ایک نئی تحقیق نے یہ بات واضح کی ہے کہ اگر والدین کو لگتا ہے کہ ان کے نوعمر بچے ایک “راز” ہیں تو تازہ ڈیٹا ان کی اندرونی دنیا کو بہتر سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
یہ سروے امریکی ادارے نے 18 ستمبر سے 10 اکتوبر کے درمیان کیا، جس میں 13 سے 17 سال کی عمر کے 1,391 نوجوانوں سے سوالات کیے گئے۔ تحقیق کے مطابق اگرچہ لڑکے اور لڑکیاں کئی بنیادی مسائل جیسے اسکول کا دباؤ اور ذہنی صحت کے چیلنجز میں ایک جیسے تجربات رکھتے ہیں، لیکن ان کی مدد اور سماجی دباؤ کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے۔سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی اچھے نمبرز لینے کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔ دونوں گروہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ عام طور پر لڑکیاں بہتر گریڈ حاصل کرتی ہیں اور اساتذہ کی طرف سے زیادہ پسند کی جاتی ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ حقیقت پہلے سے موجود تعلیمی اعداد و شمار سے بھی مطابقت رکھتی ہے، جن میں لڑکیوں کی تعلیمی کارکردگی اوسطاً بہتر دیکھی گئی ہے۔
تاہم ماہر نفسیات ڈاکٹر اینی ماہیوکس کے مطابق یہ فرق اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ تعلیمی نظام ہر طالب علم کے لیے یکساں طور پر مؤثر نہیں ہے۔ ان کے مطابق اسکول کا نظام زیادہ تر ایسے بچوں کے لیے موزوں ہوتا ہے جو زیادہ صبر اور کم بے چینی کے ساتھ بیٹھ کر کام کر سکیں، جبکہ لڑکوں میں اس عمر میں دماغی نشوونما مختلف رفتار سے ہوتی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی اپنے مستقبل کے حوالے سے کافی سنجیدہ ہیں۔ دونوں گروہ ایک اچھی نوکری، بہتر آمدنی اور دوستوں کے ساتھ مضبوط تعلقات کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔ماہر نفسیات ڈاکٹر لیزا ڈیمور کے مطابق یہ تصور غلط ہے کہ نوجوان صرف سطحی چیزوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نوعمر نوجوان اپنی تعلیم اور مستقبل کے بارے میں سنجیدہ سوچ رکھتے ہیں۔سروے کے مطابق صرف 2 فیصد نوجوانوں نے کہا کہ ان کا کوئی دوست نہیں ہے، جو ایک مثبت بات سمجھی جا رہی ہے۔تاہم فرق یہاں بھی موجود ہے 95 فیصد لڑکیوں نے کہا کہ ان کے پاس ایسا قریبی دوست موجود ہے جس سے وہ مدد لے سکتی ہیں،جبکہ لڑکوں میں یہ شرح 85 فیصد تھی،ماہرین کے مطابق اس فرق کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ لڑکوں کو بچپن سے جذباتی کمزوری ظاہر نہ کرنے کی تربیت دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنی مشکلات شیئر کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ لڑکیوں میں اضطراب اور ڈپریشن زیادہ رپورٹ ہوتا ہے، جبکہ لڑکوں میں نشہ آور اشیاء کا استعمال، لڑائی جھگڑے اور کلاس میں خلل ڈالنے جیسے رویے زیادہ دیکھے جاتے ہیں۔تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ لڑکے ذہنی دباؤ کا کم شکار ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر ڈیمور کے مطابق جب لڑکیاں دباؤ میں ہوتی ہیں تو وہ اندرونی طور پر ٹوٹنے لگتی ہیں، جبکہ لڑکے اکثر اپنے دباؤ کو غصے یا خطرناک رویے کی شکل میں ظاہر کرتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ نوعمر لڑکوں کے جارحانہ یا خطرناک رویوں کو صرف “بدتمیزی” سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے ذہنی دباؤ کی علامت بھی سمجھنا چاہیے۔اسی طرح ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بچوں کی تربیت میں جذباتی اظہار کو بھی اہمیت دینی چاہیے تاکہ لڑکے اور لڑکیاں دونوں صحت مند سماجی اور ذہنی نشوونما حاصل کر سکیں۔یہ تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگرچہ نوعمر لڑکے اور لڑکیاں ایک جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن ان کے تجربات اور ردعمل مختلف ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بہتر تعلیم، جذباتی رہنمائی اور کھلے ماحول کے ذریعے نوجوانوں کی بہتر مدد کی جا سکتی ہے۔










