انگلستان کا موسم اور پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی بارے پیش گوئی کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ یہ کب °360 ڈگری کی پِھرکی لے نہ تو اعداد وشمار اور تیکنیک کی باریکیوں میں پھنسے تجزیہ نگار بتا سکتے ہیں نہ جدید ٹیکنالوجی "Unpredictable team” کی اس گتھی کو سلجھا سکتی ہے۔ ہونی کو انہونی اور ناممکن کو ممکن بنانا کوئی ان سے سیکھے، غیر متوقع نتائج دینے میں ٹیم پاکستان بین الاقوامی کرکٹنگ سرکل میں ہمشیہ بریکنگ نیوز کی صورت مرکز نگاہ رہتی ہے۔
ورلڈ کپ سے قبل پہلے آسٹریلیا اور پھر انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ بین الاقوامی میچز کی لگا تار دو سیریز وائٹ واش ہو گئے۔ ورلڈ کپ وارم اپ میچ میں افغانستان کی بے نام (بے بی) ٹیم سے ہار گئے۔ اس مایوس کن کارکردگی پر شائقین کرکٹ پریشان تو تھے ہی، رہی سہی کسر ویسٹ انڈیز کے خلاف نکل گئی جب گرین شرٹس صرف 105 رنز پر ڈھیر ہو کر باآسانی سات وکٹوں سے شکست کھا گئے تو ورلڈ کپ میں کچھ اچھا کرنے کی سب امیدیں ٹوٹ گئیں۔ لیکن دنیا اس وقت حیرت زدہ رہ گئی جب ٹیم پاکستان نے 3 جون کو نوٹنگھم کے کرکٹ گراؤنڈ پر اس ورلڈ کپ کی "موسٹ فیورٹ” اور ورلڈ نمبر ون انگلینڈ کو گھر میں گھس کر مار دیا تو امیدوں کے چراغ ایک بار پھر روشن ہو گئے۔ 7 جون کو سری لنکا بمقابلہ پاکستان برسٹل کے کرکٹ گراؤنڈ میں جیت بارش کے نام درج ہوئی اور 16 جون کو ورلڈ کپ کے سب سے بڑے مقابلے میں ہندوستان سے بری ہار پر ہر کوئی اس ٹیم کو کوسنے لگا اور معاملات کھیل سے نکل کر کھلاڑیوں کی ذاتیات اور ان کے اہل خانہ پر گالم گلوچ تک پہنچ گئے۔ غصیلے شائقین کرکٹ کا کپتان سرفراز احمد اور چیف سلیکٹرز سابقہ لیجنڈ انضمام الحق خاص طور پر نشانہ بنے۔ اور جب اگلا میچ آسٹریلیا سے بھی ہارا تو شائقین کرکٹ کا غم و غصہ بجا تھا لیکن۔۔!
سوشل میڈیا سے ریگولر میڈیا تک عوام، ریٹائرڈ سابقہ پلیئرز، تجزیہ نگار، سیاست دان غرض ہر کوئی اپنے دل کی بھڑاس نہایت منفی انداز میں نکالنے لگے جو من حیث القوم ہمارے لیے واقعی قابل تشویش بات ہے۔ پوائنٹس ٹیبل پر پاکستان سے نیچے صرف افغانستان کی ٹیم تھی اور ٹیم پاکستان کا ورلڈ کپ میں سفر تمام ہونے کے تبصرے شروع ہو چکے تھے۔ جبکہ کچھ سر پِھرے اب بھی 92 کے ورلڈ کپ کے ساتھ مماثلت ڈھونڈ ڈھونڈ کر اعلان کناں تھے۔ ٹویٹر پر کسی دیش بھگت نے لکھا کہ میری والدہ بتاتی ہیں جب 92 میں پاکستان اپنا پانچواں میچ ہارا تھا تو اس دن ہم نے ٹینڈے پکائے ہوئے تھے اور آج 2019 میں بھی پانچویں میچ کی ہار اور ٹینڈے ہی پکے ہیں۔
اور پھر ابھی تک ہوا بھی کچھ یوں ہی ہے۔ شاہینوں نے اونچی پرواز لی اور 23 جون کو لندن کے تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ پر ساوتھ افریقہ کی ٹیم کو پھینٹا لگانے کے بعد 26 جون کو اب تک ورلڈ کپ میں ناقابل شکست نیوزی لینڈ کو بھی رگید ڈالا تو ایک بار پھر دنیا ورطہ حیرت تھی۔ لیکن ابھی عشق کے دو امتحان اور بھی ہیں افغانستان اور بنگلادیش کے خلاف باقی بچے دو میچز میں کامیابی حاصل کر کے ہی ٹیم پاکستان سیمی فائنل میں جگہ بنا سکتی ہے۔ جہاں بالخصوص بنگلادیش کے خلاف پوری طاقت لگانی ہو گی وہ ٹیم 2015ء ورلڈ کپ کے بعد سے شاندار کرکٹ کھیل رہی ہے۔ اور ٹیم پاکستان کو گزشتہ چار میچز میں لگا تار شکست کا مزہ بھی چکھا چکی ہے جہاں سال 2015ء میں اظہر علی کی کپتانی میں دورہ بنگلادیش پر تین ایک روزہ مقابلوں کی سیریز میں وائٹ واش کی خفت کا سامنا کرنا پڑا اور گزشتہ برس متحدہ عرب امارات میں ہونے والے ایشیاء کپ مقابلوں میں سرفراز احمد کی کپتانی میں شکست بھی شامل ہے۔ اس ورلڈ کپ میں بھی پوائنٹس ٹیبل پر ٹیم پاکستان کے برابر جبکہ نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر وہ ہم سے بہتر پوزیشن میں ہے۔ لیکن یہاں بھی اگر مگر کی صورتحال کا خطرہ بہرحال موجود ہے۔ انگلینڈ کو اپنے آئندہ دو میچز (بمقابلہ ہندوستان و بمقابلہ نیوزی لینڈ) میں سے کم از کم ایک میچ ہارنا بھی ہو گا۔ جو کہ پاکستان سے پِٹنے کے بعد سری لنکا اور آسٹریلیا سے بھی شکست کھا کر شدید مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔
کون کہاں کھڑا ہو گا یہ تو اگلے ہفتے ہی پتہ چلے گا البتہ دنیا اس بات کی قائل ہے کہ پاکستان کو جب بھی "Underestimate” کیا گیا تو ہمیشہ ٹیم پاکستان نے "Strike” کرتے ہوئے مخالف کو "Surprise” دیا ہے اور یہ رِیت کھیل کے علاوہ باقی شعبہ ہائے زندگی میں بھی شامل ہے۔
1992ء کا ورلڈ کپ ہو یا 2017ء کی چیمپیئن ٹرافی ٹیم پاکستان ہمیشہ ایسے سرپرائز دینے کے لیے مشہور ہے۔ کیا اس بار بھی ایسا ہونے والا ہے۔۔۔۔ یا سرفراز دھوکہ دے گا۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ چند روز تک سب سامنے آ جائے گا لیکن ایک بات تو طے ہے "تم جیتو یا ہارو سنو ہمیں تم سے پیار ہے” کے نغمے گاتے شائقین کرکٹ کو اس ٹیم سے بے لوث محبت ہے۔
Category: بلاگ

کیا ٹیم پاکستان ایک اور سرپرائز دے پائے گی ؟؟؟ اسد عباس خان

بوم بوم کے بعد ایک اور آفریدی کی دھوم ۔۔۔ سلمان آفریدی ۔۔۔
ساؤتھ افریقہ اور نیوزی لینڈ کو شکست دینے کے بعد پاکستان کی کرکٹ ٹیم ایک بار پھر دنیا میں ہونے والے چرچوں کا موضوع بن چکی ہے۔ پاکستان بلاشبہ دنیا کو ہر طرح سے سرپرائز دینے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اس کی 360 درجے کی Unpredictibility کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا , ہارنے پر آئیں تو برادرانہ خیر سگالی کے جذبے کے تحت آئ سی سی رینک بورڈ پر پڑی دسویں نمبر کی افغان ٹیم سے ہار جائیں اور اگر دھول چٹانے کا ارادہ کر لیں تو نمبر ون کو بھی اڑا کے رکھ دیں۔پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اس کم بیک کی تعریف دوست دشمن ہر ایک کی زبان پر ہے۔ اپنے اتحاد اچھی پلاننگ اور کھلاڑیوں پر اعتماد کے نتیجے میں پاکستان نے ایک ایسی ٹیم کو شکست سے دوچار کیا جو اس ورلڈ کپ میں ایک بھی میچ نہیں ہاری تھی ۔ آئ سی سی سکور بورڈ پر پوائنٹ سکورنگ کا یہ سفر بطور ٹیم ایک ساتھ پرفارم کرنے سے ہی ممکن ہوا۔ حارث سہیل اور اور
بابر اعظم کی پائیدار بیٹنگ اور محمد عامر اور شاہین شاہ آفریدی کی جنہیں شہنشاہ آفریدی کہا جا رہا ہے کی خوبصورت باؤلنگ نے اس میچ کو یادگار بناتے ہوے ٹیم کی کارکردگی کو چار چاند لگا دیے۔ یہ میچ ایک Must Win میچ تھا جس میں ہار یا جیت پاکستان کرکٹ ٹیم کے ورلڈ کپ سے باہر ہونے یا اس دوڑ کاحصہ بنے رہنے کا فیصلہ کرتی۔ اس میچ نے جہاں ٹیم سلیکشن اور اس کے طریقہ کار کو بہتر کرنے کی ضرورت کو نمایاں کیا وہیں ٹیم کی جانب سے پاکستان کو جتانے کے لیے پیش کیاجانیوالا جذبہ بھی قابل قدر قرار پایا۔اگر بیٹنگ لائن کی بات کریں تو پاکستان کی جانب سے بابر اعظم نے پریشر کے باوجود شاندار سینچری مکمل کی اور مشکل پچ پر جہاں بال ڈیڑھ ڈیڑھ گز تک سپن ہو رہی تھی نہایت عقلمندی سے پریشر پوائنٹس کھیلے۔ ایسی مشکل پچ پر حارث سہیل کی بابر اعظم کے ساتھ شاندار پارٹنرشپ اور Run Chase نے پاکستان کو جتانے میں اہم کردار ادا کیا۔ شاندار بیٹنگ کے ساتھ ساتھ جاندار باؤلنگ نے اس وکٹری کے اس سفر کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 19 سالہ شاہین شاہ آفریدی کی جانب سے سات لگاتار اوورز جن میں انہوں نے نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کو باندھ کر رکھا اور تین وکٹیں حاصل کیں کمال کے تھے۔فریدی کی جانب سے Maiden Overs , نیوزی لینڈ کے ٹاپ آرڈر کو دھبڑدوس کرنا , بہترین باؤلنگ ٹیکنیکس کا استعمال اور ہارڈ لیگ پر بے مثال باؤلنگ کا مظاہرہ اس ورلڈ کپ کے بہترین باؤلنگ سپیلز میں شمار کیا جا رہا ہے ۔
اس بہترین کارکردگی سے جہاں کھلاڑیوں کے اپنے وقار اور اعتماد میں اضافہ ہوا ہے وہیں پاکستان کرکٹ ٹیم اجتماعی طورپر بھی مزید پر اعتماد ہوئی ہے۔ بابر اور حارث کی بیٹنگ کے ساتھ ساتھ آفریدی صاحب کی باؤلنگ نے گیم پر قوم کے اعتماد میں بھی اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے ایسے وقت میں جب ٹیم نے ان پر اعتماد کیا اس اعتماد پر پورا اتر کر دکھایا۔ اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر محو گردش ایک خوبصورت اور محظوظ کرنے والا جملہ جو اس بلاگ کے لکھنے کا باعث بھی بنا نظر سے گزرا جو کچھ یوں تھا کہ
"نیوزی لینڈ والے تیاری عامر کی کر کے آئے تھے پیپر میں آفریدی آ گیا ”
اس جملے کو پڑھنے کے بعد چہروں پر ابھرنے والی دلکش مسکراہٹوں کو ہمارا سلام ۔۔۔

عورت، اسلام کے سایہ عافیت میں ۔۔۔ محمد طاہر
ظہور اسلام سے قبل مختلف معاشروں اور اقوام کی تاریخ ہمارے سامنے ہے جہاں انسانی اقدار کی پامالی عام سی بات بن کر رہ گئی تهی خاص طور پر عورت کو تو انتہائی مظلومیت اور بے بسی کی تصویر بنا دیا گیا تها۔ بیٹی کے وجود کو تضحیک کا نشان سمجها جاتا تها۔ عورت کی ذات ذلت، حقارت اور تجارت تینوں منڈیوں کے لیے فراواں تهی۔ وہ تباہی وبربادی کا باعث اور نحوست کی علامت قرار دی جا چکی تهی۔
دنیا میں کوئی ایسانہ تها جو عورت کے حق میں آواز بلند کرتا اور نہ کوئی ایسی قوم تهی جو عورت کی حمایت میں آواز اٹھاتی، بلکہ ان معاشروں کا تو عالم یہ تهاکہ قبائل کے روح رواں اور مصلحین کے ساتھ ساتھ اقوام خود بهی عورت کی اہانت و تضحیک پر کمر بستہ نظر آتے تهے۔
کسی کے ہاں لڑکی کی پیدائش ہوجاتی تو اس لڑکی کا والد اس کو اپنے ساتھ لے جا کر اپنے ہاتهوں سے گڑھا کھود کر اپنی بچی کو اس میں زندہ دفن کر دیتا لیکن یہ صرف ماضی کی بات نہیں آج بھی بعض گھرانے ایسے ہیں جہاں دورِ جہالت کی طرح اب بهی ایک معصوم جان کا قتل کردیا جاتا ہے یا اس کو کچرا دان یا دریا میں پھینک دیا جاتا ہے۔
اسلام ہمیں صرف مرد ہی نہیں بلکہ عورت کے بارے میں بهی بتاتا ہے۔ مر کی طرح عورت کے لیے بھی حقوق کا تعین کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی نے ایک عالمگیر ضابطہ حیات واخلاق اور دین رحمت کو نازل کیا جس کی تعلیمات کا محور صرف مرد کی ذات نہ تھی بلکہ عورت بهی اسی طرح قابل التفات تهی جس طرح مرد تھا۔ اس احترام نے عورت کو قعر ذلت سے نکال کر عزت و احترام کے بلند مقام پر فائز کیا اس نے مغرب کی طرح عورت کو آزادی دے کر نہ اسے شتر بے مہار چھوڑا، نہ دیگر معاشروں کی طرح اس پر پابندیوں اور سختیوں کے قفل لگائے ہیں، بلکہ اعتدال اور میانہ روی میں رہتے ہوئےاس کے دائرہ کار کی وضاحت کی ہے۔
نبی رحمت جناب محمد ﷺ نے عورت کی مختلف پہلوؤں سے عزت و حیثیت کو اجاگر کیا۔ وہ ماں ہے تو اس کے حقوق کو باپ کی نسبت تین گنا بڑها کر بیان کیا۔ ماں کی خدمت گزاری اور اطاعت کے عوض جنت کا مژدہ سنایا۔ بیٹی کی پیدائش کو باعث رحمت قرار دیا، بلکہ جو شخص اسلامی تعلیمات کے مطابق بیٹی کی پرورش اور تربیت کرے اس کو قیامت کے دن اپنی معیت اور جنت میں داخلے کی بشارت دی۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے دو لڑکیوں کی ان کے بالغ ہونے تک پرورش کی ، قیامت کے دن وہ اور میں اس طرح آئیں گے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ملایا ۔ (صحیح المسلم 6695)
میاں اور بیوی کو ایک دوسرے کا لباس کہا اور ان دونوں کے تعلق میں پیار و محبت اور الفت و مودت کو خاص اہمیت دی۔بیوی اپنے شوہر کی محکوم اور غلام نہیں بلکہ رفیق حیات ہے اور خانگی زندگی کو باہم مشورے اور اتفاق رائے سے چلانے کی تائید کی۔ تاریخ اسلام اس بات کی شاہد ہے کہ قرونِ اولٰی کی نامور اور بلند کردار مسلمان جواتین نے صالح معاشرے کی تشکیل اور معاشرتی اقدار کے فروغ کے لیے قابل ذکر خدمات سرانجام دی ہیں۔ سیدہ خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا تربیت اولاد کے لیے اور حالات سے مایوس اور بھٹکی ہوئی خواتین کے لئے روشنی کا مینار ہیں۔ سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کا کسمپرسی
اور فقرو فاقہ کے ایام میں اولاد کی پرورش اور کردار سازی کرنا ایک بہترین نمونہ ہیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا احکام و مسائل اور دینی و علمی راہنمائی کے لیے ایک دانش گاہ اور مرکز علم و عرفان کی حیثیت رکهتی ہیں۔ ام الشہداءسیدہ خنسا رضی اللہ عنہا کی کوکھ سے جنم لینے والے نامور اور دلاور بیٹوں نے شجاعت و بسالت کی زریں داستان رقم کی ہے۔ سیدہ خولہ ازور رضی اللہ عنہا میدان کارزار میں سر پر عمامہ باندھے بہادری کے جوہر دکها کر مردانِ کارزار کو شرمندہ کر دیتی ہیں۔
تاریخ اسلام ایسے سنہرے واقعات اور زریں داستانوں سے بھری پڑی ہے جو قیامت تک آنے والی خواتین کے لیے نشان راہ بن کر قوموں کے عروج اور تعمیر و ترقی کے لیے سمت اور راستے کا تعین کرتی ہیں۔۔۔۔۔
آج کے اس دور میں ہماری ماؤں بہنوں کو چاہیے وہ دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات اور سیرت صحابیات اور ان کی سیرت کا مطالعہ کریں اور اس پر عمل کریں نہ کہ مغرب کی اندھی تہذیب کی طرف جائیں۔
بقول اقبال
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانشِ فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف
بھارتی باکسر حادثہ میں زخمی، اب مقابلہ آسٹریلوی باکسر سے ہو گا، عامر خان کا باغی نمائندہ لندن کو انٹرویو میں انکشاف
بھارتی باکسر نیراج گویت جن کا 12 جولائی کو سعودی عرب میں پاکستانی نژاد برطانوی باکسرسے مقابلہ تھا، کل رات ایک حادثے میں زخمی ہو گئے ہیں.
باغی ٹی وی لندن کے نمائندے مجتبی شاہ کو دیے گئے اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں عالمی شہرت یافتہ پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے بتایا کہ نیراج گویت سے ان کا مقابلہ سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہونا تھا تاہم وہ کل رات ایک حادثہ میں زخمی ہو گئے ہیں جس پر ان کا مقابلہ اب اسی دن ایک آسٹریلوی باکسر سے ہو گا جو دومرتبہ چیمپئین رہ چکے ہیں.
Breaking : Neeraj Goyat got injured before fight in Jeddah, @amirkingkhan in an exclusive talk with bureau chief @BaaghiTV London Mujtaba Ali Shah pic.twitter.com/5Epl712QHE
— Baaghi TV باغی ٹی وی (@BaaghiTV) June 26, 2019
باکسر خان کا کہنا تھا کہ میں چاہتا تھا کہ ورلڈ کپ میں میرا انڈیا سے مقابلہ ہو اور میں بھارتی باکسر کو ہرا کر ورلڈ کپ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی بھارت کے ہاتھوں شکست کا بدلہ لے سکوں تاہم افسوس کہ یہ نہیں ہو سکا.
واضح رہے کہ پاکستانی نژاد برطانوی باکسر انڈین باکسر سے مقابلہ کیلئے بہت پرعزم تھے اور وہ اس سلسلہ میں بھرپور تیاری کر رہے تھے. انہوں نے جدہ میں کنگ عبداللہ اسپورٹس سٹی میں اس مقابلہ کی اجازت دینے پر سعودی ولی عہد کا بھی شکریہ ادا کای تھا اور وزیر اعظم عمران خان کو بھی دعوت دی تھی کہ وہ سعودی عرب آکر ان کا مقابلہ دیکھیں.
عامر خان اپنے پروفیشنل کیریئر کی38فائٹس میں عامر خان دو مرتبہ ورلڈ چمپیئن بننے میں کامیاب رہے اور اس دوران انہوں نے مارکوس میڈانا، ڈینی گارشیا، زاب جوڈھا، ساؤل الوریز جیسے باکسرز کا سامنا کیا ہے.

پاکستان فلم انڈسٹری لالی وڈ .. محمد فہد شیروانی
پاکستان کی فلم انڈسٹری "لالی ووڈ” کا آغاز 1948 میں ڈائریکٹر داؤد چاند کی فلم "تیری یاد” سے ہوا۔ 1947 سے لے کر 2007 تک لاہور پاکستان کی فلم انڈسٹری کا گڑھ رہا ہے۔ ستر کی دہائی میں پاکستان فلم انڈسٹری دنیا کی چوتھی بڑی فلم انڈسٹری تھی۔ دنیا کی تاریخ میں سب سے ذیادہ فلمز میں ایکٹنگ کرنے کا ریکارڈ بھی پاکستانی اداکار سلطان راہی مرحوم کے پاس ہے جنہوں نے لگ بھگ 803 پنجابی اور اردو فلمز میں کام کیا۔ اسی بناء پر سلطان راہی مرحوم کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا گیا۔
پاکستانی فلم انڈسٹری نے اب تک تقریباً 10 ہزار اردو فلمز، 8 ہزار پنجابی فلمز، 6 ہزار پشتو فلمز اور 2 ہزار سندھی فلمز پروڈیوس کی ہیں۔ مزید علاقائی زبانوں میں بنائی گئی فلمز ان کے علاوہ ہیں۔ اگر اوسطا دیکھا جائے تو 72 سال میں پاکستان نے تقریباً ہر روز ایک نئی فلم کو جنم دیا۔
پاکستانی فلم انڈسٹری نے پاکستان کے مثبت اور ثقافتی تشخص کو ابھارنے میں ہمیشہ ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستانی فلمز نے نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں فلم بینوں کی توجہ حاصل کی۔ پاکستانی فلمز کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہیں مختلف ممالک میں ان کی علاقائی زبان میں "ڈبنگ” کرکے دکھایا جاتا رہاہے۔ چین میں پاکستانی اداکاروں کے مجسمے بھی بنا کر شہروں میں نصب کئے گئے جو کہ پاکستانی فلمز کی عالمی مقبولیت کا ایک واضح ثبوت ہے۔
بدقسمتی سے 80 کی دہائی سے لے کر 2013 تک پاکستانی فلم انڈسٹری بیرونی سازشوں اور اپنوں کی بے توجہی کا شکار ہو کر شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی اور ہوتے ہوتے تقریباً ختم ہی ہوگئی تھی۔ پھر اداکار و فلمساز ہمایوں سعید پاکستان فلم انڈسٹری کے لئے ہوا کا جھونکا ثابت ہوئے اور انہوں 2013 میں بطور فلمساز اپنی پہلی فلم ” میں ہوں شاہد آفریدی ” پروڈیوس کی جو پاکستانی فلم انڈسٹری پر طاری جمود توڑنے میں کامیاب ہوئی۔ اس کے بعد پاکستان میں فلمز بنانے کا سلسلہ چل نکلا جس نے نہ صرف نئے اداکار، ڈائریکٹر، کیمرہ مین، تیکنیک کار اور رائٹر پیدا کئے بلکہ نئے فلمسازوں کو بھی فلمز بنانے کا حوصلہ دیا۔
اس وقت پاکستان کے نمایاں فلمسازوں میں ہمایوں سعید، سلمان اقبال، جرجیس سیجا، شہزاد نصیب، حسن ضیاء، یاسر نواز، فضا علی مرزا، جاوید شیخ، سید نور، علی ظفر، مہرین جبار، سلطانہ صدیقی، میمونہ درید، خالد علی اور شمعون عباسی کے نام قابل ذکر ہیں۔ پاکستان کی سب بڑی سینما کمپنی "Cinepax” کے ترجمان حسیب سید کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریباً 30 پرانی(35MM) اور 120 ڈیجیٹل سینما سکرینز موجود ہیں جبکہ 28 نئی سینما سکرینز کا اضافہ رواں سال کے آخر تک ہو نے کا امکان ہے۔ جیو فلمز، اے آر وائی فلمز، ہم فلمز، اردو1 فلمز، ایور ریڈی فلمز، ڈسٹری بیوشن کلب، HKC انٹرٹینمنٹ، فٹ پرنٹ انٹرٹینمنٹ اور آئی ایم جی سی کا شمار پاکستان کے بڑے فلم ڈسٹری بیوٹر ز میں ہوتا ہے۔
پاکستان کی بڑی سینما کمپنیوں کے مالکان نے فلمی صنعت کی بحالی کے لئے "ایکسیلینسی فلمز” کے نام سے ایک فنڈ کا اجرء کیا۔ "ایکسیلینسی فلمز” اپنے تیار کردہ فارمولے کے تحت پاکستان کے فلم سازوں کو فلم بنانے کے لئے پیسہ فراہم کرتی ہے تاکہ پاکستان کی فلم انڈسٹری ترقی کے منازل باآسانی طے کرسکے۔ "ایکسیلینسی فلمز” اب تک پاکستان کے کئی فلمسازوں کو فلم بنانے کے لئے فنڈز فراہم کر چکی ہے جو کہ ایک خوش آئند اور سراہا جانے والا عمل ہے۔
حکومتی سطح پر ہر دور میں فلم انڈسٹری کی بحالی کے اقدامات کرنے کی بات کی جاتی رہی ہے لیکن ہر دور حکومت میں یہ بات صرف اور صرف کھوکھلے دعوے ثابت ہوئی جبکہ عملی طور پر فلمی صنعت کی بحالی کے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ حکومتی سرپرستی اور سپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان فلم انڈسٹری زبوں حالی اور بد حالی کا شکار ہے۔ اگر حکومت اس صنعت کی طرف خصوصی توجہ دے تو نہ صرف یہ انڈسٹری اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکتی ہے بلکہ ملک کے سافٹ امیج کو بحال کرنے میں اپنا نمایاں کردار ادا کرسکتی ہے۔ دنیا بھر میں فلم انڈسٹری زرمبادلہ کمانے کا اہم زریعہ سمجھی جاتی ہے ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی فلم انڈسٹری اس وقت ریونیو کمانے میں بھارت کی سب سے بڑی صنعت میں شمار کی جاتی ہے۔ پاکستانی گورنمنٹ کی توجہ اور مناسب حکمت عملی کے باعث پاکستان کی فلم انڈسٹری ملک کی ترقی کی راہ میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ حکام بالا سے استدعا ہے کہ وہ گرتی ہوئی فلم انڈسٹری کو سہارا دیں اور اس سے وابستہ ہزاروں لوگوں کے روزگار کا سبب بنیں۔


لوگ صحافت کیوں چھوڑنا چاہتے ہیں … ناصر بیگ چغتائی
ہم جب پرنٹ میں تھے تو ہم پر ہر قسم کی مافیا کا دباو تھا ۔دباو بھی ایسا کہ رات کو تعاقب کیا جاتا تھا ۔گھر پر فون کر کے کہا جاتا تھا کہ آج تو آجائے گا لیکن باز نا آیا تو پھر واپس نہیں آئے گا ۔ کبھی فون امی اٹھا لیتیں تو ہماری جان پر بن جاتی بھی کہ وہ دل کی مریض تھیں ۔۔۔کئی بار پوچھا یہ کون لوگ ہیں ۔۔۔ہم ان کے نام بتاتے تو ہنس پڑتیں
ایک دن میرے دوست مسرور احسن کا پیپلز پارٹی سے اور دوسرے دوست آفاق احمد کا ایم کیو ایم سے فون آیا 1۔ شارع فیصل سے مت جانا 2 ۔ یونیورسٹی روڈ سے مت جانا ۔۔۔۔پوچھا پھر کون سا راستہ اختیار کریں ہم لوگ ۔۔۔۔دونوں ہنس پڑے ۔۔۔۔ہم چپ رہے لیکن رات 3 بجے شارع فیصل سے ہی گئے
اس زمانے میں ذہنی دباو بہت تھا اور یہ مالکان اور اسٹاف دونوں پر تھا ۔ دن بھر دھمکیاں اور خوف کے سائے لیکن موت کا خوف ہونے کے باوجود کسی کا ہارٹ اٹیک ہوا نا برین ہیمرج ۔ یہ دباو ہر جماعت کا تھا حتی کہ جماعت اسلامی بھی گھیراو کا شوق پورا کر لیتی تھی ۔۔۔۔۔لیکن یہ کیسا دباو ہے کہ یکے بعد دیگرے بے روزگار ہی نہیں با روزگار بھی دل کے دورے سے یا برین ہیمرج سے مر رہے ہیں ۔ چالیس سے 50 سال کا تجربہ رکھنے والے نکالے جارہے ہیں اور پندرہ بیس سال محنت کرنے والے دل کے دورے سے مر رہے ہیں ۔
پہلے دور میں جب سیاسی دباو تھا کارکنوں کو تنخواہ بر وقت ملتی تھی ۔۔۔سات آٹھ بونس مل جاتے تھے اور سروس اسٹرکچر تھا ۔۔۔پراویڈنٹ فنڈ ایک بڑا سہارا تھا ۔۔۔۔۔
اب ایسا کیا ہے کہ میڈیا سے اموات کی خبریں مسلسل آرہی ہیں ۔ بہت سی ہم تک نہیں پہنچیں ۔ لیکن لوگ مر رہے ہیں ۔ وجہ ؟؟؟؟؟
1۔ 5 پانچ مہینے کی تنخواہ نہیں ملنا
2 ۔ ملازمت کی سیکیورٹی نا ہونا
3۔ ملازمت چھوڑنے یا ختم ہونے کی صورت میں خالی ہاتھ گھر جانا
4 ۔ کنٹریکٹ پر ملازمتیں
5 ۔ میڈیکل کی ناکافی سہولت
6 ۔ لائف انشورنس کا نا ہونا ۔
کامران فاروقی اس راہ مرگ کا نیا راہی ہے ۔ اپنے چھوٹے بچوں اور بیوہ کو سال گرہ والے دن چھوڑ گیا ۔ صدمہ سب کو ہوا بہت سے روئے ۔ بیوہ حنا سے بھی خواتین جا کر ملیں جو خود صحافی تھی اور جس نے گھر کی خاطر ملازمت چھوڑ دی تھی ۔
دوست بتا رہے ہیں کہ کامران یہ ” کم بخت پیشہ ” چھوڑنے والا تھا جس نے اس کو میڈیکل ٹیسٹ کرانے کی بھی مہلت اور وسائل نہیں دئیے ۔ وہ ھی ہر ایک کی طرح دوسروں سے پوچھتا تھا کہ تنخواہ کب آئے گی ۔۔۔۔وعدے یقین دہانیاں سب بے سود رہیں ۔ کامران نے دوسری نوکری کی تلاش شروع بھی کردی ۔ بقول بن غازی ۔۔۔وہ کچھ سرٹیفیکٹ بھی تیار کروا رہا تھا ۔۔
یہ کامران کی کہانی نہیں ۔۔۔درجنوں صحافیوں کیمرہ مین اور ٹیکنیکل کی کہانی ہے جو اس ” گلیمرس کیرئر ” سے نجات حاصل کر کے دوسری نوکری کی تلاش کررہے ہیں
یہ ہے سوچنے کی بات ۔ اگر تربیت یافتہ صحافی چلے گئے اور یا نکال دیئے گئے تو صحافت کی ننگی نہائے گی کیا نچوڑی گی کیا؟
Nasir Baig Chughtai
بھانڈے قلعی کرا لو! … غریدہ فاروقی
بھانڈے قلعی کرالو۔۔۔
پرانے نوے بنا لو۔۔۔
آگیا ہاں شیدا قلعی گر۔۔۔
1977 میں ریلیز ہونے والی رنگین ہٹ فلم ’سسرال‘ کا یہ مشہور گانا مہدی حسن نے گایا، جس کے بول لکھے تھے ریاض الرحمان ساغر نے اور موسیقی ترتیب دی تھی ایم اشرف نے۔ گانا مشہور فلم سٹار شاہد پر فلمایا گیا۔ فلم نے کھڑکی توڑ بزنس کیا اور یہ گانا ہر چھوٹے بڑے کی زبان پر تھا۔
لیکن ’بھانڈے قلعی کرا لو‘ کی آواز گلی محلوں کے لیے نئی نہیں تھی۔ پاکستان کا شاہد ہی کوئی شہر، محلہ، گلی یا گھر اس صدا سے ناواقف ہو۔ چھوٹی سی قلعی گری کی مشین اور چند اوزاروں کے ساتھ کوئی نہ کوئی شیدا قلعی گر کسی نہ کسی روز، کہیں نہ کہیں آواز لگاتا تھا ’بھانڈے قلعی کرالو‘ اور گھروں کے کونوں کھدروں میں ڈھکے چھپے، کالے سیاہ، ڈینٹ پڑے، پیتل، تانبے اور لوہے کے ناکارہ برتن آناً فاناً گلی میں جمع ہو جاتے تھے۔
شیدا قلعی گر چمتکار دکھاتا اور پل بھر میں چند پیسوں کے عوض یہی برتن چمکتے دمکتے، نوے نکور اور کارگر بن کر گھروں میں سج جاتے۔
ایک مہینہ، دس دن ہوئے خان حکومت نے بھی صدا لگائی ’بھانڈے قلعی کرالو‘۔۔۔ ’سیاہ کاری‘ کے ذریعے کمائے اور بنائے کالے سیاہ اثاثوں کو چمکتا دمکتا، نَوا نکور اور کارگر بنوانے کی آ فر میں تحریکِ انصاف کی حکومت نے اپنے ماضی کے وعدوں اور دعووں کے منہ پر لگی کالک تو جیسے تیسے برداشت کرلی لیکن اصل مسئلہ تو اب آن کھڑا ہوا ہے!
بار بار کی صدا گیری پر بھی کوئی کان نہیں دھر رہا! کوئی اپنے گھروں کے کونوں کھدروں میں چھپائے گئے کالے سیاہ برتنوں کی قلعی نہیں کروا رہا۔
صدا لگانے والوں کا گلا دُکھ رہا ہے لیکن گھروں میں دبکے بیٹھے لوگوں کے کانوں پر گہرا پردہ پڑا ہے۔ صدا سُنی اَن سنی کردی ہے۔ اِکّا دُکّا نے آواز پر کان دھرا تو ہے لیکن فکرمند بھی ہیں کہ برتنوں کی قلعی نہ جانے کب تک چلے گی؟
کیا وجہ ہے؟ آخر شیدے قلعی گر کی آواز کوئی سنتا کیوں نہیں؟ بار بار کی صدا لوگ ٹھکرا کیوں رہے ہیں؟ شیدے قلعی گر کا تو دل صاف ہے، نیت صاف ہے، لوگوں کے گھروں کی صفائی چاہتا ہے، اپنے گھر کی کمائی چاہتا ہے، دام بھی زیادہ نہیں مانگتا۔ پھر آخر وجہ کیا ہے؟
کیا لوگوں کو کالے برتنوں میں کھانے کی عادت پڑ گئی ہے؟ یا کسی نے دیکھ لیا ہے کہ شیدے قلعی گر کے اپنے گھر میں کئی برتن کالے پڑے ہیں! کوئی چمچہ، کوئی کڑچھا، کوئی گڑوا، کوئی لوٹا۔ شیدے قلعی گر کے اپنے گھر میں، اپنے کچن میں کئی برتنوں کی قلعی ہونا باقی ہے۔ کیا شیدا قلعی گر کالے سیاہ برتنوں کی ٹھوک ٹھاک کا آغاز اپنے گھر سے کرے گا؟
لیکن آخر شیدا قلعی گر کرے بھی تو کیا کرے؟ پاکستان میں یہی تو چلتا ہے، یوں ہی تو چلتا ہے۔
کوئی بھی شعبہ اٹھا کر دیکھ لیں۔ کئی پیتل، تانبے، لوہے کے برتن ملیں گے۔ کچھ خالی، کچھ بھرے ہوئے۔ کئی چمکتے دمکتے، نوے نکور جن کی حال ہی میں قلعی ہوئی ہوگی۔ کچھ پر ابھی تک سیاہی جمی ہوگی۔ پاکستان کی سیاست ہو یا معیشت، کام انہی برتنوں سے نکلوایا جاتا ہے۔
عمران خان بھی ان برتنوں سے پیچھا نہ چھڑوا سکے۔ کئی چمچے،کئی کڑچھے، کئی گڑوے، کئی لوٹے ان کے اردگرد اکھٹے ہو گئے۔ دعویٰ تو کیا تھا خان صاحب نے ’نیا پاکستان‘ بنانے کا، لیکن فی الحال پرانے، ناکارہ، کالے برتنوں کو ہی قلعی کرا کے، نوا نکور بنا کے کام چلا لیا گیا۔
سیاست کا ’نیا پاکستان‘ تو گزشتہ سال 25 جولائی کو ڈاؤن لوڈ کرلیا گیا تھا لیکن معاشی طور پر ’نیا پاکستان‘ تقربیاً ایک سال ہونے کو ہے، ابھی تک نہ بن سکا۔ جب کچھ کارگر نہ ہوا تو پرانے اور منجھے ہوئے قلعی گرنے پرانا گُر ہی آزمایا۔
پرانے برتنوں کو قلعی کرا کے نیا رنگ روپ تو دلوا دیا لیکن برتن چونکہ بے پیندے ہیں، سو فی الحال تو لڑھک رہے ہیں اور ساتھ ہی معیشت کو بھی لڑھکا رہے ہیں۔
شیدے قلعی گر کو اب کچھ اور کرنا ہو گا۔ کچھ اور سوچنا ہوگا۔ گھروں کی صفائی کرنی ہے اور اپنی کمائی کرنی ہے تو نئے اوزار اپنانے ہوں گے! اپنے ساتھ کے دیگر ماہر کاریگروں کے ساتھ بیٹھنا ہو گا یا انہیں اپنے ساتھ بٹھانا ہوگا۔ مشورہ کرنا ہوگا۔ نئی تکنیک اختیار کرنی ہوگی۔ آزمودہ طریقے اپنانے ہوں گے۔
اس سے پہلے کہ پرائے محلے کا کوئی اور قلعی گر اپنی دکان چمکانے ہماری گلی میں آکر صدا لگائے: ’بھانڈے قلعی کرالو۔۔۔‘
بشکریہ انڈیپینڈنٹ اردو
Gharidah Farooqi
Senior Anchor Person / Executive Producer
AAJ TV
Islamabad
"شادی” اور "دوسری شادی” ۔۔۔ عبدالرب ساجد
مرد چاھے کنوارہ ھو یا شادی شدہ، شادی کی بجائے دوسری شادی کا ذکر ہر حال میں کیف آور ھوتا ہے۔۔۔
اب کیا کریں، ہمارے ماڑے مقدر کہ ہم پیدا ھو گئے خالص مشرقی معاشرے میں۔۔۔ سنا تو ھے کہ پہلے پہل یہاں ‘پہلی’ شادی آسانی سے ھو جایا کرتی تھی۔۔۔ مگر اب کہ تو لوگ پہلی کو ترس رھے ھیں، دوسری کا کیا ذکر۔۔۔ خرچہ پورا ھوتا ھے نہ تعلیم۔۔۔ کوئی معیار پر پورا اترتا ھے نہ نظروں میں۔۔۔ کئی جھمیلوں کے بعد شادی ھو بھی جائے تو مشرقی معاشرے کا سب سے بھیانک تصور "جوائنٹ فیملی سسٹم” شادی کے ساتھ جڑے تمام ارمانوں پر پانی پھیر دینے کے لیے کافی ھے۔۔۔
ایک نکاح ھوتے بڑے مشکل سے ھیں اور ٹوٹ بڑی جلدی سے جاتے ھیں۔۔۔ ساس بہو کے پھڈے سے بچ گئے تو نند بھابھی کا جھگڑا۔۔۔ دوسروں کی ٹانگ نہ بھی اڑے تو تتی تاولی جوانی کے اپنے نخرے نہیں مان۔۔۔ اور تو اور آج کل کے مولوی بھی نکاح سے زیادہ طلاقیں کرواتے پھرتے ھیں۔۔۔
تفصیل ھر امر کی بہت لرزہ خیز ھے۔۔۔ بات سے بات نکل جائے تو بہت پھیل جائے گی۔۔۔ مگر "شادیوں” یعنی ھمہ قسم نکاح کے حوالے سے ھمارے ھاں جو "معاشرتی آلودگی” پھیل رھی ھے وہ "آسودگی” نہیں سراسر "فرسودگی” اور حکومتی اقدامات تو خالص "بے ھودگی” پر مبنی ھیں۔۔۔
ابھی کنوارے پہلی شادی پر لگے ٹیکس کو رو رھے تھے کہ شادی شہیدوں کو معلوم ھوا کہ انکے لئے اگلی منزلیں اور کٹھن بنا دی گئی ھیں۔۔۔ گویا اگر کوئی اپنی محبوبہ سے مزید محبت کی اجازت لے بھی لے تو اسے مصالحتی کونسل سے اس ایکسٹرا محبت کے لیے سند جواز بھی لینی ھوگی۔۔۔!!!
کوئی سال بھر پہلے ایک انگریزی روزنامے کی رپورٹ کا عنوان تھا۔۔۔
UN wants consensual sex decriminalised in Pakistan
آسان لفظوں میں کہ اقوام متحدہ چاھتا ھے کہ سارے پاکستان کو ھیرا منڈی بنا دیا جائے۔۔۔ مزید بھی یونیسیف اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے وقتا فوقتا پاکستان سے ایسے مطالبات سامنے آتے رھتے ھیں کہ جس سے شادیوں کو مشکل بلکہ ناممکن بنایا جاسکے۔۔۔ نکاح سے بغاوت اور شادی سے نفرت مغربی معاشرت کے لیے سب سے بڑا زھر ثابت ھوئی۔۔۔ مگر جانے انجانے میں ھمارا معاشرہ انہی کی ھدایات اور نقالی پر عمل پیرا ھے۔۔۔ناولز، ڈراموں اور فلموں میں ایکسٹرا میریٹل افئیرز کو کوئی سنسر کرنے والا نہیں۔۔۔ تعلیمی اداروں میں چلنے والے عشق معشوقی کے چکر بھی کسی کو نہیں کھٹکتے۔۔۔ سمعی و بصری سہولتوں سے مزین موبائل سے مستفید ھو کر اپنی حرص و ھوس کو بجھانا بھی اب معیوب نہیں رھا۔۔۔ پھر انٹرنیٹ کے سمندر میں تیرتے نوجوان لڑکے لڑکیوں کے لیے پورنو اینڈ سیکسو گرافی بھی ایک آرٹ اور فیشن بن چکا ھے۔۔۔ راتوں کو سرعام لاھور کی سڑکوں پر پھرتے زنخوں اور طوائفوں پر بھی کوئی قانون لاگو نہیں ھوتا۔۔۔ جگہ جگہ پھیلتے مساج سنٹرز پر بھی کسی کو کوئی فکر دامن گیر نہیں ھوتی۔۔۔
ویلنٹائن اب ایک ڈے سے بڑھ کر ویک بن چکا ھے، مگر کوئی خطرے کی بات نہیں۔۔۔!!!
اس سب پر طرہ یہ کہ شادی اور نکاح کے بندھن سے بدظن کرنے کے لیے لطیفے، قصے، جگتیں، مزاحیہ ویڈیوز اور شارٹ سٹیٹسز۔۔۔ اس سب کو شئیر کر دینا اور آگے پھیلا دینا ھم بالکل بھی نقصان دہ نہیں سمجھتے۔۔۔مگر کوئی نوجوان ان سب غلاظتوں سے محفوظ رھنے کو اگر شادی کا ذکر ھی کر دے تو سب سے مہذب اور مسکت جواب یہ ھوتا ھے کہ "پہلے شادی کے قابل تو ھو جاؤ”۔۔۔ اور "تینوں بڑی اگ لگی اے” جیسا والا جواب تو اب کوئی نیا نہیں رھا۔۔۔
کوئی استطاعت رکھنے والا اور انصاف کرنے والا اگر شریعت کے مطابق اپنی جائز ضرورت کے لئے دوسری شادی کا نام لے لے، پھر تو جہان سارا ای دشمن۔۔۔!
ایک جاننے والے نے دوسری شادی کر لی تو اسکے برادر نسبتی (سالے) اس کے گھر آکر کہنے لگے:
” تیرا فلاں چکر وی اسی معاف کیتا۔۔۔ تیرا او رولا وی اسی چھڈ دتا۔۔۔ ھن تے توں حد ای مکا دتی۔۔۔ ویاہ ای کر لیا ای۔۔۔ ”بس۔۔۔ یہی ھمارا المیہ ھے کہ ایک نوجوان خود لذتی سے گناہ گار ھوتا رھے۔۔۔ کسی کے گھر کی عزت سے کھیلتا رھے۔۔۔ چاھے تو کوٹھے پر چلا جائے۔۔۔ مگر نکاح کا نام لے جب تک۔۔۔!!!
اور شادی شدہ اپنی پہلوٹی بیوی کے ھاتھوں بلیک میل ھوتا رھے، اسکے ساتھ بیمار بنا رھے۔۔۔ مگر جائز طریقے سے کسی دوسری عورت کا نہ گھر بسنے پائے نہ اس مرد کا بھلا ھونے پائے۔۔۔اس مسئلے میں کسی دوسرے کا نہ بھی سوچو، کم ازکم ھم میں سے ھر کوئی اپنا ھی بھلا سوچے تو معاشرے کی سوچ اور ڈگر بدلی جا سکتی ھے۔۔۔

کیا سمر کیمپس کی ضرورت واقعی ہمارے بچوں کو ہے؟؟؟ عفیفہ راؤ
جب سے صحافت کے شعبے میں قدم رکھا توفون کے کانٹیکٹ نمبرز سے لے کر سوشل میڈیا کی فرینڈ لسٹ اور فالوورز تک میں زیادہ تر وہ لوگ موجود تھے جن کا تعلق صحافت اور میڈیا انڈسٹری سے ہے ۔اور پھر جیسے جیسے فیس بک اور واٹس ایپ گروپس کا رواج بڑھنا شروع ہوا تو ایسا لگتا تھا کہ جیسے ہر جان پہچان والے پر فرض ہے کہ وہ جو بھی گروپ بنائیں اس میں ہمیں ضرور ایڈ کرنا ہے۔۔اور یوں میں بہت سے گروپس میں شامل ہو گئی۔لیکن اس میں ایک چینج اس وقت آیا جب میں ماں بنی اور ایک دو ایسے گروپس کو پہلے تو میں نے خود لائک کیا جو ماو¿ں اوربچوں سے متعلق تھے لیکن پھر دیکھتے ہی دیکھتے کچھ گروپس کی خود سے ریکویسٹ آنا شروع ہو گئیں مختصر یہ کہ اب ایک طویل فہرست ایسے گروپس کی ہے جو ماں اوربچوں سے متعلق ہیں اور میں ان کی ممبر ہوں۔اور میں ان گروپس کو فالو بھی کرتی ہوں کیونکہ ان میں موجود دوسرے لوگوں سے آپ بہت کچھ سیکھتے بھی ہیں۔
آج صبح ایک ایسے ہی گروپ میں میری نظر سے ایک پوسٹ گزری جس نے مجھے سمر کیمپس جیسے موضوع پر لکھنے پر مجبور کر دیا۔آجکل سوشل میڈیا پر آپ کو سمر کیمپس کے اشتہارات ، مختلف پوسٹس اور گروپس کی بھرمار نظر آئے گی اور کیوں نہ ہو ان کا تو یہ سیزن ہے وہ اس وقت ایکٹو نہیں ہوں گے تو اور کب ہونگے۔لیکن یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اصل میں یہ سمر کیمپس کس کے لئے ضروری ہیں؟؟؟ ان سمر کیمپس میں ایسا کیا خاص ہے کہ ہمارے بچوں کو ضرور انھیں جوائن کرنا چاہیے؟؟؟میری یاداشت کے مطابق ان سمر کیمپس کا رواج 2004یا 2005سے شروع ہوا اور اس وقت یہ کیمپس سکولز کی طرف سے ان بچوں کے لئے لگائے جاتے تھے جو کلاس میں اپنے باقی ساتھیوں سے پراگریس وائز کم ہوتے تھے ان کو صرف سکول بلایا جاتا تھا تاکہ کچھ توجہ دے کر ان کی کارکردگی کو تھوڑا بہتر کیا جاسکے۔ لیکن آج کل تو جیسے ہی گرمیاں شروع ہوتی ہیں میڈیا پر ہر طرف سے خوب شور کیاجاتا ہے
کہ ملک میں گرمی کی شدت بڑھتی جا رہی ہے اور بچوں کاسکول آنا جانا مشکل ہے ۔کسی چینل پرایک بچے کے گرمی سے بے ہوش ہونے کی خبر چلتی ہے تو کسی چینل پر ایک سے زیادہ کی۔اور حکومت پر شدید دباو¿ ڈالا جاتا ہے کہ جلد سے جلد چھٹیوں کا اعلان کیا جائے اور بات بھی ٹھیک ہے جب گرمی کی لہر اتنی شدت اختیار کر جائے تو معصوم بچوں کو گھر سے باہر نکالنا ان پر ظلم ہی ہے۔
لیکن چھٹیوں کی نوید ملتے ہی سمر کیمپس کروانے والے ادارے فل ٹائم ایکٹو ہو جاتے ہیں تاکہ ان کو زیادہ سے زیادہ ایڈمیشن مل سکیں اور ظاہری بات ہے ان کا یہ کاروبار ہے تو ان کی یہ کوشش جائز بھی ہے لیکن حیرت اس وقت ہوتی ہے جب مائیں خود سوشل میڈیا پر پوسٹ کر کر کے اپنے بچوں کے لئے سمر کیمپس ڈھونڈ رہی ہوتی ہیں لوگوں سے مشورہ طلب کر رہی ہوتی ہیں کہ کون سا سمر کیمپ سب سے اچھا ہے۔اب یہاں چند سوالات جنم لیتے ہیں کہ:اگر ملک میں اس وقت اتنی گرمی ہے کہ بچے سکول نہیں جا سکتے تو سمر کیمپ کے لئے کیسے جا سکتے ہیں۔اس کا جواب یہ ملتا ہے کہ سمر کیمپ میں رومز ائیر کنڈیشنڈ ہوتے ہیں تو یہاں آپ کو میں یہ بتاتی چلوں کہ جو بچے سمر کیمپ جاتے ہیں یہ بچے کوئی گورنمنٹ سکولز میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے نہیں ہوتے یہ بچے جن سکولز میں پڑھتے ہیں ان میں بھی کلاس رومز ائیر کنڈیشنڈ ہی ہوتے ہیں۔
اس کی ایک لاجک یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ سمر کیمپ میں بچہ صرف دو یا تین گھنٹے کے لئے جاتا ہے اور واپس آجاتا ہے۔تو اگر ہم گرمی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بچوں کو دو تین گھنٹوں کے لئے گھر سے باہر بھیج سکتے ہیں تو پھر ہمارا مطالبہ صرف اتنا ہونا چاہیے کہ سکولوں کی گرمیوں میں ٹائمنگ تبدیل کی جانی چاہیں نہ کہ فل ٹائم چھٹیاں۔سکولوں کے حوالے کے ایک شکایت اور بھی بہت زیادہ سننے میں آتی ہے کہ یہ والدین سے گرمیوں کی چھٹیوں کی فیس کیوں لیتے ہیں ۔پہلے پہل یہ شکایت ان سکولوں سے آتی تھیں جن کی فیس باقی پرائیوٹ سکولوں کے مقابلے میں بہت کم ہوتی تھی لیکن بہت ٹائم ہو گیا کہ ان کی طرف سے تو یہ شکایت کم ہو گئی ہے شاید ان کو اس کی عادت ہو گئی ہے لیکن اب یہ شکایت ان سکولوں کی طرف سے آرہی ہوتی ہے جن کی فیس کئی ہزاروں میں ہوتی ہے ۔یہ والدین سکولوں کی فیس پر تو بولتے ہیں لیکن سکول سے چھٹیاں ہوتے ہی ان گھروں سے ہی تعلق رکھنے والی مائیں ہی سب سے پہلے اپنے بچوں کے لئے سوشل میڈیا پر سب سے بہترین سمر کیمپس کی تلاش میں سرگرداں ہوتی ہیں اور یہ سمر کیمپس ان سے جو فیس چارج کرتے ہیں وہ تقریبا ایک ہزار روپے فی گھنٹے سے بھی زیاد ہ ہوتی ہے سکولز جو فیس پورے ماہ کے لئے چارج کرتے ہیں وہ یہ سمر کیمپس چند گھنٹوں اور کچھ دنوں کے لئے چارج کر رہے ہوتے ہیں۔۔۔

اس تحریر کے ساتھ دی گئی سوشل میڈیا کی پوسٹ اگر آپ دیکھیں جو صبح میری نظر سے گزری تو اس پوسٹ میں ایک ماں اپنے 2سال اور اس سے کچھ بڑی عمر کے بچے کے لئے سمر کیمپ کا مشورہ مانگ رہی ہے۔ کیا کوئی ان سے پوچھ سکتا ہے کہ دو سال کے بچے کو سمر کیمپپ کی کیا ضرورت ہے؟ جن بچوں کو آج کل سمر کیمپ میں داخلہ کروایا جاتا ہے ان عمر کے بچوں کو نہ تو سمر کیمپ کا خود سے پتہ ہوتا ہے نہ ہی ان کی اس کے بارے میں کوئی رائے یاسوچ ہوتی ہے کہ سمر کیمپ میں جاناچاہیے یا نہیں ۔ دراصل یہ سوچ آجکل ہماری ماو¿ں کے ذہن میں ہوتی ہے جس کے لئے پہلے وہ والد کو راضی کرتی ہیں اور اس کے بعد ان معصوم بچوں کو کھیلنے کا،باہر جانے کا ، نئے دوست بنانے کااور دوسری کئی ایکٹیویٹیز کا لالچ دے کر اس کا داخلہ کروا دیا جاتا ہے۔لہذا یہ سمر کیمپ بچوں کی نہیں دراصل ماو¿ں کی ضرورت پر اپنا کاروبار چمکا رہے ہیں کیونکہ مائیں چاہتی ہیں کہ بچے کچھ ٹائم گھر کے علاوہ کہیں مصروف رہیں۔ماو¿ں کی اس پلاننگ کے پیچھے ہو سکتا ہے کہ ان کی کوئی جائز وجہ بھی ہولیکن بات یہ ہےکہ ان چھٹیوں کے دنوں میں بھی کوئی ضروری نہیں ہے کہ ہم اپنے بچوں پر یہ سمر کیمپ نامی بوجھ ڈال دیں بہت کچھ اس سے بہتر بھی سوچا جا سکتا ہے۔ان سمر کیمپس میں بچے کیا سیکھتے ہیں یا ان کی کن صلاحیتوں پر کام کیا جاتا ہے ؟
کیا وہ سب سکھانے کے لئے صرف سمر کیمپ ہی واحد حل ہے ؟
ان سوالوں کے جوابات اگلی تحریر میں شائع کئے جائیں گے۔۔اپنی رائے سے آگاہ کرنے کے لئے ای میل کریں:
afeefaumar@gmail.com
Afeefa Rao 
انتظامی نا اہلی اور علاقائی تعصب ۔۔۔ زین خٹک
ضلع کرک خٹک قوم کا مسکن ہے۔ جہاں پر اکثریت خٹک قوم کی ہے۔ 1982 میں جب کرک کو علیحدہ ضلع بنا یا جارہا تھا۔ تو اس کی پشت پر یہ سوچ حاوی تھی کہ یہ خٹک اکثریت ضلع ہوگا جہاں پر مساوات اور بھائی چارے کی فضا قائم ہو گی۔ لیکن یہاں کی نااہل سیاسی قیادت نےذاتی مفادات کےلئے خٹک قوم کو تقسیم در تقسیم کیا۔ نتیجتاً یہاں کی عوام آج خٹک کی شناخت سے زیادہ نصرتی، لنڈ، عیسک، ماشی خیل، وژدے، بانڈہ وال کی شناخت پر فخر محسوس کرتے ہیں۔لیڈر کا کام عوام کو لیڈ کرنا ہوتا ہے۔ یہاں پر لیڈر نہیں بلکہ ذاتی مفادات پرست، لالچی، خودغرض،تنگ نظر، معتصب اور بیو پار قابض ہیں۔ جن کو یہاں کی عوام سے کچھ غرض نہیں صرف انتخابات میں علاقہ پرستی، تنگ نظری اور تعصب پھیلاتے ہیں۔ یہ اب ہمارا پیدائشی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب 90 کی دہائی میں لتمبر میں ڈگری کالج قائم ہوا تو ان سیاسی پنڈتوں نے کالج لتمبر کی بجائے ایک اور علاقے میں منتقل کر دیا۔ کالج کے لیے شاندار بلڈنگ تعمیر ہوئی۔ 1996 میں ہائی سکول لتمبر کو کالج بلڈنگ میں منتقلی کا حکم نامہ جاری ہوا۔ لیکن اہلیان لتمبر ڈھٹ گے بالآخر 2001 میں مشرف دورہ حکومت میں لتمبر کو جائز حق مل گیا۔ یہ ایک واحد مثال نہیں بلکہ ان سیاسی پنڈتوں کی تنگ نظری اور متعصبانہ رویہ کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ طبقہ عوام مفادات اور اجتماعی کاموں کی بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ کرک کی مثال ماں ہے اور ہر باسی بیٹا ہے۔ ہر بیٹے کی ضروریات کو پورا کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آج تحصیل بانڈہ داؤد شاہ اور لتمبر میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ گڈی خیل میں کینسر کی وباء ہے۔ تھل اور بہادر خیل میں پانی کی قلت ہے۔ کرک شہر میں اعلی یونیورسٹی اور ہسپتال کی ضرورت ہے۔ چونترہ میں تعلیمی اداروں اور بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی وقت کی ضرورت ہے۔ آج ان سطور کی وساطت سے کرک کے تعلیم یافتہ لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ان پنڈتوں کی متعصبانہ، تنگ نظری اور خود غرضانہ سوچ کو شکست دے کر کرک کے تمام باسیوں کو اپنائیت کا پیغام دیں۔ ہم ان پنڈتوں کی تقسیم کو نہیں مانتے ہماری پہچان کرک ہے۔ آئیں ملکر کرک کو عظیم ضلع بنائیں۔ ہر باسی اپنے حصہ کا کردار ادا کریں۔














