Baaghi TV

Category: مسلم دنیا

  • باغی تحریری مقابلہ – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — ام عفاف

    باغی تحریری مقابلہ – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — ام عفاف

    آج سے 75 سال پہلے جب پاکستان بنا تو ایک ملک کے بننے میں پورے ہندوستان کے مسلمانوں کی محنت تھی. لیڈر سرپرستی کا کام کرتا ہے اور کام کو آگے بڑھاتا ہے لیکن وہ یہ کام کبھی اکیلا نہیں کرسکتا ہے. اس کام کے پیچھے پوری قوم کی سپورٹ ہوتی ہے. پاکستان کے بننے میں پورے ہندوستان کے مسلمانوں کی محنت تھی سب مسلمان مذہب کی بنیاد پر اکٹھے ہوئے، اپنی جان، مال قربان کردیئے، انتھک محنت، لگن اور کئی سالوں کی محنت کے بعد ملکِ پاکستان وجود میں آیا لیکن ہندوستان کی تقسیم کے وقت اثاثہ جات کی تقسیم میں بھی پاکستان کو اس کا حق نہ مل سکا اثاثہ جات کی کمی کی وجہ سے پاکستان کو بہت دقت اٹھا نا پڑی ہندوستانی مسلمانوں کی ہجرت انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت تھی جس کا سارا بوجھ پاکستانی حکومت کو اٹھانا پڑا لیکن پاکستان کی قوم اور حکومت نےساتھ ملکر بڑی محنت مشقت اور ہمت اور حوصلے کے ساتھ اس کٹھن مرحلے کو سر کیا.

    اجتماعیت یعنی اتحاد و اتفاق ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے آپ بڑی بڑی طاقتوں کو سرنگوں کرسکتے ہو، بڑی بڑی سلطنتیں جزیہ دینے پر مجبور ہوسکتی ہیں. اتحاد و اتفاق نہ ہو تو دنیا جہان کے وسائل ہونے بعد بھی آپ ڈھیر ہوسکتے ہیں. بحیثیت قوم آپ کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی ہے . دنیا کے کمزور ترین لوگ بھی آپ کو شکست سے دو چار کرسکتے ہیں. اور یہ قانون فطرت ہے جسے فقط اتحاد و اتفاق یعنی اجتماعیت سے بدلا جاسکتا ہے .

    تبھی شاعر مشرق نے کہا تھا:

    فرد ہے ملت سے تنہا کچھ بھی نہیں
    موج ہے دریا میں بیرونِ دریا کچھ بھی نہیں

    انسان انسانوں کے ساتھ ملکر رہتے ہیں، جانور جھنڈوں کی شکل میں رہتے ہیں، پرندے قطاروں میں اڑان بھرتے ہیں. یہ سب اس لیے ہے کہ ان کے پیدا کرنے والے نے انہیں ایسا ہی بنایا ہے. اور جو اس قانون کو توڑتا ہے وہ تنہا ہوجاتا ہے، ڈپریشن، نفسیاتی مسائل اس کا جینا دوبھر کردیتے ہیں. درندے ایسے ہرن کا آسانی سے شکار کرلیتے ہیں اور پرندے بازوں سے محفوظ نہیں رہتےہیں شاعر نے کیا خوب کہا ہے.

    ہم جنس کنند پرواز
    کبوتر با کبوتر باز بہ باز

    . ہمیشہ سے ہی جب کوئی کام سرانجام پاتا ہے تو اس کے پیچھے کئی سالوں کی محنت ہوتی ہے اور اگر پوری قوم اکٹھی ہوجائے اور ان لوگوں کے اندر کچھ کر گزرنے کا جذبہ موجود ہو تو سازشیں بھی دم توڑ جاتی ہے1965 کی جنگ میں جب دشمن سرحد پر سب ہتھیاروں سے لیس کھڑا تھا اس وقت بھی پاکستان کی قوم اور حکومت نے ساتھ مل کرمحدود وسائل کے ساتھ اپنی بقا کی جنگ لڑ ی اور آج ہمارا ملک جس پرکٹھن دور سے گزر رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے کس طرح سے پاکستان شکنجوں میں جکڑا ہوا ہے.

    جب بھی کوئی تکلیف آتی ہے تو اس کا حل لازمی ہوتا ہے اور اس کا حل بھی یہی ہے کہ پوری قوم تفرقہ بازی بازی ختم کرکے اسلام کے نام پر اکٹھی ہوں، کیونکہ اسلام ہی سلامتی والا مذہب ہے. جو ہر رنگ و نسل اونچ نیچ سے بالاتر ہے. جو اپنے ماننے والوں کو مکمل حقوق العباد کا ضابطہ سکھاتا ہے. جب انسان حقوق العباد کو پورا کرتا ہے تو ہی معلوم پڑتا ہے کہ وہ کتنا اپنے دین پر چلنے والا ہے یہ ہر ایک فرد پر لازم ہے کہ وہ اپنے بھائی کا حق پہچانے سب عہد یداران اپنی حیثیت کو دیکھ کر درست معاملات کریں. جھوٹ اور ہیر پھیر سے اجتناب کریں.ظالم و جابر حکمران قوم کے اپنے اعمال کی وجہ سے مسلط ہوتے ہیں. پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان تفرقہ بازی نے پہنچایا ہے.
    اجتماعیت بہت فائدہ مند چیز ہے آپ لکڑی کے گٹھڑ کی ہی مثال لے لیں گٹھڑ کو کبھی کوئی نہیں توڑ سکتا ہے اور الگ الگ لکڑی کو توڑنا آسان ہوتا ہے اسی طرح ہی آج پاکستان کی قوم کو اجتماعیت کی بہت ضرورت ہے.

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان ایک عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تقویت دیتا ہے
    ایک اور حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اگر جسم کے ایک حصے کو تکلیف ہوتی ہے تو پورا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے.

    اسی طرح اگر پاکستان کی عوام ایک ساتھ مل کر چلے اور سب ایک دوسرے کا احساس کریں،ایک دوسرے کا حق نہ ماریں تو ہی ہمارا ملک ترقی کر سکتا ہے اسی وجہ سے ہمارا معاشرہ اچھا معاشرہ اور ہمارا ملک ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے.

    یادرکھیں وہ قوم کبھی نہیں بدل سکتی ہے جسے خوداپنے حالات بدلنے کا شعور نہ ہو. ہمارے ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر ہمیں اتحاد و اتفاق اور شعور کی بے حد ضرورت ہے.

  • "پاک دھرتی پاکستان اور ہمارا کردار” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    "پاک دھرتی پاکستان اور ہمارا کردار” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    1947ء سے پہلے پاکستان برطانوی کالونی تھی۔

    ہندوستان کی آزادی (انگریزوں سے) کی تحریک کے دوران میں ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنے لئے ایک الگ ملک کا مطالبہ کیا۔

    "پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ” اس تحریک میں جان ڈالنے والا اور مسلمانوں کو متحد کرنے والا اک مقبول نعرہ تھا۔

    اس مطالبے کے تحت تحریک پاکستان وجود میں آئی۔ اس تحریک کی قیادت محمد علی جناحؒ نے کی۔
    بانی پاکستان بابا جی محمد علی جناحؒ کی انتھک محنت اور اپنی بیماری کو دشمن دین و پاکستان سے چھپا کر دن رات محنت کی، اور پھر رب العزت نے مسلمانوں کو دنیا میں عزت دی اور 27 المبارک کی طاق رات 14 اگست 1947ء کو پاکستان وجود میں آیا۔

    تقسیم برصغیر پاک و ہند کے دوران میں انگریزوں نے کچھ ایسے سقم چھوڑے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان میں 1948ء اور 1965ء میں کشمیر کے مسئلہ پر دو جنگوں کا سبب بن گئے۔

    اس کے علاوہ چونکہ پاکستانی پنجاب میں بہنے والے تمام دریا بقول بانی پاکستان محمد علی جناحؒ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے
    اسی شہہ رگ پاکستان کہ جس شہہ رگ کشمیر پر انڈیا نے ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے.

    اسی مقبوضہ قبضہ کشمیر سے ہوکر آتے ہیں،

    لہذا پاکستان کو 1960ء میں انڈیا کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کرنا پڑا، جس کے تحت پاکستان کو مشرقی دریاؤں، ستلج، بیاس اور راوی سے دستبردار ہونا پڑا۔ جبکہ دریائے سندھ، چناب اور جہلم پر پاکستان کا حق تسلیم کر لیا گیا۔

    1947ء سے لے کر 1948ء تک پاکستان کو بڑی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ بھارت نے پاکستان کے حصہ میں آنے والی رقم پاکستان کو ادا نہ کی۔ اس کے علاوہ صنعتی ڈھانچے کے نام پر پاکستان کے حصے میں گنتی کے چند کارخانے آئے اور اس کے علاوہ کئی اندرونی و بیرونی مشکلات نے بھی پاکستان کو گھیرے رکھا۔

    جب ہم چھوٹے تھے تو 14 اگست کا انتظار عید کی طرح کرتے تھے، ہفتہ پہلے سے انتظار شروع ہوجاتا تھا اور پھر 13 اگست کی ساری رات صبح کے اجالے کا انتظار ہوتا تھا، صبح ہوتے ہی گھر میں ٹی وی نا ہونے کے باعث ہمسایہ کیطرف جا کر ٹی وی پر پریڈ دیکھنا،
    جھنڈیاں لگانا۔

    پاکستانی پرچم تھام کر نکل جانا۔ جشن منانا اپنے انداز میں آزادی کا۔

    شام کو جشن آزادی کے حوالے سے محلہ میں ہونے والے پروگرام میں شریک ہونا، پاکستان، پاک فوج، سے محبت بڑھ جاتی تھی۔تحریک آزادی پاکستان کے شہداء کے بارے سن کر جذبات ایسے ہوتے تھے کہ قلم کے ذریعہ بتانا ممکن نہیں،

    لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر قائم ہونے والے پاکستان کے وجود اور اس پاکستان میں رہنے پر فخر محسوس ہوتا تھا۔

    اور دل و دماغ ہر وقت اس عظیم مملکت کیلئے ایسا کچھ کر جانے کو مچل جاتا تھا کہ لوگ اس قربانی پر مجھے پاکستانی کہنے پر فخر محسوس کریں اور اس پاکستان کے دشمنوں کا میرے نام سے پسینے چھوٹ جائیں۔

    وہ پھول سر چڑھا جو چمن سے جدا ہوا

    عزت اسی کو ملی جو وطن پہ قرباں ہوا

    لیکن اک تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جیسے ہی 14 اگست کے دن کا اختتام ہوتا ہے تو اس کے بعد پورا سال پاکستانی پرچم والی لگی جھنڈیاں اور اور پرچم کے بے قدری شروع ہوجاتی ہے۔

    پاکستانی پرچم والی جھنڈیاں گلیوں بازاروں میں پاؤں تلے روندی جاتی ہیں، گندی نالیوں میں گری پائی جاتی ہیں۔

    پاکستانی پرچم چھتوں پر پورا سال لگے رہنے اور حفاظت نا ہونے کے باعث پھٹ جاتے ہیں پھر یہ کہ پھٹے پرانے پرچم لہراتے ہوئے دیکھ کر دل چھلنی ہوجاتا ہے۔

    ہمیں چاہئیے کہ ہم ان افعال سے بچیں اور اپنے معصوم بچوں کی ذہن سازی کریں انہیں اپنے پیارے پرچم کی عزت کرنا سکھائیں، سمجھائیں۔

    آخر میں یہ ہی پیغام دونگا اپنی پاکستانی عوام خصوصاً نوجوانوں کہ وہ پاکستان کی ترقی کیلئے کام کریں، آپ جس شعبہ سے بھی منسلک ہیں ایمانداری سے اپنے فرائض کو پورا کریں اگر آپ کا ایسا کوئی شعبہ ہے جس سے پاکستان کی ترقی و عظمت میں اضافہ ہوتا ہے تو آپ اپنے فرائض کو پوری ایمانداری سے نبھاتے ہوئے اس کام کیلئے اپنی جان لڑا دیں۔

    زندہ آباد پاکستان

  • باغی تحریری مقابلہ – سوم تحریر – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — حافظ گلزارعالم

    باغی تحریری مقابلہ – سوم تحریر – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — حافظ گلزارعالم

    پاکستان کو آزاد ہوئے 75 برس ہوچکے۔ اس آزادی پر ہم رب ذوالجلال کا جتنا شکر ادا کریں، کم ہے۔ یہ آزادی ہمیں لاکھوں مسلمانوں کی تن من دھن کی قربانیوں کی بدولت ملی ہے۔ گویا آج ان آزاد فضاؤں میں شہداء پاکستان ہم سے وفا کا تقاضا کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں ہماری قربانیوں کا پاس رکھنا۔

    شہید تم سے یہ کہہ رہے ہیں ، لہو ہمارا بھلا نہ دینا
    قسم ہے تم کو اے سرفروشو لہو ہمارا بھلا نہ دینا
    وضو ہم اپنے لہو سے کر کے خدا کے ہاں سُر خرو ہیں ٹھہرے
    ہم عہد اپنا نبھا چلے ہیں ، تم عہد اپنا بھلا نہ دینا

    جب صبح سویرے "اللہ اکبر” کی صدا آپکے کانوں میں پڑتی ہے۔ اور دن رات پانچ دفعہ یہ کانوں میں رس گھولنے والے ابدی حقیقت پر مبنی کلمات آپ کے دل و دماغ کو سرشار کریں ، آپ بلا خوف و خطر مساجد کا رخ کرتے ہیں، اپنے پروردگار کی بندگی بجا لاتے ہیں، کلام پاک کی تلاوت کرتے ہیں، ہر مقام پر آزادی کے ساتھ اپنا مافی الضمیر بیان کرتے ہیں، وطن کے چپہ چپہ پر دل میں یہ اطمینان ہوتا ہے کہ یہ پیارا ملک پاکستان ہمارا ہے، تو یوں احساس ہوتا ہے کہ اس وطن عزیز کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے والوں کی ارواح ہم سے مخاطب ہوتے ہوئے گویا ہیں کہ گو ہم یہ آزادی نہ دیکھ سکے مگر ہمارے لئے یہی کافی ہے کہ تم آزادی کی معطر فضاؤں میں جی رہے ہو، لہذا زبان حال سے کہی ہوئ ہماری وہ صدا یاد رکھنا:

    ہمارا خون بھی شامل ہے تزئین گلستاں میں
    ہمیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب بہار آئے

    لہذا اگر ہم نے ان کے مقصد سے وفا نہ کی تو وہ ہمیں معاف نہیں کرینگے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے، پاکستان کی اساس ہی کلمہ لاالہ الااللہ ہے، پاکستان جن روح پرور نعروں کی گونج پر بنا ہے، ان میں پہلا نعرہ یہ تھا: "پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ”۔ لہذا مقاصد پاکستان میں پہلا مقصد اسلام کا عملی نفاذ ہے۔ اس مقصد میں کسی قسم کی کوتاہی وطن عزیز اور اور وطن عزیز کی خاطر لاکھوں قربانیوں کے ساتھ بدترین مذاق ہوگا۔

    ہم قائد اعظم محمد علی جناح ، علامہ محمد اقبال رحمھمااللہ ،ان کے رفقاء اور لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کا حق ادا نہیں کرسکتے ۔ مگر ہم ان کی ارواح کو یوں تسکین دے سکتے ہیں کہ ہم ملک پاکستان کو ویسا ہی بنائیں جیسا وہ چاہتے تھے۔ یہاں نہ صرف مسلمانوں کو، بلکہ غیر مسلموں کو بھی مکمل تحفظ حاصل ہو۔ ایمان، اتحاد اور تنظیم کا عملی مظاہرہ ہو، ہم نہ صرف نام کے بلکہ کام کے مسلمان بنیں۔ ہم صرف اللہ کو ماننے والے نہیں، اللہ کی ماننے والے بھی بنیں۔ مگر افسوس
    مالک تو سب کا ایک، مالک کا کوئ ایک
    ہزاروں میں نہ ملے گا،لاکھوں میں تو دیکھ

    آزادی کے پچھتر سال ہوچکے۔ آزادی کی اس نعمت پر شکر کے ساتھ ساتھ اس حقیقت کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ ہم وہ مقاصد حاصل نہ کرسکے جسکا خواب ہمارے بڑوں نے دیکھا تھا۔ جنکی وجوہات میری نظر میں یہ ہیں:
    1۔ یہاں اسلام کے نام پر سیاست تو کی جاتی ہے۔ اس کے عملی نفاذ کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں ہیں۔
    2۔ سود ایک لعنت ہے۔ باری تعالیٰ نے اسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ قرار دیا ہے۔ اس لعنت کے ہوتے ہوئے اگر ہم معاشی ترقی کے خواب دیکھ رہے ہیں تو ایں خیال است و محال است و جنوں۔
    3۔ قومیں اپنی ہی پہچان بنا کر ترقی کرتی ہیں۔ ہمیں انگریز کی ذہنی غلامی سے نکلنا ہوگا۔

    اپنی مِلّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
    خاص ہے ترکیب میں قومِ رُسولِ ہاشمی

    لہذا ہم اپنے قومی لباس اور اردو زبان کو فروغ دیں۔ اور ہمارے طور طریقے سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق ہوں۔ ہم محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں اور رہیں گے۔ اسی نسبت سے جڑے رہنے میں ہماری کامیابی ہے۔ ورنہ ذلت اور رسوائ ہمارا مقدر ہے اور رہے گی۔

    4۔ عوام حکومت پر،اور حکومت پچھلی حکومت پر ساری خرابی کا ملبہ ڈالے تو یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ ہر فرد کو اس پیارے ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

    شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
    اپنے حصے کی کوئ شمع جلاتے جاتے

    5۔ تعلیم ہماری اولین ترجیح ہو۔ کوئ معاشرہ بغیر تعلیم کے یا ناقص تعلیم کے ساتھ ترقی نہیں کرسکتا۔ اس کے لئے حکومت ہنگامی طور پر اقدامات کرے۔ اور یکساں معیاری نظام تعلیم کو فروغ دے۔ مگر عوام حکومت ہی کے آسرے پر نہ رہے۔ اپنی مدد آپ کے تحت جدید وسائل کمپیوٹر،موبائل اور انٹرنیٹ وغیرہ کے ذریعے معیاری تعلیم کا حصول اب ممکن ہے۔

    6۔ قدرت نے اس ارض پاک کو بیشمار وسائل سے نوازاہے۔ پاکستان دنیا کے ان چند ملکوں میں سے ہے جو قدرتی وسائل اور معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے۔ پاکستان میں بکثرت صحرا، سمندر ،پہاڑ اور دریا موجود ہیں مگر ان وسائل سے ہم فائدہ حاصل کرنے کے بجائے دوسری اقوام کی طرف ہاتھ پھیلائے بیٹھے ہیں۔ ان وسائل سے فائدہ اٹھانے کیلئے اقدامات بے حد ضروری ہیں۔

    7۔ ہم قائد کے تین نکات پر مبنی اس زریں اصول کو بھول گئے: ایمان، اتحاد اور تنظیم۔ ہمارا ایمان اللہ کی ذات سے زیادہ امریکہ، آئ ایم ایف اور ڈالروں پر ہے۔ اس کو اقبال رحمہ اللہ نے یوں کہا:

    بتوں سے تجھ کو امیدیں،خدا سے نومیدی
    مجھ کو بتا تو سہی اور کافری کیا ہے

    ہمارا اتحاد پارہ پارہ ہے، قومی و لسانی تعصبات کے بدبودار نعرے اس پیارے ملک کو متعفن کرتے ہیں۔

    وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدّن میں ہنود
    یہ مسلماں ہیں! جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود
    یوں تو سیّد بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
    تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو!

    ہماری زندگی میں نظم و ضبط بھی ناپید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوسری تمام اقوام ان اصولوں پر عمل کرکے ستاروں پر کمندیں ڈال رہی ہیں۔ اور ہم اپنے آباء و اجداد کے کارناموں پر بغلیں بجارہے، اور خود خواب غفلت میں ہیں۔ یہی صورتحال دیکھ کر اقبال رحمہ اللہ نے فرمایا تھا

    تھے تو آبا وہ تمھارے ہی، مگر تم کیا ہو
    ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو!

    8۔ ہم سیاسی انتشار کا شکار ہیں۔ قومی مفاد پر ذاتی مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ہم اختلاف ضرور رکھیں۔ مگر اختلاف کے آداب کا خیال رکھیں۔ محض اختلاف کی وجہ سے فریق مخالف کی اچھی بات کا بھی رد کرنا درست رویہ نہیں ہے۔

    9۔ ہمارے ہاں قانون پر عملدرآمد صرف غریب کے لئے ہے۔ امیر اور شاہی طبقہ جب جس قانون کو اپنے قدموں تلے روند ڈالے، کوئ پوچھنے والا نہیں۔ قانونی بالادستی ہر حال میں لازم ہو۔ اس میں کوئ رعایت نہ ہو۔

    10۔ تمام ممالک سے بالعموم ، عالم اسلام سے بالخصوص ہمارے تعلقات ویسے نہیں رہے ، جیسے ہونے چاہئیں۔ جبکہ امن و امان اور ملکی ترقی اس کے بغیر ممکن نہیں۔

    الغرض ملک پاکستان اسلام کے نام پر بنا اللہ کا عظیم تحفہ ہے۔ اس کرہ ارض پر اور کوئ ملک ایسا نہیں ہے،جس کے دستور میں یہ بات ہو کہ حاکمیت صرف اللہ کے لئے ہے اور اس ملک کا ہر دستور قرآن و سنت کے مطابق ہوگا۔ یہ پیارا ملک پاکستان ضرور وہ مقاصد حاصل کریگا، جس کے لئے یہ بنا ہے۔ مگر ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اور اپنی ناکامیوں اور غلطیوں سے سیکھنا ہوگا۔ آخر میں احمد ندیم قاسمی کی دعا پر اپنی تحریر ختم کرتا ہوں۔ ویرحم اللہ عبدا قال آمینا ( اور اللہ ہر اس شخص پر رحم فرمائے جو اس دعا پر آمین کہے)

    خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
    وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

    یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
    یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

    یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
    اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

    گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
    کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو

    خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
    اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو

    ہر ایک خود ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
    کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

    خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
    حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

  • باغی تحریری مقابلہ – دوم تحریر – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — حافظ شاہد محمود

    باغی تحریری مقابلہ – دوم تحریر – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — حافظ شاہد محمود

    ہم تو مٹ جائیں گے اے ارض وطن لیکن تم کوزندہ رہنا ہے قیامت کی سحر ہونے تک”

    14 اگست کو ہر سال ہم یوم آزادی مناتے ہیں بڑے بڑے جشن منعقد منعقد کیے جاتے ہیں ، اسلاف کی قربانیوں ، شہیدوں کی شہادتوں ، مظلوموں پر ڈھائی جانے والی تکالیف کا ذکر ہوتا ۔ پھر آذادی کی نعمت کا ذکر بھی ہوتا ہے ، لاکھ لاکھ شکر ادا ہوتا ہے ، ہزاروں سجدے ہوتے ہیں ، گھر گھر قومی پرچم لہرایا جاتا ہے ، قومی پرچم کو سلامی دی جاتی ہے ، جب سبز ہلالی پرچم لہراتا ہے تو ہمارا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے ، دل جوش و جذبے سے سرشار ہوجاتا ہے ، یہ وہ عظیم پرچم جو ہمارا تشخص اور پہچان ہے ہمیں اس کا پرسکوں سایہ مسلسل جدوجہد اور ہمارے اسلاف کی بے شمار قربانیوں کا ثمر ہے۔

    1707 عیسوی میں مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر اس دنیا سے رخصت ہوگیا اس کے پوتوں کی غفلت اور نااہلی کا نتیجہ یہ نکلا کہ انگریزوں کی غلامی کا پٹہ مسلمانوں کے گلے میں پڑ گیا ، اس طوق غلامی نے ایمانی قوتوں کو کمزور کردیا ، اپنا ضمیر جاتا رہا ، اپنی فکر ختم ہو گئی ، پھر کیا تھا مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ، کل تک جو برصغیر کے بے تاج بادشاہ تھے پابند سلاسل کردئیے گئے ، کالے پانیوں کی سزا دی گئی۔

    پھر کیا تھا اللہ تعالیٰ کو اسلامیان برصغیر پر ترس آگیا ، دعائیں قبول ہونے لگیں ، شہیدوں کی شہادتیں رنگ لانے لگیں ،ایمانی قوت جاگنے لگی ، اغیار کی زنجیریں ٹوٹنے لگیں ، مسلمانوں کو ایسی ولولہ انگیز قیادت میسر آئی جو سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید سے شروع ہوئی اور علامہ محمد اقبال سے قائد اعظم محمد علی جناح تک نے اپنا کردار بخوبی نبھایا ، انہوں نے کہا پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ ، تیرا میرا رشتہ کیا لا الہ الااللہ ، لیکر رہیں گے پاکستان ، بن کر رہے گا پاکستان ، بالاآخر 14 اگست 1947 کو معرضِ وجود میں آگیا۔

    75 سال ہوگئے میرے وطن عزیز کو آزاد ہووے ، جس کے بارے اغیار کا خیال تھا کہ کچھ عرصہ بعد خود ہی ٹوٹ جائے گا ، لیکن آج پاکستان پوری قوت ، اپنی پوری آن ، بان اور شان کے ساتھ استحکام کی طرف بڑھتے ہووے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا رہا ہے۔

    میں مانتی ہوں کہ دشمن کو 1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں کامیابی حاصل ہوئی تھی ، اس وقت اندرا گاندھی نے کہا تھا ہم نے نظریہ پاکستان خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے ، لیکن آج حقیقت اس کے برعکس ہے ، لا الہ الا اللہ کا نظریہ دوبارہ زندہ ہو رہا ہے ، پوری دنیا کے مسلمان پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایٹمی دھماکے پاکستان چاغی کے مقام پر کر رہا تھا اس وقت کشمیر و فلسطین کے بچے خوشیاں منا رہے تھے ، عالم اسلام میں مٹھائیاں تقسیم ہو رہی تھیں۔

    وطن عزیز پاکستان اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے نشانی ہے ، لاکھوں جانوں کی قربانیاں کے بعد معرض وجود آنے والا مدینہ ثانی دنیا میں بہت بنیادوں پر منفرد مقام رکھتا ہے.

    ہمارے وطن کا دارالحکومت اسلام آباد دنیا کے دس خوبصورت ترین دارالحکومتوں میں سے ایک ہے،ہمارے ملک کا جھنڈا دنیا کے حسین ترین جھنڈوں میں سے ایک ہے، پاکستان کے قومی ترانے کی دھن پوری دنیا میں اول نمبر پر ہے، پاکستان میں ایشیاء کا سب سے بڑا نہری نظام موجود ہے، پاکستان کا شمار دنیا کے ان چوٹی کے 4 ممالک میں ہوتا ہے کہ جہاں ذہین ترین لوگ موجود ہیں، حال ہی میں ایک 9 سالہ پاکستانی طالبہ نتالیہ نجم نے کیمسٹری کے پیریوڈک ٹیبل کو 2 منٹ اور 42 سیکنڈ میں ترتیب دے کر ایک بھارتی پروفیسر کا ریکارڈ توڑ کر پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اور واقعتاً ثابت کیا کہ پاکستانی لوگوں کاشمار دنیا کے ذہین ترین لوگوں میں ہوتا ہے ،

    پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے کہ جہاں سب سے زیادہ ڈاکٹرز اور انجینئرز موجود ہیں، دنیا کا چوتھا سب سے بڑا انٹرنیٹ براڈ بنیڈ سسٹم ہمارے ملک میں موجود ہے، تربیلا ڈیم مٹی سےبنا دنیا کا عظیم ترین ڈیم ہے، چھانگا مانگا کا جنگل مصنوعی طور پر اگایا جانے والا سب سے بڑا جنگل ہے، دنیا کی سب سے بڑی نجی ایمبولینس سسٹم ایدھی فاؤنڈیشن بھی ارض وطن میں ہی ہے،

    وطن عزیز پاکستان کو یہ نمایاں ترین اعزاز بھی حاصل ہے کہ، اس کا شمار دنیا کے سب سے زیادہ خیرات، صدقات اور فلاحی عطیات والے ممالک میں سر فہرست ہے، پاکستان دنیا میں سب زیادہ جراحت / سرجیکل آلات اور فٹبال بنا کر بیچنے اور ایکسپورٹ کرنے والا ملک ہے،پاک وطن میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی نمک کی کان کھیوڑہ میں موجود ہے، مادر وطن اسلامی ممالک میں پہلا اور تسلیم شدہ ایٹمی ملک ہونے کا اعزاز بھی رکھتا ہے، دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو بھی یہیں موجود ہے، ارض وطن سیاحتی اعتبار سے دنیا کے محفوظ ترین ممالک کی فہرست میں شامل ہے، پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی وادیوں کا موازنہ ان کےبے پناہ حسن اور خوبصورتی کی بناء پر، سوئٹزرلینڈ سے کیا جاتا ہے۔

    پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے کہ جہاں ادب اور فنونِ لطیفہ کا ایک عظیم ورثہ موجود ہے، فن مصوری ہو یا خطاطی، سنجیدہ نثر نگاری ،پاکستانی ملی نغمے آج بھی دنیا بھر میں مقبول اور پسندیدہ ترین ہیں۔

    پاکستان میں کھیلے جانے والے بیشتر کھیلوں کا آغاز برطانیہ میں ہوا اور برطانویوں نے انہیں ہندوستان میں متعارف کرایا۔ ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے۔ اس نے 1960ء، 1968ء، اور 1984ء میں کھیلے گئے اولمپک کھیلوں میں تین سونے کے طمغے حاصل کئے ہیں۔ پاکستان نے ہاکی کا عالمی کپ بھی چار بار جیتا ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔ پاکستان نے ہاکی کا عالمی کپ 1971ء، 1978ء، 1982ء اور 1994ء میں جیتا ہے۔

    پاکستان کرکٹ کے ٹیم، جنہیں شاہین کہا جاتا ہے، نے 1992ء میں کرکٹ کا عالمی کپ جیتا تھا۔ 1999ءمیں شاھین دوسرے نمبر پر رہے۔

    اور 1987ء اور 1996ء میں عالمی کپ کے مقابلے جزوی طور پر پاکستان میں ہوئے۔ پاکستان ٹی 20 قسم کے کھیل کے پہلے مقابلے میں دوسرے نمبر پر رہے جو سال 2007ء میں جنوبی افریقہ میں کھیلا گیا تھا۔ اور سال 2009ء میں اسی قسم کے کھیل میں پہلے نمبر پر رہے اور عالمی کپ جیتا جو برطانیہ میں کھیلا گیا تھا۔

    ورزشی کھیلوں میں عبدالخالق نے سال 1954ء اور سال 1958ء کے ایشیائی کھیلوں میں حصہ لیا۔ اس نے 35 سونے کے طمغے اور 15 عالمی چاندی اور پیتل کے طمغے پاکستان کے لیے حاصل کئے۔

    پاکستان کو دنیا میں آج بھی سکواش کے کھیل میں سب زیادہ فتوحات حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔

    پاکستان کی کی بری، بحری اور فضائی افواج پیشہ ورانہ مہارت کی بناء پر نہ صرف اہم ترین مقام کی حامل ہیں بلکہ دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں اپنے اعلیٰ ترین کارکردگی کا مظاہرہ کرکے اپنی سبقت کو منوا چکے ہیں، پاکستان موٹروے پولیس سسٹم کو دنیا میں ایک ماڈل کے طور پر لیا جاتا ہے، پاکستان کی ریسکیو ایمرجنسی سروس کو پیشہ ورانہ مہارت اور قابلیت کی وجہ سے دنیا کے چند اعلیٰ ترین اداروں میں شمار کیا جاتا ہے..

    ہمارا وطن دنیا کے عظیم ترین ممالک میں سے ایک ہے، اس ملک کی تاریخ شاہد ہے کہ پاکستانیوں کا جزبہ حب الوطنی بے مثال و بے نظیر ہے، جب جب بھی اس ملک پر کڑا وقت آیا ہے ہم نے یکجا ہو کر اس کا مقابلہ کیا ہے، پاکستان ہماری جان ہے، ہماری شان ہے، ہماری آن بان ہے اور سب سے بڑھ کر ہماری شناخت اور پہچان ہے اور یہ سب آزادی کی نعمتیں ہیں.

    پروردگار عالم ہمارے ملک کو قائم و دائم رکھے، اسے دشمنوں سے محفوظ رکھے، پروردگار عالم ہماری افواج اور ہماری حفاظت پر معمور تمام اداروں کا حامی و ناصر، آئیے عہد کریں کہ ہم مل کر تمام تر اختلافات چاہے وہ زبان، فرقے، رنگ، نسل، علاقے یا کسی بھی بنیاد پر ہوں ان کو یکسر نظر انداز کرکے، اپنے ملک کی ترقی و عروج کے ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں گے، اور آنے والے وقتوں میں اپنی دھرتی ماں کو عظیم سے عظیم تر بنائیں گے،انشاء ﷲ مستقبل کا پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے خوابوں کا عکاس ہوگا، اپنے وقت کے معروف شاعر منشی منظور صاحب کا شہرہ آفاق شعر ہر ایک پاکستانی کے جزبات کی ترجمانی کرتا ہے۔

    “میرے وطن یہ عقیدتیں اور پیار تجھ پر نثار کردوں،
    محبتوں کے یہ سلسلے بے شمار تجھ پر نثار کردوں ”

    ہم اپنے پیارے وطن کے لیے تاقیامت سلامتی کے لیے دعا گو ہیں اور ہمیشہ رہیں گے.

  • باغی تحریری مقابلہ – اول تحریر – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — طلحہ ملک

    باغی تحریری مقابلہ – اول تحریر – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — طلحہ ملک

    حضرت آدم علیہ السلام کے پیدا ہونے سے ہی انسان نے زندگی میں اپنے مسائل کو پرکھنے اور ان کے حل کے لیے جستجو کی ہے۔ مختلف عقائد اور نظریات پر آزادی سے پہرہ دینے کے لیے مختلف قوموں نے جنم لیا۔ پاکستان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو 14 اگست 1947 میں دُنیا کے نقشے پر ایک آزاد اسلامی ریاست کے نام پر وجود میں آیا آئیے پچھتر سالہ پاکستان کے سیاسی، سماجی، مذہبی، علمی اور دفاعی سمیت دیگر اہم پہلوؤں کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔

    انگریز اور ہندو پاکستان بننے کے حق میں نہیں تھے تقسیمِ ہند کا مسودہ پیش لرتے وقت برطانوی وزیرِاعظم لارڈ اٹیلی نے کہا تھا "ہندوستان تقسیم ہو رہا ہے لیکن مجھے امید ہے یہ تقسیم زیادہ دیر تک نہیں رہے گی اور جلد یہ دونوں ممالک جنہیں ہم الگ کر رہے ہیں ایک ہو جائیں گے” لیکن انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ پاکستان محض ایک زمینی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی قوم ہے کہ جس کے متعلق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ نے قائد اعظم محمد علی جناح کو 1937ء میں لکھے گئے خط میں واضح کیا کہ "اگر ہندوستان کے مسلمانوں کا مقصد سیاسی جدوجہد سے محض آزادی اور اقتصادی بہبود ہے اور حفاظتِ اسلام اس کوشش کا حصہ نہیں تو مسلمان اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے لہٰذا قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے ایک عظیم لیڈر کا کردار ادا کرتے ہوئے عوام کو اسلامی نظریے کو حاصل کرنے کے لیے ایک قوم بنایا نہ کے ایک خطے کے حصول کے لیے۔

    13 اگست 1947 کی رات 12 بجے برصغیر کے معروف براڈکاسٹر مصطفیٰ علی ہمدانی نے آل انڈیا ریڈیو پر آزادی کا اعلان کرتے ہوئے کہا

    "بسم اللہ الرحمن الرحیم، السلام و علیکم 13 اور 14 اگست 1947ء کی درمیانی شب 12 بجے پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس طلوع صبح آزادی”

    یوں قوم کو آزاد اسلامی ریاست "پاکستان” کی خوشخبری سُنا دی گئی اب یہ صرف ایک عام خطہ نہ تھا بلکہ مسلم امت کی ایک بہت بڑی آزاد ریاست تھی۔

    کسی بھی جمہوری ریاست کے چار بنیادی ستون مقننہ انتظامیہ عدلیہ اور ذرائع ابلاغ ہوتے ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بہت سارے اہم ترین بل کثرتِ رائے سے پاس ہوئے تاکہ اگر پاکستان میں یہ قوانین نہ بنائے جاتے تو ملک شدید اختلافات کی زد میں ہوتا ان قوانین میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا قانون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیّین ہونے کا قانون صدر اور وزیر اعظم کے مسلمان ہونے سمیت کئی قوانین شامل ہیں جو کہ پاکستان کے ایک اسلامی ریاست ہونے کی ترجمانی کرتے ہیں انتظامیہ ان قوانین کی خلاف ورزی پر متحرک کردار ادا کر کے ریاست کو فسادات سے محفوظ رکھنے کی کوشش میں لگی رہتی ہے جبکہ عدلیہ قوانین پر عمل درآمد کر کے جزاء و سزا کو عمل میں لاتی ہے تاکہ ملک میں اعتدال کو قائم رکھا جائے، چوتھا ستون یعنی ذرائع ابلاغ چھوٹے مسائل سے لے کر قومی و ملی مسائل کو با اختیار لوگوں تک پہنچا کر اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں ان چار ستونوں کے ساتھ ایک اہم ترین کردار دفاعی اداروں کا ہے جو ریاست کی چھت کا کردار ادا کرتے ہیں اور دفاعی حدود پر اپنی جان ہتھیلی میں رکھ کر قوم کی حفاظت کی ذمہ داری کے فرائض سر انجام دیتے ہیں اور قوم کو اپنے ذاتی گھر کی طرح کا تحفظ دینے میں اپنا زبردست کردار ادا کرتے ہیں۔

    بات کی جائے معاشی پہلو کی تو قیمتی زمینی ذخائر اور باصلاحیت ہنر مند لوگ کسی بھی مستحکم معیشت کے ضامن ہوتے ہیں پاکستان کو ابتدائی طور پر ہنر مند لوگوں کی کمی کا سامنا رہا تھا مختلف شعبوں میں ترقی کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر روابط سے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی پاکستانیوں نے غیر ملکیوں کی مدد سے ہنر سیکھے اور خوب محنت کر کے ابتدائی طور پر ملکی معیشت کو مضبوط سہارا دیا زراعت اور دیگر شعبوں میں کثرتِ محنت کے نتیجے میں خوب ترقی حاصل کی تاہم ترقی کے اس سفر میں سیاسی عدم استحکام ہمیشہ معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہوا یوں تاحال پاکستان باوجود باہنر افراد اور زمینی ذخائر کے عالمی سطح پر اپنی مضبوط معیشت کو منوانے میں ناکام رہا ہے حالانکہ پاکستان ذرائع ابلاغ کی بدولت دنیا کے معاشی نظام سے خوب واقف رہا ہے مگر اپنی معیشت کو اس کے مطابق نہ ڈھال سکا۔

    ذرائع ابلاغ نے ہر دور میں اپنا اہم ترین کردار ادا کیا ہے مگر مواصلاتی ترقی نے اس کی اہمیت میں بے حد اضافہ کر دیا ہے۔ میڈیا کو بہت سارے ممالک میں اظہارِ خیال کی کھلی آزادی ہے جبکہ چند ممالک میں میڈیا پر بہت سی پابندیاں عائد ہیں یاد رہے میڈیا کی زبان باندھ دی جائے یا اس کی بیڑیاں کھول دی جائیں دونوں طریقے ہی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ زبان بندی سے میڈیا صرف وہ پیغام پہنچاتا ہے جس کا اسے پابند کیا جاتا ہے جبکہ آزاد میڈیا اکثر اوقات ملکی دفاع کے لیے خطرناک ثابت ہوتا ہے پاکستان میں آزاد میڈیا پر وقفے وقفے سے پابندیاں لگتی آئی ہیں ان پابندیوں میں کالم نگار بھی کسی دوسرے کے ہاتھ سے لکھتا اور صحافی بھی کسی اور کی زبان بولتا تھا جبکہ اب آزاد میڈیا کی حیثیت سے ہر اخبار یا ٹی وی چینل ذاتی مفاد کی خاطر اکثر مخصوص سیاسی پارٹیوں کی حمایت یا مخالفت کرتے رہتے ہیں.

    ملکی سطح پر اگر ان کی تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام کیا جائے تو عوام سنسنی خیزی کے جذبات اور انتشار سے محفوظ رہ سکتے ہیں
    تعلیم و تربیت کے ہی پہلو کا سطحی جائزہ لیا جائے تو کسی بھی ملک کا منظم تعلیمی سسٹم اور نصاب اس ملک کے روشن مستقبل کی توثیق یا تردید کرتا ہے پاکستان کی بیشتر آبادی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کر رہی ہے جس وجہ سے تمام بچے ابتدا سے ہی تعلیم کی طرف نہیں آتے یا ابتدائی تعلیم کے دوران ہی چھوڑ جاتے ہیں مگر پھر بھی بحثیتِ قوم پاکستان میں تعلیم کے ساتھ ایک خاص لگاؤ اور دلچسپی برقرار ہے ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں دو لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں پندرہ لاکھ پینتیس ہزار اساتذہ کرام چار کروڑ دس لاکھ سے زائد بچوں کو تعلیم مہیا کر رہے ہیں تعلیم مہیا کرنے والے ان اداروں میں چالیس ہزار سے زائد چھوٹے بڑے مدرسے اور دینی درسگاہیں بھی شامل ہیں مگر اس سب کے با وجود حیرت انگیز طور پر پاکستان کا نظامِ تعلیم دنیا کے جدید تعلیمی تقاضوں سے نہ ہونے کے برابر مطابقت رکھتا ہے جس کا اندازہ اس بات سے بخوبی ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں بہتر تعلیمی نظام کے ممالک میں پاکستان اس وقت ایک سو پچیسویں نمبر پر موجود ہے تحقیق کرنے والے ادارے نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے نظام تعلیم کا مطلب تعلیم کا نظام نہ ہونا ہے۔ بنیادی طور پر اچھے نصاب اور عملی تربیت کا فقدان اس تنزلی کی بڑی وجوہات ہیں ہمارے نظامِ سیاست نے ملک کے ہر شعبے کی ساکھ کو دیمک زدہ کر کے رکھ دیا ہے۔

    پاکستان کا سیاسی منظر نامہ بڑا غیر مستحکم ہے کہا جاتا ہے کہ پاکستان کو کبھی وفادار لیڈر نہیں ملا اگر ملا تو اس کی قدر نہیں کی گئی آزادی کے بعد جلد ہی پاکستان کو نظر لگ گئی تھی پہلے ہی وزیرِ اعظم کو شہید کر دیا گیا ابتدا سے آج تک میرا ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ہے کبھی صدارتی نظام رائج کر دیا جاتا رہا اور کبھی مارشل لاء کا قانون نافذ کر دیا جاتا کبھی سرپرستِ مملکت کو پھانسی پر لٹکا دیا جاتا تو کبھی جبراً جلا وطن کر دیا جاتا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جمہوریت کے ساتھ کچھ با اثر پاکستان دشمنوں کی طرف سے پہلے دن سے قوم اور قومی راہنماؤں کا یوں مذاق اڑایا جاتا رہا ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اگر کوئی قوم کی نبض پر ہاتھ رکھنے والا لیڈر آئے کہ جس کے کہنے پر پوری قوم ملکی مفاد کے لیے یک جان ہو جائے ایسے لیڈر کو بھی استعمال کیا جاتا ہے اس میں نہ صرف غیر ملکی مداخلت شامل ہے بلکہ پس پردہ ہمارے ہی سیاستدان استعمال ہوتے ہیں۔

    اگر مزید پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جائے تو ہر پہلو پر ایک مدلل طویل تحریر مرتب ہوگی مگر اب چند اصلاحی اختتامی سطور پر اکتفا کروں گا کہ پاکستانی قوم لا الہ کے مشن پر آزاد ہوئی تھی اسے لا الہ کے حقیقی مشن پر قائم رہنے دیا جائے ان کے نیک جذبات کی قدر کی جائے قوم کو سیاسی سماجی سطح پر منتشر نہ کیا جائے بارڈرز پر کھڑی فوج کا احترام کیا جائے اسپتالوں میں پڑے مریضوں سے ہمدردی کی جائے نوجوان لڑکے لڑکیوں کے قیمتی ہنر کی کی قدر کی جائے تعلیم و تربیت کا عالمی اسلامی اصولوں پر اہتمام کر کے اس تک عام آدمی کی رسائی کو ممکن بنایا جائے ذرائع ابلاغ محض ریٹنگ کی خاطر قوم کو منتشر نہ کریں سیاست دان اگر پاکستان کے حق میں تقریریں کرتے ہیں تو اس سے کہیں بہتر ہے اپنے کام کو بحسنِ خوبی سر انجام دیں تا کہ تقاریر سے مطمئن کرنے کی نوبت ہی پیش نہ آئے آج ہمیں 1947 کی آزادی کے جذبات سے آگاہ رہنے کے لیے آباؤ اجداد کی تاریخ کا مطالعہ کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ اپنے نیک جذبات کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے اور اپنی تمام تر خدمات سے پاکستان کو دن دگنی رات چگنی ترقی دینے میں اہم کردار ادا کر سکیں.

    وطن کے جاں نثار ہیں وطن کے کام آئیں گے
    ہم اس زمیں کو ایک روز آسماں بنائیں گے

  • آزادی بڑی نعمت ہے۔ ( مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ) — حافظ گلزارعالم

    آزادی بڑی نعمت ہے۔ ( مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ) — حافظ گلزارعالم

    جامعہ دارالعلوم کراچی ، کورنگی کراچی میں واقع ایک عظیم دینی ادارہ ہے۔ جہاں قرآن و حدیث اور اس سے متعلقہ علوم کی معیاری تعلیم دی جاتی ہے۔ اسکے بانی مفتی محمد شفیع صاحب رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔

    جو تحریک پاکستان کے عظیم رہنما تھے۔ پاکستان بننے کے بعد آپ نے مفتی شبیر احمد عثمانی صاحب کی ایماء پر پاکستان ہجرت کی۔

    اور یہاں آکر ملک وقوم کی خدمت میں مصروف ہوگئے۔ جامعہ کے حالیہ صدر استاذ محترم مفتی رفیع عثمانی صاحب اور نائب صدر استاذ محترم مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتھم ہیں

    مادر علمی جامعہ دارالعلوم کراچی میں ہر سال جشن آزادی کے موقع پر پر وقار تقریب منعقد کی جاتی ہے۔ جس سے وطن عزیر پاکستان کی محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔

    ایسی ہی ایک تقریب کا حال اس تحریر میں پیش خدمت ہے:

    آج 14 اگست ہے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی مادر علمی جامعہ دارالعلوم کراچی کو سبز ہلالی پرچموں سے خوب سجایا گیا۔ جشن آزادی کی تقریب کا وقت 10 بجے طے تھا۔ جامعہ کی وسیع وعریض مسجد کے باب یاسین کے ساتھ بنے اسٹیج پر جامعہ کے اساتذہ کرام کے لئے نشستیں رکھی گئ۔ اور جامعہ کے طلباء اور شرکاء کیلئے اسٹیج کے سامنے دراسات دینیہ اور دارالقرآن کے وسط میں ہرے بھرے لان میں بیٹھنے کا انتظام کیا گیاہے۔

    تقریب کے شروع ہونے سے قبل ہی طلبہ اور دور دراز سے آنے والے شرکاء جمع ہونا شروع ہوئے، اور یوں دس بجے تک تلاوت کلام پاک سے تقریب کا آغاز کیا گیا۔ تلاوت کے بعد حمد اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھی گئ۔ پھر وطن عزیز سے محبت کے اظہار میں قومی و ملی نغمے پڑھے گئے۔ جن سے حاضرین کے جوش و جزبے میں خوب اضافہ ہوا۔

    جامعہ کے طلبہ کی طرف سے مختلف مظاہرے پیش کئے گئے، فوجی پریڈ بھی کی گئ۔ اور پھر جامعہ کے طلبہ اور اساتذہ کرام نے طلبہ عزیز اور شرکاء سے آزادی کی قدرو قیمت اور ملک و قوم سے محبت پر خطابات کئے۔ سب سے آخری خطاب جامعہ کے نائب صدر شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب کا ہوا۔ جس میں آپ نے آزادی کی قدر وقیمت پر وقیع خطاب فرمایا۔

    آپ کے خطاب کے اہم نکات پیش خدمت ہیں:

    ۔ ہم پاکستان کی صورت میں اللہ کے اس عظیم تحفہ پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔

    ۔ تمام غیر اسلامی طاقتیں اس بات کے لئے کوشاں تھیں کہ یہ ملک وجود میں نہ آئے ۔ اللہ نے مسلمانان برصغیر کی مدد فرمائ۔ اور کوہ ہمالیہ کے دامن میں پھیلا یہ وسیع وعریض اور سرسبزوشاداب ملک عطا فرمایا۔

    ۔ ملک پاکستان دنیا کہ نقشے پر پہلی بار اسلام کے نام پر بننے والی ریاست ہے۔

    ۔ یوں تو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وطن سے وفاداری ہر انسان کے لئے ضروری ہے۔ مگر یہ وطن اسلام کے نام پر بنا ہے۔ اس سے وفاداری نہ صرف اس کا حق ہے۔بلکہ یہ دینی فریضہ بھی ہے۔

    ۔ یہ اعزاز صرف پاکستان کو حاصل ہے کہ اس کے دستور میں یہ بات لکھی ہے کہ حاکمیت صرف اللہ کی ہوگی، اور اس دستور کا ہر قانون قرآن سنت کے مطابق ہوگا۔

    ۔تحریر و تقریر کی آزادی پاکستان کے علاوہ کسی ملک میں نہیں۔ لہذا اس نعمت کو نعمت سمجھو۔

    ۔ مایوسی پھیلانے کے بجائے امید کے چراغ روشن کرو۔

    شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
    اپنے حصے کی کوئ شمع جلاتے جاتے

    لہذا ہر شخص جذبہ،ہمت ، خلوص اور حب الوطنی سے سرشار ہوکر ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔

    ۔ ہر گز یہ نہ سوچیں کہ ایک فرد یا ایک ادارہ معاشرہ میں کیا تبدیلی لا سکتا ہے۔ چراغ سے چراغ جلتا ہے۔ یہ اللہ کی سنت ہے۔

    ۔ اللہ اس ملک کو دن دگنی رات چگنی ترقی عطا فرمائے ۔ اور ہمیں اس کی ترقی میں حصہ ڈالنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    خطاب کے بعد ملک عزیز کی بقا، سلامتی اور تعمیر و ترقی کے لئے دعا کرائ گئ،پرچم کشائ کی گئ اور یوں اس پروقار تقریب کا اختتام ہوا .۔

  • ایفائے عہد اور تکمیل پاکستان —  حافظ شاہد محمود

    ایفائے عہد اور تکمیل پاکستان — حافظ شاہد محمود

    اوفوا بالعھد ان العھد کان مسئولا (71 : 43)

    ”اور وعدہ کو پور اکرو ، بیشک عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا“۔

    وفائے عہد کے بارے میں اللہ تعالیٰ خود سوال کرے گا اور جو لوگ وفائے عہد نہیں کرتے ، ان سے قیامت کے دن اس سلسلے میں باز پرس ہوگی۔

    کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر کسی سے عہد کے بارے میں پوچھ گچھ کرنی ہے۔ اس عہد سے مراد وہ عہد بھی لیا جاسکتا ہے جو روز آفر ینش اللہ تعالیٰ نے بنی آدم سے یہ کہہ کرلیا تھا کہ کیا میں تمہارا رب ہوں یا نہیں ؟اس عہد کی پاسداری نہ کرنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور شرک کرنا ہے۔ ایک دوسرے سے کیے ہوئے عہد کو توڑنا اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑا گناہ ہے۔ دنیا میں بھی عہد شکنی کرنے والے کی عزت کو شدید دھچکا لگتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی نماز، حج اور ہر قسم کی نیکی لوگوں کی نظروں میں طعنہ بن جاتی ہے۔

    مختصر یہ کہ ایفائے عہد کی اس قدر زیادہ اہمیت ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنی نسبت بار بار اعلان فرمایا ہے کہ :

    ” ان اللہ لا یخلف المیعاد “۔ الرعد ٣ : ٣١) ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “
    ” لا یخلف اللہ المیعاد “۔ (الزمر ٣٩ : ٢٠) ” اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “
    ” انک لا تخلف المیعاد “ (آل عمران ٣ : ١٩٤) ” (اے ہمارے پروردگار) بلاشبہ تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “
    ” وعداللہ لا یخلف اللہ وعدہ “۔ (الروم ٣٠ : ٦) ” اللہ کا وعدہ ہے ‘ اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “
    ” ولن یخلف اللہ وعدہ “۔ (الحج ٢٢ : ٤٧) ” اور اللہ ہرگز نہ ٹالے گا اپنا وعدہ ۔ “
    (آیت) ” فلن یخلف اللہ عہدہ “۔ (البقرہ : ٢ : ٨٠) ” پس اللہ تعالیٰ اپنے قول وقرار کے خلاف نہ کرے گا۔ “
    ” ومن اوفی بعھدہ من اللہ “۔ (التوبہ ٩ : ١١١) ” اور اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہے ۔ “

    جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کا سچا اور اپنے عہد کا پکا ہے ‘ اسی طرح اس کے بندوں کی خوبیوں میں سے ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کسی سے جو وعدہ کریں وہ پورا کریں اور جو قول وقرار کریں اس کے پابند رہیں ‘ سمندر اپنا رخ پھیر دے تو پھیر دے اور پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائے تو ٹل جائے مگر کسی مسلمان کی یہ شان نہ ہو کہ منہ سے جو کہے وہ اس کو پورا نہ کرے اور کسی سے جو قول وقرار کرے اس کا پابند نہ رہے ۔

    عام طور پر لوگ عہد کے معنی صرف قول وقرار کے سمجھتے ہیں لیکن اسلام کی نگاہ میں اس کی حقیقت بہت وسیع ہے وہ اخلاق ‘ معاشرت ‘ مذہب اور معاملات کی ان تمام صورتوں پر مشتمل ہے جن کی پابندی انسان پر عقلا شرعا قانونا اور اخلاقا فرض ہے اور اس لحاظ سے یہ مختصر سا لفظ انسان کے بہت سے عقلی ‘ شرعی قانونی اخلاقی اور معاشرتی فضائل کا مجموعہ ہے اسی لئے قرآن مجید میں بار بار اس کا ذکر آیا ہے اور مختلف حیثیتوں سے آیا ہے ، ایک جگہ اصلی نیکی کے اوصاف کے تذکرہ میں ہے ۔

    ” والموفون بعھدھم اذا عاھدوا “۔ (البقرہ ٢ : ١٧٧)
    اور اپنے قول وقرار اور عہد کو پورا کرنے والے جب وہ عہد کریں ۔
    بعض آیتوں میں اس کو کامل ال ایمان مسلمانوں کے مخصوص اوصاف میں شمار کیا گیا ہے ۔

    ” والذین ھم لامنتھم وعھدہم راعون “۔ (المومنون ٢٣ : ٨)
    اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس ملحوظ رکھتے ہیں ۔

    ایک دوسری سورة میں جنتی مسلمانوں کے اوصاف کا نقشہ کھینچا گیا ہے اس کی تصویر کا ایک رخ یہ ہے :

    ” والذین ھم لامنتھم وعھدہم راعون “۔ (المعارج ٧٠ : ٣٢)
    اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس ملحوظ رکھتے ہیں ۔

    تمام عہدوں میں سے سب سے پہلے انسان پر اس عہد کو پورا کرنا واجب ہے جو خدا اور اس کے بندوں کے درمیان ہوا ہے ‘ یہ عہد ایک تو وہ فطری معاہدہ ہے جو روز الست کو بندوں نے اپنے خدا سے باندھا اور جس کو پورا کرنا اس کی زندگی کا پہلا فرض ہے چنانچہ ارشاد ہوا:
    ” الذین یوفون بعھد اللہ ولا ینقضون المیثاق والذین یصلون ما امر اللہ بہ ان یوصل “۔ (الرعد ١٣ : ٢٠ ، ٢١)

    جو اللہ کے ساتھ اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اپنے اقرار کو نہیں توڑتے اور جو خدا نے جن تعلقات کے جوڑنے کا حکم دیا ہے ان کو جوڑے رکھتے ہیں ۔

    اس آیت میں پہلے اس فطری عہد کے ایفاء کا ذکر ہے جو خدا اور بندہ کے درمیان ہے پھر اس قول وقرار کا جو باہم انسانوں میں ہوا کرتا ہے ‘ اس کے بعد اس فطری عہد کا ہے جو خاص کر اہل قرابت کے درمیان قائم ہے ۔

    سورة نحل میں اللہ کے عہد کا مقدس نام اس معاہدہ کو بھی دیا گیا ہے جو خدا کو حاضر وناظر بتا کر یا خدا کی قسمیں کھا کھا کر بندے آپس میں کرتے ہیں ، فرمایا :

    ” واوفوا بعھد اللہ اذا عاھدتم ولا تنقضو ال ایمان بعد توکیدھا وقد جعلتم اللہ علیکم کفیلا “۔ (النحل ١٦ : ٩١)

    اور اللہ کا نام لے کر جب تم آپس میں ایک دوسرے سے اقرار کرو تو اس کو پورا کرو اور قسموں کو پکی کرکے توڑا نہ کرو اور اللہ کو تم نے اپنے پر ضامن ٹھہرایا ہے ۔

    سورة انعام میں بھی ایک اور عہد الہی کے ایفا کی نصیحت کی گئی ہے ، فرمایا :

    ” وبعھد اللہ اوفوا ذلکم وصکم بہ لعلکم تذکرون “۔ (الانعام ٦ : ١٥٢)
    اور اللہ کا اقرار پورا کرو ‘ یہ اس نے تم کو نصیحت کردی ہے تاکہ تم دھیان رکھو۔

    صلح حدیبیہ میں مسلمانوں نے کفار سے جو معاہدہ کیا تھا ‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی کارسازی نے یہ موقع بہم پہنچایا کہ فریق مخالف کی قوت روز بروز گھٹتی اور اسلام کی قوت بڑھتی گئی اس حالت میں اس معاہدہ کو توڑ دینا کیا مشکل تھا مگر یہی وہ وقت تھا جس میں مسلمانوں کے مذہبی اخلاق کی آزمائش کی جاسکتی تھی کہ اپنی قوت اور دشمنوں کی کمزوری کے باوجود وہ کہاں تک اپنے معاہدہ پر قائم رہتے ہیں ‘ چناچہ اللہ تعالیٰ نے بار بار اس معاہدہ کی استواری اور پابندی کی یاد دلائی اور فرمایا کہ تم اپنی طرف سے کسی حال میں اس معاہدہ کی خلاف ورزی نہ کرو جن مشرکوں نے اس معاہدہ کو توڑا تھا ان سے لڑنے کی گو اجازت دے دی گئی تھی اور مکہ فتح بھی ہوچکا تھا پھر بھی یہ حکم ہوا کہ انکو چار مہینوں کی مہلت دو ۔

    ” برآء ۃ من اللہ ورسولہ الی الذین عاھدتم من المشرکین فسیحوا فی الارض اربۃ اشھر واعلموا انکم غیر معجزی اللہ “۔ (التوبہ ٩ : ١)
    اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکوں کو پورا جواب ہے جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا تو پھر لو (تم اے مشرکو) ملک میں چار مہینے اور یقین مانو کہ تم اللہ کو تھکا نہیں سکتے ۔

    آگے چل کر جب یہ اعلان ہوتا ہے کہ اب ان مشرکوں اور مسلمانوں کے درمیان کسی قسم کے معاہدہ کی ذمہ داری نہیں رہی تو ساتھ ہی ان مشرکوں کے ساتھ ایفائے عہد کی تاکید کی گئی جنہوں نے حدیبیہ کے معاہدہ کی حرمت کو قائم رکھا تھا فرمایا :

    ” الا الذین عاھدتم من المشرکین ثم لم ینقصوکم شیئا ولم یظاھروا علیکم احدا فاتموا الیھم عھدھم الی مدتھم ان اللہ یحب المتقین “۔ (التوبہ ٩ : ٤)

    مگر جن مشرکوں سے تم نے عہد کیا تھا پھر انہوں نے تم سے کچھ کمی نہیں کی اور نہ تمہارے خلاف کسی کو مدد دی تو ان سے ان کے عہد کو ان کی مقررہ مدت تک پورا کرو ‘ بیشک اللہ کو پسند آتے ہیں تقوی والے ۔

    اور ان مشرکوں کے ساتھ اس ایفائے عہد کو اللہ تعالیٰ تقوی بتاتا ہے اور جو اس عہد کو پورا کریں ان کو متقی فرمایا اور ان سے اپنی محبت اور خوشی کا اظہار فرمایا آگے بڑھ کر ان مشرکوں سے اپنی براءت کا اعلان کرتے وقت جنہوں نے اس معاہدہ کو توڑا تھا اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو پھر تاکید فرماتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ جوش میں ان عہد شکن مشرکوں کے ساتھ ان مشرکوں کے ساتھی بھی خلاف ورزی کی جائے جنہوں نے اس معاہدہ کو قائم رکھا ہے ۔

    ” کیف یکون للمشرکین عھد عند اللہ وعند رسولہ الا الذین عاھدتم عند المسجد الحرام فما استقاموا لکم فاستقیموا لھم ان اللہ یحب المتقین “۔ (التوبہ ٩ : ٧)

    مشرکوں کے لئے ان کے پاس اور اس کے لئے رسول کے پاس کوئی عہد ہو ‘ مگر وہ جن سے تم نے مسجد حرام کے نزدیک معاہدہ کیا جب تک وہ تم سے سیدھے رہیں تم ان سے سیدھے رہو بیشک اللہ کو تقوی والے پسند آتے ہیں ۔

    سیدھے رہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ اپنے عہد پر قائم رہیں تم بھی اس عہد کو پورا کرتے رہو اور جو لوگ اپنے عہد کو اس احتیاط سے پورا کریں ان کا شمار تقوی والوں میں ہے جو قرآن پاک کے محاورہ میں تعریف کا نہایت اہم لفظ ہے اور تقوی والے اللہ تعالیٰ کی محبت اور رضامندی کی دولت سے سرفراز ہوتے ہیں نتیجہ یہ نکلا کہ معاہدہ کا ایفا اللہ تعالیٰ کی خوشی اور پیار کا موجب ہے اور یہ وہ آخری انعام ہے جو کسی نیک کام پر بارگاہ الہی سے استعمال کیا گیا ہے ۔

    ” یایھا الذین امنوا اوفوا بالعقود “۔ (المائدہ : ٥ : ١)

    مسلمانو ! (اپنے اقراروں کو پورا کرو۔

    (عقد) کے لفظی معنی گرہ اور گرہ لگانے کے ہیں اور اس سے مقصود لین دین اور معاملات کی باہمی پابندیوں کی گرہ ہے اور اصطلاح شرعی میں یہ لفظ معاملات کی ہر قسم کو شامل ہے چناچہ امام رازی تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں ” اوفوا بالعھد “۔ خداوند تعالیٰ کے اس قول کے مشابہ ہے ۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا اوفوا بالعقود “۔ اور اس قول میں تمام عقد مثلا عقد بیع ‘ عقد شرکت ‘ عقد یمین ‘ عقد نذر ‘ عقد صلح ‘ اور عقد نکاح داخل ہیں ، خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت کا اقتضاء یہ ہے کہ دو انسانوں کے درمیان جو عقد اور جو عہد قرار پایا جائے اس کے مطابق دونوں پر اس کا پورا کرنا واجب ہے ۔ (تفسیر کبیر جلد ٢ ص ٥٠٥)

    لیکن (عقد) کا لفظ جیسا کہ کہا گیا صرف معاملات سے تعلق رکھتا ہے اور عہد کا لفظ اس سے بہت زیادہ عام ہے یہاں تک کہ تعلقات کو اس ہمواری کے ساتھ قائم رکھنا جس کی توقع ایک دوسرے سے ایک دو دفعہ ملنے جلنے سے ہوجاتی ہے حسن عہد میں داخل ہے ، صحیح بخاری کتاب الادب میں حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ مجھ کو حضرت خدیجہ (رض) سے زیادہ کسی عورت پر رشک نہیں آیا ‘ میرے نکاح سے تین سال پیشتر انکا انتقال ہوچکا تھا لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کا ذکر کیا کرتے تھے اور بکری ذبح کرتے تھے تو اس کا گوشت ان کی سہیلیوں کے پاس ہدیتا بھیجا کرتے تھے یعنی حضرت خدیجہ (رض) کی وفات کے بعد بھی ان کی سہیلیون کے ساتھ وہی سلوک قائم رکھا جو ان کی زندگی میں جاری تھا ۔ امام بخاری (رح) نے کتاب الادب میں ایک باب باندھا ہے جس کی سرخی یہ ہے ” حسن العھد من ال ایمان “ اور اس باب کے تحت میں اسی حدیث کا ذکر کیا ہے ۔

    حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں حاکم اور بیہقی کے حوالہ سے یہ روایت کیا ہے کہ ” ایک بڑھیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے کہا کہ تم کیسی رہیں ‘ تمہارا کیا حال ہے ‘ ہمارے بعد تمہارا کیا حال رہا ؟ اس نے کہا اچھا حال رہا ۔ جب وہ چلی گئی تو حضرت عائشہ (رض) نے کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بڑھیا کی طرف اس قدر توجہ فرمائی ؟ فرمایا عائشہ ‘ یہ خدیجہ کے زمانہ میں ہمارے ہاں آیا کرتی تھی اور حسن عہد ایمان سے ہے ۔ “ یعنی اپنے ملنے جلنے والوں سے حسب توقع یکساں سلوک قائم رکھنا ایمان کی نشانی ہے سبحان اللہ۔

    یہاں ہم کچھ اور احادیث مبارکہ ذکر کرتے ہیں

    (عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ؓ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَ لَا تَسْتَعْمِلُنِیْ قَالَ فَضَرَبَ بِیَدِہٖ عَلٰی مَنْکِبِیْ ثُمَّ قَالَ یَا اَبَا ذَرٍّ اِنَّکَ ضَعِیْفٌ وَاِنَّھَا اَمَانَۃٌ وَاِنَّھَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ خِزْیٌ وَنَدَامَۃٌ اِلَّامَنْ اَخَذَھَا بِحَقِّہَا وَاَدَّی الَّذِیْ عَلَیْہِ فِیْھَاوَفِی رِوَایَۃٍ قَالَ لَہٗ یَا اَبَاذَرٍّ اِنِّیْ اَرَاکَ ضَعِیْفًا وَاِنِّیْ اُحِبُّ لَکَ مَا اُحِبُّ لِنَفْسِیْ لَا تَأَمَّرَنَّ عَلَی اثْنَیْنِ وَلَا تَوَلَّیَنَّ مَالَ یَتِیْم)
    [ رواہ مسلم : کتاب الامارۃ، باب کَرَاہَۃِ الإِمَارَۃِ بِغَیْرِ ضَرُورَۃٍ ]

    ”حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی ‘ کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ مجھے کوئی عہدہ کیوں نہیں عنایت فرماتے ؟ آپ نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھتے ہوئے فرمایا اے ابوذر ! یقیناً تو کمزور آدمی ہے اور یہ عہدہ امانت ہے جو قیامت کے دن رسوائی اور ذلت کا باعث ہوگا۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اس کے حقوق کو پورا کیا اور ذمہ داریوں کو صحیح طور پر نبھایا۔ ایک روایت میں ہے۔ آپ نے اس سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا : اے ابوذر ! میرے خیال میں تم کمزور آدمی ہو۔ میں تیرے لیے وہی کچھ پسند کرتا ہوں ‘ جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں۔ دو آدمیوں کی بھی ذمّہ داری نہ اٹھانا اور نہ ہی یتیم کے مال کی ذمّہ داری لینا۔“

    (عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ عِنْدَ اِسْتِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِوَفِیْ رَوَایَۃٍ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرْفَعُ لَہٗ بِقَدَرِ غَدْرِہٖ اَ لَاوَلَا غَادِرَ اَعْظَمُ غَدْرًا مِنْ اَمِیْرِ عَامَّۃٍ)
    [ رواہ مسلم : کتاب الجہاد والسیر، باب تحریم الغدر ]

    ”حضرت ابو سعید ؓ بیان کرتے ہیں نبی مکرم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن انسان کی مقعد کے نزدیک جھنڈا ہوگا۔ ایک روایت میں ہے ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن جھنڈا ہوگا ‘ جو اس کی عہد شکنی کے مطابق بلند کیا جائے گا۔ خبردار ! سربراہ مملکت کی عہد شکنی سب سے بڑی ہوتی ہے۔“

    (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ مَا خَطَبَنَا نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ إِلَّا قَالَ لَا إِیمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَۃَ لَہٗ وَلَا دینَ لِمَنْ لَا عَہْدَ لَہٗ)[ رواہ احمد ]

    ”حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں نبی معظم ﷺ نے جب بھی ہمیں خطبہ دیا تو فرمایا جو بندہ امانت دار نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جو شخص وعدہ پورا نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں۔“

    قرآن مجید کی آیات اور فرامین مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوتا ہے کہ وفائے عہد ہی اصل معیار ہے کہ کون شخص ٹھوس اور ثابت قدم ہے ، کون ضمیر کے اعتبار سے پاکیزہ ہے چاہے یہ عہد اللہ کی طرف سے ہو ، لوگوں کی طرف سے ہو ، فرد کی طرف سے ہو ، کسی جماعت یا سوسائٹی کی طرف سے ہو ، رعایا کی طرف سے ہو یا حکومت کی طرف سے ہو ، حاکم کی طرف سے ہو یا محکوم کی طرف سے ، نیز بین الاقوامی تعلقات میں اسلام نے عہد کی پابندی کی وہ مثایں قائم کیں کہ انسانی تاریخ میں ایسی مثالیں صرف اس حصے میں ملتی ہیں جن میں مسلمان دنیا کے حکمران تھے ، یا دنیا کے حکمرانوں میں سے معتبر حکمران تھے.

    یہ بھی انفرادی اخلاقی ہدایت نہیں بلکہ جب اسلامی حکومت قائم ہوئی تو اسی کو پوری قوم کی داخلی اور خارجی سیاست کا سنگ بنیاد ٹھہرایا گیا۔ اسلامی اخلاق میں ڈپلومیسی کے نام پر وعدے کی خلاف ورزی اور جھوٹ بولنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ سیاستدانوں میں یہ بات عام ہے کہ سیاسی وعدے پورا کرنے کے لیے نہیں ہوتے اور اپنی کہی ہوئی بات سے مکر جانا سیاستدان کا حق ہے۔ لیکن اسلام میں یہ ایک جرم ہے چاہے اس کا ارتکاب کوئی بھی کرے۔ اس لیے جس طرح عہد کی پابندی افراد کے لیے ضروری ٹھہری اسی طرح اسلامی حکومت بھی اس کی پابند رہی اور مشکل سے مشکل حالات میں بھی اسلامی حکومتیں عہد و پیمان کو نبھاتی رہیں۔ تاریخ میں نقل کیا گیا ہے کہ حضرت امیر معاویہ (رض) نے قیصر سے جنگ بندی کا ایک معاہدہ کیا اور یہ طے کیا گیا کہ فلاں تاریخ تک جنگ بند رہے گی۔ چناچہ جب اس معاہدے کا آخری دن آیا تو آپ (رض) نے آخری دن کا سورج غروب ہوتے ہی اپنی فوجیں اس کی مملکت میں داخل کردیں۔ بظاہر یہ معاہدے کی خلاف ورزی نہیں تھی کیونکہ معاہدے کی مدت گزر گئی تھی۔ فوجیں فتح کا پھریرا لہراتے ہوئے آگے بڑھتی جا رہی تھیں کہ پیچھے سے سر پٹ دوڑتا ہوا ایک سوار نظر آیا۔ اسے دیکھ کر امیر معاویہ رک گئے۔ جب وہ قریب آیا تو دیکھا کہ ایک مشہور صحابی عمرو بن عبسہ (رض) ہیں جنھوں نے ہاتھ بلند کیا ہو اتھا اور وہ بلند آواز سے کہہ رہے تھے کہ وفائً لاغدرًا ”وعدہ توڑنا نہیں پورا کرنا ہے۔“

    امیر معاویہ (رض) نے حیران ہو کر پوچھا کہ ”ہم نے کون سا وعدہ توڑا ؟“ انھوں نے بتایا کہ ”معاہدے کی مدت ختم بھی ہوجائے تب بھی حملہ کرنے سے پہلے دشمن کو بتلانا ضروری ہے۔ بیخبر ی میں حملہ کرنا یہ ایک طرح کی وعدہ خلافی اور معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔“ امیر معاویہ نے اسی وقت مفتوحہ علاقے خالی کردیے اور فوجوں کو واپسی کا حکم دے دیا۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ یہ صرف اخلاقی نصیحتیں نہ تھیں ‘ بلکہ اسلامی حکومتوں کے رہنما اصول تھے.

    آج ہمارے وطن عزیز پاکستان کے مسائل کی بڑی وجہ بھی اللہ تعالیٰ سے کئے ہمارے عہد و پیماں ہی ہیں جو پورے کرنے سے اب تک قاصر رہے ہیں۔

    پاکستان بنتے وقت ہمارا اللہ رب العزت سے وعدہ تھا اللہ وطن دے ہم لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ کا وطن بنائیں گے جو اس وقت ہمارے بڑوں نے نعرے کی صورت ہمیں دیا تھا قائد اعظم محمد علی جناح سے لے کر علامہ محمد اقبال تک یہی بات تھی جو اللہ نے ہمیں وطن عزیز پاکستان کی صورت میں عطا فرمایا وہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ اللہ لیکن 75 سال گزرنے کے باوجود اس عہد کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں یاد رکھو!

    "نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے ”

    اللہ تعالیٰ ہمیں وعدوں کو پورا کرنے والا بنائے

  • علماء کرام پر اعتراض، حقیقت کیا؟؟؟  — نعمان سلطان

    علماء کرام پر اعتراض، حقیقت کیا؟؟؟ — نعمان سلطان

    اعتراض :–کیا علماء کرام قدامت پرست ہیں. اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں.

    جواب :–اس اعتراض کے دو حصے ہیں.

    پہلا حصہ ہم علماء کرام کو قدامت پرست کیوں کہتے ہیں.

    دین اسلام آج سے تقریباً چودہ سو سال پہلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت ہم تک پہنچا. کیوں کہ یہ دین اللہ پاک کا آخری اور مکمل دین ہے. اس لئے ہم نے دنیا میں زندگی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق گزارنی ہے.

    اس لئے ہمیں جب بھی کسی شرعی حکم کے بارے میں جاننا ہوتا ہے تو ہم قرآن، حدیث اور اجماع امت کو دیکھتے ہیں. اگر وہاں سے راہنمائی ملے تو ٹھیک ہے ورنہ پھر علماء امت قیاس کرتے ہیں اور اس کے مطابق وقت کے علماء متفقہ طور پر شرعی مسئلے کا حل بتاتے ہیں.

    یہ یاد رکھیں کہ دین کے اصول اور حکم اٹل ہیں ہم ان میں کمی بیشی نہیں کر سکتے ہیں. اور جب ہم اپنے شرعی معاملات کے حل کی راہنمائی کے لئے چودہ سو سال پیچھے دیکھتے ہیں تو یہ قدامت پرستی نہیں بلکہ اسلام کی حقانیت اور جامعیت کا ثبوت ہے.

    اعتراض کا دوسرا اور اہم حصہ کہ علماء جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں؟؟؟؟

    جدید دور کے تقاضوں سے ہم عموماً مراد کپڑوں میں شلوار قمیض کے بجائے پینٹ شرٹ، زبان میں اردو اور عربی کے بجائے انگریزی، مدرسے سے فارغ التحصیل ہونے کے بجائے کسی یونیورسٹی کی ڈگری، اس کے علاوہ غیر نصابی سرگرمیاں جیسے ہوٹلنگ، کوئی گیم(کھیل ) یا کوئی سیمینار وغیرہ اور اس کے علاوہ روشن خیالی (اس کی تعریف لوگوں کی نظر میں مختلف ہے اور لوگوں کا سب سے زیادہ زور بھی اسی پر ہوتا ہے ) شامل ہیں.

    ابھی ہمیں سب سے پہلے یہ سمجھنا پڑے گا کہ مدارس میں اکثریت غریب گھرانوں کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں. اور روشن خیالی کے علاوہ جتنی بھی چیزیں اوپر گنوائی گئی وہ غریب گھرانوں کے بچے دوران تعلیم اور کسی مسجد یا مدرسے میں نوکری ملنے کے بعد بھی افورڈ ہی نہیں کر سکتے. تو وہ انہیں اختیار کیسے کریں گے.

    اب جہاں تک بات روشن خیالی کی ہے. اگر وہ ممنوعات دین کے بارے میں ہے. تو جو دین کے اصول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے طے ہو گئے ان میں ہم تبدیلی نہیں کر سکتے.

    لیکن بعض مقامات پر جہاں شریعت میں گنجائش یا ابہام ہے وہاں پر بعض علماء ضد میں آ کر انہیں بھی ممنوع کے درجے میں لے جاتے ہیں..اور اسی وجہ سے لوگ علماء سے متنفر ہوتے ہیں.

    ان مسائل کا حل:

    ابھی ضرورت اس امر کی ہے کہ جیسے سکولوں میں اسلامیات اور قرآن کی تعلیم لازمی ہے ایسے ہی مدرسوں میں بھی انگریزی سمیت جدید علوم کی تعلیم لازمی قرار دی جائے.ہمیں چاہیے ہم علماء کو صرف شادی بیاہ، جنازوں اور نمازیں پڑھانے تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں اپنی سوشل تقریبات کا لازمی جز بنائیں تاکہ وہ بھی ہمارے ساتھ ہم آہنگ ہو سکیں اور علماء اور نوجوان نسل کے درمیان فاصلے کم ہو سکیں.

    پہلے وقتوں میں امیرالمومنین مرکزی مسجد میں خود نمازیں پڑھاتے تھے خطبے دیتے اور اہم اعلانات (جیسے اعلان جنگ وغیرہ) کرتے تھے. وہ اپنے وقت کے دین کے عالم بھی ہوتے تھے اور وہ اپنے طرز عمل سے ثابت کرتے تھے کہ علماء کرام کا کام صرف امامت کرنا نہیں بلکہ امت کی اصلاح اور قیادت کرنا ہے.

    اس کے علاوہ مفتی حضرات کے لئے ماہرین کی مدد سے دو سال کا فزکس، بائیو اور کیمسٹری کا سپیشل کورس مرتب کیا جائے. جس میں ارتقاء، بگ بینگ اور ان سے متعلقہ نظریات اور جدید تحقیق کے بارے میں آسان اور عام فہم زبان میں انہیں بتایا جائے.

    اور انہیں پابند کیا جائے جب تک آپ یہ کورس نہیں کرتے آپ صرف عالم دین ہوں گے. دینی معاملات میں فتویٰ نہیں دے سکیں گے. اور حکومت وقت کی طرف سے مساجد کے لئے چار یا پانچ درجے بنائے جائیں.

    مسجد کے خادم، خطیب، قاری اور مفتی صاحب کو اچھے گریڈ میں اچھی سے اچھی تنخواہ دی جائے تا کہ وہ فکر معاش سے بے فکر ہو کر دین کی خدمت کر سکیں.

    مساجد اور مدارس جب تک زکوٰۃ خیرات کے پیسے پر چلتے رہیں گے وہاں سے فرقہ واریت ختم نہیں ہو گی.. حکومت کو تمام دینی مدارس اور مساجد کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہیے. اور مدارس میں علماء کے ساتھ ساتھ متعلقہ مضامین کے ماہر اساتذہ کو بھی طلباء کی تعلیم و تربیت کے لئے مستقل بنیادوں پر بھرتی کرنا چاہیے.ان تمام اور ان جیسے دیگر اقدامات سے جو مدارس سے علماء کی کھیپ تیار ہو گی وہ لازمی پراعتماد اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو گی.

  • دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو! — حافظ گلزارعالم

    دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو! — حافظ گلزارعالم

    خوش طبع بنئے، ہنس مکھ بنئے، خوشیاں بانٹئے۔ دو دن کی زندگی سے خود بھی لطف اندوز ہوں۔ دوسروں کو بھی خوش رکھیں۔ کبھی کسی کو دکھ نہ دیں۔ کبھی کسی کی دل آزاری ہو تو معافی میں پہل کریں۔ آپ ہردلعزیز بن جائیں گے۔

    دنیا میں ہر طرح کے اچھے برے لوگ بستے ہیں، سب اپنی اپنی زندگی گزارتے ہیں اور گزرجاتے ہیں۔ مگر یاد وہی رہتے ہیں، جو خوشیاں بانٹتے ہیں، دوسروں کے دکھ درد میں، اور خوشی غمی میں شریک ہوتے ہیں، سب کو اپنا سمجھتے ہیں، کسی کے لئے دل میں برائ نہیں رکھتے۔

    جس قدر ممکن ہو۔ خلق خدا کو نفع پہنچائیے۔ آپ کے بگڑے کام بنتے رہیں گے۔ اور اللہ آپ کو وہاں سے عطا کرینگے۔ جہاں سے آپ کا گمان بھی نہ ہوگا۔

    احادیث مبارکہ میں خلق خدا کو خوش رکھنے پر بڑی بشارتیں آئ ہیں۔
    1. حضرت انس اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کی عیال یعنی کنبہ ہے، پس اللہ تعالیٰ کو اپنی ساری مخلوق میں زیادہ محبت اس شخص سے ہے جو اس کے عیال (مخلوق) کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہو ۔
    رواہ البیہقی فی شعب الإیمان، مشکوٰۃ/ص:۴۲۵/ باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق/الفصل الثالث

    2.اللہ کا جو بندہ بیوہ اور کسی بے سہارا عورت، اسی طرح کسی مسکین حاجتمند کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتا ہو، ان کی خدمت کا کوئی کام کرتا ہو تو وہ عمل بھی عبادت ہے، اور اجر وثواب میں اس مجاہد کی طرح ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جد وجہد کرنے والا ہے، دونوں کا اجر وثواب برابر ہے ۔ آگے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا خیال یہ ہے کہ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ’’خدمت خلق پر وہ اجر وثواب ملتا ہے جو دن بھر روزہ رکھنے والے کو اور رات بھر عبادت کرنے والے کو دیا جاتا ہے۔”
    متفق علیہ، مشکوٰۃ:۴۲۲/ باب الرحمۃ والشفقۃ علی الخلق

    3. نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”رحم کرنے والوں پر رحمان رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا“
    أبو داود والترمذي وأحمد

    ان احادیث مبارکہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کو اپنی مخلوق سے بہت محبت ہے۔ سو جو اس کی مخلوق کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرے۔ وہ اللہ کا محبوب بن جاتا ہے۔

    اسی کو ایک شاعر نے کہا

    یہ پہلا سبق ہے کتابِ ُہدیٰ کا
    کہ مخلوق ساری ہے کنبہ خدا

    عارف شیرازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

    ز تسبیح وسجادہ و دلق نیست
    طریقت بجز خدمت خلق نیست

    یعنی تسبیح ہاتھ میں لے کر،مصلیٰ پر بیٹھ کر گوشہ میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرنے اور گدڑی پہننے کا نام ہی عبادت نہیں ، بلکہ خیر کی نیت سے خیر کے کام انجام دینا نیز ضرورت کے موقع پر مخلوق کے کام آنا بھی نہایت اہم عبادت ہے ۔

    حضرت احمد علی لاہوری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ میرا ایک پاؤں ریل گاڑی کے پائیدان پر ہو اور دوسرا پلیٹ فارم پر اسی حالت میں مجھے کوئی آواز دے کر پوچھے کہ احمدعلی ذرا گاڑی میں سوار ہونے سے پہلے مجھے یہ بتادیجئے کہ پورے قرآن کا خلاصہ کیا ہے؟ تو میں کہہ دو نگا کہ پورے قرآن کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کو راضی کرو عبادت کے ذریعہ ،محمدالرسول اللہ ؐکو راضی کرو اطاعت کے ذریعہ ،صحابہ کرا م کوراضی کرو محبت کے ذریعہ اور مخلوق خدا کو راضی کروخدمت کے ذریعہ۔

    الغرض یہ دنیا بھی ہمارے لئے جنت بن سکتی ہے، اگر ہم بھائ بھائ بن کر رہیں۔ صرف اپنا ہی فائدہ نہیں،سب کا فائدہ سوچیں۔ دلوں کی نفرتوں کو ختم کریں۔ سندھی پنجابی بلوچی پٹھان ضرور رہیں۔ مگر اس بنیاد پر کسی سے خود کو بہتر نہ سمجھیں، اور نہ دوسروں کو کمتر سمجھیں۔

    اور آخری دردمندانہ گزارش یہ ہے کہ حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے سے بہت نقصان ہوا ہے۔ جس قدر ممکن ہو متاثرین تک اپنی امداد خود پہنچائیں،یا ایسے معتبر رفاہی اداروں کے ساتھ تعاون کریں جو متاثرین تک امداد پہنچا رہے ہیں۔ اور دعا بھی کریں کہ اللہ ان تمام متاثرین کی مدد فرمائے، اور نقصان کا ازالہ فرمائے آمین۔

  • نیا سال مبارک ہو — حافظ گلزارعالم

    نیا سال مبارک ہو — حافظ گلزارعالم

    کل یکم محرم الحرام 1444 ھ کا دن تھا۔ ہجری/ قمری اعتبار سے نئے سال کا آغاز ہوگیا ہے۔ تمام عالم اسلام کو نیا سال بہت مبارک ہو۔ اللہ ہم سب کے لئے اس سال کو رحمتوں برکتوں اور کامیابیوں والا بنائے اور ہر تکلیف سے محفوظ رکھے آمین

    اس سال کو ہجری سال اس لئے کہتے ہیں کہ اس کی ابتدا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے صحابہ رضی اللہ عنھم کے مکے سے مدینہ ہجرت کے واقعے سے فرمائ۔واقعہ ہجرت ہی کو اسلامی سال کا سن آغاز منتخب کرنے میں بڑی حکمتیں ہیں۔ یہ واقعہ مسلمانوں کے لیے دینی، تاریخی اعتبار سے خاص اہمیت رکھتا ہے، یہ اہلِ اسلام کو اس دور کی یاد دلاتا ہے، جب ان کو مکّی دور کے ابتلاء وآزمائش کی تنگ زندگی سے نجات ملی اور مستحکم وپائیدار اور مضبوط مستقر ملا، اسلام اور اہل اسلام کو پھولنے پھلنے کا موقع ہاتھ آیا اور یہیں سے مسلمانوں نے پوری دنیا کو رشد وہدایت اور توحید کا عالم گیر پیغام دیا اور دنیا کے ایک بڑے حصے تک اسلام کا پیغام پہنچایا۔

    اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم الحرام ہے۔ جو بڑی فضیلت والا اور حرمت والا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں بڑے المناک واقعات بھی پیش آئے جن میں یکم محرم الحرام 24ھ کو شہادت عمر رضی اللہ عنہ اور 10 محرم الحرام 61 ھ کو واقعہ کربلا میں نواسہ رسول حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا المناک سانحہ سرفہرست ہے۔

    سال کے اس پہلے مہینے میں ہی اتنے عظیم دردناک واقعات میں بھی بڑی حکمت ہے۔ ہر مسلمان ان عظیم ہستیوں کی قربانیوں کو یاد کرے۔ کہ راہ حق میں انہوں نے ہر تکلیف اور پریشانی کا مقابلہ کیا۔ یہانتک کہ اپنی جانیں بھی قربان کردیں۔ یہ واقعات ہمیں یہ دعوت فکر دیتے ہیں کہ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان سچا راستہ ، صحیح مقصد، اعلی فکر اپنائے، اور پھر اس مقصد کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردے۔

    اور وہ سچا راستہ صحیح مقصد اعلی فکر ایک مسلمان کی نظر میں یہی ہے کہ وہ اس زندگی کا ہر لمحہ اللہ جل شانہ کی بندگی میں گزارے۔ اور اس رستے میں اس کی جان بھی جائے تو دریغ نہ کرے۔

    میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی
    میں اسی لئے مسلماں، میں اسی لئے نمازی

    اور بقول مرزا غالب

    جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
    حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا

    اس سال کے پہلے دن یہ چند کام مفید ثابت ہونگے:

    محاسبہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے: حاسبوا انفسکم قبل ان تحاسبوا۔ یعنی اپنے نفس کا محاسبہ کرو، قبل اس کے کہ تمھارا محاسبہ کیا جائے ۔

    یوں تو صبح شام ہر ایک کو اپنا محاسبہ کر نا چاہیئے، مگر اس دن بطور خاص ہم یہ دیکھیں کہ کہیں ہم بے مقصد،فضول زندگی تو نہیں گزار رہے۔ کیا اللہ کے اور اسکے تمام بندوں کے حقوق ہم ادا کررہے ہیں۔ کیا ہم کسی ایسے کام میں تو مبتلا نہیں جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں، یا جس سے اللہ کے کسی بھی بندے کو ہم سے تکلیف پہنچ رہی ہو؟

    نیت: تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ یعنی نیک اعمال کا اجر ہمیں تب ہی ملے گا ،جب ہماری نیتیں درست ہوں۔ لہذا ہر نیک کام کرنے سے پہلے یہ نیت کرلیں کہ میں محض اللہ کی خوشنودی کے لئے یہ کام کررہا ہوں۔

    نظام الاوقات: سال کے ہرمہینے، ہر ہفتے اور ہر دن کے لئے شیڈول بنائیں۔ اعتدال کے ساتھ اپنے تمام اہم کاموں کو ترتیب دیں۔ اعتدال کا مطلب یہ ہے کہ مختلف اوقات میں اتنا ہی کام کریں جو آپ بآسانی کرسکیں۔ نیز تفریح، صحت، اہل و عیال کے لئے بھی مناسب وقت ضرور رکھیں۔

    وقت کی قدر بڑی عظیم نعمت ہے۔ زندگی کا ایک ایک لمحہ بہت قیمتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسکا ہر لمحہ سونے چاندی سے زیادہ قیمتی ہے۔۔ کسی ایک پل میں درست فیصلہ انسان کو فرش سے عرش پر پہنچا سکتا ہے۔۔ اور کبھی اس کے کسی ایک لمحے کی خطا صدیوں لاکھوں انسان بھگتتے ہیں۔۔ ٹیپو سلطان کے مرقد پر رقم رزمی کا یہ شعر اسی بات کو بیان کرتا ہے

    یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
    لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

    افسوس یہ ہے کہ وقت جس قدر قیمتی سرمایہ ہے اتنا ہی اس کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا جاتا ہے اور انتہائ بے دردی سے اس عظیم سرماۓ کو فضول کاموں میں ضائع کر دیا جاتا۔ اسی کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نعمتان مغبون فیھما کثیر من الناس الصحة والفراغ”۔۔ صحت اور فراغت دو ایسی نعمتیں ہیں کہ بہت سارے لوگ ان کے بارے میں دھوکے میں پڑجاتے ہیں۔

    اور فرمایا: "من حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہ” آدمی کے اسلام کی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ لایعنی اور فضول کاموں کو چھوڑدے۔۔

    الغرض اس دن اللہ تعالی کی عنایت کردہ بے شمار نعمتوں پر شکر کے ساتھ ساتھ دعا ہے کہ اللہ تعالی اس زندگی کے ایک ایک لمحے کی صحیح قدر کرنے کی توفیق دے، کہ

    یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے
    یہ بڑے نصیب کی بات ہے