Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جرائم کے خاتمے کی جنگ اور بے گناہ جانوں کا تحفظ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جرائم کے خاتمے کی جنگ اور بے گناہ جانوں کا تحفظ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ریاست کی کامیابی صرف مجرم کے خاتمے میں نہیں، بلکہ ہر بے گناہ جان کے تحفظ میں پوشیدہ ہوتی ہے

    اختیارات سے زیادہ اہم تربیت، احتساب اور پیشہ ورانہ مہارت ہے ورنہ کامیاب آپریشن بھی سوالوں کی زد میں آ جاتے ہیں

    ایک معصوم بچی کی موت نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ جرائم کے خلاف جنگ میں کہیں شہریوں کی سلامتی تو قربان نہیں ہو رہی؟

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پنجاب میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کے دوران سی سی ڈی (Crime Control Department) کی حالیہ کارروائی میں خطرناک ملزمان کے خاتمے کو یقیناً نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ وہ عناصر تھے جن پر سنگین جرائم، ڈکیتیوں اور قتل کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ جرائم کے خلاف مؤثر کارروائی کرے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرے۔ تاہم ریاستی طاقت کی اصل کامیابی صرف مجرموں کے خاتمے میں نہیں بلکہ بے گناہ جانوں کے مکمل تحفظ میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ گزشتہ روز ایک آسٹریلوی خاندان کی کمسن بچی کا فائرنگ کے تبادلے میں جاں بحق ہونا اور خاندان کے دیگر افراد کا زخمی ہونا ایک ایسا سانحہ ہے جس نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر سی سی ڈی میں کام کرنے والے اہلکار بنیادی طور پر پنجاب پولیس ہی سے لیے گئے ہیں تو پھر اس نئے ادارے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟ کیا اس فورس کے قیام سے قبل اس کے اہلکاروں کو بین الاقوامی معیار کی خصوصی تربیت دی گئی؟ کیا شہری آبادی میں ہائی رسک آپریشنز کے لیے الگ پروٹوکول مرتب کیے گئے؟ اور اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر اس ادارے کے قیام کا مقصد کیا تھا؟ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ پنجاب پولیس کی تاریخ میں ایسے بے شمار افسران گزرے ہیں جنہوں نے انتہائی محدود وسائل کے باوجود جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کامیاب آپریشن کیے۔ کئی دہائیوں سے پنجاب پولیس نے دہشت گردی، اغوا برائے تاوان، ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس تناظر میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ اگر وسائل، اختیارات اور جدید سہولیات پنجاب پولیس کے موجودہ ڈھانچے کو ہی فراہم کر دی جاتیں تو کیا مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے تھے؟

    حکومتوں کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی نیا ادارہ تشکیل دیا جاتا ہے تو اس کی کامیابی کا انحصار صرف اختیارات پر نہیں بلکہ تربیت، نگرانی، احتساب اور پیشہ ورانہ مہارت پر ہوتا ہے۔ماضی میں بھی بعض ادارے بڑے دعووں اور بلند مقاصد کے ساتھ وجود میں آئے مگر بعد ازاں ان کی کارکردگی اور طریقہ کار سوالات کی زد میں آ گئے۔ اسی لیے کسی بھی نئے ادارے کی تشکیل کے بعد مسلسل جائزہ لینا اور اس کی خامیوں کو دور کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔یہ واقعہ محض ایک فائرنگ کا واقعہ نہیں بلکہ پاکستان کے بین الاقوامی تشخص سے بھی جڑا ہوا معاملہ بن چکا ہے۔ ایک غیر ملکی خاندان کے متاثر ہونے کے باعث اس سانحے کی بازگشت آسٹریلیا، یورپ اور دیگر ممالک تک پہنچی ہے۔ ایسے واقعات عالمی سطح پر نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر سوالات اٹھاتے ہیں بلکہ سرمایہ کاری، سیاحت اور ملک کے مجموعی تاثر پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاملے کو جذبات کے بجائے تدبر اور سنجیدگی سے دیکھا جائے۔ حکومت پنجاب کو چاہیے کہ وہ اس واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائے، ذمہ داری کا تعین کرے اور ساتھ ہی یہ بھی جائزہ لے کہ سی سی ڈی کے قیام کے مقاصد، تربیتی معیار اور آپریشنل طریقہ کار کس حد تک مؤثر ہیں۔ ریاست کی قوت کا اصل امتحان صرف مجرموں کے خاتمے میں نہیں بلکہ بے گناہ شہریوں کی جان و مال کے مکمل تحفظ میں ہوتا ہے۔ اگر ایک بھی معصوم جان ریاستی کارروائی کی نذر ہو جائے تو اصلاح اور احتساب کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔

  • امن کا نیا سفیر اور بدلی ہوئی دنیا.تحریر :جان محمد رمضان

    امن کا نیا سفیر اور بدلی ہوئی دنیا.تحریر :جان محمد رمضان

    دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں ہمیشہ تباہی لاتی ہیں، لیکن مستقل امن صرف عقل، فہم اور مذاکرات کی میز پر ہی ممکن ہوتا ہے۔ گزشتہ طویل عرصے سے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی نے پوری دنیا، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ تیل کی سپلائی کے راستے بند ہو رہے تھے اور عالمی معیشت ڈوب رہی تھی۔ ایسے نازک موڑ پر پاکستان نے دنیا کے سامنے ایک سچے امن ساز کا کردار پیش کیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والا حالیہ امن معاہدہ نہ صرف عالمی سیاست کا رخ بدل رہا ہے، بلکہ اس نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کا سب سے بڑا ضامن ہے۔
    فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خاموش اور کامیاب سفارت کاری کام کرگئی اس پورے امن عمل کے پیچھے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کئی مہینوں کی انتھک محنت اور شاندار حکمت عملی شامل ہے۔ جب دنیا جنگ کے شعلوں میں جل رہی تھی، انہوں نے پسِ پردہ رہ کر تہران، بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں کا ایک مضبوط پل بنایا۔ ان کی اس ‘بیک چینل سفارت کاری’ کا نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں کٹر دشمن ایک دوسرے کی شرطیں ماننے اور ہتھیار ڈال کر امن کا راستہ اپنانے پر راضی ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی حکومت اور بین الاقوامی مبصرین ان کے اس تاریخی کردار کی کھل کر تعریف کر رہے ہیں۔
    معاہدے کے بڑے نکات اور اثرات پوری دنیا دیکھے گی
    عالمی ذرائع کے مطابق، اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک فوری طور پر تمام فوجی کارروائیاں روک دیں گے۔ امریکہ ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا اور ایرانی بندرگاہوں سے اپنے جنگی جہاز ہٹا لے گا۔ اس کے بدلے میں دنیا بھر کے لیے تیل کی سپلائی کا اہم ترین راستہ، یعنی آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ مزید برآں، امریکہ کی طرف سے روکے گئے ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے بھی مرحلہ وار واپس کیے جائیں گے۔ اس معاہدے پر باقاعدہ دستخط کی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہونے جا رہی ہے، جس کی میزبانی خود پاکستان کرے گا۔

    پاکستان کے لیے فخر کا مقام ھے کہ دنیا کے طاقتور ملک کے ثالث ھم ہیں
    اس کامیابی نے عالمی سطح پر پاکستان کی عزت کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی جنگ کا حصہ بننے کے بجائے دنیا میں امن پھیلانے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس معاہدے سے نہ صرف مسلم امہ کی پریشانیاں کم ہوں گی، بلکہ پاکستان کی اپنی معیشت اور پاک-ایران بارڈر پر تجارت کو بھی بہت بڑا فروغ ملے گا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستانی قیادت کی اس تاریخی کامیابی کو تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا، کیونکہ انہوں نے دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچا کر امن کا نیا راستہ دکھایا ہے۔
    فیلڈمارشل حافظ سید عاصم منیر صاحب نے کر دکھایا کہ پاکستان ہمیشہ زندہ باد تھا ہمیشہ زندہ باد رھے گا ۔

  • نوکری نہیں، کاروبار وقت کی ضرورت،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    نوکری نہیں، کاروبار وقت کی ضرورت،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ نوجوانوں کو نوکری کی بجائے کاروبار کی طرف وقت کی ضرورت بن چکا ہے ہمارا نوجوان کاروبار کی طرف توجہ کیوں نہیں دے پا رہا آئیں اس پر تفصیلی تبادلہ خیال کرتے ہیں
    پاکستان اس وقت بے شمار معاشی، سماجی اور انتظامی مسائل سے دوچار ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ لا قانونیت کرپشن اور اقربا پروری ہے۔ بے روزگاری، مہنگائی، غربت، صنعتی زوال، قرضوں کا بوجھ اور آبادی میں مسلسل اضافہ ایسے چیلنجز ہیں جو ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ان مسائل کا سب سے زیادہ اثر نوجوان نسل اور آنے والے کل پر ، پڑ رہا ہے، جو پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کی تقریباً 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہی نوجوان اگر درست سمت میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں تو پاکستان ترقی کی نئی منازل طے کر سکتا ہے، لیکن اگر ان کی توانائیاں ضائع ہو گئیں جیسا کہ ہورہیں ہیں تو یہ قومی ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

    بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آج بھی سرکاری یا نجی ملازمت کو کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے کسی اچھی سرکاری نوکری میں چلے جائیں۔ ہر سال لاکھوں نوجوان ڈگریاں لے کر عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں مگر ملازمتوں کے محدود مواقع ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیتے ہیں۔ نتیجتاً بے روزگاری، مایوسی اور احساس محرومی میں اضافہ ہوتا ہے۔اس کی کی بھی ایک بڑی وجہ سرکاری سطح پر ناقص منصوبہ بندی مستقبل کی ہے

    حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دور میں صرف نوکریوں کے ذریعے معاشی استحکام حاصل کرنا ممکن نہیں۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور کامیاب قومیں اپنے نوجوانوں کو کاروبار، جدت، ٹیکنالوجی اور صنعت کی طرف لے جا رہی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی کے پیچھے بھی یہی سوچ کارفرما ہے کہ نوجوان ملازمت کے متلاشی نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والے بنیں۔
    دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جن قوموں نے نوجوانوں کی صلاحیتوں پر سرمایہ کاری کی، وہ ترقی کی بلند ترین منازل تک پہنچ گئیں۔ جنوبی کوریا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ چند دہائیاں قبل یہ ملک جنگ، غربت اور معاشی تباہی کا شکار تھا، لیکن حکومت نے نوجوانوں کو صنعت، ٹیکنالوجی اور کاروبار کی طرف راغب کیا۔ آج جنوبی کوریا دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور اس کی مصنوعات پوری دنیا میں استعمال ہو رہی ہیں۔
    چین کی مثال اس سے بھی زیادہ متاثر کن ہے۔ ایک وقت تھا جب چین کو ایک پسماندہ زرعی ملک سمجھا جاتا تھا، لیکن کاروبار دوست پالیسیوں، صنعت کاری اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی نے اسے دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت بنا دیا۔ لاکھوں نوجوانوں نے چھوٹے کاروبار شروع کیے جو بعد میں عالمی سطح کی کمپنیوں میں تبدیل ہوگئے۔

    سنگاپور قدرتی وسائل سے تقریباً محروم ایک چھوٹا سا ملک ہے، مگر وہاں تعلیم، کاروبار، میرٹ اور تجارت کو فروغ دے کر ایسی معیشت قائم کی گئی جو آج دنیا کے لیے مثال بن چکی ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش نے گارمنٹس انڈسٹری، چھوٹے کاروباروں اور برآمدات پر توجہ دے کر اپنی معیشت کو مضبوط بنایا۔ یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ قوموں کی ترقی کا راز نوجوانوں کو کاروباری مواقع فراہم کرنے میں پوشیدہ ہے۔

    پاکستان میں بھی کاروبار کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ زراعت، لائیو اسٹاک، ڈیری فارمنگ، بکری پال، پولٹری، شہد کی پیداوار، ای کامرس، فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، فوڈ پراسیسنگ، مصنوعی ذہانت (AI) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے شعبے نوجوانوں کے لیے روشن امکانات رکھتے ہیں۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں رہنے والے نوجوان جدید زرعی طریقوں، ویلیو ایڈیشن، ڈیری فارمنگ اور بکری پال کے شعبوں میں کامیابی حاصل کرکے نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی روزگار پیدا کر سکتے ہیں۔
    یہ امر بھی قابل غور ہے کہ پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے، لیکن نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس شعبے سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ اگر جدید ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق اور کاروباری سوچ کو زراعت کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو یہ شعبہ لاکھوں نوجوانوں کے لیے معاشی خوشحالی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ دنیا بھر میں زرعی کاروبار اربوں ڈالر کی صنعت بن چکا ہے جبکہ پاکستان میں بھی اس میدان میں بے پناہ مواقع موجود ہیں۔مگر بدقسمتی سے زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم چینی ،کپاس۔گندم اور دالیں باہر سے منگواتے ہیں کیونکہ ہم کمیشن کو ترجیح دیتے ناکہ اپنے مستقبل کو۔

    حکومت، تعلیمی اداروں، مالیاتی اداروں اور نجی شعبے کی ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں کو صرف ڈگریاں دینے کے بجائے کاروباری تربیت بھی فراہم کریں۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں انٹرپرینیورشپ، مالیاتی نظم و نسق، مارکیٹنگ، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے مضامین کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ بینکوں کو نوجوان کاروباری افراد کے لیے آسان قرضوں کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے جبکہ حکومت کو ایسا کاروبار دوست ماحول پیدا کرنا چاہیے جہاں نوجوان بلاخوف و خطر اپنے خوابوں کو عملی شکل دے سکیں۔

    آج کا دور علم، ہنر اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ جو قومیں وقت کے تقاضوں کو سمجھ کر اپنے نوجوانوں کو جدید علوم اور کاروباری مہارتوں سے آراستہ کر رہی ہیں وہی ترقی کر رہی ہیں۔ پاکستان بھی وسائل، صلاحیتوں اور افرادی قوت کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کی توانائیوں کو مثبت سمت دی جائے اور انہیں خود انحصاری کی راہ پر گامزن کیا جائے۔
    پاکستان کا محفوظ اور روشن مستقبل نوجوان نسل کے ہاتھ میں ہے۔ اگر نوجوان ملازمتوں کے انتظار میں وقت ضائع کرنے کے بجائے کاروبار، صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی اور اختراع کے میدان میں آگے بڑھیں تو ملک کی معاشی مشکلات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ جب نوجوان روزگار تلاش کرنے والوں کے بجائے روزگار پیدا کرنے والے بن جائیں گے تو بے روزگاری، غربت اور معاشی عدم استحکام جیسے مسائل پر قابو پانا آسان ہو جائے گا۔

    وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی سوچ کو تبدیل کریں اور نوجوانوں کو یہ پیغام دیں کہ کامیابی صرف نوکری میں نہیں بلکہ کاروبار، محنت، جدت اور خود انحصاری میں بھی ہے۔ جن قوموں کے نوجوان بڑے خواب دیکھتے ہیں، محنت کرتے ہیں اور خطرات مول لینے کا حوصلہ رکھتے ہیں، وہی قومیں دنیا کی قیادت کرتی ہیں۔ اگر پاکستان کے نوجوان بھی اس راستے کا انتخاب کر لیں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر نمایاں مقام حاصل کرے گا،مگر حقیقت اس کے برعکس ہے ہم مسلسل 78 سالوں سے ناکام منصوبہ بندی کے تحت اپنے مستقبل کو تاریکی میں ڈبونے کا کام کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہیں تاریخ گواہ ہے ۔لیکن آج بھی اگر صحیح منصوبہ بندی کی جائے تو سب کچھ ممکن ہے
    ،،امید کا دامن تھامے رکھیں مگر کب تک ،، آج کا نوجوان ہی کل کا پاکستان ہے۔

  • عقیدہ درست انسان چست شیطان سست،تحریر:  ظفر اقبال ظفر

    عقیدہ درست انسان چست شیطان سست،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    مسلمان ماؤں کا یہ اصول ہے کہ وہ سونے سے پہلے اپنے بچوں کو قرآن کی سورتیں سنایا کرتی ہیں والدین بچوں کو خدا کے متعلق تسکین بخش کلمات دہرایا کرتے وہ خدا کے افضل ترین جہانوں میں اپنی اولاد کے لیے جگہ بنایا کرتے ہیں۔خدا کے محبوب ترین بندوں کی محبت و عقیدت سے بچوں کے دل سجایا کرتے تاکہ جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے جائیں ان کے اندررکھی مقدس عبادتیں محبتیں عقیدتیں بھی بڑی ہوتی جائیں والدین بچوں کو اس حقیقت سے آشنا کرواتے ہیں کہ دنیاوی پریشانیوں کا شاہی علاج حقیقی مذہبی عقیدہ ہے۔

    اس حقیقی مذہبی عقیدے کی تربیت میں ڈھلی رُوح پر دنیا کی ہر مصیبتیں تکلیفیں پریشانیاں امتحان غالب نہیں آتے اور بندہ خدا کے بارے میں صاحب یقین رہتا ہے۔میری امی جان گہرا،پائیداراور ابدی یقین خدا تعالیٰ کی ذات پر رکھتے ہوئے کہتی ہیں کہ اگر ہم خدا سے محبت کریں اس کے اور اس کے پیغمبر ﷺ کے احکامات کی تعمیل کریں تو اول و آخر سب ٹھیک ٹھاک رہے گا انہوں نے اس عقیدے کے ساتھ حالات زندگی سازگار بنائے رکھے کشمکش اور دل برگشتگی کے تمام سالوں کے دروان کبھی پریشان و مایوس نہیں ہوئیں خدا کے حضور سجدہ شکراور دعائیں بجا لا کر مصائب کو اپنی ایمانی قوت سے کمزور کیا۔

    جو لوگ مذہب اسلام سے انسانی اہمیت کا باب تلاش کرکے نظریہ بنا تے ہیں وہ فرقوں گروہوں جماعتوں کے اختلافات میں دلچسپی لینے کی بجائے مذہب جو کچھ انسانیت کے لیے کرتا ہے اس میں گہری دلچسپی لیتے ہیں کیونکہ یہ ناصرف حسین خوش باش عزت و کامیابی سے مکمل زندگی بسر کرنے میں مدد دیتا ہے بلکہ رُوحانی قدروں میں بھی اضافہ کرکے حسین تر اور مطمئن تر کیفیات سے مالا مال کرتا ہے۔ دین اسلام زمین پہ اترنے سے پہلے عالم ارواح میں پیغمبروں کے چشموں سے رضا الٰہی کا آب حیات پی کر آیا ہے جو مجھے زندگی بسر کرنے میں نیا ولولہ، نیا جوش، یقین،امید،جرت، دیتے ہوئے پریشانی خوف ڈر تناؤ اور تشویش دُور کرتا ہے اپنی راہنمائی میں میری زندگی کا مقصد اور راہیں متعین کرتے ہوئے خوشی،مسرت، صحت، تندرستی سے مالا مال کرتا ہے اور ہر قبول کرنے والے کو زندگی کے گرد باداورریتلے صحراؤں کے درمیان امن و تسکین کا نخلستان تخلیق کرنے میں مدد دیتا ہے۔

    پہلے لوگ سائنس اور مذہب کی آویزش کے متعلق باتیں کیاکرتے تھے لیکن اب نہیں کرتے کیونکہ جدیدسائنسی تحقیقی ترقی اور ماہرین علم امراض النفس وہی سکھا رہے ہیں جو ہمارے نبی کریم ﷺ اپنی اُمت کو بتا چکے ہیں اب توعلمی وسائنسی ترقی پانے والے غیر مسلم بھی تصدیق کرنے لگے ہیں کہ نماز اور مستحکم دینی عقیدہ پریشانیوں،تشویشوں،ڈروں،سمیت اعصابی کشمکشوں کو دُور کرنے میں مدد دیتا ہے جو شخص حقیقی معنوں میں دین اسلام کا پابند ہوتا ہے وہ اعصابی اور زہنی امراض کا شکار نہیں ہوتا۔اگر مذہب سچا نہیں ہے تو دنیا بے معنی ہے اور اگر مذہب سچا ہے مگر ماننے والا سچا نہیں ہے تو آخرت بے معنی ہے۔ سچے دین کا سچاماننے والاہی دنیا و آخرت میں فائدہ اُٹھاتا ہے۔ نوے سالہ ایک خاموش متین اور مطمئن شخص سے پوچھا گیا کہ آپ کبھی پریشان نہیں ہوئے؟اس نے جواب دیا۔نہیں،میرا عقیدہ ہے کہ خدائے حقیقی قادر مطلق ہے جب خداہر چیز پرمختار ہے تو آخر میں ہر چیز کا نتیجہ بہترین ہی ظاہر ہوگا پھر مجھے پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟

    زمانہ جہالت میں انسانی جانوں کو جھوٹے خداؤں پر وار دیا جاتا تھا پھر سچے خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے انسانوں تک اُس حقیقی دین کی دعوت پہنچائی جو انسانوں کو نوازنے پر مبنی ہے جس نے فراوانی کے ساتھ خوشحال زندگی کی نوید سناتے ہوئے بتایا کہ مذہب انسانوں کے لیے ہوتا ہے ناکہ انسان مذہب کے لیے۔مذہب کے نا م پر انسانوں کو سولی پہ چڑھانے والوں کا راستہ روکا گیاجھوٹے خداؤں کے پیروکاروں نے گناہوں کی بجائے خوف کا زیادہ استعمال کیاجبکہ خوف کا غلط پہلو گناہ ہی ہے ان خوفزدہ گنہگاروں کوحسین تر،مکمل تر،خوش تر،بلند تر اسلامی زندگی کے علم سے آشنا کرکے زندگیاں بدل دی گئیں۔چند نظریات کو زہنی طور پر قبول کرکے کسی خاص اصول کو اختیار کرنے سے مذہبی پابندی نہیں ہوتی سچا مذہبی بننے کے لیے ایک مخصوص رُوح کا مالک ہونا اور ایک مخصوص زندگی اختیار کرنا ضروری ہے اسی خصوصیت کی بنا پر آدمی کی عمر کے ساتھ ساتھ اس کا خدا پر یقین بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔

    میں نے جب یقین کے پیالے کو دعا کے ہاتھوں سے خدا کی جانب کیا تو وہ مراد سے بھر گیا اور میں المناک گمراہی پر شرمندہ بھی ہوا کہ میں اپنی ساری کٹھن اور جگر گذار لڑائیاں تنہا ہی سر کرنے میں لگا رہا میں نے دُعا کے ذریعے ہر بات خدا تک کیوں نہیں پہنچائی۔ہماری زندگی کے تاریک لمحات صرف وقتی و عارضی ہوتے ہیں جنہیں دُعا کے ذریعے سہانے اور تابناک مستقبل میں بدلا جا سکتا ہے تلخ حالات کی ذر میں زندگی کے خاتمے تک پہنچنے والی سوچ کو دُعا جینے کی سمت پر ڈال دیتی ہے۔دنیا کے ہر مسلے کا حل مذہبی نقطہ نظرسے مل جاتا ہے۔لوگ اس لیے رُوحانی و جسمانی طور پر بیمار ہوئے کیونکہ وہ اس چیز سے محروم ہوچکے تھے جو ہر زمانے کے زندہ مذہب نے اپنے پیروکاروں کو دی ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت تک کوئی بھی صحت یاب نہ ہوسکا جب تک اس نے دوبارہ مذہب سے رجوع نہ کیا۔ایمان خدائی قوتوں میں سے ایک قوت ہے جن کے سہارے انسان زندہ رہتا ہے اور اس کی عدم موجودگی کا نتیجہ شکست اور انحطاط ہوتا ہے۔

    ذکر و ازکار زندگی بخش قوت سے فیض یاب کرتے ہیں وہ ہزاروں مصیبت زدہ رُوحیں جو پاگل خانوں میں چلا رہی ہیں امن و سکون کی زندگی بسر کر سکتی تھیں اگر انہوں نے اپنی زہنی جنگیں تنہا لڑنے کی بجائے اعلیٰ،بلند و برتر خدائی طاقت سے مدد مانگی ہوتی۔ابدی و غیر فانی عظیم رُوحانی حقیقتوں اور سچائیوں کو یاد کرنے سے اعصاب کو سکون جسم کو آرام اور تناظر وسیع ہوتا ہے اپنی قوتوں کو نئی قدریں متعین کرنے میں مدد ملتی ہے

  • پسینے میں نہائی ہوئی نیند،تحریر: بینا علی

    پسینے میں نہائی ہوئی نیند،تحریر: بینا علی

    یہ ایک باپ کی لکھی ہوئی تحریر کے چند الفاظ جس نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ جو لوگ ہماری تپش کو محسوس نہیں کر سکتے، وہ ہماری مشکلات کو کیا سمجھیں گے؟
    بیٹی بار بار پوچھ رہی تھی: بابا بجلی کب آئے گی؟
    میں ہر بار یہی کہتا: بیٹا بس ابھی آ جائے گی۔
    لیکن بجلی نہیں آئی۔ اور میری بیٹی انتظار کرتے کرتے سو گئی۔سخت گرمی تھی۔ پسینے سے وہ ایسی بھیگی ہوئی تھی جیسے ابھی نہائی ہو۔
    یہ صرف ایک باپ کے جذبات نہیں ہر غریب گھر کی کہانی ہے۔ یہاں لوگوں کو گھنٹوں لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔گرمی میں بہت مجبور ہو کر رہنا پڑتا ہے۔اور جن لوگوں کے ہاتھ میں ہمارے فیصلے ہیں وہ گھروں سے نکلتے ہیں تو اے سی والی گاڑیوں میں جاتے ہیں۔ ان کی میٹنگیں بھی ایسے بڑے ہوٹلوں میں ہوتی ہیں جہاں ہر طرف ٹھنڈک ہوتی ہے۔ ان کے بجلی کے بل تو معاف ہوتے ہیں۔ ان کے شاندار گھروں اور بڑے بڑے بنگلوں میں بھی اے سی کی سہولت ہر وقت موجود ہوتی ہے۔ جن کے عالیشان محلات میں بجلی جاتیہی نہیں ۔انہوں نے تو کبھی گرمی کی تپش محسوس ہی نہیں کی۔تو وہ عوام کے درد کو کیسے سمجھیں گے؟ وہ اس بچی کی تکلیف کو کیسے محسوس کریں گے؟ وہ ایک باپ کی بے بسی کو کیسے جانیں گے؟کاش! ایک دن کے لیے ہی سہی یہ بڑے لوگ اپنے اے سی بند کر کے ہمارے گھروں میں آ کر بیٹھیں۔ ایک رات یہ اپنی بیٹیوں کو اس گرمی میں سوتا دیکھیں۔ تب انہیں پتہ چلے کہ بجلی جانا صرف "لوڈشیڈنگ” نہیں ہوتا۔ یہ ایک باپ کا مان ٹوٹنا ہوتا ہے۔ یہ ایک معصوم بچے کے خوابوں کا پگھلنا ہوتا ہے۔
    یہ بجلی نہیں گئی ہمارا سکون چلا گیا۔ بچوں کا بچپن جل گیا۔
    کاش! کوئی تو ہماری تکلیف کو سمجھے۔

  • عید کے کپڑوں سے کفن تک،تحریر: بینا علی

    عید کے کپڑوں سے کفن تک،تحریر: بینا علی

    گزشتہ ہفتے سے روز ایک سانحہ ہوتا ہے جو دل جھنجھوڑ دیتا ہے۔ثوبیہ شاہد نو سال کی معصوم بچی۔ثوبیہ اپنے ماں باپ کے ساتھ آسٹریلیا میں رہتی تھی۔ عید کی خوشیاں منانے اپنے بزرگوں سے ملنے اور یادیں سمیٹنے برسوں بعد پاکستان آئی تھی۔ چکوال میں دادا، دادی کی آغوش رشتوں کی محبت اور عید کی رونقیں اس کی منتظر تھیں۔مگر وہ واپس نہ جا سکی۔آج سی ٹی ڈی کی فائرنگ میں ننھی ثوبیہ کی جان چلی گئی، جبکہ اس کے والد اور بھائی زخمی ہو گئے۔ بتایا گیا کہ انہیں "2025 ماڈل گاڑی میں دہشتگرد” سمجھ لیا گیا۔سوال صرف اتنا ہے: اگر شک تھا تو تصدیق کیوں نہ کی گئی؟ گولی چلانے سے پہلے حقیقت جاننے کی کوشش کیوں نہ کی گئی؟ قانون اور ریاستی اداروں کا کام شہریوں کی حفاظت ہے ان کے دلوں میں خوف پیدا کرنا نہیں۔

    ثوبیہ ساتویں جماعت کی طالبہ تھی۔ اس کے خواب ابھی پوری طرح آنکھوں میں سجے بھی نہ تھے کہ زندگی نے اس سے منہ موڑ لیا۔ اس کی ہنسی اب کبھی گھر کے صحن میں نہیں گونجے گی اس کے عید کے نئے کپڑے اب کبھی نہ پہنے جائیں گے اور دادا دادی کی نظریں اب ہمیشہ اس دروازے کو تکتی رہیں گی جس سے وہ دوبارہ اندر نہیں آئے گی۔

    اس کی چوڑیوں کی کھنک، اس کی شرارتیں، اس کے سوال اور اس کی مسکراہٹیں اب صرف یادوں کا حصہ ہیں۔ ہر عید، ہر سالگرہ اور ہر خوشی کے موقع پر اس کے ماں باپ کے دل میں ایک خاموش کسک جاگے گی کہ ان کی بیٹی ان کے ساتھ نہیں۔اگر ایک بیرونِ ملک سے آنے والے خاندان کو محض شک کی بنیاد پر دہشتگرد سمجھ لیا جائے تو پھر عام شہری خود کو محفوظ کیسے محسوس کرے؟کوئی انکوائری، کوئی رپورٹ اور کوئی وضاحت ثوبیہ کو واپس نہیں لا سکتی۔ کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ مدھم تو ہو جاتے ہیں مگر کبھی مکمل نہیں بھرتے۔ یہ سانحہ بھی ان ہی زخموں میں سے ایک ہے۔اللہ تعالیٰ ننھی ثوبیہ کی مغفرت فرمائے، اس کے درجات بلند کرے اور اس کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

  • ماؤں کے مشترکہ درد ،تحریر: بینا علی

    ماؤں کے مشترکہ درد ،تحریر: بینا علی

    آسمان پہ دھواں زمین پر بکھرتا درد بن گیا ہے ہر ماں کے لیے جس کی گود اجڑ گئی ہے۔
    دارالحکومت مظفرآباد میں پاکستانی فوج کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا۔ حادثے کے بعد پورا آسمان دھوئیں کے کالے بادلوں میں ڈوب گیا۔ مقامی شہریوں کے مطابق وہ سیاہ بادل پورے شہر سے نظر آ رہے تھے سوشل میڈیا پر جو تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئیں ان میں دھوئیں کا وہ ہولناک ستون دیکھ کر ہر ماں کا دل اداس ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ISPR کے مطابق یہ حادثہ تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا۔ حادثے کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں سوار تمام جوان شہید ہو گئے۔ یہ ہیلی کاپٹر حادثے کے وقت نیلم سٹیڈیم سے پرواز بھرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
    وہ ویڈیو ہے جو میں نے دیکھی.
    ایک ماں ایک عام کشمیری ماں اپنی مقامی زبان میں بار بار بس یہی پکار رہی تھی:
    (ہائے پتہ نہیں کناں ماواں دے بچے سڑ گئے) ہائے پتہ نہیں کن ماؤں کے بچے جل گئے!

    وہ بین کر کے رو رہی تھی ایسے جیسے اس کے اپنے جگر کے ٹکڑے آگ میں جل رہے ہوں۔
    مائیں صرف مائیں ہوتی ہیں..
    ان کا دل صرف اپنی اولاد کے لیے نہیں دھڑکتا۔ دوسری ماں کی گود اجڑے تو ان کا کلیجہ بھی اس درد کو محسوس کرتا ہے ۔مظفرآباد میں کتنی ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں؟ کتنی بہنوں کے دوپٹے سفید ہو گئے؟ کتنے باپوں کے سہارے ٹوٹ گئے؟
    یہ وردی والے بھی کسی کے بیٹے ہیں۔ یہ بھی کسی کے لعل ہیں۔ ان کے جنازے پر سیاست مت کرو، ان کے خون پر تقریں مت کرو بس دعا کرو کہ رب ہر ماں کی گود سلامت رکھے۔
    گھروں کو صبر دے، اور وطن کی ماؤں کو کبھی ایسا دن نہ دکھائے۔ آمین۔
    کیونکہ گود ماں کی ہی اجڑتی ہے۔
    حکومتِ وقت اس طرح غائب ہے جس طرح گدھے کے سر سے سینگ۔خدارا نفر توں کی خون کی سیاست بند کریں جلتی پہ تیل نہ چھڑکیں اور مذاکرات کا راستہ ہموار کریں۔

  • معصوم خدیجہ کی ہوپ،تحریر:غنی محمود قصوری

    معصوم خدیجہ کی ہوپ،تحریر:غنی محمود قصوری

    یہ دنیا امید پر قائم ہے
    کسی کو امیر ہونے کی امید ہے تو کسی کو محض دو وقت کی روٹی کی امید ہی کافی ہوتی ہے اور کوئی بیچارا محض سانسیں بحال رکھنے کی امید پر ہی قائم ہوتا ہے کہ کسی تک زندگی کی ڈور چلتی رہے
    یعنی ہر بندہ Hope Line پر چل رہا ہے
    ویسے تو دنیا میں بیشمار خطرناک بیماریاں ہیں تاہم ایک خطرناک ترین بیماری تھیلیسیمیا بھی ہے جو بچوں کو پیدائش سے لے کر موت تک سانسوں کی بحالی کیلئے Hope Line کے راستے پر چلتے رہنے پر کاربند رکھتی ہے
    اس مرض کا بچہ پیدائش سے موت تک اس بیماری سے نکل ہی نہیں سکتا
    دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی موذی مرض تھیلیسیمیا کے ہزاروں بچے موجود ہیں جن کی جینے کی امید یعنی Hope Line کیلئے ایک خدمت انسانیت کا ادارہ
    ہوپ لائن ویلفئیر فاؤنڈیشن کے نام سے پاکستان ضلع قصور کے شہر کنگن پور میں بنا ہوا ہے جو تھیلیسیمیا کے سینکڑوں بچوں کا مفت علاج معالجہ کرتا ہے

    ویسے تو ہر ذی روح نے ایک نا ایک دن مرنا ہی ہوتا ہے مگر تھیلیسیمیا کے مریض یہ بچے وہ ہوتے ہیں جن کی عمریں بہت کم یعنی 10 سے 14 سال تک ہوتی ہیں کیونکہ بار بار خون لگنے سے ان کے جسم کے اعضاء ناکارہ ہو جاتے ہیں اور یہ بہت جلد وفات پا جاتے ہیں

    یہ مرض کیسے بنتی ہے اور اس سے بچاؤ کا کیا طریقہ کار ہے ان شاءاللہ پھر کبھی لکھوں گا ،مگر آج میں ہوپ لائن کی ایک مریضہ بچی خدیجہ کی خوشی کا ذکر کرنے لگا ہوں کہ جسے اپنے جینے کی ہلکی سی Hope یعنی امید ہوئی تو وہ کیسے خوش ہوئی.اس ادارے کے سربراہ سردار منیر حسین اور پروفیسر عبدالستار سے بات ہو رہی تھی، تو انہوں نے بتایا کہ آج ایک تھیلیسیمیا کی مریض چھوٹی سی بیٹی خدیجہ نے اپنی ہیموگلوبن رپورٹ (HB) چیک کروانے کے بعد خوشی سے اپنے والد محترم کو پیغام بھیجا کہ الحمدللہ پاپا میری ہیموگلوبن پوری ہو گئی ہے
    اس بچے کے والد نے وہ پیغام ہمارے ساتھ شیئر کیا جو چند الفاظ پر مشتمل تھا جو دراصل برسوں کی آزمائش، تکلیف، انتظار اور امید کی ایک مکمل داستان تھے
    ننھی بیٹی خدیجہ نے لکھا تھا
    بابا الحمدللہ سات ماہ گزرنے کے باوجود بغیر خون لگے میری ہیموگلوبن (HB) 11.4 ہے جو کہ پہلے 9.0 سے بھی کم ہو جایا کرتی تھی
    اللہ اللہ اتنی خوشی اس بچی کی صرف ایک ہیموگلوبن پوری ہونے پر ،ذرا تصور کریں اس بیٹی کی کیا حالت ہوتی ہو گی جب اس کی HB پوری نہیں ہوتی ہو گی اور اس کے جسم کا ایک ایک حصہ دکھ رہا ہو گا
    وہ بیچاری دوسرے بچوں میں کھیلنے کی بجائے اپنے درد سے کھیل رہی ہو گی
    آپ تصور کریں کہ بے بسی سے اس کے ماں باپ کیا کرتے ہونگے؟
    سوچیں کہ کبھی کسی تھیلیسیمیا کے مریض بچے یا اس کے والدین کی ایسی خوشی کے بارے میں سنا تھا؟
    وہ والدین جو برسوں اپنے بچوں کو ہر ہفتے یا پندرہ دن بعد خون لگوانے کے لئے ہسپتالوں کے چکر لگواتے رہتے ہیں، جو ہر رپورٹ، ہر سوئی چبنے اور ہر نئی آزمائش کے ساتھ اندر ہی اندر گھلتے رہتے ہیں
    جنہیں بارہا یہ سننے کو ملا کہ ان کا بچہ بس چند برسوں کا مہمان ہے
    ان والدین کے دلوں پر کیا گزرتی ہوگی؟
    بعض والدین تو یہ کہتے تھے کہ ہم اپنے بچوں کو دیکھ دیکھ کر جینے کے بجائے روز مر رہے ہوتے ہیں اور ہر لمحہ یہ خوف ساتھ رہتا ہے کہ نہ جانے آنے والا کل کیا لے کر آئے گا؟

    ایسے میں اگر کسی گھر میں امید کی ایک کرن روشن ہو جائے تو اس خوشی کا اندازہ صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہوں نے یہ کٹھن سفر طے کیا ہو
    ہوپ لائن کے سربراہ نے بتایا کہ یہ ہماری پیاری بیٹی خدیجہ کی کہانی ہے جس کا خون کا گروپ او نیگیٹو ہے جو کہ ملتا بھی بہت کم ہے

    انہوں نے بتایا کہ جب اس کے والد روزگار کے سلسلے میں بیرونِ ملک روانہ ہوئے تو اپنی بیٹی کو ہمارے سپرد کر گئے
    اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی کہ ہم اس کی دیکھ بھال اور رہنمائی میں اپنا کردار ادا کر سکیں
    انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں ہم خدیجہ کو پشاور لے گئے جہاں علاج کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج سات ماہ گزر چکے ہیں اور اسے خون لگانے کی ضرورت پیش نہیں آئی
    چند روز قبل خدیجہ اپنی والدہ کے ساتھ سندس فاؤنڈیشن میں ہیموگلوبن رپورٹ چیک کروانے گئی تو وہاں موجود عملہ اور ڈاکٹر صاحبان بھی اس کی کیفیت سن کر خوش ہوئے
    ڈاکٹر صاحبہ نے بڑی توجہ سے اس کی بات سنی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس حوالے سے مذید معلومات حاصل کی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو فائدہ پہنچ سکے
    ہوپ لائن فاؤنڈیشن نے بتایا کہ ہم پشاور اس لئے جاتے ہیں کہ اگر کہیں کوئی ایسا مؤثر علاج، طریقہ کار یا طبی رہنمائی موجود ہے جو تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کی زندگی میں آسانی لا سکتی ہے تو اس کی حقیقت کو سمجھنا ہم پر لازم ہے اور لازم ہے کہ اس کے نتائج کا جائزہ لیا جائے اور پھر اس معلومات کو زیادہ سے زیادہ ضرورت مند خاندانوں تک پہنچایا جائے
    انہوں نے بتایا نیز کہ ہمارا مقصد کسی فرد، ڈاکٹر یا ادارے کی تشہیر نہیں بلکہ بچوں اور والدین کے لئے امید، آسانی اور بہتری کے امکانات تلاش کرنا ہے اور ہم اپنے تمام دوست احباب کے بھی تہہ دل سے شکر گزار ہیں جو مسلسل بچوں اور ان کے والدین کی مالی خدمت اور رہنمائی کیساتھ حوصلہ افزائی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور ساتھ ان بچوں کو خون اور ادویات بھی مہیا کرتے ہیں

    اللہ تعالیٰ ہوپ لائن کے تمام معاونین، محبین، مخیر حضرات اور خدمتِ انسانیت کے جذبے سے سرشار افراد کو بہترین جزائے خیر عطا فرمائے اور تمام بیمار بچوں کو صحتِ کاملہ، لمبی زندگی اور خوشیوں بھرا مستقبل نصیب فرمائے
    آمین ثم آمین

    پاکستان میں بہت سے ادارے تھیلیسیمیا کے بچوں کی زندگیوں کی خاطر امید کی ایک کرن ہیں جو عوامی تعاون سے چل رہے ہیں اگر ایسا کوئی ادارہ آپ کے قریب ہے تو اس ادارے کی ہوپ بن کر تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کی ہوپ بن کر جئیں کیونکہ ہو سکتا یہ مریض بچے ہم سے پہلے رب کے حضور پہنچ کر ہماری بخشش کی ہوپ بن جائیں
    ہوپ لائن ویلفئیر فاؤنڈیشن کنگن پور ضلع قصور کیساتھ مالی تعاون کرنے کیلئے اس جاز کیش اکاؤنٹ نمبر
    03041472158
    بنام محمد زبیر پر تعاون کیا جا سکتا ہے نیز بلمشافہ ملنے اور بچوں کے تاثرات دیکھنے کیلئے ہوپ لائن ویلفئیر فاؤنڈیشن نزد گرڈ اسٹیشن کنگن پور تحصیل چونیاں ضلع قصور میں وزٹ کیا جا سکتا ہے
    مہنگائی کے اس دور میں خصوصاً موجودہ گورنمنٹ کی مہنگائی کی بدولت بھی ہمارے خیراتی اداروں کا پہلے کی طرح چلتے رہنا مملکت پاکستان کی عوام کو ایک عظیم قوم ظاہر کرتا ہے جو اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے جینے کی بھی،ہوپ، ہیں
    وگرنہ آج تو اپنے گھر کا نظام چلانا ہی بہت مشکل ہو گیا ہے
    اللہ تعالیٰ ہم سب کی جان و مال اور اعمال میں برکت عطا فرمائے آمین

  • زندہ لوگ: ایاز مورس کی قلمی کاوش، جو زندہ رہنے کا سلیقہ سکھاتی ہے،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    زندہ لوگ: ایاز مورس کی قلمی کاوش، جو زندہ رہنے کا سلیقہ سکھاتی ہے،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    کتابوں سے میرا رشتہ کئی برسوں پر محیط ہے، مگر کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو محض پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ سوچنے، محسوس کرنے اور اپنے اردگرد بکھرے ہوئے گمنام ہیروز کو پہچاننے کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ ایاز مورس صاحب کی کتاب "زندہ لوگ” بھی ایسی ہی ایک کاوش ہے۔

    ایاز مورس صاحب سے پہلی دفعہ 2020 میں سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ ہوا، اور یہ رابطہ محض رسمی تعارف تک محدود نہ رہا۔ ان دنوں میں نوجوان لکھاریوں اور طالب علموں کے لیے ایک تنظیم "میں شاہین ہوں اقبال کا” کے پلیٹ فارم سے کام کر رہا تھا۔ میری درخواست پر ایاز مورس صاحب نے ہمارے لیے کئی موٹیویشنل سیشنز دیے، جن سے نوجوانوں نے بھرپور استفادہ کیا۔ ان کی گفتگو میں ایک خاص بات تھی، سادگی، اپنائیت اور تجربے کی گہرائی، جو اب ان کی تحریر میں بھی نظر آتی ہے۔

    کچھ عرصہ رابطہ نہ رہا، مگر یہ رشتہ ٹوٹا نہیں۔ چند دن قبل ایاز مورس صاحب نے دوبارہ رابطہ کیا اور اپنی تازہ تصنیف "زندہ لوگ” مجھے بھیجی۔ کتاب ہاتھ میں آتے ہی نام نے توجہ کھینچ لی، "زندہ لوگ”، یعنی وہ لوگ جو اپنے کردار، خدمت اور ایمانداری کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، چاہے وہ اس دنیا میں موجود ہوں یا نہ ہوں۔

    پہلے ایاز مورس صاحب کا مختصر تعارف ضروری ہے۔ وہ ضلع لیہ کے ایک گاؤں، چک نمبر 270، میں پیدا ہوئے۔ یہاں سے سفر کا آغاز کر کے وہ آج ملک کے نامور کارپوریٹ ٹرینر، ایجوکیشنل کنسلٹنٹ اور سپیکر کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ ماسٹر ٹی وی کے سی ای او کے طور پر بھی، اس کے علاوہ روزنامہ ایکسپریس میں ان کے کئی مضامین میری نظر سے گزر چکے ہیں۔ جن میں ہمیشہ ایک مثبت اور تعمیری سوچ کی جھلک نظر آتی ہے۔۔

    "زندہ لوگ” دراصل 32 ایسے افراد کی سچی کہانیوں اور انٹرویوز کا مجموعہ ہے، جنہوں نے اپنے میدان میں ایمان، کردار اور خدمت کے جذبے سے نام کمایا۔ یہ کتاب رواں پبلشرز کراچی نے شائع کی ہے، اور اس کا انتساب ایاز مورس صاحب نے اپنے دادا، رحمت مسیح، کے نام کیا ہے۔کتاب میں شامل شخصیات کا تنوع اپنی جگہ ایک خوبصورت گلدستہ ہے۔ ڈاکٹر ایچ ایم اے ڈریگو، احفاظ الرحمن، انیل دتا، موہنی حمید، ڈاکٹر جیمز شیرا، ڈاکٹر اکبر ایس احمد، محمد نفیس زکریا، فلپ ایس لال، جسٹس اے آر کارنیلیس، ڈاکٹر ڈینس آئزک، پروفیسر گلزار فاروق چوہدری، ایف ای چوہدری، گروپ کیپٹن سیسل چوہدری، ڈاکٹر خالد سہیل، بابا نجمی، ڈاکٹر جاوید اقبال، اعظم معراج، انتھنی نوید، سسٹر زیف، پروفیسر سلامت اختر، اقبال مسیح، ڈاکٹر میرا فلیوس، کامران ذیشان رضوی، پروفیسر وسن ولیم، پروفیسر عمانوایل ممتاز، انجم ہیرالڈ گل، آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد، ڈاکٹر پیٹر ڈیوڈ، کارڈینل جوزف کوٹس، پوپ فرانسس، اور اعجاز ہدایت، یہ سب نام ایک ہی صفحے پر اس لیے جمع ہوئے ہیں کیونکہ ان سب نے اپنے اپنے دائرہ کار میں انسانیت، علم، صحافت، فن، تعلیم اور خدمت کی شمعیں روشن کی ہیں۔
    کتاب پر تاثرات لکھنے والوں میں بھی معروف نام شامل ہیں، عرفان جاوید، عثمان جامعی، آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد، وارث رضا اور ڈاکٹر شاہد ایم شاہد۔ ان شخصیات کی رائے کتاب کے وقار میں مزید اضافہ کرتی ہے۔

    کتاب میں موجود احفاظ الرحمن، ڈاکٹر خالد سہیل، بابا نجمی، ڈاکٹر جاوید اقبال، اقبال مسیح اور کامران ذیشان رضوی، یہ نام میرے لیے اجنبی نہیں تھے، کسی نہ کسی حد تک ان کے کام اور شہرت سے واقفیت تھی۔ مگر "زندہ لوگ” نے ان شخصیات کے بارے میں معلومات کے کئی نئے در کھولے۔ ایسی تفصیلات، ایسے واقعات اور ایسی جزئیات سامنے آئیں جو شاید میری نظر سے تو اوجھل رہتی۔
    ان کے علاوہ مجھے جس کہانی نے متاثر کیا،وہ گلوبل ٹیچر پرائز 2023 جیتنے والی پاکستانی استاد رفعت عارف، المعروف سسٹر زیف کی داستان ہے۔ ان کی کہانی پڑھ کر دل عقیدت سے بھر گیا۔ سسٹر زیف نے اپنے ہی گھر سے ایک عملی اور خاموش تحریک کا آغاز کیا۔ گھر کی دیوار پر سکول کا نام لکھوایا اور خود گھر گھر جا کر بچوں کو جمع کرنا شروع کیا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ انہوں نے اس نیک کام کو کسی ایک مذہبی یا طبقاتی دائرے میں محدود نہیں رکھا، بلکہ تعلیم کی روشنی ہر بچے تک پہنچانے کو اپنا مقصد بنایا۔ ایسی شخصیات ہی دراصل معاشرے کا حقیقی سرمایہ ہوتی ہیں۔

    اسی طرح پروفیسر سلامت اختر کی کہانی بھی دلچسپی سے بھرپور ہے۔ ایک عظیم استاد ایک قلم کار اور تحریک پاکستان کے ایک فعال کارکن کی حیثیت سے ان کی خدمات کو پڑھنا گویا تاریخ کے ایک گمشدہ ورق کو دوبارہ زندہ کرنا تھا۔

    مجموعی طور پر "زندہ لوگ” محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک ایسا حوالہ ہے جو آنے والی نسلوں کو یہ بتاتا ہے کہ کردار، خدمت اور دیانت سے جینے والے لوگ کبھی مرتے نہیں، وہ اپنے کاموں کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ ایاز مورس صاحب نے ان شخصیات کو ایک جگہ جمع کر کے اور ان کی کہانیاں عام قاری تک پہنچا کر یقینا ایک خدمت کی ہے۔

    اس کاوش پر ایاز مورس صاحب شکریہ کے مستحق ہیں، اور دل کی گہرائیوں سے اس بہترین کتاب کی اشاعت پر انہیں نیک تمنائیں اور مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ امید ہے کہ "زندہ لوگ” جیسی کاوشیں آگے بھی جاری رہیں گی، تاکہ معاشرے کے اصل ہیروز کو وہ پہچان مل سکے جس کے وہ حق دار ہیں۔

  • 
جے اے اے سی کے دو رہنماؤں کے وارنٹ جاری، بغاوت کے الزامات پر تحقیقات شروع

    
جے اے اے سی کے دو رہنماؤں کے وارنٹ جاری، بغاوت کے الزامات پر تحقیقات شروع

    ‎آزاد جموں و کشمیر حکومت نے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے دو مرکزی رہنماؤں شوکت نواز میر اور خواجہ مہران ارشد کے خلاف بغاوت اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے الزامات پر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں تحقیقات کی باضابطہ منظوری دی گئی ہے جبکہ دونوں رہنماؤں کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
    ‎محکمہ داخلہ آزاد کشمیر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق شوکت نواز میر اور خواجہ مہران ارشد سمیت دیگر افراد کے خلاف دفعہ 124 اے کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ دستیاب شواہد اور معلومات مزید تفتیش کی متقاضی ہیں، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
    ‎نوٹیفکیشن میں دونوں رہنماؤں کی گرفتاری میں معاونت فراہم کرنے والوں کے لیے انعامی اسکیم کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزمان پر تقاریر، تحریروں اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو ریاست کے خلاف اکسانے اور بغاوت پر آمادہ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
    ‎حکومت نے ایس ایس پی مظفرآباد کو شوکت نواز میر کے خلاف فوری تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت جاری کی ہے، جبکہ ایس ایس پی میرپور کو خواجہ مہران ارشد کے خلاف لگائے گئے الزامات کی مکمل چھان بین کا حکم دیا گیا ہے۔
    ‎یہ پیش رفت ایک مبینہ آڈیو کال منظرعام پر آنے کے بعد سامنے آئی ہے، جسے حال ہی میں وزیر مملکت طلال چوہدری نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا تھا۔ آڈیو میں مبینہ طور پر دونوں رہنماؤں کے درمیان ایسی گفتگو سنائی دیتی ہے جس میں آزاد کشمیر میں بدامنی اور انتشار سے متعلق منصوبہ بندی پر بات کی جا رہی ہے۔
    ‎حکومتی مؤقف کے مطابق آڈیو میں راولاکوٹ میں ممکنہ پرتشدد واقعات اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے سے متعلق گفتگو بھی شامل ہے۔ تاہم اس آڈیو کی آزادانہ تصدیق اور فرانزک جانچ کے نتائج ابھی سامنے نہیں آئے۔
    ‎سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جبکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔