ہمارے معاشرے میں ہمیں طرح طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ ہزاروں قسم کی فطرتیں دیکھنے میں آتی ہے۔ بہت سے لوگوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا یے۔ کبھی کبھی کوئی غیر ہمارے دلوں پر ایسا اثر اور نشان چھوڑ جاتا ہے جو کسی اپنے سے امید بھی نہیں کی جا سکتی۔
کچھ ایسا ہی واقعہ آج ہمارے ساتھ پیش آیا۔
آج سعودی عرب میں یوم العرفہ تھا۔ آج کو دن یہاں کے مقامی لوگوں کی اکثریت روزہ رکھتی ہے۔ یہاں بھی ہر طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ آپ نے اکثر سعودی پلٹ پاکستانیوں کے منہ سے کفیلوں کی برائیاں سن رکھی ہونگی۔ اور یقیناً ان میں سے اکثریت کے بارے میں ہماری رائے بھی ایسی ہی ہے۔ لیکن آج ہوئے واقعے نے ہمیں یہ سکھا دیا کہ "ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں”
اللہ نے نفلی روزہ رکھنے کی توفیق دی، سارا دن گھر والوں سے باتوں میں، نماز اور ذکر اور سو کے گزر گیا۔ شام ہوئی تو دوست نے کہا کہ آج ریسٹورنٹ سے کھانا کھا کے آتے ہیں۔ رہائش کے پاس ہی ایک ترک ریسٹورنٹ ہے۔ اکثر جانا ہوتا ہے وہاں پر۔ افطار کمرے میں کر کے جب ہم ریسٹورنٹ پہنچے تو وہاں پہلے سے ایک باریش سعودی کھانا نوش فرما رہا تھا۔ میں نے رسماً انہں سلام کہا، انہوں نے میری طرف دیکھا مسکرا کر وعلیکم السلام کہا، میں نے اپنی ٹوٹی پھوٹی عربی میں انہیں عید کی ایڈوانس مبارک بھی دے ڈالی، یہ سب دیکھ کر وہ مسکرائے اور کھانا کھانے میں مصروف ہوگئے۔
اتنی دیر میں ہمارا آرڈر بھی آ گیا اور ہم نے بھی کھانا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد ویٹر پیپسی لے کے ہمارے پاس آیا اور بولا، "یہ ان صاحب نے آپ کو دینے کے لئے کہا ہے” ہم نے قبول کی اور ان کا شکریہ ادا کر کے کھانا کھانے لگ گئے۔ انہوں نے اپنا کھانا ختم کیا اور کاؤنٹر پہ حساب کتاب کر کے پیسے دے دئیے۔ جاتے وقت مسکراتے ہوئے ہمیں "عید مبارک” بھی کہہ گئے۔
ہم نے کھانے سے فارغ ہو کے، ہاتھ دھو کے جب بل دینا چاہا تو معلوم ہوا کہ اللہ کا وہ نیک بندہ ہمارے پیسے بھی دے گیا ہے۔ ہم حیرت بھری نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے کہ ایسا کیوں کیا؟
آخر ایسا کیا تھا جس نے اس شخص کو متاثر کیا؟
ہوٹل میں اور بھی لوگ تو موجود تھے (کئی تو سعودی بھی تھے) تو ہمارا بل ہی کیوں؟
کیا ریسٹورنٹ میں آتے ہی ہمارا اسے سلام کرنا، اس سے حال پوچھنا، عید کی مبارک دینا اسے پسند آیا؟
اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ لیکن ایک بات تو ہے۔ اخلاق آپ کے بڑے سے بڑے دشمن کو بھی دوست بنا دیتا ہے۔ آپ کے قتل کے درپے لوگ آپ کے خادم بھی بن جایا کرتے ہیں یہ چیزیں ہمیں اللہ کے رسول ﷺ کی سیرت سے ملتی ہیں۔
خیر، وجہ چاہے کچھ بھی ہو، جب آپ کسی سے اخلاق سے پیش آتے ہیں تو آپ کا ایک مثبت اثر اس کے دل میں اتر جاتا ہے۔ حضرت ابودردہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : "میزان میں حسن اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں” ایک اور مقام پہ حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: بیشک مومن اپنے حسن اخلاق کی بدولت روزے رکھنے اور قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے” اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں حسن اخلاق سے نوازے۔ آمین
@Being_Faani
Category: مسلم دنیا

تحریر: مجاہد حسین ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

امت مسلمہ میں قربانی کا جذبہ . تحریر : رانا احسان اللّٰہ
اشرف المخلوقات کی قربانی حضرت آدم علیہ السلام کے دور سے ان کی اولاد سے شروع ہوئی اور چلی آرہی ہے لیکن جانور زبح کرنے کے احکام حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نبوت کے دور میں شروع ہوئے اور اللہ کے حکم کی تعمیل کی گئی۔ جانور کی قربانی لازم نہیں 50 لاکھ یا 30 لاکھ بیل خرید کر ہی کی جائے اور ذبح کیا جائے اور ذبح کرنے سے پہلے بیل کو دکھاوے کے طور پر محلے اور بازار میں ہرگز نہ گھمایا جائے بلکہ پر خلوص نیت سے خالص اللّٰہ تعالٰی کے لیے قربانی کی جائے بے شک یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ پانچ ہزار والے دھمبے یا بکرے کی قربانی قبول ہو گی یا بازاروں میں دکھاوا کرنے والے 50 لاکھ یا تیس لاکھ کے بیل کی قربانی قبول ہوتی ہے اصل قبولیت تو نیت خالص ہی کی ہے ابراہیم علیہ السلام کو اللّٰہ تعالٰی نے کم و بیش 84 سال کی عمر میں بیٹا عطا کیا اولاد کے لیے دعا مانگتے مانگتے 60 سال پھر 65 سال گزر گئے اور پھر تھوڑا عرصہ بعد اللّٰہ سبحان تعالٰی کا حکم آیا جاؤ اسے چھوڑ کر آؤ ابراہیم علیہ السلام بولے کہاں چھوڑ کے آؤں تو پھر فرشتہ جبریل علیہ السلام انسانی شکل میں اونٹنی پہ بیٹھ کر آئے دوسری اونٹنی پہ ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ محترمہ حضرت حاجرہ اور بیٹا اسمعیل علیہ السلام سوار تھے اور ساتھ ابراہیم علیہ السلام فلسطین سے لمبا سفر طے کر کے چلتے چلتے مکہ معظمہ کے کالے پہاڑوں میں پہنچ گئے مکہ معظمہ کے پہاڑوں میں نہ پانی ہے نہ کوئی درختوں کا سایہ۔ حکم آیا یہاں چھوڑ دو ابراہیم علیہ السلام جو آگ میں بھی نہیں گھبرائے عرض کی یہاں کیسے چھوڑ دوں یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے تو جبریل نے فرمایا اللہ سبحان و تعالٰی کی یہی منشا ہے۔ کہ آپ کو یہیں چھوڑ دیا جائے.
تو انہیں وہیں چھوڑا اور ابراہیم علیہ السلام وآپس چل دیے بی بی حاجرہ پریشان ہو گئیں آپ یہاں چھوڑ کے کیوں جا رہے ہیں تین میل تک ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ چلتی رہیں انہیں جواب نہیں ملا پھر ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا یہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا حکم ہے کہ ہم فلسطین سے مکہ تک عظیم قربانی پیش کرنے آئے پھر جب اسمعیل علیہ السلام تھوڑا بڑے ہوئے تو انہیں ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا بیٹا اللہ سبحان و تعالیٰ کا حکم ہے کہ آپ کو اللہ کی راہ میں قربان کردوں.
یٹا بولا بابا پھر کر دیں زبح ابراہیم علیہ السلام بولے بیٹا آپ کو خبر ہے میں کیا کہہ رہا ہوں
بیٹا بولا مجھے زبح ہونا ہے اور آپ کے بدلے میں مجھے اللّٰہ تعالٰی ملے گا دنیا کے بدلے مجھے جنت ملے گی اسمعیل علیہ السلام نے فرمایا یہ میرا کرتا میری اماں کو دے دینا ابراہیم علیہ السلام نے اسمعیل علیہ السلام کے ہاتھ پاؤں باندھے اور الٹا لٹا دیا ابراہیم علیہ السلام نے سر آسمان کی طرف اٹھایا اور فرمایا اے اللہ مجھ سے ناراض ہو گیا ہے کیا اسمعیل علیہ السلام کی محبت نے میرے دل میں پکڑ لی ہے اے اللہ میرے دل میں تیرے سوا کچھ نہیں ہے اگر میرا کوئی امتحان ہے تو پاس کر دے انہوں نے چھری چلا دی
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اسمعیل علیہ السلام کی جگہ چھترے کو ڈال دیا جب ابراہیم علیہ السلام نے آنکھ کھولی تو آگے چھترا زبح پڑا تھا۔
ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید قربان کے موقع پر دو چھترے زبح کرتے تھے نہ بکرے نہ گائے بلکہ چھترے کرتے۔ ایک اپنی طرف سے ایک اپنی امت کی طرف سے سبحان اللہ حج کے موقع پر آپ نے 63 اونٹ زبح کیے تھے۔ایک اونٹ میں سات آدمیوں کا حصہ ہوتا ہے مالداروں کے لیے اک بڑا پیغام ہے۔ ہمارے ملک میں عجب کہانی ہے بیل لے کر 20 لاکھ کا یہ فخر ہے ریاہ ہے بناوٹ ہے دکھاوا ہے مالداروں سے درخواست ہے کہ آپ بیس لاکھ یا پچاس لاکھ کے بکرے خریدیں تاکہ بہت سے غریبوں میں زیادہ سے زیادہ گوشت تقسیم ہو سکے
اب تو مالداروں میں مقابلہ بازی شروع ہو چکی ہے صرف دکھاوے کے لیے تیس لاکھ یا پچاس کے بیل خریدے جا رہے ہیں مالداروں کو چاہیے غریبوں کو زیادہ سے زیادہ فائدے پہنچائیں
قربانی کے جانور کے جتنے بال ہوتے ہیں اتنی ہی نیکیاں متی ہیں دعا ہے اللہ سبحان و تعالیٰ ہمیں ایثار کے جزبے کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین@Rana241_7

لبیک اللہم لبیک
آج سے تقریبا ساڑھے چارہزارسال قبل جب حضرت ابراہیم اورآپ کے فرمانبرداربیٹے حضرت اسماعیل نے اللہ تعالی کے حکم سے خانہ کعبہ کی تعمیرمکمل فرمائی تو اللہ نے حضرت ابراہیم سے ارشاد فرمایا: اورلوگوں میں حج کی نداعام کر دیں۔( آیت 27) حضرت ابراہیم نے عرض کیا کہ اے اللہ میری آواز سب لوگوں تک کیسے پہنچے گی؟ ارشاد باری تعالی ہوا کہ تم تعمیل کرو آواز پہنچانا ہمارا کام ہے۔ حضرت ابراہیم نے پہاڑ پر چڑھ کر اعلان فرمایا اے لوگوں! اللہ تعالی کے گھر کے حج کے لئے آو۔ ان کی آواز کو اللہ تعالی نے زمین و آسمان کے درمیان تمام مخلوق تک پہنچادیا یہاں تک کہ یہ آواز باپ کی پشت اور ماں کے پیٹ تک بھی۔ مزید روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابراہیم کی آواز اللہ تعالی نے اپنی قدرت کاملہ سے ابد تک آنے والی نسل کی ارواح تک پہنچا دیا۔ جس نے اس آواز پر لبیک کہ اس کے مقدر میں جب لکھ دیا گیا۔
اس دورابرا ہیمی سے لیکر آج تک بے شمار لوگوں کو اللہ نے حج کی سعادت عطا فرمائی اور وہ اللہ کے گھر کی زیارت کر چکے ہیں۔ آج بھی جب کوئی حاجی حج کی نیت کرتا ہے تو احرام باندھتے ہی تلبیہ پڑھنا شروع کردیتا ہے۔
لَبَّيْكَ ٱللَّٰهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ ٱلْحَمْدَ وَٱلنِّعْمَةَ لَكَ وَٱلْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ
ترجمہ: میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں ، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں، سب تریفیں تیرے ہی لئے ہیں، اور تیرا کوئی شریک نہیں۔مندرجہ بالاتلبیہ پرغور وفکر کیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ ساڑھے چار ہزار سال قبل حضرت ابراہیم کے بلاوے کا جواب ہے۔ یہ کہتے ہوئے کہ اللہ میں تو ہرگز اس قابل نہیں کہ اپنے گناہوں کے بوجھ سمیت تیرے دربار میں حاضر ہو سکوں بس یہ تیرا کرم ہے کہ تو نے مجھے بلالیا۔
اے اللہ ہم میں کتنے ایسے ہیں جو حاضری کے لئے تڑپتے ہیں لیکن وسائل کی کمی تیرے در تک پہنچنے نہیں دیتی اور وہ بھی ہیں جن کے پاس وسائل تو بہت ہیں لیکن تو نے ان کے نصیب میں حاضری نہیں ۔ ان ہزاروں اور لاکھوں میں میرے رب تو نے مجھے حاضری کے قابل سمجھامیں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں۔
اے اللہ یہ حج صرف تیری اطاعت اور فرمانبرداری کا نام ہے۔ تیرے حکم پر میں نے اپنے گھر کو چھوڑا، اپنے وطن سے دور نکل آیا اپنی پوشاک اتار کر صرف دو چادروں کو اپنا لباس بنا لیا .
اے اللہ میں جانتا ہوں کہ تو اپنے مجبوب بندوں سے بہت محبت کرتا ہے۔ اتنی کہ ان کی اداؤں اور نشانیوں کو ہمیشہ کے لئے محفوظ فرمادیتا ہے۔ تونے حضرت بی بی حاجرہ کے صفہ اور مردہ کے در میان دوڑنے کو اتنا پسند فرمایا کہ اس عمل کو حج کا لازمی جز بنا ڈالا۔ تو نے حضرت ابراہیم کے قدموں کے نشان کو سجد ے کا مقام اور ان کی قربانی کو مسلمانوں کے لئے تا قیامت واجب بنادیا اور تو نے اپنے پیارے محبوب محمد کے حج کی ہر ہر ادا کو حج کے معمولات کا حصہ بنادیا۔ اے اللہ مجھے بھی اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما۔
یا اللہ! ہم سب کو اپنے گھر کی حاضری نصیب فرما ئے.آمین@The_Pindiwal

ابلیس کون؟ . تحریر: محمد توقیرعباس
ابلیس کا اصلی نام "عزازیل” ہے۔ ابلیس کی کنیت "ابو قیتر” (تکبر کا باپ) ہے۔ ابلیس کے لفظی معنی ” انتہائی مایوس کے ہیں۔ اصلاحاً ابلیس اس جن کا نام ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کر کے حضرت آدم علیہ السلام کیلئے مطیع اور مسخر ہونے سے انکار کر دیا۔
ابلیس کے والد کا نام "چلیپا” اور اس کی کنیت ابو الغوی تھی۔ چلیپا کا چہرہ ببر شیر جیسا تھا وہ نہایت قدآور اور بہادر تھا۔ اس کی قوم اسے "شاشین” کے نام سے مخاطب کرتی تھی جس کے معنی دل دہلا دینے کے ہیں۔
ابلیس کی والدہ کا نام "تبلیث” یا "نبلیث” تھا۔ تبلیث کا چہرہ بھیڑیئے کی مانند تھا اور وہ بھی اپنے شوہر چلیپا کی طرح نہایت دلیر اور طاقتور تھی اس حد تک کہ قوم کے بچے بچے کی زبان پر تھا کہ تبلیث کے ہوتے ہوئے دنیا کی کوئی طاقت ہمیں زیر نہیں کر سکتی۔
ابلیس کی نسل کی ابتدا جس جن سے ہوئی اس کا نام "طارانوس” کہا جاتا ہے۔ طارانوس ابلیس سے ایک لاکھ چوالیس ہزار سال قبل دنیا پہ موجود تھا۔ طارانوس کی نسل تیزی سے بڑھی کیونکہ ان پہ موت طاری نہیں ہوتی تھی اور نہ بیماری لگتی تھی البتہ یہ چونکہ آتشی مخلوق تھی تو سرکشی بدرجہ اتم موجود تھی۔ اس جنوں کی نسل کو پہلی موت فرشتوں کے ہاتھوں پیدائش کے 36000 سال بعد آئی جس کی وجہ سرکشی تھی یہاں پہلی بار موت کی ابتدا ہوئی اس سے پہلے موت نہیں ہوتی تھی۔ بعد میں "چلپانیس” نامی ایک نیک جن کو جنات کی ہدایت کا ذمہ سونپا گیا اور وہ ہی شاہ جنات قرار پائے اس کے بعد "ہاموس” کو یہ ذمہ داری دی گئی۔ ہاموس کے دور میں ہی "چلیپا” اور "تبلیث” کی پیدائش ہوئی۔ یہ دونوں اپنے وقت کے بے حد بہادر جنات تھے اور ان کی قوم نے چلیپا کو شاشین کا لقب اس کے شیر کے جیسے سر کی وجہ سے دیا۔ ان دونوں جنات کی وجہ سے ساری قوم کہنے لگ گئی کہ ہمیں اس وقت تک کوئی نہیں ہرا سکتا جب تک شاشین اور تبلیث ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ان دونوں کی وجہ سے قوم کے جنات آسمان تک رسائی کرنے لگے اور تیسرے آسمان پر جا کر شرارت کر آتے تھے۔ ایسے میں حکم الٰہی سے فرشتوں نے ان پر حملہ کیا اور عبرتناک شکست دی۔ اسی دوران جب "عزرائیل علیہ السلام” کو ابلیس نے دیکھا تو سجدہ میں گر گیا۔
ابلیس شروع سے ہی ایک نڈراورذہین بچہ تھا اس میں باپ کی بہادری اور ماں کی مکاری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اس نے ملائکہ کے ساتھ جا کر توبہ کا باقاعدہ اعلان کیا اور پھر فرشتوں سے فیض علم حاصل کرنے لگا۔ علم حاصل کرنے اور ریاضت کا یہ عالم تھا کہ پہلے آسمان پہ "عابد”، پھر دوسرے آسمان پر "زاہد”، تیسرے آسمان پر "بلال”، چوتھے آسمان پر "والی”، پانچویں آسمان پر "تقی” اور چھٹے آسمان پر "کبازان” کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب یہ فرشتوں کو سکھاتا تھا۔ ساتویں آسمان پہ ابلیس بقع نور میں رہا۔ ہفت افلاک کے سب ملائکہ کا معلم قرار دیا گیا یہاں تک پہنچ کر ابلیس نے اپنی عاجزی اور ریاضت کی انتہا کردی۔
کم و بیش ابلیس نے چودہ ہزار سال عرش کا طواف کیا یہاں اس نے فرشتوں میں استاد/سرادر "عزازیل” کے نام سے شہرت پائی کم و بیش تیس ہزار سال مقربین فرشتوں کا استاد رہا۔ ابلیس کے درس و وعظ کی میعاد کم و بیش بیس ہزار سال ہے۔ فرشتوں کے ساتھ قیام کی مدت کم و بیش اسی ہزار سال ہے۔
ابلیس کو حکم ہوا کہ داروغہ جنت "رضوان” کی معاونت کرو اور اہل جنت فرشتوں کو اپنے علم و فضل سے بہرہ ور کرو یوں ابلیس کو جنت میں داخلے کا پروانہ مل گیا اور جنت میں بھی اپنے علم سے داروغہ جنت رضوان کو سیراب کیا اور یوں جنت رضوان کی کنجیاں ابلیس کے پاس رہیں۔ روایات کے مطابق ابلیس 40 ہزار سال تک یہ فرض خزانچی انجام دیتا رہا۔ یہی وہ مقام اعلیٰ ترین جنت رضوان ہی تھا جہاں ابلیس نے پہلی بار بادشاہت کے خواب دیکھنے شروع کیے۔ اس وقت ابلیس کے پاس ہفت اقلیم، افلاک، جنت و دوزخ سب کا اختیار تھا اور اس نے چپے چپے پہ سجدے کیے تھے۔ مگر یہاں پہ ابلیس عاجزی سے پہلی بار بھٹکا اور خود کو بادشاہ بنانے اور رب بن جانے کے خواب دیکھنا شروع کیے۔ کئی ملائکہ کے سامنے ربوبیت کی بابت بات بھی کی مگر ملائکہ کے انکار کے سبب چپ ہو گیا اور یوں نظام چلتا رہا مگر اس سب سے اللہ تعالیٰ کی ذات بے خبر نہ تھی۔
پھر آدم علیہ السلام کی تخلیق کا مرحلہ آیا جیسے قرآن مجید میں واقعات بیان ہوئے ہیں۔ ابلیس آدم علیہ السلام کو جزو جزو مرحلہ وار مختلف اقسام کی مٹی سے تخلیق ہوتا دیکھتا رہا اور چپ رہا مگر جیسے ہی اسے یہ معلوم ہوا کہ یہ آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا نائب ہے تو اس نے واویلا کیا عبادات اور اطاعت کا واسطہ دیا پھر طنز کیا کہ مجھ جتنی عبادت کس نے کی ہے اور آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکاری ہوا۔
تب اللہ تعالیٰ نے کہا نکل جا شیطان مردود۔لعنتی قرار پانے کے بعد ابلیس نے اپنی عبادات اور ریاضت کا رب کریم سے عوض مانگا جس پر اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو ایک وقت معلوم تک مہلت فراہم کی۔ جس پر ابلیس نے اولادِ آدم کو صراطِ مستقیم سے بھٹکا کر اپنا پیروکار بنانے کا دعویٰ کیا جس پر رب کریم نے فرمایا کہ جو متقی اور پرہیزگار ہوں گے تو ان کو گمراہ نہیں کر پائے گا۔
ابلیس کے اس لعنتی کام میں اس کے پانچ ساتھی ہیں۔
1۔ ثبر » اس کے اختیار میں مصیبتوں کا کاروبار ہے جس میں لوگ ہائے واویلا کرتے ہیں گریبان پھاڑتے ہیں منہ پہ طمانچے مارتے ہیں اور جاہلیت کے نعرے لگاتے ہیں۔
2۔ اعور » یہ لوگوں کو بدی کا مرتکب کرتا ہے اور بدی کو لوگوں پہ اچھا اور پسندیدہ کر کے دکھاتا ہے۔
3۔ مسوّط » یہ کزب، جھوٹ اور دروغ پہ مامور ہے جسے لوگ کان لگا کر سنیں۔ یہ انسانوں کی شکل اپنا کر ان سے ملتا ہے اور انھیں فساد برپا کرنے کی جھوٹی خبریں سناتا ہے۔
4۔ داسم » یہ آدمی کے ساتھ گھر میں داخل ہوتا ہے اور گھر والوں کے عیب دکھاتا ہے اور آدمی کو گھر والوں پہ غضبناک کرتا ہے۔
5۔ زکنیور » یہ بازاروں کا مختار ہے بازاروں میں آ کر یہ بددیانتی کے جھنڈے گاڑتا ہے۔ بازاروں میں برائیوں اور فحاشی پہ ورغلاتا ہے۔ابلیس کا آدم علیہ السلام کو سجدے سے انکار کا جزبہ حسد تھا کہ جس نے اسے مجبور کیا کہ میری جگہ آدم (خاک) کو کیوں ملی۔ یہ اس کا جزبہ تکبر اور غرور تھا کہ میں اعلیٰ ہوں اور اس ایک سجدے کے انکار کی بات نہیں تھی بات اطاعت سے سرکشی کی تھی، شرک کی تھی۔ ابلیس نے دل میں خود کو "رب” مان لیا تھا۔ اسی شرک عظیم کی بدولت ابلیس تا قیامت رسوا و لعنتی ٹھہرا اور اولادِ آدم کو بھٹکانے کیلئے آزاد قرار پایا۔
حاصل نتیجہ یہ ٹھہرہ کہ رب کریم کو انسان کی عبادات عاجزی علم و دانش سے کچھ غرص نہ ہے۔ رب کریم صرف دیکھتا ہے کہ دل میں اطاعت و فرمانبرداری کتنی ہے۔ اسی بنیاد پہ تقویٰ اور پرہیزگاری کے درجے قرار پاتے ہیں۔
منابع و ماخذ: صحیح بخاری باب الفتن و اشراط، صحیح مسلم، سنن ابن ماجہ، سنن ابی داؤد،کتاب شرح سیوطی، تفسیر کبیر امام رازی، مستدرک حاکم، کتاب حکم، نہج البلاغہ سید رضی، شرح نہج البلاغہ ابن حدید، کتاب غرر الحکم ابن ہشام، کتاب توحید شیخ صدوق
@MTaukirAbbas

عید قربان اورانسان . تحریر : شانزے علی
عید کا تہوار قریب تر ھے، ہرطرف گہما گہمی کا عالم ھے،بچے بوڑھے اورجوان سر گرم نظرآ رھے ھیں گائے، بیل، بکرے، بھیڑ، اونٹ جگہ جگہ بندھے ھوئے ھیں بچوں کا شور، بڑوں کی آوازیں اس پر جانوروں کی دوڑ اور نوجوانوں کی شرطیں۔ زبردستی چارہ کھلانے اورپانی پلانے کاجنون۔ اک عجب سا منظر ھے شاید جانور بھی سوچ رہا ھے جانور کون ھے؟؟
میرے گھر کی تیسری منزل سے کئی روز سے میں یہ مناظر دیکھتی ھوں اونٹوں کی نکیل ان کی ناک سے جڑی ھوتی ھے۔ بچے اس رسی کو بے دردی سے کھینچتے ھوئے اونٹ کو زبردستی بھاگنے پرمجبور کرتے ھیں۔ جب وہ رکتا نہیں ھے تو نکیل کو جھٹکا دے کر روکنے کی کوشش کرتے ھیں۔
کیا وہ جاندار نہیں؟ کیا اسے درد نہیں ھوتا؟ کیا قربانی سے پہلے وہ آپکا کھلونا ھے؟؟
دوسری جانب گلی میں ایک بیل ھے جو دو بار رسہ تڑوا کربھاگ چکاھے اورکل اس کی گردن پر رسہ کھینچنے کی وجہ سے زخم ھوگیا ھے۔کسی نے وجہ جانی یا سوچا؟
جب جانور کے کھیتوں یا کسی فارم ہاؤس یا ڈیری فارم سے لایا جاتا ھے نازوں سے رکھا جاتا ھے۔وقت پر کھلایا پلایا اور نہلایا جاتا ھے۔
یہاں گرمی ،غلاظتوں کا ڈھیر اس پر شور اسے تکلیف دیتے ھیں۔ پھر وہ بھاگتا ھے اور انسان عید کے گوشت کے پیچھے بھاگتا ھے۔کیا قربانی گوشت کا نام ھے؟
وہ گوشت جسے بس ذبح کرو،فریز کرو،مہینوں جمع رکھو،رشتے داروں میں شاپر بھر بھر بانٹو جو خود بھی قربانی کرتے ھیں؟؟
باربی کیوبناؤ؟ پارٹیاں اڑاؤ؟ذرا سوچئے!!کیا آپ کو عید قربان کا معنی و مفہوم معلوم ھے؟؟ اسی کی مخلوق کو درد اور تکلیف میں ڈال کر اپنا اور اپنے بچوں کا نفس خوش کر کے کیا قربان کر رھے ھیں آپ گوشت یا اپنی پیار سے پالی ھوئی چیز راہ خدا میں رضائے خدا کے لئے ؟
@RjShanzayAli_

قرآن پاک ایک مکمّل ضابطۂ حیات . تحریر : وکیل احمد خان
قرآن پاک ایک مکمّل ضابطۂ حیات ہے، جس میں زندگی کے ہر شعبے سے متعلق علم وحکمت کے اسرار پوشیدہ ہیں، لیکن اُن اسرار و رموز تک صرف صاحبِ علم و حکمت ہی پہنچ سکتے ہیں۔ ایسے ہی رازوں کو جاننے کے لیے قرآنِ پاک میں بیان کیا گیا ــ کہ’’ کیا تم غور نہیں کرتے‘‘ اس آیت کے ذریعے اللّہ پاک اپنے بندوں کو غور و فکرکی دعوت دیتا ہے، تاکہ وہ اس پر عمل پیرا ہوکر آگہی وشعورحاصل کر سکیں۔ یہاں ایک بات کا ذکر ضروری ہے کہ کسی مخصوص شعبے سے متعلق تعلیم حاصل کرلینا ہی علم نہیں ،علم بہت وسیع معنی رکھتا ہے۔ اسی لیے علم کی پیاس کبھی نہیں بجھتی، جیسے جیسے انسان علم کے سمندر میں غوطہ زن ہوتاچلا جاتا ہے، ویسے ویسے عِلم کی تشنگی بھی بڑھتی اور فکر میں وسعت پیداہوتی جاتی ہے۔تعلیم کے بغیر انسان کے عقل و شعور میں ادراک کی قوّت نہیں ہوتی۔
علم کے بغیر انسان اپنے آپ کو نہیں پہچان سکتا ، تو پھر وہ زندگی اور کائنات کی دوسری اشیاء اور حقائق کی معرفت کیسے حاصل کرسکے گا،اس لیے اسلام نے اوّل دن سے اپنے ماننے والوں کو علم کے حصول کی ترغیب دی اور نہ صرف طلبہ بلکہ معلّمین کے اعلیٰ رُتبے کا بھی تعیّن کردیا۔بہ حیثیت مسلمان ہمارے لیے رب کی معرفت اور قرآن و حدیث کے علوم کا حصول نہایت ضروری ہے۔ کیوں کہ اس کے ذریعے ہی ہم اپنے مقصدِ تخلیق کو جان سکیں گے، لیکن زندگی گزارنے اور دنیا کے قدم سے قدم ملا کر چلنے کے لیے دنیاوی علم کے حصول کی اہمیت بھی ناگزیر ہے۔تاریخ کے صفحات پلٹ کر دیکھیں، تو پتا چلتا ہے کہ علم کے ذریعے مسلمانوں نے دنیا پر حکمرانی کی ، طبیعات ہو، فلسفہ، کیمیا،ریاضی، جغرافیہ یا کوئی اور سائنسی مضمون ہرشعبے میں مسلمان سائنس دانوں نے تحقیق و عمل کے ذریعے اپنا ایک نام، ایک مقام پیدا کیا، مگر جب ہم نے اپنے اجداد کی میراث، ان کی تعلیمات کو فراموش کیا.
علم تحقیق وعمل سے دُور ہوئے، تو ہمارا زوال شروع ہوگیا، جو آج تک عروج میں نہ تبدیل ہو سکا۔ آج مغربی عوام تحقیق کے شعبے میں ہم سے کہیں آگے ہیں۔ کئی ایسے غیر مسلم سائنس دان بھی ہیں، جنہوں نے قرآن کا مطالعہ کرکے تحقیق و عمل کو آگے بڑھایا۔ ہمارے اسلاف کی لکھی گئی کتب ، ان کے نظریات کو بنیاد بنا کرمغربی اقوام دنیا میں اپنا نام بنا چُکی ہیں اور ہم محض اُن کی ایجادات سے مستفید ہورہے ہیں۔غور کرنے کی بات یہ ہے کہ مغرب برق رفتاری سے ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے تو بڑھ رہا ہے، مگر اس نےکتاب سے اپنا رشتہ نہیں توڑا۔ بس ہو یا ٹرین کا سفر، بچّوں سے لے کر بوڑھوں تک ہر کوئی کتب بینی میں مصروف نظر آتا ہے یہ الگ بات ہے کہ موبائل فون اور ٹیبلیٹ نے سب کچھ بدل دیا ہے ، جب کہ ہمیں تو اللّہ کا کلام، قر آن پاک پڑھنے تک کا وقت نہیں ملتایا یوں کہہ لیجیے کہ ہم وقت نکالنا ہی نہیں چاہتے۔
دوسری جانب اگر نصابی کتب کی بات کی جائے، تو ہمارا تعلیمی نظام کچھ ایسا ہے کہ بچّے سمجھ کر پڑھنے کے بجائے رٹّالگانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمارا علم صرف اور صرف ڈگری کے حصول تک محدود ہو چکاہے۔ حالاں کہ علم تودراصل کسی شئے کے جان لینےاور سمجھ لینے کا نام ہے۔ ہر ملک کے تعلیمی نظام میں دنیاوی، معاشرتی اور مذہبی تعلیمات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے نصابِ تعلیم ترتیب دیا جاتا ہے، مگر بد قسمتی سےہمارے ملک پاکستان میں ایسا کوئی نظام وضع نہیں کیا جا سکا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے نوجوان تعلیم یافتہ تو ہیں، لیکن تربیت یافتہ نہیں۔ نسلِ نو ،رکھ رکھاؤ بزرگوں کے ادب و احترام اور بھائی چارگی سے بہت دُور نظرآتی ہے ۔ افسوس ، صد افسوس کہ ہم انگریزی بولنے کو تو فخر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، لیکن اپنے بچّوں کوعربی زبان نہیں سکھاتےکہ جس میں کلام ِ الٰہی کا نزول ہوا ۔ ہمیں کبھی یہ خیا ل بھی نہیں آتا کہ جب تک نئی نسل قر آن مجید سمجھے گی نہیں، تب تک اُس پر بہتر طور پر عمل کیسے کرے گی؟ذرا سوچیں، اگر ہمارے بچّے عربی زبان پر بھی مہارت حاصل کرلیں ، توانہیں اللّہ تعالیٰ کے احکامات اور احادیث سمجھنےمیں کس قدر آسانی ہوجائے گی۔ چنانچہ اپنے بچوں کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی جانب ضرور راغب کیجئیے ۔ اللّہ کی خوشنودی کا سب سے بڑا ذریعہ بھی یہی ہے ۔
@ReadinWakil

اللہ تعالیٰ پر کامل یقین . تحریر : کاشف علی
اگر یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ میرا مددگار ہے اللہ تعالیٰ میرے ساتھ ہے تو پھر کوئی خوف نہیں کوئی شے اللہ تعالیٰ سے بالاتر نہیں
اگر تمام انسان مل کر تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو نہیں پہنچا سکتے اور نہ تمام انسان مل کر تمہیں کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے جب تک اللہ تعالیٰ نہ چاہے.اللہ تعالیٰ نے کسی کے ہاتھ میں تمہارا رزق، تمہاری عزت، تمہارا مستقبل، تمہاری کامیابی نہیں رکھی، سب اللہ تعالی کے پاس ہے محض وقتی فائدے کیلئے کسی کے سامنے مت جھکنا اللہ تعالی پر کامل یقین رکھو.
دیکھیں تو آج امت کی اکثریت عدم یقین کا شکار ہے دنیاوی امور سے لے کر دین کے معاملات تک ہر چیز میں مختلف قسم کے شکوک و شبہات کا شکار ہیں جبکہ بندہ مومن کی زندگی کامل یقین سے عبارت ہوتی ہے اور حکم بھی اسی کا دیا گیا ہے کہ انسان مقام یقین تک پہنچے.
ہمیں چاہیے کہ جب ہم کسی کام کو کرنے کا ارادہ کریں تو پہلے اس کے تمام پہلوں کا خوب اچھی طرح جائزہ لے اور جب کام میں لگ جائیں تو پھر اللہ سبحانہ و تعالی کی ذات پر کامل یقین رکھیں انسان کے بس میں تو کوشش کرنا ہی ہے باقی اللہ تعالی وہی کرتا ہے جو بندہ کے حق میں بہتر ہوتا ہے.
اللہ سبحانہ و تعالی ہمیں یقین کامل کی دولت عطا فرمائے ۔ آمین
@DirojayKhan1

عید قرباں اور ہمارے روئے . تحریر: آیاز محمد
عید قرباں قریب قریب ہے ۔اس موقع پر مسلمان قربانی کرکے ایک عبادت کی ادائیگی سے عہدہ برآں ہوتے ہیں ۔قربانی اپنے پس منظر میں ایک فلسفہ رکھتی ہے ۔ اس فلسفے کی روح کو باقی رکھتے ہوئے اگر یہ عبادت ادا کی جائے تو روح سرشاررہتی ہے۔لیکن اگر اسے ایک تہوار کے طور پر منایا جائے تو عبادت تو ادا ہوجائے گی ۔روح کو وہ تازگی اور سرشاری نصیب نہ ہوگی جو ایک عبادت کی ادائیگی کے بعد ہوتی ہے ۔روح پاک صاف ہو جاتی ہے ۔
ماضی قریب میں جب ہم ابھی شعور کی منزلیں طے کر رہے تھے ، ہوتا یوں تھا کہ قربانی خریدی جاتی ،گاؤں دیہاتوں میں عموما بڑے جانوروں کی قربانی ہوتی تھی ،۔ بکروں اور دنبوں کا رواج کم کم تھا، لوگ عموما اپنی استطاعت کے مطابق جانور خریدتے ،ظاہر ہے ایک عبادت کی ادائیگی کی نیت سے خریدے تو اس پرکسی قسم کا فخر و غرور نہ ہوتا تھا ، ہاں اڑوس پڑوس میں دوسروں کے جانور دیکھنے کے لئے جانے کا رواج ضرور تھا۔ عید سے تین چار دن قبل سے جانور کی خدمت شروع ہوجاتی اور عید کے دن جانور کو ذبح کردیا جاتا،لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے ۔ اب مہنگے سے مہنگا جانور خریدا جاتا ہے ۔پھر گلی محلے میں بلکہ اب تو ڈیجیٹل زمانہ آگیا ہے ۔تو شہر شہر اور ملکوں ملکوں جانوروں کی پبلسٹی ہوتی ہے ،قیمتیں بتائی جاتی ہیں ،طرح طرح کے نخرے کئے جاتے ہیں ،یوں ایک عبادت جس کی بنیاد خالص عبادت پر تھی ، ریا کاری اور فخر کی نذر ہوگئی ، لاکھوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں لیکن اصلی مقصد کو بھلا دیا جاتا ہے ۔یوں عبادت تو ادا ہوجاتی ہے لیکن وہ روح کو وہ سرشاری نصیب نہیں ہوتی ۔
اس طرز عمل کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے جو لوگ اس نعمت سے محروم ہیں ،ان کا دل پسیج کے رہ جاتا ہے ۔بڑے تو اپنی مجبوریوں کو سمجھتے ہیں وہ کسی نہ کسی طرح خود کو سنھبال لیتے ہیں لیکن گھر میں بچے بھی ہوتے ہیں ان کی فرمائشیں شروع ہوجاتی ہیں اور والدین کو پھر اپنے بچوں کی فرمائشیں کسی نہ کسی طرح پوری کرنی پڑتی ہیں ۔
پہلے ہوتا تھا کہ قربانی ہوتی ،سب گھر والے مل کر گوشت بناتے ،گوشت ہانڈی میں رکھ دیا جاتا اور باقی کا گوشت چھوٹے چھوٹے تھیلوں میں ڈال کر محلے داروں ،رشتہ داروں اور اس عبادت کی ادائیگی سے محروم لوگوں میں تقسیم ہوجاتا ،نہ فریج ہوتے تھے نہ لمبی خواہشیں نہ مہینوں مہینوں گوشت کو سنھبالے رکھنے کا رواج ، محلے میں گوشت تقسیم کرنے سے آپس کی محبتوں میں اضافہ ہوتا ، رشتہ داروں میں تقسیم کرنے سے رنجشوں ختم ہوتی ،اپنائیت کا اظہار ہوتا اور ناداروں میں گوشت تقسیم کرنے سے اس نعمت کا عملی شکر ادا ہوپاتا کہ اللہ پاک نے ہمیں نوازا اور ہم نے اللہ کی مخلوق میں تقسیم کیا ۔لیکن اب حالات بدل گئے ،اب گھر گھر فریج اورفریزر آگئے ہیں، سو جو گوشت مختلف لوگوں میں تقسیم کیا جاتا وہ اب فریج اور فریزر کے مختلف خانوں میں فریز کردیا جاتا ہے ۔ محبتیں باٹنے کا ایک موقع ہم نے اپنے ہاتھوں سے ہی گنوا دیا ہے ۔ اللہ کی مخلوق کی خدمت کا فریضہ ہم سے چھن گیا ہے، یوں عید تو وہی ہے جو سالہاں سال سے آتی رہتی ہے ، وہی کچھ کم کرتے ہیں جو سالہاں سال سے کرتے آرہے ہیں لیکن پہلے جو خوشی نصیب ہوتی تھی وہ اب نہ رہی ،وجہ ہمارے بدلتے روئے ہیں ۔
گذشتہ روز جب علاقے کی مویشی منڈی جانے کا اتفاق ہوا تو قیمتوں کا سن کر پہلے تو اپنی قربانی ہوتی دکھائی دی ،آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں ، موٹے موٹے اور فربہ جانور ، وہی منظر سامنے نظر آیا جو عام طور سے رمضان میں نظر آتا ہے کہ کھانے پینے کی ہر چیز مہنگی لیکن دوسری طرف خریداروں کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ مفت کی چیز بٹ رہی ہے اور کسی نے اپنی طاقت نہ دکھائی تو محروم رہ جائے گا ، یہی صورتحال مویشی منڈی کی تھی، ایک آدھ جانوروں پر تو ایک قسم کی بولی لگنی شروع ہوگئی تھی ،وجہ ؟وجہ صرف اور اچھا جانور لے جاکر فخر کا اظہار ،نتیجہ یہ ہے کہ قیمتیں پہنچ سے دور ہوتی جاتی ہیں اور پھر ہم رونا روتے رہتے ہیں کہ مہنگائی زیادہ ہوگئی ہے ۔بنیادی طور مہنگائی کی ایک وجہ ہمارا رویہ بھی ہے ۔
ہمارے دین کی سب سے اہم خاصیت یہ ہے کہ اسے معتدل دین قرار دیا گیا کہ ہر معاملے میں میانہ روی اختیار کریں ، لیکن ہمارے رویے ہر گز میانہ رو نہیں ، ہم دیکھا دیکھی ،مقابلے اور اپنی ناک اونچی رکھنے کے لئے ہر حد کو پار کرتے ہیں ، یہ انداز عبادات میں بھی پسندیدہ نہیں ، یہی وجہ ہے کہ ہم عبادات تو کرتے ہیں لیکن وہ عبادات روح سے خالی ہوتی ہے ۔ ہمیں اپنے ان رویوں پر غور کرنا ہوگا ۔عید قرباں کے موقع پر جہاں جانور کی قربانی کرتے ہیں وہی اپنے نفسانی خواہشات کی قربانی بھی کریں تو اس قربانی سے روح کو سرشاری ملے گی۔
Twitter | @_SyedAyaz

فلسطینی اور صہیونی ریاست.تحریر: سدرہ سجاد
اسرائیل کا قیام صریحاً ایک ناجائز اور زیادتی پر مبنی عالمی پردھان منتریوں کا مکروہ فعل ہے، یہ ایسے ہی ہے کہ کوئی ہمارے مکان کے ایک حصے پر زبردستی قبضہ جمالے اور پھر کہے کہ مجھے اپنا پڑوسی مان لو اور میرے حقوق ادا کرو۔ اسرائیل کا قیام ایک ناجائز پیدائش بنی جو بانی جس کو پاکستان کے قیام تک نا تسلیم کرنے کی قائد اعظم محمد علی جناح کی خارجہ پالیسی رہی ہے جو آج تک قائم ہے۔ پہلی عالمی جنگ جس میں خلافت اسلام کو نشانہ بنایا گیا اور تھیوڈر ہیزل نے یہودیوں کے لیے فلسطینی زمین دینے پر خلیفہ عبدلحمید ثانی رحمۃ اللہ کو انعامات کی پیشکش کی مگر عثمانی خون نے زوال کو تسلیم کرلیا مگر یہ ذلت قبول نہ کی۔ اسرائیل کا قیام نہ صرف مسلمانوں بلکل عالمی امن کے لیے رستہ زخم ہے، دہشت گردی کے مراکز اور معیشت کے تمام زخائر اسرائیل کے شکنجے میں ہیں اور عالمی میڈیا اسرائیل کی لونڈی کا کردار ادا کررہی ہیں کہ جھوٹی خبریں اور افواہیں اس سرعت کے ساتھ پھیلا رہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
فلسطینیوں کو اللہ حکمت دے کہ وہ آج تک اسرائیل کی بربریت کے سامانے چٹان بن کھڑے ہیں فلسطینیوں کی چوتھی نسل ہے جو یہود کا مقابلہ ایمان کیساتھ کررہی ہیں۔ ہر 2، 3 سال بعد اسرائیل اپنے ذاتی اور ریاستی مفادات کی تکمیل کے لیے مظلوم فلسطینیوں کے گھر اور زندگیوں پر میزائل اور دھماکے داغتے ہیں لیکن آج تک فلسطینیوں نے اپنے ایمان پر سودا نہیں کیا اور ہمت اور استقامت کیساتھ قبلہ اول کی حفاظت پر معمور ہیں۔ فلسطینیوں کا امت مسلمہ پر خاص احسان ہے کہ وہ عالمی امن کے دشمنوں کیساتھ طویل اور تاریخ ساز جنگ کررہے ہیں۔ قبلہ اول کی اس ے لوث محبت کے بارے خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:بہت قریب ہے کہ ایک شخص کے پاس اس کے گھوڑے کی رسی کے برابر ایسی زمین کا ہونا جہاں سے اس کی نظر بیت المقدس پر پڑتی ہو ؛ اس کیلیے تمام دنیا سے بہتر ہو گا۔ (مستدرك الحاكم)
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اقوام متحدہ جیسا ادارہ بھی کئی نشتیں کرچکنے کے باوجود بھی ابھی تک کوئی واضح پالیسی نا بنا سکا، 1948 سے 1967 تک اور اب حال ہی میں اقوام متحدہ کی افواج کے باوجود اسرائیل امن معاہدہ توڑ فلسطینی آبادی میں گھس گیا اور مسجد الاقصیٰ میں فساد کرنے لگا۔ نا عالمی طاقتوں نے اس پر غور کیا اور نا اسرائیل نے کوئی عالمی معاہدوں پر عمل کیا۔@de10thless

قربانی واجب ہونے کی شرائط . تحریر : عنصر اعوان
قربانی کا فریضہ عید الاضحی کے دن حضرت ابراہیم ؑ کی اس عظیم ترین اطاعت خدا وندی کی مثال کی یاد گار کے طور پر ادا کیا جاتا ہے جس کے تحت خلیل اﷲ (اﷲ کے دوست) لقب پانے والے اس حق و صداقت کے علمبر دار پیغمبر ؑ نے اپنی ہزاروں دعائوں اور تمنائوں کے بعد پیدا ہونے والے پیارے بیٹے کو حکم خداوندی سے اﷲ کی راہ میں قربان کرنے کا ارداہ کر لیا تھا۔ قربانی کا مطلب ہے اﷲ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرنا جب کہ شرعی اصطلاح میں اس کا مطلب عبادت کی نیت سے ایک خاص وقت میں حلال جانور کو اﷲ کی راہ میں قربان کرنا یا ذبح کرنا ہے۔یہ خاص وقت10ذی الحج کی صبح یعنی اشراق سے شروع ہوتا ہے اور 12ذی الحج کی عصر تک رہتا ہے۔ نماز عید سے قبل قربانی نہیں ہوتی ۔ اس کیلئے افضل تاریخ 10 ذی الحج ہی ہے۔
واضح رہے کہ قربانی ہراُس عاقل، بالغ، مقیم، مسلمان، مرد اورعورت پرواجب ہے جو نصاب کا مالک ہے ، یا اس کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اتنا سامان ہے، جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے، یعنی ساڑھے سات تولہ سونا (87.4875گرام ) یا ساڑھے باون تولہ چاندی (612.4125گرام ) یا اس کی قیمت کے برابر رقم ہو ، یا رہائش کے مکان سے زائد مکانات یا جائیدادیں وغیرہ ہوں، یا ضرورت سے زائد گھریلو سامان ہو ، جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، یا مالِ تجارت، شیئرز وغیرہ ہوں تو اس پر ایک حصہ قربانی کرنا لازم ہے ۔ (تجارتی سامان خواہ کوئی بھی چیز ہو، اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے تو اس کے مالک پر بھی قربانی واجب ہوگی ۔)
نیز قربانی واجب ہونے کے لیے نصاب کے مال ، رقم ، یا ضرورت سے زائد سامان پر سال گزرنا شرط نہیں ہے، اور تجارتی ہونا بھی شرط نہیں، ذوالحجہ کی بارہویں تاریخ کے سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے مالک ہوجائے تو اس پر قربانی واجب ہے، چنانچہ اگر قربانی کے تین دنوں میں سے آخری دن (۱۲ذی الحجہ) کو بھی کسی صورت سے نصاب کے برابر مال یا ضرورت سے زائد سامان کا مالک ہوجائے تب بھی اس پر قربانی واجب ہے ۔ بنا بریں جس کے پاس رہائشی مکان کے علاوہ زائد مکانات موجود ہیں ، ضروری مکان کے لیے پلاٹ کے علاوہ دیگر پلاٹ ہیں ، ضروری سواری کے علاوہ دوسری گاڑیاں ہیں، خواہ یہ سب تجارت کے لیے ہو یا نہ ہو ، بہر حال ایسا شخص قربانی کے حق میں صاحبِ نصاب ہے ، اور اس پر قربانی کرنا شرعاً واجب ہے ۔
نیزواضح رہے کہ ایسا شخص گھر میں ایک ہو یا ایک سے زائد ، درج بالا شرائط کی موجودگی کی وجہ سے اگر ایک گھر میں متعدد صاحبِ نصاب لوگ پائے جاتے ہوں تو سب پر علیحدہ علیحدہ قربانی کرنا واجب ہے ، اور ایسی صورت میں از روئے شرع ایک ہی قربانی سارے گھر والوں کی طرف سے کافی نہیں ہوگی۔
@A_Awan11








