Baaghi TV

Category: مسلم دنیا

  • ترکی بھی غیروں کی صف میں، تحریر: عفیفہ راؤ

    ترکی بھی غیروں کی صف میں، تحریر: عفیفہ راؤ

    ایک وقت تھا جب ترکی کے صدر رجب طیب اردگان خود کو امت مسلمہ کے ایک لیڈر کے طور پر منوانے کے لئے خوب جوش و جذبے کے ساتھ سرگرم تھے۔ اس کے لئے انہوں نے کئی بڑے بڑے فیصلے بھی کئے مسلمانوں کو امت مسلمہ کے نعرے بھی سنائے۔ جس سے ان کو خوب شہرت ملی۔ لیکن اب جو قدم ترکی کی جانب سے اٹھایا گیا ہے اس نے ان کے تمام پچھلے فیصلوں پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ اور یہ ثابت ہو گیا ہے کہ اس وقت اگر کوئی چیز اہم ہے تو وہ صرف اور صرف مالی مفادات ہیں۔مطلب وہ کشمیرجس کی حمایت میں ترکی کل تک مختلف فورمز پر آواز اٹھا رہا تھا آج وہ اسی کے خلاف انڈیا کو ڈرونز کی فراہمی کر رہا ہے۔ اور پاکستان کے ساتھ ترکی کی یہ کیسی دوستی ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف اس کے دشمن کے ہاتھ مضبوط کر رہا ہے۔

    دراصل ہو یہ رہا ہے کہ ترکی کی ایک کمپنی Zyrone Dynamicsکا انڈیا کے ساتھ معاہدہ ہو گیا ہے جس کے تحت وہ انڈیا کوMultirotor mini UAV model dronesفراہم کرے گا۔ اس ڈیل کوbeginning of new relation between Turkey and Indiaکا نام دیا جا رہا ہے۔ اور ان ڈرونز کی فراہمی اگلے چند دنوں تک شروع کر دی جائے گی اور آنے والے سال میں کل سو ڈرونز انڈیا کو ڈیلیور کر دئیے جائیں گے۔جن کی Demo flightsمارچ2022میں ہوں گی۔ اور یہ معاملہ صرف ڈرونز کی فراہمی تک کا نہیں ہے۔ بلکہ اس ڈرون بنانے والی کمپنی کے ایک ملین ڈالر کے تیس فیصد شیئرز بھی انڈیا نے حاصل کر لئے ہیں۔ جس کے بعد ترکی نہ صرف یہ ڈرون بنانے کی ٹیکنالوجی انڈیا کو دے گا بلکہ یہ دونوں ممالک مل کر ان ڈرونز کے کاروبار کو پوری دنیا میں پھیلائیں گے اور ان کی مارکیٹینگ اور سیل کریں گے۔اور یہ وہی ڈرونز ہیں جو ترکی نے آزربائیجان اور آرمینیا کی لڑائی میں آرمینیا کے خلاف استعمال کئے تھے۔ ان کے زریعے آرمینیا کے Tanksاور پورے
    artillery and air defenseکو تباہ کر دیا گیا تھا۔ اور آزربائیجان نے آرمینیا کو ان ڈرونز کی مدد سے شکست دی تھی۔ لیکن اب یہ ڈرونز انڈیا کے ہاتھوں میں جا رہے ہیں۔

    اور سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ کیا ترکی نہیں جانتا کہ اگر یہ ٹیکنالوجی انڈیا کے ہاتھ میں جاتی ہے تو وہ اسے کس کے خلاف استعمال کرے گا۔ کیا طیب اردگان مسئلہ کشمیر اور پاک بھارت کشیدہ تعلقات سے لاعلم ہیں؟ترک صدر رجب طیب اردگان جو خود کو امت مسلمہ کا لیڈر ثابت کرنا چاہتے تھے جو کل تک پاکستان کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بناتے تھے کہ ہماری حکومت نے سعودی عرب کے دباو میں آکر ملائیشیا کے سمٹ میں شرکت سے انکار کر دیا تھا اب خود وہ انڈیا کے ساتھ اپنی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔آپ کو یاد ہو گا کہ کیسے گزشتہ سال رجب طیب اردگان نے آیا صوفیہ کو میوزیم سے مسجد میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد بین الاقوامی لیول پر تو ان پر کافی تنقید ہوئی تھی لیکن مسلمانوں میں ان کی شہرت میں بے پناہ اضافہ ہوا تھا۔اس کے بعد جس طرح سے وہ تمام مسلم ممالک کو اکھٹا کر رہے تھے اور ایک الگ بلاک بنانے کی تیاری کی جا رہی تھی اس فیصلے سے بھی طیب اردگان کو کافی پذیرائی ملی تھی۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ اور دوسرے فورمز پر ان کی جانب سے کشمیریوں کے حق میں بھی وقتا فوقتا آواز اٹھائی جاتی رہی تھی۔

    ترک صدراس بات پر زور دیتے نظر آتے تھے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دہائیوں پرانے مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بنیاد پر جلد از جلد ہونا چاہیے۔ یہاں تک کہ حال ہی میں اقوام متحدہ کی193 رکنی جنرل اسمبلی کے
    76ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھی طیب اردگان کا کہنا تھا کہ۔۔ ہمارا مؤقف یہی ہے کہ فریقین کے درمیان مذاکرات اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے فریم ورک کے تحت کشمیر میں74 برسوں سے جاری مسائل کو حل کیا جائے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ترکی کشمیریوں کے ساتھ ہے، پانچ بڑی طاقتوں کے علاوہ بھی دنیا بہت بڑی ہے۔یہاں تک کہ جب انڈیا کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی تھی اس پر بھی طیب اردگان نے کہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات نے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے اور اب بھی سلگتا ہوا معاملہ ہے۔جس پر انڈیا ان سے کافی ناراض بھی ہوا تھا۔ لیکن کشمیریوں کی طرف سے ان کو کافی پذیرائی ملی تھی۔

    لیکن اب وہی طیب اردگان انڈیا کو ڈرونز فراہم کر رہے ہیں اورسوچیں کہ انڈیا یہ ڈرونز حاصل کرنے کے بعد سب سے پہلے کس کے خلاف استعمال کر سکتا ہے تو اس سوال کا جواب بچہ بچہ جانتا ہے کہ انڈیا کا سب سے پہلا ہدف کشمیر اور پاکستان ہوں گے۔ ان سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ کیونکہ چین کے خلاف کچھ کرنے کا تو ویسے ہی مودی سرکار میں کوئی دم نہیں ہے اس لئے وہ اپنے جنگی جنون کو ٹھنڈا کرنے اور اپنی عوام کی نظروں میں اپنی حمایت برقرار رکھنے کے لئے انھیں کشمیر اور پاکستان کے خلاف ہی استعمال کریں گے۔اور اب اگر پاکستان کی بات کی جائے تو طیب اردگان وہ غیر ملکی سربراہ ہیں جنہوں نے پاکستانی پارلیمنٹ سے سب سے زیادہ بار خطاب کیا ہے۔ اور پاک ترک تعلقات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ترکی پاکستان کا ایسا اتحادی ہے جس کی سرحد پاکستان سے نہیں ملتی لیکن دل اور روح پاکستان سے جڑے ہیں۔ ان دونوں کی دوستی اور محبت چین سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہے۔ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی غیر مشروط حمایت کرتے ہوئے ترک صدر طیب اردوان نے یہاں تک بھی بیان دیا تھا کہ۔۔ ترکی کے لیے کشمیر کی وہی حیثیت ہے جو پاکستان کے لیے ہے۔لیکن اپنے اس دوست کو تو تحفہ دینے کے لئے ترکی کے پاس صرف اور صرف ارطغرل ڈرامہ تھا لیکن ہمارے دشمن کے ساتھ ڈرونز کی ڈیل کرکے دوستی کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ پاکستان بھیجنے کے لئے صرف ترک فنکار تھے جو یہاں آئے اور خوب شہرت بھی حاصل کی لیکن انڈیا کے ساتھ کاروبار کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ اور کاروبار بھی ایسا جس کا سب سے زیادہ نقصان بھی پاکستان کو ہی ہے۔سوال یہ ہے کہ اب کہاں گئے وہ سب بیانات اور نعرے جب طیب اردگان کی ناک کے نیچے انڈیا ترکی کے ساتھ یہ ڈیل کر رہا ہے۔ اب وہ کیوں خاموش ہیں؟دراصل اس کے پیچھے بھی وہی وجہ ہے جو کہ محمد بن سلمان کے سعودی عرب میں میوزیکل کنسرٹ کروانے کے پیچھے ہے۔

    جس طرح وہ اپنی معیشت کا انحصار تیل پر کم کرکے سیاحت اور دوسرے صنعتوں پر شفٹ کرنا چاہتے ہیں اور خوب پیسہ بنانا چاہتے ہیں تو اس ڈیل کے پیچھے بھی دراصل ترکی کے مالی مفادات ہیں۔کیونکہ ترکی کے معاشی حالات اس وقت کوئی زیادہ اچھے نہیں ہیں۔ ترکی کی کرنسی لیرا کی قدر میں زبردست گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے ترکی کو اگست
    2018 میں اس طرح کے بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا جب اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ترکی کا تنازع شروع ہوا تھا اور ٹرمپ نے ترک مصنوعات جیسے سٹیل اور المونیم پر عائد ٹیرف کو دگنا کر دیا تھا اور اس کی وجہ سے لیرا کی قدر تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔ اسی طرح اب بھی لیرا کی قدر ڈالر مے مقابلے میں چالیس فیصد تک کم ہو کر رہ گئی ہے۔کرنسی کے بحران نے کئی ترک شہریوں کو سرکاری طور پر طے شدہ غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل دیا ہے جس پر کئی شہریوں کی جانب سے انقرہ اور استنبول میں احتجاج بھی کیا گیا ہے۔ترکی میں Inflation 21%تک بڑھ چکی ہے۔اور ترکی کی اس صورتحال کا ہمارے دشمن نے مکمل فائدہ اٹھایا ہے۔ اور مودی سرکار نے پاکستان کے دوست ملک کو اپنی جیب میں ڈال کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ امت مسلمہ کچھ نہیں ہے اور نہ ہی مسلمانوں میں اتحاد نام کی کوئی چیز باقی ہے۔ اس وقت اگر کوئی چیز اہم ہے تو وہ صرف اور صرف مالی مفادات ہیں۔

  • فیصل آباد آرٹس کونسل میں یوم سیاہ کے سلسلے میں کشمیریوں کے جدوجہد آزادی پر مشتمل تصویری نمائش

    فیصل آباد آرٹس کونسل میں یوم سیاہ کے سلسلے میں کشمیریوں کے جدوجہد آزادی پر مشتمل تصویری نمائش

    فیصل آباد(عثمان صادق)کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے کشمیریوں کو حق رائے دہی دئیے بغیر علاقائی امن ممکن نہیں۔یہ بات ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے فیصل آباد آرٹس کونسل کے زیراہتمام کشمیر کے حوالے سے یوم سیاہ کے سلسلے میں کشمیریوں کے جدوجہد آزادی پر مشتمل تصویری نمائش کا افتتاح کرنے کے بعد تصاویر دیکھتے ہوئے کہی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈ کوارٹرز محمد خالد،اسسٹنٹ کمشنر سٹی صاحبزادہ محمد یوسف اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ27۔اکتوبر 1948ء کو کشمیرمیں ہندوستانی فوج کے داخلہ اور قبضے کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تصاویری نمائش کا مقصد بھارتی فوج کے کشمیر پر غاصبانہ قبضے کو اجاگر کرکے احتجاج ریکارڈ کرانا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی ہر طرح سے حمایت جاری رکھی جائے گی۔نمائش میں رکھی گئی تصاویر میں کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے مختلف مناظر دکھائے گئے ہیں

  • سلطنت عباسیہ کی شروعات تحریر:رضوان

    سلطنت عباسیہ کی شروعات تحریر:رضوان

    اموی خلافت حضرت  محمد مستعفی ٰٰ   کی وفات کے بعد قائم ہونے والے چار بڑے عرب خلافتوں میں سے دوسرا تھا۔  یہ خلافت مکہ سے تعلق رکھنے والے اموی خاندان پر مرکوز تھی۔  اموی خاندان پہلے تیسرے خلیفہ ، عثمان بن عفان (ر. 644–656) کے تحت اقتدار میں آیا تھا ، لیکن اموی حکومت کی بنیاد معاویہ ابن ابی سفیان نے رکھی ، جو طویل عرصے سے شام کے گورنر تھے ، پہلے مسلمان کے خاتمے کے بعد  661 عیسوی میں خانہ جنگی  شام اس کے بعد امیہ کا اہم طاقت کا مرکز رہا اور دمشق ان کا دارالحکومت تھا۔

     بنی امیہ کے دور میں خلافت کا علاقہ تیزی سے بڑھتا گیا۔  اسلامی خلافت تاریخ کی سب سے بڑی وحدانی ریاستوں میں سے ایک بن گئی ، اور ان چند ریاستوں میں سے ایک ہے جنہوں نے تین براعظموں (افریقہ ، یورپ اور ایشیا) پر براہ راست حکمرانی کی ہے۔  امویوں نے مسلم دنیا میں قفقاز ، ٹرانسوکسیانا ، سندھ ، مغرب ، اور جزیرہ نما ایبیرین (الاندلس) کو شامل کیا۔  اپنی سب سے بڑی حد تک ، اموی خلافت نے 5.79 ملین مربع میل کا احاطہ کیا اور اس میں 62 ملین افراد (دنیا کی آبادی کا 29)) شامل تھے ، جس سے یہ دنیا کی آبادی کے علاقے اور تناسب دونوں میں تاریخ کی پانچویں بڑی سلطنت بن گئی۔  اگرچہ اموی خلافت نے تمام صحارا پر حکومت نہیں کی ، خانہ بدوش قبائل نے خلیفہ کو خراج عقیدت پیش کیا۔  تاہم ، اگرچہ ان وسیع و عریض علاقوں نے خلیفہ کی بالادستی کو تسلیم کر لیا ہے ، لیکن اصل طاقت مقامی سلطانوں اور امیروں کے ہاتھ میں تھی۔

    عباسی خلافت (750–1258) کے تحت ، جو 750 میں امویوں (661–750) کے بعد کامیاب ہوا ، اسلامی سیاسی اور ثقافتی زندگی کا مرکزی نقطہ شام سے عراق کی طرف مشرق کی طرف منتقل ہوا ، جہاں 762 میں بغداد ، امن کا سرکلر سٹی  (مدینت السلام) ،شہر اسلام کے نام سے نئی اباری قائم ہوئی اور   نئے دارالحکومت کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔  عباسیوں نے بعد میں بغداد کے شمال میں ایک اور شہر بھی قائم کیا ، جسے سمرا کہا جاتا ہے (اس جملہ کا مخفف جو اسے دیکھتا ہے وہ خوش ہوتا ہے) ، جس نے دارالحکومت کو ایک مختصر مدت (836-92) کے لیے تبدیل کر دیا۔  عباسی حکومت کی پہلی تین صدیوں کا سنہری دور تھا جس میں بغداد اور سامرا اسلامی دنیا کے ثقافتی اور تجارتی دارالحکومت کے طور پر کام کرتے تھے۔  اس عرصے کے دوران ، ایک مخصوص انداز سامنے آیا اور نئی تکنیک تیار کی گئی جو پورے مسلم دائرے میں پھیل گئی اور اسلامی فن اور فن تعمیر کو بہت متاثر کیا۔

    چونکہ دارالحکومت کا مقرر کردہ انداز پوری مسلم دنیا میں استعمال ہوتا تھا ، اس لیے بغداد اور سامرا نئے فنکارانہ اور تعمیراتی رجحان سے وابستہ ہو گئے۔  چونکہ آج عباسی بغداد سے عملی طور پر کچھ نہیں بچا ہے ، سامرا کا مقام عباسی دور کے فن اور فن تعمیر کو سمجھنے کے لیے خاص طور پر اہم ہے۔  سمارا میں ، سطحوں کو تراشنے کا ایک نیا طریقہ ، نام نہاد بیولڈ اسٹائل ، نیز خلاصہ جیومیٹرک یا چھدم سبزی شکلوں کی تکرار ، جسے بعد میں مغرب میں "عربی” کے نام سے جانا جاتا تھا ، دیوار کی سجاوٹ کے طور پر بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے تھے  لکڑی ، دھات کا کام اور مٹی کے برتن جیسے دوسرے ذرائع ابلاغ میں مقبول ہو گیا۔  مٹی کے برتنوں میں ، سمرہ نے سجاوٹ میں رنگ کے وسیع استعمال کا مشاہدہ کیا اور ممکنہ طور پر ، سفید چمک پر چمک پینٹنگ کی تکنیک کا تعارف۔  قیمتی دھات ، چمکدار پینٹنگ ، اس وقت کی سب سے قابل ذکر تکنیکی کامیابی کی یاد دلانے والے اس کے چمکدار اثر کے لیے سراہا گیا جو کہ اگلی صدیوں میں عراق سے مصر ، شام ، ایران اور اسپین تک پھیلا اور بالآخر سیرامک ​​سجاوٹ کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا  مغربی دنیا.  فن تعمیر کے لحاظ سے ، جوس الخاقانی کے محل کے ساتھ (تقریبا. 836 سے آگے) ، سمترا میں المتوکل (848–52) اور ابو دولف (859–61) کی مسجدیں اس انداز کو ترتیب دینے میں اہم تھیں  مصر یا وسطی ایشیا تک کے علاقوں میں تقلید ، جہاں اسے ضرورت اور ذائقہ کے مطابق ڈھال لیا گیا۔

     دسویں صدی میں عباسی سیاسی اتحاد کمزور پڑ گیا اور مصر ، ایران اور دیگر علاقوں میں آزاد یا نیم خودمختار مقامی خاندان قائم ہوئے۔  945 اور 1055 میں بائیڈز (932–1062) اور سلجوق (1040–1194) کے بغداد پر قبضے کے بعد ، عباسی خلفاء نے آرتھوڈوکس سنی اسلام کے سربراہ کی حیثیت سے اخلاقی اور روحانی اثر و رسوخ سے کچھ زیادہ ہی برقرار رکھا۔  خلیفہ الناصر (1180–1225) اور المستنصیر (1226–42) کے تحت عباسی دائرے نے ایک مختصر احیاء کا مشاہدہ کیا ، جب بغداد ایک بار پھر اسلامی دنیا میں کتاب کے فنون کا سب سے بڑا مرکز بن گیا اور  مستنصریہ مدرسہ (1228–33) ، سنی قانون کے چار اصولوں کے لیے پہلا کالج بنایا گیا۔  تاہم ، فنکارانہ قوت کا یہ پھٹ 1258 میں منگولوں کی الخانید شاخ کے ذریعہ بغداد کی بوری کے ساتھ عارضی طور پر رک گیا۔  عباسی خلافت کا خاتمہ اس طرح عالمگیر عرب مسلم سلطنت کا خاتمہ تھا۔الاندلس میں اموی خلافت کا احیاء (جو جدید اسپین بن جائے گا) کو قرطبہ کی خلافت کہا جاتا تھا ، جو 1031 تک جاری رہی۔ اس دور کو تجارت اور ثقافت کی توسیع کی خاصیت تھی ، اور اس نے شاہکاروں کی تعمیر کو دیکھا۔ اندلس کا فن تعمیر

     دسویں صدی کے دوران خلافت میں خوشحالی آئی۔ عبد الرحمن III نے الاندلس کو متحد کیا اور شمال کی عیسائی بادشاہتوں کو طاقت اور سفارت کاری کے ذریعے کنٹرول میں لایا۔ عبدالرحمن نے فاطمیوں کو مراکش اور الاندلس میں خلافت کی سرزمین پر جانے سے روک دیا۔ خوشحالی کے اس دور کو شمالی افریقہ میں بربر قبائل ، شمال سے عیسائی بادشاہوں ، اور فرانس ، جرمنی اور قسطنطنیہ کے ساتھ سفارتی تعلقات بڑھانے سے نشان زد کیا گیا۔

     قرطبہ الاندلس کا ثقافتی اور فکری مرکز تھا۔ مساجد ، جیسے عظیم مسجد ، بہت سے خلفاء کی توجہ کا مرکز تھیں۔ خلیفہ کا محل ، مدینہ ازہرہ ، شہر کے مضافات میں تھا ، اور اس کے بہت سے کمرے مشرق کی دولت سے بھرے ہوئے تھے۔ الکام II کی لائبریری دنیا کی سب سے بڑی لائبریریوں میں سے ایک تھی ، جس کی کم از کم 400،000 جلدیں تھیں ، اور قرطبہ کے پاس قدیم یونانی تحریروں کا عربی ، لاطینی اور عبرانی میں ترجمہ تھا۔ اموی خلافت کے دور میں یہودیوں اور عربوں کے درمیان تعلقات خوشگوار تھے۔ یہودی پتھر سازوں نے عظیم مسجد کے کالم بنانے میں مدد کی۔ الاندلس مشرقی ثقافتی اثرات کے تابع تھا۔ موسیقار ثریاب کو بغداد سے آئبیرین جزیرہ نما میں بالوں اور کپڑوں کے سٹائل ، ٹوتھ پیسٹ اور ڈیوڈورینٹ لانے کا سہرا دیا جاتا ہے۔ سائنس ، تاریخ ، جغرافیہ ، فلسفہ اور زبان میں ترقی اموی خلافت کے دوران بھی ہوئی۔

    1/1

    TWITTER

    @RizwanANA97

  • محمد بن قاسم کے سپاہیوں کو سلام تحریر : احسن ننکانوی 

    محمد بن قاسم کے سپاہیوں کو سلام تحریر : احسن ننکانوی 

     
     

      بلوچستان کی تہذیب دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے 

    خاص کر بلوچستان میں مہر گڑھ کی تہذیب جو کہ 10 ہزارسال سے 20 ہزار سال تک پرانی ہے تہذیب ہے

     بعض تاریخ دانوں کے مطابق لاکھوں سال قبل افریقہ کے لوگ ہجرت کر کے بلوچستان میں آکر آباد ہوئے۔مہر گڑھ کی تہذیب جو کہ دریا بولان کے کنارے بلوچستان اور سندھ کے علاقوں پر مشتمل تھی ۔

    جب سے بلوچستان میں سڑکوں کا جال بچھایا جارہا رہا ہے ہمیں اپنی قدیم تاریخ کا پتہ چل رہا ہے۔

    خاص کر جب سے سی پیک پروجیکٹ اور مکران کوسٹل ہائی ویز بنی ہے اس سے ہمیں اپنی پرانی تاریخ میں کچھ نئی چیزیں دیکھنے کو ملی ہیں۔

    جس میں چند ایک درجہ ذیل ہیں۔

    چندر گپ کے مڈ وال کینو:

    یہ مڈ وال کینو کوسٹل ہائی وے پر اگور اور پھور پوسٹوں کے درمیان واقع ہیں ہندو کمیونٹی انکو بڑی عزت کی نگا سے دیکھتے ہیں 

    اور ہر سال اپریل کے مہینے میں ہندو کمیونٹی کے لوگ پاکستان سمیت پوری دنیا سے یہاں آتے ہیں (تیرٹھ یا چندر گپ کی رسومات ) ادا کرے ہیں۔  

    ان رسومات میں ہندو مڈوال کینو کا کیچڑ اپنے جسم پر لگاتے ہیں اور انکے بقول ان کی تمام بیماریاں اور گناہ ختم ہو جاتے ہیں۔

    اور مڈ وال کینو کے کیچڑ میں ناریل پھینک کر مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔

    ہنگلاج ماتا مندر نانی ماتا مندر:

    یہ مندر کوسٹل ہائی وے اگور سے دریائے ہنگول پر پندرہ کلومیٹر شمال کی طرف ہنگول پہاڑی سلسلے میں واقع ہے۔اور یہ پاکستان میں ہندوؤں کی دوسری بڑی اہم عبادت گاہ ہے۔

    تاریخ دانوں کے مطابق یہ ہندوؤں کی پچاس ہزار سے لیکر ایک لاکھ سال تک پرانا مندر ہے۔

    یہاں بھی پاکستان سمیت پوری دنیا سے ہندو کمیونٹی کے لوگ آتے ہیں اور بوجا پاٹ کرتےہیں

    اور اپریل کے مہینے میں ایک بڑے میلے کا اہتمام ہوتا جس میں پاکستان سمیت پوری دنیا کے ہزاروں ہندو اگور آتے ہیں اور اپنی مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔

    اور ساتھ ناریل لیکر آتے ہیں اور پانی کے تالاب میں اپنا اپنا ناریل پھینکنے ہیں ہندوؤں کے بقول جس کا ناریل پانی میں ڈوپ جائے اس کی مراد پوری ہو جاتی ہے۔

    اور جس کا ناریل نہیں ڈوبتا اسکی مراد پوری نہیں ہوتی ہے۔

    حکومت پاکستان نے یہاں کافی اچھی سڑک اور یاتریوں کیلئے کافی کمرے بھی بنائے ہیں۔

    ہندووں کے ساتھ ساتھ مسلمان بھی یہاں آتے ہیں۔

    پرنس آف ہوپ کا مجسمہ:

    یہ ہنگول پہاڑوں کے درمیان ایک قدرتی مجسمہ ہے جس کو دیکھنے کیلئے پاکستان سمیت پوری دنیا سے لوگ یہاں آتے ہیں

    2005 میں سابقہ صدر جنرل پرویزمشرف کے دور میں ہالی وڈ کی ایکٹرس سٹار انجیلینا جولی بھی آئی بھی اور اس قدرتی مجسمے کو *پرنس آف ہوپ* کا نام دیا تھا۔

    اس کے علاوہ اور بھی بڑے بڑے قدرتی مجسمے اور ایسے ایسے زمین اور پہاڑوں کے خدوخال ہیں کہ یہ علاقہ ایک پرستان اور عجیب غریب دنیا کا منظر پیش کرتا ہے۔

    کنڈ ملیر بیچ:

    کنڈ ملیر بیچ بھی کوسٹل ہائی وے پر ساحل سمندر پر ایک اہم بیچ ہے جس کی ریت اور نیلا پانی ہر سیاح کو اپنی طرف کھینچتا ہے پورے پاکستان سے سیاح ہر موسم میں یہاں آتے ہیں۔ اور سمندر کی بڑی بڑی موجوں اور نیل گوں پانی کا لطف اٹھاتے ہیں۔

    گولڈن بیچ:

    کنڈملیر سے بوذی ٹاپ کی طرف جاتے ہوئے رسملان گاؤن تک گولڈن بیچ کا علاقہ ہے اس سیاحل کی ریت سونے کی طرح ہے اسکو اسی لیے گولڈن بیچ کہتے ہیں اور شام کو جب سورچ غروب ہوتا ہے تو ایک عجیب سا نظارہ ہوتا ہے

    ہنگول نیشنل پارک:

    ہنگول نیشنل پارک جو کہ سینکڑوں کلومیٹر رقبے پر پھیلا پاکستان کا سب سے بڑا نیشنل پارک ہے جو کہ بلوچستان کے تین اضلاع لسبیلہ،گوادر اور آواران پرمشتمل ہے۔

    اس میں مختلف قسم کے مارخور، مختلف قسم ہرن،مختلف اقسام کے دوسرے جانور، پرندوں میں شاہین، تیتر، چکور، بٹیر، تلور اور دوسرے مختلف پرندے پائے جاتے ہیں۔

    محمد بن قاسم کے سپاہی:

    اگور میں کوسٹل ہائے وے سے صرف 15 میٹر فاصلے پر محمد بن قاسم کے سپاہیوں کی قبریں ہیں جنکو ہم بلکل فراموش کر چکے ہیں

     یہ وہ سپاہی تھے جو کہ ایک مسلمان لڑکی کی فریاد پر ہزاروں میل کا سفر طے کر کے یہاں آئے تھے اور راجہ داہر کو شکست دی تھی اور اسی دن پاکستان کی بنیاد رکھ دی تھی۔

    ہمارےلیڈر اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا فرمان ہے کہ پاکستان کی بنیاد اسی دن رکھ دی گئی تھی جس دن ہندوستان کا پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا۔

    ہمیں ہر جگہ محمد بن قاسم کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے 

    محمد بن قاسم کے ساتھ انکے جانباز سپاہیوں نے بھی اپنی جان کی قربانیاں دی تھی۔

    لیکن ہم انکے جانباز سپاہیوں کو بھول گئے۔

    آج کوسٹل ہائی وے پر سب کو ان جگہوں کا معلوم ہے۔

    چندر گپت کے مڈ وال کینو:

    نانی ماتا مندر:

    پرنس آف ہوپ:

    ہنگول نیشنل پارک:

    کنڈ ملیر بیچ:

     گولڈن بیچ ان کا سب کو معلوم ہیں۔

    لیکن ہماری بدقسمتی ہے محمد بن قاسم کے سپاہیوں کی یاد گار کو سب بھول گئے ہیں

    جو کہ بطور پاکستانی اور ایک مسلمان ہونے کے ناطے میرے لئے افسوس کا مقام ہے۔ وہ قومیں ہمیشہ سرخرو رہتی ہیں۔جو اپنے اجداد اپنے ہیروز کو نہیں بولتی ہیں۔

    میری احکام بالا سے گزارش ہے کہ : 

    محمد بن قاسم کے شہید سپاہیوں کی یاد گار کی مرمت کی جائے۔اور اس کے ساتھ ایک اچھی سی کار پارک بنائی جائے اور درخت اور سبزہ ساتھ لگایا جائے اور افواج پاکستان کو اسکی ذمہ داری دی جائے۔ پاکستان بھر سے تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے افراد اسکو دیکھنے کیلئے آئیں گے۔

     اگور پوسٹ کانام تبدل کر کے محمد بن قاسم پوسٹ رکھا جائے۔آخر میں پھر محمد بن قاسم کے سپاہیوں کو ایک پاکستانی کا سلام ۔

    آخری میں اس رپورٹ سے کسی کی دل آزاری ہوئی تو معافی چاہتا ہوں۔

    @AhsanNankanvi

  • سلام، اے معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم، محمد نعیم شہزاد

    سلام، اے معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم، محمد نعیم شہزاد

    سلام، اے معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم

    محمد نعیم شہزاد

    جو پایہ علم سے پایا بشر نے
    فرشتوں نے بھی وہ پایہ نہ پایا

    آدمیت کی معراج علم سے ہے۔ علم وہ جوہر کامل ہے جو آدم خاکی کو ثریا کی بلندیوں تک لے جاتا ہے اور اسے مسجود ملائک کے منصب تک پہنچا دیتا ہے۔ مگر آدمی کو علم سیکھنے کے لیے شروع سے ہی کسی استاد کی حاجت رہی ہے۔ سب سے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے خود تعلیم دی اور انھیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا۔ گویا ذات باری تعالیٰ اس کائنات کی سب سے پہلی استاد ٹھہری۔ اولین وحی الٰہی میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
    عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَم یَعْلَم
    انسان کو وہ سکھایا جو اسے معلوم نہ تھا۔
    آدمیت کا سلسلہ آگے بڑھتا رہا اور اس کی راہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام کا نزول ہوتا رہا۔
    اس الہامی مذہب اور اس کے پیغام کی اتباع کے بغیر انسانی معاشرہ تباہی کا شکار ہوا اور اس کی پیروی سے ہی ترقی کے زینے چڑھتا رہا۔

    حضرت آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے پہلے نبی تھے انسانوں کا دائرہ کار محدود تھا اور ایک گھر اور ایک خاندان کی شکل میں الہامی علوم کی اشاعت و تبلیغ کا آغاز ہوا۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں دنیا اپنے حجم میں کثیر اضافہ کر چکی تھی اور ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بار عظیم کو احسن طریقے سے سنبھالا اور چہار دانگ عالم اللہ تعالیٰ کی تکبیرات بلند کر دی۔

    تاریخ پر سرسری سی نگاہ بھی دوڑائیں تو معلوم ہو گا کہ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے معاشرے سے انسانیت معدوم ہو چکی تھی۔ لوگ بیٹیوں کو زندہ درگور کرتے تھے، جوئے اور شراب کے رسیا تھے اور حلال و حرام کی تمیز بھلا بیٹھے تھے۔ معاشرہ تہذیب و تمدن سے عاری تھا۔ الغرض معاشرہ ہر طرح کی خرابی کا مرقع تھا اور برائی پر تفاخر کیا جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی عرق ریزی اور جانفشانی سے معاشرے کی تطہیر کا اہم فریضہ سر انجام دیا اور 23 برس کے مختصر عرصے میں ایک نئی دنیا بسا دی۔

    مخلوق کو مخلوق کے دام فریب سے نکالا، غلاموں کو آزادی اور محکموں کے حقوق متعین کیے۔ بیٹی کو اللہ کی نعمت قرار دیا اور عملی طور پر ماں، بہن، بیوی اور بیٹی ہر رووپ میں عورت کی قدر منزلت واضح فرما دی۔ وحشیوں کو تہذیب و تمدن کا شاہکار بنایا اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسوں کو باہم شیر و شکر کر دیا۔

    آدمیت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لطف و کرم اور احسان کی کا یہ عالم ہے کہ خود رب العالمین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعث کو مومنوں پر ایک احسان عظیم قرار دیا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم انسان کی اخروی نجات کے لیے اس قدر فکر مند ہوتے کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ کہف میں فرمایا

    فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّـفۡسَكَ عَلٰٓى اٰثَارِهِمۡ اِنۡ لَّمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٰذَا الۡحَـدِيۡثِ اَسَفًا ۞

    ترجمہ:
    اگر یہ لوگ اس قرآن پر ایمان نہ لائے تو لگتا ہے کہ آپ فرط غم سے ان کے پیچھے جان دے دیں گے
    القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 6

    آج عالمی یوم اساتذہ #WorldTeachersDay کے موقع پر ہم معلم انسانیت کے مشکور ہیں جن کے دم سے ہم شرف آدمیت کو پہنچے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی اکرم، معلم انسانیت پر ان گنت درود و سلام بھیجے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جس معاشرے کی اللہ تعالیٰ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے بنیاد رکھی تھی اس کا احیاء کریں تاکہ نسل انسانی محرومی اور نا انصافی سے بچ سکے اور آدمیت کی رفعت کو چھو سکے۔ آئیے ہم کوشش کریں کہ معاشرے میں پھیلی افراتفری اور ناانصافی پر کڑھنے کی بجائے اپنے حصے کی بھلائی پھیلائیں تاکہ ہمارا معاشرہ بھلائی کا گہوارہ بن جائے۔

    محمد نعیم شہزاد
    @UstaadGe

  • جنگِ روم اور وفاتِ معتمد تحریر  منصور احمد قریشی ( اسلام آباد)

    جنگِ روم اور وفاتِ معتمد تحریر منصور احمد قریشی ( اسلام آباد)

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سنہ ۲۵۷ میں میخائیل بن روفیل قیصر قسطنطنیہ کو اس کے ایک رشتہ دار نے جو صقلبی کے نام سے مشہور تھا ۔ قتل کر کے خود تختِ سلطنت پر براجمان ہوا۔ سنہ ۲۵۹ میں رومیوں نے ملطیہ پر فوج کشی کی ۔ مگر شکست کھا کر واپس گئے ۔ سنہ ۲۶۳ میں رومیوں نے قلعہ کرکرہ متصل طرسوس کو مسلمانوں سے چھین لیا ۔ سنہ ۲۶۴ میں عبدالّٰلہ بن رشید بن کاؤس نے چالیس ہزار سرحدی شامی فوجوں کے ساتھ بلادِ روم پر چڑھائی کی اول فتح حاصل کی ۔ مگر بعد میں عبدالّٰلہ بن رشید گرفتار ہو کر قسطنطنیہ پہنچا ۔ 

    سنہ ۲۶۵ میں رومیوں نے عام اذفہ پر حملہ کیا ۔ چار سو مسلمان شہید اور چار سو گرفتار ہوۓ ۔ اسی سال قیصرِ روم نے عبدالّٰلہ بن رشید کو معہ چند جلد قرآن مجید کے احمد بن طولون کے پاس بطور ہدیہ روانہ کیا ۔ سنہ ۲۶۶ میں جزیرہ صقلیہ کے متصل رومیوں اور مسلمانوں کے جنگی بیڑوں میں لڑائی ہوئی۔ مسلمانوں کو شکست ہوئی اور ان کی کئی جنگی کشتیاں رومیوں نے اپنے قبضے میں لے لیں ۔ باقی ماندہ نے ساحل صقلیہ میں جا کر قیام کیا ۔

    احمد بن طولون کے نائب شام نے اسی بلادِ روم پر ایک کامیاب حملہ کر کے بہت سامانِ غنیمت حاصل کیا ۔ سنہ ۲۷۰ میں رومیوں نے ایک لاکھ فوج کے ساتھ مقام قلمیہ پر جو طرسوس سے چھ میل کے فاصلے پر ہے ، حملہ کیا ۔ مازیار والی طرسوس نے رومیوں پر شب خون مارا اور ستر ہزار رومی مقتول ہوۓ۔ بطریق اعظم گرفتار ہوا اور صلیب اعظم بھی مسلمانوں کے قبضے میں آ گئی ۔ سنہ ۲۷۳ میں مازیار والی طرسوس نے رومیوں پر حملہ کیا اور کامیاب واپس آیا۔ سنہ ۲۷۸ میں مازیار والی طرسوس اور احمد جعفی نے مل کر بلادِ روم پر حملہ کیا ۔ حالتِ جنگ میں منجنیق کا ایک پتھر مازیار کو آ کر لگا ۔ وہ زخمی ہو کر لڑائی موقوف کر کے واپس ہوا اور راستے میں مر گیا ۔ مسلمانوں نے طرسوس میں لا کر دفن کیا ۔ اگرچہ عالمِ اسلام میں سخت ہلچل مچی ہوئی تھی اور جا بجا خانہ جنگی برپا تھی ۔ تاہم رومیوں کو مسلمانوں کے مقابلے میں کوئی عظیم الشان کامیابی حاصل نہ ہو سکی ۔ 

    خلیفہ معتمد علی الّٰلہ بن متوکل علی الّٰلہ نے ۲۰ رجب سنہ ۲۷۹ میں وفات پائی اور سامرا میں مدفون ہوا ۔ معتصم بالّٰلہ بن ہارون الرشید کے وقت سے خلفاء عباسیہ کا دارالخلافہ سامرا چلا آتا تھا ۔ معتمد علی الّٰلہ نے سامرا کو چھوڑ کر بغداد میں رہنا اختیار کیا اور پھر بغداد ہی دارالخلافہ ہو گیا ۔ سامرا کو چھوڑنے اور بغداد کو دارالخلافہ بنانے ہی کا نتیجہ تھا کہ ترک سردار جو خلافت اور دربارِ خلافت پر حاوی و متسلط تھے اُن کا زور یک لخت ٹوٹ گیا ۔ دارالخلافہ کی تبدیلی بھی معتمد کے بھائی موفق کی عقل و تدبیر کا نتیجہ تھا ۔

    معتمد کے زمانے میں دولت و حکومت کی قوتیں بالکل کمزور ہو چکی تھیں ۔ اُمراۓ سلطنت میں جیسا کہ ایسی حالت میں ہونا چاہیۓ تھا نااتفاقی ، عداوت اور ایک دوسرے کی مخالفت خوب زوروں پر تھی ۔ ممالکِ محروسہ کے ہر حصے اور ہر سمت میں فتنہ و فساد کا بازار گرم تھا ۔ لوگوں کے دل سے خلیفہ کا رعب بالکل مٹ چکا تھا ۔ جہاں جس کو موقع ملا اُس نے ملک دبا لیا ۔ صوبہ داروں نے خراج بھیجنا بند کر دیا ۔ کوئی آئین اور کوئی قانون تمام ملک میں رائج نہ رہا ۔ ہر شخص نے جس ملک پر قبضہ کیا اپنا ہی قانون جاری کیا ۔ رعایا پر بڑے بڑے ظلم ہونے لگے ۔ عاملوں نے آزادانہ جس طرح چاہا رعایا کو تختہ مشق ظلم بنایا ۔ بنو سامان نے ماوراء النہر پر ، بنو صفار نے سجستان و کرمان خراسان اور ملکِ فارس پر حسن بن یزید نے طبرستان و جرجان پر زنگیوں نے بصرہ و ایلہ و واسط پر ، خوارج نے موصل و جزیرہ پر ابن طولون نے مصر و شام پر ۔ ابن اغلب نے افریقہ پر قبضہ کر کے اپنی اپنی حکومت قائم کر لی تھی۔

    Twitter Handle : @MansurQr

  • عُمرِ فاروق ابنِ خطاب تصی اللّہ تعالیٰ کے دور کی اسلامی ریاست تحریر:محمد رضوان۔

    عُمرِ فاروق ابنِ خطاب تصی اللّہ تعالیٰ کے دور کی اسلامی ریاست تحریر:محمد رضوان۔

    آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا 

    آپ رضی اللّہ تعالیٰ عنہ مراد نبی ہیں آپ رضی اللّہ تعالیٰ عنہ کو آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا میں مانگا ہے 

    خلیفہ اور حکمرانوں کے کسی دور میں اسلامی ریاست اپنی مثالی شکل میں حاصل نہیں کی گئی ، جیسا کہ دوسرے خلیفہ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں حاصل کیا گیا تھا۔ ، جس نے سالمیت اور مضبوطی ، رحم اور انصاف ، وقار اور عاجزی ، شدت اور سنیاست کو جوڑ دیا۔

    الفاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے دس سالوں میں تاریخ کی سب سے طاقتور سلطنت قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی ، لہذا اسلامی ریاست فارسی اور رومی سلطنتوں کے زوال کے بعد قائم ہوئی۔ فارس اور مشرق میں چین کی سرحدوں سے لے کر مغرب میں مصر اور افریقہ تک ، اور شمال میں بحیرہ کیسپین سے لے کر جنوب میں سوڈان اور یمن تک ، "عمر” رضی اللہ عنہ قابل تھے ان دو سلطنتوں کو ان عربوں کے ساتھ فتح کریں جو کہ کچھ عرصہ پہلے تک بدوین قبائل تھے ، ان کے درمیان اختلافات تھے اور معمولی وجوہات کی بنا پر جنگیں شروع ہوئیں ، قبائلی جنونیت سے متاثر ہو کر ، اور قبل از اسلام رسم و رواج اور فنا ہونے والے رسم و رواج سے اندھا ہو گیا۔ اس مذہب کی چھتری کے نیچے متحد ، جس نے اسے عقیدے کے بندھن اور بھائی چارے اور محبت کے بندھنوں سے جوڑ دیا ، اور تخیل سے بالاتر ہو کر جلال اور بہادری حاصل کی ، خدا نے اس کے لیے وہ کارنامہ تخلیق کیا جو اس کے راستے کی رہنمائی کرتا تھا ، اور اس کے بینر تک لے جاتا تھا اس نے دنیا پر غلبہ حاصل کیا ، اور دنیا کی ملکیت تھی۔

    عمر ابن الخطاب کی پیدائش اور پرورش

    عمر بن الخطاب بن نفیل بن عبدالعزیز بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ مکہ میں پیدا ہوئے اور ان کی پرورش ہوئی اور ان کے والد الخطاب اپنی سختی کے لیے مشہور تھے۔ اور بے رحمی ، اور وہ ایک ذہین آدمی تھا ، اپنی قوم میں کھڑا ، بہادر اور جرات مندانہ تھا۔ ، اور "الخطاب” نے کئی عورتوں سے شادی کی ، اور ان کے بہت سے بیٹے تھے۔

    اور عمر رضی اللہ عنہ – اپنے بچپن میں – اس سے لطف اندوز ہوئے جو قریش سے ان کے بہت سے ساتھیوں نے نہیں کیا۔ انہوں نے پڑھنا لکھنا سیکھا اور تمام قریش میں صرف سترہ آدمی اس میں ماہر تھے۔

    اور جب عمر رضی اللہ عنہ بڑے ہوئے تو وہ اپنے والد کے اونٹوں کو چراتے تھے اور خود کو کسی نہ کسی کھیل میں لے جاتے تھے۔

    عمر رضی اللہ عنہ – اسلام سے پہلے "مکہ” کے دوسرے نوجوانوں کی طرح – تفریح ​​اور  مہنگے خوشبوں  کا عاشق تھا ، اور "عمر” نے مسلمانوں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کی دشمنی حبشہ کی پہلی ہجرت تک جاری رکھی ، اور "عمر” نے اپنے لوگوں سے ان کی علیحدگی پر کچھ دکھ اور غم محسوس کرنا شروع کیا۔ وطن کے بعد جب انہوں نے اذیت اور زیادتی برداشت کی ، اور "محمد” سے چھٹکارا پانے کا اس کا عزم طے ہو گیا۔ قریش کی طرف لوٹنا اس اتحاد کو جو اس نئے مذہب سے ٹوٹ گیا تھا! چنانچہ اس نے اپنی تلوار چھین لی ، اور وہاں گیا جہاں محمد اور اس کے ساتھی دار العقم میں جمع ہوئے تھے ، اور جب وہ راستے میں تھے تو وہ بنی زہرہ کے ایک آدمی سے ملے اور کہا: عمر تم کہاں گئے تھے؟ اس نے کہا: میں محمد کو قتل کرنا چاہتا ہوں اس نے کہا: کیا تم اپنے گھر کے لوگوں کے پاس واپس جا کر ان کے معاملات قائم نہیں کرو گے؟اور اس نے اسے اپنی بہن "فاطمہ بنت الخطاب” اور اس کے شوہر "سعید بن زید بن عمر رضی اللہ عنہ” اور "عمر” کے جلدی جلدی ان کے گھر آنے کی اطلاع دی اور وہ "خباب بن العراط” رضی اللہ عنہ ان سے سورہ "طہ” کی تلاوت کر رہے تھے ، جب انہوں نے اس کی آواز سنی تو "خباب” اور "فاطمہ” نے اخبار چھپا لیا ، تو عمر پریشان ہو گئے سعید پر چھلانگ لگائی اور اسے مارا ، اور اس کی بہن کو تھپڑ مارا ، اس کا چہرہ لہو لہان ہو گیا۔ اس کے کپڑوں کے بنڈلوں اور تلوار کے ٹکڑوں کے بارے میں ، اور اس سے کہا: کیا تم ختم نہیں ہو گئے ہو ، عمر ، جب تک خدا تمہیں ذلت اور سزا سے نیچے نہیں لاتا ، الولید بن المغیرہ کو کیا ہوا؟ عمر نے کہا: اے خدا کے رسول ، میں تمہارے پاس خدا اور اس کے رسول پر ایمان لانے کے لیے آیا تھا اور جو خدا کی طرف سے آیا تھا ، اس لیے خدا کے رسول اور مسلمان بڑے ہوئے ، عمر نے کہا: اے خدا کے رسول ، کیا ہم سچ پر نہیں ہیں؟ اگر ہم مرتے ہیں اور اگر ہم زندہ رہتے ہیں؟ اس نے کہا: ہاں ، اس نے کہا:غائب کیوں؟ مسجد میں داخل ہونے تک مسلمان دو صفوں میں نکل گئے۔قریش نے جب انہیں دیکھا تو وہ ایک ڈپریشن میں مبتلا ہوگئیں جو کہ وہ نہیں کرتی تھیں اور یہ مشرکین کے خلاف مسلمانوں کی پہلی ظاہری شکل تھی ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا نے اسے اس دور سے "الفرق” کیا

    فاروق عمر نے کال کے چھٹے سال ذی الحجہ میں اسلام قبول کیا ، اور اس کی عمر چھبیس سال ہے ، اور اس نے تقریبا for چالیس مردوں کے بعد اسلام قبول کیا ، اور "عمر” نے اس جوش کے ساتھ اسلام میں داخل کیا وہ اس سے پہلے لڑ رہا تھا ، اس لیے وہ اپنے قریش کی تبدیلی کی خبر پھیلانا چاہتا تھا۔ یہاں تک کہ مسلمانوں نے مشرکین کے نقصان سے اپنے مذہب کے ساتھ بھاگتے ہوئے "مدینہ” کی طرف ہجرت شروع کر دی اور وہ چھپ کر اس کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔ سات ، پھر مزار پر آئے اور دعا کی ، پھر اس نے مشرکین کے گروہ کو بلایا: "جو شخص اپنی ماں کو سوگوار کرنا چاہتا ہے یا اس کا بیٹا یتیم ہے یا اس کی بیوی بیوہ ہے تو وہ مجھے اس وادی کے پیچھے پھینک دے۔”

    مدینہ میں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اور "عتبان بن مالک” کے درمیان بھائی چارہ بنایا اور کہا گیا: "معاذ بن افرا” اور اس میں اس کی زندگی کا ایک اور پہلو تھا جس سے وہ واقف نہیں تھا مکہ میں ، اور بہت سے پہلو اور نئے پہلو ظاہر ہونے لگے ، "عمر” کی شخصیت سے ، اور وہ "شہر” میں عوامی زندگی میں نمایاں کردار بن گئے۔

    عمر ابن الخطاب بہت زیادہ ایمان ، تجرید اور شفافیت کی وجہ سے ممتاز تھے ، اور وہ اسلام سے انتہائی حسد اور سچائی میں دلیری کے لیے مشہور تھے ، کیونکہ وہ عقل ، حکمت اور اچھی رائے کے حامل تھے۔ خدا ، اگر ہم نے ابراہیم کی جگہ کو نماز کی جگہ لیا: تو آیت نازل ہوئی (اور ابراہیم کی جگہ سے نماز کی جگہ لے لو) [البقر:: 125] ، اور اس نے کہا ، "اے اللہ کے رسول ، تمہارا عورتیں ان میں نیک اور بدکار دونوں داخل ہوں گی۔

    اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے کہا جو ان کے بارے میں حسد میں جمع تھیں: (شاید اس کا رب اگر اس نے تمہیں طلاق دے دی تو اس کی جگہ تم سے بہتر بیویاں لے لیں گے) [التحریم : 5] تو یہ نازل ہوا۔

    شاید ان حالات میں عمر کی رائے سے متفق ہو کر وحی کا نزول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہنے پر مجبور کرتا ہے: "خدا نے عمر کی زبان اور دل کو سچ بنایا ہے۔”

    ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں بیان کیا گیا: "لوگوں پر کوئی بات نازل نہیں ہوئی اور انہوں نے اس کے بارے میں کہا اور عمر ابن الخطاب نے اس کے بارے میں کہا ، لیکن قرآن اس طرح نازل ہوا جس طرح عمر ، خدا ہو۔ اس سے خوش ، کہا۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا اور دوست "ابوبکر” نے مسلمانوں کی خلافت سنبھالی ، چنانچہ عمر ابن الخطاب ان کے وفادار وزیر اور مشیر تھے۔ ایک پردہ جو عظیم انسانی جذبات کے اس تمام بہاؤ کے پیچھے چھپا ہوا ہے جسے بہت سے لوگ ایک کمزوری سمجھتے ہیں جو مردوں ، خاص طور پر رہنماؤں اور رہنماؤں کے قابل نہیں ہے۔ دوست کی موت کے بعد مسلمان۔

    کمانڈر "عمر بن الخطاب” کی بیعت کا عہد ” ابوبکر الصدیق ” کی وفات کے اگلے دن مسلمانوں کا خلیفہ تھا [22 جمعہ الاخیرہ 13 ھ: 23 اگست 632 AD] .

    اور نئے خلیفہ نے پہلے لمحے سے ان کے سامنے آنے والی مشکلات اور چیلنجوں کا سامنا کرنا شروع کیا ، خاص طور پر لیونٹ میں مسلم افواج کی نازک جنگی پوزیشن۔جنہوں نے اسے دریائے فرات کے پل کو عبور کرنے کے خطرے سے خبردار کیا ، اور اسے مشورہ دیا کہ فارسیوں نے اسے عبور کیا کیونکہ دریا کے مغرب میں مسلم افواج کی پوزیشن بہتر ہے ، یہاں تک کہ اگر مسلمانوں نے فتح حاصل کی تو انہوں نے پل آسانی سے عبور کیا ، لیکن "ابو عبیدہ” نے ان کا جواب نہیں دیا ، جس کی وجہ سے مسلمانوں کو جنگ میں شکست ہوئی پل ، اور ابو عبیدہ اور چار ہزار مسلم فوج کی شہادت

    "پل کی لڑائی” میں مسلمانوں کو جو شکست ہوئی تھی اس کے بعد المثنا بن حارثہ نے شکست کے اثرات کو مٹانے کی کوشش میں مسلم فوج کے حوصلے بلند کرنے کی کوشش کی اور پھر اس نے فارسیوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے کام کیا۔ دریا کے مغرب کو عبور کیا ، اور انہیں دھوکہ دینے کے بعد انہیں پار کرنے کے لیے آگے بڑھانے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے مسلمانوں پر جتنی جلدی فتح حاصل کی ، اس لیے المتھانہ نے انہیں اپنی افواج سے حیران کر دیا ، اور الج کے کنارے پر ذلت آمیز شکست دی۔ دریائے بویب ، جس کے لیے اس جنگ کا نام لیا گیا۔

    اس فتح کی خبر مدینہ میں الفاروق تک پہنچی ، چنانچہ وہ فارسیوں سے لڑنے کے لیے خود ایک فوج کے سربراہ کے طور پر باہر جانا چاہتا تھا ، لیکن ساتھیوں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ مسلمان رہنماؤں کے علاوہ کسی اور کو منتخب کرے فوج کی ، اور انہوں نے اسے "سعد بن ابی وقاص” نامزد کیا تو عمر نے اسے حکم دیا۔ لیوینٹ کی طرف جانے والی فوج پر ، جہاں اس نے "القادسیہ” میں ڈیرہ ڈالا۔

    سعد نے اپنے لوگوں کا ایک وفد فارسیوں کے بادشاہ بوروجرد III کے پاس بھیجا۔ اسے اسلام پیش کرنے کے لیے کہ وہ اپنی بادشاہی میں رہے اور اسے اس کے یا خراج یا جنگ کے درمیان انتخاب دے ، لیکن بادشاہ نے تکبر اور تکبر کے ساتھ وفد سے ملاقات کی اور جنگ کے سوا کسی چیز سے انکار کیا ، اس لیے دونوں ٹیموں کے درمیان جنگ ہوئی ، اور جنگ چار دن تک جاری رہی یہاں تک کہ اس کے نتیجے میں "القادسیہ” میں مسلمانوں کی فتح ہوئی ، اور فارسی فوج کو ایک شکست ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اسلامی تاریخ میں فیصلہ کن لڑائیاں ، جیسا کہ اس نے عربوں اور مسلمانوں کو صدیوں تک فارسیوں کے کنٹرول میں رہنے کے بعد "عراق” واپس کر دیا ، اور اس فتح نے مسلمانوں کے لیے مزید فتوحات کا راستہ کھول دیا۔

    خلیفہ دوئم کی عظمت بیان کرتے وقت کم کوتاہی ہو تو اللّہ تعالیٰ معاف فرمائے 

    Twitter @RizwanANA97

  • دریائے فرات اور سونےکا خزانہ  تحریر محمد آصف شفیق

    نبی مہربان ﷺ نے دریائے فرات  جوکہ کم و بیش 2800 کلومیٹر طویل ہے   جوکہ ترکی، شام، اردن اور عراق  سے گزرتا ہے  جس کے بارے میں نبی مہربان ﷺ نے آنے والے وقت میں  پیش آنے والے واقعات   کا بتایا اور اس  دور میں اگر ہم موجود ہوں تو ہمارا ردعمل کیا ہونا چائیے

                    

     ” اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ” جلدی وہ زمانہ آنے والا ہے جب دریائے فرات سونے کا خزانہ برآمد کرے گا ( یعنی اس کا پانی خشک ہو جائے گا اور اس کے نیچے سے سونے کا خزانہ برآمد ہوگا ) پس جو شخص اس وقت وہاں موجود ہو اس کو چاہئے کہ اس خزانہ میں کچھ نہ لے ۔ ” (بخاری ومسلم )( مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 7) 

     

    تشریح

     اس خزانہ میں سے کچھ لینے کی ممانعت اس بنا پر ہے کہ اس کی وجہ سے تنازعہ اور قتل وقتال کی صورت پیش آئے گی جیسا کہ اگلی حدیث میں وضاحت کی گئی ہے ! اور بعض حضرات نے لکھا ہے کہ اس خزانہ میں سے کچھ بھی لینا اس لئے ممنوع ہے کہ خاص طور پر اس خزانہ میں سے کچھ حاصل کرنا آفات اور بلاؤں کے اثر کرنے کا موجب ہوگا اور ایک طرح سے یہ بات قدرت الہٰی کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ! نیز بعض حضرات نے یہ لکھا کہ اس ممانعت کا سبب یہ ہے کہ وہ خزانہ مغضوب اور مکروہ مال کے حکم میں ہوگا جیسا کہ قارون کا خزانہ ‘ لہٰذا اس خزانہ سے فائدہ حاصل کرنا حرام ہوگا ۔

             

     ” اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ” قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک کہ دریائے فرات سونے کا پہاڑ برآمد نہ کرے گا !لوگ اس کی وجہ سے ( یعنی اس دولت کو حاصل کرنے اور اپنے قبضہ میں لینے کے لئے ) جنگ اور قتل وقتال کریں گے، پس ان لوگوں میں ننانوے فیصد مارے جائیں گے، اور ہر شخص یہ کہے گا کہ شاید میں ( زندہ بچ جاؤں گا اور ) مقصد میں کامیاب ہو جاؤں گا، یعنی ہر شخص اس توقع پر لڑے گا کہ شاید میں ہی کامیابی حاصل کرلوں اور اس دولت پر قبضہ جما لوں چنانچہ ننانوے فیصد لوگ اس توقع میں اپنی جان گنوا بیٹھیں گے ۔” ( مسلم )(مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 8)    

     

    تشریح

     بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی بات کو دو مختلف موقوں پر مختلف الفاظ میں بیان فرمایا گیا ، لہٰذا دونوں حدیثوں کا خلاصہ یہ نکلے گا کہ دریائے فرات کے نیچے سے سونے کا ایک عظیم خزانہ برآمد ہوگا جس کی مقدار پہاڑ کے برابر ہوگی ۔ تا ہم یہ احتمال بھی ہے کہ یہاں حدیث میں پہاڑ کے برابر سونے کہ جس کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ اس خزانہ کے علاوہ ہوگا جس کا ذکر پہلی جدیث میں کیا گیا ہے اور ” سونے کے پہاڑ ” سے مراد سونے کی کان ہے ۔

     

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عنقریب دریائے فرات سونے کا خزانہ نکالے گا، چنانچہ جس شخص کو ملے وہ اس سے کچھ نہ لے، عقبہ بیان کرتے ہیں ہم سے عبداللہ نے بواسطہ ابوالزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں مگر یہ کہ انہوں نے کہا سونے کا پہاڑ نکالے گا۔( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2033)

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ دریائے فرات سے سونے کا پہاڑے نکل آئے جس پر لوگوں کا قتل وقتال ہوگا اور ہر سو میں سے ننانوے آدمی قتل کئے جائیں گے اور ان میں سے ہر آدمی کہے گا شاید میں ہی وہ ہوں جسے نجات حاصل ہوگی اور یہ خزانہ میرے قبضہ میں رہ جائے گا۔(صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2771 )

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا عنقریب دریائے فرات سے سونے کا ایک خزانہ نکلے گا پس جو اس وقت موجود ہو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2773)

    عبدالحمید بن جعفر ابی سلیمان بن یسار حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن نوفل سے روایت ہے کہ حضرت ابی بن کعب کے ساتھ کھڑا ہوا تھا تو انہوں نے کہا ہمیشہ لوگوں کی گردنیں دنیا کے طلب کرنے میں ایک دوسرے سے اختلاف کرتی رہیں گی میں نے کہا جی ہاں انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب دریائے فرات سے سونے کا ایک پہاڑ برآمد ہوگا جب لوگ اس کے بارے میں سنیں گے تو اس کی طرف روانہ ہوں گے پس جو لوگ اس کے پاس ہوں گے وہ کہیں گے اگر ہم نے لوگوں کو چھوڑ دیا تو وہ اس سے سارے کا سارا(سونا) لے جائیں گے پھر وہ اس پر قتل و قتال کریں گے پس ہر سو میں سے ننانوے آدمی قتل کئے جائیں گے ابوکامل نے اس حدیث کے بارے میں کہا کہ میں اور ابی بن کعب حسان کے قلعہ کے سایہ میں کھڑے ہوئے تھے۔(صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2775)

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب دریائے فرات ایک سونے کے خزانے کو منکشف کرے گا۔ تم میں سے جو اس وقت موجود ہو وہ اس میں سے کچھ نہ لے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔(جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 472)

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ دریائے فرات میں سے سونے کا پہاڑ نہ نکلے اور لوگ اس پر باہم کشت وخون کریں گے چنانچہ ہر دس میں سے نو مارے جائیں گے۔(سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 926)

     

             

     ” اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ” جلدی وہ زمانہ آنے والا ہے جب دریائے فرات سونے کا خزانہ برآمد کرے گا ( یعنی اس کا پانی خشک ہو جائے گا اور اس کے نیچے سے سونے کا خزانہ برآمد ہوگا ) پس جو شخص اس وقت وہاں موجود ہو اس کو چاہئے کہ اس خزانہ میں کچھ نہ لے ۔ ” (بخاری ومسلم )(مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 7)     

     

    تشریح

     اس خزانہ میں سے کچھ لینے کی ممانعت اس بنا پر ہے کہ اس کی وجہ سے تنازعہ اور قتل وقتال کی صورت پیش آئے گی جیسا کہ اگلی حدیث میں وضاحت کی گئی ہے ! اور بعض حضرات نے لکھا ہے کہ اس خزانہ میں سے کچھ بھی لینا اس لئے ممنوع ہے کہ خاص طور پر اس خزانہ میں سے کچھ حاصل کرنا آفات اور بلاؤں کے اثر کرنے کا موجب ہوگا اور ایک طرح سے یہ بات قدرت الہٰی کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ! نیز بعض حضرات نے یہ لکھا کہ اس ممانعت کا سبب یہ ہے کہ وہ خزانہ مغضوب اور مکروہ مال کے حکم میں ہوگا جیسا کہ قارون کا خزانہ ‘ لہٰذا اس خزانہ سے فائدہ حاصل کرنا حرام ہوگا ۔

    اللہ رب العالمین  سب کو اپنے حفظ و امان میں  رکھیں   بنی مہربانﷺ کے فرامین پر عمل پیرا ہونے  والا بنائے

    آمین یا رب العالمین 

    @mmasief

     

  • ترکی کتنا طاقتور ہے:-     تحریر اصغر علی

    ترکی کتنا طاقتور ہے:-     تحریر اصغر علی

                                 
                
    اسلامی دنیا میں اگر کوئی ایک ملک امریکی بالادستی کو چیلنج کرتا ہے تو وہ ترکی ہے اس کی حالیہ مثال پچھلے دنوں میں آپ کے سامنے آئی امریکہ نے اپنا سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تو ترکی نے اسرائیل سے اپنے ڈپلومیٹک تعلقات توڑ دیے ترکی نہ ہی کوئی ایٹمی ملک ہے اور نہ ہی اس کے پاس کسی قسم کے کوئی ایٹمی ہتھیار ہیں ہیں مگر باوجود اس کے اس کا شمار دنیا کی چند بڑی طاقتوں میں ہوتا ہے ترکی کی سب سے بڑی قوت اس کا جغرافیہ ہے کیونکہ ترکی یورپ اور ایشیا دونوں براعظموں کے درمیان میں واقع ہے اور درمیان میں واقع ہونے کی وجہ سے وہ دونوں براعظموں کا دروازہ بن چکا ہے ترکی کے اس جغرافیائی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ روس اور امریکہ دونوں ہی یہ چاہتے ہیں کہ ترکی میں ان کے ساتھ رہے اور اس چیز کو ترکی اچھی طرح جانتا ہے مگر یہی جغرافیہ ترکی کے لئے سب سے بڑی مصیبت بھی ہے کیوں کہ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں لوگ ہر سال ایشیا سے یورپ جانے کے لیے ترکی میں آ جاتے ہیں جو ترکی کی کے لیے بڑا معاشی چیلنج کھڑا کر دیتا ہے ترکی یورپی یونین کا حصہ بننا چاہتا ہے ہے مگر اس کا جغرافیا اس کی بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ یورپی یونین میں آنے والے ہر ملک کے لوگ دوسرے ملک میں بغیر ویزے آسانی سے آ جا سکتے  ہیں اگر ترکی یورپی یونین میں شامل ہو جاتا ہے تو ہر سال ایشیا سے آنے والے لاکھوں تارکین وطن بآسانی یورپ چلے جائیں گے جو کہ ممکن نہیں ہے اس لیے ترکی کی سر توڑ کوششوں کے باوجود یورپی یونین اسے اپنا رکن بنانے سے انکاری ہے معاشی لحاظ سے ترکی 863 ارب ڈالر کے ساتھ دنیا کی سترویں بڑی معاشی طاقت ہے ترکی کے جی ڈی پی کا زیادہ انحصار سیاحت پر ہے ایک اندازے کے مطابق ہر سال ستر لاکھ سیاح ترکی کا رخ کرتے ہیں ترکی کی فوجی اہمیت اور بھی زیادہ ہے ترکی دنیا کی آٹھویں بڑی فوجی طاقت ہے جب کہ پاکستان تیرویں بھارت پانچویں اور چین تیسری بڑی طاقت ہے نیٹو کا رکن ہونے کی وجہ سے کوئی بھی ملک ترکی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا کیونکہ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اس کو مغربی فوجی اتحاد نیٹو سے بھی جنگ کرنے پڑے گی اور یہاں یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ نیٹو اتحاد میں امریکہ کے بعد دوسری بڑی فوج بھی ترکی کی ہے اور اس کی تعداد 4 لاکھ دس ہزار ہے امریکی پابندیوں کے باوجود ترکی نیٹو اتحاد کا واحد ایسا ملک ہے جو روس سے جدید ہتھیار اور ریڈارسسٹم خرید رہا ہے ترکی مسلمان ملکوں میں بھی خاص اہمیت رکھتا ہے ہے جب امریکی صدر  نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تو ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے مسلم ممالک کا ایک اجلاس بلایا اور بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت قرار دے دیا ترکی کے اس اقدام نے مسلمانوں کے دل جیت لیے تھے ترکی میں دو بڑے اہم مسائل ہیں پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ترکی میں رہنے والے کرد اقلیت کے لوگوں نے آزادی کی تحریک شروع کردی ہے ان لوگوں نے ترکی کی سرحد کے ساتھ ساتھ شام اور عراق میں بھی اپنے اڈے قائم کر لیے ہیں ترکی نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے شام کے شمالی علاقے پر قبضہ بھی کیا ہوا ہے اور عراق میں بھی ترکی کی فوج داخل ہوچکی ہے اسی فوجی مداخلت کی وجہ سے ترکی کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ترکی کا دوسرا بڑا مسئلہ یورپی یونین اور امریکہ سے خراب تعلقات ہیں اس وقت صورت حال یہ ہے ہے کہ ترکی تیزی سے روس ایران پاکستان کے قریب ہو رہا ہے قطر اور ایران سے بھی اس کے اچھے تعلقات ہیں تاہم شام عراق اسرائیل سعودی عرب یمن یونان سائپرس اور امریکہ سے اس کے تعلقات کافی حد تک ک خراب ہو چکے ہیں یوں دیکھا جائے تو ترکی اپنے جغرافیائی لحاظ معاشی ترقی نیٹو کی رکنیت اور فوجی طاقت کی وجہ سے دنیا کی ایک بڑی طاقت ہے ہے تاہم کرد کی بغاوت امریکا اور یورپ سے مسلسل کشیدہ تعلقات اور ہمسایہ ممالک کی بگڑتی صورتحال نے ترکی کے لیے بہت سارے چیلنج پیدا کر دیے ہیں

    Twitter id:    @Ali_AJKPTI
    https://twitter.com/Ali_AJKPTI?s=09

  • سلطنت عثمانیہ اور تیموری سلطنت  حصہ دوئم: تحریر اصغر علی

    سلطنت عثمانیہ اور تیموری سلطنت  حصہ دوئم: تحریر اصغر علی

    –  

                                             Written by : Asghar Ali 

    حصہ دوئم:-                                                          انقرہ شہر کا محاصرہ ہو چکا تھا صرف یہی نہیں اس کے بعد امیر تیمور کی فوج نے سلطان بایزید اول کے واپسی کے راستے پر تمام فصلیں اور گودام جلا ڈالے اب سلطان بایزید اول کے لیے واپس انقرہ جانے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا اور واپس اسی راستے سے جانا تھا جس راستے پر امیر تیمور کی فوج  نے سب کچھ جلا دیا تھا اب نہ کچھ کھانے کو تھا اور نہ ہی کچھ پینے کو اور تیموری لشکر ایک ایسی جگہ پر  تھا جہاں پر گراؤنڈ اس کی مرضی کا تھا اس جگہ پر امیر تیمور کو تین فائدے تھے نمبر ایک گراؤنڈ اس کی مرضی کا تھا نمبر 2 امیر تیمور کی فوج سلطان بایزید اول سے 60 ہزار سے زیادہ تھی جبکہ اس فوج میں ہندوستان سے لائے گئے ہاتھی بھی شامل تھے نمبر تین  امیر تیمور کی فوج کو آرام کرنے کا موقع مل گیا تھا اس کے مقابلے میں سلطان بایزید اول کی فوج کو دیکھیں اس مقام پر اس کو تین بڑے نقصان تھے ایک اس کی فوج منظم بھی نہیں تھی ایک لمبے سفر سے بھوک اور پیاس کا مقابلہ کر رہی تھی دوسرا یہ یہ کہ لمبے سفر کے باعث بھوک اور پیاس سے بیس ہزار سپائی راستے میں ہی دم توڑ چکے تھے تیسرا بڑا نقصان فوج کی تنظیم میں چھپا تھا وہ یہ کہ اس میں تین طرح کے لوگ تھے یعنی وہ فوج ایک منظم اور اکٹھی فوج نہیں تھی اس میں میں سب سے پہلے جینیسیریز تھے جو کہ وہ سلطان بایزید اول کے بھروسے کے لوگ تھے اس کے بعد وہ ترک اور تاتاری سپاہی تھے جن کو پیسے دے کر فوج میں شامل کیا گیا تھا اور وہ کسی بھی لالچ کے تحت کسی بھی ٹائم ترک فوج کو چھوڑ سکتے تھے تیسرے وہ یورپی دستے جو سلطنت عثمانیہ کی وفاداری کے تحت اس کے ساتھ شامل تھے اب ڈیڑھ لاکھ تیموری فوج 70 ہزار  عثمانی فوج کے سامنے کھڑی تھی یہ بات دونوں سلطان بایزید اول امیر تیمور اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ ایک بہت بڑی جنگ ہونے جا رہی ہے کیونکہ اس وقت پوری روئے زمین پر ان دونوں سے بڑی اور خطرناک سلطنتیں اور کہیں نہیں تھی دونوں سلطان جو کل تک ایک دوسرے کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے تھے آج ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں اب جنگ باضابطہ طور پر شروع ہو چکی تھی پہلا حملہ امیر تیمور کی جانب سے ہوا مگر اس کو ترک فوج نے پسپا کردیا جیسے جیسے جنگ آگے بڑھتی گئی امیر تیمور کا لشکر عثمانی سلطان کے لشکر پر حاوی ہوتا چلا گیا اس کے بعد آہستہ آہستہ امیر تیمور کی فوج سلطان سلطان بایزید ثانی کی فوج کو شکست دینے لگی اب سلطان بایزید اول کے پاس چند ہی وفادار سپاہی بچے تھے جن کو جینسیریز کہتے تھے تیموری فوج طاقت کے ساتھ ساتھ تیرے برساتی رہیں لیکن کب تک جینسیریز ان کا مقابلہ کرتے جب سلطان نے دیکھا کہ امیر تیمور کی فوج حاوی ہونے لگی ہے تو وہ میدان جنگ سے فرار ہو گیا یہاں پر پر اب امیر تیمور کی تیموری فوج جیت چکی تھی مگر سلطان بایزید اول ان کی حراست میں نہیں تھا اور ان کے سامنے سے زندہ فرار ہو چکا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا ہوا ایک ایک تیموری گھڑسوار نے بھاگتے ہوئے سلطان بایزید اول کے اوپر تیر برسایا جس کا گھوڑا زخمی ہو گیا اور سلطان زمین پر گر گیا اور امیر تیمور کا قیدی بن گیا یہ سلطنت عثمانیہ کے لیے بدترین شکست تھی اس سے بدترین شکست عثمانیوں کو آج تک نہیں ہوئی تھی اب سلطنت عثمانیہ کا سلطان امیر تیمور کا قیدی تھا اور اس کے تین بیٹے بھی امید تیمور کی تلواروں کے نیچے تھے لیکن امیر تیمور نے اس کے بیٹوں کو اس شرط پر چھوڑ دیا کہ وہ تیمور کی اطاعت قبول کرتے رہیں گے سلطان بایزید اول یورپ کا بہت بڑا فاتح تھا اور وہ یہ اذیت برداشت نہ کر سکا اور چند ماہ بعد دوران قید ہی مر گیا اس کے کچھ ہی ماہ بعد1405 میں امیر تیمور بھی مر گیا اس کے بعد تیموری سلطنت کافی حصوں میں ٹوٹ کے بکھر گئی جب کہ سلطنت عثمانیہ بھی سلطان بایزید اول کے تینوں بیٹوں میں بٹ چکی تھی  بھائی بھائی کے خون کا پیاسا تھا اور پوری سلطنت خانہ جنگی میں چلی گئی لیکن اس خانہ جنگی میں سلطنت عثمانیہ بکھری ضرور مگر ٹوٹی نہیں اس کی وجہ  تھی کہ یورپ میں کوئی بھی ایسی طاقت نہیں تھی جو سلطان بایزید کی حکومت ختم ہونے کے بعد یورپ سے ترکوں کو نکالنے کی کوشش کرتی یا اناطولیہ پر قبضہ کرتی اور دوسرا یہ کہ امیر تیمور اور اس کے ساتھی بھی اناطولیہ میں ٹھہر کر  عثمانی سلطنت پر حکمرانی نہیں کرنا چاہتے تھے اس لیے ترک سلطنت کو تیمور اور اس کے جانشینوں نے بھی کنٹرول میں نہیں لیا تو بہرحال بایزید کے چار بیٹے محمد اول عثمان عیسی اور موسی کے درمیان اگلے 11 سال تک خونریز جنگ ہوتی رہی اس میں عثمان عیسی  مارے گئے اور موسی فرار ہوگیا اور محمد اول بچ گیا اس طرح سلطنت عثمانیہ کو ایک نیا سلطان محمد اول مل گیا تھا اور سلطنت عثمانیہ ایک دفعہ پھر دنیا کے نقشے میں چودہ سو چودہ میں نمودار ہوگی سلطان محمد اول نے ایک تاریخی کام کیا کہ اس نے ترکوں کی تاریخ لکھوانا شروع کر دی آج ہم ترکوں کے بارے میں جو کچھ بھی جانتے ہیں وہ سلطان محمد اول کی مرہون منت ہے

    Twitter id:    @Ali_AJKPTI