Baaghi TV

Category: بلاگ

  • زندگی کا حصولِ مقصد ،تحریر :نور فاطمہ

    زندگی کا حصولِ مقصد ،تحریر :نور فاطمہ

    انسان اور باقی مخلوقات میں بنیادی فرق یہی ہے کہ انسان سوچتا ہے، سوال کرتا ہے اور ایک مقصد تلاش کرتا ہے۔ اگر زندگی کا کوئی مقصد نہ ہو تو دن گزرتے جاتے ہیں مگر دل خالی رہتا ہے۔ مقصد کے بغیر زندگی ایک بے سمت کشتی کی طرح ہے جو لہروں کے رحم و کرم پر بہتی رہتی ہے۔

    مقصد کیا ہے؟
    مقصد کا مطلب صرف بڑا عہدہ، شہرت یا دولت کمانا نہیں۔ مقصد وہ وجہ ہے جس کے لیے آپ صبح اٹھتے ہیں۔ کسی کے لیے یہ علم حاصل کرنا ہے، کسی کے لیے والدین کی خدمت، کسی کے لیے لوگوں کی بھلائی، اور کسی کے لیے اللہ کی رضا۔ مقصد چھوٹا ہو یا بڑا، اپنا ہو۔ دوسروں کی نقل کیا ہوا مقصد کبھی دل کو سکون نہیں دیتا۔

    مقصد کیوں ضروری ہے؟
    حوصلہ دیتا ہے جب راستہ مشکل ہو تو مقصد آپ کو گرنے نہیں دیتا۔ تھامس ایڈیسن نے ہزار بار ناکامی کے بعد بھی بلب اس لیے بنایا کیونکہ اس کا مقصد دنیا کو روشنی دینا تھا۔وقت کی قدر سکھاتا ہے جسے اپنا مقصد معلوم ہو وہ فضول کاموں میں وقت ضائع نہیں کرتا۔ وہ ہر دن کو ایک قدم سمجھ کر چلتا ہے۔سکون دیتا ہے کامیابی کے بعد بھی بے چینی تب ہوتی ہے جب اندر سے خالی پن ہو۔ مقصد والی زندگی میں انسان کو لگتا ہے کہ اس کی محنت کا کوئی مطلب ہے۔

    مقصد کیسے تلاش کریں؟
    مقصد آسمان سے نہیں گرتا۔ اسے بنانا پڑتا ہے۔
    پہلا قدم خود سے سوال کریں- "میں کس کام کو کرتے ہوئے وقت بھول جاتا ہوں؟ میں دنیا میں کیا فرق لانا چاہتا ہوں؟”
    دوسرا قدم اپنی صلاحیت پہچانیں- اللہ نے ہر شخص کو کوئی نہ کوئی خاص خوبی دی ہے۔ ڈاکٹر، استاد، کسان، لکھاری، سب اپنے میدان میں مقصد پورا کر رہے ہیں۔
    تیسرا قدم چھوٹا شروع کریں – مقصد کو بڑے ٹکڑوں میں توڑ دیں۔ روز کا ایک کام کریں۔ تسلسل ہی مقصد کو حقیقت بناتا ہے۔
    رکاوٹیں
    سب سے بڑی رکاوٹ "مقابلہ” اور "تاخیر” ہے۔ ہم دوسروں کو دیکھ کر اپنا مقصد بدل دیتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے ڈاکٹر بنو، کوئی کہتا ہے بزنس کرو۔ لیکن یاد رکھیں، درخت دوسرے درخت کو دیکھ کر پھل نہیں دیتا۔ وہ اپنا پھل خود دیتا ہے۔ دوسری رکاوٹ یہ سوچ ہے کہ "ابھی وقت نہیں”۔ مقصد کے لیے کامل وقت کبھی نہیں آتا، آغاز آج سے کرنا پڑتا ہے۔
    نتیجہ
    زندگی کا اصل حسن حصولِ مقصد میں ہے۔ جس دن آپ کو اپنی "کیوں” مل جائے، "کیسے” کے راستے خود نکل آتے ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ دنیا مشہور نہ ہوں، لیکن اگر آپ نے ایک انسان کی زندگی بہتر بنا دی، ایک درخت لگا دیا، ایک بچے کو پڑھا دیا، تو آپ کا مقصد پورا ہو گیا۔
    آخر میں بس یہ یاد رکھیں سانس لینا زندگی نہیں، جینے کی وجہ رکھنا زندگی ہے۔ اپنا مقصد ڈھونڈیں، اس پر محنت کریں، اور تسلسل سے چلیں۔ کیونکہ مقصد کے بغیر کامیابی بھی بے مزہ ہے، اور مقصد کے ساتھ ناکامی بھی کامیابی کی سیڑھی بن جاتی ہے۔

  • نئے صوبے یا پرانی سیاست؟ قومی مفاد پر ایک سنجیدہ مکالمہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    نئے صوبے یا پرانی سیاست؟ قومی مفاد پر ایک سنجیدہ مکالمہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان مزید سیاسی تماشوں کا متحمل نہیں، اب قومی مفاد میں سنجیدہ فیصلوں کا وقت آ چکا ہے

    ہر نئی اصلاحی تجویز کو سیاسی خوف اور مفادات کی عینک سے دیکھنے کی روایت ختم ہونی چاہیے

    اگر نئے صوبے عوامی سہولت اور بہتر انتظام کا ذریعہ بن سکتے ہیں تو سنجیدہ غور ضروری ہے

    لوڈشیڈنگ، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل موجود ہوں تو سیاست کا رخ عوامی فلاح کی جانب ہونا چاہیے

    سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر قومی مفاد اور عوامی مسائل پر یکسوئی وقت کی اہم ضرورت ہے

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان میں جب بھی اصلاحات، انتظامی بہتری یا اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی بات ہوتی ہے تو کچھ حلقے فوراً مخالفت کے مورچوں میں جا بیٹھتے ہیں۔ نئے صوبوں کے قیام کی تجویز بھی انہی موضوعات میں سے ایک ہے جسے جذبات، سیاسی وابستگیوں اور ذاتی مفادات کی عینک سے دیکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ اس معاملے کا تعلق کسی ایک جماعت، ایک حکومت یا ایک سیاسی شخصیت سے نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل، عوامی سہولت اور بہتر طرزِ حکمرانی سے ہے۔

    سوال یہ ہے کہ کیا دنیا وہیں کھڑی ہے جہاں نصف صدی پہلے کھڑی تھی؟ ذرا یورپ، شمالی امریکہ اور ترقی یافتہ ممالک کے انتظامی ڈھانچے کا مطالعہ کیجیے۔ پاکستان سے کہیں چھوٹے ممالک میں بھی انتظامی اکائیاں زیادہ ہیں، اختیارات تقسیم ہیں، فیصلے عوام کے قریب ہیں اور ریاستی مشینری شہریوں کی دہلیز تک پہنچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں ترقی کا سفر تیز، احتساب مؤثر اور عوامی خدمات نسبتاً بہتر نظر آتی ہیں۔

    بدقسمتی سے ہمارے ہاں بعض لوگ ہر نئی تجویز کو اس خوف سے دیکھتے ہیں کہ کہیں اقتدار کے ایوانوں میں طاقت کا توازن تبدیل نہ ہو جائے۔ ان کے لیے اصل مسئلہ عوامی فلاح نہیں بلکہ سیاسی بساط پر مہرے بچانا ہوتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جو لوگ نئے صوبوں پر طویل مباحث کرتے ہیں، وہ شاذ و نادر ہی اس سوال پر گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ عام آدمی کو گیس کب ملے گی؟ بجلی کی لوڈشیڈنگ سے نجات کب ملے گی؟ نوجوانوں کو روزگار کب ملے گا؟ پاکستان قرضوں کے بوجھ سے کب آزاد ہوگا؟ اور ہم ترقی پذیر سے ترقی یافتہ قوموں کی صف میں کب شامل ہوں گے؟

    قومیں محض سیاسی نعروں سے نہیں بنتیں، بلکہ عوامی خوشحالی، معاشی استحکام اور مؤثر حکمرانی سے بنتی ہیں۔ اگر آج بھی ایک عام پاکستانی مہنگائی، بے روزگاری، ناقص صحت اور کمزور تعلیمی نظام کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے تو ہماری اولین ترجیح یہی مسائل ہونے چاہئیں، نہ کہ ایسی بحثیں جن کا مقصد صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہو۔
    اس وقت پاکستان کو داخلی استحکام، قومی یکجہتی اور امن و امان کی مضبوط فضا کی ضرورت ہے۔ بلوچستان، خیبرپختونخوا اور دیگر حساس علاقوں میں بیرونی مداخلت اور تخریبی سرگرمیاں ایک حقیقت ہیں۔ قومی سلامتی، معاشی استحکام اور انتظامی اصلاحات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے موضوعات ہیں۔ ان پر سنجیدہ اور ذمہ دارانہ مکالمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
    دنیا بھر میں مقیم اوورسیز پاکستانی، چاہے وہ یورپ میں ہوں، امریکہ میں ہوں یا مشرقِ وسطیٰ میں، پاکستان کو ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ ملک میں ایسے فیصلے ہوں جو عوام کی زندگی آسان بنائیں، ریاستی اداروں کو مؤثر بنائیں اور ترقی کے دروازے کھولیں۔

    وقت آ گیا ہے کہ ہم شخصیات سے بالاتر ہو کر پالیسیوں پر گفتگو کریں۔ ہر تجویز کو اس کسوٹی پر پرکھا جائے کہ اس سے عام آدمی کو کیا فائدہ پہنچے گا۔ اگر نئے صوبے بہتر انتظام، تیز تر ترقی، مقامی نمائندگی اور عوامی سہولت کا ذریعہ بن سکتے ہیں تو ان پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے، اور اگر ان میں خامیاں ہیں تو دلیل سے ان کی نشاندہی ہونی چاہیے۔
    پاکستان مزید سیاسی تماشوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ قوم کو محفلوں کی گرما گرمی نہیں، بلکہ فیصلوں کی سنجیدگی درکار ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جو اپنے عوام کے مسائل کو اقتدار کی سیاست پر ترجیح دیتی ہیں۔ پاکستان کی بقا، استحکام اور خوشحالی کا راستہ بھی اسی اصول سے ہو کر گزرتا ہے۔

  • آن لائن قربتیں، حقیقی دوریاں،تحریر:قرۃالعین خالد

    آن لائن قربتیں، حقیقی دوریاں،تحریر:قرۃالعین خالد

    اکیسویں صدی میں سوشل میڈیا انسانی زندگی کا لازمی جزو بن چکا ہے۔ دنیا اس وقت ایک گلوبل ویلج کی صورت اختیار کر چکی ہے اور اس تبدیلی کا سب سے بڑا معمار سوشل میڈیا ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز اب صرف تفریح کا ذریعہ نہیں رہے بلکہ یہ ہماری روزمرہ زندگی، سوچ، ہمارے ذہنوں اور سب سے بڑھ کر ہمارے معاشرتی رویوں کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ دور حاضر کی ان سہولیات نے جہاں رابطوں کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کیا ہے، وہیں اس نے ہمارے سماجی، معاشرتی اور اخلاقی تانے بانے کو شدید متاثر بھی کیا ہے۔ جہاں سوشل میڈیا ہمارے لیے کاروبار اور تفریح کا جہان آباد کیا ہے وہیں اس نے معاشرتی رویوں، تعلقات اور اقدار پر بھی کافی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس دنیا میں ہر وہ کام جو بظاہر ہمارے سہولت کے لیے نظر آتا ہے دراصل اس کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ آئیے! سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ تمام پہلو ہمارے معاشرتی رویوں پر کس طرح اثر انداز ہو رہے ہیں۔

    اگر ہم غور فکر کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا نے معاشرے کو متعدد مثبت مواقع اور سہولیات فراہم کی ہیں۔ جیسے بہت ذیادہ چیزوں کی معلومات، شعور اور آگاہی دی ہے۔ تعلیم، صحت، کاروبار، تفریح، سیاست اور دنیا بھر کے حالات حاضرہ سے آگاہی اب محض ایک کلک کی دوری پر ہے۔ معاشرتی مسائل پر آواز اٹھانا ماضی میں کبھی اتنا آسان نہیں تھا۔ نوجوان نسل کو کاروباری اور معاشی مواقع فراہم کیے ہیں۔ ای کامرس اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے چھوٹے تاجروں، بالخصوص خواتین کے لیے گھر بیٹھے روزگار کے نئے دروازے کھلے ہیں۔ طلباء اور اساتذہ کے لیے تحقیق کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ آن لائن کورسز، لیکچرز اور تعلیمی مواد تک رسائی چند لمحوں میں ممکن بنا دی ہے۔ سوشل میڈیا کا ایک اور مثبت قدم کہ اس نے اظہارِ رائے کی آزادی دی ہے۔ عام آدمی کو اپنی بات، ہنر اور سوچ دنیا کے سامنے پیش کرنے کا موقع ملا ہے جو پہلے صرف روايتی میڈیا ٹی وی اور اخبارات تک محدود تھا۔ سماجی اور فلاحی کاموں کو نیا سنگ میل ملا ہے۔ کسی مریض کے لیے خون کا عطیہ ہو یا کسی آفت زدہ کی مدد، سوشل میڈیا کے پیغامات کے ذریعے منٹوں میں لاکھوں روپے اور امداد جمع کر لی جاتی ہے۔ جہاں سوشل میڈیا نے فاصلوں کو سمیٹ دیا ہے اور بہت مثبت کام کیے ہیں وہیں سوشل میڈیا کے نقصانات بھی انسانی زندگی پر عیاں ہیں۔ یہ ایک خاموش زہر کی طرح ہماری زندگیوں میں داخل ہو چکا ہے۔ فرمان نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مطابق "آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات پر یقین کرے اور بغیر تصدیق کے آگے پہنچائے۔” تو آج سوشل میڈیا جھوٹی خبریں، سستی شہرت کے پیچھے پھیلا رہا ہے۔ سنسنی خیزی اور ریٹنگ کی دوڑ میں بغیر تصدیق کے خبریں پھیلانا ایک معمول بن چکا ہے۔ جس سے معاشرے میں خوف اور بے یقینی پھیلتی جا رہی ہے۔ دوسری طرف گھنٹوں سکرولنگ کرنے کی عادت نے ہمیں وقت ضائع کرنے والوں کی فہرست میں کھڑا کر دیا ہے۔ ہمارے دماغ کو ریلز میں الجھا کر ہماری صلاحیتوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ اپنی ذاتی زندگی کی ہر بات انٹرنیٹ پر شیئر کرنے کے رجحان نے لوگوں کی سیکیورٹی اور پرائیویسی کو شدید خطرات میں ڈال دیا ہے۔ اب نجی زندگی پبلک بنتی جا رہی ہے۔

    سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ اس طرح کے معاشرتی رویوں کے اثرات پر ہم کہاں کھڑے ہیں؟سوشل میڈیا کا سب سے گہرا اثر ہمارے آپسی تعلقات اور رویوں پر پڑا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے ذریعے دن بدن ہمارے رابطوں میں اضافہ، مگر تعلقات میں دوری آ گئی ہے۔ فرینڈ لسٹ تو ہزاروں کی ہے لیکن حقیقت میں کوئی دوست نہیں کیونکہ دوست تو وہ ہوتا ہے جو ہر مصیبت میں آپ کے ساتھ کھڑا ہو۔ سوشل میڈیا کی دوستی بس ایک لائیک اور کمینٹ تک محدود ہے۔ ہم آن لائن تو سینکڑوں لوگوں سے جڑے ہیں، لیکن اپنے ہی گھر میں بیٹھے افراد سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ خاندانی نشستوں پر لوگ ایک دوسرے سے بات کرنے کے بجائے اپنے فون کی سکرین پر مصروف نظر آتے ہیں، جس سے آپسی محبت اور ہمدردی کا عنصر ختم ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے حوالے سے ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بچے کے آن لائن ہونے سے ماں کو پتہ چلتا ہے کہ وہ سو کر اٹھ چکا ہے۔ سوشل میڈیا کے مزید منفی پہلو پر روشنی ڈالوں تو عدم برداشت اور منفی رویہ سامنے آتا ہے۔ لوگوں کو گمنام ہو کر دوسروں پر تنقید کرنے کا موقع سر عام مل جاتا ہے۔ اختلافات پر شائستگی کے بجائے گالی گلوچ، ٹرولنگ اور نفرت انگیز مواد کو فروغ مل رہا ہے، جس نے ہمارے اندر برداشت کا مادہ ختم کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اکثر لوگ اپنی زندگی کا صرف بہترین حصہ شیئر کرتے ہیں۔ دوسروں کی پرتعیش زندگی، سیر و تفریح اور خوبصورت تصاویر دیکھ کر عام انسان احساسِ کمتری، حسد اور ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔
    زیادہ سے زیادہ لائیکس اور ویوز حاصل کرنے کی دوڑ میں اخلاقی حدود کو پامال کیا جا رہا ہے۔ سنسنی خیز اور غیر اخلاقی ویڈیوز بنا کر راتوں رات مشہور ہونے کا جنون ہماری نوجوان نسل کی ترجیحات کو بگاڑ رہا ہے۔ جہاں مسائل ہوتے ہیں وہیں پر ان کے حل بھی موجود ہوتے ہیں۔

    سوشل میڈیا ایک ایسا آلہ ہے جو ہماری زندگیوں میں ایسے رچ بس گیا ہے جسے ہم چاہ کر بھی ختم نہیں کر سکتے، لیکن اس کے درست اور متوازن استعمال کی یقینی کوشش کی جا سکتی ہے۔ کوشش کرنے سے تو جنگیں بھی جیتی جا سکتی ہیں تو ہمیں کرنا کیا ہے؟ ہمیں اپنے سکرین ٹائم کو محدود کرنا ہو گا اور حقیقی زندگی کے تعلقات کو ترجیح دینی ہو گی۔ اصول بنا لیں کہ کسی بھی خبر یا افواہ کو آگے پھیلانے سے پہلے اس کی تصدیق لازمی کرنی ہے۔ والدین نے یہ جو ماچس بچوں کے ہاتھوں میں پکڑا دی ہے اس کو استعمال کرنے کی ڈیجیٹل اخلاقیات سکھانی چاہئیں۔ حکومت کو سائبر بلنگ اور فیک نیوز پھیلانے والوں کے خلاف سخت قوانین پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔ سوشل میڈیا بذاتِ خود نہ تو اچھا ہے اور نہ برا بلکہ اس کا مثبت یا منفی ہونا ہمارے استعمال پر منحصر ہے۔ یہ ایک چھری کی مانند ہے جس سے سبزیاں بھی کاٹی جا سکتی ہیں اور کسی کا نقصان بھی کیا جا سکتا ہے۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم سوشل میڈیا کو اپنے رویوں کی بہتری کے لیے استعمال کرتے ہیں یا اسے اپنی اخلاقی اور سماجی قدروں کی تباہی کا ذریعہ بناتے ہیں۔ بنی نوع انسان اپنے افکار، کردار اور گفتار میں بہت طاقتور ہے تو کسی بھی بیرونی طاقت کو خود پر خاوی نہ ہونے دیں کیونکہ سوشل میڈیا انسان کی ایجاد ہے۔ انسان سوشل میڈیا کی ایجاد نہیں ہے۔ لہذا سوشل میڈیا ہمارا غلام ہے ہم اس کے غلام نہیں ہیں۔ مالک غلام کے مطابق نہیں چلتا بلکہ غلام کو اپنے مطابق چلاتا ہے۔ یہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم نے سوشل میڈیا کو کیسے استعمال کرنا ہے اور کیسے اس سے فائدہ اٹھانا ہے۔ کسی بھی چیز میں مثبت طرز عمل ہمارے لیے آسانیوں کے دروازے کھولتا ہے۔ مثبت رہیے رب العزت آپ کی زندگیوں میں آسانیاں فرمائے۔ آمین!

  • صحافت ، مصنوعی ذہانت ، ڈیجیٹل میڈیا،تحریر: ملک مہاتیرمحمد

    صحافت ، مصنوعی ذہانت ، ڈیجیٹل میڈیا،تحریر: ملک مہاتیرمحمد

    ڈیجیٹل ٹرسٹ اور اظہارِ رائے کی آزادی: مصنوعی ذہانت کے دور میں ذمہ دارانہ صحافت کی ضرورت
    نیوز روم کی وہ رات مجھے آج بھی یاد ہے۔ اسکرین پر ایک ویڈیو آئی، ہو بہو حقیقی، آواز جانی پہچانی، مگر جیسے ہی اسے دوبارہ دیکھا تو کچھ عجیب سا لگا۔ نہ آنکھ جھپکنا فطری تھا، نہ ہونٹوں کی حرکت آواز سے پوری طرح میل کھا رہی تھی۔ وہ ویڈیو جعلی تھی ، ایک ڈیپ فیک۔ اسی رات مجھے احساس ہوا کہ آج کے صحافی کا اصل امتحان خبر دینا نہیں، بلکہ یہ جاننا ہے کہ خبر سچی بھی ہے یا نہیں۔

    یہی سوال لے کر میں چند دن پہلے ایک ایسی ورکشاپ میں پہنچا جس نے میری اس الجھن کا جواب دینے کی کوشش کی ورکشاپ “ڈیجیٹل ٹرسٹ اینڈ فری ایکسپریشن اِن دی اے آئی ایرا” کے عنوان سے ڈیپارٹمنٹ آف میڈیا اینڈ ڈیولپمنٹ کمیونی کیشن، یونیورسٹی آف دی پنجاب میں منعقد کی گئی، جو یو ایس مشن ٹو پاکستان کی معاونت اور پاکستان۔یو ایس ایلمنائی نیٹ ورک (PUAN) کے اشتراک سے منعقد ہوئی۔ ایک ایسے صحافی کے طور پر جو گزشتہ ڈیڑھ سال سے پروگرامنگ پروڈکشن اور نیوز اینکرنگ سے وابستہ ہوں، یہ نشست میرے لیے محض ایک تربیتی سیشن نہیں بلکہ ایک آنکھ کھولنے والا تجربہ ثابت ہوئی۔

    ورکشاپ کا آغاز ایک ایسے موضوع سے ہوا جس نے سب کو چونکا دیا: AI Hallucinations، یعنی مصنوعی ذہانت کا خود سے جھوٹی یا فرضی معلومات تخلیق کر لینا۔ مقررین نے واضح کیا کہ اے آئی اعتماد سے بات کرتا ہے، مگر اعتماد کا مطلب سچائی نہیں۔ صحافی کے لیے سبق سیدھا تھا،ٹول جو بھی بتائے، تصدیق کیے بغیر شائع نہ کریں۔

    اس کے بعد گفتگو کا رخ Verification، Fact-Checking اور Digital Trust کی طرف مڑا۔ ایک بات جو دل پر نقش ہو گئی وہ یہ تھی کہ کسی بھی میڈیا ادارے کا سب سے قیمتی اثاثہ اس کے ناظرین کی تعداد نہیں بلکہ ان کا اعتماد ہے، اور اعتماد ایک بار ٹوٹ جائے تو دوبارہ کمانا کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔Deepfakes اور Manipulated Content پر ہونے والی نشست نے مجھے وہ نیوز روم والی رات دوبارہ یاد دلا دی۔ بتایا گیا کہ آج کی اے آئی ٹیکنالوجی اتنی ترقی یافتہ ہو چکی ہے کہ جعلی ویڈیو اور تصویر کو ننگی آنکھ سے پہچاننا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے، اسی لیے Visual Verification کے جدید ٹولز اور تکنیکیں سیکھنا اب صحافی کے کام کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔

    Ethical Journalism and Responsible AI Use پر گفتگو کرتے ہوئے ایک بات واضح طور پر سامنے آئی کہ مصنوعی ذہانت صحافی کا معاون ہو سکتی ہے، اس کا نعم البدل نہیں۔ حقائق کی تلاش، غیر جانبداری اور عوامی مفاد کا تحفظ —یہ وہ ذمہ داریاں ہیں جو کوئی الگورتھم صحافی سے نہیں چھین سکتا۔

    Responsible Digital Storytelling کے سیشن نے ایک اور اہم نکتہ اجاگر کیا: ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر مواد بناتے وقت مقصد صرف زیادہ ویوز یا وائرل ہونا نہیں ہونا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ آیا یہ مواد معاشرے میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے، یا کسی فرد و گروہ کے حقوق کو نقصان تو نہیں پہنچا رہا۔ورکشاپ کے اختتام پر Building Audience Trust in the Digital Age پر بات ہوئی، اور یہی وہ نکتہ تھا جس نے پوری نشست کا لب لباب سمو دیا، میڈیا کی کامیابی ناظرین کی تعداد سے نہیں بلکہ ان کے اعتماد سے ناپی جاتی ہے۔

    پروگرامنگ پروڈکشن اور نیوز اینکرنگ، دونوں شعبوں میں کام کرنے کے تجربے نے مجھے یہ سکھایا تھا کہ ٹیکنالوجی اپنانا آسان ہے، مگر اسے ذمہ داری سے استعمال کرنا اصل چیلنج ہے۔ اس ورکشاپ نے اس سبق پر مہر ثبت کر دی،AI ایک طاقتور اوزار ضرور ہے، مگر انسانی فیصلہ، تنقیدی سوچ اور تصدیق کی اہمیت کبھی کم نہیں ہو گی۔ایسی نشستیں نوجوان صحافیوں کو نہ صرف نئے چیلنجز سے روشناس کراتی ہیں بلکہ انہیں ایک ذمہ دار، بااعتماد اور پیشہ ورانہ صحافی بننے کا راستہ بھی دکھاتی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہاں سے سیکھا گیا ہر سبق میری آئندہ صحافتی زندگی میں میرا ساتھ دے گا۔

    نوٹ
    اس بلاگ میں بیان کیے گئے خیالات، تصورات اور آراء صرف مصنف کی اپنی ہیں اور ضروری نہیں کہ یہ U.S Mission to Pakistan یا USEFP/PUAN کی سرکاری پالیسی یا مؤقف کی عکاسی کریں-

  • محسن نقوی کا بیان، نظام کی اصلاح کا مطالبہ یا سیاسی ہنگامہ؟تجزیہ:شہزادقریشی

    محسن نقوی کا بیان، نظام کی اصلاح کا مطالبہ یا سیاسی ہنگامہ؟تجزیہ:شہزادقریشی

    سسٹم کب درست ہوگا،کون درست کرے گا ،قیام پاکستان سے اب تک سوال موجود
    انتظامی اور سیاسی روئیے عوامی مسائل کے حل میں رکاوٹ ،ذمہ دار کون؟
    وزیراعلیٰ پنجاب نے نظام کو ٹریک پر ڈال دیا،چٹ سسٹم کا خاتمہ بہتری کی علامت
    افسوس!سیاسی ذمہ دار کسی بھی بیان کا مفہوم سمجھنے کیلئے تیار نہیں ،تربیت کون کریگا؟

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان، جس میں انہوں نے کہا کہ سسٹم کولیپس کر چکا ہے پر ملک بھر میں سیاسی اور میڈیا حلقوں میں بحث کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے،تاہم اس بیان کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ لفظ "سسٹم” کو اس کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے، سسٹم سے مراد محض ایک ادارہ یا ایک شعبہ نہیں بلکہ مجموعی انتظامی، سیاسی، معاشی اور سماجی ڈھانچہ ہوتا ہے جو ریاست کے امور کو چلانے کا ذمہ دار ہوتا ہے،پاکستان میں برسوں سے یہ شکایات موجود رہی ہیں کہ بعض انتظامی اور سیاسی روئیے عوامی مسائل کے حل میں رکاوٹ بنتے ہیں،بیوروکریسی، سیاسی اثر و رسوخ، سفارش اور ذاتی مفادات پر مبنی بعض روایات نے عام شہری اور ریاستی اداروں کے درمیان فاصلے پیدا کئے، ایسے حالات میں اگر کوئی ذمہ دار عہدیدار نظام کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے تو اسے محض تنقید نہیں بلکہ اصلاح کی دعوت سمجھا جانا چاہیے،محسن نقوی کے بیان کو بھی اسی پس منظر میں دیکھا جا سکتا ہے، بظاہر ان کا اشارہ اس فرسودہ طرزِ حکمرانی کی طرف تھا جس میں بعض بااثر طبقات عوامی مفاد پر اپنے سیاسی یا معاشی مفادات کو ترجیح دیتے رہے ہیں، ان کی گفتگو کا مقصد نظام کی خامیوں کی نشاندہی اور اصلاح کی ضرورت کو اجاگر کرنا معلوم ہوتا ہے نہ کہ ریاستی اداروں یا عوام کی تضحیک،پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے انتظامی اصلاحات کی مثال بھی اسی تناظر میں پیش کی جاتی ہے، ان اصلاحات کا بنیادی مقصد شہریوں کو سفارش، سیاسی دباؤ اور نام نہاد "چٹ سسٹم” سے نجات دلانا اور سرکاری اداروں کو براہِ راست عوام کے سامنے جوابدہ بنانا قرار دیا جاتا ہے، اگر عوام کو اپنے جائز کام کے لئے کسی سیاسی شخصیت یا بااثر فرد کی سفارش درکار نہ ہو تو یہ جمہوری اور انتظامی بہتری کی علامت سمجھی جاتی ہے،افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے سیاسی ماحول میں اکثر بیانات کو ان کے اصل مفہوم کے بجائے سیاسی مفادات کی عینک سے دیکھا جاتا ہے، اصل مسئلہ پس منظر میں چلا جاتا ہے اور لفظوں پر تنازعات کھڑے کر دئیے جاتے ہیں، ملک کو اس وقت الزام تراشی، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور غیر ضروری ہنگامہ آرائی کے بجائے سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے،اگر نظام میں واقعی خامیاں موجود ہیں تو ان کا اعتراف کمزوری نہیں بلکہ اصلاح کی پہلی شرط ہے،قوموں کی ترقی اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب وہ اپنے مسائل کی نشاندہی کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے ان مسائل کے حل پر توجہ دیں، یہی رویہ پاکستان کو ایک زیادہ مؤثر، شفاف اور عوام دوست نظامِ حکمرانی کی طرف لے جا سکتا ہے

  • ‎آزاد کشمیر انتخابات: دوسرے مرحلے کے نتائج آنا شروع، کئی نشستوں پر ن لیگ کو برتری

    ‎آزاد کشمیر انتخابات: دوسرے مرحلے کے نتائج آنا شروع، کئی نشستوں پر ن لیگ کو برتری

    ‎آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں پولنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور مختلف حلقوں سے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج موصول ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ابتدائی نتائج کے مطابق متعدد مہاجرین کی نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔
    ‎دوسرے مرحلے میں مظفر آباد ڈویژن کے 8 حلقوں اور مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں پر ووٹنگ ہوئی۔ مظفر آباد ڈویژن میں پولنگ کا عمل ووٹرز کی بڑی تعداد کے باعث شام 6 بجے تک جاری رکھا گیا، جبکہ حلقہ ایل اے 27 میں خراب موسم اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے انتخابی عملہ اور پولنگ سامان نہ پہنچ سکا، جس کے باعث تمام 196 پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابات ملتوی کر دیے گئے۔
    ‎غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق ایل اے 34 جموں 1 میں 131 میں سے 50 پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج کے بعد مسلم لیگ (ن) کے ناصر حسین ڈار 1,504 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں، جبکہ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے محمد سعود مختار 669 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔
    ‎ایل اے 35 جموں 2 میں 142 میں سے 25 پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے چوہدری محمد اسماعیل 3,637 ووٹ لے کر نمایاں برتری حاصل کیے ہوئے ہیں، جبکہ آزاد امیدوار سردار محمد غیاث 868 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
    ‎ایل اے 36 جموں 3 کے 36 پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے محمد احسن رضا 7,556 ووٹوں کے ساتھ آگے ہیں، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے احسن اسماعیل 3,303 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر ہیں۔
    ‎ایل اے 37 جموں 4 میں 57 پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی مریم جاوید 9,017 ووٹ لے کر سبقت برقرار رکھے ہوئے ہیں، جبکہ آزاد امیدوار عثمان علیم 7,683 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
    ‎اسی طرح ایل اے 38 جموں 5 میں 45 پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے ذیشان علی 5,153 ووٹ حاصل کر کے آگے ہیں، جبکہ مسلم لیگ آزاد جموں و کشمیر کے محمد اکبر چوہدری 4,921 ووٹوں کے ساتھ ان کے تعاقب میں ہیں۔
    ‎ایل اے 39 جموں 6 میں 24 پولنگ اسٹیشنوں کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے راجہ محمد صدیق 1,654 ووٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چوہدری فخر زمان 522 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔
    ‎الیکشن کمیشن کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام نتائج غیر سرکاری اور غیر حتمی ہیں، جبکہ مکمل نتائج تمام پولنگ اسٹیشنوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد جاری کیے جائیں گے۔

  • "تمہارا وجود ہماری زندگی” تحریر: عائشہ اسحاق

    "تمہارا وجود ہماری زندگی” تحریر: عائشہ اسحاق

    ہر طرف مارا ماری قتل و غارت اور بربریت کے زمانے میں ایسے خاموش جانداروں کا بھی کھلے عام قتل زور و شور سے جاری ہے جن سے نہ صرف ہماری بلکہ ہماری نسلوں کی بھی سانسیں جڑی ہے دنیا بھر میں جہاں لوگوں نے بنجر خطے بھی اپنی لگن اور پرخلوص کاوشوں سے سر سبز اور شاداب بنا ڈالے یہاں قدرتی وسائل سے مالا مال زرخیز خطہ بد قسمتی سے بد کردار لا لچی افسران کے ہوس کی بھینٹ چڑھ کر بنجر ہوتا جا رہا ہے اور افسوس اس بات کا زیادہ ہے کہ لوگ اپنی خاموش تباہی کو دیکھ کر بھی ان دیکھا کر رہے ھیں ۔ ایلیٹ کلاس اور حکمرانوں کے لیے محض پاکستان پیسے بنانے کی مشین کے سوا کچھ بھی نہیں اربوں قرض پاکستان کی فلاح کے نام پر لیا جاتا ہے جو ان کے ذاتی عیاشیوں کی نظر ہو جاتا ہے اسی طرح درختوں کو بےدردی سے کاٹ کر یہی طبقہ فیکٹریاں پلازے ہوٹلز بنانے میں مصروف ہے یہ وہ طبقہ ہے جو خود نہ صرف پرسکون پرفضا ماحول میں سکونت اختیار کیے ہوتا ہے بلکہ ان کے اہل خانہ بیرون ملک رہائش زیادہ تر اختیار رکھتے ہیں انہیں اس بات کی پرواہ نہیں کہ پاکستانی عوام جیے یا مرے ،خیر چھوڑئیے اس طبقے کی سیاہ کاریاں گنواتے بات بہت طویل ہو جاتی ہے میرا یہاں لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ کچھ تو انسان کے اپنے بھی فرض ہوتے ہیں شعور کی کمی اور لاپرواہی اپ کی اور انے والی نسلوں کی تباہی کا باعث بن رہی ہے اس بے حس ظالم طبقے کو فیکٹریاں ہوٹلز پلازے اور ہاؤسنگ سوسائٹیز بنانے سے روکا جائے کم از کم اتنا فرض تو ادا کیجیے کہ جن سے اپ کی سانسوں کا دارومدار جڑا ہے ان کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور کم از کم ہر فرد ذاتی طور پر ایک ایک درخت بھی لگائے تو آئیں ممکن ہے کہ فضا میں پھیلا زہر ختم ہو سکے۔

    یہی گھناؤنا سلسلہ شمالی علاقہ جات میں بھی جاری ہے سیاحت کے نام پر درختوں کا کاٹنا موسمی تبدیلیوں کی بڑی وجہ بن رہا ہے درجہ حرارت بڑھنے سے گلیشیر ز بہت تیزی سے پگھل رہے ہیں جو نہایت خطرناک صورتحال ھے۔ نہ جانے اس حقیقت سے غافل لوگ کب اس بات کو سمجھیں گے کہ درختوں کا وجود ھماری زندگی ھے اپ اپنے تھوڑے سے لالچ کی خاطر ان بڑے مگر مچھوں کے بے حس عزائم کو کامیاب بنا رہے ہیں اور اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

  • نئے صوبے مضبوط وفاق اور بہتر حکمرانی کی جانب ایک قدم،تجزیہ:شہزاد قریشی

    نئے صوبے مضبوط وفاق اور بہتر حکمرانی کی جانب ایک قدم،تجزیہ:شہزاد قریشی

    نئے صوبے مضبوط وفاق اور بہتر حکمرانی کی جانب ایک قدم

    ریاستیں رقبے سے نہیں، مؤثر حکمرانی سے مضبوط ہوتی ہیں

    بدلتے حالات نئے صوبوں اور انتظامی اصلاحات کا تقاضا کرتے ہیں

    پاکستان کو مضبوط وفاق کے لیے مضبوط انتظامی اکائیوں کی ضرورت ہے

    تجزیہ شہزاد قریشی

    دنیا کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ریاستوں کی مضبوطی کا تعلق صرف ان کے رقبے یا آبادی سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو کس حد تک مؤثر، منصفانہ اور قریب ترین سطح پر حکمرانی فراہم کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے متعدد ترقی یافتہ ممالک نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی انتظامی اکائیوں میں اضافہ کیا تاکہ عوامی مسائل کا حل زیادہ تیزی اور بہتر انداز میں ممکن بنایا جا سکے۔
    پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث کوئی نئی نہیں، تاہم وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان کے بعد یہ موضوع دوبارہ قومی مکالمے کا حصہ بن گیا ہے۔ اس بحث کو جذبات یا سیاسی مفادات کے بجائے قومی ضرورت، انتظامی بہتری اور عوامی فلاح کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ آبادی میں مسلسل اضافہ، شہری آبادی کے پھیلاؤ، ترقیاتی ضروریات اور انتظامی پیچیدگیوں نے موجودہ صوبائی ڈھانچے پر غیر معمولی دباؤ ڈال دیا ہے۔ ایک ہی صوبے کے بعض دور دراز علاقوں کے عوام آج بھی یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کی آواز اقتدار کے ایوانوں تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچتی۔ جب فیصلہ سازی عوام کے قریب آتی ہے تو مسائل کے حل کی رفتار بھی بڑھتی ہے اور ترقی کے ثمرات زیادہ منصفانہ انداز میں تقسیم ہوتے ہیں۔
    دنیا کے کئی ممالک اس کی عملی مثال ہیں۔ وہاں انتظامی وحدتوں میں اضافے نے قومی یکجہتی کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ وفاقی نظام کو مزید مستحکم کیا۔ مقامی شناختوں کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں آئینی اور انتظامی دائرے میں جگہ دینا دراصل قومی وحدت کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بنتا ہے، کیونکہ محرومیوں کا احساس کم ہوتا ہے اور عوام خود کو ریاستی نظام کا زیادہ مؤثر حصہ محسوس کرتے ہیں۔

    پاکستان میں بھی اگر نئے صوبوں کا قیام آئینی تقاضوں، قومی اتفاقِ رائے اور انتظامی ضرورت کے تحت کیا جاتا ہے تو یہ وفاق کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ایک موقع ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے وسائل کی بہتر تقسیم، ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر نگرانی، عوامی نمائندگی میں اضافہ اور مقامی مسائل کے فوری حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
    اصل سوال یہ نہیں کہ صوبوں کی تعداد کتنی ہونی چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ نظام عوام کی ضروریات کو پوری طرح پورا کر رہا ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو اصلاحات پر سنجیدہ غور و فکر وقت کی ضرورت ہے۔ قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنے نظام کو بہتر بنانے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ نئے صوبوں کی بحث بھی اسی قومی ارتقا اور بہتر حکمرانی کی تلاش کا ایک اہم باب ہے، جسے تعصب سے نہیں بلکہ تدبر، بصیرت اور قومی مفاد کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

  • آگ بجھانے والے کہاں ہیں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    آگ بجھانے والے کہاں ہیں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    احتجاج، اشتعال اور قومی ذمہ داری کا امتحان

    احتجاج، اشتعال اور سیاسی قیادت کی خاموشی قومی بحران اور ذمہ داری سے گریز

    جب سیاست مفاہمت کے بجائے محاذ آرائی چنے ریاست، احتجاج اور قیادت کا امتحان

    تجزیہ شہزاد قریشی

    تاریخ گواہ ہے کہ جب معاشروں کو بحرانوں، انتشار اور داخلی کشمکش کا سامنا ہوتا ہے تو ذمہ دار قیادتیں آگ پر تیل نہیں بلکہ پانی ڈالتی ہیں۔ قومی زندگی کے نازک اور حساس لمحات میں سیاسی و مذہبی قوتوں کا اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ جذبات کو بھڑکانے کے بجائے تدبر، حکمت اور تحمل کا راستہ اختیار کریں۔ بدقسمتی سے آج آزاد کشمیر سے لے کر لندن کی سڑکوں تک جاری احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں وہ قومی بصیرت اور اجتماعی دانش کم دکھائی دے رہی ہے جس کی ایک ذمہ دار قوم کو ضرورت ہوتی ہے۔

    اختلافِ رائے جمہوری معاشروں کا حسن ہے، احتجاج بھی ایک بنیادی سیاسی حق ہے، لیکن جب احتجاج کی فضا الزام تراشی، اشتعال انگیزی اور ریاستی اداروں کے خلاف غیر مہذب اور غیر ذمہ دارانہ زبان کے استعمال میں تبدیل ہو جائے تو اس کے اثرات محض سیاسی نہیں رہتے بلکہ قومی یکجہتی، سماجی ہم آہنگی اور بین الاقوامی سطح پر ملک کے تشخص کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

    افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایسے مواقع پر سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے جس متوازن اور مدبرانہ کردار کی توقع کی جاتی ہے، وہ نمایاں نظر نہیں آتا۔ قومی مفاد کا تقاضا تھا کہ تمام جماعتیں اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر کشیدگی میں کمی، برداشت کے فروغ اور مکالمے کی فضا قائم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرتیں۔ لیکن عملی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اکثر سیاسی قوتیں قومی مفاد کے بجائے اپنے سیاسی بیانیے، انتخابی مفادات اور اقتدار کی سیاست کو ترجیح دے رہی ہیں۔

    دنیا کی مہذب جمہوریتوں میں سیاسی قیادتیں بحران کے لمحوں میں ریاستی استحکام کو اولین ترجیح دیتی ہیں۔ وہ اپنے کارکنوں اور حامیوں کو قانون کے دائرے میں رہنے، اداروں کے احترام اور قومی مفاد کو مقدم رکھنے کی تلقین کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں بعض حلقوں کی جانب سے پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر قومی اداروں کے خلاف ایسی زبان استعمال کی جا رہی ہے جو نہ صرف سیاسی شائستگی کے منافی ہے بلکہ قومی مفادات کے بھی خلاف ہے۔

    یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ہر ادارہ تنقید سے بالاتر نہیں، لیکن تعمیری تنقید اور کردار کشی میں واضح فرق موجود ہے۔ جب تنقید کا مقصد اصلاح کے بجائے نفرت، تقسیم اور تصادم کو فروغ دینا بن جائے تو اس کا نقصان پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتا ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی اور مذہبی قیادتیں اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں۔ انہیں جذباتی نعروں کے بجائے مفاہمت، برداشت اور قومی وحدت کا پیغام دینا چاہیے۔ اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کرنا اور نوجوان نسل کو مثبت سیاسی شعور دینا ہی ایک مہذب اور مستحکم معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔

    تاریخ ہمیشہ ان قوتوں کو عزت اور احترام دیتی ہے جو بحران کے لمحوں میں قوم کو جوڑنے کا کردار ادا کرتی ہیں، جبکہ نفرت، اشتعال اور تقسیم کی سیاست وقتی فائدہ تو دے سکتی ہے، مگر قوموں کے مستقبل کو کمزور کر دیتی ہے۔ آج کا سوال یہی ہے کہ کیا ہماری سیاسی اور مذہبی قیادتیں تاریخ کے اس اہم موڑ پر آگ بجھانے والوں میں شمار ہوں گی یا پھر تماشائی بن کر حالات کی شدت میں اضافہ کرتی رہیں گی؟ وقت اس سوال کا جواب ضرور دے گا۔

  • کشمیری سیاسی قیادت کو ڈوب مرنا چاہیے،تحریر:بینا علی

    کشمیری سیاسی قیادت کو ڈوب مرنا چاہیے،تحریر:بینا علی

    "کشمیری سیاسی قیادت کو ڈوب مرنا چاہیے”بہت طویل انتظار کے بعد نیٹ سروسز بحال ہوئی پہلے تو بے یقینی کی کیفیت رہی اور جب حالاتِ حاضرہ منظرِ عام پہ آئے تو دل جیسے کسی نے چیر کے رکھ دیا ہو۔ آنکھیں نم ہو گئیں، سانس رُک گئی۔ دل چیخ اٹھا کہ یہ کیا ہو گیا؟ یہ وہ منظر نہیں تھا جس کے لیے ہم نے تقریباً دو ماہ انتظار کیا تھا۔جب یہ تحریک شروع ہوئی تو یہ کچھ جائز مطالبات اور عوام الناس کے بنیادی حقوق کی تحریک تھی جس کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں تھا اس کے باوجود اسے کالعدم قرار دیا گیا۔ روٹی اور عزت کی بات کرنے والوں کو ریاست کا دشمن بنا دیا گیا۔ بارہا یہ باور کروایا گیا کہ اس کا پاکستان مخالف بیانیے سے کوئی تعلق نہیں ہے عوام کے بنیادی حقوق کی تحریک ہے، مگر کسی نے نہ سنا۔بار بار اس بات کو مسترد کردیا گیا اور الزامات اپنی ہی کشمیری سیاسی قیادت کی طرف سے تھوپے گئے۔ اپنوں نے ہی پیٹھ میں خنجر گھونپا۔ اپنوں نے ہی اپنے گھر میں آگ لگائی۔بلا وجہ اس معاملے کو طول دے کر ریاست کی عوام کو فوج کے بالمقابل کھڑا کر دیا گیا اور اس میں سب سے اہم کردار ہماری کشمیری قیادت کا ہے جن میں سیاسی بصیرت نام کی کوئی چیز نہیں جو وادی کو جوان لہو سے رنگنے میں سر فہرست ہیں۔ کرسی کی ہوس نے وادی کو خون سے رنگ دیا۔ اقتدار کے لیے جوانوں کی لاشیں بچھا دیں۔ ان کی سیاسی نابالغی نے پوری قوم کو دہشت اور نفرت کی بھٹی میں جھونک دیا۔بڑی بڑی جنگیں اور معاملات مذاکرات سے حل ہوئے ہیں اور یہ کون سا ایسا معاملہ تھا جو تصفیہ طلب نہ تھا ۔ ایک میز، چند باتیں، اور کتنے گھر بچ سکتے تھے۔ کتنی مائیں بچ سکتی تھیں۔ مگر ضد اور انا جیت گئی۔مفاہمت کی سیاست کو نظر انداز کیا گیا۔

    اب بھی ہٹ دھرمی کی انتہا ہے کہ وادی جوانوں کے خون سے رنگی جا رہی ہے اور انہیں جلسے، الیکشن، سلیکشن کی پڑی ہے۔ قبریں ابھی تازہ ہیں اور انہیں ووٹوں کی فکر ہے۔ جنازوں پر سیاست ہو رہی ہے۔ لاشوں پر تقریں ہو رہی ہیں۔اہم معاملے پہ کوئی توجہ ہی نہیں ۔ خون کسی ریاست کے جوان کا ہو یا کسی رینجر کا گودیں ماؤں کی اجڑتی ہیں ۔ ہر لاش کے پیچھے ایک ماں کی چیخ ہے۔ ہر جنازے کے ساتھ ایک بیوی کا اجڑا سہاگ ہے۔ ہر خبر کے ساتھ ایک بچے کا یتیم ہونا لکھا ہے۔جوان لاشے باپ کے کاندھے جھکا دیتے ہیں ۔ باپ جب بیٹے کا جنازہ اٹھاتا ہے تو ان ضمیر فروشوں کو کیا پتہ کتنی اذیت ہوتی ہے۔ کمر ٹوٹ جاتی ہے، امید دفن ہو جاتی ہے۔ بچے یتیم ہوتے ہیں اور عورتوں کے سہاگ اجڑتے ہیں۔ گھر ویران ہو گئے۔ چولہے بجھ گئے۔ بچپن دفن ہو گیا۔ آنگنوں میں صرف ماتم رہ گیا۔بہت ظلم اور بے جا طوالت سے معاملے کو خراب کیا گیا ۔ زخموں پر نمک چھڑکا گیا۔ وقت ضائع کر کے خون بہایا گیا۔ بات چیت کے دروازے بند کر کے بندوق کے دہانے کھول دیے گئے۔خدارا اب بس کر دیں یہ خون کی ہولی دل کمزور پڑ گئے ہیں ۔ اب اور برداشت نہیں ہوتا۔ اب اور لاشیں نہیں دیکھ سکتے۔ اب اور مائیں نہیں رُلا سکتے۔ خدارا رحم کرو۔ خون بہانا بند کرو۔
    "راولاکوٹ ہم شرمندہ ہیں ۔ ”
    ہم تمہارے درد میں شریک نہ بن سکے۔ ہم تمہارے لیے آواز نہ بن سکے۔ ہم تمہارے زخموں کا مرہم نہ بن سکے۔ ہمیں معاف کر دینا۔
    حالات کا تقاضا ہے کہ کشمیری قیادت کو ڈوب مرنا چاہیے ۔ تاریخ تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ ہر قطرہ خون تمہارا تعاقب کرے گا۔ ہر یتیم کی آہ تمہارا پیچھا کرے گی۔