Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • لوسڈ ڈریم اور سلیپ پیرالسز — ستونت کور

    لوسڈ ڈریم اور سلیپ پیرالسز — ستونت کور

    لوسڈ ڈریم اور سلیپ پیرالسز کا تجربہ دنیا میں ہر انسان کو کبھی نہ کبھی ، یا اکثر ہوتا ہے ۔

    لوسڈ ڈریم سے مراد ایسا خواب ہے کہ جس میں انسان کو علم ہو کہ یہ حقیقت نہیں بلکہ میں خواب دیکھ رہا ہوں۔۔۔۔اور سلیپ پیرالسز سے مراد وہ کیفیت ہے جب انسان نیند یا خواب کی کیفیت میں ایسا منجمد ہو جائے کہ نہ تو خواب ٹوٹ رہا ہو اور نہ ہی آنکھ کھل رہی ہو ۔

    ۔۔۔۔۔حیرت انگیز طور پر ابھی چند منٹ قبل میرے ساتھ یہ دونوں واقعات بیک وقت رونما ہوگئے۔۔۔۔

    ہوا کچھ یوں کہ حسبِ معمول میں آج صبح بھی جلدی جاگ گئی مگر الرجی کی وجہ سے طبعیت سخت ناساز تھی (اور اب بھی ہے ) چنانچہ جاگنے کے ایک گھنٹہ بعد پھر سے سونے کے لیے لیٹ گئی۔ سونے سے قبل میں نے اپنا موبائل چارجنگ لگا دیا ۔۔۔۔ اور جب آنکھ لگی تو انتہائی پیچیدہ قسم کا تہہ در تہہ کا ایک لوسڈ ڈریم درپیش تھا ، اور وہ کچھ یوں کہ اس خواب میں میں اسی کمرے میں اسی جگہ سورہی اور مجھے اس بات کا ہلکا سا شک ہورہا کہ میں خواب کی کیفیت میں ہوں ۔۔۔۔اب۔۔۔۔۔۔ماہرین کے مطابق چند ایسے طریقے ہیں کہ جن سے ہم پتا چلا سکتے ہیں کہ ہم خواب میں ہیں یا حقیقت کی دنیا میں ۔۔ مثلاً اپنے ہاتھ کو دیکھیں اور اپنی انگلیاں گننے کی کوشش کریں ۔۔۔ اگر آپ خواب دیکھ رہے ہیں تو کبھی انگلیاں گن نہیں پائیں گے ۔

    اسی طرح گھڑی پر نظر دوڑائیں۔۔۔۔ اگر خواب میں ہے تو کبھی بھی گھڑی سے وقت نہیں دیکھ پائیں گے ۔

    کوئی کتاب یا اخبار پڑھنے کی کوشش کریں ۔۔۔ اگر خواب کی کیفیت میں ہیں تو نہیں پڑھ سکیں گے ۔

    اور مجھے یہ سب یاد تھا چنانچہ میں نے پہلے رئیلٹی چیک یعنی ہاتھ کی انگلیاں گننے کی کوشش کی اور میں نہیں گن پائی ۔۔۔ اب مجھے یقین ہوگیا کہ میں لوسڈ ڈریم کی کیفیت میں ہوں اور یہ کہ اب مجھے جاگ جانا چاہیے (لوسڈ ڈریم جتنا مختصر رہے اتنا ہی بہتر ہے طویل لوسڈ ڈریم آگے چل کر سلیپ پیرالسز کی کیفیت پیدا کر سکتا ہے ۔ اکثر و بیشتر ۔)

    چنانچہ میں نے ہمت کی اور جاگ اٹھی ۔۔۔۔ اب اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ میں پوری طرح سے بیدار ہوں ، میں نے کمرے میں وال کلاک نہ ہونے کی وجہ سے موبائل پر ٹائم دیکھنے کی کوشش کی لیکن اس سے پہلے فیسبک نوٹیفیکیشنز پر نظر پڑ گئی اور اس میں کھو گئی۔۔۔۔ 5,7 منٹ تک فیسبک پر کھوئے رہنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ ” باجی موبائل تو تم نے چارجنگ پر لگا رکھا تھا۔”

    اسی لمحے مجھے اندازہ ہوا کہ میرا لوسڈ ڈریم ٹوٹا نہیں بلکہ اس کے میرے ساتھ ” پرینک” کردیا ہے ۔۔۔ چنانچہ سب کی بار میں اٹھی ، اور موبائل کو چارجنگ پہ لگا دیکھ کر یقینی بنایا اس بات کو کہ اب دوبارہ میرے ساتھ پرینک نہ ہو جائے ۔۔۔ پھر میں بستر سے اٹھی اور باہر لاونج کی طرف بڑھ گئی ، لاونج میں میرا بھائی بیٹھ کر ٹی-وی دیکھنے میں مگن تھا ۔۔۔

    اب آپ کو لگے لگا کہ شاید میں مبالغہ آرائی سے کام لے رہی لیکن خدا کو گواہ بنا کے کہہ رہی کہ جب میں نے بھائی کی طرف نظر ڈالی تو ان کا چہرہ بدل گیا ، جیسے کوئی شخص بیٹھا ہو پھر اگلے چند سیکنڈ میں بار بار ان کا چہرہ تبدیل ہونے لگا اور یہ پراسیس اتنا تیز تھا کہ آخر میں ایک چہرے پر چار مختلف نقوش تھے مثلاً ایک گال مختلف شخص کا دوسرا کسی اور شخص کا پیشانی اور بال الگ الگ اشخاص کے ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ "باجی جی آپ کا سرے سے کوئی بھائی ہے ہی نہیں۔”

    اور میں فوراً واپس پلٹی کمرے کی طرف ۔۔۔۔۔ اس کے بعد کم از کم۔۔۔۔ کم ازکم پندرہ سے بیس الگ الگ خواب اسی طرح تہہ در تہہ پیاز کی پرتوں کی طرح ایک دوسرے سے اترتے رہے ۔۔۔۔ ہر مرتبہ مجھے یہ ادراک ہوتا تھا کہ میں خواب دیکھ رہی ہوں اور ہر مرتبہ میں جاگنے کی کوشش کرتی لیکن جاگنے کے بجائے اگلے خواب میں دھکیلی جاتی تھی ۔

    ان میں سے کچھ خواب تو بےانتہا مضحکہ خیز تھے ۔

    اب میں جاگ چکی ہوں اور اطمینان سے اپنی انگلیاں دوبار مرتبہ گن کر دیکھ چکی اور اپنے جاگنے کو یقینی بنانے کے بعد یہ تحریر لکھ رہی ہوں ۔۔۔ لیکن پھر بھی لاشعوری طور پر مجھے یہ خدشہ ستا رہا ہے کہ یہ نہ ہو کہ جب میں پھر سے جاگوں تو فیسبک پر یہ پوسٹ موجود نہ ہو گویا یہ بھی ایک اور لوسڈ ڈریم ہو۔

  • انقلابی واٹر وے — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    انقلابی واٹر وے — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    گوادر چائنہ کے “ون روڈ ۔ ون بیلٹ” جیسے جدید عالمی تجارتی راستے کا وہ صدر دروازہ ہے جس کے تالے کی کنجی گوادر سے چارسو کلومیٹر مشرق میں ہنگول نیشنل پارک کے قریب ہنگلاچ ماتا کے مندر میں پڑی ہوئی ہے۔ اس چابی سے وہ انقلابی واٹر وے کھلے گا جو ساحل مکران کی تمام بندرگاہوں اورماڑہ، پسنی ، گوادر اور جیونی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پینے کے صاف پانی کی قلت سے آزاد کرسکتا ہے۔

    سی پیک کے منصوبہ سازوں کو پنجاب اور سندھ میں کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ بنانا تو یاد رہے لیکن سی پیک کی روح گوادر شہر کے باسیوں کے لئے پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی انسانی ضرورت کی فراہمی بھول گئی کہ جس کے بغیر کوئی شہر زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ سی پیک منصوبہ ساز اتنی اہم جگہ کو نظرانداز کر گئے جس کا کھوج واپڈا کے انجنئیرز نے پچاس سال قبل لگا لیا تھا۔

    گوادر میں اب مولانا ہدایت الرحمن کی “حقوق دو” تحریک اقتدار میں آچکی ہے جس کا ایک بنیادی مطالبہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی بھی تھا لیکن حالات جوں کے توں ہیں۔گوادر کی صاف پانی کی ضرورت کا تخمینہ 7MGD لگایا گیا ہے جو کہ اگلے چند برسوں میں دوگنا ہونے جا رہا ہے ۔مغرب کی مدد سے لگایا جانے والا سمندر کے کھارے پانی کو میٹھا بنانے والا ڈی سیلی نیشن پلانٹ بھی ناکارہ پڑا ہے۔

    گوادر شہر کو مستقل بنیادوں پر لمبے عرصے کے لئے اگر کہیں سے پینے کا صاف پانی فراہم کیا جاسکتا ہے تو وہ صرف مجوزہ ہنگول ڈیم ہی ہے جو کہ گوادر کے مشرق میں تقریباً 400 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ جگہ کراچی سے 250 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے اور کوسٹل ہائی وے پر اگھور نامی جگہ سے دریا کے پل سے تقریباً 16 کلومیٹر شمال میں ہنگول نیشنل پارک سے بھی آگے واقع ہے۔

    ہنگول ڈیم پہلے پہل ضلع آواران کی تحصیل جھل جاؤ میں چند ہزار ایکڑ رقبے کو سیراب کرنے کے لئے سوچا گیا منصوبہ جس میں بعد ازاں بجلی بنانے کی صلاحیت بھی نظر آئی۔ اس دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب یہاں سے سب سے بڑے شہر کراچی اور حتی کہ خلیجی ریاستوں کو پانی کی فراہمی کا بھی سوچا گیا لیکن یہ منصوبہ بوجوہ آگے نہ بڑھ سکا۔

    ہنگول ڈیم کے موجودہ مجوزہ ڈیزائن میں اس سے 65 ہزار ایکڑ سیراب کرنے کا پلان ہے۔ تاہم دس لاکھ ایکڑ فٹ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ڈیم کے پانی کا سب سے قیمتی استعمال زراعت کی بجائے مکران کے تمام ساحلی علاقے میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی ہونا چاہئے۔

    مجوزہ ہنگول ڈیم سے ساحل مکران کے اورماڑہ، پسنی، گوادر اور جیونی بندرگاہ کو ایک عام چھوٹی سی نہر سے قدرتی طور پر بنا بغیر کسی پمپنگ سے پانی پہنچانا ممکن ہے۔ یہ کام زمین کے اوپر یا زیر سمندر پائپ لائن بچھا کر بھی کیا جاسکتا ہے جس کی فزیبیلٹی چیک کرنا ہوگی۔

    یہ ایک ایسا منصوبہ ہے کہ جس کو اگر مناسب طریقے سے پیش کیا جائے تو بیرون ملک پاکستانیوں کا کنسورشئئم یا کوئی بھی ملٹی نیشنل کمپنی PPP موڈ پر ایک دوسرے سے آگے بڑھ چڑھ کر کرنے کے لئے تیار ہوگی۔ حکومت وقت کا خرچہ بہت کم ہوگا اور فوائد سدا بہار ہوںگے۔

    ذیل کے نقشے میں ہنگول ڈیم سے ساحل مکران خصوصا گوادر تک صاف پانی پہنچانے کے آسان ترین روٹ لگا دئے گئے ہیں۔

    روٹ- 1 : عام سی چھوٹی نہر

    یہ روٹ پیلی لائن سے ظاہر کیا گیا ہے مجوزہ گریویٹی نہر کو دکھا رہا ہے۔ یہ نہرسادہ ترین طریقے سے ملکی وسائل، مقامی میٹیرئیل اور لیبر سے بنائی جا سکتی ہے۔ یہ زیادہ تر راستے میں کوسٹل ہائی وے کے ساتھ ساتھ چلے گی سوائے کنڈ ملیر سے آگے تھوڑے پہاڑی علاقے میں ایک چھوٹی ٹنل بنانی پڑے گی یا پھر اس پہاڑی کا بائی پاس کرنے کے لئے سمندرکے نیچے پائپ لائن کا سٹنٹ ڈالنا پڑے گا جو کہ سبز رنگ میں ظاہر کیا گیا ہے۔اس روٹ پر نہر کی بجائے زیر زمین پائپ بھی بچھایا جا سکتا ہے۔

    روٹ۔ 2: سمندر کی تہہ میں پائپ لائن

    یہ پائپ لائن کنڈ ملیر تک 20 کلومیٹر نہر والے روٹ پر چلے گی اور اس سے آگے سمندر کی تہہ میں پائپ لائن بچھائی جائے (جسے سبز اور سرخ کلر کی لائن سے دکھایا گیا ہے)۔ کراچی کو پانی کی فراہمی کے لئے ایک کمزور سی نیلی لائن بھی لگا دی ہے۔

    ان راستوں کی خوبی یہ ہے کہ یہ اپنے روٹ کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کو پانی دیتے آگے بڑھیں گے۔ اورماڑہ کے پاس حال ہی میں مکمل ہونے والے بسول ڈیم کی جھیل کو بھی اس خوابی واٹر وے سے منسلک کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ ساحلی پہاڑیوں سے سمندر میں بہنے والے پہاڑی نالوں کے پانی کو بھی رام کرکے اس واٹر وے سے منسلک کرنے کی کوئی ترتیب بنائی جاسکتی ہے۔

    اس واٹر وے کی صلاحیت صرف 45 کیوسک (30MGD) تک ہوگئی جسے فیز 2 میں بڑھایا جا سکتا ہے۔ ہنگول ڈیم اس سے دس گنا زیادہ پانی بلا روک ٹوک فراہم کرسکے گا جب کہ گوادر کی موجودہ پانی کی ڈیمانڈ 10MGD بھی نہیں۔

    بعض لوگ اس واٹر وے کی 400 کلومیٹر لمبائی پر اعتراض کریں گے تو عرض ہے کہ کچھی کینال تونسہ بیراج سے 500 کلومیٹر دور ڈیرہ بگٹی اور کچھی کے میدانوں تک 6000 کیوسک پانی لانے کے لئے تعمیر ہوچکی ہے اور یہ سارا کام ہمارے مقامی انجنئیرز نے کیا ہے۔ اور اس کا روٹ کوسٹل واٹر وے سے کہیں زیادہ مشکل تھا جس میں تمام راستے میں دائیں طرف کوہ سلیمان سے آنے والے سیلابی نالوں کو کراس کرنا تھا۔

    تربت میں تعمیر شدہ میرانی ڈیم گوادر سے صرف 150 کلومیٹر شمال مشرق میں ہے۔ تاہم اس ڈیم سے گوادر کو پانی کی فراہمی کا روٹ بہت مشکل ہے جس میں بہت زیادہ لمبی ٹنل یا سرنگیں تعمیر کرنا پڑتی ہیں۔ دوسرے میرانی ڈیم کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہنگول ڈیم سے کہیں کم ہے جس کہ وجہ سے یہ ہنگول ڈیم سے زیادہ توجہ حاصل نہیں کر پاتا اور مہنگا منصوبہ لگتا ہے۔

    ہنگول ڈیم کی تعمیر پر ہنگول نیشنل پارک اور ہنگلاچ ماتا کے مندر کے حوالے سے تحفظ ماحول تنظمیوں اور مقامی آبادی کو کچھ اعتراض تھے جنہیں دور کرنے کے لئے ہنگول ڈیم کو اپنی اصل جگہ سے 16 کلومیٹر شمال میں لے جایا گیا ہے تاکہ تمام لوگ مطمئن ہوں۔ تاہم اس عمل میں ہنگول ڈیم کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت آدھی (دس لاکھ ایکڑ فٹ) رہ گئی ہے جو کہ پھر بھی ایک بہترین کیپیسٹی ہے۔

    امید ہے فیصلہ ساز بلوچستان کے ساحل مکران کی پینے کے صاف پانی کی ترجیحات کو سمجھتے ہوئے ان خطوط پر ضرور سوچیں گے اورگوادر کے شہریوں کو پینے کا صاف پانی ضرور ملے گا۔

  • تیز چلنا مختلف امراض اور موت کا خطرہ کم کرتا ہے، تحقیق

    تیز چلنا مختلف امراض اور موت کا خطرہ کم کرتا ہے، تحقیق

    ایک نئی تحقیق کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ اچھی صحت کو یقینی بنانا چاہتے ہیں تو دن بھر میں چند ہزار قدم چلنا عادت بنالیں۔

    باغی ٹی وی : یونیورسٹی آف سڈنی اور یونیورسٹی آف سدرن ڈنمارک کے محققین کے مطابق دن بھر میں 10 ہزار قدم چلنا مختلف امراض اور موت کا خطرہ کم کرتا ہےتحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ تیزرفتاری سے چلنا صحت کے لیے بہت زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

    اداسی محسوس ہو تو دریا یا نہر پر چلے جانا مزاج کو بہتر کر سکتا ہے،تحقیق

    تحقیق کے دوران 2013 سے 2015 کے دوران 78 ہزار سے زیادہ برطانوی شہریوں کی مانیٹرنگ وئیر ایبل ٹریکرز کے ذریعے کی گئی اور سات سال بعد ان کی صحت کے نتائج سے اس کا موازنہ کیا،اس تحقیق کے نتائج جرنل جاما انٹرنل میڈیسین اور جاما نیورولوجی میں شائع ہوئے۔

    ڈاکٹر میتھیو احمدی، جو اس مقالے کے مرکزی مصنف اور یونیورسٹی آف سڈنی کے ریسرچ فیلو ہیں، نے کہا کہ اس تحقیق سے پتا چلا ہے کہ روزانہ 10 ہزار قدم چلنے سے دماغی تنزلی کا خطرہ 50 فیصد جبکہ دل کی شریانوں کے امراض اور کینسر کا خطرہ 30 سے 40 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

    تیز رفتاری سے چلنا ڈیمنشیا، دل کی بیماری، کینسر اور موت سمیت تمام نتائج کے مزید فوائد سے وابستہ تھا تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ دن بھر میں 38 سو قدم چلنے سے بھی دماغی تنزلی کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

    تحقیق میں یہ بھی پتا چلا کہ ہر 2,000 قدموں پر قبل از وقت موت کا خطرہ 8 سے 11 فیصد تک کم ہو جاتا ہے ، جو کہ ایک دن میں تقریباً 10،000 قدموں تک ہے۔

    گاڑیوں کا دھواں مردوں سے زیادہ خواتین کی صحت کو متاثر کر سکتا ہے،محققین

    محققین نے کہا کہ جب دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھتی ہے اور خون زیادہ تیزی سے شریانوں میں بہتا ہے تو اس سے شریانوں کی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔ خون کا اضافی بہاؤ پورے جسم، دماغ اور مسلز سمیت دیگر اعضا کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے کینسر اور جسمانی ورم کے درمیان تعلق موجود ہے اور ورزش ورم کو کم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

    2019 میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، آپ کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے روزانہ 10,000 قدم چلنے کا خیال اصل میں ایک جاپانی کمپنی کی مارکیٹنگ حکمت عملی کے حصے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

    یونیورسٹی آف ساؤتھ آسٹریلیا کے رویے سے متعلق وبائی امراض کے محقق پروفیسر ٹِم اولڈز نے کہا کہ لوگوں کی اکثریت کے لیے وہ جتنی زیادہ ورزش کریں گے اتنا ہی بہتر ہوگا-

    محققین نے کہا کہ معمولات زندگی میں 10 ہزار قدم چلنا عادت بنانا زیادہ مشکل ہدف نہیں بس اس ہدف پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے معتدل آغاز کریں اور قدموں کی تعداد کو بتدریج بڑھاتے چلے جائیں۔

    دنیا کی پہلی اسپورٹس کارہوا میں پرواز کرنے کے لیے تیار

  • 100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

    100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

    برمنگھم:سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے بدھ کو اعلان کیا کہ انہوں نے صرف 100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت کیے ہیں۔ یہ دونوں ہمارے اپنے سیارےسےنمایاں طور پر بڑے ہیں اور ان میں سے ایک زندگی کے لیے موزوں بھی ہو سکتا ہے جن میں سے ایک کا ماحول ممکنہ طور پرزمین سے مشابہ ہوسکتا ہے۔

    ڈائنو سار کو ناپید کرنے والا شہاب ثاقب وسیع آتشزدگی کا سبب بنا

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق، سپر ارتھ نظام شمسی میں ایکسپوپلینیٹ کا ایک منفرد طبقہ ہے جو ہمارے سیارے سے زیادہ بڑے ہیں وہ گیس اور چٹان کے کچھ امتزاج سے بنتے ہیں اور زمین کی کمیت سے 10 گنا زیادہ ہو سکتے ہیں۔ناسا کے ٹرانزٹنگ ایکسپوپلینیٹ سروے سیٹلائٹ اوریونیورسٹی آف لیج کی سرچ فارہیبی ایبل سیاروں ایکلیپسنگ الٹراکول اسٹارز (SPECULOS) کے ذریعے دریافت ہونے والی یہ دریافتیں فلکیات اور فلکیاتی طبیعیات کے جریدے میں شائع کی جائیں گی۔

    LP 890-9 ستارے کے گرد دو ایگزو پلینٹ LP 890-9b اور LP 890-9c موجود ہیں جن میں قبل الذکر سیارہ پہلے ناسا کے ٹرازِٹنگ ایگزو پلینٹ سروے سیٹلائیٹ (TESS) نے دریافت کیا تھا۔

    2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع


    اس سیارے کی درجہ بندی یونیورسٹی آف برمنگھم میں نصب اسپیکیولوس (SPECLOOS) ٹیلی اسکوپ نے کی جس نے بعد ازاں دوسرے سیارے کو دریافت کیا LP 890-9b زمین سے 30 فی صد بڑا سیارہ ہے جس کا رداس 5,200 میل سے زیادہ ہے اور یہ اپنے مرکزی ستارے گرد چکر 2.7 دنوں میں مکمل کر لیتا ہے۔

    تاہم، LP 890-9c زمین سے 40 فی صد بڑا ہے اور اس کے مدار کا دورانیہ قدرے بڑا ہے۔ یہ اپنے مرکزی ستارے کے گرد 8.5 دنوں میں چکر مکمل کرتا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سیارے کے اور ستارے درمیانہ فاصلہ اس سیارے کو زندگی کے لیے سازگار بناتا ہےاسپیکیولوس ٹیلی اسکوپ کا مقصد ہمارے نظامِ شمسی سے باہر ایسے چٹیل سیارے ڈھونڈنا ہے جس کا ماحول زندگی کے لیے سازگار ہو۔

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ 26 ستمبر کو سیارچے سے ٹکرائے گا،ناسا

    اسپیکیولوس ٹیم، جس نے دوسرے سیارے کی دریافت میں مدد دی، کی رہنمائی کرنے والے پروفیسر امورے ٹرائیڈ کا کہنا تھا کہ ہیبیٹیبل زون ایک ایسا خیال ہے جس کے تحت وہ سیارہ جس کے ارضیاتی اور ماحولیاتی صورت زمین کے مشابہ ہوتا ہے اور اس کی سرزمین پر درجہ حرارت پانی کو اربوں سالوں تک مائع حالت میں رہنے دیتا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ دریافت ہمیں سیارے کے متعلق مزید مشاہدات کرنے کا موقع دیتی ہے کہ آیا اس کا کوئی ماحول ہے اور اگر ایسا ہے تو کیا وہ زندگی گزارنے کے قابل ہے کہ نہیں۔

    گرین لینڈ میں پگھلنے والی برف سطح سمندرمیں ایک فِٹ تک کا اضافہ کرسکتی ہے، تحقیق

  • ڈائنو سار کو ناپید کرنے والا شہاب ثاقب وسیع آتشزدگی کا سبب بنا

    ڈائنو سار کو ناپید کرنے والا شہاب ثاقب وسیع آتشزدگی کا سبب بنا

    محققین کا کہنا ہے کہ جس شہابِ ثاقب نے ڈائنو سار کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا تھا اس کے سبب 2500 کلومیٹر رقبے پر محیط جنگلات آگ کی لپیٹ میں آگئے تھے۔

    باغی ٹی وی :6.6 کروڑ سال قبل کریٹیسیئس دور کے آخر میں تقریباً 10 کلومیٹر چوڑا سیارچہ جزیرہ نما یوکاٹین (جو آج کا میکسیکو ہے) سے ٹکرایا تھا اس تصادم کے نتیجے میں ڈائنو سار کے ساتھ زمین پر رہنے والے تقریباً 75 فی صد نباتات اور جانور ختم ہوگئے تھے اس تباہی کا ایک حصہ اس تصادم سے جنگلات میں لگنے والی آگ کو بھی قرار دیا جاتا ہے۔

    22 کروڑ 50 لاکھ سال قبل معدوم ہو جانے والا ممالیہ دریافت

    اسکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف ایبرڈین سے تعلق رکھنے والے ارضیاتی سائنس دان نے تصادم کے وقت کی چٹان کا معائنہ کیا جس سے انہیں معلوم ہوا کہ کچھ آتشزدگیاں سیارچہ ٹکرانے کے چند منٹوں بعد ہی شروع ہوگئی تھیں۔

    پروفیسر بین نیلر کا کہنا تھا کہ اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ آگ تصادم کا براہ راست نتیجہ تھی؟ یا بعد میں لگی تھیں۔ کیوں کہ نباتات تصادم کے بعد ماحول میں اڑنے والے ملبے کی وجہ سے ہونے والے اندھیرے کی وجہ سے تباہ ہوئے تھے۔

    سائنسدانوں نے دنیا کے تنہا ترین درخت سے امیدیں باندھ لیں

    انہوں نے مزید کہا کہ بالآخر ہماری تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ تباہ کن آگ لگنا کیسے اور کب شروع ہوئیں اور ایک صاف مگر خوف ناک تصویر پیش کرتی ہے کہ شہابِ ثاقب کے گرنے کے بعد فوری طور پر کیا ہوا ہوگا۔

    ایک طویل عرصے سے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ غیر پرندوں کے ڈائنوسار 65 ملین سال پہلے ختم ہو گئے تھے لیکن پال بتاتے ہیں، ‘دنیا بھر میں مٹی کی ان تہوں کی ڈیٹنگ بہت درست ہے – اس کا اندازہ چند ہزار سالوں میں لگایا گیا ہے حالیہ ریڈنگ نے اسے بہتر کیا ہے، اور ڈایناسور کے معدوم ہونے کی تاریخ 66.0 ملین سال پہلے کی ہے۔

    2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع

  • جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ستاروں کی نرسری دریافت کر لی

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ستاروں کی نرسری دریافت کر لی

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے جو ٹیرنٹیولا نامی نیبیولا کی ستاروں کی نرسری میں موجود ہزاروں نو عمر ستارے دریافت کیے ہیں۔

    باغی ٹی وی : اس خلائی نرسری کو آفیشلی 30 ڈوراڈس کا نام دیاگیا ہے اور یہ 1 لاکھ 61 ہزار نوری سال کےفاصلے پر لارج میگا لینک کلاؤڈ کہکشاں میں موجود ہے یہ کہکشاں ہماری کہکشاں ملکی وے سےقریب موجود تمام کہکشاؤں میں ستارے بنانے والی سب سے بڑی اور روشن کہکشاں ہے۔

    نظامِ شمسی کے قریب زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت


    امریکی خلائی ایجنسی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ایک لمحے کے لیے ٹیرنٹیولا نیبیولا میں موجود ہزاروں ستاروں کو دیکھئےجن کو پہلےکبھی نہیں دیکھا گیا۔ نیبولا طویل عرصے سے ستاروں کی تشکیل کا مطالعہ کرنے والے ماہرین فلکیات کے لئے پسندیدہ رہا ہے۔ نوجوان ستاروں کے علاوہ، ٹیلی اسکوپ نے نیبیولا کے ڈھانچے اور ترتیب کے ساتھ اس کے پس منظر میں موجود کہکشائیں بھی تفصیلاً دِکھائی ہیں علاوہ نیبولا کی گیس اور دھول کی تفصیلی ساخت اور ساخت کو بھی ظاہرکیا ہے-


    ناسا نے اپنے بلاگ میں لکھا کہ ٹیرینٹیولا نیبیولا کا نام اس کی غبار آلود دھاریوں کی وجہ سے پڑا۔ یہ ہماری کہکشاں کے قریب سب سے بڑا اور روشن ستارہ ساز خطہ ہے۔ یہ اب تک دریافت ہونے والے گرم ترین اور بڑے ستاروں کا گھر ہے یہ مشہور ترین، سب سے بڑے ستاروں کا گھر ہے۔ ماہرین فلکیات نے ویب کے تین ہائی ریزولوشن انفراریڈ آلات کو ٹیرینٹیولا پر مرکوز کیا۔

    چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلاءبازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی موجود


    ناسا کےمطابق یہ نیبیولا ہمیں بتاتی ہے کہ خلائی تاریخ میں ستارہ بننے کا عمل جب عروج پر ہوگا تو کیسا دِکھتا ہوگا انفراریڈ طول موج پر ویب کے ہائی ریزولوشن سپیکٹرا کے بغیر، ستارے کی تشکیل کے عمل کا یہ واقعہ سامنے نہیں آ سکتا تھا۔


    ٹیرینٹیولا نیبیولا میں ماہرینِ فلکیات اس لیے بھی دلچسپی لیتے ہیں کہ اس میں اس ہی طرح کے کیمیائی مرکبات ہیں جو کائنات کے بڑے ستارہ ساز خطوں میں دیکھے گئے ہیں جس کو ’کائناتی صبح‘ کاکہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جب کائنات چند ارب سال پُرانی تھی اور ستارے بننے کا عمل عروج پر تھا۔

    جیمز ویب کی تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی نشاندہی

  • ڈیپ فیک ٹیکنالوجی، آپ نہیں مگر آپ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ڈیپ فیک ٹیکنالوجی، آپ نہیں مگر آپ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دورِ جدید میں مصنوعی ذہانت یا آڑٹفیشل انٹلیجنس آئے روز بہتر سے بہتر ہو رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی بنیاد مشین لرننگ پر ہے۔ جس طرح ایک بچہ اپنے ماحول سے سیکھ کر خود میں بدلاؤ لاتا ہے بالکل ایسے ہی مصنوعی ذہانت کا پروگرام کمپیوٹر کی طاقت سے اس میں فیڈ کیے گئے ڈیٹا کی مدد سے سیکھتا ہے۔ آج دنیا میں ہر روز تقریباً 2.8 quintillion byte ڈیٹا جنریٹ ہوتا ہے۔ یہ ڈیٹا میں، آپ اور دُنیا بھر کے اربوں لوگ انٹرنیٹ کے استعمال سے، سوشل میڈیا پر پوسٹس، ویڈیوز، ای میلز، وٹس ایپ،آن لائن شاپنگ وغیرہ کے ذریعے جنریٹ کرتے ہیں۔

    ماضی میں انسانوں کے پاس اس قدر ڈیٹا موجود نہیں تھا۔ مگر آج شاید فیس بک یا وٹس ایپ کو آپ سے زیادہ آپکا پتہ ہے۔ وہ چیزیں جو ماضی میں اپ ان پلیٹ فارمز پر لگا کر بھول چکے ہیں وہ بھی انکے پاس محفوظ ہے۔

    اس قدر ڈیٹا ہونے کے بعد یہ قدرِ آسان ہو گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو انسانوں یا انسانی رویوں کے بارے میں سکھایا جائے۔ کچھ عرصہ قبل ایک روبوٹ محض یوٹیوب پر کھانا پکانے کی ہزاروں ویڈیوز دیکھ دیکھ کر ہی کوکنگ سیکھ گیا۔ مصنوعی ذہانت ایک بہت ہی طاقتور ٹیکنالوجی ہے مگر اسکا غلط استعمال بھی ممکن ہے۔ جس میں سب سے زیادہ بات آج کے دور میں ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کی ہوتی ہے۔

    کسی کے چہرے پر کسی اور کا چہرا لگا کر یہ تاثر دلانا کہ یہ دراصل دوسرا شخص ہے کوئی نئی بات نہیں ۔ماضی میں بھی لوگ کس مہارت سے پاسپورٹس پر تصاویر تبدیل کر دیا کرتے۔ ایک تصویر پر دوسری تصویر لگا کر اسے یوں کاپی کرتے کہ اصل کا گماں ہوتا۔ مگر کمپوٹر اور اسکے جدید سوفٹویئرز کے آنے سے یہ سلسلہ آسان ہوتا گیا۔ شروع شروع میں لوگ ایڈوب فوٹو شاپ اور مائکروسافٹ پینٹ جیسے سافٹ وئیرز پر ایسا کرتے ۔ اس میں حقیقت سے قریب تر ہونے کا گمان، سافٹ ویئر استعمال کرنے والے آدمی کی مہارت پر منحصر ہوتا۔ مگر اب یہی سب زیادہ بہتر اور اصل نقل کی پہچان کے فرق کو مٹاتی مصنوعی ذہانت کی حامل ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کرتی ہے۔

    ڈیپ فیک ٹیکنالوجی میں دراصل ایسے الگورتھمز استعمال ہوتے ہیں جو دنیا بھر کے انسانوں کے چہرے، اُنکے چہرے کے تاٹرات، اُنکی معمولی سے معمولی چہرے کی حرکت، بولنے ، چلنے کا انداز، وغیرہ وغیرہ جیسی تفصیلات کو پڑھتے ہیں اور اس سے انسانی چہروں میں موجود مشترکہ فیچرز کو نوٹ کرتے ہیں۔ یہ بہت بڑا ڈیٹا سیٹ ہوتا یے جسکے لیے ایک نہیں بلکہ کمپیوٹرز کا پورا نیٹ ورک کام کرتا ہے جسے نیورل نیٹ ورک کہتے ہیں۔ جہاں مختلف کمپیوٹر ایک مسئلے کو مختلف حصوں میں توڑ کر آپس میں مل کر کام کرتے ہیں اور یہ کسی مسئلے کی پیچیدگی کے اعتبار سے اپنے مختص کام کو بدلتے رہتے ہیں تاکہ بہتر سے بہتر حل ڈھونڈا جا سکے۔ یہ بے حد طاقتور اور تیز طریقہ کار ہے۔ جس سے گھنٹوں کا کام سیکنڈز میں ہو سکتا ہے۔

    اس نیورل نیٹ ورک کی بدولت ڈیپ فیک حقیقت سے قریب تر نقلی ویڈیوز بنانے میں مہارت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ فرض کیجئے اپ نے اپنا چہرا ٹام کروز کی فلم مشن امپاسبل کے جہاز والے سین میں لگانا ہے۔ تو اب آپ کیا کریں گے کہ کسی ڈیہ فیک ایپ پروگرام میں ٹام کروز کی فلم کا وہ سین ڈالیں گے اور ساتھ ہی اپنی کوئی تصویر۔ اب یہ پروگرام کرے گا یہ کہ اس سین میں اور باقی انٹرنیٹ یا ڈیٹا سیٹ سے ٹام کروز کے چہرے کو پڑھے گا اور پھر آپکی تصویر کو ہرہر فریم میں یوں ڈھال کر لگائے گا کہ آپکے چہرے کے مصنوعی طور پر بنائے گئے تاثرات ٹام کروز کے چہرے کے تاثرات اور حرکات سے ہم میل کھانا شروع کر دیں۔ اسکے بعد یہ اسے مزید بہتر بنانے کے لئے بار بار چلا کر دیکھے گا کہ آیا کوئی خامی تو نہیں رہ گئی۔ یوں آپ یا کوئی بھی جب ڈیپ فیک سے بنائی ویڈیو دیکھے گا تو اُسکے لیے یہ جاننا مشکل ہو جائے گا کہ یہ اصلی ہے یا نقلی۔

    بالکل ایسے ہی اپ اسکا اُلٹ بھی کر سکتے ہیں یعنی آپ اپنی کسی ویڈیو میں ٹام کروز کو بولتا دکھا دیں۔

    ڈیپ فیک کے جہاں انٹرٹینمنٹ اور فلم انڈسٹری کو فائدے ہیں وہیں اسکا غلط استعمال بھی دردِ سر بن سکتا ہے۔ کئی سیاستدانوں، اہم شخصیات، شوبز کے لوگوں کی اس طرح کی نقلی ویڈیوز بنا کر دنیا میں غلط خبریں پھیلائی جا سکتی ہیں جس سے جنگ کی سی صورتحال بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔ یوکرین اور روس کی حالیہ جنگ میں ڈیپ فیک کا بے حد استعمال نظر آ رہا کے جہاں ملکوں کے صدور می نقلی ویڈیوز بنا کر دونوں ملکوں کی عوام تک غلط معلومات پہنچا کر جنگ کے حوالے سے انکا رویہ اور حمایت بدلنے کی کوشش کی جار رہی ہے ۔ ڈیپ فیک کر استعمال سے کسی انسان کی زندگی بھی تباہ کی جا سکتی ہے۔۔خاص طور پر خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنا کر معاشرے میں اُنکے مقام کو متنازع بنایا جا سکتا ہے۔ لہذا اس حوالے سےبین الاقوامی سطح پر قانون سازی کی ضرورت ہے۔ جسکا فی الحال پوری دنیا میں خاطر خواہ فقدان ہے۔

  • خوراک کا ضَیاع!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    خوراک کا ضَیاع!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    "باجی مرچیں ہیں۔ گھر میں ختم ہو گئی ہیں”

    "چاچی پیاز مل سکتا ہے؟ کل ابا جی بازار سے لانا بھول گئے”

    پاکستان میں ایک زمانے میں گھروں میں یہ عام رواج ہوتا۔ کھانا بنانے کے دوران اگر کوئی سبزی یا روزمرہ کے پکانے کی شے ختم وہ جاتی تو پڑوسی یا محلے میں کسی سے مانگ لی جاتی۔ زمانہ بدل گیا۔۔لوگ اچھی عادتیں بھول کر کہیں اور نکل گئے۔ ایک ایسی دوڑ میں جسکی کوئی سمت نہیں۔

    یہ بات مجھے اقوام متحدہ کے خوراک اور زراعت کے ادارے کی ایک رپورٹ ہڑھتے ہوئے یاد آئی۔ اس رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں انسانوں کے استعمال کے لیے ہیدا کی جانے والی خوراک کا ایک تہائی ہر سال ضائع ہو جاتا ہے۔ 2021 کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر کی 14 فیصد خوراک کھیتوں یا فارمز سے منڈیوں اور مارکیٹ تک آنے میں ضائع ہو جاتی ہے جسکی کل مالیت تقریباً 400 ارب ڈالر بنتی ہے۔

    جبکہ 17 فیصد خوراک مارکیٹوں سے گھر میں پڑی پڑی خراب ہو جاتی ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال 930 ملین ٹن خوراک ضائع ہوتی ہے۔جس میں سے 569 ملین خوراک گھروں میں استعمال نہ ہونے کے باعث کوڑے دانوں کا نصیب بنتی ہے ۔ دنیا کا ہر فرد اوسطاً سالانہ 74 کلو گرام خوراک ضائع کرتا ہے۔ مگر حیران مت ہوں یہ اوسط ہے۔ بہت سے لوگوں کو سمجھانے کے لیے کہ اوسط کا مطلب دراصل یہاں کل خوراک کے ضیاع اور دنیا کی کل آبادی کا تناسب ہے۔

    آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک چین، دنیا کا سب سے زیادہ خوراک ضائع کرنے والا ملک ہے جہاں ہر سال تقریباً 92 ملین ٹن چوراک ضائع ہوتی ہے ۔ اسی طرح بھارت دوسرا بڑا خوراک ضائع کرنے والا ملک ہے جبکہ امریکہ اور پھر بڑے ہورپی ممالک جیسے فرانس اور جرمنی۔

    مگر یہ تصویر مکمل نہیں کیونکہ ظاہر ہے جس ملک کی آبادی زیادہ ہو گی وہاں کل خوراک کا ضیاع بھی زیادہ بنے گا۔ اس لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کس ملک کا شہری سالانہ کتنی نخوراک ضائع کرتا ہے۔

    تو اس پر پہلے نمبر پر براجمان ہیں نائجیریا جہاں ہر شہری سالانہ 189 کلو گرام خوراک ضائع کرتا ہے۔۔جبکہ دوسرے اور تیسرے نمبر پر عراق اور سعودی عرب ہیں۔

    پاکستان میں ہر شہری سالانہ 74 کلو گرام خوراک ضائع کرتا ہے۔اور یوں پاکستان اس رینکنگ میں سترویں نمبر پر ہے۔ یہ اعداد و شمار 2020 کے ہیں۔

    یہاں یہ بتانا ضروری کے کہ پاکستان میں خوراک کی مناسب ترسیل ، سٹوریج اور بہتر دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث زیادہ تر خوراک منڈیوں تک آتے ہی خراب ہو جاتی ہے ۔

    ایک ایسا ملک جہاں غذائی ضروریات کی پہلے سے ہی قلت ہے اور خوراک ایک مسئلہ بننے جا رہی ہو وہاں حکومت اور عوام دونوں کی بے حسی دیدنی ہے۔

    حکومت کیطرف سے اس حوالے سے مناسب پالیسیوں کا فقدان اور غیر سنجیدگی اورعوام کی جانب سے خوراک کے ضیاع کی عادت، اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہم نے نہ جاگنے کی قسم کھائی ہے۔

    خوراک کے ضیاع سے بچنے کے لیے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کئی طریقے اپنا رہے ہیں۔ کچھ حکومتی سطح پر اور کچھ عوامی سطح پر۔

    حکومتیں مارکیٹوں کو پابند کر رہی ہیں کہ زائد المعیاد اشیاء کو خراب ہونے سے قبل سستے داموں یا مفت بیچ دیا جائے ورنہ خوراک کے ضیاع پر انہیں کو جرمانہ عائد ہو گا۔جبکہ عوامی سطح پر کئی ممالک میں ٹیکنالوجی کی مدد سے خوراک کے ضیاع کے مسئلے کو حل کیا جا رہا ہے۔

    اس حوالے سےبرطانیہ میں ایک ایپ بنائی گئی ہے OLIO جہاں اگر اپکے پڑوسی کے پاس اضافی خوراک ہے تو وہ ایپ پر بتا سکتا ہے اور آپ اسے مفت حاصل کر سکتے ہیں۔

    ویسے انگریز کیسے کہتے ہوں گے؟

    "نی مارگریٹ تیرے کول بلیک پُڈِنگ ہے؟ ”

    میری مُک گئی سی۔”

  • اپنے گھوڑے تیار رکھو — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    اپنے گھوڑے تیار رکھو — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    اس سال کی طوفانی بارشوں اور سیلاب کی تباہی سے اگر کوئی ایک انتہائی اہم سبق سیکھا جا سکتا ہے تو وہ ہے “بروقت تیاری”۔ ہم اپنے سر پر کھڑی موسمیاتی تبدیلی کی اتنی بڑی آفت سے آنکھیں بند کرکے حسب معمول کالا باغ ڈیم بنانے یا نہ بنانے کی بحث کرنے، کرپشن کے قصوں کے چسکے لینے اور اپنے اپنے سیاسی لیڈروں سے وفاداری نبھانے میں مصروف ہیں۔کہا جاتا ہے کہ جب ہلاکو خان کی فوج بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے شہر کے دروازے پر پہنچ چکی تھی تو شہر میں موجود عالم لوگ اس بحث میں مصروف تھے کہ سوئی کے چھید سے کتنے فرشتے گزر سکتے ہیں۔

    ماحولیاتی سائنسدان تو پچھلے بیس پچیس سال سے وقتا فوقتا موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں خبردار کر رہے تھے لیکن پاکستان میں اس سال اسے حاضر کی آنکھ سے دیکھا ہے جب سال کے پہلے نصف میں انتہا کی خشک سالی اور پھر جولائی سے شروع ہونے والی طوفانی بارشیں جونہ صرف پانی کی مقدار کے لحاظ سے بہت زیادہ تھیں بلکہ جن علاقوں میں ہوئی ہیں وہ عام طور پر مون سون کی بارش والے علاقے نہیں سمجھے جاتے جیسا کہ مغربی بلوچستان اور سندھ۔ ان کا آغاز کراچی میں خلاف معمول تباہ کن بارشوں سے ہوا۔

    پنجاب جسے روایتی طور پرمون سون کا مرکز مانا جاتا ہے وہاں اس دفعہ معمول کی بارش ہوئی اور کوئی دریائی طغیانی یا سیلاب نہیں آیا۔ کوہ سلیمان اور وسیب کا سیلاب بھی خلاف معمول تھا۔شمالی علاقوں خصوصا سوات میں بھی سیلاب نے 2010 کے سپر فلڈ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

    سیلاب سے متاثر ہونے والی ہماری آبادی دنیا کے 150 ملکوں کی انفرادی آبادیوں سے زیادہ ہے اور سیلاب سے متاثرہ رقبہ بھی دنیا کے 150 ملکوں کے انفرادی رقبے سے زیادہ ہے۔ اس وقت جتنے پاکستان کے جتنے علاقے پر سیلاب کا پانی کھڑا ہے وہ دنیا کے 100 ملکوں کے انفرادی علاقے سے بھی بڑا ہے۔

    تباہی بہت بڑی ہے اور ہم سے کچھ نیا کرنے کو مانگتی ہے کیونکہ ایسے حالات میں معمول کی ترکیبیں یا اقدامات کام نہیں آئیں گے۔سب سے اہم بات تو اگلی آفت سے پہلے آفت کی تیاری ہے تاکہ ہم جانی و مالی نقصانات سے بچ سکیں۔اس تیاری کے لئے جو وسائل چاہئے ہوں گے وہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کے نقصانات سے انتہائی کم ہیں۔

    دنیا کے ماحول کو گندہ کرنے والے ممالک جن میں چاچا سام پیش پیش ہے نے گرین کلائمیٹ فنڈ کو جو 10 بلئین ڈالر سے زیادہ کی فنڈنگ دی ہے وہ رشوت کے پیسوں سے صدقہ کرنے کے مترادف ہے لیکن ہم اس سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکے اور پچھلے اتنے سالوں میں کوئی منصوبہ بنا کر لانچ نہیں کر سکے۔ مجبوری میں امیر ملکوں کی طرف سے قائم کیا گیا یہ فنڈ بھی صدقہ خیرات یا قرض معاف کرنے کے لئے نہیں بلکہ قابل عمل زمینی منصوبوں کے لئے ہے۔

    پاکستان کو بھی اس موسمیاتی تبدیلی کے خطرے کو سمجھتے ہوئے پر اپنی ترجیحات طے کرنی چاہئیں۔

    فوری ردعمل والے سیلاب کے پیشگی اطلاعاتی نظام بنانے ہوں گے۔

    سیلابی علاقوں کی نقشہ بندی کرکے آفت کی صورت میں محفوظ پناہ کے علاقے تلاشنے ہوں گے۔

    آفت کی صورت میں پانی، خوراک اور آمدورفت کو رواں رکھنے کا سوچنا ہوگا۔

    سیلابی پانیوں کو راستہ دینا ہوگا اور ان کی راہ میں رکاوٹوں کو ختم کرنا ہوگا۔

    تمام انفراسٹرکچر منصوبے بشمول سڑکیں پانی دوست بنانا ہوں گے۔

    سیلاب کے بعد کھڑے ہونے والے پانی کی نکاسی کے مقامی پلان بنانے ہوں اور ان سب کاموں میں معیشت کو مضبوط کرنے کے بے انتہا مواقع چھپے ہوئے ہیں

    جتنے بڑے خطرے کی طرف ہم بڑھ رہے ہیں اس کا حل آفت کو قابو کرنے کی بجائے اسے گلے لگانے میں ہے۔اپنے آپ کو آفت کا عادی بنانے میں ہے۔دنیا کی بہت سی مخلوقات حتی کہ بڑے بڑے ڈائنوسار بھی ارتقا کے عمل میں ختم ہوگئے لیکن کمزور حضرت انسان اس دھرتی پر اس لئے دندناتا پھر رہا ہےکہ اللہ نے انسان کو ماحول کے مطابق ڈھالنے کی بے پناہ صلاحیت رکھی ہے۔ “جو ڈھل گیا وہ چل گیا”

    اس ساری صورت کا مثبت پہلو درد دل رکھنے والے وہ افراد یا سماجی بھلائی کی تنظیمیں ہیں جو آفت کے آتے ہی اپنے آپ متحرک ہوئے اور جس کاجو سمجھ آتا تھا اس نے کر ڈالا ۔ ریسکیو، کھانا، راشن، خیمے ، کیش، کپڑے اور گھروں کی دوبارہ تعمیر میں مصروف ہوگئے۔

    مستقبل کی آفت کی تیاری کے عمل میں ایسے لوگ اور تنظمیں ریڑھ کی ہڈی ہیں جو آگے بڑھ کر مقامی طور پر لوگوں کی ذہن سازی، عوامی بیداری اور آفت سے پہلے بچاو کے پروگراموں کو عوام میں کامیاب بنا سکتے ہیں۔ یہ کام جتنا زیادہ سے زیادہ مقامی سطح پر ہوگا،اتناموثر ہوگا۔اس کام کے لئے مرکز یا صوبوں کی سطح پر قائم ادارے فوری اور موثر رد عمل نہیں دے سکتے۔

    کاش ہم جنگ سے پہلے اپنے گھوڑے تیار رکھنے کی عادت اپنا لیں۔

  • امریکی محکمہ ڈاک نے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کا یادگاری ٹکٹ کا جاری کر دیا

    امریکی محکمہ ڈاک نے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کا یادگاری ٹکٹ کا جاری کر دیا

    واشنگٹن: امریکا کے محکمہ ڈاک نے ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی یادگاری کے طور پر نیا ڈاک ٹکٹ جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : امریکا کے محکمہ ڈاک اور ناسا کی جانب سے جمعرات کے روز یہ یادگاری ٹکٹ دارالحکومت واشنگٹن میں قائم اسمتھ سونینز نیشنل پوسٹل میوزیم میں جاری کیا گیا۔

    2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع

    ٹکٹ پر ٹیلی اسکوپ کی تصویر بنائی گئی ہےجبکہ نیچے کی جانب ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سفید حروف میں لکھا گیا ہے۔ یہ ایک ’فارایور‘ اسٹیمپ ہوگا جس کو استعمال کرتے ہوئے مستقبل میں کبھی بھی ڈاک بھیجی جاسکے گی۔

    امریکا کی پوسٹل سروس کے بورڈ آف گورنرز کے وائس چیئر مین اینٹن ہیجر کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ زمین سے لاکھوں کلو میٹر دور سورج کے گرد گھوم رہی ہے اب یہ اس نئے فار ایور اسٹیمپ کے اجراء کے بعد امریکا کے ڈاک کے نظام میں بھی سفر کیا کرے گی۔

    جیمز ویب بنیادی طور پر انفراریڈ روشنی کے ذریعے فلکی اجسام کو دیکھنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے 10 ارب ڈالرز کی مالیت سے بنائی گئی یہ ٹیلی اسکوپ خلاء سے کائنات کی حیران کن تصاویر زمین پر بھیج رہی ہے۔ اس کو خلاء میں بھیجنے کا مقصد کائنات کے ابتداء کے متعلق معلومات اکٹھی کرنا ہے۔

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ 26 ستمبر کو سیارچے سے ٹکرائے گا،ناسا

    سائنسدانوں کے مطابق ہماری اس کائنات کا آغاز تقریباََ ساڑھے تیرہ ارب سال قبل ایک بہت بڑے دھماکے (بگ بینگ) کے ذریعے ہوا تھا۔ کائنات کے آغاز میں (یعنی ابتدائی چند کروڑ سال میں ) جو کہکشائیں وجود میں آئیں، ان سے نکلنے والی روشنی خلا میں تیرہ ارب سال سے سفر کر ہی ہے۔

    اتنا زیادہ عرصہ گزرنے کی وجہ سے یہ روشنی بہت مدھم ہو چکی ہے اور عام دور بین کے لیے اس کی شناخت ممکن نہیں رہی۔جبکہ جیمز ویب کو خصوصی طور پر اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ وہ اس مدھم اور تھکی ہوئی روشنی کو محسوس کر سکتی ہے۔

    جس طرح ہبل ٹیلی اسکوپ کا نام مشہور ماہر فلکیات ایڈوِن ہبل کے نام پر رکھا گیا تھا جس نے سب سے پہلے کائنات کے پھیلائو کا نظریہ پیش کیا تھا۔ اسی طرح جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کا نام بھی جیمز ای ویب نامی سائنسدان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ان کے نا م پر رکھا گیا گیا ۔

    جیمز ای ویب نے 1961 سے 1968 کے درمیان ناسا کے ایڈمنسٹریٹر کے طور پر کام کرتے ہوئے چاند پر بھیجے جانے والے اپالومشن سمیت مرکری اور جیمنی جیسے کئی نئے مشن ترتیب دئیے تھے۔

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت