Baaghi TV

Category: مسلم دنیا

  • فلسطین! اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ جاری تحریر : اقصٰی صدیق

    فلسطین! اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ جاری تحریر : اقصٰی صدیق

    فلسطین اسلامی ممالک کی فہرست میں ایک مسلمان ملک اور مسجد الاقصیٰ کا تعارف ہے۔ مسجد اقصی کو مسلمانوں کا قبلۂ اول مانا جاتا ہے۔مسجد اقصٰی مشرق میں یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ جس پر ان دنوں اسرائیل قابض ہے۔اسرائیل کا فلسطین پر قبضہ فلسطین کے تاریخی واقعات میں سر فہرست ہے۔
    اسلامی ملک فلسطین کی سرحدیں لبنان، اردن، شام اور مصر سے ملتی ہیں۔
    لبنان اور مصر کے درمیان واقع کا علاقہ فلسطین کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کے آدھے حصّے پر اب اسرائیل کی حکومت ہے۔
    کہا جاتا ہے کہ 1948ء سے پہلے یہ تمام علاقہ فلسطین کا حصہ تھا۔ 1948ء میں اسرائیل نے فلسطین پر قبضہ کر لیا اور یہ قبضہ تاحال جاری ہے۔
    اس سے پہلے اس علاقے پر فرانسیسی اور انگریز حکومت کرتے رہے ہیں۔
    اس ملک کا دار الحکومت بیت المقدس ہے۔جس پر 1967ء میں اسرائیل نے قبضہ کر لیا تھا۔
    حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس فتح کیا، اور اس دوران حضرت عمر فاروق ؓ نے مسجد اقصٰی کی بنیاد رکھی۔خدا کی توحید اور وحدانیت پر ایمان کی تبلیغ کا آغاز پیغمبر حضرت ابراہیمؑ کی فلسطین میں آمد سے ہوا۔حضرت ابراہیمؑ کا مزار بھی سر زمین فلسطین پر ہے۔بیت المقدس کو اسرائیلی یروشلم بھی کہا جاتا ہے،
    مسلمانوں کا قبلہ اول اسی جگہ واقع ہے۔ اور اس شہر کو مسلمان، یہودی ، اور مسیحی جو کہ مختلف مزاہب رکھتے ہیں، اس کو آج بھی مقدس مانتے ہیں۔

    فلسطین کو انبیاء کرام علیہم السلام کی سر زمین بھی کہا جاتا ہے، دین اسلام کی اشاعت کے سلسلے میں کئی انبیاء کرام حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام، ،حضرت سلیمان، حضرت یحییٰ علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام اور بہت سے دیگر پیغمبر اس مقدس سر ذمین سے گزرے ہیں ۔تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ فلسطین کی سرزمین پر مسلمان، عیسائی اور یہودی مقیم رہے ہیں۔
    جبکہ آج کل اسرائیل اور مغربی کنارے میں یہودی اسرائیلی شناخت کرتے ہیں۔قابض ملک اسرائیل کے موجودہ عرب شہری اپنی شناخت اسرائیلی، فلسطینی یا عرب کے طور پر کرواتے ہیں۔
    اکثریت آبادی مسلمان ہے، اور سرکاری زبان عربی ہے۔
    اہم شہر غزہ، بیت لحم، الخلیل اور
    ادیان اسلام ہیں۔

    فلسطین دنیا کے قدیم ترین ممالک میں سے ایک ہے۔اور اس کی آزادی کی جنگ اس کے وجود میں آتے ہی شروع ہو گئی تھی جو ابھی تک جاری ہے۔ دنیا کی ہرزبان کے ادب میں اس کی آزادی کی جدوجہد پر کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔
    اور آج کل اسرائیلی جارحیت کے تحت یہ سرزمین اپنے اوپر ہونے والے ظلم و ستم کے باعث خبروں کی زینت بنی ہوئی ہے، اپنی آزادی کی جنگ کے دوران اس ملک میں کئی جنگیں، عوامی تحریکیں اور بڑے پیمانے پر شہریوں پر مظالم اور ان کے قتل عام ہوتے رہے ہیں۔

    ایک اندازے کے مطابق اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد ساڑھے 7 لاکھ فلسطینیوں کو اپنی آبائی سرزمین فلسطین سے نکال دیا گیا، اور مقامی لوگوں نے اپنی سرزمین چھوڑ کر قریبی ممالک مصر ، عراق، لبنان اور شام کی جانب رخ کیا۔ اور جو لوگ اس وقت رہ گئے تھے، وہ اسرائیلی ریاست کے تسلط میں ہیں، جن کے ساتھ آج تک اسرائیلی مظالم جاری ہیں۔
    اسرائیلی دہشت گردی گزشتہ 73 سالوں سے جاری ہے، جس کا نتیجہ ہر بار معصوم جانوں کا ضیاع اور نقل مکانی کی صورت میں نمودار ہوتا ہے۔
    رواں سال بھی اسرائیل فوج نے اس بار رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں ليلۃ القدر کے موقع پر مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کے علاقے شیخ جراح سے فلسطینیوں کو زبردستی نکالا، اور پر تشدد حملے شروع کیے، ان حملوں کے دوران رواں برس 7 سے 18 مئی 2021 ء کی سہ پہر تک 34 خواتین اور 58 بچوں سمیت 201 افراد جاں کی بازی ہار گئے۔
    اسرائیل کی یہ کاروائیاں کئی برسوں سے جاری ہیں، اور تمام امت مسلمہ اس پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
    ایک اندازے کے مطابق سال 2017 ء میں تقریباً 30 لاکھ کے قریب فلسطینی شہری بے آسرا اور گھروں کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، کیوں کہ ان کے گھر اسرائیلی جارحیت کے دوران مسمار کر دئیے گئے ہیں، اور شہر میں آئے دن یہودی بستیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
    پس سات دہائیوں سے مظالم کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔
    گذشتہ کئی روز سے فلسطینی اپنے گھروں تک محدود ہو کے رہ گئے تھے، کیونکہ باہر نکلنا بھی موت کا باعث بن سکتا تھا۔
    اسرائیلی دہشت گردی کے نتیجے میں ایک مرتبہ پھر مشرق وسطیٰ مسلمانوں کے خون سے سرخ ہو چکی ہے۔خاص طور پر اسرائیلی افواج نے اس دوران معصوم بچوں کو نشانہ بنا کر مسلمانوں کی نسل کشی کی طرف قدم بڑھائے ہیں۔

    اس کے علاوہ غزہ شہر دہشت گردی کے دوران بمباری کے نتیجے میں بری طرح تباہ اور متاثر ہوا ہے۔تاہم گزشتہ دنوں اسرائیل کے ساتھ تازہ فلسطینی جھڑپیں شروع ہونے کے بعد سے حماس کے اسرائیلی جارحیت کے مد مقابل انتہائی منظم خودکش حملوں کے سلسلے کو بہت پذیرائی ملی ہے، اور تمام فلسطینیوں نے سکھ کا سانس لیا ہے، حماس اور اسرائیل اپنی اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
    دنیا میں حماس فلسطینیوں تک یہ پیغام پہنچانے میں کامیاب ہو چکا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی لڑائی کے لیے اور یروشلم، (مسجد اقصٰی) اور فلسطینی ریاست کے حقوق کے لیے قربانیاں دینے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔
    حماس کی طرف سے دنیا کیلئے ایک چھوٹا سا پیغام ہے کہ اس کے خدا کی وحدانیت پر یقین رکھنے والے بہادر جنگجو ”آخری دم تک یروشلم کے لیے لڑتے رہیں گے”
    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اسرائیلی جارحیت کے خلاف امن و امان کی کارکردگی میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے،
    اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور مسجد اقصیٰ کے تحفظ کی خاطر مسلمانوں کو اٹھ کھڑے ہونا ہے۔

    @_aqsasiddique

  • اسلامی دنیا کے مساٸل اور حل تحریر:شمسہ بتول

    اسلامی دنیا دورِ جدید میں بھی بہت سے مساٸل سے گزر رہی ہے باوجود اس کے کہ اسلامی ممالک کے پاس قدرتی وساٸل کی افراط ہے لیکن ان وساٸل کا بہترین استعمال ابھی تک یقینی نہیں بنایا گیا ۔
    مغرب کے معاشی نظام نے ترقی پزیر ممالک اور اسلامی ممالک کے لیے بہت سی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ اسلامی ممالک کا حال بھی اس وقت وہی ہے جو ترقی پزیر ملکوں کا ہے۔ اسلامی ممالک کو بین لاقوامی منڈی میں اپنے ملک میں بناٸی گٸی اشیاء کو اپنے ٹریڈ مارک سے بیچنے کی اجازت نہیں دی جاتی اور اگر انہیں اس بات کی اجازت لینا ہو تو اس کے لیے انہیں بہت زیادہ کمیشن ادا کرنا پڑتا۔ آٸی۔ایم ۔ایف اور ورلڈ بینک کی بہت سی پالیسیز ایسی ہیں جو کہ ترقی پذیر ممالک اور اسلامی ممالک کی معیشت کو مزید کمزور کر رہی ہیں۔ اور بعض دفعہ یہ جان بوجھ کر بہت ایسی پالیسیز تشکیل دیتے ہیں جس سے حکومتوں کو گرایا جا سکا۔
    آج سے 51 سال پہلے25 ستمبر 1969 اسلامی ممالک کی تنظیم وجود میں آٸی جس کا کام اسلامی مملک کی فلاح و بہبود تھا لیکن اس تنظیم کے قیام کے اتنے عرصے بعد بھی مسلمانوں کی حالت میں کوٸی بہتری نہیں آٸی۔دنیا میں مسلمانوں کی تعداد 1٠5 بلین ہونے کے باوجود بھی مسلمانوں کے پاس کوٸی ویٹو پاور نہیں ۔دیگر اقوام مسلمان قوم کو تحقیر آمیز نگاہ سے دیکھتی ہیں۔
    اسلامی بلاک امیر ممالک پر مشتمل ہے جیسے سعودی عرب ، کویت ، متحدہ عرب امارات اور لیبیا۔ لیکن وہ اتنے فعال اور طاقتور نہیں ہیں جیسا کہ ان کے بلاک میں کسی غریب ملک کی مدد کرنے کے لیے ان کے پاس بنیادی وسائل ہیں لیکن کوئی منصوبہ بندی نہیں ان میں ترقی کی کمی ہے۔ ان کے پاس اربوں ڈالر ہیں جو تیل کی فروخت سے آتے ہیں ، لیکن امریکہ یا مغربی ممالک کے ہاتھوں میں رہتے ہیں۔ اگرچہ پاکستان ، مذکورہ اسلامی ممالک کے مقابلے میں کم وسائل والا ہے ۔اسلامی ممالک پر یہ فرض ہے کہ وہ مسلم ممالک کے عالمی مسائل میں مقابلہ کرنے کے لیے صنعت کے ساتھ ساتھ زراعت کو بھی ترقی دیں۔
    اتحاد کا فقدان مسلم ممالک کی ایک اور اہم معذوری ہے۔ وہ مختلف مسائل پر مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ مزید یہ کہ سازش کرنے والے اور غدار ہمارے اپنے بھی ہیں۔ جو اپنے مقصد کو بہت زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔ کشمیر کے لیے ان کے پاس متحد آواز نہیں ہے۔ فلسطین اور کشمیر عرصٸہ دراز سے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ان کے گھروں کو آگ لگا دی گٸی بچوں کو شہید کر دیا گیا عورتوں کی عصمت دری کی گٸی مگر اقوامِ متحدہ اور امن کے علمبردار دیگر ممالک خاموش تماشائی بنے سب دیکھتے رہے یہاں تک کے انسانی حقوق کی تمام تنظیمیں بچوں کے عورتوں کے حقوق کی تنظیمیں سب خاموش ہیں لیکن سب سے زیادہ ان ممالک کے لیۓ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ بہت سے اسلامی ممالک نے بھی ان کا اس مشکل گھڑی میں ساتھ نہیں دیا۔ جبکہ کشمیر اور فلسطین پوری امت مسلمہ کا مسٸلہ ہے اور دنیا کی طرف حل طلب نگاہوں سے دیکھ رہا ہے لیکن افسوس کے تمام مسلم ممالک نے اتفاق نہیں کیا اس مسٸلہ پر۔ فلسطین میں اسرائیل أور بوسنیا کی راۓ اور مطالبات میں اختلاف ہے ۔پی ایل او ، مصر اور لیبیا ہندوستان کے مقصد کی حمایت کرتے ہیں ۔ فلسطین کے لیے ، مصر کا باقی عرب دنیا سے اختلاف ہے۔ عراق کویت جنگ میں ہم دونوں ممالک کو بچا نہیں سکے کیونکہ ہم ایک اُمت ہو کر بھی ٹکڑوں میں بٹے ہوے ہیں جس کا نقصان ہمارے مسمان بھاٸی بہنیں اور بچے اُٹھا رہے ہیں۔ ہمارے درمیان باہمی اتفاق اور اتحاد اور اعتماد کی شدید کمی ہے جس کا فاٸدہ ہمارے دشمن بخوبی اُٹھا رہے ہیں۔
    امت مسلمہ کا اتحاد اپنی آزادی ، ترقی ، استحکام ، بقاء کو برقرار رکھنے اور اپنی سابقہ ​​شان و شوکت اور وقار کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے ۔ وہ تمام رکاوٹیں جو مسلم اتحاد کی راہ میں حائل ہیں ہمیں ان رکاوٹوں کا تدارک کرنا ہو گا اور باہمی اتحاد سے ان رکاوٹوں کو جڑ سے اکھاڑنا ہو گا۔ دنیا میں اپنی قابلیت کا لوہا منوانا ہو گا ہمارے پاس وساٸل ٹیلنٹ اور اعلی تعلیم یافتہ نوجوان نسل موجود ہے ہمارے پاس کسی چیز کی کمی نہیں اگر کمی ہے تو آپسی اتفاق اور بھاٸی چارے کی۔ مسلم دنیا اس کمی کو ختم کرنا ہو گااور مل جل کر اپنے تمام تر وسائل کو بہتر طریقے سے بروۓ کار لانا ہو گا۔ بین الاقوامی منڈی میں اپنی تجارت کو مضبوط کرنا ہو گا۔ مسلم دنیا کے اپنے مالیاتی ادارے ، دفاعی پیداواری یونٹ ، فلاحی تنظیمیں ، چارٹر وغیرہ ہونا بہت ضروری ہے ۔مسلمانوں کو کسی بھی فریق کے خلاف ہدایت نہیں دی جاتی لیکن پھر بھی دنیا ان کے لیے دہشتگرد اور انتہا پسند جیسے الفاظ استعمال کرتی ہے جبکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ مسلمان ممالک متاثر ہوۓ اور سب سے زیادہ قربانیاں مسلمانوں نے دیں۔ اگر مسلمان اپنی صفوں میں اتحاد و اعتماد پیدا کر لیں تو مسلمان نہ صرف ایک عظیم قوم بن کر دنیا کے نقشے پر ابھریں گے بلکہ دنیا سے استحصال ، ناانصافی ، جہالت ، ظلم ، اندھیرے ، ناامیدی وغیرہ کو بھی دور کر دیں گے۔ ان کا اتحاد قوموں کے اتحاد میں ان کا درجہ بلند کرے گا.تمام اسلامی ممالک کے سر براہان کو آپس میں اور اپنی قوموں کے درمیان اتحاد و یگانگت کو فروغ دینا ہو گا تا کہ ہم دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ بحال کر سکیں۔

    @b786_s

  • 15 اگست 2021 ،اسلام کی فتح مبارک تحریر۔۔۔ امِ فائز

    15 اگست 2021 ،اسلام کی فتح مبارک تحریر۔۔۔ امِ فائز

    طالبان پشتون کا لفظ ہے جس کے معنی طلبہ کے ہیں۔۔ ایمان و عزم کی یہ تاریخ بہت طویل یے۔۔
    امریکہ کے افغانستان قبضے سے پہلے یہاں روس نے 1978 میں قبضہ جمانے کی کوشش کی۔ جسکے نتیجے میں 1979 میں افغانیوں نے اسکے خلاف علان جہاد کیا ۔ اس جہاد میں پاکستان کی آئی ایس آئی ، فوج اور پاکستانی عوام بھی شامل ہوئے۔ یہ جنگ 1990 میں ختم ہوئی اور روس بہت سے ٹکروں میں تقسیم ہوگیا۔ مجاہدین نے اپنا ملک صلیبی تسلط سے آزاد کروا لیا ۔ بل آخر 1995 میں باقاعدہ *ملا محمد عمر* نے اسلامی شریعت کا نفاذ کیا اور افغانستان کے امیر مقرر ہوئے۔ 5 سال یہاں اسلامی قانون کے تحت ملک چلایا گیا۔ عوام خوشحال ہوئی ۔ برائی و بےحیائی سے افغانیوں نے چھٹکارا حاصل کیا۔عدل و انصاف نے معاشرے کو خوبصورت بنانا شروع کیا۔

    مگر امریکہ کو اپنی سپر پاور بننے کے راستے میں افغانستان کانٹے کی طرح چھبنے لگا۔۔۔۔۔ چونکہ اللہ کا نظام ہی وہ واحد نظام تھا جو طاغوت کیلئے خطرہ ہو سکتا تھا۔ جبکہ امریکہ اسرائیل نیو ورلڈ آڈر کی تیاری کر رہے تھے ۔

    افغانستان میں زبردستی گھسنے کیلئے انکو ایک جواز چاہیے تھا جو وہ دنیا کو پیش کر سکیں۔
    2001 میں امریکہ نے 9 ستمبر کا جعلی ڈرامہ رچایا اور دنیا بھر میں مسلمانوں کو دہشتگرد دکھا کر پوری یورپی یونین، انڈیا اور ترکی کو شامل کیا ۔ نیٹو کے نام پر کم و بیش 30 ممالک کی اتحادی فوجیں اکٹھی کرکے افغانستان میں زبردستی اتار دیں اور کہا کہ افغانستان میں دنیا کے خطرناک ترین دہشت گرد ہیں جن سے ساری دنیا کے امن کو اور خاص کر امریکہ کی سالمیت کو خطرہ ہے۔۔۔

    ملا عمر اپنے طالبان کیساتھ غاروں میں پناہ گزین ہوئے اور گوریلا جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا۔
    پاکستان میں اس وقت مشرف دور تھا ۔ ریاستی پالیسی بدل گئی۔۔ پاکستان کے فضائی اڈے استعمال کرکے افغانستان پر ڈرون حملے کیے گئے۔ نیٹو کی سپلائی، اسلحہ پاکستان سے جاتا رہا۔
    20 سال کی ایک طویل اور عصاب شکن جنگ کے بعد بل آخر 15 اگست 2021 کو افغان طالبان مکمل طور پر افغانستان کو امریکی تسلط سے چھڑانے میں کامیاب ہوئے۔
    اس سے پہلے حال ہی میں پاکستان نے امریکہ کو اپنے فضائی اڈے مزید دینے سے انکار کر دیا۔ اس پر امریکہ بات چیت پر آگیا کہ طالبان کیساتھ جنگ بندی کرکے مفاہمت کا راستہ نکالا جائے ۔ جس میں اقتدار امریکہ کی کٹ پتلی حکومت اشرف غنی کے ہاتھ رہے ۔ طالبان کی طرف سے ہمیشہ ایک شرط رکھی گئی کہ افغانستان میں جمہوریت نہیں شریعت نافذ ہوگی تو وہ جنگ بندی کریں گے ورنہ نہیں۔ اس پر طاغوت کبھی سمجھوتا نہیں کر سکتا تھا۔ آخر کار دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی، جدید جنگی ساز و سامان اور پورے طاغوت کی اجتماعی طاقت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی اور انتہائی زلت و رسوائی کے عالم میں وہاں سے فرار ہوئی۔ 20 سالہ طویل جدوجہد اور لاکھوں شہدا کی قربانیاں دے کر افغان مجاہدین اللہ رسول کی مدد سے کامیاب ہوئے ۔۔۔
    *واضح رھے کہ اس فتح کی پیشنگوٸی آج سے17سال قبل 2005 ٕسے پہلے کی گئی۔ جب شاہ احمد نورانی رحمہ اللہ کی زبانی یہ بات پتا چلی کہ ملا محمد عمر کو خواب میں سرکار دو عالم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ ملا محمد عمر کے مطابق سرکار دو عالم ﷺ کی جانب سے انہیں ایمان کیساتھ ڈٹے رہنے کی ہدایت فرمائی گئی۔*
    طالبان تعداد میں صرف 75 ہزار اور افغان آرمی ساڑے تین لاکھ ۔۔۔۔ مگر اللہ کا وعدہ پورا ہوا اور کم تعداد والے کثیر تعداد والوں پر اپنے ایمان اور توکل کی بنا پر غالب آگئے۔

    یہاں ایک اور طرف توجہ دلانی درکار ہے۔ ملا عبدالغنی جو اس وقت افغانستان کے صدر بن چکے ہیں، ماضی میں پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی بے وفائی کا شکار ہوئے۔ پرویز مشرف نے انکو گرفتار کرکے پاکستانی جیل میں ڈالا۔۔۔ آج دونوں کا انجام دنیا نے دیکھ لیا۔۔ طاغوت کی خاطر لڑنے والا زلت و رسوائی کی زندگی گزار رہا اور پاکستان کی زمین اس پر حرام ہوچکی یے۔ جبکہ دوسری طرح اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے دین کی سربلندی کی خاطر صعوبتیں برداشت کرنے والا آج کس شان و شوکت کیساتھ اپنے ملک کا صدر بن گیا۔۔۔

    ہم موجودہ پاکستان حکومت کو بھی تنبیہ کرنا چاہتے ہیں۔ ماضی کے حکمرانوں کی غلطیوں سے سبق حاصل کریں۔ تحریک لبیک پاکستان کے امیر سعد حسین رضوی پر ناجائز ظلم و جبر کرنا بند کریں۔۔ اور شریعت ِ محمدی کے نفاذ کے عمل کو وطنِ پاکستان میں یقینی بنائیں۔ ورنہ حق تو آیا ہی غالب ہونے کیلئے ہے۔ اسکی راہ میں جو بھی حائل ہوا۔ مولا علی کرم اللہ وجہہ کے فرمان کے مطابق حق اسکی کمر خود توڑ کر رکھ دیتا یے۔
    *اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسہ*
    *ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارہ*
    *عقل ہے تیری سپر ، عشق ہے شمشیر تیری*
    *مرے درویش ! خلافت ہے جہاں گیر تری*
    *ماسوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تری*
    *تو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری*

    **
    *@2convincing*

  • فضیلتِ یومِ عاشورہ تحریر: عقیلہ رضا

    فضیلتِ یومِ عاشورہ تحریر: عقیلہ رضا

    اسلامی سال کا آغاز ماہِ محرمُ الحرام سے ہوتا ہے جس کا شمار حرمت والے مہینوں میں ہوتا ہے، یہ مہینہ بہت ہی عظمت و بَرَکت والا مہینہ ہے، جو ہمیں صبر و ایثار کا درس دیتا ہے۔ اس ماہِ حرمت میں عبادت کرنے اور روزہ رکھنے کے متعلق متعدَّد فضاٸل وارِد ہوۓ ہیں، نیز اسی ماہ میں یومِ عاشورہ جو اپنی خُصوصیات میں ممتاز ہے، نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
    آٸیں کچھ اس دن کی فضیلت کے متعلق جانتے ہیں!
    *10 محرم عاشورہ کے روز حضرتِ آدم علیہ الصلوة والسلام کی توبہ قبول کی گٸی۔
    *اِسی دن انہیں پیدا کیا گیا۔
    *اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا۔
    *اسی دن عرش، کرسی، آسمان، زمین، سورج، چاند، ستارے اور جنت پیدا کٸے گٸے۔
    *اسی دن حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوة والسلام پیدا ہوۓ۔
    *اسی دن انہیں آگ سے نجات ملی۔
    *اسی دن حضرت موسیٰ علیہ الصلوة والسلام اور آپ کی امت کو نجات ملی اور فرعون اپنی قوم سمیت غرق ہوا۔
    *حضرت عیسیٰ علیہ الصلوة والسلام پیدا کٸے گٸے۔
    *اسی دن انہیں آسمانوں کی طرف اٹھایا گیا۔
    *اسی دن حضرت سیدنا نوح علیہ الصلوة والسلام کی کشتی کوہِ جودی پر ٹھہری۔
    *اسی دن حضرت سلیمان علیہ الصلوة والسلام کو ملکِ عظیم عطا کیا گیا۔
    *اسی دن سیدنا یعقوب علیہ الصلوة والسلام کی بینائی کا ضُعف دور ہوا۔
    *اسی دن سیدنا یونس علیہ الصلوة واسلام مچھلی کے پیٹ سے نکالے گٸے۔
    *اسی دن سیدنا یوسف علیہ الصلوة والسلام گہرے کنویں سے نکالے گٸے۔
    *اسی دن سیدنا ایوب علیہ الصلوة واسلام کی تکلیف رَفع کی گٸی۔
    *آسمان سے زمین پر سب سے پہلی بارش اسی دن نازل ہوٸی۔
    *اسی دن کا روزہ اُمتوں میں مشہور تھا۔
    اور
    *اسی دن امامُ الہُمام، امامِ عالی مقام، امامِ عرش مقام سیدنا امامِ حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو مع شہزادگان و رُفقاء تین دن بھوکا پیاسا رکھنے کے بعد اسی عاشورہ کے روز دشتِ کربلا میں انتہائی سفّاکی کے ساتھ شہید کیا گیا۔
    المختصر یومِ عاشورہ نہایت فضیلت و اہمیت کا دن ہے۔۔۔ اس دن کی اہمیت کو سمجھتے ہوۓ عبادات و نیک اعمال کا اہتمام کیا جاۓ، صدقہ و خیرات ،ذکر و درود، تسبیحات ،نوافل اور، روزے کا اہتمام بھی ضرور کیا جاۓ کیونکہ اس دن کے روزے کی فضیلت بہت زیادہ ہے۔
    حضرت سیدنا عبداللہ ابنِ عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ:
    میں نے رسولِ کریم صلى الله عليه واله وسلم کو کسی دن کے روزہ کو اور دن پر فضیلت دیکر جُستجو فرماتے نہ دیکھا مگر یہ کہ عاشورہ کا دن اور یہ کہ رمضان کا مہینہ۔
    (صیح بخاری، حدیث:2006)
    حضرت سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ:
    رسول اللہ صلى الله عليه واله وسلم نے فرمایا:
    مجھے اللہ عزوجل پر گُمان ہے کہ عاشورہ کا روز ایک سال قبل کے گناہ مِٹا دیتا ہے۔
    (صیح مسلم،حدیث:1162)
    ارشادِ مصطفیٰ صلى الله عليه واله وسلم:
    یومِ عاشورہ کا روزہ رکھو اور اس میں یہودیوں کی مخالفت کرو،اس سے پہلے یا بعد میں بھی ایک دن کا روزہ رکھو۔
    (مسندِ اماماحمد، حدیث:2154)
    یعنی 10 محرم یومِ عاشورہ ہے تو اس سے ایک دن پہلے 9 محرم کا روزہ اس کے ساتھ ملا لیا جاۓ یا 11 محرم کا روزہ اس کے ساتھ ملا لیا جاۓ، تنہا 10 محرم کا روزہ نہ رکھا جاۓ۔
    یومِ عاشورہ میں عبادات کے ساتھ ساتھ یہ نیت اور عہد بھی کیا جاۓ، کربلا والوں کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوۓ کہ ہم اس دن سے اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کریں گے کربلا والوں کے صدقے میں عملی مسلمان بننے کی کوشش شروع کریں گے۔ ان شاء اللہ عزوجل
    کربلا والوں سے محبت کے دعوے کو عمل کی ضروت ہے۔
    اللہ کریم ہمیں اس دن کی عزت و حرمت کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔
    آمین

    @aqeela_raza

  • غریب کیا مانگے دو وقت کی روٹی  تحریر  : انجینیئر مدثر حسین

    غریب کیا مانگے دو وقت کی روٹی تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    مشکل اور مشکلات کا دوسرا نام زندگی ہے۔ ہم نے تو ہی سنا ہے۔ اس مختصر سی زندگی کو جینے کے لئے مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں شاید اتنی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا اگر ہم انسانیت کا درس دیتے اور عملی طور پر انسانیت کے لئے کچھ کرتے تو اس دنیا میں بے بس اور مجبور انسان بھوک سے نہ مر رہے ہوتے۔

    آج ہم اپنے معاشرے میں نظر دوڑائیں تو ہمارے ہاں مذہبی رجحان سب سے زیادہ پایا جاتا ہے ہمارے مذہبی علما منبر پر بیٹھ کر سادگی اور انسانیت کے ساتھ بھلائی کا درس دیتے نظر آتے ہیں لیکن صرف الفاظ کی حد تک عملی طور پر ہمیشہ وہ فرقہ واریت اور مذہبی انتہا پسندی میں متحرک نظر آتے ہیں۔ کروڑوں روپے کی گاڑی سے اتر کر بہترین اور مہنگی خوشبوئیں لگا کر پیر صاحب عالم صاحب مولانا صاحب مریدین کے گھیرے میں آتے ہیں۔

    یہاں کوئی ہاتھ چوم رہا تو کسی نے قدموں کا بوسہ لیا لاکھوں روپے خرچ کر کے محفل سجتی ہے کھانے بنتے ہیں نذرانے پیش کیئے جاتے ہیں۔ دوسری طرف ایک غریب کا بچہ کسی اشارے پر کھڑے گاڑیوں کو صاف کر رہا ہوتا یا کسی پارک میں پھول بیچتا نظر آتا ہے۔
    میرے خیال میں پھول کے ہاتھوں سے پھول خریدتے وقت زندہ ضمیر ضرور سوچتے ہوں گے ان میں انسانیت کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ بھی پیدا ہوتا ہو گا مگر کروڑوں میں کوئی ایک ہی عبدالستار ایدھی بنتا ہے۔ہمارے حکمران سینکڑوں کی تعداد میں سکیورٹی کے نام پر خرچ کرتا ہے

    وہیں یہ سب کچھ دیکھ کر غریب کا بچہ ڈر رہا ہوتا ہے جو احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے صاحب اسے تو دو وقت کی روٹی چاہیئے وہ اپنی ماں کا لاڈلا اپنی بہنوں کا ویر عمر میں جتنا بھی چھوٹا ہو اپنے گھر کا بڑا ہوتا ہے۔ حالات اور مشکلات کے مارے زندگی کے ستائے یہ غریب لوگ روز قیامت اپنے خدا سے سوال ضرور کریں گے۔ وہ اس تقسیم پر اپنے اللہ تعالٰی سے ضرور پوچھیں گے۔ پھر اس کا جواب اس کا ذمہ دار ہر وہ صاحب استطاعت شخص ہو گا ہر وہ عالم ہو گا ہر بادشاہ ہو گا جو اپنی زندگی میں مگن رہا جس نے اپنے علم کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا خدارا آپ اپنے اندر رحم پیدا کریں۔

    ان پارکوں میں کھڑے بچے بازاروں ، گلی ، محلوں میں ریڑھی لگائے معذور اور کم سن کسی سڑک کے کنارے کچھ بیچتے ہوئے بوڑھے۔
    میری بہنوں اور بھائیوں اس وطن کے باشعور شہریوں یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے دلوں میں نہ محلات بنانے کی کوئی خواہش ہوتی ہے نہ ہی حکمرانی کرنے کی وہ صرف دو وقت کی روٹی کے لئے زندگی کی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں او آج عہد کریں ہم اپنے اندر احساس پیدا کریں گے۔ہمیں خود کو بدلنا ہو گا خود کو تبدیل کرنا ہو گا کوئی حاکم ہمیں نہیں بدلے گا۔

    یہ چراغ ہم خود ہی روشن کرنا ہوگا اپنے حصے کی شمع خود روشن کرنی ہو گی ۔
    اللہ پاک ہم سب کو سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @EngrMuddsairH

  • امن اور ترقی میں مذہب کا کردار تحریر: احسان اللہ خان

    امن اور ترقی میں مذہب کا کردار تحریر: احسان اللہ خان

    اللہ تعالیٰ نے کرۂ ارض کی اس وسیع وعریض، خوبصورت اور ہر طرح کی نعمت سے مالا مال ہستی کو انسانیت کے لئے بنایا ہے، اس کائنات اور اس سے متعلق تمام چیز میں ہمہ وقت انسانیت کی خدمت میں مشغول ہیں، سورج اس کے لئے ہر دن روشنی کا انتظام کرتا ہے، زمین اس کے قدموں میں بچھی ہوئی ہے اور اس کی غذائی ضرورت کے لئے بار بار اپنے سینے کا چاک ہونا اور پامال کیا جانا قبول کرتی ہے۔ درختوں کا کام یہ ہے کہ مزے دار پھل اور عطر بار پھول مہیا کرنے کے علاوہ آلودہ ہواؤں کو اس کے لئے صاف کریں، تا کہ اسے آکسیجن کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے، بادل سمندر سے کھارے پانی کا ڈول بھربھر کر اسے صاف اور شیریں بناتا ہے اور کھیتوں اور آبادیوں تک باران رحمت پہنچاتا ہے، سمندر کی متلاطم موجیں نہ جانے کتنی ساری آلودگیوں کو ختم کرتی ہیں اور ان کی زہرا کی سے انسان کو خوظ رکھتی ہیں، ہوا میں ہر وقت اس کے مفاد کے لئے دوڑ بھاگ میں لگی ہوئی ہے اور دنیا میں جتنے جاندار ہیں، وہ سب کسی نہ کسی پہلو سے اس کی خدمت میں مصروف ہیں، یہاں تک کہ جن جانوروں کی درندگی انسان کولرزاں وترساں رکھتی ہیں، ان کا وجود بھی کسی نہ کسی پہلو سے انسان کے لئے فائدہ مند نفع بخش ہی ہے۔
    غرض کہ پوری کائنات انسان کی خدمت اور اس کے لئے عیش وراحت کی فراہمی میں مشغول ہے۔ اسی لئے قرآن کا تصور یہ ہے کہ کائنات انسان کا معبودنہیں ہے ، بلکہ اس کی خادم ہے : ( الجاثية : ۳ ) لیکن دو چیزیں ایسی ہیں جو انسان کے لئے بے حد ضروری ہیں عیش وعشرت کے جتنے بھی وسائل حاصل ہو جائیں، اگر یہ دو چیزیں اسے میسر نہ ہوں تو اس کی زندگی بے سکون اور اس کی آرزوئیں ناتمام رہتی ہیں۔
    امن اور ترقی اسی لئے اللہ تعالی نے اہل مکہ پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تمہیں اس لئے بھی رب کعبہ کی عبادت کرنی چاہئے کہ اس نے عرب کے صحرا میں غذائی ضرورت اور کسی حکومت اور لا اینڈ آرڈر کا انتظام نہ ہونے کے باوجود ان کا انتظام فرمایا ہے۔ خوف و دہشت سے حفاظت کا تعلق امن سے اور غذائی اشیاء کی فراہمی کا تعلق ترقی سے ہے، زندگی کے لئے مطلوب ساری سہولتیں اللہ تعالی کا خصوصی عطیہ ہیں مگر یہ دونوں نعمتیں وہ ہیں، جن کو اللہ تعالی نے انسان کے ارادہ اور کوششوں سے تعلق رکھا ہے اور انسان کو اسی بصیرت اور صلاحیت عطا کی گئی ہے کہ اگر اس کی کوشش صحیح سمت میں ہو تو ان کو حاصل کر سکتا ہے۔
    حقیقت یہ ہے کہ ان کے قائم ہونے کا تعلق قیام عدل سے ہے، عدل کی تفصیل یہ ہے کہ زندگی گزارنے کے تین طریقے ہو سکتے ہیں ، جن کا قرآن مجید نے ذکر کیا ہے۔ عدل، احسان اورظلم، عدل کے معنی یہ ہیں کہ دوسرے کو اس کا پورا پورا دے دیا جائے اور خود اپنے حق سے زیادہ ن لیا جائے ، احسان یہ ہے کہ دوسرے کو اس کا حق اس کے حصہ سے بڑھ کر دیا جائے اور خود اپنے حصہ سے کم کیا جائے یا اپنا حصہ نہیں لیا جائے قرآن مجید نے ان ہی دونوں طریقہ کار کو درست اور قابل قبول قرار دیا ہے لیکن آئیڈ یل طریقہ یہ ہے کہ انسان ’احسان‘ سے کام لے، جس کو بندے کے حقوق کے معاملہ میں ایثار کے لفظ سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے، چنانچہ قرآن مجید میں جگہ جگہ احسان کی تعریف کی گئی ہے، فرمایا گیا : اللہ احسان کرنے والے لوگوں کو پسند فرماتے ہیں۔ یہ بھی فرمایا گیا کہ جولوگ احسان کا رویہ اختیارکریں۔ اللہ تعالی ان کو بہتر بدلہ اور انعام سے محروم نہیں کریں گے۔ اس کے بالمقابل ظلم اسلام کی نظر میں بدترین گناہ اور اللہ تعالی کی نافرمانی ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ ظالم کامیاب نہیں ہوسکتا، ناکامی و نامرادی ہی اس کا حصہ ہے۔ ظالموں کا انجام ہلاکت و بربادی ہے اور اللہ تعالی ظالموں کو پسند نہیں فرماتے۔ قرآن پاک میں دو سو سے زائد مقامات پر تلف جہتوں سے ظلم کی اور ظالموں کی مذمت فرمائی گئی ہے اور بہت زیادہ مقامات پر عدل کا اور احسان کا حکم دیا گیا ہے یا اس کی تحسین کی گئی ہے۔ جب معاشرہ میں عدل قائم ہوگا ، لوگوں میں احسان کا جذبہ پیدا ہوگا اور ظلم کرنے والے ہاتھ تھام لئے جائیں گے تو یقینا وہ معاشرہ ان کی دولت سے بہرہ ور ہوگا۔
    Twitter | @IhsanMarwat_786

  • فضیلت رکھنے والی کتاب قرآن مجید تحریر  : راجہ ارشد

    فضیلت رکھنے والی کتاب قرآن مجید تحریر : راجہ ارشد

    استاد کا ادب و احترام بھی اس طرح لازم ہے جس طرح بزرگوں اور والدین کا ادب کرنا فرض ہے۔ معلم استاد کو کہتے ہیں۔ اور ہمارے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو معلم انسانیت بنا کر بھیجا گیا تھا اور علماء آپ ﷺ کے وارث ہیں یعنی علم کو آئندہ آنے والی نسلوں تک پہنچاتے ہیں۔اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ استاد روحانی باپ ہوتا ہے جو بچے کی ایسی تربیت کرتا ہے ۔ جو والدین اپنی مصروفیت اور بچے سے لاڈ پیار کی وجہ سے نہیں کر سکتے۔

    آپ اکثر اپنے سکول یا گھر کے مالی کو پودوں کی دیکھ بھال اور کانٹ چھانٹ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ وہ پودوں کو کتنی مہارت سے تراشتا ہے۔ارد گرد سے گھاس پھونس اور کانٹے دار کانٹے دار جھاڑیوں کو صاف کرتا ہے۔جس سے ایک تو پودوں کی نشوونما بہتر طریقے سے ہوتی ہے۔دوسرے وہ اپنی ترتیب کی وجہ سے خوبصورت اور نمایاں نظر آتے ہیں۔بالکل اسی طرح استاد بھی بچے کو اپنی محبت، شفقت، علم اور اعلی کردار جیسی خوبیاں منتقل کرتا ہے۔دنیا میں جتنے بھی بڑے لوگ گزرے ہیں اپنے اساتذہ کا عکس ہوتے ہیں۔استاد ہی نیکی بدی کی پہچان سکھا کر آدمی کو آچھا انسان بناتا ہے۔

    استاد ہمیں دنیاوی علم دیتا ۔علم کے معنی ہیں چیزوں کی حقیقت کو جاننا۔علم ایک ایسا راستہ ہے ۔ جس کے ذریعے آدمی انسانیت کے درجے پر پہنچ جاتا ہے۔ یعنی اس میں آچھائی اور برائی میں فرق کرنے کی عادت پیدا ہو جاتی ہے ۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے جو پہلی وحی آئی وہ بھی علم کے بارے میں تھی ۔ اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر مسلمان پر طلب علم فرض ہے۔

    علم کیا ہے ؟ اس کی اہمیت یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے انسان کو تمام مخلوقات فرشتوں ، جنات وغیرہ پر فضیلت اس علم کی وجہ سے دی ہے ۔ ورنہ کھانے پینے سونے جاگنے میں تو جانور اور انسان سب برابر ہیں۔ آپ ﷺ کے فرمان کے مطابق جو شخص علم کے راستے پر چلتا ہے ۔تو فرشتے اس کے راستے میں اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول ہے۔ اللہ نے ہمیں علم عطا کیا اور دنیاداروں کو دولت کہ علم آدمی کی حفاظت کرتا ہے۔ اور آدمی دولت کی علم کا ذکر کتابوں کے ذکر کے بغیر ناممکن ہے۔کیونکہ حکمت و دانائی کی تمام باتیں کتابوں میں محفوظ ہیں۔ بالکل اس طرح جیسے بینکوں میں دولت۔ کتابیں علم کا خزانہ ہیں اور خزانوں کی حفاظت کی جاتی ہے۔مگر کتابوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ان کا احترام کرنا بھی ضروری ہے ۔اب آپ سوچیں گے کہ کتابوں کا احترام کیسے کیا جاتا ہے۔وہ ہے ان کا مطالعہ اور عمل ۔ عالم کی فضیلت تمام لوگ پر ایسی ہے جیسی تمام راتوں میں چودھویں کے چاند کی اسی طرح تمام کتابوں پر فضیلت رکھنے والی کتاب قران مجید ہے۔

    @RajaArshad56

  • حسین رضی اللہ عنہ شجاعت کی مثال   تحریر : ماریہ بلوچ

    حسین رضی اللہ عنہ شجاعت کی مثال تحریر : ماریہ بلوچ

    حسین رضی اللہ عنہ کون تھے؟؟ حسین ابن علی ابن ابی طالب نواسہء رسول ﷺاور اس باپ کے بیٹے تھے جنکا لقب ہی "حیدر” ہے۔ بہادری و جرات حسین ابن علی رضی اللہ عنہ کی گھٹی میں تھی۔
    ‏حسین ابن علی رضی اللہ عنہ اسلام کے ہیرو ہیں انکی بہادری و شجاعت نے جس طرح اسلام میں اک نئ روح پھونک کر اسلام کو تاقیامت قائم رہنے والا دیں بنانے کا حق ادا کیا تاقیامت اسکی مثال مل ہی نہیں سکتی حسین ابن علی رضی اللہ عنہ نے حق کے لیے آواز اس وقت بلند کی جب لوگ باطل کے ڈر سے اٹھنے کی ہمت نہ کر پا رہے تھے۔۔ میدان کربلا میں حق پر ثابت قدمی اس قدر کہ باطل کسی طرح بھی اپنے مذموم مقاصد‏حاصل نہ کر سکا۔
    دنیا میں کوئ بھی حق پر بہادر انسان اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے اپنی جان کی بازی تو لگا سکتا ہے مگر اپنا پورا کنبہ قربان نہیں کر سکتا ایسا حوصلہ ہمت اور بہادری حسین ابن علی رضی اللہ عنہ ہی کی تھی جن کے آگے اللہ کے دین کی حفاظت
    ‏سے بڑھ کر کچھ نہ تھا۔ اپنی جان مال اولاد سب اللہ کے لیے اسکے آخری نبی ﷺ کے دین کی حفاظت و سربلندی پر قربان کر دیا۔۔ لیکن صد افسوس ہم جیسی قوم پر ہم نے یہ بھلا دیا کہ حسین رضی اللہ عنہ کی اس عظیم قربانی کا عظیم مقصد کیا تھا؟ ہم مجرم بن گئے۔ ہم ‏نے انکی قربانی کو ضائع کیا۔ ہم نے اسی دین میں فرقے بنا لیے۔۔ اور ظلم عظیم یہ کہ حسین کے نام پر ہی فرقے بنا کر اسلام کی طاقت کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا۔
    ہم نے اپنے ہیرو کی شجاعت کو اپنا کر دنیا میں اسلام کا بنانا تھا اور ہم نے اس اسلام کو ہی پارہ پارہ کر دیا….
    حسین رضی اللہ عنہ ہمارے محسن ہمارے ہیرو اور ہم نے دنیا کے آگے اپنے اس بہادر جری نڈر
    ‏حق پرست ہیرو کو مظلوم
    شخصیت بنا کر پیش کر دیا۔۔ہم نے کربلا کی شجاعت کی داستانوں کو بدل کر مظلومیت کی داستان بنا کر حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ تاریخ میں بہت بڑا جرم کیا۔ وہ حسین ابن علی رضی اللہ عنہ جن کہ جنکی شہادت کی خبر اللہ نے ﷴﷺ کو اس وقت دے دی جب نواسہء رسولﷺ گود میں کھیل رہے تھے۔ ہم نے اپنی نسلوں کو شہادت حسین رضی اللہ عنہ تو بتائ شجاعت حسین رضی اللہ عنہ بتانا بھول گئے ہماری نسلوں نے شہادت حسین رضی اللہ عنہ کو ایک تہوار بنا کر منا تو لیا مگر ہماری نسلیں حسین رضی اللہ عنہ کو اپنا ہیرو‏ نہ بنا سکیں۔ جب ماوں نے نسلوں کو حسین رضی اللہ عنہ کی مظلومیت ہی سنائ اور انکی شخصیت کا صرف ایک پہلو اپنی نسلوں کے سامنے رکھا ، جب انکو حسیںن رضی اللہ عنہ کی شجاعت بتائ ہی نہ گئ تو ہماری نسلوں میں حسینی پیدا ہونے سے رہ گئے ۔ہماری نسلوں نے ادھر ادھر کی دنیا سے ادھار ہیرو مانگ کر بنا لیے۔ ہائے افسوس ہم کیسی قوم ہیں ؟؟؟ہم احسان فراموش بزدل قوم ہیں، بزدل قومیں ہی اپنے ہیروز کی مظلومیت دنیا کے سامنے بیان کرتی ہیں۔ بہادر قومیں تو اپنے ہیروز کی بہادری کی داستانوں سے تاریخ کے اوراق بھر دیا کرتی ہیں۔ اپنی نسلوں کو اسی بہادری کے قصے سنا کر جوان کرتی ہیں اور پھر ہی تو ان قوموں کے جوان سینہ تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔
    ہم قصوروار ہیں مگر امید ابھی موجود ہے ہم نہ سہی ہماری آنے والی نسلوں میں ایسے جوان بنانے کی جن کی منزل وہی ہو جو حسین رضی اللہ عنہ کی تھی جن کی

    ‏زندگیوں کا مقصد حسین ابن علی رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چل کر باطل سے ٹکرا جانا ہو۔ جن کے خوف و ہیبت سے باطل لرزا جایئں۔ جنکی شجاعت اسلام کو تقویت بخشے۔
    مایئں بچوں کو گود میں حسین رضی اللہ عنہ کی شجاعت سنایئں گی جب ایسا ممکن بھی صرف ہو گا تب۔
    باپ اولاد کے دل و دماغ میں حسین رضی اللہ عنہ کا خاکہ بنایئں گے تب ہونگے اس ‏اس قوم میں حسینی پیدا۔ تب ہو گا اسلام کا ہر سو اجالا۔۔۔۔۔۔

    Twitter handle: @ShezM__

  • عہد نبوی میں نظامِ حکومت تحریر: محمد سمیع اللہ ملک

    عہد نبوی میں نظامِ حکومت تحریر: محمد سمیع اللہ ملک

    عام خیال یہ ہے کہ اسلام کو عرب میں ایک عادلانہ نظامِ حکومت میں قائم کرنے میں جو دشواریاں پیش آئیں وہ تمام تر اہل عرب کی وحشت، بداوت اور جہالت کا نتیجہ تھیں۔ لیکن در حقیقت اس سے زیادہ یا اسی کے برابر خود وقت کا تمدن بھی اسلام کے عادلانہ نظامِ حکومت کا دشمن تھا اور اسکی مخالفت وحشت سے زیادہ اور دیرپا تھی چنانچہ 8ھ میں فتح مکہ کے بعد اگرچہ وحشی عربوں نے اسلام کے سامنے اپنی گردنیں جھکا دیں، لیکن وقت کے تمدن کا سر پر غرور اب تک بلند تھا چنانچہ نامہ اقدس کے جواب میں شہنشاہ ایران کا جواب اور قیصر روم کے حامیوں کے مقابلے میں غزوہ موتہ وغیرہ واقعات جو 9ھ میں پیش آئے اور اسکے بعد خلافت راشدہ میں ایرانیوں اور رومیوں سے لڑائیاں اسی سرکشی کا نتیجہ تھیں۔
    اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ چھٹی عیسوی میں جو آپ ص کی بعثت اور اسلام کے ظہور کا زمانہ ہے، دنیا کی تمام سیاسی قوتیں مشرق و مغرب کی دو عظیم الشان طاقتوں کے زیر سایہ تھیں مشرق کی نمائندگی فارس کے کسری اور مغرب کی قسطنطنیہ کے قیصر کر رہے تھے اور ان دونوں کے ڈنڈے عرب کے عراقی و شامی حدود پر ا کر ملتے تھے عرب کے وہ قبائل جن میں زرا بھی تہذیب و تمدن کا نام تھا وہ انہی دونوں میں سے کسی کے زیر اثر اور تابع تھے یمن ، بحرین ، عمان ، اور عراق ایرانیوں کے اور وسط عرب اور حدود شام رومیوں کے ماتحت یا زیر اثر تھے۔
    چنانچہ نجمی خاندان نے مقام حیرہ میں ایرانیوں کی ماتحتی میں ایک وسیع سلطنت قائم کی تھی جس کے درماں روا نعمان بن منذر وغیرہ تھے غسانی خاندان جو آپ ص کے زمانے تک قائم رہا رومیوں کی سرپرستی میں حدود شام پر حکومت کرتا تھا یمن میں مدت تک خود عرب کی مستقل خاندانی ریاستیں قائم تھیں۔ لیکن آخر زمانہ میں یمن خود ایرانیوں کے علم کے نیچے آگیا تھا چنانچہ آپ ص کے زمانے میں یمن میں باذان نامی ایرانی حاکم موجود تھا، عرب پر ان سلطنتوں کا اس قدر اقتدار قائم ہو چکا تھا کہ خود عربوں کے ذہن میں جب کسی نظامِ حکومت کا خیال آتا تھا تو اسی ایرانی یا رومی نظامِ حکومت کا خیال آتا تھا، ان سے الگ ہو ان سے بالاتر کسی نظام زندگی کا تخیل ان کے ذہن کی گرفت سے بالاتر تھا۔
    اس بنا پر اسلام عرب میں جو نظامِ حکومت قائم کرنا چاہتا تھا اسکے لئے صرف یہی کافی نہ تھا کہ عرب کی قدیم وحشت کو مٹا کر اسلامی تہذیب و تمدن کی داغ بیل ڈالی جائے بلکہ سب سے مقدم کام یہ تھا کہ عرب کو غیر قوموں کے دماغی تسلط سیاسی مرعوبیت اور ان کے اخلاقی و تمدنی اثر سے آزاد کرایا جائے بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر نہ صرف عربوں کو بلکہ سارے عالم کو انسانوں کے خود ساختہ قانون کی غلامی سے نکال کر قانون الٰہی کی اطاعت و فرمانبرداری میں دے دیا جائے اور بتایا جائے کہ قانون الٰہی کو چھوڑ کر دوسرے انسانی قوانین کی پابندی کرنا شرک کا دوسرا راستہ ہے لیکن جیسا کہ اسلام کے تمام فرائض و اعمال میں ترتیب و تدریج ملحوظ رہی ہے اس طرح اسلام کے نظام میں حکومت میں بھی بتدریج ترقی ہوتی گئی چنانچہ اگرچہ آپ ص ساری دنیا کی اصلاح کے لئے آئے تھے مگر آپ ص نے اپنا کام عرب سے شروع کیا تاکہ ایک ایسی صالح جماعت کا ظہور ہو جو آپ ص کے سامنے بھی اور آپ ص کے بعد بھی اس فرض کی تکمیل میں مصروف رہے۔
    لیکن یہی تدریجی ترتیب خود اہل عرب کی اصلاح میں بھی ملحوظ تھی چنانچہ سب سے پہلے آپ ص نے عرب کے اندرونی حصے یعنی تہامہ ، حجاز اور بخد کے لوگوں کے سامنے اسلام کو پیش کیا اور آپ ص کی 23 سالہ زندگی کے تقریبا سولہ سترہ سال انہی قبائل کی اصلاح و ہدایت میں نذر ہو گئے یہی وجہ ہے کہ مدینہ کے نخلستان کی طرح اگرچہ ہجر ویمامہ کے سبزہ زار بھی اسلام کو اپنے دامن میں پناہ دینے کے لئے آمادہ تھے اور قبائل یمن کے ایک بڑے رئیس طفیل دوسی نے آپ ص کو قبیلہ دوسی کے ایک عظیم الشان قلعے کی حفاظت میں لینا چاہا تھا لیکن آپ ص نے ان متمدان مقامات کو چھوڑ کر مدینہ کی سنگلاخ زمین کو دارالہرہ بنایا وہ اگرچہ منافقین اور یہود کی وجہ سے مکہ سے زیادہ پر خطر تھا اور ابتدا میں مہاجرین رضی کے لئے اسکی آب و ہوا سازگار نہ تھی تاہم آپ نے اسی کی طرف ہجرت فرمائی لیکن جب رفتہ رفتہ عرب کے اس حصہ میں کافی طور پر نظام اسلام قائم ہو گیا اور صلح حدیبیہ نے عرب کے مرکز یعنی مکہ کا راستہ صاف کر دیا اور وہ فتح ہو گیا تو اب عرب کے دوسرے حصوں کی طرف توجہ کا وقت آ گیا اس بناپر اسلام کے دائرہ عمل کو وسعت دی گئی اور عرب کے ان حصوں کی طرف توجہ فرمائی گئی۔

  • شان صحابہ رضی اللہ عنہم – عمران محمدی

    شان صحابہ رضی اللہ عنہم – عمران محمدی

    شان صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین

    بقلم: عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    *صحابہ کا ایمان ایسا معیاری ایمان ہے کہ سب لوگوں کو اسی طرح کا ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے*
    اللہ تعالیٰ نے فرمایا
    قُلْ هَذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ
    کہہ دے یہی میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت پر، میں اور وہ بھی جنھوں نے میری پیروی کی ہے اور اللہ پاک ہے اور میں شریک بنانے والوں سے نہیں ہوں۔
    يوسف : 108
    أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
    یہ لوگ اپنے رب کی طرف سے بڑی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ پورے کامیاب ہیں۔
    البقرة : 5
    اور فرمایا
    آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ
    ایمان لائو جس طرح لوگ ایمان لائے ہیں
    البقرة : 13
    یہاں الناس سے مراد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں
    ایمان صحابہ کے متعلق ارشاد فرمایا
    فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
    پھر اگر وہ اس جیسی چیز پر ایمان لائیں جس پر تم ایمان لائے ہو تو یقینا وہ ہدایت پا گئے اور اگر پھر جائیں تو وہ محض ایک مخالفت میں (پڑے ہوئے) ہیں، پس عنقریب اللہ تجھے ان سے کافی ہو جائے گا اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
    البقرة : 137
    عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
    لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي مَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمَّهُ عَلَانِيَةً لَكَانَ فِي أُمَّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً قَالُوا وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي

    (ترمذی ،أَبْوَابُ الْإِيمَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ
    مَا جَاءَ فِي افْتِرَاقِ هَذِهِ الأُمَّةِ،2641)
    ‘میری امت کے ساتھ ہو بہو وہی صورت حال پیش آئے گی جو بنی اسرائیل کے ساتھ پیش آچکی ہے، ( یعنی مماثلت میں دونوں برابر ہوں گے )یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے اگراپنی ماں کے ساتھ اعلانیہ زنا کیاہوگا تو میری امت میں بھی ایسا شخص ہوگا جو اس فعل شنیع کا مرتکب ہوگا، بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے اورمیری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، اور ایک فرقہ کو چھوڑ کرباقی سبھی جہنم میں جائیں گے، صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ کون سی جماعت ہوگی؟ آپ نے فرمایا:’ یہ وہ لوگ ہوں گے جو میرے اور میرے صحابہ کے نقش قدم پر ہوں گے’
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلفاء راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنے کے متعلق ارشاد فرمایا

    فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ, تَمَسَّكُوا بِهَا، وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ, فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ
    (ابو داؤد كِتَابُ السُّنَّةِ بَابٌ فِي لُزُومِ السُّنَّةِ4607)

    میری سنت اور میرے خلفاء کی سنت اپنائے رکھنا ، خلفاء جو اصحاب رشد و ہدایت ہیں ، سنت کو خوب مضبوطی سے تھامنا ، بلکہ ڈاڑھوں سے پکڑے رہنا ، نئی نئی بدعات و اختراعات سے اپنے آپ کو بچائے رکھنا ، بلاشبہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے

    *صحابہ کرام، ایک ایسی کھیتی کی مانند ہیں کہ جسے دیکھ کر کفار غصے سے بھر جاتے ہیں*

    مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا
    محمد اللہ کا رسول ہے اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ ہیں کافروں پر بہت سخت ہیں، آپس میں نہایت رحم دل ہیں، تو انھیں اس حال میں دیکھے گا کہ رکوع کرنے والے ہیں، سجدے کرنے والے ہیں، اپنے رب کا فضل اور (اس کی) رضا ڈھونڈتے ہیں، ان کی شناخت ان کے چہروں میں (موجود) ہے، سجدے کرنے کے اثر سے۔ یہ ان کا وصف تورات میں ہے اور انجیل میں ان کا وصف اس کھیتی کی طرح ہے جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اسے مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوئی، پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہو گئی، کاشت کرنے والوں کو خوش کرتی ہے، تاکہ وہ ان کے ذریعے کافروں کو غصہ دلائے، اللہ نے ان لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے بڑی بخشش اور بہت بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔
    الفتح : 29

    ہمارے استاذ گرامی جناب حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ
    سورہ فتح کی اس آیت
    يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ
    کاشت کرنے والوں کو خوش کرتی ہے، تاکہ وہ ان کے ذریعے کافروں کو غصہ دلائے،
    کے تحت لکھتے ہیں
    *(ایمان والوں کے دل صحابہ کرام اور ان کے متبعین کے حالات دیکھ کر اور سن کر خوش ہوتے ہیں اور کفار کے دل انھیں دیکھ کر اور ان کے حالات سن کر غصے سے بھر جاتے ہیں اور جل اٹھتے ہیں۔)*

    تفسیر التحریر والتنویر (۲۶؍۱۷۷) میں ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا :
    [ مَنْ أَصْبَحَ مِنَ النَّاسِ فِيْ قَلْبِهِ غَيْظٌ عَلٰی أَحَدٍ مِّنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ أَصَابَتْهُ هٰذِهِ الْآيَةُ ]
    ’’لوگوں میں سے جس شخص کے دل میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی ایک پر بھی غصہ اور جلن ہو، یہ آیت اس پر یقینا لاگو ہوتی ہے۔‘‘

    ابنِ عاشور نے فرمایا :
    ’’اللہ تعالیٰ امام مالک پر رحم کرے، ان کا استنباط کس قدر باریک ہے۔‘‘)

    ‏‏‏‏
    *صحابہ کا وجود امت کے بچاؤ کا سبب ہے*

    ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    «النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ، فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ، وَأَنَا أَمَنَةٌ لِأَصْحَابِي، فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ، وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي، فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ»
    كِتَابُ فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہُم

    (صحيح مسلم بَاب بَيَانِ أَنَّ بَقَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَانٌ لِأَصْحَابِهِ وَبَقَاءَ أَصْحَابِهِ أَمَانٌ لِلْأُمَّةِ 6466 )

    ستارے آسمان کے بچاؤ ہیں، جب ستارے مٹ جائیں گے تو آسمان پر بھی جس بات کا وعدہ ہے وہ آ جائے گی (یعنی قیامت آ جائے گی اور آسمان بھی پھٹ کر خراب ہو جائے گا)۔ اور میں اپنے اصحاب کا بچاؤ ہوں۔ جب میں چلا جاؤں گا تو میرے اصحاب پر بھی وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے (یعنی فتنہ اور فساد اور لڑائیاں)۔ اور میرے اصحاب میری امت کے بچاؤ ہیں۔ جب اصحاب چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے (یعنی اختلاف و انتشار وغیرہ)

    *صحابہ کی کسی جنگ میں موجودگی اور اس کی برکت*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت ایسی اکسیر تھی کہ جس مومن کو حاصل ہو گئی اس کی طبیعت کا رنگ ہی بدل گیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں شہادت اور جنت کا ایسا شوق عطا فرمایا، انھیں ایسی شجاعت بخشی اور ان میں ایسی برکت رکھی کہ جب وہ حملہ آور ہوتے تو دشمن چند لمحوں میں بھاگ کھڑا ہوتا، کسی لشکر میں ایک صحابی کی موجودگی اس کی فتح کی ضمانت سمجھی جاتی۔ ان سے ملنے والوں میں بھی یہی برکت تھی۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ يَأْتِيْ زَمَانٌ يَغْزُوْ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ فِيْكُمْ مَنْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ نَعَمْ، فَيُفْتَحُ عَلَيْهِ، ثُمَّ يَأْتِيْ زَمَانٌ فَيُقَالُ فِيْكُمْ مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ نَعَمْ، فَيُفْتَحُ، ثُمَّ يَأْتِيْ زَمَانٌ فَيُقَالُ فِيْكُمْ مَنْ صَحِبَ صَاحِبَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ نَعَمْ، فَيُفْتَحُ ]
    [بخاري، الجھاد والسیر، باب من استعان بالضعفاء والصالحین في الحرب : ۲۸۹۷ ]

    ’’لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ لوگوں کی ایک جماعت جنگ کرے گی تو کہا جائے گا : ’’کیا تم میں کوئی شخص ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہو؟‘‘ وہ کہیں گے : ’’ہاں!‘‘ تو انھیں فتح عطا کی جائے گی۔ پھر لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ لوگوں کی ایک جماعت جنگ کرے گی تو کہا جائے گا : ’’کیا تم میں کوئی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے ساتھ رہا ہو؟‘‘ وہ کہیں گے : ’’ہاں!‘‘ تو انھیں فتح عطا کی جائے گی۔ پھر لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ لوگوں کی ایک جماعت جنگ کرے گی تو کہا جائے گا : ’’کیا تم میں کوئی ہے جو اس کے ساتھ رہا ہو جو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہو؟‘‘ وہ کہیں گے : ’’ہاں!‘‘ تو انھیں فتح عطا کی جائے گی۔‘‘

    *صحابہ تو پھر صحابہ، صحابہ کو دیکھنے والوں کے لیے خوشخبری*

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ” طوبى لمن رآني وطوبى لمن راى من رآني ولمن راى من راى من رآني وآمن بي”.

    سلسله أحاديث الصحیحۃ 2205
    ”‏‏‏‏جس نے مجھے دیکھا اس کے لیے خوشخبری ہے، جس نے میرے صحابی کو دیکھا اس کے لیے خوشخبری ہے اور جس نے میرے صحابی کو دیکھنے والے (‏‏‏‏یعنی تابعی) کو دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا اس کے لیے بھی خوشخبری ہے۔“

    *صحابہ اور صحابہ کو دیکھنے والے مسلمان لوگوں میں سب سے بہتر ہیں*

    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ،انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا
    «خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ»
    "لوگوں میں سے بہترین میرے دور کے لوگ(صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین )ہیں،پھر وہ جو ان کے ساتھ(کے دورکے) ہوں گے(تابعین رحمۃ اللہ علیہ )،پھر وہ جوان کے ساتھ(کے دور کے) ہوں گے(تبع تابعین۔)”

    *ایک صحابی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے بیعت کرنے والے صحابہ پر اللہ کا ہاتھ*

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو حدیبیہ سے اہلِ مکہ کی طرف بات چیت کے لیے بھیجا کہ وہ مسلمانوں کو بیت اللہ کا عمرہ ادا کرنے سے نہ روکیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ کے واپس آنے میں دیر ہوئی تو افواہ پھیل گئی کہ انھیں قتل کر دیا گیا ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑنے کا پختہ ارادہ فرما لیا اور صحابہ کو بیعت کی دعوت دی۔

    جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
    [ كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَ أَرْبَعَ مِائَةٍ فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ سَمُرَةٌ ]
    [ مسلم، الإمارۃ، باب استحباب مبایعۃ الإمام الجیش… : ۱۸۵۶ ]
    ’’ہم حدیبیہ کے دن چودہ سو تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور عمر رضی اللہ عنہ درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے اور وہ کیکر کا درخت تھا۔‘‘

    بایعناہ علی الموت

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما نے فرمایا :
    [ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُمْنٰی هٰذِهِ يَدُ عُثْمَانَ فَضَرَبَ بِهَا عَلٰی يَدِهِ، فَقَالَ هٰذِهِ لِعُثْمَانَ ]
    [بخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، باب مناقب عثمان بن عفان أبي عمرو القرشي رضی اللہ عنہ : ۳۶۹۹ ]
    ’’ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: ’’یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔‘‘ پھر اسے دوسرے ہاتھ پر مار کر فرمایا: ’’یہ عثمان کی بیعت ہے۔‘‘

    اس بیعت کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا
    بے شک وہ لوگ جو تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں، اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے، پھر جس نے عہد توڑا تو در حقیقت وہ اپنی ہی جان پر عہد توڑتا ہے اور جس نے وہ بات پوری کی جس پر اس نے اللہ سے عہد کیا تھا تو وہ اسے جلد ہی بہت بڑا اجر دے گا۔
    (الفتح، آیت 10)

    اللہ تعالیٰ ان تمام صحابہ کرام سے راضی ہو گئے جنہوں نے اس بیعت میں حصہ لیا
    فرمایا
    لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا
    بلاشبہ یقینا اللہ ایمان والوں سے راضی ہوگیا، جب وہ اس درخت کے نیچے تجھ سے بیعت کر رہے تھے، تو اس نے جان لیا جو ان کے دلوں میں تھا، پس ان پر سکینت نازل کر دی اور انھیں بدلے میں ایک قریب فتح عطا فرمائی۔
    (الفتح آیت 18)

    جب ان صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے شہادت دے دی کہ وہ ان پر راضی ہو گیا تو کس قدر بد نصیب ہے وہ گروہ جو ان مقبول بندوں سے ناراض اور ان سے بغض و عداوت رکھے اور کہے کہ وہ بعد میں نعوذ باللہ مرتد ہو گئے۔ کیا اللہ تعالیٰ کو آئندہ کا علم نہیں تھا اور وہ رضا کیسی ہے جس کے باوجود وہ بندے مرتد ہو جائیں جن پر وہ راضی ہے ؟

    عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما سے سنا، وہ بیان کرتے ہیں :
    ’’حدیبیہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا :
    [ أَنْتُمْ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ ]
    ’’تم زمین والوں میں سب سے بہتر ہو۔‘‘
    اور (اس وقت) ہم چودہ سو تھے اور اگر آج مجھے دکھائی دیتا ہوتا تو میں تمھیں اس درخت کی جگہ دکھاتا۔‘‘
    [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ الحدیبیۃ : ۴۱۵۴ ]

    ام مبشر رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے حفصہ رضی اللہ عنھا کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا :
    [ لَا يَدْخُلُ النَّارَ، إِنْ شَاءَ اللّٰهُ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ أَحَدٌ الَّذِيْنَ بَايَعُوْا تَحْتَهَا ]
    مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل أصحاب الشجرۃ… : ۲۴۹۶
    ’’ان شاء اللہ اس درخت والوں میں سے کوئی بھی آگ میں داخل نہیں ہو گا جنھوں نے اس کے نیچے بیعت کی۔‘‘

    جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حاطب رضی اللہ عنہ کا ایک غلام حاطب رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کر آیا اور کہنے لگا :
    ’’یا رسول اللہ! حاطب ضرور آگ میں داخل ہو گا۔‘‘
    تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ كَذَبْتَ لَا يَدْخُلُهَا فَإِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ ]
    [ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل حاطب بن أبي بلتعۃ… : ۲۴۹۵ ]
    ’’تو نے غلط کہا، وہ آگ میں داخل نہیں ہو گا، کیونکہ اس نے تو بدر اور حدیبیہ میں شرکت کی ہے۔‘‘

    *عثمان رضی اللہ عنہ کی وفاداری بھی دیکھیئے*

    قریش مکہ نے عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا
    إِنْ شِئْتَ أَنْ تَطُوفَ بِالْبَيْتِ فَطُفْ بِهِ
    اگر آپ بیت اللہ کا طواف کرنا چاہتے ہیں تو کرسکتے ہیں

    تو آپ نے فرمایا
    مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ حَتَّى يَطُوفَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
    میں (اکیلا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر) کبھی بھی طواف نہیں کروں گا جب تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھر کا طواف نہ کرلیں
    مسند احمد 18431 وسندہ صحیح

    *صحابہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے ہیں ہم آپ کے دائیں بائیں،آگےاورپیچھےجمع ہوکرلڑیں گے*

    حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا کہ میں نے مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے ایک ایسی بات سنی کہ اگر وہ بات میری زبان سے ادا ہوجاتی تو میرے لیے کسی بھی چیز کے مقابلے میں زیادہ عزیز ہوتی ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ حضور اس وقت مشرکین پر بددعا کررہے تھے ، انہوں نے عرض کیا

    لَا نَقُولُ كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا وَلَكِنَّا نُقَاتِلُ عَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ وَبَيْنَ يَدَيْكَ وَخَلْفَكَ
    یا رسول اللہ ! ہم وہ نہیں کہیں گے جو حضرت موسی کی قوم نے کہا تھا کہ جاو ، تم اور تمہارا رب ان سے جنگ کرو ، بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں ، آگے اور پیچھے جمع ہوکر لڑیں گے
    عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
    فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْرَقَ وَجْهُهُ وَسَرَّهُ
    میں نے دیکھا کہ (مقداد کی اس بات کی وجہ سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک چمکنے لگا اور آپ خوش ہوگئے
    (بخاری كِتَابُ المَغَازِي 3952)

    *اللہ تعالیٰ تمام صحابہ کرام سے راضی ہیں*

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
    اور مہاجرین اور انصار میں سے سبقت کرنے والے سب سے پہلے لوگ اور وہ لوگ جو نیکی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے، اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے اور اس نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ہمیشہ۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
    التوبة : 100

    آلوسی صاحبِ روح المعانی نے فرمایا :
    ’’بہت سے مفسرین اس طرف گئے ہیں کہ « وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَ الْاَنْصَارِ » سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہیں، کیونکہ انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے شرف کی بنا پر بعد والے تمام لوگوں پر سبقت حاصل ہے، جو پھر کسی کو نصیب نہ ہو سکی

    اور فرمایا
    رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُولَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
    اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اس سے راضی ہو گئے۔ یہ لوگ اللہ کا گروہ ہیں، یاد رکھو! یقینا اللہ کا گروہ ہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔

    *صحابہ کے عمل کو کوئی نہیں پہنچ سکتا*

    سعید بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
    لَمَشْهَدُ رَجُلٍ مِنْهُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَغْبَرُّ فِيهِ وَجْهُهُ, خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمُرَهُ، وَلَوْ عُمِّرَ عُمُرَ نُوحٍ
    سنن ابی داؤد كِتَابُ السُّنَّةِ
    بَابٌ فِي الْخُلَفَاءِ 4650
    ان میں سے کسی ایک کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ( جہاد میں ) حاضر رہنا اور اس کے چہرے کا غبار آلود ہو جانا تمہاری ساری زندگی کے اعمال سے کہیں بہتر ہے خواہ تمہیں سیدنا نوح علیہ السلام کی زندگی ہی کیوں نہ مل جائے ۔

    حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرمایا کرتے تھے:
    «لَا تَسُبُّوا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمُقَامُ أَحَدِهِمْ سَاعَةً، خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمُرَهُ»
    (سنن ابن ماجة كِتَابُ السُّنَّةِ
    بَابُ فَضْلِ أَهْلِ بَدْرٍ ،162 ،حسن)

    محمد ﷺ کے صحابہ کو برا نہ کہو، ایک صحابی کا( نبی اکرم ﷺ کی صحبت میں) گھڑی بھر ٹھہرنا، تم میں سے کسی کی زندگی بھر کے عملوں سے بہتر ہے۔

    عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی معیت میں معاویہ رضی اللہ عنہ کی ناک میں پڑنے والی گرد و غبار عمر بن عبدالعزیز سے بہتر اور افضل ہے
    ( البدایہ والنہایہ )

    *صحابہ کرام کو گالی دینا منع ہے*

    ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ

    (بخاري ،کِتَابُ فَضَائِلِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ
    بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا»3673)
    میرے اصحاب کو برا بھلامت کہو ۔ اگر کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرڈالے تو ان کے ایک مد غلہ کے برابر بھی نہیں ہوسکتا اور نہ ان کے آدھے مد کے برابر ۔

    *صحابہ کو گالی دینے والوں کا فرض و نفل کچھ بھی قبول نہیں*

    عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
    «إن الله تبارك وتعالى اختارني واختار بي أصحابا فجعل لي منهم وزراء وأنصارا وأصهارا، فمن سبهم فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه يوم القيامة صرف ولا عدل»
    هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه
    [التعليق – من تلخيص الذهبي]
    ٦٦٥٦ – صحيح

    اللہ تعالیٰ نے مجھے چن لیا اور میرے لیے ساتھیوں کو بھی خود چنا،پھر ان میں سے میرے وزیر،انصار و مددگار اور سسرال و داماد بنائے، لہٰذا جس نے انہیں برا بھلا کہا،اس پر اللہ،فرشتوں،اور ساری کائنات کی لعنت ہو-اللہ کریم اس کا فرض و نفل کچھ بھی قبول نہیں کرے گا-
    المستدرك للحاكم ج3ص632طبع دار المعرفة بيروت
    اس حدیث میں رافضیوں، نیم رافضیوں اور ناصبیوں کے لیے بڑی خوفناک وعید ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےدامادوں عثمان بن عفان اور ابو العاص رضی اللہ عنہا (بنو امیہ)اور علی رضی اللہ عنہ کی گستاخیاں کرتے ہیں،اوران لوگوں کے لیے بھی لعنت وپھٹکار اور تباہی اعمال کی دھمکی ہے جو خاتم الانبیآء علیہ الصلاۃ والسلام کے سسرال والوں (ابوبکر ،عمر،ابو سفیان ،اور معاویہ رضی اللہ عنہم پر طنز و تعریض اور اعتراض بازی کو مذھب و مشغلہ بنائے ہوئے ہیں ،هداهم الله-

    *صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے متعلق ماتھے پر آنے والی شکن بھی اللہ تعالیٰ کو گوارہ نہیں*

    عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ مکی، قرشی، مہاجرین اوّلین میں سے ہیں اور ام المومنین خدیجہ رضی اللہ عنھا کے ماموں کے بیٹے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اپنے اکثر غزوات میں مدینہ میں اپنا نائب مقرر فرمایا کرتے تھے۔

    عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشرکین میں سے ایک بڑا آدمی بیٹھا تھا کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے اور کچھ مسائل پوچھنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا اور توجہ اس دوسرے کی طرف رکھی
    اس پر یہ سورت اتری۔
    عَبَسَ وَتَوَلَّى
    اس نے تیوری چڑھائی اور منہ پھیر لیا۔
    عبس : 1
    أَنْ جَاءَهُ الْأَعْمَى
    اس لیے کہ اس کے پاس اندھا آیا۔
    عبس : 2
    وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّى
    اور تجھے کیا چیز معلوم کرواتی ہے شاید وہ پاکیزگی حاصل کر لے۔
    عبس : 3
    أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرَى
    یا نصیحت حاصل کرے تو وہ نصیحت اسے فائدہ دے۔
    عبس : 4
    أَمَّا مَنِ اسْتَغْنَى
    لیکن جو بے پروا ہو گیا۔
    عبس : 5
    فَأَنْتَ لَهُ تَصَدَّى
    سو تو اس کے پیچھے پڑتا ہے۔
    عبس : 6
    وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّى
    حالانکہ تجھ پر(کوئی ذمہ داری) نہیں کہ وہ پاک نہیں ہوتا۔
    عبس : 7
    وَأَمَّا مَنْ جَاءَكَ يَسْعَى
    اور لیکن جو کوشش کرتا ہوا تیرے پاس آیا ۔
    عبس : 8
    وَهُوَ يَخْشَى
    اور وہ ڈر رہا ہے۔
    عبس : 9
    فَأَنْتَ عَنْهُ تَلَهَّى
    تو تو اس سے بے توجہی کرتا ہے۔
    عبس : 10
    كَلَّا إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ
    ایسا ہرگز نہیں چاہیے، یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے۔
    عبس : 11
    فَمَنْ شَاءَ ذَكَرَهُ
    تو جو چاہے اسے قبول کر لے۔
    عبس : 12

    [ ترمذي، تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ عبس : ۳۳۳۱ ]
    البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔

    انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ یہ مشرک اُبی بن خلف تھا اور اس میں یہ بھی ہے کہ یہ سورت اترنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا اکرام (عزت) کیا کرتے تھے۔
    [ مسند أبي یعلٰی : 431/5، ح : ۳۱۲۳ ]
    اس کی سند صحیح ہے۔

    *اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ صحابہ کو اپنے آپ سے دور مت ہٹاؤ*

    سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم چھ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے۔ مشرکین نے کہا، ان لوگوں کو اپنی مجلس سے نکال دیں، تاکہ یہ ہم پر جرأت نہ کر سکیں۔ ان لوگوں میں میں تھا، ابن مسعود، ہذیل کا ایک آدمی اور دو اور جن کا میں نام نہیں لیتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں اللہ نے جو چاہا خیال آیا، آپ ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرما دی :

    وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِنْ شَيْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِمْ مِنْ شَيْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ
    اور ان لوگوں کو دور نہ ہٹا جو اپنے رب کو پہلے اور پچھلے پہر پکارتے ہیں، اس کا چہرہ چاہتے ہیں، تجھ پر ان کے حساب میں سے کچھ نہیں اور نہ تیرے حساب میں سے ان پر کچھ ہے کہ تو انھیں دور ہٹا دے، پس تو ظالموں میں سے ہو جائے۔
    (الأنعام، آیت 52 )
    [ مسلم، الفضائل، باب فی فضل سعد بن أبی وقاص رضی اللہ عنہ : ۴۶؍۲۴۱۳ ]

    بلکہ فرمایا جب وہ آپ کے پاس تشریف لائیں تو انہیں سلام کہو
    فرمایا
    وَإِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِنَا فَقُلْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ
    اور جب تیرے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں تو کہہ سلام ہے تم پر
    الأنعام : 54

    *صحابہ کا مذاق اڑانے والوں کا اللہ تعالیٰ مذاق اڑاتے ہیں*

    غزوۂ تبوک کے موقع پر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چندے کی اپیل کی تو بڑے بڑے مال دار منافقین ہاتھ سکیڑ کر بیٹھ رہے، لیکن مخلص اہل ایمان چندہ لانے لگے تو یہ ان پر باتیں چھانٹنے لگے، جب کوئی شخص زیادہ چندہ لاتا تو یہ اسے ریا کار کہتے اور جب کوئی تھوڑا مال یا غلہ لا کر پیش کرتا تو یہ کہتے کہ بھلا اللہ کو اس کی کیا ضرورت ہے؟ دونوں صورتوں میں مذاق اڑاتے اور ٹھٹھا کرتے۔

    ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب صدقے کی آیت اتری تو ہم اپنی پیٹھوں پر بوجھ اٹھاتے، یعنی اس طرح اجرت حاصل کرتے تو ایک آدمی آیا اس نے بہت زیادہ چیز کا صدقہ کیا تو (منافق) کہنے لگے، یہ دکھاوا چاہتا ہے اور ایک آدمی آیا اور اس نے ایک صاع (دو کلو غلہ) صدقہ کیا تو انھوں نے کہا، اللہ تعالیٰ اس کے صدقے سے بے نیاز ہے (اسے اس کی کیا ضرورت ہے؟)
    تو یہ آیت اتری۔

    الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ سَخِرَ اللَّهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
    وہ لوگ جو صدقات میں خوش دلی سے حصہ لینے والے مومنوں پر طعن کرتے ہیں اور ان پر بھی جو اپنی محنت کے سوا کچھ نہیں پاتے، سو وہ ان سے مذاق کرتے ہیں۔ اللہ نے ان سے مذاق کیا ہے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔
    (توبہ آیت79)

    [ بخاری، الزکوٰۃ، باب : اتقوا النار ولو بشق تمرۃ … : ۱۴۱۵ ]

    ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ابوعقیل (مزدوری کرکے) آدھا صاع (ایک کلو غلہ) لائے اور ایک اور صاحب زیادہ مال لائے، تو منافق کہنے لگے، اس (نصف صاع) کی اللہ کو کیا ضرورت تھی اور اس دوسرے نے تو محض دکھاوے کے لیے دیا ہے۔ اس پر یہ آیت اتری :
    «اَلَّذِيْنَ يَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِيْنَ»
    [ بخاری، التفسیر، باب قولہ : الذین یلمزون المطوعین… : ۴۶۶۹ ]

    *صحابہ کرام پر طعن کرنے والے کے لیے ہلاکت ہے*

    فرمان باری تعالیٰ ہے
    وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ
    بڑی ہلاکت ہے ہر بہت طعنہ دینے والے، بہت عیب لگانے والے کے لیے۔
    الهمزة : 1

    *صحابہ کو بے وقوف کہنے والے اللہ کے نزدیک خود بے وقوف ہیں*

    فرمایا
    وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَكِنْ لَا يَعْلَمُونَ
    اور جب ان سے کہا جاتا ہے ایمان لائو جس طرح لوگ ایمان لائے ہیں، توکہتے ہیں کیا ہم ایمان لائیں جیسے بے وقوف ایمان لائے ہیں؟ سن لو! بے شک وہ خود ہی بے وقوف ہیں اور لیکن وہ نہیں جانتے۔
    البقرة : 13

    اسی طرح تحويل قبلہ کا حکم ملنے کے بعد جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے قبلہ تبدیل کر لیا تو جن لوگوں نے صحابہ کے اس عمل پر اعتراض کیا تھا اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ ان کے اعتراض کی نفی کی بلکہ انہیں بے وقف قرار دیا
    فرمایا
    سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
    عنقریب لوگوں میں سے بے وقوف کہیں گے کس چیز نے انھیں ان کے اس قبلہ سے پھیر دیا جس پر وہ تھے؟ کہہ دے اللہ ہی کے لیے مشرق و مغرب ہے، وہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے ۔
    البقرة : 142

    *اللہ کی محبت حاصل کرنے کے لیے صحابہ سے محبت کرنا ضروری ہے*

    براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    الْأَنْصَارُ لَا يُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ فَمَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللَّهُ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ اللَّهُ
    انصار سے صرف مومن ہی محبت رکھے گا اور ان سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا ۔ پس جو شخص ان سے محبت رکھے اس سے اللہ محبت رکھے گا اور جوان سے بغض رکھے گا اس سے اللہ تعالیٰ بغض رکھے گا

    *انصارکویہ مقام اسلام کےلیے قربانیاں دینےکےعوض ملا*

    انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا تاکہ بحرین کا علاقہ بطور جاگیر ان کے لیے لکھ دیں۔
    انھوں نے کہا :
    ’’جب تک ہمارے مہاجر بھائیوں کو بھی اتنا ہی نہ دیں ہم نہیں لیں گے۔‘‘

    [ بخاري، مناقب الأنصار، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم للأنصار : ’’اصبروا حتٰی تلقوني علی الحوض ‘‘ : ۳۷۹۴ ]

    انصار کے دل میں مہاجرین کی ایسی محبت اور ہمدردی تھی کہ مہاجرین کو کوئی چیز دی جائے تو انصار کے دل میں اپنے لیے اس کی خواہش تک پیدا نہیں ہوتی تھی اس کا مطالبہ تو بہت دور کی بات ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کی چھوڑی ہوئی تمام زمینیں اور باغات مہاجرین کو دے دیے اور انصار نے بخوشی اسے قبول کیا

    *دو بیویوں میں سے ایک کو طلاق کے بعد اپنے مہاجر بھائی کے نکاح میں دینے کی پیش کش*

    سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو اپنی ساری جائداد اور تمام مکانوں میں سے نصف کی اور دو بیویوں میں سے ایک کو طلاق کے بعد ان کے نکاح میں دینے کی پیش کش کی، جس پر انھوں نے انھیں برکت کی دعا دی مگر یہ پیش کش قبول نہ کی۔
    (دیکھیے بخاری : 2029)

    *’’اے اللہ کے رسول! ہمارے کھجوروں کے درخت ہمارے اور ہمارے مہاجر بھائیوں کے درمیان تقسیم کر دیجیے۔‘‘*

    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا :
    ’’اے اللہ کے رسول! ہمارے کھجوروں کے درخت ہمارے اور ہمارے مہاجر بھائیوں کے درمیان تقسیم کر دیجیے۔‘‘
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ’’نہیں۔‘‘
    تو انصار نے (مہاجرین سے) کہا :
    ’’تم ہماری جگہ محنت کرو گے اور ہم تمھیں پھلوں کی پیداوار میں شریک کر لیں گے۔‘‘
    مہاجرین نے کہا:
    ’’ہم نے تمھاری بات سنی اور مان لی۔‘‘

    [ بخاري، الحرث والمزارعۃ، باب إذا قال اکفني مؤونۃ النخل… : ۲۳۲۵ ]

    *نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان کی خاطر میاں، بیوی اور بچوں نے رات خالی پیٹ گزار دی*

    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کے پاس پیغام بھیجا، ان کی طرف سے جواب آیا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ مَنْ يَضُمُّ أَوْ يُضِيْفُ هٰذَا؟ ]
    ’’اس مہمان کو اپنے ساتھ کون لے جائے گا؟‘‘
    انصار میں سے ایک آدمی (جن کا نام ابو طلحہ رضی اللہ عنہ تھا :صحیح مسلم) نے کہا:
    ’’میں لے جاؤں گا۔‘‘
    چنانچہ وہ اسے لے کر اپنی بیوی کے پاس گیا اور اس سے کہا :
    ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان کی خاطر تواضع کرو۔‘‘
    اس نے کہا:
    ’’ہمارے پاس بچوں کے کھانے کے سوا کچھ نہیں۔‘‘
    اس نے کہا:
    ’’کھانا تیار کر لو، چراغ جلا لو اور بچے جب کھانا مانگیں تو انھیں سلا دو۔‘‘
    اس نے کھانا تیار کر لیا، چراغ جلا دیا اور بچوں کو سلا دیا۔ پھر وہ اس طرح اٹھی جیسے چراغ درست کرنے لگی ہے اور اس نے چراغ بجھا دیا۔ میاں بیوی دونوں اس کے سامنے یہی ظاہر کرتے رہے کہ وہ کھا رہے ہیں، مگر انھوں نے وہ رات خالی پیٹ گزار دی۔ جب صبح ہوئی اور وہ انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا
    تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ ضَحِكَ اللّٰهُ اللَّيْلَةَ أَوْ عَجِبَ مِنْ فَعَالِكُمَا ]
    ’’آج رات تم دونوں میاں بیوی کے کام پر اللہ تعالیٰ ہنس پڑا یا فرمایا کہ اس نے تعجب کیا۔‘‘
    تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :
    « وَ يُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَ مَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ »
    [ الحشر: ۹ ]
    ’’اور اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ انھیں سخت حاجت ہو اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہیں۔‘‘
    [ بخاري، مناقب الأنصار، باب قول اللّٰہ عزوجل: «و یؤثرون علی أنفسہم …» : ۳۷۹۸۔ مسلم : ۲۰۵۴ ]

    *صحابہ کے متعلق دل میں کینہ سے بچنے کی دعا کریں*

    وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ
    اور (ان کے لیے) جو ان کے بعد آئے، وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جنھوں نے ایمان لانے میں ہم سے پہل کی اور ہمارے دلوں میں ان لوگوں کے لیے کوئی کینہ نہ رکھ جو ایمان لائے، اے ہمارے رب ! یقینا تو بے حد شفقت کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
    الحشر : 10

    ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا نے اس آیت کے مفہوم کے پیشِ نظر اپنے بھانجے عروہ بن زبیر سے فرمایا :
    [ يَا ابْنَ أُخْتِيْ! أُمِرُوْا أَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِأَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبُّوْهُمْ ]
    [ مسلم، التفسیر، باب في تفسیر آیات متفرقۃ : ۳۰۲۲ ]
    ’’اے میرے بھانجے! ان لوگوں کو حکم دیا گیا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے لیے مغفرت کی دعا کریں، لیکن وہ انھیں گالیاں دینے لگے۔‘‘