Baaghi TV

Category: متفرق

  • امن کا نیا سفیر اور بدلی ہوئی دنیا.تحریر :جان محمد رمضان

    امن کا نیا سفیر اور بدلی ہوئی دنیا.تحریر :جان محمد رمضان

    دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں ہمیشہ تباہی لاتی ہیں، لیکن مستقل امن صرف عقل، فہم اور مذاکرات کی میز پر ہی ممکن ہوتا ہے۔ گزشتہ طویل عرصے سے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی نے پوری دنیا، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ تیل کی سپلائی کے راستے بند ہو رہے تھے اور عالمی معیشت ڈوب رہی تھی۔ ایسے نازک موڑ پر پاکستان نے دنیا کے سامنے ایک سچے امن ساز کا کردار پیش کیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والا حالیہ امن معاہدہ نہ صرف عالمی سیاست کا رخ بدل رہا ہے، بلکہ اس نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کا سب سے بڑا ضامن ہے۔
    فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خاموش اور کامیاب سفارت کاری کام کرگئی اس پورے امن عمل کے پیچھے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کئی مہینوں کی انتھک محنت اور شاندار حکمت عملی شامل ہے۔ جب دنیا جنگ کے شعلوں میں جل رہی تھی، انہوں نے پسِ پردہ رہ کر تہران، بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں کا ایک مضبوط پل بنایا۔ ان کی اس ‘بیک چینل سفارت کاری’ کا نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں کٹر دشمن ایک دوسرے کی شرطیں ماننے اور ہتھیار ڈال کر امن کا راستہ اپنانے پر راضی ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی حکومت اور بین الاقوامی مبصرین ان کے اس تاریخی کردار کی کھل کر تعریف کر رہے ہیں۔
    معاہدے کے بڑے نکات اور اثرات پوری دنیا دیکھے گی
    عالمی ذرائع کے مطابق، اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک فوری طور پر تمام فوجی کارروائیاں روک دیں گے۔ امریکہ ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا اور ایرانی بندرگاہوں سے اپنے جنگی جہاز ہٹا لے گا۔ اس کے بدلے میں دنیا بھر کے لیے تیل کی سپلائی کا اہم ترین راستہ، یعنی آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ مزید برآں، امریکہ کی طرف سے روکے گئے ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے بھی مرحلہ وار واپس کیے جائیں گے۔ اس معاہدے پر باقاعدہ دستخط کی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہونے جا رہی ہے، جس کی میزبانی خود پاکستان کرے گا۔

    پاکستان کے لیے فخر کا مقام ھے کہ دنیا کے طاقتور ملک کے ثالث ھم ہیں
    اس کامیابی نے عالمی سطح پر پاکستان کی عزت کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی جنگ کا حصہ بننے کے بجائے دنیا میں امن پھیلانے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس معاہدے سے نہ صرف مسلم امہ کی پریشانیاں کم ہوں گی، بلکہ پاکستان کی اپنی معیشت اور پاک-ایران بارڈر پر تجارت کو بھی بہت بڑا فروغ ملے گا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستانی قیادت کی اس تاریخی کامیابی کو تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا، کیونکہ انہوں نے دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچا کر امن کا نیا راستہ دکھایا ہے۔
    فیلڈمارشل حافظ سید عاصم منیر صاحب نے کر دکھایا کہ پاکستان ہمیشہ زندہ باد تھا ہمیشہ زندہ باد رھے گا ۔

  • پسینے میں نہائی ہوئی نیند،تحریر: بینا علی

    پسینے میں نہائی ہوئی نیند،تحریر: بینا علی

    یہ ایک باپ کی لکھی ہوئی تحریر کے چند الفاظ جس نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ جو لوگ ہماری تپش کو محسوس نہیں کر سکتے، وہ ہماری مشکلات کو کیا سمجھیں گے؟
    بیٹی بار بار پوچھ رہی تھی: بابا بجلی کب آئے گی؟
    میں ہر بار یہی کہتا: بیٹا بس ابھی آ جائے گی۔
    لیکن بجلی نہیں آئی۔ اور میری بیٹی انتظار کرتے کرتے سو گئی۔سخت گرمی تھی۔ پسینے سے وہ ایسی بھیگی ہوئی تھی جیسے ابھی نہائی ہو۔
    یہ صرف ایک باپ کے جذبات نہیں ہر غریب گھر کی کہانی ہے۔ یہاں لوگوں کو گھنٹوں لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔گرمی میں بہت مجبور ہو کر رہنا پڑتا ہے۔اور جن لوگوں کے ہاتھ میں ہمارے فیصلے ہیں وہ گھروں سے نکلتے ہیں تو اے سی والی گاڑیوں میں جاتے ہیں۔ ان کی میٹنگیں بھی ایسے بڑے ہوٹلوں میں ہوتی ہیں جہاں ہر طرف ٹھنڈک ہوتی ہے۔ ان کے بجلی کے بل تو معاف ہوتے ہیں۔ ان کے شاندار گھروں اور بڑے بڑے بنگلوں میں بھی اے سی کی سہولت ہر وقت موجود ہوتی ہے۔ جن کے عالیشان محلات میں بجلی جاتیہی نہیں ۔انہوں نے تو کبھی گرمی کی تپش محسوس ہی نہیں کی۔تو وہ عوام کے درد کو کیسے سمجھیں گے؟ وہ اس بچی کی تکلیف کو کیسے محسوس کریں گے؟ وہ ایک باپ کی بے بسی کو کیسے جانیں گے؟کاش! ایک دن کے لیے ہی سہی یہ بڑے لوگ اپنے اے سی بند کر کے ہمارے گھروں میں آ کر بیٹھیں۔ ایک رات یہ اپنی بیٹیوں کو اس گرمی میں سوتا دیکھیں۔ تب انہیں پتہ چلے کہ بجلی جانا صرف "لوڈشیڈنگ” نہیں ہوتا۔ یہ ایک باپ کا مان ٹوٹنا ہوتا ہے۔ یہ ایک معصوم بچے کے خوابوں کا پگھلنا ہوتا ہے۔
    یہ بجلی نہیں گئی ہمارا سکون چلا گیا۔ بچوں کا بچپن جل گیا۔
    کاش! کوئی تو ہماری تکلیف کو سمجھے۔

  • عید کے کپڑوں سے کفن تک،تحریر: بینا علی

    عید کے کپڑوں سے کفن تک،تحریر: بینا علی

    گزشتہ ہفتے سے روز ایک سانحہ ہوتا ہے جو دل جھنجھوڑ دیتا ہے۔ثوبیہ شاہد نو سال کی معصوم بچی۔ثوبیہ اپنے ماں باپ کے ساتھ آسٹریلیا میں رہتی تھی۔ عید کی خوشیاں منانے اپنے بزرگوں سے ملنے اور یادیں سمیٹنے برسوں بعد پاکستان آئی تھی۔ چکوال میں دادا، دادی کی آغوش رشتوں کی محبت اور عید کی رونقیں اس کی منتظر تھیں۔مگر وہ واپس نہ جا سکی۔آج سی ٹی ڈی کی فائرنگ میں ننھی ثوبیہ کی جان چلی گئی، جبکہ اس کے والد اور بھائی زخمی ہو گئے۔ بتایا گیا کہ انہیں "2025 ماڈل گاڑی میں دہشتگرد” سمجھ لیا گیا۔سوال صرف اتنا ہے: اگر شک تھا تو تصدیق کیوں نہ کی گئی؟ گولی چلانے سے پہلے حقیقت جاننے کی کوشش کیوں نہ کی گئی؟ قانون اور ریاستی اداروں کا کام شہریوں کی حفاظت ہے ان کے دلوں میں خوف پیدا کرنا نہیں۔

    ثوبیہ ساتویں جماعت کی طالبہ تھی۔ اس کے خواب ابھی پوری طرح آنکھوں میں سجے بھی نہ تھے کہ زندگی نے اس سے منہ موڑ لیا۔ اس کی ہنسی اب کبھی گھر کے صحن میں نہیں گونجے گی اس کے عید کے نئے کپڑے اب کبھی نہ پہنے جائیں گے اور دادا دادی کی نظریں اب ہمیشہ اس دروازے کو تکتی رہیں گی جس سے وہ دوبارہ اندر نہیں آئے گی۔

    اس کی چوڑیوں کی کھنک، اس کی شرارتیں، اس کے سوال اور اس کی مسکراہٹیں اب صرف یادوں کا حصہ ہیں۔ ہر عید، ہر سالگرہ اور ہر خوشی کے موقع پر اس کے ماں باپ کے دل میں ایک خاموش کسک جاگے گی کہ ان کی بیٹی ان کے ساتھ نہیں۔اگر ایک بیرونِ ملک سے آنے والے خاندان کو محض شک کی بنیاد پر دہشتگرد سمجھ لیا جائے تو پھر عام شہری خود کو محفوظ کیسے محسوس کرے؟کوئی انکوائری، کوئی رپورٹ اور کوئی وضاحت ثوبیہ کو واپس نہیں لا سکتی۔ کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ مدھم تو ہو جاتے ہیں مگر کبھی مکمل نہیں بھرتے۔ یہ سانحہ بھی ان ہی زخموں میں سے ایک ہے۔اللہ تعالیٰ ننھی ثوبیہ کی مغفرت فرمائے، اس کے درجات بلند کرے اور اس کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

  • ماؤں کے مشترکہ درد ،تحریر: بینا علی

    ماؤں کے مشترکہ درد ،تحریر: بینا علی

    آسمان پہ دھواں زمین پر بکھرتا درد بن گیا ہے ہر ماں کے لیے جس کی گود اجڑ گئی ہے۔
    دارالحکومت مظفرآباد میں پاکستانی فوج کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا۔ حادثے کے بعد پورا آسمان دھوئیں کے کالے بادلوں میں ڈوب گیا۔ مقامی شہریوں کے مطابق وہ سیاہ بادل پورے شہر سے نظر آ رہے تھے سوشل میڈیا پر جو تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئیں ان میں دھوئیں کا وہ ہولناک ستون دیکھ کر ہر ماں کا دل اداس ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ISPR کے مطابق یہ حادثہ تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا۔ حادثے کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں سوار تمام جوان شہید ہو گئے۔ یہ ہیلی کاپٹر حادثے کے وقت نیلم سٹیڈیم سے پرواز بھرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
    وہ ویڈیو ہے جو میں نے دیکھی.
    ایک ماں ایک عام کشمیری ماں اپنی مقامی زبان میں بار بار بس یہی پکار رہی تھی:
    (ہائے پتہ نہیں کناں ماواں دے بچے سڑ گئے) ہائے پتہ نہیں کن ماؤں کے بچے جل گئے!

    وہ بین کر کے رو رہی تھی ایسے جیسے اس کے اپنے جگر کے ٹکڑے آگ میں جل رہے ہوں۔
    مائیں صرف مائیں ہوتی ہیں..
    ان کا دل صرف اپنی اولاد کے لیے نہیں دھڑکتا۔ دوسری ماں کی گود اجڑے تو ان کا کلیجہ بھی اس درد کو محسوس کرتا ہے ۔مظفرآباد میں کتنی ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں؟ کتنی بہنوں کے دوپٹے سفید ہو گئے؟ کتنے باپوں کے سہارے ٹوٹ گئے؟
    یہ وردی والے بھی کسی کے بیٹے ہیں۔ یہ بھی کسی کے لعل ہیں۔ ان کے جنازے پر سیاست مت کرو، ان کے خون پر تقریں مت کرو بس دعا کرو کہ رب ہر ماں کی گود سلامت رکھے۔
    گھروں کو صبر دے، اور وطن کی ماؤں کو کبھی ایسا دن نہ دکھائے۔ آمین۔
    کیونکہ گود ماں کی ہی اجڑتی ہے۔
    حکومتِ وقت اس طرح غائب ہے جس طرح گدھے کے سر سے سینگ۔خدارا نفر توں کی خون کی سیاست بند کریں جلتی پہ تیل نہ چھڑکیں اور مذاکرات کا راستہ ہموار کریں۔

  • معصوم خدیجہ کی ہوپ،تحریر:غنی محمود قصوری

    معصوم خدیجہ کی ہوپ،تحریر:غنی محمود قصوری

    یہ دنیا امید پر قائم ہے
    کسی کو امیر ہونے کی امید ہے تو کسی کو محض دو وقت کی روٹی کی امید ہی کافی ہوتی ہے اور کوئی بیچارا محض سانسیں بحال رکھنے کی امید پر ہی قائم ہوتا ہے کہ کسی تک زندگی کی ڈور چلتی رہے
    یعنی ہر بندہ Hope Line پر چل رہا ہے
    ویسے تو دنیا میں بیشمار خطرناک بیماریاں ہیں تاہم ایک خطرناک ترین بیماری تھیلیسیمیا بھی ہے جو بچوں کو پیدائش سے لے کر موت تک سانسوں کی بحالی کیلئے Hope Line کے راستے پر چلتے رہنے پر کاربند رکھتی ہے
    اس مرض کا بچہ پیدائش سے موت تک اس بیماری سے نکل ہی نہیں سکتا
    دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی موذی مرض تھیلیسیمیا کے ہزاروں بچے موجود ہیں جن کی جینے کی امید یعنی Hope Line کیلئے ایک خدمت انسانیت کا ادارہ
    ہوپ لائن ویلفئیر فاؤنڈیشن کے نام سے پاکستان ضلع قصور کے شہر کنگن پور میں بنا ہوا ہے جو تھیلیسیمیا کے سینکڑوں بچوں کا مفت علاج معالجہ کرتا ہے

    ویسے تو ہر ذی روح نے ایک نا ایک دن مرنا ہی ہوتا ہے مگر تھیلیسیمیا کے مریض یہ بچے وہ ہوتے ہیں جن کی عمریں بہت کم یعنی 10 سے 14 سال تک ہوتی ہیں کیونکہ بار بار خون لگنے سے ان کے جسم کے اعضاء ناکارہ ہو جاتے ہیں اور یہ بہت جلد وفات پا جاتے ہیں

    یہ مرض کیسے بنتی ہے اور اس سے بچاؤ کا کیا طریقہ کار ہے ان شاءاللہ پھر کبھی لکھوں گا ،مگر آج میں ہوپ لائن کی ایک مریضہ بچی خدیجہ کی خوشی کا ذکر کرنے لگا ہوں کہ جسے اپنے جینے کی ہلکی سی Hope یعنی امید ہوئی تو وہ کیسے خوش ہوئی.اس ادارے کے سربراہ سردار منیر حسین اور پروفیسر عبدالستار سے بات ہو رہی تھی، تو انہوں نے بتایا کہ آج ایک تھیلیسیمیا کی مریض چھوٹی سی بیٹی خدیجہ نے اپنی ہیموگلوبن رپورٹ (HB) چیک کروانے کے بعد خوشی سے اپنے والد محترم کو پیغام بھیجا کہ الحمدللہ پاپا میری ہیموگلوبن پوری ہو گئی ہے
    اس بچے کے والد نے وہ پیغام ہمارے ساتھ شیئر کیا جو چند الفاظ پر مشتمل تھا جو دراصل برسوں کی آزمائش، تکلیف، انتظار اور امید کی ایک مکمل داستان تھے
    ننھی بیٹی خدیجہ نے لکھا تھا
    بابا الحمدللہ سات ماہ گزرنے کے باوجود بغیر خون لگے میری ہیموگلوبن (HB) 11.4 ہے جو کہ پہلے 9.0 سے بھی کم ہو جایا کرتی تھی
    اللہ اللہ اتنی خوشی اس بچی کی صرف ایک ہیموگلوبن پوری ہونے پر ،ذرا تصور کریں اس بیٹی کی کیا حالت ہوتی ہو گی جب اس کی HB پوری نہیں ہوتی ہو گی اور اس کے جسم کا ایک ایک حصہ دکھ رہا ہو گا
    وہ بیچاری دوسرے بچوں میں کھیلنے کی بجائے اپنے درد سے کھیل رہی ہو گی
    آپ تصور کریں کہ بے بسی سے اس کے ماں باپ کیا کرتے ہونگے؟
    سوچیں کہ کبھی کسی تھیلیسیمیا کے مریض بچے یا اس کے والدین کی ایسی خوشی کے بارے میں سنا تھا؟
    وہ والدین جو برسوں اپنے بچوں کو ہر ہفتے یا پندرہ دن بعد خون لگوانے کے لئے ہسپتالوں کے چکر لگواتے رہتے ہیں، جو ہر رپورٹ، ہر سوئی چبنے اور ہر نئی آزمائش کے ساتھ اندر ہی اندر گھلتے رہتے ہیں
    جنہیں بارہا یہ سننے کو ملا کہ ان کا بچہ بس چند برسوں کا مہمان ہے
    ان والدین کے دلوں پر کیا گزرتی ہوگی؟
    بعض والدین تو یہ کہتے تھے کہ ہم اپنے بچوں کو دیکھ دیکھ کر جینے کے بجائے روز مر رہے ہوتے ہیں اور ہر لمحہ یہ خوف ساتھ رہتا ہے کہ نہ جانے آنے والا کل کیا لے کر آئے گا؟

    ایسے میں اگر کسی گھر میں امید کی ایک کرن روشن ہو جائے تو اس خوشی کا اندازہ صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہوں نے یہ کٹھن سفر طے کیا ہو
    ہوپ لائن کے سربراہ نے بتایا کہ یہ ہماری پیاری بیٹی خدیجہ کی کہانی ہے جس کا خون کا گروپ او نیگیٹو ہے جو کہ ملتا بھی بہت کم ہے

    انہوں نے بتایا کہ جب اس کے والد روزگار کے سلسلے میں بیرونِ ملک روانہ ہوئے تو اپنی بیٹی کو ہمارے سپرد کر گئے
    اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی کہ ہم اس کی دیکھ بھال اور رہنمائی میں اپنا کردار ادا کر سکیں
    انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں ہم خدیجہ کو پشاور لے گئے جہاں علاج کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج سات ماہ گزر چکے ہیں اور اسے خون لگانے کی ضرورت پیش نہیں آئی
    چند روز قبل خدیجہ اپنی والدہ کے ساتھ سندس فاؤنڈیشن میں ہیموگلوبن رپورٹ چیک کروانے گئی تو وہاں موجود عملہ اور ڈاکٹر صاحبان بھی اس کی کیفیت سن کر خوش ہوئے
    ڈاکٹر صاحبہ نے بڑی توجہ سے اس کی بات سنی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس حوالے سے مذید معلومات حاصل کی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو فائدہ پہنچ سکے
    ہوپ لائن فاؤنڈیشن نے بتایا کہ ہم پشاور اس لئے جاتے ہیں کہ اگر کہیں کوئی ایسا مؤثر علاج، طریقہ کار یا طبی رہنمائی موجود ہے جو تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کی زندگی میں آسانی لا سکتی ہے تو اس کی حقیقت کو سمجھنا ہم پر لازم ہے اور لازم ہے کہ اس کے نتائج کا جائزہ لیا جائے اور پھر اس معلومات کو زیادہ سے زیادہ ضرورت مند خاندانوں تک پہنچایا جائے
    انہوں نے بتایا نیز کہ ہمارا مقصد کسی فرد، ڈاکٹر یا ادارے کی تشہیر نہیں بلکہ بچوں اور والدین کے لئے امید، آسانی اور بہتری کے امکانات تلاش کرنا ہے اور ہم اپنے تمام دوست احباب کے بھی تہہ دل سے شکر گزار ہیں جو مسلسل بچوں اور ان کے والدین کی مالی خدمت اور رہنمائی کیساتھ حوصلہ افزائی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور ساتھ ان بچوں کو خون اور ادویات بھی مہیا کرتے ہیں

    اللہ تعالیٰ ہوپ لائن کے تمام معاونین، محبین، مخیر حضرات اور خدمتِ انسانیت کے جذبے سے سرشار افراد کو بہترین جزائے خیر عطا فرمائے اور تمام بیمار بچوں کو صحتِ کاملہ، لمبی زندگی اور خوشیوں بھرا مستقبل نصیب فرمائے
    آمین ثم آمین

    پاکستان میں بہت سے ادارے تھیلیسیمیا کے بچوں کی زندگیوں کی خاطر امید کی ایک کرن ہیں جو عوامی تعاون سے چل رہے ہیں اگر ایسا کوئی ادارہ آپ کے قریب ہے تو اس ادارے کی ہوپ بن کر تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کی ہوپ بن کر جئیں کیونکہ ہو سکتا یہ مریض بچے ہم سے پہلے رب کے حضور پہنچ کر ہماری بخشش کی ہوپ بن جائیں
    ہوپ لائن ویلفئیر فاؤنڈیشن کنگن پور ضلع قصور کیساتھ مالی تعاون کرنے کیلئے اس جاز کیش اکاؤنٹ نمبر
    03041472158
    بنام محمد زبیر پر تعاون کیا جا سکتا ہے نیز بلمشافہ ملنے اور بچوں کے تاثرات دیکھنے کیلئے ہوپ لائن ویلفئیر فاؤنڈیشن نزد گرڈ اسٹیشن کنگن پور تحصیل چونیاں ضلع قصور میں وزٹ کیا جا سکتا ہے
    مہنگائی کے اس دور میں خصوصاً موجودہ گورنمنٹ کی مہنگائی کی بدولت بھی ہمارے خیراتی اداروں کا پہلے کی طرح چلتے رہنا مملکت پاکستان کی عوام کو ایک عظیم قوم ظاہر کرتا ہے جو اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے جینے کی بھی،ہوپ، ہیں
    وگرنہ آج تو اپنے گھر کا نظام چلانا ہی بہت مشکل ہو گیا ہے
    اللہ تعالیٰ ہم سب کی جان و مال اور اعمال میں برکت عطا فرمائے آمین

  • کس قدر ارزاں ہوا خون مسلماں کا،تحریر: بینا علی

    کس قدر ارزاں ہوا خون مسلماں کا،تحریر: بینا علی

    کل سے خطے میں جو بےچینی، اضطراب اور بےسکونی کی فضا قائم ہے اس نے دل دہلا دیے ہیں۔ ایک گھٹن زدہ کیفیت نے پورے کشمیر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ آزاد کشمیر میں نیٹ سروسز بند ہیں، اور یہ بندش صرف انٹرنیٹ کی نہیں بلکہ دلوں کی بھی ہے۔ دور دراز علاقوں میں رہنے والے ماں باپ اپنے بچوں کی خیریت جاننے سے قاصر ہیں۔ بہنیں اپنے بھائیوں کے لیے دعائیں مانگ رہی ہیں، بیویاں شوہروں کی سلامتی کی منتظر ہیں اور بچے اپنے پیاروں کی ایک آواز سننے کے لیے بےتاب ہیں۔ فون کی خاموشی اب دلوں میں خوف اور اندیشوں کی گونج بن چکی ہے۔خون، چاہے کشمیری کا ہو، پاکستانی کا، فوجی کا، پولیس والے کا، یا کسی عام شہری کا یا کسی غیر مسلم کا خون بہرحال خون ہوتا ہے۔ اس کا درد ایک جیسا ہوتا ہے۔ ہر لاش کے پیچھے ایک ماں کی اجڑی ہوئی دنیا ہوتی ہے، ایک باپ کی ٹوٹی ہوئی امید ہوتی ہے، ایک بیوی کا بکھرا ہوا سہارا اور معصوم بچوں کا لٹتا ہوا مستقبل ہوتا ہے۔ والدین کے لیے اولاد کا جنازہ اٹھانا زندگی کا سب سے بڑا دکھ ہے۔ یہ ایسا زخم ہے جو وقت کے ساتھ بھرنے کے بجائے اور گہرا ہو جاتا ہے۔ ماں عمر بھر دروازے کی طرف دیکھتی رہتی ہے جیسے اس کا بیٹا ابھی لوٹ آئے گا۔ باپ اپنے آنسو چھپاتا ہے مگر اندر ہی اندر ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔ بیوی زندگی بھر اس آواز کو ڈھونڈتی رہتی ہے جو کبھی اس کی زندگی کا سکون تھی۔ بچے ہجوم میں بھی اپنے باپ کا چہرہ تلاش کرتے رہتے ہیں۔افسوس کہ ایسے نازک وقت میں بھی سوشل میڈیا پر نفرت، تلخی اور بدزبانی کا بازار گرم ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک چھڑک رہے ہیں۔ اختلافِ رائے کو دشمنی بنا دیا گیا ہے اور انسانیت کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔خدارا! اب رک جائیے۔کتنا خون اور بہے گا؟ کتنی مائیں اپنے جوان بیٹوں کے انتظار میں دروازوں پر بیٹھی رہیں گی؟ کتنی بہنوں کی دعائیں ادھوری رہ جائیں گی؟ کتنے بچے یتیمی کی اذیت سہنے پر مجبور ہوں گے؟

    خون جب زمین پر گرتا ہے تو صرف ایک انسان نہیں مرتا ایک خاندان بکھر جاتا ہے، کئی خواب دفن ہو جاتے ہیں اور بے شمار خوشیاں ماتم میں بدل جاتی ہیں۔اس وقت دل صرف غمزدہ نہیں، مضطرب بھی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورا خطہ سوگ میں ڈوبا ہوا ہو۔ ہر طرف خوف ہے، بے یقینی ہے اور دعاؤں کا ایک خاموش سلسلہ جاری ہے۔ایسے وقت میں ضرورت نفرت کے نعرے بلند کرنے کی نہیں بلکہ انسانیت کی آواز بلند کرنے کی ہے۔ ضرورت ایک دوسرے کو گرانے کی نہیں بلکہ ایک دوسرے کا سہارا بننے کی ہے۔
    آئیے ایک ایسی تحریک کا آغاز کریں جس کا نام محبت ہو، جس کا مقصد امن ہو اور جس کا پیغام انسانیت ہو۔ ایک ایسی تحریک جو ہمیں یاد دلائے کہ خون کا کوئی مذہب، کوئی زبان اور کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ خون صرف خون ہوتا ہے، اور اس کا درد ہر دل یکساں محسوس کرتا ہے۔

    آئیے ایسی زبان بولیں جو زخموں پر مرہم رکھے، ایسے الفاظ لکھیں جو دلوں کو جوڑیں اور ایسی دعائیں کریں جو نفرت کی آگ کو ٹھنڈا کر سکیں۔کیونکہ قومیں نفرت سے نہیں، محبت سے بنتی ہیں۔ معاشرے انتقام سے نہیں، برداشت سے پروان چڑھتے ہیں۔ اور انسانیت کی سب سے بڑی فتح یہ نہیں کہ ہم اپنے مخالف کو ہرا دیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو بچا لیں۔خدایا! اس دھرتی پر امن نازل فرما۔ ماؤں کی گودیں اجڑنے سے بچا، بچوں کے سروں سے سایہ نہ اٹھا، بہنوں کی دعاؤں کو قبول فرما اور ہمیں اتنی انسانیت عطا فرما کہ ہم خون کے رنگ میں سیاست نہیں بلکہ انسانی جان کی حرمت دیکھ سکیں۔آمین
    خدارا اب بس کر دیں بس

  • تمباکو نوشی، پاکستان پر چھایا موت کا دھواں،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    تمباکو نوشی، پاکستان پر چھایا موت کا دھواں،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    جب کبھی کسی چائے خانے پر بیٹھتا ہوں، گلیوں سے گزرتا ہوں، یا کسی بازار میں قدم رکھتا ہوں،تو ایک منظر جو سب سے پہلے آنکھوں سے ٹکراتا ہے، وہ ہے سگریٹ کا دھواں۔ نوجوان لڑکے، ادھیڑ عمر مرد، حتی کہ کئی مقامات پر خواتین کے ہاتھوں میں جلتا ہوا سگریٹ نظر آتا ہے۔ ہم سب کےلیے یہ تمام عام مناظر ہوتے ہیں۔لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ کتنی زندگیاں، کتنے خاندان، کتنے خواب اس دھوئیں میں گم ہو رہے ہیں؟
    اعداد و شمار کے مطابق اس دھوئیں میں گھرے پاکستان کی تصویر انتہائی تشویشناک ہے۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ریسرچ کونسل کی معلومات اور PMC میں شائع شدہ مختلف تحقیقات کے مطابق، پاکستان میں تمباکو نوشی کی اوسط قومی شرح 21.6 فیصد ہے۔جس میں مردوں کی شرح 36 فیصد اور خواتین کی قریبا 9 فیصد ہے۔ یہ تحقیق 9441 افراد پر شہری و دیہی دونوں علاقوں میں کی گئی۔

    گلوبل ایڈلٹ ٹوبیکو سروے (GATS) 2024 کے نتائج کے مطابق پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ 27 لاکھ بالغ افراد ابھی بھی تمباکو مصنوعات استعمال کر رہے ہیں۔ یہ تعداد پاکستان کی کل آبادی کا ایک بڑا حصہ بنتی ہے، جو کسی بھی ذی شعور شخص کو چونکا دینے کے لیے کافی ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں کو چونکا دینے کےلیے یہ شرح بھی ناکافی ثابت ہوئی ہے۔ پاکستان میں تمباکو نوشی محض سگریٹ تک محدود نہیں۔ یہاں تمباکو کی مختلف اشکال و اقسام موجود ہیں، جیسا کہ سگریٹ، حقہ، شیشہ، نسوار، گٹکا، بیڑی اور ویپ وعیرہ۔شیشہ کا رواج تو خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ تحقیقات کے مطابق اس کی شرح 33 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ یہ ایک سنگین صورتحال ہے، کیونکہ شیشہ کو عام طور پر کم نقصان دہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ سائنسی شواہد اس کے برعکس ہیں۔

    لوگ تمباکو نوشی کیوں شروع کرتے ہیں؟اس کا جواب آسانی سے اور درست دینا تو مشکل ہے، تاہم پاکستان میں شائع ہونے والی سائنسی تحقیق ‘Causes of Smoking in Pakistan: An Analysis of Social Factors’ کے مطابق تمباکو نوشی کے آغاز میں کئی سماجی، نفسیاتی اور ماحولیاتی عوامل کار فرما ہوسکتے ہیں۔
    ہم جماعتوں کا دباؤ ، Peer Pressure:

    ایک اور تحقیق کے مطابق 50 فیصد نوجوان اپنے ساتھیوں کے ساتھ سگریٹ شیئر کرنے کے بعد تمباکو نوشی کی عادت میں مبتلا ہوتے ہیں۔

    گھریلو ماحول اور خاندانی اثر:
    پاکستان میں گھر کا ماحول بھی تمباکو نوشی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر گھر میں باپ، چچا یا بڑا بھائی تمباکو نوشی کرتا ہو، تو بچہ اسے ایک معمول کا عمل سمجھنے لگتا ہے۔ جرنل آف اسموکنگ سیسیشن میں شائع ایک تحقیق کے مطابق کم تعلیم یافتہ اور غریب طبقوں میں تمباکو نوشی کی شرح زیادہ ہے۔

    تناؤ، غربت اور مایوسی:
    پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں تعلیم کی کمی،معاشی بحران، بے روزگاری اور سماجی مسائل کی بھرمار ہے۔ وہاں بہت سے لوگ کم علمی کی وجہ سے تمباکو نوشی کو ذہنی سکون کا ذریعہ سمجنے لگتےہیں۔ اور کئی لوگوں جب کسی مسئلے کا شکار ہوں، یا گھریلو لرائی جھگڑے میں سگریٹ پی کر سکون محسوس کرتے ہیں۔ اور وقت کے ساتھ یہ عادت لت بن جاتی ہے۔

    تمباکو نوشی کے صحت پر اثرات:
    عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق تمباکو دنیا بھر میں قابل گریز اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
    ۔The Friday Times میں جون 2026 میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تمباکو ہر سال 1 لاکھ 92 ہزار سے زائد انسانی جانوں کا قتل کرتا ہے۔یعنی روزانہ 526 سے زیادہ اموات، ہر گھنٹے میں 22 قتل۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں، یہ ہم میں سے کسی کا بھائی، باپ، شوہر اور بیٹے ہوتے ہیں۔ اگر آپ تمباکو نوشی نہیں کر رہے تو یہ مت سمجھتے رہیے گا کہ ہم محفوظ ہیں کیونکہ تمباکو نوشی کا خمیازہ صرف وہ نہیں بھگتتے جو خود پیتے ہیں۔ بلکہ ان کے اردگرد بیٹھے بے قصور لوگ بھی اس دھوئیں کا شکار بنتے ہیں۔ گلوبل برڈن آف ڈیزیز رپورٹ (2019) کے مطابق پاکستان میں ہر سال 31000 اموات صرف پسیو اسموکنگ (سیکنڈ ہینڈ اسموک) کی وجہ سے ہوتی ہیں۔دنیا بھر میں پبلک مقامات پر تمباکو نوشی کرنا جرم ہے۔ لیکن پاکستان میں صرف کاغذوں کے حد تک، گاڑیوں، ہوٹلوں، دفاتر حتی کہ صحت کے مراکز میں بھی آپ بطور پسیو سموکر متاثر ہوتے ہیں، مگر پوچھنے والا کیوئی نہیں۔

    پاکستان میں مردوں کی کینسر سے ہونے والی اموات میں سے 23 فیصد منہ کے کینسر اور پھیپھڑوں کے سرطان کی وجہ سے ہوتی ہیں اور ان دونوں کا براہ راست تعلق تمباکو نوشی سے ہے۔ تمباکو مجموعی طور پر پاکستان میں غیر متعدی امراض (NCDs) سے ہونے والی 17.53 فیصد اموات کا ذمہ دار ہے۔ایک اور تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں روزانہ 1200 بچے جن کی عمر قریبا 15 سال سے 17 کے درمیان ہوتی ہے جو تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں۔ یہ بچے نیکوٹین کی لت کا شکار ہو کر نہ صرف اپنی صحت برباد کرتے ہیں بلکہ تعلیمی کارکردگی، ذہنی نشوونما اور مستقبل برباد کر بیٹھتے ہیں۔

    معاشی تباہی اور تمباکو نوشی:
    یون کہنے کو تو تمباکو کی صنعت سے لوگوں کو روزگار ملتا ہے اور حکومت کو ٹیکس ملتا ہے۔ لیکن یہ دلیل اس وقت بالکل کھوکھلی ثابت ہو جاتی ہے جب ہم اس کا معاشی حساب کریں۔
    پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) 2021 کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں تمباکو نوشی کا کل سالانہ معاشی بوجھ 615.07 ارب روپے (یعنی 3.85 ارب امریکی ڈالر) ہے۔ جو پاکستان کی جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہے۔ یہ تمباکو صنعت کی حکومتی آمدنی سے پانچ گنا زیادہ ہے۔
    ۔PubMed میں شائع 2022 ایک آرٹیکل کے مطابق کیسنر، دل کی بیماریوں اور سانس کی تکالیف جیسی تین بڑی بیماریوں کا علاج معالجہ اکیلے 437.8 ارب روپے (2.7 ارب ڈالر) سالانہ کھا جاتا ہے۔ اگر یہ پیسہ صحت، تعلیم یا دیگر ملکی بنیادی ڈھانچے پر خرچ کیا جائے تو کتنے ہسپتال بن سکتے ہیں، کتنے اسکول کھل سکتے ہیں، کتنے غریب گھرانوں کی زندگی بدل سکتی ہئے۔ تمباکو نوشی صرف انسانی صحت کا دشمن نہیں، بلکہ معاشی قاتل بھی ہے۔

    پاکستان نے 2004 میں عالمی ادارہ صحت کے فریم ورک کنوینشن آن ٹوبیکو کنٹرول (FCTC) پر دستخط کیے۔ اس کے بعد سے ملک میں تمباکو کنٹرول کے قوانین موجود ہیں۔ تعلیمی اداروں کے قریب فروخت پر پابندی، تشہیر پر پابندی وغیرہ ہےلیکن حقیقت یہ ہے کہ ان قوانین پر عمل نہیں ہوتا۔ تمباکو پروڈکٹس پر ٹیکس کے حوالے سے بھی صورتحال مایوس کن ہے۔ جبکہ بھاری ٹیکس لگانا، تمباکو نوشی میں کمی کا بہت موثر طریقہ ہوسکتا ہے۔
    ایک خوش آئند خبر یہ ہے کہ GATS 2024 کے نتائج کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 10 سالوں میں تمباکو کے استعمال میں 15.7 فیصد کمی آئی ہے۔ لیکن یہ کمی ناکافی ہے اور اس رفتار کو بہت تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ یہ نسل تباہ ہوجائے گی۔ تمباکو کا دھواں صرف سگریٹ کی نوک سے نہیں اٹھاتا بلکہ یہ معاشی وسائل اور قومی مستقبل کو بھی جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔

    (نوٹ: یہ آرٹیکل مختلف سائنسی و تحقیقاتی رپورٹس سے ماخوذ ہے)

  • آپ جو ہیں وہی کیوں نہیں رہتے؟تحریر ِ:   ظفر اقبال ظفر

    آپ جو ہیں وہی کیوں نہیں رہتے؟تحریر ِ: ظفر اقبال ظفر

    انسان کیا سے کیا بننے کی کوشش میں پریشان حال ہے یہ پریشان حال ختم کیوں نہیں کر دیتے اس سوچ کے ساتھ کہ اپنے آپ کو ایسے نمونے میں ڈھالنے کی کوشش چھوڑ ہی دی جائے جس کے لیے آپ بنے ہی نہیں۔اور اگر کسی مصنوعی ڈانچے میں ڈال بھی لیا تو کیا کوئی یہ نہیں جان پائے گاکہ آپ وہ ہیں نہیں جو بننے کی ادکاری کررہے ہیں اداکاری کی بجائے کردار سازی پر محنت کیجئے انمول و خوش حال ہو جائیں گئے۔تلخ تجربے سے بچنے والوں کے لیے نصیحت یہی ہے کہ کچھ بھی ہو جائے آپ جیسے بھی ہیں ہمیشہ وہی رہیں۔انسانی وجود پر آفاقی اصول یہی ہے اسے تسلیم و عمل میں رکھیں اگر آپ وہ بنیں گئے جو آپ نہیں ہیں تو نفسیاتی اور اعصابی الجھنوں کا شکار ہو جائیں گئے خود کو بدقسمت سمجھنے والا شخص ہی وہ بننا چاہتا ہے جو وہ جسمانی و دماغی اعتبار سے ہے ہی نہیں۔
    شوبز کی دنیا میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو وہ سکرین پر نظر آتے ہیں حقیقت میں ویسے نہیں ہوتے۔عوام ان کے ایک روپ کا زائقہ چکھ چکے ہیں اب نئے روپ میں ڈھل رہے ہیں روپ بدلتے بدلتے اپنی حقیقت بہت پیچھے رہ جاتی ہے انہیں اپنے آپ کو پہچاننے کے قابل بنانا بھی اک زہنی علاج کا تقاضا کرتا ہے جو بھی اپنی زات کی حقیقت سے ہٹ کر زندگی گزارنے کی کوشش کرئے گا وہ فطرت کے خلاف جا رہا ہے اب انسان بندر کی طرح نقل اتارکر کامیابی تو حاصل نہیں کر سکتانہ میاں مٹھو بننے سے کوئی فائدہ پہنچے گا۔جو بھی وہ بننے کی کوشش کر رہاہے جو وہ نہیں ہے تواسے جلدی علیحدہ کر دینا بڑا سودمند رہتا ہے کیونکہ نقل پانے کے عمل میں اصل کھو جاتا ہے۔

    دنیا کے بازار میں کتنے ہی ایسے لوگ پھرتے ہیں جو اپنے آپ کا پہچانتے ہی نہیں ریاکاری کا لبادہ اُڑھ کر صاف گو بننے کی اداکاری کرتے ہیں لیکن کھوٹے سکے سے مستقل کام نہیں چلتا۔ایک غریب گھر کی لڑکی گلوکارہ بننا چاہتی تھی مگر اس کا چہرہ رُکاوٹ بنا ہوا تھا اس کے چوڑے منہ سے لمبے لمبے دانت باہر نکلے ہوئے تھے وہ لوگوں کے سامنے گاتے وقت دلکش نظر آنے کے لیے اُوپر کا ہونٹ نیچے کھینچ کر دانت چھپانے کی کوشش کرتی تو گانے کی ترتیب بگڑ جاتی نتیجہ فنی ناکامی میں نکلتا۔ایک انسانی قدروں سے واقف شخص نے قیافہ شناسی سے ا سے کہا کہ تمہارے بننے میں تمہارا کوئی قصور نہیں شرمندگی کے احساس سے خودکو آزاد کرکے پورے جوش اور دھیان سے گاؤتمہارے دانت تمہاری قسمت کے معاون بن جائیں گئے اس نے مخلص مشورے پہ عمل کیا اوردیکھتے ہی دیکھتے مقبولیت کی بلندیاں پا تے ہوئے فلموں اور ریڈیو کی چوٹی کی سٹار بن گئی۔انسانی کمزوریاں غیرمتوقع طور پر ہماری مدد کرتی ہیں۔
    اوسط درجے کے شخص اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کے دس فیصد حصے کو پروان چڑھاتے ہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو مکمل طور نہیں پہچان پاتے۔جو کچھ ہم ہیں اور جو کچھ ہمیں ہونا چاہیے ان دونوں پہلوؤں کا موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہم صرف نیم بیدار لوگ ہیں جو اپنی حدود سے بہت دُور نکل چکے ہیں جبکہ ہم مختلف قسم کی قوتوں کے مالک ہوتے ہیں ان انسانی قوتوں کو سمجھنے والا کبھی لوگوں کی مانند بننے میں وقت ضائع نہیں کرتاہر انسان اس دنیا میں نئی چیز ہے آغاز کائنات سے روز قیامت تک اس جیسا پیدا نہ ہوانہ ہوگا۔
    انسان میں تعجب خیز خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں منفی کو مثبت میں بدل دینے والی قوت موجود ہے۔ کسی بند کمرے کی کھڑکی سے زمین کے کیچڑ کو دیکھنے کی بجائے آسمان کے ستاروں بھی تودیکھے جا سکتے ہیں۔بہترین چیزیں انتہائی مشکل ضرور ہوتی ہیں مگر ناممکن نہیں۔

    ہر انسانی وجود زندگی کی سڑک پر چلتے ہوئے حالات کی گاڑیوں سے ٹکرائے بنا منزل پر نہیں پہنچ پاتامگر زخمی کر نے والے حادثات بھی ایک نئی سمت پر ڈال دیتے ہیں اور انسان نتیجہ دیکھ کر شکوئے کی بجائے شکر کرنے لگتا ہے۔صدمے اور افسردگی پر غالب آنے والوں کے لیے نئی دنیا میں داخل ہونا ہے جب میرے ساتھ ہوا تو میں مطالعے میں ادبیات عالیہ کو بڑے ذوق و شوق سے پڑھنے لگاکتابوں نے نئی دنیا ؤں کے دروازے کھولے زندگی پرسکون، مسرت بخش،نئے ولولے اور جوش سے لبریز ہو گئی خیال کے نئے جہان مل گئے اپنی زندگی کو حقیقی تناظر میں دیکھنے اور قدروں کے صحیح احساس حاصل ہونے میں کامیابی ملی اور یہ اندازہ بھی ہوا کہ بہت سی چیزیں جن کے پیچھے میں بھاگا رہا وہ درحقیقت غیر اہم اور بے وقعت تھیں۔
    آپ کو گرانے کے لیے کھڈا کھودا گیااور آپ گر بھی گئے اب حاسدوں کو کوسنے اور خود کو ڈانٹنے کی بجائے اس کھڈے کوحکمت عملی اور دانائی کے اوزاروں سے اتنا گہرا کیجئے کہ زمینی خزانے آپ کا استقبال کریں یعنی حالات آپ کو نیبو دے تو زندگی کھٹی کرنے کی بجائے اس کا شربت بنائیے۔اندھا انسان شاعری کے زریعے آنکھوں والوں کو خیال کے رنگوں کی نشاندہی کروا سکتا ہے۔ایک بہرا آدمی موسیقی کی آفاقی دھنیں بنا سکتا ہے۔کتنے ہی ایسے تقدیر کی گاڑی تلے آئے اپاہج انسان اس دنیا میں موجود ہیں جن کی درخشاں حیات کے پیچھے عدم بصارت بہرا پن لولے لنگڑے جیسے اعضاء کی محرومی کے حادثات کا ہاتھ ہے کیا پتا شاید میرے ساتھ بھی کوئی حادثہ ہوا ہو جو دل کی گہرائیوں سے یہ پھڑ پھڑانے والے الفاظ ابھرتے ہوئے تحریر میں آجاتے ہیں۔
    اپنے اوپر ترس کھاکر پھولوں کی سیج کے آرزو مندبنے رہنے کی بجائے زہن سے خوف کا پردہ ہٹا کر ہمت کے ہتھیار سے وہ کانٹے کاٹ ڈالیے جو آپ کوپھولوں کی پنکھڑیوں پر خوشبودار بسیرے سے محروم رکھتے ہیں۔چھوٹے سے چھوٹا کام بھی پوری ایمانداری محنت اور اسلوب سے کرنے کا مزہ لیجئے مجھے ایک دفعہ بیوی کی غیر موجودگی میں گھر کے کام کرنے کا موقع ملا میں نے برتن دھوئے جس سے میرے وجود اند ر عجیب سا ہیجان برپا ہو گیا صابن کی رنگین روئیں دار جھاگ سے کھیلنے کا لطف اندوز نظارہ رونما ہو اصابن میں ہاتھ ڈبوتا تو چھوٹے چھوٹے بلبلوں کی گیندیں بن جاتیں انہیں اُٹھا کر روشنی میں دیکھتا ہر بلبلے میں چھوٹے پیمانے کی دھنک کے شوخ اور دلکش رنگوں نے دنیا ہی بھلا دی کچن کی کھڑی سے باہر دیکھا تو فضا میں اڑتے پرندوں کے خاکستری پر پھڑ پھراتے نظر آئے چڑیوں بلبلوں کو دیکھ کر وجد طاری ہوا تو خدا کا شکر بجا لانے لگا جس نے مجھے زندگی حسن اوررعنائی کی سر زمین پر بسر کرنے کے لیے قدرتی نظارے دیکھنے والی آنکھیں عطا کیے اور نہ اتنا سیراب کیا کہ میں مزید لطف اندوز نہ ہو سکوں۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان؛ ایک صحت مند قوم کی جانب پہلا قدم،تحریر: بسمہ مجید

    تمباکو سے پاک پاکستان؛ ایک صحت مند قوم کی جانب پہلا قدم،تحریر: بسمہ مجید

    فضا میں تحلیل ہوتا سگریٹ کا دھواں صرف ہوا کو آلودہ نہیں کرتا بلکہ یہ انسان کی سانسوں، خوابوں اور زندگیوں کو بھی آہستہ آہستہ نگلتا چلا جاتا ہے۔ تمباکو نوشی بظاہر ایک عادت دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایسا خاموش زہر ہے جو انسان کے جسم کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتا ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں تمباکو نوشی کو اب بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ نوجوان اسے فیشن سمجھتے ہیں، کچھ لوگ ذہنی دباؤ سے نجات کا ذریعہ قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض افراد محض صحبت کے اثر میں اس لت کا شکار ہو جاتے ہیں۔
    پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، جہاں پہلے ہی صحت کے مسائل، غربت اور بے روزگاری نے عوام کو پریشان کر رکھا ہے، وہاں تمباکو نوشی ایک مزید خطرناک بحران بن کر ابھر رہی ہے۔ ہر سال ہزاروں افراد سگریٹ، گٹکا، نسوار اور دیگر تمباکو مصنوعات کے استعمال کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ان اموات کے پیچھے صرف ایک شخص کی غلطی نہیں ہوتی بلکہ پورا خاندان اذیت، کرب اور معاشی تباہی کا شکار ہو جاتا ہے۔

    تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریاں کسی ایک عضو تک محدود نہیں رہتیں۔ پھیپھڑوں کا کینسر، دل کے امراض، سانس کی تکالیف، فالج اور منہ کے سرطان جیسی مہلک بیماریاں اسی زہر کا نتیجہ ہیں۔ ایک سگریٹ وقتی سکون تو دے سکتی ہے، مگر اس کے اثرات برسوں تک انسان کی زندگی کو عذاب میں مبتلا رکھتے ہیں۔ سب سے زیادہ افسوس اس وقت ہوتا ہے جب کم عمر نوجوان، جو قوم کا مستقبل سمجھے جاتے ہیں، اس عادت کا شکار ہو کر اپنی صحت اور صلاحیتیں برباد کر لیتے ہیں۔
    ہمارے تعلیمی اداروں کے اطراف میں سگریٹ کی کھلے عام فروخت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نئی نسل کو محفوظ مستقبل دینے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ کئی نوجوان ابتدا میں محض تجسس کے تحت سگریٹ پیتے ہیں، مگر آہستہ آہستہ یہ عادت ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ پھر وہی نوجوان نہ صرف اپنی صحت تباہ کرتے ہیں بلکہ اپنے اردگرد موجود افراد کو بھی “پیسو اسموکنگ” یعنی بالواسطہ تمباکو نوشی کے خطرات سے دوچار کرتے ہیں۔
    ایک لمحے کے لیے اس ماں کا تصور کیجیے جو اپنے جوان بیٹے کو اسپتال کے بستر پر تڑپتا دیکھتی ہے۔ اس بچے کے بارے میں سوچیے جو اپنے باپ کے ہاتھ میں سگریٹ نہیں بلکہ محبت، تحفظ اور زندگی دیکھنا چاہتا ہے۔ تمباکو نوشی صرف ایک فرد کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ یہ پورے خاندان کی خوشیوں کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔

    بدقسمتی سے تمباکو مصنوعات بنانے والی کمپنیاں اشتہارات، فلموں اور سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوان نسل کو متاثر کرتی ہیں۔ وہ سگریٹ نوشی کو آزادی، اسٹیٹس اور جدیدیت کی علامت بنا کر پیش کرتی ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایک تمباکو نوش انسان دراصل اپنی آزادی کھو دیتا ہے، کیونکہ وہ ایک ایسی لت کا غلام بن جاتا ہے جو اسے جسمانی، ذہنی اور مالی طور پر تباہ کر دیتی ہے۔
    تمباکو سے پاک پاکستان کا خواب صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں، اساتذہ طلبہ میں شعور بیدار کریں، علما معاشرتی اصلاح میں اپنا کردار ادا کریں اور میڈیا صحت مند معاشرے کے فروغ کے لیے مثبت مہم چلائے۔ اگر معاشرہ متحد ہو جائے تو یہ ناسور جڑ سے ختم کیا جا سکتا ہے۔

    حکومت کو بھی چاہیے کہ تمباکو مصنوعات پر مزید ٹیکس عائد کرے، کم عمر افراد کو سگریٹ فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور عوامی مقامات پر تمباکو نوشی پر مکمل پابندی یقینی بنائے۔ اسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں آگاہی مہمات کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ لوگ اس زہر کے تباہ کن نتائج سے آگاہ ہو سکیں۔
    ہمیں یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ ایک صحت مند قوم ہی ترقی یافتہ قوم بن سکتی ہے۔ اگر ہمارے نوجوان بیماریوں میں مبتلا ہوں گے تو ملک کی معیشت، تعلیم اور ترقی کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکے گا۔ تمباکو نوشی وقتی لذت ضرور دیتی ہے مگر اس کا انجام ہمیشہ درد، پچھتاوے اور محرومی پر ختم ہوتا ہے۔
    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر فرد اپنے حصے کا چراغ جلائے۔ اگر ایک شخص بھی سگریٹ چھوڑنے کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ صرف اپنی نہیں بلکہ اپنے خاندان کی زندگی بھی بچاتا ہے۔ ہمیں اپنے گھروں، اسکولوں، کالجوں اور معاشرے میں یہ پیغام عام کرنا ہوگا کہ زندگی قیمتی ہے اور اسے دھوئیں میں اڑانا دانشمندی نہیں۔

    تمباکو سے پاک پاکستان محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک خواب ہے، ایسا خواب جس میں بچے صاف فضا میں سانس لیں، نوجوان صحت مند ہوں، اور اسپتالوں میں مریض کم ہوں۔ اگر ہم آج سنبھل گئے تو آنے والی نسلیں ہمیں دعائیں دیں گی، ورنہ یہ زہریلا دھواں ہمارے مستقبل کو نگلتا رہے گا۔
    یہ فیصلہ اب ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم دھوئیں کو اپنی تقدیر بناتے ہیں یا زندگی کو اپنی پہچان۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: مدثریوسف پاشا

    تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: مدثریوسف پاشا

    آئیں! آج عہد کریں تمباکو سے جان چھڑائیں، خود بھی بچیں، دوسروں کو بھی بچائیں

    انسانی صحت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ صحت مند جسم ہی ایک خوشحال زندگی کی بنیاد بنتا ہے، مگر افسوس کہ آج ہمارے معاشرے میں کئی ایسی عادات عام ہو چکی ہیں جو آہستہ آہستہ انسان کو موت کے قریب لے جاتی ہیں۔ ان ہی خطرناک عادات میں ایک تمباکو نوشی بھی ہے۔ سگریٹ، نسوار، گٹکا، شیشہ اور دیگر تمباکو سے بنی اشیاء نہ صرف استعمال کرنے والے فرد کی صحت تباہ کرتی ہیں بلکہ اس کے اردگرد موجود لوگوں کو بھی مختلف بیماریوں میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں تمباکو نوشی کے خلاف شعور اجاگر کیا جا رہا ہے تاکہ انسان خود کو اور اپنی آنے والی نسلوں کو اس زہر سے محفوظ بنا سکے۔

    تمباکو ایک خاموش قاتل ہے۔ ابتدا میں انسان اسے صرف شوق یا فیشن سمجھ کر استعمال کرتا ہے لیکن آہستہ آہستہ یہ عادت نشے کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ پھر انسان چاہ کر بھی اس سے جان نہیں چھڑا پاتا۔ نوجوان طبقہ اکثر دوستوں کی صحبت، فلموں کے اثرات یا وقتی ذہنی دباؤ کی وجہ سے سگریٹ نوشی شروع کرتا ہے۔ ابتدا میں چند کش لگانے والا نوجوان جلد ہی اس کا عادی بن جاتا ہے اور پھر یہ عادت اس کی صحت، تعلیم، کردار اور مستقبل سب کچھ تباہ کر دیتی ہے۔

    ماہرینِ صحت کے مطابق تمباکو نوشی پھیپھڑوں کے کینسر، دل کے امراض، فالج، دمہ، سانس کی بیماریوں اور منہ کے کینسر جیسی مہلک بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ پاکستان میں ہر سال ہزاروں لوگ صرف تمباکو کے استعمال کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ اب کم عمر بچے بھی اس لعنت کا شکار ہو رہے ہیں۔ اسکولوں اور کالجوں کے باہر کھلے عام سگریٹ اور گٹکا فروخت ہونا ایک خطرناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔

    تمباکو نوشی صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ جب ایک شخص سگریٹ پیتا ہے تو اس کا دھواں اردگرد بیٹھے افراد کے پھیپھڑوں میں بھی داخل ہوتا ہے۔ اسے “Passive Smoking” کہا جاتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان بچوں، خواتین اور بزرگوں کو پہنچتا ہے۔ کئی بچے ایسے گھروں میں سانس کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں جہاں والد یا دیگر افراد مسلسل سگریٹ نوشی کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم صرف خود کو ہی نہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس زہر سے بچائیں۔

    تمباکو نوشی کے معاشی نقصانات بھی بے شمار ہیں۔ ایک غریب آدمی جو روزانہ سگریٹ پر پیسے خرچ کرتا ہے، اگر وہی رقم اپنے بچوں کی تعلیم، خوراک یا علاج پر خرچ کرے تو اس کے گھر کی حالت بہتر ہو سکتی ہے۔ تمباکو پر خرچ ہونے والی دولت دراصل بیماریوں کو خریدنے کے مترادف ہے۔ حکومت کو بھی تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج پر اربوں روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ اگر یہ لعنت کم ہو جائے تو ملک کی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    اسلام بھی ہر اس چیز سے منع کرتا ہے جو انسانی جان اور صحت کے لیے نقصان دہ ہو۔ چونکہ تمباکو انسان کی صحت کو تباہ کرتا ہے، اس لیے علما کرام بھی اس کے استعمال سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ایک باشعور مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے جسم کو نقصان پہنچانے والی عادات سے دور رہیں۔

    تمباکو سے پاک پاکستان صرف حکومت کی کوششوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور انہیں بری صحبت سے بچائیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ تعلیمی اداروں میں آگاہی مہم چلائیں۔ میڈیا کو چاہیے کہ تمباکو نوشی کے نقصانات پر زیادہ پروگرام نشر کرے۔ حکومت کو چاہیے کہ کم عمر بچوں کو تمباکو کی فروخت پر سخت پابندی عائد کرے اور عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروائے۔

    ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ تمباکو نوشی چھوڑنا ناممکن نہیں۔ اگر انسان مضبوط ارادہ کر لے تو وہ اس بری عادت سے نجات حاصل کر سکتا ہے۔ ابتدا میں مشکل ضرور پیش آتی ہے لیکن آہستہ آہستہ انسان اس نشے سے دور ہو جاتا ہے۔ ورزش، مثبت سرگرمیاں، اچھی صحبت اور اہلِ خانہ کی حوصلہ افزائی اس عادت کو ترک کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب مل کر ایک عہد کریں کہ نہ خود تمباکو استعمال کریں گے اور نہ دوسروں کو اس کی ترغیب دیں گے۔ ہمیں اپنے گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرے کو اس زہر سے پاک بنانا ہوگا۔ ایک صحت مند قوم ہی ترقی یافتہ پاکستان کی ضمانت بن سکتی ہے۔

    آئیں! آج یہ عہد کریں کہ ہم اپنی زندگی، اپنے خاندان اور اپنے وطن کو تمباکو جیسی خطرناک لعنت سے بچائیں گے۔ کیونکہ ایک تمباکو سے پاک پاکستان ہی ایک صحت مند، خوشحال اور روشن پاکستان کی بنیاد ہے۔