Baaghi TV

Category: مسلم دنیا

  • نیویارک ٹائمز اسکوائر کی چکاچوند روشنیوں میں مدحتِ مصطفیٰ ،تحریر:شاہد نسیم جوہدری

    نیویارک ٹائمز اسکوائر کی چکاچوند روشنیوں میں مدحتِ مصطفیٰ ،تحریر:شاہد نسیم جوہدری

    اسلام، امریکہ اور محبتِ رسول ﷺ کا ایک روشن منظر

    رات گہری ہو چکی تھی۔ نیویارک کی سڑکوں پر روشنیوں کا سیلاب تھا۔ بلند و بالا عمارتوں پر نصب بڑے بڑے برقی اشتہارات لمحہ بہ لمحہ رنگ بدل رہے تھے۔ کہیں موسیقی کی دھنیں تھیں، کہیں سیاحوں کا ہجوم، کہیں کیمروں کی چمک اور کہیں تیز قدموں سے گزرتے ہوئے انسانوں کا سمندر۔ یوں لگتا تھا جیسے یہ شہر کبھی سوتا ہی نہیں۔
    ٹائمز اسکوائر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جگمگا رہا تھا۔ دنیا جسے سرمایہ، تجارت، تفریح اور جدید تہذیب کی علامت سمجھتی ہے، وہاں اچانک ایک مختلف منظر ابھرتا ہے۔ چند لمحوں کے لیے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شور کی تہوں کے پیچھے کوئی روحانی صدا جنم لے رہی ہو۔
    درود و سلام کی آواز بلند ہوتی ہے۔
    لبوں پر نامِ محمد ﷺ آتا ہے۔
    ہزاروں لوگ ایک سمت متوجہ ہو جاتے ہیں۔
    اور پھر یوں لگتا ہے جیسے نیویارک کی چکاچوند میں مدینہ منورہ کی محبت کا ایک چراغ روشن ہو گیا ہو۔
    یہ منظر محض ایک اجتماع نہیں تھا۔ یہ ایک علامت تھا۔ ایک پیغام تھا۔ ایک سوال بھی تھا اور ایک جواب بھی۔
    سوال یہ کہ دنیا کے سب سے جدید، مصروف اور کمرشل شہروں میں اسلام اور محبتِ رسول ﷺ کی آواز کس طرح اپنی جگہ بنا رہی ہے؟
    اور جواب شاید یہی ہے کہ محبت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔

    12 ربیع الاول مسلمانوں کے لیے صرف تاریخ کا ایک دن نہیں، بلکہ عقیدت، محبت، تشکر اور نسبت کا دن ہے۔ یہ وہ مبارک نسبت ہے جس کے ساتھ مسلمانوں کے دلوں میں رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمان اپنے اپنے انداز میں میلاد النبی ﷺ کی محافل منعقد کرتے ہیں، درود و سلام پڑھتے ہیں، نعتیں سنتے ہیں اور اپنے آقا و مولا ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو یاد کرتے ہیں۔
    لیکن جب یہی مدحت ٹائمز اسکوائر جیسے مقام پر سنائی دے، جہاں دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہوتی ہیں، تو اس منظر کی معنویت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
    یہ نیویارک ہے!
    وہ نیویارک جسے دنیا جدید امریکہ کی دھڑکن سمجھتی ہے۔
    وہ ٹائمز اسکوائر ہے جو روشن اشتہارات، پاپ کلچر، موسیقی، تفریح اور عالمی کاروباری سرگرمیوں کی علامت بن چکا ہے۔
    اور اسی مقام پر ہزاروں مسلمانوں کا جمع ہونا، درود و سلام پڑھنا، نعتیہ جذبات کا اظہار کرنا، تقاریر سننا اور ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانا، یقیناً ایک ایسا منظر ہے جسے صرف مذہبی اجتماع کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
    یہ عوامی سطح پر مسلم شناخت کے پُرامن اظہار کا منظر بھی ہے۔
    یہ اس بات کا اعلان بھی ہے کہ اسلام صرف مسجد کی چار دیواری تک محدود نہیں، بلکہ مسلمان جہاں رہتے ہیں وہاں اپنی مذہبی و ثقافتی شناخت کے ساتھ ایک پُرامن شہری کی حیثیت سے موجود رہتے ہیں۔
    سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ یہ اجتماع کسی تصادم، نفرت یا اشتعال کا منظر نہیں تھا۔ یہاں محبت تھی، درود تھا، نعت تھی، اجتماعیت تھی اور کھانے کی میز پر انسانوں کا انسانوں سے ملنا تھا۔
    یہی تو اسلام کا ایک حسین تعارف ہے۔
    اسلام انسان کو صرف عبادت کا طریقہ نہیں سکھاتا، بلکہ انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک، محبت، احترام، بھائی چارے اور عدل کا سبق بھی دیتا ہے۔
    اور اگر اس منظر کو اسی زاویے سے دیکھا جائے تو ٹائمز اسکوائر میں ہونے والی یہ تقریب ایک نہایت خوبصورت پیغام دیتی ہے کہ مسلمان اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ دوسروں کے درمیان رہتے ہوئے بھی امن، محبت اور رواداری کی علامت بن سکتے ہیں۔
    زہران ممدانی کی موجودگی اور ایک بدلتا ہوا امریکہ
    اس تقریب میں زہران ممدانی کی موجودگی نے بھی خاص توجہ حاصل کی۔ ایک معروف عوامی شخصیت کا ایسے اجتماع میں شریک ہونا یا اس کی موجودگی سے وابستہ ہونا اس لیے اہم ہے کہ اس سے امریکہ کے عمومی سماجی منظرنامے میں مسلمانوں کی موجودگی اور ان کی مذہبی شناخت مزید نمایاں ہوتی ہے۔
    یہاں ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔
    امریکہ میں مسلمان کوئی نئی قوم یا اچانک نمودار ہونے والی کمیونٹی نہیں۔ مسلمان کئی دہائیوں سے امریکی معاشرے کا حصہ ہیں۔ وہ ڈاکٹر ہیں، انجینئر ہیں، اساتذہ ہیں، تاجر ہیں، صحافی ہیں، وکلا ہیں، طلبہ ہیں، سماجی کارکن ہیں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
    لیکن عوامی سطح پر مذہبی شناخت کا اظہار ہمیشہ ایک الگ موضوع رہا ہے۔
    ٹائمز اسکوائر جیسے مقام پر میلاد النبی ﷺ کا ایسا اجتماع اس حوالے سے اس لیے اہم ہے کہ یہاں مسلمان اپنی شناخت کو چھپانے کے بجائے اسے پُرامن، باوقار اور اجتماعی انداز میں سامنے لاتے ہیں۔
    زہران ممدانی کی موجودگی اسی بدلتے ہوئے امریکہ کی ایک علامت کے طور پر بھی دیکھی جا سکتی ہے، جہاں مذہبی اور ثقافتی تنوع اب معاشرتی زندگی کا نمایاں حصہ بنتا جا رہا ہے۔
    یہاں کسی کو اپنی شناخت ترک کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔
    نہ مسلمان کو مسلمان ہونے پر شرمندہ ہونا چاہیے، نہ کسی دوسرے مذہب یا ثقافت سے تعلق رکھنے والے انسان کو اپنی شناخت کے اظہار پر خوف محسوس ہونا چاہیے۔
    اصل خوبصورتی تو تب ہے جب مختلف شناختیں ایک دوسرے کے احترام کے ساتھ ایک ہی معاشرے میں سانس لے سکیں۔
    ٹائمز اسکوائر میں درود کی آواز
    کبھی کبھی تاریخ بڑے بڑے ایوانوں میں نہیں بنتی، بلکہ ایک عام انسان کے لبوں سے نکلنے والے کسی ایک لفظ سے تاریخ کا رخ محسوس ہونے لگتا ہے۔
    سوچیے!
    ایک طرف نیویارک کی روشنیاں ہیں۔
    دوسری طرف ہزاروں مسلمانوں کے ہاتھ اٹھے ہوئے ہیں۔
    ایک طرف جدید دنیا کی تیز رفتار زندگی ہے۔
    دوسری طرف درود و سلام ہے۔
    ایک طرف پاپ میوزک اور تفریح کی چکاچوند ہے۔
    دوسری طرف نعتِ رسول ﷺ کی محبت ہے۔
    یہ منظر کسی تہذیب کو شکست دینے کا منظر نہیں تھا۔
    یہ کسی ثقافت سے جنگ کا منظر نہیں تھا۔
    بلکہ یہ اس بات کا اظہار تھا کہ انسان جدید بھی ہو سکتا ہے اور اپنے روحانی رشتوں سے جڑا ہوا بھی۔
    ٹیکنالوجی انسان کی ضرورت ہے، لیکن روحانی نسبت انسان کی پہچان بھی ہو سکتی ہے۔
    نیویارک کی بلند عمارتیں ترقی کی علامت ہیں، لیکن انسان کے دل میں بسنے والی محبتِ رسول ﷺ اس کی روحانی دنیا کی علامت ہے۔
    اور یہی وہ نکتہ ہے جسے ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
    اسلام امریکہ میں صرف موجود نہیں، زندہ بھی ہے
    آج امریکہ میں اسلام کے بارے میں گفتگو صرف مساجد، اسلامی مراکز یا مذہبی کتابوں تک محدود نہیں رہی۔ مسلمان امریکی معاشرے کے مختلف شعبوں میں اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے ہیں۔
    مساجد آباد ہیں۔
    اسلامی مراکز سرگرم ہیں۔
    نوجوان نسل تعلیم حاصل کر رہی ہے۔
    مسلمان کاروبار کر رہے ہیں۔
    خواتین مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔
    اور نئی نسل ایک ایسی شناخت تشکیل دے رہی ہے جس میں امریکی شہری ہونے اور مسلمان ہونے کے درمیان کوئی لازمی تضاد نہیں۔
    یہی وجہ ہے کہ ٹائمز اسکوائر کا اجتماع محض ماضی کی یاد نہیں، مستقبل کی طرف اشارہ بھی ہے۔
    مسلمان نسلِ نو اپنے مذہب کو صرف ورثے کے طور پر نہیں بلکہ شعوری شناخت کے طور پر بھی دیکھ رہی ہے۔
    یہ ایک اہم تبدیلی ہے۔
    وہ قرآن پڑھنا چاہتی ہے، سیرت سمجھنا چاہتی ہے، درود پڑھنا چاہتی ہے، نعت سننا چاہتی ہے، اور ساتھ ہی جدید تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور عالمی معاشرے کا حصہ بھی بننا چاہتی ہے۔
    اس میں کوئی تضاد نہیں۔
    بلکہ یہی ایک متوازن زندگی کا راستہ ہے۔
    محبتِ رسول ﷺ کا عالمی سفر
    حضور اکرم ﷺ کی محبت کسی ایک خطے، زبان یا قوم کی میراث نہیں۔
    عرب میں پیدا ہونے والے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی محبت آج ایشیا، افریقہ، یورپ، امریکہ اور دنیا کے ہر خطے میں بسنے والے مسلمانوں کے دلوں میں موجود ہے۔
    پاکستان میں کوئی بچہ نعت پڑھتا ہے تو اس کے دل میں بھی مدینہ ہوتا ہے۔
    ترکی میں کوئی درود پڑھتا ہے تو اس کے دل میں بھی مدینہ ہوتا ہے۔
    افریقہ میں کوئی عاشقِ رسول ﷺ نامِ محمد ﷺ لیتا ہے تو اس کے دل کی کیفیت بھی وہی ہوتی ہے۔
    اور نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں جب ہزاروں لب درود سے تر ہوتے ہیں تو یہ اسی عالمی محبت کا تسلسل ہے۔
    یہی محبت اسلام کی سب سے طاقتور روحانی قوتوں میں سے ایک ہے۔
    دنیا کے نقشے بدل سکتے ہیں۔
    سلطنتیں ختم ہو سکتی ہیں۔
    معاشی نظام تبدیل ہو سکتے ہیں۔
    ٹیکنالوجی بدل سکتی ہے۔
    لیکن رسولِ اکرم ﷺ کی محبت نسل در نسل دلوں میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔
    میلاد صرف جشن نہیں، پیغام بھی ہے
    البتہ یہاں ایک بنیادی بات یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ میلاد النبی ﷺ کا اصل حسن صرف چراغاں، اجتماعات یا ظاہری اظہار میں نہیں، بلکہ اس محبت کو سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے کردار میں ڈھالنے میں ہے۔
    اگر ہم رسول اللہ ﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہماری زبان میں سچائی ہونی چاہیے۔
    ہمارے معاملات میں دیانت ہونی چاہیے۔
    ہمارے رویوں میں رحم ہونا چاہیے۔
    ہمیں کمزور کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
    ہمیں اختلاف میں بھی اخلاق نہیں چھوڑنا چاہیے۔
    ہمیں علم سے محبت کرنی چاہیے۔
    ہمیں پڑوسی کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔
    ہمیں انسان کو انسان سمجھنا چاہیے۔
    کیونکہ رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت ہمیں محبت، رحمت، عدل، اخلاق اور انسانیت کا درس دیتی ہے۔
    اس لیے ٹائمز اسکوائر میں درود کی آواز اس وقت سب سے زیادہ خوبصورت محسوس ہوگی جب وہ آواز مسلمانوں کے کردار میں بھی سنائی دے۔
    امریکہ اور اسلام: تصادم نہیں، مکالمہ
    اسلام اور مغرب کے تعلقات کو اکثر تصادم کی عینک سے دیکھا جاتا ہے۔ کبھی سیاسی واقعات اس بحث کو شدت دیتے ہیں اور کبھی میڈیا کی مخصوص تعبیرات غلط فہمیاں پیدا کرتی ہیں۔
    لیکن ٹائمز اسکوائر کا یہ منظر ہمیں ایک دوسرا راستہ بھی دکھاتا ہے۔
    وہ راستہ مکالمے کا ہے۔
    تعارف کا ہے۔
    امن کا ہے۔
    ایک دوسرے کو سمجھنے کا ہے۔
    اگر مسلمان اپنے مذہب کا تعارف علم، کردار، اخلاق اور محبت کے ذریعے کرائیں اور غیر مسلم معاشرہ بھی مسلمانوں کو خوف یا تعصب کے بجائے ایک عام شہری اور انسان کے طور پر دیکھے تو بہت سی غلط فہمیاں خود بخود کم ہو سکتی ہیں۔
    اسلام کو سمجھنے کے لیے صرف سیاسی خبروں کو دیکھنا کافی نہیں۔

    اسلام کو سمجھنے کے لیے ایک مسلمان کے گھر، مسجد، بازار، یونیورسٹی، دفتر اور سماجی زندگی کو بھی دیکھنا ہوگا۔
    اور اگر کسی نے ٹائمز اسکوائر میں ہزاروں مسلمانوں کو اجتماعی طور پر درود و سلام پڑھتے، ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے اور کھانا بانٹتے دیکھا ہے تو اسے اسلام کے اس پہلو کو بھی دیکھنا چاہیے جو محبت، اجتماعیت اور امن سے عبارت ہے۔
    روشنیاں بہت تھیں، مگر ایک روشنی الگ تھی
    ٹائمز اسکوائر کی روشنیاں شاید دنیا کے کسی اور مقام سے زیادہ مشہور ہیں۔
    لیکن اس رات ان روشنیوں کے درمیان ایک اور روشنی بھی تھی۔
    وہ روشنی کسی برقی بورڈ سے نہیں آ رہی تھی۔
    وہ روشنی دلوں سے آ رہی تھی۔
    وہ محبت کی روشنی تھی۔
    وہ درود کی روشنی تھی۔
    وہ نسبتِ مصطفیٰ ﷺ کی روشنی تھی۔
    اور شاید یہی اس منظر کی سب سے بڑی معنویت ہے۔
    دنیا نے انسان کو بہت کچھ دیا ہے۔ ٹیکنالوجی دی، رفتار دی، سہولتیں دیں، بلند عمارتیں دیں، جدید ذرائع مواصلات دیے۔
    لیکن انسان آج بھی اپنے دل کے سکون کی تلاش میں ہے۔
    اور یہی وجہ ہے کہ نیویارک جیسے شہر میں بھی کوئی شخص مدینہ کی یاد میں آنکھیں نم کر لیتا ہے۔
    کوئی درود پڑھتے ہوئے دل سے محمد ﷺ کہتا ہے۔
    کوئی نعت سنتے ہوئے اپنے اندر عجیب سکون محسوس کرتا ہے۔
    یہ وہ تعلق ہے جسے جغرافیہ نہیں روک سکتا۔
    شاید یہ ایک نئے باب کی ابتدا ہے
    ٹائمز اسکوائر میں ہونے والا یہ بڑا میلاد اجتماع شاید آنے والے برسوں میں صرف ایک واقعہ نہ رہے۔ ممکن ہے یہ امریکہ کے بڑے شہروں میں مسلم کمیونٹی کی اجتماعی مذہبی اور ثقافتی تقریبات کے ایک نئے باب کی علامت بن جائے۔
    لیکن اس نئے باب کی اصل کامیابی تعداد میں نہیں ہوگی۔
    اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ اجتماعات محبت کو کردار میں، درود کو عمل میں، سیرت کو زندگی میں اور اسلام کو انسانیت کی خدمت میں تبدیل کریں گے۔
    دنیا کو آج نفرت کے مقابلے میں محبت کی ضرورت ہے۔
    تعصب کے مقابلے میں مکالمے کی ضرورت ہے۔
    تشدد کے مقابلے میں امن کی ضرورت ہے۔
    اور تقسیم کے مقابلے میں انسانیت کو جوڑنے والے پیغام کی ضرورت ہے۔
    رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت ہمیں یہی سبق دیتی ہے۔
    اختتامیہ
    رات پھر اپنے آخری پہر میں داخل ہو رہی تھی۔
    ٹائمز اسکوائر کی روشنیاں بدستور جگمگا رہی تھیں۔
    لوگ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔
    سڑکوں پر زندگی پھر اپنی رفتار سے چلنے لگی تھی۔
    مگر شاید اس رات کچھ آوازیں ہوا میں ٹھہر گئی تھیں۔
    درود کی آوازیں۔
    نعت کی آوازیں۔
    محبت کی آوازیں۔
    اور ان آوازوں میں ایک نام سب سے نمایاں تھا:
    محمد ﷺ

    یہی تو اسلام کی سب سے خوبصورت حقیقت ہے کہ وہ جہاں بھی جاتا ہے، اپنے ساتھ ایک نسبت لے کر جاتا ہے؛ اور وہ نسبت ہے رحمتِ عالم ﷺ کی۔
    نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں 12 ربیع الاول کی خوشی میں ہزاروں مسلمانوں کا جمع ہونا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مدینہ صرف ایک شہر کا نام نہیں، ایک کیفیت کا نام بھی ہے۔
    مدینہ دل میں ہو تو انسان نیویارک میں بھی مدینے کی خوشبو محسوس کر سکتا ہے۔
    اور جب ٹائمز اسکوائر کی پاپ میوزک اور ڈسکو لائٹوں کی چکاچوند میں بھی کسی لمحے درود و سلام کی آواز بلند ہو جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ محبتِ مصطفیٰ ﷺ کا سفر ابھی جاری ہے۔
    یہ سفر سرحدوں سے آزاد ہے۔
    یہ سفر زبانوں سے بے نیاز ہے۔
    یہ سفر نسلوں سے ماورا ہے۔
    اور شاید اسی لیے دنیا کے کسی بھی کونے میں جب کوئی عاشقِ رسول ﷺ محبت سے کہتا ہے:
    صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
    تو مدینہ منورہ کی طرف دل کا ایک چراغ ضرور روشن ہو جاتا ہے۔
    ٹائمز اسکوائر کی ہزاروں مصنوعی روشنیوں کے درمیان اس رات اگر کوئی روشنی سب سے زیادہ روشن تھی تو وہ محبتِ رسول ﷺ کی روشنی تھی۔
    اور یہ روشنی امریکہ میں بھی ہے، پاکستان میں بھی، دنیا کے ہر خطے میں بھی،اور سب سے بڑھ کر ان کروڑوں دلوں میں بھی جہاں آج تک محمد مصطفیٰ ﷺ کا نام محبت، عقیدت اور درود کے ساتھ زندہ ہے۔

  • جذعِ حنّانہ ، وہ کھجور کا تنا جو رسول اللہ ﷺ کی جدائی میں رو پڑا،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    جذعِ حنّانہ ، وہ کھجور کا تنا جو رسول اللہ ﷺ کی جدائی میں رو پڑا،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    مسجدِ نبوی ﷺ کا ایک ایسا واقعہ جو چودہ صدیوں بعد بھی دل کو چھو لیتا ہے


    دفاعی و تزویراتی تجزیہ کار، جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، تزویراتی بازداریت اور دفاعی جدیدکاری میں خصوصی دلچسپی
    ممبر، ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک ایمینیٹیز اینڈ ڈویلپمنٹ

    قرآن و حدیث کے بنیادی دینی علوم (درسِ دینیہ) مدرسہ عثمان بن عفان سے حاصل کیے، جو وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے منسلک ہے

    مدینہ منورہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ مسلمانوں کے دلوں میں آباد ایک ایسی مقدس یاد ہے جس کا تعلق براہِ راست رسول اللہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی مبارک زندگی سے ہے۔ اس شہر کی گلیاں، مسجدِ نبوی ﷺ کے ستون اور اس کی فضا صدیوں سے ان واقعات کی یاد اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں جن کے گواہ صحابۂ کرامؓ تھے۔

    انہی واقعات میں ایک ایسا واقعہ بھی ہے جسے پڑھتے اور سنتے ہوئے آج بھی انسان حیرت اور عقیدت کے احساس میں ڈوب جاتا ہے۔

    یہ واقعہ جذعِ حنّانہ کا ہے — وہ کھجور کا تنا جو رسول اللہ ﷺ کی جدائی میں رو پڑا تھا۔
    یہ محض ایک مشہور روایت یا عوامی قصہ نہیں۔ اس واقعے کی اصل صحیح احادیث میں موجود ہے، خصوصاً صحیح بخاری میں اس کا ذکر متعدد روایات کے ذریعے ملتا ہے۔

    منبر سے پہلے کا زمانہ
    مسجدِ نبوی ﷺ کے ابتدائی دور میں رسول اللہ ﷺ جمعہ کا خطبہ ایک کھجور کے تنے کے پاس کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا کرتے تھے۔

    اس وقت مسجدِ نبوی ﷺ آج کی طرح وسیع و عالیشان نہیں تھی۔ تعمیر انتہائی سادہ تھی۔ صحابۂ کرامؓ رسول اللہ ﷺ کے گرد بیٹھتے اور آپ ﷺ سے قرآن، دین اور زندگی کے مختلف معاملات کی تعلیم حاصل کرتے۔
    رسول اللہ ﷺ جب خطبہ دیتے تو آپ ﷺ اسی کھجور کے تنے کے قریب کھڑے ہوتے۔

    وہ تنا بظاہر ایک عام درخت کا حصہ تھا، لیکن تاریخ نے اسے ایک غیر معمولی واقعے کا گواہ بنا دیا۔
    اس نے رسول اللہ ﷺ کی زبانِ مبارک سے قرآن کی تلاوت سنی، اللہ تعالیٰ کا ذکر سنا اور آپ ﷺ کے خطبات سنے۔

    وقت گزرتا گیا اور صحابۂ کرامؓ نے رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک منبر تیار کیا تاکہ آپ ﷺ بلند جگہ پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمائیں اور مسجد میں موجود تمام لوگ زیادہ آسانی سے آپ ﷺ کو دیکھ اور سن سکیں۔

    منبر تیار ہوگیا۔
    رسول اللہ ﷺ اس پر تشریف لے گئے۔
    لیکن اسی لمحے مسجدِ نبوی ﷺ میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جسے سن کر صحابۂ کرامؓ حیران رہ گئے۔

    اچانک رونے کی آواز

    حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف لے گئے تو کھجور کے اس تنے سے ایک آواز بلند ہوئی۔

    صحابۂ کرامؓ نے اس آواز کو حمل سے بھری ہوئی اونٹنی کے رونے یا کراہنے سے تشبیہ دی۔
    یہ ایک ایسا لمحہ تھا جسے وہاں موجود لوگوں نے اپنی سماعت سے محسوس کیا۔

    رسول اللہ ﷺ منبر سے نیچے تشریف لائے اور اس تنے کے پاس گئے۔
    صحیح بخاری کی روایت کے مطابق آپ ﷺ نے اس پر اپنا دستِ مبارک رکھا، جس کے بعد وہ خاموش ہوگیا۔
    (صحیح بخاری، حدیث 918)

    ایک دوسری روایت میں حضرت جابر رضی اللہ عنہما مزید بیان کرتے ہیں کہ وہ تنا بچے کی طرح رویا۔

    رسول اللہ ﷺ اس کے پاس تشریف لائے اور اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا، یہاں تک کہ وہ خاموش ہوگیا۔

    پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کے رونے کی وجہ بیان فرمائی:
    “یہ اس ذکر کی وجہ سے رو رہا تھا جو یہ میرے پاس سنا کرتا تھا۔”
    یہ روایت بھی صحیح بخاری میں موجود ہے۔
    صحیح بخاری، حدیث 3584

    رسول اللہ ﷺ کی شفقت
    اس واقعے کا سب سے حیرت انگیز پہلو صرف کھجور کے تنے کا رونا نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کا اس کے ساتھ برتاؤ بھی ہے۔

    آپ ﷺ نے اس آواز کو نظر انداز نہیں کیا۔
    آپ ﷺ منبر سے نیچے تشریف لائے، اس تنے کے قریب گئے اور اسے تسلی دی۔
    روایت کے مطابق آپ ﷺ نے اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا یہاں تک کہ وہ خاموش ہوگیا۔
    ایک بے جان کھجور کے تنے کے ساتھ پیش آنے والا یہ واقعہ صحابۂ کرامؓ کے لیے ایک غیر معمولی نشانی تھا۔
    اسی لیے یہ واقعہ بعد کی نسلوں تک منتقل ہوا اور کتبِ حدیث میں محفوظ رہا۔

    جامع ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پہلے اس کھجور کے تنے کے پاس کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے۔

    جب منبر تیار ہوا تو وہ تنا رسول اللہ ﷺ کی جدائی میں رویا، یہاں تک کہ آپ ﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے اور اسے تھام لیا۔
    (جامع ترمذی، حدیث 505)

    جذعِ حنّانہ نام کیسے پڑا؟
    عربی زبان میں جذع درخت کے تنے کو کہتے ہیں، جبکہ حنّانہ میں حنین، تڑپ، اشتیاق اور جدائی کی کیفیت کا مفہوم پایا جاتا ہے۔

    اسی وجہ سے یہ تنا تاریخ میں جذعِ حنّانہ کے نام سے مشہور ہوا۔
    یہ نام خود اس واقعے کی کیفیت کو بیان کرتا ہے۔
    ایک ایسا تنا جو رسول اللہ ﷺ کی قربت میں رہتے ہوئے آپ ﷺ کے خطبات اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کا گواہ تھا، جب آپ ﷺ نے اس جگہ کھڑے ہونا چھوڑ دیا تو اس سے ایسی آواز نکلی جسے صحابہؓ نے رونے سے تعبیر کیا۔

    قیامت تک رونے کی روایت

    جذعِ حنّانہ کے بارے میں ایک بات بہت مشہور ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ اس تنے کو تسلی نہ دیتے تو وہ قیامت تک روتا رہتا۔

    یہ جملہ اس واقعے کے ساتھ عام طور پر بیان کیا جاتا ہے اور بعض روایات و علمی کتب میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔
    تاہم صحیح احادیث کے الفاظ کے معاملے میں احتیاط ضروری ہے۔ صحیح بخاری کی مضبوط روایات میں یہ بات واضح طور پر موجود ہے کہ تنا رویا، رسول اللہ ﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے، اسے تسلی دی یا گلے لگایا اور وہ خاموش ہوگیا۔

    اس لیے “قیامت تک رونے” والی بات کو صحیح بخاری کے براہِ راست الفاظ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
    اصل واقعہ اپنی جگہ نہایت عظیم ہے، کیونکہ اس کا بنیادی حصہ صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
    ایک واقعہ، جو صدیوں سے زندہ ہے
    اس واقعے کو پیش آئے چودہ سو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔
    اس دوران دنیا بدل گئی۔
    سلطنتیں قائم ہوئیں اور ختم ہوگئیں۔
    نسلیں آئیں اور رخصت ہوگئیں۔
    مگر مسجدِ نبوی ﷺ سے وابستہ یہ واقعہ آج بھی مسلمانوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
    آج جب کوئی مسلمان مدینہ منورہ پہنچتا ہے اور مسجدِ نبوی ﷺ میں حاضری دیتا ہے تو وہ صرف ایک تاریخی عمارت میں داخل نہیں ہوتا۔ اس کے ذہن میں رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی کے وہ مناظر بھی زندہ ہوجاتے ہیں جو احادیث اور سیرت کی کتابوں میں محفوظ ہیں۔
    انہی مناظر میں ایک منظر وہ بھی ہے:
    رسول اللہ ﷺ منبر پر کھڑے ہیں۔
    صحابۂ کرامؓ سامنے موجود ہیں۔
    اور مسجد کے ایک حصے سے اچانک ایک کھجور کے تنے کے رونے کی آواز آتی ہے۔
    رسول اللہ ﷺ منبر سے نیچے تشریف لاتے ہیں۔
    اس تنے کے پاس جاتے ہیں۔
    اسے اپنے دستِ مبارک سے چھوتے ہیں، اور ایک روایت کے مطابق اسے اپنے ساتھ لپٹا لیتے ہیں۔
    پھر وہ آواز خاموش ہوجاتی ہے۔
    یہی جذعِ حنّانہ کی داستان ہے۔

    ایک سادہ سا کھجور کا تنا، جو رسول اللہ ﷺ کے خطبات کا گواہ تھا، تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ایک غیر معمولی واقعے کی علامت بن گیا۔
    یہ واقعہ ہمیں چودہ صدیوں کے فاصلے سے اس دور کی ایک جھلک دکھاتا ہے جب رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہؓ کے درمیان مسجدِ نبوی ﷺ میں تشریف فرما تھے۔
    اور شاید یہی اس واقعے کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے کہ ایک معمولی سا کھجور کا تنا بھی سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے ایک ایسے لمحے کا حصہ بن گیا جسے امت نے نسل در نسل محفوظ رکھا۔
    اللہ تعالیٰ اپنے محبوب اور آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر بے شمار درود و سلام نازل فرمائے۔
    اللّٰهم صلِّ وسلم وبارك على سيدنا محمد ﷺ۔

  • گریہ و زاری سے خوشی و سرشاری کا سفر،تحریر: حفیظ المہندس

    گریہ و زاری سے خوشی و سرشاری کا سفر،تحریر: حفیظ المہندس

    ہر سال کی طرح اس سال بھی 12 ربیع الاول کو ہم نے جشن ولادت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم خوب جوش و خروش سے منایا ۔ سرکار کی آمد مرحباً کے نعرے لگائے ۔ عمارتوں پر چراغاں کیا اور ایک دوسرے کو عید میلاد کی خوشی میں مبارکبادیں دیں ۔ بلا شبہ آپ صلعم کی ولادت باسعادت ملت اسلامیہ کے لیے باعث صد مسرت و انبساط ہے۔ اس نعمت ربانی پر اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے اور جتنی بھی خوشی کا اظہار کیا جائے وہ کم ہی ہے۔

    مبارک ہو کہ دورِ راحت و آرام آ پہنچا
    نجاتِ دائمی کی شکل میں اسلام آ پہنچا
    مبارک ہو کہ ختمِ المرسلیں تشریف لے آئے
    جنابِ رحمتہ للعٰلمین تشریف لے آئے

    تاہم اس موقع پر میری چشمِ تصور میں مدینہ النبی کی وہ نورانی فضاء جگمگانے لگی جہاں امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارک خود موجود تھی۔ وہاں ہر سال 12 ربیع الاول کا دن عام دنوں کی طرح آتا اور گذر جاتا۔ نہ کوئی محفل سجائی جاتی نہ کوئی اور اہتمام کیا جاتا ۔

    مگر 11ھجری کے 12 ربیع الاول کا سورج تاریخ اسلام کا انتہائی غمزدہ دن لے کر طلوع ہوا۔ مدینہ منورہ کا ہر گوشہ اور ہر کوچہ ماتم کدہ بن گیا ۔ صحابہ کرام ناقابل بیان غم و اندوہ میں ڈوبے ہوئے تھے ۔ امہات المومنین کا دل پھٹا جارہا تھا ۔ اطراف و اکناف کے سب مسلمان شدت غم سے زاروقطار رو رہے تھے ۔ کیونکہ اس روز تاجدار کائنات، فخر رسل ، سید الکونین نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو روتا بلکتا چھوڑ کر اپنے اللہ کے حضور جا چکے تھے ۔ صحابہ کرام کو نبی کی مفارقت کا یقین ہی نہیں آ رہا تھا ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسی جہاں دیدہ اور مدبر شخصیت بھی فرط غم سے کہہ اٹھی کہ جس نے محمد کی وفات کا اعتراف کیا، میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ وہ دن ریاست مدینہ کے لیے بے انتہا سوگ اور گریہ و زاری کا دن تھا ۔

    اب زمانہ کا انقلاب ملاحظہ ہو کہ 1400 سال کے بعد وہی دن غمزدگی اور افسردگی کا لبادہ اتار کر ایک جشن کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اس دن کو آپ کی وفات کا غم یاد کرنے کی بجائے آپ کا یوم ولادت قرار دے چکی ہے اور اس مناسبت سے اسے عید کا نام دے چکی ہے۔ رنج و الم کی کیفیت کا مسرت و فرحت میں تبدیل ہونے کا یہ سفر اپنی جگہ بہت حیرت انگیز ہے بقول اقبال:
    زمانے کے انداز بدلے گئے
    نیا راگ ہے ساز بدلے گئے

  • نعمتوں کا شکر کیا ہے؟،تحریر: مبراء عبدالقیوم

    نعمتوں کا شکر کیا ہے؟،تحریر: مبراء عبدالقیوم

    اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ زندگی، صحت، عقل، ایمان، والدین، اولاد، رزق، امن، محبت، علم اور ہدایت یہ سب اللہ تعالی کی بہترین عظیم نعمتیں ہیں۔ ان نعمتوں کی اتنی کثرت ہے کہ انسان چاہے بھی تو ان کا مکمل شمار نہیں کر سکتا ہے۔ قران مجید میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں:
    "اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو انہیں شمار نہیں کر سکتے” (سورۃابراہیم-34)

    یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمارا ہر لمحہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس لیے ہمیں ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
    شکر کا مطلب صرف زبان سے "الحمدللہ” ہی کہنا نہیں ہے، بلکہ دل سے یہ یقین رکھنا ہے کہ تمام نعمتیں اللہ ہی کی عطا کردہ ہیں۔ زبان سے اس کی تعریف کرنا اور ان نعمتوں کو اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کرنا بھی شکر ہے۔ اگر اللہ نے ہمیں علم دیا ہے تو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے علم کو دوسروں کے لیے استعمال کریں۔ اگر مال دیا ہے تو اس میں ضرورت مندوں اور غریبوں کا بھی حق ادا کریں۔ اگر صحت دی ہے تو عبادت، محنت اور خدمت خلق میں استعمال کریں۔ یہی حقیقی شکر گزاری ہے۔

    شکر گزار بندہ ہر وقت پرسکون اور مطمئن رہتا ہے، کیونکہ وہ دوسروں کی نعمتوں پر حسد کرنے کی بجائے اپنی نعمتوں پر نظر رکھتا ہے۔ وہ ہر حال میں اللہ کی حکمت پر راضی اور مشکلات میں صبر کے ساتھ اللہ ہی پر یقین اور توکل رکھتا ہے۔ جو شخص نعمتوں کی قدر نہیں کرتا، وہ اکثر ان کے چھن جانے کے بعد ان کی اہمیت کو سمجھتا ہے۔ اللہ تعالی نے شکر گزار بندوں کے لیے بہت بڑی خوشخبری سنائی ہے۔ قران پاک میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
    ” اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا” (سورۃابراہیم-7)

    اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ شکر صرف ایک اخلاقی خوبی ہی نہیں ہے، بلکہ نعمتوں میں اضافے، رزق میں برکت اور دل کے سکون کا ذریعہ بھی ہے۔ اسی لیے مسلمان کو خوشی اور غم، آسانی اور تنگی ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی عملی زندگی سے شکر کا بہترین نمونہ پیش کیا ہے۔
    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ رات کو اتنا قیام فرماتے کہ آپ ﷺ کے قدم مبارک سوج جاتے۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا:
    "یا رسول اللہ ﷺ! آپ ایسا کیوں کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے تمام ذنوب کی مغفرت فرما دی ہے؟”
    آپ ﷺ نے فرمایا:
    "يَا عَائِشَةُ، أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا”
    "اے عائشہ! کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟”
    صحیح البخاری، کتاب التفسیر، سورۃ الفتح، حدیث نمبر 4837
    اور ایک دوسری روایت میں صحیح البخاری، کتاب التہجد، حدیث نمبر 1130۔
    اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت، اطاعت اور نیکی کے کام شکر کی بہترین صورتیں ہیں۔

    ہمیں چاہیے کہ ہم روزانہ اپنی زندگی میں موجود نعمتوں پر غور کریں۔ پانچ وقت نماز ادا کریں، سچ بولیں، لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں۔ اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں اور ہر نعمت کو اللہ کی امانت سمجھ کر استعمال کریں۔ زبان سے "الحمدللہ” کہنا، دل میں عاجزی پیدا کرنا اور عملی طور پر نیکی اختیار کرنا شکر کے اہم تقاضے ہیں۔ شکر ایک عظیم عبادت اور بہترین اخلاقی صفت اور کامیاب زندگی کا راز ہے۔ جو شخص اللہ کی نعمتوں کو پہچان کر ان کی قدر کرتا ہے، اور انہیں اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کرتا ہے، اللہ تعالی اس کو مزید رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ شکر گزار بندے کے دل کو سکون عطا کرتا ہے، اور دنیا و آخرت کی بھلائی اور کامیابی عطا فرماتا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کی وہ اپنے رب کا شکر گزار بندہ بنے اور اپنے کردار و اعمال سے حقیقی شکر گزاری، نیکی اور خدمت خلق کا نمونہ بنے۔

  • سیرتِ النبی ﷺ ، انسانیت کے لیے کامل نمونہ،تحریر: مبراء عبدالقیوم

    سیرتِ النبی ﷺ ، انسانیت کے لیے کامل نمونہ،تحریر: مبراء عبدالقیوم

    دنیا کی تاریخ میں بے شمار عظیم شخصیات گزری ہیں، جنہوں نے اپنے اپنے میدان میں کارنامے انجام دیے مگر تاریخِ انسانیت میں ایک ایسی ہستی بھی جلوہ گر ہوئی، جس کی زندگی کا ہر لمحہ انسانیت کے لیے روشنی، ہر قول ہدایت اور ہر عمل ہمارے لیے نمونہ بن گیا۔ وہ عظیم ہستی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا۔
    قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
    وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ
    یعنی ہم نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا۔
    سیرتِ النبی ﷺ محض ولادت، ہجرت، غزوات اور وصال کے واقعات کا نام نہیں ہے۔ سیرت دراصل ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ ایک انسان اپنے رب سے تعلق کیسے مضبوط کرے، والدین کے ساتھ کیسا برتاؤ کرے، گھر والوں سے کیسے پیش آئے، دوستوں اور پڑوسیوں کے حقوق کیسے ادا کرے، دشمن کے ساتھ بھی انصاف کیسے کرے اور مشکل حالات میں صبر و استقامت کا دامن کیسے تھامے رکھے۔
    بعثتِ نبوی ﷺ اور ایک بدلتی ہوئی دنیا
    رسولِ اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے عرب معاشرہ جہالت، قبائلی تعصب، ظلم، شراب نوشی، جوا، بت پرستی اور کمزوروں کے استحصال جیسی برائیوں میں مبتلا تھا۔ طاقتور کمزور کو دبا دیتا، عورت کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا اور بعض لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے جیسے سنگ دلانہ اعمال بھی کرتے تھے۔
    ایسے تاریک ماحول میں نبی کریم ﷺ نے توحید کا پیغام بلند کیا۔ آپ ﷺ نے انسان کو انسان کی غلامی سے نکال کر ایک اللہ کی بندگی کی طرف بلایا۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں، فضیلت کا اصل معیار تقویٰ ہے۔
    آپ ﷺ نے معاشرے کے ان لوگوں کو عزت دی جنہیں لوگ حقیر سمجھتے تھے۔ غلاموں، یتیموں، مسکینوں اور کمزوروں کے حقوق کی حفاظت کی۔ عورت کو عزت اور وراثت کا حق دیا۔ یتیم کے سر پر دستِ شفقت رکھا اور انسانیت کو یہ سبق دیا کہ کسی کی کمزوری اس کے استحصال کا جواز نہیں بن سکتی ہے۔
    رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا سب سے روشن پہلو آپ ﷺ کا حسنِ اخلاق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں آپ ﷺ کے اخلاق کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
    وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ
    یعنی بے شک آپ ﷺ عظیم اخلاق پر فائز ہیں۔
    آپ ﷺ نے کبھی بدلہ لینے کو اپنی عظمت نہیں سمجھا بلکہ معاف کر دینا پسند فرمایا۔ آپ ﷺ کی گفتگو میں نرمی، رویے میں شفقت اور معاملات میں سچائی تھی۔ آپ ﷺ کسی کی دل آزاری نہیں کرتے تھے۔ آپ ﷺ مسکراتے ہوئے ملتے اور لوگوں کے دکھ درد کو محسوس کرتے۔
    آج ہم ایک معمولی اختلاف پر رشتے توڑ لیتے ہیں، ایک تلخ جملے پر برسوں ناراض رہتے ہیں اور معافی مانگنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ اگر ہم سیرتِ النبی ﷺ کو حقیقتاً سمجھ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ عظمت دوسروں کو شکست دینے میں نہیں بلکہ اپنے نفس کو قابو کرنے میں ہے۔
    نبوت سے پہلے ہی اہلِ مکہ آپ ﷺ کو صادق اور امین کے نام سے جانتے تھے۔ آپ ﷺ کے بدترین مخالفین بھی آپ ﷺ کی امانت داری سے واقف تھے۔ یہی وجہ تھی کہ لوگ اپنی قیمتی امانتیں آپ ﷺ کے پاس رکھتے تھے۔

    یہ سیرت کا ایک اہم سبق ہے کہ مسلمان کی پہچان صرف اس کی عبادت نہیں بلکہ اس کا کردار بھی ہے۔ نماز ہمیں اللہ سے جوڑتی ہے، مگر سچائی، امانت اور حسنِ سلوک ہمیں انسانوں کے دلوں سے جوڑتے ہیں۔
    آج ہمارے معاشرے کو سب سے زیادہ ضرورت اسی کردار کی ہے۔ اگر تاجر اپنے کاروبار میں دیانت داری اختیار کرے، استاد اپنی ذمہ داری ایمانداری سے نبھائے، طالب علم نقل سے بچے، ملازم اپنے کام میں خیانت نہ کرے اور ہر شخص اپنے قول و فعل میں سچا ہو تو معاشرہ خود بخود سنورنے لگے۔
    رسولِ اکرم ﷺ کی زندگی مشکلات سے خالی نہیں تھی۔ آپ ﷺ کو جھٹلایا گیا، آپ ﷺ پر ظلم کیا گیا، راستوں میں کانٹے بچھائے گئے، آپ ﷺ کے ساتھیوں کو اذیتیں دی گئیں اور آپ ﷺ کو اپنا محبوب شہر مکہ چھوڑ کر مدینہ کی طرف ہجرت کرنا پڑی۔
    طائف کا واقعہ سیرتِ نبوی ﷺ میں صبر کی ایک عظیم مثال ہے۔ وہاں آپ ﷺ کو شدید تکلیف پہنچائی گئی، مگر آپ ﷺ نے بددعا کے بجائے ان کی ہدایت کی امید رکھی۔
    یہ کیسا دل تھا جو تکلیف دینے والوں کے لیے بھی خیر چاہتا تھا!
    ہم معمولی آزمائشوں پر مایوس ہو جاتے ہیں۔ کسی کی بات دل کے خلاف ہو جائے تو شکوہ شروع کر دیتے ہیں۔ مگر سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں سکھاتی ہے کہ مشکلات انسان کو توڑنے نہیں بلکہ اسے اللہ کے قریب کرنے آتی ہیں، بشرطیکہ انسان صبر اور یقین کے ساتھ ان کا مقابلہ کرے۔

    فتحِ مکہ — طاقت کے باوجود معافی
    رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا ایک عظیم ترین واقعہ فتحِ مکہ ہے۔ وہی مکہ جہاں آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرامؓ کو برسوں تک ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا تھا، ایک دن آپ ﷺ فاتح کی حیثیت سے اسی شہر میں داخل ہوئے۔
    آپ ﷺ کے پاس طاقت تھی، اختیار تھا اور اپنے مخالفین سے بدلہ لینے کا موقع بھی تھا، لیکن رحمتِ عالم ﷺ نے انتقام کے بجائے معافی کو اختیار فرمایا۔
    یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ حقیقی فاتح وہ نہیں جو دوسروں کو شکست دے، بلکہ حقیقی فاتح وہ ہے جو فتح کے وقت اپنے نفس کو شکست دے دے۔
    آج اگر ہم اپنے گھروں، رشتوں اور معاشرے میں صرف اسی ایک اصول کو اپنا لیں کہ جہاں ممکن ہو معاف کر دینا ہے، تو کتنے ہی ٹوٹے ہوئے رشتے دوبارہ جڑ سکتے ہیں۔
    بچوں سے محبت اور شفقت
    رسول اللہ ﷺ بچوں سے بے حد محبت فرماتے تھے۔ آپ ﷺ بچوں کو سلام کرتے، انہیں محبت دیتے اور ان کے جذبات کا خیال رکھتے۔ آپ ﷺ نے بچوں کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ ان کی تربیت کو اہمیت دی۔
    آج ہم بچوں سے صرف فرمانبرداری چاہتے ہیں، مگر کبھی یہ سوچنے کی کوشش نہیں کرتے کہ وہ ہم سے محبت، وقت اور توجہ بھی چاہتے ہیں۔ سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں بتاتی ہے کہ تربیت صرف ڈانٹنے کا نام نہیں بلکہ محبت، شفقت اور اچھے نمونے کے ذریعے شخصیت سازی کا نام ہے۔
    اگر والدین اپنے بچوں کے لیے سیرتِ رسول ﷺ کو عملی نمونہ بنا لیں تو ہماری آنے والی نسل زیادہ بااخلاق، ذمہ دار اور انسان دوست بن سکتی ہے۔
    اسلام سے پہلے عورت کو بہت سے معاشروں میں وہ عزت حاصل نہیں تھی جس کی وہ مستحق تھی۔ نبی کریم ﷺ نے عورت کے مقام کو واضح کیا اور اس کے حقوق کی حفاظت فرمائی۔
    آپ ﷺ نے اپنی ازواجِ مطہرات کے ساتھ حسنِ معاشرت کا بہترین نمونہ پیش کیا۔ بیٹیوں کے ساتھ محبت کی اور عورت کے ساتھ اچھے برتاؤ کی تعلیم دی۔
    آج عورت کے حقوق کے نام پر بہت سی بحثیں ہوتی ہیں، مگر سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں بتاتی ہے کہ عورت کی حقیقی عزت صرف نعروں میں نہیں بلکہ اس کے احترام، تحفظ، تعلیم اور حقوق کی ادائیگی میں ہے۔
    پڑوسیوں اور معاشرے کے حقوق
    رسول اللہ ﷺ نے پڑوسی کے حقوق پر بہت زور دیا۔ اسلام نے ہمیں یہ نہیں سکھایا کہ صرف اپنے لیے جینا ہے بلکہ دوسروں کے دکھ کو بھی محسوس کرنا ہے۔
    ایک اچھا مسلمان وہ ہے جس سے دوسرے انسان محفوظ رہیں۔ ہماری عبادت اس وقت خوبصورت بن جاتی ہے جب ہمارے اخلاق بھی خوبصورت ہوں۔
    آج ہم اپنے پڑوسی کے گھر میں ہونے والی پریشانی سے بے خبر رہتے ہیں، مگر سیرت ہمیں ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا درس دیتی ہے۔ اگر ہم اپنے آس پاس کے لوگوں کی ضروریات محسوس کرنا شروع کر دیں تو معاشرے میں خود غرضی کم اور انسانیت زیادہ ہو سکتی ہے۔
    رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں اللہ تعالیٰ سے تعلق سب سے بنیادی حیثیت رکھتا تھا۔ آپ ﷺ نماز کا اہتمام فرماتے، اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے، دعا کرتے اور ہر حال میں اپنے رب پر بھروسہ رکھتے۔
    یہی تعلق آپ ﷺ کو مشکلات میں ثابت قدم رکھتا تھا۔
    ہمیں بھی اپنی زندگی میں دنیاوی مصروفیات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لیے وقت نکالنا چاہیے۔ کیونکہ انسان دنیا کی ہر چیز حاصل کر کے بھی اندر سے خالی رہ سکتا ہے، مگر جس دل میں اللہ کی محبت ہو، وہ مشکلات میں بھی امید کا چراغ روشن رکھتا ہے۔
    رسول اللہ ﷺ اپنی امت کے لیے بے حد فکر مند رہتے تھے۔ آپ ﷺ نے اپنی زندگی کا مقصد انسانیت کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی تک پہنچانا بنایا۔
    آپ ﷺ کی یہ محبت ہمیں ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے۔ اگر ہم واقعی آپ ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں ایک دوسرے کے لیے آسانی پیدا کرنی چاہیے، نفرتیں کم کرنی چاہئیں، جھوٹ، دھوکا، حسد اور بدگمانی سے بچنا چاہیے۔
    محبتِ رسول ﷺ صرف زبان سے درود پڑھنے کا نام نہیں؛ یہ آپ ﷺ کی سنت کو اپنے کردار میں اتارنے کا نام بھی ہے۔
    آج دنیا نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت ترقی کر لی ہے۔ ہمارے ہاتھ میں پوری دنیا سمٹ آئی ہے۔ ہم چند لمحوں میں ایک دوسرے تک پیغام پہنچا سکتے ہیں، مگر افسوس کہ دلوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔
    سوشل میڈیا نے رابطے آسان کیے لیکن برداشت کم کر دی۔ ہم اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھنے لگے ہیں۔ ایک معمولی بات پر کسی کی کردار کشی کر دیتے ہیں، افواہ پھیلا دیتے ہیں اور دوسروں کے جذبات کو مجروح کر دیتے ہیں۔
    ایسے دور میں سیرتِ النبی ﷺ ہمارے لیے پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔
    اگر ہم آپ ﷺ کے اخلاق کو اپنائیں تو ہماری گفتگو میں شائستگی آ سکتی ہے۔ اگر آپ ﷺ کی رحمت کو اپنائیں تو ہمارے دلوں میں نفرت کم ہو سکتی ہے۔ اگر آپ ﷺ کی امانت داری کو اپنائیں تو معاشرے سے بہت سی برائیاں ختم ہو سکتی ہیں۔ اگر آپ ﷺ کے صبر کو اپنائیں تو مشکلات ہمیں شکست نہیں دے سکتیں۔
    ہمیں چاہیے کہ ہم سیرتِ النبی ﷺ کو صرف ربیع الاول یا کسی خاص موقع تک محدود نہ کریں۔ سیرت ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہونی چاہیے۔
    ہم اپنے گھروں سے اس کا آغاز کر سکتے ہیں۔ والدین بچوں کے سامنے اچھے اخلاق کا عملی نمونہ بنیں۔ استاد اپنے شاگردوں سے شفقت کرے۔ بچے اپنے والدین کا احترام کریں۔ ہمسائے ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔ کاروبار میں دیانت داری اختیار کی جائے اور اختلاف میں بھی اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔
    ہمیں خود سے ایک سوال ضرور پوچھنا چاہیے:
    اگر آج رسولِ اکرم ﷺ ہماری زندگیوں کو دیکھ رہے ہوتے تو کیا ہمارے اخلاق، ہمارے معاملات اور ہمارے رویے آپ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ہوتے؟
    یہ سوال شاید ہمارے دلوں کو بدلنے کے لیے کافی ہو۔
    سیرتِ النبی ﷺ ایک ایسا سمندر ہے جس کی گہرائی کا اندازہ الفاظ سے نہیں لگایا جا سکتا۔ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو ہمارے لیے رہنمائی کا چراغ ہے۔ آپ ﷺ رحمت ہیں، معلم ہیں، رہبر ہیں، بہترین شوہر ہیں، بہترین والد ہیں، بہترین قائد ہیں اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے محبوب رسول ہیں۔
    ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمیں ایسی ہستی کی امت ہونے کا شرف حاصل ہوا جس نے انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کا راستہ دکھایا۔
    ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم سیرتِ رسول ﷺ کو پڑھیں، سمجھیں اور اپنی زندگی میں نافذ کریں۔ کیونکہ سیرت کی اصل خوبصورتی کتاب کے صفحات میں نہیں، انسان کے کردار میں نظر آتی ہے۔
    آئیے آج عہد کریں کہ ہم محبتِ رسول ﷺ کو صرف الفاظ تک محدود نہیں رکھیں گے۔ ہم اپنے اخلاق کو سنواریں گے، سچ بولیں گے، امانت کی حفاظت کریں گے، دوسروں کو معاف کریں گے، کمزوروں کا سہارا بنیں گے، والدین کا احترام کریں گے اور اپنی زندگی کو سنتِ رسول ﷺ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں گے۔
    کیونکہ ہماری کامیابی صرف اس میں نہیں کہ ہم دنیا کو بتائیں کہ ہم محمد ﷺ سے محبت کرتے ہیں؛
    اصل کامیابی یہ ہے کہ ہمارا کردار دنیا کو بتائے کہ ہم محمد ﷺ کے امتی ہیں۔
    اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو عشقِ رسول ﷺ سے منور فرمائے، ہمیں سیرتِ طیبہ کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور قیامت کے دن ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔
    آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

  • مکہ کی فضاؤں میں نور بکھر گیا، تحریر :سید ساجد علی شاہ

    مکہ کی فضاؤں میں نور بکھر گیا، تحریر :سید ساجد علی شاہ

    مکہ کی وادی میں وہ رات عام راتوں جیسی نہ تھی۔ آسمان پر ستارے کچھ زیادہ روشن محسوس ہو رہے تھے، ہوا میں ایک عجیب سی خوشبو رچی ہوئی تھی اور خاموش پہاڑ جیسے کسی عظیم واقعے کے منتظر تھے۔ کعبۃ اللہ کے گرد سکون چھایا ہوا تھا، مگر قدرت کے ایوانوں میں ایک ایسی خوشی برپا تھی جس کا اندازہ انسانوں کو ابھی نہ تھا۔ یہ وہ مقدس رات تھی جس کے بعد دنیا کی تاریخ کا رخ بدلنے والا تھا۔ مکہ کی گلیاں خاموش تھیں، کہیں کہیں چراغوں کی مدھم روشنی دکھائی دیتی تھی۔ لوگ اپنے گھروں میں آرام کر رہے تھے، لیکن آسمان کی وسعتوں میں فرشتے ایک عظیم خوشخبری کے گواہ بن رہے تھے۔ سورج ابھی طلوع نہیں ہوا تھا، مگر ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے اندھیروں کے سینے میں روشنی کی پہلی کرن جنم لینے والی ہو۔ اسی مقدس شہر میں حضرت آمنہؓ کے گھر وہ عظیم سعادت طلوع ہوئی جس کا انتظار زمانے کر رہے تھے ، حضرت آمنہؓ نے ایک ایسے بچے کو جنم دیا جو پوری انسانیت کے لیے رحمت بن کر آیا، وہ بچہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تھے، جس کے ذکر سے دلوں کو سکون اور جس کی سیرت سے زندگی کو راستہ ملنا تھا ، صبح ہوئی تو سورج کی سنہری کرنیں مکہ کی وادی پر پھیل گئیں ، پہاڑوں کی چوٹیوں پر روشنی بکھری تو یوں لگا جیسے قدرت نے زمین کو مبارک باد دی ہو۔ کعبہ اپنی عظمت کے ساتھ کھڑا تھا اور مکہ کی فضا میں ایک نیا پیغام سانس لے رہا تھا۔

    کسی کو معلوم نہ تھا کہ آج دنیا میں وہ ہستی تشریف لائی ہے جس کے ذریعے ظلمتوں میں بھٹکتی انسانیت کو ہدایت کا راستہ ملے گا، ایک بوڑھا شخص کعبہ کے قریب بیٹھا آسمان کو دیکھ رہا تھا اس نے سورج کی طرف دیکھا اور آہستہ سے بولا ’’آج کی صبح کچھ مختلف ہے، دل گواہی دے رہا ہے کہ کوئی بڑا راز دنیا پر آشکار ہونے والا ہے‘‘ قریب سے گزرنے والے ایک نوجوان نے حیرت سے پوچھا ’’بابا آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟‘‘ بوڑھے نے مسکرا کر کہا ’’بیٹا کبھی کبھی دل وہ بات محسوس کر لیتا ہے جسے آنکھیں دیکھ نہیں سکتیں آج مکہ کی ہوا میں عجیب سی خوشبو ہے اور آسمان کا رنگ بھی کچھ بدلا ہوا محسوس ہوتا ہے‘‘ اسی دوران ایک خبر شہر میں پھیلنے لگی کہ حضرت آمنہؓ کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی ہے لوگ مبارک باد دینے لگے، عبدالمطلبؓ کو جب اپنے پوتے کی ولادت کی خبر ملی تو وہ خوشی سے جھوم اٹھے، انہوں نے بچے کو اپنی آغوش میں لیا، کعبہ کے قریب لے گئے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اس معصوم چہرے پر ایسی نورانیت تھی کہ دیکھنے والا بے اختیار محبت میں گرفتار ہو جاتا وہ بچہ صرف ایک گھر کی خوشی نہیں تھا، وہ آنے والے وقت میں پوری امت کے لیے رحمت کا چراغ بننے والا تھا اس کی زبان سے نکلنے والے الفاظ دلوں کو بدلنے والے تھے، اس کے اخلاق دشمنوں کو دوست بنانے والے تھے اور اس کی سیرت انسانیت کو عزت، عدل، محبت اور بھائی چارے کا درس دینے والی تھی مکہ کی وادی نے اس دن ایک عظیم راز اپنے سینے میں محفوظ کر لیا وہ وادی جہاں بعد میں حق کی صدا بلند ہونے والی تھی، جہاں توحید کا پرچم بلند ہونا تھا اور جہاں ظلم و جبر کے سامنے نبی کریم ﷺ نے حق کا پیغام پہنچانا تھا وقت گزرتا گیا، وہ بچہ جوان ہوا تو لوگ اس کی صداقت اور امانت کے گواہ بن گئے، اہل مکہ اسے ’’الصادق‘‘ اور ’’الامین‘‘ کہہ کر پکارنے لگے پھر وہ وقت بھی آیا جب غارِ حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی اور انسانیت کو وہ پیغام ملا جس نے جہالت کے اندھیروں کو چیر کر علم و ہدایت کی روشنی پھیلا دی مگر اس عظیم انقلاب کی بنیاد اسی مبارک ولادت سے پڑ چکی تھی ، آج جب ربیع الاول کا چاند آسمان پر نمودار ہوتا ہے تو مسلمانوں کے دل محبتِ رسول ﷺ سے سرشار ہو جاتے ہیں گلیاں چراغوں سے روشن ہوتی ہیں، محافلِ میلاد سجتی ہیں اور نعتوں کی صدائیں بلند ہوتی ہیں لیکن نبی کریم ﷺ سے حقیقی محبت صرف چراغاں اور محفل تک محدود نہیں؛

    آپ ﷺ کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم آپ کی سیرت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، سچ بولیں، امانت ادا کریں، غریب کا سہارا بنیں، یتیم سے محبت کریں، والدین کا احترام کریں اور انسانیت کے ساتھ حسنِ سلوک کریں مکہ کی وہ مقدس وادی آج بھی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا کے اندھیروں کو ختم کرنے کے لیے ایک سچی روشنی کافی ہوتی ہے وہ روشنی محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ اقدس تھی آپ ﷺ رحمت بن کر تشریف لائے اور قیامت تک آنے والی انسانیت کے لیے ہدایت کا راستہ روشن کر گئے سورج کی کرنیں ہر صبح مکہ کی وادی کو روشن کرتی ہیں، مگر نبی پاک ﷺ کی سیرت کا سورج آج بھی کروڑوں دلوں کو روشنی عطا کر رہا ہے یہی وہ نور ہے جو زمانوں کے بدلنے سے مدھم نہیں ہوتا، بلکہ ہر دور میں انسان کو محبت، امن، عدل اور ہدایت کی طرف بلاتا ہے۔

  • ربیع الاول ، مدینہ صرف ایک شہر نہیں تھا،تحریر: زینب جہانزیب

    ربیع الاول ، مدینہ صرف ایک شہر نہیں تھا،تحریر: زینب جہانزیب

    کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ انسان پوری زندگی ایک ایسے شہر کی تلاش میں رہتا ہے جہاں پہنچ کر اُس کا دل آخرکار خاموش ہو جائے۔ ایک ایسی جگہ جہاں اسے اپنے ہونے کی وضاحت نہ دینی پڑے، جہاں وہ اپنی تھکن اتار سکے، جہاں اسے یہ خوف نہ ہو کہ کوئی اسے سمجھ نہیں رہا۔ شاید اسی لیے بعض جگہیں صرف جگہیں نہیں رہتیں، وہ انسان کے اندر ایک کیفیت بن جاتی ہیں۔

    مدینہ کا نام آتے ہی میرے دل میں بھی ایک ایسی ہی کیفیت اترتی ہے۔ ایک شہر، مگر صرف شہر نہیں۔ ایک نسبت، ایک سکون، ایک یاد، ایک ایسی سمت جس کی طرف انسان جسم سے پہلے اپنے دل کو لے جانا چاہتا ہے۔ مگر کبھی سوچتی ہوں کہ اگر مدینہ صرف پہنچنے کی جگہ نہیں بلکہ ایک کیفیت ہے، تو پھر وہ کیفیت ہمارے اندر کب پیدا ہوتی ہے؟
    شاید اُس وقت جب انسان کے اندر شور کم ہونے لگتا ہے۔
    ہم سکون کو ہمیشہ باہر تلاش کرتے ہیں۔ کوئی جگہ بدلتے ہیں، لوگوں سے فاصلے بناتے ہیں، مصروفیات کم کرتے ہیں، خود کو نئے راستوں میں الجھاتے ہیں، مگر کبھی اپنے اندر کے اُس شور کو نہیں دیکھتے جو ہر جگہ ہمارے ساتھ سفر کرتا ہے۔ ہم دنیا سے دور ہو سکتے ہیں، مگر اپنے خیالات سے کہاں جائیں گے؟
    مدینہ شاید اسی لیے میرے لیے ایک سوال بھی ہے: کیا میں اُس سکون کے لیے تیار ہوں جس کی تلاش میں ہوں؟
    کیونکہ سکون صرف یہ نہیں کہ زندگی میں مشکلات نہ ہوں۔ سکون شاید یہ ہے کہ مشکلات کے درمیان بھی دل اپنے مرکز کو نہ بھولے۔ انسان کے پاس بہت کچھ ہو یا بہت کم، لوگ اُس کے ساتھ ہوں یا اُس سے دور، راستہ واضح ہو یا دھندلا—پھر بھی اُس کے اندر ایک ایسی جگہ باقی رہے جہاں وہ خود کو بکھرنے نہ دے۔
    ہم میں سے بہت سے لوگ باہر سے تھکے ہوئے نہیں ہوتے، اندر سے تھکے ہوتے ہیں۔ ہر وقت کچھ ثابت کرتے کرتے، سب کو خوش کرتے کرتے، ہر تعلق کو بچاتے بچاتے، ہر سوال کا جواب دیتے دیتے، انسان کبھی کبھی اپنے ہی دل سے دور ہو جاتا ہے۔ اور شاید مدینہ کی نسبت ہمیں اسی دل کی طرف واپس بلاتی ہے۔
    حضور اکرم ﷺ کی ہجرت کے بعد مدینہ صرف ایک نئی منزل نہیں تھا؛ وہ ایک ایسی بستی بنی جہاں ایک معاشرہ محبت، مواخات، ذمہ داری اور باہمی تعلق کی بنیاد پر تشکیل پاتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ خیال مجھے ہمیشہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ایک جگہ کی اصل خوبصورتی اُس کی عمارتوں سے نہیں، اُس میں بسنے والے دلوں سے بنتی ہے۔

    تو پھر ہمارے اپنے گھر کیسے ہیں؟ ہمارے تعلقات کیسے ہیں؟ ہم جن لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں، کیا اُن کے لیے ہمارے قریب رہنا آسان ہے؟ کیا ہمارے الفاظ میں ایسی جگہ ہے جہاں دوسرا اپنی تھکن رکھ سکے؟ کیا ہمارے رویے میں اتنی گنجائش ہے کہ کوئی اپنی کمزوری چھپا کر نہیں بلکہ اعتماد کے ساتھ ہمارے سامنے آ سکے؟
    شاید ہم سب اپنے اپنے چھوٹے سے مدینے کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ کسی کے لیے آسانی بن کر۔ کسی کی بات بغیر فیصلہ سنائے سن کر۔ کسی کے دکھ کو معمولی نہ سمجھ کر۔ کسی کو اُس کی غلطی سے زیادہ اُس کی انسانیت سے دیکھ کر۔ کسی ایسے شخص کے لیے جگہ بنا کر جس کے پاس دنیا میں پہلے ہی بہت کم جگہ باقی ہو۔
    کیونکہ شاید مقدس نسبتوں کا سب سے خوبصورت اثر یہی ہے کہ انسان اُن سے وابستہ ہو کر دوسروں کے لیے بھی سکون کا سبب بننے لگے۔

    اور پھر مجھے لگتا ہے کہ مدینہ جانے کی خواہش صرف قدموں کی خواہش نہیں رہتی۔ یہ دل کی ایک خواہش بن جاتی ہے کہ کاش میرے اندر بھی ایسی جگہ بن جائے جہاں نفرت زیادہ دیر نہ ٹھہرے، جہاں انا کو بیٹھنے کے لیے زیادہ جگہ نہ ملے، جہاں محبت صرف لفظ نہ ہو بلکہ رویہ بن جائے، جہاں کسی کے آنے سے دل تنگ نہ ہو بلکہ کشادہ ہو جائے۔
    شاید ہر شخص کو اپنی زندگی میں ایک مدینہ چاہیے۔ ایک ایسی جگہ جو نقشے پر نہیں، دل کے اندر بنتی ہے۔
    اور شاید اصل سوال یہ نہیں کہ ہم مدینہ سے کتنے فاصلے پر ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ مدینہ کی اُس کیفیت سے ہمارے دل کتنے قریب ہیں جسے ہم اپنے اندر محسوس کرنے کی آرزو رکھتے ہیں۔

  • حسنِ مطلق کا سایہ،تحریر:دانیال حسن چغتائی

    حسنِ مطلق کا سایہ،تحریر:دانیال حسن چغتائی

    یثرب کی وادی میں شام کی سرمئی دھندلاہٹ پھیل رہی تھی۔ آفتاب کی زرد شعاعیں کھجور کے اونچے درختوں کی چوٹیوں کو لگ کر رخصت ہو رہی تھیں لیکن مسجدِ نبوی کا صحن روحانی روشنی سے منور تھا۔ صحابہ کرامؓ کا حلقہ بنا ہوا تھا، جیسے چاند کے گرد تاروں کا جُھرمُٹ بنا ہو۔
    حسان بن ثابتؓ مسجد کے ایک کونے میں کھڑے تھے، ان کے ہاتھ میں قلم نہیں تھا لیکن دل کی پتیوں پر محبت کی سیاہی سے اشعار تحریر ہو رہے تھے۔ انہوں نے نگاہ اٹھا کر منبر پر بیٹھی اس ہستی کو دیکھا جن کے چہرے پر فجر کی سفیدی اور شفق کی سرخی خوب واضح تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے مبارک سے نکلتی نور کی کرنوں نے حسانؓ کے وجود کو سحر زدہ کر دیا تھا۔ وہ شاعر تھے، لفظوں کے جادوگر تھے، عرب کے بليغ ترین فصحاء میں شمار ہوتے تھے لیکن آج جب انہوں نے سید الانبیاء کے جمال کو دیکھا، تو ان کی تمام شاعرانہ تعلییات اور مبالغے ہیچ ہو گئے۔
    ان کے دل نے گواہی دی کہ دنیا نے حسن کے ہزاروں پیکر دیکھے ہوں گے، لیکن جو پرتوِ جمال اس ہستی میں ہے، وہ چشمِ فلک نے نہ کبھی دیکھا اور نہ آئندہ کبھی دیکھے گی۔ حسانؓ کے لبوں سے بے ساختہ جاری ہوا: وَاَحْسَنُ مِنْكَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَيْنٌ…
    مسجد کے صحن میں ایک طرف ایک بدوی آکر بیٹھا۔ اس کے لباس پر صحرا کی گرد جمے ہوئے تھی اور چہرے پر سفر کی تھکن اور درشتی کے آثار تھے۔ وہ مدینہ میں اس رحمت للعالمین کی تلاش میں آیا تھا جس کے چرچے صحرائے عرب کی وسعتوں میں گونج رہے تھے۔
    بدوی نے دیکھا کہ لوگ اس ہستی کے ارد گرد یوں بچھے جا رہے ہیں جیسے پیاسے شفاف چشمے پر گرتے ہیں۔ لیکن سب سے حیران کن بات وہ مساوات اور بلا کا حسنِ اخلاق تھا جو اس محفل میں جاری تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بولتے تو یوں لگتا جیسے موتی جھڑ رہے ہوں۔ نہ آواز میں کرختگی تھی نہ لہجے میں کوئی غرور تھا اور نہ چہرے پر کسی قسم کی ناگواری کے کوئی اثرات تھے ۔
    ایسے میں بدوی نے آگے بڑھ کر اپنی جاہلانہ اور سخت زبان میں کچھ سوالات کیے جو کسی بھی عام انسان کو طیش دلانے کے لیے کافی تھے۔ لیکن رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری۔ وہ مسکراہٹ جو صحرا کی گرم ہواؤں میں نسیمِ سحر کا جھونکا تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نرمی سے اس کی بات سنی، اس کی حاجت پوری کی اور اسے اپنے پاس بٹھا کر کھانا کھلایا۔
    حسان بن ثابتؓ یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے سوچا کہ حسن چہرے کی دلکشی کا نام نہیں، بلکہ حسن تو اخلاق کی اس بلندی کا نام ہے جس میں غصہ، بغض، کینہ، اور خود غرضی کا نام و نشان تک نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجودِ مسعود ہر قسم کے ظاہری اور باطنی عیب سے اس طرح پاک تھا کہ کائنات کا کوئی عیب جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں کوئی نقص نہ نکال سکا۔ یوں لگا جیسے خالقِ کائنات نے اپنے اس محبوب کو تمام نقائص سے منزہ کر کے تراشا ہو۔ حسانؓ کی زبان پر اشعار کا دوسرا مصراع خود بخود مچل گیا: خُلِقْتَ مُبَرَّءً مِنْ كُلِّ عَيْبٍ…
    رات گہری ہو چکی تھی۔ مدینہ منورہ پر سکون کی چادر تن گئی تھی۔ لیکن مسجدِ نبوی کے ایک حجرے میں ایک بوریے پر وہ ہستی سجدے میں رو رہی تھی جس کے لیے یہ کائنات سجائی گئی۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آلسوؤں کی لڑی جاری تھی، قدمِ مبارک پر سوجن تھی، لیکن دل میں اپنے رب کی حمد اور امت کی بخشش کی التجا تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل، ہر قدم اور ہر سانس ایسی کامل اور متوازن زندگی کی تصویر تھی جو انسانیت کے لیے معراج کی حیثیت رکھتی ہے۔
    جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے تو اندھیروں میں اجالا ہو جاتا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخاوت کرتے تو ہواؤں کی طرح بلا تفریق سب کو فیضیاب کرتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم معاف کرتے تو بدر کے قیدیوں سے لے کر فتحِ مکہ کے دن اپنے خون کے پیاسوں تک سب کو آغوشِ رحمت میں لے لیتے۔ کوئی انسان، کوئی خیال اور کوئی آرزو اس سے بہتر اور کامل شخص کا تصور ہی نہیں کر سکتی تھی۔
    حسانؓ نے مسجد کی خاموشی میں اپنے اشعار کا آخری ٹکڑا مکمل کیا: كَاَنَّكَ قَدْ خُلِقْتَ كَمَا تَشَاءُ گویا آپ کو ویسا ہی بنایا گیا جیسا آپ نے خود چاہا۔
    خالق نے اپنے محبوب کو وہ صورت، وہ سیرت، وہ رخِ زیبان اور وہ قلبِ مطہر عطا فرمایا تھا جو حسنِ مجسم کی آخری حد تھی۔ حسانؓ نے اپنے قصیدے کے یہ اشعار پڑھے، تو کائنات کی ہر شے نے اس سچائی کی تصدیق کی۔ یثرب کی ہوائیں گواہ تھیں کہ زمین و آسمان نے محمّدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ نہ کوئی جمیل دیکھا تھا، اور نہ ہی کوئی کامِل انسان دیکھا تھا۔
    حسانؓ کی نعت کے اخری اشعار جب فضاؤں میں تحلیل ہوئے، تو مسجدِ نبوی میں سحر انگیز خاموشی چھا گئی۔ چاند کی چاندنی صحن میں یوں بچھ گئی تھی جیسے ملائکہ نے نور کے فرش بچھا دیے ہوں۔
    حسانؓ نے اپنی بھیگی ہوئی آنکھوں سے ایک بار پھر روئے مبارک کی طرف دیکھا۔ ان کا دل پکار اٹھا کہ کائنات کا نقشہ گر اگر حسن کی کوئی آخری، کامل اور بے عیب تصویر بنانا چاہتا تھا، تو وہ محمدِ مصطفیٰ ﷺ کی ذات گرامی تھی۔
    وہ چہرہ، جس پر غضب کی جگہ ہمیشہ شفق جیسی نرمی چمکتی تھی۔ وہ ہاتھ، جو دینے کے لیے اٹھے تو دنیا کو بے نیاز کر گئے اور اگر اٹھے تو امت کی بخشش کے لیے، وہ قدم، جو زمین پر پڑے تو دھرتی فخر سے جھوم اٹھی؛ اور وہ قلبِ مطہر، جس میں انسانیت کے ہر درد کا مداوا موجود تھا۔
    یثرب کی خاموش ہوائیں شاہد تھیں کہ وقت کی طویل تاریخ میں تارے ٹوٹیں گے، سورج گہنائیں گے، سلطنتیں مٹیں گی اور داستاں در داستاں حسن کے چرچے ہوں گے لیکن چشمِ فلک پھر کبھی ایسا حسن نہ دیکھ سکے گی۔ چاند اپنی تمام تر چمک کے باوجود اس رخِ زیبان کے سامنے گہنایا ہوا رہے گا اور دنیا جب بھی حسن، خیر اور کمال کو ڈھونڈے گی، تو اس کی نگاہیں مدینہ منورہ کے اس سبز گنبد کے سائے میں آ کر ٹھہر جائیں گی، جہاں مجسمِ حسن و اخلاق اپنے دو بہترین دوستوں کے ساتھ ابدی آرام فرما رہے ہیں۔
    صلی اللہ علیہ وسلم
    صلی اللہ علیہ وسلم

  • ماہ ربیع الاول کی فضیلت اور خصوصیت ،تحریر : حافظ ملک جمشید

    ماہ ربیع الاول کی فضیلت اور خصوصیت ،تحریر : حافظ ملک جمشید

    ربیع الاول کا مبارک مہینہ اپنے نام سے ہی جانا اور پہچانا جاتا ہے ربیع عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی بہار کے ہیں سو ربیع الاول سے مراد ہوا بہار کی پہلی فصل۔

    اسلامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو بھی بڑا ہی معزز اور بہت خصوصیت کا حامل یہ مہینہ ہے۔ اسلامی کیلینڈ کے مطابق یہ سال کا تیسرا مہینہ ہے اور یہ وہ خاص اور عظیم مہینہ ہے کہ جس مہینے میں عالم دنیا میں اس عظیم محسن انسانیت کی ولادت باسعادت ہوئی کہ جن کی خاطر اللہ تعالی نے یہ کل کائنات بنائی اور سجائی اور اسی کی آمد اور کلمہ توحید کی دعوت کی تیاریوں میں ایک لاکھ چوبیس ہزار کم و بیش انبیائے کرام اس دنیا فانی میں تشریف فرما ہوئے۔ یہ وہ عظیم مہینہ تھا کہ جب حضرت آمنہ رضی اللہ کے گھر اللہ تعالی نے چاند کا ٹکڑا اتارا کہ جس کے چہرے کی قسمیں ، جس کے بالوں کی قسمیں ، جس کے حسن کی قسمیں اور جس کے امن والے شہر کی قسمیں اللہ تعالی نے اپنی عظیم کتاب قرآن مجید میں اٹھائیں۔ وہ مبارک ہستی مکہ کی جانی مانی شخصیت حضرت عبد المطلب کے لاڈلے پوتے اور حضرت عبد اللہ کے لخت جگر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے ۔آپ کی ولادت باسعادت 12 ربیع الاول 571 عیسویں کو ہوئی ۔ اور یہ سب سے خاص دن تھا کہ جس نے ربیع الاول کو ایک خاص مقام بخشا اور یہ مہینہ باقی تمام گیارہ مہینوم سے افضل ہو گیا ۔ گویا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری اللہ پاک کا عظیم تحفہ تھا اس بھٹکی انسانیت کے لیے کہ جو دین کے نام سے بہت دور جا چکے تھے اور حضرت عیسی علیہ السلام کے دین کی تعلیمات کو بھوک چکے تھے اور بیت اللہ جیسی عظیم جگہ کو بھی اپنے بتوں سے بھرا ہوا تھا اور اسی کی عبادت میں لگے ہوئے تھے۔ اور ایک خدا کی عبادت کو چھوڑ کر سینکڑوں بتوں کی پوجا میں لگے ہوئے تھے۔

    ایسے خاص موقع پر اللہ تعالی نے ربیع الاول کے مبارک مہینے میں اس امت کو خاص تحفہ عطا کیا کہ جس کے لیے انبیائے کرام نے بھی دعائیں مانگیں اور یہ تحفہ اس امت کو نصیب ہوا۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ کے لوگوں کے درمیان ایک لمبی زندگی گزاری اور ایک خاص زمانہ گزرنے کے بعد اس وقت کے قریب جا پہنچے جس مقصد کے لیے آپ کی آمد ہوئی ۔ اور نبوت جیسے عظیم منصب سے رب تعالی نے سرفراز کیا اور آپ کی زندگی ایک نئے دور میں شامل ہوئی جہاں اپنے بھی بیگانے بنتے گئے اور پیار والے نفرتوں میں بدلتے گئے مگر آپ نے ہمت نہ ہاری اور اسلام کے پرچم کو لیے دس سال تک مکہ کی سر زمین پر وگوں کے ذہنوں کو مائل کرنے کی کوشش میں لگے رہے۔ مگر بہت ہی کم لوگ اسلام لائے اور ظلم و ستم کے پہاڑ مزید بڑھتے گے ایسے میں اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کا حکم نازل ہوا ۔

    ربیع الاول کی دوسری خاص فضیلت کی بات کی جائے تو وہ یہ ہے کہ مکی زندگی کے دشوار زمانے کے بعد جب اللہ کے حکم سے مدینہ ہجرت کا پروانہ ملا تو یہ بھی ماہ ربیع الاول میں ہوا گویا کہ ایک بہار تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی صورت میں مکہ اور مسلمانوں کو نصیب ہوئی تو دوسری دکھوں کے اس تنگ اور منافقانہ لوگوں کے درمیان سے یک دم ایک نئی بہار کی امید جاگی اور یہ بہار مدینہ ہجرت کی صورت میں تھی کہ جہاں جا کر ایک نئی اسلامی ریاست کی بنیاد رکھنے کا موقع ملے گا اور دین اسلام کو کھل کر بیان کرنے اور اس کی تبلیغ کا زمانہ آئے گا اور یہ بہار بھی بہت ہی خاص تھی کہ جس کے بعد سے اسلام نے ایسا تیز سفر شروع کیا اور تلوار کے ذریعے سے دین کو پوری دنیا میں پھیلاتے پھیلاتے فتح مکہ اور حجہ الوداع سے ہوتے ہوئے اتنا آگے جا چکا کہ جو اب تک رکنے کا نام نہیں لے رہا اور قیامت تک یہ محنت اور تبلیغ جاری رہے گی جو بہار کے پیارے موسم یعنی ربیع الاول میں شروع ہوئی اور یہی وجہ ہے کہ ربیع الاول کا جیسے پیارا نام ہے تو ویسے ہی اس کی خاص فضیلت و خصوصیت بھی ہے۔

    تیسری خاص بات اس ماہ کی مناسبت سے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس دنیا فانی سے پردہ فرما جانا اور اس دین کامل کو مکمل طور پر صحابہ کرام کے ذریعے بحثیت امت محمدی ہمارے حوالے کرنا اور اس کو قیامت تک کے لیے زندگی کا نصب العین بنانا لازمی ہے۔ یہ ماہ ہمیں درس دیتا ہے اسلام پر چلنے اور اسلام کی قربانیوں کو یاد رکھ کر اس کے مطابق اپنی زندگی بنانا ہے۔ یہ ماہ ہمیں نبی پاک کی سیرت کو زندگی کا حصہ بنانے اس کے مطابق زندگی گزارنے کا درس دیتا ہے ۔اس ماہ میں ہم نبی پاک کی سیرت پر تقریبات سجاتے ہیں اور میلاد کی محفلیں مناتے ہیں مگر ان سب کے باوجود جو لازمی بات ہے وہ یہی کہ نبی پاک کی ولادت کی خوشیاں منانے کے ساتھ نبی پاک کی سیرت کو مکمل طور پر زندگی کا حصہ بنائیں تا کہ ربیع الاول کی نسبتیں ہماری زندگی کا حصہ بن جائیں۔

  • سیرتِ رسول ﷺ آج کے انسان کے لیے کامل رہنمائی،تحریر: عائش احمد

    سیرتِ رسول ﷺ آج کے انسان کے لیے کامل رہنمائی،تحریر: عائش احمد

    آج کے پُرفتن دور میں، جہاں بارش کے قطروں کی طرح فتنوں کا نزول ہو رہا ہے، انسان اگر اپنی باگ ڈور طریقۂ نبوی ﷺ کے ہاتھوں میں نہ دے تو قریب ہے کہ وہ ان فتنوں کی زد میں آ جائے اور اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ:

    "ایک زمانہ ایسا آئے گا جب آدمی صبح ایمان کی حالت میں کرے گا اور شام کفر کی حالت میں، یا شام ایمان کی حالت میں کرے گا اور صبح کفر کی حالت میں۔”

    (صحیح مسلم، حدیث: 313)

    پیارے نبی ﷺ کی سیرتِ مطہرہ ایسی مشعلِ راہ ہے جس کی روشنی میں چلنے والا کوئی بھی مسافر نہ باطل کے اندھیروں میں گم ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس کی راہ میں آنے والے نفس و شیطان جیسے رہزن اس کا بیش قیمت سرمایہ، یعنی ایمان، سلب کر سکتے ہیں۔ سیرتِ طیبہ نہ صرف انسان کی اخروی زندگی کو سنوارتی ہے بلکہ اس کی دنیاوی زندگی کے ہر پہلو کو بھی مزین و آراستہ کرتی ہے۔

    ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام علیہم السلام میں سے ہمارے نبی کریم ﷺ ہی وہ عظیم نبی ہیں جن کی سیرتِ کاملہ قیامت تک کے لیے محفوظ فرما دی گئی۔ جس طرح قرآنِ کریم کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے بذاتِ خود لیا ہے اور وہ قیامت تک باطل کے ناپاک ارادوں سے محفوظ ہے، اس میں کوئی تحریف کرنے کی جرات نہیں کر سکتا اسی طرح احادیثِ مبارکہ اور سنتِ نبوی ﷺ بھی امت کے درمیان محفوظ طریقے سے منتقل ہوتی رہی ہیں۔ یہ بھی حضور اکرم ﷺ کے عظیم معجزات میں سے ایک ہے۔

    صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ ﷺ کے اقوال، افعال، عادات، عبادات، معاملات اور زندگی کے ایک ایک گوشے کو نہایت محبت، عقیدت اور احتیاط کے ساتھ محفوظ کیا۔ پھر تابعین اور تبع تابعین نے اس عظیم امانت کو آنے والی نسلوں تک منتقل کیا۔

    اگر امتِ مسلمہ اپنے نبی ﷺ کے طریقوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو تنزل کا شکار ہونے کے بجائے عروج کی منازل طے کر سکتی ہے۔ اور اگر کوئی انسان دارین کی کامیابی چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ اپنی زندگی کے ہر پہلو میں سنتِ نبوی ﷺ کو مضبوطی سے تھام لے۔ یہی وہ مضبوط سہارا ہے جو اسے دنیا و آخرت کی کامیابی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔

    اس حقیقت کی تاکید ہمارے نبی کریم ﷺ نے خود فرمائی:

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے، کبھی گمراہ نہیں ہوگے: اللہ کی کتاب اور میری سنت۔ اور یہ دونوں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گی، یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیں گی۔‘‘

    لہٰذا ہر امتی پر لازم ہے کہ اپنے باوفا نبی ﷺ سے وفا کرے اور آپ ﷺ کی سیرتِ کاملہ کو سیکھنے، سمجھنے اور اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کرے؛ کیوں کہ مسلمان کے لیے اپنی ذات کو جاننا جتنا ضروری ہے، اس سے کہیں زیادہ اپنے نبی ﷺ کو جاننا ضروری ہے اور مسلمان کا اپنی ذات پر بھی اتنا حق نہیں جتنا اس کے نبی کریم ﷺ کا اس پر حق ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

    "تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اس کی اولاد، اس کے والد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔”
    ہمارے نبی کریم ﷺ نے اپنی امت پر جو احسانات کیے، جس قدر محبت فرمائی اور جس بے مثال وفاداری کا ثبوت دیا اس کی مثال تاریخِ انسانیت میں نہیں ملتی۔ انسان شاید اپنی ذات کے لیے بھی وہ فکر اور وفا نہ کر سکے جو ہمارے نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کے لیے فرمائی۔

    اسی لیے مسلمان پر سب سے زیادہ حق اس کے نبی کریم ﷺ کا ہے؛ کہ وہ آپ ﷺ سے سچی محبت کرے، آپ ﷺ کی اطاعت کرے، آپ ﷺ کی سنت کو مضبوطی سے تھامے اور اپنی پوری زندگی کو سیرتِ رسول ﷺ کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرے۔