Baaghi TV

Category: متفرق

  • کیا شادی واقعی ضروری ہے؟تحریر : محمد سبحان شوق

    کیا شادی واقعی ضروری ہے؟تحریر : محمد سبحان شوق

    ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں کسی بالغ انسان سے اس کی ملازمت، آمدنی، خواب اور ذہنی سکون کے بارے میں بعد میں پوچھا جاتا ہے، سب سے پہلے یہ پوچھا جاتا ہے کہ ’’شادی کب کر رہے ہو؟‘‘

    جیسے شادی نہ ہوئی تو زندگی میں کوئی بنیادی کمی رہ گئی۔
    شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر ایک سوال کرنا چاہیے کہ کیا شادی واقعی ہر انسان کے لیے ضروری ہے؟

    یہ سوال سنتے ہی ہمارے معاشرے کا ایک بڑا طبقہ ناراض ہو جائے گا۔ کچھ لوگ اسے خاندانی نظام کے خلاف بغاوت سمجھیں گے، کچھ اسے مغربی سوچ قرار دیں گے اور کچھ کہیں گے کہ شادی کے بغیر زندگی ادھوری ہے۔ لیکن کسی سوال کو صرف اس لیے غلط قرار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ ہماری عادتوں کو چیلنج کرتا ہے۔

    شادی یقیناً ایک خوبصورت رشتہ ہو سکتی ہے۔ دو انسان ایک دوسرے کا سہارا بن سکتے ہیں، ایک گھر آباد کر سکتے ہیں، اولاد کی تربیت کر سکتے ہیں اور زندگی کے دکھ سکھ بانٹ سکتے ہیں۔ لیکن یہی شادی اگر صرف معاشرتی دباؤ، تنہائی کے خوف، خاندان کی خواہش یا لوگوں کی زبان بند کرنے کے لیے کی جائے تو کیا وہ واقعی شادی رہ جاتی ہے؟

    ہم اکثر کہتے ہیں کہ ’’وقت پر شادی کر لو‘‘۔
    مگر کبھی یہ نہیں کہتے کہ ’’صحیح انسان سے شادی کرو۔‘‘

    ہم عمر دیکھتے ہیں، خاندان دیکھتے ہیں، ملازمت دیکھتے ہیں، شکل دیکھتے ہیں، جہیز دیکھتے ہیں، ذات دیکھتے ہیں، مگر مزاج کتنے لوگ دیکھتے ہیں؟ ذہنی ہم آہنگی کتنے لوگ دیکھتے ہیں؟ غصے کا انداز، اختلاف برداشت کرنے کی صلاحیت، ذمہ داری کا احساس اور دوسرے انسان کی عزت کرنے کا شعور کتنے لوگ دیکھتے ہیں؟

    نتیجہ ہمارے سامنے ہے ایک ہی گھر میں دو انسان برسوں ساتھ رہتے ہیں مگر ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے۔ ایک چھت ہوتی ہے، مگر گھر نہیں ہوتا۔ رشتہ قائم رہتا ہے، مگر تعلق ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ پھر بھی معاشرہ کہتا ہے کہ ’’شادی بچاؤ۔‘‘

    کیوں؟

    صرف اس لیے کہ طلاق بری لگتی ہے؟ اگر دو انسان ایک دوسرے کو مسلسل توڑ رہے ہوں تو کیا صرف شادی کا قائم رہنا کامیابی ہے؟ اور اگر دو انسان عزت کے ساتھ الگ ہو کر اپنی زندگی بہتر بنا لیتے ہیں تو کیا وہ ناکام ہو گئے؟

    یہاں ایک اور تلخ حقیقت بھی ہے۔ ہمارے ہاں غیر شادی شدہ شخص کو اکثر ادھورا سمجھا جاتا ہے، لیکن ایک ناخوش شادی شدہ شخص سے کوئی نہیں پوچھتا کہ تم واقعی خوش ہو یا نہیں۔ شاید ہمیں شادی کو منزل سمجھنے کے بجائے ایک ذمہ دارانہ انتخاب سمجھنے کی ضرورت ہے۔

    ہر انسان کو شریکِ حیات کی ضرورت محسوس ہو سکتی ہے، مگر ہر انسان ایک ہی عمر، ایک ہی وقت اور ایک ہی طریقے سے اس ضرورت کو محسوس نہیں کرتا۔ کچھ لوگ تنہائی میں بھی مطمئن ہوتے ہیں، کچھ رفاقت کے بغیر ٹوٹ جاتے ہیں۔ کچھ کے لیے خاندان زندگی کا مرکز ہے، کچھ اپنے کام، علم، فن یا کسی اور مقصد میں اپنی زندگی کا مفہوم تلاش کرتے ہیں۔

    اس لیے مسئلہ شادی کا ہونا یا نہ ہونا نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا انسان اپنی زندگی کا فیصلہ خود سمجھ بوجھ سے کر رہا ہے یا صرف اس لیے کہ لوگ سوال کرنا بند کر دیں شادی ضرور کیجیے، اگر آپ کسی انسان کے ساتھ زندگی بانٹنے کے لیے تیار ہیں۔ مگر صرف اس لیے شادی نہ کیجیے کہ عمر نکل رہی ہے، رشتہ دار باتیں بنا رہے ہیں یا محلے میں سب پوچھ رہے ہیں۔

    کیونکہ شادی دو انسانوں کے درمیان معاہدہ نہیں، دو زندگیوں کی ذمہ داری ہے۔ اور شاید ہمیں اپنے معاشرے میں پہلی مرتبہ یہ جملہ قبول کرنا ہوگا کہ شادی زندگی کا ایک خوبصورت راستہ ہے، مگر زندگی کا واحد راستہ نہیں۔ ضروری یہ نہیں کہ ہر انسان شادی کرے۔ ضروری یہ ہے کہ جو بھی فیصلہ کرے، سوچ کر کرے، ذمہ داری سے کرے اور کسی دوسرے انسان کی زندگی برباد کرکے نہ کرے۔

  • میرے راستوں میں اُجالا رہا،تحریر: دانیال حسن چغتائی

    میرے راستوں میں اُجالا رہا،تحریر: دانیال حسن چغتائی

    انسانی فکر اور ذوقِ مطالعہ کبھی ایک نقطے پر منجمد نہیں رہتے۔ زمانے کی گردش کے ساتھ جہاں انسان کے نظریات اور ترجیحات بدلتی ہیں، وہاں اس کے پڑھنے کے شوق کے زاویے بھی ہمہ وقت تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ میں جو اپنے سفرِ مطالعہ کے ابتدائی دور میں اطفال ادب کی سحر انگیز اور تخیلاتی کہانیوں کی دنیا میں محوِ پرواز تھا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حقیقت نگاری کی طرف مائل ہوتا چلا گیا۔ بچوں کی کہانیوں کی بساط اور ان کے معصوم موضوعات سے نکل کر جب فکر ترقی کی حدود میں قدم رکھتی ہے تو سفرنامے، افسانے اور ناول انسانی دلچسپی کا مرکز بن جاتے ہیں۔

    تاہم، بچوں کے لیے لکھنے کا عمل ایسا کٹھن ریاض ہے جو ادیب سے ہمہ وقت مطالعے کی طلب کرتا ہے۔ اطفال ادب کے لیے موضوعات کی جستجو انسان کو مطالِعے کا رسیا بنا دیتی ہے۔ یہی مطالعہ جب آگے چل کر وسیع تر ہوتا ہے تو انسان کو کائنات کی وسعتوں، انسانی نفسیات اور جغرافیائی ورثے سے جوڑ دیتا ہے۔ سفرنامہ بنیادی طور پر اسی سفرِ مشاہدہ کی معراج ہے۔ یہ چند مقامات کا آنکھوں دیکھا حال یا کسی سیاح کے مشاہدات کا بیان نہیں بلکہ یہ زمان و مکان کے پردوں میں چھپے ہوئے ماضی و حال کا ایسا انضمام ہے جسے حساس نثر نگار اپنے لفظوں کے پیراہن میں ڈھال کر ہمیشہ کے لیے امر کر دیتا ہے۔

    سفر نامہ سیاح کی یاداشتوں کا وہ مجموعہ ہے جہاں مناظر جنہیں صدیاں دیکھتی چلی آ رہی ہیں، نثر نگار کے تخیل کے سحر میں قید ہو کر امر ہو جاتے ہیں۔ اس سفر میں کبھی صدیاں ساتھ سفر کرتی ہیں اور کبھی واجبی سا منظر رنگین خیال سے لپٹ کر ہمیشہ کے لیے زندہ ہو جاتا ہے۔

    اسی ذوقِ مطالعہ کی تسکین اور وطنِ عزیز کے غیر معروف گوشوں سے آشنائی کا حسین بہانہ محترمہ شائستہ صادق کا زیرِ تبصرہ سفرنامہ ”میرے راستوں میں اُجالا رہا“ بنا۔ یہ کتاب ایسے وقت میں ہاتھ آئی جب نقد و تبصرہ کی منتظر کتب کی طویل قطار پہلے سے موجود تھی لیکن اس کتاب کے موضوع، اسلوب اور مصنفہ کے منفرد نقطہ نظر نے اسے اولیت دینے پر مجبور کیا۔

    اس سفرنامے کی سب سے دلکش اور تحسین آمیز بات وہ زریں نظریہ ہے جو اس کی اشاعت کے پسِ پردہ کارفرما ہے۔ مصنفہ نے نہ صرف اس کتاب کا انتساب اپنے والدین کی معزز اور شفیق یادوں کے نام کیا ہے بلکہ انہوں نے یہ عزم بھی ظاہر کیا ہے کہ اس کتاب کی فروخت سے حاصل ہونے والی تمام تر رقم ایک فلاحی ادارے کو عطیہ کی جائے گی۔ تجارتی مادی پرستی کے اس دور میں ادب کو کسبِ معاش کے بجائے خدمتِ خلق اور صدقہ جاریہ کا ذریعہ بنانا ایسا بے لوث عمل ہے جو مؤلفہ کے بلند مرتبے اور عالی ظرفی کا بین ثبوت ہے۔
    سفرنامے کے باقاعدہ آغاز سے قبل پاکستان کے معتبر، جامع اور نامور ادیبوں اور سیاحوں کی آرا شامل کی گئی ہیں۔ ان میں سر محمود ظفر اقبال ہاشمی، فارس مغل، محمد عبدہ (جو پہاڑوں اور سرسبز وادیوں کی سیاحت و نگارش کے حوالے سے معتبر نام ہیں)، تسلیم کوثر اور شاہد عزیز کی نگارشات شامل ہیں۔ ان تمام صاحبِ طرز شخصیتوں کی تقاریظ نے کتاب کے ادبی وزن اور علمی وقار میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔

    جہاں کتاب اپنے متن اور مواد کے اعتبار سے انتہائی بیش قیمت ہے، وہاں اس کی پیشکش اور فنی تیاری میں ایک نمایاں کمی محسوس ہوتی ہے۔ پبلشنگ ادارے نے مسودے کی باقاعدہ پروف ریڈنگ اور تدوینی تنقیح پر توجہ نہیں دی۔ مصنفہ کے لکھے گئے مسودے کو بغیر کسی تکنیکی تصحیح کے من و عن شائع کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے اتنی خوبصورت اور وقیع کتاب میں املا اور ساخت کی خامیاں نظر آتی ہیں۔ اچھے اشاعتی ادارے کے لیے لازم ہے کہ وہ نفیس ادب کی اشاعت سے قبل اپنی تدوینی ٹیم کے معیار پر نظرِ ثانی کرے۔ قوی امید ہے کہ جب اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن منظرِ عام پر آئے گا تو ان حرفی و لغوی ناہمواریوں کی اصلاح کر لی جائے گی۔
    عمومی طور پر ہمارے ہاں جب کوئی سفرنامہ نگار قلم اٹھاتا ہے تو اس کی نظریں دیارِ غیر، یورپ کی وادیوں یا مشرقِ وسطیٰ کے شہروں پر جا ٹِکتی ہیں۔ بیرونِ ملک کی سیاحت کو ہی سفرنامے کا شایانِ شان موضوع سمجھا جاتا ہے لیکن شائستہ صادق کا طرہ امتیاز اور اس کتاب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے وطنِ عزیز پاکستان کے ان دور افتادہ اور تاریخی گوشوں کو اپنے سفر کا محور بنایا جن پر عام سیاحوں اور قلم کاروں کی نظر نہیں پڑتی۔

    پاکستان کے ان علاقوں میں جہاں تاریخ کی صدیاں دفن ہیں، اگر حکومتی سطح پر سیاحتی بنیادوں پر تھوڑی سی توجہ اور بنیادی سہولیات فراہم کر دی جائیں تو ملکی سیاحت میں انقلابی اضافہ ہو سکتا ہے۔ لیکن حکومتی بے توجہی اور دیگر ترجیحات کی بنا پر یہ علاقے اب تک اوجھل رہے۔ شائستہ صادق نے اپنے قلم کے ذریعے ان مقامات کو ازسرِ نو زندہ کیا ہے۔

    کتاب کی سحر انگیزی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سفر کا آغاز بلوچستان کی وسیع و عریض سرزمین سے ہوتا ہے۔ پسنی کے نیلگوں پانی، ماہی گیروں کی بستیوں کا سادہ اور مشقت طلب ڈھنگ اور کوسٹل ہائی وے کے کنارے کھڑے قدامت کے شاہدین اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔ گوادر کی ساحلی پٹی پر کھڑے ہو کر مصنفہ جب قدیم آثار کی داستان سنائی دیتی ہیں تو وطن عزیز سے ان کی محبت صاف محسوس ہوتی ہے۔
    بلوچستان کے لق و دق صحراؤں میں ”پرنسس آف ہوپ“ کی قدرتی تراشیدہ شباہت، بدا کی قديم باقیات اور ہنگلاج میں واقع ”نانی کا مندر“ ایسے مقامات ہیں جن کے بارے میں ہمارے ہاں بہت کم لکھا گیا ہے۔ مصنفہ نے ان تمام مقامات کے مذہبی، تاریخی اور جغرافیائی پس منظر کو انتہائی سادہ اور عام فہم زبان میں بیان کیا ہے۔
    بلوچستان سے یہ سفر جب اندرونِ سندھ میں داخل ہوتا ہے، تو تاریخی قصبہ بھنبھور اور ماروی کی یادگاریں مجسم ہو جاتی ہیں۔ سندھ ساگر کے پانیوں پر اترتی ہوئی دھوپ کی مانگ سجی یہ تحریر سسی پنوں کی داستانِ محبت اور صوفیائے سندھ کی زمزمہ پرور فضاؤں میں لے جاتی ہے۔ رحیم یار خان کی شاندار اور پرشکوہ ”بھونگ مسجد“، پتن منارہ کے تاریخی آثار، عمر کوٹ کا تاریخی قلعہ، گڈو بیراج کی عظمت اور حروں کے مساکن وہ تمام مقامات ہیں جہاں عام سیاحوں کی رسائی سہولیات کی کمی کی وجہ سے محدود رہتی ہے۔مگر مصنفہ نے اپنے دوستوں کے ہمراہ ان تمام دشوار گزار راستوں کو کھوجا اور انہیں نثری قالب میں ڈھال کر اہم علمی خدمت سر انجام دی ہے۔
    سفرنامے کا اختتام خیبر پختونخوا میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد ”طورخم“ کے آخری موڑ پر ہوتا ہے۔ وہاں کھڑے ہو کر جب مصنفہ اس قصے کو تمام کرتی ہیں تو ایک طرف تو سفر کے ختم ہونے کا ملال ہوتا ہے اور دوسری طرف پورے پاکستان کا ایک مکمل جغرافیائی و تاریخی نقشہ اس کے ذھن پر مرتسم ہو چکا ہوتا ہے۔
    اس سفرنامے کا ایک اور نہایت شاندار باب لاہور کی تاریخی اہمیت اور اس کے تہذیبی ورثے سے متعلق ہے۔ یوں تو لاہور پر بے شمار سفرنامے اور تاریخیں لکھی جا چکی ہیں لیکن شائستہ صادق نے لاہور کے روایتی حسن سے ہٹ کر اس کی ان باریک بیں گلیوں اور مقامات کو اپنے مشاہدے کا حصہ بنایا ہے جو عام طور پر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔

    دہلی دروازہ، روشنائی دروازہ، شاہی حمام اور حضور باغ کی معمارانہ عظمت کی ایسی دلفریب منظر کشی کی گئی ہے کہ انسان خود کو ان تاریخی عمارتوں کے سایہ تلے محسوس کرتا ہے۔ سرجن سنگھ گلی، رام گوپال کی تاریخی گلی (جس کا نام وقت کے ساتھ تبدیل کر دیا گیا) اور ہانی والا تالاب کے تذکرے تحقیق اور معلومات کا نیا در وا کرتے ہیں۔
    فوڈ اسٹریٹ کی دوبارہ بحالی، مسجد وزیر خان کی کاشی کاری اور شاہی حمام کی قدیم تکنیک پر جو تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے، وہ اندرونِ لاہور کا مکمل اور دلکش پیکج فراہم کرتی ہے۔ مصنفہ کا قلم لاہور کی ان تاریک گلیوں میں بھی روشنی بکھیرتا دکھائی دیتا ہے جہاں ماضی کا دلفریب حسن اور تاریخ ایک ساتھ سانس لیتے محسوس ہوتے ہیں۔
    شائستہ صادق کے اسلوبِ نگارش کا سب سے بڑا حسن ان کی صداقتِ بیانی ہے۔ انہوں نے اپنے مشاہدات، تجارب اور سفری صعوبتوں کو چھپانے یا بوجھل تصنع سے کام لینے کے بجائے بالکل واضح، شفاف اور سادہ انداز میں بیان کیا ہے۔
    سفرنامے کی معراج یہ ہوتی ہے کہ وہ پڑھنے والے کو غیر جانبدار ناظر نہ رکھے بلکہ اسے اپنے ساتھ سفر میں شامل کر لے۔ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے انسان کو لمحہ بہ لمحہ یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ خود مصنفہ کے ہم رکاب گاڑی، ٹرینمیں سوار ہے، مختلف لوگوں سے مل رہا ہے۔اور ان کی باتوں سے کہانیاں اور تخیل چن رہا ہے۔
    ”میرے راستوں میں اُجالا رہا“ پاکستان کے پوشیدہ حسن، اس کی شاندار تاریخ اور نظر انداز شدہ جغرافیے کا سچا اور خوبصورت مرقع ہے۔ ایک ہزار روپے کی قلیل قیمت کے عوض یہ کتاب پاکستان شناسی کا ایسا جامع منظر نامہ فراہم کرتی ہے جس کی قدر ہر باذوق قاری کو کرنی چاہیے۔

    پاکستان کو جاننے، اس کی مٹی سے محبت کرنے اور تاریخ و سیاحت سے شغف رکھنے والے تمام قارئین کے لیے یہ کتاب انمول تحفہ ہے۔ یہ ذوقِ مطالعہ کی تسکین کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ وطنِ عزیز کے دور افتادہ اور خوبصورت علاقوں سے جذباتی و فکری تعلق بھی استوار کرتی ہے۔
    میں اپنے اس دوست کا بھی تہہ دل سے شکر گزار ہوں جن کی وجہ سے مجھے یہ کتاب پڑھنے کا موقع ملا۔ اللہ تعالی ان کے علم و فضل میں اور رزق میں برکت عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین ۔

  • ظاہر پیر سے فتح پور کمال تک،قومی شاہراہ پر موت کا رقص، ذمہ دار کون؟تحریر: رئیس عنایت اللہ چاچڑ

    ظاہر پیر سے فتح پور کمال تک،قومی شاہراہ پر موت کا رقص، ذمہ دار کون؟تحریر: رئیس عنایت اللہ چاچڑ

    ظاہر پیر سے فتح پور کمال تک قومی شاہراہ کا سفر بظاہر معمول کا سفر ہے، مگر اس سڑک پر آئے روز پیش آنے والے سنگین حادثات نے اسے خطرناک شاہراہ بنا دیا ہے۔ کبھی تیز رفتار ٹرالر کسی گاڑی کو اپنی زد میں لے لیتا ہے، کبھی ٹرک اور موٹر سائیکل آپس میں ٹکرا جاتے ہیں اور کبھی رکشہ یا کار حادثے کا شکار ہو جاتی ہے۔ ان حادثات میں کئی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں جبکہ معصوم بچے، خواتین اور بزرگ بھی اس خونی سلسلے کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ حادثات کی بڑی وجوہات میں تیز رفتاری، ڈرائیوروں کی لاپرواہی، غیر محتاط ڈرائیونگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی شامل ہیں، تاہم قومی شاہراہ پر جگہ جگہ بنائی گئی غیر ضروری میڈین اوپننگز اور یوٹرن پوائنٹس بھی ایک اہم مسئلہ بن چکے ہیں۔ چھوٹے بڑے اڈوں اور آبادیوں کے قریب شاہراہ کے درمیان متعدد مقامات پر آمدورفت کے لیے راستے کھولے گئے ہیں جہاں موٹر سائیکل، رکشہ، کار اور دیگر چھوٹی گاڑیاں اچانک قومی شاہراہ پر آنے والی تیز رفتار بسوں، ٹرکوں اور ٹرالرز کے سامنے آ جاتی ہیں۔ چند لمحوں کی یہ بے احتیاطی کئی خاندانوں کو عمر بھر کا دکھ دے جاتی ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے محض حادثے کے بعد کارروائی کرنے کے بجائے حادثات کی روک تھام کے لیے مستقل اور عملی اقدامات کریں۔ قومی شاہراہ کا مکمل حفاظتی جائزہ لیا جائے، غیر ضروری میڈین اوپننگز اور خطرناک یوٹرن پوائنٹس بند کیے جائیں اور صرف ضرورت کے مطابق محفوظ یوٹرن فراہم کیے جائیں۔ آبادیوں اور اڈوں کے قریب واضح سائن بورڈز، مناسب اسٹریٹ لائٹس، رفتار کی حد کے اشارے اور دیگر حفاظتی انتظامات بھی یقینی بنائے جائیں۔ ساتھ ہی ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد، تیز رفتاری کی مؤثر نگرانی اور ڈرائیوروں میں شعور اجاگر کرنا بھی ضروری ہے۔ سڑکیں سفر کو آسان بنانے کے لیے ہوتی ہیں، زندگی چھیننے کے لیے نہیں۔ اگر بروقت توجہ دی جائے تو ظاہر پیر سے فتح پور کمال تک اس خطرناک شاہراہ کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے اور کئی گھروں کے چراغ بجھنے سے بچائے جا سکتے ہیں۔ آخر سوال یہی ہے: مزید کتنی قیمتی جانیں ضائع ہونے کے بعد ہم جاگیں گے؟

  • وقت بدل گیا، ہم کیوں نہیں بدلے؟تحریر: سید ساجد علی شاہ

    وقت بدل گیا، ہم کیوں نہیں بدلے؟تحریر: سید ساجد علی شاہ

    دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، زمانہ کروٹیں لے رہا ہے، ٹیکنالوجی نے زندگی کے انداز بدل دیے ہیں، معلومات چند لمحوں میں ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک پہنچ جاتی ہیں، لیکن ایک سوال مسلسل ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ آخر ہم کب بدلیں گے؟ ہم نے ترقی کے بے شمار دعوے کیے، منصوبے بنائے، تقریریں کیں، وعدے کیے، مگر عام آدمی آج بھی بنیادی مسائل کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، غربت، تعلیم، صحت، انصاف اور امن جیسے مسائل آج بھی ہماری اجتماعی زندگی کا حصہ ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ دنیا کہاں پہنچ گئی، سوال یہ ہے کہ ہم ابھی تک وہیں کیوں کھڑے ہیں؟ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ ہے کہ ہم مسائل کو حل کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو مسائل کا ذمہ دار قرار دینے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ حکومت اپوزیشن کو موردِ الزام ٹھہراتی ہے، اپوزیشن حکومت کو، ادارے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں اور عوام ہر نئے دن کے ساتھ یہ سوچتے ہیں کہ شاید اب حالات بہتر ہوجائیں گے، لیکن انتظار کی یہ گھڑی برسوں سے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ عام شہری کے لیے زندگی کا مطلب روزگار کی تلاش، بجلی اور گیس کے بل، بچوں کی فیس، گھر کا راشن، علاج معالجہ اور بڑھتے ہوئے اخراجات پورے کرنا بن چکا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب لوگ کم وسائل میں بھی زیادہ مطمئن نظر آتے تھے۔ گھروں میں آسائشیں کم تھیں مگر رشتوں میں گرمی تھی، جیبیں خالی ہوتی تھیں مگر دل کشادہ تھے، پڑوسی ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے، بزرگ گھر کی عزت سمجھے جاتے تھے اور بچوں کی تربیت صرف اسکول کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے خاندان کا فرض تصور کی جاتی تھی۔ آج ہمارے پاس سہولتیں زیادہ ہیں لیکن سکون کم، رابطے زیادہ ہیں مگر تعلقات کم، معلومات زیادہ ہیں مگر حکمت کم اور گفتگو بہت ہے مگر برداشت کم ہوتی جارہی ہے۔ ہم نے ترقی کا مطلب بھی شاید غلط سمجھ لیا ہے۔ بڑی بڑی عمارتیں، مہنگی گاڑیاں، جدید موبائل فون اور سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی مصنوعی خوشحالی ترقی کی مکمل تصویر نہیں۔ حقیقی ترقی اس وقت ہوگی جب ایک غریب باپ اپنے بچے کی تعلیم کے بارے میں پریشان نہ ہو، ایک بیمار شخص علاج کے اخراجات سے خوف زدہ نہ ہو، ایک نوجوان ڈگری ہاتھ میں لے کر روزگار کے لیے در بدر نہ پھرے اور ایک مزدور اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی باعزت طریقے سے کما سکے۔ تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں تعلیم بھی طبقاتی تقسیم کا شکار ہے۔ ایک طرف ایسے بچے ہیں جو جدید ترین سہولتوں سے آراستہ اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور دوسری طرف ایسے بچے بھی موجود ہیں جن کے لیے کتاب، یونیفارم اور فیس بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اگر ہم واقعی ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کو محض نعرہ نہیں بلکہ قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ اسکولوں میں صرف نصابی کتابیں پڑھانے کے بجائے بچوں کو کردار، اخلاق، برداشت، تحقیق اور ذمہ داری بھی سکھانا ہوگی۔ اسی طرح صحت کا شعبہ بھی فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں غریب آدمی لمبی قطاروں میں کھڑا نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر، ادویات اور سہولیات کی کمی کئی خاندانوں کو قرض لینے یا اپنی جمع پونجی ختم کرنے پر مجبور کردیتی ہے۔ ایک فلاحی ریاست کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے کمزور شہری کو مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑتی۔ ریاست اگر اپنے شہریوں کو بنیادی صحت، تعلیم اور انصاف فراہم کردے تو معاشرے میں بے چینی کی بہت سی وجوہات خود بخود ختم ہوسکتی ہیں۔ ہمیں اپنے رویوں پر بھی غور کرنا ہوگا۔ ہر مسئلے کا حل قانون بنانے سے نہیں نکلتا، کچھ مسائل ہمارے اپنے کردار سے جڑے ہوتے ہیں۔ ہم ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، صفائی کا خیال نہیں رکھتے، قطار میں کھڑے ہونے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں، دوسروں کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے اور پھر پورے معاشرے کو برا بھلا کہتے ہیں۔ تبدیلی ہمیشہ اوپر سے نہیں آتی، کبھی کبھی ایک فرد اپنے رویے کو بدل کر بھی معاشرے میں تبدیلی کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ آج ہمیں نفرت نہیں، مکالمے کی ضرورت ہے؛ الزام نہیں، اصلاح کی ضرورت ہے؛ مایوسی نہیں، امید کی ضرورت ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن قومی مسائل کسی ایک جماعت، ایک حکومت یا ایک طبقے کے مسائل نہیں ہوتے۔ مہنگائی جب بڑھتی ہے تو اس کا اثر ہر گھر تک پہنچتا ہے، بے روزگاری جب بڑھتی ہے تو نوجوانوں کا مستقبل متاثر ہوتا ہے اور تعلیم کمزور ہوتی ہے تو پورا معاشرہ اس کا نقصان اٹھاتا ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم آنے والی نسلوں کو کیسا پاکستان دینا چاہتے ہیں۔ ایسا پاکستان جہاں سفارش کے بغیر کام نہ ہو، جہاں میرٹ کمزور ہو، جہاں غریب اپنے حق کے لیے دفاتر کے چکر لگاتا رہے، یا ایسا پاکستان جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، محنت کی قدر ہو، نوجوانوں کو مواقع ملیں اور عام شہری عزت کے ساتھ زندگی گزار سکے؟ قومیں صرف وسائل سے ترقی نہیں کرتیں، قومیں اپنے کردار، نظم و ضبط، دیانت اور مسلسل محنت سے ترقی کرتی ہیں۔ ہمیں دوسروں کو بدلنے سے پہلے خود کو بدلنا ہوگا۔ اپنے گھروں سے تربیت، اپنے اداروں سے دیانت، اپنی سیاست سے برداشت، اپنی گفتگو سے شائستگی اور اپنی عملی زندگی سے ذمہ داری کا آغاز کرنا ہوگا۔ وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ جو قومیں وقت کی آواز سن لیتی ہیں وہ آگے بڑھ جاتی ہیں اور جو قومیں اپنے مسائل سے نظریں چراتی رہیں، تاریخ انہیں پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ آج بھی وقت ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم دروازہ کھول کر نئے دور کا استقبال کرتے ہیں یا پرانی سوچ، پرانے رویوں اور پرانے مسائل کے ساتھ آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم شکایت کرنے والی قوم کے بجائے کردار ادا کرنے والی قوم بنیں، کیونکہ تبدیلی کسی ایک حکمران، ایک ادارے یا ایک تقریر سے نہیں آئے گی۔ تبدیلی اس دن آئے گی جب ہر شہری یہ سوچے گا کہ ملک نے میرے لیے کیا کیا؟ سے پہلے مجھے یہ سوچنا ہے کہ میں نے اپنے ملک، اپنے معاشرے اور اپنے لوگوں کے لیے کیا کیا؟ یہی سوچ ہماری اصل طاقت بن سکتی ہے، یہی احساس ہماری سمت درست کرسکتا ہے اور یہی کردار پاکستان کے بہتر مستقبل کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

  • بدلتے موسم میں غذا کی اہمیت ،تحریر:ڈاکٹر نازیہ ندیم

    بدلتے موسم میں غذا کی اہمیت ،تحریر:ڈاکٹر نازیہ ندیم

    جب ستمبر کے آخری ایام میں سورج کی تپش مدہم پڑنے لگتی ہے اور شام کے دامن میں خنک ہوا کے ہلکے جھونکے انگڑائی لیتے ہیں، تو بظاہر فضا بڑی دل آویز محسوس ہوتی ہے۔ فطرت کا یہ عبوری دور گرمی کے حبس سے نجات کا پیامبر بن کر آتا ہے، مگر انسان کے اندرونی نظام کے لیے یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں ایک خاموش کشمکش شروع ہو جاتی ہے۔ برصغیر کے اس خطے میں جب پنکھے کی ہوا صبح کے وقت بوجھل لگنے لگے اور رات کے پچھلے پہر چادر اوڑھنے کی ضرورت پیش آئے، تو انسانی جسم اپنے اندرونی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد میں مصروف ہو جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم اس ظاہری خوشگواری میں کھو کر اپنے روزمرہ کے معمولات کو گرمیوں کی طرز پر ہی چلائے رکھتے ہیں، اور اس بے دھیانی کا سب سے پہلا اور شدید شکار ہمارا نظامِ انہضام بنتا ہے۔

    طبی نقطۂ نظر سے جب موسم بدلتا ہے تو فضا کے درجہ حرارت اور نمی میں آنے والی تبدیلی براہِ راست ہمارے ہاضمے اور میٹابولزم کی رفتار کو دھیما کر دیتی ہے۔ گرمیوں میں جسم کو پانی کی وافر طلب رہتی ہے اور معدہ رقیق اشیاء کو تیزی سے نبٹاتا ہے، مگر جیسے ہی خنکی کا آغاز ہوتا ہے، پیاس کم ہو جاتی ہے اور ہاضمے کے خامرے اپنی چستی کھو دیتے ہیں۔ انہی دنوں میں پیٹ کا پھولنا، غذا کا گھنٹوں معدے میں اٹکا رہنا، کھٹی ڈکاریں، متلی اور آنتوں کی سستی جیسی شکایات گھر گھر پھیل جاتی ہیں۔ معدے کی یہ خرابی محض پیٹ تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس کا براہِ راست اثر ہمارے اعصابی نظام پر پڑتا ہے۔ انسانی جسم میں معدہ اور دماغ آپس میں اعصاب کی ایک انتہائی حساس ڈوری سے جڑے ہوئے ہیں جسے جدید سائنس گٹ برین ایکسس کہتی ہے۔ جب آنتوں میں خمیر اور گیس بنتی ہے تو اعصاب میں کھنچاؤ، سر میں بوجھل پن، نیند میں بے چینی اور پٹھوں کا درد جنم لیتا ہے، جس سے مریض ایک ناقابلِ بیان جسمانی و ذہنی کمزوری کا شکار ہو جاتا ہے۔

    اس نازک موڑ پر مہنگی ادویات اور مسکن گولیوں کے بجائے صرف اور صرف درست غذا ہی وہ حقیقی ڈھال ہے جو معدے کو بحال اور اعصاب کو توانائی فراہم کر سکتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ لوگ موسم بدلنے کے باوجود فریج کا ٹھنڈا پانی، مصالحے دار تلی ہوئی غذائیں اور بازاری فاسٹ فوڈ جاری رکھتے ہیں۔ یہ ٹھنڈا اور چکنائی سے لدا کھانا کمزور ہاضمے کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوتا ہے۔ اس موسم میں کچن کی فطری غذائیت ہی سب سے بڑی رہنمائی کرتی ہے۔ ابلی ہوئی اور شوربے دار غذائیں، تازہ موسمی سبزیاں جیسے کدو، توری، گاجر اور شلجم معدے پر بوجھ ڈالے بغیر آنتوں کی صفائی کرتی ہیں۔ ادرک، دار چینی، سفید زیرہ اور پودینہ محض کھانوں کی خوشبو کے لیے نہیں ہیں بلکہ یہ گیس کو تحلیل کرنے اور اعصابی تناؤ کو کم کرنے کا قدرتی تریاق ہیں۔ جب معدے کو ہلکی، زود ہضم اور حرارت بخش غذا ملتی ہے تو اعصابی نظام سے بوجھ اتر جاتا ہے اور جسمانی کمزوری خود بخود دور ہونے لگتی ہے۔

    اس موسم کی سب سے بڑی ضرورت ہائیڈریشن کا درست انتظام ہے۔ چونکہ پیاس کا احساس کم ہو جاتا ہے، اس لیے ہم نادانستہ طور پر اپنے خلیات کو پانی سے محروم کر دیتے ہیں جس سے خون گاڑھا ہوتا ہے اور قبض کی شکایت سر اٹھاتی ہے۔ دن میں وقفے وقفے سے نیم گرم پانی پینا، ادرک اور شہد کا ہلکا قہوہ استعمال کرنا، اور شام کے وقت دیسی مرغ یا ہڈیوں کی یخنی لینا جسم میں وہ نمکیات اور پروٹین بحال کرتا ہے جو تھکن کا قلع قمع کر دیتے ہیں۔ خشک میوہ جات جیسے بادام اور اخروٹ، اور بیجوں میں السی اور سفید تل اعصاب کو ضروری چکنائی فراہم کرتے ہیں تاکہ موسم کی خشک ہوا ہڈیوں اور جوڑوں کے گودے کو متاثر نہ کر سکے۔

    معدے، اعصاب اور جسمانی توانائی کی تمام ضروریات کو متوازن رکھنے کے لیے روزمرہ کا ایک جامع اور متوازن شیڈول اپنانا بے حد کارآمد رہتا ہے۔ صبح بیدار ہوتے ہی ایک گلاس نیم گرم پانی میں چند قطرے لیموں اور ایک چمچ خالص شہد گھول کر پینے سے رات بھر کے فاسد مادے خارج ہوتے ہیں اور معدہ نرم پڑتا ہے۔ ناشتے کے لیے ایک ابلا ہوا دیسی انڈا، چکی کے آٹے کی پتلی روٹی یا جو کا گرم دلیہ، اور ساتھ میں ادرک و دار چینی کا ایک کپ قہوہ دن کے آغاز پر اعصاب کو حرارت اور توانائی بخشتا ہے۔ دوپہر کے وقت ایک تازہ موسمی امرود یا مسمی کا استعمال وٹامن سی کی کمی پوری کر کے قوتِ مدافعت کو جلا بخشتا ہے۔ دوپہر کے کھانے میں توری، لوکی یا مونگ کی پتلی دال شوربے دار صورت میں گندم کی ایک روٹی کے ساتھ کھانا معدے کے نظام کو پرسکون رکھتا ہے اور ہاضمے کو مشقت سے بچاتا ہے۔ عصر کے وقت چند دانے بادام، دو اخروٹ اور مٹھی بھر بھنے چنے اعصابی کمزوری اور پٹھوں کے اکڑاؤ کا سدباب کرتے ہیں۔ رات کا کھانا غروبِ آفتاب کے فوراً بعد دیسی مرغ کی یخنی، مٹن کا پتلا شوربہ اور آدھی روٹی کی صورت میں لینا چاہیے تاکہ سونے سے قبل کھانا مکمل ہضم ہو سکے۔ رات بستر پر جانے سے پہلے ایک کپ نیم گرم دودھ میں چٹکی بھر ہلدی یا گڑ کی چھوٹی سی ڈلی شامل کر کے پینا گلے کی خراش، معدے کی سوزش اور دن بھر کی اعصابی تھکن کو مٹا کر ایک پرسکون اور گہری نیند کی ضمانت بن جاتا ہے۔ جب ہم خوراک کو موسم کی پکار کے ساتھ ہم آہنگ کر لیتے ہیں تو بیماری راستہ بدل لیتی ہے اور صحت ہمارا دائمی مقدر بن جاتی ہے۔

  • جوئے کی گونج اور مبشر لقمان کی صدارت: کیا واقعی ایک بدنام مشغلے کی سرپرستی ہو رہی ،تحریر: نعیم خان

    جوئے کی گونج اور مبشر لقمان کی صدارت: کیا واقعی ایک بدنام مشغلے کی سرپرستی ہو رہی ،تحریر: نعیم خان

    آج لاہور صرف ایک شہر نہیں بلکہ قدرت کا لکھا ہوا ایک انمول افسانہ لگ رہا تھا۔ صبح ہی سے بادلوں نے نیلی چھت پر سیاہ اور سرمئی مخمل بچھا رکھی تھی اور ننھی ننھی بوندیں یوں گِر رہی تھیں جیسے آسمان زمین کے کان میں کوئی پرانی محبت کی داستان سنا رہا ہو ، مال روڈ کے تاریخی درختوں کی شاخوں سے پانی کے قطرے موتی بن کر ٹپک رہے تھے اور ہوا میں بھیگے ہوئے پھولوں کی خوشبو رچی تھی جو ہر انسان کو نیچر کی محبت میں گرفتار کر لیتی ہے۔ اسی عاشقانہ اور رومان پرور شام تقریباً ساڑھے چھ بجے میں لاہور جم خانہ کلب کے دلکش اور تاریخی احاطے میں داخل ہوا جہاں میری ملاقات صحافت ، کالم نگاری اور الیکٹرانک میڈیا کی دنیا کے ایک بے باک ، معروف اور سحر انگیز نام مبشر لقمان صاحب سے طے تھی۔

    جس ہال میں ہماری نشست تھی وہاں داخل ہوتے ہی یوں لگا جیسے ہم کسی دوسری ہی دنیا میں آ گئے ہوں ، اونچی اونچی دیواریں ، کشادہ چھت ، دیواروں پر لٹکی نفیس اور شاندار پینٹنگز اور لکڑی کے بھاری پرانے دروازے ماحول کو ایک شاہانہ اور باوقار لمس دے رہے تھے۔ باہر بوندیں برستے ہوئے موسم کا سحر تھا اور اندر ہال کے مختلف گوشوں میں لکڑی کی گول میزوں کے گرد بریج کے کھلاڑی بیٹھے ہوئے تھے۔ وہاں اتنی خاموشی اور گہرا سکون تھا کہ تاش کے 52 پتوں کی ہلکی سی سرسراہٹ بھی صاف سنائی دیتی تھی۔ مبشر لقمان صاحب کے بالکل ساتھ بیٹھ کر جب میں نے ان سے گفتگو کا آغاز کیا تو اسکرین پر نظر آنے والے تند و تیز اینکر کے برعکس ایک نہایت شائستہ ، وسیع المطالعہ ، عقل و دانش سے بھرپور اور نفیس انسان میرے سامنے تھا۔ ان کی باریک بین سوچ اور گفتگو کا جادو ایسا تھا کہ پہلی ہی نشست میں ان کے لیے دل میں ایک گہری اور بے ساختہ عزت پیدا ہو گئی۔

    صحافت اور سیاسی نشیب و فراز پر تو ان کی گرفت قائم ہی ہے لیکن جب میں نے گفتگو کا رخ موڑ کر ان سے ان کی ایک اور اہم ذمہ داری یعنی پاکستان بریج فیڈریشن کی صدارت کے بارے میں پوچھا تو ان کی آنکھوں میں ایک عجیب چمک اور لہجے میں سنجیدگی آ گئی۔ وہ مسکرائے آرام سے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی اور بولے "نعیم صاحب ! ہمارے ہاں تاش کا نام سنتے ہی لوگوں کے ذہن میں جوئے کی محفلیں ، وقت کی بربادی اور اندھیری بیٹھکیں گھومنے لگتی ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ انہی 52 پتوں کا ایک کھیل ایسا بھی ہے جسے دنیا کا سب سے بڑا ذہنی کھیل یعنی ‘مائنڈ اسپورٹ’ مانا جاتا ہے؟” ان کا یہ جملہ کسی ڈرامائی موڑ کی طرح گفتگو کو ایک بالکل نئی سمت میں لے گیا۔

    مبشر لقمان صاحب نے اپنے مخصوص اور دلفریب انداز میں بریج کی دنیا کے راز افشا کرنا شروع کیے ، خاص طور پر ڈپلیکیٹ بریج کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ کوئی تکے یا قسمت کا کھیل نہیں بلکہ شدید ترین یادداشت ، منطق اور خاموش حکمتِ عملی کی جنگ ہے۔ جب کھلاڑی میز پر بیٹھتے ہیں تو قسمت کا کوئی دخل نہیں ہوتا بلکہ صرف انسانی ذہن فیصلے کرنے کی طاقت اور اپنے ساتھی کھلاڑی کو بغیر بولے سمجھنے کی صلاحیت کام آتی ہے۔ انہوں نے عالمی افق کا احوال کچھ اس طرح کھول کر رکھا جیسے کسی باکمال داستان گو نے تاریخ کی کوئی پرانی کتاب کھول دی ہو۔

    "اگر ہم اس کی عالمی تاریخ دیکھیں،” انہوں نے اپنی شاندار اور بیباک روانی سے بتایا "تو ورلڈ بریج فیڈریشن (WBF) کی بنیاد 18 اگست 1958 کو ناروے کے شہر اوسلو میں یورپ ، شمالی امریکہ اور جنوبی امریکہ کے نمائندوں نے رکھی تھی۔” مبشر صاحب نے وضاحت کی کہ یہ کوئی عارضی یا غیر رسمی باڈی نہیں بلکہ سوئٹزرلینڈ کے قوانین کے تحت ایک باقاعدہ غیر منافع بخش تنظیم کے طور پر رجسٹرڈ ہے۔ اس کا عالمی ہیڈکوارٹر سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں ‘Maison du Sport International’ میں واقع ہے جہاں دنیا کے تمام بڑے کھیلوں کے مراکز ہیں۔

    باہر برستی بارش اور اندر ہال میں پھیلی سحر انگیز خاموشی کے درمیان ان کی باتیں سن کر وقت کا پتہ ہی نہیں چل رہا تھا۔ وہ بتا رہے تھے کہ اس فیڈریشن کا عالمی نعرہ ہے "Bridge for Peace” یعنی امن کے لیے بریج۔ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (IOC) سے تسلیم شدہ یہ تنظیم آج دنیا کے تقریباً 100 ممالک اور ساڑھے پانچ لاکھ کے قریب باقاعدہ ممبران کو اپنے ساتھ جوڑے ہوئے ہے۔ دنیا کو آٹھ جغرافیائی زونز میں بانٹا گیا ہے جیسے یورپ ، شمالی امریکہ ، جنوبی امریکہ ، ایشیا اور مڈل ایسٹ وغیرہ۔ ہر دو سال بعد اس کی عالمی کانگریس ہوتی ہے اور ایک ایگزیکٹو کونسل اس کا تمام انتظام چلاتی ہے۔

    "آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی نعیم صاحب ! ” مبشر لقمان صاحب نے میری طرف گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا "کہ جیسے فٹ بال کا ورلڈ کپ ہوتا ہے بالکل اسی طرح بریج کی دنیا میں بھی عالمی جنگیں لڑی جاتی ہیں۔” انہوں نے Bermuda Bowl ، خواتین کے لیے Venice Cup ، Senior Bowl اور Wuhan Cup جیسی عالمی چیمپئن شپس کا ذکر کیا جو ہر دو سال بعد ہوتی ہیں جبکہ ہر چار سال بعد ورلڈ بریج گیمز کا میلہ سجتا ہے جہاں دنیا کے بہترین ذہن ٹکراتے ہیں۔

    میں ان کی باتیں سن کر ششدر تھا کہ جس کھیل کو ہمارے ہاں ایک عام اور بدنام مشغلہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے وہ عالمی سطح پر کس قدر منظم اور باوقار ہے۔ لیکن سوال یہ تھا کہ آخر پاکستان اس عالمی منظر نامے میں کہاں کھڑا ہے؟ کیا ہمارے ملک میں بھی اس کی کوئی جڑیں ہیں؟

    جب میں نے یہ سوال مبشر لقمان صاحب کے سامنے رکھا تو ان کے چہرے پر گہری سوچ اور دکھ کا سایہ لہرایا۔ انہوں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا "پاکستان میں بریج کی تاریخ ایک ایسی داستان ہے جس میں عروج کی شاہانہ بلندی بھی ہے اور زوال کا دردناک سفر بھی… ایک وقت تھا جب پاکستان نے دنیا کو اس کھیل میں حیران کر دیا تھا لیکن پھر کچھ ایسا ہوا جس نے اس کھیل کو سائے میں دھکیل دیا۔”

    پاکستان میں اس کھیل کے سنہری دور ، اس کے متنازع ماضی اور کراچی کے ایک اسٹیڈیم کے اسٹینڈ کے نیچے منتقل ہونے والی اس دلچسپ کہانی کا کیا راز تھا؟ یہ سب مبشر لقمان صاحب کی زبانی معلوم ہوا… لیکن اس داستان کا احوال اگلی قسط میں۔

  • چٹان کا سایہ: 1965ء کے معرکے سے قومی یکجہتی تک،تحریر: نعیم خان

    چٹان کا سایہ: 1965ء کے معرکے سے قومی یکجہتی تک،تحریر: نعیم خان

    گھڑی کی ٹک ٹک شاید سست پڑ چکی تھی یا پھر وقت نے خود ڈر کے مارے سانس روک لی تھی۔ ستمبر 1965ء کی اس رات برکی کی سرحد پر عجیب سی سائیں سائیں ہو رہی تھی۔ ہولناک اندھیرے میں ہوا یوں دھیمے دھیمے چل رہی تھی جیسے موت خود اپنا لباس بدل کر چاروں طرف چکر کاٹ رہی ہو۔ دوسری جانب ہندوستان کی سرحد پر سرگوشیاں تھیں اور دلوں میں یہ گھمنڈ کہ صبح کا آفتاب طلوع ہونے سے پہلے لاہور کے جمخانہ میں فتح کے جام چھلکیں گے۔

    لیکن دشمن اس بھول میں تھا کہ بی آر بی نہر کے اس پار رات کے اس بھیانک اندھیرے میں، وطن کی مٹی پر ایک ایسا سایا خندق میں موجود تھا جس کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی ، اور جس کے سینے میں دل دھڑکتا نہیں ، بلکہ لاوا بن کر ابلتا تھا۔
    وہ میجر راجہ عزیز بھٹی تھے!
    جب بارود کے دھوئیں میں سانس لینا دو بھر ہو رہا تھا اور موت ہر طرف رقص کر رہی تھی تو ان کا ایک جونیئر سپاہی کانپتی آواز میں بولا "سر! دشمن کی تعداد ہم سے دس گنا زیادہ ہے ، ہم انہیں کیسے روکیں گے؟”
    عزیز بھٹی نے دھویں اور آگ کے درمیان اپنے سپاہی کے شانے پر ہاتھ رکھا ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سرخ شعلہ لپکا اور وہ گرجدار آواز میں بولے:
    "وہ گنتی کے زعم میں آ رہے ہیں، اور ہم رب کے بھروسے پر کھڑے ہیں! انہیں بتانے دو کہ وہ کتنے ٹینک لائے ہیں اور ہم انہیں بتائیں گے کہ ایک سچا مسلمان اپنے وطن کی مٹی پر کیسے جان دیتا ہے۔ جب تک راجہ عزیز بھٹی کے سینے میں دل دھڑک رہا ہے لاہور کی طرف بڑھنے والا ہر قدم میری لاش سے ہو کر گزرے گا۔

    اچانک! سناٹے کو چیرتی ہوئی ایک دھماکے کی آواز آئی اور پھر… آگ کا طوفان امڈ پڑا۔ آسمان سرخ ہو گیا ٹینکوں کے شعلے رات کی سیاہی کو چیرنے لگے اور زمین یوں کانپنے لگی جیسے زلزلہ آ گیا ہو۔ دشمن سوچے بیٹھا تھا کہ اس بھیانک حملے کے بعد سامنے صرف لاشیں ملیں گی۔ مگر جب دھواں چھٹا تو نہر کے کنارے وہی سایا اب بھی سینہ تان کر کھڑا تھا۔
    ایک دن… دو دن… پانچ دن اور پانچ راتیں!
    نہ عزیز بھٹی نے پلک جھپکی، نہ ان کا قدم ایک انچ پیچھے ہٹا۔ کپڑے بارود ، خون اور غبار سے اٹا ہوا تھا ، جسم تھکن سے چکنا چور ہو چکا تھا۔ مگر آنکھوں میں ایک جنون تھا "لاہور پر میرا خون گرے گا ، دشمن کا قدم نہیں!”
    وائرلیس پر کمانڈر کی پریشان آواز گونجی ” بھٹی ! تم مسلسل پانچ دن سے آگ میں ہو۔ تم انسان ہو، جاؤ کچھ دیر سو جاؤ… ہم دوسری نفری بھیج رہے ہیں۔”

    عزیز بھٹی کے لبوں پر ایک خونچکاں مسکراہٹ ابھری ! انہوں نے وائرلیس کا مائیک سنبھالا اور کہا "مجھے واپس نہ بلائیے ! میں اس مٹی کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا۔ میں لڑتے ہوئے یہی مرنا پسند کروں گا۔”
    یہ منظر کسی فلم کا نہیں تھا، یہ ایک سچے عاشقِ وطن کے جنون کی انتہا تھی۔ 12 ستمبر کی وہ منحوس گھڑی آئی۔ عزیز بھٹی ایک ٹیلا پر چڑھ کر دشمن کے ٹینکوں کی نشاندہی کر رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ وہ سیدھے نشانے پر ہیں مگر جسے شہادت کی طلب ہو اسے موت کا ڈر کیسا؟ ایک زوردار دھماکہ ہوا… دشمن کے ٹینک کا چیرتا ہوا گولا عزیز بھٹی کے سینے میں جا پیوست ہوا۔
    وہ زمین پر گرے۔ ان کا گرم خون لاہور کی مٹی میں جذب ہو رہا تھا مگر ان کے گرنے سے پہلے لاہور بچ چکا تھا۔ بی آر بی نہر دشمن کی آخری آرام گاہ بن چکی تھی۔
    یہاں کہانی کا ایک حصہ مکمل ہوتا ہے اور ہیرو ہم سے رخصت ہو جاتا ہے… لیکن کہانی کا سب سے خوفناک سسپنس اور ڈرامائی موڑ تو اب شروع ہوتا ہے۔
    کیمرہ آج کے پاکستان پر گھومتا ہے۔ چالیس، پچاس سال بعد کے مناظر سامنے آتے ہیں۔

    ہم دیکھتے ہیں کہ اسی شہید کے ملک میں کچھ لوگ شاندار ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر سیاست کی چمکتی ہوئی کرسیوں پر براجمان ہو کر کہتے ہیں "فوجی تو تنخواہ کے لیے لڑتے ہیں! یہ تو ان کی ملازمت ہے!”
    ذرا سوچئے! کیا سسپنس ہے اس قوم کی قسمت میں؟ کیا دنیا کی کوئی رقم ، کوئی نوٹ ، کوئی مراعات کسی انسان کو اس بات پر راضی کر سکتی ہے کہ وہ جلتے ہوئے ٹینک کے سامنے جا کر اپنا سینہ کھول دے؟ کیا کوئی ماں اپنی گود کے پالے کو چند ہزار کی نوکری کے لیے بارود کے سپرد کر سکتی ہے؟

    یہ کیسا المیہ ہے کہ جن شہیدوں نے اپنے بچوں کو یتیم کر کے ہماری نسلوں کو آزاد کیا آج کچھ مفاد پرست سیاسی ٹھیکیدار اپنے چھوٹے چھوٹے سیاسی فائدوں کے لیے ان کی قربانیوں کا سودا کر رہے ہیں؟
    یہ سیاسی دکان داری دراصل دشمن کا وہ آخری حربہ ہے جو وہ 1965ء میں نہ کر سکا۔ دشمن جانتا ہے کہ وہ میدانِ جنگ میں اس قوم کے راجہ عزیز بھٹیوں کو نہیں ہرا سکتا اسی لیے وہ ہمارے درمیان تفریق ، شک اور نفرت کا زہر گھول کر فوج اور عوام کے رشتے کو توڑنا چاہتا ہے۔
    اگر آج ہم نے اس سیاسی ڈرامے اور مفاد پرستوں کے بیانیے کو نہ روکا تو کل راجہ عزیز بھٹی کی روح ہم سے سوال کرے گی کہ "ہم نے اپنا خون کس کے لیے بہایا تھا؟”

    وقت کا ڈرامائی موڑ یہی ہے۔ اب فیصلہ عوام کو کرنا ہے۔ہمیں اپنے محافظوں کے پیچھے ایک مضبوط اور ناقابلِ تسخیر دیوار بن کر کھڑا ہونا ہوگا۔ عوام، فوج اور سیاست دانوں کو ایک مٹھی بننا ہوگا تاکہ دشمن کو معلوم ہو کہ پاکستان کی طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کو آج بھی راجہ عزیز بھٹی کا وہی جنون اور جذبہ جواب دے گا۔

  • جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس،تحریر: کاشف خان

    جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس،تحریر: کاشف خان

    ہمارے معاشرے میں صدیوں سے ایک کہاوت مشہور ہے: "جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس۔” چند الفاظ پر مشتمل یہ کہاوت دراصل ہمارے سماجی نظام کی ایک تلخ حقیقت کو بیان کرتی ہے۔ جہاں طاقتور اپنی طاقت کے بل بوتے پر فیصلے کرواتا ہے اور کمزور اپنے حق کے باوجود انصاف کے دروازے پر کھڑا رہتا ہے۔

    یہ کہاوت صرف دیہاتی زندگی یا مویشیوں کے جھگڑے تک محدود نہیں، بلکہ آج کے معاشرے میں اس کے کئی روپ نظر آتے ہیں۔ کہیں دولت طاقت بن جاتی ہے، کہیں عہدہ، کہیں سیاسی اثر و رسوخ، کہیں تعلقات اور کہیں صرف یہ یقین کہ کوئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ جب طاقت قانون سے بالاتر محسوس ہونے لگے تو پھر حق اور باطل کے درمیان فرق مٹنے لگتا ہے۔

    ایک غریب آدمی سارا دن محنت کرتا ہے، اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرتا ہے اور اپنی محنت کا جائز معاوضہ مانگتا ہے۔ لیکن اگر اس کے مقابل کوئی بااثر شخص کھڑا ہو جائے تو اکثر غریب کی آواز کمزور پڑ جاتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے پاس نہ سفارش ہے، نہ وسائل اور نہ ہی طاقتور لوگوں تک رسائی۔ چنانچہ وہ اپنے حق سے دستبردار ہونے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

    اسی طرح ہمارے اردگرد ایسے واقعات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں کسی کمزور کی زمین، دکان، ملازمت یا حق پر طاقتور نظریں جما لیتا ہے۔ کمزور شخص قانون سے رجوع کرتا ہے، درخواستیں دیتا ہے، دفاتر کے چکر لگاتا ہے، لیکن انصاف کا سفر اتنا طویل ہو جاتا ہے کہ بعض اوقات وہ تھک کر خاموش ہو جاتا ہے۔

    یہ صورت حال صرف کمزور فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ کیونکہ جب لوگوں کا قانون اور انصاف پر اعتماد کم ہونے لگے تو معاشرے میں مایوسی، بے چینی اور بداعتمادی جنم لیتی ہے۔

    ایک ریاست کی اصل طاقت اس کے ہتھیار، خزانے یا بڑے بڑے ادارے نہیں ہوتے، بلکہ اس کا انصاف کا نظام ہوتا ہے۔ اگر ایک عام شہری کو یقین ہو کہ اس کی بات بھی سنی جائے گی اور طاقتور کے خلاف بھی قانون حرکت میں آئے گا تو معاشرے میں امن پیدا ہوتا ہے۔

    ہمیں یہ سوچ بدلنا ہوگی کہ طاقتور ہونا حق دار ہونے کی علامت ہے۔ طاقت انسان کو اختیار دے سکتی ہے، مگر حق نہیں دیتی۔ حق دلیل، قانون، انصاف اور سچائی سے پیدا ہوتا ہے۔

    بدقسمتی سے ہم بعض اوقات خود بھی اس رویے کو فروغ دیتے ہیں۔ جب کوئی بااثر شخص غلط کام کرے تو ہم خاموش رہتے ہیں، لیکن وہی کام کوئی کمزور شخص کرے تو اسے سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ ہمیں اپنے اس دوہرے معیار کو ختم کرنا ہوگا۔

    ضرورت اس بات کی ہے کہ "جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس” کے بجائے ہمارے معاشرے کا اصول "جس کا حق، اُسے حق” ہونا چاہیے۔ قانون کی نظر میں امیر اور غریب، طاقتور اور کمزور، عہدے دار اور عام شہری سب برابر ہوں۔

    یاد رکھنا چاہیے کہ طاقت ہمیشہ ایک شخص کے پاس نہیں رہتی۔ وقت بدلتا ہے، عہدے بدلتے ہیں، حالات بدلتے ہیں۔ جو آج طاقتور ہے، ممکن ہے کل اسے بھی کسی ایسے انصاف کی ضرورت پڑ جائے جو آج وہ کسی کمزور کو دینے سے انکار کر رہا ہے۔

    اس لیے طاقت کے نشے کے بجائے انصاف کی طاقت کو مضبوط کرنا ہوگا۔ کیونکہ لاٹھی کے زور پر حاصل کیا گیا اختیار وقتی ہو سکتا ہے، مگر انصاف کی بنیاد پر قائم معاشرہ نسلوں تک قائم رہتا ہے۔

    آخرکار بھینس اُس کی نہیں ہونی چاہیے جس کے ہاتھ میں لاٹھی ہو، بلکہ اُس کی ہونی چاہیے جس کا حق ہو۔ یہی ایک مہذب، مضبوط اور انصاف پسند معاشرے کی اصل پہچان ہے۔

  • ضمیر کی موت ،تحریر: عائشہ گُل

    ضمیر کی موت ،تحریر: عائشہ گُل

    انا للہ وانا الیہ راجعون

    موبائل کو سائیڈ پر رکھیں۔ اپنے چہرے پر ایک زوردار چپت رسید کیجئے۔ کھڑے ہیں تو بیٹھ جائیں۔ بیٹھے ہیں تو سانس روک کر پڑھیے۔ کیونکہ اگلی چند سطریں آپ کے ضمیر کا امتحان ہیں۔ سب سے پہلا سوال: آپ کا ضمیر زندہ ہے یا مر چکا ہے؟ جواب آئینے میں دیکھ کر دیجئے گا۔ گزشتہ دنوں کراچی میں ڈیڑھ سالہ ننھی کلی مٹی تلے سو گئی۔ ٹھہریے! لفظ بدلیے۔ "سلا دی گئی”۔ 17 سالہ لڑکے کے ہاتھوں۔ جو ابھی بلوغت کی دہلیز پر بھی نہیں پہنچا تھا۔ رشتے میں ماموں لگتا تھا۔ چیز کا لالچ دے کر گھر سے لے گیا۔ اور جب لوٹی تو کلی مرجھائی ہوئی تھی۔ زار و قطار رو رہی تھی۔ وہ بول نہیں سکتی تھی۔ صرف اٹھکیاں لیتی تھی۔ والدین ہسپتال لے گئے تو ڈاکٹروں نے کہا: "بہت دیر ہو چکی”۔ اور یوں وہ معصوم، کسی شکایت کے بغیر، کسی فریاد کے بغیر، آنسوؤں کی گواہی کے ساتھ مٹی کی آغوش میں اتار دی گئی۔ قرآن پاک ہمیں یہ سوال یاد دلاتا ہے: "اور جب زندہ دفن کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی”۔ [سورۃ التکویر: 8-9] قیامت کے دن جب اس ننھی کلی سے یہ سوال ہوگا تو ہم سب کا سر شرم سے جھک جائے گا۔ ہمارے پاس کیا جواب ہوگا؟ میرے قلم کی سیاہی بھی آج آنسو بن گئی ہے۔ سوچتا ہوں اس ماں پر کیا گزری ہوگی جس کے آنگن کا چراغ سفید کفن میں لپیٹ کر قبر میں رکھ دیا گیا۔ یہ منظر قیامت سے کم نہیں۔

    ہم کس قدر بے حس ہو چکے ہیں کہ یہ خبر پڑھ کر اگلی خبر پر سکرول کر دیتے ہیں۔ کیونکہ یہ "روز کا معمول” بن چکا ہے۔ جنسی ہوس ایک ایسا ناسور ہے جو انسان کو درندہ بنا دیتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ سامنے فرشتہ ہے، نابالغ ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ "اللہ دیکھ رہا ہے”۔ شیطان کے بہکاوے میں آ کر وہ اپنی ہی نسل کی جڑیں کاٹ دیتا ہے۔ توبہ! اللہ کی پناہ۔ جن کے ضمیر مر چکے، انہیں زندہ لاش کہنا بھی زندہ لاشوں کی توہین ہے۔ تو اب علاج کیا ہے؟ سزا کیا ہے؟ ہمارے رب نے 1400 سال پہلے ہی ہمیں راستہ دکھا دیا تھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سورہ نور میں ارشاد فرماتا ہے: "زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔ اور اللہ کے دین کے معاملے میں ان پر ترس نہ کھاؤ۔ اور چاہیے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت موجود ہو”۔ [سورۃ النور: 2] غور کیجئے! اللہ نے سزا کے ساتھ "گواہوں کا مجمع” کیوں رکھا؟ تاکہ ایک کو سزا ملے اور ہزاروں کو عبرت۔ تاکہ ہر مجرم کو پتہ ہو کہ گناہ کے بعد چھوٹ نہیں، سزا ہے۔ اسی لیے آج ضرورت ہے کہ ہم ایسے وحشی درندوں کو سرِعام کیفرِ کردار تک پہنچائیں۔ انہیں ایسی سزا دیں جو دوسروں کے لیے نشانِ عبرت بن جائے۔ تاکہ جب کوئی گندی نظر اٹھے تو اس کے ہاتھ کانپ جائیں۔ تاکہ ہماری ننھی کلیاں، ہمارے آنگن کے چراغ محفوظ رہ سکیں۔

    اور اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں یا آنے والی نسلوں کے لیے دیوار بنیں؟ سب سے پہلے گھر سے شروع کریں: اپنے بیٹوں کو "مرد” نہیں "انسان” بنائیں۔ انہیں سمجھائیں کہ طاقت عزت لوٹنے کے لیے نہیں، عزت بچانے کے لیے ہے۔ انہیں بتائیں کہ ہر حال میں عورت کا محافظ بننا ہے۔ غیر محرم ہو تب بھی عورت کو میری نظر سے نہیں دیکھنا۔ قرآن میں تمہیں بھی حکم دیا گیا ہے "نظریں نیچی رکھو”۔ اس حکم پر عمل کرنا ہے تب ہی معاشرہ سنورے گا۔ دوسرا نظام سے مطالبہ کریں: فوری، شفاف اور عبرتناک انصاف۔ تاکہ عدالتوں کے چکر نہ لگیں، صرف سزا کی گونج سنائی دے۔ تیسرا خاموشی توڑیں: ظلم دیکھ کر چپ رہنا بھی ظلم میں شراکت ہے۔ ایک آواز کئی کلیوں کو بچا سکتی ہے۔ میں ان تمام جنسی درندوں کے لیے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھتی ہوں۔ کیونکہ وہ مر چکے ہیں۔ اور اب وہ دوسروں کو بھی مار رہے ہیں۔ یاد رکھیے: جب قوم کا ضمیر مر جائے تو قبریں ہی اس کا مقدر بنتی ہیں۔ اور جب قوم کا قانون جاگ جائے تو قبریں بند ہو جاتی ہیں۔ نوٹ: یہ کالم کسی خاص فرد، گروہ یا عمر کے خلاف نہیں ہے۔ اس کا مقصد صرف ظلم کے خلاف آواز اٹھانا اور معاشرے میں شعور بیدار کرنا ہے۔ میرا مقصد دل آزاری نہیں اصلاح ہے۔ اللہ ہم سب کو اپنی اور دوسروں کی عزتوں کا محافظ بنائے۔ اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو.
    آمین یا رب العالمین

  • بدلتا موسم اور قوت مدافعت کی بحالی ،تحریر:ڈاکٹر نازیہ ندیم

    بدلتا موسم اور قوت مدافعت کی بحالی ،تحریر:ڈاکٹر نازیہ ندیم

    جب حبس زدہ گرمی کے لمبے دن رخصت ہونے لگتے ہیں اور شام کے سائے میں ایک ہلکی سی خنکی گھلنے لگتی ہے، تو بظاہر فضا بڑی دلکش اور روح پرور محسوس ہوتی ہے۔ ستمبر کا اختتام اور اکتوبر کی ابتدا برصغیر میں وہ عبوری مرحلہ ہے جب سورج کی تپش کمزور پڑنے لگتی ہے اور پنکھے کی ہوا صبح کے وقت بوجھل لگتی ہے۔ فطرت کے کینوس پر یہ تبدیلی جتنی خاموشی سے رونما ہوتی ہے، انسانی جسم کے اندر اتنا ہی بڑا تلاطم برپا کرتی ہے۔ ہم میں سے بیشتر لوگ اس رومانوی خنکی کے سحر میں کھو کر یہ بھول جاتے ہیں کہ موسم کا یہ تغیر دراصل ہمارے مدافعتی نظام کے لیے ایک کڑا امتحان لے کر آتا ہے۔

    طبی نقطہ نظر سے انسانی جسم ایک انتہائی منظم خودکار کارخانہ ہے، جو اندرونی درجۂ حرارت کو ایک خاص توازن پر رکھنے کا عادی ہوتا ہے۔ جب باہر کی ہوا میں نمی کم اور راتوں میں سردی بڑھنے لگتی ہے تو جسم کو بیرونی ماحول سے ہم آہنگ ہونے کے لیے اضافی توانائی درکار ہوتی ہے۔ اگر ہمارا دفاعی نظام یا قوتِ مدافعت مضبوط نہ ہو تو یہ توازن بگڑ جاتا ہے اور ہوا میں معلق نادیدہ جراثیم، وائرس اور الرجی کے عوامل فوری طور پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ ایام ہوتے ہیں جب گلے میں ہلکی سی چبھن، صبح اٹھتے ہی چھینکوں کا طوفان، سر میں بھاری پن اور جوڑوں میں ہلکا سا کھنچاؤ عام ہو جاتا ہے۔ ہم اسے محض نزلہ زکام کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ درحقیقت یہ ہمارے جسم کی طرف سے بجائی جانے والی وہ الارم کی گھنٹی ہوتی ہے جو خبردار کرتی ہے کہ بیرونی سرحدوں کی حفاظت کرنے والی فوج نڈھال ہو رہی ہے۔

    قوتِ مدافعت کی بحالی کے لیے سب سے پہلا قدم ہماری روزمرہ کی عادات میں فطری ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارا رہن سہن اب فطرت کے دائرے سے باہر نکل چکا ہے۔ ہم موسم بدل جانے کے بعد بھی فریج کے برفیلے پانی کو نہیں چھوڑتے، رات گئے تک تیز پنکھے یا اے سی کی سرد ہوا میں سوتے ہیں اور پھر علی الصبح بغیر کسی حفاظتی چادر کے باہر نکل آتے ہیں۔ پسینے میں شرابور جسم کو اچانک ٹھنڈی ہوا کا لگنا مساموں کو بند کر دیتا ہے اور حرارت اندر ہی دب کر بخار کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس موسم میں نیم گرم پانی کو اپنا معمول بنا لینا گویا جسم کی اندرونی صفائی کا سب سے آسان نسخہ ہے۔ پانی جسم سے فاسد مادوں کو خارج کرتا ہے اور سانس کی نالیوں کی جھلیوں کو تر رکھ کر وائرس کے حملے کو بے اثر بناتا ہے۔

    غذا کے انتخاب میں توازن اور مقامی پیداوار پر بھروسہ قوتِ مدافعت کو نئی زندگی بخشتا ہے۔ قدرت نے ہر موسم کے لیے جو پھل اور سبزیاں پیدا کی ہیں، ان میں اس موسم کے امراض کا قدرتی تریاق موجود ہے۔ مالٹا، مسمی اور امرود وٹامن سی کے وہ قدرتی خزانے ہیں جو خون کے سفید خلیات کو توانائی بخشتے ہیں۔ کچن کے مسالوں میں چھپی شفا کو اکثر ہم جدید ادویات کی چکا چوند میں فراموش کر دیتے ہیں۔ ادرک، دار چینی، ہلدی، لہسن اور لونگ محض کھانے کا ذائقہ بڑھانے کے اجزاء نہیں بلکہ یہ سوزش کو مٹانے اور مدافعتی قوت کو بڑھانے والے نایاب اینٹی آکسیڈنٹس ہیں۔ رات کو نیم گرم دودھ میں چٹکی بھر ہلدی ملا کر پینا یا دن کے وقت ادرک اور شہد کا ہلکا سا قہوہ استعمال کرنا پھیپھڑوں اور گلے کے لیے ایک قدرتی ڈھال ثابت ہوتا ہے۔ دیسی مرغ کی یخنی یا مٹن کا سوپ جسم کو وہ فوری پروٹین اور حرارت فراہم کرتا ہے جس کی کمی موسمِ سرما کی ابتدا میں سب سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ دوسری طرف، پروسیسڈ غذائیں، زیادہ چینی اور چکنائی والی تلی ہوئی اشیاء دفاعی نظام کی جنگی صلاحیت کو سست کر دیتی ہیں، اس لیے ان سے کنارہ کشی ہی عافیت ہے۔

    غذا کے بعد نیند اور ذہنی سکون کا عمل دخل اس بحالی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ جدید تحقیق یہ ثابت کر چکی ہے کہ گہری اور پرسکون نیند کے دوران جسم ایسے پروٹین تیار کرتا ہے جو انفیکشن سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ جب ہم راتوں کو جاگ کر اسکرینوں کی نیلی روشنی میں اپنی نیند کی قربانی دیتے ہیں تو مدافعتی نظام خود بخود زنگ آلود ہونے لگتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روزمرہ کے کاموں کے دوران کھلی اور صاف ہوا میں تیس منٹ کی ہلکی چہل قدمی دورانِ خون کو تیز کرتی ہے اور پھیپھڑوں میں تازہ آکسیجن بھر کر سستی کا خاتمہ کرتی ہے۔ صبح کی نرم اور ہلکی دھوپ میں چند منٹ بیٹھنا وٹامن ڈی کے حصول کا وہ قدرتی ذریعہ ہے جو ہڈیوں کے ساتھ ساتھ مدافعتی توازن کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

    اکتوبر کے بعد کی خنکی اور خشک ہوا اپنے ساتھ فضا میں دھول، مٹی اور سموگ کے خطرناک ذرات بھی لے کر آتی ہے۔ اگر اس مرحلے پر اپنی قوتِ مدافعت کو خوراک، نیند اور طرزِ زندگی کے ذریعے مضبوط نہ کیا جائے تو یہ چھوٹی چھوٹی موسمی تکالیف سنگین امراض کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ قدرت نے ہر انسان کے اندر خود شفا یابی کی ایک حیرت انگیز صلاحیت رکھی ہے، ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم مصنوعی سہولتوں اور بے اعتدالی کو ترک کر کے اس قدرتی نظام کو کام کرنے کا موقع دیں۔ بدلتے موسم کے تیور پہچاننا اور اس کے تقاضوں کے مطابق اپنے معمولات کو ڈھال لینا ہی وہ دانش مندی ہے جو ہمیں دواؤں کی محتاجی سے بچا کر ایک توانا اور پُرسکون زندگی کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔