Baaghi TV

Category: مسلم دنیا

  • حکومت سرکاری سطح پر اجتماعی استغفار و توبہ کا پروگرام ترتیب دے،متحدہ علماء محاذ

    حکومت سرکاری سطح پر اجتماعی استغفار و توبہ کا پروگرام ترتیب دے،متحدہ علماء محاذ

    وفاقی و صوبائی حکومتیں عملی اقدامات میں مکمل طور پرناکام ہوچکی ہیں،متحدہ علماء محاذ
    مساجدکوحفاظتی تدابیر کے ساتھ پنج وقتہ اور نماز تراویح کے لیے کھولاجائے،علماء مشائخ کا مطالبہ
    زخیرہ اندوزوں،گرانفروشوں کو فوری گرفتار اور اشیائے خوردونوش میں 40فیصدکمی کا اعلان کیا جائے
    حکومت غریب عوام کی دہلیزپرراشن سمیت تمام بنیادی سہولیات کو یقینی بنائے،استقبال رمضان کی تقریب میں قرارداد

    کراچی: متحدہ علماء محاذپاکستان کے تحت مرکزی سیکریٹریٹ گلشن اقبال میں استقبال و تقدس رمضان اور کورونا وائرس سے پیدا شدہ موجودہ تشویشناک صورت حال پر اجلاس میں مختلف مکاتب فکر کے جید علماء مشائخ نے وفاقی و صوبائی حکومت کے ناقص اقدامات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں عملی اقدامات میں مکمل طور پرناکام ہوچکی ہیں ایک دوسرے پر الزامات اورباہمی توتکار سے ریاست کی جگ ہنسائی ہورہی ہے مساجدکوحفاظتی تدابیر کے ساتھ پنج وقتہ اور نماز تراویح کے لیے کھولاجائے

    مختلف شہروں میں روکے گئے تبلیغی جماعت کے افرادکو گھروں کو روانہ کیاجائے۔زخیرہ اندوزوں،گرانفروشوں کو فوری گرفتار اور اشیائے خوردونوش میں 40 فیصدکمی کا اعلان کیا جائے متحدہ علماء محاذ کے چیئرمین علامہ عبدالخالق فریدی،بانی سیکریٹری جنرل مولانامحمدامین انصاری،علامہ قاضی احمد نورانی صدیقی،مولانا انتظارالحق تھانوی، علامہ یونس صدیقی سلفی،یعقوب احمد شیخ،علامہ علی کرار نقوی،علامہ مرتضی خان رحمانی،حافظ گل نواز و دیگر نے کہا کہ: قدرتی آفت کورونا کی آمد سے لیکر آج تک وفاقی اور صوبائی حکومتیں عملی اقدامات کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہیں وفاق و صوبوں کے ایک دوسروں پر الزامات اور باہمی توتکارسے عالمی سطح پر ریاست پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے،

    سرکاری سطح پر باقاعدہ علاج معالجے اور عوامی ضروریات کیلئے تاحال موثراقدامات نہیں کیے گئے،کچھ عناصر کورونا وائرس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر فرقہ ورانہ پوسٹیں شیئر کرکے ملک کو فرقہ وارانہ تعصب اور منافرت کی طرف دھکیلنے کی سازش کررہے ہیں، حکمرانوں کی خاموشی قابل مذمت ہے

    انہوں نے مطالبہ کیاکہ ملک کے مختلف شہروں میں تبلیغی جماعت کے جن افرادکو روکاگیا ہے انہیں فی الفور باحفاظت گھروں کو روانہ کیاجائے،ان کے ساتھ ظلم جبر تشدد کرنے والوں کے خلاف فوری کاروائی کی جائے،صوبائی اور مرکزی حکومتیں مل بیٹ ھ کر مسائل کو حل کریں ملک بھر کے تاجروں کو محدود وقت کیلئے معاشی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی جائے‘ آئمہ مساجد و خطباء کے خلاف قائم مقدمات ختم کئے جائیں‘

    انتظامی افسران کو سنسی خیزی پھیلانے کی بجائے حکمت عملی سے مسائل حل کرنے کا پابندکیاجائے حکومت سرکاری سطح پر اجتماعی استغفار و توبہ کا پروگرام ترتیب دے اور عوام الناس کو بتایاجائے ایسے حالات میں اللہ سے رجوع ضروری ہے اور اللہ کے حکم سے ہی اس موذی بیماری سے چھٹکارا ملے گا۔ کورونامساجد آباد کرنے سے ختم ہوگا مساجد پر پابندیاں عذاب خدا وندی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ حکومت غریب عوام کی دہلیزپرراشن سمیت تمام بنیادی سہولیات کو یقینی بنائے،راشن و امداد کے نام پر تصاویر و ویڈیوبناکر سفید پوش ضرورت مند مرد و خواتین کی تحقیر و تذلیل کے غیر شرعی عمل سے اجتناب کیا جائے

  • عالمی صہیونزم کی شکست اور اعتراف—–از—-صابرابو مریم

    عالمی صہیونزم کی شکست اور اعتراف—–از—-صابرابو مریم

    خطے کی موجودہ صورتحال اور بالخصوص شام و یمن اور عراق میں صہیونی محاذ کی شکست کے بعد ایک ایسی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے کہ جس میں غاصب صیہونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی قابض افواج سے تعلق رکھنے والے میجر جنرل تامیر ھایمن ایک فوجی بریفنگ میں ایسے انکشافات کر رہے ہیں جس سے مغربی ایشیائی ممالک میں جاری جنگ و جدل اور صہیونیوں کی ناپاک سازشوں کا پردہ چاک ہو گیا ہے ۔

    صہیونی قابض افواج کے میجر جنرل تامیر ھایمن اسرائیل کے ایک اعلی سطح کے فوجی اہلکاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اس وقت اسرائیل کی انٹیلی جنس کے چئیر مین کے عہدے پر کام کر رہے ہیں ۔

    اسرائیلی فوج کے ایک اعلی سطحی اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے تامیر ھایمن نے کہا ہے کہ اسرائیل کی تمام تر کوششوں کے باوجود اسرائیل کی شام اور عراق میں شکست کی سب سے بڑی وجہ ایران کی حکمت عملی اور اسرائیلی پالیسیوں کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کر نا ہے ۔ اپنی اسی بریفنگ میں فوجیوں کو یہ بتاتے ہیں کہ ایران میں آنے والے اسلامی انقلاب کی فکراسرائیل کے شام اور عراق سمیت خطے میں منصوبوں کی ناکامی کا باعث بن رہی ہے اور فکر سے منسلک لوگ خاص طور پر اسرائیل کو صفحہ ہستی سے نابود کرنا چاہتے ہیں ۔

    تامیر ھایمن اس ویڈیو فوٹیج میں اپنے ماتحت فوجی افسران کوشا م اور عرا ق کی صورتحال کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ عراق ہمارے اور امریکہ کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے ۔ عراق اب اسرائیل کے لئے آج سے بیس سالے پہلے والا عرا ق نہیں رہا ۔ عرا ق اور شام یہ دونوں ایران کے ساتھ مربوط ہو چکے ہیں اور ایران ان کی پشت پناہی کر رہا ہے جس کی وجہ سے اسرائیل کے منصوبوں پر عمل درآمد میں اکثر وبیشتر ناکامی کا سامنا ہے ۔

    یمن میں سعودی عرب کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ھایمن نے کہا ہے کہ ایران سمندری حدود میں یمن کے راستے باب مندب تک آ چکا ہے اور باب مندب بھی ہمارے منصوبوں کے تحت اسرائیل کے ہاتھ سے نکل چکی ہے حالانکہ اسرائیل یمن میں سعودی قیادت میں جاری جنگ میں مسلسل یمن کے خلاف سرگرم عمل ہے لیکن یہاں بھی ایران کی یمن کے ساتھ ہم آہنگی نے نہ صرف یمن کے حوثیوں کو کامیاب قرار دلوا یا ہے بلکہ ہمارے تمام منصوبے یہاں پر ناکام ہو رہے ہیں ۔

    اسی طرح ایک اور عنصر جو کہ اسرائیل کے پڑوس میں موجود ہے وہ لبنان میں حزب اللہ کا وجود ہے ۔ حزب اللہ کے بارے میں ھایمن نے اعتراف کیا ہے کہ حزب اللہ ہمارے پڑوس میں ایک ایس اگروہ موجو دہے کہ جو اسرائیل کے لئے انتہائی خطر ناک ثابت ہو اہے ۔ حزب اللہ اپنے قیام سے اب تک مسلسل طاقت میں اضافہ کر رہی ہے اور حزب اللہ میں موجود شیعہ عناصر جو براہ راست ایران کو اپنا مرکز و محور مانتے ہیں اسرائیل کے لئے خطر ناک ہیں کیونکہ اسرائیل کی دفاعی طاقت کو حزب اللہ کئی مرتبہ سوالیہ نشان پر لا چکی ہے ۔ ھایمن کے اعتراف کے مطابق حزب اللہ کے پاس جد ید اسلحہ اور ایسے اسلحہ موجود ہیں جو اسرائیل کے ٹینکوں اور توپوں کا آسانی سے مقابلہ کر سکتے ہیں ۔

    اسی بریفنگ میں ھایمن نے اعتراف کیا ہے کہ عراق، یمن اور شام سے ایسے میزائل داغے جا سکتے ہیں جو براہ راست تل ابیب پر گر سکتے ہیں اور بڑے نقصانات کا خدشہ موجو دہے ۔

    اسرائیلی انٹیلی جنس کے اعلی عہدیدار ھایمن نے اپنی اسی فوجی بریفنگ میں فلسطینیوں کو دہشت گرد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل کے اند ر فلسطینیوں کا وجود دہشت گردی کے وجود کے مترداف ہے اور یہ فلسطینی بھی ایران کے ساتھ منسلک ہیں اور ایران سے اسلحہ اور ٹریننگ لیتے رہے ہیں اور اب اسرائیل کے خلاف برسر پیکار ہیں ۔ ھایمن نے اعتراف کیا کہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے پاس اب ایسی ٹیءکنالوجی موجود ہے جو اسرائیل کے ڈرون طیاروں کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے اور فلسطینی مزاحمت کار اس عنوان سے کئی مرتبہ ا سکا عملی نمونہ دکھا چکے ہیں ، ھایمن نے یہاں تک ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنے جونیئر فوجی افسران کو بتایا کہ فلسطینی مزاحمت کار ڈرون مار گرانے میں تو مہارت رکھتے ہی ہیں بلکہ ساتھ ساتھ دیسی ساختہ ڈرون طیار کر رہے ہیں اور اسرائیل کے حساس مقامات کی جاسوسی بھی کرتے ہیں ۔

    ھایمن نے گفتگو کے اختتام پر اپنے فوجی افسران کو بتاتے ہیں کہ فلسطین، یمن، عراق، شام اور لبنان میں حزب اللہ یہ پانچ عناصر ایسے عناصر ہیں جو اسرائیل کے سلامتی کے لئے خطرہ ہیں اور اسرائیل کو اپنا سب سے بڑا دشمن تصور کرتے ہوئے اسرائیل کی نابودی کے لئے سرگرم عمل ہیں ۔ ان تمام پانچ عناصر کی پشت پناہی میں ایران کی انقلابی سوچ اور تفکر کے ساتھ ساتھ انقلاب کے وہ قائدین ہیں یعنی ھایمن کا اشارہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی طرف ہے کہ جنہوں نے فلسطین کی آزادی کو حتمی قرار دیا ہے اور اسرائیل کی نابودی کو یقینی اور وعدہ الہی قرار دیا ہے ۔

    خلاصہ اب یہ ہے کہ اگر ان تمام پانچ کے پانچ عناصر کی جد وجہد کا مختصر جائزہ لیا جائے تو واضح طور پر ایک بات یہ ثابت ہوجاتی ہے کہ یمن کے عوام اپنی آزادی اور اپنے استقال و عزت کی جنگ لڑ رہے ہیں اور انہوں نے امریکہ و اسرائیل کے سامنے سرتسلم خم ہونے سے انکار کر دیا ہے یہاں پر یقینا ایران کا کوئی ایسا فائدہ موجود نہیں ہے کہ جس کے لئے ایران کو مورد الزام ٹہرایا جاتا رہے ۔ یمن کے حوثی اپنی آزاد حیثیت میں موجود ہیں اور اپنے مستقل اور حال کے فیصلے وہ خود کر رہے ہیں ۔ یہاں پر جنگ استقلال کی جنگ ہے ۔

    شام کی بات کریں تو یہاں بھی شامی حکومت اپنے وطن اور سرزمین کو ان دہشت گردوں سے نجات دلوانے کی جنگ لڑ رہی ہے جن دہشت گردوں کو امریکہ، اسرائیل اور عرب حواریوں نے شام کی حکومت کو گرانے کے لئے بھیجا تھا جس کا ذکر کود اسرائیلی انٹیلی جنس کے اعلیٰ عہدیدار تامیر ھایمن نے بھی اپنی گفتگو میں کیا ہے ۔ لہذا شام اپنی بقاء اور خود مختاری کی جنگ لڑ ررہا ہے ۔

    لبنان کی حزب اللہ بھی لبنان کے دفاع میں مصروف ہے ۔ اسرائیل کو نکال باہر کر چکی ہے اور حزب اللہ کی طاقت کا ذکر بھی ھایمن اپنی گفتگو میں کر چکے ہیں ۔ عرا ق کی صورتحال بھی اسی طرح کی ہے کہ جہاں داعش جیسی امریکی وا سرائیلی حمایت یافتہ دہشت گرد حکومت اور تنظیم کو ختم کرنے کے لئے عرا ق نے مزاحمت اور استقامت کے ساتھ کامیابی حاصل کر لی ہے ۔

    فلسطین کی جہاں تک بات ہے تو فلسطینیوں کی جنگ نہ تو ایران کی آزادی کی جنگ ہے اور نہ ہی ایران کے لئے ہے بلکہ فلسطین فلسطینیوں کا وطن ہے اور فلسطین کی آزادی فلسطینیوں کا حق ہے ۔

    خلاصہ یہ ہے کہ جہاں تک ایران کی جانب سے ان پانچ عناصر کی مدد و تعاون کی بات ہے تو یقینا ایران نے عرا ق و شام کی درخواست پر ان دونوں ممالک کا ساتھ دیا تا کہ دونوں خود مختاری قائم رہے ۔ ایران نے لبنان میں حزب اللہ کا ساتھ اس لئے دیا کہ حزب اللہ لبنان کو اسرائیل کے قبضہ سے آزاد کروائے اور ایسا ہوا ۔ اسی طرح ایران یمن کے عوام کے حقوق کے دفاع کی حمایت کرتا ہے اوراسی طرح فلسطین کے لئے ایران نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد سے مسلسل مالی ومسلح مدد بھی کی ہے اور جد ید ٹیکنالوجی سے بھی فلسطینیوں کو آراستہ کیا ہے جس کا ذکر خود صہیونی دشمن کے انٹیلی جنس ٓفیسر تامیر ھایمن نے نشر ہونے والی ویڈیو میں کیا ہے ۔

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ اسرائیل کمزور ہو چکا ہے اور نابودی کی طرف گامزن ہے ۔ عنقریب وہ وقت آنے ہی والا ہے کہ مظلوم ملت فلسطین کو صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے چنگل سے نجات حاصل ہوگی اور دنیا بھر سے فلسطینی اپنے وطن واپس آ کر سرزمین مقدس فلسطین پر آباد ہوں گے اور یہ حتمی ہونا ہے اگرچہ ہم اس واقعہ کو دیکھ پائیں یہ نہ دیکھیں ۔

    عالمی صہیونزم کی شکست اور اعتراف

    تحریر: صابرابو مریم

    سیکرٹری جنرل فلسطین فاءونڈیشن پاکستان

    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

  • عسکری تحریک میں کشمیری خواتین کا لازوال کردار……. تحریر: یاسمین میر

    عسکری تحریک میں کشمیری خواتین کا لازوال کردار……. تحریر: یاسمین میر

    بھارت کو کشمیر میں خونی پنجے گاڑے ستر برس بیت گئے مگر سلام ہو ان بہادر ونڈر کشمیری مردوزن پر کہ نہتے ہو کر بھی دشمن کے دانت کٹھے کر رہے ہیں۔

    1989 سے آج تک لاکھوں جانوں کا نذرانہ دینے کے باوجود وطن کی آزادی کے لیے کشمیر ی اب بھی کٹ مرنے کو تیار ہیں۔ کشمیر کی مائیں اپنے بیٹوں میںبے جگری سے جینے اور شوق شہادت کا یہ جذبہ نسل درنسل منتقل کرتی چلی آرہی ہیں۔

    تحریک کے روز اول سے ہی کشمیری خواتین اپنے بیٹوں ‘ بھائیوں اور شوہروں کو وطن پر قربان کرنے کیلئے ہر لمحہ تیارر ہتی ہیں ۔ عملی طورپر دیکھیں تو عسکری تحریک میں کشمیری خواتین کا کردار نہیں ملتا لیکن کشمیر مومنٹ کے تیز ہونے کے بعد 1989 میں کشمیری خواتین نے تنظیم سازی کرنے لگیں تو ساتھ ہی حریت تحریکوں کے خواتین ونگ بھی بننا شروع ہو گئے۔

    اس وقت سے آسیہ اندرابی ’ دختران ملت،زمردہ حبیب تحریک خواتین، یاسمین راجہ مسلم خواتین مرکز، فریدہ بہن جی ماس مومنٹ جموں وکشمیر اور پروینہ آہنگر اے پی ڈی چلا رہی ہیں۔

    ان خواتین کے تنظیموں میں سینکڑوں خواتین ممبرز بھی موجود ہیں جو نہ صرف عام کشمیری کو آزادی کی اہمیت سے آگاہ کرتی ہیں۔ بلکہ 90 کے دہائی میں جب درندہ صفت بھارتی فوجیوں نے خواتین کی عزتیں پامال کرنا شروع کیں تو آسیہ اندرابی نے آگاہی مہم کے دوران خواتین کو اپنے پاس چاقو رکھنے اور دفاع کے طورپر اس کو استعمال کرنے کے طریقے بھی سیکھائے ۔

    یہی نہیں تحریک کے آغاز سے اب تک کشمیری خواتین مجاہدین کو پناہ دینے ان تک کھانا پہنچانے اور انہیں سیکورٹی فورسز سے بچانے میں بھی پیش پیش رہی ہیں۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد تو ہم مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے بڑے احتجاجی مظاہرے دیکھ رہے ہیں ۔

    لیکن پہلا آرگنائز احتجاجی مظاہرہ 1990 میں دختران ملت کی کال پر ہوا اور اس وقت خواتین نے مسجد میں جاکر نعرہ لگائے۔ اب وادی میں وہ دور لوٹ آیا ہے جب کشمیری خواتین کا اپنے رشتہ داروں کی تلاش اور کیسیز کی پیروی کے لیے دہلی کی عدالتوں اور تہاڑ جیل کے چکر لگانا معمول بن چکا ہے ۔

    پاکستانی قوم بھی کشمیری بھائیوں اور بہنوں سے بے خبر نہیں، تحریک آزادی کے ستر سالوں کے اعصاب شکن مراحل سے گزر کرگزشتہ دو سو دنوں میں آزادی کی جد جہد میں عورتوں کی بھرپور شمولیت آنے والی صبح نو کے لیے امید کا پیغام دے رہی ہے۔ جہدوجد آزادی میں خواتین کے سرگرم کردار اور زمینی حقائق کے متعلق دختران ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی کہتی ہیں کہ میں کئی بار جیل گئی انڈر گر اؤنڈ رہی حتی کہ حال ہی میں برہان وانی کی شہادت کے بعد تین مہینے کے لیے جیل میں رکھا گیا اور اس وقت بھی ہاؤس اریسٹ ہوں ۔

    مگر آخری دم تک کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد میں خواتین کے سرگرم کردار اور زمینی حقائق کے متعلق دختران ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی کہتی ہیں کہ میں کئی بار جیل گئی انڈر گر اؤنڈ رہی حتی کہ حال ہی میں برہان وانی کی شہادت کے بعد تین مہینے کے لیے جیل میں رکھا گیا اور اس وقت بھی ہاؤس اریسٹ ہوں ۔ مگر آخری دم تک کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھوں گی۔

    چوبیس سال سے میرے شوہر جیل میں ہیں۔ لاکھوں کشمیری خواتین ایسی ہیں جن کے شوہر کئی سالوں سے لاپتہ ہیں اور تاریخ میں پہلی بار کشمیری خواتین کے لیے (آدھی بیوہ )کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔ مگر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بھارت کچھ بھی کر لے ہمارے اٹل ایمان کو شکست نہیں دے سکتا۔

    چیئرپرسن جموں کشمیر ماس موومنٹ فریدبہن جی کہتی ہیں کہ میرے بھائی بلال پر پاکستان سے وابستگی کا الزام لگا کر گرفتار کیا گیا بعدازاں دہلی دھماکوں کے بعد بھارتی فوجیوں نے نہ صرف مجھے گرفتار کیا بلکہ پانچ سال کے لیے تہاڑ جیل بھیج دیا اور 2001ء میں جیل سے رہا ہوئی تو بھارت کی جیلوں میں قید کشمیری قیدیوں کی قانونی مددکا بیڑہ اٹھایا۔ زمردہ حبیب تحریک خواتین کشمیر کی چیئرپرسن ہیں ۔

    وہ 1992ء سے آزادی کی تحریک میں متحرک ہیں اور اسی پاداش میں 5 سال کے لیے تہاڑ جیل بھی کاٹ چکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی خواتین کے قربانیاں گواہ ہیں کہ کشمیری عورت کو ڈرایا یا دھمکایا نہیں جاسکتا۔ مسلم خواتین مرکز کی چیئرپرسن یاسمین راجہ جو غلام نبی بٹ کی بیٹی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بچپن سے ہی پاکستان کی نغمے گاتی تھی۔

    ایک مرتبہ پاکستانی قومی ترانہ پڑھنے پر مجھے سکول سے نکال دیا گیا۔ مگر میری پاکستان کے ساتھ لگن کم نہیں ہوئی۔ اس دوران کئی بار جیل گئی ہوں اور رہا ہوئی ہوں۔ تحریک آزادی کشمیر کی ان چند نمایاں خواتین کے علاوہ دیگرکشمیری خواتین کا بھی آزادی کی جدوجہد میں کلیدی کردار رہا ہے۔

    اسلام اور آزادی کی اس شمع کو جلا رکھنے کے لیے برہان وانی کی شہادت کے بعد سے چلنے والی تیز ترین عوامی جدوجہدکو دبانے کے لیے بھارت کے ظلم وستم سے جہاں سو کشمیری شہید ہو ئے ان میںخواتین بھی شامل ہیں

    گزشتہ چھ ماہ میں یاسمین رحمان‘ سعیدہ بیگم ‘ نیلوفر‘ یاں اور فوزیہ صدیق سمیت کئی خواتین نے جام شہادت نوش کیا۔ وہیں خواتین کے پرامن ریلیوں ‘ جلسوں ‘ اور حتی کہ گھروں میں گرنے والے آنسووں گیس کے گولوں ‘ پیلٹ گن کے چھروں سے انشاء مقبول ‘ عرفی جان‘ شیروزہ میر‘ افراء جان‘ شیروزہ شکور کو آنکھوں کی روشنی سے ہاتھ دھونا پڑا۔

    یہی نہیں اس وقت ہزاروں کشمیری مائیں غربت کے باعث بچوں کی آنکھوں کا علاج نہیں کروا پا رہی ہیں ۔ جو پیلٹ گن کے چھرو ںسے متاثر ہوئے ہیں۔ ریاستی اخبار کی رپورٹ کے مطابق 9 جولائی 2016ء سے 31 دسمبر 2016ء تک 1008 نوجوان پیلٹ گنوں کا نشانہ بنے اور زخمی ہوئے ۔ ان میں سے سو سے زائد کے والدین نے غربت کے باعث ان کی آنکھوں کا علاج ادھورا چھوڑ دیا ۔

    اعدادو شمار کے آئینے میں دیکھیں تو کشمیر میڈیا سروسز کے مطابق 1989ء سے 31 دسمبر 2016 ء تک کشمیر میں بیوہ خواتین کی تعداد 22,835 ہے۔ جبکہ 10,825 خواتین کی اجتماعی عصمت دری کے واقعات پیش آچکے ہیں اور شہادتوں کے نتیجے میں 107,603بچے یتیم ہو چکے ہیں۔یہ شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ تحریک آزادی میں سرگرم کشمیری خواتین مالی پریشانی کے باوجودفلسطینی بہنوں کی طرح ہمت و حوصلہ کی مثال قائم کئے ہوئے ہیں۔

    کشمیر کی مظلوم عورتیں اسلام کے علمبردار خواب غفلت میں
    تحریر: یاسمین میر

  • یوم ارض فلسطین اور فلسطینیوں کی واپسی—از—صابرابومریم

    یوم ارض فلسطین اور فلسطینیوں کی واپسی—از—صابرابومریم

    انبیاء علیہم السلام کی سرزمین مقدس فلسطین کی تاریخ میں پندرہ مئی یوم نکبہ یعنی فلسطینی سرزمین کے صہیونیوں کے ناپاک ہاتھوں میں غصب ہونے کا دن ہے اسی طرح تیس مارچ کو فلسطینی عرب سرزمین مقدس فلسطین کا دن مناتے ہیں یعنی ’’یوم ارض فلسطین‘‘ منایا جاتا ہے ۔ جہان پندرہ مئی کو یون نکبہ یعنی تباہی و بربادی کا بد ترین دن کے عنوان سے دنیا بھر میں فلسطینی و غیر فلسطینی قو میں مناتی ہیں وہاں فلسطینی مظلوم ملت سے یکجہتی کے لئے تیس مارچ کو یوم ارض فلسطین نہ صرف مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں منایا جاتا ہے بلکہ فلسطین سے باہر پوری دنیا میں اس دن کو فلسطینی ارض مقدس کے دن کے عنوان سے یاد رکھا جاتا ہے ۔

    یوں تو فلسطینی عوام پر برطانوی سامراج کی سرپرستی میں ڈھائے جانے والے صہیونیوں کے مظالم کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ان مظالم کی تاریخ ایک سو سال سے زیادہ پر محیط ہے البتہ فلسطین کی سرزمین مقدس پر صہیونیوں کی ناجائز ریاست اسرائیل کے قیام کو اب سنہ2020ء میں 72وال سال مکمل ہو جائے گا اور ان بہتر سالوں میں گزرنے والا ایک ایک دن فلسطین کی مظلوم ملت پر قیامت سے کم نہیں گزرا ہے ۔ چاہے صہیونیوں کی جانب سے فلسطین پر قبضہ کے ایام ہوں یا پھر قبضہ کے بعد کے ایام ہوں ۔ تاریخ کے اوراق صہیونی ظالموں کے ظلم سے بھرے پڑے ہیں ۔

    جہاں ایک طرف صہیونیوں نے فلسطین پر اپنے ناجائز قبضہ کو مکمل کرنے کے لئے کسی قسم کے ظلم اور زیادتی سے گریز نہیں کیا ہے وہاں فلسطینی ملت مظلوم کی شجاعت اور استقامت میں بھی ان مظالم کے سامنے کسی قسم کی کمی واقع نہیں ہوئی ہے ۔ فلسطینی عربوں کی جد وجہد کی تاریخ بھی صہیونیوں کے مقابلے میں اسی وقت سے جاری ہے کہ جب سے عالمی استعماری قوتوں کی ایماء پر فلسطین پر قبضہ کی ناپاک منصوبہ بندی کی گئی تھی اور فلسطینیوں کی یہ جد وجہد آ ج بھی اسی طرح جاری و ساری ہے ۔

    پندرہ مئی سنہ 1948ء میں فلسطین پر صہیونیوں کی جعلی ریاست کے قیام کے وقت سے صہیونیوں نے فلسطینی عربوں کو ان کے وطن یعنی فلسطین سے نکال باہر کرنا شروع کر دیا تھا اور یہ سلسلہ کئی سالوں تک جاری رہا اور نتیجہ میں دسیوں ہزار فلسطینی اور ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو فلسطین سے نکال باہر کیا گیا جو پڑوسی ممالک میں زمینی سرحدوں کو عبور کرتے ہوئے مہاجرین کی زندگی گذارنے پر مجبور ہوئی اور آج فلسطینیوں کی تیسری نسل شام، لبنان، اردن اور مصر میں مہاجرین یعنی فلسطینی پناہ گزین کے نام سے پہچانی جاتی ہے ۔

    فلسطین کے اندر باقی رہ جانے والے فلسطینیوں نے امید کا دامن ہاتھ سے کبھی جانے نہیں دیا ہے ۔ فلسطین کے عرب باشندوں نے ہمیشہ سے فلسطین پر صہیونی ریاست کے تصور کو جعلی قرار دیا ہے اور اس کے خلاف سینہ سپر رہے ہیں ۔ یعنی خلاصہ کیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ فلسطینیوں نے جد وجہد آزاد ی جاری رکھی ہے اور اس آزادی کا بنیادی ہدف جہاں فلسطین کی صہیونیوں کے شکنجہ سے آزادی ہے وہاں غاصب صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی نابودی ہے ۔ جد وجہد آزادی فلسطین کے لئے فلسطین کے عرب باشندوں نے باقاعدہ صہیونیوں کا مقابلہ کیا ہے اور اس کی مثال فلسطین میں موجود اسلامی مزاحمت کی تحریکیں حماس، جہاد اسلامی، پاپولر فرنٹ اور دیگر شامل ہیں جو مسلسل اسرائیل کے ناپاک وجود کے خلاف سینہ سپر ہیں ۔

    دوسری طرف فلسطین سے جبری طور پر جلا وطن کئے جانے والے فلسطینی عربوں نے بھی اپنا جہاد فلسطین واپسی کے نعرے کے ساتھ شروع کر رکھا ہے اور یہ سب کے سب فلسطینی چاہتے ہیں کہ فلسطین اپنے وطن فلسطین واپس جائیں تا کہ فلسطین میں آباد ہو ں نہ کہ ان کو دیگر ممالک میں در در کی ٹھوکریں کھانی پڑیں ۔ فلسطینیوں کے حق واپسی کا نعرہ یا اعلان ایک ایسا مضبوط نعرہ ہے کہ جسے عالمی استعماری نظام بالخصوص امریکہ اور اس کے حواری کسی طرح بھی دبانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے ہیں ۔ فلسطینی عوام کا حق واپسی ایک ایسا بنیادی انسانی حق ہے کہ جسے نہ تو دنیا کے عالمی ادارے مسترد کر سکتے ہیں اور نہ ہی دنیا کی کوئی حکومت ا سکے خلاف جا سکتی ہے ۔

    امریکہ نے فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کو دبانے کی خاطر نام نہاد امن فارمولہ جسے صدی کی ڈیل کہا جا رہا ہے کو متعارف کرایا ہے لیکن یہ صدی کی ڈیل سامنے آنے سے پہلے ہی فلسطینیوں کے واپسی کے حق کے نعرے کے سامنے ماند پڑ چکی ہے اور عنقریب نابود ہونے والی ہے ۔ یہ بات انتہائی قابل ذکر ہے کہ فلسطینیوں کے حق واپسی کا نعرہ سنہ 2011ء کے بعد سے شد ومد کے ساتھ بلند ہو اہے جس کی ماہرین کی نگاہ میں ایک بنیادی وجہ سنہ2011ء میں ایران کے دارلحکومت تہران میں ہونے والی بین الاقوامی حمایت فلسطین و انتفاضہ کانفرنس بعنوان ’’فلسطین ، فلسطینیوں کا وطن‘‘ ہے ۔

    فلسطین کے سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سنہ2011ء میں اس کانفرنس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے مسئلہ فلسطین کا ایک ایسا منصفانہ حل پیش کیاہے کہ جس کے بعد نہ صرف فلسطینی تحریکوں میں بلکہ فلسطینیوں کے حق واپسی کی ایک نئی تحریک نے جنم لیا ہے جو امریکہ سمیت صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے لئے مصیبت سے کم نہیں ہے ۔ اس منصفانہ حل کے مطابق فلسطین فلسطینی عربوں کا وطن ہے کہ جو سنہ1948ء سے قبل اور اس وقت تک فلسطین کے باسی تھے اور ان فلسطینیوں میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائی فلسطینی اور ایسے یہودی فلسطینی شامل ہیں کہ جو فلسطین کی شناخت کے ساتھ اس سرزمین مقدس پر زندگی بسر کر رہے تھے

    صہیونیوں نے نہ صرفر فلسطین کے مسلمانوں کو جبری ہجرت پر بھیجا بلکہ مسیحی اور فلسطینی یہودیوں کو بھی فلسطین سے بے دخل کیا ۔ تاہم فلسطینی عربوں کا حق ہے کہ وہ فلسطین واپس آئیں اور فلسطینی عوام ایک ریفرنڈم کے ذریعہ اپنے نظام حکومت کا فیصلہ کرے ۔ یعنی فلسطینی فلسطین واپس آئیں اور جو یہودی اور صہیونی دنیا کے دیگر ممالک سے لا لا کر فلسطین میں آباد کئے گئے تھے وہ اپنے اپنے وطن میں واپس جائیں یا یہ کہ اگر فلسطین کی حکومت یعنی فلسطینی کی شناخت کے ساتھ فلسطین میں زندگی بسر کرنا چاہیں تو یہ فیصلہ بھی فلسطینی عوام کو کرنا ہے اور ان کی اجازت سے ہونا ہے ۔

    خلاصہ یہ ہے کہ فلسطینیوں کے حق واپسی کی تحریک نے سنہ2011ء سے تیزی کے ساتھ سفر طے کرنا شروع کیا جس کے نتیجہ میں سنہ2012ء میں دنیا بھر کے تمام بر اعظموں سے تعلق رکھنے والی قوموں نے تیس مارچ یوم ارض فلسطین کے موقع پر فلسطین کی چاروں زمینی سرحدوں پر مارچ کیا اور سب کا نعرہ ایک ہی تھا کہ ’’واپسی فلسطین ‘‘یعنی ;82;eturn to ;80;alestien ۔ گذشتہ دو برس سے فلسطینیوں نے حق واپسی مارچ کا نئے انداز سے آغاز کیا ہے اور فلسطینیوں کا ایک ہی نعرہ اور مقصد ہے کہ فلسطینیوں کی فلسطین واپسی ۔

    اب یوم ارض فلسطین کے موقع پر اس تحریک کو مکمل دو سال ہو نے کو ہیں لیکن امریکہ اور اسرائیل سمیت استعماری قوتیں فلسطینیوں کے عزم اور ارادوں کو کمزور کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں اور اس کی سب سے بڑی دلیل امریکی صدر کے فلسطین سے متعلق یکطرفہ فیصلوں اور اعلانات کی ناکامی ہے ۔ بہر حال اقوام عالم اس بات کو اچھی طرح سمجھ چکی ہیں کہ فلسطینیوں کی تقدیر کا منصفانہ حل یہی ہے کہ فلسطین فلسطینیوں کا وطن قرار پائی اور صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے قائم کرنے والے صہیونی اپنے اپنے وطن اور زمینوں پر لوٹ جائیں ۔ فلسطینیوں کی واپسی حق ہے اور اس امر سے دنیا کی کوئی طاقت بھی نظر چرانے کی طاقت نہیں رکھتی ۔

    یوم ارض فلسطین اور فلسطینیوں کی واپسی

    تحریر: صابر ابو مریم

    سیکرٹری جنرل فلسطین فاءونڈیشن پاکستان

    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

  • ماروی سرمد، عورت مارچ اور عالمی اداروں کا وار–از–شعیب بھٹی

    ماروی سرمد، عورت مارچ اور عالمی اداروں کا وار–از–شعیب بھٹی

    شازیہ انور المعروف ماروی سرمد سیکولر ازم اور لبرلز کا پرچار کرنے والی این جی اوز کی سربراہ ہے۔ ہندوانہ لباس اور ماتھے پہ ہندوانہ نشان بندیا سجاۓ ماروی اسلام اور پاکستان کی اساس دو قومی نظریہ کی مخالف ہے۔
    ماروی سرمد بلوچستان اور فاٹا میں غیر ملکی ایجنسيوں کی فنڈنگ پہ این جی اوز چلاتی ہیں اور علیحدگی پسند عناصر کی حوصلہ افزاٸی کرتی ہے۔

    ماروی پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کا نعرہ لگاتی ہے۔ماروی اسلام، پاکستان، افواج پاکستان کی سخت ترین مخالف ہے۔مذہبی اقتدار سے عاری ماروی سرمد ہم جنس پرستی اور اسقاط حمل کی حامی اور اس کو قانونی حثیت دلوانے کے لیے کام کررہی ہے۔

    ماروی سرمد افغان ایجنسی NDS اور انڈین ایجنسی RAW کی فنڈنگ پہ فاٹا میں این جی اوز چلاتی تھی اور فاٹا آپریشن کے دوران ایف سی اور افواج پاکستان کی کردار کشی میں پیش پیش تھی۔
    اس بات کا اظہار فاٹا کے سابق سیکرٹری برگیڈٸیر (ر) محمود شاہ بھی کٸی بار کرچکے ہیں۔

    ماروی سرمد خواتین کی حقوق کے نام پہ کام کرنے والی عالمی تنظیم ساٶتھ فورم(South Asian Against Terrorism& for Human Rights ) کی رکن ہے جس کی تشکیل انڈین ایجنسی کے افراد نے کی ہے اور وہی اس کے ارکان ہیں۔

    اس تنظیم کا بنیادی مقصد اسلامی ممالک میں سیکولرازم اور لبرل ازم کو پروان چڑھانا ہے اس کے لیے یہ عالمی سطح پہ فنڈنگ کرتے ہیں۔ماروی سرمد کے ساتھ اس تنظیم کے رکن ارکان میں اسماعیل گلالٸی،صبا اسماعیل، گل بخاری انڈین ایجنسی کے لیے کام کرنے والی روبینہ شیخ،ڈاکٹر اپرانا پانڈے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مرد ارکان میں غدار حسین حقانی، ایمل خٹنک،عاصم یوسفزٸی،مبشر زیدی شامل ہیں۔

    یہ سب افراد لبرل ازم،سیکولر ازم کو بیرونی فنڈنگ پہ پاکستان میں لانچ کرتے ہیں اور یہ جانے پہچانے نام بیرونی آقاٶں کے اشاروں میں اسلام اور پاکستان کے خلاف سازشیں تشکیل دیتے ہیں۔پشتون تحفظ موومنٹ PTM کے نام سے پشتونوں کے خلاف سازش رچانے اور پاکستان میں نفرت کی آگ کو ہوا دینے والے یہ سارے لوگ غیر ملکی فنڈنگ پہ پلتے ہیں اور انکی ہی سازشوں کا حصہ بن کر اپنے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    ممیو گیٹ سکینڈل میں ملوث غدار وطن حسین حقانی ہو یا خدا کے وجود کا انکاری مبشر زیدی ان سب کا کام غیر ملکی ایجنڈوں کو پرموٹ کرنا ہے۔

    چاہے وہ ایجنڈا پشتون اور پنجابی کے نام پہ لسانیت کا ہو یا فرقہ واریت اور لبرل ازم کا یہ ایک ساتھ نظر آٸیں گے۔ انکا مقصد قطعی طور پہ عورت یا مرد کے حقوق نہیں ہیں بلکہ مغربی تہذیب کو پاکستان میں پرموٹ کرنا انکی ثقافت کو انکی ہی فنڈنگ سے پھیلانا ہے۔ان کے تازہ اور ٹاپ ایجنڈوں میں اسقاط حمل اور ہم جنس پرستی کو فروغ دینا اور انکو قانونی حثیت دلوانا شامل ہے۔اس کے ساتھ اسلامی ممالک سے سزاۓ موت کے قانون کو ختم کروانا شامل ہے۔
    اس کام کے لیے ان کو مغربی ممالک ہر طریقہ سے مدد فراہم کررہے ہیں۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے عالمی ادارے کے وژن 2020 میں اسقاط حمل،ہم جنس پرستی شامل ہے۔یہ عالمی اداروں پہ مغربی چھاپ اور راج کو ظاہر کرتا ہے۔ ان وژن کو پورا کرنے کے لیے این جی اوز اور اداروں کو ٹارگٹ دیے جاتے ہیں اور ان ٹارگٹس کو پورا کرنے کے لیے مغربی ممالک فنانسرز کا کردار ادا کرتے ہیں یہ فنانسرز مختلف این جی اوز کے ذریعے اپنے مقاصد پورے کرتے ہیں۔

    ماروری سرمد پاکستان میں ان این جی اوز کی سربراہ ہے۔عالمی سطح پہ اس مہم کو LGBT کے پلیٹ فارم سے شروع کیا گیا ہے۔ LGBT کا مخفف یہ ہے۔L=Lasbian G=Gay B=Bisexual T=Transgender

    ان ٹارگٹس کو پورا کرنے کے لیے انکی پروموشن و تحفظ اور مالی و قانونی مدد کے لیے عالمی مہم شروع کی گٸی ہے۔ جس کے لیے ہر ملک میں سیمیناز منعقد کیے جارہے ہیں۔ پاکستان میں مغربی سفارتخانوں کے تعاون اور سرپرستی میں کٸی سال سے ہم جنس پرستی کے سیمینارز منعقد ہورہے ہیں۔

    پاکستان میں موجود ہم جنس پرست افراد مغربی ممالک میں رہاٸش اختیار کرچکے ہیں اور برطانیہ نے باقاعدہ انکو اپنے ملک کی شہرت دی ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ میرا جسم میری مرضی کوٸی خواتین کے حقوق کی آواز اٹھانے والا فورم نہیں بلکہ عالمی اداروں کے وژن کو پورا کرنے کا کام کررہا ہے۔ انکا مقصد اسقاط حمل، ہم جنس پرستی،سزاۓ موت قانون کو ختم کرنا،توہین مذہب اور توہین رسالت قانون کو ختم کروانا ہے۔

    اسلام بیزار اور اقتدار سے عاری ماروی سرمد عالمی اداروں کی ایجنٹ کے طور پہ پاکستان میں کام کررہی ہے اور پاکستان کے مقصد قیام سے بغض رکھنے والی ماروی سرمد اپنے پیچھے مغربی ممالک اور دشمن ملک کی فنڈنگ کی ایما پر پاکستان کو سیکولر ملک بنانے کا نعرہ لگاتی ہے انکی طاقت کو اپنی پشت پہ سوار کرنے والی اس بد مست ہتھنی ماروی سرمد کو اپنی آقاٶں کی خوشی کے لیے کچھ بھی کرنا پڑا تو کرے گی۔

    پاکستان قوم کو ایک ہوکر اپنی اسلامی اقتدار ، دو قومی نظریہ ، اپنی تہذیب و تمدن اور ثقافت کو عالمی سازشوں سے بچانا ہوگا۔اور غیر ملکی فنڈنگ پہ کام کرنے والے ان سانپوں کو کچلنا ہوگا۔

    ماروی سرمد، عورت مارچ اور عالمی اداروں کا وار

    تحریر:شعیب بھٹی

  • سپر پاور کاسرنڈر ۔ طالبان کے نعرے اور امارات اسلامیہ کے جھنڈے—از—محمد عاصم حفیظ

    سپر پاور کاسرنڈر ۔ طالبان کے نعرے اور امارات اسلامیہ کے جھنڈے—از—محمد عاصم حفیظ

    امریکہ کے سرنڈر معاہدے پر دستخط کرتے ہی اللہ اکبر کے نعرے گونج اٹھے ۔ وہاں موجود درجنوں داڑھی پگڑی والے میڈیا کی چکاچوند سے دور رب کائنات کی بارگاہ میں سربسجود ہو گئے ۔ امارات اسلامیہ کے جھنڈے لہراتے ہوئے مارچ کرنے لگے ۔ سامنے وہی دشمن تھے جو دو دہائیاں قبل پورے لاؤ لشکر سمیت آئے تھے ۔ پتھر کے زمانے میں پہنچا دینے کا نعرہ لگایا تھا ۔

    اب بھی وہی سامنے تھے لیکن بےبس و مجبور ۔ یہ کوئی افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں کا محاذ نہیں تھا بلکہ قطر کا فائیو سٹار ہوٹل جہاں ایک سپر پاور کا غرور دفن ہو رہا تھا ۔ کون جیتا کون ہارا ۔ فیصلہ کرنا انتہائی آسان ہے ۔ خود پتہ کر لیں کہ پہاڑوں کی غاروں میں محاذوں پر ڈٹے طالبان تک مذاکرات کا پیغام کس نے پہنچایا ۔ کون ان کے ہوائی سفر اور دنیا بھر کے دوروں کا انتظام کرتا رہا ۔ معاہدہ ہونے کے بعد خوشی اور جذبات سے نعرے کس نے لگائے ۔

    عالمی میڈیا کا مرکز کون تھے ؟ کوئی امریکی وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس سننے نہ گیا ، البتہ ان درویشوں کے پیچھے پوری دنیا کا میڈیا تھا جو ان کا ایک ایک لفظ سننا چاہتا تھا ۔ ہر کوئی ان سے بات کرناچاہتا تھا ۔ ہر کیمرہ ان پر فوکس تھا اور انہیں ہی دیکھا رہا تھا ۔

    جی یہ اس صدی کی سب سے بڑی خبر ہے کہ ایک سپر پاور جو اپنے پچاس سے زائد اتحادی ممالک کی افواج لیکر حملہ آور ہوا ۔اسے ان طالبان نے شکست دی جن کی مدد تو دور کی بات کوئی ان کے ساتھ تعلق کا بھی اعتراف نہیں کرتا ۔ جنہیں امریکہ کے کہنے پر سب نے چھوڑ دیا بلکہ بعض تو امریکی حمایتی بن گئے ۔ لیکن وہ طالبان تنہا لڑے ۔ رب کے آسرے پر لڑے ۔ خاموشی سے امریکہ کو زخم لگاتے رہے ۔

    انیس سال کا صبر ۔ قربانیاں اور میدان جنگ کی سختیاں لیکن ان کے حوصلے نہ ٹوٹے اور وہ سپر پاور کے دعویدار کو روندتے رہے ۔ امریکہ ہزاروں ارب ڈالر ڈبو کر بھی انہیں نہ جھکا سکا ۔ حالت یہ ہو گئی کہ خود امریکی اپنی اشیائے خوردونوش پہنچانے کے لئے طالبان علاقوں سے گزرنے کا تاوان دیتے اور انہی ڈالرز سے اسلحہ و ساز وسامان خرید کر امریکہ پر حملے کئے جاتے ۔

    طالبان نے امریکی سے اسلحہ ا ور ساز وسامان چھین کر امریکہ سے لڑائی کی اور امریکہ کو شکست فاش دی ۔ امریکہ و اتحادی تو چند سال کے لئے آئے تھے کہ طالبان کو ماریں گے ۔ نئی حکومت بنوائیں گے ۔ کلچر معاشرے اور نظریات کو بدل دیں گے ایک مغرب زدہ اور ماڈرن افغانستان بنا کر واپس آ جائیں گے ۔ لیکن طالبان کی استقامت ۔ عزم اور صبر و استقلال نے تاریخ کا دھارا بدل ڈالا ۔ امریکہ رسوا ہو کے امن کی بھیک مانگتا رہا اور کئی سالوں کے اس مذاکراتی عمل کے بعد انخلاء کے معاہدے پر مجبور ہوا ۔ خود کئی طالبان لیڈر رہا کرکے افغانستان پہنچائے ۔ کئی ممالک سے رہائی دلوائی ۔

    آج جس ملا عبدالغنی برادر نے اس معاہدے پر دستخط کئے وہ بھی رہا کراکے وہاں پہنچائے گئے تھے ۔ ان کے ساتھ بیٹھے ملا عبدالاسلام ضعیف گوانتاناموبے جیل سے لائے گئے ۔ ہر ایک کی اپنی اپنی کہانی ہے ۔ اس محفل میں طالبان فاتح کی طرح بیٹھے ۔ تقریب سے پہلے کسی نے پوچھا معاہدے پر دستخط کون کرے گا تو جواب ملا ” امارات اسلامیہ ” ۔ یعنی یہ معاہدہ امریکہ اور انیس سال قبل کی طالبان حکومت کے درمیان ہوا ہے ۔ اسی لئے تو انہوں نے پرجوش نعرے لگائے اور امارات اسلامیہ کے پرچم لہرا کر مارچ کیا ۔

    طالبان نے سب کا شکریہ ادا کیا ۔ پاکستان کا بھی کہ جس کے اعلی ترین عسکری حلقوں نے ان مذاکرات کے حوالے سے مثبت کردار ادا کیا ۔یہ لبرل و سیکولر نظریات کی بھی شکست ہے کہ جو امریکہ و مغرب کی ظاہری طاقت ، اسلحہ اور شان و شوکت سے متاثر ہیں ۔ ان کے لئے خبر ہے کہ افغانستان کے ان مجاہدین نے امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا ہے جن کے پاوں میں اب بھی چپلیں ہیں اور دنیا میں کوئی انہیں اسلحہ نہیں دیتا ۔ کوئی واضح حمایتی نہیں ہے ۔ٹیکنالوجی اور جدت کیساتھ ان کا دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہے ۔ ان کی ایمانی طاقت اور صبر و ہمت و استقلال نے آج ایک نام نہاد سپر پاور کو شکست دی ہے ۔

    یہ صرف امریکہ کی شکست نہیں بلکہ جنوبی ایشیاء میں علاقائی تھانیداری کے خواب دیکھتے بھارت کی بھی ہار ہے کیونکہ بھارت نے افغانستان میں اپنا نیٹ ورک قائم کرنے ، اپنے حمایتی گروہ بنانے اور افغان کٹھ پتلی حکومتوں کے لئے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جو کہ یکدم زمین بوس ہو چکی ہے ۔ خطے کی صورتحال یکدم بدل جائے گی ۔

    افغانستان میں طالبان کے اثر و رسوخ کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے ۔ انہوں نے سپر پاور کو ہرایا ہے تو ان کے اعتماد کا لیول کیا ہو گا۔ پاکستان کو اس موقعے سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے ۔ طالبان کے بڑے پاکستان کے ہمیشہ احسان مند رہے ۔ نائن الیون کے بعد چند ناخوشگوار واقعات ہوئے لیکن انہیں بھلا دینے اور طالبان کیساتھ ایک نئے آغاز کی ضرورت ہے ۔

    اس حوالے سے حکومت کو چاہیے کہ طالبان پاکستان میں جن دینی حلقوں کے قریب ہیں انہیں بھی اعتماد میں لیا جائے تاکہ طالبان کے ساتھ اعتماد سازی کا عمل تیز ہو سکے ۔ افغانستان میں امن پاکستان کے لئے سب سے زیادہ ضروری ہے ۔ افغان مہاجرین کی واپسی اور قبائلی علاقوں میں مکمل امن و سکون کے لئے افغانستان میں جنگ بندی اور پرامن ماحول ضروری ہے ۔ اس سے پاکستانی معیشت پر بے پناہ مثبت اثرات مرتب ہوں گے

    سپر پاور کاسرنڈر ۔ طالبان کے نعرے اور امارات اسلامیہ کے جھنڈے
    (ذرا سی بات ۔۔ محمد عاصم حفیظ)

  • سفید پگڑیاں اور وائٹ ہاوس—از—محمد عبداللہ اکبر

    سفید پگڑیاں اور وائٹ ہاوس—از—محمد عبداللہ اکبر

    وہ شام کا وقت تھا ایک بوڑھی ماں دو کہساروں کا فاصلہ طے کر کے ایک چھپڑ سے بنی مسجد کے چبوترے پہ پہنچتی ہے دو باریش داڑھیوں والے سفید پگڑیاں پہنے ہوئے آدمی اس مسجد میں اس چھپڑ کے نیچے بچھے ٹاٹ پہ بیٹھے ہیں لوگ ان کے پاس بجھے چہرے لیے حاضر ہوتے ہیں اٹھتے وقت مسرت بھری ہشاشیت کے ساتھ واپسی کی راہ پکڑ رہے ہیں

    یہ بڑھیا جب اس چبوترے پہ چڑھتی ہے تو ان دو آدمیوں کی طرف سے اشارہ ہوتا ہے کہ اماں جی کو سہارا دے کے ہمارے پاس لایا جائے اماں کو قریب لایا جاتا ہے تو وہ بوڑھی اماں اپنے آنسو گرا کے اپنی روداد بیان کرتی ہے کہ میرے بیٹوں نے میری زمین پہ قبضہ جما لیا ہے اور اب وہ اس کو اپنی حق ملکیت گردانتے ہوئے مجھے نکل جانے کا کہتے ہیں

    اماں کی بات سن کے وہاں ان دو لوگوں کے پیچھے بیٹھا کاتب ایک رقعہ لکھ کے اس ماں جی کو دے دیتا ہے کے اماں یہ رقعہ اپنے بیٹوں کو تھما دینا اماں جب وہ رقعہ دیکھتی ہے تو وہاں اس اماں کے دونوں بیٹوں کو قاضیان کی طرف سے طلبی کا نوٹس لکھا ہوتا ہے کے فلاں تاریخ کو وہ مسجد حاضری دیں

    دن گزرے اور مقررہ تاریخ پہ وہ اماں دوبارا وہیں پہنچتی ہے جہاں کچھ دن پہلے اپنا درد لیے حاضر ہوئی تھی وہاں آج منظر یہ ہے کہ ماں جی کے دونوں بیٹے بھی وہیں اسی چبوترے پہ چھپڑ کے نیچے ٹاٹ پہ بیٹھے ہوئے قاضیان کے سامنے پیش ہیں

    قاضی دونوں طرف سے دلائل سننے کے بعد فیصلہ کرتے ہیں کہ ماں جی کا فلاں حصہ انکو لوٹایا جائے ورنہ سختی والا معاملہ پیش آئے گا۔

    جو حکم ہوا ویسے ہی ہوا اور انصاف کی ایک تاریخ رقم ہوئی یہ تو وہ واقعہ ہے جو ہمارے سامنے غیرملکی جریدے کی ایک رپورٹر نے پیش کیا ایسے ہزاروں واقعات ہمیں ان لوگوں کی تاریخ میں بھرے ہوئے ملیں گے.

    7 اکتوبر 2001 کو ایسے پرامن درویش لوگوں پر دور حاضر کا فرعون اپنے لاؤ لشکر لے کے طاقت کے نشے میں دس دن کی گیم سمجھ کے ان پہ چڑھ دوڑا کیونکہ وہاں کی فضاؤں اور ہواؤں میں خلافت اور اسلام کی ایک پرمسرت اور پراثر فضاء اپنی بہاروں کے ساتھ جگمگانا شروع ہو گئی تھی لوگ آہستہ آہستہ ان چیزوں میں فٹ بیٹھنا شروع ہو گئے تھے اور دنیا کو یہ چیز ناقابل برداشت تھی.

    جب دنیا کا کفر یکجا ہو کے ان نہتے درویشوں پہ چڑھا تو ان درویشوں نے انہی مسجدوں کے چبوتروں کو معسکرات میں تبدیل کر لیا جہاں سے وہ اپنا اور اپنے لوگوں کا دفاع کرنے لگے کفر اس پلاننگ سے آیا ہے دس دنوں کا کھیل ہے مگر اسے کیا خبر تھی کہ جس کو ھم کھیل سمجھ رہے ھیں، ھمارے سامنے والے اس میدان کے سکندر ہوں گے. ہم نے ایسے ایسے اللہ کی نصرت کی نشانیاں اور واقعات سنے کہ سنتے سنتے سبحان اللہ کا کلمہ زبان سے جاری ہو جاتا تھا.

    ان لوگوں نے اپنے سیاسی سماجی معاشی ہر قسم کے معاملات چلائے انہوں نے بھی اس دنیا میں رہنا سیکھا۔ وہ بھی ان دھمکیوں کا شکار ہوئے کہ ہماری بات کو تسلیم کرلو نہیں تو ہم تمہیں بلیک لسٹڈ کر دیں گے یا ہم تمہیں گرے لسٹ سے نکال دیں گے یہ سب دھمکیاں انہوں نے بھی سنیں مگر ان دھمکیوں کو سننے کے باوجود اپنی غیرت نہیں بیچی اپنے آپ کو ان کے چرنوں میں لٹا نہیں دیا.

    دیکھو اٹھاو ان کے بیانات۔۔۔
    ملا محمد عمر علیه رحمه الله کی وہ تقاریر۔۔۔
    ایک.غیرت ایک حمیّت
    ایک جذبہ نظر آتا ہے
    اے امریکیو! اے افغانی امریکیو! اپنے آپ کو دھوکے میں مت ڈالو! تمہارے اعمال کا نتیجہ بہت سخت ہوگا، یہاں قابض ہونے کے خواب دیکھنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔

    افغانیو! اگر تمہیں اسلامی قوانین کی پرواہ نہیں تو پھر اسلام بھی کسی کی پرواہ نہیں کرتا۔ تم امریکیوں کا ساتھ دیتے ہوئے جان دو گے تو مردار کہلاؤ گے۔ اے امریکیو! تم آجاؤ، میں بھی دیکھتا ہوں تم کس طرح آتے ہو اور جب تم آ جاؤ گے تو اپنا انجام بھی دیکھو گے”. 
    بس یہ تھا کے وہ ثابت قدم ہونے کے وقت ثابت قدم ہوئے اللہ کے فرامین کو سمجھنے والے بنے کہ
    ”دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی سر بلند ہو گے اگر تم مومن ہو (آل عمران:139)
    اور آج اللہ ان لوگوں کو ان کے ڈٹ جانے کا صلہ دے رہا ہے.
    اللہ انکو تمغے دے رہا ہے

    جن درویشوں کی فتح سے سجی سفید پگڑیاں اربوں کی تعداد میں بسنے والی مسلم امہ کو ایک راہ دکھا رہی ہیں
    کہ زندگی شیروں کی طرح جیو گیدڑوں کی طرح جی کے بھی آخر مر ہی جاو گے جب مرنا ہی ہے تو یا فاتح بن جاو یا شھید ہو جاو.
    وہ لوگ تب ثابت قدم رہے
    آج چوڑے سینوں کے ساتھ
    سفید پگڑیاں سر پہ سجائے
    اور وائٹ ہاوس کو جھکائے

    وہ ایک امن معاہدوں پہ دستخط کروا کے
    تکبیر کے نعرے بلند کرتے ہوئے مسلمانوں کو حمیت کا درس دے رہے ہیں.
    آج جب امن معاہدوں پہ ہوتے دستخط دیکھ رہا تھا تو ایک دم یہ الفاظ نکلے مؤرخ جب تاریخ لکھے گا تو یہ اس موضوع کے ساتھ ایک باب کا آغاز کرے گا "جب سفید پگڑیوں کے سامنے وائٹ ہاوس جھکا”

    سفید پگڑیاں اور وائٹ ہاوس
    تحریر: محمد عبداللہ اکبر

  • 27 فروری : سرپرائز ڈے فارنیشن –از–غلام زادہ نعمان صابری

    27 فروری : سرپرائز ڈے فارنیشن –از–غلام زادہ نعمان صابری

    دوپہر کو مجھے فون آیااور پوچھاگیا کہ کہاں ہیں جناب
    ہم نے جواباً عرض کیا حضور گھر میں ہوں!
    فرمانے لگے آج سرپرائز ڈےہے کچھ وقت مل جائے گا،ہمارے حامی بھرنے پر کہا گیا کہ کچھ دوستوں کے ساتھ پاک ٹی ہاؤس میں چائے کا پروگرام بنایا ہے آپ سے شرکت کی استدعا ہے۔
    یہ تھے پاک بلاگرز فورم کے کوآرڈینیٹر محترم جناب عبدالحمیدصادق صاحب جنہوں نے سرپرائز ڈے پر دوستوں کو چائے کا سرپرائز دے ڈالا۔

    27فروری2019 کو بھارت نے روایتی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان پر فضائی حملہ کردیا اور یہ حملہ اس کی ناکام کوشش ثابت ہوا اور پاک فوج کے جوانمرد شاہینوں نے بھارت کے دونوں حملہ آور لڑاکا طیاروں کو مار گرایا۔

    ان میں ایک مگ 21 جنگی طیارہ بھی تھا جسے بھارتی پائلٹ ابھی نندن اڑا رہا تھا۔طیارہ گر کر تباہ ہوگیا اور ابھی نندن کو پاک فوج نے زندہ گرفتار کر لیا۔

    پاک فوج نے مسلمان ہونے کے ناطے اسلامی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے بھارتی پائلٹ کی خوب آؤ بھگت کی اس آؤ بھگت میں جو سب سے اہم بات تھی وہ چائے کی ایک پیالی تھی۔
    یہ چائے کی ایک پیالی بھارتی پائلٹ کو کروڑوں روپے کامگ 21تباہ کرنے کے بعد پینا نصیب ہوئی۔اس حوالے سے اگر اس چائے کی پیالی کو دنیا کی مہنگی ترین چائے کی پیالی کہاجائے تو بیجا نہ ہوگا اور اگر اسی طرح ابھی نندن کو دنیا کا مہنگا ترین چائے نوش کہا جائے تو میرے خیال میں اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔

    پاک فوج کے جوانوں کی جوانمردی کو داددینے کے لئے جنہوں نے اس دن کو پاکستان اور پاکستانی قوم کے لئے یادگار بنایا لہذا اس یادگار دن کو منانے کے لئے محترم جناب عبدالحمیدصادق صاحب نے دوستوں کو اچانک سرپرائز دیا اور پاک ٹی ہاؤس میں اکٹھا کر لیا۔ماہنامہ پھول کے ایڈیٹر محترم محمد شعیب مرزا صاحب نے بہت مشکل سے وقت نکال کر اس مختصر تقریب کو رونق بخشی کیونکہ اچانک اطلاع پر ان کا کسی پروگرام میں شرکت کرنا ناممکن کے ساتھ ساتھ مشکل بھی ہوتا ہے ان کی تشریف آوری کا بےحد شکریہ کہ وہ اپنی مصروفیات میں سے 15 منٹ نکال کر لائے تھے اور آدھاسے پون گھنٹہ دے کر تشریف لے گئے۔

    پاک بلاگرز فورم کے روح رواں جناب محمد نعیم شہزاد صاحب بھی تشریف لائے تھے ان سے پہلی بالمشافہ ملاقات تھی پاک بلاگرز فورم کے حوالے سے پہلے ان سے تعارف تھا مگر ملاقات نہیں تھی اس حوالے سے یہ تقریب ملاقات کا ایک بہانہ بھی بن گئی۔

    صدر شعبہ خواتین پاکستان قومی زبان تحریک محترمہ فاطمہ قمر صاحبہ بھی تشریف لائی تھیں جنہوں نے قومی زبان کے نفاذ بارے سیر حاصل گفتگو فرمائی۔
    ماہنامہ پھول کے ایڈیٹر محترم جناب محمد شعیب مرزا صاحب نے پاک فوج کی لازوال قربانیوں کے تذکرے سے لے کر نفاذ اردوتک خوبصورت الفاظ میں روشنی ڈالی
    پاک بلاگرز فورم کے سر پرست جناب محترم محمد نعیم شہزاد صاحب نے بھی اظہار خیال کیا۔

    محترم عبدالحمیدصادق صاحب نے سرپرائز ڈے پرچائے کے حوالے سے خوبصورت کلام سنانے کے ساتھ ساتھ کچھ تجاویز بھی پیش کیں
    چائے کے ساتھ بسکٹ بھی تھے جنہوں نے چائے کے مزے کو دوبالا کیا

    اس مختصر مگر مؤثر تقریب کے انعقاد پرجناب عبدالحمیدصادق صاحب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں آئندہ بھی ایسی مختصر تقریبات کا انعقاد ہوتے رہنا چاہئے جن سے علم وعمل میں اضافہ ہو اور کچھ حاصل کرنے کو ملے۔
    آخر اسی حوالے سے ایک قطعہ عرض ہے کہ
    بڑے گھمنڈ، بڑی شوخیوں سے
    آیا تھا دینے ہمیں سرپرائز
    رہے گا اسے تاقیامت یہ یاد
    دیا ہے جو ہم نے اسے سرپرائز

    غلام زادہ نعمان صابری

  • آرزوئے سحر: بی جے پی کا انجینئرڈ گجرات ماڈل دہلی فسادات 2020–از–انشال راٶ

    آرزوئے سحر: بی جے پی کا انجینئرڈ گجرات ماڈل دہلی فسادات 2020–از–انشال راٶ

    آر ایس ایس ونگ بی جے پی کی تاریخ فساد فی الارض اور انسانی خون سے بھری پڑی ہے، شروع سے ہی بی جے پی نے نفرت کی بنیاد پر سیاست کا آغاز کیا جس کے لیے اک ماتا یجنا اور رتھ یاترا جیسی نفرت انگیز و اشتعال انگیز تحریکوں کا آغاز کیا جسکے بعد سے بھارتی سماج دو حصوں میں بٹ کر رہ گیا ہے، بی جے پی نے اقتدار میں آتے ہی گائے ماتا کی تحریک شروع کی جس کے نتیجے میں سینکڑوں بے گناہ مسلمانوں کو شہید کردیا گیا جن کا نہ کوئی مقدمہ بنا نہ کسی نے دادرسی کی بلکہ الٹا دہشتگردوں کی حوصلہ افزائی میں بی جے پی رہنما بیانات دیتے رہے،

    اس کے ساتھ ہی بی جے پی نے بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کے ایجنڈے کے مسلم نسل کشی اور مسلمانوں کو زبردستی مذہب تبدیل کروانے یا ملک بدر کرنے یا پھر نسل کشی کے منصوبے بنائے جن پر عمل پیرا ہوکر پہلے پہل تو جے شری رام بولو کے نام پر بہت سے مسلمانوں کو شہید کیا گیا اور بعد میں مسلمانوں کو مجبور کرنے کے لیے NRC اور CAA جیسے کالے قانون منظور کیے جس کی نہ صرف بھارت سمیت پوری دنیا میں مذمت کی گئی بلکہ ان قوانین کو انسانیت دشمن قوانین قرار دیا،

    بھارتی مسلمان و سیکیولر طبقات نے ان کالے قوانین کے خلاف مزاحمت اور احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جسے بی جے پی کی طرف سے بزور طاقت دبانے کی کوشش کی گئی تو دنیا بھر میں بھارت پر تنقید کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی کے مطالبات زور پکڑنے لگے مگر ڈھیٹ انسانیت دشمن ہندوتوا دہشتگردوں کو عزت بےعزتی اور انسانیت کی کیا پرواہ، جواباً ہندوتوا دہشتگردوں کی جانب سے پرامن مظاہرین بالخصوص مسلمانوں کو دبانے کے لیے گجرات ماڈل دہرانے کی دھمکیاں دی جانے لگیں۔

    بی جے پی رہنماوں کی متواتر کے ساتھ گجرات ماڈل یعنی مسلم نسل کشی کے واقعات دہرانے کی دھمکیوں اور گجرات فسادات کو بطور فخر و ہندوتوا فخر کی علامت کے طور پر پیش کرنا گجرات فسادات میں بی جے پی کی سرپرستی کا اعلانیہ اعتراف ہے اور اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ آر ایس ایس ونگ بی جے پی ایک دہشتگرد جماعت ہے، بی جے پی رہنما کپل مشرا کی پولیس ڈی سی پی کی موجودگی میں اشتعال انگیزی اور پُرامن مظاہرین کو الٹیمیٹم دیئے جانے کے بعد سے ہی دہلی میں فسادات پھوٹنے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا

    لیکن افسوس ہے کہ بھارتی حکومت و پولیس نے اس ضمن میں آنکھیں بند کیے رکھیں اور منظم طریقے سے پتھروں سے بھرے ٹرک احتجاجی کیمپ کے پاس لائے گئے جہاں پولیس کی موجودگی میں ہندوتوا دہشتگرد جمع ہونا شروع ہوے جنہوں نے مسلمان مظاہرین پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں دو طرفہ تصادم کا خطرہ پیدا ہو، پولیس بجائے حالات کنٹرول کرنے کے متعدد ویڈیوز میں ہندوتوا دہشتگردوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر پتھراو کرتی نظر آئی، بہت سی ایسی ویڈیوز وائرل ہیں جن میں دہلی پولیس ہندوتوا دہشتگردوں کی سرپرستی کرتے ہوے مسلمانوں پر حملہ کرنے کا کہتی نظر آرہی ہے، اس کے بعد تصادم فسادات کی صورت میں تبدیل ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے دہلی کے متعدد علاقے ہندوتوا مسلم فسادات کی لپیٹ میں آگئے،

    جیسا کہ بی جے پی رہنما ایک عرصے سے گجرات ماڈل دہرانے کے بیانات دیتے نظر آرہے ہیں دہلی فسادات بالکل ایک انجینئرڈ اور منظم مسلم کُش فسادات ہیں، کچھ عرصہ پہلے بی جے پی رہنما سی ٹی راوی نے مسلمانوں کو حق مانگنے کے جرم میں گجرات ماڈل دہرانے کی دھمکی دی۔ یوگی ادیتیاناتھ، رگھو راج سنگھ، دلیپ گھوش کی اشتعال انگیزی ریکارڈ پر موجود ہیں، سوماشیکھر ریڈی نے تو اکثریت کے ضعم میں مسلمانوں کو کچلنے کی دھمکی دی، صرف دو روز پہلے ہی بی جے پی ترجمان گرش ویاس Grish Vyas نے گجرات ماڈل دہرانے کی دھمکی دی تھی جس کے بعد کپل مشرا نے الٹی میٹم دیا اور اگلے روز منظم طریقے سے دہلی میں مسلم کُش فسادات شروع ہوگئے جس میں پولیس مکمل طور پر ہندوتوا دہشتگردوں کی سرپرستی کرتی نظر آرہی ہے۔

    دہلی شہر فسادات و نفرت کی آگ میں جل رہا ہے اور ممکن ہے کہ یہ فسادات پھیل کر دہلی سے باہر اور پھر پورے بھارت میں منتقل ہوجائیں، یہ اس قدر منظم و انجینئرڈ دہشتگردی ہے کہ فسادات شروع ہونے سے پہلے ہندو املاک و گلی محلوں پر ہندوتوا جھنڈے لگائے گئے جس کا مطلب یہ تھا کہ ان املاک کو نقصان نہ پہنچایا جائے، ایک مارکیٹ میں ذولفقار ملک نامی مسلمان کی دکان کو تباہ کردیا گیا جبکہ اسی دونوں اطراف کی دکانیں شیوا آٹوز اور تیاگی صابن کو چھوڑ دیا گیا، اولڈ ٹائر مارکیٹ کو پولیس سرپرستی میں آگ لگادی گئی جبکہ اسی کے ساتھ ہندو حضرات کی دکانوں کو ہاتھ تک نہ لگایا گیا،

    بھارتی پولیس کی دہشتگردی کا کھلا ثبوت اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ بجائے دہشتگردوں کو پکڑنے کے دہلی پولیس مسلمانوں پر غیرانسانی تشدد اور جبراً وندے ماترم پڑھنے پر مجبور کرتی دیکھی گئی جبکہ سینکڑوں ایسی ویڈیوز وائرل ہیں جن میں بھارتی پولیس اہلکار ہندوتوا دہشتگردوں کو مکمل سپورٹ فراہم کررہی ہے، قریشی ٹاور میں مقیم مسلمانوں نے ایک ویڈیو میسج میں S.O.S کال دی جس میں واضح طور پر بتایا گیا کہ دہلی پولیس بجرنگ دل اور آر ایس ایس کے دہشتگردوں کے ساتھ مل کر قریشی ٹاور پر فائرنگ کررہی ہے جس سے یہ بات ثابت ہے کہ یہ بی جے پی حکومت کا منظم منصوبہ ہے جس مقصد مسلمانوں کو کچلنا ہے۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ دہلی فسادات کو بی جے پی کی سرپرستی حاصل ہے جوکہ بھارت کو آگ میں جھونکنے کے مترادف ہے بی جے پی سمجھتی ہے کہ اتنی آسانی سے وہ مسلمانوں کو ٹیررسٹ کا نام دیکر ختم کردیگی جیسا کہ ہندوتوا نواز بھارتی میڈیا کی طرف سے مسلمانوں کو ہی دہشتگرد دکھائے جانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن سوشل میڈیا نے ان کا اصل چہرہ دنیا کو دکھا دیا ہے، بی جے پی کی مسلم مخالف پالیسی سے بھارت کو بھارت کے اندر بہت سے محاذ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے بہت سے مسلح گروہ اٹھ کھڑے ہوسکتے ہیں جن کا الزام اب بھارت پاکستان پر نہیں لگا سکتا اور تیزی سے پھیلتی معاشی طاقت بھارت پسماندہ ترین ملک بن سکتا ہے۔

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راٶ
    بی جے پی کا انجینئرڈ گجرات ماڈل دہلی فسادات 2020

  • وفا کام آئی نہ جفاکام آئی ،ہندوستانی مسلمانوں کے 72 سال –از..ملک جہانگیر اقبال

    وفا کام آئی نہ جفاکام آئی ،ہندوستانی مسلمانوں کے 72 سال –از..ملک جہانگیر اقبال

    اِس وقت "سیکولر” بھارت میں مسلمانوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے ، باقاعدہ ریاستی سرپرستی میں انتہاپسند ہندو ٹولیاں بنا کر مسلمانوں کی جان اور املاک پہ حملہ آور ہورہے ہیں جبکہ ریاستی ادارے بشمول پولیس ، فوج یہاں تک کہ الیکٹرونک میڈیا تک انتہاپسندی کا ثبوت دیتے ہوئے مسلم دشمنی پہ اُتر آیا ہے .

    میرا ہندوستانی مسلمانوں سے لگ بھگ دس سالہ پرانا تعلق ہے . کشمیر میں مسلمان مریں یا پاکستان میں ہندوستان شرارت کرے ، ہر جگہ ہندوستانی مسلمانوں نے بے حسی کا ثبوت دیا اور بعض اوقات ہندوؤں سے زیادہ بے حسی دکھائی کہ شاید اس طرح انتہا پسند ہندو اُنہیں اپنا سگا وفادار مان لیں پر "کسی” عظیم لیڈر نے تقسیم ہندوستان کے وقت کانگریس پرست مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کیا خوب کہا تھا کہ

    ” انکی آنے والی نسلیں اپنی ساری زندگی ہندوستان سے وفاداری ثابت کرنے میں گزار دیں گی ”

    اور پھر آپ نے دیکھا کہ نا صرف عام مسلمان بلکہ بڑے بڑے فلم سٹار بھی ہندو بیویاں لانے اور گھروں میں مندر تک بنوا لینے کے باوجود اب تک اچھوت ہی ہیں ، غلطی سے بھی اگر خود پہ یا اپنی قوم کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے بابت بات کرلیں تو انکی فلموں کا چلنا مشکل ہوجاتا ہے .

    قائد اعظم اس انتہا پسند ہندو ذہنیت سے بخوبی واقف تھے اسلئے جلد ہی کانگریس سے راستے جدا کرلیے ، جبکہ دوسری جانب گاندھی جی بیچارے خود اس انتہا پسند ہندو ذہنیت کا شکار بن گئے .

    اور اب یہاں پاکستان میں تقسیم ہندوستان کے مخالف اپنے لیڈران کی ناکامی اور قائد اعظم سے بغض دکھاتے ہوئے اپنی خجالت یہ کہ کر مٹاتے ہیں کہ اگر ہندوستان تقسیم نہ ہوا ہوتا تو مسلمان تعداد میں زیادہ ہوتے اور زیادہ مضبوط ہوتے .

    کاش اگر بغضِ قائد اعظم نہ ہوتا تو کبھی کچھ حساب کتاب کیا ہوتا اور تاریخ پڑھتے تو معلوم ہوتا کہ تقسیم نہ ہوتی تو بھی کل ملا کر 65 کروڑ مسلمان ہوتے جن میں شیعہ سنی اور پھر ان میں وہابی بریلوی وغیرہ کی تقسیم بھی اتنی ہی شدید ہوتی ؟

    اسکے باوجود بنگلادیش پاکستان اور ہندوستان کے ہندو ملا کر ایک ارب پانچ کروڑ کے لگ بھگ ہندوؤں کی آبادی بنتی؟

    انتہا پسند ہندو پھر بھی حکومت میں ہوتے؟

    اب اگر یہاں یہ منطق استعمال کریں کہ جی ہندوستان میں پہلے بھی ہندو مسلم ساتھ رہے ہیں تو جناب ایسا تب ممکن ہوا کہ مسلمان حکومت میں تھے ، مسلمان حکمرانوں نے ہندوستان کو اپنا ملک اور ہندوؤں کو اپنی رعایا سمجھا ، ان میں اسلام اور خدا کا خوف موجود تھا لہٰذا انہوں نے ہندوؤں کی نسل کشی نہیں کی ، اسی لیے ہندو مسلم ایک ساتھ رہ سکے ۔

    پر اقتدار میں موجود انتہا پسند ہندوؤں کا تو نظریہ ہی اکھنڈ بھارت ہے ، یہ پورے برصغیر میں اپنا راج بنانا حق سمجھتے ہیں ، نہ صرف مسلمان بلکہ عیسائی اور دیگر اقلیتیں بھی سرکاری ہندو حکومت کے شر سے محفوظ نہیں ہیں ۔

    لہٰذا قائد اعظم کے بغض میں مبتلا حضرات بچوں والی لولی لنگڑی منطق استعمال کرنا چھوڑ دیں جسے برصغیر کے مسلمانو کی اکثریت ستر سال قبل ہی کچرا دان میں پھینک چکی ہے . اب اگر آپ یہ بہانہ بنا کے خجالت مٹائیں گے کہ دیکھو پاکستان بھی تو دو ٹکڑے ہوگیا ..

    تو نالائقو پاکستان ٹوٹنے کے باوجود بھی دوسرا اسلامی ملک بنگلہ دیش ہی بنا نا کہ بھارت میں ضم ہوا ، یعنی قائد اعظم کا نظریہ تو پھر بھی قائم رہا ، قائد کا نظریہ مسلمانو کا اپنا ملک تھا جو ہندوؤں سے الگ ہو ، یہ وہ نظریہ ہے جو رہتی قیامت تک زندہ اور تازہ رہے گا .

    شکر کا کلمہ پڑھتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح کا احسان مانو کہہ ایک آزاد ملک کے باشندے ہو جسے اپنی مذہبی آزادی حاصل ہے ۔ وگرنہ تمہارے بغضِ قائد میں مبتلا لیڈران کی بات برصغیر کے مسلمان مان لیتے تو آج ماسوائے قسمت کو رونے کے اور کوئی چارہ نہ ہوتا .

    سلام ہے اُن تمام مسلمانو پہ جنہوں نے قائد اعظم کو رہبر بناتے ہوئے بھارت سے ہجرت کی اور نئے وطن کے مطالبے کو طاقت بخشی ، سلام ہے قائد اعظم محمد علی جناح کی دوراندیشی کو جو انہوں نے ہندوستان میں رہنے والے ایک تہائی مسلمانو کو جداگانہ ، آزادانہ شناخت بخشی ۔

    باقی احسان فراموش ، چھوٹی ذہنیت والے لوگ ہر معاشرے میں پائے جاتے ہیں جن کے چھوٹے دماغ اتنی حیثیت نہیں رکھتے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کا احسان تسلیم کرسکیں .

    آخر میں بحیثیت مسلمان یہی دعا ہے کہ اللہ پاک بھارت اور کشمیر کے مسلمانو پہ رحم فرمائے اور انہیں ہندو انتہاپسند ذہنیت سے آزادی نصیب کرے۔ آمین

    وفا کام آئی نہ جفاکام آئی ،ہندوستانی مسلمانوں کے 72 سال

    تحریر:ملک جہانگیر اقبال