Baaghi TV

Category: مسلم دنیا

  • خلیفہ دوم، مُرادِ رسولﷺ سیدناعمرفاروق رضی اللہ عنہ . تحریر : محمد معوّذ

    خلیفہ دوم، مُرادِ رسولﷺ سیدناعمرفاروق رضی اللہ عنہ . تحریر : محمد معوّذ

    پیغمبر آخر و اعظم، سرورِکونین،امام الانبیاء، سیدالمرسلین، خاتم النبیین، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:’’ میرے صحابہؓ ستاروں کی مانند ہیں، تم (ان میں سے)جس کی بھی پیروی کرو گے، ہدایت پا جائو گے۔‘‘ تمام ہی صحابہؓ عشق و محبّت کے پیکراورایثارو وارفتگی کا مقدّس نمونہ ہیں۔ تمام صحابہؓ جہاں بھرسے افضل و اعلیٰ ہیں، لیکن چند چیزوں میں مرادِ رسولﷺ، سیّدنا عمربِن خطّابؓ تمام صحابہؓ میں ممتاز ہیں، ان میں آپ کا عدل و انصاف، آپ کی رائے کا وحی اور قرآن کے موافق ہونا، آپ کی شجاعت و دلیری، اللہ اوراس کے رسول ﷺکے معاملے میں کسی کا پاس نہ کرنا، قابل فخراورشان داردینی و مذہبی خدمات، رعایا کی خبرگیری خاص طورسے قابلِ ذکر ہیں۔

    حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: بےشک، تم سے پہلے بنی اسرائیل میں ایسے لوگ بھی ہوتے تھے، جنہوں نے اللہ سے صرف ہم کلامی کا شرف پایا، لیکن وہ نبی نہ ہوئے، میری امت میں اگرکوئی ایسا (نبی) ہوتا تو وہ عمرؓہوتے۔ (صحیح بخاری )

    رسول اللہ ﷺنے یہ بھی ارشادفرمایا: اگر میرے بعد کوئی نبوت کا مقام پا سکتا تو وہ حضرت عمرؓ ہوتے۔(مستدرک حاکم) ایک اورموقع پرسرکاردوعالم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نےعمرؓکی زبان پرحق کوجاری کردیا ہے، وہ حق بات ہی کہتے ہیں۔ (مشکوٰۃ )حضرت سعدؓ بن ابی وقاص اُن دس صحابہ میں سے ہیں، جن کے جنتی ہونے کی بشارت حضور ﷺ نے دی ہے۔ وہ حضرت عمرؓ کے بارے میں کہتے ہیں: خدا کی قسم ، عمرؓ اسلام لانے میں گو ہم سے پہلے نہیں اورنہ ہی ہجرت کرنے میں ہم پر مقدم ہوئے، مگرمیں خوب جانتا ہوں کہ کس چیزکے سبب وہ ہم سے افضل ہیں، وہ ہم سے آگے اس لئے بڑھ گئے کہ وہ سب سے زیادہ دنیا سے بے تعلق تھے ۔

    (ازالۃ الخفاء )حضرت عبداللہ بن عمر و بن العاص ؓبھی رسول اللہ ﷺکے جلیل القدرصحابہؓ میں سے ہیں، حضورﷺ کی احادیث لکھنے کی سعادت آپ کو نصیب ہوئی۔ آپ حضرت عمرؓ کے بارے میں فرماتے ہیں، حضرت عمرؓ بہت جلیل القدرانسان تھے، ایک مرتبہ آپ نے حضرت عمرؓ کے لئے دعائے رحمت کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے حضور ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے بعد حضرت عمرؓ سے زیادہ خوف خدا رکھنے والا کسی کو نہیں پایا۔ (کنزالعمال )اسلام کے گلشن کوجن شہدائے اسلام نے اپنا قیمتی خون دے کرسدا بہارکیا، ان میں امیرالمومنین سیّدنا فاروقِ اعظمؓ کا اسمِ گرامی سرِفہرست ہے، آپؓ کے قبول اسلام کے لیے خود رسول اللہﷺ نے بارگاہِ الٰہی میں دعا فرمائی ’’اے اللہ، اسلام کو عمر بِن خطّابؓ، یا عمرو بن ہشام کے ذریعے عزت دے۔‘‘

    خلیفۂ دوم،مرادِ رسول ؐ، شہیدِ محراب سیدنا فاروق اعظم ؓ کا نام نامی اسم گرامی عمر ‘فاروق اعظم لقب، والد کا نام خطاب تھا۔آپ علم الانساب میں ماہرتھے، نیز آپ کا شمار قریش کے ان گنے چنے افراد میں ہوتا تھا جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ فن خطابت کے بھی ماہر تھے۔ ذریعہ معاش تجارت تھا۔ اپنی آمدنی کا بیش تر حصہ فقرا‘ غلاموں، مسکینوں، مسافروں، ضرورت مندوں پرخرچ کیا کرتے تھے۔ اپنی بہن فاطمہؓ اوربہنوئی سعید بن زیدؓ کی استقامت سے متاثرہوکرمشرف بہ اسلام ہوئے۔ یہ دراصل آپ ﷺ کی اس دعا کا اثر تھا: اے اﷲ، اسلام کو عمر و بن ہشام (ابوجہل) یا عمر بن خطاب کے ذریعے عزت عطا فرما‘‘ اسی وجہ سے آپ مراد رسول ؐ کہلاتے ہیں۔اسلام قبول کرنے والوں میں آپ کا 40 واں نمبر ہے۔ آپ کے قبول اسلام سے دین اسلام کو نئی قوت عطا ہوئی۔آپ کاشمارمہاجرین میں ہوتاہے اورآپ نے 20 افراد کی معیت میں13 نبوی میں مدینہ منورہ ہجرت کی اور قبا میں حضرت رفاعہ بن منذرؓ کے مکان میں قیام فرمایا۔

    حضرت فاروق اعظم ؓ قبول اسلام کے بعدتمام غزوات میں بنفس نفیس شریک ہوئے اورجرأت وبہادری کے جوہردکھائے۔غزوۂ بدرمیں قریش کے سرغنہ کو قتل کیا ‘غزوہ اُحد میں آخر دم تک ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ،غزوۂ خندق میں خندق کے پارکفار کے حملوں کو پسپا کیا‘ غزوۂ خیبر میں قلعہ و طیع وسالم کو فتح کرنے کے لئے حضرت صدیق اکبر ؓ کے بعد آپ کو بھیجا گیا،فتح مکہ کے موقع پرحضور اکرم ﷺ نے خواتین سے بیعت لینے پرمامورفرمایا ،غزوۂ تبوک کے موقع پراپنے گھرکا آدھا مال لاکر خدمت اقدس میں پیش کردیا۔ غرض آپ تمام غزوات میں پیش پیش رہنے والوں میں شامل تھے۔حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں: تقریباً بیس بائیس مقامات ایسے ہیں جہاں فاروق اعظمؓ کی رائے پروردگار کی منشا کے عین موافق تھی ۔خلیفہ بلافصل حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی وفات کے بعد خلیفۃ المسلمین مقرر ہوئے۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے امور خلافت چلانے کے لیے مہاجرین وانصارکی مجلس شوریٰ قائم کی۔اس حیثیت سے آپ اسلام کے شورائی نظام کے بانی ہیں۔ ملک کوآٹھ ڈویژنوں میں تقسیم کرکے ان پرحاکم اعلیٰ اورگورنرزمقررفرمائے۔ کاتب‘بکلکٹر‘ انسپکٹرجنرل پولیس‘ افسرخزانہ ‘ ملٹری اکائونٹنٹ جنرل اورجج وغیرہ کے عہدے مقررکیے۔ باقاعدہ احتساب کا نظام قائم فرمایا۔ زراعت کی ترقی کے لیے نہری نظام جاری فرمایا، تالاب اورڈیم بنوائے اورآب پاشی کا ایک مستقل محکمہ قائم فرمایا۔بنجرزمینوں کے آباد کاروں کو مالکانہ حقوق دیے۔سرونٹ کوارٹرز‘ فوجی قلعے اور چھائونیاں‘ سرائے‘ مہمان خانے اورچوکیاں قائم کرائیں۔ کوفہ‘ فسطاط‘ حیرہ اورموصل سمیت کئی عظیم الشان شہروں کی بنیاد رکھی اورانہیں آباد کیا۔ فوج اورپولیس کے نظام میں اصلاحات کیں اورانہیں منظم کیا۔ بہترین نظام عدل و انصاف قائم کیا، جوضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے۔ سن ہجری کی بنیاد رکھی۔ مساجد کے ائمہ‘ موذنین‘ فوجیوں اوران کے اہل خانہ واساتذہ وغیرہ کی تنخواہیں مقررفرمائیں۔ اس کے علاوہ مردم شماری‘ زمین کی پیمائش کا نظام‘ جیل خانے‘ صوبوں کا قیام، لاوارث بچوں کے وظیفے کا اجرا‘ مکاتب قرآنی کا قیام‘ نمازتراویح کا باقاعدہ آغاز وغیرہ

    آپ رضی اﷲ عنہ کے دورخلافت کی یادگاریں ہیں۔ حضرت عمرفاروقؓ نے بائیس لاکھ مربع میل پرحکومت کی اورآپ کی مدت خلافت تقریباً ساڑھے تیرہ سال بنتی ہے۔ عراق اورشام پر لشکرکشی کرکے اسلام کا علم لہرایا۔ ایک لشکر بھیجا، جس نے مجوسیوں کوعبرت ناک شکست دی اوررستم کی سازشوں کا قلع قمع کیا۔ جنگ قادسیہ کے تین کامیاب معرکوں نے دشمن کی کمرتوڑکررکھ دی‘ ان کی قیادت حضرت سعد بن ابی وقاص‘ نعمان بن مقرن اورقعقاع بن عمروالغفاری رضی اﷲ عنہم نے کی۔ جنگ نہاوند آپ رضی اللہ عنہ کی خلافت میں لڑاجانے والاآخری معرکہ تھا ،جس نےدشمن کی کمر توڑکررکھ دی۔ دمشق‘ اردن‘ حماۃ‘ شیراز‘ معرۃ النعمان‘ بعلبک‘ حمص‘ شام کا اکثرحصہ‘ بیت المقدس اوراس کے آس پاس کے علاقے‘ مصر، فسطاط‘ اسکندریہ‘ قیساریہ‘ آذربائی جان‘ طبرستان‘ کرمان‘ مکران اورخراسان وغیرہ آپ رضی اﷲ عنہ کے دورخلافت میں فتح ہوئے۔ ایران کااکثرحصہ چوں کہ آپ کے دورخلافت میں فتح ہوا، جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے جذبہ انتقام کوسرد کرنے کے لیے آپ رضی اﷲ عنہ کے قتل کی سازش تیارکی۔

    مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کےپارسی غلام ابولولوفیروزمجوسی نے نماز فجرکی پہلی ہی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے فوراً بعد زہر سے بجھے ہوئے خنجر سے مرادِ رسول ﷺ پروار کیا۔ وصیت کے بہ موجب حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے نماز مکمل کرائی۔ تین روززخمی حالت میں رہ کریکم محرم الحرام 24ھ میں63 برس کی عمر میں آپ رضی اﷲ عنہ نے جام شہادت نوش فرمایا۔ حضرت صہیب رومی رضی اﷲ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ روضہ رسول ﷺ میں حضور اکرم ﷺ اورحضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پہلو میں آرام فرما ہیں.

    @muhammadmoawaz_

  • ‏عید، قربانی کے مسائل اورفضائل .  تحریر: محمد بلال اسلم

    ‏عید، قربانی کے مسائل اورفضائل . تحریر: محمد بلال اسلم

    قربانی کا حکم، قربانی کرنا واجب ہے، رسول اللہ نے ہجرت کے بعد ہرسال قربانی فرمائی کسی سال ترک نہیں کی۔ جس عمل کو حضور نے لگاتارکیا اورکسی سال بھی نہ چھوڑا ہو تو یہ اُس عمل کے واجب ہونے کی دلیل ہے۔ علاوہ ازیں آپ نے قربانی نہ کرنے والوں پر وعید ارشاد فرمائی۔ حدیث پاک میں بہت سی وعیدیں ملتی ہیں، مثلاً: آپ کا یہ ارشاد کہ جو قربانی نہ کرے، وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے۔ علاوہ ازیں خود قرآن میں بعض آیات سے بھی قربانی کا واجب ہونا ثابت ہے۔

    قربانی کس پرواجب ہے جس شخص پرصدقۂ فطرواجب ہے، اُس پرقربانی بھی واجب ہے…یعنی قربانی کے تین ایام کے دوران اپنی ضرورت سے زائد اتنا مال یا اشیا جمع ہوجائیں کہ جن کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو تو اس پر قربانی لازم ہے.
    قربانی کے فضائل نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قربانی کے دنوں میں قربانی سے زیادہ کوئی چیز ﷲ تعالیٰ کو پسند نہیں، ان دنوں میں یہ نیک کام سب نیکیوں سے بڑھ کرہے اورقربانی کرتے وقت خون کا جو قطرہ زمین پرگرتا ہے تو زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی ﷲ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوجاتا ہے (مشکوٰۃ) ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ’’ قربانی تمہارے باپ ( ابراہیمؑ) کی سنت ہے۔صحابیؓ نے پوچھا، ہمارے لیے اس میں کیا ثواب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ایک بال کے عوض ایک نیکی ہے۔ ( مسند احمد )

    عید کے دن کے مسنون اعمال۔ صبح سویرے اُٹھنا، غسل کرنا، مسواک کرنا، پاک اور صاف کپڑے جو اپنے پاس ہوں پہننا، خوشبو لگانا، نماز سے پہلے کچھ نہ کھانا، عید گاہ کو جاتے ہوئے راستہ میں بآوازِ بلند تکبیرکہنا۔

    عید کی نماز پڑھنے کا طریقہ، نمازعید دو رکعت ہیں۔ نمازعید اوردیگر نمازوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ اس میں ہر رکعت کے اندر تین تین تکبیریں زائد ہیں۔ پہلی رکعت میں ’’سبحانک اللّٰہم ‘پڑھنے کے بعد قراءت سے پہلے اور دوسری رکعت میں قراءت کے بعد رکوع سے پہلے۔ ان زائد تکبیروں میں کانوں تک ہاتھ اٹھانے ہیں۔ پہلی رکعت میں دو تکبیروں کے بعد ہاتھ چھوڑدیں، تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ لیں۔ دوسری رکعت میں تینوں تکبیروں کے بعد ہاتھ چھوڑ دیئے جائیں، چوتھی تکبیر کے ساتھ رکوع میں چلے جائیں۔ اگر دورانِ نمازامام یا کوئی مقتدی عید کی زائد تکبیریں یا ترتیب بھول جائے تو ازدہام کی وجہ سے نماز درست ہوگی، سجدۂ سہو بھی ضروری نہیں۔ اگرکوئی نماز میں تاخیرسے پہنچا اورایک رکعت نکل گئی تو فوت شدہ رکعت کو پہلی رکعت کی ترتیب کے مطابق قضاء کرے گا، یعنی ثناء سبحانک اللّٰہم کے بعد تین زائد تکبیریں کہے گا اورآگے ترتیب کے مطابق رکعت پوری کرے گا.

    @BilalAslam_2

  • قیام پاکستان میں علمائے کرام کا کردار . تحریر: سیدعمیرشیرازی

    قیام پاکستان میں علمائے کرام کا کردار . تحریر: سیدعمیرشیرازی

    علماء انبیاء کے وارث ہیں، یہ بات صحیح احادیث سے ثابت ہے، سننِ ترمذی، سننِ ابن ماجہ، صحیح ابنِ حبان ودیگرکتبِ حدیث میں حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کی ایک طویل حدیث کا ایک جملہ "و إن العلماء ورثة الأنبياء” ہے،”سنن الترمذي” کی روایت کے الفاظ یہ ہیں۔

    لیکن ہماری بدقسمتی تودیکھیں اس حدیث کا انکارکررہے ہوتے ہیں اورعلماء کرام پربےجا تنقید بلکہ ذاتیات پرجا کرانکا مذاق اڑانے کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیتے بات ہورہی ہے پاکستان کے قیام میں علماء کا کردار جب سرسید احمد خان نے دوقومی نظریے "Two Nation Theory” کی بنیاد رکھی اورانہیں یہ محسوس ہوگیا تھا مسلمان اورہندو ایک ساتھ نہیں رہ سکتے دونوں کے مذہب ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں مسلمان اللّه کے ماننے والے اورہندو بتوں کے پجاری ہیں۔

    جب قائد اعظم محمد علی جناح نے چودہ اگست 1947 کے دن کا آزادی کا اعلان کیا تو ہندوؤں نے مسلمانوں پرتشدد کی کارروائیاں شروع کردیں اوردیکھتے ہی دیکھتے برصغیر جسے subcontinent کہا جاتا تھا وہاں ہرطرف مسلمانوں پرظلم وستم ڈھایا گیا، پھرمسلمانوں نے پاکستان ہجرت شروع کی اس ہجرت کے دوران لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اورانہی جانوں میں علماء کرام کی ایک بڑی تعداد شامل تھی اورتاریخ کی کتابوں میں یہ بات درج ہے کہ اس وقت کے علماء حق (علماء دیوبند) کے بیس لاکھ علماء کرام نے بھی اپنی جانیں قربان کی اس ملک کی بقاء کیلئےعلماء کو زندہ قبروں میں ڈالا گیا زندہ جلایا ہرطرح کا ظلم کیا گیا تھا.

    قائداعظم رح کی محنت کے ساتھ ساتھ علماء کی بھی لازوال قربانیاں تھی جس کے بعد یہ پاک دھرتی باب الاسلام ہمیں ملا علمائے کرام کی لازوال قربانیوں کو ہم بھول نہیں سکتے اورسب سے التجا بھی ہےعلماء پرتنقید کرنے سے پہلے یہ ضرورسوچیں علماء کون ہیں کل روز محشرمیں جب ہم اللّه کے ہاں پیش ہونگے تو انبیاءؑ کی صفوں میں چالیس صفیں علماء کی ہونگی یہ شان ہے علماء کی اورآج ہم کتنی آسانی سے کسی عالم دین کا دنیا والوں کے سامنے مذاق بنا دیتے ہیں کیا ہمیں مرنا نہیں ہے ؟؟ موت تو برحق ہے کل ہم کس منہ سے حضورﷺ کے سامنے پیش ہونگے یہ سوچیں ذرا اورخدارا آج سے اللّه کے حضورمعافی مانگیں بیشک اللّه رحمن و رحیم ہے۔

    @SyedUmair95

  • ‏اسلامی معاشرہ اور جدیدیت . تحریر: عزیز بونیری

    ‏اسلامی معاشرہ اور جدیدیت . تحریر: عزیز بونیری

    انسان نے یقینا ہردورمیں کوشش کی ہے کہ اس کی اجتماعی معاشرتی زندگی مستحکم رہے۔ جب حیاتِ انسانی کے ارتقا پرنظر ڈالیں تو ہمیں اِس کا رخ اجتماعیت کی طرف ہی نظرآتا ہے۔ تاریخ انسانی نے مختلف معاشرے تشکیل دیئے اورگردشِ زمانہ نے مختلف معاشروں کو پیوند خاک بھی کیا جب وہ اجتماعی طورپرفطرت کے خلاف چلیں، جب وہ قانون قدرت کوتوڑکراس کی نافرمان و گستاخ بنی اورخدا کے متعین کردہ اصولوں سے انحراف کیا ۔ بنی نوع انسان کو انفرادی بدعملی کی سزا دنیا میں نہیں ملتی اس کا حساب کتاب آخرت میں ہے مگر جب قومیں اجتماعی طورپربدعمل ہوجائیں تو اس کی سزاء دنیا ہی میں مل جایا کرتی ہے۔ جب قوموں میں بد عملی، بد خلقی، غفلت، بے راہ روی اجتماعی طورپرگھرکرجاتی ہے تو تباہی وبربادی اس کا مقدربن جاتی ہے اورتاریخ نے ایسے کئی مناظردیکھے بھی ہیں۔ قرآن کریم نے بھی مختلف قوموں کی تباہی کا ذِکر کیا ہے جن میں اخلاقی خرابیاں اجتماعی طورپرگھرکرگئی تھیں۔

    ہم تاریخ کے سبھی ادوار کھنگال کراس نتیجہ پرپہنچتے ہیں کہ بحیثیت مجموعی انسان کی معاشرتی زندگی میں بگاڑغالب رہا اوراصلاح کے بہت کم آثار دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اسی مجموعی بگاڑ کے نتیجہ میں قومیں زوال پذیرہوئیں اوراپنے انجام کو پہنچیں۔ جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ھیں توہم دیکھتے ہیں کہ قدرت قوموں کے عروج وزوال اور تباہی و بربادی کے قوانین کے اطلاق میں قوموں کے درمیان فرق نہیں کرتی، جو قوانین یہود و نصاریٰ کیلئے ہیں وہی امتِ مسلمہ کیلئے ہیں، جو اصول اہل باطل کیلئے ہیں وہی اہل حق کیلئے ہیں، جو ضابطے اہل کفر کیلئے ہیں وہی اہل ایمان کیلئے ہیں۔

    اس وقت ملت اسلامیہ کئی بڑے بڑے فتنوں اورصدموں میں گھری ہے۔ ہربڑا فتنہ چاہے وہ ملکی سطح پرہو یا عالمی سطح پر، سقوطِ بغداد ہو یا سقوطِ اندلس یا خلافت ِعثمانیہ کا خاتمہ ہویا مسئلہ فلسطین اورکشمیرکا، مشرقی تیمورہو یاچیچنیا، بوسینیا، کوسوؤ، سرب اوربرمی مسلمانوں کی نسل کشی ہو یا افغانستان وعراق، شام، لیبیا کی مسماری یا ہندوستان میں اٹھتے مسلم کش فسادات ہوں، یہ سب امتِ مسلمہ کی جدید معاشرتی، سائینسی اوراخلاقی نظام سے دوری کا نتیجہ ھے۔

    یہ سوال بارباراٹھایا جاتا ھے، کیا مسلمان کبھی 21 ویں صدی میں اصلاح اورجدیدیت اختیارکرسکیں گے اوراس میں شامل ہوسکیں گے؟

    اس کے باوجود ذیلی متن تقریبا ہمیشہ یہ ہے کہ جدیدیت کے مغربی نمونہ جس نے پروٹسٹنٹ اصلاح کے بعد تیارکیا تھا، جس نے سیکولرازم کو مضبوطی سے قبول کیا تھا اورمذہب کی پسماندگی قابل تقلید ہے. مسلمان کے پاس خود کو اسے اپنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔سولہویں صدی میں یورپ میں، کلیساؤں نے اکثر مقامی بادشاہوں اورحکمرانوں سے اتحاد کرتے ہوئے کافی دولت اورسیاسی طاقت حاصل کی تھی۔ جدید سائینس کو اپنے راستے میں رکاوٹ بننے نہیں دیا۔ لیکن مسلمان اپنی منفرد مذہبی تاریخ کی وجہ سے جدید دنیا کے بدلے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہونے کی کوششوں میں اپنے مذہب کو بطوراتحادی دیکھتے رہتے ہیں۔ اسلامی معاشرے کے علماء نے جدید سائینس کے تقاضوں سے روگردانی کرتے ھوئے جدیدیت کے بیشترایجادات کو اسلام کے منافی قراردے دیا۔ اس وجہ سے تمام امت مسلمہ آج کے جدیدیت میں پیچھے رہ گئے۔

    ایک کامیاب معاشرہ لاشعوری طورپرارتقاء کے عمل سے گزرتے ھوئے جدیدیت کو اپنے دامن میں سماتا ھے۔ جب بھی کوئی معاشرہ جمود کا شکارھوا ھے وہ تاریخ کے اوراق سے بھی مٹ جاتا ھے۔ اسلامی معاشرے کو اپنے اندر کے فرسودہ بیڑیوں سے آزاد کرنا ھوگا۔ جنہوں نے اسلام، سائینس، اقتصاد، ثقافت غرضیکہ ھرچیزکو جمود کے دھانے پرلا کھڑا کیا ھے۔ ایک اسلامی معاشرہ تب ھی کامیابی کا ضامن ھو سکتا ھے، جب وہ جدید سائنس کے جدید تقاضوں کو قبول کرتا ھے۔ جب وہ سیاسیات، اقتصادیات اورعمرانیات کو جدید تقاضوں کے ساتھ تسلیم کرتا ھو۔

    @azizbuneri58

  • اسلام اوردنیا کے دوسرے مذاہب میں فرق . تحریر: سید عمیرشیرازی

    اسلام اوردنیا کے دوسرے مذاہب میں فرق . تحریر: سید عمیرشیرازی

    بات اگرکی جائے اسلام غالب آنے سے پہلے کی تو دنیا کا ایک الگ رنگ دیکھنے کو ملے گا جب اسلام کا غلبہ نہیں تھا تو دوسرے مذاہب میں انسان کو انسان نہیں سمجھا جاتا تھا بالخصوص خواتین کوتو کوئی اہمیت نہیں ملتی تھی عورت کو استعمال کرنے والی مشین سمجھتے تھے یہی نہیں بلکے عورت کے حقوق بھی انکو حاصل نہ تھے ایسے میں دین محمدی کا عروج آیا اورپوری دنیا پراسلام نے غلبہ حاصل کیا۔

    اسلام کے آتے ہی شریعت محمدی نافذ ہوئی دیکھتے ہی دیکھتے دوسرے مذاہب کے لوگ جن میں کفارومشرکین جوک درجوک اسلام میں داخل ہوتے چلے گئے اورآتے بھی کیوں نا اسلام ہے ہی رواداری، تقوی والا مذہب جس میں غیرمسلم کو بھی انکے حقوق حاصل تھے اسلام ہمیشہ پیارمحبت کا درس دینے والا مذہب ہے اوراسکی کھولی مثال فتح مکہ کا واقعہ ہے میں اس کی ڈیٹیل میں نہیں جاؤں گا لیکن اتنا ضرور کہوں گا اسلام جیسا امن والا مذہب پوری دنیا میں نہیں ہے.

    یہود و نصاریٰ آج پوری دنیا میں اسلام مخالف مہم چلاتے ہیں کبھی گستاخانہ خاکوں کی شکل میں تو کبھی کوئی فلم کی شکل میں مسلمانوں کو تکلیف دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن انہیں یہ نہیں معلوم ہم اس مذہب کے پیروکار ہیں جس میں ہمارے پیارے نبی محمد عربی امام الانبیاءؑ خاتم المرسلین سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دینی محنت دعوت و تبلیغ شامل ہے اللہ پاک سے دعا ہے ہم روزے قیامت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت و زیارت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    آمین ثم آمین.

    @SyedUmair95

  • اسلاموفوبیا کا بڑھتا ہوا خطرناک رحجان  اور اقوام متحدہ .تحریر: محمد زمان

    اسلاموفوبیا کا بڑھتا ہوا خطرناک رحجان اور اقوام متحدہ .تحریر: محمد زمان

    مغرب میں اسلاموفوبیا کے رحجان میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ مذہبی تعصب کی بنا پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے بھی کینیڈا کے علاقے سکاٹون میں دو سفید فام افراد نے حملہ کر کے ایک پاکستانی محمد کاشف کو شدید زخمی کر دیا۔ ان کے بازو پر گہرے زخم آئے اور 14 ٹانکے لگے۔ حملہ آوروں نے محمد کاشف کی داڑھی بھی کاٹ دی۔ واضح رہے کہ دو ہفتے قبل بھی کینیڈا کے شہر سینٹ البرٹ میں دو مسلمان خواتین پر حملہ کیا گیا تھا۔ چاقو بردار شخص نے خواتین کو دھکے دئیے ، ان پر نسلی جملے کسے ، پھر حجاب سے کھینچ کر نیچے گرا دیا۔ حملے میں ا یک خاتون زخمی بھی ہوئی تھی۔ اسی طرح کینیڈا کے دارالحکومت ٹورنٹو میں ایک مرد اور خاتون نے زبردستی مسجد میں گھسنے کی کوشش کی تھی۔ اسلاموفوبیا کی لہر پورے مغرب میں ہے تاہم کینیڈا میں ایسے واقعات کا تسلسل حیران کن ہی نہیں بلکہ مہذب دنیا کے لیے لمحہ فکریہ بھی ہے کیونکہ چند ہفتے قبل بھی کینیڈا میں دہشت گرد کی جانب سے ایک ہی خاندان کے چار افراد کو ٹرک سے روندے جانے سے جاں بحق ہونے والے افراد میں عمر رسیدہ ماں، فزیو تھراپسٹ بیٹا ، بہو اور کمسن پوتی شامل ہیں جبکہ نو برس کا پوتا شدید زخمی ہو گیا۔ 20 سالہ دہشتگرد مذہبی تعصب میں مبتلا تھا ، جسے پولیس نے گرفتار کر لیا ۔ اس پر کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ اونٹاریو واقعہ نے انہیں ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کینیڈا میں اسلاموفوبیا کے لیے کوئی جگہ نہیں ، اس نفرت کو ختم کرنا ہو گا۔۔

    اس واقعہ کی کینیڈا سمیت پوری دنیا میں شدید مذمت کی گئی جبکہ کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اس وقت کہا کہ یہاں اسلاموفوبیا کی کوئی گنجائش نہیں۔ لیکن اس کے بعد تسلسل سے ایسے واقعات کا ہونا افسوسناک ہے۔ دنیا میں پر امن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے ایسے واقعات پر قابو جانا ضروری ہے۔ کینیڈا سمیت دنیا کے جس کونے میں بھی اسلاموفوبیا کی لہر موجود ہے اس کے آگے مکمل بند باندھنے کی ضرورت ہے اور یہ کام صرف بیانات سے ممکن نہیں۔ بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے مغربی ممالک کے حکمران اور ادارے جتنا دبائو پاکستان پر ڈالتے ہیں اس کی معمولی سی ذمہ داری انہیں خود بھی لینی چاہیے اور اپنے ممالک میں بڑھتی ہوئی فکری شدت پسندی پر قابو پانا چاہیے۔ دنیا میں تو پہلے ہی تہذیبوں کے تصادم کے خطرات موجود ہیں ۔ ایسے واقعات ان کو ہوا دے سکتے ہیں، لہذا کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کا فرض بنتا ہے کہ وہ کینیڈا کا سافٹ امیج دنیا میں برقرار رکھنے کے لیے اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے خطرناک نظریات و رحجانات کو بھرپور جذبہ انسانیت کے ساتھ کچل کے رکھ دیں ، ورنہ پانی سر سے گزر گیا تو سب کچھ لاحاصل رہے گا۔کینیڈا میں مقیم خاندان کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا اس میں مسلمانوں سے نفرت جھلکتی نظر آتی ہے۔ ایسے حملے کافی عرصے سے مغربی ممالک میں ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا واقعہ مغربی ممالک میں بڑھتے اسلاموفوبیا کو ظاہر کرتا ہے۔ اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے عالمی برادری کو اجتماعی کوششیں کرنا ہونگی۔

    وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کی طرف سے اس حملے پر ردعمل اسلاموفوبیا کے خلاف مثبت سوچ کا اظہار ہے۔ ایسی سوچ مغربی معاشرے کی طرف سے اجتماعی اور متفقہ طور پر سامنے آئے تو بین المذاہب ہم آہنگی کی طرف پیشرفت ہو گی۔ مسلمانوں پر شدت پسندی کا ملبہ ڈالنے والوں کو حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے اپنی سوچ بدلنا ہو گی۔ اس حوالے سے مسلم ممالک کو بھی اسلام کے بارے میں پیدا کی گئی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے موثر اور فعال پلیٹ فارم پر کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔پوری دنیا میں اسلامو فوبیا کی لہر میں بڑی شدت آئی ہے۔ حتی کہ مہذب کہلانے والے اور اپنے ملک اور معاشروں میں تحمل و برداشت کو فروغ دینے کے دعویدار بھی اسلامو فوبیا میں کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے واقعات گزشتہ کئی ماہ سے پے درپے ہو رہے ہیں۔ اسلاموفوبیا کی بنا پر مساجد میں گھس کر نمازیوں کو شہید کیا گیا۔ شاپنگ مالز میں آنے والوں کو مذہبی منافرت اور تعصب کا نشانہ بنایا گیا۔ سڑک کنارے کھڑی فیملی کو ٹرک تلے روند دیا گیا۔ الغرض جہاں بھی موقع ملا، اسلام دشمنی کا مظاہرہ کیا گیا جس سے پورے عالم اسلام میں سخت تشویش پائی جا رہی تھی جس پر پاکستان نے دیگر اسلامی ملکوں سے مل کر او آئی سی کے پلیٹ فارم سے آواز اٹھائی اور اسلامو فوبیا کا معاملہ جنرل اسمبلی تک لے گئے جس پر پاکستان کی کوششوں کو کامیابی ملی اور بالآخر جنرل اسمبلی نے اقوام متحدہ کی انسداد دہشت گردی کے حوالے سے عالمی حکمت عملی میں مذہبی اور نسلی امتیازات کی بالواسطہ یا بلا واسطہ اقسام کے خاتمے اور اس بنیاد پر دہشت گرد گروپوں کی جانب سے نفرت اور تشدد پھیلانے کے عمل کو روکنے پر بھی زور دیا اور اقوام متحدہ سے کہا کہ وہ ایسے شدت پسندوں اور اسلام مخالف سرگرم دہشت گرد گروپوں سے لاحق خطرات کے بارے میں رپورٹ جاری کرے۔اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے، لیکن بدقسمتی سے گزشتہ کئی دہائیوں سے منظم سازش اور باقاعدہ منصوبہ بندی دہشت گردی کو اسلام سے نتھی کیا جاتا رہا ہے حالانکہ کئی اسلامی ملک بالواسطہ یا بلاواسطہ دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں جبکہ دوسری طرف اسلام نے نہ صرف ہشت گردی بلکہ مذہب کی بنیاد پر کسی سے تعصب اور نفرت کی بھی مذمت کی ہے۔ امید ہے کہ جنرل اسمبلی کے ریمارکس پر اقوام متحدہ کے عملدرآمد کرانے کے حوالے سے اسلامو فوبیا کا بڑھتا ہوا خطرناک رجحان اپنی موت آپ مر جائے گا اسلامو فوبیا سے پیدہ شدہ دہشت گردی کے خطرات کو گلوبل سٹرٹیجی میں شامل کرنا بڑی کامیابی ہے۔۔ جنرل اسمبلی کے سنہری فیصلے کو اسلامی دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے

  • قربانی اور درد انسانیت . تحریر:حسن ساجد

    قربانی اور درد انسانیت . تحریر:حسن ساجد

    کسی حاجت مند اور مسکین کی مداد کرنا اور کسی بے سہارا کا سہارا بننا انبیاء اکرام علیھم السلام و صحابہ اکرام رضوان اللہ علیھم کی سنت ہے۔ اللہ رب العزت نے انسان کی تخلیق کے جو بڑے مقاصد بیان فرمائے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ رب العزت نے انسان کو ہمدردی، بھائی چارے، باہمی خلوص اور حسن معاشرت کو قائم کرنے کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ انسانیت سے پیار اور انسان کے درد کا درماں ہونا ایسا عمل ہے جس کے لیے اللہ پاک کے ہاں اجرعظیم ہے۔ لیکن انسانیت کی خدمت، فلاح و بہبود اور ہمدردی کے اس عمل کا سنت ابراهیمی یعنی قربانی سے موازنہ قطعی طور پر درست فعل نہیں ہے. اللہ کی رضا اور سنت حضرت ابراہیم و حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ادا کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں قربانی کرنا ایک ایسا عمل ہے جو ہر اس مسلمان پر لازم ہے جو اسکی استطاعت رکھتا ہے. اسلام اور ہماری ثقافتی روایات دشمن قوتیں ہماری نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔ یہی لوگ آج کل قربانی کے عمل کا دیگر فلاحی کاموں سے موازنہ کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ یہ لوگ میڈیا اور سوشل میڈیا پر قربانی کرنے سے روکنے کیلیے مختلف اقسام کی تاویلات پیش کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ کہتے ہیں کہ دو جس رقم سے قربانی کا بڑا سا جانور خریدنا ہے بہتر ہے کہ اس رقم سے کسی غریب کی بیٹی بیاہ دو یا اگر قربانی تو نفس کی ہے اس بار جانور قربان کرنے کی بجائے انا قربان کرو اور کسی حاجت مند کی حاجت روائی کر دو وغیرہ وغیرہ. یہ لوگ ایسے مستند دلائل اور چکنی چپٹی باتوں سے قائل کرتے ہیں کہ وہ نوجوان جو اپنی روایات اور اسلامی عقائد و نظریات سے متعلق علم نہیں رکھتے انکے مصنوعی منطق کے زیر اثر انکی بات پر یقین کرلیتا ہے۔

    میری لبرل دانشوروں، سیکنڈ ہینڈ انگریزوں اور سرخ فلاسفروں سے مودبانہ گزارش ہے کہ حضور آپ کے دل میں درد انسانیت اور مخلوق خدا سے ہمدردی کا جذبہ سر آنکھوں پر مگر اس احسن عمل کے لیے سال کے گیارہ مہینے اور بھی موجود ہیں مگر تب مجھے کبی آپ کی جانب سے ایسی کوئی دلیل یا حجت کیوں نظر نہیں آتی کہ اپنے بنک بیلنس کو سود کے ذریعے بڑهانے کی بجائے اپنا روپیہ پیسہ اور دولت غریبوں میں بانٹ دو۔ آپ نے یہ کیوں نہیں کہا کہ کسی نیشنل یا انٹرنیشنل تفریحی مقام یا Hill station پر پرآسائش چھٹیاں گزارنے سے بہتر ہے کہ اس رقم سے ان افراد کی مالی امداد کرو جن کو دو وقت کا کھانا بھی میسر نہیں ۔ آپ عیش و عشرت کی بجائے قناعت پسندی اختیار کرنے اور دولت کی تجوری پر سانپ بن کر بیٹھنے کی بجائے حاجتمندوں کی حاجات پوری کرنے کی تبلیغ کیوں نہیں کرتے؟ آپ لوگ یہ بھاشن اس وقت کیوں نہیں دیتے جب فیشن شوز اور ناچ گانوں پر کروڑوں اربوں کی رقم بے دریغ بہا دی جاتی ہے۔ تو جان لیجئے یہ لوگ سوائے ہماری اسلامی اقدار کی مخالفت کے کسی اور عمل میں ایسے مصنوعی اور ناپائدار منطقی دلائل سے بات کرتے نظر نہیں آئیں گے۔ اور ان کی جبلت میں منافقت کا مادہ اس قدر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے کہ آپ کو ان انسان دوستی کے مصنوعی ٹهیکے داروں کے اپنے تمام تر افعال اور اقوال میں ° 180 ڈگری کا تضاد نظر آئے گا . یہ لوگ تو کسی ٹهیلے والے سے سبزی تک خریدنا پسند نہیں کرتے کہ اس میں ہائی جینک پرابلم ہوگی مگر سوشل میڈیا پر انکی حرکات دیکھ کر ایک لمحے کیلیے یوں ہی گماں ہوتا ہے کہ انسانیت کی مسیحائی میں انکا کوئی ثانی ہی نہیں. برانڈڈ سوٹ بوٹ پہن کر فائیو سٹار ہوٹل میں کھانا کھاتے وقت ان کو کیوں سوچ نہیں آتی کہ کسی ڈهابے سے کھاتے ہیں جس سے کسی غریب کا چولہا جلے گا.

    اب رہی بات قربانی کی تو قربانی نہ کرنا اور اسکے بدلے امداد کر دینا بلکل ایسے ہی دکھائی دیتا ہے کہ اگر روزہ رکها ہے ہو نمازیں معاف ہیں. یعنی یہ ایک غیر فطری معائنہ ہے جس کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا ۔ لہذا قربانی کرنے کی بجائے انسانی خدمت کی ترغیب ایک سراسر غلط سوچ اور من گھڑت تاویل ہے. ہم لوگوں کی چکنی چپٹی باتوں میں آکر کیوں بھول جاتے ہیں کہ اسلام ایک مکمل ضابطئہ حیات ہے اور اس دین کامل کے ہر عمل میں انسانیت کی فلاح اور ہمدردی شامل ہے. آپ کو غور کرنے پر معلوم ہوگا کہ قربانی کے عمل میں بھی انسانیت کی فلاح اور ہمدردی کا عنصر موجود ہے شرط یہ ہے کہ اس عمل کو اسلام کے اصولوں کے مطابق سر انجام دیا جائے. اور ایک مسلمان کی حیثیت جب ہم دین اسلام کو اس کے تمام تر احکامات کے ساتھ قبول کر چکے ہیں تو مزید تحقیقات کرنا یا احکامات باری تعالی پر اپنے ذاتی افکار کو ترجیح دینا یقینی طور پر ہمیں گمراہی کی طرف لے کر جاتا ہے اور ہمارا یوں ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر احکامات رب ذوالجلال پر قیاس گناہ کے زمرے میں آتا ہے. لہذا ہمیں اس عمل سے خود بھی بچنا ہے اور دوسروں کو بھی بچانا ہے۔

    اگر معاشی پسماندگی کو دور کرنے اور حاجتمندوں کی حاجت روائی کرنے کی بات کریں تو اسلام اس عمل میں بھی سب خیالات اور نظریات پر بھاری نظر آئے گا. انفرادی عمل سے لیکر اجتماعیت تک ہر سطح پر اسکی عملی مثالیں موجود ہیں. مثال کے طور پر قربانی کا عمل معاشی طور پر بھی ایک بہترین اور احسن عمل ہے قربانی کے عمل کی بدولت سرمایہ معاشرے کے تمام طبقات میں گردش کرتا ہے جس کی بدولت ناصرف لوگوں کی انفرادی معاشی حالت میں بہتری آتی ہے بلکہ دولت کی غیر منصانہ تقسیم میں بھی کمی آتی ہے۔ قربانی کے دنوں میں غذائی قلت کم ہو جاتی ہے اور ایسے بہت سے خاندانوں کو بھی بہتر کھانا میسر آتا ہے جو سال بھر میں شاید ہی کسی روز پیٹ بھر کر کھاتے ہوں گے۔ اسلام نےمعاشرے میں معاشی توازن قائم کرنے کے جو اصول ہمارے سامنے رکھے ہیں ہم ان پر عمل پیرا ہوکر آسانی سے اپنے معاشرے میں معاشی استحکام لا سکتے ہیں اور غربت سے مکمل طور پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نجات حاصل کر سکتے ہیں.
    ان ساری باتوں کے باوجود بھی اگر آپ کا کاں (کوا) چٹا ہی ہے اور آپ کی سوچ کا پہیہ اسی بات پر جام ہے کہ انسانیت کی خدمت کا صلہ زیادہ ہے تو ایسا کریں قربانی تھوڑی کم رقم کی کر لیں اور باقی رقم بچا کر دیگر فلاح انسابیت کے کاموں پر خرچ کرکے اپنے من کو شانتی بخشیں.

  • کیا ایران کے صدر کے پاس اختیارات ہوتے؟   "تحریر :فصیح حیدر”

    کیا ایران کے صدر کے پاس اختیارات ہوتے؟ "تحریر :فصیح حیدر”

    1979کے انقلاب کے بعد ایران میں 12 بار صدارتی انتخابات ہو چکے ہیں اور 18 جون 2021 کو ایران میں تیرہویں صدر کے لیے الیکشن ہوئے جس میں ایران کے چیف جسٹس جناب ابراہیم رئیسی نے واضح اکثریت حاصل کرلی۔ ایران کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ، ایران کا صدر کوئی چیف جسٹس ہو۔ ایران میں کئی سالوں سے الیکشن ہو رہے ہیں اور مختلف لوگ صدر کی حیثیت سے منتخب بھی ہو تے چلے آرہے ہیں لیکن اصل مدعے بحث یہ نہیں ہے کہ کون ایران کا صدر بنتا ہے، بنیادی بات تو ایران کے سیاسی نظام کو سمجھنا ہے۔ اگر ہم ایران کے سیاسی نظام کو سمجھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ آیا صدر کے پاس واقع ہی عملی و حقیقی طور پر اختیارات ہوتے ہیں یا ایران کو کوئی دوسری شخصیت چلاتی ہے۔
    تو دوستو! یہاں پر ایک بات واضح کر لیں گے ایران کا صدر چاہے کوئی بھی بن جائے واحد، حتمی اور آخری اختیار ایران کے سپریم لیڈر جناب آیت اللہ خامنائی کے پاس ہوتا ہے۔ یہ ایران کے ہیڈ آف اسٹیٹ کہلاتے ہیں، ایران کی اسٹیبلشمنٹ جوڈیشری اور ٹیوی یہ سب اہم ادارہ ان کے حکم کے تابع ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایران کی خارجہ پالیسی خود ایران کے سپریم لیڈر طے کرتے ہیں۔ملک کی معاشی اور معاشرتی پالیسیاں ان کے دستخط کے بغیر لاگو نہیں کی جاسکتی۔ آپ اس کو آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ اگر صدر کے پاس اپنی کابینہ چننے کا اختیار ہے تو سپریم لیڈر کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسی بھی کابینہ کے ممبر کو عہدے سے فارغ کر سکتے ہیں، یہاں تک کہ ملک کا صدر بھی اگر ملکی مفادات کے خلاف جا کر کوئی کام کرتا ہے تو وہ چاہے تو اس کو بھی ہٹا سکتے ہیں۔ تو جو کوئی بھی ایران کا صدر ہوں یا اس صدارتی دوڑ میں شامل ہوں ، اس کے ذہن میں ایک چیز بالکل واضح ہوتی ہے ،کہ اقتدار میں آکر آپ کسی بھی قسم کی کوئی پارٹی بندی ،کوئی مونوپولی(monopoly) ، کسی قسم کے اختیارات کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھا سکتے ہیں،صدر کے پاس چاہے جتنے مرضی اختیارات هو وہ پھر بھی سپریم لیڈر سے نیچے ہی رہے گا۔
    مختصر یہ کہ صدر صرف ایران میں پارلیمانی(parliamentary ) و سیکریٹیریل(secretarial) ذمہ داریاں ادا کرتا ہے۔ ایران کا ہر صدر چار سال کے لیے منتخب ہوتا ہے اور وہ مسلسل دو بار الیکشن میں کھڑا ہونے کا اہل رہتا ہے لیکن تیسری مرتبہ اسے اپنی جگہ کسی اور کو بطور صدر کھڑا کرنا پڑتا ہے۔ اس بار منتخب ہونے والے صدر ابراہیم رئیسی کا تعلق ہارڈ لائنر گروپ سے ہے۔ بنیادی طور پر ایران میں تین قسم کی سیاسی سوچ پائی جاتی ہے۔
    1:ہارڈ لائنر (hardliner )
    2:ماڈریٹ(moderate ) 3ریفورم سٹ (reformist)
    ہارٹ لائنر وہ ہوتے ہیں جو ولایت فقہ پر یقین رکھتے ہیں اور اپنی فقہ کے مطابق چلنااور قانون سازی کرنا ان کی پہلی ترجیح ہوتی ہے ماڈریٹ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ یہ اعتدال پسند ہوتے ہیں، حسن روحانی جو کہ ابراہیم رئیسی سے پہلے صدر تھے ماڈریٹ گروپ سے تعلق رکھتے تھے، ان کی سوچ ملکی معیشت اور ترقی کے ساتھ ساتھ ولایت فقہ یعنی ہارڈ لائنر جیسی ہوتی ہے، ریفارمیسٹ وہ ہوتے ہیں جو ہارٹ لائنر کے بالکل مخالف سوچتے ہیں، ان کی پہلی ترجیح ملکی معیشت اور ترقی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا ہوتی ہے، ابراہیم رئیسی جیسا کہ ہم پہلے اوپر بتا چکے ہیں کہ ان کا تعلق ہارڈ لائنر گروپ سے ہے۔ انہوں نے اپنا کیرئیر بطور پروینشل پراسیکیوٹرجنرل(provincial prosecutor general) شروع کیا تھا، پھر ان کے پاس بہت اہم اداروں کے عہدے بھی رہے، جن میں ہیڈ آف جوڈیشری ڈپٹی چیف جسٹس اور اٹارنی جنرل ہیں۔

    پھر انہوں نے جوڈیشری کو چھوڑ دیا اور القدس رضوی فاؤنڈیشن کے ساتھ منسلک ہوگئے۔ان کی کرپشن کے خلاف اقدامات دے کر سپریم لیڈر نے انہیں 2019 میں چیف جسٹس آف ایران لگا دیا۔ بطور چیف جسٹس کام کرتے ہوئے انہوں نے کرپشن کے خلاف اعلان جنگ کیے رکھا۔ ان کی کرپشن کے خلاف اقدامات کی وجہ سے یہ بہت سے لوگوں کی آنکھوں میں کھٹکنا شروع ہوں گے، انہوں نے 2017 کے الیکشن میں بھی حصہ لیا تھا، لیکن حسن روحانی کے مقابلے میں یہ دوسرے زیادہ اکثریت لینے والے امیدوار تھے۔ 2021 کے الیکشن میں واضح نظر آرہا تھا کہ ایران کے خاص ادارے اور سپریم لیڈر خود یہ چاہتے ہیں کہ ایران کا اگلا صدر ابراہیم ریسی ہو، ابراہیم رئیسی کے مقابلے میں گارڈین کونسل نے ان امیدواروں کا انتخاب کیا جن کا کوئی بہت زیادہ اثر و رسوخ نہیں تھااور بڑے بڑے نام جیسا کہ تین بار اسپیکر رہنے والے علی لارے جانی اور دو بار صدر رہنے والے 1979کہ انقلاب کے بعد ایران میں 12 بار صدارتی انتخابات ہو چکے ہیں اور 18 جون 2021 کو ایران میں تیرہویں صدر کے لیے الیکشن ہوئے جس میں ایران کے چیف جسٹس جناب ابراہیم رئیسی نے واضح اکثریت حاصل کرلی۔ ایران کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ، ایران کا صدر کوئی چیف جسٹس ہو۔ ایران میں کئی سالوں سے الیکشن ہو رہے ہیں اور مختلف لوگ صدر کی حیثیت سے منتخب بھی ہو تے چلے آرہے ہیں لیکن اصل مدعے بحث یہ نہیں ہے کہ کون ایران کا صدر بنتا ہے، بنیادی بات تو ایران کے سیاسی نظام کو سمجھنا ہے۔ اگر ہم ایران کے سیاسی نظام کو سمجھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ آیا صدر کے پاس واقع ہی عملی و حقیقی طور پر اختیارات ہوتے ہیں یا ایران کو کوئی دوسری شخصیت چلاتی ہے۔
    تو دوستو! یہاں پر ایک بات واضح کر لیں گے ایران کا صدر چاہے کوئی بھی بن جائے واحد، حتمی اور آخری اختیار ایران کے سپریم لیڈر جناب آیت اللہ خامنائی کے پاس ہوتا ہے۔ یہ ایران کے ہیڈ آف اسٹیٹ کہلاتے ہیں، ایران کی اسٹیبلشمنٹ جوڈیشری اور ٹیوی یہ سب اہم ادارہ ان کے حکم کے تابع ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایران کی خارجہ پالیسی خود ایران کے سپریم لیڈر طے کرتے ہیں۔ملک کی معاشی اور معاشرتی پالیسیاں ان کے دستخط کے بغیر لاگو نہیں کی جاسکتی۔ آپ اس کو آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ اگر صدر کے پاس اپنی کابینہ چننے کا اختیار ہے تو سپریم لیڈر کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسی بھی کابینہ کے ممبر کو عہدے سے فارغ کر سکتے ہیں، یہاں تک کہ ملک کا صدر بھی اگر ملکی مفادات کے خلاف جا کر کوئی کام کرتا ہے تو وہ چاہے تو اس کو بھی ہٹا سکتے ہیں۔ تو جو کوئی بھی ایران کا صدر ہوں یا اس صدارتی دوڑ میں شامل ہوں ، اس کے ذہن میں ایک چیز بالکل واضح ہوتی ہے ،کہ اقتدار میں آکر آپ کسی بھی قسم کی کوئی پارٹی بندی ،کوئی مونوپولی(monopoly) ، کسی قسم کے اختیارات کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھا سکتے ہیں،صدر کے پاس چاہے جتنے مرضی اختیارات هو وہ پھر بھی سپریم لیڈر سے نیچے ہی رہے گا۔

    مختصر یہ کہ صدر صرف ایران میں پارلیمانی(parliamentary ) و سیکریٹیریل(secretarial) ذمہ داریاں ادا کرتا ہے۔ ایران کا ہر صدر چار سال کے لیے منتخب ہوتا ہے اور وہ مسلسل دو بار الیکشن میں کھڑا ہونے کا اہل رہتا ہے لیکن تیسری مرتبہ اسے اپنی جگہ کسی اور کو بطور صدر کھڑا کرنا پڑتا ہے۔ اس بار منتخب ہونے والے صدر ابراہیم رئیسی کا تعلق ہارڈ لائنر گروپ سے ہے۔ بنیادی طور پر ایران میں تین قسم کی سیاسی سوچ پائی جاتی ہے۔
    1:ہارڈ لائنر (hardliner )
    2:ماڈریٹ(moderate ) 3ریفورم سٹ (reformist)
    ہارڈ لائنر وہ ہوتے ہیں جو ولایت فقہ پر یقین رکھتے ہیں اور ہر صورت میں شریعت خداوندی نافذ کرنا ان کی پہلی ترجیح ہوتی ہے ماڈریٹ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ اعتدال پسند ہوتے ہیں، حسن روحانی جو کہ ابراہیم رئیسی سے پہلے صدر تھے ماڈریٹ گروپ سے تعلق رکھتے تھے، ان کی سوچ ملکی معیشت اور ترقی کے ساتھ ساتھ ولایت فقہ یعنی ہارڈ لائنر جیسی ہوتی ہے، ریفارمیسٹ وہ ہوتے ہیں جو ہارٹ لائنر کے بالکل مخالف سوچتے ہیں، ان کی پہلی ترجیح ملکی معیشت اور ترقی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا ہوتی ہے، ابراہیم رئیسی جیسا کہ ہم پہلے اوپر بتا چکے ہیں کہ ان کا تعلق ہارٹ لائنر گروپ سے ہے۔ انہوں نے اپنا کیرئیر بطور پروینشل پراسیکیوٹرجنرل(provincial prosecutor general) شروع کیا تھا، پھر ان کے پاس بہت اہم اداروں کے عہدے بھی رہے، جن میں ہیڈ آف جوڈیشری ڈپٹی چیف جسٹس اور اٹارنی جنرل ہیں۔
    پھر انہوں نے جوڈیشری کو چھوڑ دیا اور القدس رضوی فاؤنڈیشن کے ساتھ منسلک ہوگئے۔ان کی کرپشن کے خلاف اقدامات دے کر سپریم لیڈر نے انہیں 2019 میں چیف جسٹس آف ایران لگا دیا۔ بطور چیف جسٹس کام کرتے ہوئے انہوں نے کرپشن کے خلاف اعلان جنگ کیے رکھا۔ ان کی کرپشن کے خلاف اقدامات کی وجہ سے یہ بہت سے لوگوں کی آنکھوں میں کھٹکنا شروع ہوں گے، انہوں نے 2017 کے الیکشن میں بھی حصہ لیا تھا، لیکن حسن روحانی کے مقابلے میں یہ دوسرے زیادہ اکثریت لینے والے امیدوار تھے۔ 2021 کے الیکشن میں واضح نظر آرہا تھا کہ ایران کے خاص ادارے اور سپریم لیڈر خود یہ چاہتے ہیں کہ ایران کا اگلا صدر ابراہیم ریسی ہو، ابراہیم رئیسی کے مقابلے میں گارڈین کونسل نے ان امیدواروں کا انتخاب کیا جن کا کوئی بہت زیادہ اثر و رسوخ نہیں تھااور بڑے بڑے نام جیسا کہ تین بار اسپیکر رہنے والے علی لارے جان اور دو بار صدر رہنے والے محموداحمدی نجات کو نااہل قرار دے دیا گیا۔ خود سپریم لیڈر کا جھکاؤ بھی ابراہیم رئیسی کی طرف تھا اس بات کا اشارہ ان کے ادارے کی جانب سے کیے گئے ٹیلیگرام میسج سے ملتا ہے جس میں انھوں نے لکھا تھا:” pursue justice and fight against corruption ” اور یہی خاصیت ابراہیم رئیسی کی تھی، ان کی وجہ شہرت بھی یہی تھی کہ وہ انصاف پسند اور کرپشن کے خلاف تھے، لہذا یہ بات واضح تھی کے ابراہیم رئیسی ہی صدر منتخب ہوں گے۔
    بہرحال ایران کا صدر کوئی بھی بنے ایرانیوں کو اب اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا، پچھلی ایک دہائی سے ایران کے معاشی حالات بہت برے ہو چکے ہیں لوگوں کے پاس کام نہیں ہیں امریکہ کی سنکشنز (sanction) کی وجہ سے آئے دن مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے اور جو کمی بیشی رہ گئی تھی وہ ایک سال پہلے پھیلے کرونا وائرس نے پوری کر دی۔
    ایران کے شہریوں سے الیکشن کے حوالے سے سوالات پوچھے گئے تو اکثر کا کہنا تھا کہ ہمیں ان الیکشن کا کیا فائدہ جب کہ ہمارے گھروں میں کھانے پینے کے لئے اور کمانے کے لئے کچھ بھی نہیں۔ نجات کو نااہل قرار دے دیا گیا۔ خود سپریم لیڈر کا جھکاؤ بھی ابراہیم رئیسی کی طرف تھا اس بات کا اشارہ ان کے ادارے کی جانب سے کیے گئے ٹیلیگرام میسج سے ملتا ہے جس میں انھوں نے لکھا تھا:” pursue justice and fight against corruption ” اور یہی خاصیت ابراہیم رئیسی کی تھی، ان کی وجہ شہرت بھی یہی تھی کہ وہ انصاف پسند اور کرپشن کے خلاف تھے، لہذا یہ بات واضح تھی کے ابراہیم رئیسی ہی صدر منتخب ہوں گے۔
    بہرال ایران کا صدر کوئی بھی بنے ایرانیوں کو اب اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا، پچھلی ایک دہائی سے ایران کے معاشی حالات بہت برے ہو چکے ہیں لوگوں کے پاس کام نہیں ہیں امریکہ کی سنکشنز (sanction) کی وجہ سے آئے دن مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے اور جو کمی بیشی رہ گئی تھی وہ ایک سال پہلے پھیلے کرونا وائرس نے پوری کر دی۔
    ایران کے شہریوں سے الیکشن کے حوالے سے سوالات پوچھے گئے تو اکثر کا کہنا تھا کہ ہمیں ان الیکشن کا کیا فائدہ جب کہ ہمارے گھروں میں کھانے پینے کے لئے اور کمانے کے لئے کچھ بھی نہیں۔

  • ہم کٹتے رہے اور تھے خاموش مسلمان ۔۔۔   تحریر: جام جازم

    ہم کٹتے رہے اور تھے خاموش مسلمان ۔۔۔ تحریر: جام جازم

    ‏ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے
    شکوہ نہیں کافر سے کہ وہ ٹھہرا جو کافر ۔۔۔
    تم لوگ تو اپنے تھے مسلمان تھے آخر ۔۔۔
    کچھ کرنے سے کچھ کہنے سے کیوں تم رہے قاصر ۔۔۔

    مظلوم سے تھا بغض یا ظالم کے محبان ۔۔۔
    درجات کی سیڑھی پر ہم جب چڑھیں گے ۔۔۔
    بارگاہ رب میں ایک عرض کریں گے ۔۔۔

    ہم کٹتے رہے اور تھے خاموش مسلمان ۔۔۔
    رمضان المبارک کا الواعی جمعہ اور شب قدر کی بابرکت رات ہر طرف اپنے پر پھیلائے ہوئے تھے ۔ ہر طرف  عبادت کے پرنور اور روح پرور مناظر تھے ۔ مسلمان عقیدت و محبت کے ساتھ مسجدوں میں ایک خدا مطلق کے سامنے اپنے دامن کو پھیلائے بیٹھے تھے۔ اور اللہ سے مغفرت کی بھیک مانگنے میں مصروف تھے ۔ ایسے میں اچانک بیت المقدس میں دنیا کے سب سے بڑی دہشت گرد اسرائیلی افواج دھاوا بولتی ہیں۔ جس میں نہ صرف مسجد کی بے حرمتی کی گئی۔ بلکہ عورتوں بچوں اور بزرگوں کی پروا کئے بغیر ان پہ ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ ے گئے ۔ دہشت گردی کی اس واردات میں ربڑ کی گولیاں اور اسٹین گرینیڈ سے نہتے فلسطینوں کو نہ صرف زخمی کیا گیا بلکہ 17 نہتے فلسطینی بشمول معصوم بچے دہشت گردی کی اس واردات میں جام شہادت نوش کر گئے ۔
    بیت المقدس فلسطین کا دارالحکومت ہے ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں حضرت مریم کو انکی والدہ بی بی حنہ نے اس مسجد کیلئے وقف کر دیا تھا ۔پھر اسی شہر میں حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی پیدائش ہوئی اور ادھر سے  انہوں نے تبلیغ کا آغاز کیا ۔ معراج میں نماز کی فرضیت سے  لے کر تقریباً 17 ماہ تک مسلمانوں نے اسی قبلہ کی طرف نماز ادا کی ۔ یہ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ یہ فلسطین انبیا کرام علیہ سلام کا مسکن ہے ۔

    کسی غیر مسلم کا کتا بھی مر جائے تو یورپی یونین انسانیت کا سبق سکھانے اس مسئلے میں کود جاتی ہے ۔ مسئلہ کسی امریکی سیاہ فام کا ہو یا کسی یہودی کا یورپی یونین انسانیت کا چارٹر اٹھائے آ جاتی ہے مگر چھوڑیں – فلسطین تو ایک  پسماندہ ملک ہے جس کی آبادی مسلمان ہے یہ کوئی سیاہ فام نہیں جن کی ایک پکار پہ یورپی یونین کے در و دیوار تک لرز جائیں یہ تو نہتے فلسطینیوں کی فریاد اور آہ و زاریاں ہیں ۔ جن سے یورپی یونین کا کوئی واسطہ نہیں ۔ انسانیت کے علمبردار اور انسانی حقوق کے جھوٹے دعویداروں کیلئے فلسطینی تو شاید انسان ہی نہیں ۔ صرف فلسطینی ہی کیوں جہاں بھی معاملہ مسلمانوں کی زندگی اور عزت کا ہو ۔ وہاں یورپی یونین غفلت کی میٹھی نیند سوتی نظر آتی ہے ۔ شاید عالمی ضمیر بے حسی کی چادر اوڑھے منافقت کی اس دوڑ میں اتنا مگن ہے کہ اسے مسلمانوں کا لہو نظر نہیں آ رہا ۔ اور مسلمانوں کا لہو اس قدر بے توقیر ہے کہ اس پہ نہ تو کوئی آواز اٹھے گی نہ مہم چلائی جائے گی ۔
    گزشتہ سال ایک سیاہ فام کی ایک تصویر وائرل ہوئی تھی جس میں امریکن پولیس افسر سیاہ فام کی گردن پہ اپنے پنجے گاڑے کھڑا تھا ۔ اس تصویر پہ انسانی حقوق کے عالمی ادارہ کی چیخیں نکل گئی تھی۔ نہ صرف یہ بلکہ ٹوئٹر پہ دو دن تک سیاہ فارم طبقے کے حق میں مہم چلائی گئی جس میں بیت سے ممالک کی شخصیات نے  حصہ لیا۔
    جبکہ دوسری طرف سوشل میڈیا پہ ایک تصویر زیر گردش ہے جس میں یہ واضح طور پہ دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک مریم عساف نامی فلسطینی لڑکی کی گردن میں ایک اسرائیلی فوجی اپنا گھٹنا گاڑے کھڑا ہے ۔ مگر عالمی ارادہ برائے انسانی حقوق کی طرف سے ایک بیان بھی جاری نہ ہو سکا تو مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ یورپی یونین انسانیت کے حقوق کی علمبرداد نہیں بلکہ صرف غیر مسلموں کے حقوق کی محافظ ہے ۔ خیر ان سے کیا گلہ انکے لئے مسلمانوں کی زندگی اور عزت کی کوئی اہمیت ہی نہیں ۔
    مگر اسرائیلی فوجی کا گھٹنا مریم عساف کی گردن پہ نہیں بلکہ 57 مسلمان ممالک کی غیرت اور عزت پہ ہے ۔ مگر اس گھٹنے کا دباؤ محسوس کرنے کیلئے ضمیر کا زندہ ہونا شرط ہے ۔ یہی رویہ اگر کسی مسلمان ملک نے کسی غیر مسلم لڑکی کے ساتھ کیا ہوتا تو اب تک عالمی سطح پہ کہرام مچ جاتا ۔ اور یورپی یونین کے دو و دیوار تک ہلا کر رکھ دیئے جاتے۔ لیکن یہ ایک فلسطینی لڑکی ہے جس سے کسی ملک کا کوئی تجارتی فائدہ منسلک نہیں اور نہ ہی کسی قسم کے کوئی فنڈز ملنے کی امید ہے ۔ لہذا اس پہ ظلم و جبر کرنے کا سرٹیفیکیٹ اسرائیل کو یورپی یونین نے خود دیا ہے ۔

    یہی وقت ہے جب حق و باطل میں ایک پختہ لکیر کھینچ دی جائے ۔ یہی وقت ہے جب مومن اور برائے نام مسلمان کی راہیں الگ ہوجانی چاہیئے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہم اپنے قبلہ اول کی پامالی پہ بھی خاموش رہے تو پھر تو شاید کبھی ہم بول ہی نہ سکیں گے ۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس ظلم پہ خاموش رہنے پر ہماری قوت گویائی سلب نہ کر لی جائے۔
    مگر بحیثت مسلمان کیا ہم اس پاک سر زمیں اور قبلہ اول کے لئے کبھی متحد نہیں ہو سکتے ؟  کیا ہم پہ اب بھی جہاد فرض نہیں ہوا ؟ کیا ہماری افواج اور ہماری  ایٹمی طاقت بس دکھاوا ہے نہ ہم کشمیر کیلئے لڑے نہ فلسطین کیلئے لڑیں گے ۔ اگر ہم آج بھی خاموش رہے اور اسی بات پہ قائم رہے کہ “جنگ کسی مسلئےکا حل نہیں” تو پھر انتظار کریں اس وقت کا جب ہمارا حال فلسطینیوں سے بھی بدتر ہوگا کیونکہ پھر سب کی باری آئے گی ۔ اور ہم بھی اپنے ہاتھ پاھں باندہ کر اس تماشے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی خاموش رہیں گے اور یہی کہیں گے کہ “جنگ تو کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی”۔
    اس مشکل وقت میں اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ تمام مسلمان ممالک متحد ہو کر سب سے بڑی دہشت گرد ریاست کے خلاف نہ صرف جہاد کا علم بلند کریں بلکہ انہیں انکے منتقی انجام پہ پہنچا کر پوری دنیا کو یہ پیغام دیں کہ جب بات انسانیت کی ہو اور جب بات قبلہ اول کی ہو تو ہم مسلمان اپنے وسائل اور فائدے اور نقصان کی پروا کیے بغیر جہاد کا علم بلند کریں گے ۔

  • منقبت صدیق و عمر رضی اللہ عنہما    بقلم:عطیہ وانی

    منقبت صدیق و عمر رضی اللہ عنہما بقلم:عطیہ وانی

    منقبت صدیق و عمر رضی اللہ عنہما
    عطیہ وانی

    جب سب تھے مخالف آقا کے
    تب ساتھ دیا جس نے ان کا
    وہ بھی اپنی جان پہ کھیل کر
    کوئی اور نہیں وہ ہے ابو بکر

    ہم سب چاہتے ہیں رضا رب کی
    خود اللہ پوچھے رضا جس کی
    وہ بھی جبریل امین کو بیج کر
    کوئی اور نہیں وہ ہے ابو بکر

    یوں تو جنت کی بشارت دنیا میں
    تھی ان کو میرے نبی ﷺ نے دی
    پھر بھی رشک کرتے رہے جن پر عمر
    کوئی اور نہیں وہ ہے ابو بکر

    میں اک گھاس کا تنکا ہوتا اگر
    کوئی کھائے اور پھر حساب نا ہو
    یوں خوف خدا تھا طاری جن پر
    کوئی اور نہیں وہ ہے ابو بکر

    ہم امتی ہیں وہ ہے مراد
    کوئی ہوتا اگر نبی آقا کے بعد
    جو نبی کی دعاؤں کا ہے اثر
    کوئی اور نہیں وہ ہے عمر

    جو نبی کے سچے یار تھے
    جو عدل کے پہرےدار تھے
    جس نے کھلوائے کعبے کے در
    کوئی اور نہیں وہ ہے عمر

    تھی عجب ہی ہیبت کفر پر
    وہ لرزتے تھے ان کے نام سے
    جس نے توڑ دی باطل کی کمر
    کوئی اور نہیں وہ ہے عمر

    تھی حقومت ان کی ہر چیز پر
    ان کی سوچ بنی قرآن کی آیتیں
    جس کے حکم سے جاری ہو نہر
    کوئی اور نہیں وہ ہے عمر