Baaghi TV

Category: مسلم دنیا

  • اقوام متحدہ کی مکاریاں اور دہرا معیار !!! تحریر عبدالرحمن مبشر

    اقوام متحدہ کی مکاریاں اور دہرا معیار !!! تحریر عبدالرحمن مبشر

    آج کا وقت اپنے آپ کو دوہرا رہا ہے جنگ عظیم دوم کے بعد دنیا ایک بہت بڑی تباہی سے گزر کر امن تلاش کرنے میں مصروف عمل ہوئی۔ دنیا میں طے پانے لگا کہ اب جنگوں کی بجاے امن کے راستے کو اختیار کیا جائے اقوام متحدہ کا ادارہ معرض وجود میں آیا۔ تمام ممالک کو شامل کیا جانے لگا۔26 اکتوبر 1945 میں قائم ہونے والے یو این او کے وہ کردار جو اپنے قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ آرٹیکل 2 کے تحت تمام ممالک کو برابری کی حیثیت حا صل ہو گی۔ تمام دنیا کے ممالک کو جنگوں سے محفوظ کیا جائے گا۔یو این او کی مکاری اور ظلم پر مبنی ضابطے آج فلسطین پون صدی کا قصہ بن چکا نسلوں کی نسلیں گزر گئی ان کا کردار صفررہا۔ اس موقع پر یو این کاکردار اسرئیل کی لونڈی کا ہے۔نوے کی دہا ئی میں امریکہ نے عراق پر حملہ کردیا اس کے بعد دوبارہ بیس سو دس کی دہائی میں دوسرا حملہ کر دیا یو این کی نیٹو فورسزنے پورا کردار ادا کیا اور امریکہ کے شانہ بشانہ لڑے ۔روس نے 1979 میں افعانستان میں فو جیں داخل کر دیں یو این او نے گونگے شیطان کا کردار ادا کیا۔ برما میں مسلمانوں کی نسل کشی پچھلے ستر برس سے جاری ہے موجودہ دور کے جدید میڈیا نے اس یو این کا پول کھول دیا کہ لاکھوں انسان قتل کر دیے گئے مگریو این اوتماشائی بنا رہا، شام اجڑ گیا مگر اس یواین کی ایک دن بھی غیرتنہیں جاگی، بوسنیا میں لاکھوں افراد کا اجتماعی قتل عام کر کے انسانوں کو زندہ اس لیے گاڑ دیا گیا کہ کہ وہ مسلمان تھے 1527 عیسوی میں بننے والی بابری مسجد کو 6 دسمبر 1992 ء میں منہدم کر دیا گیا پورے ہند وستان میں فسادات شروع ہو گئے صرف گجرات میں 28 ہزرا مسلمانوں کابے دردی کے ساتھ قتل عام کیا گیا آج یو این ایسے شحص کو گجرات کا جو قصائی نازی ہٹلر تھا اور جو قتل عام مین پیش پیش تھا اسے وزیر اعظم تسلیم کرلیتی ہے۔ یو این منہ چڑہاتی رہ گئی 84 ء میں آپریشن بلیو سٹار کیا گیا معصوم اور نہتے لوگوں کو سرعام ٹینکوں کے گولوں کا نشانہ بنایا گیا یو این او یہاں مائی میسنی کا کردار ادا کرتی رہی، عراق میں امریکی دہشت گرد فوج کے ہاتھوں مرنے والوں کی تعداد 10 لاکھ ہے فلسطین میں اسرئیل کی دہشت گرد فوج کے ہاتھوں مرنے والے مسلمانوں تعداد 5 لاکھ ہے، افغانستان میں امریکی اور روسی دہشت گردوں کے ہا تھوں مرنے والے مسلمانوں کی تعداد 21 لاکھ ہے،شام میں ایک اندازے کیمطابق 2 لاکھ پچاس ہزار افرد مارے گئے 80 لاکھ لوگ مہاجر ہیں کیمپوں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔کشمیر میں 47ء سے اب تک 4 لاکھ لوگ دہشت گردی کیبھینٹ چڑھ گئے۔ اب تک پچھلے 35 سالوں میں چالیس لاکھ مسلمان شہید کردیے گئے اور اقوم متحدہ کا کردار اور فیصلہ کیا مسلمان دہشت گردہیں دنیا کے مسلمانوں کو سمجھنا ہوگا اوراس دھوکے سے باہر نکل کر اپنے مسائل کے کے لیے مل بیٹھنا ہو گا اپنی علیحدہ یو این او بنانا ہوگی۔ یہ والی یواین او دنیا کے عیسائیوں اور یہودیوں کے لیے ہے انہی کے مسائل حل کرتی ہے۔ مشرقی تیمور ہو جنوبی سوڈان آج کشمیر میں چالیسواں دن ہے کرفیوکا یہ کرفیوں عیسائیوں کے کسی ملک میں لگا ہوتا آج یو این کی نیندیں حرام ہوتیں۔ آج کوئی ایسا لمحہ نہیں کہ وزیراعظم عمران خان او ر انکی ٹیم ہمہ وقت ۰۴دن یو این کو صدا دے رہی ہے مگر طاقتوروں کی لونڈی کان دھرنے کے لیے تیارہی نہیں پوری دنیا کے مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے کمزور لوگوں کو بڑا فیصلہ کرناہوگا اور کمزوروں کومل کر ایک بڑی قوت بننا ہوگا جو عالمی ظالم سامراجی قوتوں سے ٹکرا کر اسے پاش پاش کردے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کو مشورہ دیتا ہوں کہ اگر27 ستمبر سے پہلے پہلے کشمیر میں کرفیو ہٹا کر ان کے بنیادی حقوق بحال نہیں کیے جاتے تو یو این او کے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کریں۔جب اس یو این او نے مسئلہ حل ہی نہیں کرنا وہاں جا کر صرف تقریر کر کے آجانا ہے تو بائیکاٹ بہتر ین پیغام ہو گا کر کے دیکھ لو جن کے پیچھے آپ بھاگ رہے ہیں یہ چل کر آپ کے پاس آئیں گے۔

  • قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی کا مقصد : علی چاند

    قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی کا مقصد : علی چاند

    انتہاٸی پروقار ، دلفریب ، بلند حوصلہ ،جرأت مند ہستی ، جو نہ کبھی کسی کے آگے جھکے ، نا کبھی ہمت ہاری ، نہ کبھی حوصلہ کم ہوا ، جس بات پر ڈٹ گٸے اس سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے ،اور پھر دنیا نے دیکھا کہ وہ پروقار انسان ایسا بہادر ، قوی ، جرأت مند نکلا کہ مسلمانوں نے ان کی قیادت میں صرف چند ماہ میں ہی پاکستان جیسا عظیم ملک بنا لیا ۔
    کون جانتا تھا کہ 25 دسمبر 1876 کو پونجا جناح کے گھر پیدا ہونے والا بچہ ایک دن اپنا نام اتنا روشن کرے گا کہ دنیا کے تمام مسلمانوں کے لیے جیتی جاگتی زندہ مثال بن جاٸے گا ۔ لوگ غلامی سے چھٹکارا پانے کے لیے اس عظیم انسان کی مثالیں دیں گے ۔ کون جانتا تھا کہ مظلوموں کو آزادی دلوانے والے اس عظیم لیڈر کو اپنا راہنما اور مشعل راہ سمجھیں گے ۔

    قاٸد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو ایک تاجر پونجا جناح کے گھر پیدا ہوٸے ۔ والدین نے آپ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی جس کے اثرات پھر پوری دنیا نے دیکھے ۔ والدین نے چھ سال کی عمر میں آپ کو مدرسے میں داخل کروا دیا ۔ پراٸمری تعلیم کے لیے آپ کو گوگل داس پراٸمری سکول میں داخل کروایا گیا ۔ میٹرک کا امتحان آپ نے اعلی نمبروں کے ساتھ سندھ مدرسة السلام ہاٸی سکول سے پاس کیا ۔ 1892 میں آپ نے وکالت کا امتحان پاس کیا ۔ پھر اعلی تعلیم کے لیے انگلستان چلے گے اور بیرسٹر بن کر واپس آٸے ۔ پہلے آپ نے کراچی اور پھر ممبٸی میں وکالت کر کے بہت نام کمایا ۔ آپ کو سیاست سے بہت دلچسپی تھی ۔ شروع میں قاٸد اعظم ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے اس لیے آپ نے 1906 میں کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی ۔ کچھ مسلمان راہنماٶں نے آپ کومسلم لیگ میں شمولیت کی دعوت دی اور آپ کو اس پر راضی بھی کر لیا بالآخر آپ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی ۔ 1913 میں آپ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی ۔ مسلم لیگ پہلے صرف بڑے لوگوں کی جماعت سمجھی جاتی تھی لیکن آپ کی مسلم لیگ میں شمولیت کے بعد لوگ اسے عام مسلمانوں یعنی اپنی جماعت سمجھنا شروع ہوگے ۔

    1929میں قاٸداعظم نے اپنے مشہور چودہ نکات پیش کٸیے جو درج ذیل ہیں :

    ہندوستان کا آئندہ دستور وفاقی نوعیت کا ہو گا۔

    تمام صوبوں کو مساوی سطح پر مساوی خود مختاری ہو گی۔

    ملک کی تمام مجالس قانون ساز کو اس طرح تشکیل دیا جائے گا کہ ہر صوبہ میں اقلیت کو مؤثر نمائندگی حاصل ہو اور کسی صوبہ میں اکثریت کو اقلیت یا مساوی حیثیت میں تسلیم نہ کیا جائے۔

    مرکزی اسمبلی میں مسلمانوں کو ایک تہائی نمائندگی حاصل ہو۔

    ہر فرقہ کو جداگانہ انتخاب کا حق حاصل ہو۔

    صوبوں میں آئندہ کوئی ایسی سکیم عمل میں نہ لائی جائے جس کے ذریعے صوبہ سرحد، پنجاب اور صوبہ بنگال میں مسلم اکثریت متاثر ہو۔

    ہر قوم و ملت کو اپنے مذہب، رسم و رواج، عبادات، تنظیم و اجتماع اور ضمیر کی آزادی حاصل ہو۔

    مجالس قانون ساز کو کسی ایسی تحریک یا تجویز منظور کرنے کا اختیار نہ ہو جسے کسی قوم کے تین چوتھائی ارکان اپنے قومی مفادات کے حق میں قرار دیں۔

    سندھ کو بمبئی سے علاحدہ کر کے غیر مشروط طور پر الگ صوبہ بنا دیا جائے۔

    صوبہ سرحد اور صوبہ بلوچستان میں دوسرے صوبوں کی طرح اصلاحات کی جائیں۔

    سرکاری ملازمتوں اور خود مختار اداروں میں مسلمانوں کو مناسب حصہ دیا جائے۔

    آئین میں مسلمانوں کی ثقافت، تعلیم، زبان، مذہب، قوانین اور ان کے فلاحی اداروں کے تحفظ کی ضمانت دی جائے۔

    کسی صوبے میں ایسی وزارت تشکیل نہ دی جائے جس میں ایک تہائی وزیروں کی تعداد مسلمان نہ ہو۔

    ہندوستانی وفاق میں شامل ریاستوں اور صوبوں کی مرضی کے بغیر مرکزی حکومت آئین میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔

    یہ چودہ نکات تحریک پاکستان میں سنگ میل کی حثیت رکھتے ہیں ۔ 1940 میں لاہور منٹو پارک ( موجودہ نام اقبال پارک ) میں ایک قرار داد پیش کی گٸی جسے قرارد داد پاکستان بھی کہا جاتا ہے اس قرار داد میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا مطالبہ کیا گیا ۔ ہندوٶں اور انگریزوں کی طرف سے اس قرارداد کا بہت مذاق اڑایا گیا لیک مسلمان ارادے کے پکے اور ایمان کے سچے تھے انہوں نے قاٸد اعظم جیسے عظیم لیڈر کی راہنماٸی میں 14 اگست 1947 کو مسلمانوں نے الگ وطن حاصل کر لیا ۔ اس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ۔ قاٸد اعظم نے پاکستان بننے کے بعد مہاجرین کی آباد کاری ، پاکستانی معیشیت اور اداروں کی بحالی کے لیے انتھک محنت کی جس کی وجہ سے آپ بہت زیادہ علیل ہوگے ۔

    آپ کو ڈاکٹرز کے مشورے سے زیارت کے مقام پر بھیج دیا گیا تاکہ آپ کی صحت کچھ سنبھل سکے ۔ لیکن آپ کی صحت جواب دیتی جارہی تھی ۔ 10 ستمبر کو کرنل الہی بخش نے قاٸد اعظم کی صحت کے حوالے سے فاطمہ جناح کو جواب دے دیا ۔ اگلی صبح قاٸد اعظم کو کوٸٹہ سے کراچی اٸیرپورٹ لایا گیا ۔ وہاں سے ایک ایمبولینس میں آپ کا سٹریچر رکھا گیا ۔ ایمبولیس میں آپ کی بہن فاطمہ جناح بھی بیٹھ گٸی ۔ جب ایمبولینس مہاجروں کی ایک گنجان آباد بستی سے زرا آگے پہنچی تو ایمبولینس چلنا رک گٸی ۔ فاطمہ جناح کو بتایا گیا کہ پیٹرول ختم ہوگیا ہے ۔ ایک گھنٹہ بعد دوسری ایمبولینس آٸی اور پھر قاٸد اعظم کو دوسری ایمبولینس کے ذریعے قاٸد اعظم گورنر ہاٶس پہنچایا گیا جہاں انہوں نے کلمہ پڑھتے ہوٸے اپنی جان خالق حقیقی کے حوالے کر دی ۔

    کیا ایمبولینس کا واقعی پیٹرول ختم ہوا تھا یا پھر یہ بھی ایک سازش تھی ۔ اگر پیٹرول واقعی ختم ہوا تھا تو کیا ایمبولینس روانہ کرتے وقت چیک نہ کیا گیا تھا ۔ کیا کوٸی اس قدر احمق بھی ہوسکتا ہے کہ اپنے محسن کی حالت کو جانتا ہو پھر بھی ایسا کرے ۔ اور اگر یہ ایک سازش تھی تو قاٸد اعظم اور پاکستان کے ساتھ غداری تھی ۔ دونوں صورتوں میں کیا کبھی کسی نے اس سازش کے پیچھے چھپے چہرے تلاش کرنے کی کوشش کی ۔ کیا کسی نے ان چہروں کو بے نقاب کر کے انہیں سزا دلوانے کی کوشش کی ۔ اگر نہیں تو کیا ہم ایک بے حس قوم نہیں ہیں جنہوں نے اپنے عظیم لیڈر کے احسانات کو بھلا دیا اور کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ آخر کون لوگ تھے جو پاکستان سے دشمنی میں اس قدر آگے نکل گے کہ انہوں نے قاٸد اعظم کی جان کی پرواہ بھی نہ کی ؟

    کیا ہم میں سے کوٸی اس بہن کا درد محسوس کر سکتا ہے جس کے بھاٸی کو ڈاکٹرز جواب دے چکے ہوں اور اس ایمبولینس کو جان بوجھ کر روکے رکھا گیا ہو جس میں ایک بہن کے سامنے اس کا بھاٸی زندگی کی آخری سانسیں لے رہا ہو ۔ جو کہتے ہیں پیٹرول ختم ہو گیا تھا ،ان کی عقل کو داد دیں یا پھر اپنی قوم کی بے حسی کو ۔ اگر پٹرول ختم ہوگیا تھا تو گنجان آبادی قریب تھی وہاں سے کسی گاڑی کا انتظام کیوں نہ ہوا ۔ اس آبادی سے کسی کی گاڑی سے کہیں سے بھی پٹرول مل سکتا تھا پھر ایک گھنٹے تک کیوں اس بہن کو اذیت میں رکھا گیا جس کے بھاٸی نے اپنی بہن کے ساتھ اپنی تمام تر زندگی اس وطن کے نام کر دی ۔ آخر کیوں کون سے وجوہات تھی کہ ہم نے باباٸے قوم اور مادر ملت کو اذیت دینے والوں کے گریبان نہیں پکڑے ۔ آخر کیوں ہم اتنے بے حس ہوگے کہ محسن پاکستان محمد علی جناح کے ساتھ ان کی بہن کے ساتھ ایسا ظلم کرنے والوں کو کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا گیا ۔ وہ بہن جو مادر ملت تھی کہتی ہیں زندگی میں جتنی بھی مشکلات آٸیں یہ ایک گھنٹہ ان سب مشکلات سے بھاری تھا ، تکلیف دہ تھا ۔ آخر کیوں اس بات کو جاننے کی کوشش نہیں کی گٸی کہ آخر کون تھا جس پر قاٸد اعظم کی سانسیں باعث تکلیف تھی ، آخر ایمبولینس کو جان بوجھ کر روکنے میں کسی کا کیا فاٸدہ تھا ؟ ہمیں بحثیت قوم ان حقاٸق کو جاننا ہوگا ۔ ان کالی بھیڑوں کو ڈھونڈنا ہوگا جو تب سے لے کر آج تک وطن پاکستان اور اس سے جڑے ہر مخلص انسان کو نقصان پہنچا رہی ہیں ۔

  • ہمیں 65 کی زبان بھی آتی ہے : علی چاند

    ہمیں 65 کی زبان بھی آتی ہے : علی چاند

    پاکستان 14 اگست 1947 کو معرض وجود میں آیا تھا ۔ پاکستان بنانے کا مقصد ایک الگ اسلامی معاشرے کی تشکیل تھا جہاں مسلمان اسلامی قوانین پر آزادی کےساتھ عمل کر سکیں ۔ لیکن بھارت کو کبھی بھی یہ بات گوارا نہیں ہوٸی کہ مسلمان پر امن طریقےسے زندگی گزاریں ۔ بھارت نے پاکستان کو ختم کرنے کے لیے مسلمانوں کی الگ پہچان ختم کرنے کے لیے 6 ستمبر 1965 کو پاکستان پر حملہ کر دیا ۔ پاکستانی افواج نے اپنی غیور اور بہادر عوام کے ساتھ مل کر دشمن کے ناپاک عزاٸم کو خاک میں ملا دیا اور اپنے دشمن کو ایسی ذلت سے دوچار کیا جس کا داغ اگر دشمن دھونا بھی چاہے تو بھی صدیوں میں بھی نا دھو پاٸے گا ۔ پاکستان میں یہ دن یعنی 6 ستمبر کا دن یوم دفاع پاکستان کہلاتا ہے اور تمام پاکستانی ہر سال یوم دفاع پاکستان پورے جوش و جذبے کے ساتھ مناتے ہیں اور اس دن بھارت کو دوبارہ باور کرواتے ہیں کہ اگر تم نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو ہم تمہارا وہی حال کریں گے جو 1965 کی جنگ میں کیا تھا ۔ پاکستانی افواج اور عوام نے 6 ستمبر 1965 کی جنگ میں ثابت کردیا کہ ہم بدر و حنین والوں کے وارث ہیں جو نہ تو ڈرتے ہیں نہ بزدلی دیکھاتے اور نہ ہی اپنے کسی دشمن سے خوف زدہ ہوتے ہیں ۔ اس جنگ میں بھی پاکستانیوں نے مسلمانوں کی تاریخ دہراتے ہوٸے دشمن کا تکبر خاک میں ملا دیا اور اپنے سے کٸی گنا بڑے دشمن کو سر اٹھانے کے قابل نہ چھوڑا ۔

    اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم دشمن ہر واضع کر دیں کہ ہم اپنے دشمن کا نام و نشان مٹانا جانتے ہیں ، اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں اور اپنے وطن کی طرف میلی نگاہ ڈالنے والے کو نیست و نابود کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں ۔ یوم دفاع پاکستان پاکستان کی غیور ، بہادر اور پر عزم افواج اور عوام کا دن ہے جس دن سب پاکستانی چاہے ان کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے وطن پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے اور پاکستان کی حفاظت میں سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے ۔ یوم دفاع پاکستان شجاعت و بہادری کا دن ہے وہ دن جس دن پاکستانی افواج نے اپنی عوام سے مل کر اپنے سے کٸی گنا دشمن کا غرور و تکبر نیست و نابود کر دیا ۔ یوم دفاع پاکستان وہ دن ہے جس دن کی ذلت کا داغ دشمن کبھی نہیں دھو سکتا ۔ یہ دن ناقابل تسخیر جذبوں کا دن ہے ، یہ دن ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند کرنے کا دن ہے ، یہ دن ہماری آن ، بان ، شان اور وطن سے محبت کے ثبوت کا دن ہے ۔ یہ میرے شہیدوں غازیوں ان کے گھر والوں کے زندہ و جاوید جذبوں اور بہادری و جرات کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ مسلمان ماٸیں اپنے جگر کے ٹکڑوں کو میدان جنگ میں بھیجتے ہوٸے ذرا بھی خوف نہیں کھاتیں ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ ایک بہن اپنے بھاٸی کو وطن کی محبت میں کیسے وطن پر لٹا دیتی ہے ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ ایک باپ اپنا جوان خون اور ایک بھاٸی اپنا بازو ( بھاٸی ) کیسے وطن پر قربان کرتا ہے ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ یہاں لڑکیاں جوانی میں بیوہ تو ہوسکتی ہیں لیکن کبھی شوہر کو جہاد سے غافل نہیں ہونے دیتی ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ یہاں بچے یتیم تو ہو سکتے ہیں لیکن اپنے پیارے وطن پاکستان پر کوٸی آنچ نہیں آنے دیں گے ۔ اس دن نے ثابت کیا کہ یہاں ماتم کر کے اپنے بچوں کے لاشے وصول نہیں ہوتے بلکہ ایک جوان کی شہادت باپ اور بھاٸی کا سینہ فخرسے اور بھی چوڑا کر دیتی ہے ۔ اس دن نے ثابت کیاکہ یہاں ایک جوان کی شہادت بوڑھی ماں کو جوانی کی طاقت ، اور یتیموں کو وقت سے پہلے جوان کر دیتی ہے ۔ اس دن نے ثابت کیا کہ یہاں ایک گھر میں اگر ایک جوان شہیدہو کر آٸے تو اس پر ایسا فخر ہوتا ہے کہ اسی گھر سے دو تین مرد اور رتبہ شہادت پانے کو نکلیں گے ۔ پاکستانی افواج اور عوام نے اس دن دنیا کو ثابت کر دیکھایا کہ ہاں ہم زندہ قوم ہیں ، پاٸیندہ قوم ہیں ۔

    اس دن پاکستانیوں نے ثابت کر دیا کہ دنیا کی کوٸی طاقت ہمیں ہرا نہیں سکتی ، دنیا کی کوٸی طاقت ہمیں بزدل نہیں بنا سکتی ۔

    پاکستان نے اس سال اپنایوم دفاع پاکستان اپنی شہہ رگ کشمیر کے ساتھ یوم یکجہتی کے طور پر منانے کا علان کیا ہے ۔ بھارت جب پاکستان سے منہ کی کھاتا ہے تو وہ پاکستان کا غصہ مجبور اور بے بس کشمیریوں پر نکالتا ہے ۔ نہ صرف کشمیریوں بلکہ انڈیا میں بسنے والی اقلیتوں کا بھی جینا حرام کر دیا جاتا ہے ۔ اب بھی ایک ماہ ہونے کو ہے بھارت نے کشمیر میں کرفیو لگایا ہوا ہے کشمیری عوام کو بنیادی انسانی حقوق تک میسر نہیں ۔ ادویات اور غذا کی انتہاٸی شدید قلت ہے ۔ عالمی میڈیا چیخ چیخ کر مودی کی ظلم و بربریت دنیا والوں کو دیکھا رہا ہے کہ کیسے بھارتی افواج کشمیری جوانوں ، بوڑھوں ، بچوں اور عورتوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں ۔ پاکستان نے یوم دفاع پاکستان کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منانے کا اعلان اس وجہ سے کیا ہے تاکہ دنیا بھر کی نظریں کشمیریوں کے حق خود ارادیت اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کی طرف دلاٸی جاسکے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت پر یہ بھی واضح کیا جاٸے گا کہ ہم نے جس طرح تمہارا غرور 1965 میں خاک میں ملایا تھا اب بھی ہم تم سے اپنہ شہہ رگ چھڑوا کر تمہیں خاک میں ملاٸیں گے ۔ ابھی ہم پر امن اس لیے ہیں تاکہ یہ مسلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق پر امن طریقے سے حل ہوجاٸے لیکن اگر بھارت نے ہماری امن کی زبان نہ سمجھی تو پھر اسے اسی زبان میں سمجھاٸیں گے جو ہم ان 1965 کی جنگ میں استعمال کی تھی ۔

    اللہ پاک میرے وطن کے تمام شہیدوں اور ان کے گھر والوں کے درجات بلند فرماٸے ۔ ہمیں وطن پر مر مٹنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ ہمارے پیارے پاکستان کو شاد و آباد رکھے اور ہمیں ملی غیرت عطا فرماٸے ۔ کشمیر کو آزاد فضاٸیں نصیب فرماٸے ۔ آمین

  • "نشان حیدر” پانے والے گیارہ شہیدوں کی لازوال داستان: علی چاند

    "نشان حیدر” پانے والے گیارہ شہیدوں کی لازوال داستان: علی چاند

    ” نشان حیدر ” مطلب شیر کا نشان ، یہ پاکستان کا سب سے بڑا فوج اعزاز ہے جو دشمن کے مقابلے میں بہادری کے شاندار جوہر دیکھانے والے پاک فوج کے جوانوں کو ملتا ہے ۔ نشان حیدر جنگ میں دشمن سے حاصل ہونے والے اسلحے کو پگھلا کر بنایا جاتا ہے جس میں 20 فیصد سونا بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔
    اب تک نشان حیدر پانے والوں میں سے سب سے زیادہ عمر طفیل محمد شہید ہیں جنہوں نے 44 سال کی عمر میں شہادت پاٸی اور سب سے کم عمر نشان حیدر پانے والے راشد منہاس شہید ہیں جنہوں نے 20 سال 6 مہینے میں شہادت کی عمر پاٸی ۔نشان حیدر پانے والے بہادر جوانوں کے نام اور کارنامے درج ذیل ہیں

    راجہ محمد سرور شہید :
    ضلع راولپنڈی تحصیل گوجر خاں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ سب سے پہلے نشان حیدر پانے والے جوان ہیں ۔ 1948 میں راجہ محمد سرور شہید کو کشمیر میں آپریشن پر مامور کیا گیا ۔ 27 جولاٸی کو آپ نے اوڑی سیکٹر میں دشمن کی اہم فوجی پوزیشن پر حملہ کیا تو معلوم ہوا کہ دشمن نے اپنے مورچوں کو خار دار تاروں سے محفوظ کیا ہوا ہے ۔ آپ نے اپنے 6 جوانوں کے ساتھ مل کر شدید گولیوں کی بوچھاڑ میں ان خار دار تاروں کو کاٹ دیا ۔ آپ پر بیشمار گولیاں برساٸی گٸیں جن میں سے ایک آپ کے سینے پر لگی اور آپ جام شہادت نوش کیا ۔ آپ کے جذبہ شہادت کو دیکھتے ہوٸے آپ کے جوانوں نے دشمن پر بھرپور حملہ کیا جس کی وجہ سے دشمن اپنے مورچے چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا ۔

    میجر طفیل محمد شہید :
    آپ صوبہ پنجاب میں ہوشیار پور میں پیدا ہوٸے ۔ اگست 1958 میں آپ کو چند بھارتی مورچوں کا صفایا کرنے کا کام سونپا گیا ۔ 7 اگست کو آپ نے دشمن کے ایک مورچے کو اپنے گھیرے میں لے لیا ۔ جب بھارتیوں نے اپنی مشین گن سے فاٸرنگ شروع کیا تو اس فاٸرنگ کا نشانہ بننے والے سب سے پہلے جوان طفیل محمد شہید تھے ۔ بہادری کے جوہر دیکھاتے ہوٸے آپ نے دشمن کی مشین گنوں کو مکمل خاموش کروا دیا ۔ اور شدید زخمی ہونے کے باوجود آپ اپنے جوانوں کی قیادت کرتے رہے یہاں تک کے دشمن اپنی چار لاشیں اور تین قیدی چھوڑ کر فرار ہوگے ۔ شدید زخموں کی وجہ سے آپ جام شہادت پی گے ۔

    میجر عزیز بھٹی شہید :
    6 ستمبر 1965ء کو جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو میجر عزیز بھٹی لاہور سیکٹر میں برکی کے علاقے میں کمپنی کی کمان کررہے تھے ۔
    12 ستمبر کی صبح عزیز بھٹی شہید نے دیکھا کہ ہزاروں دشمن سپاہی برکی کے شمال کی طرف درختوں میں چھپے ہوٸے ہیں ۔ آپ نے اپنے جوانوں کے ساتھ مل کر فاٸرنگ شروع کی جس سے دشمن کے سپاہی وہیں ڈھیر ہوتے گے ۔ عزیز بھٹی دوبارہ دشمن کی نقل و حرکت کا جاٸزہ لینے لگے تو دشمن نے گولہ باری شروع کر دی ۔ایک گولہ عزیز بھٹی شہید کے سینے میں لگا جس سے آپ وہی شہید ہوگے ۔

    راشد منہاس شہید :
    آپ کراچی میں پیدا ہوٸے ۔ راشد منہاس نے اپنے ماموں سے متاثر ہو کر پاک فضاٸیہ کا انتخاب کیا ۔ 20 اگست 1971ء کو راشد کی تیسری تنہا پرواز تھی۔ وہ ٹرینر جیٹ طیارے میں سوار ہوئے ہی تھے کہ ان کا انسٹرکٹر سیفٹی فلائٹ آفیسر مطیع الرحمان خطرے کا سگنل دے کر کاک پٹ میں داخل ہو گیا ۔ وہ تیارے کو اغوا کر کے بھارت لے جانا چاہتا تھا ۔ راشد منہاس کو ماڑی پور کنٹرول ٹاور سے ہدایت دی گٸی کہ طیارے کو ہر صورت اغوا ہونے سے بچایا جاٸے ۔ جب اپنے آفیسر سے کشمکش کے درمیان راشد منہاس نے محسوس کیا کہ طیارے کو کسی محفوظ جگہ لینڈ کرنا ناممکن ہے تو راشد منہاس نے اپنے طیارے کا رخ زمین کی طرف کر دیا ۔ جس کی وجہ سے راشد منہاس نے جام شہادت نوش کیا اور نشان حیدر جیسے اعزاز کے حق دار قرار پاٸے ۔


    میجر شبیر شریف شہید :
    میجر شبیر شریف پنجاب کے ضلع گجرات میں ایک قصبے کنجاہ میں پیدا ہوٸے ۔ 3 دسمبر 1971 میں سلیمانکی ہیڈ ورکس پر آپ کو طعینات کیا گیا تاکہ آپ اونچی زمین پر قبضہ کر سکیں جو کہ اس وقت دشمن کے قبضے میں تھی ۔6 دسمبر کو دشمن نے شدید حملہ کر دیا جس کی وجہ سے میجر شبیر شریف شہید نے اپنی اینٹی ٹنیک گن سے دشمن پر حملہ کر دیا ۔ دشمن کی فاٸرنگ کے نتیجے میں آپ نے جام شہادت نوش کیا ۔


    سوار محمد حسین شہید :

    سوار محمد حسین 18 جون 1949 کو ضلع راولپنڈی تحصیل گوجر خاں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ نے بطور ڈراٸیور پاک فوج جواٸن کی اس کے باوجود جنگ میں عملی طور پر حصہ لیا ۔ آپ نے پاکستان اور بھارت کی جنگ میں حصہ لیا ۔ آپ نے بہادری کے عظیم جوہر دیکھاٸے ۔ دس دسمبر 1971 کی شام دشمن کی مشین گن سے نکلی گولیاں آپ کے سینے پر پیوست ہوگٸی اور آپ جام شہادت نوش فرما گٸے ۔
    میجر محمد اکرم شہید :
    آپ ضلع گجرات کے گاٶں ڈنگہ میں پیدا ہوٸے ۔ 1971 کی پاکستان اور بھارت جنگ میں ہلی کے مقام پر آپ نے اپنے جوانوں کے ساھ مل کر دشمن کا بھاری جانی اور مالی نقصان کیا اور بہادری کے جوہر دیکھاتے ہوٸے جام شہادت نوش کر لیا ۔

    لانس ناٸیک محمد محفوظ شہید :
    آپ ضلع راولپنڈی کے گاٶں پنڈ ملکاں میں 25 اکتوبر 1944 میں پیدا ہوٸے ۔ 1962 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی ۔ لانس ناٸیک محمد محفوظ شہید نے پاکستان اور بھارت کی جنگ میں حصہ لیا ان کا یونٹ واہگہ اٹاری سیکٹر پر تعینات تھا اور بہادری و شجاعت کے عظیم جوہر دیکھاتے ہوٸے دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کیا ۔ آپ نے دشمن کے بنکر میں گھس کر ایک دشمن فوجی کی گردن دبوچ لی اور اسے جہنم واصل کر دیا جب کہ دوسرے دشمن فوجی نے آپ پر حملہ کرکے آپ کو شہید کر دیا ۔

    کرنل شیر خاں شہید :
    آپ ضلع صوابی کے ایک گاٶں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ کارگل تنازعہ کے دوران عظم وہمت اور شجاعت کی ایک نٸی علامت بن کر ابھرے ۔ آپ نے بہادری کی نٸی مثالیں قاٸم کیں اور دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ۔ آپ نے دشمن کی چوکیوں پر قبضہ کے دوران مشین گن کا نشانہ بم گے اور آپ نے شہادت کا رتبہ پالیا ۔

    حوالدار لالک جان شہید :
    گلگت بلتستان کی وادی یاسین میں پیدا ہوٸے ۔ 1999 میں جب کارگل تنازعہ چل رہا تھا تو لالک جان کو ایک اہم ترین چوکی پی حفاظت کا ذمہ سونپا گیا ۔ 5 اور 6 جولاٸی کی درمیانی شب دشمن نے اس چوکی پر بھرپور حملہ کیا ۔لالک جان اور ان کے جوانوں نے دشمن کا بھرپور مقابلہ کیا اور دشمن کا کافی جانی اور مالی نقصان کیا جس پر دشمن پسپا ہوکر چلا گیا ۔ اگلی رات دشمن نے پھر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں لالک جان شدید زخمی ہوگے لیکن پھر بھی علاج کروانے کی بجاٸے دشمن سے مقابلہ کرتے رہے ۔ اگلی صبح زخموں کی تاب نا لاتے ہوٸے آپ شہید ہوگے ۔

    سیف علی جنجوعہ :
    انہوں نے اپنی ایک پلاٹون کی نامکمل اور مختصر نفری سے ایک بریگیڈ فوج کا اس وقت تک مقابلہ کیا اورثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اُن کی پوسٹ پر دشمن نے ٹینکوں اورتوپخانے اور جنگی جہازوں سے حملہ کیا دشمن نے تمام حربے استعمال کیے مگر تمام بے اثر رہے دشمن نے اُن کی پوسٹ پر ہر طرف سے دباؤ ڈال دیا مگر سیف علی جنجوعہ ڈٹے رہے اس طرح انہوں نے مشین گن سے دشمن کا ایک جہاز بھی مار گرایا ۔جب تک مزید پاکستانی فوج نہیں پہنچی آپ نے اپنے جوانوں کے ساتھ مل کر دشمن کو ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھنے دیا ۔ بم گرنے کی وجہ سے آپ جام شہادت نوش فرما لیا ۔اس وقت پاکستان کے تمغے نہیں بنے تھے اس لئے حکومت پاکستان نے “ہلال کشمیر” اعزاز کو برطانیہ کے “وکٹوریہ کراس” کے برابر لکھا تھا ۔جب پاکستان کے تمغے بنے تو سیف علی جنجوعہ شہید کے کمپنی کمانڈ ر لیفٹیننٹ محمد ایاز خان (ستارہ سماج) صدر پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے حکومت پاکستان کو مسلسل اڑتالیس سال لکھا کہ نائیک سیف علی شہید کو نشان حیدر کے اعزاز کا اعلان کیا جائے۔ پی ایس اے کی سفارش پرچیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے6ستمبر 1999کو نائیک سیف علی جنجوعہ شہید کیلئے نشان حیدر کے اعزاز کا اعلان کیا ۔

  • عالمی یوم حجاب کشمیریوں کے نام : علی چاند

    عالمی یوم حجاب کشمیریوں کے نام : علی چاند

    آج پوری دنیا میں عالمی یوم حجاب منایا جا رہا ہے ۔ اس دن کے منانے کا مقصد یہ ہے کہ عورت کی عزت و عظمت کا حق اسے مکمل طور پر دیا جاٸے ۔ عورت کو محض ایک اشتہار نا سمجھا جاٸے بلکہ عورت جس کا نام ہی پردہ ہے اسے مکمل عزت س نوازا جاٸے اس کی آبرو کا خیال رکھا جاٸے ۔ عالمی یوم حجاب منانے کا مقصد یہی ہے کہ جن ممالک میں مسلمان عورتوں کے حجاب پر پابندی ہے وہاں عورت کو اس کے حجاب کا حق دیا جاٸے ۔ اور جو عورتیں پردے کو بوجھ سمجھتی ہیں ان میں یہ شعور اجاگر کیا جاٸے کہ حجاب ان پر کوٸی مصیبت نہیں بلکہ یہ اللہ کا حکم ہے اور عورت کو تحفظ فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔

    پاکستانی خواتین نے یہ عالمی یوم حجاب کشمیری خواتین کے نام کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ دن کشمیری خواتین کے نام کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کی توجہ اس طرف دلاٸی جاٸے کہ انڈین آرمی کشمیری نے مظلوم خواتین کی عصمت دھری بند کرے اور کشمیری خواتین کے پردے کا خیال رکھا جاٸے اور ان کی عزتوں کو تحفظ فراہم کیا جاٸے ۔ یہ حقیقت ہے کہ دنیا کی ایک کم ظرف اور گھٹیا قوم جب دوسری کسی قوم پر قبضہ کرتی ہے تو پھر وہ دیگر لوٹ مار کے ساتھ ساتھ اس مقبوضہ قوم کی خواتین کی عزتیں لوٹنا قابل فخر کام سمجھتی ہیں ۔ ایسی کم ظرف قوموں میں سے ایک قوم بھارت بھی ہے ۔ جس نے زبردستی مسلمان کشمیریوں پر قبضہ کر کے وہاں کی مجبور و بے بس خواتین کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا رکھا ہے ۔ عالمی یوم حجاب کو کشمیریوں کے نام کرنے کا مقصد یہی ہے کہ دنیا کشمیری خواتین کو تحفظ دینے کی کوشش کرے اور بھارت پر دباٶ ڈالے کے وہ کشمیری خواتین کی عزت و آبرو کا خیال رکھیں ۔

    اس دن کامقصد یہ بھی ہے کہ کشمیر کی جو بہادر خواتین پردے میں رہتے ہوٸے اپنی آزادی کا حق لینے کے لیے دشمن کے سامنے سینہ سپر ہیں انہیں ان کا حق دیا جاٸے ۔ کشمیر کی جو خواتین بھارتی کے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرنے میں پیش پیش ہیں ان میں ایک اہم نام محترمہ آسیہ اندرابی ہیں ۔

    اس کے علاوہ کشمیری خواتین چاہے ان کا تعلق سٹوڈینٹس سے ہو یا عام گھریلو خواتین سے وہ اپنے پردے میں رہتے ہوٸے بھارتی ظلم و ستم کا مقابلہ کر رہی ہیں ۔ پردے میں رہتے ہوٸے انڈین فوج کی گولی کا جواب پتھر سے دے رہی ہیں ۔ یہ دن کشمیری خواتین کے نام کرنے کا مقصد یہ بھی ہے کہ تمام مسلمان حکمرانوں کو جھنجھوڑا جا سکے کہ وہ اپنی مسلم بیٹیوں کے تحفظ کے لیے آگے بڑھیں اور ملی غیرت کا ثبوت دیں ۔
    اللہ پاک ہماری مسلمان بہنوں کے پردے سلامت رکھے ۔ آمین

  • بابا فرید الدین گنج شکر رحمة اللہ تعالی علیہ : علی چاند کا بلاگ

    بابا فرید الدین گنج شکر رحمة اللہ تعالی علیہ : علی چاند کا بلاگ

    صوفیا کرام محبت ، امن اور بھاٸی چارے کے مبلغ رہے ہیں ۔ انہی لوگوں کی وجہ سے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر برصغیر کے بہت سے غیر مسلم لوگ داٸرہ اسلام میں داخل ہوٸے ۔ صوفیا کرام نے ہمیشہ لوگوں کو بلا امتیاز رنگ و نسل اور بلا امتیاز دین و ملت ایک دوسرے کے ساتھ حسن اخلاق کی تعلیم دی اور اس کی عملی مثالیں بھی پیش کیں جن کی بدولت برصغیر کے ہندوٶں اور دیگر اقوام نے دین اسلام قبول کر کے اپنی زندگیاں دونوں جہاں میں روشن کی ۔ ان صوفیا کرام نے عملی تعلیمات کے ساتھ ساتھ اپنےاقوال اور اپنی شاعری کے ذریعے بھی لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیا ۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے اسلام کو عملی طور پر اپنایا اور پھر دین اسلام کی عملی طور پر اشاعت کی ۔ ان بزرگ صوفیا کرام ہی کی بدولت ہمارے بزرگوں نے دین اسلام کی دولت کا اپنایا اور پھر دین اسلام کی محبت کی شمع ہمارے دلوں میں روشن کی ۔

    ان بزرگ صوفیا کرام میں سے ایک حضرت بابا فرید الدین گنج شکر ہیں ۔ بابا فرید الدین بارہویں صدی کے مسلمان مبلغ اور صوفی شاعر ہیں ۔ جن کی بدولت ، جن کی عملی تعلیمات سے متاثر ہو کر لاکھوں لوگ دین اسلام کی طرف کھنچے چلے آٸے ۔ بابا فرید الدین کا اصل نام مسعود اور لقب فرید الدین تھا ۔ آپ کی ولادت 589 ہجری میں ہوٸی اور وصال 666 ھ میں ہوا ۔ آپ کی والدہ کا نام قرسم خاتون اور والد ماجد کا نام قاضی جلال الدین تھا ۔ بابا فرید الدین کے استاد محترم حضرت خواجہ معین الدین چشتی ہیں ۔ بابا فرید الدین پنجابی ادب اور پنجابی شاعری کی بنیاد مانے جاتے ہیں ۔

    بابا فرید الدین کو گنج شکر کہنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی والدہ نے جب آپ کو نماز کی تلقین کی تو کہا کہ جب بچہ چھوٹا ہوتا ہے اور وہ نماز پڑھتا ہے تو اللہ پاک کی طرف سے اسے شکر ملتی ہے ۔ اور پھر جیسے جیسے انسان بڑا ہوتا جاتا ہے ان انعامات میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔ جب بابا فرید نماز پڑھ رہے ہوتے تو آپ کی والدہ چپکے سے مصلے کے نیچے شکر کی پڑیاں رکھ دیتیں ۔ ایک دن آپ کی والدہ کو شکر رکھنا یاد نہ رہا بعد میں یاد آیا تو پوچھا فرید الدین کیا آپ کو شکر کی پڑیاں ملی تھیں ۔ بابا فرید الدین نے ہاں میں جواب دیا تو آپ کی والدہ نے کہا کہ آپ تو واقعی گنج شکر ہیں ۔

    بابا فرید نے ابتداٸی تعلیم ملتان کی ایک مسجد سے حاصل کی پھر آپ قندھار اور مختلف شہروں سے تعلیم حاصل کر کے دہلی پہنچے ۔ کہا جاتا ہے کہ بابا فرید کو دہلی کی شان و شوکت بالکل بھی پسند نہ تھی جس کی وجہ سے آپ دہلی سے ہانسی اور پھر پاک پتن تشریف لے آٸے اور یہیں ڈیرہ نشین ہوگے ۔ بابا فرید نے بھی دیگر صوفیا کی طرح لوگوں کو امن و امان ، اخوت اور بھاٸی چارے کا درس دیا جس کی وجہ سے یہاں کے لوگوں نے بڑی تعداد میں اسلام قبول کر لیا۔ بہت سے علما کرام بھی بابا فرید الدین سے گراٸمر اور زبان دانی کے مساٸل حل کروانے پاک پتن آتے تھے ۔

    بابا فرید الدین پنجابی شاعری کے پہلے شاعر ہیں ۔ آپ کی شاعری میں بھی آپ کی عملی زندگی کی طرح بھاٸی چارے ، مساوات اور انسانیت کا درس ملتا ہے ۔ بابا فرید الدین نے ہمیشہ اپنی زندگی کو ذاتیات کی بجاٸے عوامی دکھوں کے حوالے سے دیکھا ہے جیسا کہ بابا فرید الدین خود لکھتے ہیں کہ
    میں جانیا دکھ مجھ کو ، دکھ سبھاٸے جگ
    اچے چڑھ کے ویکھیا تاں گھر گھر ایہا اگ

    ترجمہ : میں سمجھا تھا کہ دکھ صرف مجھ ہی کو ہیں لیکن یہاں تو سارا جہاں دکھی ہے ۔ جب میں نے اوپر ہو کر دیکھا تو پتہ چلا کہ ہر گھر اسی آگ میں سلگ رہا ہے ۔

    اک دوسرے شعر میں بابا فرید فرماتے ہیں
    فریدا خاک نہ نندیے ، خاکوں جیڈ نہ کوٸی
    جیوندیاں پیراں تھلے ، مویاں اوپر ہوٸی

    ترجمہ : فریدا خاک کی ناقدری نہ کرو کیونکہ زندگی میں یہی خاک ہے جس پر ہم پاٶں رکھے کھڑے ہوتے ہیں اور مرنے کے بعد یہی خاک ہمارے عیبوں پر پردہ ڈال دیتی ہے ۔

    بابا فرید الدین کے اقوال سے بھی ان کی تعلیمات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ
    1 انسانوں میں ذلیل ترین وہ ہے جو کھانے ، پینے اور پہننے میں مشغول ہے ۔
    2 نفس کو اپنے مرتبہ کے لیے خوار مت کرو ۔
    3 درویش فاقے سے مر جاتے ہیں لیکن لذت نفس کے لیے قرض نہیں لیتے ۔
    4 جس دل میں اللہ کا ذکر جاری رہتا ہے وہ دل زندہ ہے اور شیطانی خواہشات اس پر قابو نہیں پا سکتیں ۔
    5 اطمینان چاہتے ہوتو حسد سے دور رہو ۔
    6 دوسروں سے اچھاٸی کرتے ہوٸے سوچو کہ تم اپنی ذات سے اچھاٸی کر رہے ہو ۔

    حضرت بابا فرید الدین نے 666 ھ میں وفات پاٸی ۔ مولانا بدر الدین کہتے ہیں کہ بابا فرید الدین نے وضو کے لیے پانی منگوایا ، وضو کر کے نماز پڑھی ، سجدے میں ہی یاحیی یا قیوم پڑھتے ہوٸے آپ خالق حقیقی سے جا ملے ۔ بابا فرید کا مزار آپ کے ایک مرید شہنشاہ محمد بن تغلق نے تعمیر کروایا ۔

    اللہ پاک ہمیں ان بزرگوں کی تعلیمات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ آمین

  • غریب کی بیٹی کا دوپٹہ : علی چاند کا بلاگ

    غریب کی بیٹی کا دوپٹہ : علی چاند کا بلاگ

    مسجد میں قالین بچھانے سے بہتر ہے کہ کسی غریب کی بیٹی کو چادر لے دی جاٸے ، مسجد میں پتھر لگوانے سے بہتر ہے کہ کسی غریب کی بیٹی کو چادر لے دی جاٸے ، میلاد پر پیسہ لگانے سے بہتر ہے کسی غریب کی بیٹی کو چادر لے دی جاٸے ، حج پر اتنے پیسے لگانے سے بہتر ہے انسان غریب کی بیٹیوں کو چادر لے دے ، عمرہ پر جانے سے بہتر ہے کہ انسان غریب کی بیٹیوں کو کپڑے لے دے انہیں چادریں لے دے ۔

    یہ ہیں وہ چند جملے جو آٸے دن ہمیں سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ یہ ہیں وہ چند جملے جن کا پرچار کچھ نام نہاد مسلمان کرتے نظر آتے ہیں ۔ میں ان لوگوں کو پوچھنا چاہوں گا کہ آخر تکلیف مسجد ، عمرہ ، میلاد اور حج کی ہے یا پھر واقعی غریب کی بیٹی کا درد ہے دل میں ۔ اگر تو درد ان لوگوں کو مسجد ، منبر ، محراب ، حج اور عمرے کا ہے تو میں ایسے لوگوں کو مشورہ دوں گا کہ وہ کسی عالم دین کی صحبت میں بیٹھیں ، اللہ کے احکامات پڑھیں ، دین سیکھیں تاکہ ان لوگوں کو پتہ چلے کہ جب حکم خدا ماننا ہوتا ہے تو پھر آدم کو سجدہ بھی کرنا پڑتا ہے ورنہ انکار پر سب سے بڑا عبادت گزار بھی مردود کہلاتا ہے ۔ جہاں حکم ربی آجاتا ہے وہاں یہ نہیں دیکھنا ہوتا کہ اس کی بجاٸے یہ کر لیں یا اس کی بجاٸے وہ کر لیں ۔ پھر صرف اور صرف اللہ کا حکم ماننا ہوتا ہے ۔

    رہی بات غریب کی بیٹی کے دوپٹے اور چادر کی تو اللہ پاک ان غریبوں کی بیٹیوں کی عزتیں سلامت رکھے ۔ جو یہ بھی اچھی طرح جانتی ہیں کہ پھٹی ہوٸی چادر سے سر کیسے ڈھانپنا ہے اور یہ بھی جانتی ہے کہ اسے نامحرم مردوں سے اپنی عزت کو کیسے بچانا ہے ۔ یہ جو لوگ ایسی باتیں کر کے اپنی دانشوری کے جوہر دیکھاتے ہیں کہ غریب کی بیٹی کے سر پر چادر دو ، عمرہ چھوڑو ، حج چھوڑو ، میلاد چھوڑو ، مسجد چھوڑو ، مسجد کا خیال نہ کرو صرف اور صرف غریب کی بیٹی کی چادر کا سوچو تو میں ایسے دانشوروں سے کہنا چاہوں گا کہ اپنی آنکھوں اور عقل پر بندھی پٹی کو کھول کر دیکھو کسی غریب کی بیٹی بغیر چادر کے نظر آگٸی تو کہنا ، کسی غریب کی بیٹی پھٹی ہوٸی جینز میں نظر آگٸی تو کہنا ، کسی غریب کی بیٹی بغیر دوپٹے کے نظر آگٸی تو کہنا ، اگر غریب کی بیٹی اپنی عزت کا سودا کرتی نظر آگٸی تو کہنا ، غریب کی بیٹی اگر کسی سے محبت بھی کرے گی ، اسے ٹوٹ کر چاہے گی بھی تو بھی کبھی بھی اس کے سامنے بغیر دوپٹے پھٹی ہوٸی جینز اور عریاں لباس پہن کر نہیں جاٸے گی ۔ خدارا بند کرو یہ تماشا غریب کی بیٹی ، غریب کی بیٹی ، غیب کی بیٹی ، خدا کے لیے مت بناو تماشا غریب کی بیٹی کے دوپٹے کا کیونکہ غریب ہے تو کیا ہوا اس کے پاس غیرت مند باپ ، عزت دار بھاٸی ، عزت دار شوہر موجود ہے اس کی فکر کرنے کے لیے جو اس کےسر پر سے کبھی چادر اترنے نہیں دیتے ، غریب کی بیٹی کے پاس چار محافظ موجود ہیں جو اس کی عزت کے رکھوالے ہیں ۔

    غریب کی بیٹی کی چادر کی فکر کرنے والے دانشوروں فکر کرنی ہے تو آٶ فکر کرتے ہیں ، اس بیچاری غریب لڑکی کا جس کے پاس نا تو غیرت مند باپ ہے نا عزت دار بھاٸی اور شوہر ، آٶ فکر کریں اس بیچاری عورت کی جسے روز نیم عریاں لباس پہن کر ، کبھی چند روپے کے شیمپو اور صابن کے لیے ٹی وی پر آ کر نہانا پڑتا ہے سب کے سامنے ، کبھی اسے چند منٹ کے ڈرامے کے لیے کسی نامحرم کے بستر پر اس کے ساتھ لیٹنا پڑتا ہے ، کبھی اسے عریاں لباس پہن کر ایوارڈ شو میں نامحرم کی بانہوں میں ناچنا پڑتا ہے ، تاکہ اس بیچاری کے باپ ، بھاٸی ، شوہر کو اس کا بوجھ نا اٹھانا پڑے بلکہ یہ خود کما کر انہیں کھلاٸیں ۔ غریب کی بیٹی کی چادر کی فکر کرنے والو ! ان امیروں کی بیٹیوں کے دکھ سمجھو ، انہیں اپنی زکوة ، خیرات اور صدقات میں سے حصہ دیں تاکہ یہ بیچاریاں پھٹی ہوٸی جینز ، عریاں لباس اور بغیر دوپٹے کے گھومنے کی بجاٸے با پردہ اور پورا لباس خرید کر پہن سکیں ۔ غریب کی بیٹی کی چادر کی فکر کرنے والے مفکرو ! آٶ امیر کی بیٹی کا درد سمجھیں تاکہ اسے دو دو ٹکے کے نامحرم لوگوں کے ساتھ ناجاٸز ڈرامے اور اشتہار نا کرنے پڑیں ، آٶ بنو سہارا ان امیروں کی بیٹیوں کا جن کے تم دیوانے ہو ، جن کے تم فین ہو ، جن کی ذات سے تم متاثر ہو کر ان کی Ids کو فالو کرتے ہو ، ان کی فضول پوسٹس پر پاگلوں کی طرح کمنٹ کرتے ہو تاکہ وہ کسی طرح تم لوگوں کو رپلاٸے دیں ۔ پھر اگر کوٸی رپلاٸے دے دے تو کمنٹ کو سیو کر کے اسے پوسٹ کر کے اپنے چھوٹے پن کاثبوت دیتے ہو ، اور ایسا کرنے سے پہلے یہ بھی نہیں سوچتے کہ یہی ہیں وہ عورتیں جو تماری نسلوں میں بے حیاٸی پھیلا رہی ہیں ، یہی ہیں وہ عورتیں جن کی وجہ سے غریب کی بیٹی کی زندگی عذاب ہورہی ہے ، یہی ہیں وہ عورتیں جن کی وجہ سے غریب کی بیٹی کے باپ کو جہیز کے لیے لمبی لمبی لسٹیں ملتی ہیں ۔ خدارا غریب کی بیٹی کا تماشا نا بناٸیں ،
    ، غریب کی بیٹی اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ وہ نا صرف اپنا سر ڈھانپنا جانتی ہے بلکہ اپنی ، اپنے باپ ، اپنے بھاٸی ، اپنے شوہر اور اپنے بیٹے کی عزت کی حفاظت کرنا بھی جانتی ہے ۔

    اللہ پاک نام نہاد امیروں کی بیٹیوں کو ہدایت عطا فرماٸے اور سب بیٹیوں کی عزت و آبرو کی حفاظت فرماٸے ۔ آمین

  • بنو قریظہ کا خندق کی جنگ میں کردار اور موجودہ حالات     جواد سعید

    بنو قریظہ کا خندق کی جنگ میں کردار اور موجودہ حالات جواد سعید

    خندق کی جنگ بنو قریظہ کے بغیر کبھی بھی وجود میں نہ أتی

    یہ پوسٹ أج نظر سے گزری ۔
    جو کہ أجکل کے حالات میں کفار سے دوستی یا خود مختاری پر غیروں کی امداد۔ وحدہ لا شریک کی مدد سے بے اعتنای برتتی محسوس ہو رہی تھی۔اور شاید کہ مسلم ملک کے زیر اہتمام مودی کو ایوارڈ دینے پر کی جانیوالی تناقید کا جواب تھا۔

    اس نظریے کے رو سے دو تین پہلو نکالے جا سکتے اور تقریبا علاوہ ایک سب غلط ہیں۔
    1⃣پہلا پہلو کہ بنو قریظہ ک بغیر جنگ جیتنا ناممکن تھی
    تو اسکا جواب ہے بدر احد خیبر سبھی بغیر کفار کی مدد سے جیتے۔
    کیا اسوقت بنو قریظہ کا نام وجود قبیلہ نہیں تھا۔؟

    2⃣دوسرا پہلو کہ اس عمل کی رو کفار سے دوستی مصالحانہ معاہدہ کیا جا سکتا ہے۔
    ضرور کیا جا سکتا مگر صرف معاہدہ ۔اس میں بھی ایک حد ہے۔نبی صل اللہ علیہ وسلم نے دوستی نہیں ہمیشہ معاہدانہ رویہ رکھا۔جیسے ہی کسی معاہد نے مخالفت کی۔بجایے طرز دوستی اور بمطابق أج کے مسلمان
    کہ دوستی لگا کر انکی غلط پیش قدمیوں پر بھی انکے احسانات یاد کر کر کے نظر انداز کرنا۔
    ان پر چڑھای کر دی۔ بنو قریظہ کا تو مدینے سے نام ختم کر دیا۔نا کہ انھیں معاف کیا۔اور بعد والوں کیلیٕ تاکید فرمای کہ عرب سے یہود کا انخلا لازمی کرنا۔
    ٕ
    3⃣تیسرا پہلو کہ خندق کی جنگ بنو قریظہ کی مرہون منت ہے۔تو یاد رکھیے جنگ خندق معاملہ تدابیر بہت پہلے سے شروع تھیں
    بنو قریظہ سے معاہدہ تو ایک مصلحت بھرا معاہدہ تھا جسے دنیا تدبیر کے نام سے جانتی ہے۔ اور یہ جنگی تیاری کے أخری مراحل میں وقوع پذیر ہوا۔ مزید کہ اسکے ساتھ کٕی اور قبایل بھی تھے جن سے معاہدہ کیا گیا۔
    کیا انکا کوی نام مدد نہیں حالانکہ سب برابر شامل تھے؟

    4⃣أخر میں ایک پہلو کو ٹھیک کہا جاسکتا۔
    کہ بنو قریظہ ودیگر قبایل سے معاہدہ جنگ خندق کے مزید مشکل نہ ہونے کا سبب بنا

  • مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کا دن اور کشمیر و فلسطین — بلال شوکت آزاد

    مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کا دن اور کشمیر و فلسطین — بلال شوکت آزاد

    آج دنیا بھر میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کا دن ہے۔ سچ پوچھیں تو یہ دن مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر انتہا پسندوں اور تشدد پسندوں پر اجتماعی لعنتیں بھیجنے کے دن کے طور منایا جانا چاہیئے۔

    میرے علم کے مطابق اللہ نے آسمان سے کوئی مذہب اور عقیدہ آدم علیہ سے لیکر حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم تک ایسا نہیں اتارا جو بندوں کو انتہا پسندی اور تشدد پر آمادہ کرے یا انہیں اس کا راستہ دکھائے البتہ بندوں نے حسب منشاء اور اپنی انتہا پسندانہ سوچ کی پرورش کی خاطر مذاہب اور عقائد سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے کھلواڑ کیا۔

    اگر آپ مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر شکار انسانوں کی یاد منانا ہی چاہتے ہیں تو پھر انصاف کے ساتھ حضرت آدم و حوا علیہ اسلام کو بھی یاد کرلیجیئے گا کہ وہ اپنے وقت میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر وقت کے عظیم عابد و زاہد کی مذہبی انتہا پسندی اور روحانی و نفسانی تشدد کا شکار ہوئے تاآنکہ اللہ نے ان علیہ اسلام کو جنت سے نکال کر زمین پر بھیج دیا اور پھر یہ سلسلہ رکا ہی نہیں شیطان اور اسکی ذریت کی وجہ سے۔

    اگر آپ مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر شکار انسانوں کی یاد منانا ہی چاہتے ہیں تو پھر انصاف کے ساتھ حضرت موسی علیہ اسلام اور ان کی قوم کو بھی یاد کرلیجیئے گا کہ وہ اپنے وقت میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر وقت کے ظالم بادشاہ فرعون اور اسکی قوم کی انتہا پسندی اور تشدد کا شکار ہوئے تاآنکہ اللہ نے انہیں اس عذاب مسلسل سے نکالا۔

    اگر آپ مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر شکار انسانوں کی یاد منانا ہی چاہتے ہیں تو پھر انصاف کے ساتھ حضرت عیسی علیہ اسلام کو بھی یاد کرلیجیئے گا کہ وہ اپنے وقت میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر وقت کے ظالم بادشاہ اور اسکی قوم کی انتہا پسندی اور تشدد کا شکار ہوئے تاآنکہ اللہ نے انہیں اس عذاب مسلسل سے نکالا۔

    اگر آپ مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر شکار انسانوں کی یاد منانا ہی چاہتے ہیں تو پھر انصاف کے ساتھ حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کو بھی یاد کرلیجیئے گا کہ وہ اپنے وقت میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر وقت کے ظالم سرداروں اور انکی قوم کی انتہا پسندی اور تشدد کا شکار ہوئے تاآنکہ اللہ نے انہیں اس عذاب مسلسل سے نکالا۔

    کس کس کا نام لوں اور کتنوں کو یاد کروں کہ ادھر تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں ایسے انسانوں کے ناموں سے جو اپنے اپنے وقت میں اپنی جان, مال اور عزت سے گئے کہ ان کے مذاہب اور عقائد یکساں اور متفقہ نہیں تھے ان انتہا پسندوں کے مذاہب اور عقائد کے ساتھ جنہوں نے ان کا جینے کا حق چھین لیا۔

    حالیہ دنوں میں مذہبی اور عقیدہ جاتی انتہا پسندی کی عظیم الشان مثالیں اگر دیکھنی ہوں تو بھارت اور اسرائیل سے بہتر مجھے اور مثال نہیں ملتی کہ ان دو ممالک کے کیا خواص اور کیا عوام؟ دونوں طبقوں میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر انتہا پسندی اور تشدد پسندی اپنے عروج پر ہے اور ان کا شکار مسلمان ہیں, نہتے مسلمان, مظلوم و مقہور مسلمان, زبردستی کے غلام مسلمان قصہ المختصر کشمیر اور فلسطین کے مسلمان کہ وہ سب ان من حیث القوم مذہبی انتہا پسندوں کے مذاہب اور عقائد کی بنیاد پر انکی انتہا پسندی اور تشدد کا شدید شکار ہیں جبکہ دنیا بھر میں معروف امن کی فاختہ اور کبوتر, عالمی عدالت انصاف کی اندھی دیوی اور اقوام متحدہ جو کہ دراصل اقوام شرمندہ کا عالمی ادارہ ہے بھنگ پی کر سوئے ہوئے ہیں اور راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔

    ایک کڑوی ترین حقیقت سے پردہ اٹھا دوں کہ نام نہاد انسانیت و انصاف اور رواداری کے علمبرداروں کی جانب سے اعلان کردہ "مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کے دن” کی مروجہ و نافذالعمل تعریف پر دنیا کا ہر قدیم اور جدید مذہب, عقیدہ, نظریہ اور فرقہ پورا اترتا ہے اور شامل ہے سوائے اسلام اور مسلمانوں کے, نہیں یقین تو ذرا ضمیر کو جھنجھوڑ کر "گلوبل ویلیج” اور "انسانیت ایک مذہب” جیسے کھوکھلے نعروں سے باہر نکل کر نظر دوڑالیں تو آپ کو ایسے ایسے کڑوے سچ سننے پڑھنے اور دیکھنے کو ملیں گے جس کے بعد آپ خود پر خودکشی کو حلال اور فرض کرلیں گے۔

    کیا پاکستان کا قیام اور وجود "مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کا دن” کی واضح اور روشن مثال نہیں کہ جب برصغیر پاک و ہند کی ایک مذہبی اکثریت مذہب و عقیدہ کی بنیاد پر انتہا پسند اور تشدد پسند قوم میں بدلی تو اس قوم کی شکار ایک دوسرے مذہب کی اقلیت ہوئی تو پھر جنم لیا "دو قومی نظریہ” اور "تحریک آزادی” پاکستان نے اور بالآخر پاکستان نقشے پر ابھر کر آیا۔

    اپنے پڑوسی ملک بھارت کی ہی بات کریں کوئی بھی غیر جانبدار انسان, ادارہ, سیاسی پارٹی اور تتظیم چھٹتے ہی بھارت کو مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر انتہا پسند اور پر تشدد ملک قرار دیدے گا کہ کشمیر میں ہر منٹ پر یہ سوکالڈ سیکیولر جمہوریت مذہب کارڈ کی بنیاد پر قتل عام, ظلم, زیادتی, جبری گمشدگیوں, جنسی زیادتیوں اور تمام بنیادی انسانی حقوق کی پامالیوں میں پیش پیش اور سر فہرست ہے۔

    جس کسی انسانیت کے چیمپئن نے یہ دن "مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کا دن” تفویض کیا ہے دنیا کو وہ کوئی مہا منافق ماں باپ کی منافق اولاد ہے کہ جو مرگئے مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر انتہا پسندی اور تشدد کا شکار ہوکر اسے ان کی یاد تو رہ گئی (جو کہ اچھی بات ہے) پر جو ہر منٹ پر کشمیر, فلسطین, شام اور اراکلن میں مر رہے مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر انتہا پسندی اور تشدد کا شکار ہوکر اسے ان کی یاد نہیں آئی؟

    یہ "انسانیت عظیم مذہب اور عقیدہ” کے سطحی سوچ والے سوکالڈ پیروکار سارے ہی منافق ہوتے ہیں اور شومئی قسمت "انسانیت عظیم مذہب اور عقیدہ” میں جتنی انتہا پسندی اور تشدد پسندی پائی جاتی ہے شاید ہی کسی الہامی و انسانی ساختہ مذہب یا عقیدے میں اس کا اتنا وجود ہو؟

    میں ایسے دنوں کو متاثرین کے جلے پر نمک چھڑکنے کے مترادف سمجھتا ہوں کہ جو مرگئے انہیں ہماری دعائیں ہی کافی ہیں جبکہ جو زندہ ہیں پر مرنے کی کگار پر ہیں ہماری سوکالڈ انسانیت اور حکمت و مصلحت کی بھینٹ چڑھ کر ان کا کون پرسان حال ہے زمین پر اللہ کے بعد؟

    میں تو اس دن کی مناسبت سے بس یہی کہوں گا کہ جو لوگ اس دنیا سے مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کا شکار ہوکر چلے گئے اللہ ان کے ساتھ انصاف پر مبنی معاملہ فرمائے پر جو لوگ اس دنیا میں ابھی بھی مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کا شکار ہو رہے ہیں اور حالت نزع میں ہیں اللہ ہمیں انہ سب کو اس ظلم سے نجات دلانے کی توفیق, ہمت اور ہدایت نصیب فرمائے۔

  • پہلے حافظ سعید اب ذاکر نائیک بھارت کے گلی کی ہڈی بن گئے – – – سعید جعفر

    پہلے حافظ سعید اب ذاکر نائیک بھارت کے گلی کی ہڈی بن گئے – – – سعید جعفر

    حافظ سعید کی طرح ڈاکٹر ذاکر نائیک بھی انڈین حکومت کیلئے گلے کی ہڈی بنا ہوا ہے
    کچھ دن پہلے ایک بار پھرانٹرپول نے انڈیا سے فرار ذاکر نائیک کی حوالگی عدم ثبوت کی بنا پر عمل میں نہیں لائی
    میں ہمیشہ سے ذاکر نائیک سے اس کے لباس کی وجہ سے نفرت کرتا چلا آیا
    کیونکہ بچپن سے ہمیں اس لباس سے نفرت سکھائی گئی
    آج سے 15,20سال پہلے تک ہمارے ان دیسی علاقوں میں پینٹ شرٹ کو ایک معیوب لباس سمجھا جاتا تھا
    ہمارے قاری صاحب نے ایک بار پینٹ شرٹ میں آئے معصوم بچوں کو واپس گھر بھیج دیا تھا کہ پہلے انسانوں جیسا لباس پہن کر آؤ
    مگر کچھ بڑے ہوئے تو معلوم ہوا
    کہ ذاکٹر نائیک ایک فزیشن ڈاکٹر ہے
    اس نے جہاں تعلیم حاصل کی وہاں اس طرح کا لباس عام بات تھی
    ڈاکٹر بننے کے بعد ذاکر نائیک میں اسلام کی تڑپ اٹھی
    بے شمار غیر مسلم اس کی دعوت کی وجہ سے اسلام قبول کر چکے ہیں
    ایک عیسائی کی پوسٹ میں نے خود پڑھی تھی کہ اسلام پر ہونے والے جو اعتراضات میرے ذہن میں تھے
    ذاکر نائیک سے مجھے ان سب کے جوابات انتہائی تسلی بخش ملے
    اور وہ مسلمان ہو گیا
    بدقسمتی سے بنگلہ دیش میں ایک بارہونے والے دھماکوں میں ملوث افراد نے خود کو ذاکر نائیک کا پرستار ظاہر کیا
    جس کے بعد ذاکر نائیک پر دہشت گردی کا الزام لگادیا گیا
    حالانکہ وہ داعی مزاج بندے ہیں
    آج کافی عرصے بعد انکا تازہ بیان براہ راست سنا تو دل سے دعا نکلی
    یا اللہ اسے سلامت رکھنا
    پرائیویٹ سکول چلانے والے جو لوگ اسلامی ذہن رکھتے ہیں
    انہیں میں ذاکر نائیک کا ایک بیان جس کا عنوان ہے
    "تعلیم دونوں جہان کیلئے ”
    تجویز کرتا رہتا ہوں
    تین گھنٹے کا بیان ہے
    میں نے پورا سنا ہوا ہے
    پرائیویٹ سکولوں کے مالکان ایک بار تین گھنٹے نکال کر وہ بیان ضرور سنیں