Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ

    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ

    کیا اس لیے چنوائے تھے تقدیر نے تنکے
    کہ بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگا دے
    یہ وطن عزیز پاکستان جو لاکھوں شہداء کے لہو کی قربانی سے قائم ہوا تھا کہ جس کے لیے تاریخ کی بڑی ہجرتوں میں سے ایک ہجرت ہوئی وہ کسی قومیت اور ذات برادری کے لیے نہیں تھی، صوبائیت اور لسانیت کے لیے نہیں تھی. برصغیر پاک و ہند کے مسلمان کسی نعرے، نظریے یا مفاد کے لیے بلکہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی آزادی کے لیے جمع ہوئے تھے.تحریک پاکستان کے ہراول دستے کے سالار اور مسلم لیگ پاک و ہند میں محمد علی جناح کے رفقائے کار بھی بنگالی، پنجابی، بلوچی، سندھی، پختون یا کسی مسلک کی نمائندگی کرنے کے لیے جمع نہیں ہوئے تھے اور نہ ہی کسی نے لسانیت اور قومیت کے حقوق مانگے تھے. کسی کو سندھ، پنجاب،بنگال، بلوچ یا پختون بیلٹ میں مسئلہ نہیں تھا. درحقیقت ہندوستان میں مسئلہ اسلام اور مسلمانوں کو تھا ہندو جو کہ اس برصغیر میں ایک ہزار سال تک محکوم رہے تھے اب وہ اسلام کو کچلنے اور اشوکا کے دور کے ہندوستان کو دوبارہ سے قائم کرنے کے پلان ہندو تواء پر عمل پیراء تھے جس کو سرسید احمد خان، جوہر برادران، محمد علی جناح رحمة اللہ علیہ اور علامہ محمد اقبال رحمة اللہ علیہ و دیگر نے بروقت بھانپ لیا اور قوم کو بیداری کا پیغام دینا شروع کردیا اور تحریک پاکستان شروع ہوئی اور لاکھوں قربانیوں اور ہجرتوں کی دلدوز داستانوں کے بعد نظریہ اسلام لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر پاکستان جیسی مملکت خداداد کا قیام عمل میں آیا.
    قیام پاکستان کے بعد جب اس نظریہ اسلام کی جگہ ہمارے اندر قومیت اور لسانیت در آئی تو پھر علاقائی حقوق اور محرومیوں کے نعرے سننے کو ملنے لگے جو بنگلہ دیش کی علیحدگی پر منتج ہوئے جس میں واضح طور پر مجرمانہ کردار انہی کا تھا جن کی اولادیں آج بھی پاکستانیت پر لسانیت اور علاقایت کو فوقیت دے رہی ہیں.
    یہ ساری باتیں دہرانے کا مقصد و منشاء یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے قیام سے اپنی بقاء اور استحکام کے سفر میں بھی لاتعداد قربانیاں دی ہیں ستر ہزار لاشے اس ملک کے طول و عرض میں اٹھائے گئے ہیں جن میں سول، سیکیورٹی پرسنز، اقلیتیں وغیرہ سبھی شامل ہیں.
    ان قربانیوں اور سیکیورٹی فورسز کے مشکل ترین آپریشنز کے بعد ہم اس قابل ہوئے تھے کہ ملک میں امن و استحکام کو دیکھیں مگر عالمی قوتوں کے پروردہ اور ان کے اس خطے میں مفادات کے نگران لوگوں کو پاکستان کا یہ امن و استحکام گوارہ نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اس وقت ان کا اس ملک کے نازک ترین مسائل لسانیت، علاقائیت، قومیت اور مسلکیت کی آگ جلاکر اس میں اس ملک میں قائم ہوتے امن کو راکھ کرنا مقصود ہے. اس کے لیے بدقسمتی سے جس علاقے اور بیلٹ کو چنا گیا ہے وہ ماضی میں دہشت گردوں نے بھی اسی علاقے کو اپنی آماجگاہ کے طور پر چنا اور ان علاقوں اور ان کے وسائل پر قابض ہوکر بیٹھ گئے جس کی وجہ سے یہاں کے محب وطن شہریوں کو اپنے ملک کے اندر ہی ہجرتوں پر مجبور ہونا پڑا. سیکیورٹی فورسز نے اپنی ہزاروں جانوں کی قربانی دے کر ان علاقوں کو دہشت گردوں سے واگزار کرا کر یہاں کے شہریوں کو واپس لا بسایا. اب انہی دہشت گردوں کے بھائی بندوں نے لسانیت اور قومیت کی آگ میں جلانے کے لیے اسی علاقے اور انہی لوگوں کو چنا ہے. ابتداء میں پختون بیلٹ کے مسائل اور حقوق کی بات کی گئی جب ان کے مسائل ریاست کی طرف سے حل کیے جانے کی بات ہوئی تو بجائے مذاکرات اور بات چیت کی بجائے اپنے بڑوں (TTP) کی طرح تشدد کا رستہ اختیار کیا اور ہتھیاروں سے لیس ہوکر اپنے ہی ملک کی سیکیورٹی فورسز پر حملہ کردیا.
    پختون بیلٹ کو اپنی لچھے دار باتوں اور جھوٹے اور دلفریب نعروں سے الجھانے کی کوشش کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کو خانہ جنگی کیں مبتلا کرکے عالمی قوتوں کے مفادات کو تحفظ دینے کی بھرپور کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں اور اب تشدد کا رستہ اختیار کرکے پی ٹی ایم نے واضح طور پر اپنے مستقبل کے اقدام کو واضح کردیا کہ وہ کیا چاہتے ہیں.
    یہاں پر میں انتہائی افسوس ناک کردار ادا کیا ہمارے وطن کی نام نہاد سیاسی جماعتوں نے جنہوں نے کہ جو حکومت وقت کی مخالفت میں ریاست پاکستان کے دشمنوں اور غداری پر آمادہ ان پی ٹی ایم والوں کی حمایت کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور ان حمایتیوں میں سب سے بلند آواز انہی کی ہے جن کے باپ دادا پاکستان کے دو لخت ہونے میں واضح ترین موجب تھے.
    اب وقت آن پہنچا ہے کہ پختون بیلٹ کی غیور اور محب وطن عوام جو اول تا ابد پاکستانی ہیں جنہوں نے قائد اعظم کی پکار پر لبیک کہا تھا اور ان کی پاکستان سے محبت مسلمہ ہے وہ ان نام نہاد پختون تحفظ موومنٹ جو درحقیقت افغان اور امریکی و بھارتی مفادات کی تحفظ موومنٹ ہے اور انہی کی ایما اور شہہ پر یہ پاکستان کی سالمیت کے درپے ہیں ان کو کھلم کھلا مسترد کردیں پورے پاکستان کی عوام نہ صرف ان کا بلکہ ان کی حمایت میں اٹھنے والی ہر آواز کا بائیکاٹ کرے اور ریاست پاکستان واضح ایکشن لے کر پاکستان کی سالمیت کا تحفظ کرے پوری پاکستانی قوم بشمول قبائلی علاقہ جات کہ سبھی ریاست پاکستان اور مقتدر اداروں کی پشت پر کھڑی ہوگی.

  • بس اب اور نہیں!!! بلال شوکت آزاد

    اگر فوج کو گالیاں بکنا, ان کا راستہ روکنا, ان پر مسلح حملہ کرنا, پاکستان کو گالی بکنا, محمد علی جناح و علامہ اقبال پر تبرہ کرنا, پاک فوج کو دہشتگرد کہنا, اسرائیل آرمی زندہ آباد کہنا, پاکستان کے علاقے کو مقبوضہ کہہ کر عامیوں کو گمراہ کرنا اور نو گو ایریا بنانا اور پاکستانی حکومتی ایوانوں میں بیٹھ کر آئین کی دھجیاں ہر ہر منٹ پر اڑانا جرم نہیں بلکہ آزادی اظہار رائے, ناراضی کا اظہار اور حقوق کی جنگ ہے (اور ہماری ریاست برداشت کا مظاہرہ کرنا ترک نہیں کرتی) تو اللہ کی قسم (سب نہیں کہ اصلی نسلی پختون خود ہم سے زیادہ پاکستانی اور محب وطن ہیں) میں یہ کیمپین لانچ کروانے اور اس پر عمل کروانے میں ایک منٹ کی بھی دیر نہیں لگاؤں گا کہ جہاں پشتینی ٹوپی پہنے ہوئے یا یہ نعرہ لگاتے ہوئے کہ "یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے” وغیرہ وغیرہ, ملک کے کسی بھی کونے میں کوئی محب وطن کسی پشتینی (تھرڈ کلاس سے لیکر ہائی کلاس) کو دیکھے تو بغیر حال چال دریافت کیئے اور بغیر وارننگ دیئے ٹھڈوں, مکوں اور تھپڑوں پر رکھ لے اور جب تک وہ پشتینی خود ٹوپی اتار کر اس پر پاؤں نہیں پھیرتا اور تھوکتا نہیں یہ کہہ کر کہ "ہاں میں بھی پاکستانی ہوں اور پاکستان زندہ آباد”, تب تک خواہ پیٹنے والا کوئی بھی محب وطن مہاجر, بلوچ, سندھی, پشتون, کشمیری, بلتی, سرائیکی, مکرانی اور پنجابی ہو وہ سانس نہ لے اور نہ اس کو سانس لینے دے۔

    ان کی ٹووووووں ٹووووووووووں بیپ بیپ اور انکی تحریک بشمول ان کے مبینہ نام نہاد حقوق اور انصاف کے نعروں کے ایسی کی تیسی۔

    اب یہ سیاست, آزادی اظہار رائے اور دو نمبر صحافت کے نام پر پاکستانی عوام, ریاست اور ریاستی اداروں کی اور تذلیل اور تضحیک بلکہ ان پر جانی و مالی حملہ بلکل برداشت نہیں کیا جائے گا اور پھر کوئی ہمیں یہاں بیٹھ کر پاکستانیت اور اخلاقیات کے پاٹھ نہ پڑھائے کہ الحمداللہ ہم خود اس میں خود کفیل ہیں اور بہتر جانتے ہیں کہ کس طرح سے ڈیل کرنا ہے ایسوں کو سوشل میڈیا اور گراؤنڈ پر۔

    واللہ ان الفاظ کو مذاق مت سمجھا جائے کہ اللہ کی قدرت اور مہربانی سے میں اور میرے سبھی ساتھی یہ سکت اور اہلیت رکھتے ہیں کہ پشتینیوں کا جینا دوبھر کردیں پورے ملک میں لیکن چونکہ ہماری تربیت اور مزاج ان نسلی ٹٹوؤں جیسا نہیں اور حب الوطنی کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات ہمارے ایسے اقدامات کے آڑے آتی ہیں بالکل فوج کی طرح لہذا لفاظی کا سہارا لیکر ادھر ہی کاؤنٹر کرنے اور راہ راست پر لانے پر یقین رکھتے ہیں۔

    پر میں واضح کردوں سبھی پی ٹی ایم کے ٹٹ پونجیوں اور ان کے حامیان کو کہ ہماری برداشت اور صبر کا اتنا ہی امتحان لینا جتنا بعد میں خود بھگت سکو کہ ہم نے بھی چوڑیاں نہیں پہن رکھیں اور نہ ہی ہم لولے لنگڑے ہیں کہ تمہیں ہم سے ایک آنچ آنے کا بھی خطرہ نہیں۔

    جس دن ریاستی اداروں نے ہمیں ہلکا سا بھی اشارہ دے دیا (جو وہ کبھی نہیں دیں گے کہ ان کی روایت نہیں لیکن پھر بھی ہم تیار ہیں) کہ قوم ان کا علاج خود کرے تو تمہیں پورے پاکستان تو کیا قبائلی علاقہ جات میں بھی جائے امان نہیں ملنی۔

    جس وجہ سے ہم رکے ہوئے ہیں اور ہمارے ہاتھ اور منہ بند ہیں اسی وجہ سے محب وطن پشتون جو تمہارے ارد گرد ہی رہتے ہیں ان کے بھی ہاتھ اور منہ بند ہیں لیکن یہ ہماری کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہے جس کا تمہیں بالکل اندازہ نہیں۔

    اپنی اصلاح کر لو اور غیروں کے نقش قدم پر چلنا چھوڑ کر قومی دھارے میں آ جاؤ اور آئینی و قانونی کے ساتھ ساتھ اخلاقی طریقے سے اپنا مقدمہ لڑو اور حقوق کی بات کرو تو واللہ ہم ہی وہ لوگ ہوں گے جو تم سے پہلے تمہارا مقدمہ اور حقوق کی جنگ لڑنے آگے کھڑے ہوں گے اور مقتدر حلقوں تک تمہاری آواز پہنچائیں گے لیکن جو تم کر رہے یہ قطعاً مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    نوٹ: بھاشن نہیں سنائے کوئی ادھر, تیسرا سال چل رہا ہے کہ ہم برداشت کرتے رہے ریاست کے ساتھ ساتھ پر اب اور خاموشی اور نظر اندازی سراسر منافقت اور بزدلی میں شمار ہوگی۔

  • بس بہت ہو گیا ۔۔۔ اسد عباس خان

    بس بہت ہو گیا ۔۔۔ اسد عباس خان

    دشمن نے گزشتہ ایک ڈیڑھ دہائی تک کبھی فضل اللہ، حکیم اللہ اور بیت اللہ کے ناموں کے ساتھ TTP بن کر منبر و محراب اور مساجد و مدارس کی حرمت کو پامال کیا بازاروں میں بم چلاۓ عام مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگائے اور پھر ان کا قتل عام کیا۔
    بیرونی آقاؤں کے اشاروں پر کلمہ طیبہ کی بنیاد اور اسلام کی اساس پر قائم مملکت خداداد پر مسلسل آتش و آہن کا بازار گرم کیے رکھا۔ جب افواج پاکستان نے لازوال قربانیوں کی داستانیں رقم کرتے ہوئے ان سانپوں کو کچلنا شروع کیا تو کچھ مردار اور باقی فرار ہونا شروع ہوۓ۔ اس وقت کے نامور سورمے مارے گئے یا انہوں نے افغانستان کا رخ کیا جبکہ اس سے نچلے درجے کے دہشتگردوں کو ان کے اسپانسرز نے اپنی خاص حکمت عملی کے تحت پاکستان کے شہروں میں روپوش کروایا۔ اور مناسب موقع کی تلاش میں لگے رہے۔
    کراچی میں ایک پشتون نوجوانوں نقیب اللہ کا مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے سے وہ موقع بھی آ ملا۔ اس کے بعد ان چھپے ہوئے چوہوں نے اپنے بِلوں سے باہر نکلنا شروع کیا اور پہلے پہل حکومت کے خلاف چھوٹے موٹے احتجاج پھر دنوں ہفتوں میں انتہائی منظم ہو کر ایک نئے نام PTM سے سوشل میڈیا سمیت ہر جگہ افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں پر ہرزہ سرائی شروع کر دی۔ اب تنظیمی نام کی طرح قیادتی نام بھی قوم پرستی میں تبدیل ہو کر "پشتین، داوڑ، وزیر” ہو چکے تھے۔ ہر گزرتے دن ان کی دشنام طرازی میں اضافہ ہوتا گیا اور پھر کھلے عام ہندوستان اور اسرائیل کی افواج سے مدد مانگنے لگے۔ افواج پاکستان کو قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔ سلام ہے وطن کے محافظوں پر جنہوں نے یہ سب کچھ صبر سے برداشت کیا۔
    لیکن اب پانی سر سے گزر چکا ہے آج جس طرح ان PTM کے مسلح دہشتگردوں نے آرمی چوکی پر حملہ کیا جس کے نتیجہ میں پانچ جوان زخمی ہوئے۔ اس کے بعد ان دہشتگردوں کو مزید مہلت دینا اپنے سر پر خود کلہاڑی مارنے کے مترادف ہو گا۔ اب مصلحتوں سے باہر نکل کر سوچنا ہو گا۔
    خدارا ان آستین کے سانپوں کو کچل ڈالیں اس سے پہلے کہ یہ ناسور بن جائیں۔ ریاست ایسے غداروں کے خلاف کارروائی کرنے سے کیوں ہچکچاتی ہے جو ہمارے شہداء کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ جنہوں نے سانحہ اے پی ایس پشاور جیسے زخم دیے ہمارے مستقبل، پھولوں جیسے بچوں کو اپنے ناجائز آقاؤں کے اشاروں پر مَسل دیا۔ اللہ کے لیے وطن عزیز کے مستقبل کو محفوظ بنائیں۔ اور اس ظلم کا سدباب کریں۔

  • یہ جو وردی ہے، اس کے پیچھے پیچھے دہشت گردی ہے ۔۔۔ بلال شوکت آزاد

    یہ جو وردی ہے، اس کے پیچھے پیچھے دہشت گردی ہے ۔۔۔ بلال شوکت آزاد

    مجھے اس خبر پر نہ حیرت ہوئی اور نہ کسی طرح کا اچنبھا البتہ اس بات پر میں حیران ہوں کہ پی ٹی ایم اب تک اس عمل کی طرف راغب کیوں نہیں ہوئی کہ بر وقت عوام کو ان کی اصلیت پتہ چلتی اور بات کسی ایک نکتے پر ختم ہو جاتی۔

    خیر یہ حملہ بظاہر آرمی چیک پوسٹ پر ہے لیکن دراصل اس حملے سے پی ٹی ایم بہت سے شکار بیک وقت کرنے کے فراق میں ہے پر شاید دیر ہو چکی کہ میں پہلے کہہ چکا کہ اس عمل کی جانب راغب ہونے میں پی ٹی ایم کی دیر نے ان کے اس وقت کیے اس جارحانہ عمل کو رائیگاں کردیا ہے۔

    بھارتی قونصلیٹ متحرک ہوچکے پی ٹی ایم کی مکمل سپورٹ کے لیے افغانستان سے لیکر یورپ و امریکہ تک اور افغان و مغربی میڈیا جو مہینوں سے پی ٹی ایم کو آؤٹ آف دا وے کوریج دیکر تشہیر کا موقع دے رہا تھا اب کھل کر پاک فوج کے خلاف شدید اور سخت پراپیگنڈا چلانے جارہا ہے جس میں دوبارہ انھی لوگوں کو بولنے کا موقعہ دیا جائے گا جنہیں بیرون ملک بار بار آزمانے کے باوجود وہ کوئی خاص تیر نہیں مار سکے پی ٹی ایم کے پلیٹ فارم سے افغانستان, بھارت, امریکہ اور اسرائیل کے لیے۔

    مجھے ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور صاحب کی آخری پریس کانفرنس کے بعد یقین اور انتظار تھا کہ کب پی ٹی ایم ایسا قدم اٹھاتی ہے جس میں عام پختون اور فوج آمنے سامنے آجائے لیکن شاید کچھ دیر ہوگئی, جس میں ایک وجہ اسلام آباد میں زیادتی کے بعد قتل ہوئی بچی فرشتہ کا کیس سامنے آنا تھا۔

    کہ پی ٹی ایم کو لگا کہ ہمیں ایک معصوم افغان لاش مل گئی ہے وہ بھی دارلحکومت اسلام آباد سے تو ہم جتنا پریشر ڈویلپ کرسکتے ہیں کرلیں اور عوام کو ایک داخلی قانونی واقعہ کی آڑ میں گھیر کر فوج کے مد مقابل لے آئیں اور اس خانہ جنگی کی بنیاد ڈال دیں جس میں ان سے پہلے ٹی ٹی پی والے ناکام ہو گئے اور بری طرح پٹ کر واپس مالکان کی گود میں جا بیٹھے۔

    گلا لئی اسمعیل اور محسن داوڑ کا فرشتہ قتل کیس کی آڑ میں فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرنا نئی بات نہیں تھی پر اس دفعہ ان کی حرکت میں شدت کے ساتھ یہ عنصر غالب نظر آیا کہ "آر یا پار”, مطلب اب عوام بالخصوص ان کی حامی پختون عوام کو جتنا مینیوپلوٹ کیا جاسکتا ہے فوج کے خلاف کیا جائے اور حالات اس نہج پر لائے جائیں کہ ان کے حامیان بندوق اٹھا کر فوج کی تنصیبات کا رخ کریں اور وہ سلسلہ دوبارہ شروع کریں جو ٹی ٹی پی کی سرکوبی کے بعد تھم گیا تھا۔

    اسلام آباد کی شاہراہوں پر ناکامی اور عوام کے اشتعال کو دیکھ کر محسن داوڑ نے آج ریڈ لائن کی بھی بارڈر لائن کراس کرنے کی ٹھانی کہ اس کے بیرونی آقا مسلسل اس کی ناکامیوں کے بعد اس کو ری پلیس کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں کہ اسی ہفتے میں وزارت داخلہ سے پی ٹی ایم کو سیکیورٹی اپڈیٹ دیا گیا تھا ایجنسیوں کی رپورٹ کے تناظر میں کہ این ڈی ایس اور را جلد ہی پی ٹی ایم کی کور کمیٹی اور رہنماؤں کو نشانہ بنا سکتے ہیں لہذا اپنی سیکیورٹی کا بندوبست کرلیں, اسی تھریٹ الرٹ کی وجہ سے محسن داوڑ, گلالئی اسمعیل, علی وزیر اور منظور پشتین کو یہ سوجھ رہا ہے جو وہ کرتے پھر رہے ہیں کہ جتنا ہوسکے یہ سب مین سٹریم نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا کی زینت بنے رہیں اور ان کی پراپیگنڈا مشینریاں چلتی رہیں۔

    اس وقت دشمن کا وار بلکل سیدھا اور براہ راست ہے کہ وہ پاکستان کو ففتھ جنریشن, ہائبرڈ وار اور انفارمیشن وار فیئر میں بلکل وقفہ اور گنجائش دینے کو تیار نہیں بالخصوص ایکٹو لسانی جماعتوں اور مسلکی گروہوں کی آڑ میں مہرے ہلا کر۔

    اس وقت محب وطن ایکٹوسٹس ہونے کے ناطے ہمیں ارد گرد پوری نظر رکھنی ہے کہ سوشل میڈیا پر ان کے سلیپر سیلز یکدم ایکٹو ہونگے اور پاک فوج کے خلاف من گھڑت کہانیاں اور پراپیگنڈے آن کی آن میں پھیلائے جائیں گے تاکہ عالمی رائے عامہ پاکستان کے خلاف تیار ہو سکے۔

    محسن داوڑ اور علی وزیر نے یہ داؤ بہت سوچ سمجھ کر اور مکمل پلاننگ کے ساتھ کھیلا ہے تاکہ ایک افراتفری مچ جائے اور یہ لوگ فرشتہ مرڈر کیس کے بعد اصلی نسلی پختونوں کے جس عتاب کا شکار ہونے جا رہے تھے اور جس طرح انھوں نے ریاست کو للکار کر اپنی شامت بلائی تھی, اس سے فی الوقت کسی اور طرف موڑ کر اپنی جان خلاصی بھی کروا لیں, بیرونی آقاؤں کو بھی راضی کر لیں اور حامیان سمیت ناراض پختونوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوجائیں کہ

    "یہ جو دشتگردی ہے, اس کے پیچھے وردی ہے”۔

    لیکن میں پورے وثوق سے بتاتا چلوں کہ دراصل

    "یہ جو وردی ہے, اس کے پیچھے پیچھے دہشتگردی ہے”۔

    مطلب اس وقت دوبارہ پھر سے "وردی” کو "دہشتگردی” کا شکار بنانے کی کوشش ہے تاکہ جس طرح ٹی ٹی پی کے دور میں "وردی” پہننا جرم بنا تھا اور "وردی والوں” کو "دہشتگردی” کی بھینٹ چڑھایا جاتا تھا بالکل اسی طرح دوبارہ "وردی” کے پیچھے ہاتھ دھو کر لسانی دہشتگرد پڑ گئے ہیں تاکہ "وردی” پہننا ایک بار پھر جرم بن جائے۔

    لیکن بس, اب کی بار ان شاء ﷲ ہم ان اندرورن و بیرون اور دیدہ و نادیدہ دشمنوں کا یہ وار کامیاب نہیں ہونے دیں گے جس کو بڑی محنت سے ہم ایک بار ٹکر دے چکے اور اب دوبارہ یہ یہی حرکت کریں گے تو پھر جواب ہم بھی شدید اور سخت دیں گے۔

  • وہ کیسی عورتیں تھیں

    ایک زمانہ تھا کہ عورت ان پڑھ تھی، بچوں کی کثیر تعداد ساس، سسر کے ساتھ، ساتھ نندوں اور دیوروں کی کفالت اس کی ذمہ داریوں میں شامل تھا.
    اوپر سے ایک عجیب الفطرت مرد بطور مجازی خدا اسے برداشت کرنا پڑتا تھا، مگر اس سب کے باوجود وہ محفوظ تھی، پرسکون تھی اور ڈھلتی عمر کے ساتھ وہ ایک رہنما اور سرپنچ کے عہدے تک پہنچ جاتی تھی بچوں پر حکم، فیصلے سنانے کے علاوہ سارا دن گھر داری میں گزارنے والی کو محلے کی عورتوں کے علاوہ کسی سے تعلق نہ ہوتا تھا.
    پھر زمانہ جدید ہوا عورت کا اپنے مقام کا احساس ہوا اور وہ آزاد ہونے لگی…
    سسرال تو بہت بعید اسے خاوند کی خدمت بھی ایک بوجھ لگنے لگی، اور پرائیویسی کے نام پر علیحدہ گھر کے مطالبات ہونے لگے،
    پھر زمانے نے مزید ترقی کر لی اور اس سے بھی چند قدم آگے جا کر اب عورت مکمل آزاد ہے تعلیم یافتہ ہے اور اپنی زندگی جی رہی ہے، خیر عورت کو ترقی کرنی چاہیے ضرور کرنی چاہیے میں اس کے بلکل خلاف نہیں،
    مگر……. !!
    عورت جتنی زیادہ تعلیم یافتہ ہوتی جا رہی ہے اس کے رشتے کا مقابل مرد تلاش کرنا اتنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ مردوں کی اکثریت حد ماسٹر ڈگری وہ بھی فارمل ایجوکیشن کے ساتھ کرنے کے بعد ملازمت ڈھونڈنے میں مگن ہو جاتی ہے، اب اس کا اگلا قدم یہ ہو گا کہ عورت ہی ملازمت کر کے گھر کی کفیل ہوا کرے گی، جبکہ مرد مکمل فارغ یا پھر کسی چھوٹی موٹی ملازمت سے بس زندگی کو دھکا دینے کی ناکام کوشش کرتا ہوا نظر آئے گا…
    یہ تو بھلا ہو میڈیا کا جس نے ابھی سے مستقبل کی تیاری شروع کرا دی، ایک اشتہار میں ایک عورت اپنے دفتر سے ویڈیو کال میں گھر بیٹھے بچے کو آ آ آ آں ں ں ں کی آواز نکال کر بچے کو منہ کھولنے کو کہتی ہے اور بچہ منہ کھولتا ہے تو اس بچے کا باپ اس کے منہ میں نوالہ ڈالتا ہے….
    ایک اشتہار میں گھر بیٹھی ماں اپنی جوان بیٹی کا انتظار کر رہی ہوتی ہے جو رات کے دس بج کر دس منٹ پر گھر پہچتی ہے اور ماں کو چائے بنا کر دیتی ہے،
    عورت کی اس طرح کی آزادی ہمارے خاندانی نظام کے لیے بڑی خطرناک ہے،
    بچے_کے_گرنے_پر_ماں_کا_میں_صدقے_کہہ_کر_لپکنا،
    بچے_کے_ہر_آہٹ_پر_بے_چین_ہو_جانے_والی_ماں،
    بڑھتی_عمر_کے_بچوں_کے_لئے_فکر_مند_ماں،
    وہ_سب_کی_پسند_نا_پسند_کا_خیال_کر_کے_ہانڈی_پکانے_والی_ماں،
    #قصے_کہانیاں_اور_لوری_سنا_کر_سلانے_والی_ماں،
    غلط__کاموں_پر_ڈانٹنے_اور_چپلیں_پھینک_کر_ڈرانے_والی_ماں،
    اپنی_اولاد_کی_پرورش_میں_گم_صم_رہنے_والی_اور_اپنی_اولاد_میں_کیڑے_نکالنے
    اور_نکتہ_چینیاں_کر_کے_دل_ہی_دل_میں_خوش_ہونے_والی_ماں،

    اب_اگلی_نسل_کو_شاید_نصیب_ہی_نہ_ہو…

    کیونکہ سارا دن کی تھکی ہاری عورت رات کو کیا، کیا کرے گی؟؟
    بچے سنبھالے گی، گھر سنبھالے گی، شوہر سنبھالے گی، یا رات کو آرام کرے گی، تاکہ صبح تازہ دم ہو کے ملازمت کی ذمہ داری سنبھال سکے….؟
    میری تحریر کئی لوگوں کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہے مگر میں نے حقیقت لکھنے کی کوشش کی ہے، کچھ سمجھانے کی کوشش کی ہے، امید ہے کہیں بھی ضرب لگ گئی تو میری تحریر رائیگاں نہیں جائے گی۔

  • ارض پاک میں تیل کے ذخائر ۔۔۔ محمد فہیم شاکر

    ارض پاک میں تیل کے ذخائر ۔۔۔ محمد فہیم شاکر

    خبرہےکہ سمندرسےتیل،گیس نہیں نکلا
    دوسری خبرہےکہ پاک فضائیہ اور نیوی نےآفشور ڈرلنگ پوائنٹ کی سکیورٹی سنبھال لی ہے۔ ماجراکیاہے؟
    یہ تو طے ہے کہ اندر کھاتے وہ ہو چکا جو دنیا کے چودہ طبق روشن کر دینے کو کافی ہے
    ہاں البتہ حکومت کی طرف سے حکمت کے تحت دانستہ منفی خبریں دی جا رہی ہیں
    اگر آپ غور کریں تو صاف سمجھ آجاتی ہے کہ جیسے ہی پاکستان نے ڈرلنگ کا عمل شروع کیا اور کچھ حوصلہ افزاء خبریں ملنا شروع ہوئیں تو امریکہ نے ایران کے ساتھ پھڈا ڈال کر اس قدر سرعت کے ساتھ فوج اور بحری بیڑے حرکت میں لائے کہ مورخ حیران و پریشاں رہ گیا، مورخ کا کہنا ہے کہ ٹائمنگ بہت عجیب ہے ایک بار پھر سے ہمیں مرحوم جنرل حمید گل کے الفاظ پر غور کرنا ہوگا کہ افغانستان بہانہ ہے پاکستان نشانہ ہے، بس اب افغانستان کی بجائے ایران لکھ لیں، اب کی بار ایران بہانہ ہے اور پاکستان نشانہ ہے اور امریکی افواج کا حرکت میں آنا دراصل پاکستان کو تیل و گیس کے ذخائر کی دریافت یا دریافت کے اعلان سے روکنے کی خاطر ہے جبھی تو پاکستان نے دانستہ 14 ارب ڈالر کے ضیاع کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ
    *تیل کوئی نئی جے نکلیا*
    ایسا کہہ کر دراصل پاکستان نے ایک نیو کلیئر جنگ کو ٹالا ہے
    جبکہ لنڈے کے دانشوروں نے آسمان سر پر اٹھا لیا ہے کہ قوم کا پیسہ ضائع کیا گیا ہے وغیرہ وغیرہ
    ایسے لوگوں کو پاکستانی کہلانے کا کوئی حق نہیں دیا جا سکتا کیونکہ دراصل ہائبرڈ وار کے یہی وہ ہراول ہیں جو کسی بھی ملک میں خانہ جنگی کا ماحول پیدا کر کے دشمن کو دعوت طعام دیتے ہیں تاکہ وہ خانہ جنگی کے شکار ملک میں آکر ہر قسم کے وسائل پر قابض ہو سکے
    یقین نہ آئے تو عراق، شام، مصر، لیبیا کی مثالوں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے جہاں عوام ہی کے ہاتھوں وہاں کی حکومتوں کو گرا دیا گیا
    اور پاکستان میں عوام کو مشتعل کرنے کا فریضہ یہی لنڈے کے دانشور انجام دے رہے ہیں
    بھائی اگر تیل و گیس کے ذخائر دریافت نہیں ہویے تو کیا ہوا
    دنیا ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ تیل دریافت کرنے والے ممالک نے 17 سے زائد بار کوششیں کیں تب جا کر یہ ذخائر دریافت ہویے اور پاکستان میں پہلی ناکام کوشش کو لے کر طوفان بدتمیزی کھڑا کر دیا گیا ہے
    لیکن حقیقت تو عیاں ہو چکی ہے کہ امریکی افواج کیوں موو کر رہی ہیں؟ اگر تیل و گیس کے بہت بڑے ذخائر دریافت نہ ہوئے ہوتے تو امریکی افواج بھلا کیوں موو کرتیں، اور پردہ داری کی خاطر سعودی تیل کے بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ایران اور سعودیہ کو آپس میں الجھا کر کسی ایک کی مدد کی خاطر خطے میں آمد کو جواز فراہم کیا جا سکے
    اور وزیراعظم عمران خان کا کہنا کہ قوم زیادہ سے زیادہ دعا کریں اور نوافل ادا کریں اگر اس پر غور کیا جائے تو یہ کس طرف اشارہ ہے؟ یقینا آسمانی مدد کی طلب کی خاطر، کیونکہ پاکستان سے جو خزانہ نکلا ہے وہ دنیا کو ہضم نہیں ہو پا رہا جبھی تو اس قدر شور برپا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی، اب پاکستان حقیقتا ڈبل گیم کر رہا ہے پہلے امریکہ کو مارتا تھا مانتا نہیں تھا اب ذخائر دریافت کر چکا ہے اور مان نہیں رہا
    یاد رکھیے گا کہ پاکستان نے دنیا کی دم پر پاوں رکھ دیا ہے جس کی سب سے زیادہ تکلیف امریکہ بہادر کو ہے کیونکہ پاکستان نے دنیا کایا پلٹ کر رکھ دینی ہے اور جب دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر کا حامل ملک ہونے کے ناطے تیل و گیس پر کنٹرول حاصل کرنا ہے تو سب سے پہلے امریکی معیشت دھڑام سے گرے گی کیونکہ جس پاکستان کو امریکہ نے پتھر کے دور میں دھکیلنے کی دھمکی دی تھی وہی پاکستان اب گن گن کر بدلہ لینے کی پوزیشن میں آرہا ہے اور جب امریکہ بہادر کا ناطقہ بند کرے گا تو سوچیں کہ امریکہ کتنی جلدی پتھر کے دور میں پہنچے گا
    *لو وائی ہتھ ہو گیا جے*
    امریکی معیشت کیسے گرے گی اس بات کو یوں سمجھئیے کہ سی پیک دنیا کے 70 کے قریب ممالک کو جوڑنے جا رہا ہے جن میں اکثریت یورپی ممالک کی ہے اور امریکی معیشت یورپی منڈیوں کے بل بوتے پر ہی تو کھڑی ہے اور جب یورپی منڈیاں سی پیک سے منسلک ہو جائیں گے تو امریکہ کو کون منہ لگایے گا تو آپ کیا سمجھے کہ امریکہ کیسے دھڑام گرے گا
    لہذا امریکہ بار بار بہانے بہانے سے سی پیک کو نشانہ بنانے کے لیے پاکستان کے اندرونی حالات کبھی ایم کیو ایم سے کبھی پی ٹی ایم سے اور کبھی کسی دوسرے تیسرے گروہ سے خراب کرواتا رہا ہے تاکہ پاکستان کو داخلی محاذ پر غیر یقینی صورتحال کا شکار کر دیا جائے لیکن پاکستان نے جس احسن طریقے سے ان سب کو کاونٹر کیا ہے دنیا اس پر انگشت بدنداں ہے
    انڈیا کی طرف سے جس جنگ کو مسلط کرنے کی کوشش کی گئی اور پاکستان نے ابھی نندن کو واپس کر کے جس جنگ کو ٹالا ہے اس کے رازوں سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہی پردہ اٹھے گا
    تو صبر رکھئیے اور مورخ کی بات لکھ لیجیے کہ وہ سب ہو چکا جس پر ایک دنیا سانس روکے کھڑی ہے
    جس پاکستان سے لوگ بھاگتے تھے کہ یہ ملک عدم استحکام کا شکار ہو چکا ہے اب وہی ملک دنیا کو لیڈ کرنے جا رہا ہے
    بس اک زرا صبر۔

  • خواتین کو چھیڑ چھاڑ سے بچانے والی فون ایپ آ گئی

    خواتین کو چھیڑ چھاڑ سے بچانے والی فون ایپ آ گئی

    خواتین کو عام طور پر عوامی مقامات پر چھیڑ چھاڑ کے واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے جاپان میں خواتین کو چھیڑ چھاڑ سے تحفظ فراہم کرنے والی ایک موبائل فون ایپلی کیشن نے دھوم مچا دی ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ ایپ ٹوکیو پولیس نے متعارف کروائی ہے اور اس ایپ کو دو لاکھ 37 ہزار مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا گیا ہے۔
    ٹوکیو پولیس کے ایک اہلکار کیکو ٹویامینی کا کہنا ہے کہ خواتین کی اتنی بڑی تعداد کا ایپلی کیشن کو ڈاؤن لوڈ کرنا غیر معمولی ہے۔ اس کی مقبولیت کے لیے ہم شکر گزار ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ماہانہ 10000 نئے صارفین اس ایپ کو ڈاؤن لوڈ کر رہے ہیں.

    خواتین کو چھیڑ‌چھاڑ‌سے بچانے والی اس ایپ کا نام ’ڈجی پولیس ایپ‘ ہے. یہ ایپ مسافروں سے بھری ٹٰرینوں میں سفر کرنے والی جاپانی خواتین میں زیادہ مقبول ہے جن کو سب سے زیادہ چھیڑ چھاڑ کا خطرہ ہوتا ہے ۔

    موبائل ایپ کوجب کھولا جاتا ہے تو اس میں سے اونچی آواز میں "سٹاپ اٹ” کی آواز آتی ہے جس پر قریب موجود افراد کو معلوم ہو جاتا ہے کہ کسی نے خاتون کو چھیڑا ہے۔ اس طرح چھیڑنے والا شخص گھبرا کر موقع سے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے۔

    اسی طرح‌جب ’سٹاپ اٹ‘ کی آواز آتی ہے تو اس کے ساتھ ہی موبائل فون کی سکرین پر ایک ’ایس او ایس‘ پیغام بھی نمودار ہوتا ہے جو متاثرہ خاتون دیگر مسافروں کو دکھا سکتی ہے۔ پیغام میں لکھا ہوتا ہے کہ ’یہاں پر ایک چھیڑنے والا موجود ہے۔ میری مدد کریں۔

    اس ایپ کی اس وقت سوشل میڈیا پر بھی دھوم مچی ہوئے ہے.

  • پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ

    پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ

    ۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہم اب تک سترہزار جانیں گنوا چکے ہیں ۔ مگر کیا کسی کو معلوم ہے کہ گزشتہ دس سالوں میں ٹریفک حادثات میں ایک لاکھ سے زائد لوگ جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ لاکھوں زندگی بھر کے لیے معذور ہو چکے ہیں۔ اگر موزانہ کیا جا ئے تو ٹریفک حادثات میں جانی اور مالی نقصان دہشتگردی کے خلاف جنگ سے زیادہ ہے ۔ ان حادثات کا سب سے بڑا موجب گاڑیاں خود ہیں ۔ پاکستان میں ملنے والی گاڑیوں میں کوئی سیفٹی فیچر نہیں ہوتا ہے ۔اسی لیے حادثے کے بعد جانی اور مالی نقصان کا خدشہ سوفیصد بڑھ جاتا ہے ۔

    ۔ پاکستان کی مقبول ترین کار کا سوال پوچھا جائے تو سب کے ذہن میں فوری طور پر سوزوکی مہران کا نام آئے گا۔ گزشتہ تیس سالوں سے پاکستان میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی گاڑی سوزوکی موٹرز کی مہران کار ہی ہے۔ مگر پاکستانی سوزوکی مہران کا ریکارڈ سیفٹی کے حوالے سے انتہائی مخدوش ہے۔ اقوام متحدہ نے گاڑیاں چلانے والے افراد کے تحفظ کے لیے کچھ پیمانے مقرر کررکھے ہیں۔ بدقسمتی سے مہران سمیت پاکستان میں ملنے والی کوئی بھی کار معیار پر پورا نہیں اترتی۔بولان کیری ڈبے ، سوزوکی پک اپ دنیا میں کہیں نہیں چلتے مگر ہم اب تک انکو سامان اور بچوں کی سکول وین کے طور پر استعمال کرنے پر مجبور ہیں ۔ہزاروں، لاکھوں پاکستانی بچوں سمیت عام عوام ان چلتے پھر تے بموں سے جاں بحق یا معذور ہو چکے ہیں ۔ مگر یہ اب بھی سٹرکوں پر رواں دواں ہیں ۔

    ۔ آلٹو 660 سی سی بھی پوری دنیا میں discard ہو چکی ہے ۔ حد یہ ہے کہ یہ اب پاکستان میں لانچ کی جا رہی ہے ۔اس کی قیمت کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انشورنس ،own وغیر ہ ڈال کر بغیر کسی سیفٹی فیچر کے پندرہ لاکھ میں پاکستانیوں کو ملا کرے گی ۔ جبکہ یہ ہی آلٹو کار دنیا میں تین سے چارلاکھ روپوں میں رلتی پھر رہی ہے ۔

    ۔ یہ سلوک صرف پاکستان کے ساتھ ہی روا رکھا جارہا ہے۔کیونکہ حکومت چاہے تیر کی ہو، شیر کی ہو یا بلے کی ہمارے وزراء اور بیورو کریٹس کو ان مافیاز سے مٹھائی کے ڈبے ٹائم پر پہنچا دیے جاتے ہیں ۔یہی سوزوکی، ہنڈا اور ٹیوٹا جب اپنے ملک یا خطے کے دوسرے ملکوں کے لیے گاڑیاں بناتی ہے تو
    وہاں سارے حفاظتی لوازمات اور شرائط پوری کی جاتی ہیں۔یہ کمپنیاں سالانہ اربوں کھربوں پاکستانیوں کی جیبوں سے اینٹھ رہی ہیں۔ مگر بدلے میں یہ کمپنیاں صرف موت دے رہی ہیں ۔ پاکستانیوں کو یہ لوہے کے ٹین ڈبے بیچے جاتے ہیں ۔جو شاید نیپال میں بھی نہ چلائی جاسکتی ہوں۔

    ۔ پاکستانیوں کے ساتھ المیہ یہ ہے ۔ کہ سب سے پہلے تو ہم اس خطے کیا تمام دنیا کے مقابلے میں سب سے زیادہ کسی بھی گاڑی کی قیمت کیش کی صورت میں ادا کرتے ہیں ۔ پھر اس گاڑی میں نہ کوئی سیفٹی فیچر ہوتا ہے نہ فیول کی millegae بہتر ہو تی ہے نہ ہی یہ گاڑی ماحول دوست ہو تی ہے ۔سیٹ بیلٹس لگی تو ہو تی ہیں ۔ مگر وہ کسی حادثہ سے بچانے کی صلاحیت نہیں رکھتیں ۔ پاکستان کی گنتی کی گاڑیوں میں صرف ایک ہی ایئر بیگ ہوتا ہے ۔ وہ بھی شاید کبھی کھلتا نہیں جبکہ دنیا میں آٹھ ایئر بیگز لازمی اور اب تو وہ blanket airbag کو بھی لازمی کر رہے ہیں جس میں جب گاڑی collide کرتی ہے تو ہر جگہ سے ایئر بیگز کھلتا ہے۔پاکستان میں ABS بریک بھی کسی کسی گاڑی کے نصیب میں ہے ۔ اور یہ بھی tried & tested نہیں ہے ۔

    ۔ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں ہم سے زیادہ اچھی اور زیادہ سستی گاڑیاں عوام کو مل رہی ہیں ۔ بھارت میں بھی یہ تمام کمپنیاں کام کر رہی ہیں مگر وہاں تمام سیفٹی فیچرز کو فالو کرتی ہیں ۔ اس وقت جو گاڑی بھارت میں پانچ لاکھ کی ملتی ہے وہ پاکستانیوں کو پندرہ لاکھ میں دستیاب ہے ۔ اب تو بھارت نے گاڑیاں ، موٹر بائیکس ایکسپورٹ کرنا بھی شروع کر دی ہیں ۔ کیونکہ وہ انٹرنیشنل سیفٹی اسٹینڈر فالو کر رہے ہیں ۔

    ۔ پاکستان کی آٹو انڈسٹری پر کئی دہائیوں سے جاپان کی سوزوکی، ٹویوٹا اور ہنڈا کمپنیوں کا راج ہے۔ یہ
    کمپنیاں متحد ہو کر سستے ماڈلز کی گاڑیوں کو مہنگے داموں بیچتی چلی آ رہی ہیں۔ابھی تک گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے موٹر کاروں میں حفاظتی ائیر بیگ، اینٹی لاک بریکنگ یا دھواں کے بہتر اخراج جیسی خصوصیات متعارف نہیں کروائیں ہیں۔
    ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک نئی آٹو پالیسی متعارف کروائے ۔ جس میں ان کمپنیوں کو اجارہ داری کو ختم کیا جا ئے ۔ ساتھ ہی سختی سے تمام سیفٹی اسٹینڈرز کو فالو کروایا جا ئے ۔ گاڑیوں کے collision ٹیسٹ لازمی قرار دیے جائیں ۔ اور یہ انجینئرنگ ڈیویلپمنٹ بورڈ کے تین لوگوں کے بس کی بات نہیں کہ اس کار مافیا کو نکیل ڈال سکیں ۔ ایک نیا محکمہ بنانا پڑے گا جو اس تمام انڈسٹری جس میں گاڑیوں ، موٹربائیکس، ہیوی ڈیوٹی ٹرک ، بسوں ، رکشوں ،ٹریکٹر بنانے والوں کو ریگولیٹ کرسکے ۔ تاکہ جب بھی کوئی حادثہ ہو ۔ اور اگر کسی گاڑی کا ایئر بیگ نہ کھلے ۔ یا اس گاڑی کے ABS بریکس کام نہ کریں تو انکوئری بٹھائی جائے ۔ اور پوری کی پوری لاٹ واپس بھجوائی جائے جیسا پوری دنیا اور مہذب معاشروں میں ہوتا ہے ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں

  • عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    عمران خان کو حکومت میں آئے 9 ماہ گزر چکے ہیں۔ ان 9 ماہ میں جہاں بیورو کریسی میں خوب اکھاڑ پچھاڑ کی گئی وہاں وفاقی اور صوبائی وزیر بھی نہیں بچے۔ تبدیلی ہر جگہ عملی طور پر نظر آئی۔ ویسے تو حکومت لیموں سے لے کر ڈالر تک کی قیمتیں کنڑول کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ مگر گراؤنڈ پر حالات اس سے بھی برے ہیں۔

    سیاست میں نعرے لگانا ، دعوے کرنے ، باتیں بنانا بھی ضروری ہے مگر کام کرنا ایک فن ہے ۔ یہ تو ثابت ہو چکا ہے تحریک انصاف میں باتیں کرنے والے زیادہ ہیں اور کام کرنے والے کم ۔ شاید اسی لیے ہر جگہ ٹیکنو کریٹس سے کام چلایا جا رہا ہے ۔ بیورو کریسی، وزراء تو دور کی بات وزیر اعلی پنجاب کی بات نہیں سنتی ۔عثمان بزدار کی نااہلی کے چرچے تو زبان زد عام ہیں مگر پھر بھی وہ کپتان کے وسیم اکرم پلس ہیں ۔

    ڈالر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ قیمت اس لیے بڑھ رہی ہے کیونکہ مشرف ، زرداری اور نواز شریف دور میں منصوعی طور پر ڈالر کی قیمت کو روکے رکھا گیا تھا ۔ جبکہ حقائق یہ ہیں کہ پیپلز پارٹی دور میں ڈالر 32 روپے، نواز شریف کے دور میں ڈالر 26 روپے اور تحریک انصاف کے ان 9 مہینوں میں ڈالر 19روپے مہنگا ہوا ہے ۔ عوام کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ پی ٹی آئی کا ابھی چار سال اور تین ماہ کا دور حکومت باقی ہے ۔

    کاروبار ختم ہو چکا ہے ۔ مارکیٹیں سنسان ہیں ۔ گاہک غائب ہیں ۔ رئیل اسٹیٹ کا کاروبار بند پڑا ہے ۔پرچیوں پر کاروبار ہو رہا ہے ۔ لوگ پیسہ روک کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ کسی کو حکومتی پالیسوں پر اعتماد نہیں ۔ایک کروڑ نوکریاں تو دور کی بات 30 فیصد بے روز گاری میں اضافہ ہو چکا ہے ۔ پیٹرول کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ گزشتہ دور کی حکومتیں منصوعی ٹیکس لگا کر زائد قیمتیں وصول کرتی ہیں ۔ اب شاید نئے پاکستان میں پیٹرول پر صرف ٹیکس ہی وصول کیا جا تا ہے ۔گزشتہ ادوار میں سٹاک مارکیٹ کو بھی منصوعی طور 50 ہزار سے زائد پوائنٹس پر رکھا گیا تھا جو نیا پاکستان بنتے ساتھ ہی اپنی اصل حالت میں واپس آچکی ہے ۔بجلی کے بھی منصوعی کارخانے اور منصوبے لگائے جاتے تھے ۔اسی لیے اب لوڈ شیڈنگ بالکل ختم ہو چکی ہے ۔

    موٹرویز ، میٹرو بسیں ، اورنج لائن اور سٹرکوں کے جال بھی جعلی تھے۔ مگر پشاور میں اصلی بی آر ٹی منصوبہ تعمیر کیا جا رہا ہے ۔ اس لیے روز اس کا ڈیزائن تبدیل ہوتا ہے ۔ لاگت ڈبل ہو چکی ہے ۔ کسی کو نہیں پتہ کہ یہ منصوبہ کب مکمل ہو گا ۔ مگر عمران خان کو یہ یقین ہے کہ اس منصوبے میں کرپشن نہیں ہو ئی اس لیے یہاں نہ کسی سے حساب مانگا جا ئے گا نہ کسی کا احتساب کیا جائے گا۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ ادوار میں کرپشن ہوئی ۔ نواز شریف سے زرداری تک ، اسفند یار ولی سے محمود اچکزئی تک ، فضل الرحمان سے شیر پاؤ تک ، سب پر کرپشن کے سینکڑوں الزامات ہیں ۔ کئی تو عدالتوں سے سزا یافتہ ہیں ۔ اکثر پر نیب میں کیسسز چل رہے ہیں ۔ ان 9 ماہ میں تحریک انصاف نے شاید کرپشن نہ کی ہو ۔ مگر نا اہلی کی ایسی مثالیں قائم کیں ہیں کہ عوام کی بس ہو چکی ہے ۔ عمران خان اور تحریک انصاف کے وہ ووٹر اور سپورٹر جو ان کی خاطر مرنے کو تیار رہتے تھے ۔ وہ بھی اب حکومتی کارکردگی سے مایوس دکھائی دیتے ہیں ۔ کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں کہ کیوں چوروں ، ڈاکوؤں، لٹیروں کا پرانا پاکستان اس 9 ماہ کے نئے پاکستان سے بہتر تھا۔

    کپتان کا اصل امتحان عید کے بعد شروع ہو گا جب ایک جانب اپوزیشن اکٹھی ہو کر لڑنے کے لیے تیار ہو گی تو دوسری طرف بجٹ پیش کرنا ہو گا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کپتانوں کے کپتان عمران خان اس بجٹ میں ریلیف اپنے ووٹر اور سپورٹر کو دیتے ہیں یا پھر پرانے پاکستان کے چوروں اور لیٹروں کی طرح صرف ایک خاص طبقے کو ۔

    تحریک انصاف کے لیے پیغام ہے کہ ہنی مون گزر چکا عمران خان کو اب جلد کچھ عملی طور پر کر کے دکھانا ہو گا ۔ ان دعوؤں، وعدوں اور خوابوں سے مزید کام نہیں چلنا ۔اب عمران خان سے حساب بھی مانگا جائے گا اور حکومت کی کارکردگی کا احتساب بھی کیا جائے گا ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں

  • دریائے چناب اور دریائے سندھ پر 10ارب کی لاگت سے نئے پل بنانے کی منظوری

    وزیراعظم عمران خان نے تحصیل جتوئی کو ملتان اور راجن پور کو ملانے کیلئے پل بنانے کی منظوری دیدی ۔ممبر قومی اسمبلی سید باسط سلطان کی کاوشوں کے نتیجہ میں وزیر اعظم نے 10 ارب روپے کی لاگت سے دریائے چناب اور سندھ پر پل بنانے کی منظوری دی۔پل کے ذریعےجلالپور کو شہرسلطان اور جتوئی کو جام پور سے ملایا جائیگا اس سے ان تینوں شہروں کے درمیان مسافت انتہائی کم ہوجائے گی۔ممبر قومی اسمبلی سید باسط سلطان بخاری نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ 2019 میں دونوں پل بنانے کیلئے فنڈز بھی مختص کیئے جا رہے ہیں اس اہم منصوبے سے تحصیل جتوئی کی پسماندگی کا خاتمہ ہوگا اور ایک نئے دور کا آغاز ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ تحصیل جتوئی کی عوام وزیراعظم عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کی مشکور ہے ۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے قاتل روڈ مظفر گڑھ تا علی پور کو دورویہ کرنے کے لیے بھی فنڈز مختص کردیے ہیں۔