Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • فیس بک اور انسٹاگرام کو ایک ہی ایپلیکیشن سے چلانے کے نئے فیچر کی آزمائش

    فیس بک اور انسٹاگرام کو ایک ہی ایپلیکیشن سے چلانے کے نئے فیچر کی آزمائش

    سوشل میڈیا کمپنی ’میٹا‘ نے فیس بک اور انسٹاگرام کو ایک ہی ایپلیکیشن سے چلانے کے نئے فیچر کی آزمائش شروع کردی۔

    باغی ٹی وی : فیس بک کی جانب سے بلاگ پوسٹ میں بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر ’اکاؤنٹس سینٹر‘ نامی فیچر تک محدود صارفین کو رسائی دی گئی ہے اور جلد ہی اسے عام صارفین میں بھی متعارف کرایا جا سکے گامذکورہ فیچر کے تحت اب صارفین فیس بک یا پھر انسٹاگرام کی ایپلی کیشن کے ذریعے دونوں ہی سوشل سائٹس کو استعمال کر سکیں گے۔

    سیکیورٹی نقص :واٹس ایپ صارفین کو ایپلیکیشن فوری اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت

    نئے فیچر کے تحت ابتدائی طور پر صارفین کو کسی بھی ایک ایپلی کیشن پر اپنے تمام اکاؤنٹس کو ایڈ کرنا پڑے گا، جس کے بعد وہ ایک ہی ایپ پر رہتے ہوئے دونوں ایپس کو استعمال کر سکیں گے۔


    یعنی اگر کوئی فیس بک استعمال کر رہا ہوگا تو وہ اسی پر انسٹاگرام آئکون کو کلک کرکے وہیں پر ہی انسٹاگرام پر جا سکے گا اور وہیں سے وہ پوسٹ بھی کرنے کے اہل ہوگا جب کہ صارف کو ایک ہی ایپلیکیشن پر دونوں ایپس کے نوٹیفکیشن بھی موصول ہوں گے۔

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،گوگل سرچ میں بھی دلچسپ فیچر کے ذریعےجشن منایا…

    نئے فیچر کے تحت صارفین کومزید اکاؤنٹس بنانےکی اجازت بھی ہوگی اورصارفین تمام ہی اکاوٗنٹس کوایک ہی ایپلیکیشن کےذریعے کنٹرول بھی کر سکیں گےعلاوہ ازیں مذکورہ فیچر کے تحت صارف کو اپنے تمام اکاؤنٹس کی معلومات الگ الگ بھی فراہم کی جائےگی اور صارف اپنی مرضی کے اکاؤنٹ کو استعمال کرسکیں گے۔

    فیس بک کا مذکورہ فیچر ٹوئٹر کے ’ٹوئٹ ڈیک‘ سے ملتا جلتا ہے، جس کے ذریعے صارفین بیک وقت بہت سارے اکاؤنٹس کو استعمال کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔

    9 سالہ طالبہ نے آئی او ایس ایپ تیار کر لی

  • جنات کاسائنسی تجزیہ — فرقان قریشی

    جنات کاسائنسی تجزیہ — فرقان قریشی

    ‏جنات اللہ کی مخلوق ہیں یہ ہمارا یقین ہے ، وہ آگ سے پیدا کیے گئے ، ان میں شیاطین و نیک صفت بھی موجود ہیں اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے یہ تھریڈ اس بارے میں نہیں ہے ۔ یہ تھریڈ جنات کی سائینٹیفیک تشریح کے بارے میں ہے ۔ کیا وہ ہمارے درمیان ہی موجود ہیں ؟ اور زیادہ اہم سوال یہ کہ ہم انہیں دیکھ کیوں نہیں سکتے ؟

    لفظ جن کا ماخذ ہے ‘‘نظر نہ آنے والی چیز’’ اور اسی سے جنت یا جنین جیسے الفاظ بھی وجود میں آئے ۔ جنات آخر نظر کیوں نہیں آتے ؟ اس کی دو وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں ۔ پہلی وجہ یہ کہ انسان کا ویژن بہت محدود ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائینات میں ‏جو (electromagnetic spectrum) بنایا ہے اس کے تحت روشنی 19 اقسام کی ہے ۔ جس میں سے ہم صرف ایک قسم کی روشنی دیکھ سکتے ہیں جو سات رنگوں پر مشتمل ہے ۔ میں آپ کو چند مشہور اقسام کی روشنیوں کے بارے میں مختصراً بتاتا ہوں ۔

    اگر آپ gamma-vision میں دیکھنے کے قابل ہو جائیں تو آپ کو دنیا ‏میں موجود ریڈی ایشن نظر آنا شروع ہو جائے گا ۔ اگر آپ مشہور روشنی x-ray vision میں دیکھنے کے قابل ہوں تو آپ کے لیے موٹی سے موٹی دیواروں کے اندر دیکھنے کی اہلیت پیدا ہو جائے گی ۔ اگر آپ infrared-vision میں دیکھنا شروع کر دیں تو آپ کو مختلف اجسام سے نکلنے والی حرارت نظر آئے گی ۔

    ‏روشنی کی ایک اور قسم کو دیکھنے کی صلاحیت ultraviolet-vision کی ہو گی جو آپ کو اینرجی دیکھنے کے قابل بنا دے گا ۔ اس کے علاوہ microwave-vision اور radio wave-vision جیسی کل ملا کر 19 قسم کی روشنیوں میں دیکھنے کی صلاحیت سوپر پاور محسوس ہونے لگتی ہے ۔

    کائینات میں پائی جانی والی تمام ‏چیزوں کو اگر ایک میٹر کے اندر سمو دیا جائے تو انسانی آنکھ صرف 300 نینو میٹر کے اندر موجود چیزوں کو دیکھ پائے گی ۔ جس کا آسان الفاظ میں مطلب ہے کہ ہم کل کائینات کا صرف 0.0000003 فیصد حصہ ہی دیکھ سکتے ہیں ۔ انسانی آنکھ کو دکھائی دینے والی روشنی visible light کہلاتی ہے اور یہ‏ الٹرا وائیلٹ اور انفراریڈ کے درمیان پایا جانے والا بہت چھوٹا سا حصہ ہے ۔

    ہماری ہی دنیا میں ایسی مخلوقات ہیں جن کا visual-spectrum ہم سے مختلف ہے ۔ جانور ، سانپ وہ جانور ہے جو انفراریڈ میں دیکھ سکتا ہے ایسے ہی شہد کی مکھی الٹراوائیلٹ میں دیکھ سکتی ہے ۔ دنیا میں سب سے زیادہ رنگ ‏مینٹس شرمپ کی آنکھ دیکھ سکتی ہے ، الو کو رات کے گھپ اندھیرے میں بھی ویسے رنگ نظر آتے ہیں جیسے انسان کو دن میں ۔ امیرکن کُک نامی پرندہ ایک ہی وقت میں 180 ڈگری کا منظر دیکھ سکتا ہے ۔ جبکہ گھریلو بکری 320 ڈگری تک کا ویو دیکھ سکتی ہے ۔ درختوں میں پایا جانے والا گرگٹ ایک ہی وقت میں ‏دو مختلف سمتوں میں دیکھ سکتا ہے جبکہ افریقہ میں پایا جانے والا prongs نامی ہرن ایک صاف رات میں سیارے saturn کے دائیرے تک دیکھ سکتا ہے ۔ اب آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ انسان کی دیکھنے کی حِس کس قدر محدود ہے اور وہ اکثر ان چیزوں کو نہیں دیکھ پاتا جو جانور دیکھتے ہیں ۔

    ‏ترمذی شریف کی حدیث نمبر 3459 کے مطابق نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم مرغ کی آواز سنو تو اس سے اللہ کا فضل مانگو کیوں کہ وہ اسی وقت بولتا ہے جب فرشتے کو دیکھتا ہے اور جب گدھے کی رینکنے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو کیوں کہ اس وقت وہ شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے ۔

    ‏جب میں نے مرغ کی آنکھ کی ساخت پر تحقیق کی تو مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ مرغ کی آنکھ انسانی آنکھ سے دو باتوں میں بہت بہتر ہے ۔ پہلی بات کہ جہاں انسانی آنکھ میں دو قسم کے light-receptors ہوتے ہیں وہاں مرغ کی آنکھ میں پانچ قسم کے لائیٹ ریسیپٹرز ہیں اور دوسری چیز fovea جو‏انتہائی تیزی سے گزر جانے والی کسی چیز کو پہچاننے میں آنکھ کی مدد کرتا ہے جس کی وجہ سے مرغ ان چیزوں کو دیکھ سکتا ہے جو روشنی دیں اور انتہائی تیزی سے حرکت کریں اور اگر آپ گدھے کی آنکھ پر تحقیق کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اگرچہ رنگوں کو پہچاننے میں گدھے کی آنکھ ہم سے بہتر نہیں ہے لیکن‏ گدھے کی آنکھ میں rods کی ریشو کہیں زیادہ ہے اور اسی وجہ سے گدھا اندھیرے میں درختوں اور سائے کو پہچان لیتا ہے یعنی آسان الفاظ میں گدھے کی آنکھ میں اندھیرے میں اندھیرے کو پہچاننے کی صلاحیت ہم سے کہیں زیادہ ہے ۔

    البتہ انسان کی سننے کی حِس اس کی دیکھنے کی حس سے بہتر ہے اگرچہ دوسرے‏ جانوروں کے مقابلے میں پھر بھی کم ہے مثال کے طور پہ نیولے نما جانور بجو کے سننے کی صلاحیت سب سے زیادہ یعنی 16 ہرٹز سے لے کر 45000 ہرٹز تک ہے اور انسان کی اس سے تقریباً آدھی یعنی 20 ہرٹز سے لے کر 20000 ہرٹز تک ۔ اور شاید اسی لیے جو لوگ جنات کے ساتھ ہوئے واقعات رپورٹ کرتے ہیں وہ‏ دیکھنے کے بجائے سرگوشیوں کا زیادہ ذکر کرتے ہیں ۔ ایک سرگوشی کی فریکوئینسی تقریباً 150 ہرٹز ہوتی ہے اور یہی وہ فریکوئینسی ہے جس میں انسان کا اپنے ذہن پر کنٹرول ختم ہونا شروع ہوتا ہے ۔ اس کی واضح مثال ASMR تھیراپی ہے جس میں 100 ہرٹز کی سرگوشیوں سے آپ کے ذہن کو ریلیکس کیا جاتا ہے ۔‏اس تھریڈ کے شروع میں ، میں نے جنات کو نہ دیکھ پانے کی دو ممکنہ وجوہات کا ذکر کیا تھا جن میں سے ایک تو میں نے بیان کر دی لیکن دوسری بیان کرنے سے پہلے میں ایک چھوٹی سی تھیوری سمجھانا چاہتا ہوں ۔

    سنہ 1803 میں ڈالٹن نامی سائینسدان نے ایک تھیوری پیش کی تھی کہ کسی مادے کی سب سے چھوٹی‏ اور نہ نظر آنے والی کوئی اکائی ہو گی اور ڈالٹن نے اس اکائی کو ایٹم کا نام دیا ۔ اس بات کے بعد 100 سال گزرے جب تھامسن نامی سائنسدان نے ایٹم کے گرد مزید چھوٹے ذرات کی نشاندہی کی جنہیں الیکٹرانز کا نام دیا گیا ۔ پھر 7 سال بعد ردرفورڈ نے ایٹم کے نیوکلیئس کا اندازہ لگایا ، صرف 2 سال‏بعد بوہر نامی سائینسدان نے بتایا کہ الیکٹرانز ایٹم کے گرد گھومتے ہیں اور دس سال بعد 1926 میں شورڈنگر نامی سائنسدان نے ایٹم کے اندر بھی مختلف اقسام کی اینرجی کے بادلوں کو دریافت کیا ۔

    جو چیز 200 سال پہلے ایک تھیوری تھی ، آج وہ ایک حقیقت ہے ، اور آج ہم سب ایٹم کی ساخت سے واقف ہیں‏ حالانکہ اسے دیکھ پانا آنکھ کے لیے آج بھی ممکن نہیں ۔ ایسی ہی ایک تھیوری 1960 میں پیش کی گئی جسے string theory کہتے ہیں ۔ اس کی ڈیٹیلز بتانے سے پہلے میں ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔

    انسان کی حرکت آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں ، اوپر اور نیچے ہونا ممکن ہے جسے‏جسے تین ڈائیمینشنز یا 3D کہتے ہیں ۔ ہماری دنیا یا ہمارا عالم انہی تین ڈائیمینشز کے اندر قید ہے ہم اس سے باہر نہیں نکل سکتے ۔ لیکن string theory کے مطابق مزید 11 ڈائیمینشنز موجود ہیں ۔ میں ان گیارہ کی گیارہ ڈائیمینشنز میں ممکن ہو سکنے والی باتیں بتاؤں گا ۔

    اگر آپ پہلی ڈائیمینش‏میں ہیں تو آپ آگے اور پیچھے ہی حرکت کر سکیں گے ۔

    اگر آپ دوسری ڈائیمینشن میں داخل ہو جائیں تو آپ آگے پیچھے اور دائیں بائیں حرکت کر سکیں گے ۔

    تیسری ڈائیمینشن میں آپ آگے پیچھے دائیں بائیں اور اوپر نیچے ہر طرف حرکت کر سکیں گے اور یہی ہماری دنیا یا جسے ہم اپنا عالم کہتے ہیں ، ہے ۔‏اگر آپ کسی طرح سے چوتھی ڈائیمینشن میں داخل ہو جائیں تو آپ وقت میں بھی حرکت کر سکیں گے ۔

    پانچویں ڈائیمینشن میں داخل ہونے پر آپ اس عالم سے نکل کر کسی دوسرے عالم میں داخل ہونے کے قابل ہو جائیں گے جیسا کہ عالم ارواح ۔

    چھٹی ڈائیمینشن میں آپ دو یا دو سے زیادہ عالموں میں حرکت کرنے کے‏قابل ہو جائیں گے اور میرے ذہن میں عالم اسباب کے ساتھ عالم ارواح اور عالم برزخ کا نام آتا ہے ۔

    ساتویں ڈائیمینشن آپ کو اس قابل بنا دے گی کہ اس عالم میں بھی جا سکیں گے جو کائینات کی تخلیق سے پہلے یعنی بِگ بینگ سے پہلے کا تھا.

    آٹھویں ڈائیمینشن آپ کو تخلیق سے پہلے کے بھی مختلف عالموں‏ میں لیجانے کے قابل ہو گی ۔

    نویں ڈائیمینشن ایسے عالموں کا سیٹ ہو گا جن میں سے ہر عالم میں فزیکس کے قوانین ایک دوسرے سے مکمل مختلف ہوں گے ۔ ممکن ہے کہ وہاں کا ایک دن ہمارے پچاس ہزار سال کے برابر ہو ۔

    اور آخری اور دسویں ڈائیمینشن ۔۔۔ اس میں آپ جو بھی تصور کر سکتے ہیں ، جو بھی سوچ‏ سکتے ہیں اور جو بھی آپ کے خیال میں گزر سکتا ہے ، اس ڈائیمینشن میں وہ سب کچھ ممکن ہو گا ۔

    اور میری ذاتی رائے کے مطابق جنت ۔۔۔ شاید اس ڈائیمینشن سے بھی ایک درجہ آگے کی جگہ ہے کیوں کہ حدیث قدسی میں آتا ہے کہ جنت میں میرے بندے کو وہ کچھ میسر ہو گا جس کے بارے میں نہ کبھی کسی آنکھ نے‏دیکھا ، نہ کبھی کان نے اس کے بارے میں سنا اور نہ کبھی کسی دل میں اس کا خیال گزرا ۔ اور دوسری جگہ یہ بھی آتا ہے کہ میرا بندہ وہاں جس چیز کی بھی خواہش کرے گا وہ اس کے سامنے آ موجود ہو گی ۔

    بالیقین جنات ، ہم سے اوپر کی ڈائیمینشن کے beings ہیں اور یہ وہ دوسری سائینٹیفیک وجہ ہے جس کی‏ بناء پر ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔ ان دس ڈائیمینشنز کے بارے میں جاننے کے بعد آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ جنات کے بارے میں قرآن ہمیں ایسا کیوں کہتا ہے کہ وہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے ، یا پھر عفریت اتنی تیزی سے سفر کیسے کر سکتے ہیں جیسے سورۃ سباء میں ذکر ہے‏کہ ایک عفریت نے حضرت سلیمانؑ کے سامنے ملکہ بلقیس کا تخت لانے کا دعویٰ کیا تھا ۔ یا پھر کشش ثقل کا ان پر اثر کیوں نہیں ہوتا اور وہ اڑتے پھرتے ہیں ۔ یا پھر کئی دوسرے سوالات جیسے عالم برزخ ، جہاں روحیں جاتی ہیں ، یا عالم ارواح جہاں تخلیق سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح سے عہد لیا‏تھا کہ تم کسی اور کی عبادت نہیں کرو گے اور سب نے ہوش میں اقرار کیا تھا ، یا قیامت کے روز دن کیسے مختلف ہو گا ، یا شہداء کی زندگی کس عالم میں ممکن ہے ۔

    ان تمام عالموں یعنی عالم برزخ ، عالم ارواح یا عالم جنات کے بارے میں تحقیقی طور پر سوچنا ایک بات ہے ، لیکن جس چیز نے ذاتی طور پر‏پر میرے دل کو چھوا وہ سورۃ فاتحۃ کی ابتدائی آیت ہے ۔

    الحمد للہ رب العالمین ۔

    تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ، جو تمام عالموں کا رب ہے ۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ ‘‘تمام عالم’’ کے الفاظ کا جو اثر اب میں اپنے دل پر محسوس کرتا ہوں ، وہ پہلے کبھی محسوس نہ کیا تھا۔

  • سیکیورٹی نقص :واٹس ایپ صارفین کو ایپلیکیشن فوری اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت

    سیکیورٹی نقص :واٹس ایپ صارفین کو ایپلیکیشن فوری اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت

    دنیا بھر میں مقبول ایپلیکیشن واٹس ایپ نے سیکیورٹی نقص کی خود نشاندہی کرتے ہوئے نئی اپ ڈیٹ جاری کردی۔

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ پیغام رسانی کے لیے استعمال ہونے والی ایپلیکیشن میں سیکیورٹی نقص سامنے آیا تھا جس کو دور کر کے نئی اپ ڈیٹ جاری کردی گئی ہے۔

    واٹس ایپ شادی شدہ جوڑوں کا رشتہ بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے،تحقیق

    کمپنی کا کہنا ہے کہ جتنی جلد ممکن ہوسکے گوگل پلے اسٹور یا آئی او ایس اسٹور سے نئی اپ ڈیٹ حاصل کرلیں تاکہ انہیں کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    واٹس ایپ ترجمان کے مطابق نئی اپ ڈیٹ جاری کرنے کے بعد صارفین کے موبائل میں انسٹال سافٹ ویئر (ایپلی کیشن) خود بہ خود اپ ڈیٹ ہوجائے گی تاہم اگر ایسا نہ ہو تو نئی اپ ڈیٹ کو آفیشل اسٹورز سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

    واضح رہے کہ ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والے ماہرین نے اس سے قبل بتایا تھا کہ واٹس ایپ کے سیکیورٹی سسٹم میں ایک کوڈ کے نقص کی وجہ سے ہیکرز میل ویئر، اسپائی ویئر یا اس طرح کے جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے سافٹ ویئرز کسی بھی صارف کے اسمارٹ فون میں انسٹال کر کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔

    ماہرین کی جانب سے جاری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ہیکرز ایک کال یا ویڈیو کی مدد سے کسی بھی صارف کا اکاؤنٹ ہیکر کرسکتے ہیں جو بڑے خطرے کی بات ہے۔

    واٹس ایپ کی ڈیلیٹ میسجز کے حوالے سے فیچر کی آزمائش

    یا د رہے کہ آئی فون کے آئی او ایس 10 اور 11 دنیا بھر میں مقبول میسجنگ ایپ واٹس ایپ استعمال نہیں کر سکیں گے واٹس ایپ کی اپ ڈیٹس پر نطر رکھنے والی ویب سائٹ ویب بِیٹا انفو (WABetaInfo) کا کہنا تھا کہ آئی فون کے آئی او ایس 10 اور 11 استعمال کرنے والے صارفین 24 اکتوبر سے واٹس ایپ استعمال نہیں کرسکیں گے۔

    آئی فون کے ماڈل 5 اور 5سی کے صارفین اگر اپنے فون پر واٹس ایپ استعمال کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے فون کو اپ گریڈ کرنا پڑے گا کیونکہ 24 اکتوبر کے بعد صرف آئی او ایس 12 پر ہی واٹس ایپ میسر ہوگا۔

    دوسری جانب اس حوالے سے جاری بیان میں ایپل کا کہنا تھا کہ اعداد و شمار کے مطابق اس کے بیشتر صارفین کو اس اپ گریڈیشن سے کوئی مسئلہ نہیں گا-

    ان کا کہنا تھا کہ اس کے 89 فیصد صارفین آئی او ایس 15 استعمال کر رہے ہیں یا اپنے فون کو آئی او ایس 15 پر اپ گریڈ کرلیا ہے اب صرف 4 فیصد آئی فون صارفین ہی آئی او ایس 13 یا اس سے پہلے کا ورژن استعمال کررہے ہیں۔

    صارفین جو 24 اکتوبر سے واٹس ایپ استعمال نہیں کرسکیں گے

  • سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،گوگل سرچ میں بھی دلچسپ فیچر کے ذریعےجشن منایا گیا

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،گوگل سرچ میں بھی دلچسپ فیچر کے ذریعےجشن منایا گیا

    ناسا کے ڈبل ایسٹیرائیڈ ری ڈائریکشن ٹیسٹ (ڈارٹ) اسپیس کرافٹ نے 22530 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین سے 96 لاکھ کلومیٹر دور سیارچے سے ٹکرا کر اپنی پہلی سیاروی دفاع کی آزمائش کامیابی کے ساتھ مکمل کرلی ہے یہ زمین کو سیارچوں سے بچانے کے دفاعی نظام کا پہلا تجربہ تھا-

    باغی ٹی وی: جہاں آج صبح 4 بج کر 14 منٹ پر اسپیس کرافٹ اور سیارچے کے درمیان ہونے والے تصادم کی تصدیق چند سیکنڈوں بعد ہو گئی جس کا جشن جان ہوپکنز یونیورسٹی اپلائیڈ سائنس لیبارٹری میں مشن کی ٹیم نے منایا،گوگل سرچ میں بھی ایک دلچسپ فیچر کے ذریعے اس کا جشن منایا گیا۔

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا


    اس مشن کو ڈارٹ کا نام دیا گیا تھا اور گوگل پر dart، dart probe یا double asteroid redirection test سرچ کرنے پر رزلٹس میں اسپیس کرافٹ بائیں سے دائیں جانب آتا ہے وہاں پہنچ کر وہ غائب ہوجاتا ہے اور سرچ پیج ہلکا سے ٹیڑھا ہوجاتا ہے اور یہی ناسا کے اس مشن کا بنیادی مقصد بھی ہے۔

    نومبر 2021 میں روانہ کیے گئے مشن کا مقصد ٹکرانے کے بعد اس سیارچے کے مدار کے راستے میں معمولی تبدیلی لانا ہے یہ تجربہ کس حد تک کامیاب ہوگا اس کا فیصلہ تو آنے والے دنوں یا ہفتوں میں ہوگا مگر ناسا کی جانب سے ٹکراؤ کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔


    ان میں سے کوئی بھی سیارچہ، جو تقریباً 7 ملین میل دور واقع ہے، زمین کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ لیکن ٹیسٹ کا اصل مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آیا مستقبل میں، اگر کوئی سیارچہ زمین کے لیے خطرہ بن جاتا ہے تو اس کو دور کرنا ممکن ہے۔

    امریکی کوہ پیما دنیا کی آٹھویں بلند ترین چوٹی سرکرکے واپس آنے کے دوران گہری کھائی میں گرگئیں

    ناسا کے انجینئروں کا کہنا ہے کہ یہ بتانے میں تقریباً دو ماہ لگیں گے کہ آیا خلائی جہاز سیارچے کو معنی خیز جھٹکا دینے کے قابل تھا۔

    گوگل اکثر خاص گرافکس یا اینیمیشنز کی نقاب کشائی کرتا ہے، جن میں چوتھے جولائی کو آتش بازی بھی شامل ہے، لیکن ایک اینیمیشن جو تلاش کے نتائج کا زاویہ بدل دیتی ہےGoogle.com پر کمپنی کے Google Doodles میں اکثر تاریخی شخصیات یا سالگرہ کے موقع پر واقعات پیش کیے جاتے ہیں۔

    برطانیہ میں ٹک ٹاک کو بھاری جرمانے کا سامنا

  • ناسا کے ناقدین!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ناسا کے ناقدین!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    "ٹچ والا موبائل” ہاتھ میں لیے ایک صاحب فیسبک پر چاند پر انسان کے جانے کو شبہہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ گزشتہ رات زمین سے کروڑوں میل دور ایک سیارچے پر ناسا کے سپیس کرافٹ ٹکرانے کی ویڈیو کو فیک کہتے ہیں۔ سائنس کو دو چار موٹی گالیاں دیتے ہیں اور ناسا کی "غلطیاں” پکڑتے ہیں۔ انہیں یہ زعم ہے کہ ایک پسماندہ ملک میں محض ایک موبائل ہاتھ میں لئے اور سکول میں سائنس اور ریاضی کے مضامین میں مشکل سے شاید پاس ہو کر اُنہوں نے اربوں ڈالرز کی تحقیق کرنے والے ادارے اور اُس میں ہزاروں کام کرنے والے سائنسدانوں اور انجنیئرز، جو ایک کڑے امتحان سے ہو کر ناسا میں گئے ہیں، اُنکی غلطیاں "ترنت” چند سیکنڈ میں ڈھوند نکالی ہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام کی اس سے بڑی ناکامی اور کیا ہو گی؟

    چاند پر ہوا نہیں تو جھنڈا کیسے ہل رہا تھا؟
    انکو کس نے بتایا کہ چاند پر ہوا نہیں ہے؟ اُنہی لوگوں نے جو چاند پر جھنڈا لیکر گئے۔ تو وہ جو یہ بتا رہے ہیں کہ چاند پر ہوا نہیں ہوتی، کیا یہ نہیں جانتے تھے کہ جھنڈا بغیر ہوا کے کیسے لہرانا ہے؟ یا وہ ان صاحب کا پچاس سال بعد انتظار کر رہے تھے کہ وہ صاحب آئیں گے اور آ کر غلطی ڈھونڈیں گے۔

    چاند پر ستارے نظر کیوں نہیں آ رہے تھے؟
    یہ سوال وہ پوچھتے ہیں جنہیں یہ بھی علم نہیں ہو گا کہ سورج بھی ایک ستارا ہے یا جو یہ سمجھتے ہیں کہ سورج میں کسی نے ماچس جلا کر آگ لگائی ہوئی ہے۔ انکو یہ پتہ بھی نہیں ہو گا کہ انکے موبائلز میں موجود کیمرے کس ٹیکنالوجی سے کام کرتے ہیں اور کم اور زیادہ روشنی میں تصاویر لیتے ہوئے کیا فرق پڑتا ہے۔

    چاند پر ویڈیو کس نے بنائی تھی؟
    یہ سوال پوچھنے والوں کو لگتا ہے کہ ناسا جو اس زمانے سے خلا میں سٹلائٹ اور دیگر سپیس کرافٹ بھیج رہا ہے جب ان میں سے بہت سے دنیا میں تشریف بھی نہیں لائے ہونگے اور یہ ناسا سے پوچھ رہے ہیں کہ بغیر انسان کے اُنہوں نے کیمرے کیسے چلا دئے۔

    اسی طرح کی اور کئی "غلطیاں” یہ نکال کر خود کو تھپکی دیتے ہیں کہ دیکھا ہم تو کچھ نہ کر سکے کیونکہ یہ کام کرنے کے قابل ہی نہیں تھا سو جنہوں نے کیا وہ بھی سب فیک تھا۔ دوسرا دفاع کا مورچہ انکا قدرت کے کاموں میں مداخلت پر آ کر رکتا ہے۔

    ان میں سے اکثر کو تو ناسا کس شے کا مخفف ہے وہ بھی معلوم نہیں ہو گا۔۔

    جاگ جائیں صاحبو!! دنیا کے سامنے کب تک اپنی جہالت کو اپنے گلے کا ہار بنا کر چومتے رہیں گے۔

    اُنیسویں صدی کے مفکر مارک ٹوین نے ایک بار کہا تھا:
    "کسی کو بے وقوف بنانا آسان ہے بنسبت اسکے کہ اُسے باور کرایا جائے کہ اُسے بے وقوف بنایا گیا یے”

  • سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی  خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    امریکی خلائی ادارے ناسا کا زمین کو سیارچوں کی ٹکر سے محفوظ رکھنے کے تاریخی مشن کیلئے زمین سے بھیجا گیا تجرباتی ڈارٹ اسپیس کرافٹ سیارچے ڈیمورفس سے ٹکرا گیا ۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق ڈارٹ اسپیس کرافٹ 23 ہزار 500 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سیارچے سے ٹکرایا، اس مشن کا مقصد زمین کو کسی خطرناک خلائی چٹان کے ٹکراؤ سے محفوظ رکھنے کی جانچ پڑتال کرنا ہے۔

    ناسا کا پہلا سیاروی دفاعی اسپیس کرافٹ،26 ستمبر کو خلائی چٹان سے ٹکرائے گا


    خلا میں موجود ایک بڑے پتھر سے خلائی جہاز ٹکرانے کا یہ تجربہ زمین سے تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ کلومیٹر دور کیا گیا ہےاس سارے مشن کو خلائی جہاز پر موجود کیمرے سے عکس بندی بھی کی گیا ہے جس سیارچے کو خلائی جہاز نے ہدف بنایا اس کو ڈیمورفوس کا نام دیا گیا ہے جبکہ اس مشن کو ڈارٹ مشن کہا جاتا ہے۔

    آج صبح 4 بج کر 14 منٹ پر اسپیس کرافٹ اور سیارچے کے درمیان ہونے والے تصادم کی تصدیق چند سیکنڈوں بعد ہو گئی جس کا جشن جان ہوپکنز یونیورسٹی اپلائیڈ سائنس لیبارٹری میں مشن کی ٹیم نے منایا –


    تصادم کے نتیجے میں سیارچے میں گڑھے کا پڑنا، خلاء میں چٹانوں کے ٹکڑے اور مٹی کا اڑنااور سب سے اہم چیز سیارچے کا مدار بدلنا متوقع تھا۔

    رواں سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن 25 اکتوبر کو ہوگا

    تاہم، ناسا کو زمین پر لگی ٹیلی اسکوپ سے ڈائمورفس اور اس کے جڑواں سیارچے ڈائیڈِموس کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بعد تصادم کے سبب سامنے آنے والے نتائج کو معلوم کرنے میں کم از کم دو ماہ تک کا عرصہ لگے گا اگر مشن کامیاب ہوا یعنی سیارچے کے مدار کا راستہ بدل گیا تو یہ طریقہ زمین کی جانب بڑھنے والے سیارچوں کی روک تھام کے لیے اہم دفاعی ہتھیار ثابت ہوسکے گا۔

    ناسا کا کہنا ہے کہ جس خلائی پتھر کو نشانہ بنایا گیا وہ زمین سے ٹکرانے کے راستے یا مدار میں نہیں ہے اور نہ ہی یہ تجربہ اس پتھر کو حادثاتی طور پر یا غلطی سے زمین کی طرف بھیجے گا۔

    خلا میں موجود سب سے بڑی ٹیلی سکوپ جیمز ویب سمیت دیگر خلائی دور بینوں کے ذریعے اس تجربے کو دیکھا گیا ہے، سائنسدانوں کے مطابق اس تجربے میں خلائی جہاز، سیارچے کے مرکز سے صرف 17 میٹر ہٹ کے ٹکرایا ہے۔

    نظام شمسی کا سب سے برا سیارہ 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب

    ڈائمورفس سے اسپیس کرافٹ ٹکرانے کے بعد ناسا پُرامید ہے کہ اس سیارچے کا مدار چھوٹا ہوگا، یعنی اس کا ڈائڈِموس کے گرد چکر لگانے کا دورانیہ 10 منٹ کم ہوا گا جو ابھی 11 گھنٹے اور 55 منٹ ہے۔

    سائنسدان پہلے ہی ایسے بیشتر سیارچوں کو شناخت کرچکے ہیں جو زمین کو تباہ کرسکتے ہیں، مگر فی الحال ان میں سے کوئی بھی ہمارے سیارے کے لیے خطرہ نہیں مگر سائنسدانوں کو ڈر ہے کہ ہزاروں چھوٹے سیارچوں میں کوئی ایک کسی دن زمین کی جانب بڑھ سکتا ہے اور اس کا ٹکراؤ تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ کو امریکا کی جونز ہوپکنز یونیورسٹی نے تیار کیا اور اسے ڈیمورفس کی جانب نومبر 2021 میں روانہ کیا گیا تھا یہ 548.8 کلوگرام وزنی اسپیس کرافٹ 32 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کی لاگت سے بنایا گیا تھا۔

    100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

  • برطانیہ میں ٹک ٹاک کو بھاری جرمانے کا سامنا

    برطانیہ میں ٹک ٹاک کو بھاری جرمانے کا سامنا

    لندن: برطانیہ میں بچوں کے پرائیویسی کے تحفظ کو یقینی نہ بنانے پر ٹک ٹاک کو 27 ملین پاؤنڈزجرمانے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی :برطانوی میڈیا کے مطابق انفارمیشن کمشنر آفس (آئی سی او) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ٹک ٹاک کو نوٹس جاری کیا گیا ہے جو ممکنہ جرمانے کی سزا سنائے جانے کی کارروائی کا آغاز بھی ہے۔

    پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی پر جنوبی کوریا نے گوگل اور میٹا کمپنیوں پر جرمانہ…

    آئی سی او کی تحقیقات میں دریافت کیا گیا کہ ٹک ٹاک کی جانب سے 13 سال سے کم عمر بچوں کے ڈیٹا کو والدین کی اجازت کے بغیر پراسیس کیا جاتا ہے ٹک ٹاک شفاف طریقے سے اپنے صارفین کی تفصیلات فراہم کرنے میں ناکام رہی تھی۔

    آئی سی او کے مطابق ڈیجیٹل سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کا قانونی فرض ہے کہ وہ صارفین کے تحفظ کو یقینی بنائیں، ہماری عبوری تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ٹک ٹاک کمپنی ایسا کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    صارفین جو 24 اکتوبر سے واٹس ایپ استعمال نہیں کرسکیں گے

    تحقیقات سے عندیہ ملا ہے کہ ٹک ٹاک نے مئی 2018 سے جولائی 2020 کے دوران یوکے ڈیٹا پروٹیکشن قانون کی خلاف ورزی کی۔

    انفارمیشن کمشنر جان ایڈورڈز نے کہا کہ ہم سب چاہتے ہیں کہ بچے ڈیجیٹل دنیا کو سیکھنے اور اس کا تجربہ کرنے کے قابل ہوں، لیکن ڈیٹا پرائیویسی کے مناسب تحفظات کے ساتھ۔

    اگر سوشل میڈیا کمپنی اس حوالے سے اپنا دفاع کرنے میں ناکام رہی تو اس پر 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز تک کا جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔

    دوسری جانب ٹک ٹاک کے ایک ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ہم برطانیہ میں پرائیویسی کے تحفظ کے لیے آئی سی او کے کردار کا احترام کرتے ہیں، مگر ہم ابتدائی تحقیقات کے نتائج سے اتفاق نہیں کرتے اور اس حوالے سے آئی سی او کے سامنے اپنا مؤقف بیان کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    ایپل نے آئی فون 14متعارف کرا دیا, جسمیں سیٹلائٹ کنکٹیویٹی اور کار کریش ڈٹیکشن…

  • رواں سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن 25 اکتوبر کو ہوگا

    رواں سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن 25 اکتوبر کو ہوگا

    رواں سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن 25 اکتوبر کو ہوگا –

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق 25اکتوبر کو سورج کو گرہن لگے گا،جس کا مشاہدہ جذوی طورپرپاکستان میں بھی کیا جاسکے گا،جزوی سورج گرہن کا آغازپاکستانی وقت کے مطابق دوپہر ایک بج کر58 منٹ پرہوگا،4 بجے سورج گرہن عروج پرہوگا،جس کا اختتام 6 بج کر2 منٹ پرہوگا۔

    100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

    محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان کے علاوہ سال کا آخری سورج گرہن یورپ کے بیشترحصوں،ایشیاء کے مغربی حصوں،شمالی افریقہ سمیت مشرق وسطیٰ میں بھی دیکھا جاسکے گا۔

    زمین پر سورج گرہن اس وقت لگتا ہے جب چاند دورانِ گردش زمین اور سورج کے درمیان آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے سورج کا مکمل یا کچھ حصہ دکھائی دینا بند ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں چاند کا سایہ زمین پر پڑتا ہے۔ چونکہ زمین سے سورج کا فاصلہ زمین کے چاند سے فاصلے سے 400 گنا زیادہ ہے اور سورج کا محیط بھی چاند کے محیط سے 400 گنا زیادہ ہے، اس لیے گرہن کے موقع پر چاند سورج کو مکمل یا کافی حد تک زمین والوں کی نظروں سے چھپا لیتا ہے۔

    2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع

    سورج گرہن ہر وقت ہر علاقے میں نہیں دیکھا جا سکتا، اس لیےسائنسدانوں سمیت بعض لوگ سورج گرہن کامشاہدہ کرنے کے لیے دور دراز سے سفر طے کرکے گرہن زدہ خطے میں جاتے ہیں۔ مکمل سورج گرہن ایک علاقے میں تقریباً 370 سال بعد دوبارہ آ سکتا ہےاور زیادہ سے زیادہ سات منٹ چالیس سیکنڈ تک برقرار رہتا ہے۔ البتہ جزوی سورج گرہن کو سال میں کئی دفعہ دیکھا جا سکتا ہے۔

    سورج گرہن کئی قسم کا ہو سکتا ہے: مکمل سورج گرہن، حلقی سورج گرہن، مخلوط سورج گرہن، جزوی سورج گرہن

    جب بھی زمین کے کسی خطے میں مکمل سورج گرہن لگتا ہے تو اس کے گردونواح میں چاروں طرف جزوی گرہن ہوتا ہے،یورپ میں دیکھا گیا 1999ء کا مکمل سورج گرہن تاریخ میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا سورج گرہن تھا۔

    زمین سے 100 سال کے نوری فاصلے پرسمندر سے ڈھکا سیارہ دریافت

  • ناسا کا پہلا سیاروی دفاعی اسپیس کرافٹ،26 ستمبر کو خلائی چٹان سے ٹکرائے گا

    ناسا کا پہلا سیاروی دفاعی اسپیس کرافٹ،26 ستمبر کو خلائی چٹان سے ٹکرائے گا

    واشنگٹن: ناسا کا پہلا سیاروی دفاعی اسپیس کرافٹ، 26 ستمبر کی شام خلائی چٹان سے ٹکرائے گا۔

    باغی ٹی وی : ڈبل ایسٹیرائڈ ری ڈائریکشن ٹیسٹ (DART) کو گزشتہ برس نومبر میں زمین سے 1 کروڑ 9 لاکھ کلو میٹر دور سیارچے کا رخ بدلنے کیلئے خلا میں بھیجا گیاجو تقریباً ایک سال کے سفر کے بعد اب ڈائمورفس نامی ایک چھوٹے سیارچے سے 24 ہزار 140 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جا کر ٹکرائے گا یہ سیارچہ ڈائڈِموس نامی بڑے سیارچے کے گرد گھومتا ہے۔

    نظام شمسی کا سب سے برا سیارہ 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب

    روم میں نصب ورچوئل ٹیلی اسکوپ پروجیکٹ نے جنوبی افریقا کی متعدد مشاہدہ گاہوں کے ساتھ ایک مل کر ہدف سیارچے کو تصادم کے وقت دِکھائیں گے۔


    اس سے قبل دو طاقتورترین ٹیلی اسکوپ نے چھ راتوں کے مشاہدے کے بعد اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ڈائڈِموس کا مدار امریکی خلائی ایجنسی کے ڈارٹ کرافٹ کی سیدھ میں آ چکا ہے۔ان مشاہدات نے 2021 میں کی جانے والی مدار کی پیمائشوں کی تصدیق کی تھی۔

    یہ مشاہدے جولائی کے مہینے میں ایریزونا کی لویل ڈِسکوری ٹیلی اسکوپ اور چلی کی میگیلن ٹیلی اسکوپ سے کیے گئے۔

    جان ہوپکنز یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈارٹ اِنویسٹی گیشن ٹیم کے شریک سربراہ اینڈی رِوکِن کا کہنا تھا کہ ٹیم نے جو پیمائشیں 2021 کے ابتداء میں حاصل کیں تھیں وہ ڈارٹ کو صحیح مقام تک پہنچانے کے لیے اور ڈائمورفس کے ساتھ صحیح وقت پر تصادم کے لیے اہم تھیں۔

    انہوں نے کہا کہ اُن پیمائشوں کی نئے مشاہدات سے تصدیق یہ بتاتی ہے کہ ہمیں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں اور ہم ہدف کے تعاقب کے لیے درست سمت میں گامزن ہیں ڈائڈِموس اور ڈائمورفس اس سال ستمبر کے آخر میں زمین کے قریب سے یعنی 1 کروڑ 8 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزریں گے۔

    بلیو اوریجن کا چاند پر جانے والا خلائی مشن حادثے کا شکار ہو گیا

    32 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کی لاگت سے بنائے گئے اس 548.8 کلوگرام وزنی اسپیس کرافٹ کا مقصد اس کو ڈائمورفس سے ٹکرا کر سیارچے کی رفتار کا عشرِعشیر حصہ بدلنا ہے۔

    ڈارٹ کا ہدف ڈائمورفس تقریباً 560 فٹ (170 میٹر) چوڑا ہے اور ہر 11 گھنٹے اور 55 منٹ میں ایک بار اپنےڈائڈِموس کا چکر لگاتا ہے۔ ناسا نے کہا ہے کہ ڈارٹ زمین سے تقریباً 7 ملین میل (9.6 ملین کلومیٹر) کے فاصلے پر ہے اور ہمارے سیارے کو متاثر کرنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    ناسا کے مطابق ڈارٹ کو تقریباً 14,760 میل فی گھنٹہ (23,760 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے ڈائمورفس سے ٹکرانا چاہیے۔ یہ ہے ڈارٹ کا آخری دن کیسا ہوگا۔

    نظام شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد چھلّے کیسے بنے؟

    25 ستمبر کو حتمی مشق کے بعد، اثر سے تقریباً 24 گھنٹے پہلے، نیوی گیشن ٹیم کو 2 کلومیٹر [1.2 میل] کے اندر ہدف ڈائمورفس کی پوزیشن معلوم ہو جائے گی،” ناسا کے حکام نے ایک بیان میں لکھا وہاں سے، ڈارٹ خود مختار طور پر خود کو خلائی چٹان کے چاند کے ساتھ ٹکرانے کے لیے رہنمائی کرے گا۔

    اسپیس کرافٹ اور سیارچے کے درمیان یہ تصادم پاکستانی وقت کے مطابق 27 ستمبر کو صبح 4 بج کر 14 منٹ پر ٹکرائے گا۔

  • ہماری زمین پر چیونٹیوں کی تعداد کتنی ہے؟ محققین نے رپورٹ جاری کر دی

    ہماری زمین پر چیونٹیوں کی تعداد کتنی ہے؟ محققین نے رپورٹ جاری کر دی

    محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ ہماری زمین پر 20 کواڈرِلین(2 لاکھ کھرب) چیونٹیاں رِینگ رہی ہیں۔

    باغی ٹی وی :چیونٹیاں تقریباً ہر گھر میں کہیں نہ کہیں موجود ہوتی ہیں، یہ سڑکوں پر یا دیواروں کے کناروں پر بھی نظر آتی ہیں۔ مگر کبھی آپ نے ان کی تعداد جاننے کی کوشش کی ہے؟ تاہم اس کرہ ارض پر کتنی تعداد میں چیونٹیاں موجود ہیں،سائنس دانوں نے اس کا کسی حد تک اندازہ لگا لیاہے-

    ایک نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے چونٹیوں کی اب تک کی عالمی آبادی کا ایک جائزہ پیش کیا ہے جس میں یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں دو لاکھ کھرب چیونٹیاں ہیں-

    جرمنی کے شہر وزبرگ میں قائم جولیس میکسیملین یونیورسٹی کے محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ ہماری زمین پر 20 کواڈرِلین(2 لاکھ کھرب) چیونٹیاں رِینگ رہی ہیں،چیونٹیوں کی اس تعداد کو اگر انسانوں کی تعداد سے دیکھا جائے تو ہر انسان کے مقابلے میں تقریباً 25 لاکھ چیونٹیاں ہیں۔

    تحقیق کی سربراہ مصنفہ سبین نُوٹین کا کہنا تھا کہ محققین کے اندازے کے مطابق چیونٹیوں کی تعداد20 کواڈرِلین ہے۔ یعنی 20 کے آگے پندرہ صفر لگائے جائیں۔

    تحقیق میں محققین نے لکھا کہ چیونٹیوں کی تقسیم اور بہتات ماحولیات اور دیگر حیاتیات کے لیے ان کے کردار کی اہمیت سمجھانے میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے اگرچہ چیونٹیوں جیسے کیڑے جو ہر جگہ موجود ہوتے ہیں اور ماحولیاتی اعتبار سے ان کی اہمیت ہوتی ہے،لیکن ان کی موجودہ حقیقی کُل تعداد یا ان کی کسی مخصوص خطے میں موجودگی کا اندازہ نہیں ہے۔

    اس تخمینے تک پہنچنے کے لیے محققین کی ٹیم نے چیونٹیوں پر کیے جانے والے گزشتہ 489 مطالعات کا جائزہ لیا جو تمام برِاعظموں، بڑی آماجگاہوں اور مختلف ماحولوں پر مبنی تھے تحقیق کے نتائج میں معلوم ہوا کہ زمین پر 20 کواڈرِلین چیونٹیاں موجود ہیں جن کا وزن 12 میگا ٹن یعنی 12 ارب کلو گرام خشک کاربن کے مجموعی وزن کے برابر ہے۔

    100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

    تحقیق کے شریک مصنف ور کیڑوں کے ماہر ماحولیات سبین نوٹین کے مطابق یہ وزن دنیا میں موجود جنگلی پرندوں اور مملیوں کے مجموعی وزن سے زیادہ ہے جبکہ انسانوں کے مجموعی وزن کا 20 فی صد ہے، اس سے آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے اثرات کا پیمانہ کیا ہے۔

    اس تحقیق کے شریک مصنف اور ماہر حیاتیات پیٹرک شوئتھیس کہتے ہیں کہ ”چیونٹیاں تقریباً ہر زمینی ماحولیاتی نظام میں ایک مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ غذائی اجزا کی سائیکلنگ، گلنے کے عمل، مٹی کے ذرات کو اِدھر اُدھر کرنے کے لیے بہت اہم ہیں۔ چیونٹیاں بھی کیڑوں کا انتہائی متنوع گروہ ہیں، جس کی مختلف اقسام ہیں جو وسیع پیمانے پر کام کرتی ہیں۔ لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کا اتنی بڑی تعداد میں ہونا انہیں اہم ماحولیاتی کھلاڑی بناتی ہے۔

    پیٹرک شوئتھیس کہتے ہیں کہ ہمارا ڈیٹا سیٹ ہزاروں سائنس دانوں کی بڑے پیمانے پر کی گئی کوششوں کو ظاہر کرتا ہےہم اس کی بنیاد پر ہی دنیا کے مختلف خطوں کے لیے چیونٹیوں کی تعداد کو معلوم کرنے اور ان کی مجموعی عالمی تعداد اور بایوماس کا تخمینہ لگانے کے قابل ہوئے ہیں۔

    چیونٹیوں کی 12 ہزار سے زائد معلوم اقسام ہیں اور یہ عموماً سیاہ، بھوری اور سرخ رنگ کی ہوتی ہیں جب کہ ان کے جسم کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ان کا سائز ایک ملی میٹر سے تین سینٹی میٹر تک ہوتا ہے چیونٹیاں عام طور پر مٹی، پتوں کی گندگی یا سڑنے والے پودے اور کچنز میں رہتی ہیں۔

    دنیا بھرمیں موجود چیونٹیوں کی تعداد کا اندازہ لگانے کے لیے کی جانے والی تحقیق PNAS نامی جرنل میں شائع ہوئی-

    اداسی محسوس ہو تو دریا یا نہر پر چلے جانا مزاج کو بہتر کر سکتا ہے،تحقیق