Baaghi TV

Category: مسلم دنیا

  • مولانا خادم رضوی کی لیکڈ ویڈیو اور خام خیالی   از :طہ منیب

    مولانا خادم رضوی کی لیکڈ ویڈیو اور خام خیالی از :طہ منیب

    مولانا خادم رضوی کی لیکڈ ویڈیو اور خام خیالی از طہ منیب

    اذان کی آواز پر تحریک لبیک کے سربراہ مولانا خادم رضوی کے حالیہ لیک ویڈیو کلپ کو لے کر گرما گرم بحث جاری ہے ، بہت سوں کے دل ٹوٹے ، بہت سوں کو افسوس ہوا جو ماضی میں ختم نبوت و ناموس رسالت کے مسئلے پر انکے بولڈ موقف پر بڑی قدر کرتے تھے۔

    گزارش یہ ہے کہ اس تحریک کی بنیاد ممتاز قادری کی پھانسی اور جنازے پر بنی جب انہیں اکثریت کے باوجود اس چیز کا ادراک ہوا کہ ہم تو کچھ بھی نہیں۔ سخت مؤقف کے حامل عوام اور قائدین کے ملنے سے یہ تحریک وجود میں آئی۔ جماعتوں میں سنجیدگی اور سمجھوتے وقت کے ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔

    دوسرا گزشتہ تین سالوں میں ہوئے ضمنی و جنرل الیکشن میں انکی الیکشن کمپین میں بنیادی بات یہ تھی کہ ہمیں بریلویوں کے علاؤہ کسی ووٹ کی ضرورت نہیں۔ ایک فرقے کے احساس محرومی کی بنیاد پر وجود میں آئی تحریک اور اسکی قیادت سے نوزائدگی میں ہی یہ توقع رکھنا کہ وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بنیاد بنائیں گے یا ایسا کو کوئی کام کریں گے تو یہ خام خیالی ہوگا جبکہ اس فرقے کو اپنی اکثریت کا بھی ادراک ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے تحریک کے قیام سے لیکر اب تک انکی قیادت کو کسی کے ساتھ سٹیج شئر کرتے یا کسی اتحاد کا حصہ بنتے نہیں دیکھا ہوگا۔

    دوسری بات سمجھوتے یا دوسروں کیلئے نرمی کیلئے آپکا کوئی قد کاٹھ ہونا اور کچھ داؤ پر لگنے سے بچانا ضروری ہوتا ہے جب آپکے پاس کھونے کیلئے کچھ نا ہو تو موقف میں نرمی ممکن ہی نہیں۔

    مجھے رضوی صاحب کی لیک ویڈیو میں کی گئی بات پر افسوس نہیں بلکہ افسوس ان پر ہے جو انکی اس بات پر افسوس کر رہے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو قرآن و حدیث کی بنیاد پر متحد ہونے اور فرقوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

  • پاک سعودیہ دوستی اوراسرائیل دشمنی–از– عبدالرحمن ثاقب

    پاک سعودیہ دوستی اوراسرائیل دشمنی–از– عبدالرحمن ثاقب

    پاکستان اور سعودی عرب یک جان دو قالب ہیں۔ ان کے دوست اور دشمن بھی مشترکہ ہیں اور پالیسیاں بھی ملتی ہیں۔ ایک دوسرے کے دکھ درد کو محسوس کرتے اور مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کے کام آتے ہیں۔

    پاکستان پر جب بھی مشکل وقت سعودی عرب نے بڑے بھائی کا کردار ادا کیا۔ جنگ اور امن میں ساتھ نبھایا۔ آج اقوام عالم میں واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے اور اس کا سہرا سعودی عرب کے سر بندھتا ہے۔

    اسرائیل کو بانی پاکستان محمد علی جناح نے یورپ کا ناجائز بچہ کہا تھا۔ تو ملک عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ببانگ دہل اعلان کیا تھا کہ سارے عرب بھی اگر اسرائیل کو تسلیم کرلیں سعودی عرب تب بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔

    گذشتہ دنوں متحدہ عرب امارات نے یورپ کے اس ناجائز بچے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تو روافض اور ان کے ہمنواؤں اخوانیوں نے سعودی عرب کے خلاف شور مچا دیا۔ گویا کہ یہ کام یو ای اے نے نہیں بلکہ سعودی عرب نے کیا ہے۔ حالانکہ سعودی عرب کی سرزمین فلسطین سے محبت کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے پچاس ریال کے نوٹ پر مسجد اقصی کی تصویر ایک عرصہ سے چھاپ رہے ہیں جو ان کی نہ صرف فلسطین سے محبت کی دلیل ہے بلکہ ان کی اسرائیل کے بارے پالیسی کی حسین عکاسی بھی ہے۔

    سعودی عرب نے گزشتہ روز علی الاعلان اپنی سابقہ پالیسی کا اعلان کیا کہ وہ اسرائیل کو کسی بھی صورت میں تسلیم نہیں کرے گا۔ دوسری طرف پاکستان کے وزیر اعظم عمران نیازی نے بھی ایک انٹرویو میں اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا واشگاف اعلان کیا جس پر ہم اہل اسلام کی ترجمانی کرنے پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

    یہ بھی اتفاق ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے ایک ساتھ اسرائیل کے بارے اپنی اپنی پالیسی کا اعلان کرکے مشترکہ دشمنوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
    خوشی کی بات ہے کہ بحرین کے رکن پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ میں اسرائیل کے نجس جھنڈے کو آگ لگا کر غیرت ایمانی کا مظاہرہ کیا اور بتادیا کہ اسرائیل سے نفرت ہماری رگ و پے میں موجود رہے گی۔ ان شاءاللہ

    آج کہاں ہیں جو اردوگان کو بزعم خود مسلمانوں کا نجات دہندہ کے روپ میں پیش کررہے تھے جس کے ملک ترکی نے اسلامی ممالک میں سے سب سے پہلے اسرائیل کو تسلیم کیا اور اس وقت تقریباً چالیس ارب ڈالر کی سالانہ اسرائیل سے تجارت بھی کررہا ہے۔

    پہلے یو ای اے پر اسرائیل کو تسلیم کرنے پر غصہ دکھا رہا تھا اب یو ای اے اور اسرائیل کے درمیان پروازیں چلانے کی پیشکش کررہا ہے۔ منافقت کی انتہا کردی ہے اس نام نہاد خلیفہ نے،

    دوسری طرف ایران جس کے بارے مسلمان کبھی بھی خوش فہمی میں مبتلا نہیں رہ سکتے کیونکہ اس ایران کے دارالخلافہ تھا تہران میں اہل سنت کو مسجد بنانے کی اجازت نہیں ہے جبکہ عیسائی، یہودی، سکھ، ہندو اور بدھ مت سمیت سب غیر مسلموں کو اپنی اپنی عبادت گاہ تعمیر کرنے کی اجازت ہے۔ اسی طرح سے ایران کے پارلیمنٹ کا رکن کوئی سنی مسلمان نہیں بن سکتا یہ ان کی اسلام دشمنی کی واضح دلیل ہے۔

    ہمیں ایران کے بارے خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہر وقت ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ آپ نے ارشاد فرمایا تھا: دجال کے ساتھ تہران کے ستر ہزار یہودی اس کے ساتھی ہوں گے۔ یہ ایران یہود کا آلہ کار اور اہل ایمان کا دشمن ہے جس کی چالوں سے ہمیں بچ کر رہنا ہوگا۔

    ایک بار پھر کہوں گا کہ پاکستان کی سعودی عرب سے دوستی سمندروں سے گہری اور ہمالیہ سے اونچی ہے۔
    پاک سعودیہ دوستی زندہ باد

  • کیا عرب ہمت ہار چکے ؟…..عاصم مجید لاہور

    کیا عرب ہمت ہار چکے ؟…..عاصم مجید لاہور

    متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کی خبر کے ساتھ ہی پاکستان بھر میں اور کئی مسلمان ممالک میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    پاکستان میں ایک چھوٹا سا طبقہ ایسا بھی ہے جو اس عمل کو درست قرار دے رہا ہے اور پاکستان کو بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے فوائد بتا رہا ہے۔ ان کے مطابق کئی مسلمان ممالک ڈھکے چھپے انداز میں اسرائیل کے ساتھ روابط رکھ کر کئی معاشی فائدے حاصل کر رہے ہیں۔ جیسا کہ ترکی اور اسرائیل کی تجارت ہرسال بڑھتے ہوئے کئی ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

    ان کے علاوہ ایران ، اومان اور قطر بھی اسرائیل کے ساتھ تجارت کرتے ہیں۔ بقول ان کے آپ فلسطین کے ساتھ یکجہتی رکھیں اور اسرائیل کے مظالم کی مذمت کرتے رہیں جیسا کہ ترکی اور ایران ہر فورم پر کرتے ہیں مگر معاشی فوائد بھی حاصل کریں۔

    مگر دوسرا طبقہ متحدہ عرب امارات کے اس اقدام سے پورے عرب ممالک کو امت سے نکالنے پر تلا ہوا ہے۔حالانکہ بہت سارے لوگ جانتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات میں اصل حکومت اور کنٹرول مغربی ممالک کا ہی ہے۔ اس میں ہر طرح کی غیر اسلامی آزادی ہے۔ اور اہل علم جانتے ہیں کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی اور گوادر پورٹ کو ناکام کرنے کے لیے فنڈنگ کہاں کہاں سے ہو کر آتی رہی ہے۔ اب اگر بلی تھیلے سے باہر آ ہی گئی ہے تو اس میں حیرانگی والی کیا بات ہے ؟

    آئیں اب فلسطین کے لیے دی گئی اپنی قربانیوں پر نظر دوڑا لیں۔ کیا ہم نے فلسطین کے لیے اسرائیلی مصنوعات کو چھوڑ دیا ہے؟
    کیا ہم نے پیپسی ، کوکا کولا، میکڈونلڈ، کے ایف سی اور شیل پٹرول کا بائیکاٹ کر دیا ہے ؟

    اگر نہیں کیا تو برائے مہربانی کسی پر فتوی نہ لگائیں۔ اگر آپ اتحاد امت میں کردار ادا نہیں کر سکتے تو اختلافات بڑھانے کا ذمہ خود پر نہ لیں۔اگر آپ سمجھتے ہیں فلاں ملک منافق اور کفار سے مل گیا ہے تو برائے مہربانی سیرت رسول ﷺ بھی پڑھ لیں۔
    کیا رسول اللہ ﷺ کو تمام منافقین کے ناموں کا پتہ نہیں تھا؟ اور وہ منافقین مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے درپے بھی رہتے تھے آپ ﷺ چاہتے تو ان تمام منافقوں کے سر قلم کروا سکتے تھے۔ مگر آپ ﷺ نے حکمت سے کام لیا۔

    نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    مَن سترَ مُسلِمًا سترَهُ اللَّهُ في الدُّنيا والآخِرةِ
    (صحيح ابن ماجه، 2544)
    ترجمہ: "جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی تو اللہ دنیا وآخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا۔”
    ایک اور نقطہ پر بھی ہمیں غور کرنے کی ضرورت ہے۔ تقریبا 40 لاکھ کے قریب پاکستانی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں کام کرتے ہیں اور سالانہ 9 بلین ڈالر کے قریب زرمبادلہ پاکستان میں بھیجتے ہیں۔
    یہ تمام لوگ جو بیرون ملک میں کام کر رہے ہیں ہیں ان میں سے زیادہ تر ایسے لوگ ہیں جو کہ اپنے پورے خاندان کی کفالت کر رہے ہیں۔

    میرے قابل احترام بھائیو امت کو متحد کرنے کے لئے ہمارا کردار کیا ہونا چاہیے یہ ہمیں اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہو گا۔ اگر تو ہم اتحاد امت کی بات کرتے ہیں تو ہمیں الزامات کی سیاست سے نکلنا ہو گا۔ ہاں ہم منفی جملے کہہ کر اپنے دل کی بھڑاس نکال سکتے ہیں۔ مگر اس طرح ہم شاید کئی مزید لوگوں کو مسلمان ملکوں سے متنفر کر دیں گے۔

    ہم سب جانتے ہیں کہ کفار چاہتے ہیں کہ مسلمان ملکوں کو آپس میں لڑایا جائے۔ کہیں ہم اپنے جملوں یا اپنی تحریروں سے کفار کے آلہ کار تو نہیں بن رہے ؟
    آئیں اتحاد امت کے لئے احسن طریقے سے مسلمانوں اور مسلمان ملکوں کے سربراہان کو سمجھائیں۔ ان کی ہدائت کے لئے اللہ کے آگے سربسجود ہو کر دعا کریں۔
    اللہ تعالی ہمیں اتحاد امت میں اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

    کیا عرب ہمت ہار چکے ؟…..عاصم مجید لاہور

  • سعودی عرب اور مسئلہ فلسطین .بقلم فردوس جمال

    سعودی عرب اور مسئلہ فلسطین .بقلم فردوس جمال

    سعودی عرب اور مسئلہ فلسطین .بقلم فردوس جمال

    سوشل میڈیا کے ایک صاحب جس کے اچھے خاصے فالورز ہیں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی تصویر لگا کر لعن طعن کر رہا تھا کہ عیاش پرست شہزادہ اسرائیل کے آگے لیٹ گیا اور اسرائیل کو تسلیم کر ڈالا،ہم نے کمنٹ کے دو تین وٹے مارے کہ معلوم پڑا موصوف امارات اور سعودی عرب کو ایک ملک سمجھ بیٹھا تھا.

    ہمارے ہاں ایک المیہ یہ بھی ہے کہ جنہیں پڑھنا چاہئے تھا وہ لکھ رہے ہیں اور ایسے نابغے پھر گل کھلاتے ہیں،بہت ساروں کو یہ تک معلوم نہیں کہ دبئی امارات کا شہر ہے کہ امارات دبئی کا،کچھ تو دبئی کو سعودی عرب کا شہر سمجھتے ہیں،ایسے بھی دانشور پائے جاتے ہیں جو پورے عرب کو سعودی عرب سمجھتے ہیں لہذا عرب کے کسی بھی ملک میں کچھ ہو یہ لوگ ملبہ سعودی عرب پر ڈالتے ہیں، نشانہ سعودی عرب کو بناتے ہیں.

    حالانکہ اگر عرب ملکوں کی بات کریں تو یہ کل 22 ممالک ہیں ان میں سے 12 بر اعظم ایشیاء میں واقع ہیں جب کہ 10 بر اعظم افریقا میں آتے ہیں.

    یہ دینی اور اخلاقی لحاظ سے بھی درست نہیں ہے کہ آپ بغیر کسی تحقیق اور بغیر کسی علم کے سارے عرب کے گناہ سعودی عرب کے سر ڈال دیں.

    اسرائیل کو متحدہ عرب امارات نے تسلیم کیا ہے نہ کہ سعودی عرب نے،اگر آپ لکھنے کی بجائے پڑھنے کی نیت فرمائیں تو ہم آپ کو بتائیں گے کہ عرب دنیا میں سعودی عرب ایسا واحد ملک ہے جس نے اب تک اسرائیل کے خلاف
    سب سے بڑھ کر جارحانہ موقف اختیار کئے رکھا ہے اور سب سے بڑھ کر فلسطینوں کی عملی مدد کی ہے.

    اسرائیل کے وجود میں آنے کے بعد سعودی عرب نے اعلانیہ
    اس کو غاصب کہا اور تسلیم نہ کرنے کا فیصلہ کیا.

    سعودی عرب وہ واحد عرب ملک ہے جس کے بادشاہ کنگ فیصل نے کہا تھا کہ اگر پوری عرب دنیا بھی اسرائیل کو تسلیم کرے تو سعودی عرب تسلیم نہیں کرے گا.

    1948 ء کی عرب اسرائیل جنگ میں سعودی عرب کے پاس موجود ٹوٹی پھوٹی بندوقیں،رائفلیں،اور ہتھیار دے کر ملک عبدالعزیز مرحوم نے اپنی قوم کے گھبرو جوانوں اور فوجی سپاہیوں کو لڑنے کے لئے محاذ پر بھیج دیا تھا.

    1956 ء کی جنگ میں سعودی عرب نے برطانیہ،فرانس اور مغربی طاقتوں کو تیل بند کر دیا،جب ان قوتوں نے سعودی عرب کو دھمکی دی کہ سعودی عرب کو پتھر کے زمانے میں پھینک دیں گے تو ملک فیصل نے تاریخی جملہ کہا تھا کہ
    مجھے تمہاری ان دھمکیوں کی پروا نہیں میرے آبا و اجداد صحرا میں رہتے تھے ان کا گزر بسر اونٹنیوں کے دودھ پر ہوتا تھا اگر مجھے بھی فلسطین کی خاطر یہ قربانی دینی پڑی تو ہم یہ قربانی دیں گے،عزت اور شرف کے ساتھ بھوک بھی گوارا ہے.اس جنگ میں سعودی عرب اپنے افراد اور مال کے ساتھ شامل رہا،مغربی طاقتوں کو تیل بند کرنے سے سعودی عرب کو 350 ملین ڈالر کا معاشی نقصان ہوا،اس جنگ میں سعودی عرب نے اسرائیل کے خلاف حملوں کے لئے اپنی سرزمین پیش کی،20 لڑاکا طیارے دیے،کئی شہزادے جن میں ملک سلمان،اور ملک فہد شامل تھے اس جنگ میں نفس نفیس شریک ہوئے.

    1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں بھی سعودی عرب اپنے تمام وسائل کے ساتھ شریک ہوا سعودی فوج کے آفیسر اور جوان اس جنگ میں شہید ہوئے،ان میں سعودی لیفٹننٹ راشد بن عامر الغفیلی کا بھی نام آتا ہے جس نے داد شجاعت
    دیتے ہوئے درجنوں اسرائیلیوں کو مارا اور شہید ہوا.

    1973ء کی جنگ میں سعودی عرب کی 3 ہزار فوج نے حصہ لیا اس بار سعودی عرب نے امریکہ کو بھی تیل کی سپلائی بند کر دی،امریکی وزیر خارجہ بھاگتے ہوئے سعودی عرب پہنچا کہ ہمیں دیگر مغربی ممالک سے استثنی دیں لیکن سعودی عرب نے ماننے سے انکار کر دیا.

    اگر سعودی عرب کے سیاسی کردار کی بات کریں تو سعودی عرب نے اقوام متحدہ سمیت ہر فورم پر مسئلہ فلسطین کو اٹھایا،فلسطینیوں کی بھرپور وکالت کی.

    1979 میں امریکہ نے معاہدہ کیمپ ڈیوڈ کرایا مصر نے اسرائیل کو تسلیم کیا تب سعودی عرب نے مصر سے سفارتی تعلقات ختم کیے اور 8 سال تک مصر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع رکھے صرف فلسطین کی وجہ سے.

    فلسطینی قوم کے لئے مالی امداد اور تعاون کی بات کریں تو سعودی عرب ہی وہ پہلا ملک تھا جس نے اپنے دروازے فلسطینوں کے لیے کھول دیے.

    لاکھوں فلسطینی سعودی عرب میں مقیم ہیں صرف جدہ شہر میں تین لاکھ فلسطینی آباد ہیں.

    بلا مبالغہ اگر کسی ملک نے سب سے بڑھ کر فلسطینوں کی مالی مدد کی ہے تو وہ سعودی عرب ہے،تفصیل بہت لمبی ہے
    صرف پچھلے پندرہ بیس سال کے اعداد و شمار آپ کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں.

    2009 میں جب غزہ کا محاصرہ کیا گیا اور ساری دنیا زبانی جمع خرچ سے کام لے رہی تھی سعودی عرب نے آگے بڑھ کر 1 ارب ڈالر کی فوری امداد کر دی،سعودی قوم نے جو رقوم اور امداد بھیجی وہ اس سے الگ ہے.

    2013 میں جب فلسطین معاشی مشکلات سے دو چار تھا تب سعودی عرب نے 100 ملین ڈالر کی امداد کی.

    2014 میں 500 ملین ڈالر کی امداد کی.

    2016 میں 800 ملین ڈالر کی امداد.

    غزہ میں فلسطینوں کو پھر سے آباد کرنے کے لئے سعودی عرب نے سب سے بڑا تاریخی پروگرام شروع کیا،اس پروگرام میں گھر،بازار، ہاسپٹلز،سکولز،مساجد کی تعمیر شامل تھی،یہ پروگرام تین مراحل پر مشتمل تھا،پہلے مرحلے میں
    752 عمارتیں بنائی گئیں جن کے ساتھ تمام سہولیات تھیں،دوسرے مرحلے میں 760 عمارتیں جب کہ تیسرے میں 780 عمارتیں شامل تھیں،یہ پروگرام 2015 میں مکمل ہوا،اس منصوبے کی کچھ تصویریں پوسٹ کے ساتھ میں شامل کر دیتا ہوں.

    اب آپ خود انصاف سے بتائیں کہ ایک ایسا ملک جو نہ تو ایٹمی طاقت ہے،نہ ہی اس کی کوئی مضبوظ فوج ہے وہ اس سے بڑھ کر کیا کر سکتا ہے؟

    چند ماہ پہلے سعودی وزیر خارجہ نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے صاف لفظوں میں کہا کہ ہم اسرائیل سے متعلق اپنے اصولی موقف پر قائم ہیں اس میں کوئی تبدیلی روز اول سے کبھی نہیں آئی ہے.

    لمحہ موجود تک سعودی عرب نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ہے اور نہ ہی اس کی پالیسی میں کوئی نرمی آئی ہے صرف اس مفروضے پر کہ آنے والے وقتوں میں شاید سعودی عرب بھی اسرائیل کو تسلیم کرے گا آپ نے پیشگی گالیاں شروع کر رکھی ہیں یہ کہاں کا انصاف ہے؟

    بات یہ ہے کہ ایک طبقہ جسے سعودی عرب سے مملکت توحید ہونے کی وجہ سے اللہ واسطے کا بیر ہے وہ دن رات پروپیگنڈے میں لگا ہوا ہے ،ان کو میرا کھلا چیلنج ہے کہ
    آپ جن ممالک کی صبح شام وکالت کرتے ہیں مسئلہ فلسطین سے متعلق ان کا سعودی عرب سے بڑھ کر عملی کام دکھائیں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے فیس بک چھوڑ دوں گا.

    بقلم فردوس جمال!

  • ایک منفرد تقریب ایوارڈ کاانعقاد….از.. عبدالرحمن ثاقب

    ایک منفرد تقریب ایوارڈ کاانعقاد….از.. عبدالرحمن ثاقب

    عقیدہ ختم نبوت پر پختہ اور غیر متزلزل ایمان مومن کی پہچان ہے۔ مسلمان عملی طور پر کمزور ہو سکتا ہے لیکن ختم نبوت کے معاملہ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔

    اہل ایمان نے مسیلمہ کذاب سے لے کر مسیلمہ پنجاب کا ہر میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ جب بھی کسی نے مدعی نبوت ہونے کا دعویٰ کیا تو مسلمانوں نے نہ صرف اس کا انکار اور رد کیا بلکہ اس کو واصل جہنم کرنے کا بھی انتظام کیا۔

    مرزا غلام احمد قادیانی دجال و ملعون نے جب دعویٰ نبوت کیا تو سب سے پہلے مولانا محمد حسین بٹالوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فتویٰ تکفیر مرتب کیا اور اس وقت کے محدث سید نذیر حسین دہلوی رحمہ اللہ سے اس پر تصدیقی مہر ثبت کروائی اور پھر ہندوستان کے دور دراز کا سفر طے کرکے دوسو علماء کرام و مشائخ عظام کے اس فتویٰ پر دستخط کروا کر مرزا قادیانی کے کفر پر مہر لگا دی۔

    وقت کے علماء نے تحریری و تقریری طور پر اور مناظروں کے ذریعے مرزا قادیانی دجال کے دجل و فریب کو دنیا کے سامنے آشکار کیا اور اس کے تار و پود بکھیر کر رکھ دیے۔

    علماء کرام کی محنت سے کیا گیا علمی کام مختلف کتب، رسائل و جرائد میں بکھرا پڑا تھا اور ایک لمبا وقت گذر جانے کی وجہ سے ضایع ہو جانے کا اندیشہ تھا۔

    اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے ہمارے محبوب عالم دین مولانا عبداللہ گورداسپوری رحمہ اللہ کے لخت جگر ممتاز مورخ اور تحریک ختم نبوت کے شناور، محسن ملت محترم جناب ڈاکٹر بہاوالدین صاحب حفظہ اللہ کو جنہوں نے اس بکھرے ہوئے مواد کو دیار غیر میں بیٹھ کر جمع کیا اور اس کی تسوید و ترتیب کے بعد ازسر نو طبع کروا کر ملک کے طول و عرض میں تقسیم کیا۔ تحریک ختم نبوت کی پچھتر جلدیں مرتب ہوچکی ہیں۔ جن میں سے ساٹھ سے زائد جلدیں زیور طباعت سے آراستہ ہو کر شائقین علم اور محبان ختم نبوت کے ہاتھوں میں پہنچ کر داد و تحسین وصول کر چکی ہیں۔

    ان کتب کو اصحاب علم وفضل تک پہنچانے میں آپ کے صاحبزادے محترم جناب سہیل گورداسپوری صاحب کی بڑی جدوجہد ہے۔
    مولانا طیب معاذ رحمۃ اللہ علیہ جماعتی حلقوں میں بڑا اہم نام و مقام رکھتے تھے ان کے برخوردار علامہ عبد الصمد معاذ صاحب نے گذشتہ سال سے ” ڈاکٹر بہاوالدین ایوارڈ” کا سلسلہ شروع کیا۔ جو کہ بہت ہی عمدہ کام ہے۔ علماء کرام کی وفات کے بعد تو سب مرنے والے کی خدمات کو یاد کرتے اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں مزا تو تب ہے جب کسی کی زندگی میں ہی اس کی خدمات کا اعتراف کیا جائے اور اس کے کام کو سراہا جائے۔

    علامہ عبد الصمد معاذ صاحب چیئرمین ختم نبوت ریڈرز کلب نے گذشتہ سال اس ایوارڈز کے لیے تین علماء کرام کو منتخب کیا۔ ان میں سے ایک شہسوار خطابت، عظیم صحافی اور مصنف جناب رانا شفیق خاں پسروری صاحب ایڈیشنل سیکرٹری مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان، دوسرے مولانا داود ارشد صاحب اور تیسرے مولانا عبد الحفیظ مظہر صاحب اس سال آج کے دن یہی تقریب دوبارہ کلیہ دارالقرآن فیصل آباد میں مولانا محمد انس مدنی صاحب کی میزبانی میں منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا حکیم عمران ثاقب صاحب، ممتاز ادیب و صحافی جناب حمیداللہ خان عزیز اور نوجوان قلمکار محترم عبیداللہ لطیف صاحب کو حسب سابق ایوارڈ، نقد انعام اور کتب کا ہدیہ دیا گیا۔

    ایسی منفرد تقریبات بڑی اہم اور وقت کی ضرورت ہیں جن میں علماء اور باطل افکار و نظریات کا رد کرنیوالوں کی جہود کو سراہا جائے تاکہ ان کی بھرپور حوصلہ افزائی ہوسکے اور انہیں دیکھ کر نئے لوگ میدان میں آئیں اور باطل افکار و نظریات کا دلجمعی سے رد کریں۔
    میں مرکزی جمعیت اہل حدیث صوبہ سندھ کی طرف سے علامہ عبد الصمد معاذ صاحب اور ان کے رفقاء کرام کو اس منفرد اور دلکش تقریب کے انعقاد پر ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں اور صدق دل سے دعا گو ہوں کہ فضل خدا کا سایہ تم پر رہے ہمیشہ ہر شب بخیر گذرے ہر دن چڑھے مبارک

  • 15 اگست یوم سیاہ ….ازقلم محمد عبداللہ گل

    15 اگست یوم سیاہ ….ازقلم محمد عبداللہ گل

    73 برس بیت چکے ہیں ایک خوبصورت وادی ظالم کے قبضے میں ہے۔اس خوبصورت وادی کا نام کشمیر ہے اور اس پر ظلم‌ و بربریت کرنے والا ظالم بھارت ہے۔برِصغیر پاک و ہند میں بھی ہندو تو آزاد ہی تھے۔بڑے بڑے عہدے ان کے پاس تھے اور انگریزوں کی چمچہ گری کرنا ان کا کام تھا۔اصل ظلم تو مسلمانوں پر ہوتا تھا۔مسلمان محکوم بنے ہوئے تھے اس ملک میں جس کے وہ کبھی حاکم ہوا کرتے تھے۔

    ہندو اور کانگرس نہیں چاہتی تھی کہ پاکستان بنے وہ چاہتے تھے کہ انگریز جب نکلے تو سارے کا سارا برصغیر ہمارے قبضے میں آئے۔لیکن بھارت کا یہ خواب خواب ہی رہ گیا اور قائداعظم کی کوششوں سے پاکستان معرض وجود میں آگیا جو کہ کانگرس اور گاندھی کی شکست تھی۔کشمیر ایک ریاست تھی جس کا راجا ہندو تھا۔لیکن کشمیر میں اکثریت تو مسلمانوں کی تھی۔کشمیر کو حق دیا گیا تھا کہ دونوں میں سے جس ملک کے ساتھ چاہے الحاق کر لے۔

    کشمیری پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے تھے لیکن وہاں کے راجا ہری سنگھ نے چند ٹکے لے کر خود دہلی میں جا بیٹھا اور وادی پر بھارت کا جابرانہ اور غاصبانہ قبضہ ہو گیا۔اس وقت کشمیر میں 10 لاکھ کے لگ بھگ فوج ہے۔جب مسلہ کشمیر اقوام متحدہ میں گیا تو قرار دادیں منظور کی گئی جن کے مطابق کشمیر میں استصواب رائے کروایا جائے جو کہ آج تک نہ ہو سکا۔کیونکہ بھارت جانتا ہے اگر میں نے استصواب رائے کروا دی تو کشمیری پاکستان سے الحاق کرے گئے۔اس لیے بھارت پر غاصبانہ قبضہ جاری رکھا۔73 سال کا عرصہ گزر گیا بہت سی بہنوں کی عزتیں پامال کی۔لاکھوں ماوں کے سر کے ڈوپتے نوچیں گے۔لاکھوں بچوں کو یتیم کیا۔

    لیکن عالمی برادری خاموش کیوں؟
    اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کیوں نہیں؟
    ہماری امیدیں وابستہ ہیں امریکہ، برطانیہ اور اقوام متحدہ سے جو کہ غیر مسلموں کی پٹھو تنظیم ہے۔

    اس کا جواب اللہ تعالی نے قرآن مجید میں دیا ہے:-
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡیَہُوۡدَ وَ النَّصٰرٰۤی اَوۡلِیَآءَ ۘ ؔ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمۡ فَاِنَّہٗ مِنۡہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۱﴾

    ترجمہ:-

    اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔ تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بے شک انہی میں سے ہے ، ظالموں کو اللہ تعالٰی ہرگز راہ راست نہیں دکھاتا ۔

    آج ہماری دوستیاں امریکہ اور برطانیہ سے ہے اور مودی سے ہے جو کہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔
    ادھر کشمیر میں کل 14 اگست کو صورتحال یہ تھی کہ کرفیو لگا ہوا تھا۔کشمیری بہنوں اور ماوں نے گھر میں خود پرچم سلائی کر کے سرینگر کے چوک میں پاکستان سے محبت کا ثبوت دیا۔کشمیر کے چوک میں نعرے لگے
    "جیوے جیوے پاکستان
    تیری جان میری جان
    پاکستان پاکستان ”

    کشمیریوں کا پاکستان کے حق میں نعرے لگانا اپنے گھروں کی چھتوں پر پاکستان کے پرچم لہرانا۔اور ریلیاں اور احتجاجی مظاہروں کے دوران حب پاکستان میں گولیاں اور پیلٹ گنوں کا نشانہ بن کر اپنی آنکھوں کی بینائی کو ضائع کروا لینا الحاق پاکستان کا ثبوت یے۔

    آج 15 اگست جو کہ ظالم ملک بھارت کی آزادی کا دن ہے کشمیر کے سرینگر کے لال چوک میں خاموشی طاری ہے۔کشمیری خاموش اس لیے ہیں کیونکہ وہ آج کے دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔

    کشمیر میں تو یہ صورتحال ہے کہ کشمیری نوجوان اور بچے ان کو کچھ نہ ملے تو وہ پتھروں کے ساتھ ہی مقابلہ کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔بھارتی فوج کر بھی کیا سکتی ہے زیادہ سے زیادہ کا آپا آسیہ اندرابی کو گائے زبح کرنے کے جرم میں گرفتار کر سکتی ہے۔

    گرفتاری کی صعوبتوں کے باوجود آپا جی کے دل میں پاکستان کی محبت کا بڑھ جانا اس کا ثبوت ہے کہ وہ پاکستان سے الحاق چاہتی ہے۔بزرگ قائد حریت سید علی گیلانی صاحب جو کہ طویل عرصے سے علیل ہے۔علالت کے باوجود ان کو نظربند کرنا اور نظربندی کے دوران بھی ٹویٹ کے ذریعے 14 اگست کو ان کا پاکستان کو مبارک باد دینا بھارت کے ظلم کے خلاف ان کا آواز بلند کرنا پاکستان سے محبت کی علامت ہے۔

    آخر کشمیری اور پاکستانی آج کے دن کو یوم سیاہ کے طور پر کیوں نہ منائے؟آج کے دن بننے والے ملک بھارت نے پاکستان کی شہ رگ کو قیدی بنا رکھا ھے۔کشمیر مسلمانوں کو کھانا نہیں مل رہا۔کشمیری یوم سیاہ اس لیے مناتے ہیں کیونکہ بھارت ظالم نے ان سے اظہار خیال کو حق چھین لیا اور ان کا آئینی،جمہوری حق جو کہ استصواب رائے کا تھا چھین لیا۔ان ظالموں نے کشمیریوں کو ان کے آباواجداد کے ملک میں ہی قید کر دیا۔باہر سے آ کر ان پر قبضہ کر لیا اور ان کی بیٹیوں کی عزتوں کو لوٹا جا رہا ہے۔

    یہ وہ۔کشمیر ہے جو اقبال کے تخیل کا مظہر یوں تھا:-

    آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر
    کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیر

    اب حکومت پاکستان کو بھی چاہیے کہ جہاد فی سبیل اللہ کا آغاز کر دینا۔کیونکہ واضح حکم ربی ہے:-

    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَاتِلُوا الَّذِیۡنَ یَلُوۡنَکُمۡ مِّنَ الۡکُفَّارِ وَ لۡیَجِدُوۡا فِیۡکُمۡ غِلۡظَۃً ؕ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۲۳﴾ ٙ

    اے ایمان والو! ان کفار سے لڑو جو تمہارے آس پاس ہیں اور ان کو تمہارے اندر سختی پانا چاہیے اور یہ یقین رکھو کہ اللہ تعالٰی متقی لوگوں کے ساتھ ہے ۔
    ریاست مدینہ کے بانی خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:-
    حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا سب مسلمان ایک جسم واحد کی طرح ہیں۔ اگر اس کی آنکھ دُکھے تو اس کا سارا جسم دُکھ محسوس کرتا ہے اور اسی طرح اگر اس کے سر میں تکلیف ہو تو بھی سارا جسم تکلیف میں شریک ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم)

    کاہے کی آزادی اور کون سا جشن آزادی؟ بھارتیو تم مقید ہی کب تھے جو آزاد ہوتے. تم تو قابض تھے صیاد تھے اب بھی ہو..14اگست 1947 بھارت کا یوم شکست تھا اور ان شاء اللہ 2020 ان کا دوسرا یوم شکست ہوگا. جب کشمیر آزاد کرائیں گے.اے اللہ کشمیر کو آزادی نصیب فرما اور ظالموں کو نست و نابود فرما

    15 اگست یوم سیاہ ….ازقلم محمد عبداللہ گل

  • ڈاکٹر محمد حمید اللہ:حیدرآباد دکن سے بہاولپورتک ، سنہری سفر،خوشبوداریاد داشتیں ..از..فردوس جمال

    ڈاکٹر محمد حمید اللہ:حیدرآباد دکن سے بہاولپورتک ، سنہری سفر،خوشبوداریاد داشتیں ..از..فردوس جمال

    ایک ایسا عظیم شخص جس نے 1994ء میں کنگ فیصل ایوارڈ کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرایا کہ میں نے جو کچھ لکھا ہے اللہ تعالی کی خوشنودی کے لئے لکھا ہے لہذا مجھ پر میرے دین کو خراب نہ کریں.

    ایک ایسا عظیم شخص جس نے فرانس کی نیشنیلٹی کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرا دی کہ مجھے اپنی مٹی اور اپنے وطن سے محبت ہے.

    ایک ایسا عظیم شخص جس کے ہاتھ پر 40000 غیر مسلموں نے کلمہ طیبہ پڑھا.

    ایک ایسا عظیم شخص جو 22 زبانوں کا ماہر تھا اور 84 سال کی عمر میں آخری زبان تھائی سیکھ لی تھی.

    ایک ایسا عظیم شخص جس نے مختلف زبانوں میں 450 کتابیں اور 937 علمی مقالے لکھے.

    ایک ایسا عظیم شخص جو اس قدر علمی مقام رکھنے کے باوجود اپنے برتن اور کپڑے خود دھوتے تھے.

    ایک ایسا عظیم شخص جسے 1985 میں پاکستان نے اعلی ترین شہری اعزاز ہلال امتیاز سے نواز تو اعزاز کے ساتھ ملنے والی رقم جو ایک کروڑ روپے بنتی تھی اس رقم کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ تحقیقات اسلامی کو یہ کہتے ہوئے دیا کہ اگر اس فانی دنیا میں یہ اعزاز وصول کیا تو پھر باقی رہنے والی زندگی کے لئے کیا بچے گا.

    ایک ایسا عظیم شخص جس نے حدیث کی اولین کتاب جو 58 ہجری میں لکھی گئی تھی جسے صحیفہ ہمام بن منبہ کہا جاتا ہے اس عظیم حدیثی و تاریخی دستاویز کو انہوں نے 1300 سال بعد جرمنی میں برلن لائبریری سے دریافت کیا اور تحقیق کے بعد شائع کرایا.

    ایک ایسا عظیم شخص جس نے قرآن مجید کا فرانسیسی زبان میں ترجمہ و تفسیر لکھا اس شاہکار ترجمے کے بیسوں ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں.

    ایک ایسا عظیم شخص جس نے "تعارف اسلام ” کے نام سے ایک شاہکار کتاب لکھی جس کتاب کے دنیا کی 22 زبانوں میں ترجمے ہوچکے ہیں.

    یہ عظیم انسان یہ نابغہ روزگار شخصیت ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی تھی،آپ 1908 میں حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے،
    آپ نے 1933ء میں جرمنی کیبون یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد وہیں عربی اور اردو کے استاد مقرر ہوئے.

    آپ 1946ء میں اقوام متحدہ میں ریاست حیدرآباد کے نمائندہ (سفیر) مقرر ہوئے۔

    1948 میں سقوط حیدر آباد اور انڈیا سے ریاست کے جبری الحاق پر سخت دلبرداشتہ ہوئے اور جلاوطنی کی زندگی اختیار کی اور جلا وطنی کے دوران "حیدرآباد لیبریشن سوسائٹی” کے نام سے ایک تنظیم بھی بنائی.

    1950 میں پاکستان کا پہلا قانونی مسودہ بن رہا تھا تو آپ سے رابطہ کیا گیا آپ پاکستان تشریف لائے.

    آپ نے 1952 سے 1978 تک ترکی کی مختلف جامعات میں پڑھایا

    1980 میں جامعہ بہاولپور میں طلبہ کو خطبات دیے جنہیں بعد ازاں خطبات بہاولپوری کے نام سے شائع کیا گیا

    یہ عظیم علمی اور فکری شخصیت 17 دسمبر 2002 کو امریکی ریاست فلوریڈا میں انتقال کر گئی.

    یہ ایک فرد تنہا تھے لیکن کام کئی جماعتوں سے زیادہ کر گئے،اللہ تعالی انہیں غریق رحمت کرے.

    جمع،ترتیب،ترجمہ
    بقلم فردوس جمال !!!

  • تحریک آزادی اورعلماءاہلحدیث:جمع و ترتیب:-  عبدالرحمن ثاقب

    تحریک آزادی اورعلماءاہلحدیث:جمع و ترتیب:- عبدالرحمن ثاقب

    آزادی ایک نعمت ہے اس کی جس قدر قدر کی جائے کم ہے۔

    آزادی پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملا کرتی بلکہ اس کے لیے مسلسل اور بےتحاشہ قربانیاں دینا پڑتی ہے تب جا کر منزل کا حصول ہوتا ہے۔
    ہندوستان کے مسلمانوں نے دوقومی نظریے کی بنیاد پر ہندوستان سے آزادی کا نعرہ رستہ خیز بلند کیا اور جہد مسلسل کے بعد اللہ تعالٰی نے انہیں ہندو بنیے سے آزادی عطا کی۔

    اس آزادی کے لیے بچوں،بوڑھوں، جوانوں، عورتوں اور عفت مآب بیٹیوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ خون کا ایک دریا عبور کرکے لوگ پاکستان پہنچے اور انہوں نے اس پاک سرزمین پر سجدہ شکر کے لیے سر جھکا دیے۔

    عورتوں نے اپنی عزت و عصمت بچانے کے لیے کنوؤں اور دریاؤں میں چھلانگیں لگا کر اپنی جانیں جان آفریں کے سپرد کیں، بچوں کو نیزوں کی انیوں میں پرویا گیا، جوانوں کو بیدردی سے شہید کیا گیا، خمیدہ کمروں والے بوڑھے والدین کے سامنے ان کے جواں اور گھبرو فرزندوں کو ذبح کیا گیا، عورتوں کے سامنے ان کے سہاگ اجاڑ دیے گئے، مساجد و مدارس اور ان میں قائم کتب خانوں کو جلا کر راکھ کر دیا گیا، وعظ، ذکروفکر اور درس و تدریس کی محافل و مجالس جو ایک عرصہ درازسے قائم تھیں اجڑ گئیں، مکانات و محلات اور کاروباری مراکز ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردیے گئے، ہندو، سکھ اور دیگر مسلمان دشمنوں نے تعصب اور اسلام دشمنی میں جو ہوسکا وہ جی بھر کر کیا اور مسلمانوں کا قتل عام کرکے خون کی ندیاں بہائیں،

    قرآن مجید اور دینی کتب جو جل جانے سے محفوظ رہ گئیں ان کی توہین کی، ایسی عفت مآب بیٹیاں جنہیں آسمان نے بھی نہ دیکھا تھا اگر دیکھ لیتا تو شرما جاتا انہیں کی عصمت دری کی گئی ان کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا جسے لکھنے سے قلم قاصر ہے۔

    سب نے سب ظلم و ستم برداشت کرلیے کہ ہم ایک اسلامی ملک کی بنیاد رکھ رہے ہیں جو ریاست مدینہ منورہ کی مثال ہوگا جہاں پر خلافت راشدہ کا نظام ہوگا لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ

    وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا میر کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

    اس ملک کے لیے مسلمانان ہند نے جس مقصد کے لیے قربانیاں دیں تھیں وہ پس پشت ڈال کر گورے انگریزوں کا نظام ان پر دوبارہ مسلط کردیا گیا۔

    جہاں دیگر طبقات کے لوگوں نے آزادی وطن کے حصول کے لیے قربانیاں دیں وہاں پر علماء اہل حدیث کسی سے پیچھے نہ رہے بلکہ مسلم زعماء کے کندھوں سے کندھا ملا کر چلے اور بغیر کسی طمع یا شہرت کے بھرپور جدوجہد کی۔

    23 مارچ 1940 کو آل انڈیا مسلم لیگ لاہور اور میں تاریخی اجلاس شروع ہوا جس میں ہندوستان بھر کے کے دور دراز کے علاقوں اور شہروں سے مسلم لیگ کے مندوب ہزاروں کی تعداد میں شریک ہوئے اس اجلاس میں میں سینکڑوں کی تعداد میں جہاں مسلم قائدین نے شرکت کی وہاں بے شمار اہل حدیث علماء نے بھی شرکت فرما کر اس تاریخی اجلاس کو کامیاب کیا۔

    خصوصا امام العصر حضرت مولانا حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی رحمت اللہ علیہ متوفی 1956، مولانا عبد المجید سوہدری رحمۃ اللہ علیہ متوفی 1959، محدث العصر حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ متوفی جون 1985، مولوی مولانا سید محمد اسماعیل غزنوی متوفی 1960، مولوی مولانا محمد عبداللہ ثانی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 1983، مولانا محمد اکرم خان محمدی رحمہ اللہ کلکتہ متوفی 1968، مولانا عبداللہ الباقی بنگال رحمہ اللہ، خان مہدی خان زمان رحمہ اللہ کھلابٹ ہزارہ، میاں عبدالحق برج جیوے کا ضلع ساہیوال، چوہدری عبدالکریم زیروی، چوہدری عبدالستار فیروزپوری، مولانا محمد عبد اللہ رحمہ اللہ اور مولانا فضل الہی وزیرآبادی ایک ملنگ کے روپ میں شریک تھے کانفرنس میں بانی پاکستان کی صدارت میں مولوی فضل الحق بنگالی نے جسے شیر بنگال بھی کہا جاتا تھا قرارداد پیش کی

    اس قرارداد کی تائید بانی پاکستان نے ایک بھرپور تاریخی خطاب فرمایا جس کے شعلہ بیان خطیب مقرر بہادر یارجنگ حیدرآبادی نے فرمائی اجلاس کیا تھا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر۔۔۔ دور حد نگاہ تک انسان ہی انسان نظر آتے تھے مسلمانوں نے بڑے جوش وخروش اور جذبہ ولولہ سے قرارداد کی تصدیق و توثیق کی۔ ہندو پریس کی نوازش سے ہی قرارداد لاہور قرارداد پاکستان قرار پائی۔ پاکستان کے حصول کے لیے لیے اہل حدیث علماء نے بہت زیادہ قربانیاں دیں۔ ہندوستان بھر کے اہل حدیثوں کو مسلم لیگ میں شمولیت اور قیام پاکستان کی تحریک کی تائید کرنے کی تلقین کی گئی ۔

    اس سلسلے میں مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی، مولانا محمد اکرم خان محمدی کلکتہ، مولانا عبد اللہ الکافی، مولانا عبد الباقی، مولانا علامہ راغب احسن ڈھاکہ، مولانا محمد حسین میرٹھی، خان محمد زمان خان کھلابٹ ضلع ہزارہ، مو لا نا محمد ادریس تتریلہ ضلع تہکال بالا پشاور، پشاور کے ارباب خان عبدالمجید خان، سندھ کے پیر احسان اللہ راشدی پیرآف جھنڈا، مولانا سید محمد اسماعیل غزنوی، مولانا عبدالمجید سوہدروی، مولانا سید عبدالغنی شاہ، مولانا ابو الحسن محمد یحی امرتسری، محدث العصر حضرت حافظ محمد گوندلوی، مولانا علی محمد صمصام، مولانا محمد شبلی فیروزپوری، مولانا محمد عبداللہ ثانی، مولانا محمد یوسف کمیرپوری، مولانا اللہ بخش کمیرپوری، چوہدری عبد الکریم زیروی، چودھری عبدالستار فیروزپوری، مولانا محمد علی لکھوی، مولانا عبداللہ بڈھیمالوی، مولانا محمد سلیمان روہڑی، حافظ علی بہادر بمبئی، مولاناعبداللہ کھپیاں والوی، مولوی مولانا محمد یونس دہلوی، میاں عبدالحق برج جیوے خان ضلع ساہیوال، حاجی محمد انور ایم ایل اے فیصل آبادی، چوہدری محمد عبداللہ آف اوڈانوالہ، امیرالمجاہدین صوفی محمد عبداللہ اللہ، مولانا فضل الہی وزیر آبادی رحمۃ اللہ، مولاناعبدالحکیم ندوی، قصوری غازی عبدالغنی مجاہد، میاں عبدالعزیز مال واڈہ لاہور، مولانا محمد یوسف کلکتوی، مولانا عبدالمجید دینا نگری، حکیم نور دین فیصل آبادی، میر عبدالقیوم فیصل آبادی،مولانا عبدالقادر روپڑی، مولانا محمد اسماعیل روپڑی، میاں محمود علی قصوری، خواجہ محمد صفدر، مولانا محمد عبداللہ اوڈ، شیخ القرآن مولانا محمد حسین شیخوپوری اور دیگر اعیان اہل حدیث کی قیام پاکستان میں خدمات نہ صرف قابل فراموش بلکہ سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہیں اہل حدیث کے کے بچے بچے نے قیام پاکستان کے لیے بے شمار قربانیاں پیش کیں۔ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہوئے اپنی گردنیں کٹوا کر قیام پاکستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا۔

    تحریک آزادی اورعلماءاہلحدیث:جمع و ترتیب:- عبدالرحمن ثاقب سکھر

    ماخوذ از
    ( تحریک پاکستان میں علماء اہل حدیث کا حصہ نمبر 366,367,368، بحوالہ سیاسیات برصغیر میں اہل حدیث کا حصہ صفحہ نمبر 60,61)

  • مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ  کی اسلام کے لئے خدمات  بقلم:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ کی اسلام کے لئے خدمات بقلم:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    کتاب ” #حجیت_حدیث”

    بقلم:- #عبدالرحمن ثاقب سکھر

    مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ناظم اعلی بعد ازاں امیر منتخب ہوئے۔ اللہ تعالٰی نے آپ کو بڑی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ آپ بیک وقت منتظم، مدرس، کہنہ مشق صحافی، بےمثال ادیب، مناظر، مصنف اور بلند پایہ خطیب اور عظیم قائد تھے۔
    آپ نے مدرسہ نذیریہ میں شیخ الحدیث مولانا عبد الجبار عمر پوری،مدرسہ غزنویہ امرتسر میں مولانا عبد الغفار غزنوی، مولانا عبد الرحیم غزنوی، قیام امرتسر میں ہی مولانا مفتی محمد حسن ( دیوبندی) بانی جامعہ اشرفیہ لاہور اور سیالکوٹ میں مولائے میر مفسر قرآن علامہ محمد ابرہیم میرسیالکوٹی سے علمی اکتساب کیا۔ فراغت کے بعد آپ نے گوجرانولہ کو اپنا مرکز بنایا اور گوجرانولہ کی جامع مسجد اہل حدیث میں مدرسہ محمدیہ کی بنیاد رکھی۔
    آپ کی علمی شخصیت کو دیکھتے ہوئے مفتی اعظم سعودی عرب شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ نے آپ کو جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں پڑھانے کے لیے بلوا بھیجا لیکن آپ نے گوجرانولہ میں رہ کر پاکستان میں خدمت دین کو ترجیح دی۔
    مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ پانچ وقت نمازیں بھی پڑھاتے، تدریس بھی کرتے، تبلیغی و تنظیمی اسفار بھی جاری رہتے، آپ نے کثیرالاشتغال زندگی گذاری۔ سب کاموں کے باوجود قلم و قرطاس سے ناطہ جوڑے رکھا۔ آپ نے بہت زیادہ تو نہیں لکھا لیکن جو لکھا وہ خوب لکھا۔ آپ کی تحریر میں روانی، سلاست بیانی، الفاظ کا چناؤ اور ان کا برمحل استعمال اور شیفتگی بدرجہ اتم موجود ہوتی تھی۔ آپ کو اردو زبان وادب، اور انشا پردازی کے ساتھ ساتھ عربی زبان اور اس کے لب و لہجہ کے اس کی لطافتوں اور نزاکتوں پر بھی عبور کامل حاصل تھا۔
    مولانا سلفی صاحب کا قرآن مجید کے بعد پسندیدہ موضوع حدیث،حجیت حدیث، تدوین حدیث اور محدثین کے کارنامے تھا۔ال پاکستان اہل حدیث کانفرنس کے موقع پر آپ کی عموماً گفتگو حجیت حدیث، مقام حدیث، مسلک اہل حدیث، تاریخ اہل حدیث اور خدمات اہل حدیث کے موضوع پر ہوا کرتی تھی۔
    برصغیر میں فتنہ انکار حدیث نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مقام رسالت اور احادیث مبارکہ سے راج فرار کی کوشش کی۔ انہیں دراصل دشمنان اسلام مستشرقین کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ یہ گروہ تحقیق و جستجو کے نام پر مقام رسالت، حفاظت حدیث، تدوین حدیث اور محدثین عظام کی کوششوں کے بارے شکوک وشبہات پیدا کرکے اسلام کا تشخص ختم کرنے پر درپے ہے۔ عبداللہ چکڑالوی سے لےکر جاوید غامدی تک کی یہی کوشش اور چاہت رہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح سے اسلام کا حلیہ بگاڑ دیا جائے۔لیکن عاملین بالحدیث کی جماعت نے ہمیشہ سے ان کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا ہے۔ اور عملی میدان میں تحریری و تقریری ان کا علمی محاسبہ کیا اور جواب دیاہے۔ اس میں بہت سے علماء اہل حدیث کی کوششیں شامل ہیں۔
    زیرنظر کتاب ” حجیت حدیث” مولانا محمد اسماعیل سلفی صاحب کی ہے جس میں چار رسائل موجود ہیں۔ جس حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و اہمیت، تشریعی حیثیت، حدیث کی حجت، درایت حدیث کے ساتھ ساتھ منکرین حدیث، مولانا مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی وغیرہ کے شبہات اور اعتراضات کا بڑے عمدہ اور دلنشین انداز میں جواب دیا گیا ہے۔ اپنے موضوع پر ایک عمدہ کتاب ہے جو طنز و تشنیع سے ہٹ کر خالص علمی انداز میں لکھی ہے۔ مولانا سلفی صاحب کی کتب فرقہ واریت کے حبس میں ہوا کا تازہ جھونکا کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جن میں آپ کا محدثانہ رنگ نظر آتا ہے۔ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے شغف رکھنے والے اور جس کے دل میں حدیث کے بارے معمولی سا بھی شائبہ ہو وہ ضرور اس کا مطالعہ کرے۔ مبتدی طلباء سے لے کر علماء کرام اور عام بندوں کے لیے یکساں مفید ہے۔
    اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے محترم جناب حافظ شاہد محمود صاحب حفظہ اللہ کو جنہوں نے مولانا اسماعیل سلفی صاحب کے علاوہ نواب جاہ والا حضرت نواب صدیق حسن خان قنوجی رحمت اللہ علیہ و دیگر علماء کی کتابوں کو پردہ عدم سے نکال کر ایک نئے انداز اور جدید تقاضوں کے مطابق منظر عام پر لائے ہیں اور ہم جیسے طلبہ ان سے مستفید ہورہے ہیں۔

  • کشمیر کی آزادی کے لیے پاکستانی آپشن….تحریر: انشال راٶ

    کشمیر کی آزادی کے لیے پاکستانی آپشن….تحریر: انشال راٶ

    آزادی حاصل کرنے کے بعد سے ابتک پاک بھارت مخاصمت و عداوت میں 73 برس گزر چکے ہیں اور بلاشبہ مسئلہ کشمیر دونوں کے مابین خوشگوار تعلقات کی راہ میں بنیادی تنازعہ ہے۔ یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں بھی گیا، بہت سے ممالک نے ثالثی کی کوشش بھی کی اور کئی بار پاک بھارت باہمی مذاکرات بھی ہوے لیکن کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہ ہوا۔

    مودی سرکار کے آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے زریعے کشمیر کو بھارت میں شامل کیے جانے کے بعد ایک بار پھر مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر موجود مسائل میں صف اول پر آگیا ہے جس کے نتیجے میں کسی بھی لمحہ ہولناک جنگ کی صورت عالمی امن سبوتاژ ہوسکتا ہے۔ اس مسئلے کو لیکر اگر پچھلی سات دہائیوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں پڑوسیوں نے سیاسی و سفارتی لحاظ سے کوئی کسر روا نہ رکھی لیکن بجائے مفاہمت کے مخاصمت میں اضافہ ہوا۔ بھارت کا موقف ہے کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے جبکہ پاکستان اسے اپنی شہ رگ قرار دیتا ہے ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ہو تو کیونکر ہو اور پاکستان کے پاس مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے کیا آپشن ہیں؟

    تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں اس سوال کا قابل عمل حل کیول سیاسی و سفارتی جدوجہد سے تو مشکل ترین نظر آتا ہے ماضی کی تاریخ اور موجودہ چین امریکہ رسہ کشی کے ماحول میں وقتی طور پر تو یہ ناممکن ہے۔ ماضی میں سیکیورٹی کونسل نے متعدد قراردادیں پاس کیں لیکن سوویت کے ہوتے ہوے بھارت فائدہ اٹھاتا رہا اور اب اس کا الٹ یہ کہ بھارت کے ہاتھ امریکی، برطانوی، فرانسیسی سپورٹ موجود ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان سیاسی و سفارتی میدان خالی کردے بلکہ کشمیر پالیسی میں جارحانہ رویہ اپنانا چاہئے اور انتظامی سطح پر کشمیر کمیٹی کو ختم کرکے کشمیر و بھارت ڈیسک قائم کرنی چاہئے جس میں سول و ملٹری اہل دانش و بینش کو تعینات کیا جائے جس طرح امریکہ کی الگ الگ ڈیسک ہیں برائے جنوبی ایشیا، برائے مڈل ایسٹ، برائے افریقہ وغیرہ وغیرہ۔

    ایسی صورتحال میں جب عالمی طاقتیں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سنجیدہ نہ ہوں تو پاکستان کے پاس کیا آپشن باقی رہتے ہیں؟ اس ضمن میں ایک تو روایتی طریق ہے کشمیری مجاہدین کی اخلاقی و سفارتی مدد جاری رکھیں لیکن اس سے بھارت کو پریشانی کا سامنا ضرور کرنا پڑتا ہے لیکن وہ کشمیر سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں، کشمیری مجاہدین مسلح جدوجہد سے ایک طرف تو بھارتی فوج کو الجھائے رکھ سکتے ہیں دوسری طرح مسلح جدوجہد سے جانی نقصان پہنچا سکتے ہیں لیکن اس سے بھارت کو کوئی خاطرخواہ نقصان نہیں، وہ ہزار فوجیوں کے بدلے دو ہزار اور بھرتی کرسکتا ہے۔ دوم سفارتی محاذ کا آپشن ہے جو بارہا آزما آکر دیکھ لیا ہے لیکن مطلوبہ اہداف حاصل نہ ہوسکے۔ لہٰذا اب پاکستان کو اپنی پالیسی میں تبدیلی لا کر سفارتی محاذ کے ساتھ ساتھ Tit for Tat کے تحت بھارت کو معاشی طور پر بلاک کرنا ہوگا،

    بھارتی منڈیوں کا زبردست نعم البدل پیدا کرنا ہوگا جیسے بھارت نے پاکستان کو معاشی کنگال کرنے کی کوشش کی اور اس نے اس کے لیے مذموم طریقہ اپناتے ہوے پاکستان میں دہشتگردی کا بازار گرم رکھا۔ پاکستان بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دے سکتا ہے لیکن مودی کے ہوتے ہوے کسی کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں جیسا کہ مرحوم جنرل حمید گل نے فرمایا تھا کہ مودی پاکستان کے لیے قدرت کا تحفہ ثابت ہوگا اور ویسا ہی ہوا، مودی نے ہندوتوائی پالیسیوں کے زریعے بھارت میں تقسیم در تقسیم کی سی صورتحال پیدا کردی ہے، مسلمان مجموعی طور پر خود کو غیرمحفوظ سمجھ رہے ہیں،

    سکھ بھی بھارت سے زیادہ خوش نہیں اور آج بھی ان کے دلوں میں 1984 کے زخم زندہ ہیں، اس کے علاوہ سیون سسٹرز میں پہلے سے آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں، دلت بھی زخم کھا کھا کر آتش فشاں بنے بیٹھے ہیں، تامل اور بدھ خود کو ہندو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں، ایسے میں کسی بھی لمحے بھارت کی گلی گلی جنگ چھڑ سکتی ہے جس پر قابو پانا بھارت کے بس کی بات نظر نہیں آتی۔ جس دن مودی کا پیدا کردہ یہ آتش فشاں پھٹے گا اس دن اس سے نکلنے والا لاوا بھارتی معیشت کو راکھ کردیگا۔

    اس کے علاوہ مودی سرکار بھارت کی روایتی پالیسی کو ترک کرکے ایک طرف تو سیکیولرزم کی جگہ ہندو راشٹر اور دوسری طرف ریاست کو امریکی سیٹلائٹ بنا بیٹھی ہے نتیجتاً بھارت میں داخلی سطح پر بہت سی فالٹ لائن پیدا ہوگئی ہیں اور مزید ہونگی جبکہ دوسری طرف چین کسی صورت بھی بھارت کو چین کی جگہ عالمی فیکٹری بننے نہیں دے گا۔ بھارت کی داخلی صورتحال نے ایک بار پھر وقت کے پہیے کو پیچھے کی جانب دھکیل دیا ہے اور ایک بار پھر وہاں تقسیم ہند سے پہلے کی سی صورت پیدا ہوگئی ہے اور پاکستان کو ان فالٹ لائنز و صورتحال سے فائدہ اٹھانا چاہئے تاکہ اگلے پچھلے قرضے چکائے جائیں۔

    آرزوئے سحر
    کشمیر کی آزادی کے لیے پاکستانی آپشن….تحریر: انشال راٶ