Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ٹک ٹاک نے پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد ویڈیوز حذف کردیں

    ٹک ٹاک نے پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد ویڈیوز حذف کردیں

    ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک نے سال 2025 کی دوسری سہ ماہی (اپریل تا جون) کے دوران پاکستان میں کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی پر 2 کروڑ 54 لاکھ 48 ہزار 992 ویڈیوز ڈیلیٹ کر دیں۔

    یہ اعداد و شمار ٹک ٹاک کی پیر کے روز جاری کردہ کمیونٹی گائیڈ لائنز انفورسمنٹ رپورٹ میں سامنے آئے۔رپورٹ کے مطابق 99.7 فیصد ویڈیوز ازخود (پروایکٹیولی) حذف کی گئیں، جبکہ 96.2 فیصد ویڈیوز پوسٹ ہونے کے 24 گھنٹوں کے اندر ہٹا دی گئیں۔یاد رہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی اور غیر مہذب مواد کی شکایات کے بعد متعدد مرتبہ پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ پہلی بار اکتوبر 2020 میں ٹک ٹاک پر پابندی لگائی گئی تھی جو کمپنی کی یقین دہانی کے بعد 10 روز میں ختم کر دی گئی تھی۔

    عالمی سطح پر ویڈیوز کا حذف ہونا
    ٹک ٹاک کے مطابق دنیا بھر میں 18 کروڑ 90 لاکھ ویڈیوز کو پلیٹ فارم سے ہٹایا گیا، جو مجموعی ویڈیوز کا 0.7 فیصد بنتا ہے۔ ان میں سے 16 کروڑ 39 لاکھ سے زائد ویڈیوز خودکار نظام کے ذریعے حذف ہوئیں، جبکہ 74 لاکھ 57 ہزار ویڈیوز بعد ازاں نظرثانی کے بعد بحال کی گئیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ 99.1 فیصد ویڈیوز از خود ہٹائی گئیں، جبکہ 94.4 فیصد ویڈیوز 24 گھنٹوں کے اندر ڈیلیٹ کی گئیں۔

    ٹک ٹاک نے بتایا کہ 7 کروڑ 69 لاکھ 91 ہزار 660 جعلی اکاؤنٹس بند کیے گئے، جبکہ 2 کروڑ 59 لاکھ سے زائد ایسے اکاؤنٹس بھی ختم کیے گئے جن کے صارفین کی عمر 13 سال سے کم ہونے کا شبہ تھا۔رپورٹ کے مطابق 30.6 فیصد حذف شدہ ویڈیوز بالغ یا حساس مواد پر مشتمل تھیں، 14 فیصد نے حفاظتی و اخلاقی معیار کی خلاف ورزی کی، اور 6.1 فیصد ویڈیوز پرائیویسی و سیکیورٹی اصولوں کے خلاف تھیں۔

    مزید 45 فیصد ویڈیوز جھوٹی معلومات پھیلانے کے الزام میں ہٹائی گئیں، جبکہ 23.8 فیصد ویڈیوز مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ یا ترمیم شدہ تھیں۔رپورٹ کے مطابق 2025 کی پہلی سہ ماہی (جنوری تا مارچ) میں پاکستان میں 2 کروڑ 49 لاکھ 54 ہزار 128 ویڈیوز حذف کی گئی تھیں، یعنی اپریل سے جون کے درمیان ہٹائی گئی ویڈیوز کی تعداد میں تقریباً 5 لاکھ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا

    محمد رضوان برطرف، شاہین شاہ آفریدی پاکستان ون ڈے ٹیم کے نئے کپتان مقرر

    وفاقی وزیرداخلہ کی بلاول بھٹو سے ملاقات، ملکی و سیاسی صورتحال پر گفتگو

    جوئے ایپ کی تشہیر کیس: عدالت نے ڈکی کی اہلیہ عروب جتوئی کو طلب کرلیا

  • جمہوریت بمقابلہ بادشاہت، امریکی صدر کے طرزِ قیادت پر عوامی ردِعمل،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جمہوریت بمقابلہ بادشاہت، امریکی صدر کے طرزِ قیادت پر عوامی ردِعمل،تجزیہ:شہزاد قریشی

    نیویارک، واشنگٹن، ڈی سی، شکاگو، میامی، اور لاس اینجلس، میں امریکہ بھر کے شہروں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف (NO KINGS) کے مظاہروں میں لاکھوں افراد نے شرکت کی. وائٹ ہاؤس میں دوبارہ واپسی کے بعد امریکی صدر کے خلاف یہ پہلا بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ ہے. امریکی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے یہ احتجاج پورے یورپ میں امریکی سفارت خانوں کے باہر ہوا۔ مظاہرین نے NO KINGS کے نام سے احتجاج کیا مظاہرین کا کہنا تھا کہ امریکی صدر خود کو جمہوری لیڈر کے بجائے بادشاہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ امریکی سیاسی روایت میں بادشاہ کا تصور نہایت حساس ہے کیونکہ امریکہ کی بنیاد ہی برطانیہ کی بادشاہت کے خلاف بغاوت میں رکھی گئی تھی۔ اس لیے جب ایک صدر خود کو اس علامت کے ذریعے پیش کرے تو یہ سیاسی شعور رکھنے والے امریکیوں کے لیے جمہوریت پر خطرے کی گھنٹی محسوس ہوتی ہے۔ لاکھوں مظاہرین نے NO KINGS کو جمہوریت کے دفاع کے نعرے کے طور پر اپنایا. اس سے حزبِ مخالف کو ایک مضبوط اخلاقی موقف ملا کہ وہ عوامی سطح پر صدر کی طاقت کے حد سے زیادہ کہ استعمال کے خلاف ہیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ قدامت پسند ریپبلکن ووٹرز نے بھی اس نعرے سے اتفاق کیا حالانکہ وہ ٹرمپ کے حامی تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے یہ تحریک پارٹی لائن سے آگے بڑھ کر جمہوری اصولوں کی بات کر رہی ہے۔ ٹرمپ کی ویڈیوز نے آن لائن دنیا میں طنز اور جوابی بیانیوں کی جنگ چھیڑ دی۔ مظاہرین نے ٹرمپ کے KING TRUMP کو الٹا استعمال کیا. NO KINGS کا بیش ٹیگ ٹویٹر پر چند گھنٹوں میں ایک ٹرینڈ بن گیا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں سیاسی طنز دو دھاری تلوار ہے جس سے مقبولیت کے ساتھ ساتھ مخالفت بھی بڑھ جاتی ہے۔ ویڈیو نے امریکی معاشرے میں پہلے سے موجود تقسیم ڈیموکریٹس بمقابلہ ریپبلکن، شہری، اور دیہی علاقوں کو مزید گہرا کر دیا۔ ایک طبقہ اسے اظہارِ آزادی کہہ کر دفاع کر رہا ہے جبکہ دوسرا طبقہ اسے عوام کی تذلیل سمجھتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ ٹرمپ کی سیاست اب صرف پالیسی نہیں بلکہ جذباتی وفاداری کے جذبات پر مبنی ہے۔

    امریکی نوجوان طبقہ جو عام طور پر سیاست سے دور رہتا ہے اس بار سوشل میڈیا کے ذریعے سرگرم ہوا تحریک نے ان کے لیے جمہوریت اور عوامی NO KINGS آواز کی معنویت کو زندہ کیا یعنی سیاسی شمولیت میں اضافہ ممکن ہوا اس کے مستقبل کی سیاست پر اثرات پڑھیں گے۔ پارٹی کے اندر بعض سینئر رہنماؤں نے نجی طور پر تشویش ظاہر کی کہ ایسی ویڈیو اعتدال پسند ووٹرز کو دور کر سکتی ہیں۔ کچھ پارٹی رہنما اس رجحان کو (CULT POLITICS) کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو روایتی ریپبلیکن اقتدار جیسے ادارہ جاتی احترام کے خلاف جا رہی ہے۔

    دوسری طرف ڈیموکریٹس نے اس واقعے کو بے انتخابی بیانیہ میں شامل کر لیا ہم بادشاہ نہیں چاہتے ہمیں عوامی حکمرانی چاہیے۔ اگر یہ بیانیہ موثر رہا تو آئندہ انتخابات میں اسے سیاسی فائدہ ہو سکتا ہے۔ کنگ ٹرمپ ویڈیو محض طنزیہ ویڈیو نہیں رہا یہ اب امریکی سیاست کی نئی علامت بن چکا ہے۔ ایک طرف یہ طاقت کی سیاست کی نمائندگی کرتا ہے دوسری طرف یہ عوام کی خود مختاری کے دفاع کی علامت بن گیا ہے۔ لہذا یہ کہنا بجا ہوگا کہ یہ ویڈیو دراصل امریکی جمہوریت کے بیانیہ کی جنگ کا نیا محاذ بن گئی ہیں۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی جماعتوں کے اندر جمہوریت کو مستحکم کرنا چاہیے اور اپنا رخ جمہور کی طرف موڑ لینا چاہیے انتخابی اصلاحات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی حکومت عوامی دباؤ کے تحت اصلاح کرتی ہے تو وہ اصلاح نہیں بلکہ پسپائی ہوتی ہے۔ جس طرح آج لاکھوں افراد صدر ٹرمپ کے خلاف سڑکوں پر نکلے، نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں جمہوریت لڑکھڑا چکی ہے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو ملک میں قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی، جمہوریت کو مستحکم کرنے پر توجہ دینا ہوگی اور ان ممالک سے سبق حاصل کرنا ہوگا۔

  • پاکستان کا خلائی پروگرام ، پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ خلا میں پہنچ گیا

    پاکستان کا خلائی پروگرام ، پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ خلا میں پہنچ گیا

    پاکستان نے خلائی ٹیکنالوجی میں ایک اور تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ پاکستان کا پہلا ہائپر اسپیکٹرل امیجنگ سیٹلائٹ (HS-1) کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ ہو گیا، جس کے ساتھ ہی ملک کا خلائی پروگرام جدید سائنسی دور میں داخل ہو گیا ہے۔

    یہ 2025 میں خلا میں بھیجا جانے والا پاکستان کا تیسرا سیٹلائٹ ہے، جسے قومی خلائی پالیسی اور وژن 2047 کے تحت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ لانچنگ تقریب میں پاکستانی سائنس دان اور انجینئرز بھی شریک تھے، جو پاکستان اور چین کے خلائی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ماہرین کے مطابق ہائپر اسپیکٹرل امیجنگ سیٹلائٹ زمین کے ماحولیاتی تغیرات، زراعت، آبی ذخائر، جنگلات، قدرتی آفات اور فضائی معیار کی نگرانی میں انقلاب برپا کرے گا۔ یہ سیٹلائٹ 130 بینڈز پر مشتمل ہے، اور اس نوعیت کی ٹیکنالوجی اس وقت دنیا کے صرف چند ترقی یافتہ ممالک کے پاس موجود ہے۔

    وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے مطابق یہ سیٹلائٹ سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور زلزلوں جیسی قدرتی آفات کی پیش گوئی میں مددگار ثابت ہوگا، جبکہ گلیشئرز کے پگھلنے اور کھسکنے کے بارے میں قبل از وقت معلومات فراہم کرے گا۔

    زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سیٹلائٹ سے ملک میں کلائمٹ اسمارٹ زراعت کو فروغ ملے گا، فصلوں کو پانی کی قلت سے ہونے والے نقصان کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے گا، اور زرعی پیداوار میں 30 فیصد تک اضافہ ممکن ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ زمین کی زرخیزی، پانی کی دستیابی، فصلوں کی صحت اور جنگلات کے تحفظ کے بارے میں بھی حقیقی وقت کی معلومات حاصل کی جا سکیں گی

    پاکستان نے افغانستان، ایران اور روس کے ساتھ نیا بارٹر ٹریڈ فریم ورک متعارف کروا دیا

    پاکستان اسٹیل ملز سے چوری ہونے والا 200 کلو کاپر کباڑ گودام سے برآمد

    اسرائیل کا جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام حماس نے مسترد کر دیا

    سوشل میڈیا کا استعمال بچوں کی ذہنی کارکردگی کے لیے نقصان دہ، تحقیق

  • شائننگ انڈیا نہیں بلکہ بھوکا بھارت،پاکستان کا تقابلی جائزہ

    شائننگ انڈیا نہیں بلکہ بھوکا بھارت،پاکستان کا تقابلی جائزہ

    شائننگ انڈیا نہیں بلکہ بھوکا بھارت،پاکستان کا تقابلی جائزہ
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    نریندر مودی جب دنیا بھر میں ’’شائننگ انڈیا‘‘ یعنی روشن بھارت کا نعرہ لگاتے ہیں تو وہ ایک ایسے ملک کی تصویر دکھاتے ہیں جہاں بڑی بڑی عمارتیں، جدید ٹیکنالوجی، اور ترقی کی چمک نظر آتی ہے۔ مگر اگر ان چمکتی سڑکوں اور عمارتوں کے پیچھے عام آدمی کی زندگی کو دیکھا جائے تو حقیقت بالکل مختلف ہے۔ تازہ رپورٹوں کے مطابق بھارت آج دنیا کا ساتواں سب سے زیادہ مقروض ملک بن چکا ہے۔ امریکی تحقیقی ادارے ورلڈ پاپولیشن ریویو کی رپورٹ کہتی ہے کہ بھارت پر اس وقت 3 ہزار ارب ڈالر کا قرض ہے اور ہر بھارتی شہری پر اوسطاً 504 ڈالر کا قرض چڑھا ہوا ہے۔

    اس کے مقابلے میں پاکستان کا نمبر اس فہرست میں 33واں ہے، جہاں قومی قرض 260 ارب ڈالر کے قریب ہے یعنی بھارت ہم سے کہیں زیادہ مقروض ہونے کے باوجود خود کو ترقی یافتہ ملک کہلواتا ہے۔

    لیکن اصل فرق معیشت نہیں بلکہ زندگی کے معیار کا ہے۔ بھارت میں لاکھوں لوگ آج بھی بھوکے سوتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور ورلڈ فوڈ پروگرام کی رپورٹوں کے مطابق بھارت میں تقریباً 22 کروڑ افراد روزانہ بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر عورتیں اور بچے ہیں جو غذائی کمی اور کمزور صحت کا شکار ہیں۔ یہی نہیں، ورلڈ بینک کے اندازے کے مطابق بھارت میں تقریباً سات فیصد آبادی کے پاس بیت الخلا (ٹائلٹ) کی سہولت تک موجود نہیں۔ دیہاتوں میں لاکھوں لوگ آج بھی کھلے میدانوں میں رفع حاجت پر مجبور ہیں۔

    اب ذرا پاکستان کو دیکھیں۔ یہاں اگرچہ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت جیسے مسائل ضرور ہیں مگر کوئی شخص بھوکا نہیں سوتا۔ پاکستان میں ’’احساس‘‘، ’’بینظیر انکم سپورٹ پروگرام‘‘، اور پاکستان بیت المال جیسے سرکاری منصوبے لاکھوں غریب خاندانوں کو خوراک اور مالی مدد فراہم کرتے ہیں۔ دیہاتوں میں آج بھی لوگوں کے درمیان ہمدردی، خیرات اور ایک دوسرے کا سہارا بننے کی روایت موجود ہے۔

    بھارت کے بڑے شہروں، جیسے دہلی، ممبئی اور کولکتہ میں لاکھوں لوگ فٹ پاتھوں پر سوتے ہیں۔ بچے اور بوڑھے سب ایک ہی کمبل کے نیچے گزر بسر کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں بے گھر افراد کی تعداد اس قدر زیادہ نہیں۔ یہاں حکومت اور فلاحی تنظیموں نے کئی شہروں میں پناہ گاہیں (شیلٹر ہومز) قائم کی ہیں جہاں لوگ مفت کھانا اور رہائش حاصل کر سکتے ہیں۔

    یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بھارت میں دولت چند ہاتھوں تک محدود ہے۔ اکنامک سروے آف انڈیا 2024 کے مطابق بھارت کی کل دولت کا 77 فیصد صرف دس فیصد امیر ترین طبقے کے پاس ہے۔ یعنی عام آدمی کی جیب خالی ہے مگر چند کاروباری خاندانوں کے محلات چمک رہے ہیں۔ پاکستان میں اگرچہ معاشی مسائل ہیں، لیکن دولت کی تقسیم بھارت کے مقابلے میں کچھ بہتر اور متوازن ہے۔ یہاں متوسط طبقہ اب بھی موجود ہے اور سماجی زندگی کا اہم حصہ ہے۔

    مودی جب پاکستان کو ’’بھوکا اور ننگا ملک‘‘ کہتے ہیں تو حقیقت میں وہ اپنے ملک کے زخم چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دنیا کی بڑی رپورٹس بتاتی ہیں کہ بھارت میں لاکھوں بچے خوراک اور علاج سے محروم ہیں۔ گلوبل ہنگر انڈیکس 2024 کے مطابق بھارت کا نمبر 111 واں ہے، جبکہ پاکستان کا 102 واں۔ یہ فرق چھوٹا ضرور ہے مگر یہ ثابت کرتا ہے کہ بھارت میں بھوک پاکستان سے زیادہ شدید ہے۔

    پاکستان میں عام شہری کی زندگی میں غربت ضرور ہے مگر انسانیت، خودداری اور ہمدردی کی روشنی باقی ہے۔ یہاں اگر کوئی مصیبت میں ہو تو لوگ مدد کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ محلے کے دکاندار سے لے کر مساجد تک، ہر جگہ کسی نہ کسی شکل میں لوگوں کو سہارا مل جاتا ہے۔

    اس کے برعکس بھارت کا ’’شائننگ انڈیا‘‘ دراصل بھوکا بھارت بن چکا ہے، جہاں بڑی عمارتوں کے نیچے بچے بھوک سے بلکتے ہیں اور جدید شہروں کے فٹ پاتھوں پر لوگ چھت کے بغیر سوتے ہیں۔ دنیا کو دکھائی جانے والی ترقی کے پیچھے عام بھارتی شہری کی حالت دگرگوں ہے۔

    پاکستان کے مسائل اپنی جگہ درست ہیں مگر یہاں عوام میں ایک دوسرے کے لیے احساس اور بھائی چارہ زندہ ہے۔ یہی جذبہ پاکستان کی اصل طاقت ہے۔ اگر ہمارے وسائل صحیح استعمال ہوں، بدعنوانی پر قابو پایا جائے اور تعلیم و روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں تو پاکستان اس خطے کا سب سے مضبوط انسانی معاشرہ بن سکتا ہے۔

    آج بھارت کا وہی چمکتا دمکتا ’’شائننگ انڈیا‘‘ اندر سے بھوکا، کمزور اور خوف زدہ نظر آتا ہے۔ ایک طرف ارب پتیوں کے محلات جگمگا رہے ہیں تو دوسری طرف لاکھوں لوگ فٹ پاتھوں پر بھوکے سوتے ہیں۔ مودی سرکار نے مذہبی نفرت، ظلم اور طبقاتی ناانصافی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ تعلیم، صحت اور روزگار کے میدان میں بھارت پیچھے جا رہا ہے اور سماجی ناہمواری نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔

    دوسری طرف پاکستان تمام معاشی مشکلات کے باوجود، اب بھی دلوں میں امید، ایثار اور ایمان کی دولت رکھتا ہے۔ یہاں کوئی مودی نہیں جو اقلیتوں کو جلائے، کوئی انتہا پسند حکومت نہیں جو مذہب کے نام پر سیاست کرے۔ پاکستان کا اصل چہرہ اس کی عوام کی غیرت، قربانی اور ایک دوسرے کے لیے محبت ہے۔

    مودی کا ’’شائننگ انڈیا‘‘ صرف نعرہ ہے جبکہ پاکستان حقیقت ہے۔ وہ حقیقت جو کم وسائل کے باوجود جینے، ڈٹ کے رہنے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔اب وقت دور نہیں جب مودی کا مصنوعی چمک دمک والا بھارت اپنی نفرتوں کے بوجھ تلے دب جائے گا اور دنیا دیکھے گی کہ اصل روشنی، اصل شان، اصل وقار صرف پاکستان کے پاس ہے۔ کیونکہ پاکستان نہ کسی کی زمین پر بنا، نہ کسی کے سائے میں زندہ ہے،بلکہ پاکستان خودمختار اور آزاد پاکستانیوں کی سرزمین ہے .
    پاکستانی عوام و پاکستان زندہ باد ،افوج پاکستان پائندہ باد۔

  • خط بنام رسول خدا حضرت  محمد  ﷺ (پتہ:  مسجد بنوی مدینہ منورہ سعودی عرب)تحریر:ظفراقبال ظفر

    خط بنام رسول خدا حضرت محمد ﷺ (پتہ: مسجد بنوی مدینہ منورہ سعودی عرب)تحریر:ظفراقبال ظفر

    خط بنام رسول خدا حضرت محمد ﷺ (پتہ: مسجد بنوی مدینہ منورہ سعودی عرب)
    "فاطمہ ؓ کے بابا حسنینؓ کے نانا پہ لاکھوں سلام”
    "پیارے کریم آقا ﷺ!
    سب سے پہلے ادب کی کمی پیشی اور جذبات و تصورات کی بے لگام بے ترتیب عکاسی پر آج کے دور کا یہ بدو ہاتھ جوڑ کرمعافی مانگتاہے۔
    حضور ﷺ آپ کے اس مجرم نے اپنی بداعمال حیات کی نجات کو آپ کی محبت سے منسوب کیا ہے۔ شرف سماعت کا احسان بخشیں۔
    آقا جی مجھے دشمن نفس کی جب پہچان ہونے لگی تومیں ناراضگی خدا میں بہت دُور نکل چکا تھا مجھے اپنے خساروں کا پچھتاوا ستانے لگا۔
    زندگی کی عصر ہو چکی مغرب سر پر ہے عشاء نزدیک ہے آخرزندگی زمین کی آغوش کا مقدر ہو جانی گئی۔
    اتنے کم بچے وقت میں گزری حیات کی ساری قضاؤں کا کفارہ کیسے ادا ہو سکے گا؟
    دنیا کے سارے معاملے بے معنی ہو کر رہ گئے اورروزآخرت والی نفس و نفسی کا منظر آنکھوں کے سامنے پھرنے لگا۔
    میں خدا کے حضور آنکھوں کے کٹوروں میں ندامت کے اشک بھر کر پیش کرنے گیا اور گمان تھا کہ خدا کی جانب سے دل کا کاسہ معافی کے تحفے سے بھر کر واپس لوٹے گا۔۔۔مگرایسا نہیں ہوا۔خدا کے اصولوں کا جہان الگ ہے۔
    خالی برتن کا لوٹنا بہت غمناک تھا۔اس سے بڑی کیا نالائقی ہو گئی کہ بندہ خدا سے خدا کو ہی نہ کما سکے۔
    ندامت کے آنسووں سے تو توبہ کے مرجھائے پھولوں پر بھی بہار آ جاتی ہے مگر میرے وجود کے آنگن اندرگردش کرتی خزاں میں
    اُمید کے درخت سے آس کے گرتے زدر پتوں کی کھنکھناہٹ کا افسردہ ماحول طاری تھا۔
    میں بارگاہ خداوندی سے اپنے اعمال نامے جیسا دل کا خالی برتن ہاتھوں میں لیے لوٹ تو آیامگر مایوس نہیں تھا۔
    کیونکہ آقا ﷺمیں آپ کو جانتا مانتا چاہتا ہوں آپ ہر طرح کے گنہگار کو اپنے دامن رحمت کی پردہ پوشی میں چھپا لیتے ہیں
    آپ خداکو اپنے رُخ انورسے منا لیتے ہیں۔
    حضو ر ﷺ میں مال اور اعمال کا کنگال بندہ پرواز رُوح سے مدینہ منورہ کے تصوراتی سفر پہ نکل پڑا۔
    میں مسجد نبوی میں عین روضہ رسول ﷺ کے سامنے نماز توبہ کی ادائیگی میں یوں رب کو سجدہ کررہا ہوں کہ سر حضور ﷺکے سامنے بھی جھک رہا ہے۔ خدا کو سجدہ اور حضور ﷺکا ادب کمزورایمان کوقبولیت کے قابل بنا نے لگے۔
    مدینہ سے دور مدینہ کی یادوں میں تڑپتے جو زندگی گزاری وہ بے قراری اک طرف مگر مدینہ سے واپسی کا نقصان رُوح کی موت جیسا ہے۔
    اپنے وجودکی موجودگی مدینہ اندر رکھنے کو یہ حسرت مچلنے لگی کہ حضور ﷺکسی طرح آپ کواپنے ساتھ لے جاؤں یا خود کوآپ کے پاس رکھوا لوں۔
    میں شدت سے یہ چاہنے لگاکہ مسجد نبوی ؑ کاداخلی دروازہ جہاں جوتے اتار کر پہلا قدم رکھتے ہیں وہاں اپنے دل کو نسب کردوں
    کہ آپ کے در پر آنے والے ہر مسافر کے پیروں کے تلوے میرے دل پر آئیں اور یہ دل مہمان مدینہ کے پاؤں کے بوسے لیتا جائے
    اس منظر کو حضور ؑآپ دیکھ لیں اور تبسم فرما کر ملائیکہ کو حکم فرما ئیں کہ اس دل کو اُٹھا کر ہمارے پاس رکھ دو ہم نے اسے شرف توجہ بخش دیا ہے۔
    یہ فرمان جاری ہوتے ہی خوشبو کی لپٹ میرے جسم و رُوح کو اپنے حصار میں لینے لگی۔
    میں منگتا سخاوت کے آسمان تلے کھڑا کرم کی بارش کو تنگ دامن میں سمیٹنے کی ناکام کوشش کیے جا رہا ہوں۔
    پھر احساس توجہ رسول ؑمیں عرض کرتا ہوں۔ حضور ؑ خدا سے خدا کو مانگتا ہوں تو آپ ؑ کی جانب بھیج دیا جاتا ہوں۔
    آپ ذات خدا کا رستہ بھی ہیں منزل بھی اور سلیقہ سفر بھی ہیں۔
    حضور ؑ جس خدا نے آپ کو ہم سے ملوایا ہے ہمیں بھی اُس خداسے ملوا دیجئے۔
    یہ محبت محمد ﷺ کامعجزہ ہے کہ اگر حضور ؑآپ کی محبت میں اشک بہیں تو بندہ خودبخود،قرب خدا کے قریب ہو جاتا ہے۔
    یکدم دل کی زمین پہ یہ خیال اترا کہ ارے پگلے نگاہ مصطفی ﷺ ہی تو نگاہ خدا ہے۔۔ آرزو پیش کر۔۔
    مانگ کیا مانگتا ہے محمد ﷺکے رب سے؟
    میں ہاتھ جوڑ کر کہنے لگااے رب محمد ﷺ مجھ بداعمال و گنہگار کو روز آخرت حضور ﷺ کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچالیجئے گا۔
    میری رُوح کو ہدایت کا غسل دے کر اپنی رضا کا لباس پہنادیجئے گا۔
    حضور ﷺ کی محبت کو میری قبرمیں نور کاچراغ بنا دیجئے گا۔
    قربان جاؤں اپنے رب پہ جس نے بابا آدم ؑ کی تخلیق سے بھی پہلے حضور ﷺ کا نور رحمت سارے جہانوں پر رکھ دیا۔
    پھر ہمیں تقسیم وقت کے اُس حصے میں پیدا فرمایاجہاں حضو ر ﷺ ہم سے پہلے آ کرہمارے لیے دنیاو آخرت کی منزلیں آسان فرما گئے۔
    مجھے یہ جان کر اتنی خوشی نہیں ہوتی کہ دنیا میں آنے سے پہلے ہم سب عالم ارواح میں تھے۔
    جتنی خوشی یہ جان کر ہوتی ہے کہ دنیا میں آنے سے پہلے ہم حضو ر ﷺ کے عالم دُعا میں تھے۔
    مجھے تو اُس منظر کے تصور نے کبھی احساس فخر سے نکلنے ہی نہیں دیا کہ حضور ﷺ جب آپ بشری روپ میں انسانوں کے درمیان تشریف لا ئے تھے تو آسمان کے تمام ملائکہ زمین پر نور افشانی کر تے ہوئے وجود انسان کو حسرت زدہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے آرزو مند ہوئے کہ اے کاش ہم محبوب خدا ﷺکی اُمت سے ہوتے۔۔۔
    حضور ﷺ یہ غلام اپنے مقدروں پہ ناز کر تا درود شریف کا ہدایہ پیش کرتے یہ درخو است کرتا ہے کہ اپنے مقدس قدموں میں جگہ عطا فرمائیے کہ آپ کا یہ دیوانہ آپ کے نعلین مبارک کے نیچے آنے والے ہر زرے کا بوسہ لے آنکھوں سے لگائے اور دل میں رکھ لے۔
    والسلام!
    آپ کا گنہگار اُمتی!
    ظفر اقبال ظفر رائیونڈ لاہورپاکستان

  • عوام کے ساتھ جذباتی کھیل،شعور کی ضرورت، تجزیہ:شہزاد قریشی

    عوام کے ساتھ جذباتی کھیل،شعور کی ضرورت، تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی و مذہبی جماعتیں عوامی جذبات کو ابھار کر سیاسی طاقت اور اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں

    عام شہری تنقیدی سوچ سے محروم ہے وہ سن تو لیتا ہے مگر سمجھ نہیں پاتا کہ اس کے جذبات سے کس طرح کھیل کر اسے ایک مخصوص سمت میں دھکیلا جا رہا ہے

    وطن عزیز میں تعلیم کو کبھی ریاستی ترجیح نہیں بنایا گیا تعلیم اور شعور کو عام کیا جائے تاکہ عوام سمجھ سکیں کہ ان کے ساتھ کب جذباتی کھیل کھیلا جا رہا ہے

    پاک فوج اپنی قوم کو دشمن سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر لمحہ قربانی دیتی ہے فوج اور عوام کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنایا جائے تاکہ بیرونی طاقتیں تقسیم نہ کر سکیں

    تجزیہ : شہزاد قریشی
    پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو جذبے، ایمان اور قربانی کی بنیاد پر وجود میں آیا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ قوم کے اجتماعی شعور میں ایک خلا پیدا ہوا یہی خلا آج پاکستان کے سب سے بڑے المیوں میں سے ایک ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں مذہب نے ہمیشہ مرکزی کردار ادا کیا ہے مگر بدقسمتی سے کچھ مذہبی جماعتوں نے دین کو خدمت خلق کے بجائے سیاسی طاقت کے اصول کا ذریعہ بنایا۔ عوام جو تعلیم اور شعور کی کمی کا شکار ہیں ان نعروں اور مذہبی جذبات کے زیر اثر آ جاتے ہیں۔ یہ وہی کیفیت ہے جس میں عقل پر جذبہ غالب آ جاتا ہے۔ تحریکِ لبیک جیسی دوسری جماعتیں اپنے مخصوص واقعات پر سڑکوں پر نکل کر احتجاج تو کرتی ہیں مگر ان کے اقدامات سے ریاستی نظام، عوامی زندگی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے متاثر ہوتے ہیں۔ دنیا فلسطین و اسرائیل کے درمیان امن کی بات کر رہی ہے۔ جبکہ ہم ذرا سوچیے اپنی ہی زمین پر انتشار کا منظر دنیا کو دکھا رہے ہیں۔

    قوموں کی ترقی علم اور عمل کے دو ستونوں پر کھڑی ہے بدقسمتی سے وطن عزیز میں تعلیم کو کبھی ریاستی ترجیح نہیں بنایا گیا۔ نتیجتاً ایک عام شہری تنقیدی سوچ سے محروم ہے وہ سن تو لیتا ہے مگر سمجھ نہیں پاتا کہ اس کے جذبات سے کس طرح کھیل کر اسے ایک مخصوص سمت میں دھکیلا جا رہا ہے۔ وطن عزیز کا المیہ یہ نہیں کہ وسائل نہیں بلکہ المیہ یہ ہے کہ شعور نہیں۔ جب عوام علم سے روشنی حاصل کریں گے وہ کسی کے جال میں نہیں پھنسیں گے نہ مذہبی جذبات کے نہ سیاسی نعروں کے۔ اور جب قوم باشعور ہو جائے گی تو پاکستان واقعی وہی بنے گا جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا ایک روشن، باوقار اور متحد قوم۔ پاکستان ایک عظیم مقصد کے تحت معرضِ وجود میں آیا تاکہ مسلمان ایک آزاد وطن میں اپنی دینی، تہذیبی اور فکری شناخت کے ساتھ زندگی گزار سکیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ خواب کہیں دھندلا سا ہو گیا۔ آج قوم ایک ایسے دورہ رائے پر کھڑی ہے جہاں جذبات نے عقل پر غلبہ پا لیا ہے اور قوم علم و شعور سے محروم نظر آتی ہے۔ پاکستان کے عوام کے دل میں مذہب کی محبت بے پناہ ہے مگر اسی جذبے کا غلط استعمال بعض مذہبی و سیاسی گروہ اپنے مفاد کے لیے کرتے ہیں۔ یہ جماعتیں عوامی جذبات کو ابھار کر سیاسی طاقت اور اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ تعلیم و شعور کی کمی کے باعث عوام اُن نعروں کے پیچھے لگ جاتے ہیں بغیر یہ سوچے اس کا نتیجہ ملک و ملت پر کیا پڑے گا۔ حالیہ دنوں میں تحریکِ لبیک کے مظاہرے اور سڑکوں کی بندش نے ملک کے نظامِ زندگی کو مفلوج کر دیا۔ ہر مہذب قوم کا دارومدار علم اور عمل پر ہوتا ہے بدقسمتی سے وطن عزیز میں تعلیم کو کبھی حقیقی ترجیح نہیں بنایا گیا۔ معاشرے میں دلیل کی جگہ نعروں نے لے لی ہے اور برداشت کے بجائے نفرت نے جنم لیا ہے۔

    پاک فوج اور جملہ ادارے ہمیشہ سے پاکستان کی سلامتی، وقار اور بقاء کی ضامن رہی ہے۔ جیسے ایک مرغی اپنے بچوں کو باز یا چِیل کے حملے سے بچانے کے لیے اپنے پروں کے نیچے چھپا لیتی ہے ویسے ہی پاک فوج اپنی قوم کو دشمن سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر لمحہ قربانی دیتی رہی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ عناصر خواہ وہ بیرونی ایجنڈے کا حصہ ہوں یا اندرونی انتشار پھیلانے والے پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈہ اور افوائیں پھیلاتے ہیں۔ یہ ایک نفسیاتی جنگ ہے جس کا مقصد قوم اور فوج کے درمیان اعتماد کی دیوار کو گرانا ہے حالانکہ فوج وہ ادارہ ہے جس نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر اس قوم کو قائم رکھا ہوا ہے۔ وطن عزیز کو اپنے اصل مقصد کی طرف واپس لانے کے لیے ضروری ہے کہ تعلیم اور شعور کو عام کیا جائے تاکہ عوام سمجھ سکیں کہ ان کے ساتھ کب جذباتی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ فوج اور عوام کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنایا جائے تاکہ بیرونی طاقتیں تقسیم نہ کر سکیں۔

  • امریکہ اور برطانیہ میں حسن صدیقی کے عالمی اعزازات، مگر حکومتِ پاکستان کی عدم پذیرائی

    امریکہ اور برطانیہ میں حسن صدیقی کے عالمی اعزازات، مگر حکومتِ پاکستان کی عدم پذیرائی

    دنیا کے ہر کونے میں پاکستانی نوجوان اپنی صلاحیتوں، جد و جہد اورعزم سے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ انہی نوجوانوں میں ایک نمایاں نام ہے لاہور کے رہائشی 25 سالہ پاکستانی مصنف حسن صدیقی کا ، جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود عالمی ادب کے افق پر پاکستان کا پرچم بلند کیا۔ حسن صدیقی اُن گنے چنے پاکستانیوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے قلم کو انسانیت، ہمدردی اور امید کے پیغام کا ذریعہ بنایا، اور دنیا کو دکھایا کہ اصل قومی ہیرو وہی ہوتے ہیں جو علم و اخلاق کے ذریعے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں۔

    Cupertino Library میں پہلا پاکستانی مصنف
    حال ہی میں حسن صدیقی نے ایک اور نمایاں عالمی اعزاز اپنے نام کیا۔ اُن کی کہانی "A Hope for One Homeless” کو 10 اکتوبر 2025 کو World Homeless Day کے موقع پر امریکہ، کیلیفورنیا کی معروف عوامی لائبریری Cupertino Library میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔ یہ لائبریری Silicon Valley کے علمی و ثقافتی مراکز میں ایک اہم مقام رکھتی ہے اور Apple کے عالمی ہیڈکوارٹر کے قریب واقع ہونے کے باعث دنیا بھر میں اپنی شہرت رکھتی ہے۔

    یوں حسن صدیقی وہ پہلے پاکستانی مصنف بن گئے جن کا کام اس نمایاں امریکی ادارے میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔ یہ ایک غیر معمولی اعزاز ہے جو نہ صرف اُن کی صلاحیتوں بلکہ پاکستان کے تخلیقی نوجوانوں کی قوتِ ارادی کا مظہر ہے۔

    ادبی سفر کا آغاز، ماں کی جدائی اور کم عمری کی ذمہ داریاں
    حسن صدیقی کی زندگی کا سفر آسان نہ تھا۔ محض 14 سال کی عمر میں اُن کی والدہ کا انتقال ہو گیا، جس کے بعد زندگی نے اُنہیں وقت سے پہلے بڑا کر دیا۔ کم عمری میں گھریلو ذمہ داریاں اور تعلیمی تقاضے ایک ساتھ نبھانا اُن کے لیے ایک مشکل مرحلہ تھا، مگر انہوں نے ہمت نہ ہاری۔ اُن کے والد ایک فرنیچر کی دکان پر کام کرتے ہیں، اور محدود آمدنی کے باوجود انہوں نے ہمیشہ بیٹے کے خوابوں کو جینے دیا۔ یہی وہ ماحول تھا جہاں سے حسن صدیقی نے سیکھا کہ اصل کامیابی وسائل سے نہیں، عزم سے حاصل ہوتی ہے۔ مایوس کن حالات اور محدود وسائل کے باوجود، انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے وہ کر دکھایا جس کا بہت سے لوگ خواب دیکھتے ہیں۔

    کینٹربری کیتھیڈرل میں عالمی اعزاز
    اس سے قبل دسمبر 2024 میں، حسن صدیقی کی کہانی “A Christmas Homeless” برطانیہ کے عظیم تاریخی و ثقافتی ورثے کینٹربری کیتھیڈرل میں نمائش کے لیے پیش کی گئی، جو یونیسکو کے عالمی ورثہ میں شامل ہے۔ یہ کہانی دسمبر 2024 سے مارچ 2025 تک وہاں نمایاں طور پر آویزاں رہی۔ یہ اعزاز صرف اُن کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر کا لمحہ تھا، کیونکہ وہ اس عالمی شہرت یافتہ مقام پر نمایاں ہونے والے پہلے پاکستانی مصنف بنے۔
    حسن صدیقی کی اس کامیابی کو متعدد بین الاقوامی اداروں نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا, جن میں برطانوی حکومت (7 جولائی 2025)، یونیسکو (20 جولائی 2025)، اقوامِ متحدہ (19 اگست 2025)، اور برطانوی ہائی کمیشن پاکستان (20 مئی 2025) شامل ہیں۔ یہ تسلیم شدہ اعزاز اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ پاکستانی نوجوان بھی عالمی ادب کے افق پر نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔

    وطن میں خاموشی کیوں؟
    جب ایک نوجوان اپنی تحریر سے دنیا بھر کے قارئین کے دل جیت لے، عالمی تنظیمیں اس کے کام کو سراہیں، تو یہ لمحۂ فخر ہونا چاہیے۔ لیکن پاکستان میں جب ایسے نوجوانوں کو نظرانداز کر دیا جائے تو یہ سوال جنم لیتا ہے کہ آخر ہمارے قومی ہیرو کب پہچانے جائیں گے؟

    ادب، فن اور ثقافت کسی قوم کا چہرہ ہوتے ہیں۔ اگر ایک مصنف اپنے الفاظ سے دنیا میں انسانیت، ہمدردی اور اخلاق ک پیغام پھیلا رہا ہے تو یہ پوری قوم کے لیے باعثِ عزت ہونا چاہیے۔

    ورلڈ اسکالرز کپ اور عالمی ادبی پلیٹ فارمز میں نمایاں کامیابیاں، NASA
    حسن صدیقی کی علمی اور تخلیقی صلاحیتیں صرف ادبی دنیا تک محدود نہیں ہیں، انہوں نے NASA سے مضمون نویسی میں اعترافی سرٹیفکیٹ حاصل کیا، جبکہ World Scholars Cup میں تحقیق اور تحریر کے شعبے میں گولڈ میڈلسٹ کے طور پر نمایاں کارکردگی دکھائی، ان کی تحریریں Spillwords Press، Illumination، Storymaker اور دیگر بین الاقوامی ادبی پلیٹ فارمز پر شائع ہو چکی ہیں اور ان کی کتاب Twenty Bright Paths: Stories of Growth & Learning امریکہ میں شائع ہوئی، جسے نوجوان قارئین نے بے حد سراہا، اور یہ حسن صدیقی کو عالمی سطح پر ایک باصلاحیت پاکستانی مصنف کے طور پر متعارف کروانے کا سبب بنی۔


    خواتین کے لیے آواز: “The Female Times”
    حسن صدیقی صرف ایک مصنف نہیں بلکہ ایک سماجی شعور رکھنے والے لکھاری بھی ہیں۔ وہ دی فیمل ٹائمز کے بانی ہیں ، ایک غیر منافع بخش ڈیجیٹل میگزین جو خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کی آواز کو بلند کرنے کے لیے وقف ہے۔یہ پلیٹ فارم اُن خواتین کے لیے امید کی کرن ہے جنہیں اپنی کہانیاں سنانے کے مواقع کم ملتے ہیں۔ حسن صدیقی کا ماننا ہے کہ معاشرے میں حقیقی تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب خواتین اپنی بات خود کہہ سکیں اور اپنی جدوجہد کو کھلے عام پیش کر سکیں۔

    حکومتی اعتراف اور قومی فخر کی ضرورت
    دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اپنے لکھاریوں اور دانشوروں کو قومی ہیرو کا درجہ دیتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ لوگ اُن کے ملک کی پہچان ہیں۔ لیکن پاکستان میں جب کوئی نوجوان عالمی سطح پر کامیاب ہوتا ہے تو اکثر سرکاری سطح پر خاموشی چھا جاتی ہے۔

    حسن صدیقی کی مسلسل عالمی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی نوجوانوں میں تخلیقی صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں۔ اگر حکومت ایسے مصنفین کو سرکاری اعزازات، مالی معاونت، اور سرپرستی فراہم کرے تو یہ پاکستان کے عالمی تشخص کو مضبوط کرے گا۔حسن صدیقی نے ثابت کیا ہے کہ وطن کے حقیقی سفیر وہی ہوتے ہیں جو عمل، اخلاق، اور علم سے دنیا کو متاثر کرتے ہیں۔ وہ آج بھی اس یقین کے ساتھ لکھ رہے ہیں کہ ایک دن پاکستان بھی اُن کی کاوشوں کو تسلیم کرے گا ، کیونکہ قومی ہیرو ہمیشہ اپنی قوم کے لیے لکھتے ہیں، چاہے قوم اُنہیں کب تسلیم کرے۔

  • جلد ڈالر کے بھوکے اسمگلرز کی حکومت کا خاتمہ

    جلد ڈالر کے بھوکے اسمگلرز کی حکومت کا خاتمہ

    جلد ڈالر کے بھوکے اسمگلرز کی حکومت کا خاتمہ
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    افغانستان اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ طالبان حکومت جو اگست 2021 میں اقتدار میں آئی تھی، دن بدن کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ تین سال گزرنے کے باوجود طالبان نہ کوئی باقاعدہ حکومت قائم کر سکے ہیں اور نہ ہی انتخابات کرا سکے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی حکمرانی کی بنیادیں ہلنے لگی ہیں۔ حالیہ مہینوں میں طالبان حکومت کو اندرونی اختلافات، خراب معیشت، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بیرونی دباؤ اور پڑوسی ممالک خصوصاً پاکستان سے کشیدگی جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ تمام حالات مل کر طالبان کی حکومت کو زوال کے دہانے پر لے آئے ہیں جو نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔

    طالبان کے اندرونی اختلافات ان کی حکومت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن گئے ہیں۔ سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ اور وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے درمیان طاقت کی کشمکش شدت اختیار کر چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان میں طالبان کے ہر ماہ تقریباً سو جنگجو مارے جا رہے ہیں، جس سے طالبان کے اندر بے چینی اور بغاوت کے آثار پیدا ہو گئے ہیں۔ اخوندزادہ نے اقتدار کو مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں رکھنے کی کوشش کی ہے لیکن اس سے ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ طالبان حکومت میں بدعنوانی، طاقت کا غلط استعمال اور عوامی مسائل سے لاتعلقی نے عام لوگوں میں مایوسی پیدا کر دی ہے۔ کئی طالبان کمانڈر اب اپنے دھڑے بنانے کی سوچ رہے ہیں۔ افغان تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ایسی اندرونی تقسیم پیدا ہوئی، حکومت زیادہ دیر نہیں چل سکی۔

    افغانستان کی معیشت پہلے ہی تباہی کے دہانے پر ہے۔ طالبان حکومت بیرونی امداد پر انحصار کرتی رہی ہے لیکن اب دنیا کے ممالک نے امداد بند کر دی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق افغانستان کی معیشت تیزی سے گر رہی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ طالبان نے اب تک کوئی ٹھوس معاشی منصوبہ نہیں بنایااور منشیات کی اسمگلنگ سمیت غیر قانونی تجارت بڑھ گئی ہے۔ اسی وجہ سے طالبان کو “ڈالر کے بھوکے اسمگلرز” کہا جانے لگا ہے۔ زلزلوں اور قدرتی آفات نے بھی عوامی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ بجلی، پانی، صحت اور خوراک جیسی بنیادی سہولتیں ناپید ہو چکی ہیں۔ بھوک اور افلاس نے عوام کو طالبان سے متنفر کر دیا ہے اور یہ عوامی غصہ کسی بھی وقت بغاوت میں بدل سکتا ہے۔

    طالبان کی خواتین کے خلاف سخت پالیسیوں نے ان کی حکومت کو دنیا بھر میں تنہا کر دیا ہے۔ لڑکیوں کے سکول اور یونیورسٹیاں بند کر دی گئی ہیں، خواتین کو دفاتر اور امدادی اداروں میں کام سے روک دیا گیا ہے اور ان کی آزادانہ نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ ان اقدامات سے افغان معاشرہ تقسیم ہو گیا ہے۔ عالمی برادری نے ان پابندیوں کی سخت مذمت کی ہے اور زیادہ تر ممالک نے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور شریعت کے نام پر ظلم و جبر کے باعث عوام کے اندر طالبان کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے۔

    پاکستان کے ساتھ طالبان کے تعلقات بھی اب تیزی سے خراب ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپیں، فضائی حملے اور ایک دوسرے پر دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے کے الزامات روز بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان طالبان پر تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو سہولت فراہم کرنے کا الزام نہیں لگاتا ہے بلکہ ثبوت دئےمگر طالبان حکومت ان گروہوں کی پشت پناہی اور بھارتی پراکسیز کیلئے استعمال کررہی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان نے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ ان حالات نے طالبان کو دفاعی پوزیشن پر دھکیل دیا ہے اور وہ اندرونی و بیرونی دونوں دباؤ میں آ چکے ہیں۔

    پاکستان وہ ملک ہے جس نے طالبان کو شروع دن سے سہارا دیا۔ 1990 کی دہائی سے لے کر 2021 تک پاکستان نے طالبان کی سیاسی، سفارتی اور فوجی مدد کی۔ مگر اب حالات بدل گئے ہیں۔ طالبان نے پاکستان کے مخالف ملک بھارت سے ڈالرز کے عوض ہاتھ ملالیاہے۔ 10 اکتوبر 2025 کو طالبان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے بھارت کا دورہ کیا اور بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کی۔ اس موقع پر متقی نے پاکستان کے خلاف سخت بیانات دیے، یہاں تک کہا کہ “پاکستان کو افغانستان کے ساتھ کھیل کھیلنے سے گریز کرنا چاہیے”۔ یہ بیان دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی کا باعث بنا۔

    طالبان کی غلط پالیسیوں کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا ہے کہ پاکستان نے افغان مہاجرین کو ملک سے نکالنا شروع کر دیا ہے۔ لاکھوں افغان مہاجرین سرحد پار کر کے واپس افغانستان جا رہے ہیں، لیکن طالبان حکومت ان کی بحالی، روزگار اور بنیادی سہولتوں کے انتظام میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ ان مہاجرین کی واپسی طالبان کے لیے نیا بحران بن چکی ہے، کیونکہ ان میں سے کئی لوگ طالبان مخالف قوتوں سے دوبارہ جڑنے لگے ہیں۔ اب اطلاعات یہ ہیں کہ طالبان مخالف جنگجو گروہ دوبارہ متحد ہو رہے ہیں اور شمالی اتحاد کی طرز پر ایک نئے محاذ کی تیاری کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہی قوتیں طالبان حکومت کے خاتمے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔

    طالبان حکومت اس وقت ہر طرف سے دباؤ میں ہے، اندرونی لڑائیاں، خراب معیشت، عوامی غم وغصہ، خواتین پر ظلم، ہمسایہ ممالک سے دشمنی اور عالمی تنہائی۔ جب کوئی حکومت عوام کا اعتماد کھو دیتی ہے اور اپنے پڑوسیوں سے تعلقات خراب کر لیتی ہے تو اس کا زوال صرف وقت کی بات رہ جاتا ہے۔ اوراس وقت ڈالروں کے بھوکے اسمگلرز طالبان کے اقتدار کا انجام قریب دکھائی دے رہا ہے۔

  • ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی ، قلم و سماج کا دردمند چہرہ

    ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی ، قلم و سماج کا دردمند چہرہ

    ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی ، قلم و سماج کا دردمند چہرہ
    تحریر: جواد اکبر بھٹی، ڈیرہ غازی خان (چراغِ آگہی)
    صحافت کسی بھی معاشرے کا چوتھا ستون ہونے کے ساتھ ایک عظیم سماجی فریضہ بھی ہے، جسے وہی فرد بخوبی نبھا سکتا ہے جو فکری وسعت، معاشرتی شعور اور تحقیقی بصیرت سے آراستہ ہو۔

    ڈیرہ غازی خان کی علمی و صحافتی دنیا میں ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی ایک نمایاں اور معتبر نام ہیں۔ وہ نہ صرف مقامی مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں بلکہ بین الاقوامی امور پر بھی بصیرت افروز انداز میں قلم اٹھاتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں سچائی کی تلاش، اصلاحِ احوال کا جذبہ اور معاشرتی درد نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔

    ڈاکٹر بڈانی نے ابتدائی طور پر سرکاری سطح پر طبی خدمات انجام دیں، مگر ان کے اندر موجود ایک حساس اور فکری شخصیت نے انہیں سماجی شعور کی راہ پر گامزن کیا۔ انہوں نے طب کے شعبے کو خیرباد کہہ کر صحافت اور قلم کو اپنا ذریعہ اظہار بنایا، تاکہ وہ معاشرے کے زخموں کا مداوا کر سکیں۔

    ان کے کالمز قومی و علاقائی اخبارات کے علاوہ اردو پوائنٹ اور باغی ٹی وی جیسے معتبر پلیٹ فارمز پر تسلسل سے شائع ہوتے ہیں۔ ان کی دیانتدارانہ رپورٹنگ اور مدلل کالم نگاری نے انہیں قومی سطح پر پہچان دلائی، جس سے ڈیرہ غازی خان کا نام بھی روشن ہوا۔ معروف اینکر پرسن و سینئر صحافی مبشر لقمان نے ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں باغی ٹی وی کے انچارج نمائندگانِ پاکستان کا منصب سونپا، جو ان کے پیشہ ورانہ اعتماد اور قابلیت کا عملی ثبوت ہے۔

    ایک تقریب کے دوران سیالکوٹ میں ایوارڈ وصول کرتے وقت مبشر لقمان نے اسٹیج پر ڈاکٹر بڈانی کا نام لیتے ہوئے کہا: "مصطفیٰ صاحب، ڈیرہ غازی خان کو ایوارڈ مبارک ہو۔” یہ الفاظ نہ صرف ڈاکٹر بڈانی کے لیے اعزاز تھے بلکہ ان کے شہر کے لیے بھی فخر کا باعث بنے۔

    ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی نے ہمیشہ اپنے خطے کی نمائندگی دیانت، ذمہ داری اور خلوص سے کی۔ قدرتی آفات اور بحرانوں کے دوران ان کا کردار قابلِ تحسین رہا۔ آج وہ علم، عمل اور انسان دوستی کی علامت بن کر ڈیرہ غازی خان کی شناخت کا روشن حوالہ بن چکے ہیں۔

    دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی کو صحت، عزت اور مزید کامیابیاں عطا فرمائے، اور ان کا قلم ہمیشہ حق و سچ کے لیے رواں رہے۔ آمین۔

  • پاکستانی فوج کو خراجِ تحسین

    پاکستانی فوج کو خراجِ تحسین

    🇵🇰 پاکستانی فوج کو خراجِ تحسین 🇵🇰
    تحریر:محمد عرفان ڈسٹرکٹ بہاولنگر
    پاکستان کی افواج ہمارے وطن کا فخر اور ہماری سلامتی کی ضامن ہیں۔ یہ وہ بہادر ادارہ ہے جو ہر مشکل گھڑی میں قوم کے شانہ بشانہ کھڑا نظر آتا ہے۔ چاہے زلزلہ ہو، سیلاب ہو یا دشمن کی جارحیت، ہماری فوج نے ہمیشہ اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر ملک و قوم کا دفاع کیا ہے۔

    یہ وہ نڈر سپاہی ہیں جو سردیوں کی یخ بستہ راتوں میں برف پوش چوٹیوں پر اور گرمیوں کی تپتی وادیوں میں سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان کے حوصلے فولاد سے زیادہ مضبوط، نیتیں پاکیزہ اور جذبے ایمان سے لبریز ہیں۔

    پاکستانی فوج محض ایک عسکری قوت نہیں بلکہ ایک منظم، بااخلاق اور انسان دوست ادارہ ہے جو ہر آفت اور آزمائش کے وقت عوام کی خدمت میں پیش پیش رہتا ہے۔ قوم کو اپنی فوج پر بجا طور پر فخر ہے، اور پوری دنیا ان کے نظم و ضبط، بہادری اور قربانیوں کو سلام کرتی ہے۔

    اللّٰہ ربّ العزت ہماری افواج کو ہمیشہ محفوظ رکھے، انہیں مزید کامیابیاں عطا فرمائے، اور وطنِ عزیز پاکستان کو تا قیامت امن، استحکام اور سربلندی سے نوازے۔ آمین۔