Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • ہم اور سسٹین ایبلٹی،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    ہم اور سسٹین ایبلٹی،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    دنیا کی تاریخ میں شاید پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ انسان اپنی ترقی پر فخر کرنے کے ساتھ ساتھ اس ترقی کے نتائج سے خوفزدہ بھی ہے۔ ایک طرف فلک بوس عمارتیں، جدید صنعتیں، مصنوعی ذہانت اور تیز رفتار ترقی کا سفر جاری ہے، تو دوسری طرف درخت کم ہو رہے ہیں، دریا سکڑ رہے ہیں، زیرِ زمین پانی نیچے جا رہا ہے، موسم بے ترتیب ہو چکے ہیں اور بارشیں رحمت کے بجائے بعض اوقات زحمت کا روپ دھار لیتی ہیں۔ یہی وہ پس منظر ہے جس نے دنیا کو ایک نئے تصور کی طرف متوجہ کیا ہے، جسے "سسٹین ایبلٹی” یا "پائیداری” کہا جاتا ہے۔
    سسٹین ایبلٹی دراصل ایک سوچ، ایک ذمہ داری اور ایک طرزِ زندگی کا نام ہے۔ اس کا مطلب صرف ماحول کو صاف رکھنا نہیں بلکہ قدرتی وسائل کو اس انداز سے استعمال کرنا ہے کہ ہماری ضروریات بھی پوری ہوں اور آنے والی نسلوں کے حقوق بھی محفوظ رہیں۔ افسوس کہ ہم نے ترقی کو صرف سڑکوں، عمارتوں اور کارخانوں تک محدود کر دیا، جبکہ حقیقی ترقی وہ ہے جس میں انسان اور قدرت ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ رہیں۔
    پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات برداشت کر رہے ہیں، حالانکہ عالمی آلودگی میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ کبھی شدید گرمی، کبھی بے وقت بارشیں، کبھی خشک سالی اور کبھی تباہ کن سیلاب ہماری معیشت، زراعت اور روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔ یہ حالات ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا ہم نے قدرت کے ساتھ انصاف کیا ہے؟
    حالیہ مون سون بارشوں نے ایک بار پھر ہماری تیاریوں کا امتحان لیا۔ چند گھنٹوں کی بارش نے کئی شہروں کو پانی میں ڈبو دیا، سڑکیں تالاب بن گئیں، نکاسی آب کے نظام کی کمزوریاں کھل کر سامنے آ گئیں اور شہری زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا بارش قصوروار ہے؟ ہرگز نہیں۔ بارش تو اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے، مگر ناقص منصوبہ بندی، بے ہنگم تعمیرات اور قدرتی آبی گزرگاہوں پر قبضے اس رحمت کو زحمت میں بدل دیتے ہیں۔
    اگر ہم سسٹین ایبلٹی کے اصول اپنالیں تو بارش کا یہی پانی ہماری سب سے بڑی طاقت بن سکتا ہے۔ بارش کے پانی کو محفوظ کیا جا سکتا ہے، زیرِ زمین پانی کو دوبارہ بھرنے کے لیے ری چارج ویل بنائے جا سکتے ہیں، شہروں میں ایسے فرش اور کھلے مقامات بنائے جا سکتے ہیں جہاں پانی آسانی سے زمین میں جذب ہو، اور نکاسی آب کا ایسا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے جو ہر بارش کے بعد شہریوں کو پریشانی سے بچائے۔
    دیہی پاکستان میں سسٹین ایبلٹی کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے۔ کسان پانی کی کمی، زمین کی زرخیزی میں کمی اور موسمی بے یقینی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ اگر ہم بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، جدید آبپاشی کے نظام، شجرکاری اور پانی کے دانشمندانہ استعمال کو فروغ دیں تو زرعی شعبہ نہ صرف مضبوط ہوگا بلکہ غذائی تحفظ بھی بہتر ہوگا۔ پانی کا ہر قطرہ مستقبل کی معیشت کی بنیاد بن سکتا ہے۔
    افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم روزانہ سینکڑوں لیٹر پانی ضائع کرتے ہیں، بجلی کا غیر ضروری استعمال کرتے ہیں، پلاسٹک کا بے دریغ استعمال جاری رکھتے ہیں اور درخت کاٹنے کو ترقی سمجھتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ قدرت کبھی بھی انسان کی بے احتیاطی کو ہمیشہ برداشت نہیں کرتی۔ آج اگر ہم ماحول کا خیال نہیں رکھیں گے تو کل ماحول ہماری زندگیوں کو مشکل بنا دے گا۔
    اسلام نے بھی ہمیں پائیدار زندگی کا درس دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں اسراف سے روکا گیا ہے اور رسول اکرم ﷺ نے پانی کے استعمال میں بھی اعتدال کی تعلیم دی، خواہ پانی بہتے دریا سے ہی کیوں نہ لیا جا رہا ہو۔ یہ تعلیمات آج کے جدید تصورِ سسٹین ایبلٹی سے مکمل ہم آہنگ ہیں اور ہمیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ ماحول کی حفاظت دراصل ایک اخلاقی اور دینی ذمہ داری بھی ہے۔
    میڈیا، تعلیمی ادارے، صنعتیں، مقامی حکومتیں اور ہر شہری اس تبدیلی میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر ہر شخص سال میں ایک درخت لگائے، بارش کے پانی کو محفوظ کرے، بجلی اور پانی کی بچت کرے، کوڑا مناسب جگہ پر پھینکے اور ماحول دوست طرزِ زندگی اپنائے تو یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات ایک بڑے قومی انقلاب کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
    ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ سسٹین ایبلٹی صرف ماحولیات کا موضوع نہیں بلکہ قومی سلامتی، معیشت، زراعت، صحت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ جو قومیں آج قدرتی وسائل کی حفاظت کر رہی ہیں، وہی کل ترقی یافتہ اور خوشحال ہوں گی۔ جو قومیں قدرت کو نظر انداز کریں گی، انہیں بڑھتے ہوئے ماحولیاتی بحرانوں کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
    وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ترقی کی دوڑ میں قدرت کو اپنا ساتھی بنائیں، اس کا مخالف نہیں۔ بارش کو نعمت سمجھ کر محفوظ کریں، درختوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، پانی کے ہر قطرے کی قدر کریں اور اپنے شہروں و دیہات کو پائیدار ترقی کی مثال بنائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک مضبوط، سرسبز، خوشحال اور محفوظ پاکستان کی طرف جاتا ہے۔
    آئیے! آج یہ عہد کریں کہ ہم صرف اپنے لیے نہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے بھی جئیں گے، کیونکہ سسٹین ایبلٹی صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ ہماری بقا، ہماری ذمہ داری اور ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہے

  • مہنگائی اور بے برکتی، تحریر نور فاطمہ

    مہنگائی اور بے برکتی، تحریر نور فاطمہ

    آج کے دور کا سب سے بڑا مسئلہ "مہنگائی” ہے۔ بازار جائیں تو ہر چیز کے دام آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔ آٹا، چینی، دال، سبزی، بجلی کا بل، پیٹرول، دوائیں اور بچوں کی فیس، غریب اور متوسط طبقہ سب پریشان ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف مہنگائی ہی ہماری تنگی کی وجہ ہے یا ہمارے رزق سے برکت اٹھ چکی ہے؟

    مہنگائی کی اصل وجہ
    مہنگائی کے پیچھے کئی اسباب ہیں۔ حکومتوں کی غلط معاشی پالیسیاں، ڈالر کی اونچی اڑان، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ اور منافع خوری۔ جب تاجر حلال منافع چھوڑ کر ناجائز کمائی کرنے لگے تو بازار خود بخود مہنگا ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہماری اپنی عادتیں بھی ذمہ دار ہیں۔ ہم ضرورت سے زیادہ خریدتے ہیں، کھانا ضائع کرتے ہیں، نمود و نمائش پر پیسہ لٹاتے ہیں۔ پھر شکایت کرتے ہیں کہ "گھر میں برکت نہیں”
    رزق میں بے برکتی کیوں؟
    اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے "اور اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے”
    برکت کا تعلق پیسے کی مقدار سے نہیں بلکہ اللہ کی رضا سے ہے۔ آج ہم نے کچھ ایسی عادتیں اپنا لی ہیں جو برکت چھین لیتی ہیں
    حرام کمائی،سود، رشوت، جھوٹ اور دھوکہ۔ حرام کا ایک روپیہ بھی سو حلال روپوں سے زیادہ نقصان دیتا ہے۔
    زکوٰۃ اور صدقہ نہ دینا،مال کو پاک کرنے والا ذریعہ ہم بھول گئے۔
    شکر نہ کرنا،جو نعمت ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے ہر وقت شکایت۔
    قطع رحمی،والدین کی نافرمانی اور رشتہ داروں سے تعلق توڑنے سے رزق تنگ ہو جاتا ہے۔
    حل کیا ہے؟
    مہنگائی کو ہم فوراً ختم نہیں کر سکتے، لیکن برکت لا سکتے ہیں۔
    تقویٰ اور توکل،اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ جو اللہ کا ہو جائے، اللہ اس کا ہو جاتا ہے۔
    حلال رزق،چاہے کم ہو، لیکن حلال ہو۔ حلال میں ہی سکون اور برکت ہے۔
    صدقہ، ہفتے میں تھوڑا سا بھی صدقہ دینے سے مال بڑھتا ہے، گھٹتا نہیں۔
    قناعت جو ہے اس پر راضی رہیں۔ فضول خرچی اور دکھاوے سے بچیں۔
    دعا نماز کے بعد یہ دعا پڑھیں "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ رِزْقًا طَيِّبًا وَعِلْمًا نَافِعًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا”
    یاد رکھیں، مہنگائی آزمائش ہے اور بے برکتی ہمارے اعمال کا نتیجہ بھی۔ جب تک ہم اللہ سے تعلق درست نہیں کریں گے، دام گرنے سے بھی دل کو سکون نہیں ملے گا۔ رزق اللہ دیتا ہے۔ ہمارا کام حلال طریقہ اپنانا اور شکر کرنا ہے۔
    اللہ ہم سب کے رزق میں برکت عطا فرمائے اور مہنگائی کے اس دور میں سب کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ آمین۔

  • ایک اور زینب،تحریر: بینا علی

    ایک اور زینب،تحریر: بینا علی

    سرگودھا میں سات آٹھ سال کی ایک معصوم بچی دکان پر سودا لینے گئی۔ واپس نہ آئی۔ گھر والوں نے بہت ڈھونڈا۔ سوشل میڈیا پر بھی بتایا۔ پولیس نے دکان کے کیمرے دیکھے۔ بچی اندر جاتے ہوئے نظر آئی باہر آتے ہوئے نہیں۔
    پولیس نے دکان کی تلاشی لی تو اوپر والی منزل سے بوری میں بند لاش ملی۔ یہ اسی بچی کی تھی۔پتا چلا کہ دکان کا ملازم ارسلان یہ سب کر چکا تھا۔ وہ دس سال سے وہاں کام کر رہا تھا۔ اس نے پہلے بچی کے ساتھ زیادتی کی پھر اسے بے دردی سے قتل کر دیا۔ لاش بوری میں ڈال کر اوپر چھپا دی۔پولیس نے ارسلان کو گرفتار کر لیا ہے۔ بچوں کو ان خونی درندوں سے بچانے کے لیے یہ اقدامات بہت ضروری ہیں۔
    1۔ ایسے مجرموں کے فیصلے اتنے کم وقت میں ہوں کہ صدر کو معافی نامہ بھیجنے یا مزید کسی رعایت کی گنجائش نہ رہے۔ مجرم جلد سے جلد اپنے کیفرِ کردار تک پہنچے۔ انصاف کے عمل کو بالکل بھی تاخیر کا شکار نہ کیا جائے۔
    2. اس طرح کے کیس کے فیصلے جلد سے جلد ہونے چاہییں۔ کیونکہ انصاف میں دیر ہونا ماں باپ کے لیے بہت بڑی سولی ہے۔ ایک تو بچے کے ساتھ اتنا ظلم ہو اور اس کے بعد اسے بے دردی سے قتل بھی کر دیا جائے۔
    3. اگر عدالتوں نے تاریخوں پر تاریخیں دینی ہیں تو پھر ہمارے قانون پر تف ہے۔ انصاف جلدی ملے گا تو ہی یہ سلسلہ رکے گا۔
    4. والدین ہوشیار ہو جائیں: سب لوگ اس بات سے آگاہ رہیں کہ اب تو بچے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ بہت قریبی رشتہ داروں سے بھی بچے حادثوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تو جب باہر کے ماحول میں بچے کو بھیجیں تو اس طرح بالکل بھی بچے کو اکیلا باہر نہ بھیجیں۔ اس معاشرے میں آپ بچی ہو یا بچہ اس کو آپ اس طرح اکیلا نہیں چھوڑ سکتے۔
    اللہ بچی کی مغفرت فرمائے اور ہمیں اپنے بچوں کی حفاظت کی توفیق دے۔ آمین۔

  • غیرت یا جہالت ،تحریر: بینا علی

    غیرت یا جہالت ،تحریر: بینا علی

    گوجرانوالہ میں دو دن پہلے بہت دکھ بھرا واقعہ ہوا۔حافظ آباد کے کالیکی منڈی کا لڑکا عبدالوحید گوجرانوالہ کی فائزہ سے محبت کر بیٹھا۔ دونوں نے ساتھ رہنے کا وعدہ کیا۔ جب گھر والے نہ مانے تو دونوں نے چپکے سے کورٹ میں نکاح کر لیا۔ وحید فائزہ کو اپنے گھر لے آیا۔ یہ عید الفطر سے پہلے کی بات ہے۔فائزہ بہن سے فون پر رو کر کہتی تھی کہ ابا کو مناؤ۔ باپ مان گیا۔ عید الاضحیٰ سے پہلے اس نے پیغام بھیجا: "گھر آ جاؤ، عید کے بعد سامان کے ساتھ رخصت کروں گا۔”فائزہ ڈر رہی تھی مگر وحید نے کہا: "میں ساتھ چلوں گا۔” دونوں گوجرانوالہ چلے گئے۔ کچھ دن بعد باپ نے پہلے داماد کو پھر بیٹی کو اس کے بعد بچانے آئے نوکر کو گولی مار دی۔ تینوں مر گئے۔عبدالوحید اور فائزہ کی کہانی بس تین مہینے کی تھی۔ دو عیدیں ساتھ گزاریں اور سب ختم۔
    اب ذرا سوچیے:
    حضرت خدیجہؓ بہت نیک اور پاکباز خاتون تھیں۔ ہمارے نبی کی پہلی بیوی۔ انہوں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نکاح کا پیغام بھیجا تھا۔ یہ آج سے 1400 سال پہلے کی بات ہے۔ جب ایک عورت خود رشتہ بھیج سکتی ہے جب اولاد اپنی پسند بتا دے اور وہ شرعی طور پر ٹھیک ہو، تو اس میں کوئی برائی نہیں۔ ماں باپ کو چاہیے کہ اولاد کی پسند کو اپنی پسند بنا لیں۔ اس سے جھگڑے ہی ختم ہو جائیں گے۔

    اور اگر اولاد سے کوئی غلطی ہو بھی جائے تو ماں باپ کا کام ہے کہ پیار سے سمجھائیں، غلطی سدھارنے میں مدد کریں۔ غلطی پر غلطی نہ کریں۔ مارنا، قتل کرنا تو سب سے بڑی غلطی ہے۔دعا زہرا کا کیس آپ کے سامنے ہے۔ اس کے باپ نے دنیا کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی بیٹی کا ساتھ دیا۔ اس نے اپنی بیٹی کو دوبارہ اس معاشرے میں جینے کے قابل بنایا۔ باپ ایسے ہوتے ہیں۔ سہارا بنتے ہیں، قاتل نہیں بنتے۔کاش فائزہ کے باپ نے بھی دعا زہرا کے باپ جیسا دل بڑا کیا ہوتا۔ کاش وہ حضرت خدیجہؓ والا 1400 سال پرانا سبق یاد رکھتا کہ عورت کی پسند کی بھی عزت ہوتی ہے۔
    اللہ پاک وحید، فائزہ اور اس بے قصور نوکر کو جنت دے۔ اور ہر ماں باپ کو اولاد کا دکھ سمجھنے والا دل دے۔ آمین

  • ایوان میں ام الخبائث کی سفارش ،تحریر: بینا علی

    ایوان میں ام الخبائث کی سفارش ،تحریر: بینا علی

    ہائے افسوس! صد افسوس!اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سینیٹ میں غیر ملکی شراب درآمد کرنے کی پالیسی نرم کرنے کی سفارشات پیش کی گئیں۔
    روح تڑپتی ہے آنکھیں خون کے آنسو روتی ہیں۔ یہ امر واقعی لمحہ فکریہ ہے ۔
    اقبال نے کیا خوب کہا تھا
    وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
    یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
    اے ایوانوں میں بیٹھے لوگو! اے قوم کے فیصلے کرنے والو!
    تمہارے ہاتھ کانپتے کیوں نہیں؟ تمہارے قلم لرزتے کیوں نہیں؟ خدارا یہ ظلم نہ کرو!
    اللہ اور اس کے رسول کے فیصلوں کے سامنے یہ کھلی سرکشی، یہ بغاوت یہ گستاخی اللہ کی قسم! عذاب کو دعوت ہے۔
    شراب کے بارے میں قرآن و حدیث میں بہت سخت وعیدیں آئی ہیں۔
    شراب کی حرمت بتدریج نازل ہوئی۔ آخری اور قطعی حکم سورۃ المائدہ میں آیا:
    يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَيْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ
    ترجمہ: اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
    حوالہ: پارہ 7 سورۃ المائدہ آیت 90
    احادیثِ مبارکہ مستند حوالوں کے ساتھ
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "شراب تمام برائیوں کی ماں ہے اور یہ سب سے زیادہ شرمناک برائی ہے۔”
    حوالہ: سنن ابن ماجہ کتاب الأشربہ باب 30 حدیث 3371
    مزید فرمایا: "جو چیز بڑی مقدار میں نشہ دے وہ حرام ہے وہ چھوٹی مقدار میں بھی حرام ہے۔”
    حوالہ: سنن ابن ماجہ، حدیث 3392
    حضور ﷺ نے شراب کے بارے میں 10 لوگوں پر لعنت فرمائی:
    شراب بنانے والا
    بنوانے والا
    پینے والا
    اٹھانے والا
    جس کے پاس اٹھا کر لائی جائے
    پلانے والا
    بیچنے والا
    اس کی قیمت کھانے والا
    خریدنے والا
    جس کے لیے خریدی جائے۔
    حوالہ: جامع ترمذی، کتاب البیوع، حدیث 1299
    ذرا تصور کریں مدینے کی ان گلیوں کا جب شراب کی حرمت کی آیت نازل ہوئی تو اعلان سنتے ہی مدینہ کی گلیوں میں شراب بہا دی گئی۔ جس کے ہاتھ میں جو برتن تھا جس کے منہ میں جو گھونٹ تھا سب نے فوراً پھینک دیا۔ مدینہ کی گلیاں شراب سے بہہ پڑیں۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ "جو خریدی ہوئی ہے وہ ختم کر لیں” یا "آہستہ آہستہ چھوڑیں گے”۔ حکم آتے ہی مکمل اطاعت کی۔ کیوں؟ کیونکہ ان کے دل میں اللہ کا خوف تھا! کیونکہ وہ جانتے تھے کہ رب کا حکم معیشت سے بڑا ہے، مصلحت سے بڑا ہے جان سے بڑا ہے!
    اور آج ہم. ہم "ریونیو” کے لیے اپنی آخرت بیچنے کو تیار ہیں؟ ہم "ٹورازم” کے لیے اپنی نسلوں کو جہنم کا ایندھن بنانے کو تیار ہیں؟
    تف ہے ایسی معیشت پر! لعنت ہے ایسے ٹورازم پر جو اللہ کے غضب کو دعوت دیں۔ اس قلم کی سیاہی سوکھنے سے پہلے اس دستخط کی روشنائی پھیلنے سے پہلے سوچ لو!
    قبر کا گڑھا تمہارا منتظر ہے۔ وہاں نہ سینیٹ ہوگی نہ ایوان نہ پروٹوکول ہوگا نہ کرسی۔ صرف تم ہو گے اور تمہارے اعمال۔
    اور حوضِ کوثر پر جب میرے آقا تمہارا دامن پکڑ کر پوچھیں گے: "میری امت کے بچوں کو شراب کے حوالے کر کے آئے ہو؟اس وقت کون سا منہ لے کر جاؤ گے؟
    یا اللہ! یا رب العالمین!
    اگر ان کے دلوں میں ذرہ برابر بھی ایمان ہے تو انہیں ہدایت دے دے۔ اور اگر یہ تیرے حکم سے جنگ پر تلے ہیں، تو انہیں اس کرسی، اس ایوان، اس عہدے سے یوں محروم کر دے جیسے سوکھی ٹہنی درخت سے گرتی ہے۔
    یا اللہ! اس پاکستان کو جسے ہم نے تیرے نام پر لیا تھا شراب کی لعنت سے، بے حیائی کی نحوست سے، تیرے غضب سے محفوظ فرما۔ ہمیں صحابہ والا ایمان عطا فرما کہ تیرا حکم آئے تو ہماری زبانیں، ہمارے ہاتھ، ہمارے قدم سب پکار اٹھیں: "سمعنا و اطعنا غفرانک ربنا و الیک المصیر”۔

  • پبلک ٹرانسپورٹ اور مسافر ،تحریر ۔ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    پبلک ٹرانسپورٹ اور مسافر ،تحریر ۔ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    لاہور سے شیخوپورپ جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ، خصوصاً جناح ٹرمینل سے چلنے والی ویگنوں میں مسافروں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک نہ صرف افسوسناک بلکہ انسانی وقار کی کھلی تذلیل ہے۔ روزانہ سینکڑوں مرد، خواتین، بزرگ، طلبہ اور مزدور ان ویگنوں میں ایسے سفر کرنے پر مجبور ہیں جیسے انسان نہیں بلکہ جانوروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا ہو۔ اوور لوڈنگ، من مانا کرایہ، خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خاموشی نے اس مسئلے کو ایک سنگین عوامی بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔

    جناح ٹرمینل لاہور بائی پاس سے شیخوپورہ جانے والی بیشتر ویگنوں میں “پھٹہ” کلچر عام ہو چکا ہے، یعنی گاڑی کی گنجائش سے کہیں زیادہ مسافر ٹھونس دیے جاتے ہیں۔ سیٹوں پر گنجائش ختم ہونے کے بعد مسافروں کو درمیان میں بٹھایا جاتا ہے، شدید گرمی، حبس اور دھکم پیل کے ماحول میں یہ سفر کسی اذیت سے کم محسوس نہیں ہوتا۔ حیران کن امر یہ ہے کہ یہ سب کچھ موٹر وے اور مرکزی شاہراہوں پر کھلے عام جاری ہے۔

    خواتین مسافروں کے مسائل اس سے بھی زیادہ سنگین ہیں۔ متعدد ویگن مالکان اور کنڈیکٹر خواتین کو فرنٹ سیٹ دینے سے انکار کرتے ہیں، حالانکہ یہ ان کی سہولت اور تحفظ کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔ خواتین، بزرگوں اور بچوں کو غیر مناسب انداز میں تنگ سیٹوں پر بٹھایا جاتا ہے جبکہ بعض ڈرائیور حضرات فرنٹ سیٹ کو ذاتی پسند یا اضافی کمائی کے لیے مخصوص رکھتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ سماجی اقدار کے بھی منافی ہے۔

    کرایوں کا معاملہ بھی کسی کھلی لوٹ مار سے کم نہیں۔ سرکاری کرایہ نامہ ایک طرف پڑا رہتا ہے جبکہ ویگن مالکان اپنی مرضی کے نرخ وصول کرتے ہیں۔ بارش ہو، رش زیادہ ہو یا عید کا موقع، کرایہ فوری بڑھا دیا جاتا ہے۔ غریب آدمی جو روزانہ مزدوری یا ملازمت کے لیے سفر کرتا ہے، اس استحصالی نظام کے سامنے بے بس دکھائی دیتا ہے۔

    سب سے اہم سوال National Highways and Motorway Police کی کارکردگی پر اٹھتا ہے۔ موٹر وے پولیس کا بنیادی مقصد محفوظ سفر کو یقینی بنانا، اوور لوڈنگ روکنا اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کروانا ہے، مگر لاہور شیخوپورہ روٹ پر صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ یا تو متعلقہ ادارے بے بس ہیں یا پھر بعض عناصر مبینہ “چمک” کے باعث خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اگر روزانہ درجنوں اوور لوڈ ویگنیں موٹر وے پر سفر کر رہی ہیں تو یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ قانون صرف کمزور کے لیے ہے یا طاقتور ٹرانسپورٹ مافیا کے لیے بھی؟

    یہ صورتحال National Highways and Motorway Police کے سربراہ، آئی جی موٹر وے پولیس کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اگر موٹر وے جیسے حساس اور جدید نظام پر بھی اوور لوڈنگ مافیا قابو پا لے تو پھر عام شہری کے اعتماد کا کیا بنے گا؟ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر کب تک انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال کر یہ غیر قانونی کاروبار جاری رہے گا۔

    ماضی میں اوور لوڈنگ کے باعث ہونے والے ٹریفک حادثات نے کئی خاندان اجاڑے، مگر اس کے باوجود زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوئے۔ جب تک سخت کارروائی، مستقل نگرانی اور کرپٹ عناصر کا احتساب نہیں ہوگا، تب تک یہ مافیا مزید مضبوط ہوتا جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ موٹر وے پولیس، ضلعی انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ اتھارٹی مشترکہ آپریشن کے ذریعے ان ویگنوں کے خلاف فوری ایکشن لے، سرکاری کرایہ ناموں پر عمل درآمد کروائے، خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کو یقینی بنائے اور اوور لوڈنگ میں ملوث ڈرائیوروں کے لائسنس معطل کیے جائیں۔

    یہ صرف ٹرانسپورٹ کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی عزت، شہری حقوق اور قانون کی عملداری کا معاملہ ہے۔ اگر آج بھی متعلقہ ادارے حرکت میں نہ آئے تو کل کسی بڑے سانحے کے بعد صرف افسوس اور مذمتی بیانات باقی رہ جائیں گے۔ عوام اب عملی اقدامات چاہتے ہیں، وعدے نہیں۔راقم نے موٹر وے پولیس کا موقف لیا تو ان کا کہنا تھا ہم چلان کرتے لوگ باز نہیں آتے اور دوسری بات مہنگائی ہے مطلب یہ ہوا کہ ،،چمک کا کام کرگئی
    عوامی سہولیات کے پیش نظر آئی جی موٹر وے پولیس پنجاب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا

  • عید کے کپڑوں میں ملبوس لاشے ،تحریر : بینا علی

    عید کے کپڑوں میں ملبوس لاشے ،تحریر : بینا علی

    ریاست کو ہمیشہ ماں کہا جاتا ہے۔ماں جو اپنے بچوں کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے ان کی بھوک، پیاس، سانسوں اور خوابوں کی محافظ ہوتی ہے۔ عوام کے جان و مال کا تحفظ، تعلیم، صحت اور بنیادی حقوق کی فراہمی ریاست کی سب سے مقدس ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔ مگر جب یہی ریاست اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑ لے، تو پھر سڑکوں پر صرف حادثے نہیں ہوتے جنازے اٹھتے ہیں۔ضلع حویلی کہوٹہ کے علاقے خورشید آباد میں پیش آنے والا المناک حادثہ صرف ایک خبر نہیں سات ماؤں کا نوحہ ہے۔سات نوجوان، سات خواب، سات گھروں کے چراغ ایک لمحے میں بجھ گئے۔

    دوستوں کا یہ گروہ ہلاں آبشار کی سیر کے لیے گیا تھا۔ وہ ہنستے ہوئے نکلے تھے مگر واپسی پر سفید کفنوں میں لپٹے لوٹے۔ واپسی کے دوران ان کا لوڈر رکشہ بے قابو ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے حویلی کی فضاؤں میں چیخیں گونج اٹھیں۔ ہر گلی ماتم کدہ بن گئی ہر دروازے پر کہرام برپا ہو گیا۔اور سوال یہ ہے کہ اُس وقت ہماری “ماں” ریاست کہاں تھی؟حضرت عمرؓ کا وہ قول آج بھی حکمرانوں اور ریاستی اداروں کے لیے ایک آئینہ ہے جب آپ نے فرمایا تھا:
    "اگر دریائے فرات کے کنارے ایک بکری کا بچہ بھی پیاس سے مر جائے، تو عمر اس کا بھی جوابدہ ہو گا۔” مگر سات نوجوان تڑپ تڑپ کر جان دے گئے تو سوال یہ ہے کہ ان معصوم جانوں کا جوابدہ کون ہو گا؟کون ان ماؤں کے آنسوؤں کا حساب دے گا؟
    کون ان اجڑے گھروں کی خاموشیوں کا بوجھ اٹھائے گا؟
    اور کون قیامت کے دن ان بجھتے چراغوں کے سامنے خود کو بے قصور ثابت کر سکے گا؟
    کیا زخمیوں کو بروقت ایمبولینس فراہم کی گئی؟

    اگر تمام سہولیات موجود تھیں تو پھر زخمی نوجوان نجی گاڑیوں اور ڈالوں میں ہسپتال کیوں منتقل کیے گئے؟ خون میں لت پت جسم، سڑک کنارے تڑپتی سانسیں، اور پیچھے خاموش کھڑی سرکاری مشینری یہ منظر کسی بھی حساس دل کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔دو نوجوان موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ پانچ شدید زخمی حالت میں رات گئے ہسپتال پہنچائے گئے۔ مگر سوال اب بھی زندہ ہے:
    کیا انہیں بروقت طبی امداد ملی؟
    کیا ایمبولینسوں میں آکسیجن سلینڈر موجود تھے؟
    کیا ابتدائی طبی سہولیات دستیاب تھیں؟یا پھر ان کی سانسیں بھی سرکاری غفلت کے اندھیروں میں بجھ گئیں؟پانچ زخمیوں کو ادویات تک میسر نہ ہونا حادثہ نہیں ایک بے حس نظام میں کھلا قتل ہے۔

    یہ صرف ایک ٹریفک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسا اجتماعی المیہ ہے جو ہماری انتظامی بے حسی، ناکارہ نظام اور مردہ ضمیر کی عکاسی کرتا ہے۔ جب ریاست ماں کے بجائے سوتیلی ماں کا کردار ادا کرنے لگے تو پھر بیٹے یوں ہی سڑکوں پر دم توڑتے ہیں۔گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ تو چیک کیے جاتے ہیں، مگر ان سرکاری ایمبولینسوں کی فٹنس کون دیکھتا ہے؟ان خطرناک سڑکوں پر حفاظتی بیرئیر کیوں موجود نہیں؟
    کیا یہاں انسان کی جان واقعی پتھروں سے بھی سستی ہو چکی ہے؟
    اور افسوس کی انتہا یہ ہے کہ انہی علاقوں سے منتخب ہو کر لوگ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتے ہیں، مگر کرسی ملتے ہی اپنے ہی لوگوں کے زخم بھول جاتے ہیں۔ اقتدار تو مل جاتا ہے، مگر احساس مر جاتا ہے۔

    عید کے دوسرے دن جب ہر گھر میں خوشیوں کی روشنی تھی حویلی کے سات گھروں میں قیامت اتر آئی۔ ایک روزہ سوگ کا اعلان کر کے شاید ذمہ دار ادارے بری الذمہ ہو جائیں، مگر ان والدین کی زندگی اب ہمیشہ کے لیے سوگ بن چکی ہے۔ جوان بیٹے کا جنازہ اٹھانا وہ درد ہے جو انسان کو زندہ رہتے ہوئے بھی اندر سے دفن کر دیتا ہے۔ اولاد چند ماہ کی بھی ہو تو اس کا چھوٹا سا جنازہ باپ کے کندھے جھکا دیتا ہے اور یہاں تو سات گھروں کے سہارے ایک ساتھ چھین لیے گئے۔یہ دکھ، یہ ماتم، یہ المیے آخر حویلی کے نصیب ہی کیوں بنا دیے گئے؟

    ابھی عمر راٹھور معصوم کی ترازو کے نیچے دبی چیخوں کے زخم بھرے بھی نہ تھے کہ سات نئے زخم دلوں پر ثبت ہو گئے۔ اب ان گھروں میں عیدیں شاید کبھی پہلے جیسی نہ آئیں۔ ان کے دروازوں پر خوشیوں کے بجائے خاموشیاں دستک دیں گی۔ جنہوں نے اپنا جگر کا ٹکڑا کھویا ہو صرف وہی اس اذیت کو محسوس کر سکتے ہیں۔
    اور ایک سوال دل کو چیر دیتا ہے۔۔
    اگر ان نوجوانوں کی جگہ کسی وزیر، مشیر یا بااختیار شخصیت کے بچے ہوتے تب بھی کیا یہی ہوتا؟
    کیا تب بھی ایمبولینسیں دیر سے پہنچتیں؟
    کیا تب بھی سڑکوں پر حفاظتی انتظامات نہ ہوتے؟
    کیا تب بھی خاموشی چھا جاتی؟
    ہم صرف مظلوم نہیں، کہیں نہ کہیں ظالم بھی ہیں
    ظالم اس لیے کہ ہم خاموش ہیں۔ہم لاشیں گنتے ہیں، چند دن افسوس کرتے ہیں اور پھر اگلے سانحے کا انتظار شروع ہو جاتا ہے۔محکمہ صحت کو دیے گئے فنڈز کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔ان سڑکوں پر ہونے والے کام کی حقیقت بھی سامنے آنی چاہیے۔ کہیں یہ ترقی بھی مظفر آباد کے فلائی اوور جیسی تو نہیں، جو نام کا منصوبہ اور حقیقت میں کھنڈر ثابت ہوا؟

    اور اگر واقعی ہم ایسے سانحات کو روکنا چاہتے ہیں تو صرف افسوس اور تعزیتی بیانات کافی نہیں ہوں گے۔ خطرناک سڑکوں پر مضبوط حفاظتی بیرئیر نصب کیے جائیں، ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کروایا جائے سیاحتی مقامات پر ریسکیو مراکز اور مکمل سہولیات سے آراستہ ایمبولینسیں ہر وقت موجود ہوں۔ ڈرائیورز کی تربیت اور گاڑیوں کی باقاعدہ فٹنس چیکنگ کو یقینی بنایا جائے اور حادثات کی صورت میں فوری طبی امداد کے نظام کو مؤثر بنایا جائے۔ کیونکہ حادثات صرف قسمت سے نہیں ہوتے اکثر غفلت بھی جانیں لے لیتی ہے۔
    خدارا اب تو بولو!
    بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
    کیونکہ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل شاید ہماری باری ہو۔

  • دکھوں کے بیچ لکھی گئی عید،تحریر: بینا علی

    دکھوں کے بیچ لکھی گئی عید،تحریر: بینا علی

    کچھ عرصے سے دلی کیفیت ایسی ہے کہ کچھ المیے، کچھ سانحے، اپنی جڑیں دل کے ساتھ دماغ میں بھی پیوست کر جاتے ہیں۔ اور کچھ کی شدت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ زیرِ تحریر لانا بھی محال ہو جاتا ہے۔ گذشتہ ہفتے میں یکے بعد دیگرے ایسے واقعات دیکھنے کو ملے جنہوں نے دلی طور پر بہت اداس کر دیا، اور ان گونگے جذبات کو لفظوں کے ذریعے زبان ملتی رہی۔ یقین جانیےبجب کسی کے درد کو تحریر کرتی ہوں تو لفظ خود نشتربن کر مجھے کچوکے لگاتے رہتے ہیں۔ تب سوچتی ہوں کہ اس درد سے گزرنے والوں کے لیے کتنی اذیت ہوتی ہو گی۔

    کوئٹہ میں خودکش دھماکے میں عورتوں، بچوں سمیت 47 شہری شہید اور تقریباً سو زخمی ہوئے۔ شہید ہونے والوں میں 20 فوجی جوان بھی شامل تھے۔ کل ہی یکے بعد دیگرے دو واقعات نے دل چیر دیا: ایک بزرگ کو بیوپاری نے نقلی نوٹ دے کر جانور لے لیا۔ جب وہ اشیائے خوردونوش خریدنے گئے تو پیسے جعلی نکلے۔ اس بزرگ کا چہرہ آنکھوں کے سامنے سے نہیں ہٹ رہا۔

    دوسرا واقعہ یہ کہ ایک ڈرائیور نے جرمانے اور گاڑی ضبطگی کے خوف سے، گاڑی میں بیٹھے اہلکار سمیت کوسٹر کو دریا بُرد کر دیا۔ کوسٹر دریا بُرد ہوئی اور بمشکل دونوں کی جان بچائی جا سکی۔ اور شہر مظفرآباد میں ہی ایک بزرگ نے قربانی کے جانور فروخت کیے۔ سگا بیٹا تین لاکھ روپے لے کر فرار ہو گیا اور بزرگ در بدر سڑکوں پر پھرتے رہے کرایے کے پیسے بھی نہیں تھے۔تہوار ہمیشہ سے ان لوگوں کے لیے مشکل رہے ہیں جنہوں نے اپنے جاں سے پیارے رشتے کھو دیے۔ ہم ہنستے، بولتے، کھاتے پیتے ہیں بس جیتے نہیں۔ عمر راٹھور کے ساتھ انصاف کی دہلیز پر ہونے والی بے انصافی۔ اس کا چہرہ نہیں ہٹتا۔ اس کی تکلیف ان لفظوں سے کہیں بڑھ کر ہے جو لفظ بیان کر سکتے ہیں۔ پانچ سال میں یہ پہلی عید ہے جس پر مجھے اپنا نوحہ، اپنا دکھ ہی یاد نہیں رہا۔ جب شوہرِ محترم کہتے ہیں کہ “آپ بہت بدل گئی ہو” تو میں ان سے یہی کہتی ہوں:
    اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا!!
    راحتیں اور بھی ہیں، وصل کی راحت کے سوا!!
    آپ سب کو پھر بھی، دل کی گہرائیوں سے، عید الاضحیٰ مبارک ہو۔

  • نقلی نوٹ ،اصلی بےحسی ،تحریر: بینا علی

    نقلی نوٹ ،اصلی بےحسی ،تحریر: بینا علی

    آج اخبار میں ایک خبر پڑھی جس نے دل کو اندر تک جھنجوڑ کر رکھ دیا۔پل قمبر منڈی ایک غریب بزرگ نے اپنی بکری 27,000 روپے میں فروخت کی۔وہ شاید دل ہی دل میں خوش تھے کہ اب گھر جا کر بچوں کی ضروریات پوری کریں گے عید کے لیے کچھ سامان لے آئیں گے اور کئی دنوں سے چہرے پر چھائی پریشانی شاید کچھ کم ہو جائے گی۔وہ بکری شاید صرف ایک جانور نہیں تھی وہ اُن کی محنت تھی۔ اُن کی جمع پونجی تھی، اُن کی امید تھی۔

    شاید اُس بزرگ نے اُسے مہینوں پال کر اس دن کا انتظار کیا ہوگا کہ عید قریب آئے گی تو اچھی قیمت مل جائے گی اور گھر کے حالات کچھ بہتر ہو جائیں گے۔مگر افسوس…
    جس شخص نے بکری خریدی اُس نے ان بزرگ کی سادہ لوحی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہاتھ میں نقلی نوٹ تھما دیے۔سوچیے۔۔۔جب وہ بزرگ بازار میں اپنی ضروریات خریدنے گئے ہوں گے۔ کسی دکان دار نے نوٹ ہاتھ میں لے کر غور سے دیکھا ہوگاپھر یہ کہا ہوگا:
    "بابا جی یہ نوٹ تو نقلی ہیں”

    اُس لمحے اُن کے دل پر کیا گزری ہوگی؟کیسے اُن کے قدم لڑکھڑائے ہوں گے؟کیسے اُن کی آنکھوں کی روشنی ایک دم ماند پڑ گئی ہوگی؟شاید چند لمحوں کے لیے اُنہیں یقین ہی نہ آیا ہو کہ اُن کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ ہو گیا ہے۔وہ سوچ رہے ہوں گے کہ اب گھر کیسے جائیں؟بچوں کو کیا جواب دیں؟ گھر والوں کی امید بھری نظریں کیسے برداشت کریں؟
    شاید اُن کے کانوں میں صرف ایک ہی آواز گونجی ہوگی:
    "میری ساری محنت لٹ گئی”

    ذوالحجہ کا مہینہ ہمیں قربانی، رحم، محبت اور انسانیت کا درس دیتا ہے۔مگر افسوس کہ آج لوگ جانور خریدتے ہوئے بھی انسانیت بیچ دیتے ہیں۔خدارا، غریب لوگوں کے ساتھ ایسا ظلم مت کیا کریں۔آپ کے لیے شاید چند ہزار روپے معمولی ہوں مگر ایک سفید پوش انسان کے لیے یہی رقم اُس کے گھر کا چولہا جلاتی ہے، بچوں کی دوائیں بنتی ہے، اور عید کی خوشیوں کا سہارا ہوتی ہے۔یاد رکھیے، مظلوم کی آہ کبھی خالی نہیں جاتی۔اللہ تعالیٰ دیر ضرور کرتا ہے مگر حساب ضرور لیتا ہے۔

    غریب آدمی کا دل دکھا کر شاید وقتی فائدہ تو حاصل کیا جا سکتا ہے،مگر اُس نقصان کا ازالہ کبھی ممکن نہیں ہوتا جو انسان اپنے کردار، اپنی آخرت، اور اپنی انسانیت کو پہنچا دیتا ہے۔یہ صرف فراڈ نہیں تھا
    یہ ایک بوڑھے انسان کی امیدوں، اُس کی محنت، اُس کی عزتِ نفس، اور اُس کے اعتماد کا قتل تھا۔
    اور سچ تو یہ ہے کہ ان بزرگ نے تو چلو ایک وقتی نقصان اٹھایا ہے اوروقت گزرنے کے ساتھ شاید اُن کا یہ زخم کچھ بھر بھی جائے۔لیکن جس شخص نے اُنہیں دھوکہ دیا، جس بیوپاری نے چند ہزار روپے کے لالچ میں ایک غریب انسان کی دعائیں اور اعتماد کھو دیا
    پتہ نہیں اُسے ساری زندگی کتنے بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔کیونکہ مال کا نقصان شاید پورا ہو جاتا ہے۔
    مگر کردار کا نقصان، انسانیت کا نقصان، اور مظلوم کی آہوں کا بوجھ ایسا قرض ہوتا ہے جس کا کوئی ازالہ نہیں ہوتا۔ان بابا جی کو پہچان لیں اور عید کی خوشیوں میں انہیں شامل کریں۔کاش ہم اتنے بے حسی نہ ہوتے۔

  • ملکی صورتحال اور عوام کا کردار،تحریر: بینا علی

    ملکی صورتحال اور عوام کا کردار،تحریر: بینا علی

    عوام کسی بھی ملک کی معاشرت، معیشت اور ترقی کا بنیادی ستون ہوتے ہیں۔ ایک مضبوط اور خوش حال ریاست صرف حکومتی اداروں، قوانین اور پالیسیوں سے قائم نہیں ہوتی بلکہ اس کے پس منظر میں باشعور اور ذمہ دار شہریوں کی مشترکہ کاوشیں شامل ہوتی ہیں۔ اگر عوام ذمہ داری کا احساس کر لیں تو ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے، لیکن اگر ہر شخص صرف اپنے مفاد تک محدود ہو جائے تو بہترین نظام بھی ناکام ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات شدت سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم ایک منظم قوم کے بجائے افراد کا ایک منتشر ہجوم ہیں۔ ہر شخص اپنی ذات کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے۔ اجتماعی مفاد، قومی شعور اور باہمی اتحاد کا فقدان ہماری کمزوری بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بے شمار وسائل اور صلاحیتوں کے باوجود ہم ان مسائل سے دوچار ہیں جو ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ملکی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم اور صحت کی ناکافی سہولیات بدامنی، سیوریج کے ناقص انتظامات، صاف پانی کی قلت، بجلی اور گیس کے مسائل اور بڑھتی ہوئی غربت عوام کے اہم ترین مسائل ہیں۔ روزمرہ اشیائے ضرورت کی قیمتیں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ متوسط اور غریب طبقے کے لیے زندگی کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ والدین بچوں کی تعلیم، گھر کے اخراجات، علاج معالجے اور بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔یہ تمام مسائل بظاہر حکومتی ناکامی کا نتیجہ محسوس ہوتے ہیں لیکن اگر غیر جانب داری سے دیکھا جائے تو ان میں ہماری اجتماعی بے حسی اور غیر ذمہ داری بھی کسی حد تک شامل ہے۔ ہم اپنے حقوق کے لیے آواز تو بلند کرتے ہیں مگر اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی برتتے ہیں۔ قانون کی پاسداری، ٹیکس کی ادائیگی، صفائی ستھرائی، وقت کی پابندی، دیانت داری اور دوسروں کے حقوق کا احترام وہ بنیادی اصول ہیں جن پر معاشرے قائم ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے احتجاج کے نام پر بھی ہمارا طرزِ عمل اکثر ذمہ داری سے عاری ہوتا ہے۔ اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے، لیکن کسی بھی احتجاج کی صورت میں پرتشدد راستہ اختیار کرنا، سڑکیں بند کرنا، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانا، گاڑیوں کو آگ لگانا اور عوامی سہولیات تباہ کرنا کسی طور بھی قابلِ قبول نہیں۔ ایسا طرزِ عمل مسائل کے حل کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے اور قومی خزانے پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے۔ درحقیقت جس ملک کے وسائل پہلے ہی محدود ہوں، وہاں ملکی املاک کو نقصان پہنچانا اپنے ہی مستقبل کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

    ملکی وسائل کا ضیاع بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بجلی، پانی، گیس اور دیگر قدرتی وسائل اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں ہیں، جن کے استعمال میں اعتدال اور ذمہ داری لازم ہے۔ بدقسمتی سے ہم ان وسائل کو بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ غیر ضروری پنکھے اور لائٹس چلتی رہتی ہیں، پانی بہتا رہتا ہے، اور گیس کا بے جا استعمال معمول بن چکا ہے۔ پھر جب قلت پیدا ہوتی ہے تو ہم تمام تر ذمہ داری حکومت پر ڈال دیتے ہیں۔مظفرآباد آزاد کشمیر کی شہری ہونے کے ناطے میں نے خود دیکھا ہے کہ جہاں بجلی کی قیمت نسبتاً کم ہے تقریباً 3 روپے یونٹ وہاں اس سہولت کے باعث ہر دوسرے گھر میں ائیر کنڈیشنر کا استعمال عام ہے۔ سردیوں میں گرم پانی اور کھانا پکانے کے لیے ہیٹرز اور پانی کے ٹینکوں میں برقی راڈز نصب کر دیےجاتے ہیں۔ نتیجتاً بجلی کا غیر معمولی لوڈ بڑھ جاتا ہے اور ٹرانسفارمر بار بار جل جاتے ہیں۔اسی طرح کشمیر میں پانی کی وافر فراوانی کی وجہ سے اکثر گھروں میں پانی کی ٹینکیاں دن رات اوور فلو ہوتی رہتی ہیں۔ پانی مسلسل بہتا رہتا ہے، مگر بہت کم لوگ اس ضیاع کی طرف توجہ دیتے ہیں۔ حالانکہ یہی پانی دنیا کے کئی خطوں میں زندگی اور موت کا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہ کرنا ناشکری کے مترادف ہے اور وسائل کا یہ ضیاع آنے والی نسلوں کے حق پر ڈاکا ڈالنے کے برابر ہے۔ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی بھی ہمارے اجتماعی رویوں کا عکاس ہے۔ ہم چند لمحوں کا انتظار برداشت نہیں کرتے۔ سگنل توڑنا، ہیلمٹ نہ پہننا، اوور اسپیڈنگ کرنا، ون ویلنگ، ون وے کی خلاف ورزی کرنا اور قطار میں لگنے کے بجائے دوسروں کا حق مارنا ہماری عادت بن چکا ہے۔ یہی جلد بازی اور لاپرواہی آئے دن حادثات کا سبب بنتی ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ حادثے کے بعد زخمی کی مدد کرنے کے بجائے بہت سے لوگ ویڈیو بنانے اور سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ صفائی کے معاملے میں بھی ہمارا رویہ دوہرا ہے۔ ہم اپنے گھر تو صاف رکھتے ہیں مگر گلی، بازار اور عوامی مقامات کو گندا کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے۔ کوڑا کرکٹ سڑکوں پر پھینک دینا، نالیاں بند کرنا اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا ہماری عادت بنتی جا رہی ہے۔ حالانکہ صفائی نصف ایمان ہے اور ایک صاف ماحول ہی صحت مند معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔تعلیم اور تربیت کے میدان میں بھی عوام کا کردار انتہائی اہم ہے۔ والدین اگر بچوں کی صرف تعلیمی کامیابی پر نہیں بلکہ اخلاقی تربیت پر بھی توجہ دیں، انہیں سچائی، دیانت داری، احترامِ انسانیت اور وطن سے محبت کا درس دیں، تو یہی بچے مستقبل میں ایک باکردار قوم کی بنیاد بنتے ہیں۔ استاد، والدین اور معاشرہ مل کر نئی نسل کی شخصیت تشکیل دیتے ہیں۔دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی کامیابی کا راز ان کے عوام کے کردار میں پوشیدہ ہے۔جرمنی،جاپان،چائنہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے صرف جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ترقی نہیں کی، بلکہ وہاں کے شہری قانون کی پابندی کرتے ہیں، وقت کی قدر کرتے ہیں اور اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیتے ہیں۔قومیں نعروں، تقریروں اور وعدوں سے نہیں بنتیں بلکہ کردار، نظم و ضبط، قربانی اور احساسِ ذمہ داری سے ترقی کرتی ہیں۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ نظام ہم سے الگ کوئی شے نہیں ہم خود ہی اس نظام کا حصہ ہیں۔ اگر ہر فرد اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کرنا شروع کر دے تو معاشرے میں مثبت تبدیلی خود بخود آنا شروع ہو جاتی ہے۔

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دوسروں کو بدلنے کے انتظار میں بیٹھنے کے بجائے اپنی اصلاح سے آغاز کریں۔ اگر ہم اپنے گھر، گلی، دفتر، سکول اور معاشرے میں دیانت داری، نظم و ضبط، صفائی، قانون کی پابندی اور وسائل کی قدر کو اپنا شعار بنا لیں تو ملکی صورتحال بہتر ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔یاد رکھنا چاہیے کہ اندھیروں کو کوسنے سے بہتر ہے کہ ہر فرد اپنے حصے کا ایک چراغ روشن کرے تو مسائل کے اندھیرے خود بخود چھٹ جائیں گے۔ کیونکہ نظام کا حصہ ہم خود ہیں اور جب عوام کا کردار مثبت ہو جائے تو کوئی طاقت قوم کی ترقی کا راستہ نہیں روک سکتی