Baaghi TV

Category: مسلم دنیا

  • فلسطین اور امت مسلمہ کی بے حسی .تحریر: ارم ثناء

    فلسطین اور امت مسلمہ کی بے حسی .تحریر: ارم ثناء

    ایک امت، جسد واحد جس کو ایک جسم کی مانند کہا جاتا ہے۔ جس کے آباؤ اجداد نے کئی کئی سالوں تک کئی مربع میل پر حکومت کی ہے، جن کے نام سے ہی غیر مسلم ڈرتے تھے۔ آج اسی امت کے ایک حصے کو بڑی بے دردی سے ختم کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسرا حصہ اپنے عیش و آرام کی زندگی بسر کر رہا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ اسی قوم کی مائیں سلطان صلاح الدین ایوبی، محمد فتح پیدا کرتی تھیں، جبکہ آج اسی قوم کی مائیں ٹک ٹاکر، ادکار پیدا کرتیں ہیں۔
    ایک زمانہ تھا کہ جب اس قوم کی عورتوں نے اپنے زیورات، بیٹے تک اللہ کی راہ میں قربان کر دیے تھے، جبکہ آج کی نوجوان نسل اسرائیلی پروڈکٹس کا بائیکاٹ تک نہیں کر سکتی۔ یہ لوگ macdonald, coca-cola, lay’s l, وغیرہ کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ہماری آج کی نوجوان نسل کو لگتا ہے کہ گاڑیوں کے پیچھے فلسطین کے جھنڈے لگا لینے سے اور گاڑیوں کے اوپر "free Palestine” لکھنے سے انہوں نے حق ادا کردیا ہے، کل کو قیامت میں ان سے اس حوالے سے سوال وجواب نہیں کیا جائے گا۔ اے امت مسلمہ اپنے ذہنوں سے یہ نکال دو، "کہ تم لوگوں سے سوالات نہیں کیے جائیں گے”. اے امت مسلمہ تم لوگوں سے ضرور پوچھا جائے گا۔ تم لوگ اللہ کے دشمنوں کی مالی مدد کررہے ہو تم کو کیا لگتا ہے؟ کہ اللہ تعالیٰ تم کو چھوڑ دے گا؟ تم لوگوں نے اللہ کے احکامات کو پس پشت ڈال دیا یے، تم لوگوں نے اللہ کے احکامات پر اپنے نفس کو ترجیح دی ہے۔ اللہ نے سورتہ البقرہ کی آیت 155 میں فرمایا ہے۔
    وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۵﴾ۙ
    ترجمہ: اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے ، دشمن کے ڈر سے ، بھوک پیاس سے ، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے ۔

    آج یہ صرف فلسطین کے مسلمانوں کی آزمائش نہیں ہے۔ یہ پوری امت مسلمہ کی آزمائش ہے، وہ لوگ اپنی آزمائش پر ثابت قدمی سے ڈٹے رہے۔ انہوں نے اللہ کے احکامات پر عمل کرکے اپنے نفس کی خواہشات کو پیچھے چھوڑ کر اللہ کی رضا حاصل کر لی ہے۔ اور ہم لوگ اسی خیالات میں خوش ہیں کہ قیامت والے دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری سفارش کر دینی ہے۔ جی بالکل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی سفارش کرنی ہے،
    Surat No 25 : سورة الفرقان – Ayat No 43

    اَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ ؕ اَفَاَنۡتَ تَکُوۡنُ عَلَیۡہِ وَکِیۡلًا ﴿ۙ۴۳﴾
    ترجمہ: کیا آپ نے اسے بھی دیکھا جو اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہے کیا آپ اس کے ذمہ دار ہوسکتے ہیں؟

    کیا آج ہم نے اپنے نفس کو اللہ کے احکامات پر ترجیح نہیں دی؟ ہم کو جہاد، قتال کا حکم ہے کیا ہم جہاد کر رہے ہیں؟ کیا ہماری آج کی نوجوان نسل جہاد کےلئے تیار ہے؟ کیا ہماری مائیں اپنے بچوں کو اللہ کی راہ میں قربان کر سکتی ہیں؟ ان سب کا جواب ہے۔ "نہیں” کیوں؟ کیونکہ ہم یہ عیش و عشرت کی زندگی نہیں چھوڑ سکتے، ہم لوگ اپنے نفس کو نہیں مار سکتے، ہم اتنے بہادر نہیں ہیں کہ ہم اپنا جان و مال اللہ کی راہ میں قربان کر دیں۔ ہم لوگ تو بے حیائی کو نہیں چھوڑ سکتے، ہم نوجوان نسل آج اپنی نظروں کی حفاظت نہیں کر سکتی، ہم مائیں بہنیں آج پردہ نہیں کر سکتی، تو یہ جہاد کیوں کر کریں گے؟ اب سب لوگ اپنا محاسبہ کریں کہ کیا کل کو قیامت کے دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہماری سفارش کریں گے؟ جبکہ ہم لوگ اللہ اور اس کے دین کے دشمنوں کی معیشت کو مضبوط کر رہے ہیں، ہم لوگ ان کی پروڈکٹس کا بائیکاٹ نہیں کر سکتے، جبکہ ہم اللہ کے احکامات کو پس پشت ڈال چکے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہمیں اپنے بچوں کی تربیت اسلام کے مطابق کرنی چاہیے، ان کو صحابہ کرام اور جنگی واقعات سنا کر بڑا کرنا چاہیے، نا کہ کارٹون دیکھا کر۔ ہمیں اسلام کا گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہیے۔ امت مسلمہ کو اپنی بے حسی چھوڑ کر اللہ کے احکامات پر عمل کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو جہاد کےلئے تیار کرنا چاہیے۔

  • رمضان میں خرچ کرنے کا ثواب.تحریر:نورفاطمہ

    رمضان میں خرچ کرنے کا ثواب.تحریر:نورفاطمہ

    رمضان المبارک کا مہینہ مسلمانوں کے لیے روحانی طور پر نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ مہینہ اللہ کی خاص رحمتوں، برکتوں، اور مغفرت کا ہے۔ رمضان کے دنوں میں ہر عمل کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ اس مہینے میں، جہاں روزہ رکھنا فرض ہے، وہاں ہمیں اپنی نیتوں کو صاف اور اپنے اعمال کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان میں کئے جانے والے نیک اعمال کا اجر بہت زیادہ بڑھا دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ اگر ہم کسی غریب، یتیم یا محتاج پر ایک روپیہ خرچ کرتے ہیں، تو اللہ اس عمل کا ستّر گنا زیادہ اجر عطا فرماتا ہے۔

    رمضان میں صدقہ دینے کی اہمیت بے شمار ہے۔ قرآن میں بار بار صدقہ دینے کی ترغیب دی گئی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صدقہ دینے کو بہت بڑا عمل قرار دیا۔ رمضان کے مہینے میں صدقہ دینے سے نہ صرف ہمارے گناہ معاف ہوتے ہیں بلکہ اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جو شخص رمضان کے مہینے میں ایک روپیہ کسی غریب یا محتاج پر خرچ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے اس عمل کو ستر گنا بڑھا دیتا ہے۔” (مسلم)اس حدیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ رمضان میں کیا گیا صدقہ ایک معمولی عمل سے کہیں زیادہ قیمتی ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی عبادات کو قبول کرتا ہے اور ان کی نیک نیتی اور خلوص کو دیکھ کر ان کے اجر کو بڑھا دیتا ہے۔

    غریب اور محتاج لوگوں کی مدد کرنا انسانیت کی سب سے بڑی خدمت ہے۔ رمضان کے مہینے میں اگر ہم اپنی استطاعت کے مطابق کسی غریب کی مدد کرتے ہیں تو نہ صرف ہم اس کی زندگی میں خوشیاں لاتے ہیں بلکہ ہمیں اللہ کی رضا بھی حاصل ہوتی ہے۔ایک روپیہ بھی کسی کے لیے بہت قیمتی ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب وہ غریب ہو۔ رمضان میں جب ہم غریبوں اور یتیموں کی مدد کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس عمل کا بے شمار ثواب عطا فرماتا ہے۔یاد رکھیں، رمضان میں کسی غریب کی مدد کرنا صرف مالی مدد نہیں بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور ان کے لیے دعائیں کرنا بھی صدقہ میں شامل ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”سب سے بہتر صدقہ وہ ہے جو کسی غریب یا محتاج کو دیا جائے۔”

    رمضان کے مہینے میں صدقہ دینے سے اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ صدقہ دینے والوں کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور ان کی زندگی میں برکتیں نازل کرتا ہے۔ کسی غریب پر خرچ کرنے سے نہ صرف وہ خوش ہوتا ہے بلکہ اس کا دل بھی سکون پاتا ہے، جس سے ہمارے دل میں بھی سکون آتا ہے۔ ہر نیک عمل کا مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہونا چاہیے اور رمضان میں صدقہ دینے سے ہمیں اللہ کی رضا ملتی ہے۔شریعت میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جو بھی شخص اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے اس عمل کا ستر گنا زیادہ اجر دیتا ہے۔اگر آپ ایک روپیہ خرچ کرتے ہیں، تو اس کا ثواب ستر گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔یعنی اگر آپ کسی غریب پر ایک روپیہ خرچ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے اس ایک روپیہ کو ستر گنا بڑھا کر آپ کے نامہ اعمال میں ڈال دیتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف آپ کے دل کی سکونت کا باعث بنے گا بلکہ آپ کے روحانی درجات بھی بلند ہوں گے۔

    رمضان کا مہینہ ایک ایسا موقع ہے جب ہم اپنے دلوں کو صاف کر سکتے ہیں اور اپنے اعمال کی اصلاح کر سکتے ہیں۔ اس مہینے میں صدقہ دینے سے نہ صرف دنیا میں ہمارے رزق میں برکت آتی ہے بلکہ آخرت میں بھی ہمیں انعام ملتا ہے۔ اگر ہم رمضان میں کسی غریب پر ایک روپیہ خرچ کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس عمل کا ستر گنا زیادہ ثواب دیتا ہے، جو ہمارے لیے ایک عظیم انعام ہے۔اس لیے رمضان میں صدقہ دینے اور غریبوں کی مدد کرنے کا عمل ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور اس مہینے کو بھرپور طریقے سے اللہ کی رضا کے حصول کے لیے استعمال کریں

  • پرامن اور خوبصورت حج انتظامات، تحریر:ڈاکٹر حافظ  مسعود عبدالرشید اظہر

    پرامن اور خوبصورت حج انتظامات، تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیھماالسلام نے جب کعبة اللہ کی تعمیر فرمائی اور حکم ربی سے حج بیت اللہ کااعلان کیاتو اس کے بعد ایک عرصہ تک یقیناانسانوں کےلئے بیت اللہ کاسفر محفوظ اور پرسکون رہا ہوگاتاہم جیسے جیسے انسانی آبادی میں اضافہ ہوتا چلاگیا لوگ آسمانی مذاہب سے دور اور خواہشات کے اسیر ہوتے چلے گئے تو حج کے راستے بھی پرخطر ہوتے چلے گئے ۔ یہاں تک جب اسلام کوہ فاران کی چوٹیوں سے ضیا فگن ہوا تواسلام نے حجاز اور سرزمین حرمین کو امن وامان کامثالی گہوارہ بنا دیا ۔ امن وامان کی یہ مقدس رداکئی صدیوں تک سرزمین حجاز پر سایہ فگن رہی اور لوگ مکمل اطمینان کے ساتھ حج وعمرہ کے مناسک بجالاتے رہے درمیان میں اگر چہ حجاج کرام کےلئے بہت مشکل وقت بھی آتے رہے ہیں ۔

    حرمین شریفین اور حجاج کرام کی خدمت کے حوالے سے خلافت عثمانیہ کا دور بھی مثالی رہاہے تاہم جب خلافت عثمانیہ کی گرفت کمزور ہوئی تو سرزمین حجاز میں ابتری پھیل گئی ، راستے پر خطر ہوگئے ، حجاز کے شہر، دیہات اورعام شاہرائیں بھی محفوظ نہ رہیں ۔ حجاج کرام ڈاکوﺅں کے ہاتھوں لٹنے اغواہونے اور قتل کئے جانے لگے ۔راستے اس قدر پرخطر تھے کہ جو سفر حج کا ارادہ کرتے وہ اپنے تمام معاملات زندگی سمیٹ کر دوست احباب رشتہ داروں سے معافی تلافی کر کے کفن باندھ کر سفر حج پر نکلا کرتے تھے اس دور میں یہ تصور عام تھا کہ سفر حج سے واپسی کی امید نہیں رکھنی چاہیے ۔جو حجاج کرام ڈاکوﺅں کے ہاتھوں لٹنے سے بچ کر بیت اللہ پہنچ جاتے وہاں بیشمارو لاتعداد مشکلات ان کا استقبال کرتیں۔حالت یہ تھی کہ حجاج کرام کو مکہ مکرمہ اور حدود حرم میں بھی تحفظ حاصل نہ تھا۔کیونکہ مکہ اور اس کے گرد ونواح میں ڈاکوﺅں اور لٹیروں کا راج تھا۔

    پھر اللہ رب العزت والجلال کو اپنے بندوں پر رحم آیااور اطراف عالم سے تشریف لانے والے اپنے مہمانوں اور بیت اللہ کے زائرین کی حفاظت کا بندوبست اس طرح سے کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک موحد، مجاہد،بہادر ،دین کے داعی، امن کے سپاہی اور انصاف پسند بندے شاہ عبدالعزیز آل سعود کو حرمین شریفین اور حجاج کرام کی خدمت کے لئے منتخب فرمایا۔شاہ عبدالعزیز آل سعود نے مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ اور مضافات کے تمام علاقوں میں شریعت محمدی کے نفاذ کا اعلان کیا،حدود اللہ ، نظام قصاص ودیت کا اجرا کیا اور یہ حکم صادر فرمایا کہ حجاج کرام ضیوف الرحمن کو لوٹنے، قتل کرنے والے مجرموں کیساتھ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے مطابق سلوک کیا جائے گا چاہئے اس کا تعلق کتنے ہی بڑے قبیلے سے کیوں نہ ہو ۔شاہ عبدالعزیز نے اس کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا کہ آج کے بعد اگر کسی بھی شخص ، کسی بھی گروہ یا قبیلہ نے یا قبیلہ کے کسی فرد نے حجاج کرام کو لوٹنے کی کوشش کی تو اس کے ساتھ سختی سے نمٹاجائے گا جو قبیلہ ایسے فرد کو پناہ دے گا اس قبیلے کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے گا جو مجرموں کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ ۔حقیقتاََ ہوا بھی ایسے ہی حجاج کرام کو لوٹنے والے کتنے ہی ڈاکوﺅں ، لیٹروں ، رہزنوں اور قاتلوں کی بستیاں جلادی گئیں اس سے سفر حج پرامن ہوگیا ۔

    شاہ عبدالعزیز مرحوم کی وفات کے بعدان کی اولاد اور جانشین اپنے والدکے نقش قدم پرچلتے ہوئے آج تک ان سنہری روایات کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔اب حج انتظامات کو مزید بہتر بنانے اور حجاج کرام کو ان کے ملکوں میں سہولیات فراہم کرنے کےلئے خادم الحرمین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایت پر روڈ ٹو مکہ جیسے عظیم الشان اور تاریخ ساز پراجیکٹ شروع کردیا گیا ہے ۔ روڈٹومکہ کے تحت پاکستان سمیت پانچ مسلم اکثریتی ممالک کے عازمین حج کے امیگریشن کے مراحل ان کے اپنے ملک کے ہوائی اڈوں ہی پر مکمل کیے جارہے ہیں۔پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ائیرپورٹ کراچی ائیرپورٹ ، جبکہ لاہور ائیرپورٹ سے اگلے سال شروع ہوجائے گا ۔ اسی طرح انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے سوئیکارنو ائیرپورٹ ، ملائشیا کے دارلحکومت پتراجایا ائیرپورٹ ، بنگلہ دیش کے ڈھاکہ ائیرپورٹ اور تیونس کے ائیرپورٹ سے روڈ ٹومکہ کاآغاز کردیا گیا ہے ۔اس سہولت کافائدہ یہ ہوگاکہ سعودی عرب میں آمد سے قبل ہی حجاج کے سعودی عرب میں داخلے اور دیگر انتظامات کو حتمی شکل دے دی جائے گی تا کہ انھیں سعودی عرب میں کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ بلارکاوٹ اپنی قیام گاہوں پرمنتقل ہوسکیں ۔ پاکستان میں یہ سہولت لاہور ائیرپورٹ اور کراچی ائیرپورٹ پر بھی فراہم کرنے کےلئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ اس سے یقینا حجاج کرام اور معتمرین کو بہت زیادہ سہولت دستیاب ہوگی ۔

    حقیقت یہ ہے کہ آل سعود نے مملکت سعودی عرب کے وسائل کا ایک بڑا حصہ حرمین شریفین ،مشاعر مقدسہ اور حجاج کرام کے لئے وقف کیا، سعودی وزارت حج اور دیگر محکمے سال بھر خوب سے خوب تر کی تلاش میں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے حجا ج کرام کی خدمت اور سہولےا ت کی فراہمی کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔آج حجاج کرام اور زائرین حرمین شریفین کے آرام وراحت اور پرسکون و پرامن طریقہ سے مناسک حج کی ادائیگی کے لئے جو وسیع تراور خوبصورت انتظامات کئے گئے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیںکہ ہر انصاف پسند شخص حرمین شریفین کے خوبصورت، وسیع تر انتظامات اور آل سعود کی حجاج کرام اور معتمرین کے لئے خدمات میں کوئی کمی یا کوتاہی کی شکایت نہیں کرسکتا ۔الحمد للہ نہ ہی آج تک کسی سلیم الفطرت شخص کو ایسا کرتے دیکھا یا سنا ہے ۔

    البتہ کچھ عناصر کو سعودی حکومت کے حج انتظامات پسند نہیں آتے ۔ وہ حج انتظامات کے خلاف پروپگنڈہ شروع کردیتے ہیں اورحج انتظامات عالمی کمیٹی کے سپرد کرنے کے راگ الاپنا شروع کردیتے ہیں ۔ یہ عناصر پہلے بھی ناکام تھے اور آئندہ بھی ناکام ہی رہیں گے ۔امت مسلمہ کا ہر سلیم الفطرت فرد وہ کسی بھی خطہ زمین یا کسی بھی نسل یا قوم سے تعلق رکھتا ہووہ حرمین شریفن کی تعمیر وترقی ، حجاج کرام اور معتمرین کی خدمت کے لئے سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود ، انکے جانشین شہزادہ محمد بن سلمان اور دیگر سعودی حکام جو حرمین شریفین اور زائرین حرمین شریفین کی خدمت کے لئے دن رات کوشاں رہتے ہیںکے ممنون ہیں اور انکی خدمات پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہیں ۔بے مثال عدیم النظیر حج انتظامات ، حرمین شریفین کی تعمیر وترقی، حجاج بیت اللہ کے آرام وسکون اور خدمت کے لئے اپنے تمام تر وسائل اور صلاحیتیں وقف کرنے پر امت مسلمہ کی طرف سے ہم خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ان کے جانشین شہزادہ محمد بن سلمان، سعودی وزارت حج اور دیگر سعودی حکام کے صدق دل سے شکر گزار ہیں اور انکی خدمات کو تحسین کی نظرسے دیکھتے ہیں اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت تمام سعودی حکام کی حفاظت فرمائے ،اور انہیں توفیق مزید سے نوازے آمین یا رب العالمین۔
    hafi masood ahar

  • ایران کا اگلا صدر کون ہوگا؟

    ایران کا اگلا صدر کون ہوگا؟

    ایران میں 28 جون کو صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں، ایران کی گارڈین کونسل نے چھ امیدواروں کی منظوری دی ہے جس میں سے تین سخت گیر،دو عملی قدامت پسند، اور ایک اصلاح پسند ہے، توقع کی جاتی ہے کہ روایت پسند ووٹ پہلے پانچ امیدواروں میں تقسیم ہو جائیں گے، اگر ووٹر ٹرن آؤٹ زیادہ رہا تو اصلاح پسندوں کو ممکنہ طور پر موقع ملے گا

    ایرانی صدارتی امیدواروں میں سرکردہ امیدوار محمد باقر قالیباف ہیں، جو پاسداران انقلاب کے سابق جنرل، پولیس چیف، اور تہران کے میئر کے طور پر مضبوط پس منظر کے حامل ہیں۔ اس وقت پارلیمنٹ کے عملی قدامت پسند اسپیکر اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے رشتہ دار قالیباف حکومت کے اندر ایک نمایاں شخصیت ہیں۔ایک اور قابل ذکر امیدوار سعید جلیلی ہیں، جو خامنہ ای اور طاقتور اسلامی انقلابی گارڈ کور ے قریبی تعلقات رکھنے والے سخت گیر ہیں۔ اگرچہ قالیباف کو زیادہ اعتدال پسند سمجھا جاتا ہے، تا ہم جلیلی کا سخت گیر موقف انہیں ایک اہم دعویدار بناتا ہے۔

    زیادہ تر امیدوار سپریم لیڈر خامنہ ای کے ساتھ ایک سخت گیر اسلامی نظریہ رکھتے ہیں۔ تاہم تبریز سے رکن پارلیمنٹ مسعود پیزشکیان ایک اعتدال پسند کے طور پر نمایاں ہیں۔ پیزیشکیان، جو کہ نسلی طور پر آذری ہیں، سخت گیر لوگوں کی مخالفت کرنے والوں سے ووٹ حاصل کر سکتے ہیں، خاص طور پر شمال مشرق میں جہاں بہت سے ترکی بولنے والے آذری باشندے رہتے ہیں۔انکے پس منظر کے مطابق وہ ایک سرجن، سیاست دان، اور علاقائی خودمختاری کے حامی ہیں .ولی نصر نے ایک حالیہ ٹویٹ میں پیزشکیان کے منفرد پروفائل پر روشنی ڈالی، اس کے آذری ،کرد ورثے، دونوں زبانوں میں روانی، اور ان کے اصلاحی موقف کو نوٹ کیا۔

    ایرانی صدارتی انتخابات میں نتائج کے باوجود توقع کی جاتی ہے کہ ایرانی پالیسی کی مجموعی سمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، کیونکہ اسلامی جمہوریہ صدارتی فاتح سے قطع نظر اپنی قائم کردہ رفتار کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

  • ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کو کیا ہوا؟

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کو کیا ہوا؟

    ایوی ایشن کے ماہر اور ہیلی کاپٹر کے سابق پائلٹ پال بیور کا کہنا ہے کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کے حادثے کے ممکنہ عوامل میں بادل، دھند، اور کم درجہ حرارت سمیت موسم کی خراب صورتحال شامل ہے۔ ایرانی حکام نے سرکاری طور پر واقعے کی وجہ کا تعین نہیں کیا ،

    فوربز نے رپورٹ کیا کہ اگرچہ شدید موسم کی وجہ سے ممکنہ طور پر ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش آیا جس میں ایرانی صدر رئیسی اور وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کی موت ہوئی،اس واقعہ میں اس بات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہئے کہ ہیلی کاپٹر کتنا پرانا تھا؟، ایرانی صدر کا ہیلی کاپٹر بیل 212، ایک پائیدار طیارہ، لیکن غالباً 40-50 سال پرانا تھا، جسے 1979 کے انقلاب سے قبل آخری شاہ کے دور میں حاصل کیا گیا تھا جب امریکہ اور ایران کے تعلقات اچھے تھے۔ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے متواتر سفر کے لیے استعمال ہونے والے پرانے ہیلی کاپٹروں کے بارے میں پہلے بھی خدشات ظاہر کئے جا چکے تھے، نائب صدر جو اب قائمقام صدر بن چکے ہیں محمد مخبر نے 2023 میں ایک خفیہ خط لکھا تھا جس میں ہیلی کاپٹر بارے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا،اسوقت کے نائب صدر محمد مخبر نے اس خط میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے لئے روس سے 32 ملین ڈالر کے تخمینہ لاگت سے دو ایم آئی 17A2 ہیلی کاپٹرخریدنے کی تجویز دی تھی.

    ابراہیم رئیسی نے عہدہ سنبھالنے کے بعد چین کے ساتھ ایران کے تعلقات کو مضبوط کیا ہے، جس میں فروری 2023 میں بیجنگ کا دورہ بھی شامل ہے۔ ابراہیم رئیسی کو اپنے سخت گیر موقف کے لیے جانا جاتا ہے اور انہیں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جاتا تھا،ایرانی صدر رئیسی کی موت کے اہم سیاسی اثرات ہیں، اس حادثے میں وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کی بھی موت ہوئی جو لبنان کی ایک اہم شخصیت اوراکثر حزب اللہ اور حماس کے اراکین سے غزہ اسرائیل تنازعات کو لے کر ملاقات کرتے تھے،

    ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر کے حادثہ کا سانحہ ایران میں مختلف سیاسی، سماجی اور اقتصادی مسائل پر بڑھتے ہوئے اختلاف کے درمیان پیش آیا ۔ ایرانی حکومت کو اپنے متنازعہ جوہری پروگرام اور یوکرین تنازع کے دوران روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے فوجی تعاون کے حوالے سے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے۔ ہیلی کاپٹر کا ملبہ مکمل طور پر جل گیا تھا، ایرانی حکام نے اطلاع دی کہ کچھ لاشیں ناقابل شناخت تھیں،

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی موت کے بعد، روس اور چین کے ساتھ ایران کے تعلقات مزید گہرے ہونے کی امید ہے، اور امکان ہے کہ ایران امریکہ کے خلاف اپنی سخت گیر پالیسیوں کو برقرار رکھے گا۔ یہ واقعہ جغرافیائی سیاسی حرکیات کے پیچیدہ حالات،ایران کے اتحاد اور اندرونی چیلنجوں کو اجاگر کرتا ہے۔

  • غزہ پر حملے اور امت مسلمہ کی صرف”مذمت”، تجزیہ: شہزاد قریشی

    غزہ پر حملے اور امت مسلمہ کی صرف”مذمت”، تجزیہ: شہزاد قریشی

    اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مسئلے کو حل کروانے کے لئے اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل ،عرب لیگ ، اقوام عالم ،او آئی اسی اور مسلم ممالک نے کیا کردار ادا کیا ؟ جب بھی بڑی طاقتوں کے درمیان تنائو بڑھتا ہے تو یہ تمام بین الاقوامی ادارے مفلوج کیوں ہو جاتے ہیں ۔ یہ جانتے ہوئے کہ جنگ کسی خطے پر ہو انسانیت کا خون بہتا ہے بے گناہ شہری مارے جاتے ہیں۔شہری آبادیاں اُجڑجاتی ہیں مخلوق خدا جائے پناہ تلاش کرتی ہے۔ لیکن کیا کہا جائے دنیا اپنے مفادات ، اپنی طاقت، اپنے اقتدار بچانے کے لئے ایک صدیوں پُرانا لفظ مذمت کرتی ہے اپنا کردار ادا نہیں کرتی۔

    دنیا کے تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور خدا کی مخلوق ہیں ۔ انسانیت کا رشتہ سب سے اہم رشتہ ہے اس رشتے کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ۔ انسانیت کا رشتہ بہت بڑا خزانہ ہے اسے لباس ، مذہب یا قومیت میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2008 سے اب تک اسرائیل ڈیڑھ لاکھ فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے۔ جس میں 33 ہزار تعداد بچوں کی ہے۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے مقامی و ملکی اور عالمی سطح پر نہ مسلمانوں کی کوئی قیادت ہے اور نہ کوئی لائحہ عمل اور نہ اتحاد ہے ۔ مسلمان ممالک ہر شعبے ، ہر میدان میں مفلوج نظر آتا ہے ۔تاہم دعائوں اور بدعائوں سے حملہ آور ہے۔

    ملکی سیاست اور جمہوریت پر کیا تبصرہ کیا جائے ہمارے ملک میں جمہوریت کبھی آئیڈیل رہی نہیں۔ پاکستان کی سرحدیں پاک فوج اور پاک فوج کے جملہ اداروں کی وجہ سے محفوظ ہیں ۔ سیاستدانوں کی وجہ سے نہیں تاہم جس جمہوریت اور الیکشن آئین اور قانون کی باتیں ہو رہی ہیں پاکستان کو اس وقت ایک ہوشیار ،ذہین اور چالاک حکمران کی ضرورت ہے جو اپنی منفرد حیثیت سے ملک کے مسائل حل کر سکے۔

    ہسپتال پر بمباری کے بعد غزہ میں وزارت صحت کی جانب سے ڈاکٹر یوسف ابوریش نے ہسپتال میں پریس کانفرنس کی ،پریس کانفرنس کی تصاویر اور ویڈیو سامنے آئی ہیں، اس پریس کانفرنس میں میڈیا کی بجائے، انسانی لاشوں کا ڈھیر ان کے سامنے ہے،ڈائس کے ساتھ ایک والد اپنے بیٹے کی لاش کو اٹھا کر دنیا کے سامنے بےبسی کی تصویر بنا ہوا ہے،ڈاکٹر ود آؤٹ بارڈرز کے ڈاکٹر غسان کا کہنا تھا کہ ہم ہسپتال میں سرجری کر رہے تھے کہ اچانک زوردار دھماکہ ہوا،یہ ایک قتل عام ہے،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

     

  • ایران اور سعودی عرب کے درمیان مفاہمت؛  پاکستان کیلئے مفید

    ایران اور سعودی عرب کے درمیان مفاہمت؛ پاکستان کیلئے مفید

    سنی شیعہ دشمنی نے ہمیشہ پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد کو جنم دیا ہے جبکہ سعودی عرب اور ایران نے اپنے جغرافیائی سیاسی مفادات کو بڑھانے کے لیے مذہبی کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے ہمیشہ پاکستانی میدان کو استعمال کیا ہے

    "ایران اور سعودیہ کے درمیان حالیہ دنوں ہونے والے معاہدے کیلئے چین کا شکریہ کیونکہ معاہدے کے بعد پاکستان کے دو بڑے فرقوں کے درمیان دشمنی کو ختم کرنے میں یہ بات اب کافی کارگر ثابت ہوگی اور ایک خوش آئند فیصلہ ہے کیونکہ پاکستان کے اندر ایران کے بعد شیعہ برادری کی سب سے زیادہ تعداد موجود ہے لہذا امید ہے کہ یہ دونوں کے درمیان بہتر مذہبی رواداری کا باعث بنے گا۔”اس سے پاکستان کو دونوں ممالک کے درمیان زیادہ متوازن تعلقات برقرار رکھنے میں مدد ملے گی جیسے کہ موجودہ حالات ہیں سعودی عرب پاکستان کے لیے مالی طور پر بہت مددگار رہا ہے جبکہ دوسری طرف ایران ایک علاقائی تجارتی پارٹنر ہے۔

    "سعودی عرب پاکستان کا مضبوط ترین حامی رہا ہے اور سعودی عرب پاکستان کو تسلیم کرنے والے اقوام متحدہ کے پہلے رکن ممالک میں شامل ہے۔ لہذا سفارتی اور مالی دونوں لحاظ سے سعودیہ نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ جو تعاون فراہم کیا اس پر کئی باب لکھے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ سعودی عرب میں اس وقت لاکھوں پاکستانی مختلف حصوں میں کام کر رہے اور برسر روزگار ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستانی فوجی 1960 کی دہائی سے وہاںانکی حفاظت کے لیے تعینات ہیں۔

    "سرکاری ذرائع کے مطابق ایران اور پاکستان کے درمیان تجارت کا حجم تقریبا 392.08 ملین امریکی ڈالر ہے جس میں پاکستان کی ایران کو برآمد کی جانے والی 22.86 ملین ڈالر کی اشیا بھی شامل ہے علاوہ ازیں اس میں سبزیاں، کیمیکل، پھل، گوشت، چاول شامل ہیں۔ جبکہ ادھر ایران پاکستان کو کیمیائی مصنوعات، کھالیں، خام لوہا برآمد کرتا ہے۔”
    مزید یہ بھی پڑھیں
    زمان پارک،کارکن بنے عمران خان کی ڈھال،تاحال گرفتاری نہ ہو سکی
    عمران خان کو کس نے کہا کہ بیڈ کےنیچے چھپ جاو؟ مریم نواز
    روٹین سے ہٹ کر کردار کرنا چاہتا ہوں عثمان مختار
    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ
    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے
    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا
    پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر پر حکومت کا امریکا سے بات کرنے کا فیصلہ
    پاکستان کے لیے ایران کے ساتھ بہتر تعلقات چین پاکستان اقتصادی راہداری اور بی آر آئی جیسے منصوبے کو کامیاب بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ تاہم اسرائیل اس معاہدے کو امریکہ کی جانب سے چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو اسپیس دینے کے طور پر محسوس سکتا ہے کیونکہ اس معاہدے سے ایران کو عالمی تنہائی کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ لیکن اسرائیل یا اسرائیل نواز عناصر آنے والے وقتوں کو نازک بناتے ہوئے طے پانے والے معاہدے کے نفاذ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

  • انقلاب کہاں کامیاب ہوتے ہیں؟ — ضیغم قدیر

    انقلاب کہاں کامیاب ہوتے ہیں؟ — ضیغم قدیر

    تیسری دنیا کے ممالک میں آپ پچھلے پچاس سالوں کے تمام انقلاب دیکھ لیں وہ انقلاب نہیں بلکہ امریکی سازش کے نتیجے میں پھیلنے والی انارکی تھے۔

    عراق جیسا ہنستا بستا ملک کوئی نہیں تھا۔ دہشتگردی کا دنیا بھر میں وجود نہیں تھا مگر صدام حسین پسند نہیں تھا میر جعفروں کیساتھ مل کر اس کو ہٹایا گیا، نکلا کچھ بھی نہیں مگر وہ عراق جو پہلے پر امن تھا اب ایک عفریت کی جگہ بن گیا۔

    سوویت کی چڑھائی کے دوران افغانیوں کی مدد کی گئی یہ جیت گئے مگر بعد میں جب یہ پر سکون حکمرانی کر رہے تھے تو افغانستان آپریشن شروع کر دیا گیا۔ نتیجہ کھنڈر افغانستان کی صورت میں سامنے ہے۔

    عراق میں جو سنہ 2000 کے آغاز میں بیج بویا گیا اس نے پروان پکڑا اور یمن کی طرف ہجرت شروع کر دی، ایران اور عراق کی اس پراکسی وار میں یمن میں وہاں کے شعیوں کو بتایا گیا کہ وہ خطرے میں ہیں وہیں پر دوسری طرف امریکی مدد سے سعودیوں نے حوثی مخالف گروہوں کو سپورٹ کیا یہ چھوٹی موٹی لڑائیاں جاری تھی کہ عرب اسپرنگ نامی ایک جرثومے نے اس کو تقویت دی۔

    اس عرب سپرنگ نے زور پکڑا اور پھر حوثیوں اور دوسرے گروہوں کی ایسی لڑائی شروع ہوئی کہ آج شام، یمن اور لیبیا تباہ ہو چکے ہیں۔ مصر اور اردن سیکیورٹی رسک پر ہیں اور لبنان پہلے ہی ریڈیکلائزڈ ہے۔ اس وقت شام اور یمن دو ممالک کا نام نہیں بلکہ مختلف باغی تحریکوں کی آماجگاہ ہیں جہاں پر ایک ملک کا وجود صرف باہر موجود شخص کو پتا ہے اندر سے یہ ملک تین سے چار گروہوں کے مجارٹی علاقوں میں منقسم ہیں۔

    لیبیا کی جی ڈی پی معمر قذافی کی حکومت میں بہترین سے اوپر تھی۔صحت سمیت سب کچھ فری تھا حکومت شادی کرنے تک کے پیسے خود دیتی تھی مگر بتایا گیا کہ قذافی ٹھیک نہیں ہے انارکی ہوئی، آج لیبیا انارکی میں جی رہا ہے۔

    انقلاب ایران تو سب کو یاد ہوگا۔ مگر اس انقلاب سے پہلے ایرانی کتنی پرسکون زندگی گزار رہے تھے یہ سب کو معلوم ہے لیکن اس بات کو تسلیم کرنا سب کے بس کی بات نہیں ہے۔ خیر 70 کی دہائی میں آئے ‘انقلاب’ نے بہت کچھ بدلا، ملک شدت پسند ہوا مگر ایک فائدہ یہ ہوا کہ ایران کے اندر کسی اور ملک کی پراکسی وار نا چل سکی۔

    کل سے پاکستانی سوشل میڈیا پہ اس بات کی خوشیاں منائی جا رہی ہیں کہ ایران میں مورالٹی پولیس کا خاتمہ انقلاب ایران دوئم کی طرف اٹھا قدم ہے۔

    یہ خبر ان کے لئے بہت خوش آئند ہوگی۔ مگر ہمیں نتائج معلوم ہیں۔ آج اگر خامنائی کا کنٹرول ایران سے ختم ہوا تو یہ ٹیکسٹ بک میں لکھی بات ہے کہ کل کو ایران بھی اگلا شام، یمن یا عراق ہوگا۔

    یاد رکھیں.

    انقلاب وہاں ہی کامیاب ہوتے ہیں جہاں ہمسائیے امیر اور ترقی یافتہ ہوں ورنہ سانپوں کے بیچ میں اپنی حفاظتی شیلڈ اتار کر انقلاب کی تمنا کرنے والوں کو سانپ ہی ڈستے ہیں۔

    وہیں پر ہمارے تکفیری کالم نگاروں اور تجزیہ کاروں کے لئے یہ کمائی کا سیزن ہے کہ وہ یا تو انقلاب ایران کی ترویج کرکے پیسہ کمائیں یا اس کے مخالف گروہ یعنی ایرانی حکومت کی تائید کرکے، وہیں عام عوام جنہوں نے اس ممکنہ انارکی سے مرنا ہے وہ ان دانشوروں کی قلمی ماسٹربیشن سے تب تک نا آشناء رہتی ہے جب تک پاکستان کی طرح مہنگائی 50% تک اور بینکوں کی اے ٹی ایمز میں سے پیسے ملنے تک سب رک نہیں جاتے تب تک وہ ان قلمکاروں اور انقلاب فروشوں کے نعروں کو خریدتے رہتے ہیں۔

    عرب اسپرنگ سے لیکر پاکستان تک ہر جگہ ان تجزیہ کار لفافوں کی قلمی ماسٹربیشن بہت کچھ بگاڑ چکی ہے۔ اور سدھرنے والا کچھ نہیں ہے یہ گھر اجاڑنے والے لفافے ایسے ہی گھروں کو اجاڑتے رہیں گے۔

  • متحدہ عرب امارات کا قومی دن مبارک ہو!!! — بلال شوکت آزاد

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن مبارک ہو!!! — بلال شوکت آزاد

    2 دسمبر کو ہم متحدہ عرب امارات کا قومی دن منانے کے لیے تیار ہیں! اس سال۔ آئیے اس اہم دن کی تاریخی نسبت کو یاد کریں اور ان لوگوں کا احترام کریں جو متحدہ عرب امارات کی تشکیل کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ آئیے اس دن کی تاریخی اہمیت پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات کے قومی دن کی تاریخ:
    متحدہ عرب امارات ہمیشہ اتنا طاقتور ملک نہیں تھا جتنا آج ہے۔ درحقیقت یہ ملک مختلف قبائل کے جھگڑوں کی بدولت مختلف ریاستوں میں تقسیم اور بکھرا ہوا تھا۔ 1820 میں، برطانیہ اس ملک کے تاریخی منظر میں داخل ہوا اور تحفظ دینے کے وعدے پر اس سر زمین کا کچھ کنٹرول مانگا۔ امن کے لیے بے چین، متعدد قبائل نے اس پیشکش کو قبول کر لیا اور برطانیہ کو اپنے تنازعات کو حل کرنے کا ذمہ دار بنا دیا۔ لیکن 1968 میں، برطانیہ نے جنگ عظیم اول اور دوم کے بعد ہوئے مالی نقصانات کا سامنا کرنے کے بعد خود کو اس ملک کے منظر سے ہٹا دیا۔

    منظر نامے سے برطانیہ کے نکلنے کے بعد ابوظہبی، دبئی، عجمان، العین، شارجہ اور ام القوین کے حکمرانوں نے متحد ہونے کا فیصلہ کیا۔ 2 دسمبر 1971 کو امارات نے برطانیہ سے اپنی آزادی کا اعلان کیا اور متحدہ عرب امارات (UAE) بن گیا۔ بعد میں، راس الخیمہ ساتویں امارت نے بھی اس یونین میں شمولیت اختیار کی۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ بہترین حصہ کیا ہے؟ یہ انضمام اور نوآبادیاتی راج سے ان کی آزادی بغیر کسی تشدد کے حاصل کی گئی تھی!

    سات امارات کے اتحاد اور متحدہ عرب امارات کے اعلان کو نشان زد کرنے کے لیے، متحدہ عرب امارات کا جھنڈا جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ آج بلند کیا گیا، اور متحدہ عرب امارات کے پہلے صدر کا انتخاب کیا گیا — شیخ زید بن سلطان النہیان, شیخ زید ابوظہبی کے امیر تھے اور سات امارات میں سب سے امیر تھے۔ آج، متحدہ عرب امارات کو ایک درمیانی طاقت اور ایک بااثر قوم کے طور پر پہچانا جاتا ہے جس کی ترقی کرتی ہوئی معیشت، تیل کے ذخائر، دنیا بھر سے سیاحوں کی آمد اور دنیا کی بلند ترین عمارتوں میں سے کچھ اس کی پہچان ہے۔ تاہم، متحدہ عرب امارات کے تمام شہری تسلیم کرتے ہیں کہ آج جو طاقت ان کے پاس ہے وہ صرف اس وجہ سے موجود ہے کہ ساتوں امارات نے 1971 میں متحد ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن ایک تاریخی موقع ہے جو اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی تشکیل کیسے ہوئی۔ اس دن کو منانا ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو اس قوم کی تاریخ یاد دلائی جائے جس میں وہ رہتے ہیں۔ ماضی کو یاد کرنے سے اکثر نوجوانوں کے دلوں میں وطن کے لیے محبت پیدا ہوتی ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے قومی دن کی تاریخ میں پیش آنے والے واقعات اس بات کی مثال ہیں کہ تشدد اور جنگ کے بغیر آزادی کیسے حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ دن سیاسی مسائل کو حل کرنے کے لیے اور ترقی پسند بات چیت کا انتخاب کرنے کے لیے ایک تحریک کا کام بھی کرتا ہے۔آپ نے ‘تقسیم اور فتح’ کے بارے میں سنا ہے۔ ٹھیک ہے، متحدہ عرب امارات کی تشکیل بالکل ظاہر کرتی ہے کہ مخالف میں کتنی ہی طاقت ہو لیکن ایک دن اپنی جگہ چھوڑ کر آگے بڑھنا پڑتا ہے اور اتحاد سے بڑی طاقت نہیں جو مخالف کو چاروں شانے چت کردے, لہذا ہر سال یو اے ای کا قومی دن منانا اسی طاقت کی یاد دہانی ہے۔

    متحدہ عرب امارات آج امن،ترقی اوربہترین حکمرانی کی پہچان کے طورپراقوام عالم میں فخرکے ساتھ کھڑاہے۔ متحدہ عرب امارات نے گزشتہ پانچ دہائیوں میں فقیدالمثال پیش رفت کی ہے جوکہ ملک کوایک جدید ریاست اورترقی کرتی ہوئی معیشت میں تبدیل کرنے کیلئے متحدہ عرب امارات کی قیادت کے نظریہ اورعزم کامنہ بولتا ثبوت ہے متحدہ عرب امارات نے تجارت، مالیاتی خدمات،سیاحت،ٹرانزٹ اور ٹرانسپورٹ کیلئے عالمی معیارکے مرکزکے طورپر ابھرنے کیلئے شاندار پیش رفت کی ہے۔ یہ متاثرکن ترقی رواداری،جامع اقتصادی ترقی اور اختراع کوفروغ دینے سے ممکن ہوئی پاکستان اورمتحدہ عرب امارات کی موجودہ دوراندیش قیادت میں ہمارے دوطرفہ تعلقات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں نے دونوں ممالک کے مابین بھائی چارے کومضبوط بنانے میں کئی دہائیوں کے دوران نمایاں کردارادا کیا ہے۔

    پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ اور دائمی ہیں، 1971 میں متحدہ عرب امارات کے قیام کے بعد پاکستان دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے اسے آگے بڑھ کر نہایت پرجوش انداز میں نہ صرف تسلیم کیا تھا بلکہ اس کی جانب دست تعاون بھی دراز کیا تھا اس وقت سے لے کر آج تک پاکستان نے دوستی کے اس رشتے کو نہ صرف برقرار رکھا ہے بلکہ اسے وسیع سے وسیع تر کرنے کی کوشش کی ہے پاکستانی کمیونٹی تب سے لے کر آج تک یو اے ای کی ترقی اور تعمیر میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ دونوں ممالک میں تاریخی، ثقافتی اور معاشی رشتے قائم ہیں

    باغی ٹی وی انتظامیہ اپنے مسلم برادر ملک متحدہ عرب امارات کے قومی دن پر اس برادر ملک کو قیام کی 51 ویں سالگرہ پر مبارکباد پیش کرتی ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ اس ملک کو اس ملک کے باسیوں کو ہمیشہ متحد رکھے اور یہ سرزمین دنیا بھر میں امن وبھائی چارہ کا باعث بنے ، کل 2 دسمبرکی مبارک تاریخ کو ریاست ہائے متحدہ عرب امارات کے قومی دن کے موقع پر باغی ٹی وی انتظامیہ بھی یہ دن منائے گی اور متحدہ عرب امارات کے لیے کامیابیوں کے لیے دعا گو بھی ہوگی ،

  • میں شاہین ہوں اقبال کا — اعجازالحق عثمانی

    میں شاہین ہوں اقبال کا — اعجازالحق عثمانی

    پاکستان کی کل آبادی میں نوجوانوں کی تعداد تقریباً 70 فی صد ہے۔ اور یہی نوجوان ملک کا مستقبل ہیں۔ مگر اس مستقبل کا ساتھ ریاست کا رویہ، افسوسناک ہے۔ پاکستان کے اس 70 فی صد سے جذباتی بنیادوں پر ووٹ لے لیے جاتے ہیں۔ مگر پھر حکومتیں انکو بھول جاتی ہیں۔ اسمبلیوں میں صرف ایک دوسرے کو چور، ڈاکو ہی کہا جاتا ہے۔ اپنی سیاست چمکانے کے لیے جھوٹ بولے جاتے ہیں۔ مگر نوجوان کی کوئی بات نہیں کرتا۔ نوجوان اگر سمجھ جائے تو یہی وقت کا بادشاہ ہے۔ مگر نوجوان کنفوز ہے۔ اس لیے کہ اس کے سامنے کوئی رول ماڈل نہیں ہے۔ جسکی وہ پیروی کر کے آگے بڑھے۔کیونکہ موجودہ دور میں مذہبی یا سیاسی کوئی بھی ایسی شخصیت نہیں ہے، جو نوجوان نسل کو متاثر کر سکے۔لیکن اگر یہی نوجوان نسل، اقبال کے فلسفہ اور فکر سے رہنمائی لے۔تو یقیناً وقت کے بادشاہ بن سکتے ہیں۔علامہ اقبال نے نوجوان نسل کےلیے ہی فرمایا تھا کہ

    تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا

    تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں

    نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر

    تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

    پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں

    شاہیں کا جہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور

    اقبال نے نوجوان نسل کو شاہین سے تعبیر کیا ۔ شاہین خود دار اور بے خوف پرندہ ہے۔ نڈر ہو کر پروں کو کھول کر فضا میں اڑتا ہے۔اقبال کی شاعری میں موجود فکر اور فلسفہ انھیں باقی شعراء سے منفرد بناتا ہے ۔ وہ اپنے وقت کے مظلوموں کی طاقتور ترین آواز تھے۔ آج بھی انکی فکر سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ کیونکہ ان کے فلسفے میں آفاقیت پائی جاتی ہے۔

    کبھی نوجوان قوت خوابیدہ کو بیدار کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

    کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے

    وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے ایک ٹوٹا ہوا تارا

    پیغام خودی دے کر اقبال اس قوم کے نوجوانوں کے لیے ہمیشہ دعا گو رہے۔ جس کی جھلک ان کے اشعار میں بھی ملتی ہے۔

    جوانوں کو میری آہ سحر دے

    پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے

    خدایا آرزو میری یہی ہے

    میرا نور بصیرت عام کر دے

    خدا کرے کہ ہم نوجوانوں کو فکر اقبال سمجھ آجائے۔ اور ہم اپنے مقام و مرتبے کو پہچان پائیں۔