Baaghi TV

Category: بلاگ

  • لودھراں: سستے رمضان بازار کیوں ویران ہیں وجہ معلوم ہو گی ہے

    لودھراں (نمائندہ باغی ٹی وی) رمضان بازار برائے نام سستے بازار ہیں جبکہ حقیقت برعکس ہے رمضان بازاروں میں ناقص اشیاء مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہیں صرف لیموں کی فی کلو قیمت 500 تک ہے جس میں رس بھی نہیں ہے باقی اشیاء بھی اسی طرح مہنگی فروخت کی جا رہی ہیں عوام کو اس طرح دھوکہ دینا بند کیا جانا چاہئیے رمضان بازاروں میں مہنگائی کا ایک طوفان دیکھنے کو مل رہا ہے جس کی وجہ سے وہاں عوام خریداری کے لئے بلکل نہیں جا رہی

  • موجودہ حکومت نے عوام کو رمضان المبارک میں ریلیف دینے کی بجائے مہنگائی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے امیر جماعت اسلامی سیالکوٹ محمد اویس

    سیالکوٹ (نمائندہ باغی ٹی وی ) موجودہ حکومت نے عوام کو رمضان المبارک میں ریلیف دینے کی بجائے مہنگائی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے مہنگائی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث ضروریات کی اشیاء شہریو ں کی پہنچ سے دور ہوگئی ہے پاکستانی غریب عوام فاقہ کشی اورخودکشیاں کرنے پر مجبور ہوچکی ہے ان خیالات کااظہار انہوں نے دفترجماعت اسلامی سمبڑیال میں یوتھ ونگ کے ماہانہ اجلاس کے موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا نیز ان کا مزید کہنا تھا کہ تبدیلی کانعرہ لگانے والے حکمرانوں نے سابقہ تما م حکومتوں کے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں جماعت اسلامی ملک پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک پاکستان کو تمام بحرانوں سے نکالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے اس موقع پر عاصم طالب گجر ، ثمران ظفر،عدنان مہر، عنصر چٹھہ ،عمران بھٹہ ،عثمان علی ، محمد عمر، رانا شاہدسمیت سٹی سمبڑیال کے تمام ذمہ داران بھی موجود تھے۔

  • ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ نے رمضان بازاروں کا دورہ کیا

    شیخوپورہ(نمائندہ باغی ٹی وی) ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ سید طارق محمود بخاری کا ضلع بھر کی مختلف رمضان بازاروں کا دورہ، اشیا خوردو نوش کو چیک کیا اور اشیا کے معیار پر تسلی کا اظہار کیا.

    اس موقع پر انہوں نے عوام الناس سے سوالات کر کے حکومتی اقدامات پر ان کی رائے بھی لی تاکہ اگر کہیں کوئی مسئلہ موجود ہوتو اسے دور کیا جا سکے

  • سابق بلدیاتی نمائندوں نے اگلے محاذ کی تیاری شروع کر دی

    سابق بلدیاتی نمائندوں نے اگلے محاذ کی تیاری شروع کر دی

    گجرات (نمائندہ باغی ٹی وی)بلدیاتی ادارے ٹوٹتے ہی عوامی نمائندگانمتحرک،نئے بلدیاتی نظام کے تحت الیکشن کیلئے جوڑتوڑشروع ہوگئے،متوقع امیدواروں نے اپنے اپنے علاقوں کے عوام سے رابطے بڑھالئے ہیں اور ابھی سے لوگوں کی خوشی ،غمی میں شرکت کرنا شروع کردی ہے ،جبکہ بعض امیدواروں نے ماہ رمضان کوغنیمت جانتے ہوئے باقاعدگی سے باجماعت نمازبھی پڑھنی شروع کردی ہے ،جبکہ عوام کاکہناہے کہ امیدواروں کی سابقہ کارکردگی کودیکھ کرحمائت کافیصلہ کیاجائے گا،پچھلادورضائع کرنے والوں کودوبارہ نہیں آزمائیں گے ،تاہم امیدوار سنجیدگی سے عوام کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔

  • قبض، علامات اور علاج ۔۔۔ حکیم حبیب الرحمن کمبوہ

    قبض، علامات اور علاج ۔۔۔ حکیم حبیب الرحمن کمبوہ

    قبض (Constipation) ، حصر

    تعریف:

    قبض امعاء غلط کے فعل کی کمی وکوتاہی کا نام ہے.
    قبض طبی اصطلاح میں حصر کو کہتے ہیں.
    اس حالت میں آنتیں براز کو گرفت میں لے لیتی ہیں.

    اقسام:
    1-دائمی قبض
    2-عارضی یا اتفاقی قبض

    دائمی قبض:

    کسی آدمی کو جب مرض قبض ہوتا ہے تو وہ اس کی طرف توجہ نہیں دیتا یعنی اس کا علاج معالجہ نہیں کرتا تو یہ مرض پرانا ہونے پر دائمی ہو جاتا ہے اور یہ زیادہ کھانے، بیٹھے رہنے اور گرم مصالحہ کے زیادہ استعمال وغیرہ سے ہوتی ہے۔

    عارضی یا اتفاقی قبض:

    قبض کی یہ حالت عارضی یا اتفاقی ہوتی ہے یعنی کوئی ایسی چیز کھائی جائے جس سے یہ علامت ہو جاتی ہے.
    یہ بعض اوقات خود بخود رفع ہو جاتی ہے یا فوراً تدارک کرنے سے ختم ہو جاتی ہے.

    اسباب:

    کبھی بلغم کی کثرت یا دیگر عوارض سے انتڑیوں کی قوت دافع کمزور ہو جاتی ہے یا پھر کبھی ثقیل دیر ہضم غذاؤں کے کثرت سے استعمال کرنے سے سدے بن جاتے ہیں جن کا اخراج پھر مشکل ہو جاتا ہے.
    یا اجابت کو روکنے سے بھی یہ مرض پیدا ہو جاتا ہے.

    علامات:

    براز مشکل سے خارج ہوتا ہے.
    رفع حاجت کے وقت زیادہ تکلیف اور دیر سے نکلے گا.
    سر میں درد ہوگا.
    دل تیز دھڑکے گا.
    جب براز دیر تک آنتوں میں رکا رہے تو فضلہ تعفن پا کر شکم میں ریاح ونفخ پیدا کر دیتا ہے.

    علاج:

    قرص ملین
    حب تنکار
    روغن بادام وغیرہ

  • تبدیلی کی ابتدا، مگر کہاں سے؟؟؟  اسامہ چوہدری

    تبدیلی کی ابتدا، مگر کہاں سے؟؟؟ اسامہ چوہدری

    شوارموں میں مُردہ مرغی کا گوشت، ہوٹلوں میں گدھوں کا گوشت، گدھے نہ بھی ہوں تو بیمار مریل جانوروں کا سستا گوشت، گاڑی دیکھتے ہی سبزی کا، فروٹس کا ریٹ اچانک سے بڑھا دینا، مرچوں میں اینٹیں, پیس کر ملانا، چائے کی پتی میں اصل پتی کی جگہ چنوں کا رنگ کیا ہوا چھلکا استعمال کرنا،ٹائروں میں ایک پنکچر کی جگہ زیادہ پنکچر کرنا،کالی مرچ کی جگہ اونٹوں کی ایک خاص غذا کو کالی مرچ بنا کر فروخت کرنا، استادوں کا صرف اخبار پڑھنےکے لئے اسکول جانا اور پھر حکومت سے گلے شکوے کرنا کہ حکومت نے تعلیم کا بیڑا غرق کردیا ،سرکاری ڈاکٹرز کا ہسپتال میں آئے مریضوں کو دھکے دے کر ہسپتال میں سے باہر نکالنا،پولیس والوں کا بغیر رشوت کے کام نہ کرنا اور کام کرنے کے عوض سائل سے مٹھائی ،پولیس موبائل کے لئے ڈیزل کے پیسے اور چائے کےلئے پیسے وصول کرنا،ایک الیکٹریشن کا چند ٹکوں کی خاطرالیکٹرک چیزوں کو خود سے خراب کر دینا ،ہمارا صفائی کے بعد گھروں اور دکانوں کا کوڑا باہر سڑک پر پھینک دینا اور اپنا کاروبار چمکانے کی خاطر وال چاکنگ کر کر کے اس ملک کی دیواروں کو گندا کرنا یہ سب کام ہم خود کرتے ہیں اور گلے شکوے کرتے ہیں حکومتوں سے کہ ہماری حکومت ٹھیک نہیں ہے ،حکومت کام نہیں کررہی۔حکومت کام تب ہی کرے گی جب ہمیں اس ملک کا احساس ہوگا جب ہم اس ملک کو اپنا گھر سمجھیں گے اور اس کی حفاطت اسی طرح کریں گے جیسے اپنے گھروں کی اور اپنے ذاتی سامان کی حفاظت کرتے ہیں ،جی ہاں یہ ملک تب ہی ترقی کرے گا جب ہم اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں گے جب ہم اپنے وطن کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں گے اور اس کی عملی تصویر بھی پیش کریں گے تب آئے گی تبدیلی ،تب بنے گا ہمارا ملک ایشین ٹائیگر ،تب سنورے گی یہ پاک دھرتی اور تب ہم اس قابل ہوں گے کہ دنیا کہ کسی بھی کونے میں جائیں ہم وہاں فخر سے رہ سکیں ،جب ہم کسی غیر ملکی ائیرپورٹ پہ اتریں تو ہمیں بغیر تلاشی کے آزادانہ گھومنے پھرنے کی اجازت ہو اور ہمارا چہرہ دنیا کے سامنے ایک مہذب، پرامن اور ایک اچھی قوم کے طور پہ سامنے آئے تو ہمیں سب سے پہلے خود کو بدلنا ہوگا، ہمیں سب سے پہلے اپنی ذات میں انقلاب لانا ہوگا۔

  • ”خوابوں کے بند دروازے“ شائع ہو گیا

    امین بھایانی کا افسانوی مجموعہ ”خوابوں کے بند دروازے“ شائع ہو گیا۔امریکہ میں مقیم معروف ادیب امین بھایانی کا تیسرا افسانوی مجموعہ ”خوابوں کے بند دروازے“ شائع ہو گیا ہے۔ کتاب کا تعارفی فلیپ ممتاز و نامور ادبا نے لکھا ہے جس میں انہوں نے شاندار الفاظ میں مصنف کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ امین بھایانی نے اس کتاب میں لوگوں کے عمومی مسائل کو کہانیوں کا موضوع بنایا ہے اور ان کی نفسیاتی توضیح بھی کی ہے جو کہ ایک کہنہ مشق ادیب ہی کر سکتا ہے۔مصنف نے اپنے دلچسپ اسلوب سے ہر عمر کے لوگوں کے لیے اس کتاب میں دلچسپی کا سامان کر دیا ہے۔ مصنف کی گہری سوچ اور فلسفہ ان افسانوں میں جھلکتا ہے۔ اس سے قبل امین بھایانی کے دو افسانوی مجموعے ”بھاٹی گیٹ کا روبن گوش“ اور ”بے چین شہر کی پُرسکون لڑکی“ شائع ہو کر ادبی حلقوں میں داد پا چکے ہیں۔ اس کتاب میں شامل افسانے پاک و ہند کے نامور ادبی جرائد میں شائع ہوکر داد پاچکے ہیں۔امین بھایانی مصنف منفرد طرز تحریر کی بدولت ادبی حلقوں میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ ان کی کتابوں کا شدت سے انتظار کیا جاتا ہے اور پذیرائی کے اعتبار سے یہ سر فہرست شمار ہوتی ہیں۔کتاب خوب صورت ٹائٹیل اور عمدہ طباعت سے مزین ہے۔ یہ افسانوی مجموعہ ”کتاب والا پبلشر“ اور ”فضلی سنز“ کے باہمی اشتراک سے شائع کیا گیا اور کتاب سرائے اردو بازار لاہور سے بھی دستیاب ہے۔

  • آفتاب جو غروب ہوا ۔۔۔ محمد طلحہ سعید

    آفتاب جو غروب ہوا ۔۔۔ محمد طلحہ سعید

    وہ ہمت جرات غیرت کا پیکر مجسم تھا۔وہ سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت کا متلاشی تھا۔وہ نور کرنوں میں لپٹا چہرا ہزاروں دلوں کی امیدوں کا محور تھا۔وہ صحابہ کرام کے رستوں پر چلنے والا ایک مرد مسلم تھا۔وہ خزاں کے دور میں بہار کی آخری امید تھا۔وہ لاکھوں بہنوں ،ماؤں اور بیٹیوں کی عفت و عصمت کا محافظ تھا۔وہ فتح علی بن حیدر علی ٹیپو تھا۔
                              اس نے بچپن سے ہی شیروں سے کھیلنا سیکھا تھا۔اس نے بچپن سے ہی اپنے باپ سے عزت کی زندگی گزارنا سیکھا تھا۔اس نے بچپن سے ہی انگریزوں اور مرہٹوں سے ان ہزاروں لاکھوں خون کے قطروں کا انتقام لینے کا عزم کیا ہوا تھا جو بنگال کی مٹی پی گئی تھی۔اس نے بچپن سے ہی مسلمانوں کو انگریزوں کے خلاف آخری قلعہ سمجھا تھا۔اس نے بچپن سے ہی طاقت و جرات کے غیر معمولی جوہر سیکھے تھے۔
            سلطان کی عمر ابھی کم ہی تھی کہ انہیں ان کے والد نے مختلف محاذوں مرہٹوں اور انگریزوں کے خلاف بھیج دیا۔سلطان معظم کی بہادری اور جرات کے اوپر سارا میسور رشک کرتا تھا۔پھر ایک تاریک رات میں،ایک ٹمٹماتا چراغ بھج گیا۔میسور کی عزت کا محافظ اور سلطان ٹیپو کے والد نواب حیدر علی وفات پاگئے۔جنگی صورتحال تھی۔میسور ایک وقت میں مرہٹوں، میر نظام علی اور انگریزوں کے خلاف مد مقابل تھا۔ایسی صورتحال میں جب حیدر علی وفات پاگئے، میسور کو انتہائ خطرناک نتائج مل سکتے تھے لیکن سلطان فتح علی حیدر ٹیپو کی مدبرانہ پالیسی نے میسور کے گرتے قلعے کو سنبھالا۔
         اس اولوالعزم مجاہد نے ہندوستان کے مسلمانوں کے دور انحتاط میں محمد بن قاسم کی غیرت،محمود غزنوی کے جاہ و جلال اور احمد شاہ ابدالی کے عزم و استقلال کی یاد تازہ کر دی تھی۔ہندوستان کے مسلمانوں پر جب مایوسی و بے بسی چھا رہی تھی، تب سلطان ٹیپو کی ریاست میں امیدوں اور ولولوں کی نئ دنیا آباد ہورہی تھی۔جب ہندوستان پر مسلمانوں کے قلعے مسمار کیے جارہے تھے تب میسور میں سرنگا پٹم، چتل ڈرگ اور منگلور میں سلطنت خداداد کے معمار نئے قلعے اور حصار تعمیر کر رہے تھے۔
                           سلطان ٹیپو کا تمام دور عہد جنگوں میں گزری۔سلطان کے خلاف تین طاقتیں تھی۔مگر جس ایک طاقت سے سلطان لڑنا نہیں چاہتا تھا وہ میر نظام علی کی طاقت تھی۔تاریخ گواہ ہے کہ میر نظام علی ہی وہ حکمران تھا جو مسلمانوں کے چراغ بھجا رہا تھا اور انہیں غلامی کی تاریکیوں میں دھکا دے رہا تھا۔اس حکمران نے اپنے مفاد، فقط اپنے مفاد کیلیے لاکھوں عزتوں کا سودا کیا۔سلطان ٹیپو اس سے اس لیے نہیں لڑنا چاہتے تھے کہ اس کے ساتھ فوج مسلمان تھی۔سلطان ہرگز یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی فوج کے ہاتھ مسلمان کے خون سے رنگے جائیں۔تاریخ گواہ ہے سلطان معظم نے ہر ممکن کوشش کی کہ اگر ان کا ساتھ حاصل نہ ہوسکے تو کم از کم انہیں میدان جنگ میں نہ لایا جائے۔مگر میر نظام علی کا تو مقصد صرف خزانے بھرنا تھا۔
                  بالآخر ٹیپو کی ایک ریاست، تین دشمنوں کے ساتھ محو جنگ ہوئ۔اب یہ ایک فیصلہ کن جنگ تھی۔سلطان ٹیپو اس جنگ کو فتح کرسکتے تھے مگر ایمان فروشوں نے سلطان کی مخبریاں کرکے اسے شکست دلوائ۔میر صادق، پورنیا، میر قمر الدین اور میر معین الدین جیسے غداروں نے صرف میسور کا ہی سودا نہیں کیا تھا بلکہ تمام ہندوستان کے  مسلمانوں کی عزت کا سودا کیا تھا۔تاریخ گواہ ہے کہ اس سودے سے انکے اپنے گھر محفوظ نہ رہے۔جنگ جیتنے کے بعد انگریزوں نے انکی اپنی بہنوں،بیٹیوں کو نہیں چھوڑا تھا۔
                                ٹیپو سلطان 4 مئی 1799ء کو انگریزوں کے خلاف فیصلہ کن معرکہ لڑنے میدان میں آئے۔سلطان نے میسور کے  ہراول دستوں کیساتھ لڑا۔سلطان معظم پر ایک انگریز نے گولی چلائ۔مگر سلطان نے زخم کی فکر نہ کی۔سلطان کے جسم نے خون نکل رہا تھا مگر سلطان معظم اس خون سے سرنگاپٹم کی زمین کو سیراب کرنا چاہتے تھے۔سلطان پر ایک اور گولی لگی اور سلطان پر نقاہت کے آثار ظاہر ہونے لگے مگر وہ لڑتے رہے۔جب زخموں کھ باعث سلطان کی ہمت جواب دینے لگی تو سلطان کے باڈی گارڈ دستے نے سلطان سے کہا "عالی جاہ!اب اس کے سوا کوئ چارہ نہیں کہ آپ اپنے آپ کو دشمن کے حوالے کردیں”
      سلطان نے جواب دیا؛ "نہیں______میرے لیے شیر کی زندگی کا ایک لمحہ گیدڑ کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے!”
                                  سلطان کے گھوڑے پر ایک گولی لگی تو اس نے گرتے ہی دم توڑ دیا۔گھوڑے کیساتھ گرتے وقت سلطان کی دستار ان سے علحیدہ ہوگئ۔سلطان نے اٹھنے کی کوشش کی مگر ایک گولی سلطان کے سینے پے لگی۔پاس ہی ایک انگریز نے سلطان کی کمر سے مرصع پیٹی اتارنے کی کوشش کی۔لیکن سلطان میں ابھی زندگی کے چند سانس باقی تھے۔انہوں نے یہ توہین برداشت نہ کی۔سلطان نے اچانک اٹھ کر تلوار بلند کی اور پوری شدت کیساتھ اس پر وار کیا۔انگریز نے اپنی بندوق آگے کی۔اس کے ساتھ ہی سلطان کی تلوار ٹوٹ گئ۔اس کے ساتھ ہی ایک اور انگریز نے اپنی بندوق کی نالی کا سرا سلطان کی کنپٹی کے ساتھ لگاتے ہوئے فائر کردیا اور وہ آفتاب جس کی روشنی میں اہل میسور نے آذادی کی حسین منازل دیکھی تھیں، ہمیشہ کیلیے غروب ہوگیا۔اس آفتاب کے روپوش ہونے کے ساتھ ہی ہندی مسلمانوں کے اوپر ایک تاریک دور آگیا۔
                                اگلے روز سلطان کا جنازہ جب محل سے نکلا تو سرنگاپٹم کا ہر بچہ اس جنازے میں شریک ہوا۔ہر چشم سلطان کے غم میں پرنم تھی۔اس روز شدید آندھی کے آثار آسمان پر تھے۔جیسے ہی سلطان کے مقدس جسم کی تدفین ہوئ ویسے ہی بادلوں نے اشک جاری کردیے۔
                           تاریخ گواہ ہے کہ اس دن اتنی بارش ہوئ کہ سرنگاپٹم کی گلیاں بازار ندیوں کا منظر پیش کر رہے تھے۔
                                دیکھنے والوں نے دریائے کاویری کی طغیانی دیکھی۔کاش وہ غدار جنہوں نے قوم کے مستقبل کا سودا کیا تھا، ایک دن اور انتظار کرلیتے تو دشمن کی فوج اسی دریا میں ڈوب جاتی______کاش،
                           سلطان معظم!
                            قوم کی جس آذادی کا آپنے خواب دیکھا تھا،وہ آذادی ایک ایسی قوم کو ملی ہوئ ہے جس کو دنیا پاکستانی کے نام سے جانتی ہے۔جو ریاست میسور آپنے قائم کی تھی، اور جو پورے ہند کے مسلمانوں کی محافظ تھی، آج اس جیسی ایک اور ریاست قائم ہے جسے دنیا پاکستان کے نام سے جانتی ہے۔اور یہ ریاست تمام عالم اسلام کی محافظ ہے۔قوم کے جو رضاکار آپکے قافلے میں شامل تھے، وہی رضاکار اس قافلے میں شامل ہیں۔یہ آفت و مصیبت کے وقت، یہ زلزلے اود سیلاب کے وقت امداد کی ناقابل یقین داستانیں رقم کردیتے ہیں۔اور میدان جنگ میں وہ افواج کے دوش دبدوش لڑتے ہیں۔اگر اس ریاست میں کہیں باغیانہ شعور بیدار ہو تو یہ رضاکار اٹھتے ہیں اور لوگوں کی اصلاح کیلیے چل دوڑتے ہیں۔مصائب جھیلتے ہیں، آہنی چٹانوں کو سر کرتے ہیں، اپنے لوگوں کے طعنے سنتے ہیں مگر آپکی طرح،آپکے رضاکاروں کی طرح،آپکی قوم کی طرح یہ لوگ اپنے حوصلے کم نہیں ہونے دیتے،اپنے منشور میں پیچھے نہیں ہٹتے۔
                             سلطان معظم!
                                           جس طرح آپکی ریاست اہل کفر اور انکے ہاتھوں میں کھیلتے نام نہاد مسلمانوں کی آنکھوں میں کھٹکتی تھی اسی طرح یہ ریاست کفار اور ان کے چیلے نام نہاد مسلمانوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتی تھی۔
                                                  جس طرح آپ کی فوج کم تعداد ہوتے ہوئے بھی دشمن پر غالب رہتی تھی،اسی طرح اس ریاست کی فوج بھی بہادری کے جوہر دکھاتی ہے۔دشمن یہ سوچ کر ان پر حملہ کرتا ہے کہ یہ سو رہے ہوں گے، مگر یہ بیدار رہتے ہیں اور دشمن کو ایسا سبق سکھا جاتے ہیں کہ وہ کبھی بھول نہ پائے۔
                          سلطان معظم!
                                     جس طرح آپکی ریاست میں غدار تھے جو آپکی ریاست کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی کوششیشیں کر رہے تھے اسی طرح اس ریاست میں بھی غدار پائے جاتے ہیں۔کچھ پہلے حکمران بن کر آتے ہیں،کچھ  الگ بھیس میں آتے ہیں-مگر پھر آفریں کہ اس ریاست کی چاک و چوبند افواج اور اس کے ساتھ ساتھ اس ریاست کی عوام ان غداروں کو انجام تلک پہنچاتے ہیں۔
                   اس ریاست کے لوگ اے سلطان معظم! آپکو بہت یاد کرتے ہیں۔اس ریاست کے لوگ آپ کو اپنی انسپائریشن سمجھتے ہیں۔اس ریاست کے لوگ آپکے ہی اس قول پر یقین رکھتے ہیں کہ:
      "شیر کی ایک لمحہ کی زندگی،گیدڑ کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے۔”
                 اللہ سلطان معظم اور انکے ساتھیوں کے درجات بلند فرمائے جو آج کے دن یعنی 4 مئی کو انگریزوں کے خلاف لڑتے لڑتے شہید ہوئے اور ہماری اس ریاست پاکستان میں ان جیسے حکمران پیدا فرمائے۔
    اللہ پاکستان کا حامی و ناصر۔
    آخر میں علامہ اقبال کے کچھ اشعار:
    آں شہیدان محبت را امام
    آبروئے ہند و چین و روم شام

    نامشں از خورشید و مہ تابندہ تر
    خاک قبرش از من و تو زندہ تر

    ازنگاہ خواجہ بدر و حنین
    فقر سلطان وارث جذب حسین ؓ

  • پاکستانی قومی ٹیم کے سابقہ کرکٹر عبدالرحمان کی گارمنٹس کی دکان کے افتتاح کے موقع پر قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کی گفتگو

    پاکستانی قومی ٹیم کے سابقہ کرکٹر عبدالرحمان کی گارمنٹس کی دکان کے افتتاح کے موقع پر قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کی گفتگو

    سیالکوٹ (نمائندہ باغی ٹی وی ) پاکستانی قومی ٹیم کے سابقہ کرکٹر عبدالرحمان کی گارمنٹس کی دکان کے افتتاح کے موقع پر قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کی گفتگو کامران اکمل نے کہا کہ شاہد آفریدی کی عزت کی طرح سب کی عزت ہے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی نہیں کرنی چاہئیے شاہد آفریدی نے آئی سی سی سینچری بنائی اس وقت عمر بتا دیتے تو اچھا ہوتا انہوں نے کہا ورلڈ کپ سے پہلے نیٹ سیریز جیتنا بہت اہم ہ پاکستانی ٹیم بہت اچھا پرفارمنس کرے گی بھارتی میڈیا کھلاڑیوں اور فوج کے متعلق باتیں کرتا رہتا ہے سعید اجمل کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ کے لئے منتخب ہونے والوں کو مبارکباد دیتے ہیں محمد عامر کی بالنگ بہت اچھی ہے حسن علی کے علاوہ کوئی بالر نہیں ہے سعید اجمل نے کہا سئنیرز کی عزت سب کو کرنی چاہئیےجاوید میانداد لیجنڈ ہیں انکی عزت کرنی چاہئیے تقریب میں آئے عثمان شنواری نے کہاورلڈ کپ کی ٹیم پر مطمئن ہیں کوچ اور ٹیم بہترین ہے امید ہے ورلڈ کپ جیت جایئں گے شاہد آفریدی کی کتاب کے سوال پر انہوں نے کہا آئے گی تو سب واضح ہو جائے گا

  • جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں ۔۔۔۔ سلمان آفریدی

    جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں ۔۔۔۔ سلمان آفریدی


    بات آگے نہيں سچ پوچھو تو بہت آگے نکل چکی ہے ۔۔ جہاں سب سرے ہاتھ میں آ چکے ہیں ، ڈر دور ہو چکا ہے، خوف کے بادل چھٹ چکے ہیں اور بے بنیاد وسوسے اپنی موت آپ مرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سچ بہت کڑوا ہے جبکہ جھوٹ کے تانے بانے مکڑی کا جال ثابت ہو رہے ہیں۔

    سرپھرے سبز لہو سے وفا کی داستان لکھ رہے ہیں جبکہ ٹوپی بردار "انقلابیے” انارکی پھیلانے کو نئی سبیلیں تلاشتے پھرتے ہیں۔۔

    پیاری چندا! تمہاری سرخ "فتانت” کو سلام ۔۔ ایک زمانے سے رواج چلا آتا ہے کہ  بزعم خود ذہین و فطین نابغے زمام اقتدار سنبھالتے ہیں ۔۔ خوب گھڑمس مچاتے ہیں ۔۔ عوام کا لہو جونکوں کی مانند  چوستے ہیں ۔۔اربوں روپے ادھر ادھر کرتے ۔۔ اپنی ناقص پالیسیوں ، غلط فیصلوں اور کرسی سے چمٹے رہنے کی ہوس میں ملک و قوم کے گلے پر کند چھریاں پھیرتے ہیں اور جب جاں بلب احوال کی اصلاح شروع ہوتی ہے تو تم سب مل كر”اشارہ ابرو” کو قصوروار ٹھہراتے ہو ۔ 

    چندا رانی! ماجھے کی بھینس یہ خود کھولتے ، چوری کا الزام فوجے پہ دھرتے اور مارتے پنڈ کے مکینوں كو ہيں. صلح صفائی کی تو "تو رہن ای دے” اور واہ وا صرف اللہ بادشاہ کی ہے۔

    خدا ہدایت دے !شاہیں کو بے بال و پر کرنا ہو ، چیونٹی کو ہاتھی دکھانا ہو یا پھر سانپ کو نیولہ ثابت کرنے کی سامریت چلانی ہو تمہاری زبان کی کاٹ اور فکر کی کجی کی کوئی حد نہیں۔ رہی حد پر آپ کی شدومد تو ہمارے تو ذمے ہی نگہداری کی خدمت ہے۔ باقی سائیبیرین پرندوں کی سردیاں حرام کرنے "اربوں” کے دہ سالہ مہمان جنہیں اس پاک سرزمین پر فرعونیت کا دعوی تھا کو بھی سبھی جانتے ہیں۔

    جان کی امان کے ساتھ ایک محبت بھری گزارش سن لو تو شاید طبیعت کو افاقہ ہو جائے ۔ حالات اب واقعی وہ نہیں رہے بلکه بہت بہتر ہو چکے ہیں بیٹا باپ کے کندھے سے کندھا جوڑے اس کا دست و بازو بنا ہوا ہے ۔۔ جلنے والے کا منہ کالا۔

    اری او چندا ! تکنیک کی تو تم بات ہی چھوڑو کہ وہ سب تو ہم نے ” غیروں” کے لیے سنبھال رکھی ہیں رہی نئی نسل تو وہ اب زرد پراپیگنڈوں پہ کان نہیں دھرتی۔ تاریخ کے کوڑے دان سے بیمار اور جانبدار بیانیہ کے بجائے ذکاوت ، دلیل اور ہماری خوبصورت اقدار میں گندھی ہوئی یہ دانی بینی پیڑھی حقیقی اور پائیدار بیانیوں میں یقین رکھتی ہے اور اس سے بڑھ کر لمبی زبانوں کو لگام دینا  بھی خوب جانتی ہے ۔

    جھلی چندا! خدا لگتی تو یہ ہے کہ چوہدراہٹ والی تو تو نے بونگی ہی ماری ہے۔ کس  گھر میں مسئلے نہیں ہوتے ؟ یہ گھر کے مسئلے ہیں اور گھر میں ہی حل ہو جائیں گے۔ان کے لیے پیٹ سے کپڑا اٹھا اٹھا کر جگ ہنسائی کا سامان فراہم کرنا نری بےوقوفی ہے۔

    میری مانو تو پرانوں شرانوں کے اشلوک چھوڑو اور قران سے لو لگاؤ کہ ہمارے لیے اصل راہنمائی وہیں سے پھوٹتی ہے۔ چاہو تو وقت نکال کر چائے کی پیالی پر مل بیٹھو کہ تبادلہ خیال تو ہو سکے۔  رہی شہہ تو وہ سرحد پار سے آرہی ہے نہ کہ مقامی کردار سے ۔ نہ جانے تمہاری معلومات ناقص ہیں یا تم جان کے گھنی بنی جاتی ہو۔

    باقی دلاری چندا ! دنیا تو دیکھ رہی ہے ۔۔ مان رہی ہے ۔۔ سرپھروں کی لازوال قربانی کو ۔۔ ذرا تم بھی آنکھیں کھول کر دیکھنے کی زحمت کر لو۔ تمہارے بے سر پیر کے "اولامے” پر تو میں اپنے دو عظیم ملکی شاعروں کی روح سے معذرت کے ساتھ اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ 

    "وہ جدھر بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا 
    جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں”

    (نوٹ: سفر میں ہونے کی وجہ سے موصوفہ کا کالم تاخیر سے دیکھا ورنہ نقد جواب چکا دیا جاتا۔)
    عاصمہ شیرازی کے جس کالم نے قلم اٹھانے پر مجبور کیا اسے ذیل کے لنک سے ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
    https://www.bbc.com/urdu/pakistan-48103207?ocid=socialflow_facebook