Baaghi TV

Category: مسلم دنیا

  • قربانی : سنت ابراہیمی کے ،سماجی اور معاشی اثرات :—-از—امین طاہر

    قربانی : سنت ابراہیمی کے ،سماجی اور معاشی اثرات :—-از—امین طاہر

    عید الاضحی سنت ابراہیمی ہونے کے علاوہ معاشی سرگرمیوں کابھی بے مثال اور منفرد موقع ہے، جس سے مذہبی فریضے کی تکمیل کے ساتھ ساتھ معاشرے کے مختلف طبقات معاشی طور پر بھی مستفید ہوتے ہیں۔

    بڑی عیدجسے قرنانی کی عید اورمعروف اوراسلامی نام عید الاضحٰی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے گزرچکی ہے اورعید کے دن سے لیکراگلے تین دن تک سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ جومعاشی سرگرمیاں دیکھنے میں ملی ہیں اس کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔

    جہاں پر یہ تہوار غربا و مساکین کو خوراک مہیا کرتا ہے وہاں یہ ہماری معیشت کے پہیے کو تیز رفتاری بھی بخشتا ہے۔عید قربان پر ہرسال پاکستانیوں کی کثیر تعداد سنت ابراہیمی کی ادائیگی کیلئے لاکھوں چھوٹے اور بڑے جانوروں کی قربانی کرتی ہے۔

    عید الضحیٰ کے موقع پر عوام سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں جانور کی قربانی کر تے ہیں،اِس نیک عمل کا ثواب تو مسلمانوں کو ملتا ہی ہے لیکن دوسری جانب لیدر انڈسٹری اپنی 30 فیصد چمڑے کی طلب قربان ہونے والے جانوروں کی کھال سے پوری کرتی ہے۔ رواں برس کورونا کے باعث عالمی منڈی بند ہونے کی وجہ سے چمڑے کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔

    پاکستان ٹینری ایسوسی ایشن کے مطابق گذشتہ سال 2019میں عید قربان پر 30 لاکھ سے زائد بڑے جانوروں جبکہ 23 لاکھ بھیڑ بکریوں اور 3 لاکھ سے زائد دنبوں کی قربانی دی گئی تھی۔جس سے معیشت کو 200ارب روپے سے 300 ارب روپے سے زیادہ کا سہارا ملا تھا۔

    اِس شعبے سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ جہاں چمڑا سازی کی صنعت سے کئی لوگوں کا روزگار جڑا ہے وہاں چمڑے کی مصنوعات کی برآمدات سے 1 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ بھی حاصل ہو تا ہے۔ عیدالالضحیٰ پر قربانی کی کھالوں سے ملک میں چمڑے کی صنعت کو بہت فروغ ملتا ہے۔جبکہ گاڑیوں میں جانور لانے اور لے جانے والوں نے کروڑوں کا کاروبارکیا۔

    ایک روپورٹ کے مطابق پاکستان میں سنت ابراہیمی کے تحت ہر سال عید قرباں پر لاکھوں جانور قربان کئے جاتے ہیں، عید الاضحی پر ہر سال 350 سے 400 ارب روپے تک کا کاروبار ہوتا ہے، مویشیوں کے علاوہ اس عید پر کھال، چارہ، چھری چاقو، قصاب، آرائشی سامان کی مد میں ہر سال معیشت کو تقریباً 4 سو ارب کا فائدہ ہوتا ہے۔

    گزشتہ سال بھی عید پر عوام نے عید الاضحی پر سنت ابراہیمی کی پیروی کیلئے جانوروں خریداری اور دیگر اشیاء کے علاوہ کپڑوں اور جوتوں و دیگر اشیاءکی خریداری پر کروڑوں روپے خرچ کرکے معیشت کو فائدہ دیا تھا۔

    اسی طرح 2018میں عید پر تقریبا 350 ارب روپے پاکستانی معیشت میں شامل ہوئے تھے۔ سال 2017 میں تقریبا 70 لاکھ جانوروں کو عید کے موقع پر ذبح کیا گیا۔ تین ارب روپے سے زائد مویشیوں کے چارے کے کاروبار نے کمائے تھے۔ کھالوں سے چمڑے کی تیاری کے لئے فیکٹریوں میں کام کرنے والوں کو مزید کام ملاتھا۔ سال 18-2017 میں چمڑے سے 948,363 ڈالر کی مصنوعات برآمد کی گئیں۔چمڑے کی مصنوعات میں ملبوسات، جوتے، دستانے، کپڑوں کے علاوہ دیگر اشیا شامل ہیں۔

    عید الاضحٰی کے لیے قربانی کے جانوروں کو بڑے پیمانے پر ملک کے دیہی علاقوں سے ملک کے دیگر بڑے شہروں میں لایا جاتا ہے اور بڑے پیمانے پر قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ اس طرح اربوں روپے کا سرمایہ شہروں سے دیہی اور زرعی معاشرے میں منتقل ہوجاتا ہے۔ ملک بھر میں کتنی مالیت کے جانور فروخت ہوتے ہیں اس بارے میں کوئی قابلِ بھروسہ اعداد و شمار تو موجود نہیں ہیں البتہ قربانی کے بعد جمع ہونے والی کھالوں سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

    اس سال پورے ملک میں سنت ابراہیمی کے حوالے سے قربانی کی مد میں 3کھرب کے لگ بھگ خرچ ہوئے ہیں ۔اس میں تمام اقسام کے اخراجات شامل ہیں جانوروں کی خریداری ،مویشی منڈی کے کرائے ،ٹرانسپورٹ کے کرائے ،قصابوں کی اجرتیں اور دیگر چھوٹے اور نادیدہ اخراجات شامل ہیں ۔اخبارات میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق صرف کراچی میں 65ارب روپئے کے قربانی کے مویشی فروخت ہوئے ہیں پورے ملک میں صرف قربانی کے جانوروں کی خریداری میں ایک کھرب سے زائد خرچ ہوئے ہیں ۔

    اسلام کے معاشی اصولوں کا ہم جائزہ لیں تو ہمیں یہ نظر آئے گا کہ اسلام تقسیم دولت اور گردش دولت پہ زیادہ زور دیتا ہے اسی لیے اسلام میں دولت کو گن گن کر جمع کرنے کی ممانعت کی گئی ہے وہ خرچ پر زیادہ زور دیتا ہے یعنی یہ کہ آپ کو اپنے کاروبار میں فائدہ ہورہا ہے تو اس سے مزید اپنے کاروبار کو وسعت دیں اس سے بیروزگاری کم ہوگی پھر بھی سال میں کچھ رقم بچ جاتی ہے تو اس پر زکوۃ فرض کی گئی ہے ،تاکہ دولت معاشرے کے محروم طبقات تک پہنچ جائے اسی طرح صدقات پر بھی زور دیا گاہے

    مختلف احادیث میں اس کی ترغیب دلائی گئی ہے یہ بھی تقسیم دولت کی ایک شکل ہے اسی طرح تقسیم دولت کا یک اہم ذریعہ وراثت کی تقسیم بھی ہے ۔اگر ہم عید قربان میں ہونے والی معاشی سرگرمیوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ایک بہت بڑی دولت لوگوں کی جیبوں سے نکل کر گردش میں آتی ہے اور اس سے لاکھوں لوگوں کا روزگار لگ جاتاہے یا بڑھ جاتا ہے ۔نبی اکرم ﷺ نے سنت ابراہیمی کی بیشتر چیزوں میں جن چیزوں کو برقرار رکھا ہے اس میں یہ عید قربان کی سنت ہے ۔اس سنت کی ادائیگی سے جہاں ہم اطاعت رسول ﷺ کا مظاہرہ کرتے ہیں وہیں دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ یہ سنت ملک کی معشیت پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے جو ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہوئی نظر آتی ہے ۔

    عید قربان کے سماجی اثرات پر بات اگر کی جائے گی تو اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ جس طرح ماہ رمضان میں ہر غریب سے غریب آدمی افطاری کی شکل میں وہ چیزیں کھاپی لیتا ہے جو عام دنوں میں اسے نصیب نہیں ہو پاتی ۔اسی طرح عید قرباں میں ہر اس فرد کو دل بھر کر گوشت کھانے کو مل جاتا ہے جتنا وہ عام دنوں میں نہیں استعمال کر پاتا ۔

    لیکن اس کو ایک اور زاویے سے بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ قربانی کے گوشت کی تقسیم کا احسن طریقہ یہ بتایا گیا ہے کہ اس کے تین حصے کیے جائیں ایک حصہ رشتے داروں اور پڑوسیوں میں تقسیم کیا جائے ایک حصہ غرباء و مساکین اور مستحقین میں دیا جائے اور ایک حصہ خود اپنے استعمال میں لایا جا سکتا ہے لیکن اگر کوئی قربانی کا تمام گوشت اپنے استعمال کے لیے رکھے تو کوئی مضائقہ نہیں اگر تمام کی تمام وہ رشتے داروں میں تقسیم کردے تو کوئی حرج نہیں اور اگر وہ سارا گوشت مستحقین میں بانٹ دے تو یہ اس کی مرضی ہے ۔

    اس سنت ابراہیمی کے سماجی پہلو میں وہ تمام مدرسے اور خدمتی ادارے بھی آجاتے ہیں جو ان اداروں کی آمدنی کا بہت بڑا ذریعہ ہیں ہر مدرسے میں قربانی کھالیں جمع کی جاتی ہیں جہاں بچوں کو قران پڑھایا اور حفظ کرایا جاتا ہے اسی طرح سماجی خدمات کے ادارے بھی کھالیں وصول کرتے ہیں اورپھرسارا سال اس آمدنی سے لوگوں کی خدمت کرتے ہیں

    ویسے تو ہر سال بقرعید میں فریج اور ڈیپ فریزر عام دنوں سے زیادہ فروخت ہوتے ہیں لیکن اس سال یہ شرح پچھلے تمام برسوں سے زیادہ ہے

    عید پر قربانی کے بعد جانوروں کی کھالیں فلاحی اداروں کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بنتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں عید پر کھالیں جبری طور پر حاصل کرنے اور کھالوں پر چھینا جھپٹی کے مسائل سامنے آتے رہے ہیں۔ اس مسئلے کے تدارک کے لیے حکومت کی جانب سے کھالیں جمع کرنے کا ضابطہ اخلاق جاری کیا گیا ہے اور عید پر جمع ہونے والی کھالوں کو بحفاظت گودام تک پہنچانے کے لیے ریاست کی جانب سے سیکیورٹی بھی فراہم کی جاتی ہے۔ی

    صرف لاہورشہرکی چند بڑی منڈیوں کی صورت حال کا جائزہ لیں تو یہ اعدادوشمارسامنے آتے ہیں کہ مویشی منڈیوں میں جانوروں کی خریدوفروخت کے ماضی کے تمام ریکارڈٹوٹ گئے ،شہر کی 12 منڈیوں میں 17لاکھ 71 ہزار 338 چھوٹے بڑے جانوروں کی خریدوفروخت ہوئی جبکہ 79ارب 45 کروڑ 67 لاکھ سے زائد کا کاروبار ہوا ۔

    تاہم شاہ پور کانجراں ،لکھو ڈیر،سگیاں،پائن ایونیو ،حضرت عثمان غنی روڈ پر سب سے زیادہ کاروبار ہوا ۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پنجاب کے 36اضلاع میں شہر لاہور قربانی اور معاشی سرگرمیوں کے لحاظ سے نمبر ون قراردیا گیا۔ اعدادوشمار کے مطابق 10لاکھ 72ہزار 842 چھوٹے جبکہ6لاکھ 98ہزار398 بڑے جانور فروخت ہوئے ۔

    چھوٹے جانور کا 37ارب 55کروڑ 29لاکھ70ہزار ،بڑے جانور کا 41ارب 90کروڑ37لاکھ60ہزار روپے کا کاروبار ہوا۔گزشتہ برس 16 لاکھ 3 ہزار جانوروں کی فروخت ہوئی۔لکھو ڈیر منڈی میں چھوٹے بڑے 2لاکھ 30ہزار ،ایل ڈی اے سٹی 1لاکھ 17ہزار،پائن ایونیو 1لاکھ 78ہزار، کاہنہ کاچھا 1لاکھ39ہزار ،ڈیفنس نائن 1لاکھ 47 ہزار، کاہنہ رنگ روڈ1لاکھ 50ہزار ،سگیاں 2لاکھ 26ہزار، این ایف سی 1لاکھ 35ہزار، رائیونڈ مانگا منڈی 1لاکھ 11ہزار ،شاہ پور کانجراں ڈھائی لاکھ ،سندر 1لاکھ 20ہزار ،حضرت عثمان غنی روڈ سگیاں منڈی میں 1لاکھ72 ہزار جانوروں کی فروخت ہوئی۔سرکاری حکام کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیشی نظر شہرمیں قربانی کاتناسب حج پر پابندی عائد ہونے کی وجہ سے زیادہ رہا،تاہم دیہی معیشت کومجموعی طورپر تقویت ملی ہے ۔

    کورونا وباء نے عالمی منڈی میں نے چمڑے کی عالمی مارکیٹ کو کریش کردیا ہے اور اس کے منفی اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔ پاکستان میں ٹینری ایسوسی ایشن بھی بحران کا شکار ہے۔ متعدد ٹینریز بند ہوگئی ہیں اور کئی ٹینریز کے پاس اسٹاکس پڑے ہوئے ہیں اور فروخت نہیں ہورہے ہیں۔پاکستان ٹینری ایسوسی ایشن کےمطابق عالمی منڈی میں چمڑے کی قیمتوں میں کمی واقع ہونے کے باعث گزشتہ برسوں کی طرح اس بار جانوروں کی کھالوں کی قیمت خرید مزید کم ہوگی۔

    گزشتہ سال گائے، بیل کی کھال 500 سے 900 سو روپے میں خریدی گئی۔ اس بار بھی 500سو سے 900 سو روپے میں خریدی گئیں۔ بکرے کی کھال گزشتہ سال50 سے 130 روپے تک میں فروخت ہوئی۔ اس باربھی یہ کھال 50 روپے 130 میں خریدی گئی ہے ۔ دنبے کی کھال گزشتہ سال 80 روپے سے 100 روپے میں خریدی گئی، اس بار بھی اتنی ہی قیمت میں خریدی گئی۔ اونٹ کی کھال گزشتہ سال 800 روپے میں خریدی گئی اور اس بار بھی اتنی ہی قیمت میں خریدی گئی

    کھالوں کی قیمت گرنے کی کئی وجوہات ہیں۔ کھالیں یورپ تو بھیجی جارہی ہیں، تاہم ایکسپورٹ ڈیمانڈ کم ہونے پر ہم قیمت نہیں بڑھا سکتے۔ عالمی منڈی میں پاکستان صرف لیدر فراہم کرتا ہے۔ چائنا نے جب سے آرٹیفیشل لیدر بنا کر اٹلی اور ترکی کو دینا شروع کیا ہے، کھالوں کی مارکیٹ خراب ہوگئی ہے۔ اس طرح پاکستانی لیدر کی مارکیٹ اٹلی اور ترکی میں خراب ہو رہی ہے اور ڈیمانڈ کم کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ڈالر کا بھی مسئلہ چل رہا ہے، اس طرح مارکیٹ پر مزید منفی اثر پڑے گا۔

    کھالوں کی قیمت میں اس کمی کے باعث انہیں جمع کرنے والے فلاحی اداروں کے عطیات پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ فلاحی تنظیم سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ کھالوں کی قیمت میں مسلسل کمی سے غرباء اور مساکین کی ہونے والی معاونت میں کمی ہوئی ہے۔ اس کا حل یہی ہے کہ قربانی کی کھالیں پہلے سے زیادہ تعداد میں جمع کی جائیں اور اس شعبے میں حکومت کی جانب سے سرپرستی بھی کی جائے۔

    پاکستان ٹینری ایسوسی ایشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹینریز کی صنعت جانوروں کی کھالوں کو پروسیس کرتی ہے اور انہیں چمڑے میں تبدیل کرتی ہے۔ پاکستان میں کھالوں کی قیمت کا تعین عالمی مارکیٹ کی صورتحال دیکھ کر کیا جاتا ہے۔پاکستان میں چمڑے کو پروسس کرنے والی ٹینریز کے علاوہ بڑے پیمانے پر چمڑے سے مصنوعات تیار کرنے والی صنعت بھی فروغ پارہی تھی مگر گزشتہ 3 سال کے بحران نے اس صنعت کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ عالمی سطح پر چمڑے کی برآمدی صنعت کا حجم 100 ارب ڈالر ہے۔

    یہ معاشی سرگرمیوں کا نقشہ پاکستان کا بیان کیا گیا ہے اگرعالم اسلام کو سامنے رکھتے ہوئے اس بات کا جائزہ لیا جائے توپھرتوصورت حال اوربھی دلچسپ بن جاتی ہے ، جیسا کہ امریکی ماہرین معیشت کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی چند دن کی عیدالاضحیٰ کی سرگرمیاں معیشت کووہ قوت بخشتی ہیں جوساری دنیا کی سال بھر کی معاشی سرگرمیاں نہیں بن سکتیں

  • فواد چوہدری اب اکتیس کو عید کریں، علامہ ابتسام الہٰی ظہیر کی گفتگو

    فواد چوہدری اب اکتیس کو عید کریں، علامہ ابتسام الہٰی ظہیر کی گفتگو

    علامہ ابتسام الہی کا کہنا ہے کہ چاند کوئی مذاق کی بات نہیں چاند کے ذریعے ہماری عبادات کا پتہ چلتا ہے

    باغی ٹی وی : فواد چوہدری ہر مرتبہ چاند کی پیدائش پر علماء اکرام اور رویت یہال کمیٹی کے ساتھ بحث و مباحثہ کرتے ہیں اس مرتبہ بھی چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان نے چاند کی رویت کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں ذی الحج کا چاند نظر نہیں آیا اور عید الاضحیٰ بروز ہفتہ یکم اگست کو منائی جائے گی جس پر وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا تھا کہ چاند کی پیدائش ہو چکی ہے لہذا عید الاضحیٰ 31 جولائی کو منائی جائے گی۔

    فواد حسین کی اس بات پر رد عمل دیتے ہوئے علامہ ابتسام الہی نے باغی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کے دوران کہا کہ فواد چوہدری کسی نہ کسی ایشو پر کوئی نہ کوئی تنازع کھڑا کرتے ہیں –

    علامہ ابتسام الحق کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں فواد چوہدری علماء کا شغل لگانا چاہتے ہیں یا ان کا مذاق بانا چاہتے ہیں لیکن چاند کوئی مذاق کی بات نہیں ہے چاند کا ہماری عبادات کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے –

    انہوں نے کہا فواد چوہدری کا مقصد صرف اور صرف علماء کا استہزا کرنا ہے لہذا اب وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور ان کے رفقاء کو یکم اگست کی بجائے 31 جولائی کو عید منانی چاہیے-

    فواد چوہدری کے چاند کی تاریخوں پر علماء اور رویت ہلال کمیٹی کے ساتھ جھگڑے کے سوال پر علامہ ابتسام الہی کا کہنا تھا کہ اس کے اندر ان کے رویے کے ساتھ بڑی قباحتیں پیدا پوئی ہیں علامہ ابتسام الحق نے مزید کہا کہ رویت ہلال کمیٹی پورے ملک سے شہادتیں اکٹھی کرتی ہے پھر وہ چاند کے نکلنے یا نہ نکلنے کا فیصلہ سناتی ہے اگر اس پر کوئی دوسرا ادارہ ان کے فیصلے کو نظر انداز کرتا ہے یا سوال اٹھاتا ہے تو یہ بہت زیادتی کی بات ہے-

    ان کہ کہنا تھا کہ دوسری بات یہ ہے کہ سائنس کا کام زمین پر زیادہ سے زیادہ ان کو اسسٹ کریں ان کو مشورہ دیں کہ ہمیں لگتا ہے چاند کے نظر آنے کے امکانات ہیں لہذا آپ اس بات پر فوکس کریں اور دھیان دیں لیکن ان کو ڈکٹیٹ کرانا چاند کا ایک دن پہلے اعلان کر دینا یہ کسی طور پر بھی مناسب بات نہیں ہے

    علامہ صاحب کا کہنا تھا کہ اور اس دفعہ یہ بات واضح طور پر سامنے آ گئی ہے کہ ان کی لیبارٹری جنہوں نے مشورہ دیا کسی اعتبار سے بھی ثابت نہیں ہو سکا اور پہلی تاریخ کے چاند کے بارے میں شک پیدا کرنے کی بات کر رہے ہیں جبکہ حقیقت میں پہلی تاریخ کا چاند 30 دن کے بعد نظر آتا ہے تو اس کی عمر 24 گھنٹے زیادہ ہوتی ہے 29 دن کے چاند کے مقابلے میں –

    علامہ ابتسام الہی کا کہنا تھا کہ لیکن اس کے باوجود عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو بالکل بھی مناسب بات نہیں ہے ہم یہ بات سمجھتے ہیں کہ اگر وہ اپنے دعوی میں سچے اور مخلص ہیں تو ان کو اور ان کے رفقاء کا یکم اگست کی بجائے 31 تارخ کو عید منانی چاہیئے جب وہ ظاہری طور پرعید بھی ہمارے ساتھ کریں گے تو اس سب ضد کا کیا فائدہ میں صرف اور صرف یہ سمجھتا ہوں کہ اس کا مقصد صرف علماء کا استہزا کرنا شعائراسلامی میں اپنی من مانی اور آرا کو داخل کرنا ہےیہ بڑا حساس معاملہ ہے

    علامہ ابتسام نے قرآن پاک کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ نے فرمایا کہ لوگ آپ سے نئے چاندوں کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس میں آپ لوگوں سے فرما دیجیئے کہ وقت کا تعین بھی ہے اور حج کا تعین بھی ہے،

    علامہ ابتسام الہی کا کہنا تھا چاند کوئی مذاق کی بات نہیں ہے اس کا ہماری عبادات عیدین اور حج کا گہرا تعلق ہے اگر آُ اس کو بھی استہزا کی بات بنا لیں گے تو میں یہ سمجھتا پوں کہ یہ عوام کو کنفیوز کریں گے جیسا کہ سوشل میڈیا پر دو پول بن چکے ہیں جو ان کی جماعت یا فالوورز ان کو ہر صورت فولو کرنے کو تیا رہیں جبکہ دوسری جانب لوگ شریعت کے پیروکار ہیں اور ان معملات کو شریعت کے تحت ہی حل کرنا چاہتے ہیں جن چیزوں میں ان کا مداخلت کرنا بنتا ہی نہیں ہے تو وہ ان چیزوں میں مداخلت کر کے کیوں تنازے کھڑا کرنے کی کوشش کرتے ہیں

    ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کی فیلڈ نہیں تھی لیکن ان کو کیبنٹ یں رکھنے کے لئے ایسی وزارت دے دی گئی ہے جو ان کی زبان بندی کا بندی کا باعث ہو لیکن پھر بھی وہ اپنی زبان بند کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کسی نہ کسی ایشو کے اوپہر تنازع کھڑا کرتے ہیں وہ علماء کا شغل لگانا چاہتے ہیں جو کسی بھی طور پر ایک اسلمامی جمہوری ملک میں مناسب نہیں ہے کہ علماء شعائر اسلام کے لئے استہزا کے رویے اپنائے جائیں

    علامہ ابتسام نے کہا کہ ایسے لوگ پہلے بھی آئے ہیں اور آئندہ بھی شاید آتے رہیں گے ایسے لوگوں کو نامرادی اور رسوائی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں پوا حکمےت اور بصیرت والی عقل کا تقضا یہی ہے کہ سابقہ لوگوں کے انجام سے عبرت حاصل کریں اور اپنے آُپ کو بُرے انجام سے بچائیں-

    کیا یہ پہلی کا چاند ہے؟ جب تھے ہی بادل توچاندکیسےنظرآتا: فواد چوہدری نے تصویر شیئر کردی

  • دنیا کے نقشے سے غائب فلسطینی نام غزوہِ بنی قینقاع کا منتظر از قلم ۔۔۔۔۔ غنی محمود قصوری

    دنیا کے نقشے سے غائب فلسطینی نام غزوہِ بنی قینقاع کا منتظر از قلم ۔۔۔۔۔ غنی محمود قصوری

    دنیا کے نقشے سے غائب فلسطینی نام غزوہِ بنی قینقاع کا منتظر
    از قلم ۔۔۔۔۔ غنی محمود قصوری

    قوم بنی اسرائیل قوم یہود اپنی چالاکی کی بدولت مشہور ہے یہ نہایت شاطر تھے اور دنیا کے امن و امان کیلئے انتہائی خطرہ تھے سو اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن مجید میں قوم بنی اسرائیل کی مثالیں دے کر سمجھایا
    یہودی اس قدر احسان فراموش ہیں کہ انہوں اپنے پیغمبر موسی علیہ السلام کی باتوں کا رد کیا کہ جنہوں نے فرعون کے چنگل سے ان کو آزادی دلوائی تھی
    اسرائیل دنیا کا واحد یہودی ملک ہے جس کی آبادی تقریبا 78 لاکھ اور رقبہ 8522 مربع میل ہے یوں تو بظاہر یہ ایک چھوٹی سی ریاست ہے مگر اس شاطر فطرت قوم نے ساری دنیا پر اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہیں آج دنیا کے بڑے بڑے برانڈ جیسے سام سنگ،ڈیل،ایریل، پیپسی وغیرہ انہی کی ملکیت ہے حتی کہ دنیا کا سپر پاور ملک امریکہ بھی اس ناجائز ریاست کے آگے بے بس ہے دنیا کے بڑے بڑے ادارے اسی کی ملکیت ہیں
    سوچنے کی بات ہے کہ ایک کمزور قوم ہمارے اوپر اس قدر مسلط ہو گئی کہ پہلے فلسطین پر قبضہ کیا اور اب عالمی نقشے سے فلسطین کا نام تک مٹا دیا گیا ہے مگر یہودی یہ بھول گئے کہ نقشوں سے قومیں نہیں ہوتیں قومیں تاریخ سے ہوتی ہیں سو اس بزدل قوم کی تاریخ اور اس کا علاج کیسے ہو گا آپ پر وضع کر رہا ہوں عہد رسالت سے
    عہد رسالت میں بھی یہودی مسلمانوں کو تنگ کرتے تھے اور معاشرے کیلئے خطرہ تھے سو میرے نبی نے اپنی شفیق و رحیم مزاج فطرت اور موسی علیہ السلام کی امت ہونے کے ناطے غزوہِ بدر سے پہلے ان مدینہ کے یہودیوں سے معاہدہ کیا ہوا تھا کہ جنگ کی صورت میں ایک دوسرے کی مدد کی جائے گی اور آپس میں اتحاد قائم رکھا جائیگا مگر بد فطرت یہودیوں نے جنگ بدر میں دھوکہ دیا
    یہودی زیادہ تر لوہاروں اور سوناروں کا کام کرتے تھے اس لئے ان کے پاس پیسے اور اسلحہ کی فراوانی رہتی تھی جس کے باعث یہ متکبر ہوتے چلے گئے
    شوال 2 ہجری کو یہودیوں کے قبیلہ بنو قینقاع کے ساتھ میرے نبی کا غزوہِ ہوا جس کی وجہ یہ بنی کہ ایک مسلمان عورت ایک یہودی سونار کے پاس خرید و فروخت کیلئے گئی تو اس یہودی سونار نے اس صحابیہ رسول کو کہا کہ نقاب اتار دے مگر میرے پاک نبی کی عفت مآب صحابیہ نے انکار کیا جس پر شاطر دماغ یہودی نے اس عورت کی چادر کسی چیز سے باندھ دی جب وہ عورت اٹھی تو اس کی چادر اس کے چہرے سے ہٹ گئی اس پر بیٹھے ہوئے یہودیوں نے قہقے لگائے
    اس سارے منظر کو ایک عاشق رسول صحابی دیکھ رہا تھا اس نے اس عورت کی توہین پر اس گستاخ یہودی کو قتل کر دیا تو بدلے میں یہودیوں نے بھی اس صحابی رسول کو شہید کر دیا
    بات نبی ذیشان تک پہنچی شفیق نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم خود بنو قینقاع کے پاس تشریف لے گئے اور ان کو سمجھایا کہ اللہ قوم یہود اللہ سے ڈرو کہیں بدر کی طرح تمہارا بھی حال قریش جیسا نا ہو جائے
    اس پر متکبر بنو قینقاع کے یہودیوں نے کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارا پالا قریش کے ناتجربہ کار جنگجوؤں سے تھا اگر تمہار پالا ہم تجربہ کار اور ماہر لڑاکا بنو قینقاع سے پڑا تو پتہ چل جائے گا
    بنو قینقاع کے یہ متکبرانہ جملے سیدھی جنگ کی دھمکی تھی
    لہذہ حکمت و بصیرت کے پیکر اور جرنیل اعظم جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے 15 شوال 2 ہجری کو صحابہ کی جماعت ساتھ لی اور بنو قینقاع کی طرف چل دیئے
    شاطر مگر بزدل بنو قینقاع کے یہودی اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کو ننگی تلواروں کیساتھ دیکھ کر دہشت زدہ ہو گئے اور بغیر لڑے قلعہ بند ہو گئے جس پر نبی کریم نے ان کا محاصرہ کر لیا جو کہ پندراں دن تک جاری رہا سولہوی دن یہودیوں نے اعلان شکشت کیا اور نبی کریم کی سپاہ نے تمام یہودیوں کو گرفتار کر لیا
    دستور عرب کے مطابق جنگی قیدیوں کو پھانسی دی جاتی تھی اور ان تمام جنگی قیدی بنو قینقاع کے یہودیوں کی موت بھی یقینی تھی سو ان بد فطرت اور شاطر یہودیوں نے عبداللہ بن ابی منافق کے ذریعے بارگاہ رسالت میں معافی نامہ بیجھا جسے میرے نبی نے رد کر دیا
    چونکہ عبداللہ بن ابی منافق ابھی نیا ہی مسلمان ہوا تھا اور اس کے بنو قینقاع قبیلے سے گہرے مراسم تھے اس لئے اس نے نبی کریم کی بارگاہ میں بار بار ان منافقین بنو قینقاع کی جان بخشی کی درخواست کی اور آخر نبی کریم نے عبداللہ بن ابی منافق کی درخواست قبول کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ سارے کے سارے فوری طور پر اپنا علاقہ چھوڑ کر چلے جائیں چنانچہ اصحاب محمد ان بنو قینقاع کے بزدل مگر متکبر یہودیوں کو انہی کے آبائی علاقے سے نکال کر خیبر تک چھوڑ آئے جہاں سے یہ پھر شام چلے گئے
    یہاں قابل غور بات ہے کہ یہودی کل بھی دولت و اسلحہ کے بل بوتے پر متکبر تھے اور آج بھی ہیں مگر نبی کریم نے ان کو تبلیغ کی تو یہ نا سمجھے مگر تلوار دیکھتے ہی یہ یہودی منافق چھپ گئے اور لڑے بغیر جان کی امان پانے پر مجبور ہو گئے اور آج بھی یہودی اسلحہ و دولت کے بل بوتے پر پوری دنیا پر اپنی ڈھاک بٹھائے ہوئے جسے پوری دنیا سمجھا سمجھا کر تھک چکی ہے کہ اسرائیل فلسطین پر ناجائز قبضہ ختم کرکے بیت المقدس کو آزاد کردے
    مگر متکبر یہودی آگے سے دھمکیاں دیتا ہے
    تاریخ گواہ ہے کہ یہ یہودی ایک بزدل اور منافق قوم ہے جو اسلحہ دیکھتے ہی سرنڈر کر دیتی ہے سو آج فلسطین پر ان کا قبضہ ختم کروانے اور دنیا کے نقشے پر اسرائیل کی بجائے فلسطین کا نام لانے کیلئے نبی ذیشان کی جماعت کا سا کام کرنا ہوگا ملت اسلامیہ کے حکمرانوں کو اپنا اسلحہ ان کو دکھانا ہوگا یقین کریں چاہے جتنی بھی بڑی ٹیکنالوجی ان کے پاس ہو مگر یہ لڑ نہیں سکتے یہ میدان چھوڑ کر بھاگنے والی منافق و بزدل قوم ہے مگر اس کیلئے ملت اسلامیہ کو جرأت مند لیڈران کی ضروت ہے تبھی غزوہِ بنی قینقاع کی یاد دہراتے ہوئے ان کو آج پھر فلسطین سے نکالا جا سکتا ہے دنیا کے نقشے پر آزاد فلسطین کا نام کنندہ کیا جاسکتا ہے بصورت دیگر کچھ نہیں ہوگا سوائے وقت کے ضیاع کے

  • فلسطین و کشمیر کی حمایت اہم ترین فریضہ…از….صابرابومریم

    فلسطین و کشمیر کی حمایت اہم ترین فریضہ…از….صابرابومریم

    مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر بر اعظم ایشیاء میں دو ایسے اہم ترین مسائل ہیں کہ جن کے منصفانہ حل کے بغیر خطے سمیت عالمی امن کی ضمانت نا ممکن ہے ۔ مسئلہ فلسطین کی بات کریں تو برطانوی استعمار کی سیاسی چال بازیوں کا شاخسانہ ہی نظر آتا ہے اور اسی طرح اگر کشمیر کی بات کی جائے تو یہاں بھی ا س مسئلہ کو ایجاد کرنے والی برطانوی حکومت ہی ہے ۔

    دور حاضر میں کہ جب ایک طرف دنیا کو کورونا وائرس جیسی خطر ناک وباء کا سامنا ہے تو ایسے حالات میں عالمی سامراج بشمول امریکہ اور اس کے حواری، غاصب صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل اور جنوبی ایشیاء میں ہندو شدت پسند مودی حکومت کورونا وائرس کی وباء کو نہ صرف فلسطین، کشمیر بلکہ دنیا کے دوسرے مماک میں جاری تشدد اور ظلم کی پالیسیوں سے توجہ ہٹانے کے لئے استعمال کر رہے ہیں ۔

    امریکہ اسرائیل کی پشت پناہی کر رہا ہے اور اسرائیل فلسطین سمیت خطے کی عرب ریاستوں کا امن و امان برباد کئے ہوئے ہے ۔ اسی طرح بھارت کشمیر میں معصوم اور نہتے کشمیری عوام کو کچلنے میں مصروف ہے ۔ امریکہ براہ رات یمن، عراق، افغانستان، لیبیا اور لبنان سمیت دیگر مقامات پر انارکی پھیلانے کی کوشش میں مصروف ہے جبکہ لاطینی امریکائی ممالک کے خلاف بھی امریکی ظالمانہ پالیسیوں پر صرف نظر نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ ونیزویلا، کیوبا اور بولیویا جیسی ریاستیں امریکی ظالمانہ پالیسیوں کا شکار ہیں ۔

    خلاصہ یہ کہ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ، اسرائیل اور بھارت نے اس مہلک وائرس کو وجہ بناتے ہوئے اپنے مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے ایک بہترین موقع کے طور پر استعمال کیا ہے لہذا ہ میں مظلوم انسانیت کے بنیادی مسائل کو فراموش نا کرتے ہوئے ان سازشوں کو بے نقاب کرنا چاہئے ۔ ان مظالم کو بے نقاب کرنے کیلئے ہ میں مسئلہ فلسطین کو انسانی ہمدردی پر اجاگر کرنا چاہئے اسی طرح ہ میں مسئلہ کشمیر کو بھی اجاگر کرنا چاہئے ۔

    امریکا میں نسل پرست سفیدفام ، فلسطین میں نسل پرست یہودی(صہیونی) اور بھارت میں ہندوتوا کے شدت پسند نظریات کے حامی ہندو پوری دنیا کے امن کیلئے ایک مستقل خطرہ ہیں ۔ جن کو ہم کسی صور ت نظر انداز نہیں کرسکتے اور اس سلسلے میں ہمارا فرض بنتا ہے کہ مقبوضہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے حقوق کی پاسداری کے لئے آواز بلند کی جائے ۔ تا کہ دنیا کو باور کروایا جائے کہ فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور کشمیر کشمیریوں کا ہے ۔ فلسطین پر صہیونیوں کا تسلط ناجائز ہے اور اسی طرح کشمیر میں ہندوستانی حکومت کا تسلط بھی ناجائز ہے ۔

    آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ کورونا وائرس نے دنیا کے تمام مسائل اومظالم پر حاوی ہوکر فلسطین، کشمیر، یمن، افغانستان، عراق، لیبیا اور ان جیسے دیگر اہم مسائل سے توجہ کو متاثر کیا ہے ۔ کورونا وائرس سے متعلق کسی قسم کی سازشی تھیوری پر یقین نہیں کرتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وبائی امراض نے ہر چیز کو دھندلا کر رکھ دیا ہے ۔

    دنیا اس بات کی گواہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیرقیادت امریکی حکومت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے جبکہ صہیونی غیر قانونی ریاست نے مقبوضہ فلسطین کے محصور شہر غزہ اور مغربی کنارے کے بعض حصوں کو چھوڑ کر پورے فلسطین پر اپنا قبضہ مضبوط کرلیا ہے ہمارا قبلہ اول بھی صہیونی ریاست کے قبضے میں ہے، مسئلہ فلسطین پر ہماری فوری توجہ کی ضرورت ہے ۔

    اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری نے القدس پر صہیونی ریاست کے قبضے کو ناجائز تسلیم کیا ہے لیکن امریکہ صہیونی ریاست کی خوشنودی کے حصول کیلئے بین القوامی قوانین کی دھجیاں بکھیر رہا ہے اور یہی صورتحال کشمیر کی بھی ہے بین الاقوامی قوانین کے تحت عالمی برادری نے مقبوضہ کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کیا ہے لیکن بھارت نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر پر قبضہ کرلیالہذا موجودہ فلسطینی اور کشمیری صورتحال ہم سب کیلئے باعث تشویش ہے اور بھارت اور اسرائیل کے غیر قانونی دعووں کو عرب اور مسلم دنیا نے یکسر مسترد کردیا ہے ۔

    حال ہی میں پاکستان میں فلسطینیوں کے حقوق کے لئے سرگرم عمل این جی او فلسطین فاءونڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ آن لائن ویبنار میں پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک کی اہم شخصیات نے فلسطین ، کشمیر اور یمن سمیت عالم اسلام و انسانیت کے اہم ترین مسائل پر اظہار خیال کیا ہے ۔

    اسی عنوان سے پاکستان کی معرو ف سیاسی شخصیت سینیٹر مشاہد حسین سید نے فلسطین وکشمیر سے متعلق موجودہ صورتحال پر تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ صرف مشرقی وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام سے جڑاہوا نہیں ہے بلکہ یہ پوری دنیا میں انصاف اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت انسانی حقوق کے مسائل اور حق خود ارادیت سے بھی جڑا ہوا ہے ۔ کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے بابائے قوم کا موقف بالکل واضح تھا، قائداعظم نے کہا تھا کہ کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے ایک مشترکہ محاذ بنانا چاہئیے اور اس مسئلے کو اجاگر کرنا چاہئیے تاکہ اس کے حل کیلئے کوششیں تیز کی جاسکیں ۔ یہ پیغام ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کا مظلوم فلسطینیوں اور اور کشمیریوں کے ساتھ گہرا تعلق ہے ۔

    پاکستان کے قیام سے قبل 23 مارچ 1940 کو آل انڈیا مسلم لیگ نے دو قراردادوں کو متفقہ طور پر منظو رکیا تھا جس میں سے ایک تو پاکستان کے قیام کیلئے تھی جبکہ دوسری فلسطینوں کی حق خوداردیت کیلئے تھی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا فلسطینیوں کے ساتھ کتنا گہرا رشتہ ہے ۔

    اس سے قبل بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے 1938 میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کیلئے پہلی مرتبہ یوم یکجہتی فلسطین اور فلسطین فنڈ کا آغاز کیا تھا، یہ تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستان کی فلسطین کے ساتھ طویل اور دیرینہ وابستگی ہے ۔ جب ہم کشمیر اور فلسطین کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں تو یہاں دو چیزیں دونوں میں مشترک ہیں ، کشمیر میں بھارتی وزیر اعظم مودی کا ہندوتوا کے نام پر نظریاتی ایجنڈا ہے جس کو وہ کشمیریوں پر لاگو کرکے مظالم ڈھارہے ہیں تو دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو صہیونیت کے نظریاتی ایجنڈے پر نہتے مظلوم فلسطینیوں پر مظالم ڈھا رہے ہیں ، اور یہ دونوں ہی اقوام متحدہ کی قرارد ادوں کی مسلسل خلاف ورزیاں کررہے ہیں ۔

    فلسطین کی اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے سرکردہ رہنما ڈاکٹر خالد قدومی کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں امریکا کی جانب سے تمام تنازعات کو اپنے مفاد میں کرنے کیلئے لاگو کرنے والے نیو ورلڈ آرڈر کے خلاف متحدہوکر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ نئے ورلڈ آرڈر کے نتاءج ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح امریکی انتظامیہ اپنے ہی لوگوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کررہی ہے اور ان کے حقوق سے محروم کررہی ہے یہ بالکل ویسا ہی ہورہا ہے جیسا کہ صہیونی ریاست مقبوضہ فلسطین میں کررہی ہے میں کہوں گا کہ اسرائیلی آرمی مقبوضہ فلسطین میں مقامی طورپر استحصال نہیں کررہی ہے بلکہ وہ بین القوامی قوانین کی بھی بدترین خلاف ورزی کررہی ہے ۔

    امریکی صدر تنازعات کی جڑ ہے جس نے اپنے اقتدار میں آتے ہی کہا تھا کہ مسئلہ فلسطین کا کوئی دوریاستی حل نہیں ہے، اس کا صرف ہے حل ہے اور وہ ہے ایک یہودی ریاست جو اسرائیل کے نام سے جانی جاتی ہے، اس شیطانی موقف کے بعد امریکی صدر نے صدی کی ڈیل نے نام سے مشرقی وسطیٰ میں امن کیلئے ایک نام نہاد امن منصوبہ پیش کیا جس میں یکطرفہ طور پر فیصلے کئے گئے اور غرب اردن کے 30 فیصد علاقے کو اسرائیل میں شامل کرنے کی کوششیں بھی کی جارہی ہے جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔

    لبنان میں اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ سید ابراہیم موسوی فلسطین و کشمیر کی صورتحال پر کہتے ہیں کہ امریکا، اسرائیل اور دیگر مغربی ممالک عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ، کشمیریوں پر بھارتی اور فلسطینیوں پر صہیونی مظالم صرف کشمیر اور فلسطین کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ حق اور باطل کی جنگ ہے ۔ صیہونی مظالم کے باوجودحزب اللہ فلسطین کی آزادی کے بہت نزدیک ہے ۔

    امریکی اور صہیونی ریاست کی جانب سے مقبوضہ فلسطین کے شہر غزہ کا غیر قانونی محاصرہ صرف غزہ کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ شام، لبنان، یمن، ایران اور تمام ممالک کے خلاف ہے جو آزادی سے اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں ، امریکی اور صہیونی ریاست پوری دنیا کے آزاد ممالک کو اپنا محکوم بناناچاہتے ہیں ۔ دنیا کو معلوم ہوجائے گا کہ اسرائیل عرب دنیا او اس خطے میں ایک کینسر کی مانند ہے جس کو ختم ہونا ہے، کسی بھی قو م کے اوپر ہمیشہ حکومت نہیں کی جاسکتی ہے ۔

    مسلم امہ کو رنگ نسل اور عقائد سے بالا دست ہوکر کشمیر، فلسطین، لبنان، شام،عراق، اور یمن سمیت تمام مظلوم مسلم ممالک کے حق کیلئے متحد ہونا ہوگا اور یہی ایک واحد راستہ ہے کہ ہم اپنے وجود کو قائم رکھ سکتے ہیں ۔

    خلاصہ یہ ہے کہ آج دنیا بھر سے فلسطین وکشمیر کے لئے آواز بلند کی جا رہی ہے لہذا اب ضرورت اس امر کی ہے ان آوازوں کے ساتھ ساتھ مسلم دنیا کی حکومتیں اور حکمران سامنے آئیں فلسطین وکشمیر سمیت دیگر مسائل کے حل کے لئے عملی اقدامات انجام دیں اور یہ عملی اقدامات یقینا مسلم دنیا کے آپس کے اتحاد سے ہی ممکن ہیں ۔

    تحریر: صابر ابو مریم

    سیکرٹری جنرل فلسطین فاءونڈیشن پاکستان

    پی ایچ ڈی اسکالر ،شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

  • استنبول میں حجر اسود (Hajre Aswad) کے ٹکڑے، تاریخی حقائق کیا کہتے ہیں…!!! تحقیق و ترتیب: قرطبی

    استنبول میں حجر اسود (Hajre Aswad) کے ٹکڑے، تاریخی حقائق کیا کہتے ہیں…!!! تحقیق و ترتیب: قرطبی

    سوشل میڈیا آج کل ہمارے اذہان پر بری طرح سے حاوی ہے، جہاں ہر طرف فرضی میدان جنگ سجے رہتے ہیں ، مختلف ٹرینڈز اور مہمات چلتی رہتی ہیں ۔ اس جنگ کی افادیت سے انکار ممکن نہیں ، لیکن عموما ہمارے ہاں فریقین اپنے ذاتی تعصب ،رجحان اور مسلکی ، سیاسی و معاشی وابستگی کی بنیاد پر نبرد آزما رہتے ہیں ۔
    سوشل میڈیا پر پچھلے کچھ دنوں ایک مہم یا ٹرینڈ #الحجر_الأسود_مكانه_الكعبة_فردوه ( حجر اسود کا مقام کعبہ ہے اسے وہاں لوٹا دو )کے نام سے بڑے زور وشور سے گردش کرتا رہا ، اگرچہ اردو حلقوں میں اس کی ابتداء ابھی ہوئی ہے اور اس شدت سے اس بارے میں گفتگو نہیں کی جارہی مگر عرب اور ترک حلقوں میں اس بارے میں کچھ عرصہ قبل سے کافی زور و شور سے مباحثے چل رہے تھے ۔
    اس سلسلے میں دلچسپ امر یہ کہ سلطنت عثمانیہ کو قرامطہ کے ساتھ تشبیہ دی جارہی ہے کہ جیسے قرامطہ نے حرم مکی سے بزور قوت حجر اسود اٹھایا ، بیت اللہ کی حرمت کو پامال کیا اور حجر اسود اپنے ساتھ لے گئے ، وہی طرز عمل سلطنت عثمانیہ کا تھا۔یقینا حجرا سود کی چوری ایک ایسا معاملہ ہے جس سے مسلمانوں کو آسانی کے ساتھ مشتعل اور ان کے جذبات کو بھڑکایا جا سکتا ہے ۔
    اس معاملے میں زیادہ گرمجوشی اس وقت آئی جب سعودیہ کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک فرد نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ترکی کو حجر اسود کے ٹکڑے واپس کرنے چاہئیں ، کیونکہ یہ دو ارب مسلمانوں کی ملکیت ہیں اور اس عمل کو اس شخص نے ایسی چوری کا نام دیا جس پر ترک بڑی ڈھٹائی سے فخر کرتے ہیں ۔
    یہاں اس معاملے کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ ابتداء میں دو تین باتیں گوش گزار کرنا ضروری ہیں: پہلی بات تو یہ کہ سلطنت عثمانیہ انسانوں کی ہی قائم کردہ ایک حکومت تھی جس میں نہ تو فرشتوں کی سی معصومیت تھی اور نہ ہی وہ شیطان کی مانند مجسم شر ۔
    خیر و شر دونوں معاملات اس میں موجود تھے ، چنانچہ نہ تو ان کی غلطیوں کا بے جا دفاع کرنا چاہئے اور نہ ہی غلطیوں کو بنیاد بنا کر اس سلطنت سے حاصل ہونے والی تمام تر خیر و بھلائی کو بیک جنبش قلم رد کرنا چاہئے ۔
    دوسرا یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ حالیہ عرصے میں اس مسئلہ کو ہائی لائیٹ کرنے کی وجہ دینی حمیت و غیرت یاشرعی بنیادنہیں بلکہ سیاسی وجوہات ہیں ۔
    ورنہ ماضی میں ترک مساجد میں حجر اسود کے ٹکڑوں کی موجودگی سے متعلق شور کیوں نہ اٹھایا گیا؟ سعودیہ وترکی کے مابین حالیہ کشمکش سے قبل اس طرح کا مطالبہ کبھی کیوں نہ سنا گیا؟
    ایسا تو نہیں تھا کہ یہ کوئی راز ہو جو لوگوں کی نظروں سے مخفی تھا اور اچانک ہی اس کا انکشاف ہوا اس بات سے تو سبھی واقف تھے ، بلکہ شاید آپ کو تعجب ہو کہ سعودی میڈیا میں اس سے قبل اس کا ذکر ایک تاریخی واقعے کے طور پر ہوتا تھا جس کے ساتھ کسی کی مذمت و تنقیص یا حوالگی کا مطالبہ نہیں کیا جاتا تھا۔جس کا لنک آخر میں دیا گیا ہے )
    لیکن حالیہ کچھ عرصے میں چونکہ سعودی عرب اور ترکی کے باہمی معاملات کچھ بگڑ گئے تو فریقین ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے یا ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔
    اس سلسلے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں بنیادی مسئلہ کا علم تو ہو کہ مسئلہ ہے کیا …؟ حجر اسود کے ٹکڑے استنبول پہنچے کیسے …؟اور ان کا حجم کتنا ہے… ؟
    مجھے بڑی حیرت ہوئی جب ایک اچھے خاصے دانشور شخص کی پوسٹ میں پڑھا کہ سلطان سلیمان قانونی 1571 ء میں حجر اسود کے چھ ٹکڑے ترکی لے گئے، اچھے خاصے سمجھدار شخص کا یہ حال ہے ، جسے یہ تک علم نہیں کہ سلطان سلیمان ایک تو خود اپنی زندگی میں کبھی مکہ مکرمہ گئے ہی نہیں اور دوسرا یہ کہ 1571ء سے قبل ہی وہ وفات پا چکے تھے ۔
    بہرحال اس سلسلے میں سعودی نیوز ایجنسی "الوکہ ” کی جانب سے ہی نشر کردہ ایک رپورٹ سے معلومات ذکر کرتاہوں جس میں وہ سکوللو محمد پاشا مسجد کے امام محمد سانجاک کے حوالے سے ذکر کرتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ :
    یہ پانچ ٹکڑے ہیں جن میں سے چار کا قطر لگ بھگ ایک سینٹی میٹر ہے جبکہ سب سے بڑا پانچواں ٹکڑا جو سلیمان قانونی کے مزار پر نصب ہے اس کا حجم 3 سینٹی میٹر ہے۔
    اس کی آمد کی تفصیل یہ ہے کہ کعبہ کی ترمیم و مرمت کے دوران کچھ ٹکڑے حجر اسود سے الگ ہو کر گر گئے ، کام کرنے والے کاریگر ان ٹکڑوں کو اپنے ہمراہ استنبول لے آئے ۔جب ان کی آمد کا چرچا ہوا تو انھیں تلاش کیا گیا کہ یہ ٹکڑے کن کے پاس ہیں انھیں انعام دے کر ان ٹکڑوں کو واپس اس کی جگہ پر نصب کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس دوران سنان پاشا معروف معمار نے تجویز دی کہ یہ ٹکڑے معزز مہمان کے طور پر ہمارے ہاں ہی باقی رہیں ۔
    پھر سنان پاشانے ان میں سے چار ٹکڑوں کو سونے کے فریم میں سجا کر سکوللو محمد پاشا مسجد میں( جسے وہ اس وقت تعمیر کر رہا تھا) مختلف مقامات پر نصب کیا جہاں آج تک یہ موجود ہیں ۔
    جبکہ چھٹا ٹکڑا جو ادرنا کی اسکی مسجد میں منبر و محراب کے درمیان موجود ہے یہ ان پتھروں کا حصہ ہے(جبکہ کچھ کے نزدیک حجر اسود کا ہی حصہ ہے ) جو کعبہ میں نصب تھے اور شدید بارشوں کی وجہ سے گر گئے ۔
    اس سلسلے میں قابل غور یہ کہ کیا سلطنت عثمانیہ کے اس عمل کو قرامطہ کے طرزعمل کے ساتھ تشبیہ دینا درست ہے ؟
    قرامطہ جنہوں نے یوم ترویہ (8 ذوالحجہ)کو بیت اللہ پر حملہ کر کے حجاج کرام کو شہید کیا ، ان کے اموال کو لوٹا اور حجر اسود کو اکھاڑ کر اپنے ہمراہ لے گئے۔
    قرامطہ نے وحشیانہ جارحیت ، بدترین مظالم کے ساتھ بیت اللہ کی حرمت اور دیگر کئی حرمات کو پامال کرتے ہوئے لوٹ مار کر کے اسے غصب کیا.
    جبکہ عثمانیوں نے مرمت کے دوران اس کے کچھ ٹکڑوں کو تبرک کے طور پر اپنے پاس پورے اعزاز کے ساتھ رکھا اور اسے ایک معزز مہمان کے طور پر جانتے ہوئے اس پر کی اپنی ہاں موجودگی کو باعث شرف سمجھتے ہیں ۔
    قرامطہ کے اس گھناؤنے عمل کا محرک کعبہ اور مسجد حرام سے ان کی نفرت و بغض تھا اور وہ کعبہ کے گرد طواف کو بتوں کی عبادت کی مانند سمجھتے تھے ، جبکہ عثمانی حرمین کے محافظ ، اس کی توقیر کرنے والے تھے ۔ ان دونوں کے درمیان بھلا کیسے برابری ہو سکتی ہے ؟
    یہاں ہمارا مقصد عثمانیوں کے اس عمل کا دفاع کرنا یا اس پر حسن و قبح کا حکم لگانا نہیں بلکہ محض حقیقی واقعہ سے آگاہی ہے ۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ اگرہم اس واقعتا دینی حمیت کی بنیاد پر شرعی تقاضوں کے ساتھ حل کرنے کے خواہش مند ہیں تو امت کے حقیقی رہنما ، علماء حق اس مسئلے پر مل کر بیٹھیں اور اس کا حل پیش کریں ، نا کہ اپنے سیاسی مقاصد اور حریف کونیچا دکھانے کیلئے الزام تراشی اور حقیقی صورتحال سے کہیں زیادہ واقعہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے ۔

    اس کے ساتھ ساتھ یہ امر بھی روز بروز اہمیت پکڑتا جا رہا ہے کہ اس مسئلے میں ہمیں سعودی شاہی خاندان یا اردگان کے کھینچے ہوئے محدود دائرے سے نکلنے کی اشد ضرورت ہے ۔ ہم تاریخ کا مطالعہ ضرور کریں لیکن ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کیلئے نہیں اس سے سیکھنے کیلئے !
    ان غلطیوں کے اعادے سے بچنے کیلئے جنہوں نے ہمیں آج اس حال تک پہنچایا۔

    الوکۃ نیوز ایجنسی پر حجر اسود کے ٹکڑوں کی إسطنبول آمد کے پس منظر پر تحریر کا لنک
    https://www.alukah.net/translations/0/35944/
    ماضی میں سعودی اخبار میں حجر اسود کے ان ٹکڑوں کے بارے میں رپورٹ کا لنک
    https://www.al-madina.com/article/119533

  • کیا ارطغرل مسلمان تھا ؟ پروفیسر ڈاکٹر فراز انجم شعبہ تاریخ پنجاب یونیورسٹی کی تحقیق

    کیا ارطغرل مسلمان تھا ؟ پروفیسر ڈاکٹر فراز انجم شعبہ تاریخ پنجاب یونیورسٹی کی تحقیق

    ‏کیاارطغرل مسلمان تھا؟

    تاریخ کے ایک پروفیسر صاحب نےدرج ذیل نکات پہ روشنی ڈالی:

    سوشل اورالیکٹرونک میڈیا پر ترکی ڈرامہ”ارطغرل” کا خوب چرچا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ اسلامی تاریخ کے سنہری دور کی کہانی ہے اور پاکستانیوں کو اپنی تاریخ سے روشناس کرانے کے لیے یہ ڈرامہ ضرور دیکھتا چاہیے۔

    ‏ترکی کی تاریخ پر ایک بڑا علمی کام چار ضخیم جلدوں پر مشتمل

    Cambridge History of Turkey

    ہے، جس کی تدوین میں ترک/عثمانی تاریخ پر اتھارٹی پروفیسر ثریا فاروقی معاون مدیر کے طور پر اور انکے علاوہ دیگر ترک مؤرخین بھی شامل تھے۔ اس کی پہلی جلد میں جو ۱۰۷۱ء سے۱۴۵۳ء کے زمانےسے متعلق ہے، ارطغرل کانام صرف ایک جگہ، صفحہ ۱۱۸ پر، مذکورہے۔ مصنف کےنزدیک ارطغرل کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے اور اسکی موجودگی کا پتا اسکے بیٹے عثمان کےایک سکے سےچلتا ہے۔ مصنف کےالفاظ ہیں:

    We know nothing about the life of Ertugrul, and his existence is independently attested only by a coin of his son Osman.

    ‏اردومیں اس سلسلے میں سب سے زیادہ معروف اور پڑھی جانے والی کتاب ڈاکٹر محمد عزیر کی دوجلدوں پر مشتمل کتاب "دولت ِ عثمانیہ” ہے۔ مشہور علمی ادارے دارلمصنفین، اعظم گڑھ، کی شائع کردہ اس تاریخ کا دیباچہ سید سلیمان ندوی نے لکھا اور اس کتاب کا مقصد مسلمانانِ ہند کو ترکوں کے کارناموں سے روشناس کرانا تھا۔

    ‏ڈاکٹر عزیر تسلیم کرتےہیں کہ سلیمان شاہ اور ارطغرل غیر مسلم تھے اور قبیلہ کا پہلا شخص جس نےاسلام قبول کیا ارطغرل کا بیٹا عثمان تھا۔ وہ ایک مغربی مؤرخ کی شہادتیں پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

    "تیرہویں صدی عیسوی کی ابتداء میں خراسان اورماوراء النہر کے دوسرے علاقوں کی جوقومیں ایشیائے کوچک کی سرحدوں پر نمودار ہوئیں، ‏ان کے اسلام لانے کا کوئی صریحی ذکر کسی تاریخ میں نہیں ملتا۔ خود عثمانیوں کے مؤرخ نشری کے بیان سے بھی صاف اشارہ ملتا ہے کہ عثمان کا مورث ِ اعلیٰ سلیمان شاہ اور اس کے ساتھی، جو اپنے وطن سے نکل کھڑے ہوئے، غیرمسلم تھے۔

    بارہویں صدی عیسوی اور اس کےبعد کے سیاحوں کی بکثریت شہادتوں سےبھی ‏یہ معلوم ہوتاہےکہ یہ قومیں بت پرست تھیں، ان مختلف ترکی قبیلوں نےجواس زمانےمیں ایشیائےکوچک میں داخل ہوئے اپنے آپ کو ایک اسلامی ماحول میں پایا۔ عثمان اوراس کےقبیلہ کےاسلام لانے سےعثمانی قوم پیداہوئی۔ اس تبدیلِ مذہب ہی کا نتیجہ تھا کہ ۶۸۹ھ (۱۲۹۰ء) کے بعد عثمان کی فاتحانہ سرگرمیاں شروع ہو گئیں۔

    ‏ارطغرل اور عثمان ایک دیہاتی سردار کی حیثیت سےسغوت میں سیدھی سادھی زندگی بسرکرتےتھے، ان کی اس زمانہ کی کسی جنگ یا فتح کا ذکر تاریخ میں موجود نہیں۔ ارطغرل کےتعلقات اپنےپڑوسیوں کے ساتھ بالکل صلح ودوستی کےتھے۔ نشری کابیان ہےکہ اس ملک کےکافر و مسلم دونوں ارطغرل اوراس کےلڑکےکی عزت کرتے تھے۔ ‏کافر و مسلم کاکوئی سوال ہی نہ تھا۔ پھر دفعتاً ہم عثمان کواپنے پڑوسیوں پرحملہ آور ہوتے اور انکے قلعوں کو فتح کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ان لوگوں میں ایک ایسا تبلیغی جوش ہے جو صرف ان ہی لوگوں میں پایا جاتا ہے جنہوں نےحال ہی میں مذہب تبدیل کیا ہو”۔

    ان دو مستند کتابوں کی شہادت ہی یہ ثابت کرنے کے لیےکافی ہے کہ ڈرامے کے ‏ارطغرل کا تاریخ کے ارطغرل سےکوئی تعلق نہیں۔ تاریخ کا ارطغرل تو شاید مسلمان بھی نہیں تھا اور اگر مسلمان تھا بھی تو صلیبیوں اور منگولوں کےخلاف جہاد کی وہ ساری تفصیلات جوڈرامہ کی زیب و زینت ہیں، تاریخی شواہد سےثابت نہیں۔ ڈرامہ آپ کو پسند ہے تو اسے فکشن/افسانہ سمجھ کر ضرور دیکھئے، ‏لیکن خدارا اسے اسلام کا ڈرامہ نہ بنائیے۔

    ڈاکٹر فراز انجم، پروفیسرفراز انجم ،شعبہ تاریخ پنجاب یونیورسٹی۔

  • اردن کے کنگ عبداللّٰہ نے اسرائیل کے ساتھ 1994 میں ہونے والے امن معاہدے کو ختم کرنے کی دھمکی دے دی :—از—-یونیق خان

    اردن کے کنگ عبداللّٰہ نے اسرائیل کے ساتھ 1994 میں ہونے والے امن معاہدے کو ختم کرنے کی دھمکی دے دی :—از—-یونیق خان

    اردن کے کنگ عبداللّٰہ نے اسرائیل کے ساتھ 1994 میں ہونے والے امن معاہدے کو ختم کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل نے اردن عرب متنازغہ علاقے کو اسرائیل میں شامل کردیا تو اسرائیل پر ہم جنگ مسلط کرسکتے ہیں

    یہ علاقہ غزہ سٹرپ کے ایک تہائی کے برابر ہے اور اردن سرحد تک 97 کلومیٹر طویل ہے

    1948 کے عرب اسرائیل جنگ میں اردن نے غزہ سمیت یہ علاقہ قبضہ کیا تھا اور یہاں کے لوگوں کو اردن کی شہریت دی گئی تھی لیکن بعد میں اسرائیل نے اس علاقے کو قبضہ کیا جو اب اقوام متحدہ نے متنازغہ قرار دیا ہے_ یہ علاقہ قدرتی وسائل سے مالامال ہے، زرعی لحاظ سے بھی ذرخیز زمین ہے جبکہ سٹریٹجک سے بھی ایک اہم علاقہ ہے،

    جولائی کے مہینے میں اسرائیل نے اس علاقے کو اسرائیل میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کیلئے کل کرونا وائرس کی وجہ سے سفری پابندیوں کے باوجود جناب پومپیو اسرائیلی قیادت کو یہ یقین دہانی کرانے آئے تھے کہ امریکہ عرب اردن کے مقبوضہ عرب علاقوں کے اسرائیل سے الحاق کی مکمل حمائت کرتا ہے

    اردن کے کنگ عبدللّٰہ سپیشل فورس کے کمانڈر رہ چکے ہیں ١٩٨٠ میں آرمی میں شمولیت اختیار کیا اور 1997 میں میجر جنرل کے عہددے تک پہنچ گئے باپ کے موت کے بعد اس نے اقتدار سنبھال لیا اس کے دور حکومت میں معیشت نے ریکارڈ ترقی پائی، 1993 میں اس نے ایک فلسطینی لڑکی سے شادی کی

    آج جرمنی کہ ایک نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کنگ عبداللّٰہ نے کہا کہ جولائی میں غزہ کے اس علاقے کو اسرائیل میں شامل کرنے سے فلسطینی اتھارٹی ختم ہوجائے گی جس سے علاقے میں بدامنی پیدا ہوسکتی ہے اور اردن اسرائیل کے درمیان بڑے پیمانے پر جنگ چھڑسکتی ہے

    دسمبر 2019 میں مغربی سرحد پر اردن کے فوج نے "karameh swords 2019” کے نام سے جنگی مشقیں کیے تھے جس میں اسرائیلی سرحد سے بڑے پیمانے پر حملے کو روکھنے کی کی سیمیولیشن کی گئی تھی

  • فتح مکہ سے کچھ سیکھئے..! خنیس الرحمن

    فتح مکہ سے کچھ سیکھئے..! خنیس الرحمن

    آج 20 رمضان المبارک ہے.آج کا دن تاریخ میں روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے. آج کے دن کو تاریخی اعتبار سے فتح مکہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے. وہ دن جس دن حق آگیا اور باطل مٹ گیا. نجانے کیوں مجھے اس دن سے بہت الفت ہے. فتح مکہ کے واقعات سے مجھے بہت لگاؤ ہے. کیوں نا ہو یہ ایک ایسا بے مثال دن تھا جس دن عدل و مساوات کی عظیم مثال قائم کی گئی.
    یہ ابو سفیان رضی اللہ عنہ ہیں جو اس وقت اسلام نہیں لائے تھے. سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچتے ہیں. مکہ سے باہر روشنیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں. سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں یہ میرے بھتیجے کا لشکر ہے. ابو سفیان رضی اللہ ورطہ حیرت میں پڑ جاتے ہیں وہی جو کل 313 تھے آج ہزاروں کی تعداد میں نظر آرہے تھے. اپنی کوئی تیاری بھی نا تھے نا آگے کا راستہ تھا نا پیچھے کا. سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے جان کی امان طلب کرنے لگے. سیدنا عباس نے بھی حامی بھر لی. چچا تھے نا جانتے تھے میرے بھتیجا بہت نرم دل ہے معاف کرنے پر آئے تو دشمن کتنا ہی طاقتور اور ظالم نا ہو معاف کردے گا. حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور حضرت عباس نے کہا ابو سفیان آج معافی مانگنے آیا ہے. حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاف کردیا اور ساتھ یہ اعلان بھی فرمادیا جو ابو سفیان کے گھر داخل ہوجائے اس سے عام معافی کا اعلان ہے. اتنا بڑا پیکج… حضور جانتے تھے یہ وہی ابو سفیان ہے جس نے مسلمانوں سے بدلہ لینے کے لیے احد میں پڑاؤ ڈالا تھا. وہ جانتے تھے یہ وہی ابو سفیان ہے جس نے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی .ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو معاف کردیا اس معافی کا بہت اثر ہوا اللہ نے ابو سفیان رضی اللہ عنہ سے بڑے بڑے کام لئے… ہاں ایک اور فتح مکہ سے جڑے واقعے سے مجھے بہت لگاؤ ہے….نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ چھوڑ کر جارہے ہیں سوچا جاتے ہوئے دو رکعت کعبۃ اللہ میں پڑھ جاؤں .کعبہ میں پہنچے اور عثمان بن ابی طلحہ جو کعبہ کے متولی تھے انہوں نے نماز پڑھنے سے روک دیا. حضور نے عثمان بن ابو طلحہ سے کہا یاد رکھنا ایک وقت آئے گا یہ کعبہ کی چابیاں میرے ہاتھ میں ہونگی. عثمان بن ابی طلحہ مسکرادیے اور کہنے لگے ہاں ہاں تب تک قریش مر چکے ہونگے. حضور نے کہا نہیں نہیں قریش تب زندہ ہونگے اور تم بھی زندہ ہوگے. آج وہ وقت آچکا تھا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فاتح بن کر مکہ میں داخل ہورہے تھے. عثمان بن ابی طلحہ بھی زندہ تھے .کعبہ کی چابیاں حضور کے ہاتھ میں تھیں. آپ نے چابیاں پھر عثمان بن ابی طلحہ کے حوالے کردیں. کہا جاتا ہے کہ آج بھی جا کعبہ کا متولی ہے وہ عثمان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ کی نسل سے ہے.
    یہی نہیں اور بھی بہت سی مثالیں عدل و مساوات کی قائم ہوئیں. مسلمانوں کو گہرے دکھ پہنچانے والے سب سامنے کھڑے تھے اعلان ہوتا ہے کہ : اے قریش کے لوگو!تم سوچ رہے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہوں؟‘‘
    تمام لوگوں نے کہا : اے محمد()!تم سے ہم کو خیر اور بھلائی کی امید ہے اس لئے کہ تم ہمارے بہترین بھائی ہو اور ہمارے شریف بھائی کے فرزند ارجمندہو!۔
    اس کے بعدنبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
    ’’آج تم لوگوں پر کوئی لعنت و ملامت نہیں، تم لوگ آزاد ہو۔ ‘‘ فتح مکہ کا یہ یادگار دن جب آتا ہے یعنی 20 رمضان کا دن مجھ سمیت سب بڑی بڑی پوسٹس لگاتے ہیں,تحاریر لکھتے ہیں لیکن یہ دن ہمیں درس دیتا ہے کہ ہم اس دن سے کچھ سیکھیں. اپنی انا کی قربانی دیں, اپنے دلوں کو صاف کریں, ہمیں کسی کتنے بڑے دکھ بھی کیوں نا پہنچائیں ہوں ہم معاف کرکے سنت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ کریں. آئیے رمضان بھی دن بھی برکتوں اور سعادتوں والے عہد کریں ہم کہ خود کو سنواریں.

  • ا صل لٹیرا کون ؟ محمد بن قاسم یا راجہ داہر—-تحریر:—- اویس خان سواتی

    ا صل لٹیرا کون ؟ محمد بن قاسم یا راجہ داہر—-تحریر:—- اویس خان سواتی

    آپ جب بھی برصغیر کے مسلم فاتحین کا ذکر کریں گے تو ایک طبقہ ان فاتحین کو بیرونی غاصب اور لٹیرے وغیرہ اور ان کے مقابل مقامی ہندو راجاؤں کو اس دھرتی کا سپوت اور اصل وارث قرار دے گا۔۔۔ آپ محمد بن قاسم کا ذکر کریں تو یہ راجہ داہر کی مدح سرائی کرنے لگیں گے۔ آپ محمود غزنوی کا ذکر کریں تو یہ راجہ جے پال اور راجپوتوں کی مظلومیت کا رونا رونے لگیں گے۔ آپ ترک اور افغان سلاطین کا ذکر کریں تو یہ انہیں ڈاکو قرار دیں گے۔ آپ اورنگزیب عالمگیر کا نام لیں تو یہ مراٹھوں اور سکھوں کا رونا روئیں گے۔ آپ احمد شاہ درانی کا نام لیں تو یہ اسے ظالم درندہ قرار دیں گے۔۔۔۔ اور اگر آپ رنجیت سنگھ کی درندگی کی طرف انکی توجہ مبذول کروائیں تو یہ طبقہ اسے ہندوستان کا جری سپوت قرار دے گا۔

    مانا کہ عرب، ترک، افغان، مغل اور فارسی ہند کے مقامی باشندے نہیں۔۔۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا راجہ داہر سے لے کر رنجیت سنگھ تک تمام راجے مہاراجے ہند کے حقیقی وارث اور اصل باشندے تھے؟

    جواب ہے کہ نہیں! اسے سمجھنے کے لیے ہند میں موجود اقوام کی تاریخ کا مختصر تعارف کروانا ضروری ہے۔

    سو عرض ہے کہ ہندوستان میں اڑھائی ہزار قبلِ مسیح دراوڑ نسل آباد تھی۔ اور پھر وسطی ایشیاء سے یہاں آریا نسل وارد ہوئی کہ جن نے دراوڑوں کو جنوبی ہند کی طرف دھکیلنا شروع کیا۔۔۔ وقت گزرنے کے ساتھ آرئین آگے بڑھتے ہوئے شمالی ہند میں گنگا کے دو آب تک پہنچے۔ تب ان کے سماجی نظام میں تبدیلیاں آئیں اور ان نے عوام کو پیشے کے مطابق مندرجہ ذیل تین فرقوں یا ذاتوں میں تقسیم کر دیا:

    آریائی نسل میں حکومت جن لوگوں کے ہاتھوں میں رہی وہ ”شَتّریے“ کہلائے، جنہیں کھشتری یا چھتری بھی کہا جاتا ہے۔ راجا مہاراجے اور فوجی انہی میں سے ہوتے تھے۔

    آریائی نسل کے مذہبی رہنما پُروہِت کہلائے کہ جو مذہبی امور کو ادا کرنے کے ساتھ ساتھ راجاؤں کو مذہبی اور سیاسی مشورے بھی دیتے تھے۔ براہمن دراصل پروہت ہی ہیں۔

    آریائی نسل میں کھیتی اور تجارت کا کام کرنے والے عام لوگ ’’وَیشیہ‘‘ کہلاتے تھے۔

    جبکہ ’’شُودْر‘‘ ان لوگوں کو کہا گیا کہ جن کی رگوں میں آریائی خون شامل نہیں تھا اور جو آریوں کے مذہب اور رنگ سے منفرد تھے۔۔۔ آریائی نسل کے لوگ انہیں گھٹیا اور کمی کمین مانتے تھے۔ اور آج بھی یہی حال ہے۔

    یعنی کل ملا کر کہانی کچھ یوں ہے کہ باہر سے ایک نسل حملہ آور ہوئی اور اس نے مقامی لوگوں کو مار کوٹ کر دیوار سے لگا دیا اور پھر خود کو دو حصوں یعنی شتریہ اور پروہت یا کھشتری و براہمن میں تقسیم کیا۔ اور مقامی لوگوں کو شودر قرار دیا۔ یعنی کمی کمین اور خادم۔۔۔
    لیکن یہاں کہانی میں تھوڑا ٹوسٹ ہے۔۔۔۔ اور وہ یہ کہ دراوڑ نسل کہ جو آریا کے آنے سے قبل ہند کے حاکم تھے، اور آج کل جنوبی ہند اور سری لنکا میں کروڑوں کی تعداد میں آباد ہیں، بھی یہاں کے قدیم ترین باشندے نہیں، باہر سے آئے ہوئے ہیں۔۔۔
    اکثر مورخین و ماہرین اس بات پہ متفق ہیں کہ ہند کے قدیم ترین باشندے "کولا” نسل کے لوگ ہیں۔ کہ جن کے ساتھ حملہ آور دراوڑوں نے وہی سلوک کیا کہ جو آریا نے انکے کے ساتھ کیا تھا۔ بلکہ شاید اس سے بھی برا۔۔۔ اسکا ثبوت یہ ہے کہ آج بھی ہندوستان میں آپ کو مختلف دراوڑی زبانیں اور دراوڑ نسل کے قوم قبیلے کروڑوں کی آبادی میں مل جائیں گے۔ لیکن کولا نسل کا کوئی خاص نشان آپ کو نہیں ملے گا سوائے دو قوموں یعنی بھیل و سنتھال کے۔ کہ جنہیں اچھوت قرار دیا گیا کہ جو شودر کے بعد کا درجہ ہے۔۔۔۔

    لیکن ماہرین کی ایک جماعت کا یہ بھی ماننا ہے کہ کولا نسل بھی ہند میں باہر سے آئی ہوئی ہے۔۔

    ___________

    یعنی ماشاءاللہ سے سب ہی اس حمام میں ننگے ہیں۔۔۔۔ راجہ داہر کشمیری براہمن تھا۔ یعنی آریائی، نہ کہ سندھی! راجہ جے پال و دیگر ہندو راجے مہاراجے، حتیٰ کہ مراٹھے اور راجپوت۔۔۔ سب کے سب یا تو براہمن تھے یا کھشتری۔۔۔۔ یعنی جن راجوں مہاراجوں پہ مسلمانوں نے غلبہ حاصل کیا، وہ سب غاصب آریاؤں کی اولاد تھے۔ اور آریائی نسل نے جس دراوڑ نسل پہ غلبہ حاصل کیا وہ بھی غاصب تھی۔۔۔۔ اور دراوڑوں نے جن "کولوں” کو مغلوب کیا تھا وہ بھی باہر سے ہی آئے تھے۔۔۔

    تو ایسے میں سوال ہے کہ بیرونی غاصب اور لٹیرے صرف مسلمان فاتحین ہی کیوں؟؟؟

    مسلمانوں نے تو ظالم غاصب آریائی نسل پہ فتح حاصل کی اور ان کے بنائے ذات پات اور اونچ نیچ کے ظالمانہ اور غیر انسانی طبقاتی نظام کا اپنے زیر انتظام علاقوں میں خاتمہ کیا۔۔۔

    تو پھر مسلم فاتحین سے نفرت کیوں؟

    جواب صاف اور واضح ہے۔۔۔ کہ محمد بن قاسم کی فتح کے بعد جب براہمن، کھشتری اور ویشیا ہندوؤں نے دیکھا کہ جنہیں ہم شودر، ملیچ اور اچھوت کہتے تھے۔ کہ جو ہمارے سامنے ننگے پاؤں چلنے، پگڑی نہ باندھنے اور جھکنے کے پابند تھے، انہیں مسلمانوں نے ہمارے برابری کے حقوق دے دیے ہیں تو ان میں اس وجہ سے مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا ہو گئی اور ان نے مسلمانوں کے خلاف پراپیگنڈہ شروع کر دیا، مسلمانوں کے مظالم کی کہانیاں گھڑیں۔ یہ قصے کہانیاں سینا بہ سینا نسل در نسل منتقل ہوتی گئیں۔۔۔ اور آج بھی اونچی ذات کے ہندوؤں میں زبان زدِ عام ہیں۔ اور اب تو اس میں مذھب کا تڑکا بھی لگ گیا ہے۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ آج کل کے مسلمانوں کا بھی ایک طبقہ مسلم فاتحین کی تحقیر کرتا نظر آتا ہے، ایسا کیوں؟ تو اس کا جواب ہے کہ ان مسلمانوں میں اکثریت ان جہلاء کی ہے کہ جو اونچی ذات کے ہندوؤں کے نسل درنسل پھیلائے گئے پراپیگنڈے سے متاثر ہیں۔ جبکہ کچھ ایسے ہیں کہ جو اونچی ذات کے ہندوؤں کی نسل میں سے ہیں کہ جن نے اسلام تو قبول کر لیا لیکن ان کے لاشعور میں تاحال طبقاتی عصبیت موجود ہے اور وہ آج تک اپنے آباء کے گھڑے گئے جھوٹ کے سحر سے باہر نہیں نکل پائے۔

    اور ایک جماعت ایسے لوگوں کی بھی ہے کہ جو برائے نام مسلمان ہیں کہ جنہیں ہم سیکولر کہتے ہیں۔۔ ان کا اصل مسئلہ اسلام ہے۔ انہیں اپنے مسلمان ہونے کا افسوس ہے، لیکن چونکہ یہ لوگ معاشرتی مجبوریوں کے باعث اسلام سے رشتہ نہیں توڑ سکتے۔۔۔ لہذا اپنی فرسٹریشن اسلام سے منسوب ہر اس شے پہ نکالتے ہیں کہ جو مسلمانوں کے نزدیک معتبر و محترم ہو۔۔۔ اور ایسا کر کے یہ خود کو روشن خیال اور اعتدال پسند باور کرواتے ہیں، حالانکہ ان سے بڑا جاہل اور ہٹ دھرم کوئی اور نہیں۔ کہ آریائی نسل کے ظالم راجے مہاراجے انکے نزدیک مظلوم ہیں لیکن مسلم فاتحین غاصب و لٹیرے کہ جن نے ان راجوں مہاراجوں کے ظالمانہ نظام کا خاتمہ کیا۔

    ا صل لٹیرا کون ؟ محمد بن قاسم یا راجہ داہر—-تحریر:—- اویس خان سواتی

  • مسلمانوں کی فتح جس نے دنیا بدل دی….از…علی عمران شاہین

    مسلمانوں کی فتح جس نے دنیا بدل دی….از…علی عمران شاہین

    مسلمانوں کی فتح جس نے دنیا بدل دی….از…علی عمران شاہین
    3مئی 1481وہ تاریخ ہے جب عالم اسلام کا ایک عظیم و درخشندہ ستارہ اس جہان فانی سے رخصت ہوا…… سلطان محمد الفاتح جنہوں نے قسطنطنیہ فتح کرنے والے کے لئے جنت کی سنائی گئی نبوی خوش خبری کو اپنے نام کرنے کا اعزاز پایا تھا،عمر تو محض 50سال پائی لیکن وہ عزت و اعزاز سمیٹا کہ قیامت تک کسی اور کو نہ مل سکے
    سلطان محمد الفاتح نے دنیا کے سب سے طاقتور اور صدیوں سے ناقابل تسخیر شہر فتح کیا تھا۔اس شہر کو فتح کرنے کے لئے مسلمانوں نے 700سال جدوجہد کی جس کی بنیاد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے رکھی تھی اور لاکھوں اس راہ میں قربان ہوچکے تھے۔اللہ کی شان دیکھے کہ یہ تمغہ اللہ تعالیٰ نے 21سال کی عمر رکھنے والے اس جوان کو عطا کیا جس کا نام بھی کائنات کی اعلیٰ ترین ہستی پاک محمد کے نام پر تھا۔
    29مئی 1461کے روزسلطان نے خود جنگ کی قیادت کرتے ہوئے اس شہر کو فتح کرنے کے لئے شہر کے دوسری طرف سے خشکی پرکشتیاں چلانے کا محیر العقول کارنامہ انجام دےڈالا تھا۔اس کے لئے کئی ماہ درخت کاٹے گئےاور لکڑی کے تختے بنابناکر پھر ان پر چربی مل کر انہیں چکنا کیاگیا۔پھر ان پر کشتیاں چلا کر اور اپنی فوج کو اتار کر ایسی رازداری سے سارا مشن انجام دیا گیاکہ تاریخ کے بڑے بڑے جرنیل اور عسکری ماہرین آج تک حیران و پریشان ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہوا جو سوچنا محال ہے۔

    سر پر بھاری پگڑی باندھے اور شاہی خلعت میں ملبوس سلطان نےمجاہدین کو یوں مخاطب کیا:
    ”میرے دوستواورجوانو!آگے بڑھو،خودکو ثابت کرنے کا لمحہ آ گیا ہے!”
    اس کے ساتھ ہی نقاروں،قرنوں اورتکبیر کے نعروں کےشور اور گونج نے رات کی خاموشی تارتار کر دی، لیکن کان پھاڑتے شور میں بھی عثمانی جہادی دستوں کے فلک شگاف نعرے صاف سنےجا سکتے تھے جنھوں نے فولادی فصیل پر تباہ کن ہلہ بول دیا تھا۔یہاں ایک طرف خشکی اور دوسری طرف سےبحری جہازوں پر نصب توپوں نے آگ برساناشروع کی۔
    بازنطینی سپاہی فصیلوں پر تیار کھڑے تھے،توبہت سے شہری بھی ان کی مدد کو آن پہنچے۔انہوں نےبھی تیروں کے ساتھ پتھر اٹھا اٹھا کر کے نیچے مجاہدین پر پھینکنا شروع کر دیے۔ دوسری طرف بہت سےاپنے اپنے قریبی چرچ کی طرف دوڑے اور گڑگڑا گڑگڑا کر مناجاتیں شروع کر دیں۔ پادریوں نے چرچوں کی گھنٹیاں پوری قوت سے بجانا شروع کیں جن کی ٹناٹن نے ان لوگوں کو بھی جگا دیا جو سو رہے تھے۔ہر فرقے کے عیسائی صدیوں پرانے اختلافات بھلا کر متحد ہو گئے اور ان کی بڑی تعداد شہر کے سب سے بڑےاور مقدس کلیسا آیا صوفیہ میں جمع ہو گئی۔
    بازنطینیی فوج نے آخری سانس تک عثمانی جہادی یلغار روکنے کی کوشش کی لیکن اطالوی طبیب نکولو باربیرو جو تب شہر میں موجود تھے، لکھتے ہیں کہ سفید پگڑیاں باندھے حملہ آور جہادی فدائی دستے زخمی شیروں کی طرح حملہ کرتے تھے اور ان کے نعرے اور طبلوں کی آوازیں ایسی تھیں کہ جیسے ان کا تعلق اس دنیا سے ہی نہ ہو۔
    پوہ پھوٹنےتک ترک مجاہد سپاہی فصیل کے اوپر پہنچ گئے۔ اس دوران اکثر بازنطینی فوجی مارے جا چکے تھے اور ان کا سپہ سالار جیووانی جسٹینیانی شدید زخمی ہو کر میدانِ جنگ سے فرار بھی ہو چکا تھا۔
    جب مشرق سے سورج کی پہلی کرن نمودار ہوئی تو اس نے دیکھا کہ ایک ترک سپاہی کرکوپورتا دروازے کے اوپر نصب بازنطینی پرچم اتار کر اس کی جگہ عثمانی اسلامی جھنڈا لہرا رہا ہے۔
    سلطان محمد فاتح سفید گھوڑے پر اپنے وزرا اور عمائدین کے ہمراہ آیا صوفیہ پہنچے۔ صدر دروازے کے قریب پہنچ کر وہ گھوڑے سے اترے اور گلی سے ایک مٹھی خاک لے کر بطور عاجزی اپنی پگڑی پر ڈال دی۔ ان کے ساتھیوں کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے اور سب رب کے حضور سجدہ ریز ہوگئے
    قسطنطنیہ کی فتح محض ایک شہر پر ایک بادشاہت کا خاتمہ اور دوسرے کے اقتدار کا آغاز نہیں تھا۔ اس واقعے کے ساتھ ہی دنیا کی تاریخ کا ایک باب ختم ہوا اور دوسرے کی ابتدا ہوئی۔
    ایک طرف 27 قبل از مسیح قائم ہونے والی رومن سلطنت جو1480 برس تک کسی نہ کسی شکل میں برقرار رہنے کے بعد اپنے انجام کو پہنچی، تو دوسری جانب اسلامی عثمانی خلافت نےنقطۂ عروج چھو لیا اور وہ اگلی چار صدیوں تک تین براعظموں، ایشیا، یورپ اور افریقہ کے حصوں پر بڑی شان سے حکومت کرتی رہی۔
    1453 ہی وہ سال ہے جسے قرونِ وسطیٰ (مڈل ایجز) کا اختتام اور جدید دور کا آغاز بھی سمجھا جاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ فتحِ قسطنطنیہ کو فوجی تاریخ کا سنگِ میل بھی قرار دیا جاتا ہے۔یہ شکست پورے یورپ کے لئے اتنی دردناک اور ہیبت ناک تھی کہ وہ اسے آج بھی بھول نہیں سکے اور یونان میں قسطنطنیہ کی شکست والے دن جمعرات کو منحوس تصور کیاجاتا ہے۔
    سلطان نے اس تسخیر اکبر کے بعد یورپ کے وسط تک فتوحات کیں اور ایک عظیم اسلامی عثمانی خلافت کو دور دور تک وسعت دے کر 3مئی 1481کوداعی اجل کو لبیک کہہ گیے……
    یہ آج کے ترکی کا شہر استنبول ہی تھا جو اب بھی ایشیا اور یورپ کے آر پار واقع ہے اور باسفورس سمندر پر بنے پل کا نام بھی سلطان محمد الفاتح سے موسوم ہے۔
    تھےوہ تمہارےہی آبا مگرتم کیاہو
    ہاتھ پرہاتھ دھرے منتظر فردا ہو