Baaghi TV

Category: مسلم دنیا

  • چار گناہ اور چار گناہ گار.  تحریر: احسان الحق

    چار گناہ اور چار گناہ گار. تحریر: احسان الحق

    اللہ تعالیٰ نے اسلام میں وسعت، آسانی اور نرمی رکھی ہے. یہی وجہ ہے کہ اسلام بہترین اور آسان ترین دین اور مذہب ہے. نیکی کی نیت کرنے پر ثواب مل جاتا ہے جبکہ گناہ کی نیت کرنے پر گناہ نہیں لکھا جاتا. یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی رحمت اور دین اسلام میں وسعت اور حسن کا ثبوت ہے.
    یہاں چار مختلف قسم کے گناہ یا گناہ گاروں کے متعلق بات کرتے ہیں.

    گناہ گار کی پہلی قسم ہے کہ بندہ گناہ کرنے کا پکا ارادہ کر لے کہ میں کل یا فلاں دن کو یہ کام کروں گا مگر وہ گناہ کرنا بھول جائے تو ایسے گناہ پر یا ایسے گناہگار پر کوئی گرفت نہ ہوگی. گناہ کرنے کے ارادے پر کوئی گناہ نہیں. مگر اس کے برعکس اگر بندہ نیکی کی نیت کرے اور بھول جائے تو اس کو ثواب ملے گا.

    ایسا گناہ گار جو گناہ کرنے کا مصمم ارادہ کر لے مگر کسی مجبوری، کمزوری، ضعف یا معذوری کی وجہ سے گناہ نہ کر پائے تو اس کو گناہ ہو گا. اس بندے کے اعمال نامے میں اس جرم کا گناہ لکھ دیا جائے گا. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد عالی شان ہے کہ "جب دو مسلمان تلوار لیکر ایک دوسرے کو قتل کرنے کی نیت سے نکلتے ہیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہیں” اصحابِ رسولﷺ نے عرض کیا کہ یارسولﷺ قاتل تو جہنم میں جائے مگر مقتول کیوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مقتول اپنی کمزوری کی وجہ سے اس کو قتل نہیں کر پایا وگرنہ یہ بھی دوسرے کو قتل کرنے کے ارادے سے آیا تھا.

    اس حوالے سے تیسرا گناہ گار وہ ہے جو گناہ کرنے کا ارادہ کر لے مگر عین وقت پر اخلاص دل سے اور اللہ تعالیٰ کے خوف سے اس گناہ سے دستبردار ہو جائے تو ایسے بندے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر عظیم ہے. جیسا کہ صحیح بخاری میں بنی اسرائیل کا مشہور واقعہ ہے جس میں ایک غار کا دروازہ بہت بڑی چٹان سے بند ہو جاتا ہے اور تین لوگ اندر محصور ہو جاتے ہیں. ان تین محصورین میں سے ایک ایسا بندہ بھی تھا جو 120 دینار کے بدلے بدفعلی والا کام عین وقت پر اللہ تعالیٰ کے خوف سے ترک کر دیتا ہے. وہ اپنے اس نیکی والے کام کا واسطہ دے کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتا ہے تو غار کے دروازے سے پتھر ہٹ جاتا ہے. اسی طرح مسند احمد میں کفل نامی بندے کا واقعہ بھی تفصیل سے موجود ہے جس کے دروازے پر اللہ تعالیٰ لکھ دیتے ہیں کہ آج رات کفل کے سارے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں. 60 یا 70 دینار کے بدلے کفل کسی مجبور عورت کے ساتھ بدفعلی کرنے سے چند لمحے پہلے اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے برائی سے دستبردار ہو جاتے ہیں اور اسی رات کفل کا انتقال ہو جاتا ہے.

    چوتھا گناہ گار ایسا گناہ گار ہے جو اپنے ارادے کے مطابق گناہ کر گزرتا ہے تو اس کے نامہ اعمال میں ایک گناہ لکھ دیا جاتا ہے. یہ بھی اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے کہ ایک گناہ کے بدلے ایک گناہ جبکہ ایک نیکی کے بدلے 10 نیکیاں ملتی ہیں. خلوص نیت کے مطابق ان نیکیوں میں 70 گنا سے 700 گنا تک اضافہ ہو سکتا ہے یا اس سے بھی زیادہ جتنا اللہ تعالیٰ چاہیں.

    @mian_ihsaan

  • مقدسہ مقامات  کی زیارت  مسجد البیعہ تحریر: محمد آصف شفیق

    مقدسہ مقامات کی زیارت مسجد البیعہ تحریر: محمد آصف شفیق

    مستقل جدہ فروری 2020 میں شفٹ ہوا ، آتے ہیں کورونا لاک ڈاون شروع ہوگیا ، بہت شدید لاک ڈاون میں ہی رمضان المبارک بھی آیا اور زندگی میں پہلی بار نماز تراویح گھر میں ادا کی ایک کمرے کے ساتھی ایک میں اور ایک پڑوسی ٹوٹل تین افراد ہی جاننے والے تھے بلڈنگ میں تو تینوں مل کر نمازیں اور تراویح گھر میں ادا کرتے رہے اور نماز عید بھی گھر میں ادا کی ، ہر اذان میں کہا جاتا کہ نماز گھروں میں ادا کریں وقت پر اذان ہوتی مگر کوئی یارا نہ تھا گھر میں نماز ادا کرنے کے علاوہ فیملی بھی پاکستان میں تھی شہر بھی نیا اور اوپر سے لاک ڈاون نہ کوئی جاننے والا نہ کوئی بات کرنے والا ایک عجیب نفسیاتی مریضوں جیسی کیفینت بن گئی تھی آفس سے گھر اور پھر گھر آکر بندہو جانا کئی دن تو 24 گھنٹے کے لاک ڈاون میں گزرے ، اسی دوران ایک شہر سے دوسرے شہر جانے پر بھی پابندی لگا دی گئی ، کچھ عرصہ بعد نرمی شروع ہوئی تو ایک شہر سے دوسرے شہر جایا جا سکتا تھا مگر حرم میں جانے کی اجازت نہیں تھی جدہ سے مکہ جایا جاسکتا تھا
    دوستوں کے ساتھ مکہ جانے کا پروگرام بن گیا اس بار ہماری منزل منیٰ میں جمرہ عقبہ کے قریب موجود "مسجد البیعہ "تھی سیکیورٹی کی وجہ سے تقریباً تمام راستے بند تھے گاڑی تھوڑی دور پارک کی اور سکیورٹی پر معمور افراد سے مسجد تک پیدل جانے اور جلد واپس آجانے کے وعدے پر اجازت لی جو کچھ پس و پیش کے بعد مل گئی اور ساتھ ماسک لگا کر رکھنے اور دوستوں کے درمیان سماجی فاصلہ برکرار رکھنے کی یاددہانی بھی کروادی گئی جو سب نے سر ہلاکر قبول کرلی
    مسجد البیعہ جمرہ عقبہ (بڑے شیطان ) سے صرف تین سو میٹر کی دوری پر ہے چار دیواری موجود ہے مگر بغیر چھت کے مسجد ہے اور سائیڈ کی دیواروں میں کچھ قدیم تحریریں جو کہ پتھروں پر لکھی ہیں موجود ہیں
    مسجد کے ساتھ ساتھ درجنوں ٹوٹیاں پانی پینے کیلئے لگی ہیں چونکہ حج کے دوران بہت رش ہوتا ہے اس لئے حاجیوں کی سہولت کیلئے پانی کا مستقل انتظام کیا گیا ہے لاک ڈاون کی وجہ سے آج ہمارے علاوہ یہاں کوئی بندہ بشر موجود نہیں تھا مگر جب پانی چیک کیا تو الحمد اللہ پانی آرہا تھا مگر شدید گرم اسی گرم پانی سے وضو کیا اور بسم اللہ پڑھ کر مسجد میں داخل ہوئے ، مسلمانوں نے مسجد البیعہ کے محراب کو بھی نہیں بخشا اپنے مزاج کے عین مطابق کچھ نہ کچھ تحریر کر گئے جو کہ بالکل بھی مناسب بات نہیں
    جب نبی کریم ﷺ کو دین اسلام کی دعوت اعلانیہ پیش کرنے کا حکم آیا تو نبی کریم ﷺ نے حج کیلئے آنے والے افراد اورقبائلی سرداروں کو اپنی دعوت پیش کرنی شروع کی ، بعثت کے دسویں سال آپ ﷺکی ملاقات مدینہ منورہ سے آئے ہوئے 6افراد سے جمرہ عقبہ کے قریب جبل ثبیر کی گھاٹی میں ہوئی اور انہوں نے آپ ﷺ کی دعوت پر لبیک کہا اور واپس مدینہ منورہ پہنچ کر اوس اور خزرج کے قبائل تک دین حق کی دعوت پہنچائی ، نبوت کے 12 ویں سال 12 افراد حج پر آئے اور آپ ﷺ سے جمرہ عقبہ کے قریب بالکل اسی مقام پر ملاقات کی اور بیعت کی اور یہ بیعت ” بیعت عقبہ اولی ٰ ” کہلاتی ہے اسی جگہ پر یہ مسجد موجود سے جسے مسجد البیعہ کہا جاتا ہے
    نبوت کے 13 ویں سال مدینہ منورہ سے 75 خواتین اور مرد آئے انہوں نے ہر حال میں نبی کریم ﷺ کا ساتھ دینے اچھائی کی تلقین اور برائی سے روکنے پر آپ ﷺ کی بیعت کی یہ ہی وہ جگہ ہے جہاں سال ہا سال سے جنگ و جدل میں مصروف دونوں قبائل اوس اور خزرج نے اپنی صدیوں پرانی دشمنی کو خیر باد کہا اور صلح اور امن کا معاہدہ کیا اس معاہدے میں اوس و خزرج کے علاوہ مدینہ میں بسنے والے یہود بھی شامل تھے یہ دوسری بیعت تھی ، دوسری بیعت ہی اصل میں اس عظیم الشان اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کا پیش خیمہ ثابت ہے اس بیعت کے کچھ عرصہ بعد نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی اور پہنچتے ہی سب سے پہلے جو کام کیا گیا وہ مسجد قباء کی تعمیر تھی جس کا ذکر گزشتہ تحریر میں تفصیل سے آچکا ہے
    ہم اللہ رب العالمین سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں نبی کریم ﷺ کی سب سنتوں پر عمل کرنے والا سچا مسلمان بنا دے ، آمین یا رب العالمین

    جدہ – سعودیہ
    @mmasief

  • جہاد ہی میں عزت ہے – عمران محمدی

    جہاد ہی میں عزت ہے – عمران محمدی

    جہاد ہی میں عزت ہے
    بقلم: عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    تمہارے لیے جہاد سب سے بہتر ہے
    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
    نکلو ہلکے اور بوجھل اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کرو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔
    التوبة : 41

    اور فرمایا
    كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
    تم پر لڑنا لکھ دیا گیا ہے، حالانکہ وہ تمھیں سراسر نا پسند ہے اور ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمھارے لیے بہتر ہو اور ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو پسند کرو اور وہ تمھارے لیے بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
    البقرة : 216

    *جہاد،دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب، غموں اور پریشانیوں سے بچنے کا زریعہ ہے*

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا میں تمھاری ایسی تجارت کی طرف رہنمائی کروں جو تمھیں دردناک عذاب سے بچا لے ؟
    الصف : 10
    تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
    تم اللہ اور اس کے رسو ل پر ایمان لاؤ اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔
    الصف : 11

    عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ” جَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَإِنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، يُنَجِّي اللَّهُ بِهِ مِنَ الْهَمِّ وَالْغَمِّ ”
    مسند احمد 22172
    اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرو کیونکہ جہاد فی سبیل اللہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اللہ تعالیٰ اس کے زریعے غم اور پریشانی سے نجات دیتا ہے

    *جہاد ،اقامت دین اور حفاظت اسلام کا بہترین زریعہ ہے*

    ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ” أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ، حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ، إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ ".
    (بخاري كِتَابُ الإِيمَانِ، بَابٌ: {فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلاَةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ} [التوبة: 5]،25)
    ۔ مجھے ( اللہ کی طرف سے ) حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں اس وقت تک کہ وہ اس بات کا اقرار کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز ادا کرنے لگیں اور زکوٰۃ دیں، جس وقت وہ یہ کرنے لگیں گے تو مجھ سے اپنے جان و مال کو محفوظ کر لیں گے، سوائے اسلام کے حق کے۔ ( رہا ان کے دل کا حال تو ) ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔

    جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ” لَنْ يَبْرَحَ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ”
    مسلم 1922
    یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا اور اس کے دفاع کیلئے ہمیشہ ایک جماعت قتال کرتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی

    ابو بكر الصديق رضی اللہ عنہ نے فرمایا
    وَاللهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ، وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ
    (مسلم، كِتَابُ الْإِيمَانِ،بَابُ الْأَمْرِ بِقِتَالِ النَّاسِ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ،124)
    اللہ کی قسم ! میں ان لوگوں سے جنگ کروں گا جو نماز او رزکاۃ میں فرق کریں گے ، کیونکہ زکاۃ مال (میں اللہ) کا حق ہے ۔ اللہ کی قسم ! اگر یہ لوگ (اونٹ کا) پاؤں باندھنے کی ایک رسی بھی روکیں گے ،جو وہ رسول اللہ ﷺ کو دیا کرتے تھے تو میں اس کے روکنے پر بھی ان سے جنگ کروں گا ۔

    *جہاد، مومنین کے سینوں کو ٹھنڈا اور ان کے دلوں کا غصہ دور کرتا ہے*

    اللہ تعالیٰ نے فرمایا
    قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ
    ان سے لڑو، اللہ انھیں تمھارے ہاتھوں سے عذاب دے گا اور انھیں رسوا کرے گا اور ان کے خلاف تمھاری مدد کرے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا دے گا۔
    التوبة : 14
    وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
    اور ان کے دلوں کا غصہ دور کرے گا اور اللہ توبہ کی توفیق دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
    التوبة : 15

    *اکٹھی پانچ بشارتیں*

    ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے عہد توڑنے والے کفار سے لڑنے کی صورت میں مسلمانوں کے ساتھ پانچ وعدے کیے ہیں

    1 اللہ تعالیٰ تمھارے ہاتھوں انھیں عذاب دے گا، جو کفار کے قتل، زخمی، قید ہونے اور ان سے مال غنیمت کے حصول کی صورت میں ہو گا

    2 دوسرا یہ کہ ’’ يُخْزِهِمْ ‘‘ انھیں رسوا کرے گا، ان کی فوجی قوتوں کا گھمنڈ توڑ کر ان کی حکومت کی عزت خاک میں ملا کر انھیں ذلیل و رسوا کرے گا

    3 تیسرا یہ کہ ’’ وَ يَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ ‘‘ ان کے خلاف تمھاری مدد کرے گا اور تمھیں غلبہ عطا کرے گا۔
    اسے الگ اس لیے ذکر فرمایا کہ ہو سکتا تھا کہ کفار تو ذلیل ہو جائیں مگر مسلمانوں کے ہاتھ بھی کچھ نہ آئے۔

    4 چوتھا یہ کہ ’’وَ يَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُؤْمِنِيْنَ‘‘ تمھارے ان سے لڑنے اور غلبہ پانے سے ان مومنوں کے سینوں کو شفا ملے گی جو ان کفار موذیوں کے ہاتھوں ظلم و ستم سہتے رہے۔

    5 پانچواں یہ کہ ’’ وَ يُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ ‘‘ ان کے دلوں کے غصے کو دور کرے گا۔
    (تفسیرالقرآن الکریم از استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ تعالیٰ)

    حافظ صاحب مزید لکھتے ہیں
    دنیا بھر کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے واقعات سن کر دل میں غصہ تو آتا ہی ہے، جیسے اب بھارت وکشمیر، فلسطین و فلپائن، برما، عیسائی اور کمیونسٹ ممالک میں مسلمانوں پر ظلم کی داستانیں سن کر دل کو غصہ آتا ہے، کفار پر فتح یاب ہونے سے اس غصے کا بھی مداوا ہوتا ہے

    *جہاد کی تیاری سے دشمن مرعوب ہوکر دب جاتا ہے اور امت محفوظ ہوجاتی ہے*

    فرمایا اللہ تعالیٰ نے
    وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِنْ دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ
    اور ان کے لیے جتنی کر سکو قوت کی صورت میں اور تیار بندھے گھوڑوں کی صورت میں تیاری رکھو، جس کے ساتھ تم اللہ کے دشمن کو اور اپنے دشمن کو ڈرائو گے اور ان کے علاوہ کچھ دوسروں کو بھی جنھیں تم نہیں جانتے، اللہ انھیں جانتا ہے اور تم جو چیز بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے وہ تمھاری طرف پوری لوٹائی جائے گی اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
    الأنفال : 60

    اس آیت مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے ہمارے استاذ گرامی لکھتے ہیں
    یعنی اس قدر مضبوط تیاری رکھو کہ اللہ کا دشمن اور تمھارا دشمن اور تمھارے ساتھ کد رکھنے والا ہر شخص تم سے خوف زدہ رہے اور لڑنے کی جرأت ہی نہ کر سکے۔ ان واضح دشمنوں میں مشرکین، یہود و نصاریٰ اور جانے پہچانے منافق سب شامل ہیں۔نیز مسلمانوں کی صفوں میں کفار کے چھپے ہوئے ہمدرد منافق بھی شامل ہیں۔
    علاوہ ازیں کئی اقوام جو بظاہر اس وقت تمھارے خلاف نہیں، مگر موقع پانے پر دل میں تم سے لڑائی کا ارادہ رکھتی ہیں، تمھاری مکمل تیاری اور ہر وقت جہاد میں مصروف رہنا سب کو خوف زدہ رکھے گا

    *جہاد، مظلوموں کی مدد کا اہم راستہ ہے*

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا
    اور تمھیں کیا ہے کہ تم اللہ کے راستے میں اور ان بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال لے جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنا دے اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی مدد گار بنا۔
    النساء : 75

    اور فرمایا
    أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ
    ان لوگوں کو جن سے لڑائی کی جاتی ہے، اجازت دے دی گئی ہے، اس لیے کہ ان پر ظلم کیا گیا اور بے شک اللہ ان کی مدد کرنے پر یقینا پوری طرح قادر ہے۔
    الحج : 39

    *جہاد چھوڑنے سے ذلت اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہوتی ہے*

    سیدنا ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے
    ” إِذَا تَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ ، وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ، وَرَضِيتُمْ بِالزَّرْعِ، وَتَرَكْتُمُ الْجِهَادَ ؛ سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ ذُلًّا لَا يَنْزِعُهُ حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى دِينِكُمْ ”
    (ابو داؤد، کِتَابُ الْإِجَارَةِ،بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنْ الْعِينَةِ،3462صحیح)
    ” جب تم عینہ کی بیع کرنے لگو گے ، بیلوں کی دمیں پکڑ لو گے ، کھیتی باڑی ہی پر مطمئن ہو جاؤ گے اور جہاد چھوڑ بیٹھو گے تو اللہ تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا جو کسی طرح زائل نہ ہو گی حتیٰ کہ تم اپنے دین کی طرف لوٹ آؤ ۔ “

    اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    إِلَّا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيْئًا وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
    اگر تم نہ نکلو گے تو وہ تمھیں دردناک عذاب دے گا اور بدل کر تمھارے علاوہ اور لوگ لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نقصان نہ کرو گے اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
    التوبة : 39

    *امت مسلمہ کی معاشی ترقی جہاد سے ہی وابستہ ہے*

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ” جُعِلَ رِزْقِي تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِي، وَجُعِلَ الذِّلَّةُ وَالصَّغَارُ عَلَى مَنْ خَالَفَ أَمْرِي ”
    بخاري،معلقا تحت الحديث 2757
    مسند احمد، 5093
    میرا رزق میرے نیزے کے سائے تلے رکھ دیا گیا ہے اور جو میرے حکم کی مخالفت کرے گا اس پر ذلت اور رسوائی مسلط کر دی گئی ہے

    اور اللہ تعالیٰ اسی جہاد کے مفید اثرات کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں
    وَأَوْرَثَكُمْ أَرْضَهُمْ وَدِيَارَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ وَأَرْضًا لَمْ تَطَئُوهَا وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرًا
    اور تمھیں ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے مالوں کا وارث بنادیا اور اس زمین کا بھی جس پر تم نے قدم نہیں رکھا تھا اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
    الأحزاب : 27

    *جہاد اور مسلمانوں کی تعداد*

    جہاد کی فرضیت سے پہلے تیرہ سالہ مکی اور ایک سالہ مدنی زندگی میں بھرپور دعوتی سرگرمیوں اور جد و جہد کے باوجود جب بدر کی جنگ ہوئی تو اس میں 313 مسلمان شامل تھے اور شاید کہ تب تک مجموعی تعداد 1000 سے متجاوز نہ ہو گی
    لیکن اس جنگ کے ثمرات دیکھیں کہ ٹھیک ایک سال بعد تعداد اس سے ڈبل ہوجاتی ہے اور اس کے چھ سال بعد جب مکہ فتح کیا تو بچوں، بوڑھوں، معذوروں اور خواتین کے علاوہ صرف لشکر اسلام کی تعداد دس ہزار تھی
    پندرہ دن بعد حنین و ہوازن کی طرف رخ کیا تو یہی لشکر 12 ہزار نفوس پر مشتمل تھا اور اس کے ایک سال بعد تبوک کی طرف روانگی ہوئی تو اسلامی لشکر 30 ہزار جنگجوؤں کی تعداد میں تھا
    عزت و قوۃ کے یہ سب مظاہر جہاد فی سبیل اللہ کے ثمرات ہیں

    اسی فتح، نصرت اور جہاد کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ
    جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے۔
    النصر : 1
    وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا
    اور تو لوگوں کو دیکھے کہ وہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں۔
    النصر : 2
    فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا
    تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور اس سے بخشش مانگ، یقینا وہ ہمیشہ سے بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔
    النصر : 3

    ہمارے حافظ صاحب لکھتے ہیں
    *جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے مکہ فتح فرما دیا تو وہ فوج در فوج اسلام میں داخل ہو گئے۔ اس کے بعد دو سال نہیں گزرے تھے کہ سارا عرب مسلمان ہو گیا اور تمام قبائل میں کوئی ایسا شخص نہ تھا جو اسلام کا اقرار نہ کرتا ہو۔*
    تفسیر القرآن الكريم از استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ تعالیٰ

    *ایک ایک آدمی کو تین تین سو اونٹ دے دیئے گئے*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین میں خونریز جنگ کی، اللہ نے اپنے دین کو اور مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی
    40 ہزار بکریاں
    24 ہزار اونٹ
    6 ہزار قیدی
    اور اس کے علاوہ بے شمار نقدی، سونا چاندی مسلمانوں کے ہاتھ آیا

    صحیح مسلم میں ہے
    وَأَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ مِائَةً مِنَ النَّعَمِ ثُمَّ مِائَةً ثُمَّ مِائَةً
    اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سو اونٹ عطا فرمائے ،پھر سواونٹ پھر سواونٹ۔

    صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا :
    «وَاللهِ لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَانِي، وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ، فَمَا بَرِحَ يُعْطِينِي حَتَّى إِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ»
    (مسلم، كِتَابُ الْفَضَائِلِ،بَابُ حُسنِ خُلُقِهِ النبي صلى الله عليه وسلم، 6022)
    اللہ کی قسم!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو عطا فر ما یا ،مجھے تمام انسانوں میں سب سے زیادہ بغض آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا ۔پھر آپ مجھے مسلسل عطا فرما تے رہے یہاں تک کہ آپ مجھے تمام انسانوں کی نسبت زیادہ محبوب ہو گئے

    ایسے ہی آپ نے
    ابوسفیان بن حرب اور اس کے بیٹے یزید و معاویہ کو سو سو اونٹ عطا کیئے
    ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو 100 اونٹ
    ان کے بیٹے یزید رضی اللہ عنہ کو 100 اونٹ
    دوسرے بیٹے معاویہ رضی اللہ عنہ کو 100 اونٹ

    حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو 200 اونٹ عطا فرمائے
    بحوالہ الرحیق المختوم

    یہ سب جہاد فی سبیل اللہ کی بدولت ممکن ہوا

    *دوپہاڑوں کے درمیان(چرنے والی) بکریاں ایک ہی شخص کو دے دیں*

    انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
    آپ فرماتے ہیں
    ” مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ، قَالَ: فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ: يَا قَوْمِ أَسْلِمُوا، فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءً لَا يَخْشَى الْفَاقَةَ ”
    (مسلم، كِتَابُ الْفَضَائِلِ،بَابُ حُسنِ خُلُقِهِ النبي صلى الله عليه وسلم، 6020)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام (لا نے) پر جوبھی چیز طلب کی جا تی آپ وہ عطا فر ما دیتے ،کہا: ایک شخص آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہاڑوں کے درمیان(چرنے والی) بکریاں اسے دے دیں ،وہ شخص اپنی قوم کی طرف واپس گیا اور کہنے لگا : میری قوم !مسلمان ہو جاؤ بلا شبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنا عطا کرتے ہیں کہ فقر وفاقہ کا اندیشہ تک نہیں رکھتے۔

    *5 کروڑ 61 لاکھ 60 ہزار روپے کا سالانہ بجٹ*

    عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں :
    ’’جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خمس میں سے ہر بیوی کو اسّی (۸۰) وسق (دو سو چالیس من) کھجوریں اور بیس (۲۰) وسق (ساٹھ من) جو دیا کرتے تھے (اور یہ وظیفہ آپ کی وفات کے بعد بھی جاری رہا)۔‘‘
    [ أبو داوٗد، الخراج، باب ما جاء في حکم أرض خیبر : ۳۰۰۶، و قال الألباني حسن الإسناد ]

    کھجور اچھی بھی ہوتی ہے درمیانی بھی ہوتی ہے اور ناقص بھی
    اگر ہم اوسط ریٹ فی کلو 500 کے مطابق بھی حساب کریں تو 80 وسق یعنی 300 من کھجور (جوکہ 12000 کلو بنتی ہے) 60 لاکھ روپے مالیت ہے

    اور 20 وسق یعنی 75 من جو (جوکہ 3000 کلو بنتے ہیں)
    فی کلو جو کا اوسط ریٹ 80 روپے ہے
    75 من جو تقریباً 2 لاکھ 40 ہزار روپے کے بنتے ہیں

    گویا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہر زوجہ محترمہ کو ٹوٹل 62 لاکھ 40 ہزار روپے سالانہ دیا کرتے تھے

    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیک وقت 9 ازواج مطہرات موجود رہی ہیں

    اس حساب سے 9 بیویوں کا سالانہ خرچ 5 کروڑ 61 لاکھ 60 ہزار روپے بنتا ہے

    کیا دنیا میں کوئی شخص اتنا مالدار پایا گیا ہے جو اپنی بیویوں کو اتنی بھاری رقم سالانہ جیب خرچ کے طور پر دیتا ہو ❓

    نوٹ، ایک وسق تقریباً 3 من 30 کلو کا ہوتا ہے

    *5 کروڑ 40 لاکھ روپے کا بجٹ*

    خلفائے راشدین کے زمانے میں روم و شام، مصر اور فارس فتح ہوئے، تو امہات المومنین میں سے ہر ایک کا سالانہ وظیفہ بارہ ہزار درہم مقرر ہو گیا، جو تقریباً ایک ہزار دینار (ساڑھے چار کلو یعنی 450 تولہ سونے) کے برابر تھا۔ جوکہ(موجودہ سونے کے ریٹ 1 لاکھ 20 ہزار روپے فی تولہ کے حساب سے) 5 کروڑ 40 لاکھ روپے مالیت کے برابر ہے یہ الگ بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کی برکت سے ان کی ایسی تربیت ہوئی تھی کہ وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتی تھیں
    اور اسی زندگی پر قناعت کرتیں جو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا پر ترجیح دیتے ہوئے اختیار کی تھی

    *ہر بچے کا وظیفہ مقرر کیا جانے لگا*

    تاریخ کی یادوں میں یہ بات معروف ہے کہ عھد فاروقی میں مسلمانوں کے ہربچے کا وظیفہ بیت المال سے جاری کردیا جاتا تھا

    اور یہ وہ وقت تھا جب مسلمانوں کا کوئی خلیفہ افق پر چھائے ہوئے بادلوں کو جب برسے بغیر واپس جاتے ہوئے دیکھتا تو انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرماتا تم جہاں کہیں بھی برسو گے آخر تمہارا خراج تو میرے پاس ہی آئے گا

    *فتوحات کا سیل رواں*

    مولانا اقبال کیلانی صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب "جہاد کے مسائل” کے مقدمہ میں بڑی خوبصورت ترتیب سے چند فتوحات کا تذکرہ کیا ہے

    آپ لکھتے ہیں
    عہد صدیقی 632 ء تا 635 ء (دورانیہ تقریباً اڑھائی سال)
    اس دوران حیرہ اور عراق فتح ہوئے جھوٹے مدعیان نبوت، مرتدین، اور منکرین زکوٰۃ کا خوب بندوبست کیا گیا

    عہد فاروقی 635ء تا 645ء
    635ء میں اسلامی فوجیں ایران میں داخل ہوئیں اور 642ء تک (صرف 7 سالوں میں) قادسیہ، مدائن، جلولاء، حلوان، خوزستان، اصفہان،ہمدان، رے، طبرستان، آزربائیجان، آرمینیا، کرمان اور خراسان فتح ہوئے
    دوسری طرف
    635ء میں دمشق
    636ء میں حمص، انطاکیہ، بیت المقدس
    638ء میں پورا ملک شام فتح ہوا
    641ء میں مصر
    647ء میں تیونس
    653ء میں الجزائر، یونان اور قبرص
    670ء میں قیروان
    674ء میں بخارا
    675ء میں سمر قند فتح ہوا
    693ء میں اسلامی فوجیں ساحل اطلس تک پہنچ چکی تھی
    700ء میں ایشیاء کوچک میں داخل ہوئیں
    711ء میں ایک طرف طارق بن زیاد نے سپین اور آدھا فرانس فتح کرلیا تھا تو دوسری طرف محمد بن قاسم کراچی سے ملتان تک اسلامی پھریرا لہرا رہا تھا
    809ء میں کارسیکا
    810ء میں سارڈینا
    823ء میں کریٹ
    826ء میں سسلی
    846ء میں جنوبی اٹلی اور
    870ء میں مالٹا مسخر ہوا

    *جہاد کی برکت سے صرف 200 سال میں بحر اسود سے لیکر ملتان تک اور سمرقند سے لیکر فرانس تک 90 لاکھ مربع میل پر اسلامی پھریرا لہرا رہا تھا*

    *بقول اقبال رحمۃ اللہ علیہ*

     تیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں
     خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا

     مغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماری
     تھمتا نہ تھا کسی سے سیلِ رواں ہمارا

    اور آپ نے مزید لکھا

     تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں
    خشکیوں میں کبھی لڑتے، کبھی دریاؤں میں
     دِیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں
     کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں
     شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہاںداروں کی
     کلِمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی

     ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اَڑ جاتے تھے
     پاؤں شیروں کے بھی میداں سے اُکھڑ جاتے تھے
     تجھ سے سرکش ہُوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے
     تیغ کیا چیز ہے، ہم توپ سے لڑ جاتے تھے
     نقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نے
     زیرِ خنجر بھی یہ پیغام سُنایا ہم نے

    *جہاد کی تازہ بشارتیں*

    فی زمانہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جہاد فی سبیل اللہ میں کس قدر خیر اور برکت رکھی ہے

    1️⃣ یہ کل کی بات ہے جب امریکہ بپھرے ہوئے سانڈ کی طرح اپنے پورے لاؤ لشکر سمیت 100 سے زائد ملکوں کو ساتھ لیئے نہتے افغانستان پر چڑھ دوڑا تھا اور اس وقت کے امریکی صدر نے کہا تھا کہ یہ تو ہمارے سامنے چار گھنٹے نہیں ٹھہر سکتے
    مگر چشم فلک نے اپنی آنکھوں سے دیکھا وہی امریکہ صرف 20 سال کے مختصر عرصے میں راتوں رات ایسے بھاگا کہ سیکیورٹی پر مامور افغان فورسز کو بھی معلوم نہیں ہونے دیا

    اور تاریخ میں مسلمانوں کے خلاف اتنے بڑے صلیبی اتحاد کی مثال نہیں ملتی لیکن مزے کی بات ہے کہ اتنی بڑی ذلت آمیز شکست کی مثال بھی شاید کہیں نہیں ملے گی

    2️⃣ اگر تھوڑا پیچھے چلیں تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ امریکہ بہادر کو ہزیمت سے دوچار کرنے والے یہ مجاہدین امریکہ کی آمد سے صرف 11 سال پہلے دنیا کی بہت بڑی سپر پاور روس کو شکست کے مزے چکھا کر ابھی پوری طرح سے تازہ دم بھی نہیں ہوئے تھے

    3️⃣ اور لطف کی بات یہ ہے کہ اس سرخ ریچھ کے آنے سے صرف 60 سال قبل انہی مجاہدین کے آباؤ اجداد ایک ایسی سپر پاور کو ناکوں چنے چبوا چکے ہیں جو اپنے آپ کو برطانیہ عظمی کہلواتی تھی اور "عظمی” کا لاحقہ لگانے کی وجہ یہ تھی کہ ان کی سلطنت میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا لیکن آج وہی برطانیہ سکڑ کر افغانستان سے بھی چھوٹا ہوگیا ہے اور "عظمی” تو دور کی بات "برطانیہ” بھی نہیں رہا اس کی جگہ "انگلینڈ” نے لے لی ہے

    *گویا 1919 تا 2021 صرف ایک صدی میں جہاد کی برکت سے ایک ایسی قوم نے تین سپر پاوریں ڈھیر کردیں کہ جنہیں ڈھنگ سے کپڑے بھی استری کرنے نہیں آتے*

    4️⃣ اگر بنظر عمیق دیکھا جائے تو برصغیر سے انگریز کا نکلنا اور وطن عزیز پاکستان کا قیام پزیر ہونا کسی سیاسی یا جمہوری جدوجہد نہیں بلکہ جہاد فی سبیل اللہ کا عظیم ثمرہ ہے
    (ان شاء اللہ اس موضوع پر جلد ہی لکھنے کا ارادہ ہے جس میں دلائل سے یہ بات ثابت کی جائے گی کہ قیام پاکستان، جہاد فی سبیل اللہ سے ہی ممکن ہوا ہے)

    5️⃣ جہاد افغانستان سے وطن عزیز پاکستان میں خوشحالی، فراوانی اور آسودگی پیدا ہوئی ہے اگر ہم 1980 سے پہلے کے حالات کا جائزہ لیں تو ہمیں وہ بہت سی نعمتیں اور سہولیات نظر نہیں آئیں گی جنہیں ہم آج استعمال کر رہے ہیں
    صرف چینی اور آٹے کی کیفیت ملاحظہ فرمائیں لوگ لائنوں میں کھڑے ہو کر آٹا حاصل کرتے تھے اور چینی تو صرف سرکاری ڈیپو سے ہی ملا کرتی تھی اور وہ بھی محدود مقدار میں کہ کوئی اس سے زیادہ نہیں لے سکتا تھا اور اس کے لیے بھی پہلے کارڈ بنوانے پڑتے تھے
    گویا اس جہاد کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ایک طرح سے قحط سالی کا خاتمہ کیا

    6️⃣ اگر یہ بات کہوں کہ وطن عزیز پاکستان کو ایٹم بم کی شکل میں بے پناہ قوۃ بھی اسی روسی جہاد کی بدولت حاصل ہوئی ہے تو مبالغہ نہیں ہوگا
    کیونکہ اللہ تعالیٰ نے روس کے خلاف لڑنا پوری دنیا کی مجبوری بنا دیا تھا جس کی وجہ سے سب لوگ پاکستان کے محتاج تھے اور یہی وہ حالات تھے جن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عالمی طاقتوں کے ناچاہتے ہوئے بھی ایٹمی پروگرام پایا تکمیل تک پہنچایا گیا ورنہ نارمل حالات میں یہ ممکن ہی نہیں تھا

    7️⃣ اور پھر امریکہ کے خلاف ہونے والے جہاد 2001 سے پہلے اور بعد کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو بہت فرق نظر آتا ہے
    وطن عزیز پاکستان میں نظر آنے والی بہترین سڑکیں، اعلی کوالٹی کی گاڑیاں، انڈسٹریل پروگریس، بڑھتا ہوا تجارتی حجم، اور افواج پاکستان کی دسترس میں آنے والی جدید ٹیکنالوجی، اسلحہ اور پاکستان کا مضبوط ہوتا ہوا دفاع 2001 سے پہلے کہاں نظر آتا تھا

    8️⃣ اسی کی دہائی میں وطن عزیز پاکستان کے اندر سوشلزم کا نظریہ بڑی تیزی سے پروان چڑھ رہا تھا روٹی کپڑا اور مکان کے بظاہر خوبصورت نعرے کی آڑ میں اسے نافذالعمل بنانے کے منصوبے تشکیل دیئے جا رہے تھے کوئٹہ اور پشاور جیسے شہروں میں جگہ جگہ سرخ انقلاب کے حق میں وال چاکنگ نظر آتی تھی بہت سے لوگ اپنے آپ کو کامریڈ یا سرخے کہلوانے میں فخر محسوس کرتے تھے قریب تھا کہ پاکستان سوشل ازم کی گود میں چلا جاتا مگر جہاد کی برکت دیکھئے کہ وطن عزیز میں ایک گولی چلائے بغیر کیسے اس ممکنہ انقلاب کو الٹ کر رکھ دیا گیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ خود ماسکو میں بھی اسے راندہ درگاہ قرار دیا گیا

    9️⃣ اسی کی دہائی سے پیچھے چلیں جائیں تو وطن عزیز پاکستان میں داڑھی، ٹوپی، پگڑی اور برقعے کے وہ مظاہر نظر نہیں آتے جو آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کوئی بڑا عالم ہوتا تو شاید اس کے چہرے پر داڑھی نظر آتی تھی یا پھر کوئی بوڑھا داڑھی رکھ لیتا نوجوانوں میں تو اس بات کا تصور بھی نہیں تھا
    آدھے رخسار تک پہنچتی ہوئی لمبی لمبی قلمیں رکھنے کا رواج عام تھا اور شلوار ٹخنوں سے اوپر کرنا تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا
    مگر اس کے بعد سے اب تک روزبروز یہ تعداد بڑھتی ہی چلی جارہی ہے
    نوجوانوں کے چہرے داڑھی سے سجتے سنورتے نظر آرہے ہیں اور یہی شرح نمو برقعے اور پردے کی ہے
    یہ تصور عام تھا کہ نماز، آذان اور مسجد میں جانا تو بوڑھوں کا کام ہے مگر اب اللہ کے فضل سے مساجد میں نوجوانوں کی بڑی تعداد دکھائی پڑتی ہے

    🔟 آپ حیران ہوں گے کہ روسی اور امریکی دونوں حملوں کا اصل ٹارگٹ اسلام اور مساجد و مدارس کو کنٹرول بلکہ ختم کرنا تھا امریکی صدر بش نے تو مدارس اسلامیہ کی بات کرتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ "ہم مجھر پیدا کرنے والے جوہڑ بند کردیں گے”
    مگر اللہ کا فضل اور جہاد کی برکت دیکھیں کہ اسی دوران وطن عزیز پاکستان میں مساجد و مدارس کا جال بچھا دیا گیا جتنی خوبصورت مساجد آج موجود ہیں پہلے کہاں نظر آتی تھیں آسمان کی بلندیوں کو چھوتی ہوئی مدارس کی عمارتیں عالم کفر کا منہ چڑا رہی ہیں کوئی چلے اور دیکھے جامعہ محمدیہ، سلفیہ ،مرکز طیبہ ،جامعہ رحمانیہ ،دارالعلوم، حقانیہ، بنوریہ کی وسیع رقبے پر مشتمل فن تعمیر کی عظیم شاہکار عمارتیں اور پھر ان مدارس کا میس شیڈول دیکھیں تو حیران رہ جائیں گے کہ عالم کفر تو انہیں مٹانے آیا تھا مدارس اور ان کے طلبہ کی تعداد میں ساٹھ ستر فیصد اضافہ ہوا ہے

  • نماز تحریر : اعجاز حسین

    نماز تحریر : اعجاز حسین

    ہزاروں سوچیں الجھاتی ہیں مجھے
    اور ایک سجدہ سلجھا دیتا ہے سب

    اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن نماز کی اداٸیگی ہے۔جو ہر مسلمان مرد اور عورت پر دن میں پانچ مرتبہ فرض کی گٸی ہے۔
    نماز فجر ،نماز ظہر،نماز عصر،نماز مغرب اور نماز عشإ۔
    جس طرح ہر عمارت کی بنیاد ہوتی ہے اور اس بنیاد کے بغیر کوٸی بھی عمارت قاٸم نہیں رہ سکتی اسی طرح نماز کو ”دین اسلام کا ستون“ قرار دیا گیا ہے۔
    نماز کامیابیوں کی کنجی ہے اور سجدہ دل و روح کا سکون ہے۔قیامت کے دن ہر انسان سے پہلا سوال نماز کی اداٸیگی کے متعلق ہو گا۔
    اگر کامیابی چاہتے ہو تو نمازی بن جاٶ،کیونکہ نماز کے بغیر کوٸی بھی کامیابی ممکن نہیں۔
    نماز گناہوں اور بے حیاٸی سے روکتی ہے ۔جیسے سورج کی شعاٸیں کتنی تیز ہوتی ہیں مگر معمولی سے بادل ان تیز شعاٶں کو روک دیتے ہیں اسی طرح گناہ کتنے ہی زیادہ طاقتور کیوں نہ ہوں نماز انہیں روک دیتی ہے۔
    نماز شیطان کی شکست اور مومن کی جیت ہے۔اور نماز فجر انسان کی شیطان کے خلاف دن کی پہلی فتح ہے۔
    یقین کریں کہ نمازِ فجر قاٸم کرنے سے انسان سارا دن رب تعالٰی کی رحمتوں کے ساۓ میں رہتا ہے۔جب ہم نماز محبت سمجھ کر ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ دوسری نماز کیلیے خود کھڑا کر دیگا۔
    جب اللہ تعالٰی ناراض ہوتا ہے تو وہ روٹی نہیں چھینتا بلکہ انسان سے سجدے کی توفیق چھین لیتا ہے۔
    اللہ کے لیے وقت نکالو اور وقت پر نماز ادا کرو اللہ تمہاری زندگی سے برا وقت نکال دیگا۔
    حضرت علیؓ نے فرمایا کہ” نماز کی فکر اپنے اوپر فرض کر لو خدا کی قسم دنیا کی فکر سے آزاد ہو جاٶ گے اور کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔“
    نبی کریم ﷺ نے فرمایا” بندہ جب نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو اس کے سر پر نیکی کی بارش ہوتی رہتی ہے۔“
    حضرت علیؓ نے فرمایا” کہ نماز کے لیے سستی ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔“
    اس لیے مسلمان اور نماز میں سستی یہ دو باتیں کبھی جمع نہیں ہو سکتیں نماز جنت کی کنجی ہے۔
    ایک صحابیؓ نے حضورﷺ سے پوچھا ”ہمیں کیسے پتا چلے گا کہ ہماری نماز قبول ہو گٸی ہے،آپﷺ نے جواب دیا ،جب تمہارا اگلی نماز پڑھنے کا دل کرے۔“
    نماز انسان کو مٹی سے سونا بنا دیتی ہے۔نماز ایسے پڑھو جیسے تم سے زیادہ گنہگار کوٸی نہیں بےشک اللہ سے زیادہ مہربان کوٸی نہیں۔نماز اللہ تعالٰی سے ملاقات کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔
    نماز وہ واحد حکم ہے جسے اللہ نے آسمان سے وحی کے ذریعے نہیں اتارا بلکہ اپنے محبوب حضرت مُحَمَّد ﷺ کو آسمان پہ بلا کر تحفے میں دیا۔
    حضرت علیؓ نے فرمایا ” اپنے بہترین وقت کو نماز میں وقف کرو کیونکہ تمہارے سب کام تمہاری ”نماز“ کے بعد ہی قبول ہونگے۔
    ایک اور جگہ حضرت علؓی نے فرمایا ”جب میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنے رب سے بات کروں تو میں نماز پڑھتا ہوں۔اور جب میرا جی کرتا ہے کہ میرا رب مجھ سے بات کرے تو میں قرآن کی تلاوت کرتا ہوں“۔
    سجدے کی خوبصورتی یہ ہے کہ ہم زمین پر سرگوشی کرتے ہیں اور وہ عرش پر سنی جاتی ہے۔ وضو سے شکل،قرآن سے عقل اور نماز سے نسل پاک ہوتی ہے۔
    ایک میڈیکل ریسرچ کہتی ہے کہ دل پورے جسم کو خون فراہم کرتا ہے لیکن دماغ ،دل کے اوپر ہونے کیوجہ سے خون پورے پریشر کے ساتھ دماغ تک نہیں پہنچتا ۔اور یہ کمی دماغ کی کمزوری اور ڈپریشن کیوجہ بنتی ہے ۔اگر انسان روز ایک بار بھی ایسی پوزیشن میں آۓ کہ اسکا دماغ اسکے دل سے نیچے ہو ۔جیسے مسلمان سجدہ کرتے ہیں تو خون صحیح طرح سے دماغ تک پہنچتا ہے اور دماغ کو طاقتور اور ترو تازہ رکھتا ہے۔
    نماز اور قرآن بعض دفعہ آپکے حالات تو نہیں بدلتے لیکن آپکو ان حالات میں اچھی طرح سے رہنا سکھا دیتے ہیں ۔آزماٸشیں صرف دین پر چلنے سے نہیں آتیں بلکہ جو آزماٸشیں لکھ دی جاتی ہیں۔نماز اور سجدہ ان سے نکلنے کا راستہ دکھاتے ہیں۔سجدے کی توفیق ملنا رب کی نعمتوں میں سے ایک بہترین نعمت ہے۔
    اگر نماز کے وقت طواف کعبہ رک سکتا ہے تو ہمارے کام اور کاروبار کیوں نہیں؟
    حضرت امام حسینؓ نے فرمایا کہ” مجھے جنت سے زیادہ عزیز نماز ہے کیونکہ جنت میری رضا ہے اور نماز میرے رب کی رضا ہے“۔

    پتا نہیں کیا جادو ہے سجدے میں
    جتنا جھکتا ہوں اتنا اوپر جاتا ہوں

    اللہ پاک ہم سب کو پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔جب بچہ سات سال کا ہو جاۓ تو اس پر نماز فرض ہو جاتی ہے۔خود بھی نمازپڑھیں اور بچوں سے بھی پڑھاٸیں۔کیونکہ بچے وہ نہیں کرتے جو آپ انہیں کرنے کا بولتے ہیں بلکہ بچے ہماری نقل کرتے ہیں اور وہ کرتے ہیں جو اپنے بڑوں کو کرتا دیکھتے ہیں۔

    @Ra_jo5

  • "توکل اللہ تحریر:افشین ماوی

    "توکل اللہ تحریر:افشین ماوی

    اللہ پاک رحمن ہے رحیم ہے کریم ہے اللہ پاک کی ذات پہ بھروسہ پختہ یقین ہے امید اور یقین صرف رب کریم پہ سرخروع ہونے کی دلیل ہے ہر دعا کے اخر میں امین کہنا اپنی دعا کی قبولیت اور اللہ کی قدرت پہ بھروسہ اور پختہ یقین ہے اکثر لوگ دعا مانگنے کے بعد کہتے ہیں دعا قبول نہیں ہوتی دعا قبول ہوتی ہے بس کن فیکون پہ اور مقرر وقت پہ ہوتی ہے اللہ پاک کے فیصلوں پہ اگر ہم راضی ہوجائے تو ہر مشکل کی راہ نکل آتی ہے خود سے منسلک ایک حقیقت کا انکشاف کرنا چاہوں گی میرا ایک پودا کچھ قبل روز تیز بارش اور گرج چمک ہونے کی وجہ جل گیا بجلی اس پہ پڑنے سے وہ اوپر سے پوری طرح جل گیا نیچے سے کچھ تنا اور ایک پتہ بچا میری والدہ محترم نے اس پودے کو دوبارہ سے صیحح کرنے کے لیے اس میں کھاد ڈال دی اور اس امید پہ کہ اللہ اس پودے میں پر سے جان ڈال دے گا مجھے پہلے نہیں بتایا مگر کچھ دن بعد والدہ نے بتایا کہ ایسا واقعہ تمھارے پودے کیساتھ درپیش آیا اب تمھارا پودا پر سے صیحح ہوگیا ہے مجھے یہ سن کہ خوشی بھی تعجب بھی ہوا کیسے اس پودے کی پر سے زندگی رواں ہوگئ وہ رب کریم ہر شے پہ قدرت رکھتا ہے میں اکثر مایوس ہوجاتی ہوں مگر میرا بھروسہ ایمان ہے کہ اللہ کی ذات ہمیشہ میرے ساتھ ہے بس جینے کی وجہ مل جاتی ہے ہر مشکل میں اللہ کے سوا کسی بھی انسان کو ہمنوا نا پایا اسلیے اللہ پہ بےحد پختہ یقین نے ہر مشکل کو خود آساں فرمایا رب پاک کی ذات کی مدد پہ یقین اس کدھر ہے کہ خود سے بے خبر ہوسکتی ہوں پر رب پاک مجھ سے باخبر ہے اسکا یقین آخری سانس تک قائم و دائم رہے گا
    مجھ کو ملے نا ملے میرے ہونے کا نشاں
    وہ باخبر ہے مجھ سے جو ہے لامکاں
    نا کر سکوں میں خود کے فیصلوں پہ بھی یقین
    پر اس ذات پہ ہے پختہ یقین کہہ دو ہردعامیں امین !

    @ Hu__rt7

  • اسلام اور پاکستان کا تعلق؟  تحریر: فرح بیگم

    اسلام اور پاکستان کا تعلق؟ تحریر: فرح بیگم

    ہم صدیوں سے سنتے آرہے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا. لیکن بدقسمتی سے اس وقت ملک پاکستان میں کوئ قانون اسلام کے مطابق نہیں چل رہا .یہی وجہ ہے کہ ہم روز بروز پستی کی طرف جا رہے ہیں.ہم پاکستان کے حق میں بولتے وقت ایک بہت اچھا منطق سامنے لے کے آتے ہیں.کہ پاکستان ہماری ماں ہے اور اسی وجہ سے ہم اس سے محبت کرتے ہیں.یہ میں گواہی کیساتھ کہ سکتا ہوں جب یہ ماں اپنے بچوں کے لئے پانی پیدا کرنا چھوڑ دے گی اور جانوروں کے لئے گھاس پیدا کرنا چھوڑ دے گی تو سب یہ لوگ اپنے ماں کا بھی ساتھ چھوڑ دیں گے.دنیا میں اس وقت پاکستان سے بھی زیادہ خوب صورت ممالک موجود ہیں جہاں انسان کو زندگی کی تمام تر سہولتیں میسئر ہیں اور وہاں پر انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کو بھی حقوق ملتے ہیں. تو کیوں نہ میں وہاں جا کر رہائش اختیار کر لوں جہاں پر میری زندگی اچھی طرح سے گزرے.
    پاکستان سے محبت اور عشق کرنے کی وجہ کچھ اور ہے.پاکستان سے محبت اسلام کی وجہ سے ہے.
    جب دنیا کے نقشے میں نئے ممالک وجود میں آرہے تھے تو کوئ اس وقت کہ رہا تھا کہ ہم مصری ہیں اور صدیوں سے یہاں رہ رہے ہیں اس لئے ہمیں یہاں رہنے دو.اُس وقت کوئ یہ کہتا ہوا نظر آرہا تھا کہ ہمارے پاس سے دریائے فرات گزرتا ہے اس لئے ہمیں علیحدہ ملک دے دو.پاکستان کو حاصل کرنے وقت صرف ایک ہی نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا لا اللہ الا اللہ.
    اس وقت 189گھر ہیں لیکن پاکستان وہ واحد ملک ہے جس کو مسجد کی حیثیت حاصل ہے.پاکستان نور ہے اور نور کو کبھی زوال نہیں. لیکن آج کل ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہم زوال کی طرف جا رہے ہیں اس کی چند وجوہات ہیں.آپ پاکستان کی شاہراؤں پر نکل کر دیکھیں تو آپ کو مذہبی نعرے لکھے ہوئے نظر آئیں گے اور ان پر لکھا ہو گا حرمت رسول پر جان بھی قربان ہے.رسول اکرم کی عزت ہم سب پر فرض ہے.لیکن افسوس کیساتھ ہم اُن کے کہے ہوئے باتوں پر عمل نہیں کر رہے.حضرت محمد کی زندگی ہمارے لئے ایک عملی نمونہ ہیں.
    دوسری بات ہم نے آج کل قرآن پاک کو صرف گھروں میں سجانے کے لئے رکھا ہوا ہے اس کو سمجھنے کی کوئ کوشش نہیں کرتا. دنیا بھر کے جتنے بھی مسائل ہیں ان کا حل ضرور آپ کو قرآن مجید میں ملے گا.آج کل ہم صرف نام کے مسلمان بن کر رہ گئے ہیں.نماز پڑھنے کے بعد دودھ میں ملاوٹ کرنے کو کوئ بُرا کام نہیں سمجھتا. جھوٹ بولنا اور دوسروں کا حق مارنا ہمارا وطیرہ بن کر رہ گیا ہے. ہم اپنی ناکامیوں کا قصوروار امریکہ کو ٹھہراتے ہیں.ان ناکامیوں کے ذمے دار ہم خود ہیں. چند سالوں پہلے امریکہ کا کوئ وجود نہیں تھا پوری دنیا میں لوگ برطانیہ کو سپرپاور سمجھتے تھے.لیکن اس سے پہلے مسلمانوں نے بھی دنیا پر راج کیا تھا. ہمارا اکثر خدا سے یہی شکوہ رہتا ہے کہ اللہ تعالی کافروں پر بہت مہربان ہے. یہی باتیں علامہ اقبال نے بھی شاعرانہ انداز میں یوں بیان کہیں تھیں.
    رحمتیں ہیں تیری اغیار کے کاشانوں پر
    برق گرتی ہے تو بےچارے مسلمانوں پر
    اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے. کوئ مسلم امہ میں ایسی طاقت نہیں ہے جو یہودیوں کا مقابلہ کرے. کیا اللہ پاک عاجز ہیں کہ ان یہودیوں پر اپنا عذاب نازل نہیں کر رہا.دراصل بات یہ ہے کہ ہم لوگ شرک میں مبتلا ہو گئے ہیں. ہم ایس ایچ او سے ڈرتے ہیں,ہم وزیراعلی سے ڈرتے ہیں اور ہم امریکہ سے ڈرتے ہیں.لیکن اللہ کے سوا کسی سے اور سے ڈرنا شرک کہلاتا ہے.جو اللہ کا بندا اللہ کے دین کے آگے سر جھکاتا ہے.وہ اللہ کا نمائندہ ہوتا ہے. اور وہ بندا جو اس نیک راہ سے ہٹ جائے تو وہ کافر سے بھی بد تر ہو جاتاہے.ہم دودھ میں ملاوٹ کرتے وقت فوڈ اتھارٹی سے تو ڈرتے ہیں لیکن اللہ سے نہیں ڈرتے .حالانکہ اللہ تعالی سارے جہانوں کا مالک ہے اور وہ ہر چیز دیکھ رہا ہے.
    انشااللہ ایک دن پھر مسلمان عروج پر ہو نگے اور ملک پاکستان جس کی بنیادیں اسلام کے نام پر کھڑی کی گئیں .ایک دن ضرور یہاں سورج نئ افق کے ساتھ طلوع ہو گا.اس وقت ہم مسلمان سائنس کے میدان میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں.کوئ بھی نئ چیز تعمیر کروانی ہو تو بیرونی ممالک سے انجینئر منگواتے ہیں.
    اللہ کو پا مردی مومن پہ بھروسہ
    ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا
    ہم اس وقت دنیا کا صرف جنگی حوالے سے مقابلے کرنے کی تیاری کر رہے ہیں.لیکن ہمیں اس چیز کا اندازہ نہیں ہورہا کہ ہم تعلیمی حوالے سے اپنے نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگا رہے ہیں.ہمارے ملک کا تعلیمی سلیبس انگریزوں کے مشورے سے تیار ہوتا ہے.اور اس سے بڑی افسوسناک بات ہم اپنی قومی زبان کو چھوڑ کر انگریزی زبان کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں.پوری دنیا کی پانچ ہزاز سالہ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں .کسی ممالک نے دوسروں کی زبان اختیار کرنے کے بعد کوئ ترقی نہیں کی. دنیا میں کئ ممالک ایسے ہیں جہاں پی ایچ ڈی اپنی زبان میں کروایا جاتا ہے.
    تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ مسلم امہ کو بھی ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرنا چاہیے.پاکستان کا تب تک ترقی کرنا مشکل لگ رہا ہے جب تک یہاں اسلامی قانون نافذ نہ کیا جائے.یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا اور اس ملک کو چلانے کا بھی سب سے بہتر حل یہاں پر اسلامی قانون کا نفاز ہے.

    Twitter Id: @Iam_Farha

  • مسلم طلبہ کے لئے اسلامی تعلیم کتنی اہم ہے  تحریر: زاہد کبدانی

    مسلم طلبہ کے لئے اسلامی تعلیم کتنی اہم ہے تحریر: زاہد کبدانی

    تعلیم کے دائرہ کار میں ، اسکولی طلباء کے لئے اسلامی تعلیم بہت ضروری ہے ، یہاں تک کہ چھوٹے بچوں کو بھی اسکول کی دنیا میں داخلے سے قبل اسلامی تعلیم دینے کی ضرورت ہے تاکہ جب بچے دنیا کی تعلیم میں داخل ہوں تو وہ اس کی عادت ڈالیں اور وہ صرف اسے روزمرہ کی زندگی میں شامل کرنے اور اس پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں طلباء کے لئے اسلامی تعلیم کی بہت زیادہ ضرورت ہے ، کیوں کہ اس جدید دور کے ساتھ طلباء میں بہت سے منفی اثرات پائے جاتے ہیں ، مثال کے طور پر ، ابتدائی اسکول کے بچے جنہوں نے طلباء میں اسلام کو اکسایا اور اس کے بعد اچھی سمت سگریٹ پی۔ طلباء جدید دور کے منفی اثرات سے بچیں گے۔ اسلام زندگی کا ایک طریقہ ہے ، اگر ہم میں اور ہماری زندگیوں میں کوئی مذہب نہیں ہے تو پھر زندگی بے چین ہو جائے گی ، اور ہم پریشانی محسوس کریں گے کیونکہ کوئی ہدایت نامہ موجود نہیں ہے ، دین میں ہر چیز کا اہتمام قرآن اور احادیث میں کیا گیا ہے ، جس سے شروع ہوتا ہے۔ دل کا ارادہ ، عبادت ، سلوک ، تعلیم ، خرید و فروخت یا معیشت ، معاشرتی۔ جیسا کہ آیت نمبر 255 میں بیان کیا گیا ہے ،

    سور بقرہ۔ طلباء کو اسلامی تعلیم کے فوائد میں متعدد چیزیں شامل ہیں:

    پہلے ، بچوں کے روحانی معاملات میں ، اگر بچوں نے ٹی کے دی ڈپو سے اسلامی تعلیم حاصل کی ہے ، تو وہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں اسلام کا اطلاق کرسکیں گے ، مثال کے طور پر باجماعت نماز پڑھنا ، والدین یا اساتذہ سے مصافحہ کرنا ، یقینا درخواست دینے میں ، طالب علم واقعتاً ماحول سے مدد اور تعاون کی ضرورت ہے ، خاندانی ماحول بنیادی چیز ہے جو والدین ہیں ، والدین کو لازمی ہے کہ وہ بچوں کو روزمرہ کی زندگی میں عمل درآمد کرنے کے لئے ہدایت کریں اور ان کی مدد کریں ، اس کے بعد طلباء کو اسلامی دینی تعلیم کے بارے میں اسکول میں جو کچھ ملتا ہے ، اس کے بعد والدین کو بھی اپنے بچوں کے تعلقات کی نگرانی کرنی ہوتی ہے ، کیونکہ یہ بہت ضروری ہے کہ طالب علم کے مستقبل کا تعین کرنا ضروری ہے ، اس کی روحانی گہرائی جتنی زیادہ ہوگی وہ جدید دور میں ہونے والے نقصان سے بچ جائے گا ، کیونکہ وہ پہلے ہی جانتے ہیں کہ یہ اچھا ہے یا برا۔
    دوسرا ، سلوک یا اخلاقیات کے لحاظ سے ، اسلامی دینی تعلیم حاصل کرنے سے ان کے اخلاق بہتر ہوں گے ، مثال کے طور پر والدین اور اساتذہ کا فرمانبردار ، شائستہ ، سب کے ساتھ شائستہ ، ایک دوسرے کی مدد کرنے میں مدد کرنا ، اس موقع پر ، طلباء کو آزمائے جانے کی ضرورت ہے والدین اور اساتذہ کے طرز عمل یا اخلاق سے ، اسلامی مذہب اور اچھے اخلاقی سلوک کے علم کے ساتھ ، طلباء کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں اس کا اطلاق کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔ سیکولہ ایس ڈی ٹربائک دی ڈپوک طلباء کو اسلامی تعلیم مہیا کررہے ہیں اور خاندانی ماحول ، والدین ، ​​تعلقات ، اساتذہ کی مدد سے ، جو اس کے بعد زندگی میں لاگو ہوتے ہیں ، مسلم نوجوانوں کی نسلوں کو ان منفی اثرات اور اخلاقی نقصان سے بچانے میں مدد فراہم کریں گے جو طلباء کو جدید معاشرے میں دوچار کرچکے ہیں۔

  • اُمتِ مُسلمہ کا حقیقی رہنما/لیڈر کون  تحریر: صائمہ ستار

    اُمتِ مُسلمہ کا حقیقی رہنما/لیڈر کون تحریر: صائمہ ستار

    ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق
    جو تجھے حاضرو موجود سے بیزار کرے

    موجودہ دور میں امتِ مسلمہ کو درپیش دوسرے مسائل کے ساتھ ایک اہم مسلئہ مخلص اور اچھی لیڈرشپ کا فقدان ہے.قران وسنت کے رہنمائ میں اچھے رہنما میں جن خصوصیات کا ہونا ضروری ہے موجودہ مسلم حکمران ان سے بے نیاز ہیں.شاعرِ مشرق نے اسلامی قیادت کے لازمی اوصاف کو اپنی شاعری میں سمویا ہے جن سے موجودہ نوجوان نسل کا آگاہ ہونا نہایت ضروری ہے.اگر موجودہ مسلم حکمران ان اوصاف کو اپنائیں تو عجب نہیں کہ امتِ مسلمہ ایک بار پھر عروج حاصل کرے. قوم کا امامِ برحق یعنی سچا راہنما/لیڈر وہی ہے جو حاضرو موجود یعنی موجودہ زمانے اور نظام میں پائ جانے والی غیر اسلامی اقدار سے بیزار کرے.اور دنیا کے عارضی ہونےکا احساس دل میں پختہ کر کے اس دنیا کی جھوٹی شان وشوکت اور عیش وآرام سےبیزارکر کےحقیقی منزل یعنی اللہ کی طرف رہنمائ کرے.(بیزاری کا مطلب یہ ہے دنیا کو مستقل منزل نہ سجھے.اس دنیا سے تعلق بس اتنا ہو جتنا مسافر کا سفر میں رستوں سے ہوتا ہے. )
    رخِ دوست(مراد اللہ/سیدنامحمد‏‎ﷺ)
    اور جب کبھی دین سے وفا کا وقت آئے جب برما,کشمیر, شام, فلسطین, عراق,افغانستان, میں تمہاری بہنوں کی عزتیں لٹ رہی ہوں معصوم بچوں اور نوجوانوں کا قتلِ عام ہو تو سچا قائد/رہنما قوم کو بزدلی اور مصلحت کے سبق نہ پڑھائے.پھر وہ بتائے کہ جب مسلمان اسطرح کٹ رہے ہوں اسلام امن کا نہیں جہاد اور غیرت کا اور اپنے مسلم بہن/بھائ کا درد محسوس کرنے کا درس دیتا ہے.یعنی کہ موت(شہادت)کی صورت میں محبوبِ حقیقی (اللہ / سیدنامحمد‏‎ﷺ) سے ملنے کی شدید تڑپ اسطرح دل میں پیدا کرے کہ موت تمہیں زندگی کا اختتام نہیں بلکہ اپنی حققیقی منزل محسوس ہو.
    وَاِنَّ اِلٰی رَبِّکـــَ الْمُنْتَھیٰ(القران)
    اور تمہاری آخری منزل اللہ ہے.
    جب زندگی کا اختتام موت ہی ہے تو دین سے وفا کرتے ہوئے شہادت اسکا بہترین انتخاب ہے.
    وہ احساسِ زیاں یعنی مغرب کی غلامی اور دین کے اصل راستے کو چھوڑ نےسےہونے والے دنیاوی و اخروی نقصان کے احساس
    سےتیرےخون کو گرما دے.  اورفقر یعنی تمام عالم سے منہ موڑ کر  دنیا کی تمام جھوٹی طاقتوں کا ڈر قوم کے دل سے نکال کر دنیاوی طاقتوں سے بے نیاز کر کے صرف اور صرف نکتہِ توحید پر یقین پختہ کر کے کہ اللہ کے سوا کوئ معبود, کوئ مددگار نہیں جومسلمان ہونےکا پہلا تقاضا ہے تمہیں ایسی تلوار بنادے جو باطل /دین دشمنوں کو کاٹ کر رکھ دے. ایسا رہنما جو قوم کو حقیقی سلطانِ واحد یعنی اللہ تعالی کے در سے گمراہ کر کے دنیا کے جھوٹے/وقتی بادشاہوں(یورپی یونینIMF, FATF.اقومِ متحدہ, مغربی نظام) , کا ڈر دل میں بٹھائے اور انکا پرستار,انکے نظام کاپیروکار بنائے تو ایسے شخص کی امامت/لیڈر شپ قوم کے حق میں ایک خوبصورت/چمکدار فتنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے.
    نوجوان قوم کا مستقبل ہیں. اگر وہ شاعرِ مشرق کے بیان کیے گئے درج ذیل اوصاف کو اپنائیں اور آنے والی اسلامی قیادت اپنے قومی و نظریاتی تشخص کو پہچان کر میدانِ عمل میں آئے تو امید ہے کہ مسلمانوں کا دوبارہ سے دنیا میں بول بالا ہو.اور اپنی کھوئ ہوئ شان و شوکت کو دوبارہ حاصل کریں.

    https://twitter.com/SMA___23?s=09

  • یوم شہادت خلیفہ ثالث سیدنا عثمان بن عفان ؓ  . تحریر : محمد خواص خان

    یوم شہادت خلیفہ ثالث سیدنا عثمان بن عفان ؓ . تحریر : محمد خواص خان

    سیدنا عثمانؓ بن عفان السابقین الاولین میں سے ہیں آپ مردوں میں چوتھے نمبر اسلام قبول کیا ۔ سیدنا عثمانؓ ذوالعجرتین ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام اور لوط علیہ السلام کے بعد مع اپنے اہلبیت ہجرت کرنے والے پہلی شخصیت ہیں ۔ آپ حیا کے پیکر تھے۔سیدنا زیدؓ بن ثابت کا قول ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ عثمانؓ میرے پاس سے گذرے تو مجھ سے ایک فرشتے نے کہا کہ مجھے ان سے شرم آتی ہے کیوں کہ ایک قوم ان کو قتل کر دے گی رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس طرح عثمانؓ اللہ ﷻ اور اس کے رسول ﷺسے حیا کرتے ہیں فرشتے ان سے حیا کرتے ہیں سیدنا امام حسنؓ سے سیدنا عثمانؓ غنی کی حیا کا ذکر آیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر کبھی سیدنا عثمانؓ نہانا چاہتے تو دروازہ کو بند کر کے کپڑے اتارنے میں اس قدر شرماتے کہ پشت سیدھی نہ کرسکتے تھے۔

    رسول اللہﷺ نے قبل از ہجرت اپنی بیٹی رقیہؓ کی شادی سیدنا عثمانؓ غنی سے کردی تھی جب جنگ بدر کے روز وہ فوت ہو گئیں تو رسول اللہ نے اپنی دوسری بیٹی سیدنا ام کلثوؓم کی شادی آپ سے کر دیاسی لیے آپ ذی النورین کے خطاب سے مشہور ہیں۔ سوائے سیدنا عثمان غنی ؓ کے اور کوئی شخص دنیا میں ایسا نہیں گذرا جس کے نکاح میں کسی نبی کی دو بیٹیاں رہی ہوں۔
    مناسک حج سب سے بہترسیدنا عثماؓن جانتے تھےآپ کے بعد سیدنا عبداللہؓ بن عمر جانتے تھے ۔ جماعت رسولﷺ میں آپ انتہائی مالدار اور سب سے زیادہ سخی تھے اسی لیے آپ غنی لقب سے مشہورہوئے ۔ آپ کثرت عبادات میں خاصی شہرت رکھتے تھے راتوں کو کھڑے ہوکر نماز پڑھتے متواتر روزے رکھتے تھے ۔

    آپ مسلمانوں کے خلیفہ ثالث ہیں آپ کا دورعدل و انصاف کا دورتھا خلافت کو وسعت ملی ۔ آپ کے دور میں اسکندریہ، آرمینیا، افریقہ، قبرص وروڈس، طبرستان اور کئی علاقے اسلامی خلافت کا حصے بنے ۔
    آپ نے بئر رومہ کا کنواں خرید کر اہل اسلام کے حوالے کیا آپ کو نبی اکرمﷺ نے صلح حدیبیہ میں اپنا سفیر بنا کر بھیجا غزوہ تبوک میں بے حد فیاضی سے اپنا مال دیا ۔
    اہل قریش آپ کو انتہائی عزت اور تکریم کی نگاہ سے دیکھتے تھے عرب کی عورتیں اپنے بچوں کو نچاتیں اور یہ کہتی تھیں۔

    أحبك والرحمن حبَّ قريش لعثمان
    میں تجھ سے اور رحمان سے محبت کرتی ہوں ایسے ہی جیسے قریش کی محبت عثمانؓ سے

    الٰلھم انی قدرضیت عن عثمان فارض عنہ الٰلھم انی قد رضیت عن عثمان فارض عنہ
    اے اللہ میں عثمانؓ سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہو جا‘ اے اللہ میں عثمانؓ سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہو جا۔
    سیدنا عثمان کا ایک کارنامہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو قرآن مجید کی ایک قرآت پر جمع کرنا ہے اور ساتھ ہی عہدِ صدیقی اور فاروقی کے قرآنی نسخوں کو جمع کرکے ایک کتابی شکل میں دینا ۔

    سیدنا عثمانؓ بن عفان ایک عظیم المرتبت شخصیت تھے بے مثال خوبیوں سے مالا مال تھے آپ باغ نبویﷺ کے ایک حسین پھول تھے ۔ آپ عشرہ مبشرہ سے ہیں آپؓ پر اعتراض کرنے والے دل کی بیماری اور عقل کے اندھے ہیں آپ نفوس قدسیہ کا ایک ستارہ ہیں آپؓ اس امت کے محسن خلیفہ ثالث، ذوالنورین، ذوالعجرتین، پیکر حیا ہم زلف علیؓ سفیرِ رسولﷺ اور مسلمانوں کے ایمان کی بنیاد ہیں ۔آپؓ کے بغیر جماعت صحابہ کرامؓ نامکمل ہے ۔اللہ ہمیں آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین.

    @iamkhawaskhan

  • نماز کی عظمت . تحریر : توقیرناصربلوچ

    نماز کی عظمت . تحریر : توقیرناصربلوچ

    خداے وحدہ لاشریک اور اس کے حبیب علیہ الصلوۃوالتسلیم پر ایمان لانے اور اس کے بعد انسان کے لئے سب سے عظیم اور مہتم بالشان چیز نماز ہے نماز دین کا ستون اورایمان کی پہچان ہے ہے حضور اورسرکارکائناتﷺ ارشاد فرماتے ہیں.
    نمازدین کا ستون ہے جس نے نماز کو قائم رکھا، اس نے دین کو قائم رکھا اور جس نے نماز چھوڑ دی اس نے دین کو ڈھا دیا.
    ایک دوسری حدیث پاک کے الفاظ اس طرح منقول ہیں.
    ہرچیز کی ایک پہچان ہوتی ہے ایمان کی پہچان نماز ہے.

    حضرت محمدﷺ نے فرمایا :
    نماز جنت کی کنجی ہے.
    نماز کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگا سکتے ہیں کہ
    حضرت موسی کلیم اللہ علیہ الصلاۃ والسلام کو جب سب سے پہلے وحی ہوئی وہ بھی نماز ہی سے متعلق تھی_ چناںچہ قرآن پاک میں ان کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: میں نے تجھے پسند کیا’ آپ کام لگا کر سن جو تجھے وہی ہوتی ہے بے شک میں ہی ہوں اللہ_ کہ میرے سوا کوٸ معبود نہیں، تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لئے نماز قائم رکھ_(کنزالایمان)

    حضرت عیسی روح اللہ علیہ الصلاۃ والسلام نے نے اپنی ماں کی آغوش میں زبان کھولی تو اعمال میں سب سے پہلے نماز کی تاکید کا ہی ذکر فرمایا، جسے قرآن پاک میں اس طرح بیان کیا گیاہے: بچہ(حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام) نے فرمایا: میں ہوں اللہ کا بندہ اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے غیب کی خبر بتانے والا (نبی) کیا اور اس نے مجھے مبارک کیا میں کہیں ہوں اور مجھے نماز زکوۃ کی تاکید فرمائی جب تک جیوں_(کنزالایمان)

    * حضرت لقمان علیہ الصلوتہ والسلام میں نے اپنے بیٹے کو جو نصیب فرمائی اس میں سب سے پہلے نماز قائم رکھنے کا ذکر کیا_ قرآن پاک میں وہ نصیحت اس طرح محفوظ ہے: اے میرے بیٹے! نمازبرپا رکھ اور اچھی بات کا حکم دے اور بری بات سے منع کر کر اور جوافتاد تجھ پر پڑے اس پر صبر کر، بے شک یہ ہمت کے کام ہیں(کنزالایمان)

    حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلاۃ والسلام نے نے خداے تعالی کی بارگاہ میں اپنے اور اپنی مومن اولاد کے لیے جو دعا فرمائی وہ نماز ہی سے متعلق تھی _ چناں چہ قرآن پاک میں اس کا تذکرہ اس طرح ہے اے میرے رب! مجھے نماز کا قاٸم کرنے والا رکھ اور کچھ میری اولاد کو_ اے ہمارے رب اور میری دعا سن لے( کنزالایمان)

    حضور تاجدارِ مدینہﷺ کہ کسی صحابی سے ایک گناہ سرزد ہو گیا اور وہ اس کی تلافی کے لیے بارگاہ رسولﷺ میں حاضر ہوئے تو نماز پنج گانہ کی محافظت کا حکم دیا گیا کیا اور اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: اور نماز قائم رکھو دن کے دنوں کنارے اور کچھ رات کے حصوں جو میں، بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں_ یہ نصیحت ہے نصیب ماننےوالوں کو(کنزالایمان)

    اس سے معلوم ہوا کہ نمازاپنی بے پناہ عظمتوں اور تمام تر خوبیوں کے ساتھ ساتھ گناہوں کے دھونے کا بہترین ذریعہ بھی ہے.
    عاقل و بالغ مسلمان پر( چاہے وہ مرد ہو یا عورت) روزانہ پانچ وقت کی نماز فرض ہے ہے جو شخص اس کی فرضیت کا انکار کرے وہ کافر ہے اور جو شخص جان بوجھ کر چھوڑے اگرچا ایک ہی بات کی، وہ فاسق ہے_ اور جو نماز نہ پڑھتا ہو اس کے لئے حکم یہ ہے کہ اسے اتنا مارا جائے کہ خون بہنے لگے اور قید کر دیا جائے یہاں تک کہ وہ توبہ کرے اور نماز پڑھنے لگے (عامہ کتب)

    میرے پیارے اسلامی بہنوں بھائیو! ان آیات واحادیث کو بیان کر دینے کے بعد میں آپ سے یہ کہنے کی کی ضرورت محسوس کرتا ہوں کہ آپ نماز پڑھیںں اور اپنی حیات مستعار کے کہ مسرت انگیز لمحات میں یاد الہی سے غافل نہ رہیں.

    اے مالک موت و حیات! مصطفی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے میں مجھ گناہ گار میرے والدین کریمین مشفق و مہربان اساتزہ کرام اور تمام مسلمانوں کو ہمیشہ نماز پنج گانہ جماعت ادا کرنے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں ایسے اعمال وافعال سے بچا لے جو بروز قیامت ندامت وپشیمانی کا باعث ہوں.

    tuqeerna