Baaghi TV

Category: مسلم دنیا

  • جامعہ میں CAA اور NRC کے خلاف احتجاج کا76واں دن–تحریر–از   محمد وسیم

    جامعہ میں CAA اور NRC کے خلاف احتجاج کا76واں دن–تحریر–از محمد وسیم

    بھارتی جنتا پارٹی جس کے یہاں مسلمانوں، دلتوں اور غریبوں سے تعصّب اور نفرت ہے اُس کے ذریعے بنایا گیا کالا قانون CAA کے خلاف گزشتہ 76 دنوں سے جامعہ کے طلباء دنوں رات احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں، طلباء کا ساتھ دینے کے لئے جامعہ کے آس پاس کے علاقے کی عوام ہر روز بڑی تعداد میں شریک ہوتی ہے، CAA کے خلاف گزشتہ 76 دنوں سے پُرامن احتجاج جاری ہے،

    کالا قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے کو حکومتی مظالم کے ذریعے ختم کرنے کی کئی بار کوشش کی گئی لیکن حکومت ناکام رہی، بِہار کی حکومت نے وِدھان سبھا میں بیان جاری کیا ہے کہ NPR پُرانے طریقے سے ہوگا اور NRC کا نفاذ ممکن نہیں ہے، تلنگانہ میں بھی NPR پر پابندی لگانے کی سفارش کی گئی ہے، اگر عام آدمی پارٹی عوام کی خیرخواہ ہے تو دہلی حکومت بھی اعلان کرے کہ دہلی میں NPR اور NRC نہیں ہوگا

    دہلی میں CAA کے خلاف احتجاجی مظاہرے پُرامن طریقے سے جاری تھے اُس سے حکومت بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ کا شکار تھی، دہلی کے جعفرآباد، موج پور میں بھی احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے، دہلی میں بی جے پی کے کپل مشرا نے میڈیا میں بیان دیا کہ اگر جعفرآباد اور موج پور میں احتجاجی مظاہرے ختم نہیں کئے گئے تو تین دنوں کے اندر ہمیں جو کرنا ہوگا وہ ہم کریں گے،

    اُس کے دوسرے دن ہی دہشت گردی شروع ہوگئی، موج پور، کراول نگر، گوکُل پوری میں ہندو دہشت گرد گزشتہ دو دنوں سے گھروں اور دوکانوں کو جلا رہے ہیں، لوگوں سے اُن کی شناخت معلوم کر کے مارا جا رہا ہے، لیکن افسوس ہے کہ دہلی حکومت اور بی جے پی کی حکومت کوئی بھی ٹھوس قدم اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہے، دہلی کو جلایا جا رہا ہے اور نشانہ صرف مسلمان ہیں،

    اِس وقت دہلی میں مسلمانوں کی جو حالت ہے اُس سے دِل بہت بے چین ہے، لیکن ہمّت اور جذبہ میں کمی نہیں آئی، ضرورت ہے کہ ہم کالا قانون کے خلاف احتجاج مظاہرے جاری رکھیں لیکن ہم متّحد اور منظّم ہو کر اپنی حفاظت کے لئے لائحۂ عمل بھی تیار کریں..

    محمد وسیم ابن محمد امین، ریسرچ اسکالر
    شعبہء اردو، جامعہ ملّیہ اسلامیہ، نئی دہلی

  • جو دلی کا حال ہے وہی دل کا حال ہے!—عزیراحمد

    جو دلی کا حال ہے وہی دل کا حال ہے!—عزیراحمد

    میں نے زندگی میں کبھی خود کو اتنا بے بس نہیں محسوس کیا تھا، جتنا اب کر رہا ہوں، تصویریں، ویڈیوز جو سامنے آ رہی ہیں دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ میں ہندوستان ہار رہا ہوں، وہ ہندوستان جس کا خواب ہمارے پرکھوں نے دیکھے تھے، اس کی تعبیر بہت بھیانک مل رہی ہے،

    1947 میں بھی ہندو-مسلمان تھا، 2020 میں بھی ہندو-مسلمان ہے، کچھ بھی نہیں بدلا، بس ہندسے بدل گئے ہیں، وہی نفرت، وہی دشمنی جس نے کبھی دلی کو سڑکوں سے خون نہلدیا ، وہی پھر دیکھ رہا ہوں میں، چاروں طرف خون بہتے ہوئے، سڑکوں پر لاشوں کی طرح پڑے لوگ، اور ان کے ساتھ وردی میں ملبوس غنڈوں کی غنڈہ گردی، مزار کو پھونکتے ہوئے، مسجدوں کے گنبدوں کو توڑتے ہوئے، بیک گراؤنڈ میں عورتوں کی چیختی ہوئی آوازیں،

    یہ تصویریں اور ویڈیوز مجھے زندگی بھر ڈراتی رہیں گی، میں کبھی انہیں بھول نہیں پاؤں گا، کیونکہ میں اس میں ہارتے ہوئے "آئیڈیا آف انڈیا” دیکھ رہا ہوں، میں اس میں "دلت مسلم یونیٹی” کا خواب چکنا چور ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، مجھے سنگھی غنڈوں کی صف میں وہی لوگ آگے نظر آ رہے ہیں، جو پچھڑی ذات کے ہیں، ان کے کپڑے، ان کے پہناوے اور ان کا لائیو ویڈیو بتا رہا ہے کہ یہ پڑھے لکھے لوگ نہیں، یہ اونچی ذات کے لوگ نہیں ہیں، یہ مہرہ ہیں، وہ مہرہ جنہیں ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

    میں نے گجرات فساد کے بارے میں صرف پڑھا تھا، اسے کبھی محسوس نہیں کیا تھا، مگر میں نے دہلی میں ہو رہے فساد کے ذریعہ اسے جی لیا ہے، جو کچھ گجرات میں ہوا تھا، ہو بہو وہی دہلی میں ہوا ہے، احسان جعفری پولیس اور گورنمنٹ کو فون کرتے رہ گئے تھے، اور انہیں جلا دیا گیا تھا، کل رات بھی لوگ اپیلیں کرتے رہ گئے، دہلی پولیس سے، لیفٹننٹ گورنر سے، ہوم منسٹر سے، پرائم منسٹر سے، کوئی سننے کے لئے تیار نہیں تھا، سب نے آنکھیں موند لی تھیں، نہ کسی کو کچھ دکھائی دے رہا تھا، نہ مظلوموں کا چیخ و پکار سنائی دے رہا تھا، ایسے لگ رہا تھا کہ اجازت دے دی گئی ہو کہ تم بربریت کا جتنا ننگا ناچ ناچ سکتے ہو، ناچ لو، پولیس تمہارے ساتھ ہے ہی، اور ہماری مہان پولیس نہ صرف دنگائیوں کا ساتھ دے رہی تھی بلکہ انہیں ٹریننگ بھی دے رہی تھی کہ کیسے پتھر پھینکا جائے۔

    رات میں جس طرح سے ٹائر مارکیٹ جلایا گیا، اس کی اٹھتی ہوئی لپٹیں سیریا کی یاد دلا رہی تھیں کہ جیسے بم مار دیا گیا ہو، لوگ رحم کی بھیانک مانگ رہے تھے، عورتیں بچے چلا رہے تھے، مگر رام راجیہ کے سپاہیوں کے چہرے پر خوشی دیدنی تھی، جانوروں سے بھی بدتر لوگ، نفرت ہونے لگی ہے ان کی شکلوں سے، بے اتھاہ غصہ اندر بھر رہا ہے، کوئی ایک فساد ذہنوں سے محو نہیں ہوتا ہے کہ دوسرا شروع ہوجاتا ہے، کیا ہندوستان میں ہندو مسلم فساد کا لا متناہی سلسلہ ہمیشہ چلتا رہے گا، ہندوؤں کا پڑھا لکھا اور سلجھا ہوا طبقہ تو معاملات سمجھ رہا ہے، لیکن عام ذہن نفرت سے کرپٹ ہو چکا ہے، اس کو ان سب چیزوں سے خوشی مل رہی ہے، اس کے دل کی تسلی کے لئے یہی کافی ہے کہ مسلمان مودی ایرا میں ستائے جارہے ہیں، مارے جا رہے ہیں، ذلیل کئے جا رہے ہیں، ورنہ کیا وجہ کہ یہ سب تصویریں اور ویڈیوز دیکھنے کے بعد بھی ان کے دل و دماغ میں ہلچل نہیں ہوتی ہے، وہ کھل کر مسلمانوں کے سپورٹ میں نہیں آتے ہیں کہ ہم دنگائیوں کے ساتھ نہیں ہیں، چند مخصوص افراد کی بات الگ ہے، لیکن اکثریت ہے کہاں؟

    دلی پولیس کا کردار ہمیشہ مسلمانوں اور اسٹوڈنٹس کے تئیں گھناؤنا رہا ہے، یہی دہلی پولیس ہے جس نے مسلم نوجوانوں کی زندگیاں تباہ کیں ہے، کئی بے گناہ نوجوانوں کو انکاؤنٹر میں مار دیا ہے، اور کئیوں کو گمنامی کے کنوئیں میں پھینک دیا ہے، 1984 میں اس نے کانگریسی حکومت کے چھترچھایہ میں سکھوں کا نرسنہار کرنے میں پورا سپورٹ کیا تھا، 2020 میں کمل کا پھول تھامے لوٹ مار مچا رہی ہے، اس سے زیادہ ذلیل پولیس میں نے کبھی نہیں دیکھی، پتہ نہیں اس کے افراد رات میں جب گھر جاتے ہوں گے تو اتنا ظلم کرنے کے بعد چین کی نیند کیسے لے پاتے ہوں گے، دنگائیوں کو روکنے کے بجائے انہیں کے ساتھ مل کر پتھر بازی کرنا، لوٹ مار کرنا اور اقلیتی طبقے کو کسی اور ملک چلے جانے کے لئے کہنا دنیا کی کون سی پولیس کرتی ہے؟

    تڑی پار ایک فسادی تھا، فسادی ہے، اور فسادی رہے گا، خون اس کے منہ کو لگ چکا ہے، جب تک اسے خون پینے کو نہ ملے اسے سکون نہیں ملتا، 2002 میں گجرات جلایا تھا، ابھی پورا ملک جلا رہا ہے، اپنے زعم اور اپنے انا میں پورے ملک کو تباہ کرنے کے درپے ہے، اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک کا اکثریتی طبقہ مایوس کر رہا ہے, وہ آئیڈیا آف انڈیا کو فیل ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہے مگر وہ کچھ بول نہیں رہا ہے، شاید وہ سوچ رہا ہے کہ ہمیں اس سے کیا لینا دینا، مگر وہ بھول رہا ہے کہ جب آگ لگتی ہے تو اس کے لپٹ کی زد میں ارد گرد کے سارے گھر بھی آ جاتے ہیں۔

    اپوزیشن کی حالت یہ ہے کہ اس کے ممبران ٹیوٹر پر بس سانتونائیں دے رہے ہیں، اگر اپوزیشن غلط کے خلاف کھڑی نہیں ہوسکتی تو ایسے اپوزیشن کا مر جانا بہتر ہے، اتنا وقت گزر جانے کے باوجود بھی دہلی کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں پر حملہ، پتھراؤ اور فائرنگ جاری ہے، کچھ جگہوں پر حالات دوبارہ خراب ہونے کی سنبھاؤنا ہے، چاروں طرف سے شرپسند عناصر نے گھیر رکھا ہے، گھروں میں موجود لوگ کس سیچویشن سے گزر رہے ہوں گے اس کو بس وہی اندازہ لگا سکتا ہے جو کبھی ان حالات سے گزر چکا ہو، بھگوا دہشت گرد کتوں کی طرح گلیوں میں چلا رہے ہوں گے، دکانوں مکانوں پر حملہ کر رہے ہوں گے، اپوزیشن چاہتی تو فورا ایک آل آرگنائزیشن میٹنگ بلا کر گورنمنٹ پر پریشر ڈال سکتی تھی، مگر وہ کچھ بھی نہیں کر رہی ہے

    ہماری عدلیہ کو بھی فسادات سے مطلب نہیں، لوگ مر رہے ہیں، اس سے مطلب نہیں، پولیس ظلم کی حدوں کو پار کر رہی ہے، اس سے مطلب نہیں، بیجا NSA/PSA اور Sedition کے چارجز کا استعمال کیا جا رہا ہے، اس سے مطلب نہیں، اسے مطلب ہے تو بس ٹریفک سے، پروٹسٹ ختم کروانے سے، اور مودی جی کو ایک جینس آدمی قرار دینے سے، بے شرمی اور ڈھٹائی کی انتہا پار ہو چکی ہے۔

    ابھی فی الحال حالت یہ ہے کہ دماغ کے دروازے بند ہوچکے ہیں، بس چاروں طرف مارو پکڑو کی آوازیں ہیں جو سنائی دے رہی ہیں، مجھے وہ چیختی ہوئی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، مگر بے بسی اتنی ہے کہ کچھ کر نہیں سکتے، لیکن بے حسی بھی طاری نہیں ہورہی ہے کہ کندھے اچکا کر آگے بڑھ جائیں، میں بہت حساس طبیعت کا مالک ہوں اور یہ حساسیت ہی ہے جو مجھے ایک پل کے لئے بھی جو کچھ ہو رہا ہے اس سے غافل نہیں ہونے دیتی، اسلام نے ایک امت اور جسد واحد کا جو کانسپٹ دل و دماغ میں اتارا ہے اس کی وجہ سے ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے میرا گھر جل رہا ہے, جیسے میرے گھر میں گھس کر میرے اہل خانہ کو مارا جارہا ہے,

    یہی وجہ ہے کہ یہ سب لکھتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو بھی ہیں اور میری سوچ میں الجھن بھی، میں یہ نہیں سمجھ پا رہا ہوں کہ میں ان سب کا ذمہ دار بھگوا ٹیرر کے ساتھ ساتھ اور کسے ٹھہراؤں، حکومت کو، یا مظاہرین کہ جن کو Provoke نہیں ہونا تھا وہ ہوگئے، جن کو ان کے خلاف لگائے گئے نعروں پر ری ایکٹ نہیں کرنا تھا، وہ کر بیٹھے، جب لڑائی لمبی تھی، تو اس میں Patience بھی بڑا چاہئے تھا، یا پھر اکثریتی طبقہ کو جن کی خاموشی رضامندی معلوم ہورہی ہے، کہ جن کو جب سڑکوں پر نکل کے لئے آنا تھا، وہ اپنے کمروں میں گھر مورے پردیسیا کے گیت گا رہے ہیں، ذمہ دار کوئی بھی ہو ہندوستان ہار رہا ہے، اور اسے ہارتے ہوئے ہم بس دیکھ رہے ہیں، اور کچھ بھی کر پانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

    جو دلی کا حال ہے وہی دل کا حال ہے!

    تحریر از…….عزیراحمد

  • "ویلنٹائن ڈے یا یوم فلسطین” تحریر: محمد عبداللہ

    "ویلنٹائن ڈے یا یوم فلسطین” تحریر: محمد عبداللہ

    ویسے تو دنیا بھر کے کمزور اور مقبوضہ مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کوئی ایام مخصوص نہیں ہوتے مگر کیا کریں ہم اپنی ہی شہ رگ کو پنجہ ہنود میں دے کر بھول چکے ہیں اور سال میں چند مخصوص ایام یا پانچ فروری کو یاد کرکے یکجہتی کی محافل و مجالس منعقد کرکے حق ادا کر دیتے ہیں کہ سال بھر کشمیر کا نام لینا اور یکجہتی کشمیر کا اپنے لہو اور پسینے سے اظہار کرنا تو دہشت گردی ٹھہرا اور اس جرم کا ارتکاب کرنے والے پس دیوار زنداں ڈال دیے گئے لہذا آجاکر اک پانچ فروری بچتا ہے جس میں پوری قوم مقبوضہ شہ رگ والوں سے اظہار ہمدردی و یکجہتی کرتی ہے.
    یہ دن بھی کوئی باقاعدہ آئین پاکستان کی رو سے نہیں ہے بلکہ نوے کی دہائی میں قاضی حسین احمد مرحوم کی ترغیب پر اس وقت کی حکومت نے اس دن کو سرکاری سطح پر منانے کا اہتمام کیا. ایسے ہی پچھلے دو تین برسوں سے امت مسلمہ کی حالت زار پر کڑھنے والے پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس نے 14 فروری کو یوم فلسطین کے نام سے منانا شروع کیا ہوا ہے کہ اس دن وہ قبلہ اول اور وہاں پر پنجہ یہود میں جکڑے اہل ایمان فلسطینیوں کو یاد کرکے ان کی آزادی کی خاطر سوشل میڈیا پر آواز بنتے ہیں. یہ ایک احسن اقدام ہے جو سوشل میڈیا ایکٹوسٹس نے شروع کیا ہے.
    البتہ اس کے لیے جس دن کا انتخاب کیا گیا ہے وہ دن اہل مغرب کے ہاں پیار و محبت کے اظہار کا دن ہے جس کو لے کر یہاں دیسی بھی بدیسی بنتے ہوئے اس دن کو پیار و محبت کے اظہار کے نام پر ہوس کی آگ بجھاتے نظر آتے ہیں لہذا بالخصوص ان دیسیوں اور کچھ معتدل افراد کو اس خاص دن کو فلسطین کے نام مخصوص کرنا گراں گزرتا ہے حالانکہ بہتے ہوئے خون مسلم کے ساتھ کھڑا ہونے سے زیادہ محبت کا اظہار ہو ہی نہیں سکتا.
    دوسری بات کہ یہ ویلنٹائن کوئی ہمارا اسلامی یا سرکاری تہوار یا ایونٹ تو ہے نہیں جو اس قدر فکر مند ہوں البتہ اگر حکومت پاکستان اور ذمہ داران ادارے اس دن کو فلسطین کے مجبور و مقہور مسلمانوں کے نام کردیتے ہیں تو اس سے فلسطینیوں کو بھی حوصلہ ملے گا اور دوسرا ویلنٹائن کے نام پر ہونے والی حیا باختگی اور ہوس کے کھیل بھی ختم ہونگے اس لیے زیادہ سے زیادہ آواز ملائیے تاکہ ذمہ داران بھی باقاعدہ اس دن کو فلسطین کے نام کردیں.
    وما توفیقی الا باللہ

  • 14 فروی ویلنٹائن ڈے یا یوم یکجہتی فلسطین   تحریر :غنی محمود قصوری

    14 فروی ویلنٹائن ڈے یا یوم یکجہتی فلسطین تحریر :غنی محمود قصوری

    ہر 14 فروری کو دنیا بھر میں کفار کا ایک تہوار ویلنٹائن ڈے جسے Saint Valentine’s Day بھی کہا جاتا ہمارے اس ارض پاک پر بھی منایا جاتا ہے
    اس دن شادی شدہ و غیر شادی شدہ بے راہ روی کا شکار جوڑے ایک دوسرے کو پھول دے کر اظہار محبت کرتے ہیں اسی لئے اسے Lover,s Festival بھی کہتے ہیں
    اس دن کے حوالے سے کوئی مستند روایات موجود نہیں کہا جاتا ہے کہ 1700 میں روم میں ایک سینٹ ویلنٹائن نامی راہب تھا جسے ایک (Nun) نن نامی راہبہ سے عشق ہو گیا مسیحیت میں کسی راہب یا راہبہ کا نکاح و جنسی تعلقات سخت ممنوع ہیں مگر عشق و محبت کے مارے راہب سینٹ ویلنٹائن نے نن راہبہ سے جنسی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی جسے راہبہ نے ٹھکرا دیا سو افسانوی کہانی سناتے ہوئے سینٹ ویلنٹائن نے نن سے کہا کہ مجھے خواب آیا ہے کہ اگر ہم 14 فروری کو جنسی تعلقات قائم کرلیں تو کوئی گناہ نہیں ہوگا جسے نن نے مان لیا اور یوں دونوں مذہب کے رکھوالے مذہب کی عہد شکنی کرگئے جس کا علم کلیسا کو ہو گیا
    چونکہ یہ واقعہ کلیسا کی روایات کے سخت خلاف تھا اس لئے انہیں فوری قتل کر دیا گیا اور یوں ان دین سے بیزاروں خود ساختہ عاشقوں کی کہانی اس وقت کے جوان بے راہ روی پر مبنی جوڑوں تک پہنچی تو انہوں نے اس پریم کہانی کو زندہ کرنے کیلئے 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے منانا شروع کر دیا حالانکہ خود مسیحیت میں بھی اس دن کو برا سمجھا جاتا ہے مگر پھر بھی ہمارے ملک میں اسے بڑے جوش و جذے کیساتھ منایا جاتا ہے مگر میرے آقا علیہ السلام نے کفار کی مشہابت کی سخت مخالفت کی ہے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہے۔صحیح بخاری 3329
    حدیث کی رو سے کفار کی مشہابت اختیار کرنے والے کا دین اسلام اور جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تعلق نہیں
    اب آتے ہیں اس بے ہودہ دن ویلنٹائن ڈے کو یوم یکجہتی فلسطین میں بدلنے پر تاکہ ہمارے مسلمان اس بے ہودہ دن کو بھول کر اپنے قبلہ اول کی آزادی کی خاطر کھڑے ہو سکیں اور جان سکیں کے مسئلہ فلسطین آخر ہے کیا
    لبنان اور مصر کے درمیانی علاقے کو فلسطین کہتے ہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں تعمیر ہونے والی مسجد بیت المقدس بھی اسی علاقے فلسطین میں ہے مکہ مکرمہ سے پہلے یہی مسلمانوں کا قبلہ اول تھا اور مسلمان اسی کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے تھے
    عیسی علیہ السلام کی جائے پیدائش اور تبلیغ کا مرکز بھی یہی فلسطین ہے مکہ سے بیت المقدس کا فاصلہ تقریبا 1300 کلومیٹر ہے
    1948 سے پہلے تک فلسطین ایک آزاد خودمختار مسلم ریاست تھی اور اس کا دارالحکومت بیت المقدس تھا
    1947 میں عیسائی برطانیہ نے مسئلہ فلسطین کو الجھائے رکھا اور یہودیوں کو فنڈنگ کرکے انہیں مضبوط کیا اور یوں یہودی فلسطینی علاقوں پر قابض ہوتے چلے گئے مکار یہودیوں نے 14 اور 15 مئی 1948 کی درمیانی شب تل ابیب میں اسرائیلی ریاست کا اعلان کر دیا جس پر عربوں اور اسرائیلیوں کے درمیان مسلح تصادم شروع ہو گئے
    اقوام متحدہ میں کشمیر کی طرح مسئلہ فلسطین بھی آج دن تک جو کا تو ہے 29 نومبر 1947 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے روس و امریکہ کی فلسطین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز کو دو تہائی اکثریت سے قرار داد نمبر 181 کے تحت منظور کر لیا جسے عربوں نے سخت نامنظور کیا جس کے نتیجے میں بعد میں عربوں اور اسرائیلیوں کے درمیان مسلح تصادم جنگوں میں بدل گئے تھے
    1967 میں ظالم یہودی نے اپنی غلام و لونڈی سلامتی کونسل کے غیر جانبدارانہ رویے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیت المقدس پر بھی قبضہ کر لیا
    کافروں کی لونڈی سلامتی کونسل مسئلہ کشمیر کی طرح مسئلہ فلسطین میں بھی اپنا کوئی کردار ادا نا کر سکی اور 29 نومبر 1977 کو کو عالمی یوم یکجہتی فلسطین منطور کرلیا کہ بس مسلمانوں تم محض ایک دن منا لیا کرو اور آہستہ آہستہ فلسطین اپنے قبلہ اول کو بھول جاءو
    بیت المقدس عیسائیوں ،یہودیوں اور مسلمانوں کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے جس کا اندازہ اس حدیث سے لگاتے ہیں

    سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے ہاں تشریف لائے، میں اس وقت رو رہی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: تم کیوں رو رہی ہو؟ کیا بات ہے؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول ! دجال کا فتنہ یاد آنے پر رو رہی ہوں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میری زندگی میں دجال آ گیا تو میں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تمہاری طرف سے کافی ہوں گا اور اگر وہ میرے بعد نمودار ہوا تو اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے گا اور یاد رکھو کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے، وہ اصبہان کے یہودیوں میں ظاہر ہوگااور مدینہ منورہ کی طرف آ کر اس کے ایک کنارے پر اترے گا، ان دنوں مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے، اس کی حفاظت کے لیے ہر دروازے پر دو دو فرشتے مامور ہوں گے، مدینہ منورہ کے بد ترین لوگ نکل کر اس کے ساتھ جا ملیں گے، پھر وہ شام میں فلسطین شہر کے بَابِ لُدّ کے پاس جائے گا، اتنے میں عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوکر اسے قتل کر دیں گے، اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام زمین پر ایک عادل اور مصنف حکمران کی حیثیت سے چالیس برس گزاریں گے۔ مسند احمد 13015
    اس حدیث سے ثابت ہوا دجال یہودیوں میں ظاہر ہو گا اور اس وقت یہودی اسرائیل یعنی سابقہ فلسطینی علاقوں میں رہ رہے ہیں اور مسیحیت کے پیشوا جناب عیسی علیہ السلام بھی شام و فلسطین کے علاقے لد میں آسمان سے نازل ہونگے اور یہی پر مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن دجال کا خاتمہ ہو گا ان شاءاللہ اس لئے یہودی و عیسائی ہر حال میں فلسطین پر قابض رہنا چاہتے ہیں جو کہ ناممکن ہے فلسطینی مجاہدین و عوام 7 دہائیوں سے یہودیوں کے مقابلے میں ڈٹی ہوئی ہے اور ان کا ہر محاذ پر مردانہ وار مقابلہ کیا جا رہا ہے لہذہ ہمارا بھی مسلمان ہونے کی حیثیت سے حق بنتا ہے کہ ہم بھی جاری تحریک آزادی قبلہ اول میں اپنا کردار ادا کریں
    تو میرے عظیم پاکستانی بہن بھائیوں کافر کے ویلنٹائن ڈے کا بائیکاٹ کرکے اپنے قبل اول کی آزادی کی خاطر فلسطینی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیلئے اس 14 فروری کو بطور یوم یکجہتی فلسطین منائیں

  • حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی شخصیت—-از–خنیس الرحمان

    حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی شخصیت—-از–خنیس الرحمان

    بیٹھا سوچ رہا تھا کتنی دلیری سے خاتون کہہ رہی ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ منصف نہیں تھے. ابو بکر صدیق رضی اللہ منصف کیسے نہیں ہوسکتے. یارو ان سے بڑا کوئی منصف اور نبی رحمت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت کرنے والا ہے کوئی .نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم حجۃ الوداع سے واپس آئے اور مدینہ میں ذوالحجہ کے بقیہ ایام اور محرم و صفرگزارے.

    لشکرِ اسامہ کو تیار کیا اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اس کا امیر مقرر فرمایا اور انہیں بلقا اور فلسطین کی طرف کوچ کرنے کا حکم فرمایا. لوگوں نے تیاری کی اور ان میں مہاجرین اور انصار بھی تھے اس وقت حضرت اسامہ بن زید کی عمر صرف اٹھارہ سال تھی مہاجرین اور انصار میں سے کچھ لوگوں کو ان کی امارت پر اعتراض بھی تھا لیکن رسول اللہ نے اس اعتراض کو رد کردیا.

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر فرمایا اگر آج یہ لوگ اسامہ کی امارت پر اعتراض کرتے ہیں تو اس سے قبل اس کے باپ کی امارت پر بھی اعتراض کر چکے ہیں اللہ کی قسم وہ امارت کا مستحق تھا اور وہ میرے نزدیک محبوب ترین لوگوں میں سے تھا اور زید کا فرزند اسامہ اس کے بعد میرے نزدیک محبوب ترین لوگوں میں سے ہے. لوگ جہاد کی تیاری میں تھے اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا آغاز ہو گیا .آپ بیماری کی حالت میں ہیں ساتھ ساتھ اس لشکر میں شریک لوگوں کو نصیحتیں بھی کررہے ہیں.

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری دن بدن بڑھتی جا رہی تھی. نماز کا وقت ہو جاتا ہے حضرت بلال اذان دیتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں ہمت نہیں کہ وہ صحابہ کو نماز پڑھائیں .آپ پیغام بھجواتے ہیں کہ ابوبکر سے کہو نماز پڑھائیں. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصرار پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی نے نماز پڑھائی. اس دوران آپ صحابہ کو نصیحتیں بھی فرماتے ہیں. چند دنوں بعد آپ اس دنیا سے رخصت فرما گئے. آپ کی وفات کے بعد صحابہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اپنا امیر مقرر فرما لیتے ہیں .

    منصب امارت سنبھالنے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی ترجیحات میں سب سے پہلے لشکر اسامہ کی روانگی شامل تھی. دوسری طرف وہی لوگ جنہوں نے سیدنا سامہ رضی اللہ عنہ کی امارت پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اعتراض کیا ایک بار پھر اٹھ کھڑے ہوئے اس کے ساتھ دیگر صحابہ کرام نے بھی مشورہ دیا. حالات سنگین ہیں ارتداد کا فتنہ بھی سر اٹھارہا ہے. مدینہ چاروں طرف سے غیر محفوظ ہے لشکر اسامہ کو فی الحال روک دیا جائے.

    لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ سیدنا اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ کی قیادت میں لشکر ہر حال میں روانہ ہوگا. صحابہ کسی نہ کسی طریقے سے خلیفہ کو منانے میں لگےہوئے ہیں. لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ صحابہ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اس مہم میں عدم نفاذ کو بھول جائیں جس سے رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے خود تیار کیا اور انہیں آپ نے خبر دی کہ وہ عنقریب اس منصوبے کو نافذ کرکے رہیں گے اگرچہ اس تنفیذ کے نتیجے میں مرتدین مدینہ پر قابض ہو جائیں..؟..

    حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ صحابہ کرام سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوبکر کی جان ہے اگر مجھے یقین ہو کہ درندے مجھے نوچ کر کھائیں گے تب بھی لشکر اسامہ کو بھیج کر رہوں گا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے اگر بستی میں میرے سوا کوئی بھی باقی نہ رہے تب بھی میں اس کو ضرور بھیج کر رہوں گا.

    دوسری طرف انصار نے یہ اعتراض اٹھایا کہ کے سیدنا اسامہ بن زید کم عمر ہیں. اس لیے اس لشکر کا امیر کسی بڑی عمر کے شخص کو مقرر کیا جائے. انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کو خلیفۃ المسلمین کے پاس بھیجا کہ وہ اس سلسلے میں ان سے بات کریں. لیکن حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ اس معاملے میں بات کرتے ہیں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ بیٹھے ہوتے ہیں اٹھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور حضرت عمر کی داڑھی پکڑ کر فرماتے ہیں خطاب کے بیٹے ! اسامہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر مقرر فرمایا ہے اور تم مجھے حکم دےرہے ہوکہ اسے معزول کر دوں.

    آپ لشکر اسامہ کو روانہ کرتے ہیں انہیں یہ کہتے ہیں کہ تم نے وہی کرنا ہے جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حکم دیا اور وہ وقت بھی آیا لشکر اسامہ فتحیاب ہوکر مدینے واپس لوٹ رہا ہے. اس کے بعد مرتدین زکوۃ اور مدعیان ختم نبوت کا قلع قمع ہوتا ہے. میں سوچ رہا تھا ابو بکر رضی اللہ عنہ کس طرح منصف نہیں ہوسکتے رسول اللہ جاچکے ہیں. صحابہ آپ کی منت سماجت کررہے ہیں کہ لشکر اسامہ کو نا روانہ کریں لیکن محب رسول اللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو نہیں نظر انداز کرنا چاہتے تھے اور لشکر اسامہ بھیج کررہے.

    یہ بلاشبہ تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ یہ واقعہ تاریخ کے ان غیر معمولی واقعات میں سے ہے جنہوں نے دنیا کی تاریخ بدل کر رکھ دی.تاریخ کے اس غیر معمولی واقعہ کی طرح خود سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی تاریخ انسانی کی ایک غیر معمولی اور عظیم و جلیل شخصیت بن کر ابھرتے ہیں اور ثابت قدمی اور بے خوفی کے ساتھ ان کا اٹھایا جانے والا یہ قدم بھی ایسے ان گنت نتائج، عبرتوں اور حکمتوں کا حامل ہے جن پر ابھی تک کسی مورخ نے نظر ہی نہیں ڈالی،

    ان پر قلم اٹھانا اور انہیں آج کی اسلامی دنیا کے تناظر میں دیکھنا تو بہت دور کی بات ہے.میں برملا یہ کہہ سکتا ہوں وہ شخص جو ہر معاملہ میں سبقت لے جانے والا تھا یہاں تک آپ کی وفات کے بعد بھی آپ کے پراجیکٹس کو آگے بڑھانے والا تھا اس شخص سے بڑا کو منصف اور عادل نہیں ہوسکتا…

    حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی شخصیت
    …..خنیس الرحمان…..

  • ایرانی انقلاب کے بعد مشرق وسطیٰ اور امت مسلمہ–از– انشال راؤ

    ایرانی انقلاب کے بعد مشرق وسطیٰ اور امت مسلمہ–از– انشال راؤ

    شہنشاہ نقوی نے پریس کانفرنس کرکے پاکستان کو دھمکی اور امریکہ کا ساتھ دینے کا الزام عائد کیا ہے جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ عالم اسلام کے خلاف جو کردار فرانس نے ادا کیا وہ کبھی یہود نے بھی نہ کیا لیکن امام خمینی فرانس کی سرزمین پر بیٹھ کر ایران میں اسلامی انقلاب لے آتے ہیں اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایران میں خمینی انقلاب کے بعد سے مشرق وسطیٰ متعدد بار شورش، عدم استحکام اور جنگوں کا سامنا کرچکا ہے جبکہ اسرائیل کو عربوں کی مزاحمت و جنگوں سے مکمل چھٹکارا مل گیا ہے،

    ایرانی انقلاب کے فوراً بعد ایک طرف تو ایران امریکہ تنازعہ پیدا ہوگیا اور Hostage Crisis کے نام دنیائے تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا تو دوسری طرف ایران عراق جنگ کی صورت خطے میں بدامنی کی لہر نے جنم لے لیا، اس کے بعد گلف وار اور پھر عرب اسپرنگ کے نام پر پورا خطہ شورش، بدامنی و عدم استحکام کا شکار ہوگیا، ایرانی انقلاب کے بعد اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ تک محدود رہے بلکہ پاکستان بھی اس کی لپیٹ میں آکر فرقہ ورانہ فسادات کا شکار رہا،

    سعودی عرب میں اوائل اگست 1987 کے حج کے موقع پر ایرانی انقلابیوں نے جو خون خرابہ کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، محمد میاں سومرو و توفیق احمد چنیوٹی جیسے بزنس مین سمیت دنیا بھر کے حاجی اس سانحے کے عینی شاہد ہیں، اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایرانی انقلاب کے بعد بظاہر امریکہ ایران تعلقات ناخوشگوار ہی رہے ہیں لیکن خفیہ طور پر متعدد بار امریکہ ایران تعاون بھی دیکھنے میں آیا ہے نومبر 1986 میں دنیا بھر میں اس انکشاف کی دھوم رہی اور واشنگٹن پوسٹ نے خبر شایع کی کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے تعاون سے ریگن انتظامیہ نے ایران کو اسلحہ فراہم کیا،

    اس کے علاوہ عراق و شام میں ایران امریکی تعاون سے مخالف گروہوں کے خلاف کاروائی کرتا رہا اور مختلف اسلامی ممالک میں خفیہ تنظیمیں متحرک و منظم کرتا رہا ہے اور ان تنظیموں نے بہت سے عرب ممالک کے امن کو مفلوج کرکے رکھدیا، بلاشبہ ایران ان مسلح تنظیموں کی پشت پناہی و سرپرستی کررہا ہے جن کے زریعے سے خطے میں اجارہ داری قائم کرکے عظیم فارسی سلطنت و تہذیب کو قائم کرنا چاہتا ہے جس کا سابق ایرانی صدور محمد خاتمی، محمد احمد نژاد و دیگر مذہبی عسکری و سیاسی رہنما اپنے خطابات و بیانات میں اظہار کرتے آرہے ہیں کہ ہماری قدیم ایرانی تہذیب ہے، ہماری عظیم فارس سلطنت تھی ہم قدیم تہذیب رکھتے ہیں، ہم اپنی قدیم تہذیب و سلطنت کو بحال کرینگے وغیرہ وغیرہ،

    امریکہ کے مشرق وسطیٰ میں مختلف مفادات جڑے ہیں اور امریکہ کسی اور کی چودھراہٹ کو ہرگز ہرگز برداشت نہیں کرسکتا، اہم بات یہ بھی ہے کہ امریکی پالیسی میں نیشنلزم، تہذیب، یا کسی مذہبی نظریہ پہ قائم ملک و ملت کے استحکام کی کوئی گنجائش نہیں، یہی وجہ ہے کہ اب آکر امریکہ نے واضح طور پر ایران کو پیغام دیدیا ہے کہ اب وہ مڈل ایسٹ میں اپنے پھیلائے ہوے پنجوں کو واپس کھینچ لے ورنہ دو میں سے ایک ہی قوت رہیگی یا امریکہ یا ایران، ایرانی بضد ہیں کہ وہ کسی طور بھی اپنی پالیسی سے دستبردار نہیں ہونگے

    جیسا کہ R.N Haass نے کہا کہ "ایران امریکہ جنگ ہوئی تو یہ ایران عراق تک ہی نہیں بلکہ پورے خطے میں لڑی جائیگی” بعینہ ایران کے روحانی پیشوا خامنہ ای نے کہا ہے کہ "ہمارے رضا کار امریکہ میں بھی لڑینگے جو بڑی تعداد میں وہاں موجود ہیں” مزید ایرانی انتظامیہ نے حملے کی صورت میں UAE و دیگر عرب ممالک کو نشانہ بنانے کی بھی دھمکی دی ہے،

    ایران کی جانب سے امریکی ملٹری بیسز پر حملے کے بعد جنگ کے بڑھنے میں کوئی کسر باقی تو نہیں رہی ہے البتہ پوری دنیا کوشش میں ہے کہ کسی طرح اس بلا کو ٹال دیا جائے تاکہ دنیا پر منڈلاتے عالمی جنگ کے سائے چھٹ جائیں لیکن بظاہر ایسا ہوتا ممکن نظر نہیں آرہا امریکی سیکریٹری دفاع مارک ایسپر نے CNN پر انٹرویو دیتے ہوے کہا ہے کہ قاسم سلیمانی کی صورت میں ہم ایران کو پیغام دے چکے ہیں کہ اب خطے میں ایرانی مداخلت اور اپنا انقلابی نظریہ ایکسپورٹ کرنے کے لیے کوئی گنجائش نہیں لہٰذا اب ایران سمجھ جائے کہ Game is Change ورنہ دونوں میں سے ایک رہیگا”

    اس سے پہلے کبھی امریکہ کو اتنے جارحانہ انداز میں نہیں دیکھا گیا اور اب ایران کے حملوں کے بعد صورتحال ہاتھوں سے نکل چکی ہے جو شاید ایک ہولناک جنگ کی صورت میں ہی سامنے آئیگی، نتیجتاً عرب ممالک بالخصوص اور پاک افغان بالعموم اس سے شدید متاثر ہونگے، امریکی حملے کی صورت میں شیعہ گروہ اسلامی ممالک میں قائم امریکی تنصیبات کو نشانہ بنائینگے جس سے حالات بگڑتے ہی چلے جائینگے جبکہ ایرانی انتظامیہ تو پہلے ہی براہ راست عرب ممالک پر حملے کی دھمکی دے چکی ہے،

    اس نازک صورتحال میں پاکستان کا کردار کیا ہوگا؟ پاکستان ایران کے بعد سب سے زیادہ شیعہ آبادی کا ملک ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ مشرق وسطیٰ طرز کی پراکسی پاکستان میں بھی موجود ہے جس کا علی شیر حیدری و دیگر بہت سے لوگ بارہا انکشاف کرچکے ہیں اور پاکستان سے غیرمعمولی تعداد میں شیعہ افراد کی عراق و شام میں بطور سپاہی لڑنے کے ثبوت بھی سامنے آچکے ہیں اور شہنشاہ نقوی کی دھمکی آمیز پریس کانفرنس سے بڑھ کر اس کا کوئی ثبوت نہیں، شہنشاہ نقوی کا اشارہ پاکستان میں ایرانی ٹرینڈ شیعہ عسکری ونگز کے زریعے پاکستان کے حالات خراب کرنے کی طرف ہے جس سے گلگت بلتستان، کشمیر یا جزوی حد تک کراچی متاثر ہوسکتے ہیں،

    اس کے علاوہ مشرقی بارڈر اور بھارت کے ناپاک عزائم بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، اس نازک صورتحال کا دنیا کو پہلے سے ہی علم تھا لیکن اگر نہیں تھا تو کچھ پاکستانی میڈیا پرسنز و کچھ سیاستدانوں کو نہیں تھا جو جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کو متنازعہ بنانے کی کوشش اور اسے جمہوریت پہ شب خون مارنے کے مترادف تک قرار دیتے رہے جبکہ عدلیہ نے اسے آئین کے منافی قرار دیتے ہوے آرمی قوانین میں ترمیم کرنے پہ مجبور کردیا

    پھر دنیا نے دیکھا کہ تمام سیاستدان حیران کن طور پر ایک پیج پر بھی آگئے بقول حسن نثار "ایک پیج پر نہیں ایک سیخ میں پرودئیے گئے ہیں” حالانکہ آرمی چیف کی ایکسٹینشن کوئی انوکھی بات نہیں، 1943 میں وقتی صورتحال کو دیکھتے ہوے امریکی صدر روزویلٹ نے امریکی چیف اسٹاف Marshal کی ایکسٹینشن بغیر کسی ترمیم کے کرچکے ہیں جس پر امریکی پریس یا اپوزیشن نے کوئی سوال تک نہ کیا، جنرل ڈوگلس کی صلاحیت و ریاست کے استحکام کے پیش نظر امریکی انتظامیہ نے انہیں بھی ایکسٹینشن دی،

    بھارتی حکومت نے جنرل بپن راوت کو ریٹائرمنٹ کیساتھ ہی چیف آف ڈیفینس اسٹاف بناکر مزید ایکسٹینشن دے دی لیکن کسی نے حرف تک نہ کہا جبکہ پاکستان جو باجوہ ڈاکٹرائن کے تحت مختلف اندرونی و بیرونی بحرانوں سے باہر نکلتا آرہا ہے اور اس ماہر جنرل کی موجودہ نازک صورتحال کے پیش نظر اشد ضرورت تھی جسے بالآخر آرمی ایکٹ ترمیم کے زریعے پورا کردیا گیا جو انشاءاللہ پاکستان و پاکستانیوں کے لیے کارگر ثابت ہوگی، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر حکومت و عسکری قیادت پہلے ہی نیوٹرل رہنے کا اعلان کرچکی ہیں جوکہ سعودی عرب و UAE کو قابل قبول نہیں ہوگا اور امریکہ بھی اسے قبول نہیں کریگا، لہٰذا پاکستان کو نیوٹرل رہتے ہوے ایک بار پھر وہی کردار ادا کرنا ہوگا جو گلف وار کے دوران کیا تھا۔

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ
    عنوان: ایرانی انقلاب کے بعد مشرق وسطیٰ اور امت مسلمہ

  • "عالمی ہدایت کار(عالمی اسٹیبلیشمنٹ) اور مڈل ایسٹ کا اسٹیج” تحریر: محمد عبداللہ

    "عالمی ہدایت کار(عالمی اسٹیبلیشمنٹ) اور مڈل ایسٹ کا اسٹیج” تحریر: محمد عبداللہ

    گرین شیٹ اور لائٹس سے مزین یہ روم اسٹوڈیو کہلاتا ہے. بالی ووڈ سے لے کر نیوز چینلز اور حتیٰ کہ یوٹیوب چینلز تک سبھی اس کو حسب اسطاعت استعمال کرتے ہیں. یہاں تک کہ بالی ووڈ کی کئی اقساط پر مشتمل سیریز اور موویز اس ایک کمرے میں بنتی ہیں. ان گرین ، بلیو یا دیگر شیٹس کو بنیادی طور پر کروما شیٹس کہا جاتا ہے اور ویڈیو ریکارڈ کرنے کے بعد ایڈیٹنگ میں اس کروما کو کٹ کرکے رنگ بھرنگے ساکن اور متحرک بیک گراؤنڈز وغیرہ سیٹ کیے جاتے ہیں. جن کرداروں کو حقیقت سے ہٹ کر دکھانا ہو تو ان کو بھی ان کروما شیٹس میں کچھ اسطرح سے کیمرے کے سامنے لایا جاتا جس میں بعد از ایڈیٹنگ ان کی ہیئت ہمیں عجیب و غریب دکھتی ہے.

    آپ بھی کہتے ہوں گے کہ عبداللہ نے یہ کیا بتانا شروع کردیا اور کوئی ان چیزوں کا ماہر مجھ سے ہزار درجہ بہتر یہ ساری چیزیں بیان کرے گا لیکن آج آفس میں اسٹوڈیو کی تصویر بنائی تو میرے ذہن میں بھی کوئی بات نہیں تھی بس فوٹو گرافی کی عادت کے تحت تصویر بنا لی لیکن ابھی سوشل میڈیا پر اور اس سے قبل بھی اکثر اوقات اپنے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کو مختلف حادثات و واقعات میں کنفیوز اور پھر اسی کنفیوزن میں مختلف تبصرے اور تجزیئے کرتے دیکھتے ہیں تو ہنسی بھی آتی اور دکھ بھی ہوتا کہ ہم لوگ کب سطحیت سے نکل کر بین السطور دیکھنا شروع کریں گے. ہم کب اس بات پر غور کریں گے دنیا کے اس اسٹوڈیو میں ہدایت کار کیسے مختلف واقعات کو کروما شیٹس پر سیٹ کرتے ہیں اور پھر ہمارے سامنے چیزیں آتی ہیں تو بالکل بدلی ہوئی اور ہم اسی کو حقیقت سمجھ رہے ہوتے ہیں( جیسے ارطغرل ڈرامے اور اردگان کی تقاریر کو ہمارا جذباتی نوجوان عمران خان کی تقاریر کی طرح سریئس لے کر جذباتی ہوجاتا ہے).
    حالیہ ایران و امریکہ تنازعے میں اور اس سے قبل کی شام و عراق کی بربادیوں کیفیت بھی ایسی ہی ہے. اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ جس طرح اردگان بہت اچھا لیڈر ہے مگر صرف ترکی کے لیے ترکی سے باہر دیگر مسلم ممالک اور اقوام کے لیے وہ دوسروں سے کم نہیں ہے جو فقط اپنے مفادات دیکھتے ہیں ایسے ہی اس بات میں بھی ذرہ برابر شک نہیں کہ ایران کے آنجہانی جنرل قاسم سلیمانی کی خدمات بے پناہ ہیں اس کی قابلیت اور لیاقت ایسی کہ ملڑی اکیڈمیز میں پڑھائی جائے لیکن اس کا سارا کچھ ایران کے لیے تھا امت مسلمہ کے لیے نہیں البتہ شام و عراق کے کھنڈرات میں بہت بڑا کردار اس جنرل قاسم سلیمانی اور اس کی تیار کردہ فورسز کا بھی ہے.
    میں نے دن میں بھی یہ بات کی تھی کہ مڈل ایسٹ میں پکی ہوئی کچھڑی کے معاملات کو آپ فقط فیسبک کی دو چار پوسٹس سے نہیں سمجھ سکتے اور جب سمجھ ہی نہیں سکتے تو ان پر تبصرہ کیسے کر سکتے ہیں کہ وہاں کے ٹوٹل کردار تو کروما شیٹس کے پیچھے چھپے ہوئے اور آپ کے سامنے اصل حیثیت میں موجود ہی نہیں ہے. فقط شام کو لیں تو شام میں ایران، روس، ترکی، امریکہ، داعش، فری سیرین آرمی و دیگر گروپس براہ راست موجود تھے اسکے علاوہ دیگر ممالک کے سپانسرڈ گروپس کی تعداد بیسیوں سے متجاوز تھی اور یہ سب کردار باہم دست و گریباں تھے اور ہیں. آپ جب تک ان سب کے مفادات، آپس کے تعلقات، آپس کی دشمنیوں کو نہیں سمجھتے تب تک آپ کیا سمجھیں گے.
    لہذا اپنے دوستوں کو کہوں گا کہ ہر موضوع اور ہر موقعہ پر تبصرے اور تجزیئے دینا ضروری نہیں ہے بلکہ حالات اور کرداروں کو پڑھنا اور سمجھنا چاہیے اور ان کے پیچھے چھپی حقیقت کو بھی تلاشنا چاہیے یہ نہ ہوکہ موویز اور ڈراموں کی طرح عالمی ہدایت کاروں کے اسٹیج کردہ یہ فکشن اور خون سے بھری یہ رئیل اسٹوریز میں مختلف لوگوں کا کردار آپ کو دھوکہ دے دے اور کوئی ولن آپ کی نظر میں ہیرو ٹھہر جائے.
    انتہائی ضروری نوٹ: یہ چند الفاظ میں نے انتہائی حد تک غیر جانبدار ہوکر لکھے ہیں میرے لیے بہت آسان تھا کہ جذباتی ہوکر الفاظ کا نوحہ لکھوں، شام و عراق میں شہید ہونے والے امت مسلمہ کے جواہرات کا ماتم لکھوں اور لوگوں کو بتاؤں آپ جن کو ہیروز سمجھتے ہیں ان کے کردار کی وجہ سے کتنے لاکھوں مسلمان بچے، عورتیں، بوڑھے شہید ہوئے اور کروڑوں آج جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں.

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah

  • ہائے !وہ میرا سپین —از…ثناء صدیق

    ہائے !وہ میرا سپین —از…ثناء صدیق

    سپین کو ایک لڑکی کی عزت کی خاطر فتح کرنے والے طارق بن زیاد جنہوں نے ساحل پر پہنچتے کشتیاں جلا دی ےتھیں ان کو کیا علم تھا کہ آٹھ سو سال کے بعد مسلمان ذلت سے سپین سے واپس لوٹیں گے ۔

    اگر ہم سپین کے عروج کا منظر دیکھیں تو اس کا آغاز آٹھ سو سال قبل جبل طارق پر جب طارق بن زیاد نے عیسائی بادشاہ راڈرک کو عبرتناک شکست دی موسی بن نصیر اور طارق بن زیاد نے جلد ہی سپین کو فتح کر لیا اور عیسائی حکومت کا خاتمہ کر دیا

    اس وقت امویوں کی حکومت تھی دمشق ان کا پایہ تخت تھا تو سپین دمشق کی خلافت کے زیر نگین آ گیا امویوں کے زوال کے بعد خلافت بنو عباس مین منتقل ہو گئی تو اسلامی ریاست کا پایہ تخت بغداد بن گیا ، اندلس کا حکمران اموی شہزادہ عبدالرحمن الداخل بن گیا وقت گزرتا گیا حکومتیں بدلتی رہیں اندلس کے مسلمان آہستہ آہستہ مضبوط سے مضبوط ہوتے گئے ۔

    اندلس عالم اسلام کے لیے علم و ہنر کا مرکز بن گیا اس نے اپنے تعلیمی دور عروج میں الفارابی ، ابن رشد ، ابو القاسم الزہراوی اور ابن حزم جیسے علماء اور فضلاء پیدا کئے ۔

    پھر وقت پلٹا مسلمانوں کے عروج کو زوال آنے پھر قدرت نے یوسف بن تاشفین کی صورت میں اہل اندلس کو سنبھلنے کا بہترین موقع دیا مگر مسلمانوں کے اپنے کردار کی وجہ سے زوال ان کا مقدر بن گیا تھا اموی شہزادے کی بہترین ریاست ٹکڑے ٹکڑے ہونا شروع ہو گئی اور کئی ریاستیں وجود میں آنے لگیں۔

    سر قسطہ قشطالیہ الشبیلہ اور غرناطہ جیسے عظیم علاقے مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکلنا شروع ہو گئے اراغون اور قسطلہ کی مضبوط عیسائی ریاستیں وجود میں آ گئیں اراغون کی مشہور حکمران ملکہ ازابیلہ تھی جو تاریخ میں ملکہ ازابیلہ کے نام سے مشہور ہوئی دوسری طرف قسطلہ کا شاہ فرماں فرنڈیڈ تھا جو ایک متعصب عیسائی تھا یہ دونوں حکمران انتہا پسند اور مسلمانوں کے دشمن تھے یہ دونوں سپین میں مسلمانوں کا مکمل خاتمہ چاہتے تھے۔

    ان دونوں نے 1469 میں اپنی ریاستوں کو باہم ملا کر آپس میں شادی کر لی 1469 میں اندلس کے مسلمان غرناطہ تک محدود ہو کر رہ گئے تھے اور مسلمان یہیں سے اپنی بقاء کی لڑائی میں مصروف تھے غرناطہ کا حکمران ابو الحسن تھا جو ایک نڈر اور لائق حکمران تھا اندلس کے مسلمانوں کو ایک لمبے عرصے بعد ایسا قابل شخص نصیب ہوا تھا اس کا بھائی محمد بن سعد الزاغل مالقہ کے علاقے کا حکمران تھا

    جب اس نے محسوس کیا کہ عیسائی ان دونوں بھائیوں میں پھوٹ ڈلوانا چاہتے ہیں تو اس نے غرناطہ آکر اپنے بھائی کے ہاتھ پر بیعت کر لی یوں ابو الحسن طاقتور ہو گیا جب فرنڈیڈ نے ابو الحسن سے خراج مانگا تو اس نے تاریخی الفاظ کہے

    "غرناطہ کے تکسال میں عیسائیوں کو دینے کے لیے سکوں کی بجائے اب فولاد کی وہ تلوریں تیار ہونی ہیں جو ان کی گردنیں اتار سکیں”

    یہ جواب سن کر فرنڈیڈ مبہوت سا رہ گیا اس وقت اس کے زیر قبضہ علاقہ سو لاکھ مربع میل کے قریب تھا جبکہ غرناطہ کی ریاست سمٹ کر چار ہزار مربع میل رہ گئی تھی یہ مختصر سا رقبہ بھی عسائیوں کے لیے تکلیف کا باعث تھا

    وہ مسلمانوں کا مکمل خاتمہ چاہتے تھے اور انہوں نے ابو الحسن سے فیصلہ کن جنگ کا اردہ کیا آخرکار غرناطہ کے سرحدی مقام پر ابو الحسن اور فرنڈیڈ کا ٹکراو ہوا اہل غرناطہ قوت اور تعداد کے اعتبار سے عیسائیوں سے کمزور تھے مسلمانوں نے اندلس کے دفاع کے لیے سر تک کی بازی لگا دی، طارق بن زیاد کی یاد تازہ کرتے ہوئے فرنڈیڈ کو شکست فاش کر دیا ابھی ابو الحسن وہیں موجود تھا کہ اس کے ولی عہد ابو عبداللہ نے بغاوت کر دی اور غرناطہ کے تخت کا مالک بن بیٹھا

    یہ جہاد میں مشغول مسلمانوں کے لیے بری خبر تھی اہل اندلس ابو الحسن کی قیادت میں سپین کے لیے نشاط ثانیہ کا خواب دیکھ رہے تھے ادھر ابو الحسن کو مجبور مالقہ میں پناہ لینا پڑی مسلمان اس نازک وقت میں غرناطہ کا دفاع کر رہے تھے اور ابو عبداللہ کی اقتدار کی ہوس نے غرناطہ کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا

    دوسری طرف عیسائیوں کو مسلمانوں کی اس حالت میں مزید حوصلہ مل گیا ابو عبداللہ نے بےغیرتی کی انتہا کرتے ہو ابو الحسن پر پشت سے حملہ کر دیا ابو الحسن ایک تجربہ کار حکمران تھا اس نے ایک طرف عیسائیوں سے مقابلہ کیا دوسری طرف ابو عبداللہ کو غرناطہ جانے پر مجبور کر دیا بیٹے کی بغاوت نے ابوالحسن کو بیمار کر دیا اس پر زبردست فالج کا حملہ ہو گیا اس نے غرناطہ کی پشت پناہی چھوڑی اور اپنے بھائی الزاغل کو حکمران بنا کر اسے جنگ جاری رکھنے کا حکم دیا

    الزاغل مسلمانوں کا نجات دہندہ بن جاتا مگر ابو عبداللہ پھر ایک مکروہ کردار لے کر سامنے آتا ہے فرنڈیڈ نے ابو عبداللہ کی خصلت پہچان لی وہ سمجھ گیا ابو عبداللہ مسلمانوں سے زیادہ اپنے اقتدار کا خواہش مند ہے اب فرنڈیڈ نے ابو عبداللہ کو الزاغل اور ابو الحسن کے خلاف استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا اور اسے یقین دلایا کہ وہ اسے غرناطہ کا وارث تسلیم کرتا ہے اور غرناطہ کا تخت حاصل کرنے کے لیے اس کی مدد کرے گا

    ادھر جب مالقہ کے مسلمانوں نے یہ صورت حال دیکھی تو ابو عبداللہ کے خلاف بغاوت شروع کر دی اس پر فرنڈیڈ نے مالقہ کا محاصرہ کر لیا اہل مالقہ کی حفاظت کے لیے الزاغل مالقہ کی طرف روانہ ہو گیا غرناطہ خالی دیکھ ابو عبداللہ کو موقع مل گیا اور اس نے غرناطہ پر قبضہ کر لیا یہاں سے اہل غرناطہ درد ناک باب شروع ہوتا ہے

    جس کا انجام اہل اندلس کی مکمل بربادی پر ختم ہواآٹھ سو سال پہلے وہ روشنی جو مسلمان لے کر پورے سپین میں پھیل گئے تھے وہ مسلمان راستہ بھول گئے افراد جب راستے بھول جائیں تو گھرانے برباد ہو جاتے ہیں مگر جب قومیں راستہ بھول جائیں تو سلطنتیں تباہ ہو جاتی ہیں غرناطہ پر ابو عبداللہ کا قبضہ مسلمانوں کی تباہی ثابت ہوایہ دیکھتے ہوئے مالقہ والوں نے فرنڈیڈ سے صلح کر لی اور لوشہ اور مالقہ پر عیسائیوں کا قبضہ ہو گیا

    ابو عبداللہ کو بیٹا کہنے والا مسلمانوں کی خیر خواہی کا دم بھرنے والا اپنے اصلی روپ میں آ گیا اور اس نے ابو عبداللہ سے کہا کہ وہ غرناطہ فرنڈیڈ کے حوالے کر دے ابو عبداللہ کو اپنی غداری کا انجام نظر آنے لگا اور اس نے اہل غرناطہ سے مشورہ کیا اہل غرناطہ موسی اور طارق کے فرزند تھے وہ ڈٹ کر لڑے اور فرنڈیڈ کو شکست فاش کر دیا اب فرنڈیڈ اور ازابیلا نے فیصلہ کن معرکہ کی تیاریاں شروع کر دیں1492کا سال آگیا اور اسی سال موسم گرما میں عیسائیوں کی افواج نے غرناطہ کا محاصرہ کر لیا

    غرناطہ کے شمال میں پہاڑی سلسلہ تھے اور محاصرے کے دوران اہل غرناطہ کو مدد ملتی رہی مگر سردیاں شروع ہوتے ہی پہاڑوں پر برف باری شروع ہو گئی اور غرناطہ کو کمک ملنا بند ہو گئی شہر میں اشیاء خورد نوش کی قلت ہو گئی اہل غرناطہ اب بھی عیسائیوں پر فیصلہ کن حملہ کرنے پر آمادہ تھے غرناطہ کا سپہ سالار ’موسیٰ بن ابی غسان‘ افسانوی شہرت کا حامل کردار تھا

    وہ آخری سپاہی تک لڑنا چاہتا تھامگر ابو عبداللہ ذہنی طور پر شکست قبول کرچکا تھا وہ اور اس کے اکثر امرا فرنڈیڈ سے صلح کا معاہدہ کرنا چاہتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ اسی طرح وہ اپنے لیے زیادہ سے زیادہ مراعات حاصل کرسکیں گےامراء سلطنت سازش میں مصروف ہو گئے پس پردہ عیسائیوں سے رابطے قائم کرنے لگے ان سازشی عناصر کا سرغنہ وزیر اعظم غرناطہ ’ابوالقاسم‘ تھا فرنڈیڈنے غرناطہ پر قبضے کی صورت میں اس کوغرناطہ کا اہم عہدہ دینے کا وعدہ کر لیا

    ابو عبداللہ کی ذہنی شکست میں ابو القاسم کا مرکزی کردار تھا بلاآخر ابو عبداللہ نے ابو القاسم کو خفیہ سفارتکاری کی اجازت دے دی صلح کی شرائط طے کرلی گئیں بظاہر ان شرائط میں مسلمانوں کے لیے ہر قسم کا تحفظ یقینی بتایا گیا تھا مگر بعد میں عیسائیوں نے اس پر کتنا عمل کیا وہ ایک حقیقت ہے معاہدے کے تحت ابو عبداللہ کو البشرات کے علاقے میں ایک جاگیر دے دی گئی

    آخر کار وہ تاریخی دن آگیا جسے آج تک تاریخ اسلام کا طالب علم سیاہ دن سے تعبیر کرتے ہیں 2جنوری 1492 کو غرناطہ کی چابیاں ابو عبداللہ نے اپنے ہاتھوں سے فرنڈیڈ اور ازابیلا کو پیش کر دیں پادری اعظم نے قصر الحمراء پر لہراتا صدیوں پرانا پرچم اسلامی اتار کر صلیب کو نصب کروا دیا اس طرح سقوط غرناطہ کے ساتھ ساتھ اندلس میں مسلمانوں کا آٹھ سو سالہ حکمرانی کا سورج بھی غروب ہو گیا

    سو سال کے اندراندرعیسائیوں کے ظلم و ستم کے باعث لاکھوں مسلمان ہجرت کرکے مراکش اور شمالی افریقہ میں آباد ہو گئے ان کے قبائل آج بھی وہاں مہاجر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام ہوا اور بیشمار اہل ایمان عیسائی ظلم و ستم کی وجہ سے عیسائی بن گئے یوں ایک غدار اور بزدل حکمران ابوعبداللہ کی وجہ سے اہل اندلس کو یہ دن دیکھنا پڑا

    ثناء صدیق

  • صرف 2 ماہ میں پورا ملک مسلمان–از–فردوس جمال

    صرف 2 ماہ میں پورا ملک مسلمان–از–فردوس جمال

    مالدیب بحر ھند میں واقع ایک سیاحتی ملک ہے،یہ ملک 1192 چھوٹے جزیروں پر مشتمل ہے جن میں سے صرف 200 جزیروں پر انسانی آبادی پائی جاتی ہے.

    مالدیب کی 100% آبادی مسلمان ہے جب کہ یہاں کی شہریت لینے کے لئے مسلمان ہونا ضروری ہے.

    عجیب بات یہ ہے کہ مالدیب بدھ مت کے پیروکاروں کا ملک تھا صرف 2 ماہ کے اندر اس ملک کا بادشاہ،عوام اور خواص سب دائرہ اسلام میں داخل ہوئے.

    مگر یہ معجزہ کب اور کیسے ہوا ؟

    یہ واقعہ مشہور سیاح ابن بطوطہ نے مالدیب کی سیاحت کے بعد اپنی کتاب میں لکھا ہے ابن بطوطہ ایک عرصے تک
    مالدیب میں بطور قاضی کام کرتے بھی رہے ہیں.

    وہ اپنی کتاب ‘ تحفة النظار في غرائب الأمصار وعجائب الأمصار ‘ میں لکھتے ہیں کہ
    مالدیب کے لوگ بدھ مت کے پیروکار تھے اور حد درجہ توہم پرست بھی اسی بدعقیدگی کے باعث ان پر ایک عفریت(جن) مسلط تھا،وہ عفریت ہر مہینہ کی آخری تاریخ
    کو روشنیوں اور شمعوں کے جلو میں سمندر کی طرف سے
    نمودار ہوتا تھا اور لوگ سمندر کے کنارے بنے بت خانہ میں ایک دوشیزہ کو بناؤ سنگھار کرکے رکھ دیتے وہ عفریت
    رات اس بت خانے میں گزارتا اور صبح وہ لڑکی مردہ
    پائی جاتی اور لوگ اس کی لاش کو جلاتے.

    عفریت کے لئے دوشیزہ کا انتخاب بذریعہ قرعہ اندازی ہوتا تھا اس بار قرعہ اندازی میں ایک بیوہ بڈھیا کی بیٹی کا نام
    نکلا تھا رو رو کر بڈھیا نڈھال ہوچکی تھی گاؤں کے لوگ بھی بڈھیا کے گھر جمع تھے ،دور سے آئے اس مسافر نے بھی
    بڈھیا کے گھر کا رخ کیا اس کے استفسار پر اسے سب کچھ بتایا گیا کہ عفریت کے مظالم کتنے بڑھ گئے ہیں.

    مسافر نے بڈھیا کو دلاسہ دیا اور عجیب خواہش کا اظہار کیا کہ آج رات آپ کی بیٹی کی جگہ بت خانے میں مجھے بٹھایا جائے،پہلے تو وہ لوگ خوف کے مارے نہ مانے کہ عفریت غصہ ہوئے تو ان کا انجام بد ہوسکتا ہے لیکن مرتا کیا نہ کرتا وہ راضی ہوگئے،مسافر نے وضو کیا اور بت خانے میں داخل ہو کر قرآن مجید کی تلاوت شروع کر دی

    عفریت آیا اور کبھی واپس نہ آنے کے لئے چلا گیا،لوگ صبح نہار بت خانہ کے باہر جمع ہوئے تاکہ لاش جلائی جا سکے لیکن مسافر کو زندہ دیکھ کر وہ سکتے میں آ گئے.

    یہ مسافر مشہور مسلم داعی،مبلغ اور سیاح ابو البرکات
    بربری تھے،ابو برکات کی آمد اور عفریت سے دو دو ہاتھ ہونے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی بادشاہ نے
    شیخ کو شاہی اعزاز کے ساتھ اپنے دربار میں بلایا شیخ ابو برکات نے بادشاہ کو اسلام کی دعوت دی بادشاہ نے اسلام قبول کیا اور صرف 2 دن کے اندر مالدیب کے سب لوگ بدھ مت سے تائب ہو کر مسلمان ہوچکے تھے.

    یہ 1314ء کی بات ہے اس مبلغ اور داعی نے مالدیب کو اپنا مسکن بنایا لوگوں کو قرآن و حدیث کی تعلیم دی، ہزاروں مسجدیں تعمیر کیں،اور مالدیپ میں ہی فوت ہوئے اسی مٹی پر ہی دفن ہوئے.

    کہنے کو ابو البرکات بربری ایک شخص لیکن تنہا ایک امت کا کام کر گئے،آج بھی ان کو برابر اجر مل رہا ہوگا.

    صرف دوماہ میں پورا ملک مسلمان
    بقلم فردوس جمال!!!

  • ہندو کی فطرت اور حالات مسلم !!! تحریر: غنی محمود قصوری

    ہندو کی فطرت اور حالات مسلم !!! تحریر: غنی محمود قصوری

    اس وقت میں دنیا دوسرا بڑا مذہب اسلام اور تیسرا بڑا مذہب ہندو مت ہے یہ دنیا کا مشرک اور نجس ترین مذہب ہے اس کے تقریبا 3 کروڑ کے لگ بھگ خدا ہیں جن کی وہ پوجا پاٹ کرتے ہیں گائے ،بیل،بندر حتی کہ انسانی اعضاء مخصوصہ تک کی پوجا اسی مذہب میں کی جاتی ہے
    اس مذہب میں ایسی تقسیم ہے کہ خود ہندو بھی اپنے ہندو مذہب سے محفوظ نہیں
    ہمارے آباءو اجداد نے تقریبا 1 ہزار سال تک اس ہندوستان اور اس کے ہندوءوں پر حکومت کی لیکن تاریخ گواہ ہے آج دن تک کوئی ثابت نا کرسکا کہ کسی مسلمان بادشاہ یا سالار نے ہندوءوں سے ناروا سلوک کیا ہو بلکہ اسلامی شعائر کے مطابق بتائے گئے طریقے پر عمل کرتے ہوئے ان کو ان کی پوجا گاہیں اور رہائش گائیں فرائم کی گئیں ہندوستان بھر میں مغل دور حکومت میں قائم ہوئے مندر اس بات کی چیخ چیخ کر گواہی دے رہے ہیں کہ ہندوستان کے ہندو مسلمانوں کے غلام ہو کر بھی اپنی رسومات و رواج آزادانہ طریقے سے ادا کرتے تھے مگر اس کے برعکس ہندو کو جب بھی موقع ملا اس نے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے اب چند دن قبل ہندوستان نے مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری قرار دے کر اپنی اندر چھپی خباثت ظاہر کر دی ہندوؤں کا ظلم مسلمانوں پر کشمیر میں ہو یا ہندوستان کے اندر اس میں نمایاں کردار انتہا پسند ہندو جماعتوں کا ہے جس میں سر فہرست RSS نامی متعصب ہندو جماعت ہے
    RSS راشٹریہ سیونک سنگھ ایک ہندو دہشت گرد تنظیم ہے
    جو کہ قیام پاکستان سے قبل ہی کیشوا بلی رام ہیڑ گوار کے زیر سایہ انڈین شہر ناگپور میں 1925 کو بنی یہ اتنی دہشت گرد تنظیم ہے کہ مسلمان سکھ عیسائی تو دور کی بات خود ہندو بھی اس سے محفوظ نہیں انگریز دور میں اس پر ایک بار جبکہ قیام آزادی کے بعد اب تک ہندوستان میں اس تنظیم پر دو مرتبہ پابندی لگ چکی ہے جبکہ امریکہ جیسا دہشت گرد اور دہشت گردوں کا سرپرست ملک بھی اس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے مگر حیرت ہے کہ یہ تنظیم پھر بھی اپنی پوری قوت سے کام کر رہی ہے بلکہ اب تو اس نے باقاعدہ بھرتی سینٹر اور ٹریننگ سینٹر بھی کھولے ہوئے ہیں ماضی میں اس تنظیم کو انڈین گورنمنٹ کی طرف سے پابندیوں اور نظر بندیوں کا سامنہ کرنا پڑا مگر مودی سرکار کے آتے ہی اس تنظیم نے سرعام اپنا کام کرنا شروع کر دیا اور اب یہ تنظیم درحقیقت نریندر مودی کے زیر سایہ ہی چل رہی ہے اپنے قیام سے ہی یہ تنظیم 13 نکات پر کام کر رہی ہے
    1 بھارت کو خالص ہندو ریاست بنانا
    2 بھارت کا ترنگا درست نہیں اس کی جگہ بھگوا جھنڈا یعنی آر ایس ایس کا جھنڈہ لانا
    3 بھارت پر صرف ہندوؤں کا حق ہے لہذہ سیاسی و مذہبی جماعتیں صرف ہندوؤں کی ہی ہو اور ہندو ہی حکمران ہو
    4 بھارت میں صرف اور صرف ہندو قانون کا نفاذ جمہوری نظام کا رد
    5 مہاتما گاندھی کی جگہ ناتھو رام کا پرچار کیا جائے
    6 دلت ہندوؤں کو غلامی کی طرف دھکیلا جائے
    7 سپین کی طرف مسجدوں کی تعمیر پر پابندی لگائی جائے
    8 مسلمانوں اور سکھوں کے علاوہ اقلیتوں کو جبرا ہندو بنایا جائے
    9 بھارت کی بھاگ دور عدلیہ انتظامیہ اور دیگر تمام شعبوں پر صرف اور صرف ہندو برہمنوں کو آگے لایا جائے
    10 آر ایس ایس کے نزدیک برہمن خدا کا روپ ہیں سو برہمن کسی قسم کی سزا کا مستحق نہیں چاہے جو مرضی جرم کرے
    11 پولیس اور فوج میں اعلی عہدوں پر ہندوں برہمن جبکہ نچلی سطح پر دلتوں کو لایا جائے
    12 گائے کے تحفظ اور گائے کی پوچا کروائی جائے
    13 مسلمان عورت کے ریپ اور قتل کو جائز قرار دیا جائے
    دراصل مودی سرکار کا مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری قرار دینا آر ایس ایس کے ایجنڈے کے مطابق ہی ہے چونکہ مودی ایک متعصب اور انتہا پسند ہندو لیڈر ہے اس لئے وہ آج کشمیر اور ہندوستان میں مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کئے ہوئے ہے مگر ان ظالموں کو پتہ نہیں کہ اللہ رب العزت قران مجید میں ارشاد فرماتے ہیں
    وَمَکَرُوْوَمَکَرَاللّٰہْ،وَاللّٰہُ خَیْرُالْمَاکِرِیْن
    ترجمہ_ایک چال یہ کافر چلتے ہیں اور ایک چال اللہ اور جان لو اللہ بہتر چال چلنے والا ہے
    ان شاءاللہ ہندوستان کی بربادی اور ہندوؤں کے مسلمان ہونے کا سبب بھی یہی دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس اور ظالم متعصب مودی بنے گا ان شاءاللہ