Baaghi TV

Category: متفرق

  • یہ برطانیہ ہے جہاں سڑک کا نام بھی  گینیز ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہوگیا

    یہ برطانیہ ہے جہاں سڑک کا نام بھی گینیز ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہوگیا

    لندن:گینیز ورلڈ ریکارڈ میں‌برطانیہ کی سڑکیں اپنی جگہ بنانے لگیں.حال ہی میں‌ایک برطانوی سڑک کا نام گینیز ورلڈ ریکارڈ میں شامل کرلیا گیا۔ برطانیہ میں واقع ویلز کی اس سڑک چڑھنے کا سوچ کر ہی ہمت جواب دے جاتی ہے،اپنی اسی انفرادیت کی بنا پر اس سڑک کانام نہ صرف گنیز بک میں شامل کرلیا گیا ہے بلکہ یہ سڑک لوگوں کی توجہ کا مرکز بھی بنی ہوئی ہے۔

    برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق ویلز کے ہارلیک ٹاؤن میں دنیا کی سب سے ڈھلوان سڑک 2.86 میٹر کے بعد ایک میٹر اونچی ہے جس کے باعث سڑک پر چلنے والوں کیلئے یہ سفر مزید دشوار ہوجاتا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل یہ ریکارڈ نیوزی لینڈ کے شہر ڈنیڈن کی سڑک کے پاس تھا جو 2.67 میٹر کے بعد ایک میٹر اونچی ہے۔

  • ماڈلنگ یا ماڈل بکری ،ملائیشیا کےشہری نے اپنی بکری کو دنیا کی خوبصورت بکری قراردیا

    ماڈلنگ یا ماڈل بکری ،ملائیشیا کےشہری نے اپنی بکری کو دنیا کی خوبصورت بکری قراردیا

    کوالالمپور:بکریوں کی بھی ماڈلنگ ہونے لگی ،ملائیشیا میں دنیا کی خوبصورت ترین بکری کے مالک نے اسے فروخت کے لیے پیش کردیا۔تفصیلات کے مطابق ملائیشیا کے دارالحکومت کے رہائشی کسان احمد محمد فیدزیر کے گھر بکری کے بچے کی پیدائش ہوئی جس کی تصاویر انہوں نے سوشل میڈیا پر شیئر کیں تو صارفین نے اسے دنیا کی خوبصورت ترین بکری کا اعزاز دیا۔

    ملائیشیا کے اس شہری کی سفید رنگ کی بکری کا قد زیادہ بڑا نہیں البتہ اُس کے چہرے کے نیچے داڑھی اور سر پر خوبصورت ریشمی بال ہیں، احمد محمد بکری کے حسن کو مزید بڑھانے کے لیے اُن کی مانگ نکال کر رکھتا ہے۔احمد کے مطابق انہوں نے گزشتہ دنوں بکری کی ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر شیئر کی تو ہر کسی نے اس کی تعریف کی اور یہ مشہور ہوئی، کچھ نے تو اسے بکریوں میں ماڈل قرار دیا۔

    بکری کے مالک کا کہنا تھا کہ جب بکری کی پیدائش ہوئی تو یہ انہیں دیگر سے منفرد اور خوبصورت لگتی ہے کیونکہ اس کے سرپر خوبصورت بال ہیں جو کسی کے بھی نہیں ہیں۔احمد کا کہنا تھا کہ میرا فی الحال اسے فروخت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں البتہ اگر کوئی اسے خریدنا چاہتا ہے تو وہ 150 یورو ادا کر کے لے جاسکتا ہے۔ (پاکستانی کرنسی کے حساب سے مالیت 27 ہزار روپے کے قریب بنتی ہے)

    Comments

  • ففتھ جنریشن وار اور ہماری زمہ داری ۔۔۔ ملک سعادت نعمان

    ففتھ جنریشن وار اور ہماری زمہ داری ۔۔۔ ملک سعادت نعمان

    پاکستان میں آج کل ‘ففتھ جنریشن وار فئیر’ کی اصطلاح کا استعمال کافی عام ہو گیا ہے۔ حکومت کے وزرا ہوں یا پاکستانی فوج کے ترجمان یا سوشل میڈیا پر صارفین، سب نے مخلتف مواقع پر اس بات کو دہرایا ہے کہ ہمیں ففتھ جنریشن وار فئیر کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
    یوں تو ففتھ جنریشن وار ہر زبان زد عام ہے مگریہ جاننا ناازحد ضروری ہے کہ یہ ہے کیا؟
    جس طرح فورتھ جنریشن وار فیصلہ کن اور ایک مہلک جنگی حکمت عملی تھی۔اس میں بھاری اور قیمتی اسلحہ کا استعمال کرتے ہوئے دشمن کو زیر کیا جاتا تھا جیسے عراق کا کویت پر حملہ پھر سویت یونین اورافغانستان کی جنگ کے بعد سویت یونین کاٹوٹ کر بکھر جانا اور امریکی حمایت یافتہ ملیشیا کا قابل پر قبضہ۔
    پھر امریکہ کا ہی افغانستان پر حملہ کرکےدوبارہ جنگ میں دھکیلنا وغیرہ ایسی بہت سی مثالیں ہیں جن میں طاقت اور قوت کے ساتھ دشمن پر حملہ کیا جاتا اور بہت جلد اس کو تباہ و برباد کر دیا جاتا تھا۔اسی طرح اب روایتی ہتھیاروں کی جنگ کی جگہ ایک نئی حکمت عملی نے لے لی ہے جو آج کل ففتھ جنریشن وار فئیر کے نام سے مشہور ہے۔
    نوے کی دہائی میں عراق کو مسلسل اقتصادی پابندیوں کے ذریعے اندر سے کھوکھلا کرنا اور کیمیائی و حیاتیاتی اسلحہ اور وسیع تر تباہی والے ہتھیاروں کے ذخیرے اور صلاحیت کے متعلق انتہائی مبالغہ آمیز پراپیگنڈوں کے ذریعے عالمی سطح پر تنہا کرنا اور پھر شدید بمباری کرتے ہوئے مختلف شہروں کو تباہ کردینا بغداد اور دوسرے علاقوں کے اندر امریکی اور امفوج کو داخل کرکےبہت جلد مطلوبہ نتائج حاصل کرنا ففتھ جنریشن وار کا ہی شاخسانہ ہے۔
    یہ طریقہ جنگ کم خرچ بالا نشیں کے مصداق سمجھاجاتا ہے۔
    اور کم خرچ میں میں بہت زیادہ بہتر نتائج حاصل کئے جاتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد امریکہ اور اسرائیل کی مہربانی کی بدولت القاعدہ سے داعش کوپیدا کیا اور ففتھ جنریشن وار کے ذریعے مسلمانوں کے اندر زہر قاتل کی صورت اس کو بڑھاوا دیا تاکہ اس شدت پسند تنظیم کی مدد سے دنیا میں اسلام کو دہشت گرد مذہب گردانہ جائے اور اسی کی مدد سے مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جانے لگا۔ الغرض
    مختلف متحارب گروہوں اور عوام کو انکی افواج کے خلاف کھڑا کیا گیا جیسا کہ شام لیبیا یمن اور عراق جیسے ممالک کے ساتھ ہوا۔
    اسی طرح ففتھ جنریشن وار کو پاکستان میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کی جانب سے گمشدہ افراد کا واویلہ کیا جاتا ہے اور بیرونی این جی اوز موم بتی مافیہا کی مددسےاسکو ایک بڑا ایشو بنا دیتی ہیں۔جبکہ وہ لوگ انہی تنظیموں کے کارکن ہوتے ہیں۔
    اسکو سمجھنے کے لیے کراچی میں چائنہ کے سفارت خانے پر حملے کا ملزم جو گمشدہ افراد کی لسٹ میں شامل تھا اسی طرح گزشتہ ماہ گوادر میں ایک ہوٹل پر ہوئےحملے کے ملزم بھی نام ونہاد گمشدہ افراد کی لسٹ میں شامل تھے جو آپریشن کے دوران مارے گئے
    اسی طرح مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کو استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کے اندر مختلف لسانی صوبائی اور مسلکی تفرقات کو ہوا دی جا رہی ہے۔
    اور دشمن قوتوں کی طرف سے مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے سکیورٹی کے مختلف اداروں کے خلاف پراپیگنڈا مہم لانچ کی گئی ہے جس کا مقصد اداروں اور عوام میں دوریاں پیدا کرنا ہے۔
    پی ٹی ایم۔ایم کیو مسلم لیگ ن اور ان جیسی بہت سی تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں استعمال ہورہی ہیں۔
    تاکہ عوام کے اذہان کو تسخیر کرتے ہوئے افواج پاکستان کے خلاف غلط فہمیاں پیدا کی جائیں۔
    موجودہ حالات کا تقاضہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم تمام قسم کے لسانی صوبائی اور مسلکی اختلافات کے ساتھ ساتھ شخصیت پرستی کے ناسور سے بھی بالاتر ہوکر ایک قوم بنیں اور اپنی مسلح افواج اور ایجنسیز کے ساتھ کھڑے ہوں تاکہ وہ اپنی بھر پور قوت کے ساتھ ملکی دفاع کو مزید مضبوط اور مستحکم بنائیں یہ تبہی ممکن ہے جب ہم اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے وطن عزیز پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
    ہر فورمز پر اپنے نظریات کا دفاع کریں۔
    اور منفی پروپیگنڈوں کے خلاف سینہ سپر ہو جائیں مضبوط اور طاقتور پاکستان ہی ہماری بقا کا ضامن ہے اور اسی طرح اسلامی فلاحی ریاست کے خواب کی تعبیر ممکن ہے۔

  • آسٹریلیا: سونے کی تلاش میں کھدائی کے دوران 4 ارب 60 کروڑ سال قدیم پتھر دریافت

    آسٹریلیا: سونے کی تلاش میں کھدائی کے دوران 4 ارب 60 کروڑ سال قدیم پتھر دریافت

    کینبرا: دنیا میں‌پہاڑ کھودنے پر چوہے کے نکلنے کی ضرب المثل تو مشہور ہیں لیکن سونے کی تلاش کرتے کرتے سونے سے بھی قیمتی دھات کا نکل آنا بہت کم ہی سنا ہیے. ایسا ہی ایک وا قعہ آسٹریلیا میں سونا تلاش کرنے والے شخص نے چار ارب 60 کروڑ سال قدیم سرخ پتھر دریافت کرلیا۔ رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کے شہری ڈیوڈ ہول سونے کی تلاش میں اپنے گھر کے قریب کھدائی کررہے تھے کہ اُن کی نظر ایک عجیب سے سرخ رنگ کے پتھر پر پڑی۔

    آسٹریلوی میڈیا کے مطابق ڈیوڈ ہول پتھر اٹھا کر ماہرین ارضیات کے پاس گئے جنہوں نے اس پر تحقیق کی تو یہ بات سامنے آئی کہ یہ ٹکڑا دراصل شہابِ ثاقب ہے اور اتنا ہی قدیم ہے جتنی زمین کی عمر ہے۔ماہرین کے مطابق پتھر 4 ارب 60 کروڑ سال قدیم ہے، سائنسی تاریخ کے حساب سے بھی کرہ ارض کی عمر تقریباً اتنی ہی ہے۔

    ڈیوڈ ہول کے پاس پتھر کے حوالے سے ماہر ارضیات نے اس ایجاد پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ پتھر دراصل ایچ 5 آرڈینری کونڈرائٹ نامی شہابِ ثاقب ہے، جس کا شمار اُن پتھروں میں ہوتا ہے جو ابتدائی نظام شمسی سے جڑے ہوئے ہیں‘‘۔

    بل برچ کا کہنا تھا کہ زمین کے معرض وجود میں آنے کے وقت پتھر کی بھی پیدائش ہوئی، اس ٹکڑے کی تاثیر اور اجزا زمینی پتھروں سے بالکل مختلف ہے جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ خلاء سے زمین پر اُس وقت گرا جب وہ تیار ہوئی‘‘۔

  • میری نظر میں آج عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کا نچوڑ۔۔۔(نعمان بھٹہ)

    میری نظر میں آج عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کا نچوڑ۔۔۔(نعمان بھٹہ)

    کیا پاکستان عالمی عدالت انصاف میں بھارتی جاسوس کلبھوش کے حوالے سے مقدمہ جیت گیا؟؟؟
    ●جس طرح پاکستانی میڈیا پر عالمی عدالت انصاف کے فیصلہ کو پاکستانی موقف کی جیت بیان کیا جارہا ہے اسی طرح بھارتی میڈیا کلبھوش کیس کے فیصلے کو اپنی حکومت کی کامیابی بیان کررہا ہے۔
    ●اب آتے ہیں حقیقت کی جانب پہلے تو ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ آخر عالمی عدالت انصاف میں چلنے والا یہ مقدمہ ہے کیا ؟
    ●پاکستان نے اپنے ملک میں جاسوسی اور تحریب کاری کے الزام میں بھارتی نیوی کے ایک حاضر سروس آفیسر کو بلوچستان سے گرفتار کیا جس نے پاکستانی اداروں کے سامنے کئی راز اگلے۔
    ان رازوں میں بلوچستان سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں علیحدگی پسندوں کو بھارتی سرپرستی میں دہشتگردی کی تربیت اور انہیں پاکستان میں مختلف تحریب کاری کی کاروائیوں میں استعمال کرنا بھی شامل تھے ۔
    ●کلبھوشن نے اپنے کئی ویڈیو بیانات میں بھی پاکستان میں دہشتگردی کا اعتراف کیا۔
    ●اب آجاتے ہیں انڈیا کے عالمی عدالت انصاف میں اپنائے گئے موقف پر ۔۔۔۔
    انڈیا کے عالمی عدالت انصاف میں جانے کی وجہ صرف اور صرف کلبھوشن تک کونسلررسائی حاصل کرنا تھی۔
    ●پاکستان بھارت کو کلبھوشن تک کونسلر رسائی دینے سے ہمیشہ انکاری رہا۔
    ●عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے بعد پاکستانی میڈیا اسے اپنی کامیابی بیان کررہا ہے۔
    میڈیا کہ مطابق عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کی رہائی کے بھارتی مطالبے کو مسترد کردیا جبکہ اصلیت یہ ہے کہ بھارت نے تو کبھی کلبھوشن کی رہائی کا مطالبہ کیا ہی نہیں وہ تو صرف کلبھوشن کے معاملہ پر کونسلر رسائی مانگ رہا تھا۔
    ●عالمی عدالت انصاف نے کونسلر رسائی کے بھارتی موقف کو تسلیم کر تے ہوئے ویانا کنونشن کے تحت بھارت کو کلبھوشن تک کونسلر رسائی دینے کا حکم دیا۔

    ●اس کے بعد سوچیں آج کا فیصلہ پاکستان کی جیت ہے یا انڈیا کی؟؟

  • نفاذِ اردو کے لیے ہمارا سفر ۔۔۔ فاطمہ قمر

    نفاذِ اردو کے لیے ہمارا سفر ۔۔۔ فاطمہ قمر

    ہم ہر اس پاکستانی کو خوش آمدید کہتے ہیں اور اس کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں جنہوں نے ہمیں دیکھ کر یا ہماری دعوت پر نفاذ اردو کا جھنڈا اٹھایا ہے۔ ہم نے نفاذ اردو کی آواز عملی طور پر ایسے اجتماعات میں بلند کی جہاں انگریزی کی غلامی کے خلاف بات کرنا ” کفر ” سمجھا جاتا تھا۔ جب ہم پاکستان میں نفاذ اردو کی بات کرتے تھے لوگ ہمیں ہونق ہو کر دیکھتے تھے۔ ہمارا مذاق اڑاتے تھے’ ہم نے نفاذ اردو کا پیغام پاکستان کے سب سے بڑے انگریزی غلامی کے علمبردار ایچی سن کالج سمیت پاکستان کی ہر مقتدر شخصیت کو دیا۔ ہم نے آرمی چیف کو خط لکھا کہ وہ آئین کی پاسداری کرتے ہوئے براہ کرم اپنے عہدے کا حلف اردو میں لیں ۔الحمدللہ! آرمی چیف نے ہماری بات کی لاج رکھی اور پاکستان کے پہلے آرمی چیف بنے جنہوں نے اُردو میں حلف لیا!
    ہم نے موجودہ وزیر خارجہ کو اقوام متحدہ میں اردو میں خطاب کرنے کے لیے قائل کیا۔
    الحمداللہ! انہوں نے ہماری درخواست پر اقوام متحدہ میں پہلی مرتبہ اردو میں بات میں کر کے اقوام عالم میں پاکستان کا وقار بلند کیا!
    ہم نے لاہور ‘ اسلام آباد میں نفاذ اردو کی ملک گیر کامیاب کانفرنسیں منعقد کی ہیں!
    ہم نے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کو آئین کی شق 251 جو پاکستان کی زبانوں کے حوالے سے ہے اس پر عملدرآمد کی طرف توجہ دلائی۔ اس سلسلے میں ان کو عملی طور پر ان کے مقدمے کے ترجمے بھی اردو میں کر کے دیے جس سے متاثر ہوکر چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے ایک اسلام آباد کے وکیل کوکب اقبال کا پرانا مقدمہ جو 2003 میں مٹی کی گرد میں دبا ہوا تھا جس کی سماعت جسٹس ناصر الملک کررہے تھے۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ کو بطور خاص درخواست دے کر اس کی سماعت شروع کی۔۔۔اور اپنی سبکدوشی کے آخری لمحوں میں نفاذ اردو کا تاریخ ساز فیصلہ کرکے اپنا نام تاریخ میں رقم کر گئے۔ اور آج بھی وہ اس مقدمے کے نفاذ سے الگ نہیں ہیں ۔ گاہے بگاہے اس مقدمے کے حوالے سے ہماری رہنمائی کرتے رہتے ہیں۔ لمز یونیورسٹی جیسے انگریزی میڈیم ادارے سے وابستہ ہوکر وہاں طلباء اور اساتذہ میں نفاذاردو کا شعور بیدار کر رہے ہیں۔
    پورا پاکستان نفاذ اردو کے حوالے سے ہماری کوششوں سے واقف ہے۔ ہم نفاذ اردو کی جنگ عدالتوں’ سڑکوں’ ذرائع ابلاغ’ بازاروں’ ریستوران’ تعلیمی اداروں’ دفتروں غرض ہر جگہ لڑ رہے ہیں۔۔
    ہماری کانفرنس میں پاکستان کی ہر مقتدر شخصیت ‘ تمام شعبہ زندگی’تمام سیاسی جماعتوں، سول و عسکری قیادت آتی رہی ہے ۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان’ جنرل حمید گل مرحوم، جنرل راحت لطیف’ بریگیڈیئر حامد سعید’ جنرل غلام مصطفی ‘ اوریا مقبول جان’ عرفان صدیقی’ سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان’ مجیب الرحمٰن شامی’ ڈاکٹر اجمل نیازی’ ڈاکٹر خواجہ ذکریا’ پروفیسر فتح ملک’ اعجاز چوہدری ‘ محمود الرشید’ سعدیہ سہیل’ بشری رحمن’ سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ‘ڈاکٹر فاطمہ حسن’ سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید’ ڈاکٹر جاوید منظر’ سابق وزیر تعلیم رانا مشہود’ سابق وزیر بلوچستان صالح بلوچ’ قیوم نظامی’ ابصار عبدالعلی ‘ ڈاکٹر افتخار بخاری’ جسٹس ناصرہ اقبال’ سمیعہ راحیل قاضی اور ایک لمبی فہرست ہے جو ہماری کوششوں سے واقف ہیں۔ ہم اپنی تحریک کے قائد عزیز ظفر آزاد کی قیادت میں دن رات نفاذ اردو کے لئے سر گرم ہیں۔ ان شاءاللہ اردو کو پاکستان کا نظام زندگی بنا کر ہی دم لیں گے!
    ہم نے تہیہ کیا ہے کہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک اردو کو پاکستان کی عدالتی ‘ سرکاری اور تعلیمی زبان نہ بنادیں!
    ان شاءاللہ! اللہ کے فضل سے پاکستان میں نفاذاردو کی منزل بہت قریب ہے!
    فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • ابھینندن کا کپ پاکستان میں اور کوہلی کا کپ انگلینڈ میں ۔۔۔ اسد عباس خان

    ابھینندن کا کپ پاکستان میں اور کوہلی کا کپ انگلینڈ میں ۔۔۔ اسد عباس خان

    تاریخ گواہ ہے ہندوستان نے جب جب پاکستان کے خلاف چوری چھپے سازش کی یا کھلم کھلا دھوکہ دہی، ہمیشہ ناکام و نامراد ہوا خواہ کھیل کا میدان ہو یا جنگی محاذ ! اور تماشہ بھی پوری دنیا نے دیکھا رات کے اندھیرے میں نہیں بلکہ دن کی چمکدار روشنی میں۔۔۔۔۔۔۔! ہندوستانی وایو سینا کے ابھینندن نے لائن کراس کر کے مار کھائی تو سینا کے نشان زدہ گلوز پہن کر کھیلنے پر اصرار کرنے والے سینائی سپوت دھونی نے لائن کراس نہ کر کے "سوا سو کروڑ” کے دیش واسیوں کی لٹیا ڈبو دی۔ ورلڈ کپ سے قبل آسٹریلیا کے خلاف پانچ ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں کی دو طرفہ سیریز میں دو صفر کی برتری حاصل ہونے کے بعد "بنیے” کے سازشی دماغ میں پاکستان مخالفت کی "کُھرک” ہوئی تو کرکٹ جیسے مہذب افراد کے کھیل میں بھی سیاست گھسیڑ دی۔ تیسرے ایک روزہ میچ میں ہندوستانی کھلاڑی بھارتی فوج کی ٹوپی پہن کر گراؤنڈ میں اترے تو پاکستانی نژاد آسٹریلوی کھلاڑی عثمان خواجہ نے پورے ہندوستان کو ہی ٹوپی پہنا دی۔ اس میچ میں سینچری بنانے والے عثمان خواجہ نے اگلے دونوں میچز میں بھی شاندار کارکردگی دکھائی اور آسٹریلیا دو کے مقابلے میں تین میچز جیت کر سیریز پر قابض ہو چکا تھا اور عثمان خواجہ مین آف دی سیریز کا حق دار قرار پایا۔ آج ورلڈ کپ کے میچ میں ہندوستان صرف ہارا نہیں ذلیل و رسواء ہوا ہے، ذلالت کی وجہ وہی میچ ہے جو پاکستان کو سیمی فائنل میں جانے سے روکنے کے لیے انگلینڈ سے جان بوجھ کے ہارا تھا۔
    ہاں ہاں جان بوجھ کر ہارا تھا۔۔۔۔۔۔!
    اس میچ کے لیے ایک بار پھر ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ میں بیٹھے پنڈتوں نے سیاسی چال چلی اور ہندو توا کے خاص زعفرانی رنگ کی جرسی پہن اُتری مقصود وہی تھا جو آسٹریلیا کے ساتھ سیریز میں سوچا گیا۔ انگلینڈ کی ٹیم مضبوط اپنی جگہ لیکن اس ورلڈ کپ میں ہندوستان سے مقابلے سے قبل دو ایشیائی ٹیموں نسبتاً کمزور سری لنکا اور پاکستان سے عبرت ناک شکست کھا چکی تھی۔ اس میچ میں پہلے ہندوستان کے باؤلرز نے انگلش بیٹسمینوں سے دل کھول کر پٹائی کھائی اور گراؤنڈ میں واضح دیکھا جا سکتا تھا کہ ہندوستانی کپتان یا کسی ایک کھلاڑی کے ماتھے پر شکن تک نہ آئی۔ بیٹنگ کا موقع آیا تو روہت شرما جو سب ٹیموں پر برس رہے تھے اچانک بھیگی بلی بنے نظر آۓ سینچری تو بنائی لیکن نہایت سست روی سے۔ البتہ میچ میں ایک موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ ہندوستان جیت سکتا ہے لیکن پھر میدان میں دھونی کی آمد ہوئی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ پانچ وکٹ باقی ہونے کے باوجود "فنشر” کا خطاب یافتہ "دھونی” آخری اوور تک اس خیال سے بیٹنگ کرتا رہا کہ کہیں غلطی سے بھی باؤنڈری نہ لگ جائے۔ ہندوستان کے لیے کھیلتے ہوئے ہدف کے تعاقب میں 47 باریوں میں محض یہ دوسرا موقع تھا جب دھونی ناٹ آؤٹ رہا اور اس کی ٹیم ہار گئی۔ آئی پی ایل میں چنائی سپر کنگ کے کپتان رہنے والے دھونی کی ٹیم میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کے باعث دو سال تک پابندی کا شکار بھی رہی ہے یہ بات تو سب جانتے ہیں۔ سابق ہندوستانی کرکٹر سارو گنگولی جو اس میچ میں کمنٹری کر رہے تھے وہ بھی اپنے ساتھی کمنٹیٹرز کو اس سست روی سے بیٹنگ کرنے کا کوئی جواز نہ پیش کر سکے اور ہندوستان میچ ہار گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
    اس ہار کے اختتام پر ہندوستان میں جشن کا سا سماں تھا۔ کرکٹ کی پوجا اور کرکٹرز کو بھگوان کا درجہ دینے والے ہندوستانی بالخصوص سوشل میڈیا پر اندرونی غلاظت انڈیل رہے تھے۔ علی الاعلان کہا جا رہا تھا کہ ہندوستان نے کرکٹ کے میدان میں پاکستان پر سرجیکل اسٹرائیک کی ہے دھونی کو ونگ کمانڈر ابھینندن سے ملایا گیا۔ زعفرانی رنگ کے بھی چرچے رہے۔ سوائے اس میچ کے میری نظر میں کھیل میں کوئی مقابلہ ایسا نہیں گزرا جب ہارنے والی ٹیم نے پٹاخے پھوڑے ہوں۔ مگر ہاں اسی سال 27 فروری کو دو جنگی جہاز اور ایک ہیلی کاپٹر کی تباہی 20 سے زیادہ فوجیوں کی ہلاکت اور ونگ کمانڈر ابھینندن کا زندہ پکڑے جانے کے بعد عوام سے پڑنے والی چھترول پر ہندوستانیوں کو فخریہ جشن منانا دیکھ چکا تھا۔
    خیر پاکستان سیمی فائنل کھیلنے والی نیوزی لینڈ سے پوائنٹ برابر ہونے کے باوجود بھی سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہ کر سکا حالانکہ اس نیوزی لینڈ ٹیم نے سیمی فائنلسٹ ٹیموں میں سے کسی ایک کو بھی شکست نہیں دی۔ جبکہ پاکستان دو سیمی فائنل کھیلنے والی ٹیموں کو ہرا کر بھی "متنازعہ” نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر باہر ہو چکا تھا۔ چور دروازے سے ورلڈ کپ جیتنے کا خواب دیکھنے والے ہندوستان کو سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ نے روند ڈالا۔ اور آج کے مقابلے میں یہ بھی ثابت ہوا کہ اللہ کی توفیق سے پاکستان کے دشمنوں کا ہر وار الٹا اسی کے گلے کا پھندا بنا۔ جیت نیوزی لینڈ کی ہوئی ماتم ہندوستان میں اور سرخرو پاکستان ہوا۔ آخر میں یہی کہوں گا کہ
    ابھینندن کا کپ لاہور میں
    اور کوہلی کا کپ انگلینڈ میں رہ گیا۔۔۔۔!
    اب "ٹیم انڈیا” کے استقبال کے لیے ہندوستان میں ٹماٹر ختم ہوگئے ہیں تو پاکستان دے سکتا ہے آخر ہمسائے ہیں ہمارے۔

    سدا رہنا پاکستان زندہ باد

  • فاسٹ باؤلرز کی سرزمین سے ابھرتا ہوا ورلڈ کلاس بیٹسمین

    فاسٹ باؤلرز کی سرزمین سے ابھرتا ہوا ورلڈ کلاس بیٹسمین

    فاسٹ باؤلرز کی زرخیز سرزمین پاکستان نے کرکٹ میں ٹیسٹ اسٹیٹس ملنے کے بعد دنیائے کرکٹ کو زبردست تیز ترین باؤلرز دئی۔ فضل محمود سے شروع ہونے والا سلسلہ سرفراز نواز، عمران خان، وسیم اکرم، وقار یونس، شعیب اختر، محمد سمیع، وہاب ریاض سے ہوتا ہوا 19 سالہ نوجوان شاہین شاہ آفریدی تک بِلا تعطل جاری ہے۔ شاندار اسپین باؤلنگ اور اس میں جدت لانے کا سہرا بھی پاکستانی جادوگر باؤلرز کا کارنامہ رہا۔ گگلی ماسٹر عبدالقادر، مشتاق احمد، دوسرا کے موجد ثقلین مشتاق اور جادوگر سعید اجمل کے بعد شاداب خان کی صورت میں آج بھی بیٹسمینوں پر اپنا سحر طاری کیے ہوئے ہیں۔


    دوسری طرف جہاں بیٹنگ پاکستان کی ہر دور میں کمزوری رہی ہے وہیں پاکستان نے ورلڈ کلاس بیٹسمین بھی پیدا کیے ہیں۔ لٹل ماسٹر حنیف محمد، ایشین بریڈ مین ظہیر عباس، جاوید میانداد، لفٹی سعید انور، لیجنڈری انضمام الحق، محمد یوسف، یونس خان، مصباح الحق کے بعد فخر زمان، امام الحق اور رنز مشین بابر اعظم نمایاں ہیں۔
    حالیہ ورلڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں اپنے کیریئر کے تیز ترین 3 ہزار رنز مکمل کر کے ورلڈ ریکارڈ میں ہاشم آملہ کے بعد دوسرے نمبر اور ایشیاء سے پہلے نمبر پر نام درج کروانے والے بابر اعظم موجودہ پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ میں ریڑھ کی ہڈی تصور کیے جاتے ہیں۔ دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے 24 سالہ نوجوان بابر اعظم نے یہ اعزاز اپنے کیریئر کے 70 ویں میچ میں 68 اننگز کھیل کر حاصل کیا۔ شرمیلے اور دھیمے مزاج کے بابر کو بچپن سے ہی کرکٹ کا شوق خاندان سے ملا۔ پندرہ اکتوبر 1994ء کو لاہور میں پیدا ہونے والے بابر اعظم مشہور کرکٹر اکمل برادران (کامران اکمل، عمر اکمل اور عدنان اکمل) کے کزن ہیں۔


    2010ء سے زرعی ترقیاتی بنک کی ٹیم سے اپنے ڈومیسٹک کیریئر کا آغاز کرنے والے بابر نے U19 اور پاکستان اے کی نمائندگی کی۔ اپنی پر اثر بیٹنگ سے سب کے دل موہ لینے والے نوجوان نے اپنا پہلا ایک روزہ بین الاقوامی میچ 31 مئی 2015ء کو پاکستان کے دورے پر آئی زمبابوے کی ٹیم کے خلاف قدافی اسٹیڈیم میں کھیلا۔ جہاں 60 بالز پر 54 کی اننگز کھیل کر اپنی آمد کا اعلان کیا۔ بابر نے 16ویں ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں اپنی پہلی سینچری ویسٹ انڈیز کے خلاف 30 ستمبر 2016ء کو شارجہ میں اسکور کی جب وہ 131 بالز پر 120 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف تین ایک روزہ مقابلوں کی اس سیریز کے اگلے دو میچز میں بھی بالترتیب 123 اور 117 رنز اسکور کیے جو ایک نیا ورلڈ ریکارڈ قائم تھا۔
    اس سے پہلے 7 ستمبر 2016ء کو اولڈ ٹریفٹ کے گراؤنڈ پر انگلینڈ کے خلاف T20 کیریئر کا آغاز کرتے ہوئے 11 بالز پر *15 اسکور کیے اور ناٹ آؤٹ رہے۔ جبکہ محدود اوورز کے اس کھیل میں پہلی ففٹی ویسٹ انڈیز کے خلاف ہی T20 کیریئر کے دوسرے میچ میں دبئی کرکٹ گراؤنڈ پر اسکور کی جہاں 37 بالز پر ناقابل شکست *55 رنز کی اننگز کھیلی۔ ویسٹ انڈیز کے اسی دورے میں 23 اکتوبر 2016ء کو دبئی کرکٹ گراؤنڈ پر ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے بابر نے پہلی اننگز میں 69 اور دوسری اننگز میں 21 رنز اسکور کیے۔ محدود اوورز کی کرکٹ کے برعکس اپنی پہلی سینچری کے لیے بابر کو زیادہ انتظار کرنا پڑا نیوزی لینڈ کے خلاف پاکستان کی میزبانی میں کھیلے گئے تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کے دوسرے میچ میں دبئی کرکٹ گراؤنڈ پر اس فارمیٹ کی پہلی سینچری اسکور کی۔ 24 نومبر کو شروع ہونے والے اس ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں ناقابل شکست رہتے ہوئے 263 بالز پر *127 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جو اب تک اس فارمیٹ میں اس نوجوان کھلاڑی کا سب سے بڑا اسکور بھی ہے۔
    بابر اعظم اب تک 21 ٹیسٹ میچز کی 40 اننگز میں 5 بار ناٹ آؤٹ رہتے ہوئے ایک سینچری اور 11 ففٹیز کی مدد سے 1235 رنز اسکور کر چکے ہیں۔ جہاں ان کی اوسط 35.29 ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں 144 چوکے اور 7 چھکے لگانے والے بابر فیلڈنگ کرتے ہوئے 16 کیچز بھی پکڑ چکے ہیں۔
    ٹیسٹ کرکٹ کی نسبت محدود اوورز کے کھیل میں بابر کی شاندار مہارت خوب نکھر کر نظر آئی۔ ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں اب تک 71 میچز کی 69 اننگز میں دس بار ناٹ آؤٹ رہتے ہوئے 52.83 کی شاندار اوسط اور 85.97 کے مضبوط سٹرائیک ریٹ سے 3117 رنز اسکور کیے ہیں۔ جس میں 10 سینچری اور 14 ففٹیز بھی شامل ہیں۔ 268 چوکے اور 27 چھکے لگانے والے کھلاڑی کا سب سے بڑا اسکور *125 ناٹ آؤٹ ہے جو 9 اپریل 2017ء پر ویسٹ انڈیز کے خلاف بنایا۔ اس دوران بابر نے مخالف ٹیمیوں کے 35 کیچز بھی پکڑے۔ کرکٹ ماہرین بابر اعظم کا تقابل دنیا کے نمبر ون بیٹسمین ویراٹ کوہلی سے کرتے ہیں تیز ترین ایک ہزار، دو ہزار اور پھر تین ہزار رنز مکمل کرنے میں بابر اعظم ہندوستانی کھلاڑی ویراٹ کوہلی سے کہیں آگے ہیں۔ T20 انٹرنیشنل رینکنگ میں نمبر ون پر موجود بابر اعظم اب تک 30 میچز میں 7 بار ناقابل شکست رہتے ہوئے 54.22 کی بھاری اوسط سے 1247رنزجڑ چکے ہیں۔ اس فارمیٹ میں 128.96 کے سٹرائیک ریٹ سے کھیلنے والے بابر نے 124 چوکے اور 18 چھکے بھی لگا رکھے ہیں۔ T20 میں 10 بار 50 کا ہندسہ عبور کرنے والے بابر کا سب سے بڑا اسکور *97 ناٹ آؤٹ رہا جو پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی ویسٹ انڈیز ٹیم کے خلاف 2 اپریل 2018ء کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں بنایا گیا۔ اس طرز کی کرکٹ میں 14 کیچز بھی ان کے کھاتے میں درج ہیں۔
    نوجوان بابر اعظم واقعی ورلڈ کلاس بیٹسمین ہیں اگر وہ اسی طرح لگن اور محنت سے کھیلتے رہے تو آنے والے دنوں میں بےشمار ملکی اور بین الاقوامی بیٹنگ ریکارڈ ان کے نام ہوں گے۔

  • پاکستان تحریک انصاف کا پہلا بجٹ ۔۔۔ زین خٹک

    پاکستان تحریک انصاف کا پہلا بجٹ ۔۔۔ زین خٹک

    پاکستان تحریک انصاف نے اپنا پہلا بجٹ ایوان سےمنظور کروایا۔ یہ بجٹ گو کہ مشکل ترین معاشی حالت میں پیش کیا گیا لیکن اس سے عمران خان کے وژن، سوچ اور عوام دوست پالیسیوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اپوزیشن نے بجٹ کو سنے اور پڑھے بغیر مسترد کردیا۔ اور مافیا کے ساتھ ملکر مسلسل پروپیگنڈہ اور افواہیں پھیلا رہے ہیں۔ آج تک نہ تو اپوزیشن مگر نہ ہی کسی مافیا نے وفاقی بجٹ کو پڑھنے کی کوشش کی۔ اس سے زیادہ افسوس اس بات پر کہ سادہ لوح عوام جن کی خاطر عمران خان نے اپنی پرکشش اورآرام دہ زندگی کو خیر باد کہہ کر ان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ بھی کبھی کبھار ان کی باتوں میں پھسل جاتے ہیں۔ موجودہ بجٹ غریب دوست بجٹ ہے۔ اس بجٹ میں سب سے زیادہ سہولیات اور مراعات غریب عوام کے لیے ہیں۔ موجودہ بجٹ کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں۔
    54000 تک ماہانہ تنخواہ پر کوئی ٹیکس نہیں۔
    1 تا 16 سکیل کےوفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد جبکہ 17 تا 20 سکیل کی تنخواہوں میں 5 فیصد اضافہ
    انڈسٹری کے فروغ کے لیے 80 بلین مختص تاکہ نوجوانوں کے لیے نوکریاں پیدا ہو۔
    انصاف ہاؤسنگ سیکم
    15 ملین غریب لوگوں کےلئے انصاف صحت کارڈز کا اجراء
    توانائی کے شعبے کے لیے 80 بلین مختص
    معذور افراد کے لیے کنوینس الاونس 1000 روپے سے بڑھ کر 2000 روپے ماہانہ مقرر
    قرآن مجید کی اشاعت کے لیے اعلی کوالٹی کے کاغذات پر ڈیوٹی معاف
    کم از کم ماہانہ تنخواہ 17500مقرر
    قبائلی اضلاع کے لیے 110 بلین مختص
    انسانی تعلیم وترقی کے لیے 58 بلین مختص
    کامیاب جوان پروگرام کے لیے 110 بلین مختص
    46 بلین کراچی کے لیے مختص
    کوئٹہ کی ترقی کے لیے 41 بلین کا پراجیکٹ 30 بلین پانی اور خوبصورتی کے لیے
    عورتوں اور بچیوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے 500 کفالت سنٹروں کا قیام
    ہر ماہ 80000 لوگوں کو سود کے بغیر قرضوں کی فراہمی
    راشن کارڈز کے ذریعے 1 ملین لوگوں کو خوراک کی فراہمی
    75 فیصد صارفین بجلی 300 سے کم یونٹ استعمال کرتے ہیں۔ ان صارفین کے لیے 200 بلین سبسڈی ،
    کیا کبھی ان نکات پر کسی نے بات کی ہے؟ کیا میڈیا نے کبھی ان نکات کے بارے عوام کو آگاہ کرنے کا فریضہ سرانجام دیا ہے؟ کیا کبھی کسی سماجی تنظیم نے غریب پرور بجٹ پر مباحثہ کا انعقاد کیا ہے؟ افسوس کہ یہاں بغض عمران خان کی وجہ سے اپوزیشن اور مافیا نے اس بجٹ کے غریب دوست نکات پر بات نہیں کی۔ الٹا جھوٹی خبروں، افواہوں، اور پروپیگنڈہ کے ذریعے عوام کو حکومت وقت سے متنفر کرنے کی کوشیشیں کی جا رہی ہیں۔ کیونکہ اسی پروپیگنڈے، جھوٹ اور افواہوں کی پشت پر اپنی کرپشن کو چھپا رہے ہے۔ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ اپنی کرپشن کو چھپا نہیں سکتے۔
    موجودہ انتہائی مشکل معاشی حالات میں عوام دوست اور متوازن بجٹ پیش کرنے پر حماد اظہر کا شکریہ ادا نہ کرنا کنجوسی ہوگی۔

  • کان پکڑ لیجیے ۔۔۔از: محمد فہیم شاکر

    کان پکڑ لیجیے ۔۔۔از: محمد فہیم شاکر

    رانا ثناء اللہ کو اینٹی نارکوٹکس فورس نے اسلام آباد سے لاہور جاتے ہوئے گرفتار کر لیا اور اس کی گاڑی سے 15 کلو اعلی کوالٹی کی چرس برآمد کرلی اس پر اپوزیشن نے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے شاید *چور مچائے شور* اسے ہی کہتے ہیں.
    ماڈل ٹاون سانحہ کا مرکزی کردار اور پنجاب میں دہشت گردوں کو تحفظ اور تعاون فراہم کرنے والے غنڈے کی چرس سمیت گرفتاری اس بات کی علامت ہے کہ ہم آج تک قاتلوں کو کندھوں پر بٹھا کر اسمبلی تک چھوڑ کر آتے رہے ہیں
    بصری آلودگی کی انتہاء دیکھیے کہ ہم یہ سب جانتے بوجھتے کرتے رہے
    ہم جانتے تھے کہ نونی ہے یا پیپلی، یہ غنڈے ہیں لیکن ہم انہیں ووٹ دیتے رہے
    ہم جانتے تھے کہ یہ بنارسی ٹھگ باریاں لیتے اور عوام کو لوٹتے ہیں لیکن ہم انہیں ووٹ دیتے رہے
    ہم جانتے تھے کہ یہ قاتل ہیں لیکن ہم انہیں ووٹ دیتے رہے

    ہم جانتے تھے کہ یہ نونی اور پیپلی پاکستان پر قافیہ تنگ کر رہے ہیں لیکن ہم انہیں ووٹ دیتے رہے
    ہم جانتے تھے کہ پاکستان میں دہشتگردی کی اصل وجہ یہی خونی درندے ہیں لیکن ہم انہیں ووٹ دیتے رہے
    کیونکہ ہم تعلیم یافتہ نہ تھے، کاش ہم تعلیم یافتہ ہوکر باشعور ہوتے تو ملک آج تک اندھیروں میں دھکے نہ کھاتا
    اور یہ سب ہم سے زیادہ یہ بنارسی ٹھگ جانتے تھے شاید اسی لیے انہوں نے ہمارا نظام تعلیم کرائے پر دیئے رکھا تاکہ ہم اردو اور انگلش میڈیم، آکسفورڈ او اور اے لیول، اور اسی طرح کے دیگر جھمیلوں میں الجھے رہیں اور اصل مسئلے کی طرف ہمارا دھیان ہی نہ جائے
    اور یوں ہماری اسمبلیاں ہوں یا پارلیمنٹ، مقننہ ہو یا اپوزیشن، کسی بھی جگہ باشعور اور تعلیم یافتہ لوگوں کو آگے نہیں آنے دیا گیا، جو بھی یہاں پہنچے ذہنی غلام اور اپنے ضمیروں کا سودا کر کے آنے والے تھے
    شاید آپ کو "پارلیمنٹ سے بازار حسن تک” کا مطالعہ کرنا چاہیے
    اس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں، لیکن صرف ہم ہی بھگت رہے ہیں یا سارا وطن بھگت رہا ہے، اس کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اس کا جواب ہمیں روزانہ اور بلاناغہ بارہا مرتبہ
    جھنجھوڑتا ہے لیکن ہم بحیثیت قوم بے حسی کا شکار ہو چکے ہیں اور جب ایسی مِلّـی بے حسی طاری ہوتی ہے تو بڑے سانحات کی راہ از خود ہموار ہوجایا کرتی ہے۔
    اور اب کان پکڑ لیجیے قبل اس سے کہ کان پکڑوا دئے جائیں۔