Baaghi TV

Category: متفرق

  • مزدور ڈے پر بھی مزدور کی مزدوری ،تحریر: نور فاطمہ

    مزدور ڈے پر بھی مزدور کی مزدوری ،تحریر: نور فاطمہ

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں یکم مئی کو “یومِ مزدور” بڑے اہتمام سے منایا جاتا ہے۔ جلسے ہوتے ہیں، تقاریر کی جاتی ہیں، اخبارات میں مضامین شائع ہوتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ہمدردی کے پیغامات کی بھرمار ہو جاتی ہے۔ مگر ان سب رنگینیوں کے بیچ ایک حقیقت بڑی خاموشی سے کھڑی رہتی ہے: وہ مزدور جس کے نام پر یہ دن منایا جاتا ہے، وہ خود اس دن بھی مزدوری کر رہا ہوتا ہے۔

    یہ کیسا تضاد ہے کہ جس کے حق میں آواز بلند کی جاتی ہے، وہی شخص اس آواز کو سننے سے محروم رہتا ہے۔ اینٹیں اٹھاتا ہوا مزدور، سڑک پر پسینہ بہاتا محنت کش، کارخانوں میں مشینوں کے ساتھ جُھلا ہوا ہاتھ ، یہ سب آج بھی اپنی روزی کی تلاش میں ہوتے ہیں، چاہے کیلنڈر پر یکم مئی ہی کیوں نہ درج ہو،ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں مزدور کی اجرت کا ذکر تو ہوتا ہے، مگر اس کے زخموں کا مداوا نہیں کیا جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ مزدور کی تنخواہ 40 ہزار تک پہنچ گئی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ اعداد و شمار اکثر کاغذوں کی حد تک محدود رہتے ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ کئی مزدور آج بھی اتنی اجرت سے محروم ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے پورا کر پاتے ہیں۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ مزدور ڈے بھی ایک “تقریب” بن کر رہ گیا ہے۔ جہاں چند بااثر افراد تقریریں کرتے ہیں، کیمرے چلتے ہیں، تالیاں بجتی ہیں، اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ مگر مزدور کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ نہ اس کے حالات بدلتے ہیں، نہ اس کے بچوں کی تقدیر،اصل سوال یہ ہے کہ آخر کون ان کے حق میں آواز اٹھائے گا؟ کون ان کے پسینے کا اصل معاوضہ دلائے گا؟ اور کب تک مزدور صرف نعروں اور پوسٹروں کی زینت بنا رہے گا؟یہ وقت ہے کہ ہم مزدور ڈے کو صرف منانے کے بجائے سمجھیں۔ مزدور کو ہمدردی نہیں، انصاف چاہیے۔ اسے تقریر نہیں، حق چاہیے۔ جب تک اس کے ہاتھ کی محنت کو اس کا پورا حق نہیں ملتا، تب تک ہر یومِ مزدور ایک ادھورا دن ہی رہے گا۔

    مزدور وہ خاموش طاقت ہے جس پر معیشت کی عمارت کھڑی ہے۔ اگر یہ ہاتھ رک جائیں تو دنیا کا پہیہ بھی رک جائے۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اس طاقت کو صرف یاد رکھنا چاہتے ہیں یا اسے اس کا اصل مقام بھی دینا چاہتے ہیں۔

  • کلثوم نواز کی بیٹی بے رحم نہیں ہوسکتی،تحریر:ملک سلمان

    کلثوم نواز کی بیٹی بے رحم نہیں ہوسکتی،تحریر:ملک سلمان

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی دوسال کی کارگردگی کی دھوم ناصرف پنجاب اور پورے پاکستان بلکہ دنیا کے متعدد ممالک تک جاپہنچی۔ فلاحی و ترقیاتی کاموں کی ایسی تاریخ رقم کی, جس کی نظیر ماضی میں نہیں ملتی۔ ایسے میں ہر کوئی مریم نواز کی کارگردگی کا معترف نظر آرہا تھا۔ دو سال کے مختصر دورانیے میں پنجاب کی بے مثال ترقی نے پنجاب اور پاکستانی عوام کو ان کا گرویدہ بنا لیا تھا دیگر صوبوں کی عوام کہتے تھے کہ خداداصلاحیتوں اور عوامی فلاح و بہبود کی تاریخ رقم کرنی والی مریم نواز کو وزیراعظم ہونا چاہئے تاکہ پورے پاکستان کی تقدیر بدل جائے۔
    مریم نواز شریف طلبہ و طالبات کی پسندیدہ سیاسی شخصیت بن چکی تھیں۔

    بدقسمتی سے کتے کے کاٹنے سے ایک بچے کی ہلاکت کا واقع ہوتا ہے تو وزیراعلیٰ مریم نواز شریف انتظامی افسران کی سخت سرزنش کرتی ہیں کہ پنجاب کے ہر بچے اور شہری کی حفاظت کو پہلی ترجیح بنایا جائے ساتھ ہی انہوں نے انتظامی افسران کو وارننگ جاری کی کہ کہیں بھی انسانی جان کا نقصان ہوا تو متعلقہ افسر کو سزا ملے گی۔
    شہریوں کو محفوظ رکھنے کیلئے زخمی کتوں کا علاج معالجہ اور انکی ویکسینیشن کرنے کی بجائے ہمیشہ سے اپنی ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی ماہر بیوروکریسی نے انسانیت اور ضمیر کو مردہ کرکے وحشی جلاد کا روپ دھار لیا اور کتوں کی لاشوں کے ڈھیڑ لگادیے۔ ستھرا پنجاب جس کی دھوم مچی ہوئی تھی اس کے ورکرز کے ہاتھوں میں جھاڑو کی بجائے بندوق دے کر کتے مارنے پر لگادیا گیا جبکہ کچرا اٹھانے والی گاڑیوں میں کتوں کی لاشوں کی تصایر کو قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کے ساتھ شئیر کیا۔

    معصوم و بے زبان کتوں کے قتل عام نے ہر باضمیر انسان کو دکھی کردیا۔
    گذشتہ دنوں ایک دوست ملنے آئے تو کہنے لگے کہ چند دن قبل ڈپٹی کمشنرز کے انٹرویو تھے تو اس نے ڈی سی شپ سے انکار کردیا کہ اگر ڈی سی لگ کر ان معصوم جانوں کو قتل کرنا ہے تو ایسی ڈی سی شپ سے معذرت۔
    لاکھوں طلبہ و طالبات نے سوشل میڈیا پر
    ” 💔Broken Heart💔“
    کے ساتھ "سٹاپ ڈاگ کلنگ” کے سٹیٹس لگائے۔ ہزاروں طلبہ کے سوشل میڈیا سٹیٹس تھے کہ مریم نواز اگر آپ ان معصوموں کے قتل کا حکم دے رہی ہیں تو
    we no more love you 😞🙏

    اندرون لاہور کی چند خواتین کا انٹرویو وائرل ہورہا ہے کہ کلثوم نواز کی بیٹی بے رحم نہیں ہوسکتی، مذکورہ ویڈیو میں خواتین مادر جمہوریت کلثوم نواز کی رحم دلی اور شخصیت کے حوالے سے بتا رہی تھی کہ مرحوم کلثوم نواز تو باقاعدگی سے ان بے گھر کتوں کیلئے روٹی کا اہتمام کرتی تھیں۔مختلف دیہاتوں سے ویڈیوز دیکھنے کو مل رہی ہیں ستھرا پنجاب اور میونسپل کمیٹی کے اہلکار جانوروں کی حفاظت کیلے رکھے گئے پالتو کتوں کو بھی زہر دے کر چلے گئے۔

    سپیشل برانچ اور انٹیلیجنس بیورو سے رپورٹ لیں آپ کو خوفناک حقائق ملیں گے کہ کتوں کو مارنے کے واقعات کے دوران کتنے شہری فائرنگ سے زخمی ہوئے اسی طرح کتوں کو مارنے کیلئے پھینکے گئے strychnine زہر سے چار بچوں کی ہلاکت اور درجنوں بچوں کے ہسپتال میں جانے کی اطلاعات ہیں۔ فائرنگ اور زہر سے ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کا کون ذمہ دار؟پنجاب بھر کے اضلاع کیلے ایک ہی ٹھیکیدار سے خریدے گئے strychnine زہر کی وجہ سے فضا زہریلی ہوچکی ہے۔

    جب سے کتا مار مہم شروع گئی کی گئی ہے تب سے کتا کاٹنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ فائرنگ سے زخمی ہونے والا کتا اگر مرتا نہیں ہے تو وہ زخموں کی وجہ سے باؤلا ہو جاتا ہے ۔
    گزارش ہے کہ کتوں کو فائرنگ اور زہر سے باؤلا کرنے یا تڑپا تڑپا کر مارنے کی بجائے ویکسینیشن کریں۔

    وزیر اعلیٰ تک کوئی بھی حقائق پہنچانے کی زحمت نہیں کرتا کہ آج تک کسی صحت مند کتے نے کسی شہری کو نہیں کاٹا بلکہ جتنے بھی واقعات ہوئے اس کے پس منظر میں پہلے محلے داروں نے ان کتوں کو زخمی کیا اور پھر وہ انہی زخموں کا علاج نہ ہونے سے باؤلے ہوگئے اور باؤلے پن میں شہریوں پر حملہ کیا۔ بے شمار واقعات ہیں جہاں کتوں نے انسانوں سے دوستی نبھاتے ہوئے جان دے دی۔ لیکن انسان انتہائی ناشکرا ہے 99نیکیاں بھول جاتا ہے اور ایک برائی یاد رکھتا ہے۔

    کتوں کے ساتھ صدیوں کے تعلق کو بھول کر چند ناخوشگوار واقعات کی آڑ میں ان کا قتل عام شروع کر دینا کسی طور پر بھی جسٹیفائیڈ نہیں۔ کتوں کو مارنا یا انسانوں سے دور کرنا حل نہیں اس لیے کتوں کو مارنے اور ان کے کیلئے شہر سے باہر شیلٹر ہوم بنانے کی بجائے ان کی ویکسینیشن کرنی چاہئے۔ مغربی ممالک میں جتنے بھی شیلٹر ہوم ہیں وہ انسانی آبادی میں بنائے جاتے ہیں صرف موذی مرض میں مبتلا کتوں کیلئے ریہبلیٹیشن سینٹر دوردراز جگہ ہوتے ہیں۔ زخمی اور بیمار کتوں کو ریہیبلیٹیشن اور شیلٹر فرام کیا جائے۔ زخمی کتوں کو فوری طور پر علاج معالجہ فراہم کیا جائے تو باؤلے ہو کر کاٹے گے نہیں۔جبکہ صحت مند کتوں کو ویکسینیشن اور ٹریکنگ سسٹم کے ساتھ سوسائٹی کا حصہ بنایا جائے نا کہ ان کا قتل عام اور شہرسے باہر جنگل میں چھوڑ آنا۔

    بے زبانوں کا قتل عام حل نہیں بلکہ انکی ویکسینیشن کرنی چاہئے تھی۔
    کتا انسان کے ساتھ جذباتی تعلق رکھتا ہے اور انتہائی وفادار ساتھی سمجھا جاتاہے۔
    کتے اور انسانوں کی دوستی ہزاروں سال پرانی ہے، جس کے باعث کتے انسانوں کے ساتھ رہنے اور ان کی زندگی کا حصہ بننے کے عادی ہو چکے ہیں۔کتے انسانوں کے ساتھ ملنے اور انہیں دیکھنے میں زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔ہزاروں سالوں سے انسانی ابادی میں رہنے والے کتوں کو ختم کرنے سے ایکو سسٹم بری طرح متاثر ہوگا۔ ماضی میں اسی طرح ان سرکاری بے عقلوں نے چیلوں کا خاتمہ کیا تھا تو بعد میں ہمیں بیرون ملک سے چیلیں امپورٹ کرنی پڑی تھی۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • SMASH میزائل ٹیسٹ: جنوبی ایشیا کے لیے اس کی اسٹریٹجک اہمیت اور اثرات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشی

    SMASH میزائل ٹیسٹ: جنوبی ایشیا کے لیے اس کی اسٹریٹجک اہمیت اور اثرات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشی

    میجر (ر) ہارون رشید — دفاعی و اسٹریٹجک تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدیدکاری میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینٹیز اینڈ ڈویلپمنٹ کے رکن ہیں

    پاکستان کی جانب سے حال ہی میں اپنے مقامی طور پر تیار کردہ SMASH میزائل کا بحری پلیٹ فارم سے کامیاب تجربہ ملکی دفاعی صلاحیتوں میں ایک نمایاں پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگرچہ اس کی رفتار اور حدِ مار سے متعلق سرکاری تفصیلات محدود ہیں، تاہم دستیاب اشارے بتاتے ہیں کہ یہ نظام ایک جدید اور زیادہ مؤثر ورژن ہے—جسے غیر رسمی طور پر SMASH-II کہا جا رہا ہے—جو ممکنہ طور پر میخ 10 سے زیادہ رفتار (ہائپر سونک) اور 400 کلومیٹر سے زائد رینج کا حامل ہو سکتا ہے۔

    یہ پیش رفت کوئی الگ تھلگ کامیابی نہیں بلکہ دفاعی جدیدکاری کے وسیع تر عمل کا حصہ ہے۔ SMASH میزائل کے تجربے کی اصل اہمیت اس کی بحری تعیناتی میں ہے، جو ایسے وقت میں پاکستان کی بحری ڈیٹرنس کو مضبوط بناتی ہے جب جنوبی ایشیا کا اسٹریٹجک ماحول مزید پیچیدہ اور مسابقتی ہوتا جا رہا ہے۔

    اس تجربے کا ایک اہم پہلو پاکستان کی سیکنڈ اسٹرائیک صلاحیت اور مجموعی ڈیٹرنس پوزیشن میں اضافہ ہے۔ اس سے قبل آبدوز سے داغے جانے والے ٹیکٹیکل میزائل سسٹمز کے تجربات ایک قابلِ اعتبار سمندری ڈیٹرنس کی جانب پیش رفت کا عندیہ دے چکے ہیں۔ SMASH جیسے جدید میزائل سسٹمز کو بحری پلیٹ فارمز میں شامل کرنا اس صلاحیت کو مزید تقویت دیتا ہے، جو مستقبل میں روایتی اور ممکنہ طور پر ٹیکٹیکل ہتھیار لے جانے کی صلاحیت بھی فراہم کر سکتا ہے۔

    اسٹریٹجک نقطۂ نظر سے پاکستان بتدریج ایک ایسے “ٹرائیڈ نما ڈیٹرنس فریم ورک” کو مستحکم کر رہا ہے جو فضاء، زمین اور سمندر تینوں جہتوں پر محیط ہے۔ اگرچہ یہ بڑی طاقتوں کے روایتی نیوکلیئر ٹرائیڈ جیسا مکمل نظام نہیں، تاہم یہ کثیر جہتی ڈیٹرنس بقا، متبادل صلاحیت اور فوری ردعمل کی لچک میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔

    جنوبی ایشیا کے تناظر میں، جہاں سلامتی کے معاملات دیرینہ رقابتوں—خصوصاً بھارت کے ساتھ—سے متاثر ہوتے ہیں، ایسی پیش رفت کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ SMASH میزائل کی بحری جہازوں سے تعیناتی دشمن کی منصوبہ بندی میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کرتی ہے۔ یہ عملی طور پر جنگی میدان کو سمندری حدود تک پھیلا دیتی ہے اور مخالف کو سمندر سے آنے والے تیز رفتار اور طویل فاصلے کے خطرات کو مدنظر رکھنے پر مجبور کرتی ہے۔

    یہ پیش رفت خاص طور پر بھارت کی بڑھتی ہوئی بحری قوت اور بحرِ ہند میں اس کے اثر و رسوخ بڑھانے کی حکمتِ عملی کے تناظر میں اہم ہے۔ پاکستانی بحری اثاثوں پر جدید میزائل سسٹمز کی موجودگی ایک مؤثر جوابی حکمتِ عملی کے طور پر کام کرتی ہے، جو “ڈیٹرنس بائی ڈینائل” کو مضبوط بناتی ہے۔ اس سے کسی بھی ممکنہ سمندری مداخلت کی لاگت اور خطرہ بڑھ جاتا ہے، یوں باہمی کمزوری کے اصول کے تحت اسٹریٹجک استحکام کو تقویت ملتی ہے۔

    تاہم، اس طرح کی پیش رفت خطے میں جاری اسلحہ جاتی مقابلے کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ جیسے جیسے پاکستان اور بھارت اپنے عسکری نظام—بشمول میزائل، بحری پلیٹ فارمز اور نگرانی کی ٹیکنالوجیز—کو جدید بنا رہے ہیں، غلط اندازے یا غلط فہمی کے خطرات کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس صورتحال میں اعتماد سازی کے اقدامات، مؤثر مواصلاتی ذرائع اور اسٹریٹجک تحمل کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

    آخر میں، SMASH میزائل کا تجربہ محض ایک تکنیکی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کے اس عزم کا اظہار ہے کہ وہ کثیر جہتی میدانوں میں ایک قابلِ اعتماد اور لچکدار ڈیٹرنس برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ یہ جہاں قومی دفاع کو مضبوط بناتا ہے اور اسٹریٹجک توازن کو بہتر کرتا ہے، وہیں جنوبی ایشیا میں عسکری مسابقت کی بدلتی نوعیت کو بھی اجاگر کرتا ہے—جہاں ایک شعبے میں پیش رفت پورے خطے کے سکیورٹی توازن کو متاثر کرتی ہے

  • ایران کا سعودی تنصیبات پرغیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ حملہ

    ایران کا سعودی تنصیبات پرغیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ حملہ

    آج کے حملے سے پہلے کسی ملک بشمول اسرائیل نے سعودیہ عرب پر حملہ کرنے کے جرات نہیں کی۔ ایران کا سعودی شہر الجبیل کی پیٹرولیم تنصیبات پر حملہ نہ صرف سعودیہ عرب بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات پہ حملہ ہے

    ایران کا سعودیہ عرب کے شہر الجبيل آئل ریفائنری اورپیٹروکیمیکل تنصیبات پرحملہ کسی صورت بھی امریکی تنصیبات پر جوابی حملے کے ساتھ تشبیہ نہیں دیا جاسکتا ۔ سعودیہ عرب نے ہمیشہ اس امر کی یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کی سرزمین پر موجود امریکی بیسز ایک معاہدے کے تحت قائم ہیں اور ان بیسز کو کبھی بھی ایران کے خلاف جارحانہ استعمال کی اجازت نہیں دی گئی۔ اگر کوئی ملک سعودیہ عرب کی معاشی اہمیت کی حامل تنصیبات پر حملہ کرے گا تو یقیناً اس کے منفی اثرات سعودیہ عرب کے مجموعی تحفظ و استحکام پر پڑنے کا خدشہ ہے۔ سعودی عرب پر کوئی بھی وار حرمین شریفین کے تحفظ کے لئے ایک براہ راست خطرہ ہے، جو بطور محافظ حرمین شریفین پاکستان کو قطعی طور پر قابل قبول نہیں۔

    پاکستان مشرق وسطی میں جاری کشیدگی کی ابتدا سے ہی ایران کو باور کرانے کی کوشش کرتا آ رہا ہے کہ پڑوسی ممالک خصوصا سعودیہ عرب پر حملے کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ پاکستان کے اس اصرار کے باوجود ایران سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے، اس کے برعکس سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک انتہائی صبر وتحمل کامظاہرہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو دفاعی اقدامات تک محدود رکھے ہوئے ہیں۔ ایران کا یہ حملہ کشیدگی کو کم کرنے کے لئیے کی جانے والی مفاہمتی کاوشوں پر ایک کاری ضرب ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے نازک وقت پر کیا گیا ہے جب جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں ایک حساس جانب گامزن ہیں۔ یہ حملہ ان سفارتی کاوشوں کو بڑی حد تک compromise کرتا ہے

    پاکستان اور سعودیہ عرب کے مابین باہمی دفاعی معاہدہ اور اس کے مضمرات سے مکمل آگاہ ہونے کے باوجود ایران کا یہ حملہ ایرانی اور عرب ممالک کے عوام کیلئے مشکلات پیدا کرنے اور مسلم اُمّہ مفادات سےمتصادم ہے، یہاں یہ امر بھی واضح ہے کہ پاکستان اور سعودیہ عرب کے مابین دیرینہ اور تاریخی تعلقات فرقہ واریت اور کسی لسانی تفریق سے بالاتر ہیں۔ حرمین شریفین پاکستان میں بسنے والے تمام مسلمانوں کے لئیے معظم اور مقدس ہے ، پاکستان سعودیہ عرب پہ ہونے والے ان حملوں کی نہ صرف بھرپور مذمت کرتا ہے بلکہ فریقین کی طرف سے صبر وتحمل کا خواہشمند ہے، اسلامی تعلیمات کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ دو مسلمان فریقین میں سے ایک فریق زیادتی کررہا ہو تو دوسرے فریق کے ساتھ کھڑے ہونے کو ترجیح دی جاتی ہے اس طرح کے جارحانہ اور غیر ذمہ درانہ اقدامات پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کی عوام معاشی استحکام کے لیے خطرناک ہیں اور توانائی کی تنصیبات پر اس طرح کے حملے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر سکتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ نہ صرف ان حملوں کی مذمت کی جائے بلکہ انکو ہر صورت روکا جائے۔

  • قدرت سے دشمنی نہ کرو،تحریر:ملک سلمان

    قدرت سے دشمنی نہ کرو،تحریر:ملک سلمان

    انسان فطری طور پر خود غرض اور مطلبی ہے، سائنس کے مطابق انسان اور کتے کا تعلق کم از کم 15 ہزار سال پرانا ہے، جو اس رشتے کی گہرائی اور ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم کو ظاہر کرتا ہے۔ جب انسان غار میں رہا کرتا تھا تب اُسے شکار کے لیے ایسے ساتھی کی ضرورت پڑتی تھی جس پر اعتماد کیا جاسکے۔ تب کتا انسان کی زندگی میں آیا اور دونوں میں دوستی کا رشتہ قائم ہوا۔

    اسی طرح بلی کو بھی پالتو کا درجہ 6000 سال قبل تب ملا جب انسان نے کاشکاری شروع کی، کیڑے مکوڑوں اور چوہوں پر قابو پانے کے لیے بلیاں کارآمد ثابت ہوئیں۔
    کتا انسان کے ساتھ جذباتی تعلق رکھتا ہے، اگر گھر بدل جائے تو وہ پرانے گھر کو چھوڑ کر مالک کے ساتھ نئے گھر چلا جاتا ہے۔کتا انتہائی وفادار ساتھی ہے۔ وہ کسی بھی مشکل گھڑی میں اپنے مالک کو چھوڑ کر نہیں جاتا۔ کتے اور انسانوں کی دوستی ہزاروں سال پرانی ہے، جس کے باعث کتے انسانوں کے ساتھ رہنے اور ان کی زندگی کا حصہ بننے کے عادی ہو چکے ہیں۔ یہ وفادار جانور صدیوں سے انسانوں کے ساتھ مل کر شکار، گھر کی حفاظت اور جذباتی دوست کے طور پر رہ رہے ہیں اور انسان پر انحصار کرتے ہیں۔ تمام جانوروں میں کتوں کا انسانوں کے ساتھ رہن سہن سب سے زیادہ دوستانہ ہوتا ہے۔کتے انسانوں کے ساتھ ملنے اور انہیں دیکھنے میں زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔

    بے شمار واقعات ہیں جہاں کتوں نے انسانوں سے دوستی نبھاتے ہوئے جان دے دی۔ لیکن انسان انتہائی ناشکرا ہے 99نیکیاں بھول جاتا ہے اور ایک برائی یاد رکھتا ہے۔
    کتوں کے ساتھ صدیوں کے تعلق کو بھول کر چند ناخوشگوار واقعات کی آڑ میں ان کا قتل عام شروع کردینا کسی طور پر بھی جسٹیفائیڈ نہیں۔ کتوں کو مارنا یا انسانوں سے دور کرنا حل نہیں یہ ہزاروں سال سے انسانوں کے ساتھ رہنے کے عادی ہیں انکو انسانوں سے دور نہ کرو، ظالمو تم نے چند سال بعد مر جانا ہے لیکن یہ انسانیت دشمنی کی لعنت بعد ازمرگ بھی تاریخ کی صورت لعنت بن کر تمہاری نسلوں کا پیچھا کرے گی۔ اس لیے کتوں مارنے اور ان کے کیلئے شہر سے باہر شیلٹر ہوم بنانے کی بجائے ان کی ویکسینیشن کرو۔ شیلٹر ہوم کے نام پر جو "مال” تمہیں نظر آرہا ہے اس لالچ نے تم سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی ہے۔ مغربی ممالک میں جتنے بھی شیلٹر ہوم ہیں وہ انسانی آبادی میں بنائے جاتے ہیں صرف موذی مرض میں مبتلا کتوں کیلئے ریہبلیٹیشن سینٹر دوردراز جگہ ہوتے ہیں۔

    ہم سب کو یاد کرنا چاہئے کہ بچپن میں ان بے گھر و بے زبان کتوں کیلئے ہمارے گھروں میں لازم روٹی پکتی ہوتی تھی، مزے کی بات یہ ہوتی تھی کہ عین مغرب کے وقت کتے گھر کے دروازے کے باہر بیٹھ کر انتظار کرتے تھے اور جیسے ہی انکو روٹی دینی وہ دم ہلا کر شکریہ ادا کرکے چلے جاتے تھے۔دنیا میں سب سے زیادہ پالتو کتے امریکہ، چین اور روس میں پائے جاتے ہیں۔ کتے امریکی ثقافت اور گھرانوں کا اہم حصہ ہیں، جن کی دیکھ بھال اور ان کے جذبات کو سمجھنے کے لیے خصوصی تحقیق بھی کی جاتی ہے۔ قدیم یونانی ادب سمیت دنیا بھر کے ادب میں کتوں کا مثبت ذکر موجود ہے۔ مشہور ہیلتھ ویب سائیٹ ”بولڈ اسکائی‘‘ کے مطابق ایسے افراد جو گھروں میں پالتو کتوں کو رکھنے کا شوق رکھتے ہیں ان کی صحت دوسرے لوگوں کی نسبت بہتر رہتی ہے۔
    انسان کے علاوہ ہر حیوان یا جاندار صرف خطرے کی صورت میں یا بھوک سے مغلوب ہوکر ہی کسی دوسرے جاندار پر حملہ آور ہوتا ہے۔ ان بے زبانوں کو روٹی ملنی چاہئے۔ زخمی کتوں کو فوری طور پر علاج معالجہ فراہم کیا جائے تو باؤلے ہو کر کاٹے گے نہیں۔

    زخمی اور بیمار کتوں کو ریہیبلیٹیشن اور شیلٹر فرام کیا جائے۔
    جبکہ صحت مند کتوں کو ویکسینیشن اور ٹریکنگ سسٹم کے ساتھ سوسائٹی کا حصہ بنایا جائے نا کہ ان کا قتل عام اور شہرسے باہر جنگل میں چھوڑ آنا۔
    حکومت اور سرکاری انتظامی مشینری کو چاہئے کہ ان بے گھر کتوں کو زہر نہیں ویکسینشن کریں تاکہ یہ بھی معاشرے کا پرامن اور خوبصورت کردار بن کر زندگی گزار سکیں۔
    بے زبانوں کا قتل عام حل نہیں بلکہ انکی ویکسینیشن کرنی چاہئے تھی۔

    اہم سوال ہے کہ برتھ کنٹرول اور ویکسینیشن میں ناکامی پر متعلقہ محکموں اور سرکاری ملازمین کا احتساب کرنے کی بجائے انہی کو منصف بنا کر معصوم کتوں کی نسل کشی پر لگا دینا بدترین ظلم اور بدیانتی نہیں؟
    اگر ان معصوم جانوروں کو ویکسینیشن اور علاج معالجہ کی سہولتیں نہیں ملنی تو تمام تحصیلوں میں ویٹنری ہسپتال اور مانٹیرنگ کمیٹیاں صرف دکھاوے اور کرپشن کیلئے بنائی جاتی ہیں؟

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • کام سے کام رکھنا ضروری کیوں؟تحریر:مبشر حسن شاہ

    کام سے کام رکھنا ضروری کیوں؟تحریر:مبشر حسن شاہ

    آج کے دور میں جہاں معلومات کی بھرمار ہے اور ٹیکنالوجی ہر لمحہ ہمیں دوسروں کی زندگیوں سے جوڑے ہے، وہاں کام کا ایک بنیادی اصول تیزی سے نظرانداز ہو رہا ہے۔
    اپنے کام سے کام رکھنا۔ بظاہر یہ جملہ سادہ لگتا ہے، مگر اس کے اندر زندگی کو پرسکون اور متوازن بنانے کا ایک مکمل فلسفہ چھپا ہوا ہے۔
    ہم میں سے اکثر لوگ اپنی توانائی دوسروں کے معاملات میں مداخلت کر کے ضائع کرتے ہیں۔ کئی بار یہ مداخلت محض دوسروں کی زندگی پر نظر رکھنے تک محدود نہیں رہتی۔ (حالانکہ یہ بھی غلط) بلکہ ہم ان کے کاموں میں دخل دینا شروع کر دیتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ قابل غور بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ آپ کی اس دخل اندازی کو اپنے حق میں استعمال کر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، دفاتر میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک ساتھی اپنا کام ٹال دیتا ہے اور دوسرے ساتھی کو یہ محسوس کراتا ہے کہ یہ کام صرف آپ ہی کر سکتے ہیں۔ انسان کی فطرت ہے کہ جب کوئی ہمیں اہمیت دکھاتا ہے۔ہمارا دماغ سکون محسوس کرتا ہے جسے ڈوپامین کہتے ہیں ڈوپامین ریلیز ہونے کے بعد ہمارا جو ایکشن ہوتا ہے، وہ اکثر سیروٹونن ریلیٹڈ انرجی ری ایکشن میں بدل جاتا ہے۔ یعنی وقتی خوشی کے بعد دماغ میں ایک لمبی دورانیے کی توانائی یا سکون کا احساس پیدا ہوتا ہے
    تو ہم خوشی محسوس کرتے ہیں، اور اپنا کام چھوڑ کر یا اوور برڈنائز ہوکر دوسرے کا کام گلے ڈال لیتے ہیں۔ کئی لوگوں کو یہ روحانی سکون بھی لگتا ہوگا کیونکہ دوسروں کے کام آنا بھی عبادت ہے۔*( وہ عبادت اور کام مجبور و لاچار کے لیے ہیں) ، ہم اپنا اصل کام چھوڑ کر دوسروں کے کام میں کود پڑتے ہیں ۔یہ بنیادی مسئلہ ہے۔ جو ہمیں سمجھنا پڑے گا۔ ہر شخص ہر کام نہیں کر سکتا۔ اور اگر وہ کر سکتا ہے تو نہیں کرنا چاہیے۔
    یہاں ایک اور اہم نقطہ یہ ہے کہ جب آپ کہتے ہیں "یہ کام میں کر دوں گا” صرف اس لیے کہ یہ آپ کے لیے مسئلہ نہیں، تو آپ اپنے کسی شخص کے ہاتھوں استعمال ہونے جا رہے ہوتے ہیں اور اسے آپ اسے مستقل عادی بنا رہے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے کام نہ کرے ۔ آپ خود یہ راستہ کھول دیتے ہیں کہ یہ کام مستقبل میں آپ کی ذمہ داری بن جائے۔ چھوٹا سا تعاون وقتی سکون تو دیتا ہے، لیکن طویل مدت میں یہ آپ کے لیے اضافی دباؤ، توجہ کی تقسیم، اور وقت کی کمی کا سبب بنتا ہے۔ جو کام کبھی آپ نے کسی کو امپریس کرنے یا مروت میں دوسرے کا کیا تھا ایک وقت آتا ہے کہ اسی کام کو درست نہ کرنےپر آپ باقاعدہ قصور وار ٹھہرائے جاتے ہیں وہ شخص آہستہ آہستہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہ کام کرانااس کا حق ہے اور ہمیشہ آپ سے کرایا جا سکتا ہے۔

    مزید یہ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی کام پہلے سے شروع ہو چکا ہو اور ہم اس میں مداخلت کر دیں، چاہے وہ تھوڑے بہت رد و بدل یا بہتری کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔ چونکہ کام پہلے ہی شروع ہو چکا ہوتا ہے، ہم اسے مکمل کر دیتے ہیں اور نتیجتاً دوسروں کے کام کو آسان بناتے ہیں۔ یہ رویہ وقتی آسانی تو فراہم کرتا ہے، لیکن آپ کو اپنے اصل کام پر فوکس کرنے سے روک دیتا ہے اور سیکھنے کے مواقع کم کر دیتا ہے۔ نتیجتاً ہم مستقل طور پر دوسروں کے کام کا بوجھ اٹھانے کے عادی ہو جاتے ہیں۔دوسرا جاری کام کو اچکنا اور جلدی سے مکمل کر لینا آپ کی محنت کرنے اور فوکس کی صلاحیت ختم کر دیتا ہے ۔

    معاشرتی طور پر ایک اور رجحان بڑھ رہا ہے: ہم فوراً مشورہ دینے لگتے ہیں اور ہر کام میں مداخلت کرتے ہیں، چاہے ہمیں اس کی بیسکس بھی نہ معلوم ہوں۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی گاڑی خراب ہے اور آپ کو خرابی نہیں پتا پھر بھی اسے دیکھنا یا اندازے لگانا وہ عادت ہے جس کا ذکر ہو رہا ہے۔ ، مہذب معاشروں میں ایک اصول ہے جب تک آپ سے پوچھا نہ جائے، آپ نے نہیں بولنا ۔یہاں ہم پورے مکینک بن بیٹھتے ہیں۔ اگر آپ کو خرابی کا علم ہے تو کیونکہ آپ کا بنیادی کام گاڑی ٹھیک کرنا نہیں ہے۔لہذا بغیر اوزاروں کے غیر ضروری مداخلت اسی ضمرے میں آئے گی جس کا ذکر ہو رہا ہے۔ ہاں، اگر ایمرجنسی صورتحال ہو تو ضرور مدد کریں، لیکن غیر ضروری مداخلت سے یہ چیز عادت بن جاتی ہے ، اور انسان اپنے ذمہ مستقل طور پر غیر ضروری کام لے لیتا ہے۔

    اصل افیشینسی یہ نہیں کہ آپ کم وقت میں زیادہ کام کر لیں اور ہر لمحے مصروف دکھائی دیں۔ جو کام آپ کر رہے ہیں اسے یکسوئی سے مکمل کرنا اور باقی وقت کو اپنے آپ کو آرام دینے، اپنی فیملی کو وقت دینے اور اپنی زندگی کو توازن میں رکھنے کے لیے استعمال کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔ اگر کچھ افراد یہ سمجھتے ہیں کہ میں کم وقت میں زیادہ کام کر لیتا ہوں تو میں دوسروں سے بہتر ہوں، تو وہ غلط فہمی میں ہیں؛ یہ افیشینسی نہیں بلکہ ایک "اوور افیشینسی” ہے، جو تعریف کی کوٹنگ میں لپیٹ کر ہمیں درست دکھائی جاتی ہے۔
    یہی رجحان سوشل میڈیا میں بھی نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر، ہمارے فون میں موجود نمبرز کے اسٹیٹس چیک کرنا ایک عام عادت ہے۔ بظاہر یہ صرف معلومات حاصل کرنا بے ضرر محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم گھر بیٹھے بیٹھے پچاس یا اس سے زائد لوگوں کے بارے میں ایکٹو معلومات حاصل کر لیتے ہیں: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں، کہاں جا رہے ہیں، اور کیا ہو رہا ہے۔ اس طرح سوشل میڈیا کے سٹیٹس اور اپڈیٹس میں وقت گزارنا بھی غیر ضروری معلومات میں انوال ہونا ہے، جو ہماری توجہ کو منتشر کرتا ہے، ذہنی دباؤ پیدا کرتا ہے اور اصل اہم کاموں میں رکاوٹ بنتا ہے۔
    ریسرچ بھی یہی بتاتی ہے۔ یونیورسٹی آف شکاگو (2021) کے مطابق، جو ملازمین اپنی توانائی دوسروں کے کاموں میں ضائع کرتے ہیں، ان کی پروڈکٹیوٹی تقریباً 30٪ کم ہو جاتی ہے۔ ہارورڈ بزنس ریویو کی تحقیق بھی ظاہر کرتی ہے کہ غیر ضروری ملٹی ٹاسکنگ ذہنی دباؤ، تھکن اور کام کی کوالٹی میں کمی لاتی ہے۔ اسی طرح برطانیہ کی ایگزیکٹو پروڈکٹیویٹی اسٹڈی (2020) میں بتایا گیا کہ جو لوگ بار بار دوسروں کے ضروری کام خود سے سنبھالتے ہیں، ان کے اپنے اہم کام مکمل کرنے کی صلاحیت 25٪ کم ہو جاتی ہے۔

    ایک دفتر کا واقعہ: احمد ہمیشہ ہر ساتھی کے کام میں مداخلت کرتا، کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ "یہ کام میں کر دوں گا، مسئلہ نہیں ہے”۔ چند مہینوں میں اس کی اپنی اہم ذمہ داریوں میں تاخیر ہونے لگی، ذہنی دباؤ بڑھ گیا اور وہ اکثر تھکا ہوا محسوس کرنے لگا۔ اس کے ساتھی نے بھی اس رویے کو معمول سمجھ لیا اور ہمیشہ احمد پر انحصار کرنے لگا، جس سے احمد کا وقت اور توانائی مستقل ضائع ہونے لگی۔جب اس نے اس چیز کا شکوہ کیا تو سب نے اسے ذمہ دار ٹھہرایا۔ کیونکہ تمام اضافی کام اسے نہیں دیے جاتے تھے بلکہ وہ خود لیتا تھا۔

    گھر کی مثال: سارہ ہر وقت فون پر نمبرز کے اسٹیٹس چیک کرتی تھی، یہ دیکھتی رہتی تھی کہ دوست یا رشتہ دار کیا کر رہے ہیں۔ دن کے آخر میں اس کے پاس اپنے بچوں یا خود کے لیے صرف چند لمحے رہ جاتے تھے، اور وہ محسوس کرتی تھی کہ اس کا وقت مکمل طور پر منتشر ہو گیا ہے۔

    انٹرفیئر کا اثر یہ بھی ہوتا ہے کہ جب کوئی کام پہلے سے شروع ہو چکا ہو اور ہم اس میں تھوڑا بہت رد و بدل کر کے اسے مکمل کر دیتے ہیں، تو ہم فوری آسانی حاصل کر لیتے ہیں لیکن یہ ہمیں اپنے اصل کام پر فوکس کرنے سے روک دیتا ہے اور سیکھنے کے مواقع کم کر دیتا ہے۔ نتیجتاً ہم مستقل طور پر دوسروں کے کام کا بوجھ اٹھانے کے عادی ہو جاتے ہیں۔
    مشورے اور غیر ضروری مداخلت: اگر کوئی شخص بغیر پوچھے ہی ہر مسئلے پر مشورہ دے یا ہر کام میں مداخلت کرے، تو وہ خود اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ بڑھاتا ہے اور اپنے اصل کام پر فوکس نہیں کر پاتا۔ ایمرجنسی کی صورت میں مدد ضرور کریں، لیکن غیر ضروری مداخلت طویل عرصے میں نقصان دہ ہوتی ہے۔

    آج کی تیز رفتار زندگی میں کامیابی انہی لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو اپنی سمت واضح رکھتے ہیں، اپنی توانائی کو یکسوئی سے استعمال کرتے ہیں اور غیر ضروری مداخلت یا سوشل میڈیا کی جزوی مصروفیات میں الجھے نہیں رہتے۔ ارے "میں کر دوں گا” فوری فیصلے، غیر ضروری مشورے یا سوشل میڈیا انگیجمنٹ وقتی اطمینان تو دیتے ہیں، مگر لانگ رن میں یہ آپ کی صحت، توجہ، اور ذاتی وقت کو متاثر کرتے ہیں۔

    مثال کے طور پر آپ کا پیشہ ایک سرکاری دفتر میں ملازمت ہے جہاں فائل رورک یا دماغی کام آپ کو سونپا جاتا ہے تو چاہے آپ کتنے ہی اچھے ڈرائیو ہوں کبھی دفتر میں اپنی خدمات بطور ڈرائیو پیش نہ کریں۔ آپ کو الیکٹرک فالٹس اور دیگر فنی مہارت ہے تو اپنے کام کے دوران کبھی استعمال نہ کریں کیونکہ تمام اضافی مہارت اور توانائی آپ کے اپنے کام کرنے کے لیے ہے نہ کہ ربورٹ بن کر پبلک سروسز دینے کے لیے۔ اپنے اردگرد دیکھیں تو بے شمار لوگ ایسے ہیں جو صرف وہ کام کرتے ہیں جس کے لیے انہیں مقرر کیا جائے۔ اس دوران بجلی چلی گئی ہے تو وہ سکون سے انتظار کریں گے جبکہ کچھ لوگ فورا لائن مین کا کردار ادا کرنا شروع کر دیں گے۔ اب بجلی کی خرابی درست ہو گی جو ورکر خاموش پرسکون تھے وہ فوری کام پر توجہ دیں گے جبکہ اپنے کام سے بجلی کی خرابی دور کرنے والے کئی منٹ مطلوبہ ردھم سے محروم رہیں گے ۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہر معاملے میں سپاٹ رویہ رکھیں۔ انسانی ہمدردی اور ایمرجنسی حالات میں ضرور اپنی تمام خدمات دیں لیکن عام زندگی کو ایمرجنسی نہ ڈکلئیر کریں۔ اس کا ایک بہت اہم حصہ ہماری زندگی سے جڑا ہے۔ انسان کے جسم میں پوشیدہ توانائی قدرت نے بیماری، بھوک اور دباو سے مقابلے کے لیے رکھی ہے جو کبھی کبھار ہی درکار ہوتے۔ لیکن ملٹی ٹاسکنگ میں جوں ہی دماغ پر دباو بڑھتا وہ جسم کو الرٹ کا میسج بھیج دیتا۔ اور جونہی یہ اوور برڈن روٹین لمبی ہوتی دماغ جسم کی ایمرجنسی توانائیاں طلب کرکے انہیں بھی اوور ورکنگ کے لیے جھونک دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ کام مختلف کام اور افراتفری کا شکار لوگ بیمار جلد ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح ان پر اچانک کسی بڑی بیماری کے حملے کا خطرہ بھی رہتا ہے۔

    کام سے کام رکھنا اور اپنی توانائی کو یکسوئی سے استعمال کرنا نہ صرف ایک اچھی عادت ہے بلکہ ایک کامیاب، مؤثر اور پرسکون زندگی کی کنجی بھی ہے۔ اگر ہم اس اصول کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیں تو نہ صرف ہمارے مسائل کم ہوں گے بلکہ ہم اپنے وقت، توانائی اور صحت کو بہتر استعمال کرتے ہوئے ایک مضبوط اور متوازن شخصیت کے حامل بھی بنیں گے۔
    مبشر حسن شاہ

  • ڈیجیٹل آلودگی خاموش دشمن،تحریر:مبشر حسن شاہ

    ڈیجیٹل آلودگی خاموش دشمن،تحریر:مبشر حسن شاہ

    آج کا انسان فیکٹریوں کے دھوئیں، گاڑیوں کے شور اور گندے پانی کی آلودگی سے تو کسی حد تک آگاہ ہے،اس کے حل کے لیے باقاعدہ حکومتی سطح پر تمام دنیا کاوشیں کر رہی ہے۔ مگر ایک ایسی آلودگی بھی ہے جو نہ دکھائی دیتی ہے، نہ سونگھی جا سکتی ہے اور نہ چکھی جا سکتی ہے۔ یہ پراسرار آلودگی تیزی سے پھیل چکی ہے اور انسانی صحت کے لیے زہر ہے۔ اس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے، تیز اور سے تباہ کن ہیں۔ اس آلودگی کا نام ہے ڈیجیٹل آلودگی۔

    یہ آلودگی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب معلومات، ویڈیوز، نوٹیفکیشنز اور سوشل میڈیا فیڈز کی یلغار انسانی دماغ کی قدرتی حد سے تجاوز کر جاتی ہے۔ بظاہر یہ سب “معلومات” ہیں، مگر حقیقت میں ان کا بڑا حصہ ذہنی شور (mental noise) ہے جو سکون، توجہ اور فیصلہ سازی کو کھوکھلا کر رہا ہوتا ہے۔یہ شور انسانی اعصاب کو توڑ دیتا ہے۔ ڈپریشن اس کے پہلے اثرات میں سے ایک ہے۔ خود سوچیں کہ شدید اثرات میں کیا کچھ ہوگا

    سوشل میڈیا کا بے جا استعمال اس بحران کی بنیاد ہے۔ ایک عام فرد روزانہ گھنٹوں اسکرین پر صرف کرتا ہے، جہاں اس کا دماغ بغیر وقفے کے نئے سے نئے پیغامات، تصاویر اور تحاریر وصول کرتا رہتا ہے۔ یہ مسلسل اسکرولنگ وقتی خوشی دیتی ہے، مگر تحقیق کے مطابق یہ توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو کمزور اور دماغ کو منتشر کر دیتی ہے۔

    اس کے ساتھ ایک اور خطرناک عنصر ڈس انفارمیشن (جان بوجھ کر پھیلائی گئی جھوٹی معلومات) اور مس انفارمیشن (غلط مگر غیر ارادی معلومات) ہے۔ سوشل میڈیا نے ان دونوں کو اس رفتار اور وسعت کے ساتھ پھیلایا ہے کہ سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ نتیجتاً ذہنی الجھن، بے اعتمادی اور سماجی تقسیم میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    ماہرین اس صورتحال کو “انفارمیشن اوورلوڈ” کہتے ہیں۔یعنی معلومات کا ایسا سیلاب جسے انسانی دماغ مؤثر طریقے سے پراسیس نہیں کر سکتا۔ اس کا نتیجہ ذہنی تھکن، بے چینی، چڑچڑاپن اور کمزور فیصلہ سازی کی صورت میں نکلتا ہے۔بات یہیں تک محدود نہیں بلکہ مختصر ویڈیوز کا جال دماغ کے ساتھ کیا کر رہا ہے یہ بھی جانئے۔ٹک ٹاک اور یوٹیوب ریلس نے اس ڈیجیٹل آلودگی کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ نیوروسائنس کے مطابق یہ مختصر ویڈیوز دماغ کے ڈوپامین سسٹم کو بار بار متحرک کرتی ہیں، جس سے فوری تسکین کی لت پیدا ہوتی ہے۔ نتیجتاً دماغ ، سنجیدہ اور گہرائی پر مبنی مواد کو برداشت کرنے کی صلاحیت کھونے لگتا ہے۔

    اس کا سب سے خطرناک پہلو "ریپیڈ کانٹینٹ سوئچنگ” ہے۔ ایک لمحہ آپ گانا دیکھ رہے ہوتے ہیں، دماغ ابھی اس کے اثرات کا تجزیہ کر رہا ہوتا ہے کہ فوراً مذہبی ریل آ جاتی ہے، پھر مزاحیہ کلپ، اس کے بعد سیاسی بحث، پھر کسی سماجی مسئلے کی جھلک، اور دوبارہ ایک گانا۔تحقیق بتاتی ہے کہ اس طرح کی تیز رفتار تبدیلیاں انسانی دماغ کے لیے تباہ کن ہیں ۔ یعنی دماغ پچھلے مواد سے مکمل طور پر باہر نہیں نکلتا کہ نیا مواد داخل ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً نہ کوئی چیز پوری طرح سمجھی جاتی ہے، نہ کوئی احساس مکمل طور پر محسوس ہوتا ہے۔یہ مسلسل ذہنی جھٹکے انسان کو گہرائی سے سوچنے کی صلاحیت سے محروم کر دیتے ہیں۔ سنجیدہ مسائل بھی تفریح بن جاتے ہیں، اور جذباتی توازن بگڑنے لگتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب دکھ، سانحہ اور حقیقت بھی محض ایک اور ویڈیو محسوس ہونے لگتی ہے۔انسان مردم بیزار اور چڑچڑا ہوجاتا ہے۔ نیند کی کمی اور جسم کے نظر نہ آنے والا نقصان بھی اسی سلسلے کا حصہ ہیں ۔ڈیجیٹل آلودگی صرف دماغ تک محدود نہیں رہتی۔ مسلسل اسکرین کے استعمال سے آنکھوں پر شدید دباؤ پڑتا ہے، جسے ماہرین "ڈیجیٹل آئی اسٹرین” کہتے ہیں،جس میں آنکھوں کی خشکی، دھندلاہٹ اور سر درد شامل ہیں۔

    اسی طرح اسکرین سے نکلنے والی روشنی نیند کے قدرتی نظام کو متاثر کرتی ہے، کیونکہ جسم اور دماغ ریسٹ مانگتا ہے لیکن ہم اسے مسلسل ابھی نہیں کا سگنل دے کر اوور ورک کروارہے ہوتے ہیں۔ جس کے باعث بے خوابی، تھکن اور دن بھر کی سستی عام ہو جاتی ہے۔ایک اور خطرناک پہلو وہ ہے جسے لوگ سنجیدگی سے نہیں لیتےڈرائیونگ یا بائیک چلاتے وقت موبائل کا استعمال۔ چند سیکنڈ کی توجہ کی کمی بھی حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ ریسرچ واضح کرتی ہے کہ ڈرائیونگ کے دوران موبائل استعمال کرنے والا شخص نشے میں ڈرائیونگ کرنے والے کے برابر خطرہ بن جاتا ہے۔جارحانہ ویڈیو گیمز بھی اسی ڈیجیٹل آلودگی کا حصہ ہیں۔ مسلسل پرتشدد مناظر دیکھنے اور کھیلنے سے دماغ میں حساسیت کم ہو سکتی ہے اور ردعمل زیادہ تیز اور غیر متوازن ہو سکتا ہے۔اس کی ایک چونکا دینے والی مثال گزشتہ سال کراچی میں سامنے آئی، جہاں ڈکیتی کے دوران ایک نوجوان نے مزاحمت کرتے ہوئے ڈاکوؤں سے اسلحہ چھین لیا اور مکمل میگزین خالی کر تے ہوئے انہیں قتل کر دیا۔ بعد ازاں انٹرویو میں جب اس سے پوچھا گیا کہ فائر کرتے وقت ہچکچاہٹ نہیں ہوئی، تو اس نے جواب دیا کہ وہ پوری رات ایک شوٹنگ گیم کھیلتا رہا تھا اور اس لمحے اسے یوں لگا جیسے وہ گیم ہی کھیل رہا ہو۔
    یہ واقعہ صرف ایک کہانی نہیں بلکہ ایک خطرناک اشارہ ہے کہ ڈیجیٹل دنیا کس حد تک حقیقی رویوں کو متاثر کر سکتی ہے۔

    مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ اس کا غیر متوازن اور بے شعور استعمال ہے۔ سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔مگر حد سے زیادہ استعمال اسے زہر بنا دیتا ہے۔ اس کا حل سادہ ہے مگر آسان نہیں کیونکہ ہمارے دماغ اس کے عادی ہیں۔ فوری بہتری کے لیے اسکرین ٹائم محدود کریں۔مواد کا انتخاب شعوری بنائیں سونے سے پہلے اسکرین سے دور رہیں ۔غیر ضروری نوٹیفکیشنز بند کریں اور سب سے بڑھ کر، اپنے دماغ کو وقفہ دیں۔اپنے اردگرد موجود لوگوں اور گھر پر توجہ دیں ۔ ڈیجیٹل دنیا نے ہمیں اپنے پیاروں کے پاس رکھ کر بھی ان سے دور کر دیا ہے۔ اگر ہم نے اس ڈیجیٹل آلودگی کو سنجیدگی سے نہ لیا تو یہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں رہے گا بلکہ ایک ایسی اجتماعی بیماری بن جائے گی جو سوچنے، سمجھنے اور محسوس کرنے کی صلاحیت کو دیمک کی طرح کھا جائے گی۔خاموش خطرات ہمیشہ سب سے زیادہ مہلک ہوتے ہیں۔ ڈیجیٹل آلودگی انہی میں سے ایک ہے۔اب تک جو نقصان ہونا تھا ہو چکا لیکن اگر ہم اب بھی واپس پلٹنا چاہیں تو نہ صرف راستہ کھلا ہے بلکہ بہت دیر بھی نہیں ہوئی۔

  • جنگ کے سائے اور دنیا کا مستقبل.تجزیہ :شہزاد قریشی

    جنگ کے سائے اور دنیا کا مستقبل.تجزیہ :شہزاد قریشی

    دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں فیصلے صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ عالمی معیشت، سیاست اور انسانی بقا کے تناظر میں بھی ہو رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں بھڑکتی ہوئی آگ اب کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے شعلے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کے درپے ہیں۔ حالیہ بیانات، خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آنے والے متضاد اشارے، اس حقیقت کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں کہ آیا دنیا جنگ کے خاتمے کی طرف بڑھ رہی ہے یا ایک بڑے تصادم کی دہلیز پر کھڑی ہے۔

    توانائی، جو جدید دنیا کی شہ رگ ہے، اس تنازع کا سب سے پہلا اور بڑا نشانہ بن رہی ہے۔آبنائے ہرمزجیسے اہم بحری راستے خطرے میں ہوں تو اس کے اثرات صرف تیل بردار جہازوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ پوری عالمی معیشت کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، گیس کی قلت اور توانائی کی غیر یقینی صورتحال ایک ایسے عالمی بحران کو جنم دے رہی ہیں جس کے اثرات ہر ملک، ہر شہر اور ہر فرد تک پہنچ سکتے ہیں۔

    معیشت کے ایوانوں میں بے چینی واضح ہے۔ عالمی منڈیاں دباؤ کا شکار ہیں، سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال سے خوفزدہ ہیں اور ترقی پذیر ممالک ایک نئے مالی طوفان کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ مہنگائی، جو پہلے ہی کئی خطوں میں ایک بڑا مسئلہ بن چکی تھی، اب مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ اگر یہ جنگ طویل ہوتی ہے تو کساد بازاری کا خطرہ محض ایک خدشہ نہیں بلکہ ایک ممکنہ حقیقت بن سکتا ہے۔

    لیکن یہ بحران صرف معاشی نہیں، بلکہ گہرا سیاسی بھی ہے۔ عالمی طاقتوں کے درمیان صف بندیاں تیزی سے بدل رہی ہیں۔ اتحادی کمزور ہو رہے ہیں، نئے اتحاد تشکیل پا رہے ہیں اور دنیا ایک نئے جغرافیائی سیاسی نقشے کی طرف بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ اس سارے عمل میں سب سے زیادہ نقصان اس عالمی توازن کو ہو رہا ہے جو دہائیوں کی محنت سے قائم کیا گیا تھا۔

    انسانی المیہ اس سب سے بڑھ کر ہے۔ جنگیں ہمیشہ سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں، ان کے اثرات گھروں، شہروں اور عام انسانوں کی زندگیوں میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ نقل مکانی، جانی نقصان اور عدم تحفظ کا احساس ایک ایسی حقیقت بن چکا ہے جس سے نظریں چرائی نہیں جا سکتیں۔

    سوال یہ نہیں کہ یہ جنگ کہاں تک جائے گی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ دنیا اسے کہاں روکنا چاہتی ہے۔ اگر فوری اور سنجیدہ سفارتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ تنازع ایک ایسے عالمی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔یہ وقت طاقت کے اظہار کا نہیں بلکہ بصیرت، تدبر اور اجتماعی دانش کا ہے۔ کیونکہ جنگ جتنی طویل ہوگی، اس کا اندھیرا بھی اتنا ہی گہرا ہوگا ، اور اس اندھیرے میں کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔

  • جمعہ کا دن اور عید دونوں کی حقیقت،تحریر:تابندہ طارق عکس

    جمعہ کا دن اور عید دونوں کی حقیقت،تحریر:تابندہ طارق عکس

    اسلام ایک ایسا مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہر معاملے میں اعتدال سے حکمت سے اور آسانیوں کا درس دیتا ہے لیکن اس کے باوجود کئی تہواروں پر یا پھر کئی دنوں کے حوالے سے بہت سی ایسی باتیں گردش کرتی ہیں جن کا کوئی مستند حوالہ نہیں ملتا ہے نہ ہی قرآن و حدیث میں اور نہ ہی حضور نبی کریم ﷺ اور اصحابہ اکرام کی حیات مبارکہ کے مطابق کہی پر کوئی تفصیل بیان کی گئی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں سنی سنائی باتوں کو اتنی بار دہرایا جاتا ہے کے لوگ آنکھیں موند کر اس پر سر تسلیم خم کر کے بھروسہ کر لیتے ہیں اور اس کے برعکس حقیقت کیا ہوتی ہے اسے جانچنے کی کوشش تک نہیں کرتے ہیں۔یہ باتیں اتنی سفاک گوئی سے پیش کی جاتی ہیں کے انسانی دلوں و دماغ میں پختگی اختیار کر کے اپنی آنے والی نسلوں میں منتقل کرنا شروع کر دیتے ہیں اور وہ بھی ان من گھڑت باتوں پر اپنے یقین کی مہر ثبت کر دیتے ہیں۔ان سب باتوں میں سے ہی ایک من گھڑت بات جمعہ کا دن اور عید کے حوالے سے بھی پختگی سے سننے میں آتی ہے۔جمعہ کے دن کو مسلمانوں کے لیے عید کا دن قرار دیا گیا ہے کیوں کہ تمام اہل ایمان اس دن عید کی طرح لباس،خوشبو اور وقت مقرر پر مسجد کی طرف رواں دواں ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کے اس دن کو عید کے دن سے مشابہت رکھتا ہے۔لیکن اس کے باوجود اہل اسلام نے غیر مسلموں کی باتوں کو حقیقت کا روپ دے کر ماننا شروع کر دیا ہے۔اگر جمعہ کے دن عید کا تہوار آ جائے تو یہ ملک کے حکمران کے حق میں نحوست کی علامت ہوتا ہے اور ایک ہی دن میں دو خطبات کا ہونا مناسب نہیں ہے۔اب سوال یہ ہے کیا واقعی اس میں کوئی حقیقت ہے یا پھر یہ صرف من گھڑت کہانیاں ہیں؟

    اگر اسلامی تعلیمات کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کے عید اور جمعہ کا ایک ہی دن آنا کوئی غیر معمولی یا تشویش ناک بات نہیں ہے۔بل کہ یہ ایک فطری امر ہے جو قمری کلینڈر کی گردش کے باعث کبھی کبھار رونما ہو جاتا ہے۔تاریخ اسلام کے اگر پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جائے تو ایسے کئی مواقع آئے ہیں جب عید اور جمعہ ایک ہی دن ایک ساتھ رونما ہوئے ہیں اور اس میں کسی قسم کی نحوست کی پیش گوئی یا خطرے کا تصور بیان نہیں کیا گیا ہے۔احادیث مبارکہ میں اس حوالے سے واضح رہنمائی ملتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں جب عید اور جمعہ ایک ہی دن وقوع پذیر ہوتے تھے تو آپ ﷺ نے لوگوں کو سہولت فراہم کرتے ہوئے فرمایا کہ:”جو شخص عید کی نماز ادا کر لے وہ چاہے تو جمعہ کی نماز میں شرکت نہ کرے البتہ امام پر لازم ہے کے وہ جمعہ کا خطبہ اور نماز ادا کرے تاکہ جو لوگ شرکت کرنا چاہیں ان کے لیے ادا کرنے کا موقع مل سکے۔اس بات سے اندازہ ہوتا ہے اسلام میں مسلمانوں کے لیے کتنی آسانیاں پیدا کی گئی ہیں۔اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کے "دو خطبات” کا مسئلہ دراصل ایک غلط فہمی ہے۔عید اور جمعہ دونوں کی اسلام میں الگ الگ اہمیت کے حامل ہیں عید کا خطبہ ایک خوشی اور اپنے رب کے حضور شکر گزاری کا اظہار ہوتا ہے اور جمعہ کا خطبہ ہفتہ وار تربیت اور نصیحت کا ذریعہ ہوتا ہے۔اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کے یہ غیر مستند روایات کا نتیجہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ عوام میں پھیل گئی ہیں۔اسلام ہمیں ایسی افواہوں سے دور رہنے اور ہر بات کو دلیل اور تحقیق کی روشنی میں پرکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔قرآن پاک سے بہترین کوئی اور مستند کتاب نہیں ہے جو اہل ایمان کو سچ اور جھوٹ کا فرق سمجھا سکے۔سنی سنائی باتوں پر عمل کرنے سے بہتر ہے قرآن پاک کو مع ترجمہ و تفسیر پڑھنے کا اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور روزانہ ایک آیت سمجھ کر پڑھنے سے اپنے علم و عمل میں اضافہ فرمائے اللّٰہ پاک ہمیں صحیح بات سننے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین۔

  • تیل اور پاکستان،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    تیل اور پاکستان،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے تھے کہ اگر یہ جنگ 2 سے 3 ماہ سے زیادہ طویل ہو گئی تو پاکستان کے لیے اس کے اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔ اب تک 15 دن گزر چکے ہیں اور ابھی تک کسی واضح حل یا قابلِ اعتماد جنگ بندی کا راستہ نظر نہیں آ رہا۔
    اس پس منظر میں سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہ ہے کہ پاکستانی روپیہ کس طرح ردِعمل دکھائے گا۔

    مختصر مدت (Short Term)
    قریب مدت میں رمضان کے باعث بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر بدستور مضبوط ہیں۔ فارن ایکسچینج فارورڈ پریمیم منی مارکیٹ کی سطح سے اوپر ٹریڈ ہو رہے ہیں، جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ زرمبادلہ کی لیکویڈیٹی نسبتاً آرام دہ ہے۔ آئی ایم ایف اور وزارتِ خزانہ کے درمیان رابطوں کی خبریں بھی مجموعی طور پر مثبت ہیں۔
    گزشتہ دو ہفتوں میں برآمدات سے آنے والی رقوم میں کچھ سستی آئی ہے۔ اسی دوران درآمدی ادائیگیوں کو مرحلہ وار کرنے کی ایک شعوری کوشش بھی نظر آ رہی ہے تاکہ کسی بھی دن انٹر بینک مارکیٹ پر غیر معمولی دباؤ نہ پڑے۔ یہ طریقہ کار روپے کی قدر پر غیر ضروری دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

    ان تمام عوامل کو دیکھتے ہوئے امکان ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں روپیہ ایک محدود دائرے میں رہے گا۔ تاہم دو اہم مالی دباؤ سامنے ہیں:
    عید کے فوراً بعد تیل کی بڑی ادائیگیاں
    ایک ارب ڈالر سے زائد کی یورو بانڈ ادائیگیاں

    درمیانی مدت (Medium Term)
    یہ وہ مرحلہ ہے جہاں صورتحال کافی غیر واضح ہو جاتی ہے۔
    نیا تیل نظام (The New Oil Regime)
    آبنائے ہرمز اب مؤثر طور پر تیل کی قیمتوں کے تعین کا ایک اہم عنصر بن چکی ہے۔ مارکیٹیں اب حقیقی سپلائی میں کمی کے بجائے رکاوٹ کے امکانات کی بنیاد پر تجارت کر رہی ہیں، جس سے تیل کی قیمتیں ساختی طور پر زیادہ غیر مستحکم ہو گئی ہیں۔ تیل اب محض ایک کموڈیٹی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک اثاثہ کی طرح برتاؤ کر رہا ہے۔
    اس سے ایک نیا معاشی ماحول پیدا ہو رہا ہے:
    توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا خطرہ
    طلب کے معمول کے چکر سے ہٹ کر اچانک اتار چڑھاؤ
    عالمی تجارت کے بہاؤ میں ساختی غیر یقینی صورتحال

    ترسیلاتِ زر کا مسئلہ
    ترسیلاتِ زر نے ہر بحران میں خاموشی سے پاکستان کو سہارا دیا ہے، لیکن اب یہ سہارا پہلے جیسا یقینی نہیں رہا۔ اگر خلیجی معیشتیں سست ہو گئیں تو مزدوروں کی طلب بھی کم ہو جائے گی۔ بیرونِ ملک کم مزدور ہوں گے تو زرِ مبادلہ کی آمد بھی کم ہو گی اور ملک کے اندر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ یہ ایک سست رفتار مگر طاقتور خطرہ ہے جو پاکستان کی معاشی سمت کو بدل سکتا ہے۔

    عالمی مالیاتی حالات
    جغرافیائی سیاسی خطرات بڑھنے کے باعث عالمی مالیاتی حالات سخت ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے یورو بانڈ اور CDS پہلے ہی تقریباً 100 بیسس پوائنٹس بڑھ چکے ہیں، جو بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں تبدیلی کا اشارہ دیتے ہیں۔
    اس سے مارکیٹ سے قرض لینے کی لاگت اور غیر یقینی دونوں بڑھ جاتے ہیں۔ یورو بانڈ یا پانڈا بانڈ مارکیٹ تک رسائی مشکل ہو سکتی ہے جبکہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور پورٹ فولیو سرمایہ کاری بھی محدود رہ سکتی ہے۔ اس طرح بیرونی مالی وسائل کا زیادہ انحصار حکومتی پالیسی کے اعتماد اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون پر ہو جائے گا۔

    ممکنہ اثرات
    یہ تمام عوامل کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے، مالیاتی دباؤ میں اضافہ اور پالیسی لچک میں کمی کا باعث بن سکتے ہیں۔ جیسے ہی مہنگائی کی توقعات بڑھتی ہیں، شرح سود زیادہ عرصے تک بلند رہ سکتی ہے۔ اس سے روپے پر دباؤ اور معاشی نمو کی رفتار کمزور ہو سکتی ہے۔ مجموعی اثر خاصا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

    بنیادی امکان (Base Case)
    پاکستان کے لیے یہ امکان کم ہے کہ وہ روپے کو سہارا دینے کے لیے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے خرچ کرے۔ اس کے بجائے ایڈجسٹمنٹ درآمدات کو سختی سے منظم کرنے اور بیرونی توازن کو زیادہ پائیدار بنانے کے ذریعے آئے گی۔ روپیہ وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ کمزور ہو سکتا ہے، لیکن اس مرحلے پر کسی اچانک یا بڑی قدر میں کمی کا امکان کم نظر آتا ہے۔