Baaghi TV

Category: بلاگ

  • افغانستان، ہمسایہ ممالک اور گریٹ گیم۔۔تحریر: محمد شعیب

    افغانستان، ہمسایہ ممالک اور گریٹ گیم۔۔تحریر: محمد شعیب

    افغانستان میں اس وقت کیا گریٹ گیم کھیلی جا رہی ہے، وہاں پر عالمی اور علاقائی طاقتیں کیا چاہتی ہیں اور وہاں کون کیا کھیل کھیل رہا ہے۔ یہ طالبان کون ہیں ، افغانستان پاکستان کی سالمیت کا مسئلہ کیوں ہے۔ اور امریکہ کیا چاہتا ہے۔
    کیا آپ کو پتا ہے کہ افغانستان کی اسی فیصد آبادی چالیس سال سے کم عمر ہے اور جب انہوں نے انکھ کھولی تو ان کے ملک میں کبھی خانہ جنگی تو کبھی غیر ملکی فوجوں کا جنگ اور خون کا کھیل جاری تھا۔ تشدد نے اس قوم کی چولیں ہلا دی ہیں اور آدھی سے زائد قوم شدید نفسیاتی مسائل کا شکار ہے۔
    اب آپ کے سامنے ایسے ایسے انکشافات سے پردہ اٹھائے گی جس سے آپ کو اس مسئلہ کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
    کیا آپ کو پتا ہے کہ امریکہ، پاکستان، ایران، چین اور دیگر ممالک افغانستان میں کن مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ میدان جنگ افغانستان ہے، لڑنے والے افغانی ہیں لیکن پلاننگ، پیسہ اور سوچ کسی اور کی ہے۔
    اس وقت افغانستان اور طالبان کے حوالے سے ہر طرف پراپیگنڈا جاری ہے۔ کوئی عورتوں کے حقوق اور ان کی تعلیم پر رو رہا ہے تو کوئی داڑھی رکھنے سے خوفزدہ کر رہا ہے، کوئی کہتا ہے کہ گناہ کرنے پر سنگسار کر دیا جائے گا تو کوئی فلم اور میوزک کے خاتمے کی بات کر رہا ہے۔ اس وقت یہ بات پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ طالبان آنے کے بعد زیادہ سے زیادہ سخت پابندیاں لگا دیں گے اور لوگوں کی آزادی ختم ہو جائے گی۔
    یہ طالبان کون ہیں۔؟؟ یہ وہی طالبان ہیں جنہوں نے انیس سو اسی کی دہائی میں پوری قوم کے ساتھ مل کر روس کے خلاف جہاد کیا۔ اور امریکہ اور مغرب نے اپنے مفادات کے لیئے خوب حصہ ڈالا۔جب روس
    نوے کی دہائی
    میں افغانستان سےنکلنا شروع ہوا تو 1992 میں سول وار شروع ہو گئی اور ملک پر قبضے کے لیئے وار لارڈز نے کھینچا تانی شروع کر دی۔ طالبان نے کابل پر انیس سو بانوے میں قبضہ کر لیا جس کے بارے میں پاکستان پر الزام لگا کہ اس کے حاضر سروس افسران نے بھی طالبان کے ساتھ لڑائی میں حصہ لیا۔ پاکستان کا اس میں کیوں مفاد ہے کہ طالبان افغانستان پر حکومت کریں ،دراصل یہ معاملہ پاکستان کی سالمیت کا مسئلہ ہے۔ جسے دنیا کے لیئے سمجھنا ضروری ہے۔
    اب بات کرتے ہیں نوے کی دہائی میں ۔۔افغانستان کے دارلحکومت کابل پر جب طالبان کا قبضہ ہو گیا تو کیا ہوا۔؟
    طالبان کے افغانستان میں اقتدار کے بعد داڑھی کو کپڑے سے چیک کرنے اور سڑکوں پر سزائیں دینے کے قصے مغرب سے مشرق تک پھیل گئے اور ایسا ظاہر کیا گیا کہ دنیا ہزار سال پیچھے چلی گئی ہے۔اس حوالے سے ایک مشہور کہاوت ہے کہ اگر طالبان کے پاس میڈیا اور سوشل میڈیا ہوتا تو امریکہ طالبان کو کبھی نہ ہرا پاتا۔

    طالبان پر نائن الیون کو سپورٹ کرنے اور اسامہ بن لادن کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا کر امریکہ بہادر نے چڑھائی شروع کر دی یہ الگ بات ہے کہ امریکی سی آئی اے ہی اسامہ بن لادن کو افغانستان لائی تھی۔
    افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد امریکہ نے ایک کٹھ پتلی حکومت بنا کر دوہزار چار میں ایک آئین بھی متعارف کروا دیا۔ اسی دوران افغانستان میں طالبان جو امریکی بمباری سے بچتے ہوئے روپوش ہو گئے تھے انہوں نے گوریلا وار کا آغاز کر دیا اور سب اکھٹے ہونے لگے۔ امریکہ اپنی تمام تر طاقت اور پیسے کے باوجود حالات کو نہ تو کنٹرول کر سکا اور نہ ہی طالبان پر غلبہ پا سکا۔ کسی نہ کسی صورت میں طالبان نے افغانستان کے تیس سے زائد فیصد حصہ پر اپنا کنٹرول جاری رکھا۔ ہر صوبے کے دارلحکومت پر افغان حکومت اور امریکہ کا کنٹرول تھا تو دور دراز علاقوں اور دیہاتوں میں طالبان کی حکمرانی رہی۔
    اب جب امریکہ کو سمجھ آگئی کہ امریکہ اگلے سو سال بھی یہاں اپنے فوجی مرواتا رہے اور اربوں ڈالر پھونکتا رہے تو اسے کچھ ملنے والا نہیں ہے۔ تو اس نے وہاں سے فوری نکلنے کا فیصلہ کر لیا، امریکہ اب باہر سے بیٹھ کر تماشا لگانا دیکھنا چاہتا ہے۔ جہاں امریکہ یہ چاہتا ہے کہ اس کا افغانستان میں زیادہ سے زیادہ اثرورسوخ رہے جو لوکل سرداروں کی مدد کر کے اپنی مرضی کی حکومت بنوا کر حاصل کیا جا سکتا ہے اور دوسرا اس کے دشمن ملک چین، روس اور دیگر ممالک کو یہاں اپنے مفادات کا تحفظ اور اثرورسوخ قائم کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
    بڑی طاقتیں ہمیشہ چھوٹے ملکوں میں اپنی مرضی کی پارٹیز کی مدد کر کے انہیں اقتدار دلواتی ہیں اور پھر اپنے اشاروں پر نچاتی ہیں تو یہی مقاصد اور طریقہ کار عالمی طاقتوں کا افغانستان میں ہے۔
    امریکہ کو ساری دنیا چیخ چیخ کے کہہ رہی ہے کہ امن قائم کیئے اور کوئی سیاسی حل نکالے بغیر جانا افغانستان کی تباہی ہے لیکن امریکہ بہادر نہ کسی کی سن رہا اور نہ ہی وہ سننا چاہتا ہے، امریکہ سویت یونین کو افغانستان میں ہروا کر بھی ایسے ہی بھاگا تھا جیسے آج خانہ جنگی میں دھکیل کر جا رہا ہے۔
    اب امریکہ کے حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ گروپو‏ں کو پیسے دے کر اپنے مفاد کے لئے بد امنی جاری رکھنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین روس پاکستان سمیت سینٹرل ایشین ممالک نے بھی افغانستان کے بغیر تجارتی راستوں پر غور شروع کر دیا ہے جو بظاہر مشکل ضرور ہیں لیکن کوئی متبادل نہ ہونے کی صورت میں بہت مفید ہیں۔ اس حوالے سے گولڈن رنگ اور ماسکو ٹو گوادر روٹ اہمیت کے حامل ہیں۔

    اب بات ہو جائے کچھ افغانستان میں امریکہ کے انخلا کے بعد کی صورتحال پر۔ امریکہ کے جانے کے بعد تو کیا ۔۔پہلے ہی خانہ جنگی شروع ہو چکی ہے ۔ طالبان ایک طرف کہتے ہیں کہ ہم مذاکرات کریں گے تو دوسری طرف وہ تیزی سے افغانستان پر قبضہ کی جنگ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ طالبان کو پتا ہے کہ انہوں نے ایک نہ ایک دن مذاکرات کی میز پر آنا ہی آنا ہے ۔ تو اس وقت جتنے زیادہ علاقے جس پارٹی کے پاس ہوں گے اسے اتنا ہی طاقتور کردار اور حصہ ملے گا۔ طالبان مزاکرات کیوں کرنا چاہتے ہیں جبکہ وہ افغانستان پر قبضہ کی طاقت رکھتے ہیں تو اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ طالبان کو پتا ہے کہ اگر دنیا نے افغانستان کی حکومت کو تسلیم نہ کیا تو وہ مدد جو دنیا اسے دے گی اور دے رہی ہے اور جو افغانستان کے مفاد میں ہے وہ بند ہو جائے گی، جس کے بغیر افغانستان کی تعمیر ممکن نہیں۔ دوسرا طالبان اپنی تمام تر طاقت کے باوجود بھی گزشتہ دور میں عبدالرشید دوستم سمیت کئی جرنیلوں کو سرنڈر کروانے میں ناکام رہے تھے ابھی بھی طالبان کابل پر تو قبضہ کر سکتے ہیں لیکن پورے افغانستان پر ممکن نہیں۔ اس لیے طالبان معاہدے کی بات کر رہے ہیں اور مزاکرات کی بھی۔
    طالبان کی اصل طاقت پشتوں قبائل ہیں جبکہ افغانستان میں ساٹھ فیصد لوگ پشتون نہیں ہیں وہ دیگر قوموں سے تعلق رکھتے ہیں، طالبان نے انہیں ملانے کی کوشش کی ہے لیکن کسی بھی ملک میں کسی ایک جماعت کی سو فیصد مقبولیت ہونا ممکن نہیں اس لئے طالبان کو پتا ہے کہ ان کو ملائے بغیر اور ایک قومی حکومت کے بغیر افغانستان میں کبھی امن نہیں ہو پائے گا۔
    لیکن اس کے علاوہ اور بھی بہت سی وجوہات ہیں جو افغانستان میں امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں ۔
    شیعہ طالبان پر ایران کا اثر و رسوخ ہے جبکہ پشتو ن طالبان پر پاکستان کے اثرورسوخ کی بات کی جاتی ہے جسے پاکستان کہتا ہے کہ وہ ایک محدود حد تک ہے کہ ان کے خاندان یہاں پاکستان میں رہتے ہیں۔
    بھارت افغان نیشنل لیڈران جن میں امراللہ صالح، اشرف غنی، حامد کرزئی سمیت دیگر ہیں ان کو پیسے کی مدد اور ترقیاتی پراجیکٹس کی صورت میں کنٹرول کیئے ہوئے ہے۔ اور جہاں بھارت ہو گا وہاں پاکستان نہ ہو یہ ہو نہیں سکتا۔

    اب افغانستان میں جس ملک کا حمایت یافتہ جتنا زیادہ مضبوط ہو گا اس کا افغانستان میں اتنا ہی اثرورسوخ ہو گا۔
    یہی وجہ ہے کہ بھارت اربوں روپے پاکستانی کیش کی صورت میں کرائے کے قاتلوں کو خرید کر اور بلوچ قوم پرستوں کو پیسا دے کر پاکستان کی سالمیت کو چیلنج کر رہا ہے اور وہ ایسا اس لئے کر پا رہا ہے کہ اس کے ہمایت یافتہ گروپ کی افغانستان میں حکومت ہے۔ اس حکومت نے بھارت کو افغانستان میں کئی ہزار اہلکار اور گیارہ کونسلیٹ رکھنے کی اجازت دی ہوئی تھی کہ وہ پاکستان کے خلاف جو مرضی کرے۔ اب جبکہ طالبان زیادہ تر علاقوں میں قبضہ کر رہے ہیں تو انہیں پاکستان کی بلوچستان میں سرحد کے قریب واقع شہروں سے اربوں روپے پاکستانی کیش گھروں میں مل رہا ہے جسے پاکستان کے خلاف شر انگیزی پیدا کرنے کے لیئے استعمال کیا جا رہا تھا۔ اور یہ بھارت کے علاوہ ہم سے اتنی محبت کرنے والا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ اور اب طالبان یقینا بھارت کو یہ کھیل نہیں کھیلنے دیں گےجس کی وجہ سے پاکستان کی سرحدیں محفوظ ہو سکتی ہیں۔ اب دشمن اپنی کھوئی ہوئی طاقت کی وجہ سے مرتے سانپ کی طرح پھڑپھڑا رہا ہے اس نے پاکستان کی سر زمین پر حملے تیز کر دیئے ہیں جو اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ دم توڑنے سے پہلے زور لگا رہا ہے۔
    افغانستان میں عالمی طاقتوں کے کھیل اور گریٹ گیم جاری ہے۔اب یہ طالبان اور اشرف غنی کی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ اس گریٹ گیم کا حصہ بنتے ہیں یا افغانستان اور افغانیوں کے لئے کوئی بہتر حل نکالتے ہیں۔

  • سنت نبویؐ کی پیروی حقیقی کامیابی  تحریر : زوہیب زاہد خان

    سنت نبویؐ کی پیروی حقیقی کامیابی تحریر : زوہیب زاہد خان

    آج کے دور میں ہم مسلمان دنیا کی رنگینیوں میں کھوگئے ہیں۔ آج ہم دین اسلام کی تعلیمات سے دور ہوچکے ہیں جسکی وجہ سے ہماری زندگیوں سے برکت اٹھی چکی ہے۔ ہمیں کہیں طرح کے مسائل نے گھیر لیا ہے۔ ہم الجھنوں کے دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں۔ ہمارا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ ہمارے دل مردہ اور بے ضمیر ہوچکے ہیں. مجموعی طور پر ہمیں زوال کا سامنا ہے۔

    ناکامی کی بنیادی وجہ :
    مسلمانوں کے زوال کی سب سے بڑی وجہ الله پاک اور الله کے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے احکامات کے مطابق زندگی نہ گرازنا ہے۔ کیونکہ اصل کامیابی الله اور رسول الله کی اطاعت اور فرماں برداری میں ہے۔ یہ ہی مسلمانوں کی دنیا و آخرت میں کامیابی کا اصل ذریعہ ہے۔

    سنت نبویؐ :
    ہر وہ ایسا عمل جو ہمارے پیارے رسولؐ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عملی طور پر کرکے دکھایا ہو اور امت کو اسکا حکم دیا ہو اس عمل کو ہم سنت کہتے ہیں۔ ہمارے پیارے نبی کریم کی پوری زندگی ہمارے لیئے عملی نمونہ ہے. پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے محبت ہمارے ایمان کا بنیادی حصہ ہے۔ پیارے نبی کی سنت سے محبت نبی سے محبت کی عظیم ترین مثال ہے۔

    الله رب العالمین نے ہمارے نبی کریم کی سیرت طیبہ کو قیامت تک کے مسلمانوں کیلئے رہنمائی کا ذریعہ بنادیا ہے۔ مسلمان زندگی کے ہر امور میں آپ کی سیاست طیبہ کو پڑھ کر رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ نبی کریم کی زندگی ہر مسلمان کیلئے بہترین اسوہ حسنہ ہے۔

    قران و سنت :
    آج کے مشکل ترین دور میں الله اور رسول اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق زندگی گزارنا ہماری دنیا و آخرت میں حقیقی کامیابی ہے۔

    قران مجید میں الله نے مسلمانوں کیلئے واضح احکامات بیان فرما دیئے ہیں۔اسکے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بتائی ہوئی احادیث مبارکہ کے مطابق زندگی گزارنا ہماری حقیقی کامیابی ہوگی۔

    الله پاک مجھ سمیت ہر مسلمان کو الله اور الله کے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت طیبہ کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

    @ZohIbZahidKhan

  • سوشل میڈیا اور  آج کی جنریشن   تحریر: ایمن زاھد حسین

    سوشل میڈیا اور آج کی جنریشن تحریر: ایمن زاھد حسین

    میڈیا ان دنوں کی ایک اہم ضرورت بن گیا ہے ، ہم کچھ کھائے پیئے بغیر دن تک زندہ رہ سکتے ہیں لیکن سوشل میڈیا کے بغیر ایک دن زندہ رہنا مشکل ہے کیونکہ ہم نے ٹیکنالوجی کو ہم پر حاوی ہونے دیا۔

    کبھی کبھی کاش سیل فون کبھی ایجاد نہ ہوتے۔ بلاشبہ ، اس کے بہت سے فوائد ہیں مثلا فون کالز ، ایس ایم ایس اور سوشل میڈیا ، لیکن اس کے اثرات مضر ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا نوجوانوں کے لئے منی سوشل کنٹرول رومز میں تبدیل ہوجاتا ہے ، جو ان کے دماغی خلیوں کو تنزلی کا شکار کررہا ہے۔

    بیس سال پہلے کا طرز زندگی بالکل مختلف تھا۔ جہاں سیل فونز اور سوشل میڈیا نے لوگوں کو عالمگیر بنادیا ہے ، وہیں وقت کے ساتھ آمنے سامنے گفتگو اور خاندانی منسلکات بھی ویران ہوتے جارہے ہیں۔ سوشل میڈیا کی جھوٹی خبروں نے کیریئر کو بھی ختم کردیا ہے۔ ان دنوں سوشل میڈیا ایک لذت کا نشہ بن گیا ہے ، جو ہمیں اس سے بے خبر کر دیتا ہے کہ ہم اس کی کتنی عادت ڈال چکے ہیں۔ سائبر بدمعاشی ، ہیکنگ ، گھوٹالے اور دھوکہ دہی یہ سب سوشل میڈیا کی برکات ہیں۔ لوگوں کی زندگیوں میں کچھ بھی نجی نہیں رہتا ہے اور اب ، وہ سب کچھ بانٹنا پسند کرتے ہیں۔ ٹِک ٹوک جدید دور کا ایک بہت بڑا فساد ہے۔ یہ نوجوانوں کو تباہ کررہا ہے۔ ٹک ٹوک نوجوانوں کو خودغرض رہنے اور شہرت حاصل کرنے کے لئے کسی حد تک جانے پر مجبور کررہا ہے۔ وہ اس بکواس کے ساتھ نہ صرف اپنا قیمتی وقت ضائع کررہے ہیں بلکہ اخلاقیات کی تمام حدیں بھی عبور کررہے ہیں۔ اور اسلامی نکتہ سے یہ دیکھا جاسکتا ہے جب ویڈیوز میں لڑکوں کو لڑکیوں کی طرح بنا دیا جاتا ہے جو شرمناک ہے اور قیامت کے دن کی ایک بہت سی علامت ہے۔ ’لڑکیاں لڑکے اور لڑکے لڑکیوں کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں‘۔ اس کے علاوہ ، ٹک ٹوک ہمارے معاشرے میں ایک فطری اقدار کو فروغ دیتا ہے کم سے کم مغربی لباس و ملبوس لڑکیاں جو کہ فحاش کو فروغ دی رھی ھیں اور فضول باتوں سے بھری ویڈیو عام طور پر پائی جاسکتی ہے ، جس کا کوئی مذہب اور اخلاقیات تائید نہیں کرسکتے۔ بہت اچھا فیصلہ کیا تھا اس پر پابندی لگا کر گورنمنٹ آف پاکسان نے۔…

    @ummeAeman

  • "آزاد کشمیر الیکشن کون کہاں پر کھڑا ہے” از قلم محمد عبداللہ

    "آزاد کشمیر الیکشن کون کہاں پر کھڑا ہے” از قلم محمد عبداللہ

    پچھلے کچھ دن سیاحت کی غرض سے جنت ارضی کے آزاد ٹکڑے آزادجموںو کشمیر میں گزرے، جہاں اس جنت ارضی میں خوبصورت وادیاں، شوریدہ سر نالے، تند و تیز دریا اور برفون سے ڈھکے بلند و بالا پہاڑ مووجود ہیں وہیں محرومیاں، شکوے شکایات اور بعض جگہوں پر تو بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی بھی ہے. سالہا سال سے جموں و کشمیر کے ان حلقوں سے منتخب ہوکر قانون ساز اسمبلی میں پہنچنے والے مراعات سے تو لطف اندوز ہوتے رہے لیکن جموں کشمیر کے شہریوں کے لیے کچھ بھی کرنے سے قاصر رہے.
    ہمارا سیاحتی ٹور کا ہدف ویسے تو نیلم کو خوبصورت وادی اور اس میں موجود آبشاریں، جھیلیں وغیرہ تھیں لیکن جیسے ہی ہم کشمیر کی سرحد میں داخل ہوئے تو ہمیں ہر طرف الیکشن کی گہما گہمی نظر آئی، ہر طرف انتخابی تصاویر اور نعروں سے مزین پوسٹرز اور بینرز لہراتے پھر رہے تھے تو ہم نے سوچا چلو سیاحت کے ساتھ ساتھ کشمیر کے انتخابات اور انتخابی مہم کو ہی تنقیدی و تعریفی نگاہوں سے دیکھتے جاتے ہیں. اس غرض سے نارووال سے کے انتخابی حلقوں سے لے کر نیلم تک سفر کیا اور دیکھا اس کے آپ کے سامنے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں.
    بنیادی طور پر یہ انتخابات ریاست جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے لیے ہورہے ہیں جن میں جموں اور مقبوضہ وادی کے مہاجرین کی نشستیں بھی شامل ہیں. کچھ انتخابی حلقہ جات نارووال، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، لاہور، گجرات اور دیگر ان علاقوں پر بھی مشتمل ہیں جہاں جہاں مہاجرین کشمیر مقیم ہیں. اس سفر کے دوران تقریباً سبھی ہی حلقہ جات میں چکر لگا تو حالات ماڑے ہی نظر آئے. مہاجرین کے حلقوں میں ریاستی مہاجرین کے مسائل کا کسی کو ادراک نہیں، آزاد جموں کشمیر کے حلقوں میں بھی اب تک منتخب ہونے والوں نے الا ماشاءاللہ اپنی جائدادیں ہی بنائی ہیں.
    ریاست آزاد جموں کشمیر کے حالیہ انتخابات میں بےشمار سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں. ان میں سے بڑی جماعتوں میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی وہ جماعتیں ہیں جو باری باری حکومت بناچکی ہیں لیکن ان کے پلے سوائے بیانات اور بڑھکوں کے کچھ بھی نہیں ہے. ابھی بھی مریم نواز اور اس کے ہمنواء انتخابی جلسوں میں یہی بیان بازیاں کررہے ہیں کہ ہمیں ووٹ دو تو دودھ اور شہر کی نہریں بہائیں گے لیکن کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں کہ بی بی ابھی آپ کا ہی دور حکومت گزرا ہے اس میں آپ لوگوں نے کیا کرلیا راولا کوٹ جیسے علاقے میں بچوں کو پینے کے لیے 150 روپے کلو میں بھی دودھ میسر نہیں ہے.
    اسی طرح پیپلز پارٹی کے حالات ہیں کہ بلاول بھی اپنے آپ کو کشمیر کا بیٹا کہلوانے کی کوشش میں خاصی بانسریاں بجاکر کر گیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو حال پیپلز پارٹی نے سندھ کا کیا ہوا ہے اپنے دور حکومت میں وہی حال آزاد ریاست جموں و کشمیر کا بھی رہا ہے لیکن ابھی بھی وہ حکومت بنانے کے دعوے دار ہیں لیکن اس بار ریاستی عوام سیاسی طور پر قدرے باشعور ہے ہم نے دوران سفر صاف آواز سنیں کہ” نہ تو بلاول کشمیر کا بیٹا ہے اور نہ ہی مریم کشمیر کی بیٹی ہے دونوں مفاداتی پنچھی ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں”.
    ریاست جموں و کشمیر کے انتخابات بارے ایک بات زبان ذد عام ہے کہ پاکستان میں جس کی حکومت ہوتی ہے کشمیر میں بھی وہی پارٹی برسراقتدار آتی ہے تو اس لیے انتخابات کا اعلان ہوتے ہی اڑنے والے پنچھی اڑ کر تحریک انصاف کی ڈالیوں پر آ بیٹھے تھے. قیاس یہی کیا جا رہا ہے کہ حکومت تحریک انصاف بنائے گی لیکن جس طرح پاکستان میں تانگہ پارٹی بن کر حکومت میں آئی کچھ ایسا ہی حال کشمیر میں ہونے جارہا ہے. تحریک انصاف کی انتخابی کمپین انتشار کا شکار ہے حتیٰ کہ ابھی سے وزیراعظم کے لیے لڑائی شروع ہوچکی ہے ایسے میں وہ کشمیر و کی تعمیر و ترقی پر خاک توجہ دیں گے.
    ریاستی انتخابات میں مسلم کانفرنس، تحریک لبیک و دیگر سیاسی پارٹیاں بھی سرگرم عمل ہیں لیکن ان کا ووٹ بنک ایسا نہیں کہ وہ کوئی کارنامہ سرانجام دے سکیں. مقبوضہ کشمیر میں پچھلے سال ہونے والی تبدیلی کے پیش نظر بھی عوام میں حکومتی اقدامات کے حوالے سے مایوسی پائی جاتی ہے. ایسے میں ایک نئی سیاسی جماعت جو مقبوضہ کشمیر کی آزادی اور آزاد کشمیر کو اس کا حقیقی بیس کیمپ بنانے کا نعرہ لے کر میدان عمل میں اتری ہے جو سب کی توجہ کا مرکز بن رہی ہے.
    جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے نام سے معرض وجود میں آنے والی سیاسی جماعت نے آزاد جموں کشمیر اور ریاستی مہاجرین کی اکثر نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں. سوشل میڈیا پر ان کی مہم خاصی دکھائی دے رہی ہے. اس جماعت نے کئی ایک علاقوں میں کامیاب امتخابی جلسے اور ریلیاں بھی منعقد کی ہیں جس کی وجہ سے یہ عوامی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کروانے میں کامیاب رہے ہیں.
    انتخابی سرگرمیوں کی کوریج کرتے ہوئے جہاں دیگر سیاسی جماعتوں کے امیدواران کی مصروفیات دیکھیں وہاں جموں کشمیر یونائٹڈ موومنٹ کے امیدواران اور پارٹی قیادت سے بھی ملاقات رہی. ان کا ماننا تھا کہ گوکہ وہ ان انتخابات میں بہت زیادہ ووٹ تو نہیں لے سکیں گے لیکن ہم عوامی لوگ ہیں اور عوام کی خدمت کے ساتھ ساتھ مقبوضہ وادی کو آزاد کروانا ہمارا بنیادی منشور ہے. ہم الیکشن جیت کر اسمبلی میں بیٹھیں یا الیکشن میں کم ووٹ لے سکیں ہم عوام سے رشتہ نہیں توڑیں گے.
    آزاد جموں و کشمیر میں تحریک انصاف کی بنیاد رکھنے والے منجھے ہوئے سیاستدان سردار بابر حسین اس جماعت کے سربراہ ہیں ان کے ساتھ بھی اسی طرح کے تجربہ کار اور مخلص لوگ ہیں جو مقبوضہ کشمیر کی آزادی میں یقین میں رکھتے ہیں. موجودہ انتخابات میں اپنی سرگرمیوں کے ساتھ وہ ریاستی عوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں. اب دیکھنا یہ ہے کہ پچیس جولائی کا سورج اپنے غروب کے ساتھ مظفرآباد کے تحت پر کس کو طلوع کرکے جاتا ہے.

    محمد عبداللہ
    محمد عبداللہ

  • ‏اسلام: یکجہتی کی بنیاد   تحریر: کیمسٹ ارم

    ‏اسلام: یکجہتی کی بنیاد تحریر: کیمسٹ ارم

    اگر ہم غور کریں تو اللہ کا پیغام ہمیں اتحاد و یکجہتی کا ہی درس دیتا ہے۔ ہم جتنا اسلام پر عمل پیرا ہوں گے ، اتنا ہی اس سے ہمارے درمیان اتحاد کو تقویت ملے گی۔ اور ہماری زندگی جنت بن جائے گی.
    اس کے برعکس ، اگر ہم اسلام کی خوبصورت تعلیمات پر عمل نہیں کریں گے تو اختلاف اور عداوت کا امکان بڑھ جائے گا۔

    اسلام نہ صرف مسلمانوں میں بلکہ غیر مسلموں میں بھی اتحاد کو فروغ دیتا ہے۔ یہ اسلام ہی ہے جو مسلمانوں اور دوسرے لوگوں میں اتحاد کو مضبوط بناسکتا ہے۔

    مندرجہ بالا پہلوؤں سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام کس طرح اتحاد و یکجہتی کا درس دیتا ہے۔

    پہلے نمبر پہ ایک خدا پر ایمان۔ تمام مسلمان اس عقیدے پر قائم ہیں کہ ایک ہی اللہ ہے۔ ہم ایک ایسی کتاب پر یقین رکھتے ہیں جو مقدس قرآن ہے۔ مسلمان ایک قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے ہیں۔ ہم سب ایک ہی نبی حضرت محمد ﷺ کے پیروکار ہیں۔

    دوم ، ہماری عبادت صرف اور صرف اللہ سبحانہ وتعالی کے لئے ہے۔ ہمارا ایمان ایک ہی خدا پر ہے۔ ہم نماز پڑھتے ہیں ، روزہ رکھتے ہیں ، اپنا حج انجام دیتے ہیں اور صرف اور صرف اللہ کی وجہ سے ہی دوسرے طرح کے عبادات انجام دیتے ہیں۔

    آئیے سورہ آل انعام میں اللہ کے ارشادات پر غور کرتے ہیں۔ آیت 62:

    "کہو ، واقعی ، میری دعائیں ، میری قربانی کی رسوم ، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لئے ہے”

    سو ہماری نماز ادا کرنے کا طریقہ مختلف ہو سکتا ہے ، لیکن نماز کا مقصد ایک ہی ہے جو صرف اللہ کے لئے ہے۔

    آخر میں ، اسلام اچھے کردار اور عمدہ اقدار کے ذریعہ اتحاد پیدا کرتا ہے۔ تمام بنیادی اخلاقی اقدار اسلام ہی لایا ہے- جیسے جانوروں کا تحفظ ، دشمنی کا خاتمہ ، نسلی یا رنگین بنیادوں پر اختلافات کو ختم کرنا ، جھوٹ نہ بولنا ، اور دوسروں کے ساتھ ظالمانہ رویہ اختیار کرنا,جن کو عالمی سطح پر مانا جاتا ہے اور عمل بھی کیا جاتا ہے۔

    ہمارے درمیان کتنے ہی بڑے اختلافات ہوں ،مگر ہمیں یہ یاد رکھنی چاہئے کہ آخر ہم سب اللہ کی تخلیقات ہیں۔ ہم سب اپنے اپنے انداز میں خاص ہیں۔ مختلف نظریات کو متحد کرنا ممکن نہیں ہے۔

    لیکن ہم اپنے دلوں اور روح کو متحد کرسکتے ہیں۔ ہمارے دلوں کا تعلق اللہ سے ہے اور یہ اللہ کی مرضی سے مستحکم ہوسکتا ہے۔ یہ وہ اتحاد ہے جو اسلام میں موجود ہے۔ اسلام کی تعلیمات کی بنیاد ہی اتحاد و اتفاق ہے۔

    آئیے ہم آہنگی اور اتحاد کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنا شروع کریں۔ آئیے اختلافات اور تنازعات کو پس پشت رکھیں۔ اور اگر رائے میں اختلافات پیدا ہوں تو ان پر غور کریں اور نرمی ، محبت اور دوستی والے انداز میں صلاح دیں۔

    امید ہے اس طرح ہم محبت اور پیار پر ہر تعلق قائم کرسکتے ہیں۔ اس طرح سے ، ہم ایک امت مسلمہ کی حیثیت سے متحد ہوسکتے ہیں کیونکہ ہمارے پیارے نبیؐ نے ہمیں ایسے جینے کا حکم دیا ہے۔
    ہمارے پیارے نبیؐ نے کہا: "مسلمان انسان کے ایک جسم کی مانند ہوتے ہیں۔ اگر آنکھ میں درد ہے تو سارا جسم درد کرتا ہے ، اور اگر سر درد ہوتا ہے تو سارا جسم تکلیف دیتا ہے۔”

    @chem_786

  • جنّت کو جنّت کیوں کہتے ہیں   تحریر: محمد وقاص عمر

    جنّت کو جنّت کیوں کہتے ہیں تحریر: محمد وقاص عمر

    جنت ایک مقام ہے جس کو اللہ تعالی ٰ نے ایمان پر قائم رہنے والے لوگوں کے لیے بنایا۔رب لعالمین نے اس میں بے شمار رحمتیں رکھ دیں جس کھبی کسی آنکھ نے نہ دیکھا اور نہ کسی کان نے اس کے بارے میں آج تک سنا۔جو لوگ صراط مسقیم یعنی کے ایمان کی راہ پر چلے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک ٹھکانہ بنایا جس کو جنت کہتے ہیں۔اس عارضی دنیا کی کسی بھی چیز کا موازنہ ہم کسی بھی جنت کی چیز سے نہیں کر سکتے۔

    جنت ایک عربی کا لفظ ہے۔عربی میں جنت کا معنی گھنے باغ کے ہیں جس میں درختوں نے زمین کو چھپایا ہوا ہو۔مسلمانوں کو بروزِآخرت ملنے والے گھر کو جنّت کہتے ہیں جس کے مختلف پہلو ہیں۔

    1۔یہ دنیا کی نگاہوں سے چھپی ہوئی ہے۔
    2۔جنت میں باغات ہیں۔
    3۔عالم غیب میں ہے۔

    جنت ایک حقیقت ہے جس کا زکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں بار بار کیا ہے۔جنت کا منکر دائرہ اسلام سے خارج ہے۔اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کر دیا ہے۔یہ نہیں کہ جنت کو آخرت کے دن پیدا کیا جائے گا۔ (منح الروض الازہر، ص284 ماخوذاً)۔
    جنتیوں کو سب سے بڑی نعمت دیدارِ خداوندی حاصل ہوگی حدیثِ پاک میں ہے: اللہ کریم اپنا پرد اُٹھا دے گا اور انہیں کوئی چیز دیدارِ خداوندی سے زیادہ محبوب نہ دی گئی ہوگی۔ (ترمذی،ج4،ص248،حدیث:2561)اللہ پاک کے نزدیک عزت و اکرام والا وہ ہوگا جو صبح و شام زیارتِ خداوندی سے مشرف ہوگا۔(ترمذی،ج 4،ص249، حدیث:2562) ۔

    جنت کے سردار محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا جنت کی ایک اینٹ سونے کی اور ایک اینٹ چاندی کی۔اس کی مٹی میں خالص مشک شامل ہے۔اس کی مٹی زعفران ہے۔ایک بار جو جنت میں داخل ہو جائے گا وہ ہمشہ خوش رہے گا غم اس کے پاس سے بھی نہ گزرے گا۔ہمشہ رہے گا موت کو اس پر حرام کر دیا جائے گا۔ہمشہ جوان رہے گا بڑھاپے اس پر طاری نہ ہوگا۔(ترمذی،ج 4،ص236، حدیث: 2534)۔جنت کی چوڑائی ایسی ہے کہ ساتوں زمین اور ساتوں آسمان کو اگر باہم ملا دیا جائے تو جتنے وہ ہوں گے جنت کی چوڑائی اتنی ہے۔(تفسیر خزائن العرفان، پ 27، الحدید، تحت الآیۃ:21، ص 997 ملخصاً) ۔جنتی دروازوں میں سے دو دروازوں کا درمیانی فاصلہ چالیس سال کی راہ ہے۔(مسلم، ص1213، حدیث:7435)۔

    نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا نیند موت کی ایک قسم ہے لہذا جب جنت میں موت نہ ہو گی تو نیند بھی نہ ہو گی۔جنت میں عربی زبان بولی جائے گی۔جنت میں ریشم کا درخت ہو گا جس سے تمام جنتیوں کے لباس تیار کیے جائیں گے۔جب انسان کسی کھانے کی دل میں خواہش کرے گا اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ چیز انسان کے سامنے حاضر ہو جائے گی۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے ہم سب کو نیک کام کرنے اور ایمان پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرما ۔(آمین)۔
    witter Id :- @WaqasUmerPk

  • اسلام دین انسانیت  تحریر : زوہا علی

    اسلام دین انسانیت تحریر : زوہا علی

    انسان اسلام کا جتنے غور سے مطالعہ کرے تو یہ بات انسان پر واضح ہوتی ہے کہ اسلام صرف مسلمانوں کا ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کا دین ہے۔اگر ہم یوں کہ دیں تو غلط نہیں ہوگا کہ اسلام انسانیت کا مذہب ہے اور اسلام کے ہر حکم میں انسانیت کا ہی فائدہ ہے۔

    اسلام اور انسانیت لازم و ملزوم ہیں جہاں اسلام ہوگا وہاں انسانیت ہوگی اگر کوئی انسان مسلمان ہونے کے باوجود بھی انسانیت کے خلاف جا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلام میں خرابی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انسان اسلام کا مجرم ہے

    یوں تو اس کرہٗ ارض پر اللّہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ بے شمار مخلوقات ہیں اور اس زمین پر حاکم ومحکوم ہیں۔اگر انسانوں میں سے اخلاقیات کی بنیاد یعنی انسانیت کو نکال دیا جائے تو انسان کسی حیوان سے کم نہیں ہے۔

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو کہ زندگانی اور انسانیت کے تمام تر تقاضوں پر پورا اُترتا ہے۔ قرآن و حدیث میں اللّہ اور اسکے رسول ﷺ نے جو بھی احکامات اور ہدایات دی وہ محض انسانیت سکھاتے ہیں اور انسانوں سے اچھے تعلقات رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔

    کچھ عرصہ پہلے مجھے شوق ہوا کہ میں قرآن و حدیث کا مطالعه کروں جیسے جیسے میں پڑھتی گئی تو معلوم ہوتا گیا کہ بحیثیت سائنس کی طالبہ،جو چیز آج سائنس ثابت کر رہی ہے کہ اس چیز میں انسان کا نقصان ہے وہ اسلام ہمیں چودہ سو سال پہلے منع ہونے کا حکم دے کہ بتا چکا ہے۔دینِ اسلام میں ایسا کوئی حکم نہیں جس میں انسان کا نقصان ہو۔اسی طرح اسلام اپنے پیروکاروں کو بھی انسانیت کا ہی درس دیتاہے۔

    اسلام مىں کوئی بھی ایسی دلیل نہیں کی اسلام نے اپنے پیروکاروں کو دوسروں پر ظلم کرنے کا حکم دیا ہو،یا کسی مقام پر غیر انسانی فعل کرنے کا حکم دیا ہو۔حتیٰ کی اسلام انتقام لینے کا حکم بھی صرف اس وقت دیتا ہے جب ظلم حد سے بڑھ جائے۔بلکہ اسلام تو انتقام لینے کی بھی غیر محدود اجازت نہیں دیتا بلکہ یہ شرائط عائد کرتا ہے کہ انتقام ظلم کے مماثل ہو، اس سے متجاوز نا ہو۔

    ٓآج کل جن حقوق کو ہم نے عالمی انسانی حقوق تسلیم کیا ہے اس سے بہتر انداز میں ہمارے پاس وہ حقوق میثاقِ مدینہ، خطبہ حجۃ الوداع اور دیگر اسلامی تعلیمات میں ملتے ہیں۔ لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ سب سے پہلے ہم مسلمان ان تعلیمات کو نہیں پڑھتے اور اگر پڑھ بھی لیں تو عمل نہیں کرتے اور یوں ہم اپنی پسند کے راستے پر چل کر غلطی کرلیتے ہیں بووجہ یہ تمام اُمتِ مسلمہ پر انگلی اٹھانے کا موقع دوسرے مذاہب کو مل جاتا ہے اور نتیجتاً بے سکونی غالب آجاتی ہے۔

    اگر ہم مسلمان ہم خود اسلامی تعلیمات پر عمل شروع کریں اور اسلام کے امن پسند اور انسانیت دوست نظریے کو آگے بڑھائیں تو میرے نقطہء نظر سے یہ دنیا خوشحال ہوجائے گی۔

    Twitter handle: @ZoHaAli_15

  • سال گرہ مبارک چیتے . تحریر : ساجد عثمانی

    فاسٹ بولنگ کے حوالے سے اکثر یہ نوحہ پڑھا جاتا ہے کہ یہ فن رفتہ رفتہ ناپید ہو رہا ہے۔ تاہم اب بھی کچھ ایسے بندے موجود ہیں جو اس شان دار ہنر کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ایسا ہی ایک بھائی ٹرینٹ بولٹ عرف بولٹی ہے۔

    سنہ 1989 میں آج ہی کے دن پیدا ہونے والے ٹرینٹ بولٹ نے نیوزی لینڈ کے لیے پہلا انٹرنیشنل میچ 2011 میں کھیلا تو ٹم ساؤدی کو ایک عمدہ ساتھی نصیب ہوا۔ تب سے لے کر آج تک بولٹ نے کیویز کے لیے تینوں فارمیٹس میں عمدہ کارکردگیاں دکھائی ہیں۔ ٹرینٹ بولٹ آج نیوزی لینڈ پیس اٹیک کا سپیئرہیڈ مانا جاتا ہے۔ فارمیٹ کوئی بھی ہو، یو نیڈ آ وکٹ، یو گو ٹو ٹرینٹ بولٹ۔ بولٹ کی خاص بات بہت تیز رفتار سے گیند کرتے ہوئے گیند کو دونوں جانب گھمانا ہے، گو کہ اب آئے پی ایل کھیلنے کی وجہ سے بولٹ کی رفتار متاثر ہوئی جس کی وجہ سے اس بندے پر غصہ بھی ہے۔ ورلڈ کپ 2019 کا آخری اووراور پھر سپر اوور بولٹ اتنا عمدہ نہ کر سکا، جتنی ضرورت تھی، مگر اس کے باوجود بولٹ آج دنیا کے بہترین پیسرز میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ آج ٹرینٹ بولٹ 500 سے زائد بین الاقوامی وکٹیں لے چکا ہے۔ سب سے عمدہ بات یہ کہ ساؤدی کی طرح یہ بندہ بھی فیلڈر کمال کا ہے۔ آؤٹ فیلڈنگ میں اس کا کوئی جواب نہیں۔

    ایک اورعمدہ بات یہ ہے کہ اس بندے کی لائن کے اندر گیند کرنے کی صلاحیت بہت عمدہ ہے۔ اووردا وکٹ گیند کرتے ہوئے بہت کم دیکھا ہے کہ اس کی گیند لیگ سائیڈ سے باہر پچ ہوئی ہو۔ اس چیزکا اچھا مظاہرہ دیکھنا ہو تو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی پہلی اننگز میں پجارا کی وکٹ دیکھ لیں۔

    زیرِ نظرتصویر ورلڈ کپ 2019 کے سیمی فائنل کی ہے جہاں بولٹ کوہلی کو ایل بی ڈبلیو کر کے انڈیا کی امیدوں پر پانی پھرنے پر خوش ہے۔ یہ وکٹ بھی اس نے اسی انداز میں لی تھی جیسے پجارا کی لی۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ دونوں موقعوں پر امپائر النگ ورتھ تھے۔ یہ وہی صاحب ہیں جنہیں عمران خان نے 1992 کے ورلڈ کپ فائنل میں آؤٹ کر کے پاکستان کے لیے فتح سمیٹی تھی (معاف کیجیے گا، میں بلاوجہ ذرا ادھر ادھر نکل جاتا ہوں)۔

    @sajidusmani01

  • میرے دیس کی عیدیں بدل گئیں تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    میرے دیس کی عیدیں بدل گئیں تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    محترم قارئین عید کی مبارکباد کے ساتھ ماضی کے جھروکوں میں کھلکھلاتی بکرا عیدوں کے سفر کو چلتے ہیں.
    ذوالحج کے چاند کے ساتھ ہی بکرے کے گلے میں رنگ برنگ پٹے پہنا لینا
    اگر بکرے کا رنگ سفید ہے تو اس پہ مہندی لگانا.
    اسے صاف ستھرا کر کے گلیوں میں گھمانا اور دوستوں کے ساتھ اٹکیلیاں کرنا.
    پی ٹی وی پہ حج ٹیلی کاسٹ دیکھنے کے لیے چونکہ سکول سے چھٹی ہوا کرتی تھی تو
    مؤدب ہو کر
    لبیک الھم لبیک ان الحمدونعمت لک ولالملک لا شریک لک
    کی صدا دینا.
    سر شام کپڑے جوتے چوڑیاں پھیلا کر رکھ لینا اور مہندی لگوانا.
    صبح تیار ہونا ویسی طلب کرنا اور قربانی کے بکرے کو بار بار گلے لگانا اس کے ناز اٹھانا اور زارو قطار رونا.
    ایسے ہزاروں لمحے جو اب ہم سے کوسوں دور نکل گئے
    عیدوں پہ ناراضیاں ختم کرنے کے لیے عید سے ایک دن پہلے ایک دوسرے کے گھر منانے جانا
    کسی فوت شدہ کی پہلی عید پہ اہل خانہ سے اظہار غم و یکجہتی کے لیے لازمی جانا
    یہ رویات ٹکنالوجی چرا لے گئی
    اب ہم میلوں دور بیٹھے دوستوں ڈالرز اور فینز سے تو رابطے میں ہیں مگر پاس بیٹھے بڑے بوڑھوں سے بہت دور چلے گئے.
    معلوم نہیں کسی نے اپنے گھر کے تمام افراد کو عید مبارک کہا کہ نہیں.
    یہ تبدیلی نہیں تنزلی ہے اعلی اقدار سے اخلاقی پستی کی جانب
    اب ہماری عیدیں اداس ویران ہیں .اب ہم عید مناتے نہیں گزارتے ہیں.
    سو کر یا تکیے بھگو کر
    ہم بکرا عید سے دو دن پہلے لاتے ہیں کاٹتے کھاتے ہیں سٹیٹس لگاتے ہیں اور کھو جاتے ہیں اپنے ہی اندر کی دنیا میں.

    جہاں عید تہوار ہوا کرتا تھا اب خرافات کا لائسنس بن گئی

    نا جانے کب سے عید کے سارے لمحے اور ذائقے ہماری زندگی کی ہتھیلیوں سے ریت کی مانند پھسل رہے تھے معلوم تب ہوا جب عیدیں سو کر گزرنے لگیں

    آپکی عیدوں کا حال تو آپ جانیں
    میرے دیس کی تو عیدیں بدل گئیں
    بیتی ہوئی عیدوں کی یادیں باقی ہیں.

    @hsbuddy18

    Hspurwa198@gmail.com

  • ہمارا دین اسلام . تحریر: عامر سہیل

    ہمارا دین اسلام . تحریر: عامر سہیل

    ہمارے دین اسلام نے ہمیں بہت کچھ سکھایا اور اس کے ساتھ اسلام نے کچھ حدود لگائی ہیں جن کو ہم بالکل بھی عبور نہیں کر سکتے۔ اسلام ہمیں صحیح اور غلط کی تمیز سکھاتا ہے دورِ جاہلیت میں انسان کی اہمیت جانوروں سے بھی بدتر تھی۔ اس کے ساتھ ہم پر بہت سے فرض ہیں جو ہم نے ادا کرنے ہوتے ہیں۔ اور ان کے ساتھ سنتیں بھی ہوتی ہیں ان سنتوں میں سے ایک سنت یے سنتِ ابراہیمی جس میں جانور ذبح کرتے ہیں جو کہ حکم ہے کہ جو صاحبِ حیثیت ہو وہ لازمی قربانی کرے۔

    اس کے مطلق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے
    آپ نے فرمایا :
    (جس کے پاس استطاعت بھی ہو اور پھر بھی قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے)
    ابن ماجہ (3123)
    عید الاضحٰی پر لوگ قربانی کرتے ہیں اور گوشت کو غریب غربا، عزیزو اقارب میں تقسیم کرتے ہیں

    میں آج دیکھ رہا تھا سوشل میڈیا پر  کچھ لوگ جو اپنے آپ کو سول سوسائٹی یا لبرلز کا نام دیتے ہیں اس طرح کی مہم چلا رہے ہیں کہ جانوروں کے حقوق کا تحفظ نہیں ہو رہا  اور جانوروں کو ضرورت سے زیادہ ذبح کیا جاتا ہے یہی لبرلز میکڈونلڈ، کے-ایف-سی میں جا کر برگر، پیزا وغیرہ کھا رہے ہوتے ہیں تو تب بھی تو جانور ذبح کئیے جاتے ہیں۔ غرباءمسکین کی مالی امداد کے لئے اسلام میں تو معاشرتی توازن کے لیے زکوۃ ایک بنیادی جزو کے طور پر شامل ہے۔  اور قربانی وہی لوگ دیتے ہیں جو استطاعت رکھتے ہیں۔ لبرل کو جانوروں کے حقوق یاد آجاتے ہیں یہ سارا سال کہاں ہوتے ہیں؟ دنیا میں بہت سی جگہ پر انسانوں کو ضروریات زندگی میسر نہیں تب یہ کہاں ہوتے؟
      جموں کشمیر میں مہینوں کے حساب سے لوگ بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں تب ان کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلتا۔ اسرائیل میں نہتے فلسطینیوں پر ظلم ڈھایا جاتا تب کہاں ہوتے؟
    قربانی کا حکم اللہ پاک اور اُسے کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے جو ہم ادا کرتے رہے گے اگر کسی کو زیادہ تکلیف ہے چلا جائے اپنے آقاؤں کے پاس۔پاکستان ایک اسلامی ریاست رہے اور یہاں پر مسلمان آزادی سے اپنی عبادت کرنے کے لئے بنایا گیا ہے
    @iAmir29