Baaghi TV

Category: مسلم دنیا

  • انسانی فطرت اور خُود کُشی . تحریر: عتیق الرحمن

    انسانی فطرت اور خُود کُشی . تحریر: عتیق الرحمن

    انسانی فطرت ہے اور یہ کسی حد تک معاشرے کی سوچ ہے کہ اولاد اپنے ماں باپ کو دفناتی ہے ۔ اللّہ سب کے ماں باپ کا سایہ ان پر سلامت رکھے لیکن یہ فطرت شروع دن سے قائم ہے اور قیامت تک رہے گی لیکن جب بھی کوئی کام انسانی فطرت سے ہٹ کر یا اُلٹ ہوتا ہے تو اسے برداشت کرنا تقریبا ناممکن ہے اور اسکے بہت خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں اور وہ ہے جب ماں باپ اپنی اولاد کو دفناتے ہیں
    یہ دُنیا فانی ہے اور ہر انسان کا وقت مقرر ہے لیکن جب کسی کی جوان اولاد خود کشی کرتی ہے یا کسی ایسے حادثے میں زندگی کی بازی ہار جاتی ہے جو کہ اچانک ہو تو ماں باپ اس صدمے کو برداشت نہیں کرپاتے لیکن بدقسمتی ہے یہ ہمارے معاشرے میں بہت تیزی سے ہورہا ہے.

    محبت میں ناکامی ہو یا کسی تعلیمی شعبے میں فیل یا پھر اپنے کسی ایسے نقصان پر دلبرداشتہ ہو کر نوجوان کچھ بھی سوچے بغیر اپنی زندگی کو ختم کرتے وقت ذرا بھی نہیں سوچتے کہ ہمارا جنازہ پڑھنے والے ماں باپ کے دل پر کیا بیتے گی جنہوں نے پرورش کی محبت دی اور اپنی زندگی کی ساری جمع پونجی لُٹا دی صرف ہمیں زندہ اور ترقئ کرتا دیکھنے کے لئے
    ہماری یونیورسٹی میں قانون کی ڈگری کے طالب علم نے فائنل سمیسٹر میں سر میں گولی مار کر خود کُشی کرلی کہ اسے ایک لڑکی نے شادی سے انکار کردیا، وہ لڑکا ہمارے ہوسٹل بھی رہتا تھا تو اسکے جنازے پر گئے، بیان نہیں کرسکتا کہ اسکی ماں کس کرب میں مبتلا تھی، بار بار اسکے چہرے کو دیکھی جائے روتی جائے، بھلا اس محبت سے زیادہ کوئی اور محبت ہوسکتی ہے اس دُنیا میں؟ کیا گزرتی ہوگی اس ماں پر جب سے اپنا جوان بیٹا خون میں لت پت یاد آتا ہوگا، باپ نے کس جگر سے اسے قبر میں اُتارا ہوگا جس نے اسکا سہارا بننا تھا اسکا نام روشن کرنا تھا.

    نوجوان لڑکیاں بھی اس سب میں کم نہیں، وہ بھی گلے میں پھندہ ڈال کر پنکھے سے جھول جانا بہت آسانی سے کرتی ہیں اور ذرا بھی نہیں سوچتی کہ ماں باپ پر کیا گزرے گی ہمیں اپنے بچوں کو ذہنی طور پر مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں سمجھانے کی ضرورت ہے کہ زندگی میں بیشتر اُتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں اور موت کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتی۔ ہمیں اپنے بچوں کو مسائل کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا اور انہیں حل کرنا سکھانا ہوگا ۔ والدین اور اساتذہ کو بچوں کے مسائل اور ذہنی حالت کو سمجھنا ہوگا، بچوں پر کسی بھی قسم کا دباؤ ڈالنے کے بجائے انہیں امید پسند بنانا ہوگا ۔ انہیں یہ سمجھانا پڑے گا کہ محنت اور اور مسلسل کوشش سے انسان کسی بھی کامیابی کو پاسکتا ہے
    خود نوجوانوں کو بھی یہ سوچنا پڑے گا کہ اس کے خودکشی کرنے سے اُن کے ماں باپ پر کیا گزرتی ہوگی، ان کے اس اقدام سے ان کا خاندان معاشرے میں کس طرح کی مشکلات کا سامنا کرتا ہوگا۔ زندگی ایک خوبصورت نعمت ہے اسے اللہ کے حکم کے مطابق گزارنا چاہیئے ۔ مشکلات کی مدّت ہی کم ہوتی ہے ۔ ہر مشکل وقت میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں، یقیناًوہ مشکلات کو ختم کرنے والا ہے
    اللّہ سبکی اولاد کو قوت برداشت عطا فرمائے.

    @AtiqPTI_1

  • عید قرباں کی تکلیف . تحریر : محمد عبداللہ گِل

    عید قرباں کی تکلیف . تحریر : محمد عبداللہ گِل

    قربانی وہ فریضہ ہے جس کو امت مسلمہ ہر سال انجام دیتی ھے۔ہر مسلمان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ قربانی کا جانور خریدے۔حتی کہ اسلام پسند گھرانوں کے اطفال کا بھی جوش قابل دید ہوتا ھے۔بچے والدین کے ساتھ جاتے ہیں قربانی کا جانور خریدتے ہیں اس کو شوق سے کھلاتے پلاتے ہیں کیونکہ والدین نے بچوں کی تربیت کی ہوتی ھے کہ قربانی سنت عمل ھے اور رب تعالی کو پسند ھے۔
    قربانی سنت ابراھیمی علیہ السلام ھے۔اللہ کے نبی خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام وہ برگزیدہ نبی ہیں کہ جن کو رب تعالی نے بار بار آزمایا اور وہ ہر آزمائش پر پورا اترے اسی لیے اس ثمر کا رب تعالی نے اعلان فرما دیا:-

    وَ اِذِ ابۡتَلٰۤی  اِبۡرٰہٖمَ  رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّہُنَّ ؕ قَالَ اِنِّیۡ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ  اِمَامًا”
    ترجمہ
    اورجب ابراہیم کواُس کے رب نے چند باتوں میں آزمایاتواُس نے اُن سب کو پوراکردیا،اللہ تعالیٰ نے فرمایا:  یقیناًمیں تمہیں سب لوگوں کے لیے امام بنانے والاہوں”
    اس سے واضح کیا ہوتا ھے یہ ہی چمکتے ہوئے سورج کی طرح عیاں ہے کہ رب تعالی جب آزماتا ھے تو اس آزمائش کے بعد آزماتا ھے۔جیسا کہ جب حضرت خلیل اللہ آزمایا۔فرمایا کہ اپنے بیٹے کو قربان کر دو جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کو قربان کرنے لیے چھڑی کو چلایا تو اللہ کو یہ عمل اتنا پسند آیا کہ آج تک کے تمام صاحب حیثیت مسلمانوں کے لیے رب تعالی نے اس عمل کو لازم فرما دیا۔
    فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ  السَّعۡیَ قَالَ یٰبُنَیَّ  اِنِّیۡۤ اَرٰی فِی الۡمَنَامِ اَنِّیۡۤ  اَذۡبَحُکَ فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰی ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ۫ سَتَجِدُنِیۡۤ  اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۰۲﴾
    "پھرجب وہ اُس کے ساتھ بھاگ دوڑ کی عمرکو پہنچا،تواُس نے کہا:  اے میرے پیارے بیٹے!میں خواب میں دیکھتاہوں کہ یقیناًمیں تمہیں ذبح کر رہا ہوں تو دیکھوتمہاری کیا رائے ہے؟ اُس نے کہا:  اے میرے اباجان!جوآپ کو حکم دیاجارہا ہے آپ وہ کریں،ان شاء اللہ آپ ضرورمجھے صبرکرنے والوں میں سے پائیں گے۔ ”

    اس آیت مبارکہ سے واضح ہو جاتا ھے کہ جب قربانی کے لیے جانور کو لٹانا ھے اس کو ذبح کرنا ھے اس کے ساتھ ہی عہد کر لینا چاہیے کہ میری جو خواہشات ہیں اس فانی دنیا میں رب تعالی کی منشا و مرضی کے خلاف جو میرا زندگی گزارنے کا طریقہ ھے اس کو بھی ساتھ ہی ذبح کر دینا ھے۔کیونکہ رب تعالی نے حضرت خلیل اللہ کو آزمایا ان کی پسندیدہ چیز بیٹے کی قربانی کے ذریعے آزمایا۔آج کے مسلمان کے لیے بھی لازم ھے کہ وہ اپنے ہر اس فعل کو ترک کر دے جو اسلام۔کے منافی ھے۔اس کے علاوہ سنت ابراھیمی ہمیں والدین کا احترام بھی سکھاتی ھے۔ہمیں قرآن سے اس بات کا ثبوت ملتا ھے کہ حضرت خلیل اللہ کے والد آزر جب ان کو بت فروشی کا کہتے تو وہ عزت و احترام کے ساتھ یا آبا یا آبا اے میرے والد اے میرے والد کے القابات سے ہی پکارتے تھے۔اس کے بعد جب خواب دیکھا تو بیٹے سے منشا پوچھی تو بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی اپنے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خواب کی تکمیل کے لیے آزمائش میں کامیابی کے لئے فرمایا کہ جیسے آپ کو اچھا لگے کر گزرے۔پھر اسماعیل علیہ السلام کے لیے اقبال رحمہ اللہ کا قلم۔چلا اور کیا لکھا
    "یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
    سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی”

    دنیاوی زندگی کے بہت سے ایسے معاملات ہوتے ہیں کہ ہمارے والدین کی منشا و مرضی اور ہوتی ہے لیکن ہم ان کی مرضی کے برعکس چل پڑتے ہیں لیکن رب تعالی نے والد کی مرضی میں ہی اپنی مرضی کو قرار دیا۔
    قارئین کرام ان سب فوائد کے باوجود ہمارے معاشرے میں چند ایک لوگ وہ بھی ہیں جن کا مقصد شعار اللہ سے عداوت ہی ھے۔یہ وہ لوگ ہے جو ویسے تو اپنے آپ کو لبرل اور سیکولر کہتے ہیں لیکن جب دین اسلام کی بات آئے جب رب تعالی کے فرمان کی بات آئے تو یہ خلاف سنت اور خلاف شریعت چلتے بھی ہیں اور دوسرے مسلمانوں کو بھی اس کی دعوت دیتے ہیں۔یہ لوگ پروپگینڈہ کرتے ہیں۔جب عید قربان کا تہوار آتا ھے تو یہ لوگ قربانی کے خلاف ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان جانوروں کی زندگی اہم ہیں ان کو ذبح نہ کیا جائے لیکن رب تعالی کا حکم ہے ہر اس چیز کو کھاو پیو جو تمھارے لیے حلال کر دی گئی ہے اور حرام سے باز رہو۔

    فرمایا
    یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ کُلُوۡا مِمَّا فِی الۡاَرۡضِ حَلٰلًا طَیِّبًا ۫ ۖوَّ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ ؕ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۶۸﴾
    "اے لوگو!اس میں سے کھاؤجوزمین میں ہے حلال اور پاکیزہ اورتم شیطان کے قدموں کی پیروی مت کرو،یقیناًوہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔”
    اسی طرح قربانی کا بھی رب تعالی نے حکم دیا ھے اس میں حکمت اور فلسفہ یہ ہے کہ رب تعالی چاہتا ھے کہ وہ غریب غربا جو پورا سال گوشت نہیں کھا سکتے وہ بھی سال میں ایک دن گوشت سے لطف اٹھائیں۔پاکستان کی ہی مثال لے لو یہ وہ ملک ہے جس میں 60 فیصد سے زائد آبادی کو گوشت کیا 2 وقت کی روٹی میسر نہیں ھے۔ان عوام کے لیے اللہ تبارک و تعالی نے قربانی کو فرض کیا ھے۔یہ لبرل عوام یہ بھی دعوی کرتی ہے کہ اس رقم کو کسی غریب کو دے دیا جائے یا واٹر پلانٹ لگا دیا جائے۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تو اقوام عالم مانتی ہیں کہ دنیا میں سب سے بڑا کاروبار عید قربان پر ہوتا ھے پوری دنیا میں اربوں لوگوں کو کاروبار ملتا ھے۔اسی حوالے سے میں بذات خود منڈی میں گیا مبالغہ آرائی سے کام نہیں لے رہا۔میں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ کتنے افراد کو روزگار ملا ھے۔سب سے پہلے ٹرانسپورٹ جس میں رکشے،ٹرک وغیرہ شامل ہیں ٹرک کے ذریعے دور دراز سے مال آتا ھے جس کی بدولت ہزاروں ٹرک والوں کو کمائی ہوتی ہے اور وہ اپنے بیوی بچوں کا گزر بسر کرتے ہیں اور فخر سے محنت کی کمائی سے گھر کو چلاتے ہیں۔اس کے بعد مقامی رکشے والے ان کو بھی روزگار ملتا ھے اگر وہ پہلے دیہاڑی کا 1000 روپے کماتے ہیں تو عید کے سیزن میں ان کی کمائی دگنی یا تین گنا ہو جاتی ہے جس کی بدولت ان کا گھر چلتا ھے۔اور وہ کسی چوہدری کے محتاج نہیں ہوتے۔اس کے بعد وہ شخص جس نے جانور خریدے یا پالے ہیں اس کو فائدہ ہوتا ھے بچت ہوتی ہے۔اس کے بعد ٹینٹ سروس والوں کو روزگار ملتا۔الغرض آپ یہ کہہ لے کہ ایک ایک منڈی میں 7 سے 8 شعبه زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ محنت مزدوری کر رہے ہوتے ہیں۔یہ لبرل لوگ ان افراد کا روزگار ختم کر کے ان کو دوسروں کا محتاج کرنا چاہتے ہیں۔مجھے ان لوگوں کی سمجھ نہیں آتی جو کہتے قربانی نہ کرو غریب کو پیسے دے دو ان ہی لبرل لوگوں کو زکوۃ سے مسلہ،ان کو پردہ سے مسئلہ ھے۔

    پنجابی کی مثال ھے
    "درانتی نو تے ایک پاسیوں ڈنڈے ہونڈے انہاں نوں دوناں پاسیوں ڈنڈے ہن”
    میں خود ایسی فاؤنڈیشن اور فلاح و بہبود والے اداروں کو جانتا ہوں جو عید سے پہلے مخیر حضرات سے پیسے لے کر متوسط طبقے کی خدمت کرتے ہیں ان کو عید کے کپڑے لے کر دیتے پھر عید پر اسلام پسندوں سے گوشت لے کر ان کے گھروں تک پہنچاتے ہیں۔ان لوگوں کی بےوقوفی کا تو یہ عالم ہے کہ جب کشمیر و فلسطین میں بچے کٹ رہے ہوتے یہ بلکل بھی نہیں بولتے نہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلایا جاتا بلکہ ان کے دشمنوں کی حمایت کرتے ہیں لیکن وہ جانور جس کو ذبح کرنے کا حکم رب تعالی نے خود دیا ھے۔اللہ فرماتا ہے کہ بہیمۃ الانعام کو ذبح کرو تو ٹویٹر پر ٹرینڈ چلایا جاتا کہ بکرا کی زندگی ہمارے لیے اہم ہیں۔
    ان کے متعلق ہی ایک شاعر کا مصرعہ ذہن میں آ رہا
    "یہ مسلماں ہیں کہ جن کو دیکھ کے شرمائے یہود”
    اسی لیے میری اداروں سے درخواست ہے کہ شعار اللہ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے۔

    @ABGILL_1

  • ‏کیا یہی قائد کا پاکستان ہے ؟   تحریر: ملک منیب محمود

    ‏کیا یہی قائد کا پاکستان ہے ؟ تحریر: ملک منیب محمود

    آج بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو ہم سے بچھڑے 73 سال ہو گئے ہیں لیکن انھوں نے قیام پاکستان کے لیے جیسا مقدمہ لڑا ویسا دنیا کی تاریخ میں آج تک کسی نے نہ لڑا۔ 11اگست 1947 کو پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے فرمایاتھا کہ ’’آپ کا تعلق کسی مذہب سے ہوسکتا ہے۔کسی بھی نسل اور کسی بھی عقیدہ کے ساتھ ہوسکتا ہے،یہ صرف اور صرف آپ کا ذاتی معاملہ ہے۔ ریاستِ پاکستان کا ان معاملات سے کوئی سروکار نہیں ہے۔
    یقین جانیے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے درمیان تمام تفریقات کا خاتمہ ہو جائے گا، اکثریت اوراقلیت کی تقسیم بے معنی ہو جائے گی۔ میرے خیال میں عقیدے ،رنگ و نسل کی بنیاد پر کی جانے والی تفریق بھارت کی آزادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ اگر ایسا نہ ہوا ہوتا تو ہم کب کے آزاد ہوچکے ہوتے۔ہمیں اپنے ماضی سے سبق سیکھنا ہوگا۔
    آپ آزاد ہیں ،آپ آزاد ہیں ، آپ پاکستانی ریاست کے آزاد شہری ہیں۔آپ کو مکمل آزادی حاصل ہے۔آپ کو اپنے مندروں میں جانے کی آزادی حاصل ہے۔آپ کو اپنی مساجد میں جانے کی آزادی حاصل ہے۔پاکستانی ریاست کے تمام شہریوں کو ان کے مذاہب اور عقیدوں کے مطابق اپنی عبادت گاہوں میں جانے کی آزادی حاصل ہے۔میں ایسا مذہبی بنیادوں پر نہیں کہہ رہا ہوں۔کیونکہ مذہب تو ہر شخص کا انفرادی معاملہ ہے۔لیکن ہم سب لوگوں کے درمیان سیاسی طور پر مذہب اور عقائد کا فرق ختم ہو جانا چاہیے۔‘‘
    قائد اعظم کا کہنا تھا کہ ’’ نئی ریاست ایک جدید جمہوری ریاست ہوگی جس میں اختیارات کا سرچشمہ عوام ہوںگے ۔نئی ریاست کے ہر شہری مذہب ،ذات یا عقیدے کی بنا کسی امتیاز کے یکساں حقوق ہوں گے۔‘‘ان تقاریر کا ایک ایک لفظ پڑھ یا سن لیں اور سوچیں کہ ہم کس قدر ’’بے وفا ‘‘نکلے، ہم تو اس متن کے ایک جملے پر بھی پورا نہ اُتر سکے۔ خیر ہمیں کم از کم یہ تو علم ہونا چاہیے کہ قائد اعظم محمد علی جناح نہ صرف ایک روشن خیال سیاستدان تھے جو جمہوری اقدار، آئین اور قانون کی بالا دستی پر یقین رکھتے تھے بلکہ وہ آزادی اظہار اور پریس کی آزادی کے زبر دست حامی تھے۔لیکن ابھی تو انتقال کو ایک سال نہیں گزرا تھا کہ ان کی مذکورہ بالاتقریر(11اگست 1947کو آئین ساز اسمبلی کی تقریر )کو متنازع بنا دیا گیا۔
    بہت سی سازشیں ہوئیں، ایک سازش کے نتیجے میں قائد کے دست راست اور پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کو لیاقت باغ (نام بعد میں رکھا گیا) راولپنڈی میں جلسے کے دوران شہید کردیا گیا۔ انھیں شہید کرنا والا افغان باشندہ تھا۔یہ سازش آج تک بے نقاب نہیں ہو سکی کیونکہ بات اندر تک پہنچ گئی تھی لہٰذا کیس دبا دیا گیا۔ بعد میں جس طرح خواجہ ناظم الدین کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور پھر وہی ہوا جس کا شاید تصور بھی قائد کے پاکستان میں نہیں تھا، یعنی مارشل لاء۔ پھر دوسرا اور پھر تیسرا مارشل لاء لگ گیا۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سیاستدانوں کی ایک ایسی کھیپ تیار ہو گئی جنھیں آمر نے پیدا کیا ہوا۔
    خیر یہ تو سیاسی باتیں تھیں، پاکستان میں سیاست اور کرکٹ دونوںکے مستقبل کے بارے میں بڑے سے بڑا تجزیہ کار بھی غلط ثابت ہوتا آیا ہے۔ مگر یہ کیا؟ ہم نے اپنے قومی پرچم جس میں سفید سبز رنگ ہے کی بے حرمتی کر دی!بلکہ کر رہے ہیں، قائد اعظم نے 11اگست والی تقریر کے بعد ہونے والے اجلاس ہی میں جس قومی پرچم کی منظور ی دی تھی اور کہا تھا کہ سفید رنگ اقلیتوں کی آزادی کی علامت ہے۔ لگتا ہے آج ہم نے اس خیال کو ہی غرق کر کے رکھ دیا ہے۔ اس لیے اگر اقلیتوں کے حوالے دیکھا جائے تو قائداعظم کے پاکستان اور آج کے پاکستان میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔
    الغرض قائد نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا آج سب کچھ اس کے برعکس ہو رہا ہے۔ آپ ؒ پاکستان کے قیام کے بعد محض 13ماہ زندہ رہے۔ ان کی زندگی میں تو ’’پاکستان‘‘ تمام گروہوں کو شامل کرکے چلنے کی پالیسی پر گامزن رہا، مگر آج ہم کیا کررہے ہیں، کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ ملک میں تین دفعہ مارشل لاء لگا۔ مگر دھڑلے سے لگایا گیا اور آج بھی ویسے ہی حالات پیداکرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
    پھر آپ یہ دیکھیں کہ قائد کے پاکستان میں چائے بسکٹ کا خرچ بھی وزراء جیب سے ادا کرتے تھے، مگر آج وزراء ہاؤسز، گورنر ہاؤسز، صدارتی محل اور بیشتر کیمپ آفسز کا سالانہ خرچ ہی اربوں روپے بنتا ہے۔ قائد کے پاکستان میں پروٹوکول کے نام پر عوام کو تنگ کرنا ،عوام کی تضحیک سمجھا جاتا تھا جیسے ایک مرتبہ گل حسن نے آپ کی گاڑی گزارنے کے لیے ریلوے کا پھاٹک کھلوا دیا تھا، آپ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا، پھاٹک بند کرانے کا حکم دیا اور فرمایا ’’اگر میں ہی قانون کی پابندی نہیں کروں گا، تو پھر کون کرے گا؟‘‘ قائد کے پاکستان میں سفارشی کلچر نہیں تھا ، زیارت ہی میں ایک نرس نے تبادلے کی سفارش کی مگر آپ نے اداس لہجے میں جواب دیا ’’سوری بیٹی! یہ محکمہ صحت کا کام ہے گورنر جنرل کا نہیں‘‘۔قائد کے پاکستان میں اداروں کا احترام بھی کیا جاتا تھا، ایک واقعہ میں آپ نے وزارتِ خزانہ سے تحریری معذرت کی اور اپنا حکم منسوخ کر دیا۔پھر آپ یہ دیکھیں کہ قائد کے پاکستان میں چائے بسکٹ کا خرچ بھی وزراء جیب سے ادا کرتے تھے، مگر آج وزراء ہاؤسز، گورنر ہاؤسز، صدارتی محل اور بیشتر کیمپ آفسز کا سالانہ خرچ ہی اربوں روپے بنتا ہے۔ قائد کے پاکستان میں پروٹوکول کے نام پر عوام کو تنگ کرنا ،عوام کی تضحیک سمجھا جاتا تھا جیسے ایک مرتبہ گل حسن نے آپ کی گاڑی گزارنے کے لیے ریلوے کا پھاٹک کھلوا دیا تھا، آپ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا، پھاٹک بند کرانے کا حکم دیا اور فرمایا ’’اگر میں ہی قانون کی پابندی نہیں کروں گا، تو پھر کون کرے گا؟‘‘ قائد کے پاکستان میں سفارشی کلچر نہیں تھا ، زیارت ہی میں ایک نرس نے تبادلے کی سفارش کی مگر آپ نے اداس لہجے میں جواب دیا ’’سوری بیٹی! یہ محکمہ صحت کا کام ہے گورنر جنرل کا نہیں‘‘۔قائد کے پاکستان میں اداروں کا احترام بھی کیا جاتا تھا، ایک واقعہ میں آپ نے وزارتِ خزانہ سے تحریری معذرت کی اور اپنا حکم منسوخ کر دیا۔
    الغرض قائد کے 13ماہ ہمارے 73سالوں پر غالب نظر آتے ہیں، آج ہم سب Look Busy Do Nothing کے محاورے پر چل رہے ہیں ، ہم مذہبی طور پر خود کو سب سے زیادہ مذہبی کہتے ہیں مگر مذہبی ہیں نہیں، ہم قانون کی پاسداری کی بات کرتے ہیں، لیکن یہ محض ایک دکھاوا ہے۔ ہم ہیومن رائٹس کی بات کرتے ہیں لیکن کسی کو اُس کا حق دینے کے لیے تیار نہیں ، ہم بات بات پر کہتے ہیں کہ ملاوٹ نہ کرو، اس حوالے سے قرآن و حدیث کی باتیں کرتے ہیں مگر خود اس پر عمل کرنے سے گریزاں ہیں۔ اب صرف نوٹ والا قائد باقی ہے اور وہ اگر گندا ہو جائے تو دکان دار بھی نہیں لیتا اور خریدار بھی نہیں۔
    سفر لمبا ہے کم سے کم ابتدا اس سے کر لیجیے کہ آج جب قوم اور ملک ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے تو ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ قائد اعظم کے پیش نظر پاکستان کے قیام کا مقصد کیا تھااور ان کے تصورات کے مطابق پاکستان کا نظام اور پاکستان کی قومی زندگی کی اہمیت کیا ہونی چاہیے تھی؟ہم سب کو اپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کی تعمیر وترقی اور استحکام کے لیے اپنی صلاحیتوں کو صرف کرنا ہوگا۔
    ‎@MMuneebPTI

  • کبھی سوچا؟ . تحریر : محمد احمد

    کبھی سوچا؟ . تحریر : محمد احمد

    اگر کوئی ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے تو ہم بدلے میں اسکی عزت کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں لیکن کیا کبھی ہم نے یہ سوچا کہ ہم سے سب سے زیادہ بہترین سلوک کرنے والے کون ہیں؟
    جی ہاں!! سب سے پہلے مہربان اور احسان کرنے والے اللہ تعالیٰ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا ہاتھ،پاؤں، ناک، کان، زبان وغیرہ دیئے پینے کیلئے پانی،سانس لینے کیلئے ہوا، کھانے کیلئے بےشمار نعمتیں۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اس قدر ہیں کہ نہ ہم شمارکرسکتے ہیں اور نہ ہی انکے حق کے مطابق انکا شکر ادا کرسکتے ہیں ہمیں چاہیے کہ اپنے پیدا کرنے والے اور اتنی ساری نعمتیں عطا کرنے والے رب کے احکامات کو دل سے مانیں صرف اسی کی عبادت کریں یوں رب تعالٰی کی مزید خوشنودی عطا ہوگی جس سے وہ ہمیں مزید انعامات سے نوازیں گے۔

    اللہ رب العزت کی ذاتِ مبارکہ کے بعد ہم سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے اور احسان کرنے والے ہمارے ماں باپ ہیں وہ والدین جنہوں نے ہمیں پال پوس کر بڑا کیا ہماری دیکھ بھال کی خاطر خود ہر تکلیف برداشت کرکے ہمیں آرام پہنچاتے ہیں ہماری خاطر اپنے آرام و سکون کی پرواہ نہیں کرتے خود بھوکے بھی رہتے ہوں مگر ہمیں بہترین غذا کھلاتے ہیں ہمیں انکی قدر انکا احترام کرنا چاہیے ان کے سامنے اُف بھی نہ کہیں سوائے اس بات کے جو اللہ اور اس کے رسول اللہﷺ کے حکم کی نافرمانی ہو باقی ہر حکم مانیں والدین کو جھڑکنا گناہ کبیرہ میں سے ہے جسکی رب تعالٰی کے حضور معافی بھی نہیں۔۔ لہٰذا ان سے نرمی سے بات کریں ان پر اپنا پیسہ خرچ کریں بڑھاپے میں والدین کی یونہی خدمت کریں جیسے وہ ہماری بچپن میں کیا کرتے تھے رسول اللہﷺ کا فرمان مبارک ہے؛
    "جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے”

    جس نے ماں باپ کو راضی کرلیا اللہ ان سے راضی اور جن سے ماں باپ ناراض ہوئے ان سے اللہ بھی ناراض ہوگا۔۔ ماں باپ بوڑھے ہوں انکی خدمت اور خیال والا کوئی نہ ہو تو جہاد میں شرکت سے زیادہ انکی خدمت ضروری ہے اولاد تاعمر ماں باپ کے احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتی خواہ کتنی ہی خدمت کرلے۔۔ عرض یہ کہ اللہ اور رسول اللہﷺ کی فرماں برداری کے بعد جنکی عزت اور احترام کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہ ماں باپ ہیں انکی جتنی قدر کریں کم ہے!!

    @MohhammadAhmad

  • عید_قرباں کے کچھ اصول . تحریر : اعجازاحمد پاکستانی

    عید_قرباں کے کچھ اصول . تحریر : اعجازاحمد پاکستانی

    عید قرباں کے نام سے ظاہر ہے کہ یہ قربانی کی عید ہے۔اس دن مسلمان اپنے پسندیدہ اور بے عیب مویشیوں کو قربان کرتے ہیں جو کہ سنتِ ابراھیمیؑ ہے۔ اسکو سنتِ ابراھیمیؑ اسلئے کہتے ہیں کہ ابراہیمؑ جواللہﷻ کے جلیل القدر پیغمبر ہےجنکو خلیل اللہ کالقب بھی حاصل ہے یہ انکا سنت ہے۔ کیونکہ ابراہیمؑ کو ایک دفعہ اللہﷻ نے خواب میں حکم دیاکہ اپنے محبوب بیٹے اسماعیلؑ کومیرے راستے میں قربان کردو۔ چنانچہ ابراہیمؑ نے صبح اسماعیلؑ کواس معاملے سے آگاہ کیااور اس کوعملی جامعہ پہنانے کیلیئے اسماعیلؑ کوذبح کرنا چاہااوراس مشکل امتحان میں کامیاب ہوئے۔

    قربانی ہم سنتِ ابراہیمیؑ کوپورا کرنے کیلئے کرتے ہیں لیکن قربانی کےوقت ہم قربانی کے اصولوں کوبھول جاتے ہیں بس یہی کوشش ہوتی ہے کہ گوشت کااچھاحصہ اپنے لئے بچائے۔
    دوسرا یہ کہ ہم قربانی توکرلیتے ہیں لیکن نیت یہ ہوتی ہے کہ گوشت آجائیگا جب کہ اس طرح کی نیت رکھنے سے گوشت تومل جاتی ہے لیکن قربانی ضائع ہوجاتی ہے۔ تیسرایہ کہ ہم قربانی کرکے اسکے باقیات کووہی چھوڑدیتے ہیں جوبعدمیں ماحولیاتی آلودگی اورہوائی جہازوں کے حادثات کا سبب بنتاہے جس میں اکثر ناقابلِ تلافی نقصانات ہوجاتے ہیں۔ میں چاہیے کہ باقیات کووہاں تک پہنچائے جہاں وہ کسی نقصان اورگندگی کی باعث نہ بنے۔ بحیثیتِ قوم ہمیں ان چیزوں پرغور کرناچاہئے اورذمہ دارشہری ہونے کاثبوت دیناچاہیے۔

    @IjazPakistani

  • نام نہاد لبرل طبقہ اور قربانی . تحریر: مجاید حسین

    نام نہاد لبرل طبقہ اور قربانی . تحریر: مجاید حسین

    جیسے جیسے قربانی کے دن قریب آتے ہیں نام نہاد لبرل اور دین سے بے زار طبقہ قربانی کی روح کو سمجھے بغیر اس کے خلاف کھلم کھلا میدان میں آ جاتے ہیں۔ آپ نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پہ جا کے دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ان امیر ذادوں اور امیر ذادیوں کو اللہ کی راہ میں سنت ابراہیمی اور سنے رسول اللہ ﷺ کے خلاف اور اسے قائم رکھنے والوں کے خلاف کتنی نفرت بھری ہوئی ہے۔ ان کا اصل مدعا یہ ہے کہ قربانی پہ مسلمان جانور "ذبح” کر کے بہت ظلم کرتے ہیں جو نہیں ہونا چاہیئے بلکہ ان پیسوں سے کسی غریب کی مدد کر دینی چاہیئے۔

    لیکن اگر آپ مزید تحقیق کریں تو معلوم ہوگا کہ یہی لوگ میکڈانلڈ، برگر کنگ، کے ایف سی، سب وے اور پیزا ہٹ جیسے برانڈز کے نا صرف دلدادہ دلدادہ ہوتے ہیں بلکہ وہاں برگرز وغیرہ کھاتے ہوئے اپنی تصاویر شئیر کرنا قابل فخر سمجھتے ہیں۔ کیا نہیں معلوم نہیں کہ میکڈونلڈ میں ہر سال ایک ارب پاؤنڈ گائے کا گوشت پکایا جاتا ہے جس سے ان کے پسندید برگرز بنتے ہیں؟

    برگر کنگ ہر سال پچاس لاکھ پاؤنڈ صرف گوشت اپنے مشہور برگر "ووپر” میں استعمال کرتا ہے۔ اسی طرح کے ایف سی ہر سال ایک ارب مرغیاں بھون کر لوگوں کو کھلا دیتا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف فوڈ چینز ہیں جن کا ذکر اس مضمون کو طویل کر دے گا۔
    سوال یہ ہے کہ کیا ان کے اندر جان نہیں ہوتی؟

    وہ لبرلز جنہیں قربانی پر جانوز ذبح کرنے پہ اعتراض ہے جس کا ایک تہائی گوشت غریبوں کو بانٹا جاتا ہے تاکہ کم از کم سال میں کچھ دن وہ بھی گوشت کھا سکیں، اس بات کا کیا جواب دیں گے کہ برگر، پیزا اور ہاٹ ونگز کھاتے ہوئے ان کا ضمیر کہا سویا ہوتا ہے؟
    ہے کسی لبرل کے پاس اس کا جواب؟؟

    @Being_Faani

  • درود پاک کی فضیلت . تحریر : عادل ندیم

    درود پاک کی فضیلت . تحریر : عادل ندیم

    درود پاک صلی علیہ وآلہ وسلم پڑھنے کا حکم خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن پاک میں بڑے پیارے انداز میں دیا گیا ہے۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے:

    بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو تم بھی ان پر درود اور سلام بھیجو.
    ( الاحزاب56 )

    سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے زیادہ مجھ سے قریب وہ لوگ ہوں گے جو سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجتے ہیں( ترمذی)

    ذرا سوچئے کیا ھمارا شمار بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب لوگوں میں سے ھو گا.

    کیا ھم اپنے پیارے آقا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پاک پڑھتے ھیں ؟

    حضرت حذیفہؓ کا فرمان ہے کہ درود پاک پڑھنا، درود پاک پڑھنے والے کواور اس کی اولاد کو، اور اولاد کی اولاد کو رنگ دیتا ہے ۔

    کس خوبصورت طریقے سے درود پاک کی فضیلت بیان کی گئی ھے کہ درودِ پاک سے نہ صرف آپ کا نصیب بدل جاے گا بلکہ آپ کی آنے والی نسلوں کا بھی نصیب بدل جاتا ھے ۔
    ھمیں اپنی نمازکا یقین نہیں ھوتا کہ قبول ھوئی یا نہیں؟ ھمیں اپنی کی گئی نیکیوں کا پتہ نہیں ھوتا کہ قبول ھوئیں یا رد کردی گئیں لیکن
    درود پاک وہ واحد عبادت ھے جو کہ لازماً قبول ھوتی ھے.

    تو کیا یہ اللہ پاک کی طرف سے ایک خاص انعام نہیں ھے ؟

    درود پاک پڑھنے سے 10 نیکیوں میں اضافہ ھوتا ھے ، 10 گناہ مٹتے ھیں اور بندے کے 10 درجات بلند ھوتے ھیں.

    حضرت ابو ہریرہ رضی ا للہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ا للہ نے ارشاد فرمایا: "جو بندہ مجھ پر ایک بار درود پڑھے اللہ جل شانہ اس پر 10بار درود بھیجتے ہیں۔” ( صحیح مسلم )

    آئیں اپنے اللہ کا حکم مانیں اور اپنے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھنے کو اپنی عادت بنائیں۔
    درود پاک سے اللہ پاک کو اتنی محبت ھے کہ درودِ پاک کو نماز کا حصہ بنا دیا گیا.

    چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے اپنی زبان کو اللہ پاک کے ذکر اور درودِ پاک سے معطر رکھیں ، آپ کی زندگیوں میں وہ تبدیلیاں آنا شروع ھو جائیں گی کہ جن کا آپ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ھوگا.

    اللہ پاک ھم سب کو اپنے پیارے آقا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنے کی اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھنے کی توفیق عطا فرمائیں.

    آمین ثم آمین

  • عنوان: گھی مافیا تحریر: ملک شیراز

    عنوان: گھی مافیا تحریر: ملک شیراز

    پاکستان میں ہمیشہ سے جب بھی مافیاز کا ذکر آتا ہے تو سب سے پہلے آٹا مافیاز یا چینی مافیاز کا نام آتا ہے۔۔ سب سے ذیادہ کریک ڈاون بھی انہی پر ہوتا ہے۔۔ جو کہ ٹھیک بھی ہے کیونکہ یہ لوگ بھی بے جا منافع خوری سے باز نہیں آتے۔

    لیکن کیا کبھی آپ نے کسی کے منہ سے گھی مافیا کا نام سنا ہے؟؟؟

    نہیں نا، وجہ؟؟؟
    گھی بھی تو دن بدن مہنگا ہوتا جارہا ہے،2 سال پہلے تک مشہور برینڈ جیسا کہ ڈالڈا کا کلو گھی کا پیکٹ 180 روپے میں مل جایا کرتا تھا۔۔۔ اب اسی کی قیمت 300 روپے ہے۔۔۔۔

    آئل 190 کا تھا،وہ 320 کا ہوا ہے۔۔۔

    مطلب ایک۔کلو گرام کے لئے 100 سے ذیادہ کا اضافہ صرف 2 سال میں۔۔۔
    کیا یہ مافیا اتنا بڑا ہے جس سے کوئی ٹکر نہیں لے سکتا؟؟؟
    یا کہ ایسی کونسی مجبوریاں ہیں ہماری کہ ہم ان کے خلاف نہیں بول سکتے۔۔۔

    ہر حکومت آتے ہی سب سے پہلے یہی کہتی ہے آٹا ملز مالکان اپوزیشن پارٹی سے ہیں،چینی ملز مالکان یہاں سے تعلق رکھتے ہیں۔۔۔

    کبھی ہمیں یہ بھی تو بتائیں کہ یہ گھی ملز مالکان کہاں سے تعلق رکھتے ہیں؟؟؟
    ایسی کیا وجہ ہے کہ یہ حکومت کے کنٹرول سے بلکل باہر ہوچکے ہیں۔۔۔کیا گھی ملز کے مالکان آٹا اور چینی ملز والوں سے ذیادہ طاقتور ہیں؟؟؟
    یا کہ ان کا تعلق پاکستان سے نہیں؟؟؟
    اگر ایسا مان بھی لیا جائے کہ ان کا تعلق پاکستان سے نہیں تو کیا حکومت دوسرے ملک کے بزنس مینز کو پاکستان کو کھل کر لوٹنے کا موقع دے گی؟؟؟

    عجیب اتفاق ہے یہ۔۔۔
    ہمیں انتظار رہے گا کہ کب اس گھی مافیا پر کریک ڈاون ہوتا ہے۔۔۔ کب گھی مافیا کو اس کی اوقات میں لایا جاتا ہے۔۔

    اپ سب بھی اس کے خلاف اپنی آواز ضرور بلند کریں ۔۔۔

    @MShirazOfficial

  • حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام:-  تحریر:از عمرہ خان

    حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام:- تحریر:از عمرہ خان

    حضرت ابرہیم وہ نبی جو خود ایک بت فروش کے بیٹے تھے اور انسے نبیوں کی نسلیں چلیں ۔۔۔وہ نبی علیہ السلام جنکی نسل سے سرور کائنات رحمت دو عالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تھے ۔۔جنکی قربانیاں ابد تک کیلئے قرآن پاک میں رقم کردئیے گئے جو ہمیشہ آنے والی نسلوں کی زبانوں اور دلوں میں رہینگے ۔۔۔
    یہ وہ وقت تھا جب ایک بت فروش آذر کے بیٹے نے اس سے کہا کہ
    اَتَتَّخِذُ اَصۡنَامًا اٰلِهَةً ‌ ۚ اِنِّىۡۤ اَرٰٮكَ وَقَوۡمَكَ فِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ۞
    کیا آپ بتوں کو خدا بنائے بیٹھے ہیں؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ اور آپ کی قوم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں ۔۔۔
    وہ بیٹا زمین و آسمان کا نظارہ کرتا اور اس رب کو ڈھونڈتا جس نے اس کائنات کو تخلیق کیا ۔۔۔۔
    فَلَمَّا جَنَّ عَلَيۡهِ الَّيۡلُ رَاٰ كَوۡكَبًا ‌ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّىۡ‌ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الۡاٰفِلِيۡنَ ۞
    چنانچہ جب ان پر رات چھائی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا کہنے لگے کہ یہ میرا رب ہے ۔۔پھر جب وہ ستارہ ڈوبا تو فرمانے لگے نہیں یہ میرا رب نہیں میں ڈوبنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔۔۔۔
    پھر انہوں نے چاند کو دیکھا تو کہا کہ یہ میرا رب ہے۔۔۔
    جب وہ بھی ڈوب گیا تو فرمایا
    اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ دیتا تو میں یقیناً گمراہ لوگوں میں شامل ہوجاتا

    پھر جب انہوں نے سورج کو چمکتا دیکھا تو کہا یہ میرا رب ہے یہ زیادہ بڑا ہے پھر جب وہ غروب ہوا تو کہا کہ
    اے میری قوم جن جن چیزوں کو تم الله کی خدائی میں شریک قرار دیتے ہو میں ان سب سے بے زار ہوں ۔۔۔۔۔
    اور یوں اللّٰہ تعالٰی نے انہیں حق اور سچ کی طرف رہنمائی فرمائی اور انکا رخ دین حنیف کی طرف موڑ دیا ۔۔۔۔
    مگر صرف دین حق کو قبول کردینا ہی کافی نہ تھا انہیں
    انبیاء کا جد امجد بننے کیلئے امتحانات مقصود تھے جس میں پورا اترنا شرط تھا۔۔۔۔۔
    اور وہ پورا اترے یہاں تک کہ خلیل اللہ کا لقب پایا ۔۔۔۔
    وہایک تہوار کا دن تھا اور قوم تہوار منانے نکلی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ اپنے دل کی اس بیماری( جو لوگوں کو گمراہی میں پڑا دیکھ کر آشکار ہوئی تھی ) کی وجہ سے آپ علیہ السلام وہیں ٹھیر گئے اور قوم کے پیچھے انکے بتوں کو توڑ ڈالا اور ہتھوڑا بڑے بت کی گردن میں لٹکا دیا ۔۔۔۔۔۔۔ قوم آئی اور بت خانے میں توڑ پھوڑ دیکھی تو پہلا شک انکا آپ علیہ السلام پر گیا ۔۔۔۔انسے بت خانے کی بابت پوچھا تو فرمانے لگے کہ اس بڑے بت سے پوچھو۔۔۔۔ کہا کہ یہ تو بول نہیں سکتا یہ کیسے بتائے گا
    انکی عقلوں میں یہ نہ سمایا کہ جب یہ ان ساتھی چھوٹے بتوں کو بچا نہیں سکتا وہ کیسے رب ہوسکتا ہے ۔۔۔۔اور یوں وہ اس نوجوان پر آگ بگولا ہوگئے تو ایک بڑی آگ جلائی گئی جس میں اس سچے حق پرست اور نیک نوجوان ابرہیم علیہ السلام کو ڈالا گیا ۔۔۔۔۔ادھر انھیں آگ میں ڈالا گیا تو رب العالمین کا آگ کو حکم ہوا
    يٰنار كوني بردا وسلاما على ابراهيم
    اے آگ ٹھنڈک ہوجا اور ابرہیم علیہ السلام کیلئے سلامتی والی ہوجا
    اور یوں تین دن آگ میں رہنے کے باوجود صحیح سالم آگ سے نکلے اور اپنے اس امتحان میں آپ ثابت قدم رہے۔۔۔
    اپنی قوم اور باپ کو چھوڑ کر اپنی زوجہ کو لئے نکل کھڑے ہوئے
    اس امتحان کے بعد نمرود کے دربار سے بھی بھی سرفراز لوٹے ۔۔۔ جو ہر خوبصورت عورت کو بیوی بنا لیا کرتا تھا ۔۔۔۔ پھر لوٹے بھی تو ایسے کہ اس بادشاہ نے ان پر اکرام کیا اور انھیں باندی سے نوازا۔ ۔۔۔۔۔
    ابھی امتحان ختم نہ ہوئے تھے انکے ابھی بڑے بڑے کام باقی تھے !!! ۔۔۔۔۔ بڑھاپے میں اولاد کی خوشخبری ہوئی ۔۔۔۔اور وہ باندی جو آنھیں تحفے میں عطا ہوئی تھیں انھوں نے بھی ایک وارث جنا ۔۔۔۔۔۔ بڑھاپے میں ملی وہ اولاد جو اولاد نرینہ بھی تھی ۔۔۔اس ہی کہ ذریعے پروردگار نے انھیں آزمایا اور حکم ہوا کہ اسکے قربان کردیں بیٹا وہی تھا جسکی اولاد میں رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے تشریف لانا تھی۔۔۔۔دونوں باپ بیٹا کچھ اس طرح ثابت قدم رہے کہ عرش لرز اٹھا اور دونوں سرخرو ہوئے ۔۔۔۔ اورآج تک انکی یہ قربانی یاد رکھی گئی ہے اور ابد تک رکھی جائے گی اس قربانی کی سنت کو ہر 10 تا 12 ذی الحجہ امت محمدیہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم زندہ کرتی رہی ہے اور کرتی رہے گی ۔۔۔۔۔ پھر اگلا امتحان کچھ یوں ہوا کہ اس جگر کے ٹکڑے کو ایسی سرزمین پر چھوڑنے کا حکم ہوا جہاں دور دور تک کسی نباتات کا نام و نشاں نہ تھا۔۔۔۔۔۔ اپنے رب کیلئے وہ اس امتحان سے بھی گزر گئے
    اور رب العالمین نے ان پر ان امتحانات میں کامیابی کا کچھ اس طرح انعام کیا کہ ’’مَیں آپ ؑ کو لوگوں کا امام (یعنی پیشوا) بنانے والا ہوں۔‘‘ (سورۃ البقرہ، آیت124)۔

    جب سالوں بعد اس مقام پر پہنچے جہاں بیوی بچے کو چھوڑا تھا تو وہ جگہ عجب منظر پیش کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ ایک پورا شہر آباد تھا وہاں۔۔۔۔
    پھر بیت اللہ کی دوبارہ تعمیر کا حکم ہوا تو باپ بیٹا ایک بار پھر حکم خداوندی کو پورا کرنے کیلئے جت گئے باپ حضرت ابرہیم علیہ السلام کے لئے جنت سے پتھر آیا جو خود آونچا نیچا ہوجاتا تھا ۔۔۔۔ بیٹا باپ کو پتھر پکڑاتا جاتا اور والد دعا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا گھر تعمیر کرتے جاتے ۔۔۔
    اور یہ تعمیر نو مکمل تو دعا فرمائی کہ
    ’’ الٰہی! مَیں نے اس لَق و دَق صحرا اور اس بے آب و گیاہ بیابان میں، تیرے گھر کے پڑوس میں اپنی اولاد کو اِس لیے بسایا ہے کہ وہ تیری عبادت کرتے رہیں۔الٰہی! لوگوں کے دِلوں میں ان کی محبّت اور لگن پیدا کر دے تاکہ وہ ان کے پاس کِھنچ کِھنچ کر چلے آئیں۔یہ وادی، جہاں سرسبزی و شادابی کا دُور دُور تک نشان نہیں، اِس میں رہنے والوں کو کھانے کے لیے تازہ پھل عطا فرما
    اور یوں مسلسل امتحانات کے بعد انکا اکرام کرنے میں بھی میرے رب ے کوئی کسر نہ چھوڑی اور وہ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم جنکے لئے کائنات وجود میں آئی انکے ابرہیم علیہ السلام کے بیٹے اسماعیل کی نسل سے فرمادیا۔۔۔۔

    Twitter handle: @Amk_20k

  • قربانی…!!! . تحریر : محمد اسامہ

    قربانی…!!! . تحریر : محمد اسامہ

    الله اكبر الله اكبر لا اله الا الله والله اكبر وله الحمد الله اكبر كبيرا والحمد كثيرا واسبحان الله بكرة وأصيلا

    کچھ ممالک میں کل عید الاضحٰی منائی گئی تھی اور کچھ ممالک میں آج عید الاضحٰی منائی جارہی ہے. اس عید کا صرف ایک ہی پیغام ہے.

    "قربانی”

    بظاہر تو ہم جانور اللّٰه کی راہ میں قربان کرتے ہیں. ان کا خون بہا کرتے ہیں. ان کا گوشت تقسیم کرتے ہیں. دعوتیں کی جاتی ہیں. غرباء و مساکین کو بھی خوشیوں میں شامل کیا جاتا ہے.

    قربانی، انا کی، رویوں کی، حق پر ہوتے ہوئے پہل کرنے کی، ناراضگی کو دور کرنے کی اور ہر اس چیز کی جس سے محبت اور ایثار کا بول بالا ہو.
    جانوروں کی قربانی کے ساتھ ساتھ ان چیزوں کی قربانی بھی دی جائے تو قربانی کا مقصد پورا ہوجاتا ہے.

    الله ہمیں توفیق عطا فرمائے. آمین.

    تقبل الله منا ومنكم صالح الأعمال
    عید الاضحٰی🐑 مبارك

    @its_usamaislam