Baaghi TV

Category: مسلم دنیا

  • اتحاد امت تحریر : محمد بلال انجم کمبوہ

    اتحاد امت تحریر : محمد بلال انجم کمبوہ

    *ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے*
    *نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغر*

    امت مسلمہ میں اتحاد دور حاضر کی اہم ضرورت ہے۔
    ہمیں قومیت و فرقہ ورانہ کشیدگی سے بالاتر ہو کر ملت اسلامیہ کے لیے سوچنا چاہیے، ہمیں امت میں اتحاد و اخوت کو فروغ دینے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ ظلم و بربریت کے خاتمے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ مظلوم و مجبور کی حمایت کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ دین اسلام کو کونے کونے میں پھیلانے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔

    *یہ اختلافات*
    بھی کوئی اختلافات ہیں، ان سب کو بالائے طاق رکھیں اور اللہ کا برکت والا نام لے کر اللہ کے پسندیدہ دین اسلام کے وقار کو بلند کرنے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ ہمیں ہر قیمت پہ متحد ہونا چاہیے، اگر اس راہ حق پہ جان بھی قربان کرنی پڑے تو رائیگاں نہیں۔

    *اللہ تعالیٰ نے فرمایا:*

    *”اللہ کی رسی (دین اسلام) کو مضبوطی سے پکڑو اور فرقوں میں مت بٹو”* (العمران 103)

    کیا ہم فرقوں میں بٹے ہوئے نہیں؟
    کیا ہم نے اس رسی کو مضبوطی سے پکڑا؟
    کیا ہم ایک دوسرے کے خیر خواہ ہیں؟

    *دین اسلام*
    اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین اور کائنات کی سب سے بڑی سچائی ہے۔ یہ ایک بہت بڑی امانت ہے اللہ تعالیٰ اور حبیب اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے۔۔۔۔
    اور ہم سب اس کے امین ہیں۔
    اس دین کی وجہ سے ہم ایک قوم ہیں اور فرد واحد کی طرح ہیں۔

    *حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:*

    *تم مومنوں کو آپس میں رحم کرنے، محبت رکھنے اور مہربانی کرنے میں ایسا پاؤ گے جیسا کہ بدن۔ جب بدن کا کوئی عضو تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو جسم کے سارے اعضاء اس کے دکھ میں شریک ہوتے ہیں اور بیماری اور بخار میں سارا جسم شریک رہتا ہے۔* (بخاری مسلم عن نعمان بن بشیر (رض))

    دین اسلام کی وجہ سے اخوت کا رشتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے قائم کیا ہے۔ اس رشتے کے مقابلے میں باپ بیٹے اور بہن بھائی جیسے سب رشتے کچے دھاگے کی مانند ہیں۔
    دو ارب مسلمان اور رشتہ اخوت۔ یہ ہے ملت اسلامیہ۔۔ حق و انصاف کی علمبردار۔۔۔۔
    مگر افسوس!!!!
    یہ مرکز دور کیوں؟
    یہ انتشار کیسا؟
    یہ جدائیاں کیوں؟
    یہ خرابیاں کیسی؟
    یہ سب ایک کیوں نہیں؟
    یہ مصنوعی دیواریں کیسی؟

    ملت کا ہر فرد اور اسلام کا ہر فرزند اس کا جواب دے ان کو کون منہدم کرے گا؟
    ان مصنوعی فاصلوں کو کون ختم کرے گا؟

    *ہے کوئی جمال الدین افغانی؟*
    *ہے کوئی صلاح الدین ایوبی؟*
    *ہے کوئی محمد بن قاسم؟*
    *ہے کوئی طارق بن زیاد؟*
    *ہے کوئی محمود غزنوی؟*
    *ہے کوئی شہاب الدین غوری؟*

    سامنے آؤ!!!!
    ملت تمہیں پکار رہی ہے۔۔

    *اے ملت اسلامیہ کے نوجوانوں!!!*

    ہمارا مرکز استنبول، قاہرہ، دمشق، ڈنمارک، واشنگٹن، شنگھائی، لندن،پیرس، جکارتہ، راولپنڈی، کابل یا دہلی نہیں۔۔۔۔۔
    مکہ معظمہ کو مرکز مانو!!
    کعبہ کو مرکز تسلیم کرو۔۔
    جس کو اللہ تعالیٰ نے مرکز بنایا ہے۔

    اُٹھ شیرِ مجاہد ہوش میں آ
    تعمیرِ خلافت پیدا کر

    کیوں فرقے فرقے ہوتا ہے
    اب ایک جماعت پیدا کر

    کر تو بھی ترقی دنیا میں
    اسبابِ تجارت پیدا کر

    قارون کی دولت ٹھکرا دے
    عثمان کی دولت پیدا کر

    اسلام کا دم بھرتا ہے
    کفر سے پھر کیوں ڈرتا ہے

    یا تو اسلام کا نام نہ لے
    یا شوقِ شہادت پیدا کر

    *آؤ*
    عالم اسلام کو ایک کرو۔ اسلام کی شمع کو روشن کرو۔ دکھی انسانیت کی خدمت کرو۔ انسانوں کے لئے ایسا معاشرہ قائم کرو جو ظلم و زیادتی سے پاک ہو، جہاں انصاف کا بول بالا ہو!!!۔۔۔۔۔۔۔۔
    جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اسلام کا پیغام گونجے۔۔
    جہاں وہ نظام رائج ہو جو اسلام کا بنیادی نظام ہے۔۔

    *اے مسلمان!!!!!!*
    اے قیصر و کسریٰ کی بلندوں بالا سلطنتوں کو روندنے والے! تو نے مغرب کی وادیوں میں اذانیں دیں۔۔۔ روم کی جاہ و حشمت کو پارہ پارہ کیا۔۔۔ چین و فرانس کی سرحدوں کو چھوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو نے ہی قسطنطنیہ کا آہنی حصار توڑا۔۔۔۔۔۔
    ہسپانیہ میں اسلامی دبدبے کا سکہ تو نے ہی بٹھایا۔۔۔۔۔۔

    آج تو بے بس ہے۔۔۔۔۔۔ کیوں؟
    آج کفر غالب ہے۔۔۔۔۔۔ کیوں؟

    کفر تو مغلوب ہوتا ہے۔۔۔

    *اے سوئے ہوئے مسلمان!!!*
    بیت المقدس پہ یہودی قابض ہیں۔۔۔۔
    مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی ہو رہی ہے۔۔۔۔
    ہندوستان میں مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔۔۔۔
    کشمیر و فلسطین جل رہا ہے۔۔۔۔
    افغانستان اور فلسطین کے مہاجرین دھکے کھا رہے ہیں۔۔۔۔
    عالم اسلام جل رہا ہے۔۔۔۔۔
    اور تو خاموش ہے۔۔۔۔۔

    *مگر*
    تو اب بھی پہلے پاکستانی ہے۔۔۔۔۔ افغانی یا بنگالی ہے۔۔۔۔
    عربی یا عجمی ہے۔۔۔۔۔
    اور بعد میں مسلمان!!!!!
    ایک صدیوں سے سویا ہوا مسلمان!!!!

    کیا تو اپنا کھویا ہوا مقام و مرتبہ، کھوئی ہوئی عظمت، کھویا ہوا وقار پھر سے حاصل کرنا چاہتا ہے؟

    *تو آ* !!!
    اللہ تعالیٰ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات پر عمل پیرا ہو،
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو پھر سے زندہ کر۔۔۔۔۔۔
    پہلے مسلمان بن۔۔۔۔
    پھر افغانی، پاکستانی، عربی، عجمی، بنگالی بن۔۔۔۔۔۔

    سب اختلافات کو ختم کر کے ایک مرکز پر متحد ہوجاؤ، یہ کفار آپ کے سامنے کچھ نہیں ہیں۔۔۔
    آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد ہے۔۔۔۔۔
    اللہ تعالیٰ کے دین اسلام کے لیے متحد ہوجاؤ اور پوری دنیا پہ چھا جاؤ۔۔۔۔

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو آپس میں متحد ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔۔۔۔

    *اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر*
    *خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی*
    *ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار*
    *قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری*
    @ibn_e_Adam424

  • اختلاف امت پر آخر کب تک ہم لڑتے رہینگے  تحریر : آصف شاہ خان

    اختلاف امت پر آخر کب تک ہم لڑتے رہینگے تحریر : آصف شاہ خان

    *اختلاف امت پر آخر کب تک ہم لڑتے رہینگے ؟*

    یہ کالم میری زاتی رائے اور بحثیت شریعہ کے طالب علم زاتی تجربے پر مبنی ہے۔ آپ کا متفق ہونا یا اس سے اختلاف رکھنا دونوں میرے لیے قابل قدر ہیں۔ آپ کا متفق ہونے سے میری حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور آپ کا اختلاف رکھنا میرے علم میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے ہم آخری امت کی ہدایت کے لیے رحمت العالمین حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا انتخاب کرکے بھیجا۔ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کو تبلیغ دینا شروع کی تو پہلے کم لوگ تھے جو ان کے قریب تھے ایمان لائے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ سلسلہ بڑھتا گیا اور وہ لوگ بھی شامل ایمان ہونے لگے جو دور دراز علاقوں سے تھے۔ ان ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو زندگی میں صرف ایک بار دیکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم رحمت العالمین تھے اور وہ چاہتے تھے کہ میری امت کو اللہ کے احکام کرنے میں آسانی ہو تو اس غرض سے مختلف مواقع پر مختلف طریقوں سے احکام کو عملی شکل میں لایا گیا۔ وہ اصحابہ اجمعین جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر موقع پر ہوتے تھے وہ بہت کم تھے اور اس کے بجائے وہ اصحابہ اجمعین زیادہ تھے جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر موقع پر موجود نہیں ہوتے تھے۔ اس وجہ سے ان اصحابہ کرام نے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ایک حکم کے مختلف طریقوں سے کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمیں دین اسلام بتدریج نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اصحابہ، اصحابہ اجمعین سے تابعین، تابعین سے تب تابعین اور پھر اس طرح ہوتے ہوتے ہم تک پہنچ گیا ہے۔ اس طرح ہمیں وہی اسلام پہنچ گیا ہے جس پر عمل کرتے ہوئے کسی صحابی نے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا ہوگا۔ اور اس صحابی رسول سے ہوتے ہوتے ہم تک پہنچ گیا۔ اور اس طرح میری قریب رہنے والی فیملی کو شاید کسی اور صحابی سے بتدریج پہنچ گیا ہو ۔ اب اگر ہم دونوں کے پاس دلائل موجود ہو تو پھر ہم لڑ کیوں رہے ہیں؟ کیوں ہم امت مسلمہ کو توڑنے کا سبب بن رہے ہیں؟ کیوں ہم آندھی تقلید میں رہتے ہوئے اپنے مسلمان بھائی کے خون کے پیاسے بن رہے ہیں؟ میرا قاری سوچ رہا ہوگا کہ پھر تو سارے فرقے ٹھیک ہیں، اس کے لیے میں یہاں ایک بات واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہاں سب ٹھیک ہے اس حد تک جب تک ان کے پاس قرآن اور حدیث سے دلیل ہو۔ کیوں کہ دین اسلام کے کوئی بھی فعل کے تولنے کے لیے ترازو قرآن اور حدیث ہے۔ اگر کوئی فعل اس ترازو پر تولے ٹھیک ہو تو پھر اس پر خود بھی عمل کرنا چاہیے۔ اگر آپ اس سے مطمئن نہیں ہو جو دوسرے گروہ کا ہو آپ بیشک اس سے اختلاف رکھے لیکن خدارا اپنے ان لوگوں کے جو دوسرے لوگوں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں ان کے آندھی تقلید میں اس وطن عزیز کا اور دین اسلام کا امن خراب نہ کریں۔ ہمارا اصل مسلہ علم کی کمی ہے اور ان لوگوں کی آندھی تقلید ہے جو دوسروں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں۔ میں شریعہ کا ایک معمولی طالب علم ہوں۔ ایک زمانہ تھا میں نے فقہ وغیرہ نہیں پڑھا تھا، میں سوچتا کہ میرا عقیدہ ٹھیک ہے باقی سب غلط راستے پر ہیں۔ لیکن جب تھوڑا بہت پڑھ لیا تو معلوم ہوا کہ سارے اپنی اپنی جگہ پر ٹھیک ہیں۔ ان سب کے پاس ہر حکم کیلئے دلیل ہوتی ہے۔ بغیر دلیل کے حکم لاگو نہیں کرتے ہیں۔ ہاں بعض جگہ انسان غلطی کرسکتی ہے لیکن زیادہ اختلاف کے مسائل میں سب کے پاس دلیل موجود ہے۔ میں جو دوسروں کو کافر سمجھتا تھا یہ دراصل میرا جہالت تھا۔
    اس اختلاف امت کے مسلے سے جو مسائل جنم لیتے ہیں ان کے لیے جلد از جلد حل تلاش کرنا چاہیے کیونکہ ان مسائل سے آے روز کوئی نہ کوئی لڑائی ہوتی ہے ۔ ان مسائل کی وجہ سے کچھ اندھے مقلدین اس حد تک جاتے ہیں کہ دوسرے کی زندگی تک لے لیتے ہیں۔ اس سے دشمنیاں شروع ہوتی ہیں۔ اور ملک و دین دونوں کا پر امن ماحول خراب ہوجاتا ہے۔
    اس کے حل کیلئے میری زاتی رائے یا یوں سمجھئے کہ تجویز یہ ہے کہ حکومت وقت ان علماء کو اکٹھا کرکے جن کے پاس علم ہو اور معتدل ہو اور وہ مختلف پلیٹ فارم سے عوام کو سمجھائے کہ ہم جو طریقہ اپنا رہے ہیں کسی خاص حکم میں بحثیت فلاں مکتبہ فکر تو ہمارے پاس یہ دلیل ہے لیکن یہ دوسرا مکتبہ فکر جو طریقہ اپنا لیا ہے اس کے پاس یہ دلیل ہے لہذا آپ لوگ وہی کرلے جس کی دلیل آپ لوگوں کو اچھی لگے۔ لیکن آپس میں جھگڑے کرنے کا کسی کے پاس کوئی اختیار نہیں اور نہ اس دین کی تعلیمات ہیں جس کے لیے تم آپس میں لڑ رہے ہو کہ آپس میں اختلاف کی وجہ سے لڑیں۔ اور علماء بھی کوشش کرے کہ سارے دلائل قرآن و حدیث سے پیش کریں۔ کیونکہ بحثیت مسلمان ہمارے لئے دین کے مسائل کیلئے ترازو قرآن اور حدیث ہے۔
    اللّٰہ ہمیں ان اختلافی مسائل سے پیدا ہونے والی نفرتوں سے نجات دلادے اور اللّٰہ پاکستان کو دین اور امن کا گہوارہ بنا دے۔
    (آمین)
    _________________________
    twitter.com/@IbnePakistan1

  • ہماری توجہ کہاں؟ . تحریر : حسنین ممتاز

    ہماری توجہ کہاں؟ . تحریر : حسنین ممتاز

    نماز سے سلام پھیرتے ہی نمازیوں میں یہ بحث شروع ہو گئی کہ امام صاحب نے تین رکتیں پڑھائیں ہی چار رکتیں۔طویل بحث ہوئی لیکن سب ایک بات پر متفق نہ ہو سکے اتنے میں اگلی صف میں بیٹھا ایک شخص بولا رکتیں تو تین ہوئی ہیں اس شحص سے پوچھا گیا کہ تم اتنے اعتماد کے ساتھ بول رہے ہو تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو کہنے لگا دلیل کی کیا بات ہے میری چار دوکانیں ہیں ہر رکت میں، میں نے اپنی ایک دوکان کا اج کا حساب کتاب کیا ہے اور ابھی میری چوتھی دوکان کا حساب رہتا تھا تو امام صاحب نے پہلے ہی سلام پھیر لیا۔
    ایک وقت میں ایک کام ہی کیا جاتا ہے زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو اس میں توجہ بہت ضروری ہے چاہے وہ پرھانے والا استاد ہو،پڑھنے والا طالب علم ہو، مزدور ہو یہ کوئی بھی سرکاری ملازم ہو اگر وہ اپنے کام پر توجہ نہیں دیتا تو پھر زاتی معاملات میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے جو کے معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔ ہمیں اپنے اپ سے یہ پوچھنا چاہیے کہ جب ہمیں رقم گننی ہو تو ہماری ساری توجہ گننے کی طرف ہوتی ہے اسی طرح ہم ٹی وی، موبائل پر فلمیں ڈرامے کس قدر توجہ سے دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ کوئی ہمیں آواز بھی نہ دے۔لیکن نماز میں ہماری توجہ کہاں؟ ذرا غور کیجئے کی ایسا کیوں؟
    تیری رحمتوں پہ ہےمنحصر،میرے ہر عمل کی قبولیت
    نہ مجھے سلیقہء التجا،نہ مجھے شعور نماز ہے۔

    @HusnainMumtaz10

  • پہلی صلیبی جنگ اور سقوط بیت المقدس  تحریر: رانا محمد عامر خان

    پہلی صلیبی جنگ اور سقوط بیت المقدس تحریر: رانا محمد عامر خان

    پانچویں صدی ہجری کے آخر میں جب کہ خلافت عباسیہ زوال پذیر تھی اور امت مسلمہ مختلف ٹکڑوں میں بٹ کر کمزور ہو چکی
    تھی میسحئ اقوام کو اپنی ناپاک آرزوکی تشکیل کا موقع مل گیا۔ میڈیاوار کے تحت پطرس راہب نے مسلمانوں کے مظالم کی
    فرضی داستانیں سن کر پورے یورپ میں اشتعال پیدا کر دیا اور مسحیی دنیامیں ایک سرے سے دوسرے سرے تک آگ لگادی
    ۔ پوپ اربن دوئم نے اس جنگ کو "صلیبی جنگ کانام دیا اور اس میں شرکت کرنے والوں کے گناہوں کی معافی اور ان کے
    جنتی ہونے کا مژ دہ سنایا- زبردست تیاریوں کے بعد فرانس انگینڈ اٹلی جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کی افواج پر مشتمل تیره
    لاکھ افراد کا سیلاب عالم اسلام کی سرحدوں پر ٹوٹ پڑا- روبرٹ نارمنڈی ‘گاڈ فری اور ریمون الطلولوزی جیسے مشہور یور پی
    فرمانروان بپھری ہوئی افواج کی قیادت کر رہے تھے۔ شام اور فلسطین کے ساحلی شہروں پر قبضہ کرنے اور وہاں ایک لاکھ سے
    زائد افراد کا قتل عام کرنے کے بعد شعبان 496 جولائی 1099 میں صلیبی افواج نے بیالس دن کے محاصرے کے بعد بیت
    المقدس پر قبضہ کیا اور وہاں خون کی ندیاں بہادیں۔ فرانسی مورخ "میشو کے بقول صلیبیوں نے ایسے تعصب کا ثبوت دیا
    جس کی مثال نہیں ملتی عربوں کو اونچے اونچے برجوں اور مکانوں کی چھتوں سے گرایا گیا آگ میں زندہ جلایا گیا گھروں سے
    نکال کر میدان میں جانوروں کی طرح ذبح کیا گیا-صلیبی جنگجو مسلمانوں کو مقتول مسلمانوں کی لاشوں پر لے جاکر قتل کرتے- کئی
    ہفتوں تک قتل عام کا یہ سلسلہ جاری رہا – ستر ہزار سے زائد مسلمان صرف اقصی میں تہ تیغ کیے گئے۔ عالم اسلام پر نصرانی
    حکمرانوں کی یہ وحشیانه یلغار تاریخ میں پہلی صلیبی جنگ کے نام سے مشہور ہے۔
    عیسائی کمانڈروں نے فتح کے بعد یورپ کو خوشخبری کا پیغام بیجھا اور اس میں لکھا: ‘اگر آپ اپنے دشمنوں کے ساتھ ہمارا سلوک
    معلوم کرنا ہیں تو مختصر یہ لکھ دینا ناکافی ہے کہ جب ہمارے سپاہی حضرت سلیمان علیہ اسلام کے معبد (مسجد اقصی) میں داخل
    ہوئے تو ان کے گھٹنوں تک مسلمانوں کا خون تھا۔( تاریخ یورپ اے جے گرانٹ )
    بیت المقدس کے سقوط کے بعد مسحی اقوام نے مقبوضہ شام و فلسطین کو تقسیم کرکے القدس,طرابلس, انطاکیہ, اور یافاکی کی چار
    مستقل صلیبی ریاستیں قائم کر لیں- حالات نہایت پر خطر تھے- عالم اسلام کے اکثر حکمران خانہ جنگیوں میں مست تھے -بعض صلیبیوں کے حلیف بن گئے۔
    ان میں سے کوئی بھی نصرانیوں سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ نہ رکھتا تھا-
    *Twitter ID @pakdefsd*

  • وزیر اعظم عمران خان – عالمی فورم پر اسلامو فوبیا بیداری کو اجاگر کرتے ہوئے تحریر: محمد ذیشان

    وزیر اعظم عمران خان – عالمی فورم پر اسلامو فوبیا بیداری کو اجاگر کرتے ہوئے تحریر: محمد ذیشان

    بہت سارے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ، پہلی بار بیرون ملک جاتے ہوئے ، ائیرپورٹ پر اہل خانہ کی طرف سے مشورہ دیا جاتا ہے: کبھی بھی اسلام کے بارے میں کسی بات میں ملوث نہ ہوں ، یہاں تک کہ اس کا دفاع یا وضاحت بھی نہ کریں ، چاہے کوئی کتنا بھی قیاس کرے اور فرض کرے اس کے بارے میں.
    تو ، کبھی بات نہیں کی جاتی، مفروضے غلط فہمیاں بن جاتے ہیں اور غلط فہمیاں شکوک و شبہات بن جاتی ہیں۔ شکوک فریبوں کا باعث بنتے ہیں ، اور پھر بھی ہم کبھی بات نہیں کرتے ہیں۔ وہم مستحکم عقائد کی طرف جاتا ہے اور عقائد اگلی نسلوں میں منتقل ہوجاتے ہیں جو پھر اپنے وراثت میں پائے جانے والے عقائد کی بنیاد پر فرض کرتے ہیں ، اس طرح شیطانی چکر جاری رہتا ہے… اور ہم پھر بھی بات نہیں کرتے!
    اسلامو فوبیا کی تباہی اس وقت ہوتی ہے جب ہم بات نہیں کرتے ہیں۔ اس سے قبل میں نے اسلامو فوبیا (اسلامو فوبیا: ایک پراسرار وبائی بیماری) کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ ایک نئی وبائی بیماری بنتی جارہی ہے۔ ہیضے سے زیادہ مبتلا اور ایڈز سے زیادہ مہلک۔
    کینسر سے زیادہ میٹاسٹک اور پولیو سے زیادہ کمزور۔ ایسی بیماری جس کی فوری تشخیص اور علاج کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر ، یہاں تک کہ ماں کے پیٹ میں موجود بچوں کو بھی ان کے عقائد کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا ، اور اس طرح ان کے ساتھ امتیازی سلوک اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔
    عدالتوں میں نہیں بلکہ بے گھر منشیات فروشوں کے ذریعہ سڑکوں پر مقدمہ چلایا گیا۔ مساجد میں گورے بالادستی کے ذریعہ مقدمہ چلایا گیا۔ سب سے زیادہ "استغاثہ” لوگوں نے سڑکوں پر مقدمہ چلایا۔ سڑکوں پر ہجوم کے ذریعہ قانونی کارروائی کی۔
    ایک ایسے وقت میں ، جو سورج کو مشرق سے مغرب تک سفر کرنے کے لئے درکار ہوتا ہے ، اس سے کم وقت میں ، اسلامو فوبیا مشرق سے مغرب تک کا سفر کرتا، اور اسی وجہ سے میں اسے "وبائی بیماری” کے نام سے پکارتا ہوں۔ مشرق میں ، 6 ماہ کی حاملہ خاتون پر سڈنی میں صرف اس کے لباس (اسکارف) کی وجہ سے حملہ کیا گیا۔
    یہاں تک کہ بے دردی سے مارنے پیٹنے کے بعد ، سب سے پہلا کام جو اس خاتون نے کیا وہ سکارف کو ایڈجسٹ کرنا تھا۔اس نام نہاد مفت جدید دنیا میں ،اپنے آپ کو پوری طرح ڈھانپنا، آدھے ننگے چلنے سے آسان ہے۔ دنیا رہنے کے لئے ایک خوفناک جگہ بن چکی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جب اس حملے کے بعد اس والدہ کا الٹراساؤنڈ سڈنی کے کسی اسپتال میں ہوتا تو ، 6 ماہ کا بچہ چیخ چیخ کر کہتا: ”میں پیدا بھی نہیں ہوا ہوں۔ میں دہشت گرد نہیں ہوں…! ”
    آسٹریلیا کو ایک شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جہاں پولین ہینسن جیسے سینیٹر "برقع” میں اسمبلی میں حجاب کا مذاق اڑانے آتے ہیں۔ جہاں نسل پرست بالادستی برینٹن ٹرانٹ کی قدر کی جاتی ہے۔ جہاں فریزر اننگ جیسے پارلیمنٹیرینز نفرت انگیز تبصرے کرتے ہیں۔
    مغرب میں ہونے والے دوسرے واقعہ میں ، کرسٹیشینند (ناروے) شہر میں "سائان” (ناروے میں اسلام پسندی روکیں) نامی ایک تنظیم کے ذریعہ اسلام مخالف مظاہرہ کیا گیا۔ پولیس نے مظاہرین کو قرآن مجید نہ جلانے کی انتباہ کے باوجود ، سی ای این کے رہنما "لارس تھرسن” (جو ماضی میں اسلام کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کی وجہ سے ایک ماہ قید کاٹ چکا تھا) کے نام پر اس مقدس کتاب کو جلا دیا۔ الیاس نامی ایک نوجوان مسلمان شخص نے اس پر حملہ کیا جس نے اسے روکنے کی کوشش کی اور دونوں کو گرفتار کرلیا گیا۔
    میں وزیر اعظم خان (مرحومہ محترمہ شوکت خانم) کی والدہ کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنے بیٹے کو اپنے مذہب کے بارے میں غلط فہمیوں کی وضاحت کرتے ہوئے ایسی سفارتی بلکہ تابعدارانہ حکمت عملی اپنانا کبھی نہیں سکھایا۔
    27 ستمبر 2019 کو ، یو این او ہیڈکوارٹر ، نیو یارک میں جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ، وزیر اعظم پاکستان مسٹر خان نے اس نئی وبا کے اسباب ، علامات ، تشخیص اور علاج کے بارے میں ایک فکری تقریر کی.
    وہ 30 منٹ میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے کسی عالم سے کم نہیں لگتا تھا جس کی وضاحت 30 سال میں کسی بھی مسلم عالمی رہنما نے نہیں کی تھی۔
    ہم سب کو اس معاملے پر آواز اٹھاتے رہنا چاہیے.
    Twitter : @Zeeshanvfp

  • مدینہ کے وارث مدینہ چھوڑ چلے . تحریر: مزمل مسعود دیو

    مدینہ کے وارث مدینہ چھوڑ چلے . تحریر: مزمل مسعود دیو

    یزید کے تخت سنبھالتے ہی اس نے والی مدینہ ولید بن عتبہ کو خط لکھا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام اور انکے جانثار ساتھیوں جن میں حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن زبیر ان سے بیعت لے لو اور اگر یہ منع کریں تو ان سب کے سر مجھے بھیج دو۔ ولید نے مروان سے پوچھا کہ کیا کریں تو مروان نے کہا کہ امام حسین نواسئہ رسول ہے وہ کبھی بھی یزید کی بیعت نہیں کریں گے اس سے قبل انکو یزید کی تخت نشینی کی خبر پہنچے ان سب کو بلا لو۔ ولید نے رات کو ہی اپنا ایک آدمی آپ سب کی طرف بھیجا۔ حضرت امام حسین اس وقت اپنے نانا کے مرقد پر تھے تو آپ نے اس آدمی کو کہا کہ میں بعد میں آتا ہوں۔ باقی لوگ بھی امام حسین علیہ السلام کے پاس پہنچ گئے اور اس بارے میں آگاہ کیا۔

    عبداللہ بن زبیر نے کہا حضرت امام حسین علیہ السلام سے کہا کہ مجھے ولید کے اس پیغام نے پریشان کردیا ہے۔ حضرت امام حسین نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ یزید تخت نشین ہو گیا ہے اور یہ لوگ ہم سے اسکی بیعت کا مطالبہ کریں گے۔ فیصلہ ہوا کہ ولید کے پاس جاکر پوچھا جائے کہ اس نے کیوں بلایا چنانچہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے قریبا تیس لوگوں کو اپنے ساتھ لیا اور ولید کے پاس پہنچ گئے۔ آپ نے اپنے ساتھیوں کو اسلحہ لے کر جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ آپ لوگ باہر ہی رکئے۔ اگر تم لوگ میری آواز کو بلند پاؤ تو اندر آجانا کیونکہ ہم اس کی بیعت والے معاملے کو نہیں مانیں گے۔

    حضرت امام حسین علیہ السلام ولید کے پاس گئے۔ مروان بھی وہیں بیٹھا تھا تو ولید نے امیر شام کی موت کی خبر دی اور ولید نے یزید کے خط کے بارے میں بتایا کہ یزید نے آپ سے بیعت کا مطالبہ کیا ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا، مجھے نہیں لگتا کہ تو خفیہ طریقے سے میری بیعت پر راضی ہو بلکہ تو چاہے گا کہ میں یزید کی بیعت اعلانیہ طور پر لوگوں کے سامنے کروں ، ولید نے جواب دیا کہ جیسا آپ نے فرمایا ایسا ہی ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ صبح تک صبر کر۔
    حضرت امام حسین وہاں سے جانے لگے تو مروان نے ولید سے کہا کہ ابھی تو امام حسین (ع) کا ہاتھ بیعت کے لئے نہ لے سکا تو کبھی ایسا نہیں ہو سکے گا اس لیے اگر ابھی بیعت نہ کریں تو ان کا سر قلم کر دے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام مروان کی گستاخی پر سخت غضباک ہوئے اور آپ نے فرمایا، تو مجھے قتل کرے گا، اللہ کی قسم تو جھوٹا ہے۔ تم سب میں اتنی طاقت نہیں ہے۔ اسکے بعد آپ نے ارشاد فرمائے، "ہم اہلبیت نبوت ہیں، اللہ کے ملائکہ ہمارے ہاں آتے جاتے ہیں، خدا نے خلقت پر ہمیں مقدم کیا ہے اور ہم پر ختم کیا ہے اور یزید شراب پینے والا فاسق فاجر ہے، میں کبھی اس کی بیعت نہیں کر سکتا یہ کہہ کر امام حسین علیہ السلام اپنے چاہنے والوں کے ساتھ باہر نکل گئے”۔

    صبح حضرت امام حسین علیہ السلام گھر سے نکلے، مدینہ کے بازار میں مروان سے سامنا ہوا۔ مروان نے کہا کیا فیصلہ کیا تو آپ نے فرمایا میں یزید کی بیعت نہیں کروں گا۔ اسکے بعد آپ نے مدینہ کو ترک کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اپنے نانا کے مرقد پر آئے اور وہ شب آپ اپنے نانا کے مزار پر ہی رہے، اسکے بعد آپ نے مدینہ کو چھوڑ دیا۔

    بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یزید کی بیعت سے انکار کے بعد آپ نے یزید کے خوف سے مدینہ منورہ سے ہجرت کی حالانکہ اگر ایسا ہوتا تو حضرت امام حسین کسی خفیہ راستے سے مکہ جاتے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے ایک قافلے کی شکل جس میں گھوڑے، اونٹ ، ناقے جو گھریلو سامان سے لدھے ہوئے تھے سب مرکزی شارع سے مکہ گئے۔ بہت سے لوگوں نے آپ کو خاموشی سے نکلنے کا مشورہ بھی دیا تھا لیکن آپ نے اسے ماننے سے انکار کردیا۔ حضرت امام حسین نے کیونکہ بیعت سے انکار کردیا تھا اسلیے آپ چاہتے تھے کہ لوگوں کو اس بات کا پتا چل جائے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام مدینہ سے کسی ڈر اور خوف کی وجہ سے نہیں نکلے بلکہ لوگوں کو ایک اشارہ دیا کہ اب یہ وقت مدینہ میں محفوظ بیٹھنے کا نہیں، بلکہ کربلا سجانے کے عزم کے ساتھ اٹھ کر یزیدی نظام حکومت کے خلاف قیام کا وقت ہے۔ لہٰذا کہا جاسکتا ہے امام حسین علیہ السلام نے محض سوال ِبیعت کی بنا پر مدینہ نہیں چھوڑا بلکہ ظالمانہ حاکمیت کے خلاف آپ پہلے سے ہی قیام کا ذہن بنا چکے تھے۔ سوال ِبیعت نے اتنا ضرور کیا کہ آپ کو وہ موقع فراہم کر دیا جو آپ کے سفر کا نقطہ آغاز بنتا، اور آپ نے مدینہ سے مکہ کی طرف ہجرت کے ذریعہ کربلا کی تعمیر کی صورت اسکا آغاز کر دیا۔

    ۲۸ رجب سن ۶۰ ہجری میں حضرت امام حسین علیہ السلام نے مدینہ سے مکہ جانے کا ارادہ کیا۔ آپ ۲۹ رجب المرجب کی رات مدینہ سے نکل گئے اور اس سفر میں آپکے ہمراہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا، حضرت ام کلثوم (ع)، حضرت عباس بن علی (ع) حضرت علی اکبر بن حسین (ع)اور آپکے دیگر اہلخانہ موجود تھے۔ حضرت زینب و ام کلثوم سلام اللہ علیہما کو ملا کر آپکی ۱۳بہنیں اس سفر میں آپ کے ساتھ تھیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی بہن حضرت جمانہ بنت ابوطالب (ع) اور ۹ کنیزیں آپ کے ہمراہ مدینہ سے نکلے، اس قافلے میں حضرت امام حسن مجتبٰی علیہ السلام کی بعض زوجات کے علاوہ ۱۶ افراد وہ تھے جنکا تعلق حضرت امام حسن مجتبٰی علیہ السلام و خانوادہ جناب مسلم بن عقیل سے تھا۔ اصحاب ِباوفا کے علاوہ ۱۰ غلام بھی آپکے ہمراہ تھے۔
    حضرت امام حسین علیہ السلام نے مدینہ سے مکہ پہنچ کر وہاں کم و بیش 4 مہینے قیام فرمایا اور 8 ذوالحجہ کو مکہ سے کوفہ کی جانب سفر شروع کیا۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کو راستے میں حضرت مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر ملی اور پھر راستے میں آپکو ابن زیاد کا پیغام پہنچایا گیا کہ آپ کوفہ نہیں جاسکتے بلکہ آپکو شام لے جانے کا حکم ہے لیکن آپ کے انکار کے بعد آپ نے اپنے قافلے کا رخ کربلا کی جانب موڑ دیا۔ 2 محرم کو آپکا قافلہ کربلا کی سرزمین پر پہنچا اور آپ نے اس جگہ کا نام پوچھا تو بتایا گیا کہ اس کا نام کربلا ہے تو آپ نے اسی وقت وہاں پڑاو ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہی ہماری مقتل گاہ ہے۔

    ‏@warrior1pak

  • حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طائف کے سفر کا قصہ . تحریر : محمد زمان

    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طائف کے سفر کا قصہ . تحریر : محمد زمان

    نبوت مل جانے کے بعد نو برس تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں تبلیغ فرماتے رہے اور قوم کی ہدایت اور اصلاح کی کوشش فرماتے رہے لیکن تھوڑی سی جماعت کے سواجو مسلمان ہو گئی تھی اور تھوڑے سے ایسے لوگوں کے علاوہ جو باوجود مسلمان نہ ہونے کے آپ کی مدد کرتے تھے اکثر کفار مکہ آپ کو اور آپ کے صحابہ کو ہر طرح کی تکلیف پہنچا دیتے مذاق اڑاتے تھے اور جو ہوسکتا تھا اس سے درگزر نہ کرتے تھے حضور کے چچا ابو طالب بھی انہیں نیک دل لوگوں میں سے تھے جو باوجود مسلمان نہ ہونے کے حضور کی ہر قسم کی مدد فرماتے تھے دسویں سال میں جب ابو طالب کا بھی انتقال ہو گیا تو کافروں کو اور بھی ہر طرح کے کھلے بہار اسلام سے روکنے اور مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے کا موقع ملا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس خیال سے تشریف لائے تھے.

    طائف وہاں قبلہ ثقیف کی بڑی جماعت ہے اگر وہ قبلہ مسلمان ہوجائے تو مسلمانوں کو ان تکلیفوں سے نجات ملے اور دین کے پھیلنے کی بنیاد پڑ جائے کیونکہ وہاں پہنچ کر قبلہ کے تین سرداروں سے جو بڑے درجے کے سمجھے جاتے تھے گفتگو فرمائی اور اللہ کے دین کی طرف بلایا اور اللہ کے رسول کی یعنی اپنی مدد کی طرف متوجہ کیا مگر ان لوگوں نے بجائے اس کے کہ دین کے بعد کو قبول کرتے ہیں یا کم ازکم عرب کے مشہور مہمان نوازی کے لحاظ سے ایک نو وارد مہمان کی خاطر مدارت کرتے صاف جواب دے دیا اور نہایت بے رخی اور بد اخلاقی سے پیش آئیں ان لوگوں نے بھی یہ گوارا نہ کیا کہ آپ یہاں قیام فرمالیں.

    جن لوگوں کو سردار سمجھ کر بات کی تھی وہ شریف ہوں گے اور مزہ ہے گفتگو کریں گے ان میں سے ایک شخص بولا کہ آپ ہی اللہ کے نبی بنا کر بھیجا ہے دوسرا بولا کہ اے اللہ کے تمہارے سوا کوئی اور ملتا ہی نہیں تھا جس کو رسول بنا کر بھیجتے تیسرے نے کہا کہ میں تجھ سے بات کرنا نہیں چاہتا اس لیے کہ اگر تم واقعی نبی ہے ہے جیسا کہ دعویٰ ہے تو تیری بات سے انکار کردینا مصیبت سے خالی نہیں اور اگر جھوٹ ہے تو میں ایسے شخص سے بات کرنا نہیں چاہتا اس کے بعد ان لوگوں سے ناامید ہو کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے بات کرنے کا ارادہ فرمایا کہ آپ تو ہمت اور استقلال کے پہاڑ تھے اگر کسی نے قبول نہ کیا بلکہ بجائے قبول کرنے کے حضور سے کہا کہ ہمارے شہر سے فورا نکل جاؤ اور جہاں تمہاری چاہت کی جگہ ہوں وہاں چلے جاؤ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ان سے بالکل مایوس ہوکر واپس ہونے لگے تو ان لوگوں نے شہر کے لڑکوں کو پیچھے لگا دیا کہ آپ کا مذاق اڑائیں تالیاں پیٹتے پتھر مارے آتا کے آپ کے دونوں جوتے خون سے جاری ہونے سے رنگین ہو گیا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں واپس ہوئے جب راستہ میں ایک جگہ ان شریروں سے ۔ اطمینان ہوا تو حضور نے یہ دعا مانگی
    اے اللہ مجھے سے شکایت کرتا ہوں اپنی کمزوری اور بے بسی کی اور لوگوں میں ذلت اور رسوائی کی اے الرحم الراحمین
    تو ہی صفات کا رب ہے اور تو ہی میرا پروردگار ہے تو مجھے اس کے حوالے کرتا ہے کسی اجنبی بیگانے کے جو مجھے دیکھ کر ترش رد ہوتا ہے اور منہ چڑھتا ہے یا کسی دشمن کے جس کو تو نے مجھ پر قابودے دیا اے اللہ اگر تو مجھ سے ناراض نہیں ہے تو مجھے کسی اور کی پرواہ نہیں ہے.

    تیری حفاظت مجھے کافی ہے میں تیرے چہرے کے اس نور کے طفیل جس سے تمام اندھیریاں روشن ہوگی اور جس سے دنیا اور آخرت کے سارے کام درست ہوجاتے ہیں اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ مجھ پر تیرا غصہ ہو یا مجھ سے ناراض ہو تیری ناراضگی کا اس وقت تک دور کرنا ضروری ہے جب تک تو راضی نہ ہو نہ تیرے سوا کوئی طاقت ہے نہ قوت ہے.

    @Z_Bhatti1

  • نماز‏ سکون کا راستہ . تحریر : عزیز الحق

    نماز‏ سکون کا راستہ . تحریر : عزیز الحق

    زندگی میں اگر سکون چاہتے ہیں تو نماز کی پابندی کریں نماز صرف زندگی کا سکون ہی نہں آپکو ہر طرح کے برے کاموں سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے جو بھی انسان صحیح طرح دل سے اللہ کے لاگو کیے گئے اس احکام کی پیروی کرے تو نہ صرف اس کی وقتی زندگی آسان ہوجاتی ہے بلکہ اس کے مستقبل میں کامیابی کے راستے آسان ہوجاتے ہیں.نماز کی پابندی کرنے والے کے لیے نماز اس کی تمام برائیوں کو جڑ سے ختم کرنے کا سبب بن جاتی ہے اور انسان کی اخلاقی طور پے اصلاح کا باعث بنتی ہے معاشرے میں آپکا مقام بنانے میں کردار ادا کرتی ہے آپکی آخرت سنوارنے کا سبب بنتی ہے نماز کے خواہ جیتنے فوائد گنوائے جائیں کم ہیں.
    نماز روزانہ کی عبادت ہے ، جو دن میں پانچ وقت کی پڑھی جاتی ہے.صبح ، دوپہر ، سہ پہر ، شام اور رات کے وقت۔ ایک مسلمان کسی بھی جگہ باجماعت یہ اکیلے بھی نماز ادا کر سکتا ہے۔ لیکن اجتمائی نماز/جماعت کے ساتھ کے فوائد اور اہمیت عليدہ ہی ہیں. نماز اللہ پاک سے ملاقات کا ایک بہترین ذریعہ ہے آپکو ڈائریکٹ اس خالق سے ملوا دیتی ہے جو اس کائنات کا مالک ہے بیماری ہو یا علاج معالجے کی تلاش پریشانی ہو یا بے چینی انسان ہر مسئلے کو نماز ادا کر کے سجدے میں سر جھکا کے اپنے رب سے دعا مانگ کر حل کر سکتا ہے، خاص کر نفسیاتی بیماریوں میں بھی شفا بخش ہونے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ہمارے پیارے نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق بہت سی بیماریاں نفسیاتی حالات جیسے پریشانی ، غم ، خوف ، تنہائی ، وغیرہ کی نماز اور مذہب سے دوری کی وجہ سے لاحق ہوتی ہیں۔ لہذا ، نماز روح کا سکون ہے اور آپکی زندگی کے سکون کو بحال کرتی ہے۔
    نماز رسمی معنوں میں ایمان کا ایک فریضہ ہے ، جو بالغ مسلمان روزانہ پانچ وقت ادا کریں۔
    اپنی زندگی میں نماز کی پابندی کو اپنا کر اپنا حال اور مستقبل کامیاب بنائیں.

    @azizbuneri58

  • امت مسلمہ کی حالت زار  تحریر: تماضر خنساء

    امت مسلمہ کی حالت زار تحریر: تماضر خنساء

    آج امت زبوحالی کا شکار ہے ۔نبی آخر الزمان ص جس
    امت کو ایک تسبیح کے دانے میں پروگئے وہ ٹوٹ چکی ہے اور امت ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے ۔جہاں نظر اٹھاؤ تو مسلمان مشکل میں ہیں ،کہیں کفار کی درپردہ چال بازیاں ہیں تو کہیں کفار کھلم کھلا غاصب ہے ۔یہ جنگ تو ازل سے ابد تک جاری رہے گی بدی اور نیکی کی جنگ کفار اور مسلمان کی جنگ!
    اللہ کے نبی نے تو ہمیں واضح بتادیا کہ امت تو ایک جسد واحد ہے کہ ایک عضو تکلیف میں ہو تو دوسرا
    عضو بھی سکون نہیں لے پاتا ۔

    حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا سب مسلمان ایک جسم واحد کی طرح ہیں۔ اگر اس کی آنکھ دُکھے تو اس کا سارا جسم دُکھ محسوس کرتا ہے اور اسی طرح اگر اس کے سر میں تکلیف ہو تو بھی سارا جسم تکلیف میں شریک ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم)

    مگر یہ امت کیسی امت ہے کہ جسکا ایک عضو تکلیف میں ہے اور باقی سب خاموش تماشائ ہیں، ہر ایک مصلحت کے تحت خاموش ہے، مسلمان مسلمان کی تکلیف نہیں سمجھتا آخر یہ کیسی بے حسی ہے جو اس امت پہ طاری کردی گئ ہے ۔

    حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ ﷲ کے رسول صلی ﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان سے تعلق ایک مضبوط عمارت کا سا ہے اس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے۔ پھر آپؐ نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر دکھایا کہ مسلمانوں کو اس طرح باہم وابستہ اور پیوستہ ہونا چاہیے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

    لیکن آج یہ امت ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے ،مسلمان اپنے مسلمان بھائ کا دشمن ہے، یہود و نصاری کو اپنا دوست سمجھتے ہیں
    ایک طرف امت کا دھڑکتا دل! فلسطین انبیائے کرام کی سرزمین ،وہی سرزمین جو واقعہ معراج کی شاہد ہے لہو لہان ہے، غاصب مسلط ہیں، مگر باقی دنیا کے مسلمان پھر بھی مست ہیں اس دنیا کی زندگی میں کھوئے پڑے ہیں ۔جانتے نہیں کہ یہ بے حسی اس امت کو اپاہج کرسکتی ہے اور اپاہج بھلا کسی سے اپنا حق بھی لے پایا ہے کبھی؟
    فلسطین سے نظر پھیر بھی لو توامت کا بازو کشمیرہے جہاں ،نہ جانے کتنے سالوں سے ظلم کا بازار گرم ہے کرفیو لگادیا جاتا ہے، ماؤں بیٹیوں کی عصمتیں تار تار کردی جاتی ہیں دن دھاڑے اس امت کے بیٹے چھین لیے جاتے ہیں، مگر ہم! ہم تو سکون سے ہیں تو ہمیں کیا غرض کہ فلسطین اور کشمیر کس کرب میں ہیں! ہمیں کیا غرض کہ ایغور کے مسلمانوں پہ کیا بیت رہی ہے! ہم تو بس اپنی زندگی میں مست ہیں فلسطین اور کشمیر کو منظر نامے سے ہٹا کر ہی دیکھ لیں تو مسلم ایٹمی قوت پاکستان ہے، جس سے ہر مسلم ملک کو امیدیں ہیں کہ کوئ محمد بن قاسم آئے گاکوئ عمر بن خطاب پیدا ہوگا مگر یہاں تو مراثی ہیں یا اداکار! جو اس زندگی کو فلم کی طرح جییے جارہے ہیں، طاقت ہوتے ہوئے بھی بے بس ہیں یہ کیسی بے بسی ہے جو ہمارے ہاتھ باندھے ہوئے ہے اور زبانیں خاموش ہیں!
    مان لو پھر کہ ایٹمی قوت پاکستان سے زیادہ بہتر وہ لہو لہو سرزمین فلسطین ہے جہاں ظلم کے خلاف مزاحمت ہے جہاں سچ اور حق کی آواز کڑے وقت میں بھی باطل کے سر پر تازیانہ بن کر پڑتی ہے ۔جہاں کم از کم لب تو بولنے کیلیے آزاد ہیں ۔۔۔ہم تو آزادی کے نام پر غلام بنالیے گئے ہیں ذات پات رنگ و نسل ماڈرنزم کے غلام! ہمیں آزادی کا بہلاوا دے کر قید کردیا گیا ہے ۔۔
    ایک ایٹمی قوت کے ہوتے بھی امت کسمپرسی کاشکار ہے ۔۔ آخر اس زبوحالی کی وجہ کیا ہے؟
    بس یہی کہ امت تفرقے میں بٹ گئ ہے، وہ رسی تو چھوٹ ہی گئ جس میں اس امت کی کامیابی کی ضمانت پوشیدہ تھی،

    وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۚ

    اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو (القرآن)

    محمد مصطفی تو سکھا گئے کہ تفرقے میں نہ پڑنا ورنہ جھاگ کی طرح کی حیثیت میں رہ جاؤگے سمندر ہو کر بھی طوفان نہیں بن سکوگے .
    مگر ہم تفرقے میں بٹ گئے، امت بکھر گئ آج مسلمان تو ہیں مگر انکا وہ دبدہ نہیں رہا، کوئ شیعہ ہے تو کوئ سنی ،کوئ وہابی تو کوئ اہل حدیث ہے ،
    کہیں نسلی و علاقائ تعصب کی آگ ہے جس میں
    اپنا ہی اپنے کو دھکیل رہا ہے، ہر ایک خود کو دوسرے سے افضل سمجھتا ہے اور اس جنگ میں اپنوں کا ہی خون کیے جاتے ہیں.،جانتے نہیں کہ چاہے شیعہ ہو یا سنی، وہابی ہو یا دیوبندی کفار کیلیے سب مسلمان ہیں سب انکے دشمن ہیں۔جو چیز آج ہمیں اپنانی تھی وہ کفار آزماتے ہیں اور ہم ماڈرنزم اور مغرب کے پیچھے بھاگتے ہوئے ذہنی غلام ہیں۔
    ۔کسی کو انگریزی بولتا دیکھ کر مرعوب ہوجانے والے یہاں ایک عالم سے زیادہ عزت ایک مراثی کو دی جاتی ہے جہاں پڑھ لکھ کر آگے بڑھنے والا تو بے روزگار ہے مگر رشوت خور مزے میں ہے، جہاں ایماندار کو پاگل کہا جاتا ہے اور بے ایمان کو بولڈ سمجھا جاتا ہے ۔۔۔بے حیائ کی مانگ ہے اور حیادار کیلیے زندگی مشکل، ایسی غلامی کی زندگی جی رہے ہیں ہم!

    مگر یہ غلامی ہماری چنی ہوئ ہے ہم آزاد ہو کر بھی غلام ہیں تسلط آج بھی مغربی ذہنیت کو حاصل ہے! بٹی ہوئ امت آخر زوال کا شکار کیونکر نہ ہوگی ؟ ذرا سوچیے کہ آخر کب تک اس بے حسی کی چادر کو تھامے ہم خواب خرگوش کے مزے لیتے رہیں گے محض ایسی دنیا کیلیے جو فانی ہے!
    آخر روز آخرت ہم اپنے ہادی ص سے نظریں کیسے ملا پائیں گے ہمیں تو وہ امتی بننا تھا کہ جس امت کیلیے وہ ہستی روز محشر بھی شفاعت کی طلبگار ہوگی کہ یا ربی میری امت یا اللہ مری امت! اور ہم اس قابل بھی نہ ہونگے؟ آخر تفرقے کی اور مغربی غلامی کی اس جنگ سے ہم کب باہر آئیں گے؟
    ہمیں بے حسی کی اس چادر کو اتار پھینکنا ہوگا اور ایک امت بننا ہوگا جس پہ نبی آخر الزمان فخر کرسکیں
    وگرنہ ہماری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں!

    Twitter Handle:
    @timazer_K

  • توبہ . تحریر : روبینہ سرور

    توبہ . تحریر : روبینہ سرور

    ہر گناہ سے توبہ کرنا واجب ہے- اگرگناہ کا تعلق بندے اور اللہ کے درمیان ہو اور کسی انسان کا حق اس سے متعلق نہ ہو تو اس کے لئے تین شرائط ہیں-
    *پہلی شرط یہ ہے کہ وہ اس گناہ سے لا تعلق ہو جائے-
    *دوسری یہ ہے وہ اس کے ارتکاب پر نادم ہو-
    * تیسری یہ ہے وہ اس بات کا پختہ ارادہ کر ے کہ دوبارہ کبھی اس گناہ کا ارتکاب نہیں کرے گا-
    اگر ان تین میں سے کوئی ایک بھی شرط موجود نہ ہوئی تو تو بہ درست نہیں ہو گی-
    اگر گناہ کا تعلق کسی آدمی کے ساتھ ہو تو اس کی شرائط چار ہو ں گی- تین شرائط کے ہمراہ
    *چوتھی یہ ہے کہ آدمی اس حقدار کے حق سے بری الزمہ ہو یعنی اگر مال وغیرہ تھا تو اسے وہ واپس کر ےاور اگر حدقذف وغیرہ کا معاملہ ہو تو اپنے آپکو اس کے حوالے کر گیااس سے معافی مانگے اور اگر غیبت ہو تو اسے بھی معاف کروائے.

    اللہ اپنے بندے کی توبہ سے جب وہ بندہ اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہے اس شخص سے زیادہ خوش ہو تا ہے جو اپنی سواری پر کسی جنگل میں موجود ہو اور پھر وہ سواری اسے چھوڑ کر چلی جائے اس سواری پر اس کے کھانے اور پینے کا سامان ہو اور وہ شخص اس سواری سے مایوس ہو کر درخت کے پاس آئے اور اس کے ساۓ میں لیٹ جاۓ جبکہ وہ اس سواری سے مایوس ہو چکا ہو ابھی وہ اسی حالت میں ہو کہ وہ سواری اس کے پاس کھڑی ہوئی ہو تو وہ اس کی لگام تھام کر یہ کہے خوشی کی شدت کی وجہ سے یہ کہے اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا پروردگار ہوں یعنی خوشی کی شدت کی وجہ سے غلط بول دے.

    @rsjanbaz