Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • تیز چلنا مختلف امراض اور موت کا خطرہ کم کرتا ہے، تحقیق

    تیز چلنا مختلف امراض اور موت کا خطرہ کم کرتا ہے، تحقیق

    ایک نئی تحقیق کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ اچھی صحت کو یقینی بنانا چاہتے ہیں تو دن بھر میں چند ہزار قدم چلنا عادت بنالیں۔

    باغی ٹی وی : یونیورسٹی آف سڈنی اور یونیورسٹی آف سدرن ڈنمارک کے محققین کے مطابق دن بھر میں 10 ہزار قدم چلنا مختلف امراض اور موت کا خطرہ کم کرتا ہےتحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ تیزرفتاری سے چلنا صحت کے لیے بہت زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

    اداسی محسوس ہو تو دریا یا نہر پر چلے جانا مزاج کو بہتر کر سکتا ہے،تحقیق

    تحقیق کے دوران 2013 سے 2015 کے دوران 78 ہزار سے زیادہ برطانوی شہریوں کی مانیٹرنگ وئیر ایبل ٹریکرز کے ذریعے کی گئی اور سات سال بعد ان کی صحت کے نتائج سے اس کا موازنہ کیا،اس تحقیق کے نتائج جرنل جاما انٹرنل میڈیسین اور جاما نیورولوجی میں شائع ہوئے۔

    ڈاکٹر میتھیو احمدی، جو اس مقالے کے مرکزی مصنف اور یونیورسٹی آف سڈنی کے ریسرچ فیلو ہیں، نے کہا کہ اس تحقیق سے پتا چلا ہے کہ روزانہ 10 ہزار قدم چلنے سے دماغی تنزلی کا خطرہ 50 فیصد جبکہ دل کی شریانوں کے امراض اور کینسر کا خطرہ 30 سے 40 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

    تیز رفتاری سے چلنا ڈیمنشیا، دل کی بیماری، کینسر اور موت سمیت تمام نتائج کے مزید فوائد سے وابستہ تھا تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ دن بھر میں 38 سو قدم چلنے سے بھی دماغی تنزلی کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

    تحقیق میں یہ بھی پتا چلا کہ ہر 2,000 قدموں پر قبل از وقت موت کا خطرہ 8 سے 11 فیصد تک کم ہو جاتا ہے ، جو کہ ایک دن میں تقریباً 10،000 قدموں تک ہے۔

    گاڑیوں کا دھواں مردوں سے زیادہ خواتین کی صحت کو متاثر کر سکتا ہے،محققین

    محققین نے کہا کہ جب دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھتی ہے اور خون زیادہ تیزی سے شریانوں میں بہتا ہے تو اس سے شریانوں کی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔ خون کا اضافی بہاؤ پورے جسم، دماغ اور مسلز سمیت دیگر اعضا کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے کینسر اور جسمانی ورم کے درمیان تعلق موجود ہے اور ورزش ورم کو کم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

    2019 میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، آپ کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے روزانہ 10,000 قدم چلنے کا خیال اصل میں ایک جاپانی کمپنی کی مارکیٹنگ حکمت عملی کے حصے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

    یونیورسٹی آف ساؤتھ آسٹریلیا کے رویے سے متعلق وبائی امراض کے محقق پروفیسر ٹِم اولڈز نے کہا کہ لوگوں کی اکثریت کے لیے وہ جتنی زیادہ ورزش کریں گے اتنا ہی بہتر ہوگا-

    محققین نے کہا کہ معمولات زندگی میں 10 ہزار قدم چلنا عادت بنانا زیادہ مشکل ہدف نہیں بس اس ہدف پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے معتدل آغاز کریں اور قدموں کی تعداد کو بتدریج بڑھاتے چلے جائیں۔

    دنیا کی پہلی اسپورٹس کارہوا میں پرواز کرنے کے لیے تیار

  • 100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

    100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

    برمنگھم:سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے بدھ کو اعلان کیا کہ انہوں نے صرف 100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت کیے ہیں۔ یہ دونوں ہمارے اپنے سیارےسےنمایاں طور پر بڑے ہیں اور ان میں سے ایک زندگی کے لیے موزوں بھی ہو سکتا ہے جن میں سے ایک کا ماحول ممکنہ طور پرزمین سے مشابہ ہوسکتا ہے۔

    ڈائنو سار کو ناپید کرنے والا شہاب ثاقب وسیع آتشزدگی کا سبب بنا

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق، سپر ارتھ نظام شمسی میں ایکسپوپلینیٹ کا ایک منفرد طبقہ ہے جو ہمارے سیارے سے زیادہ بڑے ہیں وہ گیس اور چٹان کے کچھ امتزاج سے بنتے ہیں اور زمین کی کمیت سے 10 گنا زیادہ ہو سکتے ہیں۔ناسا کے ٹرانزٹنگ ایکسپوپلینیٹ سروے سیٹلائٹ اوریونیورسٹی آف لیج کی سرچ فارہیبی ایبل سیاروں ایکلیپسنگ الٹراکول اسٹارز (SPECULOS) کے ذریعے دریافت ہونے والی یہ دریافتیں فلکیات اور فلکیاتی طبیعیات کے جریدے میں شائع کی جائیں گی۔

    LP 890-9 ستارے کے گرد دو ایگزو پلینٹ LP 890-9b اور LP 890-9c موجود ہیں جن میں قبل الذکر سیارہ پہلے ناسا کے ٹرازِٹنگ ایگزو پلینٹ سروے سیٹلائیٹ (TESS) نے دریافت کیا تھا۔

    2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع


    اس سیارے کی درجہ بندی یونیورسٹی آف برمنگھم میں نصب اسپیکیولوس (SPECLOOS) ٹیلی اسکوپ نے کی جس نے بعد ازاں دوسرے سیارے کو دریافت کیا LP 890-9b زمین سے 30 فی صد بڑا سیارہ ہے جس کا رداس 5,200 میل سے زیادہ ہے اور یہ اپنے مرکزی ستارے گرد چکر 2.7 دنوں میں مکمل کر لیتا ہے۔

    تاہم، LP 890-9c زمین سے 40 فی صد بڑا ہے اور اس کے مدار کا دورانیہ قدرے بڑا ہے۔ یہ اپنے مرکزی ستارے کے گرد 8.5 دنوں میں چکر مکمل کرتا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سیارے کے اور ستارے درمیانہ فاصلہ اس سیارے کو زندگی کے لیے سازگار بناتا ہےاسپیکیولوس ٹیلی اسکوپ کا مقصد ہمارے نظامِ شمسی سے باہر ایسے چٹیل سیارے ڈھونڈنا ہے جس کا ماحول زندگی کے لیے سازگار ہو۔

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ 26 ستمبر کو سیارچے سے ٹکرائے گا،ناسا

    اسپیکیولوس ٹیم، جس نے دوسرے سیارے کی دریافت میں مدد دی، کی رہنمائی کرنے والے پروفیسر امورے ٹرائیڈ کا کہنا تھا کہ ہیبیٹیبل زون ایک ایسا خیال ہے جس کے تحت وہ سیارہ جس کے ارضیاتی اور ماحولیاتی صورت زمین کے مشابہ ہوتا ہے اور اس کی سرزمین پر درجہ حرارت پانی کو اربوں سالوں تک مائع حالت میں رہنے دیتا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ دریافت ہمیں سیارے کے متعلق مزید مشاہدات کرنے کا موقع دیتی ہے کہ آیا اس کا کوئی ماحول ہے اور اگر ایسا ہے تو کیا وہ زندگی گزارنے کے قابل ہے کہ نہیں۔

    گرین لینڈ میں پگھلنے والی برف سطح سمندرمیں ایک فِٹ تک کا اضافہ کرسکتی ہے، تحقیق

  • ڈائنو سار کو ناپید کرنے والا شہاب ثاقب وسیع آتشزدگی کا سبب بنا

    ڈائنو سار کو ناپید کرنے والا شہاب ثاقب وسیع آتشزدگی کا سبب بنا

    محققین کا کہنا ہے کہ جس شہابِ ثاقب نے ڈائنو سار کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا تھا اس کے سبب 2500 کلومیٹر رقبے پر محیط جنگلات آگ کی لپیٹ میں آگئے تھے۔

    باغی ٹی وی :6.6 کروڑ سال قبل کریٹیسیئس دور کے آخر میں تقریباً 10 کلومیٹر چوڑا سیارچہ جزیرہ نما یوکاٹین (جو آج کا میکسیکو ہے) سے ٹکرایا تھا اس تصادم کے نتیجے میں ڈائنو سار کے ساتھ زمین پر رہنے والے تقریباً 75 فی صد نباتات اور جانور ختم ہوگئے تھے اس تباہی کا ایک حصہ اس تصادم سے جنگلات میں لگنے والی آگ کو بھی قرار دیا جاتا ہے۔

    22 کروڑ 50 لاکھ سال قبل معدوم ہو جانے والا ممالیہ دریافت

    اسکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف ایبرڈین سے تعلق رکھنے والے ارضیاتی سائنس دان نے تصادم کے وقت کی چٹان کا معائنہ کیا جس سے انہیں معلوم ہوا کہ کچھ آتشزدگیاں سیارچہ ٹکرانے کے چند منٹوں بعد ہی شروع ہوگئی تھیں۔

    پروفیسر بین نیلر کا کہنا تھا کہ اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ آگ تصادم کا براہ راست نتیجہ تھی؟ یا بعد میں لگی تھیں۔ کیوں کہ نباتات تصادم کے بعد ماحول میں اڑنے والے ملبے کی وجہ سے ہونے والے اندھیرے کی وجہ سے تباہ ہوئے تھے۔

    سائنسدانوں نے دنیا کے تنہا ترین درخت سے امیدیں باندھ لیں

    انہوں نے مزید کہا کہ بالآخر ہماری تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ تباہ کن آگ لگنا کیسے اور کب شروع ہوئیں اور ایک صاف مگر خوف ناک تصویر پیش کرتی ہے کہ شہابِ ثاقب کے گرنے کے بعد فوری طور پر کیا ہوا ہوگا۔

    ایک طویل عرصے سے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ غیر پرندوں کے ڈائنوسار 65 ملین سال پہلے ختم ہو گئے تھے لیکن پال بتاتے ہیں، ‘دنیا بھر میں مٹی کی ان تہوں کی ڈیٹنگ بہت درست ہے – اس کا اندازہ چند ہزار سالوں میں لگایا گیا ہے حالیہ ریڈنگ نے اسے بہتر کیا ہے، اور ڈایناسور کے معدوم ہونے کی تاریخ 66.0 ملین سال پہلے کی ہے۔

    2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع

  • جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ستاروں کی نرسری دریافت کر لی

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ستاروں کی نرسری دریافت کر لی

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے جو ٹیرنٹیولا نامی نیبیولا کی ستاروں کی نرسری میں موجود ہزاروں نو عمر ستارے دریافت کیے ہیں۔

    باغی ٹی وی : اس خلائی نرسری کو آفیشلی 30 ڈوراڈس کا نام دیاگیا ہے اور یہ 1 لاکھ 61 ہزار نوری سال کےفاصلے پر لارج میگا لینک کلاؤڈ کہکشاں میں موجود ہے یہ کہکشاں ہماری کہکشاں ملکی وے سےقریب موجود تمام کہکشاؤں میں ستارے بنانے والی سب سے بڑی اور روشن کہکشاں ہے۔

    نظامِ شمسی کے قریب زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت


    امریکی خلائی ایجنسی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ایک لمحے کے لیے ٹیرنٹیولا نیبیولا میں موجود ہزاروں ستاروں کو دیکھئےجن کو پہلےکبھی نہیں دیکھا گیا۔ نیبولا طویل عرصے سے ستاروں کی تشکیل کا مطالعہ کرنے والے ماہرین فلکیات کے لئے پسندیدہ رہا ہے۔ نوجوان ستاروں کے علاوہ، ٹیلی اسکوپ نے نیبیولا کے ڈھانچے اور ترتیب کے ساتھ اس کے پس منظر میں موجود کہکشائیں بھی تفصیلاً دِکھائی ہیں علاوہ نیبولا کی گیس اور دھول کی تفصیلی ساخت اور ساخت کو بھی ظاہرکیا ہے-


    ناسا نے اپنے بلاگ میں لکھا کہ ٹیرینٹیولا نیبیولا کا نام اس کی غبار آلود دھاریوں کی وجہ سے پڑا۔ یہ ہماری کہکشاں کے قریب سب سے بڑا اور روشن ستارہ ساز خطہ ہے۔ یہ اب تک دریافت ہونے والے گرم ترین اور بڑے ستاروں کا گھر ہے یہ مشہور ترین، سب سے بڑے ستاروں کا گھر ہے۔ ماہرین فلکیات نے ویب کے تین ہائی ریزولوشن انفراریڈ آلات کو ٹیرینٹیولا پر مرکوز کیا۔

    چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلاءبازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی موجود


    ناسا کےمطابق یہ نیبیولا ہمیں بتاتی ہے کہ خلائی تاریخ میں ستارہ بننے کا عمل جب عروج پر ہوگا تو کیسا دِکھتا ہوگا انفراریڈ طول موج پر ویب کے ہائی ریزولوشن سپیکٹرا کے بغیر، ستارے کی تشکیل کے عمل کا یہ واقعہ سامنے نہیں آ سکتا تھا۔


    ٹیرینٹیولا نیبیولا میں ماہرینِ فلکیات اس لیے بھی دلچسپی لیتے ہیں کہ اس میں اس ہی طرح کے کیمیائی مرکبات ہیں جو کائنات کے بڑے ستارہ ساز خطوں میں دیکھے گئے ہیں جس کو ’کائناتی صبح‘ کاکہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جب کائنات چند ارب سال پُرانی تھی اور ستارے بننے کا عمل عروج پر تھا۔

    جیمز ویب کی تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی نشاندہی

  • ڈیپ فیک ٹیکنالوجی، آپ نہیں مگر آپ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ڈیپ فیک ٹیکنالوجی، آپ نہیں مگر آپ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دورِ جدید میں مصنوعی ذہانت یا آڑٹفیشل انٹلیجنس آئے روز بہتر سے بہتر ہو رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی بنیاد مشین لرننگ پر ہے۔ جس طرح ایک بچہ اپنے ماحول سے سیکھ کر خود میں بدلاؤ لاتا ہے بالکل ایسے ہی مصنوعی ذہانت کا پروگرام کمپیوٹر کی طاقت سے اس میں فیڈ کیے گئے ڈیٹا کی مدد سے سیکھتا ہے۔ آج دنیا میں ہر روز تقریباً 2.8 quintillion byte ڈیٹا جنریٹ ہوتا ہے۔ یہ ڈیٹا میں، آپ اور دُنیا بھر کے اربوں لوگ انٹرنیٹ کے استعمال سے، سوشل میڈیا پر پوسٹس، ویڈیوز، ای میلز، وٹس ایپ،آن لائن شاپنگ وغیرہ کے ذریعے جنریٹ کرتے ہیں۔

    ماضی میں انسانوں کے پاس اس قدر ڈیٹا موجود نہیں تھا۔ مگر آج شاید فیس بک یا وٹس ایپ کو آپ سے زیادہ آپکا پتہ ہے۔ وہ چیزیں جو ماضی میں اپ ان پلیٹ فارمز پر لگا کر بھول چکے ہیں وہ بھی انکے پاس محفوظ ہے۔

    اس قدر ڈیٹا ہونے کے بعد یہ قدرِ آسان ہو گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو انسانوں یا انسانی رویوں کے بارے میں سکھایا جائے۔ کچھ عرصہ قبل ایک روبوٹ محض یوٹیوب پر کھانا پکانے کی ہزاروں ویڈیوز دیکھ دیکھ کر ہی کوکنگ سیکھ گیا۔ مصنوعی ذہانت ایک بہت ہی طاقتور ٹیکنالوجی ہے مگر اسکا غلط استعمال بھی ممکن ہے۔ جس میں سب سے زیادہ بات آج کے دور میں ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کی ہوتی ہے۔

    کسی کے چہرے پر کسی اور کا چہرا لگا کر یہ تاثر دلانا کہ یہ دراصل دوسرا شخص ہے کوئی نئی بات نہیں ۔ماضی میں بھی لوگ کس مہارت سے پاسپورٹس پر تصاویر تبدیل کر دیا کرتے۔ ایک تصویر پر دوسری تصویر لگا کر اسے یوں کاپی کرتے کہ اصل کا گماں ہوتا۔ مگر کمپوٹر اور اسکے جدید سوفٹویئرز کے آنے سے یہ سلسلہ آسان ہوتا گیا۔ شروع شروع میں لوگ ایڈوب فوٹو شاپ اور مائکروسافٹ پینٹ جیسے سافٹ وئیرز پر ایسا کرتے ۔ اس میں حقیقت سے قریب تر ہونے کا گمان، سافٹ ویئر استعمال کرنے والے آدمی کی مہارت پر منحصر ہوتا۔ مگر اب یہی سب زیادہ بہتر اور اصل نقل کی پہچان کے فرق کو مٹاتی مصنوعی ذہانت کی حامل ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کرتی ہے۔

    ڈیپ فیک ٹیکنالوجی میں دراصل ایسے الگورتھمز استعمال ہوتے ہیں جو دنیا بھر کے انسانوں کے چہرے، اُنکے چہرے کے تاٹرات، اُنکی معمولی سے معمولی چہرے کی حرکت، بولنے ، چلنے کا انداز، وغیرہ وغیرہ جیسی تفصیلات کو پڑھتے ہیں اور اس سے انسانی چہروں میں موجود مشترکہ فیچرز کو نوٹ کرتے ہیں۔ یہ بہت بڑا ڈیٹا سیٹ ہوتا یے جسکے لیے ایک نہیں بلکہ کمپیوٹرز کا پورا نیٹ ورک کام کرتا ہے جسے نیورل نیٹ ورک کہتے ہیں۔ جہاں مختلف کمپیوٹر ایک مسئلے کو مختلف حصوں میں توڑ کر آپس میں مل کر کام کرتے ہیں اور یہ کسی مسئلے کی پیچیدگی کے اعتبار سے اپنے مختص کام کو بدلتے رہتے ہیں تاکہ بہتر سے بہتر حل ڈھونڈا جا سکے۔ یہ بے حد طاقتور اور تیز طریقہ کار ہے۔ جس سے گھنٹوں کا کام سیکنڈز میں ہو سکتا ہے۔

    اس نیورل نیٹ ورک کی بدولت ڈیپ فیک حقیقت سے قریب تر نقلی ویڈیوز بنانے میں مہارت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ فرض کیجئے اپ نے اپنا چہرا ٹام کروز کی فلم مشن امپاسبل کے جہاز والے سین میں لگانا ہے۔ تو اب آپ کیا کریں گے کہ کسی ڈیہ فیک ایپ پروگرام میں ٹام کروز کی فلم کا وہ سین ڈالیں گے اور ساتھ ہی اپنی کوئی تصویر۔ اب یہ پروگرام کرے گا یہ کہ اس سین میں اور باقی انٹرنیٹ یا ڈیٹا سیٹ سے ٹام کروز کے چہرے کو پڑھے گا اور پھر آپکی تصویر کو ہرہر فریم میں یوں ڈھال کر لگائے گا کہ آپکے چہرے کے مصنوعی طور پر بنائے گئے تاثرات ٹام کروز کے چہرے کے تاثرات اور حرکات سے ہم میل کھانا شروع کر دیں۔ اسکے بعد یہ اسے مزید بہتر بنانے کے لئے بار بار چلا کر دیکھے گا کہ آیا کوئی خامی تو نہیں رہ گئی۔ یوں آپ یا کوئی بھی جب ڈیپ فیک سے بنائی ویڈیو دیکھے گا تو اُسکے لیے یہ جاننا مشکل ہو جائے گا کہ یہ اصلی ہے یا نقلی۔

    بالکل ایسے ہی اپ اسکا اُلٹ بھی کر سکتے ہیں یعنی آپ اپنی کسی ویڈیو میں ٹام کروز کو بولتا دکھا دیں۔

    ڈیپ فیک کے جہاں انٹرٹینمنٹ اور فلم انڈسٹری کو فائدے ہیں وہیں اسکا غلط استعمال بھی دردِ سر بن سکتا ہے۔ کئی سیاستدانوں، اہم شخصیات، شوبز کے لوگوں کی اس طرح کی نقلی ویڈیوز بنا کر دنیا میں غلط خبریں پھیلائی جا سکتی ہیں جس سے جنگ کی سی صورتحال بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔ یوکرین اور روس کی حالیہ جنگ میں ڈیپ فیک کا بے حد استعمال نظر آ رہا کے جہاں ملکوں کے صدور می نقلی ویڈیوز بنا کر دونوں ملکوں کی عوام تک غلط معلومات پہنچا کر جنگ کے حوالے سے انکا رویہ اور حمایت بدلنے کی کوشش کی جار رہی ہے ۔ ڈیپ فیک کر استعمال سے کسی انسان کی زندگی بھی تباہ کی جا سکتی ہے۔۔خاص طور پر خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنا کر معاشرے میں اُنکے مقام کو متنازع بنایا جا سکتا ہے۔ لہذا اس حوالے سےبین الاقوامی سطح پر قانون سازی کی ضرورت ہے۔ جسکا فی الحال پوری دنیا میں خاطر خواہ فقدان ہے۔

  • خوراک کا ضَیاع!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    خوراک کا ضَیاع!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    "باجی مرچیں ہیں۔ گھر میں ختم ہو گئی ہیں”

    "چاچی پیاز مل سکتا ہے؟ کل ابا جی بازار سے لانا بھول گئے”

    پاکستان میں ایک زمانے میں گھروں میں یہ عام رواج ہوتا۔ کھانا بنانے کے دوران اگر کوئی سبزی یا روزمرہ کے پکانے کی شے ختم وہ جاتی تو پڑوسی یا محلے میں کسی سے مانگ لی جاتی۔ زمانہ بدل گیا۔۔لوگ اچھی عادتیں بھول کر کہیں اور نکل گئے۔ ایک ایسی دوڑ میں جسکی کوئی سمت نہیں۔

    یہ بات مجھے اقوام متحدہ کے خوراک اور زراعت کے ادارے کی ایک رپورٹ ہڑھتے ہوئے یاد آئی۔ اس رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں انسانوں کے استعمال کے لیے ہیدا کی جانے والی خوراک کا ایک تہائی ہر سال ضائع ہو جاتا ہے۔ 2021 کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر کی 14 فیصد خوراک کھیتوں یا فارمز سے منڈیوں اور مارکیٹ تک آنے میں ضائع ہو جاتی ہے جسکی کل مالیت تقریباً 400 ارب ڈالر بنتی ہے۔

    جبکہ 17 فیصد خوراک مارکیٹوں سے گھر میں پڑی پڑی خراب ہو جاتی ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال 930 ملین ٹن خوراک ضائع ہوتی ہے۔جس میں سے 569 ملین خوراک گھروں میں استعمال نہ ہونے کے باعث کوڑے دانوں کا نصیب بنتی ہے ۔ دنیا کا ہر فرد اوسطاً سالانہ 74 کلو گرام خوراک ضائع کرتا ہے۔ مگر حیران مت ہوں یہ اوسط ہے۔ بہت سے لوگوں کو سمجھانے کے لیے کہ اوسط کا مطلب دراصل یہاں کل خوراک کے ضیاع اور دنیا کی کل آبادی کا تناسب ہے۔

    آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک چین، دنیا کا سب سے زیادہ خوراک ضائع کرنے والا ملک ہے جہاں ہر سال تقریباً 92 ملین ٹن چوراک ضائع ہوتی ہے ۔ اسی طرح بھارت دوسرا بڑا خوراک ضائع کرنے والا ملک ہے جبکہ امریکہ اور پھر بڑے ہورپی ممالک جیسے فرانس اور جرمنی۔

    مگر یہ تصویر مکمل نہیں کیونکہ ظاہر ہے جس ملک کی آبادی زیادہ ہو گی وہاں کل خوراک کا ضیاع بھی زیادہ بنے گا۔ اس لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کس ملک کا شہری سالانہ کتنی نخوراک ضائع کرتا ہے۔

    تو اس پر پہلے نمبر پر براجمان ہیں نائجیریا جہاں ہر شہری سالانہ 189 کلو گرام خوراک ضائع کرتا ہے۔۔جبکہ دوسرے اور تیسرے نمبر پر عراق اور سعودی عرب ہیں۔

    پاکستان میں ہر شہری سالانہ 74 کلو گرام خوراک ضائع کرتا ہے۔اور یوں پاکستان اس رینکنگ میں سترویں نمبر پر ہے۔ یہ اعداد و شمار 2020 کے ہیں۔

    یہاں یہ بتانا ضروری کے کہ پاکستان میں خوراک کی مناسب ترسیل ، سٹوریج اور بہتر دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث زیادہ تر خوراک منڈیوں تک آتے ہی خراب ہو جاتی ہے ۔

    ایک ایسا ملک جہاں غذائی ضروریات کی پہلے سے ہی قلت ہے اور خوراک ایک مسئلہ بننے جا رہی ہو وہاں حکومت اور عوام دونوں کی بے حسی دیدنی ہے۔

    حکومت کیطرف سے اس حوالے سے مناسب پالیسیوں کا فقدان اور غیر سنجیدگی اورعوام کی جانب سے خوراک کے ضیاع کی عادت، اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہم نے نہ جاگنے کی قسم کھائی ہے۔

    خوراک کے ضیاع سے بچنے کے لیے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کئی طریقے اپنا رہے ہیں۔ کچھ حکومتی سطح پر اور کچھ عوامی سطح پر۔

    حکومتیں مارکیٹوں کو پابند کر رہی ہیں کہ زائد المعیاد اشیاء کو خراب ہونے سے قبل سستے داموں یا مفت بیچ دیا جائے ورنہ خوراک کے ضیاع پر انہیں کو جرمانہ عائد ہو گا۔جبکہ عوامی سطح پر کئی ممالک میں ٹیکنالوجی کی مدد سے خوراک کے ضیاع کے مسئلے کو حل کیا جا رہا ہے۔

    اس حوالے سےبرطانیہ میں ایک ایپ بنائی گئی ہے OLIO جہاں اگر اپکے پڑوسی کے پاس اضافی خوراک ہے تو وہ ایپ پر بتا سکتا ہے اور آپ اسے مفت حاصل کر سکتے ہیں۔

    ویسے انگریز کیسے کہتے ہوں گے؟

    "نی مارگریٹ تیرے کول بلیک پُڈِنگ ہے؟ ”

    میری مُک گئی سی۔”

  • اپنے گھوڑے تیار رکھو — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    اپنے گھوڑے تیار رکھو — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    اس سال کی طوفانی بارشوں اور سیلاب کی تباہی سے اگر کوئی ایک انتہائی اہم سبق سیکھا جا سکتا ہے تو وہ ہے “بروقت تیاری”۔ ہم اپنے سر پر کھڑی موسمیاتی تبدیلی کی اتنی بڑی آفت سے آنکھیں بند کرکے حسب معمول کالا باغ ڈیم بنانے یا نہ بنانے کی بحث کرنے، کرپشن کے قصوں کے چسکے لینے اور اپنے اپنے سیاسی لیڈروں سے وفاداری نبھانے میں مصروف ہیں۔کہا جاتا ہے کہ جب ہلاکو خان کی فوج بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے شہر کے دروازے پر پہنچ چکی تھی تو شہر میں موجود عالم لوگ اس بحث میں مصروف تھے کہ سوئی کے چھید سے کتنے فرشتے گزر سکتے ہیں۔

    ماحولیاتی سائنسدان تو پچھلے بیس پچیس سال سے وقتا فوقتا موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں خبردار کر رہے تھے لیکن پاکستان میں اس سال اسے حاضر کی آنکھ سے دیکھا ہے جب سال کے پہلے نصف میں انتہا کی خشک سالی اور پھر جولائی سے شروع ہونے والی طوفانی بارشیں جونہ صرف پانی کی مقدار کے لحاظ سے بہت زیادہ تھیں بلکہ جن علاقوں میں ہوئی ہیں وہ عام طور پر مون سون کی بارش والے علاقے نہیں سمجھے جاتے جیسا کہ مغربی بلوچستان اور سندھ۔ ان کا آغاز کراچی میں خلاف معمول تباہ کن بارشوں سے ہوا۔

    پنجاب جسے روایتی طور پرمون سون کا مرکز مانا جاتا ہے وہاں اس دفعہ معمول کی بارش ہوئی اور کوئی دریائی طغیانی یا سیلاب نہیں آیا۔ کوہ سلیمان اور وسیب کا سیلاب بھی خلاف معمول تھا۔شمالی علاقوں خصوصا سوات میں بھی سیلاب نے 2010 کے سپر فلڈ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

    سیلاب سے متاثر ہونے والی ہماری آبادی دنیا کے 150 ملکوں کی انفرادی آبادیوں سے زیادہ ہے اور سیلاب سے متاثرہ رقبہ بھی دنیا کے 150 ملکوں کے انفرادی رقبے سے زیادہ ہے۔ اس وقت جتنے پاکستان کے جتنے علاقے پر سیلاب کا پانی کھڑا ہے وہ دنیا کے 100 ملکوں کے انفرادی علاقے سے بھی بڑا ہے۔

    تباہی بہت بڑی ہے اور ہم سے کچھ نیا کرنے کو مانگتی ہے کیونکہ ایسے حالات میں معمول کی ترکیبیں یا اقدامات کام نہیں آئیں گے۔سب سے اہم بات تو اگلی آفت سے پہلے آفت کی تیاری ہے تاکہ ہم جانی و مالی نقصانات سے بچ سکیں۔اس تیاری کے لئے جو وسائل چاہئے ہوں گے وہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کے نقصانات سے انتہائی کم ہیں۔

    دنیا کے ماحول کو گندہ کرنے والے ممالک جن میں چاچا سام پیش پیش ہے نے گرین کلائمیٹ فنڈ کو جو 10 بلئین ڈالر سے زیادہ کی فنڈنگ دی ہے وہ رشوت کے پیسوں سے صدقہ کرنے کے مترادف ہے لیکن ہم اس سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکے اور پچھلے اتنے سالوں میں کوئی منصوبہ بنا کر لانچ نہیں کر سکے۔ مجبوری میں امیر ملکوں کی طرف سے قائم کیا گیا یہ فنڈ بھی صدقہ خیرات یا قرض معاف کرنے کے لئے نہیں بلکہ قابل عمل زمینی منصوبوں کے لئے ہے۔

    پاکستان کو بھی اس موسمیاتی تبدیلی کے خطرے کو سمجھتے ہوئے پر اپنی ترجیحات طے کرنی چاہئیں۔

    فوری ردعمل والے سیلاب کے پیشگی اطلاعاتی نظام بنانے ہوں گے۔

    سیلابی علاقوں کی نقشہ بندی کرکے آفت کی صورت میں محفوظ پناہ کے علاقے تلاشنے ہوں گے۔

    آفت کی صورت میں پانی، خوراک اور آمدورفت کو رواں رکھنے کا سوچنا ہوگا۔

    سیلابی پانیوں کو راستہ دینا ہوگا اور ان کی راہ میں رکاوٹوں کو ختم کرنا ہوگا۔

    تمام انفراسٹرکچر منصوبے بشمول سڑکیں پانی دوست بنانا ہوں گے۔

    سیلاب کے بعد کھڑے ہونے والے پانی کی نکاسی کے مقامی پلان بنانے ہوں اور ان سب کاموں میں معیشت کو مضبوط کرنے کے بے انتہا مواقع چھپے ہوئے ہیں

    جتنے بڑے خطرے کی طرف ہم بڑھ رہے ہیں اس کا حل آفت کو قابو کرنے کی بجائے اسے گلے لگانے میں ہے۔اپنے آپ کو آفت کا عادی بنانے میں ہے۔دنیا کی بہت سی مخلوقات حتی کہ بڑے بڑے ڈائنوسار بھی ارتقا کے عمل میں ختم ہوگئے لیکن کمزور حضرت انسان اس دھرتی پر اس لئے دندناتا پھر رہا ہےکہ اللہ نے انسان کو ماحول کے مطابق ڈھالنے کی بے پناہ صلاحیت رکھی ہے۔ “جو ڈھل گیا وہ چل گیا”

    اس ساری صورت کا مثبت پہلو درد دل رکھنے والے وہ افراد یا سماجی بھلائی کی تنظیمیں ہیں جو آفت کے آتے ہی اپنے آپ متحرک ہوئے اور جس کاجو سمجھ آتا تھا اس نے کر ڈالا ۔ ریسکیو، کھانا، راشن، خیمے ، کیش، کپڑے اور گھروں کی دوبارہ تعمیر میں مصروف ہوگئے۔

    مستقبل کی آفت کی تیاری کے عمل میں ایسے لوگ اور تنظمیں ریڑھ کی ہڈی ہیں جو آگے بڑھ کر مقامی طور پر لوگوں کی ذہن سازی، عوامی بیداری اور آفت سے پہلے بچاو کے پروگراموں کو عوام میں کامیاب بنا سکتے ہیں۔ یہ کام جتنا زیادہ سے زیادہ مقامی سطح پر ہوگا،اتناموثر ہوگا۔اس کام کے لئے مرکز یا صوبوں کی سطح پر قائم ادارے فوری اور موثر رد عمل نہیں دے سکتے۔

    کاش ہم جنگ سے پہلے اپنے گھوڑے تیار رکھنے کی عادت اپنا لیں۔

  • امریکی محکمہ ڈاک نے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کا یادگاری ٹکٹ کا جاری کر دیا

    امریکی محکمہ ڈاک نے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کا یادگاری ٹکٹ کا جاری کر دیا

    واشنگٹن: امریکا کے محکمہ ڈاک نے ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی یادگاری کے طور پر نیا ڈاک ٹکٹ جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : امریکا کے محکمہ ڈاک اور ناسا کی جانب سے جمعرات کے روز یہ یادگاری ٹکٹ دارالحکومت واشنگٹن میں قائم اسمتھ سونینز نیشنل پوسٹل میوزیم میں جاری کیا گیا۔

    2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع

    ٹکٹ پر ٹیلی اسکوپ کی تصویر بنائی گئی ہےجبکہ نیچے کی جانب ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سفید حروف میں لکھا گیا ہے۔ یہ ایک ’فارایور‘ اسٹیمپ ہوگا جس کو استعمال کرتے ہوئے مستقبل میں کبھی بھی ڈاک بھیجی جاسکے گی۔

    امریکا کی پوسٹل سروس کے بورڈ آف گورنرز کے وائس چیئر مین اینٹن ہیجر کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ زمین سے لاکھوں کلو میٹر دور سورج کے گرد گھوم رہی ہے اب یہ اس نئے فار ایور اسٹیمپ کے اجراء کے بعد امریکا کے ڈاک کے نظام میں بھی سفر کیا کرے گی۔

    جیمز ویب بنیادی طور پر انفراریڈ روشنی کے ذریعے فلکی اجسام کو دیکھنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے 10 ارب ڈالرز کی مالیت سے بنائی گئی یہ ٹیلی اسکوپ خلاء سے کائنات کی حیران کن تصاویر زمین پر بھیج رہی ہے۔ اس کو خلاء میں بھیجنے کا مقصد کائنات کے ابتداء کے متعلق معلومات اکٹھی کرنا ہے۔

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ 26 ستمبر کو سیارچے سے ٹکرائے گا،ناسا

    سائنسدانوں کے مطابق ہماری اس کائنات کا آغاز تقریباََ ساڑھے تیرہ ارب سال قبل ایک بہت بڑے دھماکے (بگ بینگ) کے ذریعے ہوا تھا۔ کائنات کے آغاز میں (یعنی ابتدائی چند کروڑ سال میں ) جو کہکشائیں وجود میں آئیں، ان سے نکلنے والی روشنی خلا میں تیرہ ارب سال سے سفر کر ہی ہے۔

    اتنا زیادہ عرصہ گزرنے کی وجہ سے یہ روشنی بہت مدھم ہو چکی ہے اور عام دور بین کے لیے اس کی شناخت ممکن نہیں رہی۔جبکہ جیمز ویب کو خصوصی طور پر اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ وہ اس مدھم اور تھکی ہوئی روشنی کو محسوس کر سکتی ہے۔

    جس طرح ہبل ٹیلی اسکوپ کا نام مشہور ماہر فلکیات ایڈوِن ہبل کے نام پر رکھا گیا تھا جس نے سب سے پہلے کائنات کے پھیلائو کا نظریہ پیش کیا تھا۔ اسی طرح جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کا نام بھی جیمز ای ویب نامی سائنسدان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ان کے نا م پر رکھا گیا گیا ۔

    جیمز ای ویب نے 1961 سے 1968 کے درمیان ناسا کے ایڈمنسٹریٹر کے طور پر کام کرتے ہوئے چاند پر بھیجے جانے والے اپالومشن سمیت مرکری اور جیمنی جیسے کئی نئے مشن ترتیب دئیے تھے۔

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

  • گاڑیوں کا دھواں مردوں سے زیادہ خواتین کی صحت کو متاثر کر سکتا ہے،محققین

    گاڑیوں کا دھواں مردوں سے زیادہ خواتین کی صحت کو متاثر کر سکتا ہے،محققین

    ماہرین نے تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ گاڑیوں کا دھواں مردوں سے زیادہ خواتین کی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : یونیورسٹی آف مینیٹوبا میں کی جانے والی اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پیٹرول یا ڈیزل کے دھوئیں کی وجہ سے جسم میں ایسے پروٹینز کی سطح بلند ہوتی ہےجن کا تعلق امراضِ قلب سے ہے یہ تحقیق مہینے میں 3 مختلف موقعوں پر کی گئی جس میں ڈیزل کی 3 مختلف مقدار والا دھواں استعمال کیا گیا۔

    پہلی نظر میں محبت کا ہونا صرف افسانوی باتیں ہیں،تحقیق

    تحقیق کے لیے ایسے 10 افراد کا انتخاب کیا گیا جو سیگریٹ نوشی نہیں کرتے تھے، ان 10 افراد میں 5 خواتین اور 5 مرد شامل تھے تمام افراد کو ایک وقت میں 4 گھنٹوں تک مسلسل دھوئیں میں سانس لینے کو کہا گیا تھا لیکن دھوئیں میں وقت گزارنے سے قبل وہ 4 گھنٹے صاف شفاف ہوا میں گزارتے تھے۔

    محققین نےڈیزل کےدھویں سےخواتین اورمردوں دونوں کےخون کےاجزاء میں ہونےوالی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا جن کا تعلق سوزش، انفیکشن اور امراضِ قلب سے تھا لیکن خواتین میں ایسے پروٹینز کی سطح میں زیادتی پائی گئی جوکہ شریانوں کو سخت کرتے ہیں۔

    اس تحقیق میں شامل یونیورسٹی آف مینیٹوبا کی ایک پروفیسر نیلوفر مُکھرجی کا کہنا ہے کہ یہ ابتدائی نتائج ہیں جوکہ یہ بتاتے ہیں کہ ڈیزل کے دھوئیں کے خواتین پر مختلف قسم کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    اگرچہ اس بات کی تصدیق کے لیے ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے، لیکن ماہرِین کے مطابق ایسی صورتحال میں دل کا دورہ پڑنے یا فالج ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اس تحقیق کے نتائج بارسلونا میں منعقد ہونے والی یورپین ریسپائریٹری سوسائٹی انٹرنیشنل کانگریس میں پیش کیے گئے۔

    پچھلے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین میں ان مادوں کے خلاف مدافعتی ردعمل زیادہ ہوتا ہے جو ان کے ایئر ویز کو پریشان کرتے ہیں، جیسے گھریلو دھول مردوں کے مقابلے میں، اس بات کے الگ ثبوت ہیں کہ خواتین سانس کے انفیکشن اور دمہ کا زیادہ شکار نظر آتی ہیں۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

  • ڈیم سیلاب کو روک سکتے ہیں ؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ڈیم سیلاب کو روک سکتے ہیں ؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ‎موجودہ سیلابی صورت حال کی آڑ لے کر ایک مخصوص لابی یہ ڈیم مخالف جذبات ابھارنے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ ڈیم سیلاب کو نہیں روک سکتے ۔ میری رائے میں تو جو بندہ ایسی عامیانہ بات کرتا ہے شائد وہ ڈیم کے کام کرنے کی سائنس سے نابلد ہے ۔

    ‎ورلڈ کمیشن آن لارج ڈیمز کے ڈیم رجسٹر مطابق اس وقت پوری دنیا میں بنائے گئے ڈیموں کی کل تعداد 58,000 ہے جس میں سے آدھے سے زیادہ ڈیم صرف ہمارے دو پڑوسی ملکوں چین اور ہندوستان میں ہیں۔ جی ہاں 24,000 ڈیم چین میں اور 4،400ڈیم انڈیا میں۔

    ‎پاکستان کے ڈیموں کی تعداد 500 بھی نہیں بنتی جس میں اصلی نسلی بڑے ڈیم ایک درجن بھی نہیں اور ہمارے ہاں ڈیم نہ بنانے کی تحریک چل رہی ہے اور ہمیں ٹی چینلز کے ٹاک شوز میں امریکہ میں ڈیم ختم کرنے کی مثالیں دی جاتی ہیں جس نے خود 10,000 ڈیم بنا رکھے ہیں۔

    ‎کوئی بھی بڑا ڈیم کثیر المقاصد ہوتا ہے۔ ڈیم کا بنیادی کام پانی کو ذخیرہ کرنا ہوتا ہے جسے بعد ازاں آب پاشی اور زراعت، بجلی بنانے ،صنعتی اور گھریلو استعمال ، ماحولیاتی بہتری ، ماہی گیری ، سیاحت اور زیر زمین پانی کی سطح بلند کرنے کے کام میں لایا جاتا ہے۔

    ‎اوپر دئے گئے مقاصد کے ساتھ ساتھ ڈیم مفت میں سیلاب کا زور توڑنے کا کام بھی کرتا ہے اور ایک سے زیادہ ڈیم اوپر نیچے ہوں تو وہ سیلاب کا سارا پانی ذخیرہ کرکے سیلابی تباہی روک لیتے ہیں۔

    ‎دنیا کے ہر ڈیم ،خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ، اس کے ڈیزائن کا بنیادی مقصد ہی پیچھے سے آنے والے بڑے سیلابی ریلے کا زور توڑ کر اسے چھوٹے کمزور ریلے میں بدل کر آگے بھیجنے کے اصول پر بنا ہوتا ہے اور اگر دریائی گزرگاہوں پر اوپر تلے ایسے ڈیم بنا دئے جائیں تو بڑے سیلابی ریلے اپنی موت آپ مر جاتے ہیں ۔ ٹیکنیکل زبان میں اسے فلڈ راوٹنگ یا پھر فلڈ پیک اٹینوایشن کہتے ہیں جس کا گراف پوسٹ کے ساتھ لگا ہوا ہے۔

    ‎امریکہ کی معیشت ہوور ڈیم کے بعد ہی سنبھلی اور چین نے سنبھلتے ہی دنیا کا سب سے بڑا تھری گور جز ڈیم کے نام سے بنایا اور تو اور افریقہ کے قحط زدہ ملک ایتھوپیا نے سنبھلتے ہی دریائے نیل پر میکینئیم ڈیم بنا دیا ہے ۔ صرف یہ ایک ڈیم 6,000 میگاواٹ تک بجلی بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے جو کہ تربیلا ڈیم سے بہت زیادہ ہے۔

    ‎پاکستان میں بارشیں سال کے صرف تین مہینوں میں ہوجاتی ہیں جب کہ ہماری فصلوں کو سارا سال پانی چاہئے ہوتا ہے۔ ڈیمانڈ اور سپلائی کے فرق کو صرف اسٹوریج سے ہی پورا کیا جا سکتا ہے لہذا پاکستان جیسے زرعی ملک کے لئے تو ڈیم زندگی اور موت کا مسئلہ ہیں۔

    ‎یونیورسٹی آف ٹوکیو جاپان کے پروفیسرز نے حال ہی میں دنیا بھر کے ڈیموں کے اوپر اپنی
    ‎طرز کی سب سے پہلی کی جانے والی ریسرچ (لنک کمنٹ میں) سے یہ ثابت کیا ہے کہ ڈیم نہ صرف سیلاب کو روکتے ہیں بلکہ ڈیم عالمی موسمیاتی تبدیلی کے اثر کو بڑی حد تک کم کرنے میں مدد کرتے ہیں ۔

    ‎دریاوں کے علاوہ پہاڑی سیلابی نالوں سے آنے والے بڑے سیلابی ریلوں کو بھی بڑی تعداد میں ڈیم بنا کر سیلاب سے بچا جا سکتا ہے جس کا واضح ثبوت اس سال کے سیلاب میں ڈیرہ اسماعیل خان کے شہر کا گومل زم ڈیم بننے کی وجہ سے بچ جانا ہے حالانکہ ڈیرہ کے شمال میں میانوالی ٹانک اور ڈیرہ کے جنوب میں تونسہ میں پہاڑی سیلابی نالوں پر ڈیم نہ بننے سے بہت تباہی ہوئی ہے۔

    ‎بلوچستان میں ہونے والی بارشوں کے پانی کا حجم بھی کم از کم 20 ملین ایکڑ فٹ ہوتا ہے جب وہاں اب تک تعمیر کئے گئے ڈیموں کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت صرف1.5 ملئین ایکڑ فٹ ہے اور بقیہ 18.5 ملئین ایکڑ فٹ پانی سیلابی ریلوں کی صورت تباہی مچاتا ہے۔

    ‎پاکستان میں بھی ایسی مناسب جگہیں ہیں جہاں دنیا کے سب سے بڑے ڈیم تھری گور جز سے بھی بڑا ڈیم بن سکتا ہیں لیکن ایسے مواقع کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔عالمی فنڈنگ ادارے بھی ایسے منصوبوں کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں جب کہ ہمارے پڑوس میں وہ ایسے منصوبوں کی مکمل سرپرستی کرتے ہیں۔

    ‎تو جناب سوال یہ نہیں کہ کیا ڈیم سیلاب کو روک سکتے ہیں ؟
    ‎بلکہ
    ‎ اصل سوال یہ ہے کہ سیلاب کو روکنے کے لئے ہم کثیر تعداد میں ڈیم کیوں نہیں بناتے؟ وہ کون لوگ ہیں جو پانی کی کمی پیدا کرکے ہمارے زرعی معیشت کی کمر توڑناچاہتے ہیں۔