Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بدچلنی، طلاق اور بچے،تحریر:خالد شہزاد

    بدچلنی، طلاق اور بچے،تحریر:خالد شہزاد

    معاشرتی ساخت، قانونی شکنجوں اور مذہبی روایات میں جب بھی کوئی خاندانی تنازع جنم لیتا ہے، اس کا سب سے سنگین اور تباہ کن بوجھ خواتین اور معصوم بچوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ ایک دردناک حقیقت ہے کہ اگر مرد بدچلنی کا مظاہرہ کرے تو اس کا اخلاقی دھبہ عورت کے دامن پر لگایا جاتا ہے، اور اگر بات طلاق تک پہنچ جائے تو معاشرتی طعنے، بے دخلی اور سگی اولاد کی پرورش کے کٹھن مسائل کی صورت میں سزا پھر بھی عورت ہی بھگتتی ہے۔معاشرہ، ریاست کا قانون اور کلیسیائی (چرچ) اصول مرد اور عورت کی علیحدگی یا طلاق کے مسئلے پر تقسیم کا شکار تو نظر آتے ہیں، مگر اس بات پر اب بھی کوئی واضح اور مشترکہ حکمت عملی موجود نہیں کہ اس ٹوٹتے ہوئے خاندانی نظام کے بچوں پر نفسیاتی، سماجی اور معاشی اثرات کیا مرتب ہوں گے۔چرچ، مسیحی قوانین اور طلاق کے بعد متبادل کا فقدان کیتھولک چرچ کے مطابق شادی ایک مقدس اور ناقابلِ فسخ عہد (Sacrament) ہے، جس میں طلاق کی گنجائش نہیں ہوتی۔

    دوسری جانب، دیگر پروٹسٹنٹ اور اینگلیکن فرقے مخصوص حالتوں (مثلاً زنا یا شدید ناانصافی) میں طلاق کو قبول تو کرتے ہیں، لیکن میاں بیوی کے درمیان رشتے کو قائم رکھنے یا ٹوٹے ہوئے رشتے کے بعد ان کی مثبت رہنمائی کے لیے ان کے پاس بھی کوئی ٹھوس عملی یا نفسیاتی متبادل حل موجود نہیں۔یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ "کیا مسیحی کمیونٹی شادی اور طلاق کے علاوہ بائبل کے تمام قوانین کی مکمل پابند ہے؟”حقیقت یہ ہے کہ دورِ حاضر میں بہت سے معاشرتی، معاشی اور انتظامی معاملات میں دیگر قوانین اور قانونی راستے اختیار کیے جاتے ہیں، لیکن جب خاندانی ٹوٹ پھوٹ کا وقت آتا ہے تو یکایک مذہب کی سخت تشریحات، روایتی بندشیں اور معاشرتی دباؤ آگے آ جاتے ہیں۔ اگر بائبل کے محبت، رحم، معافی، اور عورت و بچے کے حقوق کے بنیادی اصولوں کو عملی زندگی میں اپنایا جائے تو طلاق کی نوبت آنے سے پہلے ہی کونسلنگ اور تصفیے کی راہیں نکل سکتی ہیں۔خاندانی تنازعات کو عدالتوں، تھانوں اور وکیلوں کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے اگر ماہرینِ نفسیات ، فیملی کونسلرز اور تھراپسٹ کے پاس لے جایا جائے، تو بہت سے گھر اجڑنے سے بچ سکتے ہیں، بہت سا روپیہ کورٹ کچہری کے منشیوں، بابوؤں اور پولیس کو دینے کی بجائے بچوں کی صحت و تعلیم پر خرچ ہو سکتا ہے۔ کورٹ کچہری کی فضا میں انتقام، الزام تراشی اور ایک دوسرے کو زدوکوب کرنے کی دوڑ ہوتی ہے، جو میاں بیوی کے درمیان بچے ہوئے احترام کو بھی ختم کر دیتی ہے، جو فا صلوں کو کئی سالوں تک دور لے جاتا ہے جہاں سے واپسی کا دروازہ ہمیشہ کے لیے نعفرت، انا پرستی اور بہن بھائیوں کی مشاورت سے ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جاتا ہے۔ اس لیے انتہائی قدم اٹھانے سے پہلے کسی ماہر نفسیات رابطہ استوار کرنا چاہیے کیونکہ ماہرِ نفسیات جوڑے کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ تنازع کی اصل وجہ کیا ہے۔ اگر رشتے کا قائم رہنا ممکن نہ بھی ہو، تو تھراپی کے ذریعے دونوں فریقین کو اس قابل بنایا جا سکتا ہے کہ وہ باہم احترام کے ساتھ، بچوں کے بہترین مفاد میں "باہمی رضا مندی “ کا راستہ اختیار کریں۔ طلاق کے معاملے میں سب سے زیادہ پسنے والے بچے ہوتے ہیں۔

    اکثر قانونی اور معاشرتی جنگ میں بچوں کو بطور "ہتھیار” یا ایک فریق کو سزا دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔بچوں کی نگران کون؟ باپ کی مالی حیثیت یا ماں پر لگائے گئے بے بنیاد الزام کی بنیاد پر اگر بچوں کو ماں سے جدا کر دیا جائے، تو بچیوں اور بچوں کی شخصیت میں ناقابلِ تلافی خلا پیدا ہو جاتا ہے۔ طلاق یافتہ گھرانوں کے بچوں میں احساسِ جرم (یہ سوچنا کہ شاید والدین ان کی وجہ سے الگ ہوئے)، غصہ، تنہائی، تعلیمی پسماندگی اور مستقبل میں رشتوں سے خوف (Attachment Issues) جیسی پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں۔ خصوصاً بچیوں کو معاشرتی نظروں اور غیر محفوظ ماحول کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ طلاق کی صورت میں عورت کی سب سے بڑی جدوجہد مالی خودمختاری اور بچوں کی کفالت ہوتی ہے۔بیشتر حالات میں عورت شادی کے بعد گھر داری میں لگ جاتی ہے اور معاشی طور پر مرد پر منحصر ہوتی ہے۔ طلاق کے بعد اچانک اسے بغیر کسی مالی سہارے کے تن تنہا سزا کے طور پر چھوڑ دیا جاتا ہے، جبکہ بچوں کے سکول، خوراک اور رہائش کے اخراجات کا بوجھ بھی اسی پر آن پڑتا ہے ، جبکہ خرچہ نفقہ حاصل کرنے کے لیے عورت کو سالہا سال عدالتوں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں، اور مقررہ رقم اکثر افراطِ زر اور بنیادی ضروریات کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے جسکے اثرات نا صرف عورت کی جسمانی صحت پر پڑتے ہیں بلکہ زہنی طور سے بھی وہ تناؤ کا شکار رہتی ہے جسکی وجہ سے وہ بچوں پر مکمل توجہ نہیں دے پاتی اس لیے زیادہ تر بچے کم عمر ہی میں ماں کا مالی سہارا بننے کی خاطر تعلیم و ہنر سے دور ہو جاتے ہیں۔

    عدالت جانے سے قبل قانونی طور پر یہ لازم قرار دیا جائے کہ میاں بیوی سرکاری خرچ پر ماہرِ نفسیات اور کونسلر کے ساتھ کم از کم کچھ سیشنز مکمل کریں تاکہ صلح یا باوقار علیحدگی کی کوئی راہ نکل سکے، چرچ اور مذہبی رہنماؤں کو محض طلاق کی ممانعت تک محدود رہنے کے بجائے شادی سے قبل اور شادی کے بعد کونسلنگ کا باقاعدہ نظام قائم کرنا چاہیے، جہاں زوجین کو معاشی ، معاشرتی اور اخلاقی و نفسیاتی سپورٹ ملے۔بچوں کی حوالگی کا فیصلہ محض والد کی مالی برتری یا والدہ کے سخت معاشرتی حالات کو دیکھ کر نہیں، بلکہ بچے کی ذہنی اور جذباتی وابستگی اور حفاظت کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے۔قانونی و معاشی طلاق کی صورت میں عورت اور بچوں کے لیے فوری مالی امداد اور باوقار نفقہ کا قانونی طریقہ کار آسان اور تیز رفتار بنایا جائے تاکہ ماں کو بچوں کی پرورِش کے لیے دربدر نہ ہونا پڑے۔

    معاشرے اور قانون کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ شادی کا مقصد انسانی زندگی میں سکون اور ترقی لانا ہے نہ کہ عذاب۔ اگر دو افراد کا ساتھ رہنا ناممکن ہو جائے، تو اس کا ازالہ بچوں اور عورت کی تذلیل سے نہیں، بلکہ بصیرت، نفسیاتی رہنمائی اور انصاف پر مبنی رویوں سے ہونا چاہیے۔ تاکہ طلاق سے پہلے خاندان طلاق کے خسارہ سے بچ جائے۔

  • عورت کمزور نہیں،تحریر: شازیہ حنیف

    عورت کمزور نہیں،تحریر: شازیہ حنیف

    وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

    آج میں جس موضوع پہ تبصرہ کرنے لگی ہوں اسکا عنوان کچھ یوں ہے "عورت کمزور نہیں” عورت کو صدیوں سے کمزور سمجھنے کی روایت آج بھی ہمارے معاشرے میں مختلف شکلوں میں موجود ہے۔ کبھی اسے فیصلہ کرنے کے قابل نہیں سمجھا جاتا، کبھی اس کی رائے کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور کبھی اس کی خاموشی کو اس کی کمزوری تصور کر لیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر عورت کو کب تک کمزور سمجھا جاتا رہے گا؟یہ سوال اس وقت اور بھی اہم ہو جاتا ہے جب ہم محکمہ تعلیم کی طرف دیکھتے ہیں۔ تعلیم کا محکمہ وہ ادارہ ہے جو معاشرے کی سوچ بدلنے، نئی نسل کی تربیت کرنے اور انسان کو اس کے حقوق و فرائض سے آگاہ کرنے کا ذمہ دار ہے۔ لیکن اگر اسی شعبے میں کام کرنے والی عورت کو کمزور، کم تر یا حقیر سمجھا جائے تو پھر سوال ضرور اٹھتا ہے کہ ہم نئی نسل کو مساوات اور احترام کا درس کیسے دیں گے؟محکمہ تعلیم میں خواتین کی تعداد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اساتذہ کی بڑی تعداد خواتین پر مشتمل ہے۔ وہ صبح سویرے گھروں سے نکلتی ہیں، تعلیمی اداروں میں پہنچتی ہیں، بچوں کو پڑھاتی ہیں، ان کی تربیت کرتی ہیں، دفتری ذمہ داریاں نبھاتی ہیں اور پھر گھر واپس جا کر خاندان کی ذمہ داریاں بھی پوری کرتی ہیں ـپھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک عورت ایک ہی وقت میں استاد، منتظم، ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کے کردار نبھا سکتی ہے تو اسے کمزور کس بنیاد پر سمجھا جاتا ہے؟کیا صرف اس لیے کہ وہ عورت ہے؟اگر کسی دفتر، کسی ادارے یا کسی محکمے میں کسی خاتون کی بات کو صرف اس کی جنس کی بنیاد پر کم اہم سمجھا جائے تو یہ صرف ایک فرد کی توہین نہیں بلکہ پورے نظام کے لیے لمحۂ فکریہ ہے ـخواتین افسران اور خواتین اساتذہ کو بھی وہی عزت، اعتماد اور پیشہ ورانہ مقام ملنا چاہیے جو کسی مرد کو حاصل ہے۔ کسی خاتون کی صلاحیت کا فیصلہ اس کے کام سے ہونا چاہیے اس کی جنس سے نہیں۔یہ بھی درست ہے کہ ہر جگہ عورت کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوتی اور ہر مرد عورت کو کمزور نہیں سمجھتا۔ ہمارے معاشرے میں بے شمار ایسے مرد موجود ہیں جو خواتین کی صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہیں، ان کا احترام کرتے ہیں اور ان کی ترقی میں کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن جہاں کہیں عورت کو محض عورت ہونے کی وجہ سے دبایا، نظر انداز یا حقیر سمجھا جائے، وہاں آواز اٹھانا ضروری ہے ـآخر جس محکمے کا بنیادی مقصد تعلیم اور شعور پھیلانا ہے، وہاں عورت کو ہی کمزور کیوں سمجھا جائے؟ہمیں یہ سوال صرف محکمہ تعلیم سے نہیں بلکہ پورے معاشرے سے کرنا ہوگا۔عورت کو رعایت نہیں چاہیے اسے برابری کا حق چاہیے۔اسے خصوصی سلوک نہیں چاہیے اسے منصفانہ سلوک چاہیے۔اسے کسی عہدے کا تحفہ نہیں چاہیے اسے اپنی قابلیت کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع چاہیے اور سب سے بڑھ کر اسے یہ احساس چاہیے کہ اس کی محنت، رائے اور صلاحیت کی قدر کی جاتی ہے۔عورت کمزور نہیں۔ وہ اس نظام کا فعال حصہ ہے۔ وہ استاد ہے تو قوم کے معمار تیار کرتی ہے، افسر ہے تو انتظامی معاملات سنبھالتی ہے، منتظم ہے تو ادارے کو نظم و ضبط دیتی ہے اور ماں ہے تو ایک پوری نسل کی پہلی درسگاہ بنتی ہے۔ہمیں اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔عورت کی خاموشی کو اس کی کمزوری نہ سمجھیں۔ ممکن ہے وہ خاموش اس لیے ہو کہ اسے اپنے وقار کا خیال ہو۔ اس کے صبر کو اس کی بے بسی نہ سمجھیں۔ ممکن ہے وہ صرف اس لیے برداشت کر رہی ہو کہ وہ اپنے ادارے اور اپنے فرض سے مخلص ہے۔لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور عزت ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔محکمہ تعلیم ہو، صحت ہو، انتظامیہ ہو یا کوئی اور شعبہ؛ کسی بھی ادارے کی ترقی اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک وہاں کام کرنے والی خواتین کو برابر کا احترام، محفوظ ماحول اور میرٹ کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے مواقع نہ ملیں۔ہمیں ایسی سوچ پیدا کرنی ہوگی جہاں عورت کو یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہ پڑے کہ وہ کمزور نہیں۔ اس کی قابلیت ہی اس کا تعارف ہو، اس کی محنت ہی اس کی پہچان ہو اور اس کا کردار ہی اس کی قدر و منزلت کا پیمانہ ہو ـکیونکہ عورت کو کمزور سمجھنا دراصل معاشرے کی اپنی سوچ کی کمزوری ہے۔عورت کمزور نہیں ہے اسے کمزور سمجھنے والی سوچ کمزور ہے اور اگر ہم واقعی تعلیم کے ذریعے معاشرے کو بدلنا چاہتے ہیں تو تبدیلی کا آغاز ہمیں اپنے اداروں سے ہی کرنا ہوگا۔عورت کو حقیر نہ سمجھیں، اسے برابر سمجھیں ـاسے دبائیں نہیں اس کی صلاحیت کو راستہ دیں ـاسے خاموش نہ کریں، اس کی بات سنیں کیونکہ جس معاشرے میں عورت کو عزت ملتی ہے، وہاں صرف عورت نہیں، پورا معاشرہ مضبوط ہوتا ہے۔

  • تبصرہ کتب،الف سے اے آئی تک،تحریر: مبراء عبدالقیوم

    تبصرہ کتب،الف سے اے آئی تک،تحریر: مبراء عبدالقیوم

    جب میں نے ناول "الف سے اے آئی تک” مکمل کیا تو دل و دماغ دونوں ایک عجیب سی کیفیت میں مبتلا ہو گئے۔ بظاہر یہ ایک جدید موضوع پر لکھا گیا ناول ہے مگر جب اس کی گہرائی میں اتر کر دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ محض ٹیکنالوجی یا مصنوعی ذہانت کی کہانی نہیں بلکہ انسان، اس کے جذبات، سوچ، رویوں، تعلقات اور بدلتے ہوئے زمانے کی ایک خوب صورت تصویر ہے۔ یہ ناول قاری کو صرف ایک کہانی نہیں سناتا ہے۔بلکہ اسے اپنے ساتھ ایک ایسے فکری سفر پر لے جاتا ہے جہاں ہر موڑ پر کوئی نہ کوئی سوال اس کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔

    مصنف ریحان خان نے ناول کے عنوان ہی میں ایک نہایت خوب صورت اور بامعنی تصور پیش کیا ہے۔ "الف” ہمارے لیے ابتدا، علم، شعور اور سیکھنے کے سفر کی علامت بن سکتا ہے، جبکہ "اے آئی” موجودہ دور کی جدید ترین ٹیکنالوجی کی نمائندگی کرتا ہے۔ الف سے اے آئی تک کا یہ سفر دراصل انسانی علم کے ارتقا کا سفر ہے۔ انسان نے اپنے اردگرد کی دنیا کو سمجھنے کے لیے سوالات سے آغاز کیا، پھر مشاہدہ کیا، علم حاصل کیا، نئی ایجادات کیں اور آج مصنوعی ذہانت جیسے حیرت انگیز مرحلے تک پہنچ گیا ہے۔ ناول اسی طویل سفر کو ایک ایسے انداز میں ہمارے سامنے رکھتا ہے جو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
    اس ناول کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ مصنف نے مصنوعی ذہانت کو محض ایک تکنیکی موضوع بنا کر پیش نہیں کیا ہے۔ اس کے ذریعے انسانی زندگی پر پڑنے والے اثرات، انسانی سوچ میں آنے والی تبدیلیاں اور مستقبل کے امکانات کو بھی زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ آج ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں، وہاں ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور مختلف ڈیجیٹل ذرائع سے آگے بڑھتے ہوئے اب اے آئی ہماری تعلیم، کاروبار، تحریر، تحقیق اور روزمرہ زندگی تک پہنچ چکی ہے۔ ایسے وقت میں اس موضوع پر ایک ادبی تخلیق یقیناً اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے۔
    ناول پڑھتے ہوئے بارہا یہ احساس ہوتا ہے کہ مصنف کا اصل سوال صرف یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت انسان کے لیے کتنی مفید ہے؟ بلکہ سوال اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے کہ انسان خود اپنی تخلیق کردہ ٹیکنالوجی کے ساتھ کہاں تک جائے گا؟ کیا مشین انسان کی مددگار رہے گی یا کبھی ایسا وقت بھی آئے گا جب انسان خود اپنی تخلیق پر انحصار کرنے لگے گا؟ کیا تیز رفتار ترقی کے ساتھ انسان اپنے احساس، تخیل، فیصلہ سازی اور اخلاقی ذمہ داری کو بھی محفوظ رکھ پائے گا؟ ایسے سوالات ناول کو محض ایک دلچسپ داستان کے بجائے ایک فکری تجربہ بنا دیتے ہیں۔
    اس ناول کی ایک اور قابلِ ذکر خوبی اس کا کہانی پن ہے۔ اگر کوئی تحریر صرف معلومات کا مجموعہ بن جائے تو قاری جلد اکتا جاتا ہے۔ لیکن یہاں مصنف نے معلومات اور کہانی کے درمیان ایک مناسب توازن قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔ واقعات کا بہاؤ، مکالموں کی روانی اور مختلف صورتِ حال کی منظرکشی قاری کی دلچسپی برقرار رکھتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم صرف صفحات نہیں پڑھ رہے بلکہ ایک ایسی دنیا میں داخل ہو رہے ہیں جہاں انسان اور ٹیکنالوجی ایک دوسرے کے ساتھ قدم ملا کر چل رہے ہیں۔
    کرداروں کے ذریعے بھی ناول کے بنیادی خیالات کو آگے بڑھایا گیا ہے۔ انسانی کرداروں کے جذبات، الجھنیں، فیصلے اور ردِعمل اس بات کو نمایاں کرتے ہیں۔ ٹیکنالوجی خواہ کتنی ہی ترقی کر لے، انسان کے اندر موجود احساسات اور جذبات اپنی الگ اہمیت رکھتے ہیں۔ مشین معلومات دے سکتی ہے، رفتار بڑھا سکتی ہے اور کئی مشکل کام آسان بنا سکتی ہے، لیکن انسانی محبت، ہمدردی، ضمیر اور احساس کی گہرائی کو سمجھنا ایک مختلف معاملہ ہے۔ یہی فرق اس ناول کے فکری پہلو کو مزید مضبوط بناتا ہے۔
    مجھے خاص طور پر ناول کا وہ پہلو قابلِ توجہ محسوس ہوا جہاں ترقی کے ساتھ اس کی ذمہ داری کا سوال سامنے آتا ہے۔ ہم اکثر ٹیکنالوجی کے فوائد پر بات کرتے ہیں مگر اس کے غلط استعمال، انسانی انحصار، اخلاقی حدود اور مستقبل کے ممکنہ خطرات پر اتنی سنجیدگی سے غور نہیں کرتے ہیں۔ ناول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر نئی ایجاد اپنے ساتھ امکانات کے ساتھ ساتھ ذمہ داریاں بھی لاتی ہے۔ اگر علم اور ٹیکنالوجی انسان کی بہتری کے لیے استعمال ہوں تو یہ نعمت بن سکتے ہیں، لیکن اگر اخلاقی اصولوں کو نظرانداز کر دیا جائے تو یہی ترقی مسائل کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
    مصنف کا اسلوب بھی ناول کی کشش میں اضافہ کرتا ہے۔ جدید موضوع کو ادبی انداز میں پیش کرنا آسان نہیں ہوتا، کیونکہ کہیں نہ کہیں معلوماتی پن کہانی پر حاوی ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ تاہم "الف سے اے آئی تک” میں جدید اصطلاحات اور فکری نکات کو کہانی کے تناظر میں پیش کرنے کی کوشش اسے عام روایتی موضوعات سے مختلف بناتی ہے۔ یہی جدت اس ناول کو موجودہ دور کے قاری کے لیے زیادہ متعلقہ بناتی ہے۔
    مختصراً اگر کہا جائے تو "الف سے اے آئی تک” صرف ایک ناول نہیں بلکہ ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان ایک فکری پل ہے۔ یہ ہمیں اس سفر کی یاد دلاتا ہے جو انسان نے علم کی پہلی منزل سے شروع کیا اور آج مصنوعی ذہانت کے دور تک پہنچ چکا ہے۔ مگر اس سارے سفر کے باوجود سب سے اہم سوال اپنی جگہ موجود ہے: آخر انسان کی اصل پہچان کیا ہے؟
    میرے نزدیک اس ناول کا سب سے خوب صورت پیغام یہی ہے کہ ترقی ضرور کیجیے، علم حاصل کیجیے، نئی ٹیکنالوجی کو سمجھیے اور اس سے فائدہ اٹھائیے، لیکن اپنی انسانیت کو کہیں پیچھے نہ چھوڑ دیجیے۔ کیونکہ مشین کتنی ہی ذہین کیوں نہ ہو جائے، انسان کی اصل عظمت اس کے احساس، شعور، اخلاق اور ضمیر میں ہے۔
    واقعی اس ناول کو پڑھ کر بے حد لطف آیا۔ یہ تحریر نہ صرف دلچسپ ہے بلکہ ذہن کو جھنجھوڑنے اور سوچ کے نئے دروازے کھولنے والی بھی ہے۔ "الف سے اے آئی تک” ایک ایسا ناول ہے جو اپنے موضوع کی جدت کے ساتھ ساتھ اپنے فکری سوالات کی وجہ سے بھی دیر تک قاری کے ذہن میں رہتا ہے۔ ایسے ناول اردو ادب میں نئے موضوعات، نئی سوچ اور نئے زاویۂ نظر کو جنم دیتے ہیں۔ اور یہی کسی بھی اچھی تخلیق کی حقیقی کامیابی ہے۔

  • افسانہ،صفراوی ،صفدر بھٹی

    افسانہ،صفراوی ،صفدر بھٹی

    (یہ مکمل چودہ صفحات کا ناولٹ ہے جن میں سے چار صفحات حاضرِ خدمت ہیں امید ہے پسند آئیں گے)

    اوئلِ دسمبر کی خنک سہہ پہر … ابر کےچھوٹے بڑے قطعات آسمان کے وسیع آنگن میں چہل قدمی میں مشغول تھے جو وقتاً فوقتاً ابدی منبعِ ضیاء کو پردے سے ڈھانک کر اہلِ زمین کو آفتاب کی لطیف حدت سے محروم کر دیتے. اور پھر دفعتاً سردی سے ٹھٹھرتے پرندوں پر ترس کھاتے ہوئے ربِّ ذوالجلال اس حجاب کوایک طرف کھینچ کر ناسپاس مخلوق کی شادمانی کاسامان فراہم کر دیتے.

    دفتری امور، جن میں قریب ایک دہائی گزرنے کے بعد بھی اُس کی دلچسپی نہ ہونے کےبرابر تھی، نمٹانے کے بعد جب وہ مسکن پر پہنچا تو اشتہا کے باوجود کھانا موخر کر کے سیدھا کمرے میں آ گیا. دفتری لباس تبدیل کر چکنے کے بعد اُس نے اپنا انتہائی ارزاں موبائل فون قمیص کی سامنے والی جیب میں رکھا اور بھورے رنگ کی اُون سے بنی چادر میں لپٹ کر کمرے کے سامنے والے لان میں رکھے لوہے کے بنچ کی نکڑ میں بیٹھ گیا.

    بتیس برس کا نحیف جوان….. جو دور سے دیکھنے والوں کو اپنی لاغر جسامت کے باعث چودہ پندرہ سالہ لڑکا جبکہ قریب والوں کو سر کے آدھے بالوں کی معدومی ، چہرے کی جھریوں اور وقت کے بے رحم تھپیڑوں سے رونما ہونے والی بوسیدگی کے سبب کوئی پنتالیس پچاس برس کا بوڑھا دکھائی دیتا.

    وہ لڑکا جوان یا بوڑھا… آپ اب اُسے جس لقب سے بھی پکاریے… لوہے کے اُس پنچ پر بیٹھا لان کے دوسرے کونے میں کھڑے زرد پتوں کے زیور سے آراستہ درختوں کو فسردگی سے دیکھ رہا تھا. کبھی کبھی جب بادلوں کا پردہ سمٹ کر سورج کو دنیائے عالم کی دگرگوں رعنائیوں پر جھانکنے کی اجازت دیتا تو وہ جوان رو بہ قفا ہو کر آفتاب پر بھی نظر کر لیتا.

    اچانک اُس نے اپنی جیب میں رکھا رابطے کا جدید آلہ نکالا اور مخصوص حروف میں محفوظ ایک نمبر ملانے لگا. فون بجتے بجتے منقطع ہو گیا اور ” مطلوبہ نمبر سے جواب موصول نہیں ہو رہا ” کا اعلان نشر کیا جانے لگا. وہ یہی عمل مسلسل دہرائے جا رہا تھا اور دوسری طرف سے وہی اعلان نشر کیا جا رہا تھا. لگ بھگ پچیس بار کی دلدوز کوشش کے بعد آخرِ کار ایک جانی پہچانی نسوانی آواز نے رکشوں کے شور میں عجلت کے ساتھ ” ہاں جی ” کہا

    کہاں ہو ؟
    کاملی چوک
    کہاں گئی تھی ؟
    ابھی گاؤں سے آ رہی ہوں تھوڑی دیر بعد گھر پہنچ جاؤں گی تب فون کرنا”. اور رابطہ منقطع ہو گیا

    ” جانے کس کے پاس سے آ رہی ہے”؟ اور اسی نوعیت کے دیگر سوالات و خیالات نے اُس کے ذہن کو جہنم کر دیا. مگر اب وہ اس دوزخ کا عادی ہو چکا تھا اور اُن شدت آمیز جذباتی صدمات کو جو نوواردان کو خون رُلا دیا کرتے ہیں خاموشی سے سہنے کا ڈھنگ سیکھ چکا تھا. لیکن وہ اضطراب جو غالباً محبت کی روح ہوتا ہے سے بھلا کون چشم پوشی کر سکتا ہے. ایسی ہی بے چینی نے اُسے دو منٹ بعد دوبارہ فون ملانے پر مجبور کر دیا
    ” میں ابھی راستے میں ہوں ” دوسری طرف سے قدرے ہانپتی ہوئی آواز اُبھری، ” صبح بہن کو ملنے جانا ہے وہ زچگی کی زد پر ہے اور میرے پاس پیسے ہیں نہیں گھر جا کر صبا سے کہتی ہوں کہ دو ہزار پندرہ سو ادھار دے دے”
    ” کس جگہ پہنچی ہو”؟

    ” جس گلی کو انہوں نے نیا بنانے کے لیے اکھاڑ رکھا ہے وہاں، لیکن تمیہں پتا نہیں ہو گا کیونکہ جب سے یہ شروع ہے تم نہیں آئے ہو”

    ” ٹھیک ہے گھر پہنچ کر صبا سے بات کر لو پھر بتانا” یہ کہہ کر نوجوان نے فون منقطع کر دیا

    شیری….. فون پر بات کرنے والی عورت اسی نام سے پہچانی جاتی تھی، کہتی ہے میرے ابا مجھے شیرو کہ کر پکارتے تھے، اُس کی ساس بھی اسے شیرو ہی بلاتی تھی لیکن دھندے کی دنیا میں سننے والوں کے دلوں میں جازبیت کا رس گھولنے کیلیے اُس نے ‘ شیری ‘ ایسا خوش کن نام اپنا رکھا تھا. مگر صفراوی .. صفراوی نوجوان کا نام تھا، نے جب پہلی ملاقات میں نام دریافت کیا تو اُس نے ان دونوں سے مختلف ایک تیسرا نام بتایا تھا.

    شیری سے ہونے والی گفتگو سے صفراوی کا دل بیٹھ سا گیا. ہمدردی اور محرومی کے خیالات کی زد پر وہ خاموش، سوچوں میں غرق دل ہی دل میں خود سے ہمکلام تھا. اُس کے اکاؤنٹ میں ساڑھے تین ہزار روپے موجود تھے جن میں سے اٹھائیس سو اُس نے ایک موٹر سائیکل کی قسط بھرنے کیلیے رکھے ہوئے تھے جو چھ ماہ پہلے ایک عزیز کو دلوائی گئی تھی اور اسی طرح کی ضروریات پوری کرتے کرتے چھ میں سے تین اقساط ادا کر پایا تھا. شیری کی تقریباً ہمیشہ کی بے اعتنائی اور ناروا سلوک کے باوجود اُس نے یہی فیصلہ کیا کہ چلو دو ہزار دے دیتے ہیں بے چاری کس سے مانگتی پھرے گی. اور ساتھ ہی دوبارہ فون لگا دیا

    ‘ ہاں صبا سے بات ہو گئی’؟
    ‘ نہیں، ابھی تو پہنچی ہوں ‘
    ‘ میں دے جاؤں ‘؟
    ‘ دے جاؤ، جیسے تمہاری مرضی’ وہ ذرا بے رُخی سے بولی
    ‘ پندرہ سو کافی ہیں ‘؟
    ‘ نہیں، بہن کو چادر اور گرم کپڑے خرید کر دینے ہیں، ذاکر ( شیری کا شوہر ) اور امی بھی ساتھ جائیں گے پانچ سو تو کرایہ لگ جائے گا’
    ‘ چلو ٹھیک ہے میں دے جاتا ہوں’
    ‘ کب تک پہنچو گے’ شیری نے استفسار کیا
    ‘ پانچ چھ گھنٹے لگ جائیں گے ‘
    ‘ چلو ٹھیک ہے، میں فتیں سے بات کرتی ہوں اُسی کے ہاں رات گزاریں گے’
    فتیں اُس کی نند تھی جس نے ایک مکان کرایہ پر لے رکھا تھا جہاں عورتوں سے دھندہ کرواتی تھی

    (جاری)

  • سفید جھوٹ، سیاہ حقائق،تحریر: اقراء علوی

    سفید جھوٹ، سیاہ حقائق،تحریر: اقراء علوی

    کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ اگر جھوٹ کے واقعی رنگ ہوتے تو شاید لوگ اس سے اتنی آسانی سے محبت نہ کرتے مگر جھوٹ نے خود کو بہت چالاکی سے ”سفید“ کا نام دے دیا ہے، جیسے وہ کوئی بے ضرر چیز ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ روزانہ نہ چاہتے ہوئے بھی سفید جھوٹ بول جاتے ہیں اور پھر خود کو یہ کہہ کر مطمئن کر لیتے ہیں کہ ”اس سے کسی کا کیا نقصان ہوا؟“ لیکن میں جتنا زندگی کو دیکھتی اور لوگوں کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہوں، اتنا ہی اس بات پر یقین بڑھتا جاتا ہے کہ ہر جھوٹ، چاہے کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو، اپنے پیچھے کسی نہ کسی سیاہ حقیقت کو ضرور چھوڑ جاتا ہے۔

    میں نے محسوس کیا ہے کہ سفید جھوٹ ہماری روزمرہ زندگی کا اتنا معمول بن چکا ہے کہ اب ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ ایک دوست فون کرے تو ہم کہہ دیتے ہیں: ”میں راستے میں ہوں“، حالانکہ ہم ابھی گھر سے بھی نہیں نکلے ہوتے۔ کوئی پوچھ لے۔ ”کیسے ہو؟“ تو جواب آتا ہے، ”بالکل ٹھیک ہوں“، جب کہ اندر ہی اندر انسان ٹوٹ رہا ہوتا ہے۔ کبھی ہم کسی دعوت میں نہ جانے کے لیے بہانہ بنا لیتے ہیں، کبھی کسی کا دل رکھنے کے لیے ایسی تعریف کر دیتے ہیں جس پر خود بھی یقین نہیں ہوتا۔ یہ سب ہمیں معمولی لگتا ہے مگر یہی معمولی جھوٹ آہستہ آہستہ ہماری شخصیت کا حصہ بننے لگتے ہیں۔

    دوستی کا رشتہ اعتماد پر قائم ہوتا ہے لیکن افسوس کہ سب سے زیادہ سفید جھوٹ بھی اکثر دوستوں کے درمیان ہی بولے جاتے ہیں۔ کبھی ملاقات سے بچنے کے لیے، کبھی ناراضی چھپانے کے لیے، کبھی کسی اور کو ترجیح دینے کے باوجود مصروفیت کا بہانہ بنا دیا جاتا ہے۔ شاید! اس وقت ہمیں لگتا ہے کہ ہم نے معاملہ سنبھال لیا مگر حقیقت یہ ہے کہ سامنے والا اکثر الفاظ سے زیادہ رویّے کو سمجھ لیتا ہے۔ اعتماد جب کمزور ہونے لگتا ہے تو دوستی کی مضبوط دیوار بھی آہستہ آہستہ گرنے لگتی ہے۔

    گھروں میں بھی یہی صورت حال دکھائی دیتی ہے۔ والدین بچوں سے بعض حقیقتیں چھپا لیتے ہیں اور بچے اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے سفید جھوٹ بول دیتے ہیں۔ بہن بھائی ایک دوسرے سے، میاں بیوی آپس میں، حتیٰ کہ کبھی انسان اپنے آپ سے بھی سچ نہیں بولتا۔ وہ اپنی کمزوریوں کو حالات کا نام دیتا ہے، اپنی غلطیوں کو مجبوری کہہ دیتا ہے اور اپنی کوتاہیوں کے لیے دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرا دیتا ہے۔ میرے نزدیک خود سے بولا جانے والا جھوٹ سب سے خطرناک جھوٹ ہے کیونکہ جب انسان اپنے ضمیر کو خاموش کر دیتا ہے تو پھر اسے سچ سنائی دینا بھی بند ہو جاتا ہے۔

    آج سوشل میڈیا نے بھی سفید جھوٹ کو ایک نیا لباس پہنا دیا ہے۔ ہر شخص اپنی زندگی کا خوبصورت ترین رخ دنیا کو دکھانا چاہتا ہے۔ کامیابیاں نمایاں ہوتی ہیں، ناکامیاں چھپ جاتی ہیں۔ مسکراہٹیں نظر آتی ہیں، آنسو نہیں۔ دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ سب خوش ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان اپنی اپنی آزمائشوں سے گزر رہا ہوتا ہے۔ اس بناوٹی دنیا نے ہمیں حقیقت سے زیادہ تصویر کا اسیر بنا دیا ہے۔

    بطور لکھاری میں نے ہمیشہ یہی محسوس کیا ہے کہ قلم صرف کہانیاں نہیں لکھتا بلکہ معاشرے کا آئینہ بھی بنتا ہے۔ جب میں لوگوں کے رویّوں پر غور کرتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم سچ سے اس لیے نہیں بھاگتے کہ وہ غلط ہے بلکہ اس لیے کہ کبھی کبھی وہ ہمیں ہماری اصل شکل دکھا دیتا ہے۔ جھوٹ آسان راستہ دکھاتا ہے جبکہ سچ انسان سے حوصلہ مانگتا ہے۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر سچ سخت لہجے میں نہیں بولا جاتا اگر نیت صاف ہو اور الفاظ میں نرمی ہو تو سچ بھی دلوں میں جگہ بنا لیتا ہے۔ اس کے برعکس جھوٹ چاہے کتنی ہی خوبصورتی سے بولا جائے، اس کی بنیاد کمزور ہوتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ وہ ڈھ جاتی ہے اور اس کے نیچے چھپی حقیقت سب کے سامنے آ جاتی ہے۔
    میں نے اپنی زندگی میں یہ سیکھا ہے کہ عزت، اعتماد اور محبت خریدے نہیں جا سکتے، یہ صرف سچائی سے کمائے جاتے ہیں۔ جو انسان سچ بولنے کی ہمت رکھتا ہے، وہ وقتی مشکل میں ضرور آ سکتا ہے مگر آخرکار وہی سرخرو ہوتا ہے۔ اس کے برعکس سفید جھوٹ وقتی سکون تو دے دیتا ہے لیکن بعد میں وہی سکون بے چینی میں بدل جاتا ہے۔ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے دوسرا جھوٹ، پھر تیسرا،ل اور پھر ایک ایسا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جس کا اختتام اکثر پچھتاوے پر ہوتا ہے۔

    اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے دیانت دار ہوں، ہمارے دوست ہم پر اعتماد کریں، ہمارے رشتے مضبوط رہیں اور ہمارا معاشرہ اخلاقی بنیادوں پر کھڑا ہو، تو ہمیں اپنی روزمرہ زندگی کے ان چھوٹے چھوٹے سفید جھوٹوں کا محاسبہ کرنا ہوگا جنہیں ہم معمول سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اصلاح ہمیشہ اپنے آپ سے شروع ہوتی ہے۔ جب ہم اپنی زبان کو سچ کا عادی بنا لیں گے تو ہمارا کردار بھی مضبوط ہوگا اور ہمارے تعلقات بھی۔

    آخر میں میں صرف اتنا کہنا چاہوں گی کہ سفید جھوٹ کبھی حقیقت کو شکست نہیں دے سکتا۔ وہ چند لمحوں کے لیے سچ پر پردہ ضرور ڈال دیتا ہے مگر وقت وہ ہوا ہے جو ہر پردہ ہٹا دیتا ہے۔ تب انسان کے سامنے صرف دو چیزیں رہ جاتی ہیں: ایک اس کا کردار اور دوسرا اس کے اعمال کی سچائی۔ میری نظر میں یہی وہ لمحہ ہے جہاں سفید جھوٹ اپنا رنگ کھو دیتا ہے اور اس کے پیچھے چھپے سیاہ حقائق پوری شدت کے ساتھ سامنے آ جاتے ہیں۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ ہم وقتی آسانی کے بجائے دائمی سچائی کا انتخاب کریں کیونکہ سچ شاید آزماتا ہے مگر آخرکار انسان کو سربلند بھی وہی کرتا ہے۔

  • کیا شادی واقعی ضروری ہے؟تحریر : محمد سبحان شوق

    کیا شادی واقعی ضروری ہے؟تحریر : محمد سبحان شوق

    ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں کسی بالغ انسان سے اس کی ملازمت، آمدنی، خواب اور ذہنی سکون کے بارے میں بعد میں پوچھا جاتا ہے، سب سے پہلے یہ پوچھا جاتا ہے کہ ’’شادی کب کر رہے ہو؟‘‘

    جیسے شادی نہ ہوئی تو زندگی میں کوئی بنیادی کمی رہ گئی۔
    شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر ایک سوال کرنا چاہیے کہ کیا شادی واقعی ہر انسان کے لیے ضروری ہے؟

    یہ سوال سنتے ہی ہمارے معاشرے کا ایک بڑا طبقہ ناراض ہو جائے گا۔ کچھ لوگ اسے خاندانی نظام کے خلاف بغاوت سمجھیں گے، کچھ اسے مغربی سوچ قرار دیں گے اور کچھ کہیں گے کہ شادی کے بغیر زندگی ادھوری ہے۔ لیکن کسی سوال کو صرف اس لیے غلط قرار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ ہماری عادتوں کو چیلنج کرتا ہے۔

    شادی یقیناً ایک خوبصورت رشتہ ہو سکتی ہے۔ دو انسان ایک دوسرے کا سہارا بن سکتے ہیں، ایک گھر آباد کر سکتے ہیں، اولاد کی تربیت کر سکتے ہیں اور زندگی کے دکھ سکھ بانٹ سکتے ہیں۔ لیکن یہی شادی اگر صرف معاشرتی دباؤ، تنہائی کے خوف، خاندان کی خواہش یا لوگوں کی زبان بند کرنے کے لیے کی جائے تو کیا وہ واقعی شادی رہ جاتی ہے؟

    ہم اکثر کہتے ہیں کہ ’’وقت پر شادی کر لو‘‘۔
    مگر کبھی یہ نہیں کہتے کہ ’’صحیح انسان سے شادی کرو۔‘‘

    ہم عمر دیکھتے ہیں، خاندان دیکھتے ہیں، ملازمت دیکھتے ہیں، شکل دیکھتے ہیں، جہیز دیکھتے ہیں، ذات دیکھتے ہیں، مگر مزاج کتنے لوگ دیکھتے ہیں؟ ذہنی ہم آہنگی کتنے لوگ دیکھتے ہیں؟ غصے کا انداز، اختلاف برداشت کرنے کی صلاحیت، ذمہ داری کا احساس اور دوسرے انسان کی عزت کرنے کا شعور کتنے لوگ دیکھتے ہیں؟

    نتیجہ ہمارے سامنے ہے ایک ہی گھر میں دو انسان برسوں ساتھ رہتے ہیں مگر ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے۔ ایک چھت ہوتی ہے، مگر گھر نہیں ہوتا۔ رشتہ قائم رہتا ہے، مگر تعلق ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ پھر بھی معاشرہ کہتا ہے کہ ’’شادی بچاؤ۔‘‘

    کیوں؟

    صرف اس لیے کہ طلاق بری لگتی ہے؟ اگر دو انسان ایک دوسرے کو مسلسل توڑ رہے ہوں تو کیا صرف شادی کا قائم رہنا کامیابی ہے؟ اور اگر دو انسان عزت کے ساتھ الگ ہو کر اپنی زندگی بہتر بنا لیتے ہیں تو کیا وہ ناکام ہو گئے؟

    یہاں ایک اور تلخ حقیقت بھی ہے۔ ہمارے ہاں غیر شادی شدہ شخص کو اکثر ادھورا سمجھا جاتا ہے، لیکن ایک ناخوش شادی شدہ شخص سے کوئی نہیں پوچھتا کہ تم واقعی خوش ہو یا نہیں۔ شاید ہمیں شادی کو منزل سمجھنے کے بجائے ایک ذمہ دارانہ انتخاب سمجھنے کی ضرورت ہے۔

    ہر انسان کو شریکِ حیات کی ضرورت محسوس ہو سکتی ہے، مگر ہر انسان ایک ہی عمر، ایک ہی وقت اور ایک ہی طریقے سے اس ضرورت کو محسوس نہیں کرتا۔ کچھ لوگ تنہائی میں بھی مطمئن ہوتے ہیں، کچھ رفاقت کے بغیر ٹوٹ جاتے ہیں۔ کچھ کے لیے خاندان زندگی کا مرکز ہے، کچھ اپنے کام، علم، فن یا کسی اور مقصد میں اپنی زندگی کا مفہوم تلاش کرتے ہیں۔

    اس لیے مسئلہ شادی کا ہونا یا نہ ہونا نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا انسان اپنی زندگی کا فیصلہ خود سمجھ بوجھ سے کر رہا ہے یا صرف اس لیے کہ لوگ سوال کرنا بند کر دیں شادی ضرور کیجیے، اگر آپ کسی انسان کے ساتھ زندگی بانٹنے کے لیے تیار ہیں۔ مگر صرف اس لیے شادی نہ کیجیے کہ عمر نکل رہی ہے، رشتہ دار باتیں بنا رہے ہیں یا محلے میں سب پوچھ رہے ہیں۔

    کیونکہ شادی دو انسانوں کے درمیان معاہدہ نہیں، دو زندگیوں کی ذمہ داری ہے۔ اور شاید ہمیں اپنے معاشرے میں پہلی مرتبہ یہ جملہ قبول کرنا ہوگا کہ شادی زندگی کا ایک خوبصورت راستہ ہے، مگر زندگی کا واحد راستہ نہیں۔ ضروری یہ نہیں کہ ہر انسان شادی کرے۔ ضروری یہ ہے کہ جو بھی فیصلہ کرے، سوچ کر کرے، ذمہ داری سے کرے اور کسی دوسرے انسان کی زندگی برباد کرکے نہ کرے۔

  • بورڈ امتحانات میں سرکاری سکولوں کے خراب نتائج،تحریر: عابد محمود عابد

    بورڈ امتحانات میں سرکاری سکولوں کے خراب نتائج،تحریر: عابد محمود عابد

    یہ صرف حالیہ نہم کے بورڈ امتحانات کے نتائج کی بات نہیں بلکہ گذشتہ ایک دہائی سے پنجاب کے سرکاری سکولوں کے بورڈ کے امتحانات کے نتائج بتدریج خراب سے خراب تر ہوتے جارہے ہیں ، ہاں یہ ہے کہ یہ جو ابھی جماعت نہم کا رزلٹ آیا ہے اس نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے اور یہ سوال اب ہر جگہ گردش کر رہا ہے کہ یہ کون سی وجوہات ہیں کہ جن کی وجہ سے پنجاب کے سرکاری سکولوں کے بورڈ کے امتحانات کے نتائج بد سے بد تر ہوتے جارہے ہیں ، ان سوالوں کا ایک جواب تو بچے بچے کی زبان پر ہے کہ جو گذشتہ کچھ سالوں سے ارباب اختیار نے تعلیمی سال کو بہت زیادہ مختصر کر دیا ہے ، یہی خراب نتائج کی اصل وجہ ہے ، یقینی طور یہ بات بھی ٹھیک ہے کیونکہ پچھلے کچھ سالوں میں گرمیوں اور سردیوں کی چھٹیوں کی تعداد بھی کہیں زیادہ بڑھادی گئی ہے اور پھر کبھی سموگ ، کبھی سیلاب اور کبھی جنگ کے نام پر بھی چھٹیوں کی نئی نئی قسمیں متعارف کروائی گئی ہیں ، تعلیمی سال کا مختصر ہونا یقینی طور پر خراب نتائج کی ایک بڑی وجہ تو ہے لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ چھٹیاں تو نجی تعلیمی اداروں میں بھی ہوتی ہیں تو نتائج صرف سرکاری سکولوں کے ہی کیوں خراب آتے ہیں ، نجی تعلیمی اداروں کے نتائج تو ٹھیک ٹھاک آرہے ہیں ، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چھٹیوں کی وجہ کے ساتھ ساتھ خراب نتائج کی کئی اور وجوہات بھی ہیں ، انہی دیگر وجوہات کا احاطہ میں اس تحریر میں کرنے کی کوشش کروں گا ،

    ایک بات ہے کہ جب سے سرکاری سکولوں کے سربراہان کو ٹارگٹ دیا جاتا ہے کہ آپ نے ہر سال سکول میں اتنے داخلے یقینی بنانے ہیں تو تب سے بغیر کسی قواعد و ضوابط کے داخلے کرنا تو ایک معمول کی بات بن گئی ہے ، کئی سرکاری سکولوں میں اب کسی دوسرے سکول سے جماعت چہارم سے پاس ہوکر آنے والے بچے کو براہ راست جماعت ششم میں داخل کر لیا جاتا ہے ، ظاہر ہے جب ایک بچہ ڈائریکٹ جماعت چہارم سے جماعت ششم میں جائے گا تو اسکی تعلیمی قابلیت پر ایک منفی اثر تو پڑے گا ، پھر دیکھا دیکھی بہت سے والدین اپنے بچوں کو جمپ لگوا کر اگلی سے اگلی کلاس میں بٹھانے کی کوشش کرتے ہیں ، اس طرح پھر بچوں کی تعلیمی کارکردگی پر براہ راست منفی اثر پڑتا ہے ،

    ایک اور بات یہ بھی کہ کچھ سالوں سے سرکاری سکولوں میں جو سکول کے اندر امتحانات لیے جاتے ہیں ، ان میں پاس اور فیل ہونے کا تصور ختم کردیا گیا ہے اور سالانہ امتحان میں شریک ہونے والے ہر بچے کو اگلی کلاس میں بٹھا دیا جاتا ہے ، جماعت ہشتتم تک یہی سلسلہ چلتا رہتا ہے اور پھر جب بچہ جماعت نہم میں پہنچتا ہے تو بورڈ کے امتحانات میں اسکو پاس اور فیل ہونے کے نظام کا سامنا ہوتا ہے اور چونکہ جماعت ہشتم تک فیل نہ ہونے کی وجہ سے نالائق بچے بھی جماعت نہم کے بورڈ کے امتحانات دے رہے ہوتے ہیں تو پھر نتیجہ خراب آنے کا چانس بہت زیادہ ہوتا ہے اور یہی پچھلے سالوں سے لگاتار ہورہا ہے ،
    ایک دور تھا کہ بورڈ کے امتحانات میں بڑی بڑی ساری پوزیشنز گورنمنٹ سکولوں کے کھاتے میں آتی تھیں لیکن اب ایسا کیوں نہیں ہے ؟
    محکمہ تعلیم پنجاب کے ارباب اختیار کو اس بارے میں سوچنا چاہیے ، کیا گورنمنٹ سکولوں میں تعلیم کا معیار گرگیا ہے یا جو اوپر وجوہات بیان کی گئی ہیں ، وہی قابل غور ہیں ؟
    یہ سب سوالات توجہ طلب ہیں اور خامیوں کو دور کرکے دوبارہ پنجاب کے سرکاری سکولوں کے بورڈ کے امتحانات کے نتائج کو بہتر بنایا جاسکتا ہے ،

  • میرے راستوں میں اُجالا رہا،تحریر: دانیال حسن چغتائی

    میرے راستوں میں اُجالا رہا،تحریر: دانیال حسن چغتائی

    انسانی فکر اور ذوقِ مطالعہ کبھی ایک نقطے پر منجمد نہیں رہتے۔ زمانے کی گردش کے ساتھ جہاں انسان کے نظریات اور ترجیحات بدلتی ہیں، وہاں اس کے پڑھنے کے شوق کے زاویے بھی ہمہ وقت تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ میں جو اپنے سفرِ مطالعہ کے ابتدائی دور میں اطفال ادب کی سحر انگیز اور تخیلاتی کہانیوں کی دنیا میں محوِ پرواز تھا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حقیقت نگاری کی طرف مائل ہوتا چلا گیا۔ بچوں کی کہانیوں کی بساط اور ان کے معصوم موضوعات سے نکل کر جب فکر ترقی کی حدود میں قدم رکھتی ہے تو سفرنامے، افسانے اور ناول انسانی دلچسپی کا مرکز بن جاتے ہیں۔

    تاہم، بچوں کے لیے لکھنے کا عمل ایسا کٹھن ریاض ہے جو ادیب سے ہمہ وقت مطالعے کی طلب کرتا ہے۔ اطفال ادب کے لیے موضوعات کی جستجو انسان کو مطالِعے کا رسیا بنا دیتی ہے۔ یہی مطالعہ جب آگے چل کر وسیع تر ہوتا ہے تو انسان کو کائنات کی وسعتوں، انسانی نفسیات اور جغرافیائی ورثے سے جوڑ دیتا ہے۔ سفرنامہ بنیادی طور پر اسی سفرِ مشاہدہ کی معراج ہے۔ یہ چند مقامات کا آنکھوں دیکھا حال یا کسی سیاح کے مشاہدات کا بیان نہیں بلکہ یہ زمان و مکان کے پردوں میں چھپے ہوئے ماضی و حال کا ایسا انضمام ہے جسے حساس نثر نگار اپنے لفظوں کے پیراہن میں ڈھال کر ہمیشہ کے لیے امر کر دیتا ہے۔

    سفر نامہ سیاح کی یاداشتوں کا وہ مجموعہ ہے جہاں مناظر جنہیں صدیاں دیکھتی چلی آ رہی ہیں، نثر نگار کے تخیل کے سحر میں قید ہو کر امر ہو جاتے ہیں۔ اس سفر میں کبھی صدیاں ساتھ سفر کرتی ہیں اور کبھی واجبی سا منظر رنگین خیال سے لپٹ کر ہمیشہ کے لیے زندہ ہو جاتا ہے۔

    اسی ذوقِ مطالعہ کی تسکین اور وطنِ عزیز کے غیر معروف گوشوں سے آشنائی کا حسین بہانہ محترمہ شائستہ صادق کا زیرِ تبصرہ سفرنامہ ”میرے راستوں میں اُجالا رہا“ بنا۔ یہ کتاب ایسے وقت میں ہاتھ آئی جب نقد و تبصرہ کی منتظر کتب کی طویل قطار پہلے سے موجود تھی لیکن اس کتاب کے موضوع، اسلوب اور مصنفہ کے منفرد نقطہ نظر نے اسے اولیت دینے پر مجبور کیا۔

    اس سفرنامے کی سب سے دلکش اور تحسین آمیز بات وہ زریں نظریہ ہے جو اس کی اشاعت کے پسِ پردہ کارفرما ہے۔ مصنفہ نے نہ صرف اس کتاب کا انتساب اپنے والدین کی معزز اور شفیق یادوں کے نام کیا ہے بلکہ انہوں نے یہ عزم بھی ظاہر کیا ہے کہ اس کتاب کی فروخت سے حاصل ہونے والی تمام تر رقم ایک فلاحی ادارے کو عطیہ کی جائے گی۔ تجارتی مادی پرستی کے اس دور میں ادب کو کسبِ معاش کے بجائے خدمتِ خلق اور صدقہ جاریہ کا ذریعہ بنانا ایسا بے لوث عمل ہے جو مؤلفہ کے بلند مرتبے اور عالی ظرفی کا بین ثبوت ہے۔
    سفرنامے کے باقاعدہ آغاز سے قبل پاکستان کے معتبر، جامع اور نامور ادیبوں اور سیاحوں کی آرا شامل کی گئی ہیں۔ ان میں سر محمود ظفر اقبال ہاشمی، فارس مغل، محمد عبدہ (جو پہاڑوں اور سرسبز وادیوں کی سیاحت و نگارش کے حوالے سے معتبر نام ہیں)، تسلیم کوثر اور شاہد عزیز کی نگارشات شامل ہیں۔ ان تمام صاحبِ طرز شخصیتوں کی تقاریظ نے کتاب کے ادبی وزن اور علمی وقار میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔

    جہاں کتاب اپنے متن اور مواد کے اعتبار سے انتہائی بیش قیمت ہے، وہاں اس کی پیشکش اور فنی تیاری میں ایک نمایاں کمی محسوس ہوتی ہے۔ پبلشنگ ادارے نے مسودے کی باقاعدہ پروف ریڈنگ اور تدوینی تنقیح پر توجہ نہیں دی۔ مصنفہ کے لکھے گئے مسودے کو بغیر کسی تکنیکی تصحیح کے من و عن شائع کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے اتنی خوبصورت اور وقیع کتاب میں املا اور ساخت کی خامیاں نظر آتی ہیں۔ اچھے اشاعتی ادارے کے لیے لازم ہے کہ وہ نفیس ادب کی اشاعت سے قبل اپنی تدوینی ٹیم کے معیار پر نظرِ ثانی کرے۔ قوی امید ہے کہ جب اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن منظرِ عام پر آئے گا تو ان حرفی و لغوی ناہمواریوں کی اصلاح کر لی جائے گی۔
    عمومی طور پر ہمارے ہاں جب کوئی سفرنامہ نگار قلم اٹھاتا ہے تو اس کی نظریں دیارِ غیر، یورپ کی وادیوں یا مشرقِ وسطیٰ کے شہروں پر جا ٹِکتی ہیں۔ بیرونِ ملک کی سیاحت کو ہی سفرنامے کا شایانِ شان موضوع سمجھا جاتا ہے لیکن شائستہ صادق کا طرہ امتیاز اور اس کتاب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے وطنِ عزیز پاکستان کے ان دور افتادہ اور تاریخی گوشوں کو اپنے سفر کا محور بنایا جن پر عام سیاحوں اور قلم کاروں کی نظر نہیں پڑتی۔

    پاکستان کے ان علاقوں میں جہاں تاریخ کی صدیاں دفن ہیں، اگر حکومتی سطح پر سیاحتی بنیادوں پر تھوڑی سی توجہ اور بنیادی سہولیات فراہم کر دی جائیں تو ملکی سیاحت میں انقلابی اضافہ ہو سکتا ہے۔ لیکن حکومتی بے توجہی اور دیگر ترجیحات کی بنا پر یہ علاقے اب تک اوجھل رہے۔ شائستہ صادق نے اپنے قلم کے ذریعے ان مقامات کو ازسرِ نو زندہ کیا ہے۔

    کتاب کی سحر انگیزی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سفر کا آغاز بلوچستان کی وسیع و عریض سرزمین سے ہوتا ہے۔ پسنی کے نیلگوں پانی، ماہی گیروں کی بستیوں کا سادہ اور مشقت طلب ڈھنگ اور کوسٹل ہائی وے کے کنارے کھڑے قدامت کے شاہدین اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔ گوادر کی ساحلی پٹی پر کھڑے ہو کر مصنفہ جب قدیم آثار کی داستان سنائی دیتی ہیں تو وطن عزیز سے ان کی محبت صاف محسوس ہوتی ہے۔
    بلوچستان کے لق و دق صحراؤں میں ”پرنسس آف ہوپ“ کی قدرتی تراشیدہ شباہت، بدا کی قديم باقیات اور ہنگلاج میں واقع ”نانی کا مندر“ ایسے مقامات ہیں جن کے بارے میں ہمارے ہاں بہت کم لکھا گیا ہے۔ مصنفہ نے ان تمام مقامات کے مذہبی، تاریخی اور جغرافیائی پس منظر کو انتہائی سادہ اور عام فہم زبان میں بیان کیا ہے۔
    بلوچستان سے یہ سفر جب اندرونِ سندھ میں داخل ہوتا ہے، تو تاریخی قصبہ بھنبھور اور ماروی کی یادگاریں مجسم ہو جاتی ہیں۔ سندھ ساگر کے پانیوں پر اترتی ہوئی دھوپ کی مانگ سجی یہ تحریر سسی پنوں کی داستانِ محبت اور صوفیائے سندھ کی زمزمہ پرور فضاؤں میں لے جاتی ہے۔ رحیم یار خان کی شاندار اور پرشکوہ ”بھونگ مسجد“، پتن منارہ کے تاریخی آثار، عمر کوٹ کا تاریخی قلعہ، گڈو بیراج کی عظمت اور حروں کے مساکن وہ تمام مقامات ہیں جہاں عام سیاحوں کی رسائی سہولیات کی کمی کی وجہ سے محدود رہتی ہے۔مگر مصنفہ نے اپنے دوستوں کے ہمراہ ان تمام دشوار گزار راستوں کو کھوجا اور انہیں نثری قالب میں ڈھال کر اہم علمی خدمت سر انجام دی ہے۔
    سفرنامے کا اختتام خیبر پختونخوا میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد ”طورخم“ کے آخری موڑ پر ہوتا ہے۔ وہاں کھڑے ہو کر جب مصنفہ اس قصے کو تمام کرتی ہیں تو ایک طرف تو سفر کے ختم ہونے کا ملال ہوتا ہے اور دوسری طرف پورے پاکستان کا ایک مکمل جغرافیائی و تاریخی نقشہ اس کے ذھن پر مرتسم ہو چکا ہوتا ہے۔
    اس سفرنامے کا ایک اور نہایت شاندار باب لاہور کی تاریخی اہمیت اور اس کے تہذیبی ورثے سے متعلق ہے۔ یوں تو لاہور پر بے شمار سفرنامے اور تاریخیں لکھی جا چکی ہیں لیکن شائستہ صادق نے لاہور کے روایتی حسن سے ہٹ کر اس کی ان باریک بیں گلیوں اور مقامات کو اپنے مشاہدے کا حصہ بنایا ہے جو عام طور پر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔

    دہلی دروازہ، روشنائی دروازہ، شاہی حمام اور حضور باغ کی معمارانہ عظمت کی ایسی دلفریب منظر کشی کی گئی ہے کہ انسان خود کو ان تاریخی عمارتوں کے سایہ تلے محسوس کرتا ہے۔ سرجن سنگھ گلی، رام گوپال کی تاریخی گلی (جس کا نام وقت کے ساتھ تبدیل کر دیا گیا) اور ہانی والا تالاب کے تذکرے تحقیق اور معلومات کا نیا در وا کرتے ہیں۔
    فوڈ اسٹریٹ کی دوبارہ بحالی، مسجد وزیر خان کی کاشی کاری اور شاہی حمام کی قدیم تکنیک پر جو تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے، وہ اندرونِ لاہور کا مکمل اور دلکش پیکج فراہم کرتی ہے۔ مصنفہ کا قلم لاہور کی ان تاریک گلیوں میں بھی روشنی بکھیرتا دکھائی دیتا ہے جہاں ماضی کا دلفریب حسن اور تاریخ ایک ساتھ سانس لیتے محسوس ہوتے ہیں۔
    شائستہ صادق کے اسلوبِ نگارش کا سب سے بڑا حسن ان کی صداقتِ بیانی ہے۔ انہوں نے اپنے مشاہدات، تجارب اور سفری صعوبتوں کو چھپانے یا بوجھل تصنع سے کام لینے کے بجائے بالکل واضح، شفاف اور سادہ انداز میں بیان کیا ہے۔
    سفرنامے کی معراج یہ ہوتی ہے کہ وہ پڑھنے والے کو غیر جانبدار ناظر نہ رکھے بلکہ اسے اپنے ساتھ سفر میں شامل کر لے۔ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے انسان کو لمحہ بہ لمحہ یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ خود مصنفہ کے ہم رکاب گاڑی، ٹرینمیں سوار ہے، مختلف لوگوں سے مل رہا ہے۔اور ان کی باتوں سے کہانیاں اور تخیل چن رہا ہے۔
    ”میرے راستوں میں اُجالا رہا“ پاکستان کے پوشیدہ حسن، اس کی شاندار تاریخ اور نظر انداز شدہ جغرافیے کا سچا اور خوبصورت مرقع ہے۔ ایک ہزار روپے کی قلیل قیمت کے عوض یہ کتاب پاکستان شناسی کا ایسا جامع منظر نامہ فراہم کرتی ہے جس کی قدر ہر باذوق قاری کو کرنی چاہیے۔

    پاکستان کو جاننے، اس کی مٹی سے محبت کرنے اور تاریخ و سیاحت سے شغف رکھنے والے تمام قارئین کے لیے یہ کتاب انمول تحفہ ہے۔ یہ ذوقِ مطالعہ کی تسکین کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ وطنِ عزیز کے دور افتادہ اور خوبصورت علاقوں سے جذباتی و فکری تعلق بھی استوار کرتی ہے۔
    میں اپنے اس دوست کا بھی تہہ دل سے شکر گزار ہوں جن کی وجہ سے مجھے یہ کتاب پڑھنے کا موقع ملا۔ اللہ تعالی ان کے علم و فضل میں اور رزق میں برکت عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین ۔

  • ظاہر پیر سے فتح پور کمال تک،قومی شاہراہ پر موت کا رقص، ذمہ دار کون؟تحریر: رئیس عنایت اللہ چاچڑ

    ظاہر پیر سے فتح پور کمال تک،قومی شاہراہ پر موت کا رقص، ذمہ دار کون؟تحریر: رئیس عنایت اللہ چاچڑ

    ظاہر پیر سے فتح پور کمال تک قومی شاہراہ کا سفر بظاہر معمول کا سفر ہے، مگر اس سڑک پر آئے روز پیش آنے والے سنگین حادثات نے اسے خطرناک شاہراہ بنا دیا ہے۔ کبھی تیز رفتار ٹرالر کسی گاڑی کو اپنی زد میں لے لیتا ہے، کبھی ٹرک اور موٹر سائیکل آپس میں ٹکرا جاتے ہیں اور کبھی رکشہ یا کار حادثے کا شکار ہو جاتی ہے۔ ان حادثات میں کئی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں جبکہ معصوم بچے، خواتین اور بزرگ بھی اس خونی سلسلے کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ حادثات کی بڑی وجوہات میں تیز رفتاری، ڈرائیوروں کی لاپرواہی، غیر محتاط ڈرائیونگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی شامل ہیں، تاہم قومی شاہراہ پر جگہ جگہ بنائی گئی غیر ضروری میڈین اوپننگز اور یوٹرن پوائنٹس بھی ایک اہم مسئلہ بن چکے ہیں۔ چھوٹے بڑے اڈوں اور آبادیوں کے قریب شاہراہ کے درمیان متعدد مقامات پر آمدورفت کے لیے راستے کھولے گئے ہیں جہاں موٹر سائیکل، رکشہ، کار اور دیگر چھوٹی گاڑیاں اچانک قومی شاہراہ پر آنے والی تیز رفتار بسوں، ٹرکوں اور ٹرالرز کے سامنے آ جاتی ہیں۔ چند لمحوں کی یہ بے احتیاطی کئی خاندانوں کو عمر بھر کا دکھ دے جاتی ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے محض حادثے کے بعد کارروائی کرنے کے بجائے حادثات کی روک تھام کے لیے مستقل اور عملی اقدامات کریں۔ قومی شاہراہ کا مکمل حفاظتی جائزہ لیا جائے، غیر ضروری میڈین اوپننگز اور خطرناک یوٹرن پوائنٹس بند کیے جائیں اور صرف ضرورت کے مطابق محفوظ یوٹرن فراہم کیے جائیں۔ آبادیوں اور اڈوں کے قریب واضح سائن بورڈز، مناسب اسٹریٹ لائٹس، رفتار کی حد کے اشارے اور دیگر حفاظتی انتظامات بھی یقینی بنائے جائیں۔ ساتھ ہی ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد، تیز رفتاری کی مؤثر نگرانی اور ڈرائیوروں میں شعور اجاگر کرنا بھی ضروری ہے۔ سڑکیں سفر کو آسان بنانے کے لیے ہوتی ہیں، زندگی چھیننے کے لیے نہیں۔ اگر بروقت توجہ دی جائے تو ظاہر پیر سے فتح پور کمال تک اس خطرناک شاہراہ کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے اور کئی گھروں کے چراغ بجھنے سے بچائے جا سکتے ہیں۔ آخر سوال یہی ہے: مزید کتنی قیمتی جانیں ضائع ہونے کے بعد ہم جاگیں گے؟

  • جب قانون سامنے کھڑا ہو اور انصاف تماشائی بن جائے،تحریر: زینب جہانزیب

    جب قانون سامنے کھڑا ہو اور انصاف تماشائی بن جائے،تحریر: زینب جہانزیب

    کچھ منظر بس دیکھے نہیں جاتے، وہ دل میں اتر جاتے ہیں۔ چند دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھی۔ بتایا جا رہا تھا کہ راولپنڈی مال روڈ پر ایک وکیل نے ایک موٹر سائیکل سوار کو تھپڑ مارا، جبکہ قریب موجود ایک ٹریفک پولیس اہلکار یہ سب دیکھتا رہا۔ ویڈیو چند لمحوں کی تھی، مگر جانے کیوں وہ منظر میرے ذہن میں وہیں رک گیا۔ شاید اس لیے کہ اس میں صرف ایک شخص کو تھپڑ نہیں مارا جا رہا تھا، وہاں کسی کی عزت، کسی کا اعتماد اور شاید کسی کا قانون پر یقین بھی تھپڑ کھا رہا تھا۔

    اور اس پورے منظر میں جو چیز میرے دل میں سب سے زیادہ ٹھہر گئی، وہ اُس موٹر سائیکل والے کی آنکھیں تھیں۔ جس انداز سے وہ ٹریفک پولیس والے کی طرف دیکھ رہا تھا، میں اُس نظر کو شاید کبھی بھول نہ سکوں۔ اُس کی آنکھوں میں جیسے ایک سوال تھا۔۔۔ ایسا سوال جو زبان پر نہیں آیا، مگر صاف سنائی دے رہا تھا۔ جیسے وہ پوچھ رہا ہو، "آپ تو یہاں موجود ہیں، پھر میرے ساتھ یہ کیوں ہو رہا ہے؟” اُس کی نظروں میں غصہ بھی تھا، حیرت بھی، مگر ان سب سے زیادہ ایک ایسی مایوسی تھی جسے شاید بہت سے لوگوں نے دیکھا ہی نہ ہو۔ لیکن میں نے دیکھی۔ وہ بار بار پولیس والے کی طرف دیکھ رہا تھا، جیسے آخری امید بھی وہیں کھڑی ہو۔ جیسے اسے یقین ہو کہ شاید ابھی کوئی آگے بڑھے گا، شاید کوئی اسے اس بے عزتی سے نکال لے گا۔۔۔ مگر جب سامنے صرف خاموشی ہو تو انسان کی آنکھوں میں امید بھی آہستہ آہستہ بجھنے لگتی ہے۔

    شاید اُس وقت وہ صرف ایک تھپڑ سے نہیں ٹوٹا ہوگا۔ شاید اسے اس بات نے زیادہ توڑا ہوگا کہ جس شخص سے اسے تحفظ کی امید تھی، وہ بھی خاموش کھڑا تھا۔ مجھے اُس کی آنکھوں میں یہی سوال نظر آیا۔۔۔ "اگر آپ بھی میرے لیے نہیں کھڑے ہوں گے، تو پھر میں کس کے پاس جاؤں؟” شاید یہ سوال اُس نے کبھی زبان سے نہ کہا ہو، مگر بعض سوال کہنے کے لیے لفظوں کے محتاج نہیں ہوتے۔ کچھ سوال آنکھوں میں آتے ہیں اور سیدھے دوسرے انسان کے ضمیر تک پہنچتے ہیں۔

    ہم اکثر ظلم کو صرف اُس ہاتھ میں دیکھتے ہیں جو کسی پر اٹھتا ہے، مگر کبھی کبھی ظلم اُس خاموشی میں بھی چھپا ہوتا ہے جو اُس ہاتھ کو اٹھتے ہوئے دیکھتی ہے اور پھر بھی کچھ نہیں کہتی۔ شاید خاموش رہنے والا خود کسی کو نہیں مارتا، لیکن جب ایک کمزور شخص اپنے سامنے ہونے والی زیادتی کے خلاف اکیلا کھڑا ہو اور اردگرد موجود لوگ خاموش رہیں، تو اُس کی بے بسی اور بھی گہری ہو جاتی ہے۔ کیونکہ پھر اسے صرف ایک شخص سے نہیں، پورے ماحول سے شکست محسوس ہونے لگتی ہے۔

    ہم نے شاید طاقت کا مطلب ہی غلط سمجھ لیا ہے۔ طاقت اس بات کا نام نہیں کہ آپ کسی کمزور کو دبا سکیں۔ اصل طاقت تو اُس وقت سامنے آتی ہے جب آپ کے پاس اختیار ہو، مگر آپ اُس اختیار کو کسی کی عزت پامال کرنے کے لیے استعمال نہ کریں۔ وکیل ہونا قابلِ احترام پیشہ ہے، مگر قانون جاننے کا مطلب قانون سے اوپر ہونا نہیں۔ اسی طرح پولیس کی وردی صرف اختیار نہیں، ایک ذمہ داری بھی ہے۔ اُس وردی کی اصل عزت شاید اسی میں ہے کہ جب ایک بے اختیار انسان مشکل میں ہو تو اسے یہ محسوس نہ ہونے دیا جائے کہ وہ اکیلا ہے۔

    اور یہاں سے بات صرف اُس وکیل یا اُس پولیس اہلکار تک محدود نہیں رہتی۔ یہ سوال ہم سب کے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ اگر ہم کسی کے ساتھ زیادتی ہوتے دیکھیں اور خاموشی سے گزر جائیں، اگر ہم یہ سوچ کر نظریں پھیر لیں کہ "یہ میرا مسئلہ نہیں” تو کیا واقعی ہم اس سب سے بالکل الگ ہیں؟ شاید نہیں۔ کیونکہ معاشرے صرف ظالم لوگوں سے خراب نہیں ہوتے، کبھی کبھی اچھے لوگوں کی خاموشی بھی ظلم کو جگہ دیتی ہے۔

    مجھے لگتا ہے ہم آہستہ آہستہ ظلم کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ کوئی واقعہ ہوتا ہے، ویڈیو بنتی ہے، لوگ غصہ کرتے ہیں، چند دن بات ہوتی ہے اور پھر ہم اگلی خبر کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ شاید ہمیں اب ظلم سے زیادہ اُس بے حسی سے