Baaghi TV

Category: مسلم دنیا

  • احیاۓ نشاط ثانیہ کی ضرورت و اہمیت — حاجی فضل محمود انجم

    احیاۓ نشاط ثانیہ کی ضرورت و اہمیت — حاجی فضل محمود انجم

    چنگیز خان کا پوتا ہلاکو خان بغداد پہ حملہ آور ہوتا ہے اور شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا کر اسے تاخت و تاراج اور تہس نہس کر دیتا ہے۔ہر طرف تباہی و بربادی دکھائی دیتی ہے۔

    شہر کو تباہ و برباد کرنے کے بعد وہ اپنا دربار منعقد کرتا ہے۔اس کا رعب و دبدبہ عروج پر ہے۔کیوں نہ ہو ؟ اسلئے کہ وہ فاتح ہے۔وقت کا حاکم ہے اور حاکم بھی وہ جو سفاکیت اور بربریت کی ایک زندہ تصویر ہے۔ایسے میں اس کے سامنے مسلمانوں کے خلیفہ "معتصم” کو لایا جاتا ہے جو سر تا پا زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے۔محکوم خلیفہ اپنے حاکم کے سامنے حسرت و یاس کی تصویر بن کر موجود ہے۔ اسی دوران کھانے کا وقت ہو جاتا ہے۔ہلاکو کے سامنے سادہ کھانا رکھا جاتا ہے اور معتصم کے سامنے ہیرے جواہرات اور سونے چاندی سے بھرے ہوۓ طشت رکھ دئیے جاتے ہیں۔ہلاکو زنجیروں میں جکڑے معزول خلیفہ کو کھانا شروع کرنے کیلئے کہتا ہے۔معتصم حیران ہو کر ہلاکو کی طرف دیکھتا ہے۔ہلاکو کڑک دار آواز میں اسے کہتا ہے:-

    ” کھاؤ، پیٹ بھر کر کھاؤ، جو سونا چاندی تم اکٹھا کرتے تھے وہ کھاؤ "بغداد کا خلیفہ اور مسلمانوں کا تاجدار بے بسی و بےچارگی کی تصویر بنا کھڑا ہے اور کہتا ہے ” میں یہ کیسے کھاؤں یہ کوئی کھانے کی چیز ہے” ہلاکو فورا” کہتا ہے کہ اگر یہ کھانے کی چیز نہیں ہے تو تو نے یہ سونا اور چاندی ہیرے اور جواہرات جمع کیوں کئے۔افسوس اس بات پر کہ وہ مسلمان جسے اس کا دین ہتھیار بنانے گھوڑے پالنے اور جہاد کی تیاری کا حکم دیتا ہے ان کا خلیفہ اس کی بات کا کوئی جواب نہ دے سکا۔ہلاکو کے سوال ایک تازیانہ بن کر اس پہ برس رہے تھے لیکن معتصم بس ایک ہی جواب دے سکا اور وہ یہ کہ ” اللہ کی یہی مرضی تھی” ہلاکو اسے کہتا ہے کہ "اب تمہارے ساتھ جو گا یہ بھی اسی اللہ ہی کی مرضی ہو گی۔
    ہلاکو خان نے معتصم بااللہ کو مخصوص لبادے میں لپیٹ کر گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روندنے کا حکم دیا اور چشم فلک نے دیکھا کہ ظلم و بربریت کے دلدادہ اس شخص نے بغداد کو مسلمانوں کیلئے قبرستان بنا دیا ۔ہلاکو نے کہا ” آج میں نے بغداد کو ‏صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا ہے اور آج کے بعد دنیا کی کوئی طاقت اسے پہلے والا بغداد نہیں بنا سکے گی اور ایسا ہی ہوا۔سقوط بغداد سے لیکر آج تک اس شہر کو وہ پہلے جیسی حیثیت دوبارا نہ مل سکی لیکن مسلمان قوم نے اس پر بھی کوئی سبق نہ سیکھا بلکہ ان اندوہناک گھڑیوں میں بھی اس وقت کے مسلمان علماء اور وارثان محراب و منبر پورے کروفر اور جبہ و دستار کے ساتھ بغداد کی مسجدوں اور گلیوں میں اس بات پر مناظرے کر رہے تھے کہ "کوا حلال ہے یا حرام ہے”

    ہم اہنے برصغیر کی بات کریں تو ذرا تصور کریں کہ جب یورپ کے چپے چپے پر تجربہ گاہیں اور تحقیقاتی مراکز قائم ہو رہے تھے تب یہاں کا ایک بادشاہ شاہجہاں اپنی دولت و ثروت کا سہارا لے کر اپنی محبوبہ کی یاد میں دنیا کا عجوبہ تاج محل تعمیر کروا رہا تھا لیکن دوسری طرف اس کے مقابلے میں برطانیہ کا بادشاہ اپنی ملکہ کے ڈلیوری کی حالت میں وفات پا جانے پر کنگ ایڈورڈ میڈیکل اسکول کی بنیادیں رکھ رہا تھا اس دور میں ہمارے یہاں بادشاہوں کے درباروں میں گوئیے اور بھانڈ قبضہ کئے ہوۓ تھے۔ خوبصورت اور نازک اندام رقاصاؤں سے دل بہلاۓ جا رہے تھے اور مسخرے بادشاہ سلامت کی دلجوئی و تفنن طبع کیلئے ہمہ وقت موجود تھے تو اس وقت یورپ میں بڑی بڑی یونیورسٹیاں اور درسگاہیں بنائی جارہی تھیں۔ادھر ہمارے ارباب بست و کشاد شراب و کباب و شراب سے لطف اندوز ہونے میں مصروف تھے ادھر یورپ میں بحری بیڑے تیار کئے جا رہے تھے۔

    ادھر رقص و سرود کی محفلیں برپا تھیں جہاں تان سین اور دوسرے گلوکار اپنی تانیں بکھیر رہے تھے تو ادھر یورپ میں علوم و فنون کے سوتے پھوٹ رہے تھے اور نت نئی ایجادات ہو رہی تھیں۔ادھر عیاشی و فحاشی کا دور دورہ تھا تو ادھر صلیب کے رکھوالے پوری دنیا کو زیر دام لانے کے لئے منصوبے بنا رہے تھے۔سلطنت برطانیہ میں سورج کا غروب نہ ہونا اس کی واضح مثال ہے۔مسلمان بادشاہوں کی عیاشیوں کے ضمن میں صرف ایک مثال محمد شاہ رنگیلا کی دینا چاہوں گا۔ محمد شاہ رنگیلا کے شب و روز کا معمول یہ تھا کہ صبح کے وقت وہ درشن کیلئے جھروکے میں جا کر بیٹھ جاتا ۔ کوئی سوالی آ جاتا تو اس کی داد و فریاد سن لیتا نہ آتا تو بٹیروں اور ہاتھیوں کی لڑائیوں سے دل بہلاتا رہتا ۔ سہ پہر کے وقت بازی گروں نقالوں اور بھانڈوں کے فن سے لطف اندوز ہوتا جبکہ اس کی شامیں رقص و موسیقی کی محفلوں میں گزرتیں اور راتیں حسین و جمیل دوشیزاؤں اور حرم میں موجود لونڈیوں سے داد عیش دیتے ہوۓ بیت جاتیں۔بادشاہ کو ایک اور شوق بھی تھا۔ وہ اکثر زنانہ لباس پہننا پسند کرتے تھے اور ریشمی پشواز زیبِ تن فرما کر دربار میں تشریف لاتے تھے، اس وقت ان کے پاؤں میں موتیوں جڑے جوتے ہوا کرتے تھے۔”محمد شاہ رنگیلا کتنا رنگیلا” نامی کتاب اس کی ان داستانوں سے بھری پڑی ہے جس میں یہ بھی لکھا ہے کہ اس نے غصے میں آکر اپنی پسندیدہ گائیکہ کو اپنا پہنا ہوا جوتا دے مارا اور وہ جوتا اس سے واپس نہیں لیا۔یہ جوتا اپنی قیمت کے اعتبار سے اس عورت کی سات نسلوں کیلئے کافی تھا۔

    قارئین دوسری طرف یہ تاریخ بڑی بے رحم ہے۔اسے اس بات سے کچھ غرض نہیں ہوتی کہ بادشاہ کے پاس دولت تھی یا نہیں تھی۔اس کے دربار میں خوشامدی مراثی طبلہ نواز بھانڈ اور جی حضورئیے موجود تھے یا نہیں تھے بلکہ تاریخ صرف اور صرف اس کی حاصل کی گئی کامیابیاں دیکھتی ہے وہ اس کے علاوہ وہ اور کچھ نہیں دیکھتی اور نہ ہی کوئی اور عذر قبول کرتی ہے۔ لیکن ہم نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور ہم وہی پریکٹس اب بھی جاری رکھے ہوۓ ہیں ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ اصل میں علم و ہنر سے دوری ہی ہمارے زوال کا اہم سبب ہے۔ آج ہم علم و ہنر سے محرومی ہی کی وجہ سے زوال کا شکار ہیں ۔ کل جب قدرت نے عروج اور ترقی کا تاج ہمارے سروں پر رکھا تھا تو ہم اسے مضبوطی سے تھام نہ سکے ۔ ہم علم و ہنر کے فروغ سے روگردانی کے مرتکب ہوئے تھے اور ایسی کوئی بنیاد نہیں رکھ سکے تھے، جس کے بل بوتے پر ہم اپنے لیے دوبارہ ترقی کی عمارت تعمیر کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے ہم آخری مرتبہ گرے ہیں تو اب تک نہیں سنبھل سکے۔اقبال نے کیاخوب کہا تھا :-

    گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
    ثریا سے زمیں پہ آسماں نے ہم کو دے مارا

    حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی قوم جب اخلاقی برائیوں میں گھر جاتی ہے اور حرام کاری، زنا کاری، اور برے کاموں کی حدوں کو پار کرلیتی ہے تو اللہ رب العالمین اس پہ اسی جیسے حکمران مقرر کر دیتا ہے اور  دوسری اقوام کو ان پر مسلط کردیتا ہے، اگر وہ ایک سلجھی ہوئی اور سمجھدار قوم ہے تو ڈوبنے کے بعد دوبارہ ابھرنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن اگر اس کے اندر اپنا محاسبہ کرنے خود کو سدھارنے اور حالات سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہوتی تو پھر وہ تاریخ کے صفحات میں گم ہوجاتی ہے اور ایک قصہ پارینہ بن کے رہ جاتی ہے۔ہمیں اب اس بات پہ غور کرنا ہے کہ اگرہم بطور مسلمان چاہتے ہیں کہ وہ خیر امت ہی رہیں تو انہیں اپنی نسلوں کو تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ دین کا خوگر بنانا ہوگا، انہیں صحیح غلط کا فرق سمجھانا ہوگا،انہیں اچھے اور برے کی تمیز سکھانا ہوگی۔ انہیں حلال و حرام کی تمیز سکھانی ہو گی، انہیں اخلاق کی اعلی قدروں پہ فائز کرنا ہوگا، تبھی جا کے حقیقی کامیابی نصیب ہو پائے گی، ورنہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان پہ گھیرا تنگ ہوتا جائے گا اور اخیر میں سر پٹک پٹک کے دعائیں مانگنے سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوگا اور ہم یونہی دنیا میں ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے۔کبھی بے ایمانی کی بنیاد ہر۔کبھی بد عنوانی کی بنیاد پر اور کبھی اخلاقی بنیاد پر اور پھر سانحہ بغداد جیسا کوئی ہمارے تعاقب میں ہوگا۔

  • محمد رسول اللہﷺ کی تلواریں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    محمد رسول اللہﷺ کی تلواریں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    نبی کریم ﷺ کی ملکیت میں کئی تلواریں تھیں۔امام سیوطی کہتے ہیں کہ آپﷺ کے پاس سات تلواریں تھیں۔ابن حجر ہیثمی نے لکھا ہے کہ آپ ﷺ کے پاس آٹھ تلواریں تھیں۔ ہر تلوار کا اپنا نام تھا۔ ابن سعد نے سات تلواروں کے نام نقل کئے ہیں۔

    ماثور، ذولفقار، قلعی، بتار، حتف،مخذم، رسوب

    ان میں سے تین تلواریں ۔قلعی، بتار، حتف۔ آپﷺ کو غزوہ بنی قینقاع کے مال غنیمت میں ملی تھیں۔ابن القیم نے نو تلواروں کا ذکر کیا ہے۔یوسف صالحی کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے پاس گیارہ تلواریں تھیں۔آج کل نو تلواروں کی رسول اللہﷺ کی طرف نسبت معروف ہے۔ان میں سے آٹھ تلواریں استنبول کے عجائب گھر توپ کاپی میں محفوظ ہیں۔جبکہ ایک تلوار مصر کی ایک مسجد میں ہے

    1- البتار

    البتار رسول اللہﷺ کی معروف تلوار ہے ۔
    البتّار کا معنیٰ السيف القاطع یعنی کاٹ دینے والی تلوار ہے۔
    اس کی لمبائی 101 سینٹی میٹر ہے۔ اسے سیف الانبیاء یعنی نبیوں کی تلوار بھی کہا جاتا ہے، یہ تلوار نبی ﷺ کو یثرب کے یہودی قبیلے بنو قینقاع سے مالِ غنیمت کے طور پر ملی تھی۔

    یہ تلوار حضرت داؤود علیہ السلام کو اس وقت مالِ غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی جب ان کی عمر بیس سال سے بھی کم تھی۔ اس تلوار پر ایک تصویر بھی بنی ہوئی ہے جس میں حضرت داؤودعلیہ السلام کو جالوت کا سر قلم کرتے دکھایا گیا ہے جو کہ اس تلوار کا اصلی مالک تھا۔ مزید تلوار پر ایک ایسا نشان بھی بنا ہوا ہے جو بتراء شہر کے قدیمی عرب باشندے (البادیون) اپنی ملکیتی اَشیاء پر بنایا کرتے تھے۔
    اس تلوار پر حضرت داؤود علیہ السلام ، سلیمان علیہ السلام ، ہارون علیہ السلام ، یسع علیہ السلام ، زکریا علیہ السلام ، یحیٰ علیہ السلام ، عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اسماء مبارکہ کنندہ ہیں۔
    آج کل یہ تلوار ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’توپ کاپی میں محفوظ ہے۔

    2- الذوالفقار

    یہ تلوار رسول اللہ ﷺ کو غزوہ بدر میں بطور مالِ غنیمت ملی تھی۔ اس کو رسول اللہﷺ ہر وقت پاس رکھتے تھے۔عاص بن وائل کی ملکیت میں تھی۔جو غزوہ بدر میں قتل ہوا۔فتح مکہ کے وقت یہ تلوار رسول اللہﷺ کے پاس تھی۔یہ تلوار بعد میں عباسی خلفاء کے پاس رہی۔
    بعض روایات کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ تلوار حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو عطا فرما دی تھی۔ غزوہِ اُحد میں حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ اسی تلوار کے ساتھ میدانِ جنگ میں اُترے اور مشرکینِ مکہ کے کئی بڑے بڑے سرداروں کو واصلِ جہنم کیا۔ اکثر حوالے اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ تلوار خاندانِ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ میں باقی رہی۔ اس تلوار کی وجہِ شہرت یا تو دو دھاری ہونے کی وجہ سے ہے یا پھر اس پر بنے ہوئے ہوئے دو نوک نقش و نگار کی وجہ سے ہے۔
    اس تلوار کی کل لمبائی 104 سینٹی میٹر جس میں 15 سینٹی میٹر چوڑا دستہ ہے۔۔۔
    یہ تلوار بھی استنبول کے توپ کاپی میوزیم میں محفوظ ہے.

    3- العضب

    (العضب یعنی تیز دھار والی)
    عضب تلوار رسول اللہﷺ کو حضرت سعد بن عبادہ نے تحفے میں دی تھی۔ روایات کے مطابق یہ تلوار غزوہ بدر سے قبل آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کی گئی تھی۔
    اور یہی وہ تلوار ہے جو آپﷺ نے غزوہ اُحد میں حضرت ابودجانہ کو عطا کی۔ یہ تلوار مصر کے دار الحکومت قاہرہ کی ایک مسجد جس کا نام مسجد حسین بن علی ہے، میں محفوظ رکھی گئی ہے۔
    آجکل یہ تلوار مصر کے شہر قاہرہ کی مشہور جامع مسجد الحسین بن علی میں محفوظ ہے۔

    4-الماثور

    یہ تلوار حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے والد ماجد کی وراثت کے طور پر ملی تھی۔
    یہ تلوار ایک اور نام ’ماثور الفجر‘ سے بھی مشہور ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی معیت میں جب یثرب کی طرف حجرت فرمائی تو یہی تلوارآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی۔ بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تلوار بمعہ دیگر چند دوسرے جنگی سامان کے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو عطا فرما دیئے تھے۔
    اس تلوار کا دستہ سونے کا ہے ۔اور اس تلوار کی لمبائی 99 سینٹی میٹر ہے

    5- الحتف

    یہ تلوار بھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یثرب کے یہودی قبیلے بنو قینقاع سے مالِ غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی۔
    اس تلوار کے بارے میں یہ روایت ہے کہ یہ تلوار حضرت داؤود کے مبارک ہاتھوں سے بنی ہوئی ہے ، یہ تلوار یہودیوں کے قبیلے لاوی کے پاس اپنے باپ داداؤں سے بنو اسرائیل کی نشانیوں کے طور پر نسل در نسل چلی آرہی تھی، حتیٰ کہ آخر میں یہ نبی ﷺ کے مبارک ہاتھوں میں مالِ غنیمت کے طور پر پہنچی۔
    حتف تلوار کی لمبائی 112 سینٹی میٹر اور چوڑائی 8 سینٹی میٹر ہے۔ یہ تلوار بھی ترکی کے توپ کاپی عجائب گھر میں محفوظ ہے۔

    6- المخذم

    اس تلوار کے حوالے سے دو مختلف آراء سامنےآتی ہیں۔
    اول یہ تلوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو عطا فرمائی اور بعد میں اولادِ علی میں وراثت کے طور پر نسل در نسل چلتی رہی۔ دوئم یہ تلوار سیدنا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اہلِ شام کےساتھ ایک معرکہ میں مالِ غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی۔ اس تلوار پر ’زین الدین العابدین‘ کے الفاظ کنندہ ہیں۔
    اس تلوار کی لمبائی 97 سینٹی میٹر ہے۔
    اور آجکل یہ تلوار بھی ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’توپ کاپی استنبول‘ میں محفوظ ہے۔

    7- القضیب

    یہ کم چوڑائی والی سلاخ نما تلوار ہے۔ جو سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ دفاع کی خاطر تو ضرور موجود رہی ہوگی مگر غزوات میں آپ ﷺ نے اس کا استعمال نہیں کیا۔ واللہ اعلم۔
    تلوار پر چاندی کے ساتھ ’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔ محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب‘ کے الفاظ کنندہ ہیں۔
    اس تلوار کی لمبائی 100 سینٹی میٹر ہے اور اس تلوار کی میان کسی جانور کی کھال کی بنی ہوئی ہے۔
    اورآجکل یہ تلوار بھی ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’توپ کاپی استنبول‘ میں محفوظ ہے۔

    8- القلعی

    رسول اللہ ﷺ کی ایک تلوار کا نام القلعی تھا، اس قلعی تلوار ان تین تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جو رسول اللہ ﷺ کو مدینہ کے یہودی قبیلے بنو قینقاع سے جنگ میں مالِ غنیمت کے طور پر ملی تھیں۔
    تلوار کی لمبائی 100 سینٹی میٹر ہے اورتلوار کی خوبصورت میان اسکو دوسری تلواروں میں ایک نمایاں مقام دیتی ہے۔
    یہ تلوار بھی ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’’توپ کاپی‘‘استنبول میں محفوظ ہے۔

    9- رسوب

    یہ تلوار نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملکیتی 9 تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔ تلوار پر سنہری دائرے بنے ہوئے ہیں جن پر حضرت جعفر الصادق رضی اللہ عنہ کا اسم گرامی کنندہ ہے۔
    اس تلوار کی لمبائی 140 سینٹی میٹر ہے ۔
    یہ بھی استنبول میں توپ کاپی عجائب گھر میں محفوظ ہے۔

  • کوہ نور :  تاج برطانیہ، پاکستان، افغانستان اور بھارت —  ارشد خان صافی

    کوہ نور : تاج برطانیہ، پاکستان، افغانستان اور بھارت — ارشد خان صافی

    ملکہ برطانیہ کے وفات کے تناظر میں کئی تاریخی واقعات و نوادرات کے علاوہ کوہ نور ہیرے کا تذکرہ بھی پھر سے ہونے لگا جو کہ اب شاہی قانون کے تحت بادشاہ بننے والے شہزادہ چارلس کی بیگم کامیلا پارکر کو منتقل ہوجائیگا! کچھ دوستوں کی گزارش پر اس تاریخی نادر پتھر اور شاہی زیور پر مختلف ممالک کی دعویداری کے قانونی پس منظر پرکچھ گزارشات حسب ذیل ہیں:

    مرغی کے چھوٹے انڈے کے سائز کا ہیرا کوہ نور عام تاثر کے برعکس نا تو دنیا کا سب سے بڑا ہیرا ہے اور نا ہی یہ مغلوں کے جواہرات کے خزانے کا سب سے شاندار ہیرا تھا لیکن قرون وسطیٰ سے لیکر آج تک کئی عظیم شاہی خاندانوں کے تاج و تخت کی زینت بننے اور عالمی محلاتی سیاست میں اسکے کردار کی وجہ سے یہ آج دنیا کے بیش قیمت بلکہ انمول نوادرات میں سرفہرست ہے-

    تخت برطانیہ کے تصرف میں یہ ہیرا 1849 میں دوسرے اینگلو-سکھ جنگ کے برطانوی فتح کیساتھ اختتام پر برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کے گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی اور رنجیت سنگھ کے 11 سالہ پوتے اور جانشین دلیپ سنگھ کے درمیان معاہدہ لاہور کے تحت آیا جس کےساتھ تخت لاہور پر مسلمانوں کے ایک ہزار سالہ اقتدار کے دوران 39 سالہ سکھ راج کا بھی خاتمہ ہوگیا تھا-

    لارڈ ڈلہوزی نے پنجاب کو برٹش انڈیا میں شامل کرکے کوہ نور ہیرے کے ساتھ دلیپ سنگھ کو بھی ملکہ وکٹوریہ کے پاس برطانیہ بھیج دیا تھا جہاں پر بعد میں وہ عیسائی مذہب اختیار کرکے برطانوی اشرافیہ کا حصہ بن گیا- دلچسپ بات یہ ہے کہ اس "معاہدے” کو میری ناقص معلومات میں کبھی برطانوی حکومت نے کوہ نور پر تاج برطانیہ کی ملکیت کے واحد قانونی جواز کے طور پر پیش نہیں کیا- اسکی وجہ ظاہر ہے یہی ہےکہ برطانیہ کے اپنے کامن لاء کیمطابق بھی ایک نابالغ لڑکے کے ساتھ جبر کی حالت میں کے گئے معاہدے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے-

    اسکے برعکس ہیرے پر ہر دعوے کے جواب میں برطانیہ کے سرکار کا عمومی سادہ سا جواب یہ ہوتا ہے کہ ہیرے کے تاریخی طور پر کئی دعویداروں کی موجودگی میں اسکی ملکیت کے معاملے کو حل کرنا ممکن نہیں جن میں کئی افراد کے علاوہ بھارت، پاکستان اور افغانستان کی ریاستیں بھی شامل ہیں لہٰذا یہ تاج برطانیہ کے پاس ہی بہتر ہے-

    کوہاٹ (خیبر پختونخوا) میں شاہی پسمنظر کی بدولت انگریز دور میں جاگیر رکھنے والے احمد شاہ ابدالی کے خاندان کے پرنس سلطان سدوزئی کے خاندان کے ایک فرد نے درانی سلطنت کے ایک جانشین کی حیثیت سے 1993 میں آنجہانی ملکہ الزبتھ کو ایک خط لکھ کر کوہ نور کو انکے خاندانی وراثت کے طور پر پاکستان واپس کرنے کی درخواست کی تھی-

    جواب میں 18 اکتوبر 1993 کو لکھے گیے ایک خط میں بکنگھم پلس کے رائل کولکشنز کے ایدمنسٹریٹر ڈنیل ہنٹ نے ملکہ کی توسط سے خط کیلئے شکریہ اور ابدالی کے خاندان کیلئے احترام کے جذبات کے ساتھ انتہائی مہذب انداز میں اسی بنیاد پر ان کی درخواست رد کردی تھی کہ بوجوہ اس ہیرے کے بیشمار دعویدار ہیں-

    کوہ نور پر متعدد قانونی دعویداروں کا تاریخی پس منظر کچھ یوں ہے کہ یہ ہیرا کچھ روایات اور مستند تاریخ کیمطابق قرون وسطیٰ (چودھویں صدی عیسوی سے پہلے) میں جنوب مشرقی بھارت کے ساحلی ریاست اندرا پردیش میں کرشنا دریا کے کنارے کلور کے کانوں میں نکالا گیا تھا- مغل سلطنت کے بانی ظہیرالدّین بابر کی سولہویں صدی میں لکھی سوانح حیات تزک بابری کے مطابق مغلوں سے پہلے دہلی کے سب سے طاقتور مسلمان حکمران علاالدّین خلجی نے چودھوی صدی کےاوائل میں جنوبی ہند میں اپنے فتوحات کے دوران اس ہیرے کو دکن کی مقامی کاکٹیا حکمرانوں سے چھینا تھا-

    سلطان علاالدّین خلجی اصلی نام علی گرشاسپ تھا اور وہ موجودہ افغانستان کے زابل صوبے میں قلات خلجی کے ترکمن سردار شمس الدین مسعود کا بیٹا تھا- خلجی سلطنت کے بعد کوہ نور تغلق، سیدوں اور لودھی پٹھانوں سے ہوتے ہوۓ مغل شہشاہوں کے ہاتھ آیا اور مغلوں کے عروج کے دور میں تاج محل کے معمار شاہجہان نے اسے کئی دوسرے جواہرات کے ساتھ اپنے مشہور تخت طاؤس کا حصہ بنایا! سو سال بعد مغلوں کے زوال کے دورکے نااہل ترین عیاش حکمران محمد شاہ رنگیلاکے رہے سہے سلطنت پر 1739 میں جب ایران کے آتش مزاج پادشاہ نادر شاہ افشار نے حملہ کیا تو دہلی کے لوٹ مار کے ساتھ تخت طاؤس اور کوہ نور بھی ایران لے گیا- ملتان میں پیدا ہونے والے جوان سال پشتون احمد شاہ ابدالی جنہوں نے بعد میں کندھار اور لاہور کو اپنے مراکز بنا کرموجودہ افغانستان اور پاکستان پر مشتمل درانی سلطنت بنائی اس وقت نادر شاہ کے پسندیدہ کمانڈر کے طور پر ایرانی فوج کے افسر تھے-

    نادر شاہ کے اچانک قتل کے بعد دشمنوں سے خوفزدہ انکے نواسے نے اپنی حمایت کے عوض کوہ نور احمد شاہ ابدالی کو دے دیا اور اس طرح بعد میں یہ دبنگ احمد شاہ بابا کے عیاش کابلی نواسے اور درانی سلطنت کے سب سے نااہل کابلی حکمران شاہ شجاع کو وراثت میں مل گیا-

    1813 میں شاہ شجاع نے رنجیت سنگھ اور خطے میں قدم جماتے انگریزوں کے ساتھ ایک ڈیل کے تحت کابل اور کندھار کی حکمرانی کو انکے حریف برکزئی امیروں کے قبضے سے واپس چھڑانے میں مدد اور پنجاب میں پناہ کے بدلے نا صرف کوہ نور رنجیت سنگھ کے حوالے کیا بلکہ رنجیت سنگھ کو پشاور پر قبضہ کرنے میں سہولتکاری کا وعدہ بھی کیا- آخر کار کوہ نور انگریزوں کے ہاتھوں رنجیت سنگھ کے سلطنت کے خاتمے کے ساتھ اپنے موجودہ مقام پر پہنچا جسکا خلاصہ میں شروع میں کر چکا ہوں!

    مندرہ بالا تاریخ کے تناظر میں بھارت کی حکومت نے پہلی دفعہ 1976 میں باضابطہ طور پر برطانیہ سے کوہ نور کی واپسی کا مطالبہ کیا اور اسی سال پاکستان کے وزیراعظم زوالفقارعلی بھٹو نے بھی "تاریخی بنیاد” پر یہ مطالبہ پاکستان کیلئے کیا- اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم جم کلنگھن نے دونوں ملکوں کا مطالبہ "قانونی وجوہات” کا جواز بنا کر مسترد کردیا! اس کے بھارت میں طویل عرصے تک اس معاملے پربھارتی سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن پر شنوائی ہوتی رہی اور پارلیمنٹ میں اس پرقراردادیں منظور ہوتی رہیں جبکہ پاکستان میں اس سلسلے میں قابل ذکر کیس بیرسٹر جاوید جعفری کا لاہور ہائی کورٹ میں داخل 2016 کا پٹیشن تھا جو انکے مطابق انکی طرف سے برطانوی حکومت کو 700 سے زیادہ خطوط کا کوئی مثبت جواب نا ملنے پر کورٹ نے قابل سماعت قرار دیا تھا-

    انہی دنوں میں بھارتی سپریم کورٹ میں اس نوعیت کا کیس اختتامی مراحل میں تھا- پاکستان کیلئے کوہ نور کے دعویداروں کا موقف یہ تھا کہ ہیرے کے آخری قانونی دعویدار احمد شاہی خاندان ہو یا رنجیت سنگھ، چونکہ شاہ شجاع بھی تخت لاہور کا اپنی مرضی سے اتحادی بن گیا تھا اسلئے دونوں صورتوں میں یہ "تخت لاہور” سے معاہدہ لاہور کے جبری سمجھوتے کے تحت ایک غیر ملکی غاصب کمپنی نے زبردستی بٹورا ہے اسلئے اسے واپس لاہور بھیج دیا جاۓ- برطانوی حکومت کا نیا موقف بھی قانونی جواز سے زیادہ متضاد دعووں کی وجہ سےعملی پیچیدگیوں کی بنیاد پر تھا جسکا اظہار برٹش رائل کولکشنز کے ایڈمنسٹریٹر ڈنیل ہنٹ نے خیبرپختونخوا پاکستان کے پرنس طیفور جان کو ان کے احمد شاہ ابدالی کے خاندان کے ایک مستند وارث کی حیثیت سے کوہ نور پر اسکے دعوی کے سرکاری جواب میں 1993 میں کیا تھا-

    پاک و ہند کے روایتی متضاد دعووں کے درمیان سب سے دلچسپ اور سیدھا سادہ دعوا افغانستان پر 11/9 سے پہلے حکمران ملا عمر کے طالبان امارت سے آیا! اکتوبر 2000 میں طالبان کے امارت اسلامی کے خارجہ امور کے ترجمان فیض احمد فیض نے کسی قانونی اور تاریخی باریکیوں میں پڑے بغیر براہراست ملکہ الزبتھ سے مطالبہ کیا کہ "کوہ نور افغانستان کا قانونی اثاثہ” ہے جسکو "اور کئی قیمتی چیزوں کی طرح انگریزوں نے نوآبادیاتی دور میں چوری کیا ہے” جو کہ طالبان اب واپس لاکر اپنے ملک کی تعمیر نو میں استعمال کرنا چاہتے ہیں اسلئے کوہ نور کو جلد از جلد واپس کیا جاۓ تاکہ اسکو کابل میوزم میں رکھا جاسکے”- اسکیلئے علاوہ طالبان نے رنجیت سنگھ کو "ایک بڑا غدار” قرار دیا جس نے کوہ نور چوری کیا تھا اسے کسی نے دیا نہیں تھا-

    حکومت برطانیہ نے ظاہر ہے طالبان کی حکومت کو غیر قانونی قرار دیتے ہوۓ اس مطالبے پر غور کرنے سے انکار کردیا لیکن ساتھ میں ریاست افغانستان کے دعوے کو مکمل مسترد نا کرکے ایک اور ممکنہ دعویدار کے ہونے کی بحث کھول دی- برطانیہ کا ان متضاد اور متعدد دعووں کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی پالیسی اور ہیرے کی واپسی کے معدوم امکانات کے پیش نظر بھارت میں نریندرا مودی جیسے قوم پرست حکومت نے بھی 2016 میں سپریم کورٹ میں اپنے جواب میں کوہ نور پر برطانوی ملکیت کو اس تاریخی طور پرغلط جواز کے تحت تسلیم کردیا کہ کوہ نور کو رنجیت سنگھ نے خود برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کی حمایت حاصل کرنے کیلئے ایک معاہدے کے تحت برطانیہ کے حوالے کیا تھا گو کہ اسکا "عوامی” سطح پر بھارت کا موقف اب بھی اسکے برعکس ہے اور تقریبا اسی سے ملتا جلتا مبہم سا موقف پاکستانی حکومت نے بھی لاہور ہائی کورٹ میں اختیار کیا- اس طرح جائز یا ناجائز کوہ نور اتنے دعویداروں کی موجودگی میں تاج برطانیہ کے پاس رہا اور شائد ہمیشہ رہیگا!

  • 1965 کی جنگ چونڈہ کا محاذ اور یوم دفاع منانے کا مقصد — نعمان سلطان

    1965 کی جنگ چونڈہ کا محاذ اور یوم دفاع منانے کا مقصد — نعمان سلطان

    "چونڈہ” پاکستان کے ضلع سیالکوٹ کا ایک قصبہ ہے، اس قصبے میں سن 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں سب سے ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی ہوئی۔ اس جنگ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے زیادہ تعداد میں ٹینک لڑائی میں استعمال ہوئے ہیں، یہ جنگ دونوں ملکوں کے درمیان میں راوی اور پنجاب کے درمیانی علاقے میں لڑی گئی۔

    8 ستمبر کو صبح چھ بجے بھارتی فوج نے کنڑول لائن عبور کرتے ہوئے اور تین کالم بناتے ہوئے پاکستانی سر زمین پر حملہ کر دیا ۔ باجرہ گڑھی، نخنال اور چاروہ کے مقامات سے بھارتی فوج نے ایک آرمڈ اور تین انفنٹری ڈویژنز کی مدد سے حملہ شروع کیا اور 12 کلو میٹر تک بغیر کسی مذاحمت کا سامنا کیے آگے بڑھتی رھی۔

    اس دوران پاک فضائیہ نے ان پر ایک حملہ کیا لیکن ان کا کوئی خاص نقصان نہ کر سکی۔ پاکستان کی فوج نے گڈگور کے پاس بھارتی فوج کا راستہ روکا اور 25 کیلوری کے 15 ٹینک پورے بھارتی ڈویژن کا راستہ روک کر کھڑے ہو گئے۔پہلی ہی مڈ بھیڑ میں بھارتی اپنے 3 ٹینک تباہ کروا کے دفاعی پوزیشن پر چلے گئے تھے۔

    چونڈہ کنٹرول لائن سے 30 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ 14 ستمبر کو بھارت نےچونڈہ پر حملہ کیا لیکن آٹھ دن کی شدید جنگ کے باوجود چونڈہ فتح نہ کر سکی اور جنگ بندی تک اپنے 150 ٹینک تباہ کروا کر واپس بھارت لوٹ گئی۔ اس جنگ میں پاک فوج کے جوانوں نے عظیم قربانیاں پیش کیں۔

    چونڈہ کے محاذ پر جنرل ٹکا خان نے بھارتی فوج کے مقابلے میں اپنی عسکری قابلیت کے جوہر دکھائے اگر جنگی ساز و سامان کی بنیاد پر فاتح کا فیصلہ ہوتا تو یقیناً یہ جنگ بھارتی فوج با آسانی جیت جاتی، لیکن یہاں پر پاکستانی فوجیوں نے علامہ اقبال کے شعر کی عملی تفسیر پیش کر دی.

    کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
    مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

    اس محاذ پر جنرل ٹکا خان نے عسکری لحاظ سے وہ حکمت عملی اختیار کی جس کی کامیابی کا دارومدار ان کے جوانوں کے جذبہ ایمانی اور حوصلے پر تھا آپ نے کہا کہ دشمن کے ٹینکوں کو ناکارہ کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اپنے جسم کے ساتھ بم باندھ کر ٹینکوں کے سامنے لیٹ جائیں ۔

    اس حکمتِ عملی کا مقصد یہ تھا کہ جب دشمن کے ٹینک اس جوان کے اوپر سے گزرتے تو بم پھٹنے کی وجہ سے وہ وقتی طور پر ناکارہ ہو جاتے، ایک اچھے کمانڈر کی طرح اس مقصد کے لئے جنرل ٹکا خان نے سب سے پہلے اپنی ذات کو پیش کیا۔

    لیکن جذبہ ایمانی سے سرشار آپ کے ماتحتوں نے آپ کو اس عمل سے روک دیا اور خود کو اس مقصد کے لئے پیش کر دیا چنانچہ آپ نے ان میں سے ضرورت کے مطابق جوان منتخب کر کے انہیں اس مشن کی ذمہ داری سونپ دی اور ان جوانوں نے اللہ کے نام پر وطن عزیز کے دفاع کے لئے اپنی جانوں کو قربان کر دیا ۔

    بھارتی فوج جو اس خوش فہمی میں مبتلا تھی کہ کثرت عسکری ساز و سامان اور ٹینکوں کی بنیاد پر وہ بآسانی چونڈہ کے محاذ پر فتح حاصل کر لے گی جنرل ٹکا خان کی اس عسکری حکمت عملی کے سامنے بےبس ہو گئی اس کے لاتعداد ٹینک محاذ جنگ پر ناکارہ یا تباہ ہو گئے اور وہ جنگ بندی تک فتح کے خواب ہی دیکھتے رہے۔

    بزدل دشمن نے پاکستانی فوج اور قوم کو سرپرائز دینے کے لئے رات کے اندھیرے میں اچانک اور بلااشتعال جو حملہ کیا اس کا جواب افواج پاکستان نے دن کی روشنی میں ہمت اور بہادری کے ساتھ دے کر دشمن کو دن میں تارے دیکھا دئیے اور ثابت کر دیا کہ جنگیں جذبوں سے لڑی جاتیں ہیں ۔

    1965 کی جنگ میں جہاں ہمیں عسکری طور پر فتح حاصل ہوئی وہیں دنیا کو بھارت کی عسکری طاقت کا بھی معلوم ہو گیا کہ بھارتی صرف گفتار کے غازی ہیں اور میدان جنگ میں یہ بھیگی بلی بن جاتے ہیں اور ان کی سرشت میں صرف اور صرف دھوکہ فریب ہے۔
    6 ستمبر کا دن ہم یوم دفاع پاکستان کے طور پر مناتے ہیں تا کہ نئی نسل کو معلوم ہو سکے کہ امن کا راگ الاپنے والا یہ بنیا دھوکے باز ہے اور موقع ملتے ہی یہ پیٹھ پر وار کرتا ہے اور اس کے قول و فعل میں تضاد ہے اس لئے ان کی لچھے دار باتوں میں آنے کی ضرورت نہیں ۔

    یوم دفاع پاکستان منانے کا مقصد ان لوگوں کے سوالات کا جواب دینا ہے جو پوچھتے ہیں کہ فوج نے ہمارے لئے کیا کیا ہے، یوم دفاع پاکستان منا کر ہم ان لوگوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہیں کہ آج ہم اس لئے آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں کیونکہ بوقت ضرورت ہماری فوج نے قوم کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا ۔

    6 ستمبر کے دن ہم اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ جب بھی وطن عزیز کی طرف کسی نے میلی آنکھ سے دیکھا تو ہم اس کے خلاف ہر حد تک جائیں گے، اور ہمارے درمیان چاہے جتنے بھی اختلافات ہوں لیکن وطن عزیز کی حفاظت کے لئے ہم اپنے ذاتی اختلافات پس پشت ڈال کر یک جان ہو کر دشمن کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائیں گے جس سے ٹکرا کر دشمن پاش پاش ہو جائے گا ۔

    نوٹ:– اس مضمون کے لئے معلومات وکی پیڈیا سے حاصل کی گئیں ہیں ۔ پہلے چار پیراگراف وکی پیڈیا کے ہیں ۔

  • "اور جب ہم نے بھارتیوں کی پھینٹی لگائی” — اعجازالحق عثمانی

    "اور جب ہم نے بھارتیوں کی پھینٹی لگائی” — اعجازالحق عثمانی

    جنت نظیر وادی میں مسلسل پسپائی کے بعد ، کئی خیالی پلاؤ پکا کر وہ سرحد عبور کر کے چوروں کی طرح پاکستان میں داخل ہورہے تھے ۔ اسلحے سے لیس ، چھ سو کے قریب ٹینک ساتھ لیے یہ چور کوئی اور نہیں بلکہ ہمسایہ ملک بھارت کے فوجی تھے۔ جو حملے کے خیالی پلاؤ کے ساتھ لاہور میں ناشتہ کرنا چاہتے تھے۔اور یہ دن تھا،6 ستمبر 1965 کا۔

    بونگ پائے، جیدے کی لسی نہاری، ، سری پائے، حلوہ پوری، پٹھورے نا جانے کیا کیا سوچ کر آئے ہونگے۔ انھوں نے لاہور کے قریب بین الاقوامی سرحد عبور کرتے ہوئے لاہور شہر بھی داخل ہونے کی بھر پور کوشش کی۔ مگر آتے ہی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

    ان کا خیال تھا کہ ہم 72 گھنٹوں میں پاکستان پر قبضہ کر لیں گے۔ مگر وہ شاید نہیں جانتے تھے کہ ہمیں یہ قوم 72 منٹ بھی اپنے اوپر غالب نہیں آنے دے گی۔
    ڈیڑھ لاکھ بھارتی فوجیوں کو صرف 150 پاکستانی جوانوں نے 12 گھنٹوں تک پیش قدمی سے روک کر علامہ اقبال کے اس شعر کا عملی مناظر پیش کیا

    کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
    مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
    کافر ہے تو ہے تابعِ تقدیر مسلماں
    مومن ہے تو وہ آپ ہے تقدیر الٰہی

    ایک بھارتی جنرل (جنرل ہربخش سنگھ) اپنی کتاب میں جنگ ستمبر کے بارے میں لکھتا ہے کہ” جنگ ستمبر میں پاکستانی فوج کی کارکردگی بہترین تھی اور فوج انتہائی پر عزم تھی۔ جبکہ بھارتی فوج نے جنگ کی پیشگی منصوبہ بندی کے باوجود کوئی خاص تیاری نہیں کر رکھی تھی”۔

    سنا ہے کہ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ جو 600 ٹینک وہ ساتھ لا رہے ہیں ۔ وہ چھ ستمبر کی صبح لاہور کی سڑکوں پر بھارتی وزیراعظم کو سلامی دیں گے۔ مگر تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ ٹینک سلامی تو نہ دے سکے البتہ انکا قبرستان ضرور بنا۔ کیونکہ

    ہم ہیں جو ریشم و کمخواب سے نازک تر ہیں
    ہم ہیں جو آہن و فولاد سے ٹکراتے ہیں

    ہم نے روندا ہے بیابانوں کو صحراؤں کو
    ہم جو بڑھتے ہیں تو بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں

    بھارت رات کے اندھیرے میں پاکستان میں داخل تو ہوگیا ۔ مگر ناشتہ نہ کر پایا ۔کیونکہ پوری پاکستانی قوم یکجا ہو کر لڑ رہی تھی۔ صرف فوجی ہی نہیں ، تمام پاکستانی میدان جنگ میں اپنے اپنے طریقوں سے لڑ رہے تھے ۔شاعر ، ادیب، گلوکار ، کسان، مزدور ، اساتذہ ، طالب علم ، بچوں ، عورتوں اور زرائع ابلاغ سب کی ایک ہی آواز تھی۔

    ‏ثبوت دیں گے وفا کا یوں،اشتباہ غلط
    ملا کے خاک میں رکھ دیں گےہر سپاہ غلط

    برب کعبہ… ہم آنکھیں نکال چھوڑیں گے
    اٹھی جو ملک کی جانب کوئی نگاہ غلط

    22 ستمبر کو سلامتی کونسل نے ایک ہنگامی اجلاس بلایا ۔ جس میں سلامتی کونسل نے جنگ بندی کے لیے قرار داد پیش کی ۔ سلامتی کونسل کی قرارداد کی روشنی میں صدر پاکستان ایوب خان نے 23 ستمبر تک جنگ بندی کا اعلان کیا ۔ 24 ستمبر کو بھارتیوں کی پھینٹی لگانے پر ملک بھر میں یوم تشکر منایا گیا ۔ اللہ پاک کی حفاظت کرے۔ یہ ملک سدا قائم رہے۔ اور اس کو میلی نگاہ سے دیکھنے والے 1965 کی طرح ہر بار ناکام ہوں (آمین)۔

  • 6 ستمبر 1965 کی مہمان نوازی — طلحہ ملک

    6 ستمبر 1965 کی مہمان نوازی — طلحہ ملک

    وتعز من تشاء وتذل من تشاء پر ایمان رکھنے والی قوم پر بے ایمان بے دین بد مذہب قوم کا یوں بھونڈے انداز میں حملہ آور ہونا ان کی ہمیشہ کے لیے ذلت اور ندامت کا باعث بن گیا۔ 6 ستمبر 1965 کا دن پاکستانیوں میں بحثیت قوم ایمان، اتحاد، تنظیم کا ایک بہترین نمونہ تھا اتنی بڑی فوج کا چھوٹی سی فوج پر اچانک حملہ آور ہونا اور پاکستان کو مکمل تیاری کے ساتھ چاروں طرف سے گھیرنے کا منصوبہ بنانا پاکستان کے وجود پر خدا نہ خواستہ کاری ضرب ثابت ہو سکتا تھا.

    دشمن بحری فوج کا مکمل تیاری کے ساتھ شکار کے قریب ترین پہنچنا، فضائیہ کا اپنے دشمن (پاکستان) پر کمان تان کر رکھنا اور برّی فوج کے اچانک پیٹھ پر وار کا فوری مقابلہ شاید صرف پاکستانی قوم ہی کر سکتی تھی کیونکہ اس قوم کے لیڈر نے اعلان کر دیا تھا کہ لا الہٰ پر ایمان رکھنے والو! آج تمہارے ایمان کا امتحان ہے “کلمے کا ورد کرتے جاؤ آگے بڑھتے جاؤ اور دشمن کو بتا دو کہ اس نے کس قوم کو پکارا ہے” پھر یوں ہوا کہ شہری اور دیہاتی، عام اور خاص ہر چھوٹا بڑا دشمن کے جنگی ہتھیاروں کی طرف بڑھتا گیا یہاں بعض کے ہاتھوں پر بندوقیں اور مختلف ہتھیار تھے مگر ایک ہتھیار تھا جو مشترکہ طور پر سب کے پاس موجود تھا وہ تھا دِل میں ایمان، یہی وجہ ہے کہ نہتے شہری بھی دشمن کی طرف یوں بڑھے کہ ان کے ہاتھوں میں اُن سے بڑے ہتھیار موجود ہیں.

    مگر جائزہ لیا جائے دشمن قوت کا تو ان کے پلید ارادے اتنے مضبوط تھے کہ اس روز ہندوستانی فوج کے متکبر کمانڈر انچیف نے اعلان کیا کہ وہ آج شام جیت کی خوشی میں لاہور کے جم خانہ میں شراب کی محفل سجائیں گے اس کے اس اعلان کے بعد دنیا کی سب سے بہترین میزبان قوم نے عالمی شہرتِ یافتہ مہمان نواز فوج کے ساتھ مل کر ایسی شراب پلائی کہ ان کے اکثر فوجی اس کے ذائقے کو طبیعت پر بوجھل محسوس کرتے ہوئے اپنے ناپاک عزائم کے ساتھ ہی واصلِ جہنم ہو گئے۔ مہمان نوازوں میں اساتذہ، طلبہ، علماء اور غیور شہریوں اور دیہاتیوں کی کثیر تعداد موجود تھی جب کہ فرنٹ پر لڑنے والے مجاہدوں نے شراب نوشی کے نشے میں دھت دشمن کے ناپاک ارادوں کو ناکام بناتے بناتے خود شہادت کا جام تک نوش کر لیا پاکستانی قوم، بحری و برّی فوج اور ائیر فورس کے نوجوانوں کے کارنامے ذکر کرنا چاہوں تو کسی ایک پر بھی لکھنے کا حق ادا نا کر سکوں.

    سب نے مل کر اپنے اپنے شعبے میں دشمن پر ایسا رعب طاری کیا کہ دشمن میلی آنکھ سے دیکھنے کا ارادہ بھی اس ڈر سے نہیں کرتا کہ اس کی آنکھ سلامت نہ رہے گی۔ پاکستان بحثیت قوم پوری دُنیا پر اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے آزادی سے لے کر 2022 کے سیلاب تک پاکستان نے شدید تر آزمائشوں کا سامنا ایک مضبوط قوم بن کر کیا ہے۔

    جب بھی مصیبت آئے تو سب ایک ہو جاتے ہیں قائد کا یہی فرمان تھا اللہ پر ایمان، آپس میں اتحاد اور ایک منظم انداز میں چل کر ہم ہمیشہ کامیابی حاصل کر سکیں گے اور کبھی بھی ندامت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ پاکستانی قوم ہمیشہ میجر عزیز بھٹی، کیپٹن سرور، میجر طفیل، میجر اکرم، راشد منہاس، شبیر شریف، محمد حسین، نائک محمد محفوظ، شیر خان اور حوالدار لالک جان جیسے شہداء کی طرح اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیشہ تیار ہے.

    اور یاد رہے یہ قوم اللہ کی نصرت کے ساتھ ہر ناپاک ارداے کو مٹی میں ملانے کی طاقت رکھتی ہے اب جس کسی کو میلی نگاہ سے پاکستان کی طرف دیکھنا ہو وہ پہلے 6 ستمبر والی مہمان نوازی کا مطالعہ کرنے کی جسارت ضرور کرے۔

  • پاکستان کو درپیش سیلاب کی آفت میں متحدہ عرب امارات کی بروقت مدد!!! —بلال شوکت آزاد

    پاکستان کو درپیش سیلاب کی آفت میں متحدہ عرب امارات کی بروقت مدد!!! —بلال شوکت آزاد

    امت مسلمہ ایک جسم کی طرح ہے, جب جسم کے کسی ایک حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم تکلیف سے بلبلا اٹھتا ہے۔ اس کی نظیر بارہا دیکھنے کو ملی کہ مسلمان ممالک عمومی و خصوصی مواقع پر ہمیشہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ نظر آئے خواہ وہ کسی مسلمان ملک کی دگرگوں معاشی و اقتصادی صورتحال ہو, جنگی و عسکری معاملہ ہو یا پھر قدرتی آفات و مصائب کا زمانہ ہو الغرض کسی بھی لحاظ سے خودکفیل اور طاقتور مسلمان ممالک نے امت مسلمہ کے عظیم نظریہ کے جھنڈے تلے ضرورت مند و کمزور مسلمان ملک کی مدد ضرور کی ہے اور جب تک بحالیات کا کام مکمل نہ ہوا پیٹھ نہیں موڑی۔

    بات کریں پاکستان میں پہلے سے جاری معاشی و اقتصادی تنزلی اور سیاسی بحران کے دوران حالیہ مون سون بارشوں اور ریکارڈ سیلاب کی تو اس مصیبت کی گھڑی میں بھی مسلمان ممالک اور عالمی برادری نے پاکستان کو مکمل مدد کی ناصرف یقین دہانی کروائی بلکہ کئی ممالک نے ہنگامی بنیادوں پر مدد جمع کرنے اور اسکی ترسیل کے لیے طریقہ کار وضع کرنے پر ذمہ دار متعین کردیے ہیں جو جلد از جلد امداد اور بحالی کے کام کو یقینی بنائیں گے۔

    لیکن متحدہ عرب امارات کی پاکستان اور اسکی عوام سے محبت اپنی مثال آپ ہے جس کی نظیر نہیں ملتی کہ جب دیگر ممالک سوچ بچار اور تیاری میں مگن ہوتے ہیں یہ مسلمان ملک پاکستان اور اسکی عوام کے دکھ بانٹنے کے لیے پورے وسائل کے ساتھ اگلے مورچوں پر موجود ہوتا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ متحدہ عرب امارات کے شیوخ کا دوسرا اور سرمائی گھر پاکستان ہےتو یہ قطعی غلط بیانی اور مبالغہ نہیں ہوگا۔

    پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی برادر شپ اور تعلقات کی ایک عظیم تاریخ ہے۔پاکستان ان اولین ممالک میں سے ایک ہے جس نے 1971 میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ دونوں ریاستوں کے باہمی تعلقات تاریخ، مذہب اور ثقافت کی مشترکہ بنیادوں پر استوار ہیں اور دن بہ دن ان میں گرم جوشی اور محبت کی شدت بڑھتی جارہی ہے۔

    دونوں ممالک کے درمیان تمام شعبوں بالخصوص معیشت اور تجارت میں قریبی تعاون ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کو مالی امداد فراہم کی جاتی رہی ہے کہ یہ امداد پاکستان میں معاشی بحرانوں اور بجٹ خسارے کے مسائل سے نمٹنے کے لیے موثر رہی ہے مطلب جس کی وجہ سے پاکستان بہت دفعہ مشکلات بھرے ادوار سے باہر نکلا ہے اور اس وقت متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کی ایک خاطر خواہ تعداد بھی موجود ہے جو ملکی ذرمبادلہ میں اضافے کا باعث ہے اور جنہیں متحدہ عرب امارات حکومت کی جانب سے مکمل مدد اور تحفظ دستیاب ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے حکمران مختلف سماجی اور انسانی شعبوں میں ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد کے لیے پاکستان کو اپنی تکنیکی اور مالیاتی مہارت اور خدمات فراہم کرنے کے لیے کافی مہربان ہیں۔

    اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں مختلف ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں جن میں تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے شعبے شامل ہیں۔

    متحدہ عرب امارات قدرتی آفات کے وقت بے گھر ہونے والی آبادی کو پناہ گاہ، خوراک اور صحت کی دیکھ بھال فراہم کرکے انسانی امداد میں توسیع کرتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی طرف سے گزشتہ دہائیوں کے دوران سیلاب زدگان کو ہمیشہ امداد فراہم کی جاتی رہی ہے۔

    اسی سلسلے کی ایک اور کڑی کے تناظر میں عرب امارات نے دوبارہ پاکستان اور اس کی عوام کو اکیلا نہ چھوڑتے ہوئے حالیہ مون سون اور سیلاب کی مخدوش صورتحال سے دوچار پاکستان کے لیے کل عرب امارات کے صدر جناب شیخ محمد بن زید النہیان کے خصوصی حکم اور ہدایات پر امدادی پیکج کی پہلی پرواز روانہ کی ہے جس میں 3000 ٹن خوراک, طبی سامان اور عارضی پناہ گاہوں کا سامان شامل ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی خبر رساں ایجنسی WAM کے مطابق، صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے پاکستان کو فوری امدادی امداد فراہم کرنے کا حکم دیا تھا، جو موسلا دھار بارشوں اور سیلاب کا سامنا کر رہا ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں، زخمیوں اور بے تحاشہ افراد کے بے گھر ہونے کا خدشہ ہے۔

    اس میں مزید کہا گیا کہ

    "صدر محترم شیخ محمد نے بے گھر افراد کے لیے تمام انسانی امدادی خدمات کی فراہمی کا بھی حکم دیا ہے تاکہ وہ جن چیلنجوں کا سامنا کر رہے ہیں ان پر قابو پانے کی صلاحیت کو بڑھا سکیں”۔

    متحدہ عرب امارات کی امدادی امداد میں خیموں اور پناہ گاہوں کے سامان کے علاوہ تقریباً 3,000 ٹن خوراک کی فراہمی کے ساتھ ساتھ طبی مدد کا سامان بھی شامل ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ

    "متحدہ عرب امارات کی امدادی ٹیمیں متاثرہ افراد کی حفاظت اور ان کی خوراک، طبی اور رسد کی ضروریات کو محفوظ بنانے کی کوششوں سے متعلق پاکستانی کیڈرز اور اداروں کو ہر قسم کی انسانی امداد بھی فراہم کریں گی۔”

    وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فونک گفتگو میں متحدہ عرب امارات کے صدر نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

    ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ

    "عزت مآب شیخ محمد بن زید النہیان نے اس مشکل وقت میں پاکستانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کی۔”

    متحدہ عرب امارات کے صدر نے اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو ہر ممکن مدد کی پیشکش کی ہے۔ اس تناظر میں، انہوں نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ متحدہ عرب امارات فوری طور پر خیموں اور پناہ گاہوں کے سامان کے علاوہ کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ ساتھ مزید طبی اور دواسازی کا سامان بھی بھیجے گا۔

    وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کے صدر کو ملک میں مون سون کی غیر معمولی بارشوں سے ہونے والی ملک گیر تباہی کے بارے میں آگاہ کیا۔

    وزیراعظم نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں متحدہ عرب امارات ہلال احمر اور خلیفہ بن زید فاؤنڈیشن کے جاری امدادی کاموں کا بھی اعتراف کیا۔

    وزیر اعظم شہباز نے امدادی اور امدادی سرگرمیوں میں حکومت کی کوششوں میں مدد کے لیے متحدہ عرب امارات کی بروقت مدد پر صدر کا شکریہ ادا کیا۔

    بیشک متحدہ عرب امارات نے اسی طرح گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان میں آئے سیلابوں اور زلزلوں کے ساتھ ساتھ معاشی بحرانوں میں بھی ہمیشہ پاکستان اور پاکستانی عوام کی بھرپور مدد اور حوصلہ افزائی کی ہے اور کبھی پاکستان کو کسی مصیبت کی گھڑی میں اکیلا و دربدر نہیں چھوڑا کیونکہ نازک وقت میں برادر اور دوست ممالک کی حمایت متحدہ عرب امارات کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے۔

  • باغی تحریری مقابلہ – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — جویریہ اشرف

    باغی تحریری مقابلہ – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — جویریہ اشرف

    پاکستان اس سال 75 سال کا ہو گیا ہے۔سمجھیں بچپن سے نکل کر لڑکپن میں داخل ہو رہا ہے۔بچپن کسی کا بھی پرفیکٹ نہیں ہوتا۔بہت سی غلطیاں، کوتاہیاں اور بہت سی ٹھوکریں کھا کر ہی بچپن سے کچھ سیکھا جاتا ہے۔پاکستان میں بسنے والے پاکستان پر تنقید کے ایسے نشتر برساتے ہیں کہ منٹوں میں اسے لہو لہان کر دیتے ہیں لیکن وہ یہ کرتے ہوئے ایک بار بھی اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے۔ہم کبھی نہیں سوچتے کہ ہم نے اس بچے کے ساتھ جو اتنی مشکلوں سے گزر کر سانسوں کو بحال رکھنے کی جد وجہد میں ہے، ہم نے اسے کب کب اور کہاں کہاں آکسیجن مہیا کی یا ہمیشہ اس کی آکسیجن چھیننے کا سبب ہی بنے۔ یہ بحث لمبی ہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا اور ہم نے پاکستان کو کیا دیا۔آج اگر ہم 1947 کو پیدا ہونے والے اس بچے کاآج 2022 تک موازنہ کریں تو ہماری آنکھیں کبھی اس کی تکالیف دیکھ کر بھر آئیں گی، کبھی اس کی کامیابیاں دیکھ کر لب مسکرا اٹھیں گے۔کبھی ہمیں اس کی بیبسی پہ غصہ آئے گا تو کبھی اس کی ہمت پہ رشک۔

    آخر،

    ٖؔ اس وطن کی مٹی میں خون ہے شہیدوں کا
    ارض پاک مرکز ہے قوم کی امیدوں کا

    1947 میں جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو بر صغیر پاک و ہند کا بٹوارہ ہونا تھا۔ بٹوارہ ہوا لیکن پاکستان کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا جو ایک سوتیلے بیٹے کے ساتھ کیا جاتا ہے۔سارا حصہ اپنے پاس رکھ کر بچا کھچا دے کر جان چھڑوانے کی کوشش اور یہ ہی پاکستان کے ساتھ بھی ہوا۔تقسیم چاہے بینک میں پڑے پیسوں کی ہو یاں پھر فوجی دستوں کی، ہر جگہ سے اس نا مولود کو محروم رکھا گیا۔مگر عزم جواں تھا، ہمت تازہ تھی۔ سو راہ جنوں کے مسافر چلتے رہے اور بالآخر یہ کہنے میں کامیاب ٹہرے۔
    کہ
    ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں

    آج پاکستان کی فوج دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہے اور دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بھی۔ایشیا کی دوسری اور مسلم ممالک کی واحد ایٹمی قوت یہ ارض وطن ہی ہے۔اس وقت اگر نظر دوڑائیں تو پاکستان میں 174 یونیورسٹیز قائم ہو چکی ہیں۔پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 464 کارخانے کام کر رہے ہیں۔ 1201بڑے ہسپتال موجود ہیں۔یہ تعداد اس سے کء گنا زیادہ ہو سکتی تھی اگر اس ارض پاک کو دوسروں کی جنگ میں نہ جھونکا جاتا۔

    2011 کے بعد جب پاکستان میں دہشت گردی کی لہر اٹھی تو زندگی جیسے مفلوج ہو گئی تھی۔ہر شخص ہر لمحے موت کو ہاتھ پر رکھ کر چلتا تھا کہ نا جانے کب کوئی جنت کا طلبگار آئے اور اس زندگی کا چراغ بجھا جائے۔پچھلے دس 11 سالوں میں پاکستان نے اس دہشت گردی کے ناسور کو مٹانے کے لئے 67.93 بلین ڈالرز یعنی کے 5037 بلین روپے خرچ کر چکا ہے۔۔ان پیسوں سے کئی کارخانے، ہسپتال، اور یونیورسٹیز بن سکتی تھیں۔

    مگر افسوس یہ فراموش کر دیا گیا کہ،

    موج بڑھے یا آندھی آئے دیا جلائے رکھنا ہے
    گھر کی خاطر سو دکھ جھیلے گھر تو آخر اپنا ہے

    مزید برآں اس جوان ہوتے بچے کو روانی کے ساتھ قدم نہ اٹھانے دینے کی دوسری بڑی وجہ کرپشن ہے۔کرپشن نے اس ملک کی جڑوں کو ایسے کھوکھلا کیا ہے جیسے دیمک خشک لکڑی کو کرتی ہے۔

    مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کرپشن صرف وہی ہے جو یہ بڑے بڑے سیاست دان کرتے ہیں؟؟

    نہیں کرپشن وہ بھی ہے جو ہم سب روز کرتے ہیں۔ریڑھی والے سے لے کر بڑی ملز والوں تک۔ ہم سب نے ملکر اس ملک کو کمزور کیا ہے۔جب ہم ایک معمولی سا کام نکلوانے کے لئے کسی دفتر میں کسی آفس میں پانچ سو سے ہزار تک کا نوٹ چپکے سے کسی کلرک یا منشی کے ہاتھ پر رکھتے ہیں، تو وہ بھی کرپشن ہے۔ کیونکہ ہم کسی اور کا حق اور وقت اپنے کھاتے میں ڈال رہے ہوتے ہیں۔جب ایک چھوٹی سی دکان چلانے والا دس روپے کے لئے ترازو کا پلڑا ہلکا کرتا ہے تو وہ بھی کرپشن ہے۔جب ایک ریڑھی والا نیچے خراب پھل ڈال کر اوپر اوپر اچھے پھل ڈال دیتا ہے تو وہ بھی کرپشن ہی کر رہا ہوتا ہے۔

    حالانکہ

    ”اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔”

    مگر ہم قول و فعل کے تضاد کے مارے اپنا مذہبی اصول ہی بھول چکے ہیں۔

    19مگر غور کیا جائے تو 1947 سے 2022 تک کا پاکستان بہترین نا سہی لیکن بہتر ضرور ہے۔اسے بہترین ہم نے بنانا تھا لیکن ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں نے جو کبھی ہم نے دوسروں کی جنگ میں کود کر کیں۔کبھی اپنی منتخب حکومتوں کو ان کی مدت پوری نا کرنے دے کر اور کبھی کرپشن کو صرف سیاست دانوں تک محدود کر کے ہم نے اس ملک کو بہترین بننے سے روکے رکھا لیکن الزام ہمیشہ ہم نے ”پاکستان ” کو دیا۔

    حالانکہ ان حالات کے ذمہ دار ہم تھے۔ وہ ہے نا کہ

    دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
    اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

    اس مملکت خداداد کے قیام میں ہزاروں قربانیاں دی گئیں۔ کتنے سہاگ اجڑے، کتنی عزتیں پامال ہوئیں اور بیحساب لہو شہادت کے جام میں پیش کیا گیا۔ اپنی الگ حیثیت کے لیے آزاد وطن پانے کا ایمان کامل ان سب وجودوں میں وجود تھا۔ تبھی وہ سب لا الہ الا اللہ کا علم تھامے اپنا سب کچھ فدا کرنے پہ راضی تھے۔

    آج پھر سے یہ قوم اس ایمان سے خالی ہے جس نے اسے پاکستان کی صورت اک وجود بخشا تھا۔

    مگر اب وقت آگیا ہے کہ ہم اک دوسرے کو الزام دینے کے بجائے اک دوسرے کو آگے بڑھنے کی طاقت اور حوصلہ دیں تاکہ جب یہ پاکستان پروان چڑھے تو ہمیں موردالزام نا ٹہرایا جا سکے۔ہم اس کے سامنے سر جھکا کے نہیں بلکہ سر اٹھا کر کھڑے ہوں۔

    کیونکہ،

    جب اپنا قافلہ عزم و یقین سے نکلے گا
    جہاں سے چاہیں گے راستہ وہیں سے نکلے گا
    وطن کی مٹی مجھے ایڑھیاں رگڑنے دے
    مجھے یقین ہے چشمہ یہیں سے نکلے گا

  • باغی تحریری مقابلہ – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — نوریہ مدثر

    باغی تحریری مقابلہ – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — نوریہ مدثر

    آج سے پچھتر سال پہلے مسلمانانِ ہند نے ہندو اور برطانوی سامراج سے جو جنگ لڑی تھی ، وہ صرف اک خطے کے لیے نہیں تھی بلکہ اپنے جداگانہ تشخص کے بقا کے لیے تھی ۔

    اور اس جنگ کا آغاز اسی دن ہو گیا تھا جب مسلمان کو ”مسلا” کہا گیا تھا۔ اپنے الگ وجود الگ نظریے کا ادراک کرنے کے بعد ہی اک منزل اک نشاں کی جانب چلتے وہ راہ ِجنوں کے مسافر اپنا مقصد پانے کے لیے پریقیں تھے۔

    اور 75 سال پہلے یہ مقصد حاصل بھی ہو گیا۔ مگر آج 75 سال بعد کے حالات دیکھ کر بے ساختہ فیضؔ کا کہا یاد آتا ہے کہ،

    یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گریدہ سحر
    وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
    یہ وہ سحر تو نہیں، جس کہ آرزو لے کر
    چلے تھے کہ یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں

    کیونکہ آج 75 سالہ مملکت خداداد پھر سے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ مگر کیا یہ جنگ پہلے دن سے ہی ہمارا مقدر تھی؟

    یہ جاننے کے لیے ہمیں تاریخ کے اوراق کھنگالنا ہوں گے۔ گذشتہ سالوں میں اس ارض پاک کے ساتھ برتا جانے والا احوال دیکھنا ہو گا تبھی ہم کوئی فیصلہ کر پائیں گے۔ میری دانست میں یہ 75 سال مختلف ادوار جیسے تربیتی ،تخریبی، تعمیری ،تعبیری کے تناظر میں دیکھے جائیں تو صورت حال واضح ہو سکتی ہے کہ ہم آج کس مقام پہ موجود ہیں۔

    ﴿ تعبیری دور ﴾
    1947 ء سے 1967 ء

    یہ بیس سالہ دور اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے تعبیری اہداف قائم کرنے کا دور تھا۔

    آزادی کے ابتدائی بیس سال وہ سال تھے جب عزم جواں تھا۔ ہمت تازہ تھی اور جنوں لہو کے ہر قطرے میں موجزن تھا۔کیونکہ نوزائیدہ ریاست کو کئی محاذوں کا سامنا کرنا تھا۔ سو انہی مقاصد کے حصول کے لیے 1949 میں ”قرارداد مقاصد ” منظور کی گئی جس کے مطابق پاکستان کا آئینی ڈھانچہ یورپی نہیں بلکہ اسلامی جمہوریت اور نظریات پہ مبنی ہونا طے تھا۔

    چونکہ ابھی تربیتی دور کا آغاز تھا سو ہر سال اک نیا سنگ میل عبور ہوتا گیا۔

    آنکھوں کی چمک ہر گام بڑھتی گئی۔ اور تب تب جنون نظر آتا گیا جب جب نعرہِ پاکستان بلند کیا گیا۔

    پھر چاہے وہ اردو کو قومی زبان کا درجہ دینا ہو یا قومی ترانے کی منظوری، معاشی ترقی کے ضامن اسٹیٹ بینک کا قیام (1948) ہو یا ملک مقدم کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھنا مقصود ہو۔یا پاکستانی کرکٹ ٹیم کی اوول کے میدان میں انگلینڈ کے خلاف پہلی فتح ہو یا دہائیوں تک فضاؤں پہ راج کرتی پاکستان ائیر لائنز کا قیام (1955)۔

    یا ہاکی ٹیم کا اولمپکس میں جیتا پہلا گولڈ میڈل، (1960)،یا سوئی کے مقام پہ گیس کے وسیع ذخائر کی دریافت(1952)۔

    سبھی سنگ میل اسی پیام کا عملی ثبوت تھے کہ ،
    تجھ سے ہے میری تمناوئں کی دنیا پُرنور
    عزم میرا ہے قوی ، میرے ارادے ہیں غیور
    میری ہستی میں انا ہے، مری مستی میں شعور
    جاں فزا میرا تخیل ہے تو شیریں ہے سخن
    اے میرے پیارے وطن

    اگرچہ اس بیس سالہ عرصے میں سیاسی ایوانوں میں مارشل لاء (1958) اور اسمبلیوں کی تحلیل (1953) کی گونج بھی گونجتی رہی۔ مگر حالات بہتر سے بہتری کی طرف ہی گامزن تھے۔

    اور سب سے بڑی کامیابی 1965 کی وہ جنگ تھی، جو بزدل دشمن نے اس سوچ کے تحت چھیڑی تھی کہ یہ گرتا لڑکھڑاتا ملک کیونکر اپنا دفاع کر سکے گا۔ مگر عظیم قوم نے غیور افواج کے ساتھ مل کر دشمن کو شکست فاش دی۔ تب ہر پاکستانی کے لب پہ اک ہی نغمہ تھا کہ

    ؂ میری زمیں میرا آخری حوالہ ہے
    سو میں رہوں نہ رہوں اس کو بارور کر دے

    ﴿تربیتی دور ﴾
    1967 سے 1987

    یہ دور جہاں پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم رہا۔ وہیں یہ ماہ و سال سازشی عناصر کی رچائی چالوں کے زد میں بھی رہے۔
    گویا تعمیری و تخریبی دونوں حالات مل کے اعصابی تربیت کرتے رہے۔

    کھیل کے میدان میں اس بیس سالہ عرصے میں سبز پرچم کبھی جہانگیر خان اور کبھی جان شیر خان کے دم سے لہلہاتا رہا۔مگر اصل مزہ اس جیت کا تھا جو ہاکی ٹیم نے ازلی دشمن کو ایشین گیم (1970) میں دی تھی۔

    مگر افسوس پاکستان اس دشمن کو سیاسی محاذ پہ نہ ہرا سکا۔ اور اس دشمن نے پاکستان کی اندرونی کمزوریوں کو مزید ہوا دیتے 1971 میں مشرقی پاکستان پہ حملہ کر دیا۔ آہ! اندرونی و بیرونی سازشوں کا شکار ہو کے پاکستان کو اپنے اک حصے سے محروم ہونا پڑا۔

    تب پھر سے سہاگ اجڑے، عزتیں پامال ہوئیں، لہو بہا۔ مگر اک الگ نظریے کے لیے نہیں۔ بلکہ ناآسودہ خواہشات کی تکمیل کے لیے۔
    اس روز شہداء پاکستان فریاد کرتے رہ گئے کہ

    ؂ رشتہ دیوار و در تیرا بھی ہے میرا بھی ہے
    مت گرا اس کو یہ گھر تیرا بھی ہے میرا بھی ہے

    پاکستان قائم رہنے کے لیے ہی بنا ہے ۔ سو اک سانحے سے گزر کے بھی زخمی دل زخمی روح لیے سفر پھر سے شروع ہوا۔ بنگلہ دیش کو تسلیم کر کے (1974) ملکی ترقی پہ توجہ مرکوز کی گئی۔ معاشی ترقی کی ضامن پاکستان سٹیل ملز نے کام کرنا شروع کیا(1981)۔

    اور اگلے ہی برس ہاکی ورلڈ کپ میں شاندار فتح نے ملک و قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا (1982)۔ اور سب سے بڑھ کے دفاعی استحکام کے لیے عبدالقدیر قدیر خان سائنس لیبارٹریز قائم کی گئی (1976)۔اور ڈاکٹر عبدالسلام (1979) پہلا نوبل پرائز جیتنے میں کامیاب ٹہرے۔
    گویا پاکستانی عوام سمجھ گئے ہوں،

    ؂ موج بڑھے یا آندھی آئے دیا جلائے رکھنا ہے
    گھر کی خاطر سو دکھ جھیلے گھر تو آخر اپنا ہے

    ﴿تعمیری دور ﴾
    1987 سے 2007

    یہ ماہ و سال بھلے ہی معاشی و دفاعی شعبے میں کئی انقلاب برپا کر گئے۔مگر اس بیس سالہ عرصے میں پاکستان سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا۔

    کبھی سمبلیوں کی تحلیل (1988) نے تعمیری اہداف سے دور کیا تو کبھی ایمرجنسی (2007) کے شکنجے نے ملکی حالات پہ خاصا اثر ڈالا۔
    مگر اس سارے دورانیے میں بھی عزم بلند رہا اور اسی عزم سے تعمیری اہداف طے ہوتے رہے پھر چاہے وہ پہلے کرکٹ ورلڈ کپ کی جیت (1992) ہو، یا میانداد کے چھکے سے دشمن کے چھکے چھڑوانے والی شارجہ کی فتح (1999)، یا جہانگیر خان کا مسلسل دسیوں بار سکواش اوپن چیمپئین شپ جیتنا ہو (1991)۔

    مگر اس بیس سالہ عرصے میں پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی ایٹمی طاقت (1998) کا مالک بننا تھا۔ گویا

    ع چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں نہیں آئی

    ﴿ تخریب سے تعمیر تک ﴾
    2007 سے 2022

    2012 کے بعد جی ڈی پی گروتھ میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے ۔

    اگرچہ ان پندرہ سالوں میں پاکستان کو سیاسی استحکام بھی نصیب ہوا ہے مگر ملک و قوم نے تخریبی اور تعمیری دونوں حالات سہے ہیں۔
    کیونکہ گذشتہ سالوں میں دہشت گردی کی نذر ہزاروں جانیں ہوئیں ہیں ۔ مسجد، مزار، چرچ، پارک، تھانہ، بازار، سکول۔۔۔ شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جہاں خون کے چھیننے نہ پڑے ہوں۔ اس دہشت گردی سے ملکی سکون تو متاثر ہوا ہی مگر ،

    اس دورانیے کا سب سے تکلیف دو پہلو پاکستان کو عالمی سطح پہ تنہا کرنا تھا۔ 2009 میں سری لنکن ٹیم پہ ہوئے حملے نے پاکستان پہ نہ صرف کرکٹ کے دروازے اک دہائی تک بند رکھے۔ بلکہ سیاحتی ساکھ کو بھی متاثر کیا۔

    مگر سلام ہو ہماری افواج پاکستان کو۔

    جنہوں نے آپریشن راہِ راست (2009)، راہِ نجات، اور حالیہ(2021) رد الفساد سے تخریبی قوتوں کا خاتمہ کیا ہے۔

    پاک وطن سے شرپسندوں کا نشان مٹاتے شہادت کی منزل پاتے غیور کیپٹن بلال ظفر (2009) سے لے کر عزم تعمیر لیے جامِ شہادت نوش

    کرنے والے لیفٹینینٹٹ جنرل(2022) سرفراز علی تک، سبھی شہداء ہمارا فخر ہیں۔ کیونکہ یہ امن انہی کی دی قربانیوں کا ثمر ہے۔ ورنہ کہاں وہ دور جب عالمی تنہائی کے مارے ملک میں زمباوے جیسی ٹیم بھی آنے سے انکاری تھی اور کہاں یہ دور کہ زمباوے سے لے کر آسٹریلین ٹیم (2022) بھی پاکستان آ کے پاکستانی زمیں پہ کھیل چکی ہے۔

    اور تو اور پاکستان سپر لیگ کے 7 سیزن بھی ہو چکے۔

    مگر حالیہ او آئی سی کانفرنس(2022) کا پاکستان میں انعقاد سب سے اہم سنگ میل ہے۔

    بلاشبہ پاک فوج اور عوام دونوں ہی قابل تحسین ہیں جنہوں نے تخریب سے تعمیر کا سفر طے کر کے اک مثال قائم کی ہے۔ مگر یاد رہے،

    ؂ مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
    وہ قرض اُتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

    آج 75 سالہ پاکستان صرف اور صرف اپنی قوم کے ساتھ کا ممتنی ہے۔ اسے اپنی بقا کے لیے کسی بیرونی ہاتھ کی ضرورت نہیں بلکہ عزم و ہمت سے سرشار اک دل اک جاں لیے اک قوم درکار ہے۔ سو ہمیں وطن عزیز کی پچھترویں سالگرہ پہ بحیثیت پاکستانی اپنا احتساب کرنے اور قبلہ درست کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ سوچنے کی ضرورت ہے کہ

    جو اس زمیں سے کیا تھا ہم نے وہ عہد کیا ہم نبھارہے ہیں
    وطن کی راہوں میں ہم وفا کے گلاب کتنے کھلارہے ہیں
    یہ کون ہیں جو ہمیں میں رہ کر ہمارے گھر کو جلارہے ہیں
    چلو یہ سوچیں ہم آج مل کے

  • پاکستان آپ سے مخاطب ہے — حافظ گلزارعالم

    پاکستان آپ سے مخاطب ہے — حافظ گلزارعالم

    چند روز قبل اس ارادے سے لکھنے بیٹھا کہ اس آزادی کے موقع پر ایسا کچھ لکھوں کہ دل میں ملک عزیز پاکستان کی محبت میں اضافہ ہو، اور یہ محبت اس قدر ہو کہ وطن عزیز کے لئے کچھ کر گزرنے کا جزبہ دل میں پیدا ہو۔ یا کم از کم اتنا ہی احساس ہمارے دل میں پیدا ہو کہ ہمارے کسی قول و فعل سے وطن عزیز کی عزت پر کوئ آنچ نہ آئے۔

    پھر خیال آیا بڑے بڑے محب وطن لکھاری، شعراء اور مفکرین اس باب میں لکھ چکے ہیں۔ ہم انہی کو سنجیدگی سے پڑھ کر یہ مقصد حاصل کرسکتے ہیں، میرے لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ مگر پھر خیال ہوا کہ گو میری یہ بساط نہیں مگر انگلی کٹا کر شہیدوں میں نام آجائے تو یہ بھی غنیمت ہے۔ کہ کل بروز قیامت ملک عزیز پاکستان کے لئے اور کچھ نہیں تو یہی تحریر پیش کرسکوں۔ کہ یارب تیرے نام پر بنے اس پیارے ملک پاکستان سے محبت میں یہ ایک تحریر لایا ہوں۔

    مگر کچھ نہ سمجھ آیا۔ ابتدا کہاں سے ہو انتہا کہاں ہو۔ اسی اثناء میں آنکھ لگ گئ، کیا دیکھتا ہوں کہ اک خلق خدا جمع ہے۔ اور یوں لگ رہا ہے جیسے بعد الفجر نماز پڑھ کر سارے پاکستانی اک میدان میں جمع ہوں، جس میں بچے بوڑھے مرد خواتین جمع ہیں۔ البتہ سب خواتین باپردہ ہیں۔ اور مردوں سے الگ ہیں۔ سب کی زبانوں پر اک ہی نعرہ ہے: پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الاااللہ

    اسٹیج سے اعلان ہوا کہ آج ہمارا پیارا ملک پاکستان اپنی 75 ویں سالگرہ پر ہم سے خود مخاطب ہونا چاہتے ہیں۔ سب کا جوش و خروش عروج پر ہے، خوشی سے چہرے کھل رہے، آنکھیں پر نم ہیں۔ اور کچھ لوگوں کے تو سر ندامت سے جھکے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس پیارے ملک سے کسی بھی سطح کی بے وفائ، اسے لوٹا یا اس کے مقاصد سے روگردانی کی۔

    انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں۔ اور ملک پاکستان بارعب وجیہ صورت میں متشکل ہو کر اسٹیج پر تشریف لائے۔ اور گویا ہوئے
    ” تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہے جسکے نام پر میں آزاد ہو۔ درود سلام ہو میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر، آپ کی آل پر اور آپکے تمام اصحاب پر

    میرے بیٹو !
    امید ہے تم سب ٹھیک ہوگے۔ تمھاری بقا سلامتی اور خوشحالی کی ہر دم دعا کرتا ہوں۔ اللہ تمھیں ہمیشہ سلامت رکھے اور ہر اندرونی بیرونی شرور سے تمھاری حفاظت کرے۔ آمین

    میں پاکستان ہوں۔ سندھ پنجاب بلوچستان خیبر پختونخواہ میرے حصے ہیں۔ مجھے اپنا ہر حصہ اور ان میں رہنے والا ہر پاکستانی عزیز ہے۔ تم سندھی پنجابی بلوچی پٹھان ضرور ہو۔ مگر تمھاری اصل پہچان پاکستانی ہونا ہے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ تم مسلمان ہو۔ خدارا قومیتیں تعارف کیلئے ہیں،نہ کہ فخر کیلئے۔ گو کہ فطری طور پر اپنی قوم سے محبت ہر ایک کو ہوتی ہے۔ مگر اس بنیاد پر خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنا، دوسروں کو کمتر سمجھنا میرے اللہ کو پسند نہیں۔ میرے اللہ کو پسند نہیں، تو مجھے بھی پسند نہیں۔ کیونکہ میری بنیاد ہی اللہ کے نام پر رکھی گئ۔ میرے بننے کے وقت ہر شخص کی زبان پر یہ نعرہ تھا۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔

    میں پاکستان ہوں۔ میرے نام میں ہی پاکیزگی ہے۔ مجھے ہر طرح کی گندگی سے پاک رکھو۔ مجھے تم پر فخر ہے۔ مجھے تم سے امیدیں ہیں۔ میری امیدوں کا پاس رکھنا۔

    میں پاکستان ہوں۔ میری نسبت مدینہ منورہ سے ہے۔ میری اس نسبت کا بھی پاس رکھنا۔ مجھے مدینہ کے والی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں میں عزیر رکھنا۔ میرا ہر پاکستانی مکمل سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا آئینہ ہو۔
    کہیں میں آپ کے سامنے رسوا نہ ہو جاؤں۔

    مجھے لاکھوں مسلمانوں کی تن من تن دھن کی قربانی سے حاصل کیا گیا ہے۔ ان قربانیوں کی لاج رکھنا۔ ان سے بے وفائی نہ کرنا۔ ۔

    یہاں بسنے والے غیر مسلم بھی تمھارے بھائ ہیں۔ کسی کو بے جا۔ تکلیف نہ دینا میرے نبی کا حجۃ الوداع کا خطبہ یاد ہے نا؟ آپ نے فرمایا تھا ہر شخص کی جان مال عزت آبرو تم پر حرام ہے۔ کسی کالے کو کسےگورے پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئ فضیلت حاصل نہیں۔ لہذا خدا کے بندو بھائ بھائ بن کر رہو۔

    میرے قائد محمد علی جناح اور میرے مفکر علامہ محمد اقبال کے فرامین پڑھا کرو، انہیں یاد رکھو، اور ان پر عمل کرو۔
    میں انہی حضرات کی انتھک محنتوں سے آزاد ہوا۔ اور میری بقا بھی انہی کے اصولوں پر عمل کرنے میں ہے۔ لہذا قائد کا یہ اصول ہمیشہ پلے باندھے رکھو: ایمان،اتحاد اور تنظیم۔ یعنی اللہ کی ذات پر کامل ایمان، آپس میں پیار و محبت سے متحد ہو کر رہنا اور ہر کام میں نظم و ضبط اپنائے رکھنا۔ اور مفکر پاکستان کا یہ پیغام یاد رکھنا

    عقل ہے تیری سپر، عشق ہے شمشیر تری
    مرے درویش! خلافت ہے جہاں گیر تری
    ماسوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تری
    تو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری
    کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
    یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں