ ڈرائیورز کی تربیت اور گاڑیوں کی باقاعدہ فٹنس چیکنگ کو یقینی بنایا جائے اور حادثات کی صورت میں فوری طبی امداد کے نظام کو مؤثر بنایا جائے۔ کیونکہ حادثات صرف قسمت سے نہیں ہوتے اکثر غفلت بھی جانیں لے لیتی ہے۔
    خدارا اب تو بولو!
    بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
    کیونکہ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل شاید ہماری باری ہو۔

  • دکھوں کے بیچ لکھی گئی عید،تحریر: بینا علی

    دکھوں کے بیچ لکھی گئی عید،تحریر: بینا علی

    کچھ عرصے سے دلی کیفیت ایسی ہے کہ کچھ المیے، کچھ سانحے، اپنی جڑیں دل کے ساتھ دماغ میں بھی پیوست کر جاتے ہیں۔ اور کچھ کی شدت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ زیرِ تحریر لانا بھی محال ہو جاتا ہے۔ گذشتہ ہفتے میں یکے بعد دیگرے ایسے واقعات دیکھنے کو ملے جنہوں نے دلی طور پر بہت اداس کر دیا، اور ان گونگے جذبات کو لفظوں کے ذریعے زبان ملتی رہی۔ یقین جانیےبجب کسی کے درد کو تحریر کرتی ہوں تو لفظ خود نشتربن کر مجھے کچوکے لگاتے رہتے ہیں۔ تب سوچتی ہوں کہ اس درد سے گزرنے والوں کے لیے کتنی اذیت ہوتی ہو گی۔

    کوئٹہ میں خودکش دھماکے میں عورتوں، بچوں سمیت 47 شہری شہید اور تقریباً سو زخمی ہوئے۔ شہید ہونے والوں میں 20 فوجی جوان بھی شامل تھے۔ کل ہی یکے بعد دیگرے دو واقعات نے دل چیر دیا: ایک بزرگ کو بیوپاری نے نقلی نوٹ دے کر جانور لے لیا۔ جب وہ اشیائے خوردونوش خریدنے گئے تو پیسے جعلی نکلے۔ اس بزرگ کا چہرہ آنکھوں کے سامنے سے نہیں ہٹ رہا۔

    دوسرا واقعہ یہ کہ ایک ڈرائیور نے جرمانے اور گاڑی ضبطگی کے خوف سے، گاڑی میں بیٹھے اہلکار سمیت کوسٹر کو دریا بُرد کر دیا۔ کوسٹر دریا بُرد ہوئی اور بمشکل دونوں کی جان بچائی جا سکی۔ اور شہر مظفرآباد میں ہی ایک بزرگ نے قربانی کے جانور فروخت کیے۔ سگا بیٹا تین لاکھ روپے لے کر فرار ہو گیا اور بزرگ در بدر سڑکوں پر پھرتے رہے کرایے کے پیسے بھی نہیں تھے۔تہوار ہمیشہ سے ان لوگوں کے لیے مشکل رہے ہیں جنہوں نے اپنے جاں سے پیارے رشتے کھو دیے۔ ہم ہنستے، بولتے، کھاتے پیتے ہیں بس جیتے نہیں۔ عمر راٹھور کے ساتھ انصاف کی دہلیز پر ہونے والی بے انصافی۔ اس کا چہرہ نہیں ہٹتا۔ اس کی تکلیف ان لفظوں سے کہیں بڑھ کر ہے جو لفظ بیان کر سکتے ہیں۔ پانچ سال میں یہ پہلی عید ہے جس پر مجھے اپنا نوحہ، اپنا دکھ ہی یاد نہیں رہا۔ جب شوہرِ محترم کہتے ہیں کہ “آپ بہت بدل گئی ہو” تو میں ان سے یہی کہتی ہوں:
    اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا!!
    راحتیں اور بھی ہیں، وصل کی راحت کے سوا!!
    آپ سب کو پھر بھی، دل کی گہرائیوں سے، عید الاضحیٰ مبارک ہو۔

  • نقلی نوٹ ،اصلی بےحسی ،تحریر: بینا علی

    نقلی نوٹ ،اصلی بےحسی ،تحریر: بینا علی

    آج اخبار میں ایک خبر پڑھی جس نے دل کو اندر تک جھنجوڑ کر رکھ دیا۔پل قمبر منڈی ایک غریب بزرگ نے اپنی بکری 27,000 روپے میں فروخت کی۔وہ شاید دل ہی دل میں خوش تھے کہ اب گھر جا کر بچوں کی ضروریات پوری کریں گے عید کے لیے کچھ سامان لے آئیں گے اور کئی دنوں سے چہرے پر چھائی پریشانی شاید کچھ کم ہو جائے گی۔وہ بکری شاید صرف ایک جانور نہیں تھی وہ اُن کی محنت تھی۔ اُن کی جمع پونجی تھی، اُن کی امید تھی۔

    شاید اُس بزرگ نے اُسے مہینوں پال کر اس دن کا انتظار کیا ہوگا کہ عید قریب آئے گی تو اچھی قیمت مل جائے گی اور گھر کے حالات کچھ بہتر ہو جائیں گے۔مگر افسوس…
    جس شخص نے بکری خریدی اُس نے ان بزرگ کی سادہ لوحی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہاتھ میں نقلی نوٹ تھما دیے۔سوچیے۔۔۔جب وہ بزرگ بازار میں اپنی ضروریات خریدنے گئے ہوں گے۔ کسی دکان دار نے نوٹ ہاتھ میں لے کر غور سے دیکھا ہوگاپھر یہ کہا ہوگا:
    "بابا جی یہ نوٹ تو نقلی ہیں”

    اُس لمحے اُن کے دل پر کیا گزری ہوگی؟کیسے اُن کے قدم لڑکھڑائے ہوں گے؟کیسے اُن کی آنکھوں کی روشنی ایک دم ماند پڑ گئی ہوگی؟شاید چند لمحوں کے لیے اُنہیں یقین ہی نہ آیا ہو کہ اُن کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ ہو گیا ہے۔وہ سوچ رہے ہوں گے کہ اب گھر کیسے جائیں؟بچوں کو کیا جواب دیں؟ گھر والوں کی امید بھری نظریں کیسے برداشت کریں؟
    شاید اُن کے کانوں میں صرف ایک ہی آواز گونجی ہوگی:
    "میری ساری محنت لٹ گئی”

    ذوالحجہ کا مہینہ ہمیں قربانی، رحم، محبت اور انسانیت کا درس دیتا ہے۔مگر افسوس کہ آج لوگ جانور خریدتے ہوئے بھی انسانیت بیچ دیتے ہیں۔خدارا، غریب لوگوں کے ساتھ ایسا ظلم مت کیا کریں۔آپ کے لیے شاید چند ہزار روپے معمولی ہوں مگر ایک سفید پوش انسان کے لیے یہی رقم اُس کے گھر کا چولہا جلاتی ہے، بچوں کی دوائیں بنتی ہے، اور عید کی خوشیوں کا سہارا ہوتی ہے۔یاد رکھیے، مظلوم کی آہ کبھی خالی نہیں جاتی۔اللہ تعالیٰ دیر ضرور کرتا ہے مگر حساب ضرور لیتا ہے۔

    غریب آدمی کا دل دکھا کر شاید وقتی فائدہ تو حاصل کیا جا سکتا ہے،مگر اُس نقصان کا ازالہ کبھی ممکن نہیں ہوتا جو انسان اپنے کردار، اپنی آخرت، اور اپنی انسانیت کو پہنچا دیتا ہے۔یہ صرف فراڈ نہیں تھا
    یہ ایک بوڑھے انسان کی امیدوں، اُس کی محنت، اُس کی عزتِ نفس، اور اُس کے اعتماد کا قتل تھا۔
    اور سچ تو یہ ہے کہ ان بزرگ نے تو چلو ایک وقتی نقصان اٹھایا ہے اوروقت گزرنے کے ساتھ شاید اُن کا یہ زخم کچھ بھر بھی جائے۔لیکن جس شخص نے اُنہیں دھوکہ دیا، جس بیوپاری نے چند ہزار روپے کے لالچ میں ایک غریب انسان کی دعائیں اور اعتماد کھو دیا
    پتہ نہیں اُسے ساری زندگی کتنے بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔کیونکہ مال کا نقصان شاید پورا ہو جاتا ہے۔
    مگر کردار کا نقصان، انسانیت کا نقصان، اور مظلوم کی آہوں کا بوجھ ایسا قرض ہوتا ہے جس کا کوئی ازالہ نہیں ہوتا۔ان بابا جی کو پہچان لیں اور عید کی خوشیوں میں انہیں شامل کریں۔کاش ہم اتنے بے حسی نہ ہوتے۔

  • ملکی صورتحال اور عوام کا کردار،تحریر: بینا علی

    ملکی صورتحال اور عوام کا کردار،تحریر: بینا علی

    عوام کسی بھی ملک کی معاشرت، معیشت اور ترقی کا بنیادی ستون ہوتے ہیں۔ ایک مضبوط اور خوش حال ریاست صرف حکومتی اداروں، قوانین اور پالیسیوں سے قائم نہیں ہوتی بلکہ اس کے پس منظر میں باشعور اور ذمہ دار شہریوں کی مشترکہ کاوشیں شامل ہوتی ہیں۔ اگر عوام ذمہ داری کا احساس کر لیں تو ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے، لیکن اگر ہر شخص صرف اپنے مفاد تک محدود ہو جائے تو بہترین نظام بھی ناکام ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات شدت سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم ایک منظم قوم کے بجائے افراد کا ایک منتشر ہجوم ہیں۔ ہر شخص اپنی ذات کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے۔ اجتماعی مفاد، قومی شعور اور باہمی اتحاد کا فقدان ہماری کمزوری بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بے شمار وسائل اور صلاحیتوں کے باوجود ہم ان مسائل سے دوچار ہیں جو ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ملکی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم اور صحت کی ناکافی سہولیات بدامنی، سیوریج کے ناقص انتظامات، صاف پانی کی قلت، بجلی اور گیس کے مسائل اور بڑھتی ہوئی غربت عوام کے اہم ترین مسائل ہیں۔ روزمرہ اشیائے ضرورت کی قیمتیں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ متوسط اور غریب طبقے کے لیے زندگی کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ والدین بچوں کی تعلیم، گھر کے اخراجات، علاج معالجے اور بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔یہ تمام مسائل بظاہر حکومتی ناکامی کا نتیجہ محسوس ہوتے ہیں لیکن اگر غیر جانب داری سے دیکھا جائے تو ان میں ہماری اجتماعی بے حسی اور غیر ذمہ داری بھی کسی حد تک شامل ہے۔ ہم اپنے حقوق کے لیے آواز تو بلند کرتے ہیں مگر اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی برتتے ہیں۔ قانون کی پاسداری، ٹیکس کی ادائیگی، صفائی ستھرائی، وقت کی پابندی، دیانت داری اور دوسروں کے حقوق کا احترام وہ بنیادی اصول ہیں جن پر معاشرے قائم ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے احتجاج کے نام پر بھی ہمارا طرزِ عمل اکثر ذمہ داری سے عاری ہوتا ہے۔ اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے، لیکن کسی بھی احتجاج کی صورت میں پرتشدد راستہ اختیار کرنا، سڑکیں بند کرنا، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانا، گاڑیوں کو آگ لگانا اور عوامی سہولیات تباہ کرنا کسی طور بھی قابلِ قبول نہیں۔ ایسا طرزِ عمل مسائل کے حل کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے اور قومی خزانے پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے۔ درحقیقت جس ملک کے وسائل پہلے ہی محدود ہوں، وہاں ملکی املاک کو نقصان پہنچانا اپنے ہی مستقبل کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

    ملکی وسائل کا ضیاع بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بجلی، پانی، گیس اور دیگر قدرتی وسائل اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں ہیں، جن کے استعمال میں اعتدال اور ذمہ داری لازم ہے۔ بدقسمتی سے ہم ان وسائل کو بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ غیر ضروری پنکھے اور لائٹس چلتی رہتی ہیں، پانی بہتا رہتا ہے، اور گیس کا بے جا استعمال معمول بن چکا ہے۔ پھر جب قلت پیدا ہوتی ہے تو ہم تمام تر ذمہ داری حکومت پر ڈال دیتے ہیں۔مظفرآباد آزاد کشمیر کی شہری ہونے کے ناطے میں نے خود دیکھا ہے کہ جہاں بجلی کی قیمت نسبتاً کم ہے تقریباً 3 روپے یونٹ وہاں اس سہولت کے باعث ہر دوسرے گھر میں ائیر کنڈیشنر کا استعمال عام ہے۔ سردیوں میں گرم پانی اور کھانا پکانے کے لیے ہیٹرز اور پانی کے ٹینکوں میں برقی راڈز نصب کر دیےجاتے ہیں۔ نتیجتاً بجلی کا غیر معمولی لوڈ بڑھ جاتا ہے اور ٹرانسفارمر بار بار جل جاتے ہیں۔اسی طرح کشمیر میں پانی کی وافر فراوانی کی وجہ سے اکثر گھروں میں پانی کی ٹینکیاں دن رات اوور فلو ہوتی رہتی ہیں۔ پانی مسلسل بہتا رہتا ہے، مگر بہت کم لوگ اس ضیاع کی طرف توجہ دیتے ہیں۔ حالانکہ یہی پانی دنیا کے کئی خطوں میں زندگی اور موت کا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہ کرنا ناشکری کے مترادف ہے اور وسائل کا یہ ضیاع آنے والی نسلوں کے حق پر ڈاکا ڈالنے کے برابر ہے۔ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی بھی ہمارے اجتماعی رویوں کا عکاس ہے۔ ہم چند لمحوں کا انتظار برداشت نہیں کرتے۔ سگنل توڑنا، ہیلمٹ نہ پہننا، اوور اسپیڈنگ کرنا، ون ویلنگ، ون وے کی خلاف ورزی کرنا اور قطار میں لگنے کے بجائے دوسروں کا حق مارنا ہماری عادت بن چکا ہے۔ یہی جلد بازی اور لاپرواہی آئے دن حادثات کا سبب بنتی ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ حادثے کے بعد زخمی کی مدد کرنے کے بجائے بہت سے لوگ ویڈیو بنانے اور سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ صفائی کے معاملے میں بھی ہمارا رویہ دوہرا ہے۔ ہم اپنے گھر تو صاف رکھتے ہیں مگر گلی، بازار اور عوامی مقامات کو گندا کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے۔ کوڑا کرکٹ سڑکوں پر پھینک دینا، نالیاں بند کرنا اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا ہماری عادت بنتی جا رہی ہے۔ حالانکہ صفائی نصف ایمان ہے اور ایک صاف ماحول ہی صحت مند معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔تعلیم اور تربیت کے میدان میں بھی عوام کا کردار انتہائی اہم ہے۔ والدین اگر بچوں کی صرف تعلیمی کامیابی پر نہیں بلکہ اخلاقی تربیت پر بھی توجہ دیں، انہیں سچائی، دیانت داری، احترامِ انسانیت اور وطن سے محبت کا درس دیں، تو یہی بچے مستقبل میں ایک باکردار قوم کی بنیاد بنتے ہیں۔ استاد، والدین اور معاشرہ مل کر نئی نسل کی شخصیت تشکیل دیتے ہیں۔دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی کامیابی کا راز ان کے عوام کے کردار میں پوشیدہ ہے۔جرمنی،جاپان،چائنہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے صرف جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ترقی نہیں کی، بلکہ وہاں کے شہری قانون کی پابندی کرتے ہیں، وقت کی قدر کرتے ہیں اور اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیتے ہیں۔قومیں نعروں، تقریروں اور وعدوں سے نہیں بنتیں بلکہ کردار، نظم و ضبط، قربانی اور احساسِ ذمہ داری سے ترقی کرتی ہیں۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ نظام ہم سے الگ کوئی شے نہیں ہم خود ہی اس نظام کا حصہ ہیں۔ اگر ہر فرد اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کرنا شروع کر دے تو معاشرے میں مثبت تبدیلی خود بخود آنا شروع ہو جاتی ہے۔

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دوسروں کو بدلنے کے انتظار میں بیٹھنے کے بجائے اپنی اصلاح سے آغاز کریں۔ اگر ہم اپنے گھر، گلی، دفتر، سکول اور معاشرے میں دیانت داری، نظم و ضبط، صفائی، قانون کی پابندی اور وسائل کی قدر کو اپنا شعار بنا لیں تو ملکی صورتحال بہتر ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔یاد رکھنا چاہیے کہ اندھیروں کو کوسنے سے بہتر ہے کہ ہر فرد اپنے حصے کا ایک چراغ روشن کرے تو مسائل کے اندھیرے خود بخود چھٹ جائیں گے۔ کیونکہ نظام کا حصہ ہم خود ہیں اور جب عوام کا کردار مثبت ہو جائے تو کوئی طاقت قوم کی ترقی کا راستہ نہیں روک سکتی

  • ترازو کے نیچے دبی چیخیں ،تحریر : بینا علی

    ترازو کے نیچے دبی چیخیں ،تحریر : بینا علی

    سورۃ المائدہ میں ارشادِ ربانی ہے:
    ” اور تم انصاف کے ساتھ قائم رہو، یہ تقویٰ کے زیادہ نزدیک ہے۔” انصاف کو تلاش کرنا بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بنجر زمین سے فصل کی امید رکھنا۔ ہمارا نظامِ انصاف گویا بانجھ ہو چکا ہے جو اپنی افادیت کھوتا جا رہا ہے۔ انصاف کی تلاش میں انسان منوں مٹی تلے دفن ہو جاتا ہے اور اس کی نسلیں بھی دہائیاں دیتی رہتی ہیں مگر انصاف نہیں ملتا۔
    سننِ ابی داؤد میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    "انصاف کرو، کیونکہ انصاف اللہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔”
    عدل و انصاف کے بارے میں اس سے بڑھ کر مثال کیا ہو سکتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
    "اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتے ہوئے پکڑی جاتی، تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔”انصاف میں تاخیر انسان کے اندر شدید اضطراب پیدا کر دیتی ہے۔ یہی اضطراب بعض اوقات اسے انتہائی اقدامات پر مجبور کر دیتا ہے۔ احاطۂ عدالت میں ہونے والے تشدد اور قتل و غارت اس کی واضح مثال ہیں۔ جب انصاف بروقت نہ ملے تو لوگ خود ہی انصاف کی مسند پر بیٹھنے لگتے ہیں جو معاشرے میں مزید بگاڑ اور انتشار کا باعث بنتا ہے۔
    لیکن کیا یہ نظام ہمیشہ ایسا ہی رہے گا؟ نظامِ انصاف کو بہتر اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ سنجیدگی سے اصلاحات کی جائیں۔ سب سے پہلے انصاف کی فراہمی میں تاخیر کو ختم کرنا ہو گا۔ مقدمات کا برسوں تک لٹکے رہنا ظلم کے مترادف ہے۔ اس لیے فوری اور بروقت فیصلوں کا نظام قائم کرنا ضروری ہے۔

    دوسرا، عدلیہ کو ہر قسم کے دباؤ سے آزاد کرنا ہو گا، چاہے وہ سیاسی ہو یا معاشرتی۔ ہمارے آئینِ پاکستان میں بھی عدلیہ کی آزادی پر زور دیا گیا ہے، تاکہ فیصلے صرف حق اور سچ کی بنیاد پر ہوں۔ عدلیہ غیر جانبدار رہ کر فیصلے دے۔
    جب تک انصاف کے اداروں میں بدعنوانی موجود رہے گی، انصاف کا حصول ایک خواب ہی رہے گا۔ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ امیر ہو یا غریب، طاقتور ہو یا کمزور، سب ایک ہی ترازو میں تولے جائیں۔ یہی حقیقی عدل ہے۔

    ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی ہو جو راہِ انصاف میں رکاوٹ بنیں اور اقربا پروری یا برادری ازم کو فروغ دیں۔حقیقت یہ ہے کہ انصاف کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ جہاں انصاف زندہ ہو، وہاں امن، سکون اور اعتماد کی فضا قائم ہوتی ہے۔ اور جہاں انصاف کمزور پڑ جائے، وہاں ظلم، بے چینی اور بداعتمادی جنم لیتی ہے۔ کیونکہ ایک منصفانہ معاشرہ فرد کی اصلاح سے ہی وجود میں آتا ہے۔ آج عمر کے خاندان والے صرف عمر کے انصاف کے لیے دہائی نہیں دے رہے۔ ان کی آہوں میں ہر اس ماں کا درد شامل ہے جس کا کلیجہ یوں چیرا گیا ہر اس باپ کی خاموشی شامل ہے جو اپنے لختِ جگر کا جنازہ اٹھانے پر مجبور ہوا۔ یہ نوحہ ہے ہر اس گھر کا، جہاں بچے ہنستے کھیلتے نکلتے ہیں اور پلک جھپکتے میں اوجھل ہو جاتے ہیں۔ پھر ان کے کفن میں لپٹے معصوم چہرے ہی گھر لوٹتے ہیں۔ شاید ظالموں کو اندازہ نہیں کہ اپنے ہاتھوں سے پلے ہوئے ننھے پھول کا جنازہ اٹھانا کاندھوں پر کتنا بھاری ہوتا ہے اور دل پر کتنا زخم۔یہ کفن میں لپٹے شکایت زدہ چہرے آج بھی سسک سسک کر کہہ رہے ہیں:
    اک پھول تھا میں، جو کھل نہ سکا!!
    اپنی منزل سے مل نہ سکا!
    مجھ کو یوں کچل ڈالا تم نے
    اک پل میں مسل ڈالا تم نے
    روئیں گے بدن کے زخم میرے
    جب روح کے زخم دکھاؤں گا
    میں خدا کو بتاؤں گا
    میں خدا کو بتاؤں گا
    جب تک ہم یہ آواز نہ سنیں گے انصاف کا ترازو سیدھا نہیں ہو گا۔ اور ہر جگہ سے ایک ہی آواز آئے گی ۔
    "عمر کو انصاف دو ۔”

  • پھول جو بِن کھِلے مُرجھا گیا ،تحریر: بینا علی

    پھول جو بِن کھِلے مُرجھا گیا ،تحریر: بینا علی

    کچھ سانحے اور المیے ایسے ہوتے ہیں جن کا بظاہر ہم سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہوتا مگر وہ دل کو اس شدت سے جھنجھوڑ دیتے ہیں کہ خاموش رہنا ممکن نہیں رہتا۔ اگر انسان اپنے احساسات کو لفظوں میں نہ ڈھالے تو اندر ہی اندر ایک گھٹن، ایک کرب، ایک بے بسی مسلسل روح کو زخمی کرتی رہتی ہے۔عمر مختار راٹھور سے میرا کوئی خونی رشتہ نہیں۔ میں نے اسے کبھی دیکھا نہیں، اس کی آواز کبھی نہیں سنی مگر اس معصوم بچے کی تصویر اور اس کے ساتھ ہونے والی درندگی نے دل کے نہاں خانوں میں ایسا درد جگایا ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ سانحہ میرے اپنے گھر کے آنگن میں پیش آیا ہو۔

    پانچ برس پہلے جب میرے والدین کا سایہ سر سے اٹھا تو مجھے لگتا تھا کہ شاید دنیا میں میرے غم سے بڑا کوئی غم نہیں۔ والدین کی جدائی ایک ایسا زخم ہے جو وقت کے ساتھ بھر تو جاتا ہے، مگر اس کا نشان ہمیشہ دل پر باقی رہتا ہے۔ لیکن عمر کے واقعے نے یہ احساس دلایا کہ کچھ دکھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو انسان کے ذاتی غموں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میں نے ایک ہفتے تک مختلف ذرائع سے اس مقدمے کی تفصیلات پڑھیں۔ ہر نئی خبر کے ساتھ دل مزید بوجھل ہوتا گیا، اور روح سوال کرتی رہی کہ آخر ایک معصوم بچہ کس جرم کی سزا بھگتا رہا؟

    کل ہی میں نے دو آدم خور بھائیوں کے بارے میں ایک تحریر پڑھی۔ وہ قبروں سے مردے نکالتے، ان کا گوشت پکاتے اور کھاتے تھے۔ چونکہ آئین میں "مردے کا گوشت کھانے” کے حوالے سے کوئی واضح سزا موجود نہ تھی اس لیے انہیں صرف قبروں کی بے حرمتی کے جرم میں چند ماہ قید اور جرمانے کی سزا دی گئی۔ سزا پوری ہونے کے بعد وہ دوبارہ اسی بھیانک عمل میں مصروف ہو گئے۔یہ مثال ذہن میں ایک سوال پیدا کرتی ہے: کیا فاضل جج صاحبان واقعی یہ یقین رکھتے ہیں کہ جو درندے ایک معصوم بچے پر ظلم کی انتہا کر سکتے ہیں وہ رہائی کے بعد معاشرے کے لیے خطرہ نہیں رہیں گے؟ کیا اس بات کی کوئی ضمانت ہے کہ کل کسی اور ماں کی گود اجڑنے سے محفوظ رہے گی؟

    حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ محض مجرم نہیں ہوتے بلکہ معاشرے کے ناسور بن جاتے ہیں۔ ناسور اگر وقت پر نہ کاٹا جائے تو پورے جسم کو زہر آلود کر دیتا ہے۔ اسی طرح اگر ایسے سفاک کرداروں کو سخت ترین سزا نہ دی جائے تو معاشرہ عدم تحفظ، خوف اور بے یقینی کی دلدل میں دھنس جاتا ہے۔آج عمر کی فیملی صرف اپنے بیٹے کے لیے انصاف نہیں مانگ رہی بلکہ میرے اور آپ کے بچوں کے محفوظ مستقبل کی جنگ لڑ رہی ہے۔ عمر تو جنت کا ایک معصوم پھول تھا جو اپنے رب کے پاس لوٹ گیا۔ مگر اس کے والدین کے آنسو، اس کی ماں کی سسکیاں، اور اس کے گھر کی خاموشی ہم سب سے یہ سوال کر رہی ہے کہ کیا ہمارے بچے واقعی محفوظ ہیں؟ عمر کو انصاف دلانا دراصل اپنے بچوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ یہ ایک خاندان کی جنگ نہیں، ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل شاید کسی اور ماں کی گود اجڑ جائے، کسی اور باپ کی امیدوں کا چراغ بجھ جائے، اور کسی اور گھر کی ہنسی ہمیشہ کے لیے ماتم میں بدل جائے۔ اسی لیے آج اسلام آباد پریس کلب میں عمر کی فیملی پریس کانفرنس کر رہی ہے تاکہ اس معصوم بچے کے لیے انصاف کی آواز بلند کی جا سکے۔میری تمام سوشل میڈیا ایکٹوسٹس، اہلِ قلم، اور دردِ دل رکھنے والے انسانوں سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ آج اپنی ایک پوسٹ اس ہیش ٹیگ کے ساتھ ضرور شیئر کریں: "عمرکوانصاف دو۔”آئیے، ہم سب مل کر آواز اٹھائیں تاکہ قانون کی گرفت اتنی مضبوط ہو کہ کوئی درندہ دوبارہ کسی معصوم کلی کو مسلنے کی جرات نہ کر سکے اور ہماری آنے والی نسلیں ایک محفوظ، پُرامن اور باوقار معاشرے میں سانس لے سکیں۔

  • انصاف کے در پر بکھرتی امیدیں،تحریر: بینا علی

    انصاف کے در پر بکھرتی امیدیں،تحریر: بینا علی

    کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ایسی کئی تحریریں اور خبریں نظر سے گزریں جنہوں نے دل کو بے حد بوجھل کر دیا۔ واقعی بعض سانحات ایسے ہوتے ہیں جو انسان کے اندر تک اتر جاتے ہیں، روح کو زخمی کر دیتے ہیں اور دل کے نہاں خانوں میں ایک مستقل درد چھوڑ جاتے ہیں۔ دو دن سے طبیعت سخت بیزار رہی۔ دل عجیب سی اداسی اور شکستگی کا شکار رہا۔ آج ارادہ کیا تھا کہ کسی ادبی گروپ کی سرگرمی میں حصہ نہیں لوں گی۔ دل کے دروازے پر ایک نوحہ مسلسل دستک دے رہا تھا، اور قلم خودبخود ہاتھ میں آ گیا۔

    "میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟”
    چھ سال قبل، مختار راٹھور صاحب کے کم سن فرزند معصوم عمر راٹھور جن کی عمر پانچ سال سے بھی کم تھی، 21 دسمبر کو اسلام آباد کے علاقے بہارہ کہو میں اپنے گھر کے باہر کھیلتے ہوئے اغوا کر لیے گئے۔ اغوا کا مقصد تاوان وصول کرنا تھا۔مرکزی ملزم حمزہ جہانگیر، جو عمر راٹھور کا قریبی کزن تھا اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ اس گھناؤنے جرم میں شریک تھا۔ ظلم کی انتہا دیکھیے کہ یہ سفاک لوگ چار دن تک اہلِ خانہ کے ساتھ مل کر بچے کو تلاش کرنے کا ڈھونگ کرتے رہے۔ وہ والدین کے ساتھ ہمدردی جتاتے رہے جبکہ حقیقت میں انہی کے ہاتھ معصوم کلی کے خون سے رنگے ہوئے تھے۔

    شدید سردی کے موسم میں عمر کو ایک کرائے کے مکان میں رکھا گیا۔ جب معصوم بچہ خوف اور تکلیف سے رونے لگا تو ظالموں نے اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے، منہ پر ٹیپ لگا دی، اور اسے الماری میں بند کر دیا۔ اندھیرے، گھٹن اور خوف کے اس عالم میں وہ ننھا فرشتہ دم گھٹنے سے اپنے رب کے حضور پہنچ گیا۔
    سوچیے وہ بچہ کس قدر خوفزدہ ہوگا۔ اس نے اپنی ماں کو پکارا ہوگا، اپنے باپ کو یاد کیا ہوگا، اور شاید آخری لمحوں میں یہ امید بھی کی ہوگی کہ کوئی آ کر اسے اس اندھیرے سے نکال لے گا۔ مگر افسوس! اس کی معصوم صدائیں الماری کی بند دیواروں میں دفن ہو گئیں۔ پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ عمر کے والدین نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے بجائے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ برسوں کی پیشیاں، انتظار، امید اور آنسوؤں کے بعد جون 2023ء میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے مرکزی ملزم اور اس کے ساتھیوں کو دو، دو مرتبہ سزائے موت سنائی۔ یوں محسوس ہوا کہ شاید اب انصاف کا سورج طلوع ہو گا، شاید عمر کی بے بسی کا حساب لیا جائے گا شاید ایک ماں کے دل کو کچھ قرار ملے گا۔لیکن دو دن قبل سپریم کورٹ نے ان ملزمان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ یہ خبر سن کر دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔ آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور ذہن میں بار بار یہی سوال گونجتا رہا کہ آخر ایک معصوم جان کی قیمت کیا ہے؟ کیا چند برس قید کاٹ لینا اس ظلم کا کفارہ ہو سکتا ہے؟ کیا ایک ماں کے خالی آغوش اور ایک باپ کے اجڑے ہوئے خوابوں کا کوئی نعم البدل ہے؟

    ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں
    عدل کو بھی صاحبِ اولاد ہونا چاہیے

    ہمارا نظامِ عدل اس قدر کھوکھلا، فرسودہ اور دیمک زدہ محسوس ہوتا ہے کہ مظلوم کو انصاف کی امید بھی ایک خواب لگتی ہے۔ آج وہ والدین، جن کے زخموں پر مرہم رکھا جانا چاہیے تھا، ایک ایسے فیصلے کے سامنے کھڑے ہیں جس نے ان کے زخموں پر نمک چھڑک دیا ہے۔چھ سال تک ہر صبح انصاف کی امید اور ہر رات آنسوؤں کے ساتھ گزارنے والے ماں باپ پر کیا گزری ہوگی؟ کتنی بار انہوں نے اپنے بیٹے کی تصویروں کو سینے سے لگایا ہوگا؟ کتنی بار اس کے کھلونوں کو دیکھ کر سسکے ہوں گے؟ کتنی بار دروازے کی طرف بے اختیار دیکھا ہوگا کہ شاید عمر دوڑتا ہوا آ جائے۔

    مگر کچھ دروازے ایک بار بند ہو جائیں تو پھر کبھی نہیں کھلتے۔ کاش! ہمارے معاشرے میں ایسا نظامِ انصاف نافذ ہو جو مجرم کے دل میں جرم سے پہلے ہی خوف پیدا کر دے۔ ایسی سزائیں ہوں کہ کوئی درندہ کسی معصوم بچے کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے سے پہلے سو بار سوچے۔
    اللہ تعالیٰ عمر راٹھور کے درجات بلند فرمائے، اسے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اس کے والدین کو صبرِ جمیل دے۔ آمیناور اللہ ہمارے نظامِ انصاف کو حقیقی معنوں میں انصاف کا گہوارہ بنائے،کیونکہ جب معصوم بچوں کے قاتل رعایت پانے لگیں تو معاشرے کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔ پھر ہر ماں اپنے بچے کو گھر سے باہر بھیجتے ہوئے خوف زدہ رہتی ہے، اور ہر باپ کے دل میں ایک انجانا سا ڈر جاگ اٹھتا ہے۔
    آخر میں دل سے بس یہی صدا نکلتی ہے:
    میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟

    ظالم کی رسی دراز ہے اور ڈھیل بھی دے دی جاتی ہے ۔منصفو کا منصف بھی موجود ہے ۔جب عمر اپنے رب سے شکایت کرے گا تو یہ ڈھیل بھی ختم ہو جائے گی ۔اللہ پاک بہترین انصاف کرنے والے ہیں۔

  • دیمک زدہ دل کا آشیانہ ،تحریر: بینا علی

    دیمک زدہ دل کا آشیانہ ،تحریر: بینا علی

    میں بینا علی ہوں۔ میرا دل ایک ایسا آشیانہ ہے جسے اندر ہی اندر دیمک چاٹ رہی ہے۔ باہر سے دیکھو تو سب نارمل لگتا ہے۔ چہرے پر معمول کی مسکراہٹ، روزمرہ کے کام، لوگوں سے ملنا جلنا۔ لیکن اندر ہر دیوار پر ہجر کا سایہ لکھا ہے، ہر کونے میں ایک خاموش چیخ دبی ہوئی ہے۔ درد ٹھہر گیا ہے، آنسو بہنا چھوڑ گئے ہیں اور دل نے رونا بھی سیکھ لیا ہے خاموشی سے۔
    میں نے حقیقت میں جا کر سمجھا کہ شاعر نے کیوں کہا تھا:
    "ادھیڑ ڈالے ہیں بخیے میرے جدائی نے!
    کہ کھا گیا ہے تیرا غم کتر کتر کر مجھ کو!”

    موت تو ارواح کا وصل ہے، ایک سفر کا اختتام اور دوسرے کا آغاز۔ اصل قیامت تو جدائی ہے۔ عرب کہتے ہیں: "الفراق أشد من الموت”۔ ہجر موت سے زیادہ بے رحم ہے۔ کیونکہ موت ایک بار مارتی ہے، جبکہ جدائی روز مارتی ہے۔ میں نے یہ بے رحمی اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے اور اپنے سینے میں محسوس کی ہے۔ یوسفؑ کے ہجر میں یعقوب علیہ السّلام کی آنکھوں کا نور چھن گیا تھا۔ کربلا کے بعد امام زین العابدین کی پلکیں تا عمر بھیگی رہیں۔ سوگ کی میعاد چند دن ہوتی ہے، مگر غم کی میعاد پوری عمر ہوتی ہے۔ یہ غم ایک بار وار کر کے نہیں جاتا۔ یہ روز تھوڑا تھوڑا مار کر زندہ رکھتا ہے، کتر کتر کر، لمحہ لمحہ، سانس سانس۔

    دنیا کہتی ہے کہ وقت مرہم ہے، زخم بھر جاتے ہیں۔ کاش یہ سچ ہوتا۔ میرے لیے وقت مرہم نہیں بنا، وہ صرف عادت بنا گیا ہے۔ ہم سانس لیتے ہیں، جیتے نہیں۔ ہم مسکراتے ہیں، خوش نہیں ہوتے۔ ہر عید، ہر تہوار، ہر شادی، ہر جنازہ، ہر موقع ان کی کمی کا نوحہ بن جاتا ہے۔ ہم یادوں سے بھاگتے ہیں، اور بھاگتے بھاگتے خود کو کھو دیتے ہیں۔ آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر لگتا ہے جیسے کوئی اجنبی کھڑا ہو۔

    والدہ محترمہ کو دیکھے بنا تین سال چھے مہینے ہو گئے۔ تین سال چھے مہینے سے گھر کی دیواریں بھی خاموش ہیں۔ ان کی دعاؤں کی چادر سر سے سرک گئی ہے اور اب دھوپ بھی کاٹتی ہے۔ جس گھر میں کبھی ان کی آواز گونجتی تھی وہاں اب سناٹا ہے۔ ہر کونا ان کی خوشبو مانگتا ہے، ہر کمرہ ان کے قدموں کا منتظر ہے، مگر جواب میں صرف خاموشی ملتی ہے۔ اسی دن آج سے پانچ سال پہلے، میرے چچا محترم اور میرے جواں سال کزن بھی چپکے سے اس دنیا سے چلے گئے۔ ایک ہی دن دو جنازے اٹھے، اور گھر کے آنگن میں ایک ساتھ دو قبریں بنیں۔ اس دن سے یتیمی کا سفر شروع ہوا۔ یتیمی صرف والدین کا سایہ اٹھنا نہیں، یہ اس کربناک آزمائش کا نام ہے جس میں انسان خود کو بے سہارا، بے آسرا محسوس کرتا ہے۔ دنیا بڑی لگتی ہے، اور دل بہت چھوٹا۔ پانچ سال ہو گئے۔ پانچ سال سے میں باپ کی شفقت اور ماں کی مامتا، دونوں کو ترس رہی ہوں۔ اپریل اور مئی میرے لیے "شھر الحزن” بن گئے ہیں۔ یہ کیلنڈر کے مہینے آتے ہیں تو دل بوجھل ہو جاتا ہے۔ ہوا بھی بھاری لگتی ہے، سانس سینے میں اٹکتی ہے، اور نیند آنکھوں سے روٹھ جاتی ہے۔ راتیں کروٹیں بدلتے گزرتی ہیں، اور صبح ایسے ہوتی ہے جیسے دل پہ مزید بوجھ بڑھ گیا ہو ۔ وقت گزرتا ہے، مگر درد نہیں گزرتا۔ درد ٹھہر جاتا ہے۔

    لوگ کہتے ہیں صبر کرو مگر صبر کرنا سیکھنا آسان نہیں ہوتا۔ صبر وہ سبق ہے جو کتابوں سے نہیں، ٹوٹے ہوئے دل سے پڑھا جاتا ہے۔ میں نے سیکھا ہے، آہستہ آہستہ، ٹوٹ کر اور جڑ کر۔ ربِ کریم کا شکر ہے جس نے ہمت دی۔ شکر ہے کہ یہ جدائی دائمی نہیں۔ یہ فراق عارضی ہے۔ یہی امیدِ واثق، یہی یقینِ کامل میرے ٹوٹے دل کو جوڑے ہوئے ہے کہ ہم پھر ملیں گے۔ جنت کے کسی ایسے باغ میں ملیں گے جہاں وہ پھر سے سر پر ہاتھ رکھیں گے، مسکرا کر گلے لگائیں گے، اور قہقہے گونجیں گے۔ جہاں نہ کوئی مئی ہو گا نہ اپریل، نہ فراق ہو گا نہ اشک۔ صرف وصل ہو گا، ابدی وصل۔

    میں وہ بدنصیب ہوں جس نے ایک ہی سال میں ماں اور باپ دونوں کا سایہ کھو دیا۔

    کتابِ زیست کا سب سے اداس اور اذیتوں سے بھرا صفحہ وہی ہوتا ہے جب ماں اس دنیا سے رخصت ہو جاتی ہے۔ دعاؤں کا آنچل سرک جاتا ہے، اور ماں کا سایہ سر سے اٹھ جاتا ہے۔ اس کے بعد دنیا کی گرمی براہِ راست لگتی ہے۔

    آپ اداس ہوں، تنہائی محسوس کر رہے ہوں، ذہنی طور پر منتشر ہوں، دل بے نام دکھوں سے بوجھل ہو، اور ایسے میں آپ کو اپنے بازوؤں میں سمیٹ لینے والی، ماتھے پر محبت بھرا بوسہ دینے والی، اور اپنے لمس سے روح تک کو سکون پہنچانے والی ماں موجود نہ ہو تو یہ اذیت لفظوں کے دائرہ بیان سے کہیں بڑھ جاتی ہے۔ یہ وہ درد ہے جو لکھا نہیں جاتا، صرف جیا جاتا ہے۔ ماں آپ کی پہلی محبت ہے، پہلا لمس ہے، پہلا شفقت بھرا بوسہ ہے۔ وہ ہستی ہے جس کی گود میں دنیا کے تمام غم سمٹ کر سکون میں بدل جاتے ہیں۔ میری بدقسمتی ہے کہ ماں کے بچھڑ جانے کے بعد میں اس کے عشق میں اس شدت سے مبتلا ہوں کہ ماں کی کمی ایک مستقل کسک بن گئی ہے۔ یہ کسک نہ بڑھتی ہے نہ کم ہوتی ہے، بس ساتھ رہتی ہے۔

    اب اس شعر کی گہرائی سمجھ آتی ہے:
    "وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا
    اب اس کا حال سنائیں کیا!
    اک آگ غمِ تنہائی کی
    جو سارے بدن میں پھیل گئی
    جب جسم ہی سارا جلتا ہو
    پھر دامنِ دل کو بچائیں کیا
    اک ہجر جو ہم کو لاحق ہے
    تادیر اسے دہرائیں کیا!
    وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا…”

    میرے انتظار میں مضمر، میرا راستہ تکنے والی آنکھیں نہ رہیں۔ بائیک کی آواز سنتے ہی پردہ ہٹا کر مسکرانے والے ہونٹ نہ رہے۔ تمام عمر باپ کو پہلا عشق بنائے رکھا، مگر یہ احساس ہی نہ ہوا کہ ماں کے جانے کے بعد اس کی محبت کا خلا دل کو اس طرح جکڑ لے گا کہ سانس لینا بھی دشوار ہو جائے گا۔ اب اس احساس کے ساتھ کہ ماں نہیں ہے، سانسیں جیسے رکنے لگتی ہیں۔ الفاظ لبوں پر آ کر دم توڑ دیتے ہیں، اور اظہارِ محبت بھی خاموش ہو جاتا ہے۔ بانو قدسیہ لکھتی ہیں: "ماں نہ ہو تو کوئی خواہ مخواہ بلانے والا نہیں رہتا۔”

    مجھے اس خواہ مخواہ کی سمجھ اب آئی ہے۔ واقعی ماں کے بعد انسان کو اس ایک جملے کی معنویت پوری شدت سے سمجھ آتی ہے۔ دنیا میں سب کچھ مل سکتا ہے، مگر ماں جیسی بے غرض محبت دوبارہ نہیں ملتی۔ آج میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جن کے اضطراب ماں کے لمس اور شفقت بھرے بوسوں سے دور ہوتے ہیں، ان کے سروں پر دعاؤں کا یہ آنچل ہمیشہ سلامت رہے۔ اللہ تعالیٰ سب کی ماؤں کو صحت و عافیت کے ساتھ سلامت رکھیں اور جو مائیں اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں، ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین یا رب العالمین۔

    میں آج بھی سیکھ رہی ہوں کہ غم کے ساتھ جینا کیسے ہوتا ہے۔ یہ کوئی آسان فن نہیں۔ کبھی دل ماننے کو تیار نہیں ہوتا، کبھی عقل سمجھا دیتی ہے۔ مگر میں نے مان لیا ہے کہ یہ غم میری کمزوری نہیں، میری محبت کی گہرائی ہے۔ جس سے جتنی محبت ہو، اس کا غم بھی اتنا ہی گہرا ہوتا ہے۔

    جب تک دل دھڑکتا ہے، ماں کی یاد زندہ ہے۔ اور جب تک یاد ہے جدائی کا زخم بھی ہے۔ یہ زخم مجھے یاد دلاتا ہے کہ میں کتنی محبت کی گئی ہوں، اور میں نے کتنی محبت کی ہے۔

    بس ایک یقین ہے جو مجھے تھامے ہوئے ہے ہم پھر ملیں گے۔ ان شاء اللہ۔ اس یقین پر ہی دل کا آشیانہ کھڑا ہے، ورنہ دیمک تو اسے کب کا کھا چکی ہوتی۔

  • مزدور کا مجبور ڈے سارا سال رہتا ہے،تحریر:  ظفر اقبال ظفر

    مزدور کا مجبور ڈے سارا سال رہتا ہے،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    مزدور کے لیے مزدور ہونا اتنا تلخ احساس نہیں جتنا مجبور ہونا ہے مہنگائی بے روزگاری وہ سیاسی دہشت گردی ہے جو ایک مزدور کو مجبور بنا کر اُسی کے ہاتھوں مروا دیتی ہے اس بے حسی و بے یارو مددگار دور میں جی کر زندگی پہ احسان کرنے والے مزدور کے ہاتھوں کے چھالے ایک عبادت گزار کے ماتھے پر بنے سجدوں کے نشان سے زیادہ خدا کو محبوب ہیں۔

    حقیقی مزدور وہ ہے جو محنت میں دیانتدار ہو مزدور کی اُجرت کے بارے میں ایک حدیث بہت بیان کی جاتی ہے کہ مزدور کی مزدوری اُس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو اس حدیث کی حقیقی وضاحت سے آشنا ہونا ہی ایک حقیقی مزدور کی پہچان کرواتا ہے یعنی مزدوری اس ایمانداری سے کی جائے کہ پسینے سے شرابور ہو جائے جو مزدوری کے ساتھ مخلص نہیں وہ محنت چور ہے اُس کی اُجرت برکت سے محروم ہے سب سے بہترین کمائی انسانی ہاتھوں کی محنت ہے مزدور حادثے کا شکار تو ہو سکتا ہے مگر بیماری کا نہیں۔مزدوری کا جسم ورزش کا محتاج نہیں ہوتا۔مزدوری انبیاء اکرام کا پیشہ رہا ہے۔حضرت سلیمان ؑ کو خدا نے زمین کی ہر مخلوق پر حکومت عطا کی تھی مگر وہ اپنا گزارا ٹوکریاں بنانے کی مزدوری سے کیا کرتے تھے۔حضرت داود ؑ نے خدا سے مزدوری مانگ کر لی تھی اُن کے ہاتھوں میں لوہا موم کی طرح نرم ہو جایا کرتا وہ جنگی لباس زرا بناتے گویا بکریاں اونٹ چرانے سمیت ہر قسم کی مزدوری خدا کے محبوب بندوں کا پیشہ رہی وہ پیشہ جو خدا کی دوستی پر فائز کرتا ہے مزدور مزدوری سے نہیں حکومت کی طرف سے پیدا کیے گئے سخت حالات کی مجبوری سے مارا جاتا ہے۔روز کمانا،روز کھانا، مزدور ڈے کی چھٹی کے دن بھی کام پر لا کھڑا کرتا ہے اس دن چھٹی کی بجائے اُجرت دوگنی دے کر مزدور ں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔

    میں نے ایسے انصاف پسند مزدور بھی دیکھے ہیں جو اپنی روٹی ساتھ لیکر کام پہ جاتے ہیں مزدور کی روٹی جواس کی ہتھیلی کی چنگیر پر رکھی ہے اس کے اوپر ایک پیاز ہوتا ہے تازہ پیاز وٹامن اے بی اور سی کا مجموعہ ہوتا ہے کسی اور غذا میں یہ تینوں وٹامن یکجا نہیں پائے جاتے پیاز مزدور کی مادری خوراک ہے۔

    مزدور کسی بھی ریاست کے حسن سلوک کا خاص مستحق طبقہ ہے مزدوروں کی تعداد اُس ملک میں سب سے زیادہ ہوتی ہے جہاں عام عوام کے لیے ماہر و قابل احباب کے زیرسایہ تعلیم و تربیت کے معیاری فری انتظامات نہ ہوں اور اگر ہوں تو وہ اتنے مہنگے ہوں کہ ایک مزدور باآسانی اپنے بچوں کو پرائیویٹ طور پر ترقی کے مقام پر نہ پہنچا سکے۔ترقی یافتہ ممالک میں مزدور بھی تعلیم یافتہ ہوتے ہیں اور ان کی یومیہ اُجرت اتنی پرکشش ہوتی ہے کہ انہیں مزدوری احساس کمتری کی نظر سے دیکھا جانے والا پیشہ نہیں لگتا۔حقوق کی فراوانی میں باوقار زندگی گزارنے والے مزدوری پیشے میں رہتے ہوئے بھی اپنے بچوں کو شاندار مستقبل سے ہمکنار کر سکتے ہیں ہمارے ہاں انسانی حقوق کے فقدان نے مزدور کو صلہ رحمی کا مستحق بنا کے رکھا ہوا ہے کسی بھی دولت یافتہ کاروباری شخص کی ترقی کے پیچھے مزدورں کی محنت کا ہاتھ ہوتا ہے۔

    مزدور کے حالات زندگی کی عکاسی ایک دردناک کیفیت ہے جیسے بیان کرتے قلم بھی اشک بار ہو جاتا ہے مگر احساس مزدور اجاگر کرنے کے لیے اس کرب سے گزرنا بہت ضروری ہے تاکہ صاحب اختیار لوگ کی رُوحوں کو جھنجھوڑا جا سکے مزدور اور مجبور ایک ہی تصویر کے دورُخ ہیں وہ مزدور ہی ہوتا ہے جو بھیک میں ملے پانی کو ٹھکرا کر صبر کے گھونٹ پی کر سفید پوشی کی لاج رکھتا ہے بھٹے پر مزدوری کرتی ماں کو دیکھ کر اس کا بچہ اپنے نصیب کو اس لیے کوستا ہے کہ وہ اپنی جنت کو دھوپ میں جلتا دیکھ رہا ہوتا ہے اس مزدور ماں کے احساس و جذبات کی قیمت کاغذ کے نوٹ ادا نہیں کر سکتے اسی لیے خدا نے اپنی دوستی کا اجر قائم کر رکھا ہے۔جہاں مزدوری کی اُجرت سے زیادہ ضروریات زندگی مہنگی ہوں وہاں ناانصافی کی حکومت قائم ہوتی ہے۔زمین پر قائم ملکوں کے نام پر اُن انسانوں کی قربانیاں دی جاتیں ہیں جن کے لیے خدا نے زمین تخلیق کی ہے گویا حساب زمین کا نہیں زمین پر بسنے والے انسانوں کا لیا جائے گا۔اس زمین پر بسنے والی مزدورں کی لاتعداد گنتی نے خدا کو بتانا ہے کہ بجلی گیس پانی راشن دوائی انصاف سمیت تمام ضروریات زندگی اتنی مہنگی تھیں کہ ہم پسینے کی جگہ خون بھی بہا دیں تب بھی ساری سہولتیں خرید نہیں سکتے اور جنہوں نے یہ ظلم مسلط کیے ہیں اُن کے لیے یہ سب مفت دستیاب ہوتی ہیں اُس دن محب وطنی کا لبادے میں چھپے انسانی حقوق کے مجرموں کو حسرت ہو گئی کہ کا ش ہم بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھنے کی بجائے وہ مزدور ہی ہوتے جن کا دوست خدا آج ہم سے ان کے حقوق کا حساب مانگ رہا ہے۔مزدور سمیت تمام پیشوں سے وابستہ انسانوں کے جائز حقوق کی زمہ داری ریاست کو چلانے والوں پر ہوتی ہے مگر بدقسمتی سے وہ ریاست انہی کے حقوق کی چوری سے اپنی نسلوں کے مقدر سنوار رہی ہے اس ناانصافی کے نظام میں کئی صاحب کردار لوگ بھی موجود ہیں جن کی وجہ سے مزدور ابھی تک جیے جارہے ہیں۔ مزدور ملکی و عوامی ترقی کے معمار ہیں ان کو مہنگائی کی سولی سے اتار کر سستی ضروریات زندگی سے وابستہ کرنا ہی ان کا حق دینا ہے۔