Baaghi TV

Category: مسلم دنیا

  • نماز اور نوجوان نسل . تحریر: محمد خبیب فرہاد

    نماز اور نوجوان نسل . تحریر: محمد خبیب فرہاد

    اِک زمانہ تھا کہ مسجدیں نمازیوں سے بھری ہوا کرتی تھیں۔ جوں جوں لمحات گزرتے گئے نمازی کم ہوتے چلے گئے ، اے ابن آدم جب تونے نماز ہی پڑھنی چھوڑ دی تو کس کامیابی کا انتظار کر رہا ہے ، رب کے آگے جھکنے سے ہی کامیابی ملتی ہے ، جو سکون نماز میں ہے وہ سکون تجھے دنیا میں کہیں نہیں ملے گا، نماز مومن کی معراج ہے ۔ کیا خوب فرمایا شیر خدا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے: یہ دنیا جھوٹ ہے اور موت سچ ہے ۔ کیوں نہ ہم دنیا کی خواہشات ترک کرکے آخرت کی تیاری کریں، خواہشات کبھی کم نہیں ہونگی بلکہ خواہش لالچ بڑھاتی ہے اور لالچ انسان کو دنیا کی دلدل میں پھنسا دیتی ہے ۔ اے اللہ کے بندے/ بندیوں اللہ کو راضی کر لو،

    اللہ تعالی بے تابی سے اپنے بندے /بندی کا انتظار کر رہا ہوتا ہے کہ کب میرا بندہ/ بندی مجھ سے مانگے اور میں اسے دوں نوجوانوں لوٹ آو کہیں دیر نہ ہوجائے اللہ کو راضی کرنا بہت آسان ہے ، اللہ تعالی ستر ماؤں سے ذیادہ پیار کرتا ہے اپنے بندے /بندیوں کو۔ اللہ تعالی کو سب زیادہ نوجوان کی عبادت کرنا پسند ہے اس لئے آج کی نوجوان نسل کو چایئے کہ اپنے رب تعالی کو راضی کر لے ، نماز بے حیائی سے روکتی ہے، نماز چہرے کا نور ہے ، نماز دین کا ستون ہے اور سب سے پہلے قبر میں نماز کاپوچھے جائے گا۔

    قرآن مجید میں نماز کا بہت دفعہ ذکر آیا ہے! جن میں سے چند ایک آیات میں لکھوں گا کہ کس طرح اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ:

    (وَ اسۡتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَ الصَّلٰوۃِ ؕ وَ اِنَّہَا لَکَبِیۡرَۃٌ
    اِلَّا عَلَی الۡخٰشِعِیۡنَ )
    اور صبر اور نمازکے ذریعے سے مدد مانگو اور بلاشبہ وہ ( نماز ) یقیناً بہت بڑی ہے مگر عاجزی کرنے والوں پر
    (سورۃ البقرۃ آیت :45)

    کامیابی چاہتے ہو تو دن کا آغاز صدقہ سے کرو اور اگر دن بخیر گزارنا چاہتے ہو تو نماز فجر ادا کرو ۔ ایک دفعہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی کہ میں آپ کی عبادت کرنا چاہتا ہوں، اللہ تعالی نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو عبادت کی اجازت دے دی، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے دو نوافل ادا کئے اللہ کے حضور نوافل کی مدت اتنی تھی کہ چودہ سو سال بعد سلام پھیرا ۔ اسی وقت اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: اے جبرائیل تو نے اتنی لمبی نماز پڑھی، میں تجھے کیوں نہ بتاو کہ اک قوم آئی گی ، جب وہ قوم فجر کی دو سنتیں ادا کرے گی تو اُن سنتوں کا ثواب چودہ سو سال کی عبادت کے برابر ہوگا !

    ارشاد باری تعالی ہے کہ:
    (وَ الَّذِیۡنَ یُمَسِّکُوۡنَ بِالۡکِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ؕ اِنَّا لَا نُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِیۡنَ )
    اورجولوگ کتاب اللہ کو مضبوطی سے تھامتے ہیں اورانہوں نے نمازقائم کی ، یقیناہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے ۔(سورۃ الاعراف آیت :170)

    اے نوجوانوں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو۔
    زندگی کل کی محتاج نہیں ! اپنا آج سنوارو گے تو آخرت میں جنت ملے گی ۔ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں ایک اور جگہ فرمایا ہے:

    (وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ ؕ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَ الۡمُنۡکَرِ ؕ)
    اور نماز قائم کر ،بےشک نماز بےحیائی اور برائی سے روکتی ہے (سورۃ العنکبوت،آیت :45)

    پہلی قومیں کیوں تباہ ہوئیں کیونکہ وہ اللہ کی اور اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کرتی تھیں اسی لئے وہ قومیں تباہ ہوئیں ۔ الحمد اللہ ہم جنکے امتی ہیں وہ آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہیں، جنہوں نے مخصوص دعا ہماری شفاعت کے لئے رکھی ہے، ہمیں بھی چاہیے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر کثرت سے درود پاک پڑھیں، نماز میرے نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ۔

    "مومن وہی ہے جسکی تنہائی پاک ہے”

    سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
    (الصلوٰۃ نور )
    ” نماز نور ،یعنی روشنی ہے ”
    (صحیح مسلم کتاب الطھارة حدیث :223)

    منافق شخص کے لئے دو نمازیں بہت بھاری ہیں:

    نمبر ایک نماز فجر اور نمبر دو نماز عشاء!

    دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو پانچ وقت کی نماز باجماعت ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اور مرتے وقت کلمہ پڑھنے کی سعادت نصیب فرمائیں آمین ثم آمین یا رب العالمین

    @khubaibmkf

  • مسجد عبد اللہ بن عباسؓ – طائف (سعودیہ )   تحریر :  محمد آصف شفیق

    مسجد عبد اللہ بن عباسؓ – طائف (سعودیہ ) تحریر : محمد آصف شفیق

    دوستو آج ہم آ پ سے طائف کی سیر کا احوال شئر کریں گے
    ہم چند دوستوں نے جدہ سے طائف کی سیر کا پروگرام بنایا جدہ سے طائف کم و بیش 170 کلومیٹر ہے اور کم و بیش دو گھنٹے کی ڈرائیو ہے ، طائف ایک پر فضا مقام ہے جہاں سیر و سیاحت کیلئے آنے والوں کیلئے دیگر سہولتوں کے علاوہ چئر لفٹ کی سہولت موجود ہے جس سے آپ پورے ایریا کو فضا سے دیکھ سکتے ہیں بل کھاتی سڑکیں پہاڑی راستہ اور مسلسل چڑھائی جس کی وجہ سے کافی وقت لگ جاتا ہے ، نئی نئی گاڑیاں مستقل چڑھائی کی وجہ سے اکثر ہیٹ اپ ہو جاتی ہیں جنہیں کبھی تو اٹھا کر لانا پڑجاتا ہے یا وہیں پر کوئی جگاڑ لگا کر واپس لایا جا سکتا ہے ،اگر گاڑی خراب ہو جائے تو یہاں راہ چلتے مسافر فواراً رک کر آپکی مدد کرتے ہیں جو کہ ایک اچھی بات ہے
    تو ہم بات کر رہے تھے طائف کی ، شہر طائف میں بہت سی قدیم مساجد ہیں جن میں سے ایک عظیم صحابی عبداللہ بن عباس ؓ کی مسجد ہے جو کہ طائف شہر کی مشہور مساجد میں سے ایک مسجد ہے ، یہ طائف شہر کے بالکل وسط میں واقع ہے ،اس مسجد کی تعمیر 592 ہجری میں ہوئی ، اس مسجد میں کم و بیش 3000 نمازیوں کی گنجائش موجود ہے ، مسجد میں اجتماعات عید کی نماز سیمینار ز اور لیکچرز کا انعقاد کیا جاتا ہے ، مسجد کی مختلف ادوار میں میں توسیع کی جاتی رہی محترم شاہ سعود رحمہ اللہ کے دور میں مسجد کی توسیع کی گئی اور اسے 15000 مربع میٹر تک وسیع کیا گیا
    مسجدکے بالکل ساتھ عبد اللہ بن عباسؓ لائبریری بھی موجود ہے جو اچھی بڑی لائبریری ہے چونکہ ہم نے اس کورونا کی وبا کے دوران طائف کا سفر کیا اس لئے انتظامیہ نے حفاظتی نقطہ نظر سے لائیبریری کو بند کیا ہوا ہے ہم امید کرتے ہیں ان شااللہ اپنے اگلے وزٹ پر لائیبریری کو اندر سے دیکھ سکیں گے اور اس میں موجود نوادرات کی زیارت بھی کر پائیں گے اور اسے آپ سب پڑھنے والوں سے شئر بھی کریں گے ان شاء اللہ
    مسجد اور لائبریری کے قریب ہی پارکنگ ایریا ہے جس میں وسیع و عریض کار پارکنگ کی سہولت موجود ہے ، ساتھ ہی خوبصورت گیٹ بھی بنایا گیا ہے جسے باب عبد اللہ بن عباسؓ کا نام دیا گیا ہے
    طائف میں ہی موجود مسجد علی ؓ کا احوال بھی انشاء اللہ جلد ہی اپنے اگلے بلاگ میں پیش کروں گا
    محمد آصف شفیق
    جدہ -سعودیہ

    @mmasief

  • پابندی وقت  تحریر: نــــازش احمــــد

    پابندی وقت تحریر: نــــازش احمــــد

    وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا ۔ گھڑی کی سوئیاں کبھی نہیں رکتیں۔ جو وقت سے فائدہ اٹھا لیتا ہے وقت اس کے کام آ جا ہے اور جو وقت کی قدر نہیں کرتا وقت اسے کوسوں پیچھے چھوڑ کر آ گئے نکل جاتا ہے۔وقت ایک عظیم دولت ہے وہی شخص دنیا میں عزت و ثروت حاصل کرسکتا ہے جو وقت سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس کی قدر کرتا ہے اور اسے ضائع نہیں کرتا۔ہمیں چاہیے کہ وقت ضائع نہ کریں، ہر
    کام مقرر وقت پر کرنے کی عادت اختیار کریں اور کبھی آ ج کا کام کل پر نہ ڈالیں۔ کام اپنے مقررہ وقت پر کرنا چاہیے آ ج کا کام کل پر نہ ڈالنا چاہیے۔یہی پابندی وقت ہے۔
    جو لوگ وقت کی قدر نہیں کرتے وہ در حقیقت ایک قیمتی خزانہ ضائع کردتے ہیں۔گزرا ہوا وقت کبھی کسی قیمت پر بھی واپس نہیں آتا۔ پابندی وقت کے ساتھ اگر ہم محنت کریں تو ہم اپنی اقتصادی حالت درست کر سکتے ہیں۔ عزت کی زندگی بسر کر سکتے ہیں ہوں ہم کسی کے محتاج نہیں ہوں گے۔
    نظام کائنات بھی ہمیں پابندی وقت کا درس دیتا ہے۔ہر موسم اپنے مقررہ وقت پر بدلتا ہے۔ دن رات مقررہ وقت کے پابند ہیں۔ چاند۔ سورج ایک مقررہ وقت اور مقررہ نظام کے تحت طلوع اور غروب ہوتے ہیں۔ یہ اپنے پروگرام میں کبھی با قاعدگی نہیں آ نے دیتے ہیں۔ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ وہ اگر
    پابندی وقت کا عادی نہیں ہوتا تو یہ اس کی نا سمجھی اور نا اہلی کے سوا کچھ نہیں ہے۔
    "وقت کی قدر کریں
    وقت آ پ کی قدر کرے گا”
    @itx_Nazish

  • قربانی کا حق، حقداروں تک . تحریر : احمد فراز گبول

    قربانی کا حق، حقداروں تک . تحریر : احمد فراز گبول

    عید الاضحٰی مسلمانوں کا دوسرا مذہبی تہوار ہے اور اسے ایثار اور ہمدردی کے جذبے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پورے عالمِ اسلام میں اس دن سنتِ ابراہیمی کی یاد میں جانور ذبح کئے جاتے ہیں اور ان کا گوشت اعزہ و اقارب، پڑوسیوں اور غریب غربا میں بانٹا جاتا ہے۔ سرمایہ داروں کی تجوریوں کے وزن تلے دبے ہمارے اس معاشرے میں کئی ایک ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں صرف عیدِ قربان پہ ہی کھانے کے لئے گوشت نصیب ہوتا ہے۔ اس عید پر جانوروں کی قربانی کا مقصد معاشرے کی کمزور اور نچلے طبقوں کے لوگوں کی دلجوئی کرنا اور اپنا دسترخوان ان کے ساتھ بانٹنا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے نزدیک پہلی ترجیح اپنے ریفریجریٹرز اور دوسری ترجیح صرف دوست احباب اور رشتہ دار ہی بن چکے ہیں۔ غریب غربا کو تو ہم نے یاد کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ جن تک گوشت پہنچانے کے لئے ہم جانور قربان کرتے ہیں حقیقت میں ان تک پہنچتا ہی نہیں ہے۔

    اکیسویں صدی کے اس خود غرض دور میں قربانی کی روح کو سمجھنا انتہائی اہم ہے۔ ہمارے اردگرد کئی ایسے حقدار مگر نادار لوگ موجود ہیں جو کہ خودداری کے بوجھ تلے دبے ہیں۔ لیکن ہمارا بے حس معاشرہ بجائے ان کی مدد کرنے کے انہیں بھی اپنے ساتھ مقابلے کی دوڑ میں شامل کرنے پر تلا ہوا ہے۔

    دراصل ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اپنے قربانی کے فرضی تصور کو حقیقی مقصد کی طرف واپس لے کر آنا چاہئے۔ اور قربانی کا گوشت اور عید کی خوشیاں ان لوگوں کے ساتھ بانٹنی چاہئیں جو ان کے حقیقی طور پر اور صحیح معنوں میں حقدار ہیں۔ قربانی کا گوشت بانٹنے سے پہلے اس امر کی ضرورت ہے کہ کیا ہمارے اردگرد سبھی لوگوں نے عید کے کپڑے اور راشن لے لئے ہیں؟ کیونکہ بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں اور بچوں کو باپ کی غربت کا علم نہیں ہوتا۔ انہیں بس وہی چیز چاہیئے ہوتی ہے جو وہ دوسروں کے بچوں کو پہنے ہوئے دیکھتے ہیں۔ محسنِ انسانیت جناب عبد الستار ایدھی نے اپنے بیٹے کی طرف سے سائیکل خرید کر دینے کی فرمائش پر کہا تھا کہ جب تک میرے پاس اتنے پیسے نہ آ جائیں کہ محلے کے تمام بچوں کو سائیکل خرید کر دے سکوں اس وقت تک میں آپ کو سائیکل نہیں دلا سکتا۔
    ایثار اور ہمدردی کی اس سے بڑی مثال اور نہیں ملتی۔

    مختلف تیوہار اور مواقع پر معاشرے کا سفیدپوش طبقہ سب سے زیادہ مصائب کا سامنا کرتا ہے۔
    میری آپ سب سے بس یہی گزارش ہے کہ عید کا حق حقداروں تک لازمی پہنچائیے اور عید کی خوشیوں کو جتنا ہو سکے مل بانٹ کر منائیے کیونکہ اچھائی ہمیشہ بانٹنے سے بڑھتی ہے۔ خدائے ذوالجلال والاکرام پاکستان کا حامی ناصر ہو۔

    @1nVi5ibL3_

  • حضرت امام شاہ ولی اللہ کا ایک مختصر تبصرہ ۔ تحریر : روشن دین دیامری

    حضرت امام شاہ ولی اللہ کا ایک مختصر تبصرہ ۔ تحریر : روشن دین دیامری

    حضرت امام شاہ ولی ولی رح (1703 میں پیدا ہوے اور 1763 میں وفات پاگے ہیں ۔اج ہم شاہ صاحب کے ایک مختصر سا تعارف اپ کو کرواتے ہیں جو شاہ صاحب کے حوالے سے ہمارے معاشرے میں بہت کم سننے کو ملتا ہے۔ شاہ صاحب نے اپنا فلسفہ تب دیا جب یورپ اپنے جدید دور سے ابھی کئی دہائیاں دور تھا اور مارکس کے فلسفے سے تقریبا ایک صدی پہلے۔ ، شاہ ولی اللہ ہندوستانی معاشرے ، اس کی سیاست اور معیشت کے حوالے سے پیشن گوئی کے نظریات پیش کررہے تھے۔ اس کے خیالات بڑے پیمانے پر انسانیت کے لئے امید کی کرن ہیں۔

    دور حاضر کے ذہنوں کو اسلام کے بنیادی خطوط بیان کرنے کے لئے شاہ ولی اللہ نے اپنی شاہکار کتاب حجت اللہ البلغا لکھا جس میں شاہ صاحب نے اسلامی نظام کے حوالے سے ایک بہترین نظریہ دیا۔ انہوں نے اپنے قلم کی طاقت کو مذہبی ، سیاسی اور معاشی امور کے بارے میں لکھنے کے لئے استعمال کیا۔ ایک طرف انہوں نے نظام حکومت کو صیح طور پہ نہ چلانے پر ہندوستانی حکمران کو تنقید کا نشانہ بنایا تو دوسری طرف انہوں نے تعلیم یافتہ طبقہ کو سیاسی اور معاشی میدان میں اصلاح کے مطالبے پر دھیان دینے پر راضی کیا۔ انہوں نے بادشاہت کے خاتمے کی حمایت کی اور اس کی جگہ ایک نئے سیاسی نظام لانے کی بات کی۔ جس کو ٹیکنوکریسی یا اداراجاتی نظام کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ مطلب اب جو دور دور اے گا اس میں شخصی ویلو نہی بلکہ ادارے فیصلہ کرینگے۔ ہر فیلڈ کا ماہرین کا ایک گروپ ہوگا کو مشاورت سے کام کرینگے۔

    شاہ ولی اللہ کے معاشی خیالات انسانیت پسند تھے۔ اپ نے کام کاج کے اوقات کار چھے گھنٹے مختص کے تھے تاکہ انسان اپنے اولاد کو تربیت بھی دے سکے۔ فلسفیانہ دائرے میں شاہ ولی اللہ نے ایک ایسا نظریہ پیش کیے جو دنیا کے تمام مذاہب کو قریب لاسکتے ہیں۔ انہوں نے چار بنیادی خصوصیات پر روشنی ڈالی جو تمام مذاہب میں موجود تھیں: آخبات طہارت ، ، سماحت اور عدالت۔ مختلف مذاہب کی پیروی کرنے والے معاشروں کو شاہ ولی اللہ کے افکار پر مبنی نظام کے ضریعے آج بھی قریب لایا جاسکتا ہے۔شاہ صاحب اسلام معاشی سیاسی اور عدلتی نظام پہ مکل بحث کرتے ہیں ۔معاشی نظام کے حوالے سے وہ فرماتے ہیں ۔کسی معاشرے میں دولت چند سرمایہ داروں کے ہاتھ میں نہی بلکہ معاشرے میں سرکولیٹ ہونا چاے۔ تاکہ ہر انسان کے مسلہ حل ہوجاے۔ دولت کی تقسیم جو محاذ محنت کے بنیار پر یا پیسوں کے بنیاد پہ تقسیم نا کی جاے بلکہ ضرورت کو مد نظر رکھا جاے۔ انشااللہ ہم شاہ صاحب کو جو معاشی فلسفہ ہے اس پے اگے لکھتا رہونگا۔

  • ‏قربانی کا فلسفہ . تحریر : فہد ملک

    ‏قربانی کا فلسفہ . تحریر : فہد ملک

    مخصوص جانور کو مخصوص دن میں بہ نیت تقرب ذبح کرنا قربانی ہے۔ قربانی حضرت سیّدنا ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے جو اس امت (محمدیہ) کیلئے باقی رکھی گئی ہے۔ ہرصاحب نصاب مسلمان پر قربانی واجب ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو قربانی کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا.

    فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَا نْحَرْ 
    "پس تم اپنے رب ہی کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو”

    قربانی ایک ایسی عبادت ہے کی اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی حضرت سیّدنا اسماعیل علیہ السلام کی جان کے فدیہ میں دنبہ دے کر اسے مقرر کیا۔
    ارشاد بانی ہے
    وَفَدَينٰهُ بِذِبٌٍِح عَظِيمٍ
    "ہم نے ایک بڑا دنبہ اسکے فدیہ میں دے کر اسے بچا لیا”

    قربانی اسلام شعار اورنعمت الہی ہے۔ تقوی پرہیز گاری اور رضائے الٰہی کیخاطر دی جانے والی قربانی کو اللّٰہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔
    ارشاد بانی ہے:
    "اللّٰہ تعالٰی کو ہرگز ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ہی انکے خون، ہاں تمہاری پرہیز گاری اس تک باریاب ہوتی ہے”

    اللّٰہ تعالٰی کی بارگاہ میں قربانی پیش کرنا نہایت ہی پسندیدہ امر ہے۔ عیدالاضحٰی کے ایام میں خالق کائنات کو قربانی سے زیادہ کوئی عمل محبوب نہیں۔ قربانی کا دن اللّٰہ تعالٰی کے ہاں بہت عظیم دن ہے۔
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
    "یقیناً اللّٰہ تعالٰی کے ہاں سب سے عظیم دن قربانی کا دن ہے”

    ثواب کی نیت سے قربانی کرنا آتش جہنم سے روکاوٹ کا باعث ہے
    حضرت سیّدنا عباس رضہ اللہُ تعالٰی سے روایت یے
    "جو مال عید کے دن قربانی میں خرچ کیا گیا،اس سے زیادہ کوئی مال پیارا نہیں”
    سنت ابراہیمی کو پورا کرنے کی غرض سے دبح کئے جانے والے جانور کے ساتھ ساتھ اپنی شہرت ریاکاری اور دنیاوی خواہشات کو بھی قربان کیا جائے۔ اور خالصتاً رضائے الٰہی اور تقویٰ پرہیزگاری کے حصول کیلئے قربانی پیش کی جائے۔
    کیونکہ بحیثیت مسلمان ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اللّٰہ تعالٰی ہمارے جانور کے گوشت اور خون کی حاجت نہیں وہ ہمارا جذبہ قربانی اور تقویٰ کو ملاحظہ فرماتا ہے۔دعاہے اللّٰہ تعالٰی سب کی قربانی اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے آمِین۔

    ‎@Malik_Fahad333

  • مسئلہ ناموس رسالت ﷺ اور بحیثیت امت ہمارا کردار . تحریر : علی حسن

    مسئلہ ناموس رسالت ﷺ اور بحیثیت امت ہمارا کردار . تحریر : علی حسن

    کافر ہمیشہ سے ہی مسلمانوں کی دل آزاری کرنے میں لگا ہوا ہے. ان کو نہیں پتا کہ ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کس قدر محبت کرتے ہیں اور ایمان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ کائنات کی ہر شے سے بڑھ کر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کی جائے.

    میں یہاں پرایک حدیث کا حوالہ دینا چاہوں گا.
    عن أنس وأبي هريرة رضي الله عنهما مرفوعاً: لا يُؤْمِنُ أحدُكم حتى أَكُونَ أَحَبَّ إليه مِن وَلَدِه، ووالِدِه، والناس أجمعين.
    [صحيح.] – [حديث أنس -رضي الله عنه-: متفق عليه. حديث أبي هريرة -رضي الله عنه-: رواه البخاري.]

    ترجمہ :
    انس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اس کے نزدیک اس کی اولاد، اس کے والدین اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں“

    اس حدیث کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب تک محبت کی انتہا نا کر دی جائے تب تک بندہ مکمل مسلمان ہی نہیں ہو سکتا.آج کل مسلمانوں کو امن کا اتنا درس دیا جا رہا کہ دنیا کچھ بھی کرتی چلی جائے مسلمان جیسے کہ سو رہے ہیں.
    فرانس نے سلطان عبدالحمید کے دور میں گستاخانہ ڈرامہ بنایا تو سلطان عبدالحمید نے دلیرانہ للکار سے فرانس کو روکا اور کہا کہ اگر فرانس باز نا آیا تو عالم اسلام میں جہاد کا اعلان کر دوں گا. صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی گستاخوں کے سر قلم کرتے رہے ہیں حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود حکم دیا تھا گستاخ کو قتل کرنے کے لیے. مسلمان گستاخوں کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کر سکتے کیونکہ یہ ہمارے جذبات کا مسئلہ ہے، یہ ہماری محبت کا مسئلہ ہے اور یہ ہماری غیرت کا مسئلہ ہے.

    مسلمان گناہ گار تو ہو سکتا ہے لیکن غدار نہیں ہوسکتا.اگر ہم گستاخوں کے خلاف خاموش رہیں تو ہمارا ایمان کہاں ہو گا.اگر ہم گستاخوں کو جواب نہیں دیتے تو ہم قبر میں اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا منہ دکھائیں گے؟
    ہم کیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کی طلب کریں گے؟ ہم کیسے باوفا امتی کہلائیں گے؟
    ہم حوض کوثر پر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں سے جام پینے کیسے جائیں گے؟

    بحیثیت امت ہمارا فرض ہے کہ ہم ہر محاذ پر ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کریں چاہے ہماری جان چلی یا ہمارے مال ختم ہو جائیں اور یا ہماری اولادیں قربان ہو جائیں ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا.
    ابھی حال ہی میں فرانس نے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی جس پر مسلمان بہت دکھی ہوئے لیکن افسوس ہم ان کو جواب نا دے سکے.
    ہمیں اس قدر سخت جواب دینا چاہیے تھا کہ ساری دنیا جان لیتی مسلمان اپنی جان تو قربان کر سکتا ہے، اپنا مال تو لٹا سکتا ہے لیکن گستاخی رسول کو کبھی برداشت نہیں کر سکتا.

    افسوس ہمیں اپنی معیشت کا زیادہ احساس تھا لیکن ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پہرہ نا دے سکے. ہمارے ایمان کمزور ہو چکے ہیں ہم یہ کہتے رہے کہ اگر فرانس کو سخت جواب دیا تو سارے یورپی ممالک ہمارے ساتھ تجارت نہیں کریں گے ہماری معیشت تباہ ہو جائے گی. یورپ ہمیں گرے لسٹ سے نہیں نکالے گا. اسی خوف سے ہم ان کو جواب نہیں دے سکے. نمسلمان کا ایمان تو بہت ہی مضبوط ہوتا ہے.

    کیا دنیا کے سارے خزانے ہمارے رب کے نہیں ہیں؟
    کیا ساری کائنات کا مالک ہمارا رب نہیں ہے؟
    کیا یورپ کو رزق ہمارا رب نہیں دیتا؟
    کیا ہمیں رزق ہمارا رب نہیں دیتا؟

    یقیناً ساری کائنات کا مالک ہمارا رب ہے ہمیں رزق اللہ ہی دیتا ہے تو پھر ڈر کس بات کا جب رزق اللہ دیتا ہے تو ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفاع میں اگر معیشت بیٹھ بھی جائے تو پرواہ نہیں. ہمارا رب ہمیں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت پر پہرہ دینے کی وجہ سے سپر پاور بنانے پر قادر ہے. لیکن شرط یہ ہے کہ مخلص ہو جاو ڈر نکال دو اپنے اندر سے اور بس ایک ہی بات کہو گستاخ رسول اب تیری خیر نہیں.

    اللہ تعالیٰ ہمیں باوقار مسلمان بنائے آمین.

    @AliHassan_9211

  • مایوسی ایک گناہ ہے . تحریر: شعیب مراتب

    مایوسی ایک گناہ ہے . تحریر: شعیب مراتب

    انسان کی قدر و منزلت صرف دولت ہے دولت کی جدوجہد کے لئے ہمیشہ محنت کرتا ہے خوبصورت زندگی اللہ کا ذکر کرنے سے توبہ کرنے سے ملتی ہے ہمیشہ اللہ کا ذکر کرو اللہ آپ کو وہ منزل دے گا جس کا آپ تصور بھی نہیں کرسکتے اللہ ہر چیز پر قادر ہے وہ بڑا غفور و رحیم ہے مانگو اس سے جو دینے والا ہے صرف اللہ ہی ہے جو آپ کی مدد کر سکتا ہے زندگی میں مشکلات آتی رہتی ہیں مگر ہمت اور حوصلے سے مقابلہ کرنا چاہیے کسی کے پاس پیسہ دیکھ کر کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے ہوسکتا ہے کل آپ کو اللہ تعالی اس کا بہتر اجر دے اللہ تعالی پرامید اور توکل قائم رہنا چاہیے انسان کو ہمیشہ انسانیت کی خدمت اور بھلائی کرنی چاہیے ہر وقت اللہ تعالی سے ڈرتے رہنا چاہیے وہ بڑا غفور الرحیم ہےوہ انسان سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے الحمدللہ ہم مسلمان ہیں مسلمان گھر میں پیدا ہوئے ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کسی کا غریب ہونا مذاق بن جاتا ہے چاہے اس کا اخلاق جتنا مرضی اچھا ہو مگر لوگ سمجھتے ہیں پتہ نہیں اس کو ہمارے ساتھ کوئی مطلب ہے اسلام ہمیں محبت رواداری برداشت کا درس دیتا ہے اللہ تعالی ہم سب کو ایمان کی دولت سے مالا مال کرے دنیا ایک دکھاوا ہے ہم سب نے اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصرہو. آمین.

    @Shoaib__s

  • قربانی سنت ابراہیمی ہے   تحریر: تماضر خنساء

    قربانی سنت ابراہیمی ہے تحریر: تماضر خنساء

    حلال جانور کو تقرب الہی کیلیے قربان کرنے کا سلسلہ
    حضرت آدم ع سے چلا آرہا ہے جب آپ ع کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل نے بارگاہ ایزدی میں اپنی قربانی پیش کی.
    قرآن پاک اس کو کچھ یوں بیان کرتا ہے :
    وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ ۖ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّـهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ﴿سورۃ المائدۃ ٢٧﴾

    اور پیغمبر علیھم السّلام آپ ان کو آدم علیھم السّلام کے دونوں فرزندوں کا سچا ّقصّہ پڑھ کر سنائیے کہ جب دونوں نے قربانی دی اور ایک کی قربانی قبول ہوگئی اور دوسرے کی نہ ہوئی تو اس نے کہا کہ میں تجھے قتل کردوں گا تو دوسرے نے جواب دیا کہ میرا کیا قصور ہے خدا صرف صاحبان تقوٰی کے اعمال کو قبول
    کرتا ہے (27)

    اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قربانی کی عبادت آدم ع کے زمانے سے ہی چلی آرہی ہے مگر اس کی خاص پہچان خلیل اللہ کی وہ عظیم قربانی ہے کہ جس پر زمین و آسماں انگشت بدنداں تھے ۔
    اور اسی عظیم واقعے کی بنا پر یہ امت محمدیہ پر واجب کردیا گیا کہ ہر سال خلیل اللہ کی اس عظیم قربانی کا عمل دہرایا جاتا رہے گا ۔
    اس عظیم قربانی کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ
    سید نا ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کر رہے ہیں ۔انھوں نے اس کا تذکرہ اپنے بیٹے سے کیا تو اسماعیل نے کہا : آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر ڈالیے ، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔ رب العزت نے اس بارے میں فرمایا:
    پھر جب دونوں مطیع ہو گئے اور ابراہیم نے اسے پیشانی کے بل گرادیا اور ہم نے اسے ندادی کہ اے ابراہیم علیہ السلام ! یقینا تو نے خواب سچ کر دکھایا۔ یقینا ہم نیکی کرنے والوں کوایسا ہی بدلہ دیتے ہیں.
    (سورۃ الصافات: 103 – 105 )

    یہ قربانی کیاتھی؟ محض خون اور گوشت کی قربانی نہ تھی بلکہ روح اور دل کی قربانی تھی ۔ یہ محض باپ کا اپنے اکلوتے بیٹے کے خون سے زمین کو رنگین کرد ینا نہ تھا بلکہ اللہ تعالی کے سامنے اپنے ہرقسم کے ارادے اور مرضی کومٹادینا تھا۔ یہ اپنی عزیز ترین متاع کو اللہ تعالی کے سامنے پیش کرنا تھا۔ یہ تسلیم ورضا ،صبراور شکر کا وہ امتحان تھا جس کو پورا کیے بغیر اللہ تعالی کی رضا نہیں مل سکتی ۔ یہ غیر اللہ کی محبت کی قربانی اللہ تعالی کے راستے میں تھی۔ یہ اللہ تعالی کی اطاعت اور عبودیت کا بے مثال منظر تھا۔ جانوروں کی ظاہری قربانی دراصل اپنی روح اور دل کی قربانی ہے ۔اسلام قربانی ہے۔اسلام کے لفظی معنی اپنے آپ کو اپنی مرضی کو اللہ تعالی کے سپرد کردینا اور اس کی اطاعت اور بندگی کے لیے گردن سر تسلیم خم کر دینا ہے ۔قربانی قرب کا ذریعہ بنتی ہے ،اسی سے انسان سیکھتا ہے کہ اللہ تعالی کی خاطر کیسے اپنا سب کچھ قربان کرنا ہے ؟ اپنامال ، صلاحیتیں ،قوتیں ، وقت اور ضرورت پڑنے پر جان بھی جو کچھ بھی رب کی طرف سے ملا ہو، سب کچھ قربان کرنا ہے ۔ جانور کو قربان کر کے انسان قربانی کا سبق سیکھتا ہے ۔ یہی وہ حقیقت ہے جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ کے اس ایثار اور قربانی سے ظاہر ہوتی ہے ۔ یہی وہ برکت ہے جس کو مسلمان دن میں پانچ مرتبہ اپنے رب کے سامنے یاد کرتے ہیں: اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم اے اللہ تو محمد اور محمد کی آل پر برکت نازل کر، جس طرح تو نے ابراہیم اورا براہیم کی آل پر برکت نازل کی
    قربانی ایک اہم عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے،یہ نمائش یا کسی رسم کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عبادت اور مذہبی فریضہ ہے، کیونکہ فرمایا گیا کہ ”اللہ تعالیٰ کو ان جانوروں کا گوشت اور خون ہرگز نہیں پہنچتا، بلکہ اسکو تمہاری جانب سے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔
    اگر ایسا نہیں تو ہمارا رد عمل کیا ہے؟ ہمارے دور میں ”سنت ابراہیمی“ ہم سے کیا تقاضا کرتی ہے؟
    بس یہی بتانا تھا کہ اللہ کے پاس تو نیت اور تقوی پہنچے گا اور ہم کیا پہنچا رہے ہیں؟

    @timazer_K
    Twiter handle

  • قربانی اورہماری ذمہ داری . تحریر: محمد بلال اسلم

    قربانی اورہماری ذمہ داری . تحریر: محمد بلال اسلم

    قربانی کیا ہے ؟ عید الاضحی کے دن جانورکو قربان کرنا سنت ابراھیمی ہے ۔دنیا بھر میں مسلمان اس سنت کو بہت اچھے طریقے سے اداء کرتے ہیں۔قربانی اس چیز کا نام ہے کہ ہم اپنی محبوب چیز کو اللہ کے راستے میں قربان کریں جیسے ہمارے جدامجد حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو اللہ کا حکم پورا کرنے کے لئے قربان کرنے کا ارادہ کر لیا تھا ۔

    غرباء کی مدد اور یہ وہ دن ہے جب صاحب استطاعت مسلمان اپنے غریب بھائیوں کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں اور انکی خوشیوں کو دوبالا کرتے ہیں۔۔۔ انکے گھروں میں بھی قربانی کا گوشت وافر مقدار میں پہنچایا جاتا ہے ۔کچھ مسلمان بھائی اس حق کو پورا پورا اداء کرتے ہیں کہ وہ قربانی کا گوشت کسی پسماندہ محلے میں جاکر گھر گھر تقسیم کرتے ہیں ۔عید کی برکت سے وہ غریب مسلمان جن کو پورا سال گوشت کھانا نصیب نھیں ہوتا وہ گوشت کھا لیتے ہیں.

    عید کے دن سے پہلے ہماری ذمہ داری۔۔۔۔ پاکستان میں ہر سال عید الاضحی سے قبل شہری مویشی منڈیوں کا رخ کرتے ہیں اور ہر انسان کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی طاقت کے مطابق اچھے سے اچھا جانور خرید کر لائے اور اللہ کی راہ میں قربان کرے اور شہری جانور لاکر گھروں کے باہر باندھ دیتے ہیں جس کی وجہ سے گلی محلوں میں گندگی کے ڈھیر دکھائی دیتے ہیں ۔سب سے پہلے تو یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنے محلوں کو صاف رکھیں اپنی گلی اور گھر میں کوڑا جمع نا ہونے دیں اور جہاں جگہ ہو شام کو وہاں کوڑا ڈال دیں تاکہ جہاں ہم رہتے ہیں وہ جگہ صاف ستھری رہے اور ہمارے بچے بیماریوں سے محفوظ رہیں۔دوسرا انتظامیہ کی ذمہ داری بتنی ہے وہ کم سے کم ان دنوں میں لازمی ہر محلے میں چکر لگائیں اور کوڑے کو ڈھیر اٹھا کر لے جائیں۔

    عید کے دن ہماری ذمہ داری اس مذہبی فریضے کے بعد قربان کئے ہوئے جانور کی باقیات مثلا خون اوجھڑی اور ہڈیوں وغیرہ کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانا صرف ہمارا قومی نہیں بلکہ مذہبی فریضہ ہے۔اوجھڑی ہڈیوں وغیرہ کو گلیوں میں یا کسی میدان میں یا کسی اور پبلک مقام پر چھوڑنے سے پہلے ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہمارے پیارے نبی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم صفائی کا کتنا خیال رکھتے تھے اور ہم اس اہم فریضے کی ادائیگی کے بعد لوگوں کو تکلیف پہنچا رہے ہیں۔

    جانور کی باقیات سے نا صرف بدبو پھیلتی ہے بلکے ان سے مختلف بیماریاں بھی پیدا ہوتی ہیں اور ان پر مکھیاں اور مچھر پیدا ہوتے ہیں جو سارے علاقے کے لئے نقصان دہ ہیں۔اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم ان باقیات کو ایسی جگہ رکھیں جہاں سرکاری عملہ فورا اسکو اٹھا کر لے جائے اگر ہمارے علاقے میں سرکاری عملہ نھیں اتا تو اسکو گڑھا کھود کر اسمیں دبا دینا چاہیے.

    @BilalAslam_2