Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نوعمر لڑکوں اور لڑکیوں میں ذہنی دباؤ میں خطرناک اضافہ

    نوعمر لڑکوں اور لڑکیوں میں ذہنی دباؤ میں خطرناک اضافہ

    ایک نئی تحقیق نے یہ بات واضح کی ہے کہ اگر والدین کو لگتا ہے کہ ان کے نوعمر بچے ایک “راز” ہیں تو تازہ ڈیٹا ان کی اندرونی دنیا کو بہتر سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

    یہ سروے امریکی ادارے نے 18 ستمبر سے 10 اکتوبر کے درمیان کیا، جس میں 13 سے 17 سال کی عمر کے 1,391 نوجوانوں سے سوالات کیے گئے۔ تحقیق کے مطابق اگرچہ لڑکے اور لڑکیاں کئی بنیادی مسائل جیسے اسکول کا دباؤ اور ذہنی صحت کے چیلنجز میں ایک جیسے تجربات رکھتے ہیں، لیکن ان کی مدد اور سماجی دباؤ کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے۔سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی اچھے نمبرز لینے کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔ دونوں گروہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ عام طور پر لڑکیاں بہتر گریڈ حاصل کرتی ہیں اور اساتذہ کی طرف سے زیادہ پسند کی جاتی ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ حقیقت پہلے سے موجود تعلیمی اعداد و شمار سے بھی مطابقت رکھتی ہے، جن میں لڑکیوں کی تعلیمی کارکردگی اوسطاً بہتر دیکھی گئی ہے۔

    تاہم ماہر نفسیات ڈاکٹر اینی ماہیوکس کے مطابق یہ فرق اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ تعلیمی نظام ہر طالب علم کے لیے یکساں طور پر مؤثر نہیں ہے۔ ان کے مطابق اسکول کا نظام زیادہ تر ایسے بچوں کے لیے موزوں ہوتا ہے جو زیادہ صبر اور کم بے چینی کے ساتھ بیٹھ کر کام کر سکیں، جبکہ لڑکوں میں اس عمر میں دماغی نشوونما مختلف رفتار سے ہوتی ہے۔

    تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی اپنے مستقبل کے حوالے سے کافی سنجیدہ ہیں۔ دونوں گروہ ایک اچھی نوکری، بہتر آمدنی اور دوستوں کے ساتھ مضبوط تعلقات کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔ماہر نفسیات ڈاکٹر لیزا ڈیمور کے مطابق یہ تصور غلط ہے کہ نوجوان صرف سطحی چیزوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نوعمر نوجوان اپنی تعلیم اور مستقبل کے بارے میں سنجیدہ سوچ رکھتے ہیں۔سروے کے مطابق صرف 2 فیصد نوجوانوں نے کہا کہ ان کا کوئی دوست نہیں ہے، جو ایک مثبت بات سمجھی جا رہی ہے۔تاہم فرق یہاں بھی موجود ہے 95 فیصد لڑکیوں نے کہا کہ ان کے پاس ایسا قریبی دوست موجود ہے جس سے وہ مدد لے سکتی ہیں،جبکہ لڑکوں میں یہ شرح 85 فیصد تھی،ماہرین کے مطابق اس فرق کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ لڑکوں کو بچپن سے جذباتی کمزوری ظاہر نہ کرنے کی تربیت دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنی مشکلات شیئر کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔

    تحقیق میں بتایا گیا کہ لڑکیوں میں اضطراب اور ڈپریشن زیادہ رپورٹ ہوتا ہے، جبکہ لڑکوں میں نشہ آور اشیاء کا استعمال، لڑائی جھگڑے اور کلاس میں خلل ڈالنے جیسے رویے زیادہ دیکھے جاتے ہیں۔تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ لڑکے ذہنی دباؤ کا کم شکار ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر ڈیمور کے مطابق جب لڑکیاں دباؤ میں ہوتی ہیں تو وہ اندرونی طور پر ٹوٹنے لگتی ہیں، جبکہ لڑکے اکثر اپنے دباؤ کو غصے یا خطرناک رویے کی شکل میں ظاہر کرتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ نوعمر لڑکوں کے جارحانہ یا خطرناک رویوں کو صرف “بدتمیزی” سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے ذہنی دباؤ کی علامت بھی سمجھنا چاہیے۔اسی طرح ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بچوں کی تربیت میں جذباتی اظہار کو بھی اہمیت دینی چاہیے تاکہ لڑکے اور لڑکیاں دونوں صحت مند سماجی اور ذہنی نشوونما حاصل کر سکیں۔یہ تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگرچہ نوعمر لڑکے اور لڑکیاں ایک جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن ان کے تجربات اور ردعمل مختلف ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بہتر تعلیم، جذباتی رہنمائی اور کھلے ماحول کے ذریعے نوجوانوں کی بہتر مدد کی جا سکتی ہے۔

  • بچوں کو سوشل میڈیا کے خطرات سے بچانے کا بہترین طریقہ

    بچوں کو سوشل میڈیا کے خطرات سے بچانے کا بہترین طریقہ

    دنیا بھر میں بچوں اور نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات اور خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں۔ کچھ حلقے اس بات کے حامی ہیں کہ نوجوانوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگائی جائے یا اس کی عمر کی حد بڑھا دی جائے، تاہم ایک ماہر تعلیم کا کہنا ہے کہ اصل حل پابندی نہیں بلکہ بچوں کو “تنقیدی سوچ” سکھانا ہے۔

    نیو زی لینڈ کی یونیورسٹی آف آکلینڈ کی سینئر لیکچرر اور نئی کتاب “Teaching Critical Thinking to Teenagers” کی مصنفہ ڈاکٹر ماری ڈیوس کے مطابق اگر بچوں کو چھوٹی عمر سے یہ سکھایا جائے کہ وہ آن لائن معلومات کو سوال کی نظر سے دیکھیں، تو وہ جھوٹی خبروں، فراڈ اور غلط معلومات سے بہتر طور پر بچ سکتے ہیں۔ڈاکٹر ڈیوس کے مطابق تنقیدی سوچ کا مطلب یہ ہے کہ انسان کسی بھی معلومات، خیال یا دعوے کو قبول کرنے سے پہلے اس کا تجزیہ کرے، سوال اٹھائے، اور ثبوت دیکھے۔ اس میں مختلف آرا کو سمجھنا اور یہ جانچنا شامل ہے کہ کون سا مؤقف زیادہ مضبوط ہے۔ان کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں سوشل میڈیا اور اس کے الگورتھمز کی وجہ سے نوجوان بغیر سوچے سمجھے معلومات قبول کرنے کے عادی ہو رہے ہیں، جو انہیں غلط معلومات اور آن لائن دھوکے کے خطرات سے دوچار کرتا ہے۔

    ڈاکٹر ڈیوس کے مطابق صرف سوشل میڈیا پر پابندی لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ جب بچے بڑے ہوں گے تو وہ بغیر تیاری کے سوشل میڈیا استعمال کریں گے۔ ان کے مطابق اصل ضرورت یہ ہے کہ بچوں میں خود اعتمادی اور سمجھ بوجھ پیدا کی جائے تاکہ وہ خود فیصلہ کر سکیں کہ کون سی معلومات درست ہے اور کون سی غلط۔وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ تنقیدی سوچ بچوں کی ذہنی صحت پر بھی مثبت اثر ڈال سکتی ہے، کیونکہ جب انسان کو حالات پر کنٹرول کا احساس ہو تو اس کی بے چینی کم ہو جاتی ہے۔

    ماہر تعلیم کے مطابق والدین بچوں کو تنقیدی سوچ سکھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وہ مشورہ دیتی ہیں کہ والدین بچوں کے ساتھ مل کر خبروں اور معلومات پر بات کریں، مثال کے طور پر یہ کہیں “یہ خبر دلچسپ لگتی ہے، آؤ ہم مل کر اس کے بارے میں مزید تحقیق کریں۔”اسی طرح والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں سے سوال کریں جیسے “تمہیں یہ بات کہاں سے ملی؟”“اس کے پیچھے کیا ثبوت ہے؟”اس طرح بچوں میں سوال کرنے اور سوچنے کی عادت پیدا ہوتی ہے۔

    ڈاکٹر ڈیوس کے مطابق نوجوانوں کو صرف پڑھنے لکھنے کی نہیں بلکہ بات چیت کرنے اور سوال کرنے کی بھی تربیت دینی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بچے اعلیٰ سطح کے سوال کرنا سیکھ جائیں جیسے “اس کی مثال کیا ہے؟”، تو وہ گہرائی میں جا کر سوچنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ماہر تعلیم کا کہنا ہے کہ مستقبل کی نوکریوں میں تخلیقی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت سب سے اہم ہوگی۔ ان کے مطابق اگر نوجوان صرف اے آئی یا ٹیکنالوجی پر انحصار کریں گے تو وہ خود سوچنے کی صلاحیت کھو سکتے ہیں، جو مستقبل میں ان کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ڈاکٹر ڈیوس یہ بھی بتاتی ہیں کہ 11 سے 12 سال کی عمر بچوں کے دماغ کی نشوونما کا اہم دور ہوتا ہے۔ اس وقت جو مہارتیں سیکھی جاتی ہیں وہ مضبوط ہو جاتی ہیں، جبکہ جن چیزوں کو استعمال نہ کیا جائے وہ آہستہ آہستہ کمزور ہو سکتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان سے بات کریں اور ان کی سنیں۔ اگرچہ نوجوان بعض اوقات دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن انہیں پھر بھی اپنے والدین کی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بچوں کے ساتھ مضبوط تعلق قائم ہو تو وہ مشکل حالات جیسے آن لائن دباؤ یا غلط اثرات کے بارے میں والدین سے کھل کر بات کر سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کے بجائے بچوں کو سوچنے، سوال کرنے اور معلومات کو پرکھنے کی صلاحیت دینا زیادہ مؤثر حل ہے۔ یہی مہارتیں انہیں نہ صرف آن لائن خطرات سے بچاتی ہیں بلکہ مستقبل میں بہتر اور کامیاب انسان بنانے میں بھی مدد دیتی ہیں۔

  • طلاق اور معاشرے کا دوہرا معیار،تحریر: ریحانہ جدون

    طلاق اور معاشرے کا دوہرا معیار،تحریر: ریحانہ جدون

    طلاق مرد دیتا ہے، مگر طلاق یافتہ کا لیبل عورت کے ماتھے کا ایسا داغ بنا دیا جاتا ہے جو مٹائے نہیں مٹتا۔

    طلاق ایک تلخ حقیقت ہے لیکن ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہےکہ اس فیصلے کا سارا بوجھ صرف عورت کے حصے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ طلاق مرد دیتا ہے، مگر طلاق یافتہ کا لیبل عورت کے ماتھے کا ایسا داغ بنا دیا جاتا ہے جو مٹائے نہیں مٹتا۔اور تو اور ستم ظریفی دیکھیں کہ طلاق کی وجوہات چاہے کچھ بھی ہوں، انگلیاں ہمیشہ عورت پر ہی اٹھتی ہیں۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ اس گھر کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے مرد نے کیا کیا؟ یا مرد کے وہ کیا رویے تھے جنھوں نے بات یہاں تک پہنچائی؟

    مرد سے سوال کرنا جیسے معاشرے میں منع ہے۔

    طلاق کے بعد مرد کے لیے نئی زندگی شروع کرنا آسان بنا دیا جاتا ہے، جبکہ عورت کو قدم قدم پر یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ ناکام ہوگئی ہے۔ اسے ایک اچھی بیوی، ایک اچھی ساتھی نہ بن پانے کے طعنے دیے جاتے ہیں، گویا رشتہ نبھانے کی ساری ذمہ داری صرف اسی کی تھی۔

    یہ رویہ نہ صرف عورت کی ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ اسے سماجی طور پر بھی تنہا کردیتا ہے۔

    ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ طلاق کسی کے لیے، کسی بھی طرح خوشی کا فیصلہ نہیں ہوتا، یہ ایک تکلیف دہ عمل ہے جس کے بعد ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ مزید اس انسان کو ملامت کیا جائے۔۔۔ جب اسے بار بار ملامت کیا جائے تو وہ ڈپریشن کا شکار ہوکر خود کو ایک ناکام انسان ہی سمجھنے لگتا ہے اور کئی زندگیاں اس ڈپریشن کی نذر ہوگئی ۔۔

    ہمارے معاشرے کا یہ ایک تلخ پہلو ہے کہ طلاق کا سارا ملبہ اور سماجی بدنامی صرف عورت کے حصے میں آتی
    وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں۔ رشتہ دو لوگوں کے درمیان ہوتا ہے اور اسکے ختم ہونے کی ذمہ داری بھی کسی ایک پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ عورت کو اس کے ماضی کے بجائے اس کی ہمت اور شخصیت سے پہچانیں، نہ کہ کسی ایک لفظ سے جو اس کی زندگی کا کل اثاثہ نہیں۔

  • مزدور ڈے پر بھی مزدور کی مزدوری ،تحریر: نور فاطمہ

    مزدور ڈے پر بھی مزدور کی مزدوری ،تحریر: نور فاطمہ

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں یکم مئی کو “یومِ مزدور” بڑے اہتمام سے منایا جاتا ہے۔ جلسے ہوتے ہیں، تقاریر کی جاتی ہیں، اخبارات میں مضامین شائع ہوتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ہمدردی کے پیغامات کی بھرمار ہو جاتی ہے۔ مگر ان سب رنگینیوں کے بیچ ایک حقیقت بڑی خاموشی سے کھڑی رہتی ہے: وہ مزدور جس کے نام پر یہ دن منایا جاتا ہے، وہ خود اس دن بھی مزدوری کر رہا ہوتا ہے۔

    یہ کیسا تضاد ہے کہ جس کے حق میں آواز بلند کی جاتی ہے، وہی شخص اس آواز کو سننے سے محروم رہتا ہے۔ اینٹیں اٹھاتا ہوا مزدور، سڑک پر پسینہ بہاتا محنت کش، کارخانوں میں مشینوں کے ساتھ جُھلا ہوا ہاتھ ، یہ سب آج بھی اپنی روزی کی تلاش میں ہوتے ہیں، چاہے کیلنڈر پر یکم مئی ہی کیوں نہ درج ہو،ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں مزدور کی اجرت کا ذکر تو ہوتا ہے، مگر اس کے زخموں کا مداوا نہیں کیا جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ مزدور کی تنخواہ 40 ہزار تک پہنچ گئی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ اعداد و شمار اکثر کاغذوں کی حد تک محدود رہتے ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ کئی مزدور آج بھی اتنی اجرت سے محروم ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے پورا کر پاتے ہیں۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ مزدور ڈے بھی ایک “تقریب” بن کر رہ گیا ہے۔ جہاں چند بااثر افراد تقریریں کرتے ہیں، کیمرے چلتے ہیں، تالیاں بجتی ہیں، اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ مگر مزدور کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ نہ اس کے حالات بدلتے ہیں، نہ اس کے بچوں کی تقدیر،اصل سوال یہ ہے کہ آخر کون ان کے حق میں آواز اٹھائے گا؟ کون ان کے پسینے کا اصل معاوضہ دلائے گا؟ اور کب تک مزدور صرف نعروں اور پوسٹروں کی زینت بنا رہے گا؟یہ وقت ہے کہ ہم مزدور ڈے کو صرف منانے کے بجائے سمجھیں۔ مزدور کو ہمدردی نہیں، انصاف چاہیے۔ اسے تقریر نہیں، حق چاہیے۔ جب تک اس کے ہاتھ کی محنت کو اس کا پورا حق نہیں ملتا، تب تک ہر یومِ مزدور ایک ادھورا دن ہی رہے گا۔

    مزدور وہ خاموش طاقت ہے جس پر معیشت کی عمارت کھڑی ہے۔ اگر یہ ہاتھ رک جائیں تو دنیا کا پہیہ بھی رک جائے۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اس طاقت کو صرف یاد رکھنا چاہتے ہیں یا اسے اس کا اصل مقام بھی دینا چاہتے ہیں۔

  • وقارِ پاکستان: عسکری و سفارتی ہم آہنگی کا ثمر،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وقارِ پاکستان: عسکری و سفارتی ہم آہنگی کا ثمر،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اندرونی کمزوریاں، بیرونی کامیابیاں ، سمت کا تعین ضروری
    حکمرانی کا کڑا امتحان: دعووں سے آگے بڑھنے کا وقت

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان: عالمی وقار سے عوامی بہبود تک، ایک سنجیدہ جائزہ
    حالیہ برسوں میں پاکستان کے عالمی وقار میں جو بہتری دیکھنے میں آئی ہے، وہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا جا رہا ہے اور مختلف عالمی معاملات میں اس کی شرکت اور مؤثر سفارت کاری کو سراہا جا رہا ہے۔ اس مثبت تبدیلی کا بڑا سہرا پاکستان کی عسکری قیادت اور وزارتِ خارجہ کو جاتا ہے، جنہوں نے نہایت تدبر اور حکمت عملی سے عالمی سطح پر پاکستان کے مفادات کا دفاع کیا اور اس کے وقار کو بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    تاہم، کسی بھی ملک کی اصل ترقی کا پیمانہ اس کی داخلی صورتحال ہوتی ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں—پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان—میں مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتیں قائم ہیں۔ یہ تنوع جمہوریت کی خوبصورتی تو ہے، مگر اس کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام صوبائی اور وفاقی حکومتیں باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر عوام کے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کریں۔ صحت، تعلیم، روزگار اور انصاف جیسے شعبے وہ بنیاد ہیں جن پر ایک مضبوط معاشرہ استوار ہوتا ہے۔

    بدقسمتی سے، ہمارے ہاں اکثر پالیسیوں سے زیادہ بیانات پر زور دیا جاتا ہے، اور عملی اقدامات میں تسلسل کی کمی نظر آتی ہے۔ ترقی کے لیے محض اعلانات کافی نہیں ہوتے بلکہ ٹھوس حکمت عملی، مستقل مزاجی اور نتائج پر مبنی کارکردگی درکار ہوتی ہے۔ عوام اب نعروں سے آگے بڑھ چکے ہیں؛ وہ عملی تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں جو ان کی روزمرہ زندگی کو بہتر بنائے۔

    بیوروکریسی، جو ریاستی نظام کا ایک اہم ستون ہے، اس سے بھی عوام کی بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ ایک فعال، ایماندار اور وقت کا پابند سرکاری نظام ہی عوامی مسائل کے حل کو ممکن بنا سکتا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کئی اداروں میں تاخیر، غیر سنجیدگی اور روایتی سستی آج بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ حالانکہ ترقی یافتہ اقوام کی کامیابی کا راز ان کی ادارہ جاتی مضبوطی اور وقت کی سخت پابندی میں پوشیدہ ہے۔

    عوامی اعتماد کسی بھی ریاست کی اصل طاقت ہوتا ہے۔ جب شہریوں کو یہ یقین ہو کہ ان کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جا رہا ہے، تو وہ ریاست کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ لیکن اگر یہ اعتماد متزلزل ہو جائے تو ترقی کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکمران اور ادارے اپنی کارکردگی سے عوام کا اعتماد بحال کریں۔
    پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے۔ یہاں کی زرخیز زمینیں، معدنی ذخائر اور نوجوان آبادی وہ سرمایہ ہیں جو ملک کو ترقی کی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ ان وسائل کا مؤثر استعمال کیا جائے اور شفافیت، میرٹ اور دیانتداری کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائے۔

    پاکستان ایک عظیم صلاحیتوں کا حامل ملک ہے، جس کے پاس آگے بڑھنے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی سطح پر حاصل ہونے والے وقار کو داخلی استحکام اور عوامی خوشحالی میں تبدیل کیا جائے۔ اگر حکومت، بیوروکریسی اور عوام سب اپنی اپنی ذمہ داریوں کو خلوص اور دیانتداری سے ادا کریں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان ترقی یافتہ اقوام کی صف میں نمایاں مقام حاصل کر لے گا۔

  • گوجرخان کا معاشی قبرستان جہاں غریب کی چتا پر ترقی کے چراغ جلیں گے،تحریر :   قمرشہزاد مغل

    گوجرخان کا معاشی قبرستان جہاں غریب کی چتا پر ترقی کے چراغ جلیں گے،تحریر : قمرشہزاد مغل

    تاریخ لکھے گی کہ گوجرخان میں ایک ایسا دور بھی آیا تھا جب ترقی کے نام پر غریبوں کی بستیوں کو اجاڑا گیا اور شہر کے بڑے کہلانے والے تماشہ دیکھتے رہے۔ تم نے شہر تو چمکا لیا، مگر انسانیت کا جنازہ نکال دیا۔گوجرخان کی تاریخ میں ستم ظریفی کی ایک نئی داستان رقم ہو چکی ہے۔ وہ شہر جو کبھی اپنی زندہ دلی اور تجارتی گہما گہمی سے پہچانا جاتا تھا، آج اپنوں ہی کی بے حسی اور سفید ہاتھیوں کی لوٹ مار کا نوحہ پڑھ رہا ہے۔ بیس سال پہلے پچاس کھوکھوں کی لیز سے شروع ہونے والا سفر، تین سو سے زائد کھوکھوں میں سینکڑوں خاندانوں کے چولہے ٹھنڈے کر کے اختتام پذیر ہوا۔ یہ صرف کھوکھوں کا خاتمہ نہیں، بلکہ متوسط طبقے کی معیشت کا وہ قتلِ عمد ہے جس کے پیچھے دہائیوں کی کرپشن، نااہلی اور اقربا پروری کا ہاتھ ہے۔ انڈر پاسز کے شاندار منصوبے اپنی جگہ، لیکن کیا ترقی کا راستہ ہمیشہ غریب کی ہڈیوں سے گزر کر ہی بنتا ہے؟ کھوکھا بازار کی مسماری نے جہاں سینکڑوں چھوٹے تاجروں کو سڑک پر لا کھڑا کیا، وہیں اب اگلا نشانہ وہ تین ہزار رکشہ ڈرائیور ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر رزقِ حلال کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

    گوجرخان کی بلدیہ، جسے ہم سفید ہاتھی کہیں تو غلط نہ ہوگا، برسوں سے ان رکشہ والوں سے انٹری فیس کے نام پر 10 روپے سے شروع ہونے والی اب 50 روپے کی پرچی وصول کر رہی ہے۔پورے پنجاب میں کہیں بھی یہ بھتہ نما پرچی اتنی مہنگی نہیں، مگر گوجرخان وہ واحد لاوارث تحصیل ہے جہاں رکشہ ڈرائیور سے رقم تو لی جاتی ہے، مگر اسے سر چھپانے کے لیے ایک فٹ کا اسٹینڈ تک میسر نہیں۔سوال یہ ہے کہ یہ کروڑوں روپے کا ریونیو آخر جا کہاں رہا ہے؟ وہ کون سے پیٹ ہیں جو غریب کی دہاڑی سے بھرے جا رہے ہیں؟ بلدیہ گوجرخان نے آج تک ان محنت کشوں کو کوئی متبادل جگہ کیوں نہیں دی؟ کیا اس ادارے کی ذمہ داری صرف وصولی تک محدود ہے؟ ستم تو یہ ہے کہ پہلے 50 کھوکھوں کی آڑ میں سینکڑوں غیر قانونی ڈھانچے کھڑے کروا کر جیبیں بھری گئیں، اور جب حساب کا وقت آیا تو بوجھ اس ریڑھی والے اور کھوکھے والے پر ڈال دیا گیا جس کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نے ان پالیسی میکروں پر بھروسہ کیا۔گوجرخان میں الٹی گنگا بہتی ہے۔

    یہاں پہلے کیری ڈبہ کار اسٹینڈز کو ختم کیا گیا، متبادل جگہ کا لالی پاپ دیا گیا، مگر وہ وعدہ وفا نہ ہوا۔ اب باری رکشہ والوں کی ہے۔ انڈر پاس بنے گا، سڑکیں چمکیں گی، مگر ان سڑکوں پر چلنے والا وہ محنت کش کہاں جائے گا جس کا ذریعہ معاش چھین لیا گیا؟ اس معاشی قتلِ عام کے ذمہ دار صرف سرکاری افسران نہیں، بلکہ گوجرخان کے وہ سفید کالر شرفاء، وہ نام نہاد کھڑپینچ اور سماجی شخصیات بھی ہیں جو فوٹو سیشن میں تو پیش پیش رہتی ہیں، مگر جب شہر کے نوجوانوں کا مستقبل تاریک ہو رہا ہو تو ان کی زبانوں پر قفل لگ جاتے ہیں۔ مقامی سیاست دانوں سے لے کر مالشی پالشی ٹاوٹوں تک سب نے مل کر اس شہر کو بیروزگاری کی دلدل میں دھکیلا ہے۔ موجودہ کمر توڑ مہنگائی کے دور میں، جہاں ایک وقت کی روٹی خواب بنتی جا رہی ہے، وہاں ہزاروں خاندانوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دینا کسی المیے سے کم نہیں۔ یہ انتظامیہ اور پالیسی ساز یاد رکھیں کہ جب غربت اور فاقہ کشی حد سے بڑھتی ہے، تو وہ صرف بے بسی نہیں رہتی، بلکہ ایک ایسے لاوے کی شکل اختیار کر لیتی ہے جو ہر نظام کو بہا لے جاتا ہے۔

    گوجرخان کے متوسط طبقے کی آہیں ان ایوانوں کو ضرور ہلا دیں گی جہاں بیٹھ کر غریب کے رزق پر شب خون مارنے کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ ترقی ضرور لائیے، مگر انسانوں کو مار کر نہیں۔ انڈر پاسز ضروری ہیں، مگر ان سے پہلے ان ہاتھوں کو روزگار دینا ضروری ہے جو اس شہر کا پہیہ چلاتے ہیں۔ ورنہ تاریخ گوجرخان کے ان مسیحاؤں کو کبھی معاف نہیں کرے گی جنہوں نے شہر کو چمکانے کے چکر میں اس کے بیٹوں کو اندھیروں کے حوالے کر دیا۔

  • نازک سیزفائر، گہری بداعتمادی ایران امریکہ مذاکرات کس موڑ پر کھڑے ہیں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    نازک سیزفائر، گہری بداعتمادی ایران امریکہ مذاکرات کس موڑ پر کھڑے ہیں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    بالواسطہ سفارتکاری یا تعطل؟ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی کشمکش

    پاکستان بطور ثالث عالمی امن کی امید یا ایک اور سفارتی امتحان؟

    تجزیہ : شہزاد قریشی

    ایران امریکہ کشیدگی نازک سیزفائر اور غیر یقینی سفارتکاری،عالمی سیاست اس وقت ایک نہایت نازک موڑ پر کھڑی ہے، جہاں ایران اور امریکہ کے مابین کشیدگی وقتی سیزفائر کی صورت میں تو تھمتی دکھائی دیتی ہے، تاہم یہ خاموشی کسی پائیدار امن کی ضامن نہیں بلکہ ایک عارضی توقف کا منظر پیش کرتی ہے۔ بظاہر مذاکرات کا در کھلا ہے، مگر باہمی بداعتمادی اس قدر گہری ہو چکی ہے کہ ہر پیش رفت ایک نئے تعطل کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

    واشنگٹن کی خواہش ہے کہ معاملات کو براہِ راست مذاکرات کے ذریعے جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے، جبکہ تہران اس کے برعکس بالواسطہ سفارتکاری کو ترجیح دے رہا ہے۔ یہ تضاد محض حکمتِ عملی کا فرق نہیں بلکہ اعتماد کے شدید بحران کی عکاسی ہے۔ ایران کو اندیشہ ہے کہ براہِ راست مکالمہ اسے بین الاقوامی دباؤ کے سامنے کمزور کر سکتا ہے، جبکہ امریکہ اسے سفارتی عمل میں تاخیر اور پیچیدگی کا باعث سمجھتا ہے۔ اس پیچیدہ منظرنامے میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ بطور ثالث، اسلام آباد دونوں فریقین کے درمیان ایک محتاط توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جو نہ صرف اس کی سفارتی صلاحیتوں کا امتحان ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کی اہمیت میں اضافے کا بھی مظہر ہے۔ تاہم، یہ عمل کسی آسان سفارتکاری کا تقاضا نہیں کرتا، کیونکہ دونوں اطراف اپنے اپنے اصولی مؤقف پر سختی سے قائم ہیں۔ مزید برآں، امریکی پابندیاں اور بحری ناکہ بندی ایسے بنیادی نکات ہیں جنہیں ایران اپنی خودمختاری کے منافی قرار دیتا ہے۔ جب تک ان امور پر کسی حد تک لچک پیدا نہیں کی جاتی، مذاکرات کی رفتار سست اور غیر مؤثر رہنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔

    موجودہ حالات میں ایک دیرپا اور قابلِ اعتماد امن کا قیام فوری طور پر ممکن دکھائی نہیں دیتا، تاہم اسے یکسر خارج از امکان بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر فریقین تحمل، تدبر اور سفارتی فراست کا مظاہرہ کریں، اور ثالثی کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری رہے، تو کسی حد تک پیش رفت کی امید کی جا سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر، یہ نازک سیزفائر کسی بھی لمحے ٹوٹ سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن پر بھی مرتب ہوں گے۔ بالآخر، یہ تنازع محض دو ریاستوں کے درمیان اختلاف نہیں بلکہ ایک وسیع تر عالمی آزمائش کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ حکمت، برداشت اور باہمی اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔

  • نہ مکمل جنگ، نہ مکمل امن، ایک نازک توازن. تجزیہ: شہزاد قریشی

    نہ مکمل جنگ، نہ مکمل امن، ایک نازک توازن. تجزیہ: شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں فضا میں بارود کی بو تو ہے، مگر گولیاں ابھی پوری طرح چل نہیں رہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، لیکن موجودہ صورتحال کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو وہ یہی ہے: نہ مکمل جنگ، نہ مکمل امن۔

    یہ ایک عجیب اور پیچیدہ کیفیت ہے۔ ایک طرف بیانات کی سختی، پابندیوں کا دباؤ، اور خطے میں طاقت کے مظاہرے جاری ہیں، تو دوسری طرف پسِ پردہ سفارتکاری بھی خاموشی سے اپنا کام کر رہی ہے۔ دونوں ممالک بظاہر ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ دونوں کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ کھلی جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔

    امریکہ، جو پہلے ہی عالمی سطح پر کئی محاذوں پر الجھا ہوا ہے، ایک نئی بڑی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ دوسری جانب ایران، جس کی معیشت پابندیوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، ایک طویل اور تباہ کن جنگ کے نتائج سے بخوبی آگاہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشیدگی کے باوجود ایک غیر مرئی حد قائم ہے جسے عبور کرنے سے دونوں فریق گریز کر رہے ہیں۔

    یہ صورتحال دراصل “کنٹرولڈ ٹینشن” کی مثال ہے—یعنی کشیدگی کو اس حد تک برقرار رکھا جائے کہ سیاسی اور سفارتی مقاصد حاصل کیے جا سکیں، مگر وہ جنگ میں تبدیل نہ ہو۔ اس کھیل میں پراکسیز، سفارتی دباؤ، اور عالمی ثالثی سب اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

    دنیا کی بے چینی بھی اسی تضاد کا نتیجہ ہے۔ عالمی معیشت پہلے ہی نازک حالت میں ہے، توانائی کی منڈیاں غیر یقینی کا شکار ہیں، اور کسی بھی لمحے ایک چھوٹا سا واقعہ بڑے بحران میں بدل سکتا ہے۔ یہی وہ عنصر ہے جس نے عالمی برادری کو مسلسل اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ اس وقت اصل جنگ میدان میں نہیں بلکہ سفارتی میزوں پر لڑی جا رہی ہے۔ دباؤ، مذاکرات، اور مفادات کا یہ پیچیدہ جال ایک ایسے توازن کو برقرار رکھے ہوئے ہے جو بظاہر مستحکم دکھائی دیتا ہے، مگر اندر سے نہایت کمزور ہے۔

    آنے والے دنوں میں یہ توازن برقرار بھی رہ سکتا ہے اور کسی اچانک واقعے سے ٹوٹ بھی سکتا ہے۔ تاہم موجودہ شواہد یہی بتاتے ہیں کہ دونوں فریق جنگ کے کنارے کھڑے ہو کر بھی اس میں چھلانگ لگانے سے گریزاں ہیں۔
    یہی اس دور کی سب سے بڑی حقیقت ہے:
    جنگ کا خطرہ موجود ہے، مگر امن کی کوشش بھی جاری ہے—اور دنیا اسی درمیانی کیفیت میں سانس لے رہی ہے۔

  • پاکستان کی سفارتی کامیابی سیز فائر میں توسیع اور امن کی نئی امید،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی سفارتی کامیابی سیز فائر میں توسیع اور امن کی نئی امید،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عالمی قیادت کا مثبت کردار عاصم منیر اور ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششیں رنگ لے آئیں

    ایران امریکہ معاملات آخری مرحلے میں، سیز فائر مستقل امن کی طرف اہم پیش رفت

    تجزیہ شہزاد قریشی
    سیز فائر میں توسیع محض ایک سفارتی قدم نہیں بلکہ ایک بڑی اسٹریٹجک کامیابی کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ ایسے نازک وقت میں جب خطہ شدید کشیدگی کا شکار تھا، پاکستان نے ایک ذمہ دار اور مؤثر ثالث کے طور پر اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کیا۔ خصوصاً عاصم منیر اور ان کی ٹیم کی حکمتِ عملی، تحمل اور مسلسل سفارتی رابطوں نے اس عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا جو واقعی قابلِ ستائش ہے۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کی حمایت بھی ایک مثبت اور عملی قدم ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی طاقتیں اب تصادم کے بجائے استحکام اور مذاکرات کو ترجیح دے رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر علاقائی اور عالمی ممالک کی مشترکہ کوششیں بھی اس پیش رفت میں شامل رہی ہیں، جنہوں نے ماحول کو سازگار بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاملات اب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ سفارتی ذرائع اور زمینی حقائق یہی اشارہ دیتے ہیں کہ دونوں فریق کسی نہ کسی قابلِ قبول حل کے قریب پہنچ چکے ہیں، اور معمولی نکات پر اتفاق رائے بھی جلد ہو سکتا ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو یہ سیز فائر نہ صرف ایک عارضی سکون بلکہ ایک مستقل امن کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔

    بلاشبہ، یہ ایک اجتماعی کامیابی ہے جس میں پاکستان، امریکہ اور دیگر تمام شامل ممالک کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ پیش رفت ایک جامع معاہدے کی شکل اختیار کر لے گی، جو خطے میں دیرپا استحکام کا باعث بنے گا۔

  • یک دل و یک جان سعودی عرب اور پاکستان،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    یک دل و یک جان سعودی عرب اور پاکستان،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    عالمی سیاست کے پیچیدہ اور بدلتے ہوئے منظرنامے میں کچھ تعلقات ایسے ہوتے ہیں جو محض سفارتی یا مفاداتی بنیادوں پر قائم نہیں ہوتے بلکہ ان کی جڑیں تاریخ، عقیدے،مذہب اور مشترکہ اقدار میں پیوست ہوتی ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق بھی اسی نوعیت کا ایک لازوال رشتہ ہے ایک ایسا رشتہ جسے بجا طور پر ’’ یک دل و یک جان ‘‘ کہا جاتا ہے۔

    ہر آن، ہر لمحہ اور ہردم بدلتے حالات کے تناظر میں دنیا اس بات کا مشاہدہ کررہی ہے کہ واقعتا سعودی عرب اور پاکستان’’ یک دل ویک جان ‘‘ ہیں ۔ امریکہ کے حملوں کی آڑ میں ایران نے سعودی عرب کی تیل اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو ایسے حساس وقت میں جہاں پاکستان کی سیاسی قیادت نے سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا وہاں کور کمانڈر کانفرنس میں بھی سعودی عرب کے ساتھ بھر پورطریقے سے اظہارِ یکجہتی کیا گیا ۔ یہ اظہار یکجہتی نہ صرف ایک بروقت اقدام تھا بلکہ ایک ایسی ذمہ دار ا نہ ا ور حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی کا بھی عکاس ہے جس کی بنیاد سعودی عرب کے ساتھ بے لوث محبت پر رکھی گئی ہے ۔ یہ یکجہتی محض رسمی بیان نہیں بلکہ اس امر کا واضح اعلان تھا کہ سعودی عرب کی سلامتی پر خطرات کے منڈلاتے سائے کسی صورت برداشت نہیں کئے جائیں گے ۔ کور کمانڈر کانفرنس کا اعلامیہ پاکستان کی متوازن اور مدبرانہ خارجہ پالیسی کی عکاسی بھی تھا اور اس امر کا اظہار بھی تھا کہ پاکستان اپنے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہے ۔ پھر ساری دنیا نے دیکھا کہ کور کمانڈر کانفرنس میں سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی محض رسمی بیان نہ رہا بلکہ چند ہی دن بعد دنیا نے اس وقت اسے حقیقت کا روپ دھارتے دیکھا جب پاکستان کے شاصہین صفت لڑاکا طیارے سعودی سرزمین پر اترے اور فضائوں میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ یہ محض ایک عسکری سرگرمی نہ تھی بلکہ ایک بھرپور پیغام تھا۔۔۔۔اتحاد کا۔۔۔۔ اعتماد کا ۔۔۔۔اور مشترکہ دفاع کا۔ یہ لمحہ دراصل اس دیرینہ رفاقت کا عملی اظہار تھا جو آزمائش کی ہر گھڑی میں سرخرو رہی ہے۔یہ طیارے جن میں JF-17 تھنڈر اور F-16 جیسے جدید شاہکار شامل ہیں صرف دھات اور مشینری کا مجموعہ نہیں بلکہ پاکستان کی عسکری مہارت، خودانحصاری اور دفاعی خودداری کے جیتے جاگتے مظاہر ہیں۔ جب یہ شاہین فضائوں میں پرواز کرتے ہوئے سعودی عرب پہنچے تو ہر پاکستانی کا دل فخر وانبساط سے بھر گیا ۔ اب الحمد للہ پاک فوج کے چنیدہ اور تربیت یافتہ دستے سعودی عرب میں پیشہ ورانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی موجودگی کسی جارحیت کی علامت نہیں بلکہ امن، تربیت اور دفاعی ہم آہنگی کا استعارہ ہے۔ یہ شاہین صفت جوان اپنی مہارت، نظم و ضبط اور تجربے کے ذریعے سعودی افواج کے ساتھ ایک ایسی ہم آہنگی پیدا کر رہے ہیں جو کسی بھی ممکنہ خطرے کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہو سکتی ہے۔

    اہم بات یہ ہے کہ کنگ عبدالعزیز جیسے اسٹریٹجک ایئر بیس کا انتخاب خود اس تعاون کی سنجیدگی اور اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ خلیجی خطے کے قریب واقع یہ ائیر بیس دفاعی اعتبار سے کلیدی حیثیت بھی رکھتا ہے اور عالمی سطح پر بھی ایک اہم عسکری مرکز مانا جاتا ہے۔ یہاں پاکستانی طیاروں کی موجودگی دراصل ایک واضح اعلان ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان دونوں یک دل اور یک جان ہیں اور دونوں ممالک کسی بھی چیلنج کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ عسکری اشتراک صرف ہتھیاروں اور مشقوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک مضبوط نظریاتی اور جذباتی رشتہ بھی کارفرما ہے جس کی بنیاد کلمہ طیبہ لاالہ الا اللہ پر استوار ہے ۔ پاکستان اور سعودی عرب نے ہمیشہ ایک دوسرے کے دکھ درد کو اپنا سمجھا ہے یہی جذبہ آج بھی ان کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جا رہا ہے۔ آج جب دنیا طاقت کے توازن کی نئی صف بندیوں میں مصروف ہے پاکستان کا یہ اقدام سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم بھی کرتا ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کے ایک ذمہ دار، قابلِ اعتماد اور عسکری اعتبار سے مضبوط ومستحکم ریاست ہونے کا تاثر بھی اجاگر کرتا ہے۔دونوں برادر ممالک کے بڑھتے ہوئے باہمی تعلقات سے دنیا کو یہ پیغام مل چکا ہے کہ آل سعود خادم الحرمین ہیں تو پاکستان کو اللہ نے محافظ الحرمین کا اعزاز بخشا ہے ۔

    دوسری طرف سعودی عرب نے بھی ہمیشہ پاکستان کا سچااور مخلص دوست ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔ خوشی ہو یا غم سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کے شانہ بشانہ رہا ہے ۔ آج اگر پاکستان دنیا میں سربلند ہے تو سعودی عرب کی بدولت ہے کہ جس کے تعاون سے پاکستان ایک مضبوط عسکری قوت اور ملک بنا ہے ۔ اس وقت پاکستان معاشی اعتبار سے مشکلات کا شکار ہوا تو سب سے پہلے سعودی عرب ہی پاکستان کے ساتھ تعاون کیلئے آگے بڑھا دو ارب ڈالر امداد دی اور تین ارب ڈالر قرضے روول اوور کئے ۔

    مذہبی ، سفارتی ، دفاعی اور عسکری تعاون دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک نہایت اہم ستون ہے۔ 1960 ء کی دہائی سے ہی پاکستان نے سعودی عرب کی فوجی تربیت اور دفاعی صلاحیتوں میں معاونت فراہم کرنا شروع کر دی تھی۔ پاکستانی فوجی ماہرین اور ٹرینرز سعودی عرب میں تعینات رہے جہاں انہوں نے سعودی افواج کو جدید جنگی مہارتوں سے آراستہ کیا۔ 1982 ء میں دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم دفاعی معاہدہ ہوا جس کے تحت پاکستان نے سعودی عرب کی سرزمین کے دفاع کی ذمہ داری قبول کی۔ اس معاہدے کے تحت پاکستانی افواج کی ایک بڑی تعداد سعودی عرب میں تعینات رہی، جس نے خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    1990 ء کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ اپنی وابستگی کا عملی مظاہرہ کیا اور یہ ثابت کیا کہ دونوں ممالک کا تعلق محض الفاظ تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات میں بھی جھلکتا ہے۔
    حالیہ برسوں میں مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصا امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع نے خطے کو ایک نازک صورتحال سے دوچار کر دیا تھا۔ ایسے حساس موقع پر پاکستان نے نہایت دانشمندانہ اور متوازن پالیسی اپنائی تاہم سعودی عرب کے ساتھ اپنی غیر متزلزل وابستگی کو برقرار رکھا۔ پاکستان نے سفارتی سطح پر بھی سعودی موقف کی حمایت کی اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے بھی فعال کردار ادا کیا۔ یہ ایک نازک توازن تھا، جس میں پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کی پختگی اور بصیرت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

    سیاسی سطح پر بھی دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی قابلِ رشک ہے۔ عالمی فورمز پر بھی پاکستان اور سعودی عرب اکثر ایک دوسرے کے موقف کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر ہو یا امتِ مسلمہ کو درپیش دیگر چیلنجز سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کے موقف کو اہمیت دی ہے ۔ حال ہی میں وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب کا دورہ بھی اسی دیرینہ تعلق کا تسلسل ہے ۔ وزیراعظم نے سعودی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان، سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

    آج جب دنیا مختلف سیاسی اور معاشی بحرانوں سے گزر رہی ہے، ایسے میں پاکستان اور سعودی عرب کا ’’ یک دل، یک جان ‘‘ کا رشتہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک روشن مثال ہے یہ تعلق نہ صرف دونوں ممالک کے لیے بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لیے استحکام، اتحاد اور امید کی علامت ہے۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ محض دو ممالک کا تعلق نہیں بلکہ دو دلوں کی دھڑکن، دو قوموں کی امید اور ایک امت کی مشترکہ طاقت کا مظہر ہے اور یہی وہ رشتہ ہے جو ہر آزمائش میں سرخرو ہو کر ابھرتا ہے۔