Baaghi TV

Category: متفرق

  • پرندوں کا ٹکراؤ،تحریر:بتول فاطمہ

    پرندوں کا ٹکراؤ،تحریر:بتول فاطمہ

    ہجرت کرنے والے پرندے ایک ہی راستے سے، ایک ہی سمت میں، برسوں سفر کرتے ہیں۔ جس راہ سے وہ پہلی بار گزرتے ہیں، وہاں اکثر نہ کوئی بلند و بالا عمارت ہوتی ہے، نہ کوئی انسانی بستی۔ بس کھلا آسمان، اور آسمان جتنا ہی وسیع راستہ۔ مگر وقت گزرتا ہے، اور جب یہی پرندے دوبارہ اُسی راہ سے گزرتے ہیں، تو وہاں اکثر کوئی نئی عمارت کھڑی ہو چکی ہوتی ہے۔

    عجیب بات یہ ہے کہ اگر وہ عمارت اینٹ، پتھر، یا کنکریٹ کی ہو، تو پرندے اسے فوراً بھانپ لیتے ہیں۔ اُن کی فطرت انہیں خبردار کر دیتی ہے کہ یہاں اب راستہ بدل چکا ہے، یہاں اب کوئی رکاوٹ آ کھڑی ہوئی ہے۔ وہ اپنا رخ موڑ لیتے ہیں، اوپر اٹھ جاتے ہیں، یا کنارہ کر جاتے ہیں۔ مگر شیشے کی عمارت کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔
    شیشہ پرندوں کو دھوکا دے جاتا ہے۔ وہ اُس میں آسمان کا عکس دیکھتے ہیں، بادلوں کا عکس، درختوں کا عکس گویا شیشہ کوئی رکاوٹ نہیں بلکہ راستے کا ہی تسلسل ہو۔ وہ پوری رفتار سے اُڑتے ہوئے اُس میں جا ٹکراتے ہیں، اور اکثر اُسی ٹکراؤ میں دم توڑ دیتے ہیں۔ یہی شیشے کا المیہ ہے وہ نظر آتا تو کچھ نہیں، مگر روکتا سب کچھ ہے۔
    سوچتی ہوں تو لگتا ہے، انسان بھی اکثر اپنی زندگی میں اِنہی شیشوں سے ٹکراتا رہتا ہے۔ پتھر کی رکاوٹیں تو نظر آ جاتی ہیں، اُن سے بچا جا سکتا ہے۔ مگر وہ رشتے، وہ وعدے، وہ چہرے جو شفاف نظر آتے ہیں، جن میں ہمیں اپنا ہی عکس دکھائی دیتا ہے، جن کے پار ہمیں کھلا آسمان محسوس ہوتا ہے وہی سب سے زیادہ زخم دیتے ہیں۔ ہم پوری رفتار سے، پورے اعتماد سے، اُن میں جا ٹکراتے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ شفافیت بھی ایک دیوار ہو سکتی ہے۔

    ہر وہ چیز جو آرپار دکھائی دے، ضروری نہیں کہ راستہ ہی ہو۔ کبھی کبھی سب سے شفاف نظر آنے والی شے ہی سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوتی ہے، اور اُس کا ٹکراؤ، پتھر کے ٹکراؤ سے کہیں زیادہ گہرا زخم چھوڑ جاتا ہے۔

  • الفاظ کا جال اور غلامی،تحریر: اقصیٰ جبار

    الفاظ کا جال اور غلامی،تحریر: اقصیٰ جبار

    اطالوی فلسفی انتونیو گرامشی نے برسوں پہلے جیل کی اندھیری کوٹھڑی میں بیٹھ کر ایک بڑی پتے کی بات کہی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ دنیا کے طاقتور لوگ جب عام انسانوں کو اپنا ذہنی غلام بنانا چاہتے ہیں، تو وہ کسی بندوق، لاٹھی یا قانون کا استعمال نہیں کرتے۔ وہ بہت چلاکی سے ہماری روزمرہ کی زبان اور لائف اسٹائل کو بدل دیتے ہیں۔ وہ ایسے نئے الفاظ اور طریقے رائج کرتے ہیں جو ہمیں دیکھنے میں بہت معصوم، سیدھے اور ‘عقلِ عام’ (Common Sense) لگتے ہیں۔ نظام کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہوتی ہے کہ وہ بظاہر غاصب نہ لگے، بلکہ ہماری عادت بن جائے۔

    آج اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو گرامشی کا یہ فلسفہ ہمارے سوشل میڈیا اور موبائل فون کی شکل میں بالکل سچ ثابت ہو رہا ہے۔ ہم نے کبھی ٹھنڈے دماغ سے سوچا ہی نہیں کہ "اسکرولنگ”، "ٹرینڈ”، "لائکس”، "ویوز” اور "فالوورز” جیسے بظاہر سادہ اور آسان الفاظ نے کس طرح ہماری سوچنے کی آزادی کو ہم سے چھین لیا ہے۔

    زیادہ پرانی بات نہیں ہے، ہمارے معاشرے میں ایک روایت ہوتی تھی کہ ہر دوسرا شخص اپنے پاس ایک چھوٹی سی ڈائری, نوٹ بک یا بیاض رکھتا تھا۔ دن بھر کی بھاگ دوڑ کے بعد جب انسان تھک ہار کر بیٹھتا، تو وہ اپنے سچے جذبات، اپنی خوشی، اپنا دکھ یا کوئی پسندیدہ شعر اس ڈائری کے سپرد کر دیتا تھا۔ وہ ڈائری کسی کو دکھانے کے لیے نہیں ہوتی تھی، بلکہ وہ انسان کی اپنے آپ سے گفتگو ہوتی تھی۔ وہاں کوئی سنسرشپ تھی اور نہ ہی کسی مصلحت کا خوف۔ وہ انسان کی اپنی پناہ گاہ تھی، جہاں وہ کھل کر سانس لیتا تھا۔

    لیکن آج کے ڈیجیٹل دور نے ہم سے وہ پناہ گاہ چھین لی ہے۔ اب ہم نے اپنے جذبات کو ڈائری میں چھپانے کے بجائے فیس بک اور انسٹاگرام پر "اسٹیٹس” اور "اسٹوریز” کی شکل میں سرِعام بازار میں لا کھڑا کیا ہے۔ اب ہماری سچی خوشی یا گہرا دکھ تب تک معتبر نہیں مانا جاتا، جب تک اس پر انٹرنیٹ کی دنیا کے سو پچاس لوگ ‘لائیک’ کا ٹھپا نہ لگا دیں۔ ہم نے اپنی تنہائی، اپنا سکون اور اپنی انفرادیت کو خود اپنے ہاتھوں سے ڈیجیٹل مارکیٹ کے حوالے کر دیا ہے۔

    سب سے بڑا المیہ یہ نہیں ہے کہ ہمارا معاشرہ بدل گیا ہے؛ بلکہ المیہ یہ ہے کہ اس ذہنی اسارت اور دکھاوے کی زندگی کو ہم نے بہت فخر سے اپنی ‘آزاد مرضی’ اور ‘جدید طرزِ زندگی’ سمجھ کر گلے سے لگا لیا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ موبائل فون اور یہ سوشل میڈیا ایپس ہمارے خادم ہیں، حالانکہ سچ یہ ہے کہ ان کے پیچھے بیٹھے کارپوریٹ نظام نے ایک ایسی زبان تخلیق کر دی ہے جو ہمیں اپنی انگلیوں پر نچا رہی ہے۔ ہم وہی سوچ رہے ہیں، وہی خرید رہے ہیں اور ویسا ہی بن رہے ہیں جیسا یہ نظام ہمیں بنانا چاہتا ہے۔

    اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے، اپنی باطنی روایات کو زندہ نہ کیا اور اس بھیڑ چال سے خود کو الگ نہ کیا، تو یاد رکھیے کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں تبدیل ہو جائیں گے جس کے پاس چمکتے ہوئے موبائل تو ہوں گے، لیکن ان کے اندر دھڑکنے والا دل اور آزادانہ سوچنے والا دماغ بالکل ختم ہو چکا ہوگا۔ اپنی زبان، اپنی سوچ اور اپنی روایات کی حفاظت کیجیے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے

  • ملتان میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی والٹ سموں کا بحران، مستحق خواتین دربدر،تحریر: آمنہ خواجہ

    ملتان میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی والٹ سموں کا بحران، مستحق خواتین دربدر،تحریر: آمنہ خواجہ

    ریاست کا اصل حسن اس وقت نمایاں ہوتا ہے جب وہ اپنے کمزور، بے سہارا اور مستحق شہریوں کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ لیکن جب فلاحی منصوبے بھی انتظامی غفلت کی نذر ہونے لگیں تو امید کی کرن بھی ماند پڑ جاتی ہے۔ ملتان میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے منسلک والٹ سموں کی مبینہ قلت نے ہزاروں مستحق خواتین کو اسی کربناک صورتِ حال سے دوچار کر رکھا ہے۔

    شہر اور گردونواح سے آنے والی خواتین کئی کئی روز سے متعلقہ دفاتر اور مراکز کے چکر کاٹ رہی ہیں، مگر ہر بار انہیں یہی جواب سننے کو ملتا ہے کہ والٹ سموں کا اسٹاک ختم ہو چکا ہے، نئی سمیں موصول ہونے پر ہی ان کا مسئلہ حل ہو سکے گا۔ یہ ایک ایسا جملہ بن چکا ہے جو ان خواتین کی امیدوں پر ہر روز پانی پھیر دیتا ہے۔شدید گرمی کی تپتی دھوپ، میلوں کا سفر، لمبی قطاریں، بار بار آنے جانے کے اخراجات اور گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ پہلے ہی ان خواتین کی زندگی کو دشوار بنائے ہوئے ہے۔ کئی خواتین روزانہ کی مصروفیات ترک کرکے مراکز کا رخ کرتی ہیں، جبکہ بعض اپنے چھوٹے بچوں کو ساتھ لیے گھنٹوں انتظار کرتی رہتی ہیں۔ لیکن شام ڈھلنے تک ان کے ہاتھ میں صرف مایوسی آتی ہے اور دل میں ایک نیا سوال جنم لیتا ہے کہ آخر ان کا قصور کیا ہے؟

    یہ صورتحال کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اگر حکومت مستحق خاندانوں کی مالی معاونت کے لیے اربوں روپے مختص کرتی ہے تو بنیادی انتظامی تیاریوں میں ایسی خامیاں کیوں موجود ہیں؟ اگر والٹ سمیں ہی دستیاب نہیں تو امدادی رقوم کی بروقت فراہمی کیسے ممکن ہوگی؟ فلاحی منصوبوں کی کامیابی صرف اعلانات، تقریبات یا اعداد و شمار سے نہیں بلکہ اس امر سے مشروط ہوتی ہے کہ مستحق افراد تک سہولت، عزت اور بروقت رسائی یقینی بنائی جائے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک معمولی انتظامی رکاوٹ ہزاروں غریب خاندانوں کے لیے معاشی بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ جن خواتین کے لیے یہ امدادی رقم زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کا واحد سہارا ہے، وہی آج دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔ یہ صرف وقت اور وسائل کا ضیاع بلکہ ان کی عزتِ نفس پر بھی ایک غیر ضروری بوجھ ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے اس مسئلے کا فوری اور سنجیدگی سے نوٹس لیں۔ والٹ سموں کی فراہمی بلا تاخیر یقینی بنائی جائے، مؤثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے اور ایسے انتظامات کیے جائیں کہ مستحق خواتین کو بار بار دفاتر کے دروازے کھٹکھٹانے کی ضرورت نہ پڑے۔ریاست کی ذمہ داری صرف امدادی رقوم مختص کرنا نہیں بلکہ انہیں مستحقین تک باوقار، شفاف اور بروقت پہنچانا بھی ہے۔ اگر واقعی ملتان میں والٹ سموں کا اسٹاک ختم ہو چکا ہے تو یہ ایک انتظامی کمی بلکہ ہزاروں خاندانوں کی معاشی مشکلات میں اضافے کا باعث بننے والا ایک سنگین مسئلہ ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ متعلقہ حکام محض یقین دہانیوں سے آگے بڑھیں اور عملی اقدامات کے ذریعے اس بحران کا مستقل حل نکالیں، تاکہ مستحق خواتین کو ان کا حق عزت، وقار اور بروقت مل سکے، اور عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو۔

  • مخالف مزاج مشغلوں کی تھکن سے باہر نکلیں!تحریر:  ظفر اقبال ظفر

    مخالف مزاج مشغلوں کی تھکن سے باہر نکلیں!تحریر: ظفر اقبال ظفر

    تھکن کی ایک بڑی وجہ بوریت ہوتی ہے۔مصدقہ حقیقت ہے کہ جذباتی مشقت کی بجائے تھکن پیدا کرنے میں عام طور پر جذباتی رویے کا زیادہ ہاتھ ہوتا ہے۔جب آپ اپنے من پسند کام میں مشغول نہ ہوں تو بوریت تھکن پیدا کرتی ہے۔جب ہم کوئی دلچسپ اور سنسنی خیز کام کررہے ہوتے ہیں تو تھکاوٹ محسوس نہیں کرتے۔جیسے میں قدرتی خوبصورتی سے لبریز علاقے میں سرسبز پہاڑوں کے اوپر پڑی برف سے کھیلتا درختوں سے پھل توڑتا ٹوکریاں اور پیٹ بھرتا چشموں کا پانی جسم کے اوپر اور اندر اُتارتا گاس کے بیچ میں پھولوں سے باتیں کرتا ان کی خوشبو کے جواب سنتا ہواؤں کی لہروں میں گھلی موسیقی سے لطف اندوز ہوتا لیکن میں آٹھ دس گھنٹوں کی اس مسلسل جدوجہد سے تھکتا کیوں نہیں؟اس لیے کہ میرے جذبات میں ہلچل مچی ہوتی ہے اور میری رُوح شگفتگی کے احساس سے مخمور ہوتی ہے مجھے زندگی جینے کی ایک اعلیٰ کامیابی کا احساس ہوتا ہے۔
    آپ جس فن میں ماہر ہوں اگر ا س میں مداخلت و خلل پیدا کر دیئے جائیں تو بنا کام نپٹائے آپ تھکاوٹ سے چور ہو کر بستر آرام پہ پہنچ جاتے ہیں اور اگلے روزسازگار ماحول میں آپ گذشتہ دن کی نسبت زیادہ کام کرکے بھی کھلی کلی کی طرح تازہ اور شگفتہ تھے۔اس دو طرح کے عمل سے گزرنے کے بعد ہم اس نتیجے پہ پہنچتے ہیں کہ اکثر اوقات کام کی زیادتی نہیں بلکہ پریشانی تلخی اور انتشار ہمیں تھکا دیتے ہیں۔خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو وہی کام کرتے ہیں جو ان کی طبیعت کے موافق ہوتا ہے کیونکہ انہیں زیادہ قوت و خوشی میسر ہوتی ہے اور کم پریشانی اور کم تھکاوٹ۔جہاں آپ کی دلچسپی ہو وہیں آپ کی قوت بھی بیدار رہتی ہے۔ایک جھگڑالو بیوی کے ساتھ دس قدم چلنا دل نواز محبوبہ کے ساتھ دس میل چلنے کی نسبت زیادہ تھکا دیتا ہے۔

    تبدیل شدہ زہنی رویے کی قوت کا یہ معاملہ میرے لیے ایک بے حد اہم دریافت ہے اس نے معجزے دیکھائے ہیں وہ کام جس میں آپ کو دلچسپی ہے اس کا م کو بھی دلچسپ بنا دے گا یہ آپ کی تھکاوٹ،آپ کی جذباتی کشمکشوں اور آپ کی پریشانیوں کو بھی دُور کر دے گا۔میں نے ایک فیصلہ کیا جس نے میری زندگی کی کایا پلٹ دی جب میں نے ایک غیر دلچسپ کام کو دلچسپ بنانے کا تہیہ کیااور اس عمل میں اپنی ذات، اپنی سوچ، اپنے حالات پر پڑنے والے اثرات کو نوٹ کرتا چلا گیا اور جب یہ عمل مکمل کر چکا تو اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے اسباق کو مشاہدوں کے صفات پر حقائق کے قلم سے قلمبند کرکے آپ کے سامنے اس تحریر کی صورت میں پیش کرنے آ گیا۔ اب یہ آپ کا فیصلہ ہے کہ آپ اس ناخوشگوار حالات سے گزر کر اس کو خود پر آزما لیں یا میری کارگزاری پہ یقین کرتے ہوئے اپنی زندگی کو تلخیوں سے بچانے کے لیے مواقف و دلچسپ راستوں کا انتخاب کر لیں۔اسی تناظر میں ایک مشورہ مطالعے کے دسترخوان پر رکھے دیتا ہوں ہو سکتا ہے آپ کا زہن چکھے تو دل کے معدے میں اتار لے اورآپ صحت مند جینے سے لطف اندوز ہو جائیں۔
    جو لوگ بھی دنیا میں ترقی و کامیابی حاصل کرنے کے آرزومند ہیں وہ ہر روز اپنے بل بوتے پر کا م کرنے کی کوشش کریں۔اپنے آپ کو نیم خوابی سے بیدار کریں اس سے باہر نکلنے کے لیے جسمنانی ورزش سے شروع کرتے ہوئے زہنی ورزش تک آنا پھر یہاں سے رُو حانی ورزش تک پہنچنا ہے تاکہ درست سوچنے سمجھنے کے لیے صحت مند دماغی و رُوحانی جسمانی قوت کے استعمال سے کامیابی تک پہنچاجائے۔جب کسی انسان پر ناکامی قبضہ کرتی ہے تو سب سے پہلے اس کی عقل ماری جاتی ہے اس کے سوچنے سمجھنے میں ہر طرف اندھیرے پھیلے ہوتے ہیں اور یو ں وہ مایوسی و ناکامی میں جکڑ کر رہ جاتا ہے جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسی عقل سے سارے روشن راستے بھی نکلتے ہیں۔جیسے قدرت کسی کو نوازنا چاہتی ہے تو اس کی عقل کے در کھول دیتی ہے اس کے سوچنے سمجھنے اور کرنے کے عمل میں سارے فوائد چھپے ہوتے ہیں جسے وہ پا لیتا ہے اور جیسے قدرت ڈبونا چاہتی ہے اس کی عقل مار دیتی ہے وہ مفید سوچوں اور عملوں سے دُور ہو جاتا ہے۔اس نقص کو رُوحانی ورزش سے دُور کیا جاتا ہے۔ہر روز اپنے آپ سے مستعدی اور استقلال کی مفید گفتگو کیا کریں انسان اپنے آپ کا مخلص دوست بھی ہونا چاہیے۔کیا ہر روز اپنے آپ سے استقلال کی گفتگو کرنا کوئی سطحی،احمقانہ اور بچگانہ حرکت ہے؟اس کے برعکس یہ تو نفسیات کا درست نچوڑ ہے۔ہمارے خیالات ہی ہماری زندگی کی ترتیب و منازل کا تعین کرتے ہیں۔روزانہ مخصوص اوقات کار میں اپنے آپ سے گفتگو کرکے جرات،مسرت،قوت،امن و خوشحالی کے خیالات سوچنے سے تنہائی کا خالی پن ہی دُور نہیں ہوتا بلکہ مصروفیات کی عملی تیاری بھی ملتی ہے اپنے آپ کا حوصلہ بن کر رہیں ناکامی و مایوسی کے خیالوں کا راستہ روکنے کے لیے بلند فضاؤں میں پرواز کرتے اور چہچہاتے خیالوں کی موجودگی یقینی بنائے رکھیں۔

    مفید قسم کے خیالات سوچنے سے آپ اپنے کام کی ناگواری اور بے لطفی کو کم کر سکتے ہیں۔اپنے آپ کو یاد دلائیے کہ آپ زندگی سے جو لطف و خوشی حاصل کرتے ہیں آپ میں دلچسپی اس کی مقدار کو دوگنا کر سکتی ہے کیونکہ آپ اپنی بیداری کے نصف اوقات کار اپنے کام میں صرف کرتے ہیں۔یاد رکھیے اگر آپ کو یہاں سے خوشی نہیں مل رہی تو پھر کہیں نہیں مل سکتی۔اپنے آپ کو یاد دلائیے کہ اپنے دلچسپ کام میں مصروف رہنے سے آپ کے دماغ سے پریشانیاں ہوا ہو جائیں گئیں بالآخر آپ کی ترقی آپ کی دولت میں اضافے کا موجب بنے گی اگر ایسا نہ بھی ہو تو آپ کی تھکاوٹ گھٹ کر کم رہ جائے گئی اور لمحات لطف اندوز بنیں گئے۔جذباتی رویوں کی تھکن سے بچنے کے لیے موافق مشغلوں میں مصروف عمل رہیں

  • مالدیپ و پاکستان کی سرزمین کا روشن چراغ الشیخ اسماعیل محمد المالدیپی،تحریر: ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    مالدیپ و پاکستان کی سرزمین کا روشن چراغ الشیخ اسماعیل محمد المالدیپی،تحریر: ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    علم و حکمت کے افق پر بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی زندگی کا ہر ورق تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن جاتا ہے۔ مالدیپ کی دینی، تعلیمی اور عدالتی تاریخ میں الشیخ اسماعیل محمد مالدیپی ( المعروف بہ تھویبہ ) ایک ایسے ہی عہد ساز اور جلیل القدر عالمِ دین تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی دعوت، تدریس اور ادارہ سازی کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ حال ہی میں 21 جون 2026 محرم الحرام 1448 ہجری کو تقریبا نو دہائیوں پر محیط یہ بابِ علم ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا، جس سے نہ صرف مالدیپ بلکہ پاکستان کے علمی حلقے بھی ایک مخلص اور دور اندیش مصلح سے محروم ہو گئے۔
    1930 کی دہائی کے وسط تقریبا 1935 میں مالدیپ کے دور افتادہ جزیرے ‘دھاالو اتول میڈھو’ میں آنکھ کھولنے والے اسماعیل محمد نے ایک ایسے دور میں ہوش سنبھالا جب وہاں تعلیم کے مواقع نہ ہونے کے برابر تھے اور نہ ہی مقامی لوگوں میں حصول تعلیم کا کوئی خاص شوق تھا ۔ اسماعیل محمد اس اعتبار سے ایک منفرد بچے تھے کہ ماحول اور حالات سازگار نہ ہونے کے باوجود وہ حصول علم کے شوق وجذبہ سے بہرہ مند تھے ۔ذہین بھی تھے اور حصول علم کا جذبہ بھی تھا ۔ ابتدائی تعلیم انھوں نے مقامی اساتذہ سے حاصل کی ۔تاہم ان کی منزل اس سے بھی کہیں آگے تھی ۔ 1970 میں وہ مدینہ منورہ پہنچے اور مدینہ کی اس یونیورسٹی سے شرعی علوم کی ڈگری حاصل کی جسے مستقبل میں عالم اسلام کی سب سے بڑی یونیورسٹی بننے کا اعزاز حاصل ہونے والا تھا ۔یوں اسماعیل محمدمالدیپی مدینہ یونیورسٹی سے علم حاصل کرنے والے پہلے مالدیپی طالب علم بنے۔
    وطن واپسی پر انہوں نے اپنی علمی بصیرت اور علمی وجاہت کا لوہا منوایا اور ایک طویل عرصے تک بحیثیت سینئر جج خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اپنے ملک کی عدالتوں میں اسلامی قوانین، خصوصا عائلی و خاندانی معاملات اور وراثت کے پیچیدہ مسائل پر سینکڑوں ایسے فیصلے دیے جو آج بھی اور آنے والے وقت میں بھی عدالتی نظام کے لیے مشعلِ راہ ہیں ۔
    جب انسان حق، سچ اور عدل وانصاف کے راستے پر چلتا ہے تو اسے آزمائشوں سے بھی گزرنا پڑتا ہے ۔ الشیخ اسماعیل بھی کئی قسم کی آزمائشوں سے گزرے ۔ مامون عبدالقیوم 1978 سے 2008 تک مالدیپ کے صدر رہے ۔ ان کے دور میں اگرچہ مالدیپ نے بہت ترقی کی لیکن ان کا طرز حکومت آمرانہ تھا ۔ وہ اختلاف رائے برداشت نہیں کرتے تھے ۔ پالیسیوں سے اختلاف کرنے والوں کیلئے مالدیپ کی زمین تنگ ہوجاتی ۔ الشیخ اسماعیل محمد بھی نظر بند کردیے گئے ۔ رہائی کے بعد انھوں نے ہجرت کا فیصلہ کیا ۔ اگرچہ دنیا کے بہت سے ممالک میں ان کے دوست ، ساتھی اور شاگرد موجود تھے وہ کسی بھی ملک میں جاسکتے تھے لیکن انھوں نے پاکستان کو ترجیح دی ۔ اور پاکستان تشریف لے آئے۔کیونکہ وہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے تھے۔ یہاں انہوں نے جامعہ سلفیہ فیصل آباد کو اپنا مسکن بنایا اور بحیثیت مفتی و استاد طویل عرصے تک درس وتدریس کے فرائض انجام دیتے رہے ۔ تدریس کے ساتھ ساتھ قریبی شہری علاقوں میں دعوتی دروس کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔
    جامعہ سلفیہ میں دوران تدریس ان کا سب سے بڑا کارنامہ مالدیپ کے سینکڑوں طلبہ کو یہاں کے مقتدر تعلیمی اداروں اور مدارس میں اعلی تعلیم کے مواقع فراہم کرنا تھا۔ انہوں نے ان طلبہ کی نہ صرف رہنمائی
    کی بلکہ ان کی کفالت بھی کی ۔ آج یہی طلبہ مالدیپ کی وزارتوں، عدالتوں اور جامعات میں کلیدی عہدوں پر فائز ہو کر ملک کا نظام چلا رہے ہیں۔
    شیخ اسماعیل محمد نے تدریس وتبلیغ کے ساتھ علم کو عوامی فہم کے مطابق ڈھالنے کے لیے بھی گراں قدر کام کیا۔ ان کے علمی کارنامے بیان کرنے کیلئے ہزاروں صفحات درکار ہیں تاہم مختصرا یہ ہے کہ انھوں نے مالدیپ کی مقامی زبان ‘دیویہی’ (Dhivehi) میں قرآن مجید کا سلیس ترجمہ کیا۔ عربی زبان میں 40 سے زائد کتب اور علمی رسائل تحریر کیے۔ عام لوگوں کی رہنمائی کیلئے روزمرہ کے احکام ، نماز، روزہ، زکو ، حج اور خاندانی قوانین پر دیویہی زبان میں آسان رسائل کی ترتیب وتصنیف اور اشاعت کا کام کیا ۔
    الشیخ اسماعیل محمد کی خدمات تدریس وتصنیف تک ہی محدود نہیں انھوں نے عوامی فلاح اور جدید و دینی تعلیم کے حسین امتزاج کے لیے دارالحکومت مالے میں تھویبہ اسکول کی بھی بنیاد رکھی۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں بھی وہ متحرک رہے اور مارچ 2025 میں ہلہومالے میں اپنے ذاتی فنڈز سے ایک عظیم الشان اسلامی مرکز اور مسجد ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی تعمیر شروع کروائی جس کا سنگِ بنیاد موجودہ صدر ڈاکٹر محمد معزو نے رکھا تھا ۔ اس مسجد کے ساتھ ایک جدید ریسرچ سینٹر اور لائبریری بھی قائم کی جا رہی ہے۔
    الشیخ اسماعیل محمد کی نصف صدی پر محیط بے لوث خدمات کی وجہ سے جہاں مالدیپ کے مذہبی ، سماجی اور علمی حلقوں میں ان کیلئے بے پناہ محبت پائی جاتی ہے وہاں حکومتی سطح پر بھی انکی خدمات کا اعتراف کیا جاتا
    ہے ۔انہی خدمات کے اعتراف میں مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معزو نے انہیں 20 اپریل 2025 اسلامک یونیورسٹی آف مالدیپ (IUM) کی تاریخ کی پہلی "اعزازی ڈاکٹریٹ” کی ڈگری دی ۔ جبکہ اگست 2025 میں انھیں ملک کا اعلی ترین سول اعزاز "نیشنل ایوارڈ آف آنر” دیا گیا ۔
    حقیقت یہ ہے کہ الشیخ اسماعیل محمد کبھی مالدیپ کے صدر رہے اور نہ کوئی حکومتی عہدہ ان کے پاس رہا اس کے باوجود وہ مالدیپ کی معروف اور مقبول ترین شخصیت تھے یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی ان کی وفات کی خبر عام ہوئی پورا مالدیپ سوگوار ہوگیا ۔ان کی وفات کی خبر جنگل کی آگ کی طرح مالدیپ سمیت دنیا بھر میں پھیل گئی ۔ ا لشیخ اسماعیل محمد کی وفات صرف ایک فرد کی جدائی نہیں، بلکہ مالدیپ کی دینی، علمی اور تعلیمی تاریخ کے ایک روشن باب کے اختتام کا نام ہے۔ آج مالدیپ کی فضائیں گویا اشکبار ہیں۔ ہر آنکھ نم ہے، ہر دل غم سے بوجھل ہے اور ہر زبان پر یہی دعا ہے کہ اللہ تعالی اپنے اس نیک بندے کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور ان کی جدائی قوموں کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہوتی ہے۔ مالدیپ کے سرکاری ذرائع کے مطابق الشیخ اسماعیل محمد کی نمازِ جنازہ ان کی تعمیر کردہ مسجد ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہلہومالے میں ادا کی گئی اور وہیں وہ خاکِ لحد کے سپرد ہوئے۔

    شیخ اسماعیل محمد دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن اپنے پیچھے شاگردوں اور فکری پیروکاروں کی ایک ایسی پوری نسل چھوڑ گئے جو مالدیپ کی مذہبی، عدالتی اور تعلیمی قیادت کر رہی ہے۔ راقم الحروف ڈاکٹر حافظ مسعود عبد الرشید اظہر کو بھی جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں الشیخ اسماعیل کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے ۔الشیخ اسماعیل محمد کیساتھ فیملی تعلقات تھے۔ والد محترم ڈاکٹر حافظ عبد الرشید اظہر رحمہ اللہ تعالی کیساتھ قلبی لگا بھی تھا اور عقیدت کا رشتہ بھی، راقم الحروف کا بچپن بھی جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں الشیخ اسماعیل محمد کی ہمسائیگی میں گزرا۔ بعد ازاں راقم الحروف کو جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں داخلہ کروانے والے الشیخ اسماعیل محمد ہی تھے وہ مجھے اسلام آباد سے اپنے ساتھ فیصل آباد لیکر آئے اور جامعہ سلفیہ میں راقم کا ایڈمیشن کروایا اور پورے تعلیمی دورانیہ میں سرپرستی اور رہنمائی بھی فرماتے رہے ۔اللہ تعالی شیخ محترم کی تمام عدالتی، تدریسی اور تصنیفی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، انکے صاحبزادے محمد آمین اور دیگر پسماندگان اور سوگوار تلامذہ کو صبرِ جمیل دے اور ان کے قائم کردہ اداروں کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین ثم آمین !

  • ڈی آئی جی  آپریشن لاہور پر تنقید کیوں ؟تحریر:ملک سلمان

    ڈی آئی جی آپریشن لاہور پر تنقید کیوں ؟تحریر:ملک سلمان

    بزدار حکومت اور بعد ازاں نگران دور حکومت میں پولیس نے رشوت بازاری اور اختیارات کا جس بے دردی سے استعمال کیا پنجاب پولیس گالی بن چکی تھی خاص طور پر لاہور میں کرائم بلند ترین سطح پر تھا۔

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے سابق وزراء اعلیٰ کے روائتی انداز ”وردی بدل دو“ کو اپنانے کی بجائے پولیس کی کارگردگی، عوام کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کے حوالے سے باقاعدگی سے بیسوں اجلاس کی صدارت کی اور ہر دفعہ پولیس میں اصلاحات، کارگردگی میں بہتری، عوامی تحفظ اور کرپٹ پولیس افسران و اہلکاروں کے احتساب پر زور دیا۔ کیپٹیل سٹی لاہور کو کرائم اینڈ کریمنل فری کرنے کیلئے انتہائی اچھی شہرت کے حامل فیصل کامران کا انتخاب کیا گیا۔ 22اپریل 2024 کو ڈی آئی جی اپریشن لاہور کا چارج سنبھالنے والے فیصل کامران نے دن رات انتھک محنت سے محض ایک سال میں 29اپریل 2025 کو لاہور کو دنیا کے محفوظ ترین شہروں میں لاکھڑا کیا۔ لاہور کو دنیا کے محفوظ ترین شہروں میں تمام ہمسایہ ممالک سمیت نیویارک، لندن، واشنگٹن، میکسیکو اور پیرس جیسے بڑے شہروں سے سبقت مل گئی۔

    27ماہ کی تعیناتی میں سینکڑوں اہم ایونٹس اور وی وی آئی پی شخصیات کی سکیورٹی سے لیکر عوام کی جان و ملک کے تحفظ تک تمام امور باخوبی سرانجام دینے والے ڈی آئی جی اپریشن لاہور فیصل کامران کی دن رات انتھک محنت کی بدولت 24/7 آپ کبھی بھی کہیں بھی بلاخوف و خطر سفر کرسکتے ہیں۔ لاہور کا امن و امان اور پولیس پر عوامی اعتماد بحال کرنے والے ڈی آئی جی اپریشن فیصل کامران نے ٹاؤٹ اور سفارشی کلچر کو ختم کرتے ہوئے ڈی آئی جی آفس تک عوامی رسائی کو اوپن کردیا۔ کسی بھی شہری کو ڈی آئی جی اپریشن سے ملنے کیلئے کسی سیاسی اور صحافتی سفارش کی ضرورت نہیں رہی۔

    سابقہ ادوار میں کرپٹ افسران نے اپنی کمزویوں سے صحافیوں کو اس قدر مضبوط کردیا تھا کہ صحافی کرپٹ سرکاری ملازمین کے سامنے ”باس“ بن کر رہنے لگے۔ ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کی ٹرانسفر پوسٹنگ بھی صحافی اور منشیات فروش کرنے لگے تھے۔ ماضی کی پریکٹس رہی ہے کہ کرائم رپورٹر اور نام نہاد سنئیر صحافی اپنا "کماؤ پتر” پیش کرتے تھے کہ اسے ایس ایچ او لگا دیں۔ جس افسر سے زیادہ بے تکلفی ہوتی تھی اسے کہتے تھے کہ ایک موقع اسے دیں ہم دونوں کو خوش کردے گا۔ فیصل کامران نے سیاسی اور صحافتی سفارش پر ٹرانسفر پوسٹنگ کے خاتمے کا مشن امپاسبل پاسیبل کر دکھایا۔پولیس کے نام پر قائم ہونے والی صحافتی دکانیں اور کمائی کے اڈے بند ہونے کے قریب ہوچکے ہیں جبکہ منشیات فروشوں سے لیکر بھتہ خوروں اور قبضہ مافیا کیلئے بھی لاہور میں کوئی جگہ نہیں رہی ایسے میں ہر وہ فرد جس کی کمائی غیرقانونی طریقے سے منسلک تھی ان کیلئے فیصل کامران کھٹکنے لگا ہے اس لیے تمام شرپسند عناصر کسی نہ کسی کو "فیس” بنا کر آئے دن ڈرامہ رچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

    گزشتہ روز بھی بجائے اس کے کہ آپ انتہائی اہم واقعہ کے حقائق جاننے کیلئے سوال کرتے "سنگل پوائنٹ” ایجنڈے کے تحت ڈی آئی جی اپریشن پر بلاجواز تنقید اور ذاتی اٹیک کرتے رہے۔ اس ساری صورتحال میں اہلیان لاہور نے سوشل میڈیا پر فیصل کامران کی عوام دوست اور کرائم فری پولیسنگ کو بھرپور سپورٹ کیا اور صحافت گردی کی شدید مذمت کی۔ڈی آئی جی آپریشن 2کروڑ شہریوں کی حفاظت کی بجائے تم سے گپ شپ لگائے اور کھانوں پر بلائے یہ کیسی فضول خواہشات اور شکوے ہیں؟

    فیصل کامران27ماہ کی طویل تعیناتی میں کسی سے نہ تو ایک کپ چائے کا رودار ہے اور نہ ہی اتنے لمبے عرصے میں 2کروڑ کی آبادی کے شہر میں کوئی ایک شہری بھی ان پر ایک روپے کی کرپشن یا خلاف میرٹ فیصلہ claim کرسکا۔ فیصل کامران کی 793دن کی تعیناتی میں آپ کے پاس اگر تنقید کرنے کیلئے صرف یہی باقی ہے کہ وہ آپ کی بجائے عوام کی ڈائریکٹ کیوں سنتا ہے تو پھر تم عوامی عدالت میں اپنا کیس ہار چکے ہو۔ سیاسی اور صحافتی سفارش کے بغیر 24/7عوام کی ڈسپوزل پر رہنے والا فیصل کامران اہلیان لاہور کا ہیرو اور مسیحا بن چکا ہے۔ لاہور کو کرپشن فری کرنے کیلئے تمام سفارشوں کو رد کرکے میرٹ پر ایس ایچ اوز کی تعیناتی سے لیکر جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلا تفریق کاروائیوں کی بدولت لاہور کے کرائم ریٹ میں واضح کمی ہوئی ہے۔

    گذشتہ روز ڈی آئی جی اپریشن کی اہم ترین پریس کانفرنس کو سبوتاز کرکے ان پر ذاتی حملے، بے بنیاد تنقید، الزامات اور بدتمیزی کی ویڈیوز بنانا اور انکو وائرل کرنا بلا شک و شبہ سائبر کرائم ہے اس پر اگر پولیس سائبر کرائم کی کاروائی کرتی ہے تو صحافت خطرے میں آجائے گی؟لاہور اور پنجاب کو کرائم فری اور محفوظ بنانے کیلئے نیک نام افسران کو فری ہینڈ، حکومتی سپورٹ اور اعتماد دینا ناگزیر ہے۔ پولیس کو سرکاری، سیاسی اور صحافتی پریشر جبکہ اشرافیہ اور مافیا کے روائتی جارہانہ دباؤ سے آزاد کرکے ہی عوام کو فوری انصاف فراہم کیا سکتا ہے۔

    ملک محمد سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی مدبرانہ بصیرت اور عالمی امن کا معجزہ،تحریر  : جان محمد رمضان

    فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی مدبرانہ بصیرت اور عالمی امن کا معجزہ،تحریر : جان محمد رمضان

    تاریخ کے صفحات جب بھی انسانیت کو بڑی تباہی سے بچانے والے مدبرین کا تذکرہ کریں گے، تو اس میں پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز اور سپہ سالار، فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ حالیہ مہینوں میں دنیا جس تیزی سے ایک ہولناک جوہری تصادم اور تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی تھی، اسے روکنے میں پاکستان کی عسکری قیادت نے جو خاموش لیکن انتہائی اثر انگیز سفارتی اور سٹریٹجک کردار ادا کیا، وہ بلاشبہ صدی کا سب سے بڑا امن معجزہ ہے۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی سنگین کشیدگی، مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور بحری ناکہ بندیوں نے عالمی معیشت اور امنِ عالم کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔ ایسے نازک موڑ پر، جب عالمی طاقتیں مکالمے کے تمام دروازے بند کر چکی تھیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنی غیر معمولی بصیرت، فہم و فراست اور "شراکتِ امن” (Peace Diplomacy) کے فلسفے کے تحت دنیا کو ایک ناگزیر تباہی سے بچا لیا۔

    پچھلے کچھ عرصے سے دنیا بلاکس کی سیاست میں تقسیم ہو کر بارود کے ڈھیر پر بیٹھی تھی۔ ایک طرف مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے محاذ پر امریکہ اور ایران کا براہِ راست تصادم سر پر تھا، تو دوسری طرف عالمی توانائی کی سپلائی لائنز اور تجارتی راستے مسدود ہو رہے تھے۔ عسکری ماہرین کا متفقہ خیال تھا کہ اگر ان دونوں طاقتوں کے درمیان براہِ راست جنگ چھڑ گئی، تو یہ محض علاقائی جنگ نہیں رہے گی، بلکہ اس میں جوہری طاقتیں شامل ہو جائیں گی، جو تیسری عالمی جنگ کا باقاعدہ آغاز ہو گا۔

    اس بھیانک منظرنامے میں دنیا کو ایک ایسے معتبر اور غیر جانبدار ثالث کی ضرورت تھی جس کی بات تہران میں بھی سنی جائے اور واشنگٹن میں بھی وزن رکھتی ہو۔ یہ تاریخی اور کٹھن ذمہ داری پاکستان کے نڈر سپہ سالار نے اپنے کندھوں پر اٹھائی۔

    تہران سے واشنگٹن: فیلڈ مارشل کی بیک چینل ڈپلومیسی فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی قیادت اور مخلصانہ سوچ انہیں دنیا بھر کے ملٹری لیڈرز سے ممتاز کرتی ہے۔ انہوں نے رواں سال کے دوران ایک انتہائی مربوط اور پیچیدہ سفارتی مشن کا آغاز کیا:
    ایران کے ساتھ سٹریٹجک ڈائیلاگ: فیلڈ مارشل نے تہران کا اہم دورہ کیا اور ایرانی صدر سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ ایرانی قیادت نے پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کو تسلیم کرتے ہوئے تناؤ میں کمی (De-escalation) کے متبادل طریقوں پر آمادگی ظاہر کی۔
    واشنگٹن اور عالمی طاقتوں سے رابطہ: دوسری طرف، امریکی انتظامیہ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے مضبوط عسکری و سفارتی تعلقات کا استعمال کرتے ہوئے، انہوں نے واشنگٹن کو باور کروایا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔
    پاکستان بطور قابلِ قبول ثالث: فیلڈ مارشل کی کامیاب حکمتِ عملی نے پاکستان کو دونوں فریقین کے لیے ایک معتبر اور قابلِ قبول پل بنا دیا، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک پسِ پردہ مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہوئے۔

    عسکری ہیبت اور امن پسندی کا امتزاج
    ایک حافظِ قرآن اور مدبر عسکری رہنما ہونے کے ناطے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شخصیت میں جہاں عزم و استقامت کی فولادی جھلک ہے، وہاں انسانیت کی بقا کا درد بھی شامل ہے۔ ان کی یہ سفارتی کامیابی محض لفاظی کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ اس کے پیچھے پاکستان کا وہ ناقابلِ تسخیر دفاعی ڈیٹرنس تھا جو انہوں نے مئی 2025ء کے پاک بھارت فضائی و میزائل تصادم کے دوران دنیا کو دکھایا تھا، جس شاندار عسکری کامیابی پر انہیں ملک کا اعلیٰ ترین عسکری رینک "فیلڈ مارشل ” عطا کیا گیا ۔دنیا جانتی ہے کہ جو قیادت اپنے وطن کا دفاع کرنا اور دشمن کو دندان شکن جواب دینا جانتی ہے، جب وہ امن کی بات کرتی ہے تو اس کی آواز میں وزن ہوتا ہے۔ فیلڈ مارشل نے ثابت کیا کہ پاکستان صرف اپنے دفاع تک محدود نہیں، بلکہ وہ خطے اور دنیا میں "استحکام کا برآمد کنندہ” (Exporter of Stability) ہے۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کروا کر دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے سے واپس لانا ایک ایسا تاریخی کارنامہ ہے جس نے بین الاقوامی سیاست میں پاکستان کے وقار کو بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سٹریٹجک سوچ، تحمل اور مذاکراتی مہارت نے ثابت کر دیا کہ حقیقی لیڈرشپ وہ نہیں جو جنگ کے شعلوں کو ہوا دے، بلکہ وہ ہے جو اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کو انسانیت کے تحفظ اور امن کے لیے استعمال کرے۔
    آج اگر دنیا ایک ہولناک تباہی اور معاشی بربادی سے محفوظ ہے، تو اس کا ایک بڑا کریڈٹ پاکستان کی اس مخلصانہ اور مدبرانہ عسکری سفارت کاری کو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مبصرین اور کالم نگار اب کھلے عام یہ کہہ رہے ہیں کہ دنیا کو صدی کی سب سے بڑی جنگ سے بچانے والی یہ عظیم شخصیت بلاشبہ امن کے اعلیٰ ترین بین الاقوامی اعزازات کی مستحق ہے۔ سپہ سالار کی اس بصیرت نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔

  • تحریک انصاف کی قومی سیاست کے بعد سوشل میڈیا کی شہرت کے بیانیہ کا بھی زوال

    تحریک انصاف کی قومی سیاست کے بعد سوشل میڈیا کی شہرت کے بیانیہ کا بھی زوال

    ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا رائے سازی کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔ اسی لیے کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کی جانے والی گفتگو اور بیانیے کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے،پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران سوشل میڈیا سیاسی سرگرمیوں کا سب سے مؤثر میدان بن کر سامنے آیا، مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنی اپنی حکمت عملی کے مطابق اس پلیٹ فارم کو استعمال کیا، اپنے کارکنوں کو منظم کیا، بیانیے تشکیل دیے اور مخالفین پر تنقید کی، اس ماحول میں تحریک انصاف کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کو خاصی توجہ حاصل رہی لیکن پھر وقت بدلا، حالات بدلے،عمران خان آئین و قانون کے مطابق تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزیراعظم ہاؤس سے نکالے گئے اور پھراسکے بعد پاکستان میں جو کردار تحریک انصاف نے نبھایاوہ کسی ملک دشمنی سے کم نہ تھا.

    نو مئی کا سانحہ وہ حقیقت ہے جس نے پی ٹی آئی کا اصل چہرہ قوم کو دکھایا،عسکری اداروں، شہداء کی یادگاروں پر حملے اور پھر مسلسل اداروں کے خلاف الزام تراشیاں‌،پروپیگنڈے،غرضیکہ پی ٹی آئی جس حد تک جا سکتی تھی گئی اور یہی وجہ بنی کہ آج سوشل میڈیا سے پی ٹی آئی کا وجود غائب ہو چکا ہے، بانی پی ٹی آئی کا نام لیوا سوشل میڈیا پر سوائے چند ضمیر فروشوں کے کوئی نہیں رہا،عمران اڈیالہ میں ،پی ٹی آئی رہنما ایوانوں میں،جب پی ٹی آئی رہنما ہی عمران خان سے منہ موڑ گئے تو عوام کب تلک ساتھ دے، انصاف کے نام پر تحریک انصاف نے جو ملک کے ساتھ کیا وہ ایک ایسی زندہ مثال ہے جو تاریخ میں لکھی جائے گی کہ نام نہادسیاسی جماعت گوگی و پنکی کے ہاتھوں یرغمال بنی اور نہ صرف ملک میں مالی کرپشن کی بلکہ اخلاقیات کا جنازہ بھی نکال دیا اور ملکی استحکام،ملکی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کرنے میں بھی پیچھے نہ رہی.

    ایسے میں عوام ایک طرف پی ٹی آئی سے لاتعلق ہو چکی تو وہیں گزشتہ برس کا معرکہ حق، ،افغان رجیم کی جانب سے پاکستان میں فتنۃ الخوارج کے ذریعے دہشتگردی، پاکستان کا افغان رجیم کے ٹکڑوں پر پلنے والے فتںہ الخوارج کیخلاف آپریشن،امریکہ ایران جنگ نے عوامی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی، ایسے حالات میں سوشل میڈیا پر افواج پاکستان کی قیادت کے حق میں اظہارِ یکجہتی کے مختلف رجحانات دیکھنے میں آئے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے معرکہ حق میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا، بھارت کا آپریشن سندور حقیقت میں بھارت کے لئے "آپریشن سندور” بن گیا،چند روز قبل بھارت نے اپنے معرکہ حق میں اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کا اعلان کیا،افغان رجیم کی سازشوں ،دہشتگردی کا جس بہادری کے ساتھ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جواب دیا وہ سب کے سامنے ہے، امریکا ایران جنگ ہوئی تو دنیا دیکھ رہی تھی کہ انجام کیا ہو گا لیکن انجام پاکستان بنا رہا تھا ،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں و کاوشوں سے نہ صرف جنگ بندی ہوئی بلکہ معاہدہ بھی طے پا گیا،بھارت پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات لگاتا رہا لیکن کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا لیکن یہاں پاکستان دنیا کے سامنے امن کا علمبردار بن کر سامنے آیا اور امریکا ایران جنگ کا واحد ثالث بن کر خطے میں امن قائم کیا،

    یہی وجہ ہے کہ آج سوشل میڈیا پر نگاہ دوڑائیں تو ہر طرف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے نام پیغامات ،تصاویریں ،عوامی جذبات دیکھنے کوملتے،35 پنکچرز کے بیانئے کی طرح عمران خان کے واحد مقبول شخصیت ہونے کا بھرم بھی ٹوٹ چکا ہے،عمران خان نام کی کوئی چیز سوشل میڈیا پر دیکھنے کو نہیں ملتی ،میرا اللہ جس کو چاہے عزت دے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا نام نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ دنیا بھر میں گونج رہا ہے،آج پاکستانی معاشرہ حقیقت کو دیکھ اور تسلیم کر رہا ہے، معرکہ حق کی فتح قوم کے سامنے ہے،قوم کبھی ریاست کو کمزور کرنے والوں کا ساتھ نہیں دیتی بلکہ ملک کا دفاع کرنے والوں کو سلیوٹ کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر آج پاکستانی قوم کی امیدوں کا محور و مرکز ہیں،ایکس،فیس بک، ٹک ٹاک غرضیکہ جس سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جائیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا چمکتا دمکتا نام ہر طرف نظر آئے گا، سوشل میڈیا کی طاقت آج مسلح افواج کے لئے ہے اور پاکستانی عوام جہاں ملکی دفاع کے لئے مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آتی ہے،سوشل میڈیا کے محاذ پر بھی پاکستانی قوم کا بچہ بچہ اسی جذبے کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے،پی ٹی آئی کی انتشاری سیاست انجام کو پہنچ چکی اور پاکستانی قوم ایک بار پھر کلمہ کے نام پرحاصل کئے گئے وطن عزیز پاکستان اور پاکستانیت کی طرف لوٹ چکی، نفرت اور تفریق کو ترک کر رہی ہے اور شہرت کا نام نہاد بیانیہ دفنانے میں مصروف ہے۔

  • تباہی کے بیچ امید کی ایک کرن،تحریر:بینا علی

    تباہی کے بیچ امید کی ایک کرن،تحریر:بینا علی

    وہ تباہی کے بیچ امید کی ایک کرن اور معجزہ بن کر ٹنوں ملبے تلے سے تین دن بعد زندہ نکلی تھی۔وینزویلا میں بدھ کو آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں اب تک تقریباً ایک ہزار افراد کے جاں بحق اور 3 ہزار سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

    حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں بلند و بالا عمارتوں کے ملبے تلے پھنسے افراد کو نکالنے کا عمل گزشتہ 3 روز سے جاری ہے۔ اسی دوران امدادی ٹیموں کو ایک اہم کامیابی حاصل ہوئی۔تفصیلات کے مطابق ریسکیو اہلکار لاپتا افراد کی تلاش کے دوران ملبے کے نیچے سے بچے کے رونے کی آواز سننے میں کامیاب ہوئے۔ آواز کی نشاندہی کے بعد ٹیم نے انتہائی احتیاط کے ساتھ کنکریٹ اور دیگر ملبہ ہٹانا شروع کیا۔چند گھنٹے کے محتاط آپریشن کے بعد اہلکار ایک ننھی بچی تک پہنچ گئے اور اسے بحفاظت نکال لیا گیا۔ موقع پر موجود عملے اور مقامی افراد نے اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا۔

    بچی کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد دی گئی اور بعد ازاں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق بچی کی حالت اب مستحکم ہے اور اسے خطرے سے باہر قرار دیا گیا ہے۔ بچی کے اہلخانہ نے اپنی بیٹی کی بازیابی پر اظہارِ تشکر کیا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی سامنے آئی ہے، جسے بڑی تعداد میں صارفین شیئر کر رہے ہیں۔
    فی الوقت متاثرہ علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن بدستور جاری ہے۔

  • روڈ پر جنم لیتے بچے، راستوں میں مرتے مریض، گوجرخان کا والی وارث کون؟تحریر :قمرشہزاد مغل

    روڈ پر جنم لیتے بچے، راستوں میں مرتے مریض، گوجرخان کا والی وارث کون؟تحریر :قمرشہزاد مغل

    جی ٹی روڈ پر واقع عمارت جسے کہنے کو تو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کہا جاتا ہے، لیکن درحقیقت وہ گوجرخان کے باسیوں کے لیے ایک ریفرل سنٹر اور جیتے جاگتے انسانوں کے لیے مقتل بن چکا ہے۔ گوجرخان کا ٹی ایچ کیو ہسپتال آج بھی کسی مسیحا کا منتظر ہے۔ کسی ایسے صاحبِ اختیار کا منتظر جو تصویروں، بیانات اور وعدوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے۔ کسی ایسے نمائندے کا منتظر جو سڑک پر جنم لینے والے بچے کی ماں کی تکلیف محسوس کرے، راستے میں دم توڑتے مریض کی آخری سانس کا کرب سمجھے اور عوام کی بے بسی کو اپنی سیاسی ذمہ داری جانے۔ ورنہ تاریخ یہی لکھے گی کہ گوجرخان میں ہسپتال تو تھا، مگر علاج نہیں تھا، نمائندے تو تھے، مگر نمائندگی نہیں تھی، اور عوام تو تھے، مگر ان کا کوئی والی وارث نہیں تھا۔ کیا ضمیر مر چکے ہیں یا احساس کی رگیں سن ہو چکی ہیں؟ پوٹھوہار کی زرخیز دھرتی، جس نے ملکی سیاست کو بڑے بڑے نامور جلیل القدر رہنما اور عہدے دار دیے، آج اپنے ہی بیٹوں اور بیٹیوں کے خون کا نوحہ پڑھ رہی ہے۔ تحصیل گوجرخان کے لاکھوں عوام کا پرسا دینے والا کوئی نہیں اور اس بے حسی کا سب سے بڑا مرکز جی ٹی روڈ کے کنارے وسیع و عریض رقبے پر پھیلی تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال گوجرخان کی عمارت دراصل کوئی علاج گاہ نہیں، بلکہ اس نظامِ کہنہ کا وہ نوحہ ہے جسے سن کر پتھر کا دل بھی پگھل جائے، مگر افسوس کہ ہمارے چنے ہوئے نمائندوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ چوہدری پرویز الٰہی کے دور میں اس ہسپتال پر ‘ٹراما سنٹر’ کا چمکتا ہوا بورڈ تو سجا دیا گیا، مگر وقت نے ثابت کیا کہ وہ ٹراما سنٹر نہیں، بلکہ گوجرخان کے غیور عوام کے ساتھ ایک بدترین ڈراما سنٹر تھا جو آج تک چلی آ رہی ہر حکومت اور ہر سیاسی جماعت کے دور میں کامیابی سے کھیلا جا رہا ہے۔ جدید دور کا نعرہ لگانے والے ذرا آ کر دیکھیں کہ یہاں نہ تو کوئی فنکشنل آئی سی یو (ICU) ہے، نہ زندگی بچانے والا وینٹی لیٹر، اور نہ ہی قبل از وقت پیدا ہونے والے معصوم بچوں کے لیے کوئی نرسری، نہ ریڈیالوجسٹ ہے، یہ کیسی ترقی ہے جہاں ایک حاملہ ماں، ایک بوڑھا باپ یا حادثے کا شکار کوئی نوجوان بنیادی طبی سہولت کو ترستا ہے؟ نتیجہ؟ ایک ہی لکیر پیٹی جاتی ہے "راولپنڈی ریفر کر دو”۔ وہ راولپنڈی جو گوجرخان سے گھنٹوں کی مسافت پر ہے۔ اس خونی راستے میں کتنے ہی بوڑھے باپ اپنے بیٹوں کے کندھوں پر دم توڑ گئے، کتنے ہی بھائی سسک سسک کر مٹی ہو گئے، اور بے حسی کی انتہا دیکھیے کہ ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ایمبولینسوں یا سڑک کنارے گاڑیوں میں بچوں کو جنم دینے پر مجبور ہیں۔ کیا یہ مناظر دیکھ کر ان ایوانوں میں بیٹھے پنڈتوں کو شرم نہیں آتی؟ مسئلہ ڈاکٹروں، نرسوں یا پیرامیڈیکل اسٹاف کا نہیں ہے۔ سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث ان کے ہاتھ بھی بندھے ہوئے ہیں۔ وہ خود اس بوسیدہ نظام کے یرغمالی ہیں۔ عوام اور ڈاکٹرز آمنے سامنے ہیں، کہیں ہاتھا پائی ہو رہی ہے تو کہیں سڑکوں پر موت بٹ رہی ہے، لیکن اصل مجرم وہ سیاسی اشرافیہ جو ہر الیکشن میں ووٹ مانگنے آپ کی دہلیز پر ناک رگڑتی ہے وہ غائب ہے۔ اگر ان نمائندوں میں رتی برابر بھی غیرت اور وفا ہوتی، تو آج گوجرخان کا ہسپتال گریۂ زاری کی داستان نہ بنا ہوتا۔ کچھ دن شور مچتا ہے، سوشل میڈیا پر طوفان اٹھتا ہے، کوئی بے بس ڈاکٹروں کو گالیاں دیتا ہے تو کوئی صحافیوں کے قلم پر سوال اٹھاتا ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ ان تماش بین سیاسی رہنماؤں کے گریبان پر کوئی ہاتھ کیوں نہیں ڈالتا؟ ان سے کوئی کیوں نہیں پوچھتا کہ تمہاری شاہانہ مراعات، تمہاری وی آئی پی پروٹوکول والی گاڑیاں تو وقت پر پہنچ جاتی ہیں، مگر غریب کے لیے وینٹی لیٹر، بچوں کی نرسری، آئی سی یو یونٹ، کیوں نہیں بن سکتا؟

    ہر حادثے کے بعد ہم چند دن ماتم کرتے ہیں اور پھر نئے مقتول اور نئے واقعے کے انتظار میں سو جاتے ہیں۔ آج گوجرخان کا ہسپتال کسی لفاظی یا کھوکلے دعوے کا نہیں، بلکہ ایک حقیقی مسیحا کا متلاشی ہے۔ کوئی تو ہو جو اس دھرتی کا والی وارث بنے، جو راستے میں تڑپنے والوں کا کرب اپنے سینے پر محسوس کرے، جو سڑک پر بچہ جنتی بہن بیٹی کی بے بسی پر خون کے آنسو روئے۔ کب تک ہم ان تماش بینوں کی شطرنج کے مہرے بنے رہیں گے؟ چشم پوشی کرنے والے ان حکمرانوں کو اب آئینہ دکھانے کا وقت آ چکا ہے۔ اگر اب بھی گوجرخان کے عوام نے اپنے حق کے لیے ان سیاسی بتوں کے گریبان نہ پکڑے، تو یاد رکھیے، اگلا جنازہ خدانخواستہ کسی کا بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ موت کسی کا سیاسی نظریہ دیکھ کر نہیں آتی۔