Baaghi TV

Category: مسلم دنیا

  • قرآن کے ساتھ ہمارا سلوک تحریر: محمد معوّذ

    قرآن کے ساتھ ہمارا سلوک تحریر: محمد معوّذ

    برادرانِ اسلام ! دنیا میں اس وقت مسلمان ہی وہ خوش قسمت لوگ ہیں جن کے پاس اللّٰه تعالیٰ کا کلام بالکل محفوظ ، تمام تحریفات سے پاک ، ٹھیک ٹھیک انہی الفاظ میں موجود ہے جن الفاظ میں وہ اللّٰه کے رسولِ برحق پر اترا تھا ، اور دنیا میں اس وقت مسلمان ہی وہ بدقسمت لوگ ہیں جو اپنے پاس اللّٰه تعالیٰ کا کلام رکھتے ہیں اور پھر بھی اس کی برکتوں اور بے حدوحساب نعمتوں سے محروم ہیں ۔ قرآن ان کے پاس اس لیے بھیجا گیا تھا کہ اس کو پڑھیں سمجھیں ، اس کے مطابق عمل کریں ، اور اس کو لے کر اللّٰه تعالیٰ کی زمین پر اللّٰه کے قانون کی حکومت قائم کر دیں ۔ وہ ان کو عزت اور طاقت بخشنے آیا تھا ۔ وہ انھیں زمین پر اللّٰه کا اصلی خلیفہ بنانے آیا تھا ، اور تاریخ گواہ ہے کہ جب انھوں نے اس کی ہدایت کے مطابق عمل کیا تو اس نے ان کو دنیا کا امام اور پیشوا بنا کر بھی دکھا دیا ، مگر اب ان کے ہاں اس کا مصرف اس کے سوا کچھ نہیں رہا کہ گھر میں اس کو رکھ کر جن بھوت بھگائیں ، اس کی آیتوں کو لکھ کر گلے میں باندھیں اور گول کر پئیں اور ثواب کے لیے بے سمجھے بوجھے پڑھ لیا کریں ۔
    اب یہ اس سے اپنی زندگی کے معاملات میں ہدایت نہیں مانگتے ۔ اس سے نہیں پوچھے کہ ہمارے عقائد کیا ہونے چاہیں ؟ ہمارے اعمال کیا ہونے چاہیں ؟ ہمارے اخلاق کیسے ہونے چاہیں ؟ ہم لین دین کس طرح کریں ؟ دوستی اور دشمنی میں کس قانون کی پابندی کریں ؟ اللّٰه کے بندوں کے اورخوداپنےنفس کے حقوق پر ہم کیا ہیں اور انھیں ہم کس طرح ادا کریں ؟ ہمارے لیے حق کیا ہے اور باطل کیا ؟ اطاعت میں کس کی کرنی چاہیے اور نافرمانی کس کی ؟ تعلق کس سے رکھنا چاہیے اور کس سے نہ رکھنا چاہیے ؟ ہمارا دوست کون ہے اور دشمن کون ؟ ہمارے لیے عزت اور فلاح اور نفع کس چیز میں ہے اور ذلت اور نامرادی اور نقصان کسی چیز میں؟ یہ ساری باتیں اب مسلمانوں نے قرآن سے پوچھنی چھوڑ دی ہیں ۔ اب یہ کافروں اور مشرکوں سے گمراہ اور خود غرض لوگوں سے اور نفس کے شیطان سے ان باتوں کو پوچھتے ہیں خود اپنےاور انھی کے کہے پر چلتے ہیں ۔ اس لیے خدا کو چھوڑ کر دوسروں کے حکم پر چلنے کا جو انجام ہونا چاہیے وہی ان کا ہوا اور اسی کو آج ہندستان میں چین اور جاوا میں فلسطین اور شام میں ، الجزائر اور مراکش میں ، ہر جگہ بری طرح بھگت رہے ہیں ۔ قرآن تو خیر کا سرچشمہ ہے۔ جتنی اور جیسی خیر تم اس سے مانگو گے یہ تمھیں دے گا۔ تم اس سے محض جن بھوت بھگانا اور کھانسی بخار کا علاج اور مقدمے کی کامیابی اور نوکری کا حصول اور ایسی ہی چھوٹی ، ذلیل و بے حقیقت چیز میں مانگتے ہو تو ہی تمھیں ملیں گی ۔ اگر دنیا کی بادشاہی اور روئے زمین کی حکومت مانگو گے تو وہ بھی ملے گی اور اگر عرش الہی کے قریب پہنچنا چاہو گے تو تمہیں وہاں بھی پہنچا دے گا ۔ یہ تمھارے اپنے ظرف کی بات ہے کہ سمندر سے پانی کی دو بوندیں مانگتے ہو ، ورنہ سمندر تو دریا بخشنے کے لیے بھی تیار ہے ۔
    حضرات ! جو تم ظریفیاں ہمارے بھائی مسلمان اللّٰہ کی اس کتابِ پاک کے ساتھ کرتے ہیں وہ اس قدر مضحکه انگیز ہیں کہ اگر یہ خود کسی دوسرے معاملے میں کسی شخص کو ایسی حرکتیں کرتے دیکھیں تو اس کی ہنسی اڑائیں ، بلکہ اس کو پاگل قرار دیں ۔ بتایئے ! اگر کوئی شخص حکیم سے نسخہ لکھوا کر لائے اور اسے کپڑے میں لپیٹ کر گلے میں باندھ لے ، یا اسے پانی میں گھول کر پی جائے تو اسے آپ کیا کہیں گے؟ کیا آپ کو اس پر ہنسی نہ آئے گی ؟ اور آپ اسے بے وقوف نہ سمجھیں گے ؟ مگر سب سے بڑے حکیم نے آپ کے امراض کے لیے شفا اور رحمت کا جو بےنظیر نسخہ لکھ کر دیا ہے اس کے ساتھ آپ کی آنکھوں کے سامنے رات دن یہی سلوک ہورہا ہے اورکسی کو اس پر ہنسی نہیں آتی ۔ کوئی نہیں سوچتا کہ نخسہ گلے میں لٹکانے اور گھول کر پینے کی چیز نہیں ، بلکہ اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی ہدایت کے مطابق دوا استعمال کی جائے ۔

    @muhammadmoawaz_

  • فلسطین! اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ جاری تحریر : اقصٰی صدیق

    فلسطین! اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ جاری تحریر : اقصٰی صدیق

    فلسطین اسلامی ممالک کی فہرست میں ایک مسلمان ملک اور مسجد الاقصیٰ کا تعارف ہے۔ مسجد اقصی کو مسلمانوں کا قبلۂ اول مانا جاتا ہے۔مسجد اقصٰی مشرق میں یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ جس پر ان دنوں اسرائیل قابض ہے۔اسرائیل کا فلسطین پر قبضہ فلسطین کے تاریخی واقعات میں سر فہرست ہے۔
    اسلامی ملک فلسطین کی سرحدیں لبنان، اردن، شام اور مصر سے ملتی ہیں۔
    لبنان اور مصر کے درمیان واقع کا علاقہ فلسطین کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کے آدھے حصّے پر اب اسرائیل کی حکومت ہے۔
    کہا جاتا ہے کہ 1948ء سے پہلے یہ تمام علاقہ فلسطین کا حصہ تھا۔ 1948ء میں اسرائیل نے فلسطین پر قبضہ کر لیا اور یہ قبضہ تاحال جاری ہے۔
    اس سے پہلے اس علاقے پر فرانسیسی اور انگریز حکومت کرتے رہے ہیں۔
    اس ملک کا دار الحکومت بیت المقدس ہے۔جس پر 1967ء میں اسرائیل نے قبضہ کر لیا تھا۔
    حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس فتح کیا، اور اس دوران حضرت عمر فاروق ؓ نے مسجد اقصٰی کی بنیاد رکھی۔خدا کی توحید اور وحدانیت پر ایمان کی تبلیغ کا آغاز پیغمبر حضرت ابراہیمؑ کی فلسطین میں آمد سے ہوا۔حضرت ابراہیمؑ کا مزار بھی سر زمین فلسطین پر ہے۔بیت المقدس کو اسرائیلی یروشلم بھی کہا جاتا ہے،
    مسلمانوں کا قبلہ اول اسی جگہ واقع ہے۔ اور اس شہر کو مسلمان، یہودی ، اور مسیحی جو کہ مختلف مزاہب رکھتے ہیں، اس کو آج بھی مقدس مانتے ہیں۔

    فلسطین کو انبیاء کرام علیہم السلام کی سر زمین بھی کہا جاتا ہے، دین اسلام کی اشاعت کے سلسلے میں کئی انبیاء کرام حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام، ،حضرت سلیمان، حضرت یحییٰ علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام اور بہت سے دیگر پیغمبر اس مقدس سر ذمین سے گزرے ہیں ۔تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ فلسطین کی سرزمین پر مسلمان، عیسائی اور یہودی مقیم رہے ہیں۔
    جبکہ آج کل اسرائیل اور مغربی کنارے میں یہودی اسرائیلی شناخت کرتے ہیں۔قابض ملک اسرائیل کے موجودہ عرب شہری اپنی شناخت اسرائیلی، فلسطینی یا عرب کے طور پر کرواتے ہیں۔
    اکثریت آبادی مسلمان ہے، اور سرکاری زبان عربی ہے۔
    اہم شہر غزہ، بیت لحم، الخلیل اور
    ادیان اسلام ہیں۔

    فلسطین دنیا کے قدیم ترین ممالک میں سے ایک ہے۔اور اس کی آزادی کی جنگ اس کے وجود میں آتے ہی شروع ہو گئی تھی جو ابھی تک جاری ہے۔ دنیا کی ہرزبان کے ادب میں اس کی آزادی کی جدوجہد پر کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔
    اور آج کل اسرائیلی جارحیت کے تحت یہ سرزمین اپنے اوپر ہونے والے ظلم و ستم کے باعث خبروں کی زینت بنی ہوئی ہے، اپنی آزادی کی جنگ کے دوران اس ملک میں کئی جنگیں، عوامی تحریکیں اور بڑے پیمانے پر شہریوں پر مظالم اور ان کے قتل عام ہوتے رہے ہیں۔

    ایک اندازے کے مطابق اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد ساڑھے 7 لاکھ فلسطینیوں کو اپنی آبائی سرزمین فلسطین سے نکال دیا گیا، اور مقامی لوگوں نے اپنی سرزمین چھوڑ کر قریبی ممالک مصر ، عراق، لبنان اور شام کی جانب رخ کیا۔ اور جو لوگ اس وقت رہ گئے تھے، وہ اسرائیلی ریاست کے تسلط میں ہیں، جن کے ساتھ آج تک اسرائیلی مظالم جاری ہیں۔
    اسرائیلی دہشت گردی گزشتہ 73 سالوں سے جاری ہے، جس کا نتیجہ ہر بار معصوم جانوں کا ضیاع اور نقل مکانی کی صورت میں نمودار ہوتا ہے۔
    رواں سال بھی اسرائیل فوج نے اس بار رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں ليلۃ القدر کے موقع پر مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کے علاقے شیخ جراح سے فلسطینیوں کو زبردستی نکالا، اور پر تشدد حملے شروع کیے، ان حملوں کے دوران رواں برس 7 سے 18 مئی 2021 ء کی سہ پہر تک 34 خواتین اور 58 بچوں سمیت 201 افراد جاں کی بازی ہار گئے۔
    اسرائیل کی یہ کاروائیاں کئی برسوں سے جاری ہیں، اور تمام امت مسلمہ اس پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
    ایک اندازے کے مطابق سال 2017 ء میں تقریباً 30 لاکھ کے قریب فلسطینی شہری بے آسرا اور گھروں کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، کیوں کہ ان کے گھر اسرائیلی جارحیت کے دوران مسمار کر دئیے گئے ہیں، اور شہر میں آئے دن یہودی بستیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
    پس سات دہائیوں سے مظالم کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔
    گذشتہ کئی روز سے فلسطینی اپنے گھروں تک محدود ہو کے رہ گئے تھے، کیونکہ باہر نکلنا بھی موت کا باعث بن سکتا تھا۔
    اسرائیلی دہشت گردی کے نتیجے میں ایک مرتبہ پھر مشرق وسطیٰ مسلمانوں کے خون سے سرخ ہو چکی ہے۔خاص طور پر اسرائیلی افواج نے اس دوران معصوم بچوں کو نشانہ بنا کر مسلمانوں کی نسل کشی کی طرف قدم بڑھائے ہیں۔

    اس کے علاوہ غزہ شہر دہشت گردی کے دوران بمباری کے نتیجے میں بری طرح تباہ اور متاثر ہوا ہے۔تاہم گزشتہ دنوں اسرائیل کے ساتھ تازہ فلسطینی جھڑپیں شروع ہونے کے بعد سے حماس کے اسرائیلی جارحیت کے مد مقابل انتہائی منظم خودکش حملوں کے سلسلے کو بہت پذیرائی ملی ہے، اور تمام فلسطینیوں نے سکھ کا سانس لیا ہے، حماس اور اسرائیل اپنی اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
    دنیا میں حماس فلسطینیوں تک یہ پیغام پہنچانے میں کامیاب ہو چکا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی لڑائی کے لیے اور یروشلم، (مسجد اقصٰی) اور فلسطینی ریاست کے حقوق کے لیے قربانیاں دینے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔
    حماس کی طرف سے دنیا کیلئے ایک چھوٹا سا پیغام ہے کہ اس کے خدا کی وحدانیت پر یقین رکھنے والے بہادر جنگجو ”آخری دم تک یروشلم کے لیے لڑتے رہیں گے”
    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اسرائیلی جارحیت کے خلاف امن و امان کی کارکردگی میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے،
    اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور مسجد اقصیٰ کے تحفظ کی خاطر مسلمانوں کو اٹھ کھڑے ہونا ہے۔

    @_aqsasiddique

  • اسلامی دنیا کے مساٸل اور حل تحریر:شمسہ بتول

    اسلامی دنیا دورِ جدید میں بھی بہت سے مساٸل سے گزر رہی ہے باوجود اس کے کہ اسلامی ممالک کے پاس قدرتی وساٸل کی افراط ہے لیکن ان وساٸل کا بہترین استعمال ابھی تک یقینی نہیں بنایا گیا ۔
    مغرب کے معاشی نظام نے ترقی پزیر ممالک اور اسلامی ممالک کے لیے بہت سی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ اسلامی ممالک کا حال بھی اس وقت وہی ہے جو ترقی پزیر ملکوں کا ہے۔ اسلامی ممالک کو بین لاقوامی منڈی میں اپنے ملک میں بناٸی گٸی اشیاء کو اپنے ٹریڈ مارک سے بیچنے کی اجازت نہیں دی جاتی اور اگر انہیں اس بات کی اجازت لینا ہو تو اس کے لیے انہیں بہت زیادہ کمیشن ادا کرنا پڑتا۔ آٸی۔ایم ۔ایف اور ورلڈ بینک کی بہت سی پالیسیز ایسی ہیں جو کہ ترقی پذیر ممالک اور اسلامی ممالک کی معیشت کو مزید کمزور کر رہی ہیں۔ اور بعض دفعہ یہ جان بوجھ کر بہت ایسی پالیسیز تشکیل دیتے ہیں جس سے حکومتوں کو گرایا جا سکا۔
    آج سے 51 سال پہلے25 ستمبر 1969 اسلامی ممالک کی تنظیم وجود میں آٸی جس کا کام اسلامی مملک کی فلاح و بہبود تھا لیکن اس تنظیم کے قیام کے اتنے عرصے بعد بھی مسلمانوں کی حالت میں کوٸی بہتری نہیں آٸی۔دنیا میں مسلمانوں کی تعداد 1٠5 بلین ہونے کے باوجود بھی مسلمانوں کے پاس کوٸی ویٹو پاور نہیں ۔دیگر اقوام مسلمان قوم کو تحقیر آمیز نگاہ سے دیکھتی ہیں۔
    اسلامی بلاک امیر ممالک پر مشتمل ہے جیسے سعودی عرب ، کویت ، متحدہ عرب امارات اور لیبیا۔ لیکن وہ اتنے فعال اور طاقتور نہیں ہیں جیسا کہ ان کے بلاک میں کسی غریب ملک کی مدد کرنے کے لیے ان کے پاس بنیادی وسائل ہیں لیکن کوئی منصوبہ بندی نہیں ان میں ترقی کی کمی ہے۔ ان کے پاس اربوں ڈالر ہیں جو تیل کی فروخت سے آتے ہیں ، لیکن امریکہ یا مغربی ممالک کے ہاتھوں میں رہتے ہیں۔ اگرچہ پاکستان ، مذکورہ اسلامی ممالک کے مقابلے میں کم وسائل والا ہے ۔اسلامی ممالک پر یہ فرض ہے کہ وہ مسلم ممالک کے عالمی مسائل میں مقابلہ کرنے کے لیے صنعت کے ساتھ ساتھ زراعت کو بھی ترقی دیں۔
    اتحاد کا فقدان مسلم ممالک کی ایک اور اہم معذوری ہے۔ وہ مختلف مسائل پر مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ مزید یہ کہ سازش کرنے والے اور غدار ہمارے اپنے بھی ہیں۔ جو اپنے مقصد کو بہت زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔ کشمیر کے لیے ان کے پاس متحد آواز نہیں ہے۔ فلسطین اور کشمیر عرصٸہ دراز سے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ان کے گھروں کو آگ لگا دی گٸی بچوں کو شہید کر دیا گیا عورتوں کی عصمت دری کی گٸی مگر اقوامِ متحدہ اور امن کے علمبردار دیگر ممالک خاموش تماشائی بنے سب دیکھتے رہے یہاں تک کے انسانی حقوق کی تمام تنظیمیں بچوں کے عورتوں کے حقوق کی تنظیمیں سب خاموش ہیں لیکن سب سے زیادہ ان ممالک کے لیۓ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ بہت سے اسلامی ممالک نے بھی ان کا اس مشکل گھڑی میں ساتھ نہیں دیا۔ جبکہ کشمیر اور فلسطین پوری امت مسلمہ کا مسٸلہ ہے اور دنیا کی طرف حل طلب نگاہوں سے دیکھ رہا ہے لیکن افسوس کے تمام مسلم ممالک نے اتفاق نہیں کیا اس مسٸلہ پر۔ فلسطین میں اسرائیل أور بوسنیا کی راۓ اور مطالبات میں اختلاف ہے ۔پی ایل او ، مصر اور لیبیا ہندوستان کے مقصد کی حمایت کرتے ہیں ۔ فلسطین کے لیے ، مصر کا باقی عرب دنیا سے اختلاف ہے۔ عراق کویت جنگ میں ہم دونوں ممالک کو بچا نہیں سکے کیونکہ ہم ایک اُمت ہو کر بھی ٹکڑوں میں بٹے ہوے ہیں جس کا نقصان ہمارے مسمان بھاٸی بہنیں اور بچے اُٹھا رہے ہیں۔ ہمارے درمیان باہمی اتفاق اور اتحاد اور اعتماد کی شدید کمی ہے جس کا فاٸدہ ہمارے دشمن بخوبی اُٹھا رہے ہیں۔
    امت مسلمہ کا اتحاد اپنی آزادی ، ترقی ، استحکام ، بقاء کو برقرار رکھنے اور اپنی سابقہ ​​شان و شوکت اور وقار کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے ۔ وہ تمام رکاوٹیں جو مسلم اتحاد کی راہ میں حائل ہیں ہمیں ان رکاوٹوں کا تدارک کرنا ہو گا اور باہمی اتحاد سے ان رکاوٹوں کو جڑ سے اکھاڑنا ہو گا۔ دنیا میں اپنی قابلیت کا لوہا منوانا ہو گا ہمارے پاس وساٸل ٹیلنٹ اور اعلی تعلیم یافتہ نوجوان نسل موجود ہے ہمارے پاس کسی چیز کی کمی نہیں اگر کمی ہے تو آپسی اتفاق اور بھاٸی چارے کی۔ مسلم دنیا اس کمی کو ختم کرنا ہو گااور مل جل کر اپنے تمام تر وسائل کو بہتر طریقے سے بروۓ کار لانا ہو گا۔ بین الاقوامی منڈی میں اپنی تجارت کو مضبوط کرنا ہو گا۔ مسلم دنیا کے اپنے مالیاتی ادارے ، دفاعی پیداواری یونٹ ، فلاحی تنظیمیں ، چارٹر وغیرہ ہونا بہت ضروری ہے ۔مسلمانوں کو کسی بھی فریق کے خلاف ہدایت نہیں دی جاتی لیکن پھر بھی دنیا ان کے لیے دہشتگرد اور انتہا پسند جیسے الفاظ استعمال کرتی ہے جبکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ مسلمان ممالک متاثر ہوۓ اور سب سے زیادہ قربانیاں مسلمانوں نے دیں۔ اگر مسلمان اپنی صفوں میں اتحاد و اعتماد پیدا کر لیں تو مسلمان نہ صرف ایک عظیم قوم بن کر دنیا کے نقشے پر ابھریں گے بلکہ دنیا سے استحصال ، ناانصافی ، جہالت ، ظلم ، اندھیرے ، ناامیدی وغیرہ کو بھی دور کر دیں گے۔ ان کا اتحاد قوموں کے اتحاد میں ان کا درجہ بلند کرے گا.تمام اسلامی ممالک کے سر براہان کو آپس میں اور اپنی قوموں کے درمیان اتحاد و یگانگت کو فروغ دینا ہو گا تا کہ ہم دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ بحال کر سکیں۔

    @b786_s

  • 15 اگست 2021 ،اسلام کی فتح مبارک تحریر۔۔۔ امِ فائز

    15 اگست 2021 ،اسلام کی فتح مبارک تحریر۔۔۔ امِ فائز

    طالبان پشتون کا لفظ ہے جس کے معنی طلبہ کے ہیں۔۔ ایمان و عزم کی یہ تاریخ بہت طویل یے۔۔
    امریکہ کے افغانستان قبضے سے پہلے یہاں روس نے 1978 میں قبضہ جمانے کی کوشش کی۔ جسکے نتیجے میں 1979 میں افغانیوں نے اسکے خلاف علان جہاد کیا ۔ اس جہاد میں پاکستان کی آئی ایس آئی ، فوج اور پاکستانی عوام بھی شامل ہوئے۔ یہ جنگ 1990 میں ختم ہوئی اور روس بہت سے ٹکروں میں تقسیم ہوگیا۔ مجاہدین نے اپنا ملک صلیبی تسلط سے آزاد کروا لیا ۔ بل آخر 1995 میں باقاعدہ *ملا محمد عمر* نے اسلامی شریعت کا نفاذ کیا اور افغانستان کے امیر مقرر ہوئے۔ 5 سال یہاں اسلامی قانون کے تحت ملک چلایا گیا۔ عوام خوشحال ہوئی ۔ برائی و بےحیائی سے افغانیوں نے چھٹکارا حاصل کیا۔عدل و انصاف نے معاشرے کو خوبصورت بنانا شروع کیا۔

    مگر امریکہ کو اپنی سپر پاور بننے کے راستے میں افغانستان کانٹے کی طرح چھبنے لگا۔۔۔۔۔ چونکہ اللہ کا نظام ہی وہ واحد نظام تھا جو طاغوت کیلئے خطرہ ہو سکتا تھا۔ جبکہ امریکہ اسرائیل نیو ورلڈ آڈر کی تیاری کر رہے تھے ۔

    افغانستان میں زبردستی گھسنے کیلئے انکو ایک جواز چاہیے تھا جو وہ دنیا کو پیش کر سکیں۔
    2001 میں امریکہ نے 9 ستمبر کا جعلی ڈرامہ رچایا اور دنیا بھر میں مسلمانوں کو دہشتگرد دکھا کر پوری یورپی یونین، انڈیا اور ترکی کو شامل کیا ۔ نیٹو کے نام پر کم و بیش 30 ممالک کی اتحادی فوجیں اکٹھی کرکے افغانستان میں زبردستی اتار دیں اور کہا کہ افغانستان میں دنیا کے خطرناک ترین دہشت گرد ہیں جن سے ساری دنیا کے امن کو اور خاص کر امریکہ کی سالمیت کو خطرہ ہے۔۔۔

    ملا عمر اپنے طالبان کیساتھ غاروں میں پناہ گزین ہوئے اور گوریلا جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا۔
    پاکستان میں اس وقت مشرف دور تھا ۔ ریاستی پالیسی بدل گئی۔۔ پاکستان کے فضائی اڈے استعمال کرکے افغانستان پر ڈرون حملے کیے گئے۔ نیٹو کی سپلائی، اسلحہ پاکستان سے جاتا رہا۔
    20 سال کی ایک طویل اور عصاب شکن جنگ کے بعد بل آخر 15 اگست 2021 کو افغان طالبان مکمل طور پر افغانستان کو امریکی تسلط سے چھڑانے میں کامیاب ہوئے۔
    اس سے پہلے حال ہی میں پاکستان نے امریکہ کو اپنے فضائی اڈے مزید دینے سے انکار کر دیا۔ اس پر امریکہ بات چیت پر آگیا کہ طالبان کیساتھ جنگ بندی کرکے مفاہمت کا راستہ نکالا جائے ۔ جس میں اقتدار امریکہ کی کٹ پتلی حکومت اشرف غنی کے ہاتھ رہے ۔ طالبان کی طرف سے ہمیشہ ایک شرط رکھی گئی کہ افغانستان میں جمہوریت نہیں شریعت نافذ ہوگی تو وہ جنگ بندی کریں گے ورنہ نہیں۔ اس پر طاغوت کبھی سمجھوتا نہیں کر سکتا تھا۔ آخر کار دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی، جدید جنگی ساز و سامان اور پورے طاغوت کی اجتماعی طاقت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی اور انتہائی زلت و رسوائی کے عالم میں وہاں سے فرار ہوئی۔ 20 سالہ طویل جدوجہد اور لاکھوں شہدا کی قربانیاں دے کر افغان مجاہدین اللہ رسول کی مدد سے کامیاب ہوئے ۔۔۔
    *واضح رھے کہ اس فتح کی پیشنگوٸی آج سے17سال قبل 2005 ٕسے پہلے کی گئی۔ جب شاہ احمد نورانی رحمہ اللہ کی زبانی یہ بات پتا چلی کہ ملا محمد عمر کو خواب میں سرکار دو عالم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ ملا محمد عمر کے مطابق سرکار دو عالم ﷺ کی جانب سے انہیں ایمان کیساتھ ڈٹے رہنے کی ہدایت فرمائی گئی۔*
    طالبان تعداد میں صرف 75 ہزار اور افغان آرمی ساڑے تین لاکھ ۔۔۔۔ مگر اللہ کا وعدہ پورا ہوا اور کم تعداد والے کثیر تعداد والوں پر اپنے ایمان اور توکل کی بنا پر غالب آگئے۔

    یہاں ایک اور طرف توجہ دلانی درکار ہے۔ ملا عبدالغنی جو اس وقت افغانستان کے صدر بن چکے ہیں، ماضی میں پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی بے وفائی کا شکار ہوئے۔ پرویز مشرف نے انکو گرفتار کرکے پاکستانی جیل میں ڈالا۔۔۔ آج دونوں کا انجام دنیا نے دیکھ لیا۔۔ طاغوت کی خاطر لڑنے والا زلت و رسوائی کی زندگی گزار رہا اور پاکستان کی زمین اس پر حرام ہوچکی یے۔ جبکہ دوسری طرح اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے دین کی سربلندی کی خاطر صعوبتیں برداشت کرنے والا آج کس شان و شوکت کیساتھ اپنے ملک کا صدر بن گیا۔۔۔

    ہم موجودہ پاکستان حکومت کو بھی تنبیہ کرنا چاہتے ہیں۔ ماضی کے حکمرانوں کی غلطیوں سے سبق حاصل کریں۔ تحریک لبیک پاکستان کے امیر سعد حسین رضوی پر ناجائز ظلم و جبر کرنا بند کریں۔۔ اور شریعت ِ محمدی کے نفاذ کے عمل کو وطنِ پاکستان میں یقینی بنائیں۔ ورنہ حق تو آیا ہی غالب ہونے کیلئے ہے۔ اسکی راہ میں جو بھی حائل ہوا۔ مولا علی کرم اللہ وجہہ کے فرمان کے مطابق حق اسکی کمر خود توڑ کر رکھ دیتا یے۔
    *اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسہ*
    *ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارہ*
    *عقل ہے تیری سپر ، عشق ہے شمشیر تیری*
    *مرے درویش ! خلافت ہے جہاں گیر تری*
    *ماسوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تری*
    *تو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری*

    **
    *@2convincing*

  • فضیلتِ یومِ عاشورہ تحریر: عقیلہ رضا

    فضیلتِ یومِ عاشورہ تحریر: عقیلہ رضا

    اسلامی سال کا آغاز ماہِ محرمُ الحرام سے ہوتا ہے جس کا شمار حرمت والے مہینوں میں ہوتا ہے، یہ مہینہ بہت ہی عظمت و بَرَکت والا مہینہ ہے، جو ہمیں صبر و ایثار کا درس دیتا ہے۔ اس ماہِ حرمت میں عبادت کرنے اور روزہ رکھنے کے متعلق متعدَّد فضاٸل وارِد ہوۓ ہیں، نیز اسی ماہ میں یومِ عاشورہ جو اپنی خُصوصیات میں ممتاز ہے، نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
    آٸیں کچھ اس دن کی فضیلت کے متعلق جانتے ہیں!
    *10 محرم عاشورہ کے روز حضرتِ آدم علیہ الصلوة والسلام کی توبہ قبول کی گٸی۔
    *اِسی دن انہیں پیدا کیا گیا۔
    *اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا۔
    *اسی دن عرش، کرسی، آسمان، زمین، سورج، چاند، ستارے اور جنت پیدا کٸے گٸے۔
    *اسی دن حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوة والسلام پیدا ہوۓ۔
    *اسی دن انہیں آگ سے نجات ملی۔
    *اسی دن حضرت موسیٰ علیہ الصلوة والسلام اور آپ کی امت کو نجات ملی اور فرعون اپنی قوم سمیت غرق ہوا۔
    *حضرت عیسیٰ علیہ الصلوة والسلام پیدا کٸے گٸے۔
    *اسی دن انہیں آسمانوں کی طرف اٹھایا گیا۔
    *اسی دن حضرت سیدنا نوح علیہ الصلوة والسلام کی کشتی کوہِ جودی پر ٹھہری۔
    *اسی دن حضرت سلیمان علیہ الصلوة والسلام کو ملکِ عظیم عطا کیا گیا۔
    *اسی دن سیدنا یعقوب علیہ الصلوة والسلام کی بینائی کا ضُعف دور ہوا۔
    *اسی دن سیدنا یونس علیہ الصلوة واسلام مچھلی کے پیٹ سے نکالے گٸے۔
    *اسی دن سیدنا یوسف علیہ الصلوة والسلام گہرے کنویں سے نکالے گٸے۔
    *اسی دن سیدنا ایوب علیہ الصلوة واسلام کی تکلیف رَفع کی گٸی۔
    *آسمان سے زمین پر سب سے پہلی بارش اسی دن نازل ہوٸی۔
    *اسی دن کا روزہ اُمتوں میں مشہور تھا۔
    اور
    *اسی دن امامُ الہُمام، امامِ عالی مقام، امامِ عرش مقام سیدنا امامِ حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو مع شہزادگان و رُفقاء تین دن بھوکا پیاسا رکھنے کے بعد اسی عاشورہ کے روز دشتِ کربلا میں انتہائی سفّاکی کے ساتھ شہید کیا گیا۔
    المختصر یومِ عاشورہ نہایت فضیلت و اہمیت کا دن ہے۔۔۔ اس دن کی اہمیت کو سمجھتے ہوۓ عبادات و نیک اعمال کا اہتمام کیا جاۓ، صدقہ و خیرات ،ذکر و درود، تسبیحات ،نوافل اور، روزے کا اہتمام بھی ضرور کیا جاۓ کیونکہ اس دن کے روزے کی فضیلت بہت زیادہ ہے۔
    حضرت سیدنا عبداللہ ابنِ عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ:
    میں نے رسولِ کریم صلى الله عليه واله وسلم کو کسی دن کے روزہ کو اور دن پر فضیلت دیکر جُستجو فرماتے نہ دیکھا مگر یہ کہ عاشورہ کا دن اور یہ کہ رمضان کا مہینہ۔
    (صیح بخاری، حدیث:2006)
    حضرت سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ:
    رسول اللہ صلى الله عليه واله وسلم نے فرمایا:
    مجھے اللہ عزوجل پر گُمان ہے کہ عاشورہ کا روز ایک سال قبل کے گناہ مِٹا دیتا ہے۔
    (صیح مسلم،حدیث:1162)
    ارشادِ مصطفیٰ صلى الله عليه واله وسلم:
    یومِ عاشورہ کا روزہ رکھو اور اس میں یہودیوں کی مخالفت کرو،اس سے پہلے یا بعد میں بھی ایک دن کا روزہ رکھو۔
    (مسندِ اماماحمد، حدیث:2154)
    یعنی 10 محرم یومِ عاشورہ ہے تو اس سے ایک دن پہلے 9 محرم کا روزہ اس کے ساتھ ملا لیا جاۓ یا 11 محرم کا روزہ اس کے ساتھ ملا لیا جاۓ، تنہا 10 محرم کا روزہ نہ رکھا جاۓ۔
    یومِ عاشورہ میں عبادات کے ساتھ ساتھ یہ نیت اور عہد بھی کیا جاۓ، کربلا والوں کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوۓ کہ ہم اس دن سے اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کریں گے کربلا والوں کے صدقے میں عملی مسلمان بننے کی کوشش شروع کریں گے۔ ان شاء اللہ عزوجل
    کربلا والوں سے محبت کے دعوے کو عمل کی ضروت ہے۔
    اللہ کریم ہمیں اس دن کی عزت و حرمت کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔
    آمین

    @aqeela_raza

  • غریب کیا مانگے دو وقت کی روٹی  تحریر  : انجینیئر مدثر حسین

    غریب کیا مانگے دو وقت کی روٹی تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    مشکل اور مشکلات کا دوسرا نام زندگی ہے۔ ہم نے تو ہی سنا ہے۔ اس مختصر سی زندگی کو جینے کے لئے مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں شاید اتنی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا اگر ہم انسانیت کا درس دیتے اور عملی طور پر انسانیت کے لئے کچھ کرتے تو اس دنیا میں بے بس اور مجبور انسان بھوک سے نہ مر رہے ہوتے۔

    آج ہم اپنے معاشرے میں نظر دوڑائیں تو ہمارے ہاں مذہبی رجحان سب سے زیادہ پایا جاتا ہے ہمارے مذہبی علما منبر پر بیٹھ کر سادگی اور انسانیت کے ساتھ بھلائی کا درس دیتے نظر آتے ہیں لیکن صرف الفاظ کی حد تک عملی طور پر ہمیشہ وہ فرقہ واریت اور مذہبی انتہا پسندی میں متحرک نظر آتے ہیں۔ کروڑوں روپے کی گاڑی سے اتر کر بہترین اور مہنگی خوشبوئیں لگا کر پیر صاحب عالم صاحب مولانا صاحب مریدین کے گھیرے میں آتے ہیں۔

    یہاں کوئی ہاتھ چوم رہا تو کسی نے قدموں کا بوسہ لیا لاکھوں روپے خرچ کر کے محفل سجتی ہے کھانے بنتے ہیں نذرانے پیش کیئے جاتے ہیں۔ دوسری طرف ایک غریب کا بچہ کسی اشارے پر کھڑے گاڑیوں کو صاف کر رہا ہوتا یا کسی پارک میں پھول بیچتا نظر آتا ہے۔
    میرے خیال میں پھول کے ہاتھوں سے پھول خریدتے وقت زندہ ضمیر ضرور سوچتے ہوں گے ان میں انسانیت کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ بھی پیدا ہوتا ہو گا مگر کروڑوں میں کوئی ایک ہی عبدالستار ایدھی بنتا ہے۔ہمارے حکمران سینکڑوں کی تعداد میں سکیورٹی کے نام پر خرچ کرتا ہے

    وہیں یہ سب کچھ دیکھ کر غریب کا بچہ ڈر رہا ہوتا ہے جو احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے صاحب اسے تو دو وقت کی روٹی چاہیئے وہ اپنی ماں کا لاڈلا اپنی بہنوں کا ویر عمر میں جتنا بھی چھوٹا ہو اپنے گھر کا بڑا ہوتا ہے۔ حالات اور مشکلات کے مارے زندگی کے ستائے یہ غریب لوگ روز قیامت اپنے خدا سے سوال ضرور کریں گے۔ وہ اس تقسیم پر اپنے اللہ تعالٰی سے ضرور پوچھیں گے۔ پھر اس کا جواب اس کا ذمہ دار ہر وہ صاحب استطاعت شخص ہو گا ہر وہ عالم ہو گا ہر بادشاہ ہو گا جو اپنی زندگی میں مگن رہا جس نے اپنے علم کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا خدارا آپ اپنے اندر رحم پیدا کریں۔

    ان پارکوں میں کھڑے بچے بازاروں ، گلی ، محلوں میں ریڑھی لگائے معذور اور کم سن کسی سڑک کے کنارے کچھ بیچتے ہوئے بوڑھے۔
    میری بہنوں اور بھائیوں اس وطن کے باشعور شہریوں یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے دلوں میں نہ محلات بنانے کی کوئی خواہش ہوتی ہے نہ ہی حکمرانی کرنے کی وہ صرف دو وقت کی روٹی کے لئے زندگی کی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں او آج عہد کریں ہم اپنے اندر احساس پیدا کریں گے۔ہمیں خود کو بدلنا ہو گا خود کو تبدیل کرنا ہو گا کوئی حاکم ہمیں نہیں بدلے گا۔

    یہ چراغ ہم خود ہی روشن کرنا ہوگا اپنے حصے کی شمع خود روشن کرنی ہو گی ۔
    اللہ پاک ہم سب کو سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @EngrMuddsairH

  • امن اور ترقی میں مذہب کا کردار تحریر: احسان اللہ خان

    امن اور ترقی میں مذہب کا کردار تحریر: احسان اللہ خان

    اللہ تعالیٰ نے کرۂ ارض کی اس وسیع وعریض، خوبصورت اور ہر طرح کی نعمت سے مالا مال ہستی کو انسانیت کے لئے بنایا ہے، اس کائنات اور اس سے متعلق تمام چیز میں ہمہ وقت انسانیت کی خدمت میں مشغول ہیں، سورج اس کے لئے ہر دن روشنی کا انتظام کرتا ہے، زمین اس کے قدموں میں بچھی ہوئی ہے اور اس کی غذائی ضرورت کے لئے بار بار اپنے سینے کا چاک ہونا اور پامال کیا جانا قبول کرتی ہے۔ درختوں کا کام یہ ہے کہ مزے دار پھل اور عطر بار پھول مہیا کرنے کے علاوہ آلودہ ہواؤں کو اس کے لئے صاف کریں، تا کہ اسے آکسیجن کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے، بادل سمندر سے کھارے پانی کا ڈول بھربھر کر اسے صاف اور شیریں بناتا ہے اور کھیتوں اور آبادیوں تک باران رحمت پہنچاتا ہے، سمندر کی متلاطم موجیں نہ جانے کتنی ساری آلودگیوں کو ختم کرتی ہیں اور ان کی زہرا کی سے انسان کو خوظ رکھتی ہیں، ہوا میں ہر وقت اس کے مفاد کے لئے دوڑ بھاگ میں لگی ہوئی ہے اور دنیا میں جتنے جاندار ہیں، وہ سب کسی نہ کسی پہلو سے اس کی خدمت میں مصروف ہیں، یہاں تک کہ جن جانوروں کی درندگی انسان کولرزاں وترساں رکھتی ہیں، ان کا وجود بھی کسی نہ کسی پہلو سے انسان کے لئے فائدہ مند نفع بخش ہی ہے۔
    غرض کہ پوری کائنات انسان کی خدمت اور اس کے لئے عیش وراحت کی فراہمی میں مشغول ہے۔ اسی لئے قرآن کا تصور یہ ہے کہ کائنات انسان کا معبودنہیں ہے ، بلکہ اس کی خادم ہے : ( الجاثية : ۳ ) لیکن دو چیزیں ایسی ہیں جو انسان کے لئے بے حد ضروری ہیں عیش وعشرت کے جتنے بھی وسائل حاصل ہو جائیں، اگر یہ دو چیزیں اسے میسر نہ ہوں تو اس کی زندگی بے سکون اور اس کی آرزوئیں ناتمام رہتی ہیں۔
    امن اور ترقی اسی لئے اللہ تعالی نے اہل مکہ پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تمہیں اس لئے بھی رب کعبہ کی عبادت کرنی چاہئے کہ اس نے عرب کے صحرا میں غذائی ضرورت اور کسی حکومت اور لا اینڈ آرڈر کا انتظام نہ ہونے کے باوجود ان کا انتظام فرمایا ہے۔ خوف و دہشت سے حفاظت کا تعلق امن سے اور غذائی اشیاء کی فراہمی کا تعلق ترقی سے ہے، زندگی کے لئے مطلوب ساری سہولتیں اللہ تعالی کا خصوصی عطیہ ہیں مگر یہ دونوں نعمتیں وہ ہیں، جن کو اللہ تعالی نے انسان کے ارادہ اور کوششوں سے تعلق رکھا ہے اور انسان کو اسی بصیرت اور صلاحیت عطا کی گئی ہے کہ اگر اس کی کوشش صحیح سمت میں ہو تو ان کو حاصل کر سکتا ہے۔
    حقیقت یہ ہے کہ ان کے قائم ہونے کا تعلق قیام عدل سے ہے، عدل کی تفصیل یہ ہے کہ زندگی گزارنے کے تین طریقے ہو سکتے ہیں ، جن کا قرآن مجید نے ذکر کیا ہے۔ عدل، احسان اورظلم، عدل کے معنی یہ ہیں کہ دوسرے کو اس کا پورا پورا دے دیا جائے اور خود اپنے حق سے زیادہ ن لیا جائے ، احسان یہ ہے کہ دوسرے کو اس کا حق اس کے حصہ سے بڑھ کر دیا جائے اور خود اپنے حصہ سے کم کیا جائے یا اپنا حصہ نہیں لیا جائے قرآن مجید نے ان ہی دونوں طریقہ کار کو درست اور قابل قبول قرار دیا ہے لیکن آئیڈ یل طریقہ یہ ہے کہ انسان ’احسان‘ سے کام لے، جس کو بندے کے حقوق کے معاملہ میں ایثار کے لفظ سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے، چنانچہ قرآن مجید میں جگہ جگہ احسان کی تعریف کی گئی ہے، فرمایا گیا : اللہ احسان کرنے والے لوگوں کو پسند فرماتے ہیں۔ یہ بھی فرمایا گیا کہ جولوگ احسان کا رویہ اختیارکریں۔ اللہ تعالی ان کو بہتر بدلہ اور انعام سے محروم نہیں کریں گے۔ اس کے بالمقابل ظلم اسلام کی نظر میں بدترین گناہ اور اللہ تعالی کی نافرمانی ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ ظالم کامیاب نہیں ہوسکتا، ناکامی و نامرادی ہی اس کا حصہ ہے۔ ظالموں کا انجام ہلاکت و بربادی ہے اور اللہ تعالی ظالموں کو پسند نہیں فرماتے۔ قرآن پاک میں دو سو سے زائد مقامات پر تلف جہتوں سے ظلم کی اور ظالموں کی مذمت فرمائی گئی ہے اور بہت زیادہ مقامات پر عدل کا اور احسان کا حکم دیا گیا ہے یا اس کی تحسین کی گئی ہے۔ جب معاشرہ میں عدل قائم ہوگا ، لوگوں میں احسان کا جذبہ پیدا ہوگا اور ظلم کرنے والے ہاتھ تھام لئے جائیں گے تو یقینا وہ معاشرہ ان کی دولت سے بہرہ ور ہوگا۔
    Twitter | @IhsanMarwat_786

  • فضیلت رکھنے والی کتاب قرآن مجید تحریر  : راجہ ارشد

    فضیلت رکھنے والی کتاب قرآن مجید تحریر : راجہ ارشد

    استاد کا ادب و احترام بھی اس طرح لازم ہے جس طرح بزرگوں اور والدین کا ادب کرنا فرض ہے۔ معلم استاد کو کہتے ہیں۔ اور ہمارے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو معلم انسانیت بنا کر بھیجا گیا تھا اور علماء آپ ﷺ کے وارث ہیں یعنی علم کو آئندہ آنے والی نسلوں تک پہنچاتے ہیں۔اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ استاد روحانی باپ ہوتا ہے جو بچے کی ایسی تربیت کرتا ہے ۔ جو والدین اپنی مصروفیت اور بچے سے لاڈ پیار کی وجہ سے نہیں کر سکتے۔

    آپ اکثر اپنے سکول یا گھر کے مالی کو پودوں کی دیکھ بھال اور کانٹ چھانٹ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ وہ پودوں کو کتنی مہارت سے تراشتا ہے۔ارد گرد سے گھاس پھونس اور کانٹے دار کانٹے دار جھاڑیوں کو صاف کرتا ہے۔جس سے ایک تو پودوں کی نشوونما بہتر طریقے سے ہوتی ہے۔دوسرے وہ اپنی ترتیب کی وجہ سے خوبصورت اور نمایاں نظر آتے ہیں۔بالکل اسی طرح استاد بھی بچے کو اپنی محبت، شفقت، علم اور اعلی کردار جیسی خوبیاں منتقل کرتا ہے۔دنیا میں جتنے بھی بڑے لوگ گزرے ہیں اپنے اساتذہ کا عکس ہوتے ہیں۔استاد ہی نیکی بدی کی پہچان سکھا کر آدمی کو آچھا انسان بناتا ہے۔

    استاد ہمیں دنیاوی علم دیتا ۔علم کے معنی ہیں چیزوں کی حقیقت کو جاننا۔علم ایک ایسا راستہ ہے ۔ جس کے ذریعے آدمی انسانیت کے درجے پر پہنچ جاتا ہے۔ یعنی اس میں آچھائی اور برائی میں فرق کرنے کی عادت پیدا ہو جاتی ہے ۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے جو پہلی وحی آئی وہ بھی علم کے بارے میں تھی ۔ اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر مسلمان پر طلب علم فرض ہے۔

    علم کیا ہے ؟ اس کی اہمیت یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے انسان کو تمام مخلوقات فرشتوں ، جنات وغیرہ پر فضیلت اس علم کی وجہ سے دی ہے ۔ ورنہ کھانے پینے سونے جاگنے میں تو جانور اور انسان سب برابر ہیں۔ آپ ﷺ کے فرمان کے مطابق جو شخص علم کے راستے پر چلتا ہے ۔تو فرشتے اس کے راستے میں اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول ہے۔ اللہ نے ہمیں علم عطا کیا اور دنیاداروں کو دولت کہ علم آدمی کی حفاظت کرتا ہے۔ اور آدمی دولت کی علم کا ذکر کتابوں کے ذکر کے بغیر ناممکن ہے۔کیونکہ حکمت و دانائی کی تمام باتیں کتابوں میں محفوظ ہیں۔ بالکل اس طرح جیسے بینکوں میں دولت۔ کتابیں علم کا خزانہ ہیں اور خزانوں کی حفاظت کی جاتی ہے۔مگر کتابوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ان کا احترام کرنا بھی ضروری ہے ۔اب آپ سوچیں گے کہ کتابوں کا احترام کیسے کیا جاتا ہے۔وہ ہے ان کا مطالعہ اور عمل ۔ عالم کی فضیلت تمام لوگ پر ایسی ہے جیسی تمام راتوں میں چودھویں کے چاند کی اسی طرح تمام کتابوں پر فضیلت رکھنے والی کتاب قران مجید ہے۔

    @RajaArshad56

  • حسین رضی اللہ عنہ شجاعت کی مثال   تحریر : ماریہ بلوچ

    حسین رضی اللہ عنہ شجاعت کی مثال تحریر : ماریہ بلوچ

    حسین رضی اللہ عنہ کون تھے؟؟ حسین ابن علی ابن ابی طالب نواسہء رسول ﷺاور اس باپ کے بیٹے تھے جنکا لقب ہی "حیدر” ہے۔ بہادری و جرات حسین ابن علی رضی اللہ عنہ کی گھٹی میں تھی۔
    ‏حسین ابن علی رضی اللہ عنہ اسلام کے ہیرو ہیں انکی بہادری و شجاعت نے جس طرح اسلام میں اک نئ روح پھونک کر اسلام کو تاقیامت قائم رہنے والا دیں بنانے کا حق ادا کیا تاقیامت اسکی مثال مل ہی نہیں سکتی حسین ابن علی رضی اللہ عنہ نے حق کے لیے آواز اس وقت بلند کی جب لوگ باطل کے ڈر سے اٹھنے کی ہمت نہ کر پا رہے تھے۔۔ میدان کربلا میں حق پر ثابت قدمی اس قدر کہ باطل کسی طرح بھی اپنے مذموم مقاصد‏حاصل نہ کر سکا۔
    دنیا میں کوئ بھی حق پر بہادر انسان اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے اپنی جان کی بازی تو لگا سکتا ہے مگر اپنا پورا کنبہ قربان نہیں کر سکتا ایسا حوصلہ ہمت اور بہادری حسین ابن علی رضی اللہ عنہ ہی کی تھی جن کے آگے اللہ کے دین کی حفاظت
    ‏سے بڑھ کر کچھ نہ تھا۔ اپنی جان مال اولاد سب اللہ کے لیے اسکے آخری نبی ﷺ کے دین کی حفاظت و سربلندی پر قربان کر دیا۔۔ لیکن صد افسوس ہم جیسی قوم پر ہم نے یہ بھلا دیا کہ حسین رضی اللہ عنہ کی اس عظیم قربانی کا عظیم مقصد کیا تھا؟ ہم مجرم بن گئے۔ ہم ‏نے انکی قربانی کو ضائع کیا۔ ہم نے اسی دین میں فرقے بنا لیے۔۔ اور ظلم عظیم یہ کہ حسین کے نام پر ہی فرقے بنا کر اسلام کی طاقت کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا۔
    ہم نے اپنے ہیرو کی شجاعت کو اپنا کر دنیا میں اسلام کا بنانا تھا اور ہم نے اس اسلام کو ہی پارہ پارہ کر دیا….
    حسین رضی اللہ عنہ ہمارے محسن ہمارے ہیرو اور ہم نے دنیا کے آگے اپنے اس بہادر جری نڈر
    ‏حق پرست ہیرو کو مظلوم
    شخصیت بنا کر پیش کر دیا۔۔ہم نے کربلا کی شجاعت کی داستانوں کو بدل کر مظلومیت کی داستان بنا کر حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ تاریخ میں بہت بڑا جرم کیا۔ وہ حسین ابن علی رضی اللہ عنہ جن کہ جنکی شہادت کی خبر اللہ نے ﷴﷺ کو اس وقت دے دی جب نواسہء رسولﷺ گود میں کھیل رہے تھے۔ ہم نے اپنی نسلوں کو شہادت حسین رضی اللہ عنہ تو بتائ شجاعت حسین رضی اللہ عنہ بتانا بھول گئے ہماری نسلوں نے شہادت حسین رضی اللہ عنہ کو ایک تہوار بنا کر منا تو لیا مگر ہماری نسلیں حسین رضی اللہ عنہ کو اپنا ہیرو‏ نہ بنا سکیں۔ جب ماوں نے نسلوں کو حسین رضی اللہ عنہ کی مظلومیت ہی سنائ اور انکی شخصیت کا صرف ایک پہلو اپنی نسلوں کے سامنے رکھا ، جب انکو حسیںن رضی اللہ عنہ کی شجاعت بتائ ہی نہ گئ تو ہماری نسلوں میں حسینی پیدا ہونے سے رہ گئے ۔ہماری نسلوں نے ادھر ادھر کی دنیا سے ادھار ہیرو مانگ کر بنا لیے۔ ہائے افسوس ہم کیسی قوم ہیں ؟؟؟ہم احسان فراموش بزدل قوم ہیں، بزدل قومیں ہی اپنے ہیروز کی مظلومیت دنیا کے سامنے بیان کرتی ہیں۔ بہادر قومیں تو اپنے ہیروز کی بہادری کی داستانوں سے تاریخ کے اوراق بھر دیا کرتی ہیں۔ اپنی نسلوں کو اسی بہادری کے قصے سنا کر جوان کرتی ہیں اور پھر ہی تو ان قوموں کے جوان سینہ تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔
    ہم قصوروار ہیں مگر امید ابھی موجود ہے ہم نہ سہی ہماری آنے والی نسلوں میں ایسے جوان بنانے کی جن کی منزل وہی ہو جو حسین رضی اللہ عنہ کی تھی جن کی

    ‏زندگیوں کا مقصد حسین ابن علی رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چل کر باطل سے ٹکرا جانا ہو۔ جن کے خوف و ہیبت سے باطل لرزا جایئں۔ جنکی شجاعت اسلام کو تقویت بخشے۔
    مایئں بچوں کو گود میں حسین رضی اللہ عنہ کی شجاعت سنایئں گی جب ایسا ممکن بھی صرف ہو گا تب۔
    باپ اولاد کے دل و دماغ میں حسین رضی اللہ عنہ کا خاکہ بنایئں گے تب ہونگے اس ‏اس قوم میں حسینی پیدا۔ تب ہو گا اسلام کا ہر سو اجالا۔۔۔۔۔۔

    Twitter handle: @ShezM__

  • عہد نبوی میں نظامِ حکومت تحریر: محمد سمیع اللہ ملک

    عہد نبوی میں نظامِ حکومت تحریر: محمد سمیع اللہ ملک

    عام خیال یہ ہے کہ اسلام کو عرب میں ایک عادلانہ نظامِ حکومت میں قائم کرنے میں جو دشواریاں پیش آئیں وہ تمام تر اہل عرب کی وحشت، بداوت اور جہالت کا نتیجہ تھیں۔ لیکن در حقیقت اس سے زیادہ یا اسی کے برابر خود وقت کا تمدن بھی اسلام کے عادلانہ نظامِ حکومت کا دشمن تھا اور اسکی مخالفت وحشت سے زیادہ اور دیرپا تھی چنانچہ 8ھ میں فتح مکہ کے بعد اگرچہ وحشی عربوں نے اسلام کے سامنے اپنی گردنیں جھکا دیں، لیکن وقت کے تمدن کا سر پر غرور اب تک بلند تھا چنانچہ نامہ اقدس کے جواب میں شہنشاہ ایران کا جواب اور قیصر روم کے حامیوں کے مقابلے میں غزوہ موتہ وغیرہ واقعات جو 9ھ میں پیش آئے اور اسکے بعد خلافت راشدہ میں ایرانیوں اور رومیوں سے لڑائیاں اسی سرکشی کا نتیجہ تھیں۔
    اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ چھٹی عیسوی میں جو آپ ص کی بعثت اور اسلام کے ظہور کا زمانہ ہے، دنیا کی تمام سیاسی قوتیں مشرق و مغرب کی دو عظیم الشان طاقتوں کے زیر سایہ تھیں مشرق کی نمائندگی فارس کے کسری اور مغرب کی قسطنطنیہ کے قیصر کر رہے تھے اور ان دونوں کے ڈنڈے عرب کے عراقی و شامی حدود پر ا کر ملتے تھے عرب کے وہ قبائل جن میں زرا بھی تہذیب و تمدن کا نام تھا وہ انہی دونوں میں سے کسی کے زیر اثر اور تابع تھے یمن ، بحرین ، عمان ، اور عراق ایرانیوں کے اور وسط عرب اور حدود شام رومیوں کے ماتحت یا زیر اثر تھے۔
    چنانچہ نجمی خاندان نے مقام حیرہ میں ایرانیوں کی ماتحتی میں ایک وسیع سلطنت قائم کی تھی جس کے درماں روا نعمان بن منذر وغیرہ تھے غسانی خاندان جو آپ ص کے زمانے تک قائم رہا رومیوں کی سرپرستی میں حدود شام پر حکومت کرتا تھا یمن میں مدت تک خود عرب کی مستقل خاندانی ریاستیں قائم تھیں۔ لیکن آخر زمانہ میں یمن خود ایرانیوں کے علم کے نیچے آگیا تھا چنانچہ آپ ص کے زمانے میں یمن میں باذان نامی ایرانی حاکم موجود تھا، عرب پر ان سلطنتوں کا اس قدر اقتدار قائم ہو چکا تھا کہ خود عربوں کے ذہن میں جب کسی نظامِ حکومت کا خیال آتا تھا تو اسی ایرانی یا رومی نظامِ حکومت کا خیال آتا تھا، ان سے الگ ہو ان سے بالاتر کسی نظام زندگی کا تخیل ان کے ذہن کی گرفت سے بالاتر تھا۔
    اس بنا پر اسلام عرب میں جو نظامِ حکومت قائم کرنا چاہتا تھا اسکے لئے صرف یہی کافی نہ تھا کہ عرب کی قدیم وحشت کو مٹا کر اسلامی تہذیب و تمدن کی داغ بیل ڈالی جائے بلکہ سب سے مقدم کام یہ تھا کہ عرب کو غیر قوموں کے دماغی تسلط سیاسی مرعوبیت اور ان کے اخلاقی و تمدنی اثر سے آزاد کرایا جائے بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر نہ صرف عربوں کو بلکہ سارے عالم کو انسانوں کے خود ساختہ قانون کی غلامی سے نکال کر قانون الٰہی کی اطاعت و فرمانبرداری میں دے دیا جائے اور بتایا جائے کہ قانون الٰہی کو چھوڑ کر دوسرے انسانی قوانین کی پابندی کرنا شرک کا دوسرا راستہ ہے لیکن جیسا کہ اسلام کے تمام فرائض و اعمال میں ترتیب و تدریج ملحوظ رہی ہے اس طرح اسلام کے نظام میں حکومت میں بھی بتدریج ترقی ہوتی گئی چنانچہ اگرچہ آپ ص ساری دنیا کی اصلاح کے لئے آئے تھے مگر آپ ص نے اپنا کام عرب سے شروع کیا تاکہ ایک ایسی صالح جماعت کا ظہور ہو جو آپ ص کے سامنے بھی اور آپ ص کے بعد بھی اس فرض کی تکمیل میں مصروف رہے۔
    لیکن یہی تدریجی ترتیب خود اہل عرب کی اصلاح میں بھی ملحوظ تھی چنانچہ سب سے پہلے آپ ص نے عرب کے اندرونی حصے یعنی تہامہ ، حجاز اور بخد کے لوگوں کے سامنے اسلام کو پیش کیا اور آپ ص کی 23 سالہ زندگی کے تقریبا سولہ سترہ سال انہی قبائل کی اصلاح و ہدایت میں نذر ہو گئے یہی وجہ ہے کہ مدینہ کے نخلستان کی طرح اگرچہ ہجر ویمامہ کے سبزہ زار بھی اسلام کو اپنے دامن میں پناہ دینے کے لئے آمادہ تھے اور قبائل یمن کے ایک بڑے رئیس طفیل دوسی نے آپ ص کو قبیلہ دوسی کے ایک عظیم الشان قلعے کی حفاظت میں لینا چاہا تھا لیکن آپ ص نے ان متمدان مقامات کو چھوڑ کر مدینہ کی سنگلاخ زمین کو دارالہرہ بنایا وہ اگرچہ منافقین اور یہود کی وجہ سے مکہ سے زیادہ پر خطر تھا اور ابتدا میں مہاجرین رضی کے لئے اسکی آب و ہوا سازگار نہ تھی تاہم آپ نے اسی کی طرف ہجرت فرمائی لیکن جب رفتہ رفتہ عرب کے اس حصہ میں کافی طور پر نظام اسلام قائم ہو گیا اور صلح حدیبیہ نے عرب کے مرکز یعنی مکہ کا راستہ صاف کر دیا اور وہ فتح ہو گیا تو اب عرب کے دوسرے حصوں کی طرف توجہ کا وقت آ گیا اس بناپر اسلام کے دائرہ عمل کو وسعت دی گئی اور عرب کے ان حصوں کی طرف توجہ فرمائی گئی۔