Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • 22 کروڑ 50 لاکھ سال قبل معدوم ہو جانے والا ممالیہ دریافت

    22 کروڑ 50 لاکھ سال قبل معدوم ہو جانے والا ممالیہ دریافت

    سائنسدانوں نے ایک رکازی (فاسل) دانت کی مدد سے کروڑوں سال قبل معدوم ہوجانے والے ایک ممالیے کی شناخت کرلی ہے اس نئی دریافت کو محققین نے "بہت اہم” قرار دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : منگل کے روز جرنل آف اناٹومی میں شائع ہونے والی تحقیق میں برازیل اور برطانوی سائنسدانوں کی ٹیم کے مطابق برازیلو ڈون کواڈراینگُلرِس ایک چوہے جیسا جانور تھا جس کی لمبائی 20 سینٹی میٹر (8 انچ) تک ہوتی تھی اور اس کے دانتوں کے دو سیٹ تھے۔

    سائنسدانوں نے دنیا کے تنہا ترین درخت سے امیدیں باندھ لیں

    یہ تحقیق برازیل کے شہر پورٹو الیگرے میں قائم فیڈرل یونیورسٹی آف ریو گرینڈے ڈو سُل کی رہنمائی میں کی گئی جس میں نیچرل ہسٹری میوزیم اور کنگز کالج لندن کے سائنس دانوں نے شرکت کی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ چھوٹا ممالیہ اسی دور میں موجود تھا جب سب سے قدیم ڈائنو سار زندہ تھے اور یہ دریافت موجودہ دور کے ممالیوں کے ارتقائی عمل پر روشنی ڈالتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس جانور کی باقیات 22 کروڑ 50 لاکھ سال پُرانی ہیں۔البتہ آج تک کسی بھی باقیات میں مملیائی غدود باقی نہیں رہے ہیں۔ اسی وجہ سےاس تحقیق میں سائنس دانوں کو دانتوں اور ہڈیوں جیسے سخت ٹشوؤں پر انحصار کرنا پڑا۔

    تحقیق کی سینئر مصنفہ ڈاکٹر مارتھا رِکٹر کا کہنا تھا کہ 22 کروڑ 54 لاکھ 20 ہزار سال پُرانی یہ باقیات، ریکارڈ میں مملیوں کی سب سے قدیم باقیات ہیں جو اس دور کی ماحولیات کے اور مملیوں کے ارتقاء کے حوالے سے معلومات فراہم کر رہی ہیں۔

    مراکش:9 میٹر لمبی سمندری چھپکلی کی باقیات دریافت

    ڈاکٹر مارتھا کے مطابق برازیلو ڈون کواڈراینگُلرِس کو پہلے ایک "جدید رینگنے والا جانور” سمجھا جاتا تھا، لیکن اس کے دانتوں کا معائنہ "یقینی طور پر” ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک ممالیہ ہے۔

    اگر آپ رینگنے والے جانوروں کے بارے میں سوچتے ہیں تو ان کے زندگی بھر بہت سے مختلف متبادل دانت ہوتے ہیں لیکن ممالیہ جانوروں کے صرف دو ہی ہوتے ہیں۔ اول، دودھ کے دانت اور پھر دوسرا دانت جو اصل سیٹ کی جگہ لے لیتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ٹیم اس منصوبے پر پانچ سال سے زیادہ عرصے سے کام کر رہی تھی اور اس نے اپنی دریافت کو "بہت اہم” قرار دیا رکٹر نے کہا کہ نتائج نے "اس دور کے ماحولیاتی منظرنامے اور جدید ممالیوں کے ارتقاء کے بارے میں ہماری سمجھ میں مدد کی۔

    کنگز کالج لندن میں ارتقائی ڈینٹوسکیلیٹل بائیولوجی کے مصنف اور پروفیسر مویا میرڈیتھ اسمتھ نے ریلیز میں کہا کہ ہمارا مقالہ اس بحث کی سطح کو بڑھاتا ہے کہ ممالیہ کی تعریف کیا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ فوسل ریکارڈ میں پیدا ہونے کا بہت پرانا وقت تھا۔ پہلے سے جانا جاتا تھا-

    1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانیوالے دیو ہیکل مگرمچھوں کی نئی اقسام دریافت

  • پاکستان سمیت دنیا کےمختلف حصوں میں اسٹار لنک سیٹلائٹ کا  دلکش نظارہ

    پاکستان سمیت دنیا کےمختلف حصوں میں اسٹار لنک سیٹلائٹ کا دلکش نظارہ

    پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں اسٹار لنک سیٹلائٹ کا نظارہ دیکھا گیا۔

    باغی ٹی وی : اسٹار لنک سیٹلائٹ کا نظارہ دنیا کے مختلف حصوں میں دیکھا گیا جس نے دیکھنے والوں کو حیرانی میں مبتلا کر دیا۔

    ایلون مسک کا ٹیسلا کار کو اسٹار لنک سیٹلائٹ سے منسلک کرنے کا اعلان

    پاکستان میں سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے مختلف حصوں میں اسٹار لنک سیٹلائٹ دیکھی گئی جسے شہریوں نے کیمرے میں قید بھی کیا۔


    اسٹار لنک سیٹلائٹ اسپیس ایکس کا پراجیکٹ ہے، اسٹار لنک دنیا بھر میں بنا کسی تعطل کے تیز ترین انٹرنیٹ سروس مہیا کرتا ہے اور اسٹار لنک ابھی 40 ممالک میں انٹرنیٹ تک رسائی فراہم کر رہا ہے۔
    https://twitter.com/DulithHerath/status/1567836094892482560?s=20&t=oSGC2NKGTQls0TfJdV4kmA
    https://twitter.com/AlySyyed/status/1568054722262597632?s=20&t=oSGC2NKGTQls0TfJdV4kmA

    اسٹار لنک ایک ایسا پروجیکٹ ہے جس کا مقصد ‘دنیا کے جدید ترین براڈ بینڈ انٹرنیٹ سسٹم کو تعینات کرنا’ ہے اس میں 40،000 سے زیادہ سیٹلائٹس کے ‘میگا کنسٹرلیشن’ کو مدار میں ڈالنا شامل ہے۔

    چینی سائنسدانوں کا خلاء میں چاول اگانے کا کامیاب تجربہ

    سٹار لنک (Star Link) کیا ہے؟

    ایک بہت بڑے پروجیکٹ کا آغاز سپیس ایکس کمپنی نے 2015 ءمیں کیاجسے ’’سٹار لنک‘‘کانام دیا گیا جس کا بنیادی مقصد سستے اور تیز ترین انٹرنیٹ کی سہولت پوری دنیا کے صارفین تک پہنچانا ہے-

    ایک رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں 59فیصد صارفین ہر وقت انٹرنیٹ کے ساتھ منسلک ہیں اور وہ انٹرنیٹ کی تیز سپیڈکے بھی خواہشمند ہیں گو کہ انٹرنیٹ کی فراہمی کیلئےموجودہ دورمیں کیبل، ٹاور اور وائی فائی سگنل کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے 1600 سیٹلائٹس 550کلو میٹر پر جبکہ 2800سیٹلائٹس 1150 کلو میٹرز کی بلندی پر ایک مقررہ مدار میں سفر کریں گی- پروجیکٹ نومبر 2027ء میں مکمل ہو گا-

    ہارپ ٹیکنالوجی اور موسم!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    قبل ازیں تجرباتی طور پر دو ٹیسٹ سیٹلائٹس فروری 2018ء میں خلا میں بھیجی گئی اور دوسری 24مئی 2019ءکو لانچ ہوئی جس میں 60 سیٹلائٹس کو خلا میں بھیجا گیا جو ایک لائن میں سفر کرتےاور حسین نظارہ پیش کرتے دکھائی دئیے جسے’’سٹار لنک ٹرین‘‘ کا نام دیا گیا تھا-

    سپیس ایکس سٹار لنک ’’Low earth orbit ‘‘سیٹلائٹ ہیں جو زمین کے قریب ہوتے ہیں یہ ساکن اور حرکت کرنے والے بھی ہو سکتے ہیں زمین کےقریب ہونےکی وجہ سےرابطہ کرنےکیلئے کم لیٹنسی استعمال کریں گےجو 25 یا 35 ملی سیکنڈہونے کی وجہ سےان کی پرفارمنس کیبل اور فائبر آپٹک کیبل سے کہیں زیادہ ہے-

    سٹار لنک فاسٹر لیزرٹرانسمیشن کو استعمال کرتے ہوئے ایک سیٹلائیٹ سے 1TBفی سیکنڈ ٹرانسمیشن کو کنٹرول کرتے ہوئے ایک ہی وقت میں 40ہزار لوگوں کو4Kکوالٹی میں ویڈیو دیکھاسکےگا-سپیس ایکس نے پچھلے سالوں کی نسبت 500 سیٹلائیٹ زمینی مدار میں لانچ کی ہیں جو کہ لو ارتھ آربٹ سے انٹر نیٹ مہیا کریں گی جس کی سپیڈ تقریباً 1GBفی سیکنڈ ہو گی جو کہ عام صارف کی روز مرہ زندگی میں ایک انقلاب سے کم نہیں ہو گا-

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ 26 ستمبر کو سیارچے سے ٹکرائے گا،ناسا

    اسٹار لنک اسپیس ایکس کا پروجیکٹ ہے اسپیس ایکس ایک امریکن کمپنی ہےجو حکومت کو اپنے فالکن9 اور فالکن ہیوے راکٹ کے ذریعے کمرشل سروسز مہیا کرتی ہےاسپیس ایکس باقاعدہ خلا میں انٹرنیشنل سپیس سٹیشن پرسامان لےجاتی ہےاس کمپنی کےبانی اورچیف ایگزیکٹو ایلن مسک(Elon Musk) نے اس کمپنی کی بنیاد 2003 ءمیں رکھی اور اس کا مقصد خلائی ٹرانسپورٹ سروس کے اخراجات میں کمی کرنا اور مریخ پر آباد کاری کرناتھا- سپیس ایکس وہ پہلی نجی کمپنی ہے جس نے خلا میں متعدد راکٹ بھیجے ہیں اسپیس ایکس کمپنی عام انسانوں کوخلاء میں لے جانے کے لیے ایک بڑا خلائی جہاز بھی بنا رہی ہے جسے ’’سٹارشپ‘‘کا نام دیا گیا ہے-

  • آواز سے کورونا وائرس کی شناخت کرنے والی سمارٹ ایپ

    آواز سے کورونا وائرس کی شناخت کرنے والی سمارٹ ایپ

    ایمسٹر ڈیم، ہالینڈ:انسانی آواز سے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ آیا وہ کورونا وبا سے متاثر ہے یا تندرست ہے-

    باغی ٹی وی : یورپین ریسپائریٹری سوسائٹی کی بین الاقوامی کانگریس میں پیش کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے اب صرف ایک ایپ کے ذریعے صرف انسان کی آواز سے یہ پتہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کورونا وائرس کاشکار ہے یا نہیں۔

    ہائپرٹینشن کورونا کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    یہ ایپ کسی بھی موبائل فون میں انسٹال کی جاسکتی ہے اور اس میں ممکنہ مریض کو کچھ بولنا ہوتا ہے جس کے بعد آواز کے نمونے ایک ڈیٹابیس سے ملائے جاتے ہیں اور اس بنا پر الگورتھم اپنی تشخیص بتاتا ہے-

    ابتدائی تجربے کے لئے 4 ہزار 5 سو 36 تندرست اور کووڈ کے شکارافراد سے رابطہ کیا گیا اوران سے کل 893 آوازیں ریکارڈ کی گئیں۔ ان میں سے 308 افراد پہلے ہی کووڈ کے شکار تھے اور ان کے ٹیسٹ پوزیٹو تھے ان سب کے موبائل پر ایپ انسٹال کی گئی اور اپنی سانس کی آواز اور کچھ گفتگو ریکارڈ کرنے کو کہا گیا۔

    پھر ان سے کہا گیا کہ وہ تین مرتبہ کھانسیں اور اس کی آواز ریکارڈ کریں، اس کے بعد کہا گیا کہ وہ پھیپھڑے بھرکر سانس لیں اور تین سے پانچ مرتبہ منہ سے سانس خارج کرکے اس کی آواز ریکارڈ کریں۔ آخر میں اسکرین پر لکھے ایک جملے کو تین مرتبہ پڑھنے کو کہا گیا پھر ان آوازوں کا تجزیہ کیا گیا تو سافٹ ویئر نے نہایت کامیابی سے مریضوں کی شناخت کی-

    کورونا وائرس چین سے نہیں بلکہ امریکی لیبارٹری سے لیک ہوا،امریکی پروفیسر کا انکشاف

    یہ ماڈل ڈاکٹر وفاالجباوی اور ان کے ساتھیوں نےتیار کیا ہے ٹیم کے مطابق، یہ اے آئی ماڈل اتنا مؤثر ہے کہ اس کی تشخیص ہوبہو لیٹرل فلو یا فوری اینٹی جن ٹیسٹ جیسی ہی ہے اور کئی معاملات میں تو اس سے بہتر ہے اس اسمارٹ فون ایپ کو دور دراز ایسے غریب ممالک میں استعمال کیا جاسکتا ہے جہاں پی سی آر کے مہنگے ٹیسٹ اور عملہ دستیاب نہیں ہیں۔

    ڈاکٹر وفاالجباوی نے اس اسمارٹ فون ایپ کو ماسٹریخٹ یونیورسٹی میں تیار کیا ہے اور ابتدائی تجربات میں89 فیصد درستگی کے ساتھ کورونا کے کیسز کے نتائج معلوم کیے گئے ہیں جبکہ لیٹرل فلو ٹیسٹ کی افادیت مختلف برانڈ کی وجہ سے مختلف ہوسکتی ہے، بالخصوص کسی طرح کی ظاہری علامت والے مریض کا یہ ٹیسٹ ناکام بھی ہوجاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس کا خرچ نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ ہرکوئی نتیجہ اخذ کرسکتا ہے۔ دوسری جانب ہزاروں میل دور بیٹھے مریض کا ورچول ٹیسٹ بھی اس سے ممکن ہے اور آبادی کی بڑی تعداد کو پرکھا جاسکتا ہے۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ کورونا وبا کے حملے کے بعد چونکہ پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں اور یوں آواز میں نمایاں تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے۔

    موڈرنا ویکسین کے استعمال سے دل کے ورم کا خطرہ رہتا ہے:ماہرین صحت

  • زومبی حقیقت یا فکشن!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    زومبی حقیقت یا فکشن!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    اکثر آپ نے ہالی وڈ کی فلموں میں زومبی دیکھے ہونگے۔ فلموں میں دکھایا جاتا ہے کہ زومبی دراصل چلتی پھرتی گلی سڑی لاشیں ہوتی ہیں جو کسی وائرس کے پھیلاؤ سے، یا کسی اور زومبی کے کسی نارمل انسان کو کاٹنے سے بن جاتے ہیں۔ زومبیوں میں سوچنے سمجھنے یا ماحول کی سمجھ بوجھ نہیں ہوتی۔ اّن میں صرف ایک ہی صلاحیت ہوتی ہے۔ بندہ یا گوشت کھانا۔ زومبی کا تصور انسانی تہذیبوں میں کب آیا اور یہ فلموں میں کب نمودار ہوئے؟ پہلے یہ جانتے ہیں۔

    آثارِ قدیمہ کے ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ قدیم یونانیوں میں زومبی یعنی مرنے کے بعد دوبارہ چلنے پھرنے والے مردوں کا خوف موجود تھا۔ اّنہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ کئی علاقوں سے ایسی قبریں ملی ہیں جن میں ڈھانچوں کے اوپر بڑے بڑے پتھر رکھے جاتے تھے۔ غالباً اس خیال سے کہ مردے دوبارہ سے چلنا شروع نہ ہو جائیں۔

    ماضی قریب میں دیکھیں تو شاید ستروییں صدی میں زومبی سے متعلق لوک داستانیں شمالی امریکہ کے ملک ہائیٹی میں ملتی ہیں۔ جہاں گنے کی کاشت کے لئے افریقہ سے غلام لائے جاتے۔ ان داستانوں میں زومبی ایک طرح سے ان غلاموں کی مشکل زندگی یا مر کر کی آزاد ہونے کی تشبیہ کے طور پر استعمال ہوتی۔

    مغربی افریقہ ، برازیل اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک میں ‘ووڈو” مذہب کے ماننے والوں میں بھی زومبی کا تصور ہایا جاتا ہے۔ ان میں کچھ کا یہ ماننا ہے کہ اس مذہب کے پیشوا جنہیں "بوکور” کہا جاتا ہے, وہ جڑی بوٹیوں، ہڈیوں اور جانوروں کے گوشت سے ایک سفوف سا تیار کرتے ہیں جس سے انسان زومبی میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس سفوف کو زومبی پاؤڈر کہتے ہیں۔

    سائنس اس بارے میں کیا کہتی ہے؟ اگر کسی شخص کو ایک خاص طرح کا کیمکل جو شاید زومبی پاؤڈر میں بھی موجود ہو، جسے tetrodotoxin کہتے ہیں۔ اگر اسکی معمولی مقدار دی جائے تو چند ایسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں جن سے ںظاہر ایک انسان زومبی سا دکھے یعنی اُسے چلنے پھرنے میں دشواری ہو، سانس اُکھڑنا شروع ہو جائے یا وہ کنفوژن کا شکار ہو جائے۔ اس کیمیکل کے زیادہ استعمال سے انسان کوما میں بھی جا سکتا ہے یا مر بھی سکتا ہے۔

    البتہ جس طرح سے فلموں میں زومبی دکھائے جاتے ہیں انکا سائنس میں کوئی ٹبوت نہیں ۔یہ محض فکشن ہے۔ زومبی کے تصور نے جدید دور میں اُس وقت زور پکڑا جب 1962 میں ایک فلم آئی Night of the Living Dead۔ اس فلم کی مقبولیت کے بعد ہالی وڈ میں اب تک کئی فلمیں بن چکی ہیں جن میں زومبی دکھائے جاتے ہیں۔ ان فلموں میں موجود زومبی چلتی پھرتی لاشیں اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتی ہیں۔

  • مچھروں کی آواز!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مچھروں کی آواز!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آپ سونے لگے ہیں، اچانک سے آپکو ایک تیز سی آواز کان کے قریب سنائی دیتی ہے۔ آپ ہڑبڑا اُٹھتے ہیں۔ غصے یا جھنجھناہٹ میں فوراً ہوا میں ہاتھ مارتے ہیں جسیے کسی ان دیکھی آفت سے "کنگ فو” کر رہے ہوں۔ آواز غائب ہو جاتی ہے۔ یا تو آپکا وار ٹھیک نشانے پر لگا یا پھر آواز پیدا کرنے والا یہ ناہنجار آپ سے دور چلا گیا۔ یہ آواز کسی اور کی نہیں ایک عدد مادہ مچھر کی تھی۔

    سوال مگر یہ ہے کہ مچھر آواز کیسے نکالتے ہیں؟ کیا ہماری طرح منہ سے؟

    نہیں۔۔ مچھروں کی آواز دراصل اُنکے ننھے سے پروں کے تیزی سے ہلنے سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک مچھر ایک سیکنڈ میں تقریباً 1 ہزار مرتبہ اپنے پر ہلاتا ہے(مادہ عموما 600 مرتبہ). جس سے ایسی بھن بھن کرتی آواز پیدا ہوتی ہے۔ مگر پر ہلانے سے آواز؟ جی۔ کبھی آپ نے گانا بجاتے سپیکر کو غور سے دیکھا ہے۔ اس میں سے جب آواز نکل رہی ہوتی ہے تو اسکی اوپری سطح تیزی سے ہل رہی ہوتی ہے۔

    ایک سپیکر کے پردے کا یوں ہلنا اسکے اردگرد موجود ہوا میں دباؤ کو بدلتا ہے اور ایک موج یا لہر پیدا کرتا ہے۔ اس سے ہوا میں موجود ایٹموں میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ یہ موج دراصل آواز کہلاتی ہے۔ یہ جب آپکے کان کے پردے پر پڑتی ہے تو کان کا پردہ بھی اسی طرح سے ہلتا ہے جیسے سپیکر کا پردہ ہل رہا ہوتا ہے۔ اس میکانکی موج یا لہر کو کان کے ذریعے برقی سگنل کی صورت دماغ "سنتا” ہے اور یوں آپکو آواز سنائی دیتی ہے۔

    مچھر اپنے پر ہلانے کی رفتار کو بدل سکتا ہے جس سے اسکی اُڑان کے ساتھ ساتھ آواز بھی بدلتی ہے۔ ایک نر مچھر انسانوں کو نہیں کاٹتا۔ یہ "انسان کا بچہ” پودوں اور پھولوں کا رس چوس کر ان سے خوراک حاصل کرتا ہے۔ جبکہ ایک مادہ مچھر انسانوں اور دیگر جانوروں کا خون اس لئے چوستی ہے کیونکہ اس میں ایک خاص طرح کا پروٹین ہوتا ہے جو مادہ مچھر میں موجود انڈوں کی افزائش کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

    مچھر انسانوں کے جسم کی بو اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو محسوس کر کے اپنا شکار تلاش کرتا ہے۔ کچھ لوگوں کو مچھر زیادہ کاٹتے ہیں۔ وجہ غالباً اُنکے جسم سے نکلنے والی بو مچھروں کو زیادہ محسوس ہوتی ہو۔ مچھر کس طرح کی جسمانی بو پر زیادہ آتے ہیں، یہ ہمیں معلوم نہیں۔

    دنیا بھر میں مچھروں کی تین ہزار سے زائد اقسام ہیں۔یہ اور دیگر کئی کیڑے مکوڑے گرم اور مرطوب موسم میں زیادہ افزائش کرتے ہیں۔ ایک مادہ مچھر ایک ہفتے میں تین ہزار انڈے دیتی ہے۔ یہ اپنے انڈے پانی میں دیتی ہیں جن سے لاروے بنتے ہیں اور تیرتے ہیں۔

    اس لیے اپنے اردگرد کھڑے پانی کو ختم کرنا ضروری ہے تاکہ ان میں مچھر انڈے دیکر بچے پیدا نہ کریں اور ملیریا اور ڈینگی سے بچا جا سکے۔

    2020 کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً ڈھائی کروڑ افراد ملیریا کا شکار ہوتے ہیں جن سے سوا چھ لاکھ کے قریب اموات واقع ہوتی ہیں۔ اموات کا تناسب ترقی پذیر اور غریب ممالک میں زیادہ ہوتا ہے۔ 2020 میں پاکستان میں پاکستان میں 5 لاکھ ملیریا کے کیسز رپورٹ ہویے اور اموات کی تعداد تقریبا 50 ہزار کے قریب رہی۔ ان میں سے 37 فیصد مریضوں کا تعلق پاکستان کی افغانستان اور ایران کے قریب سرحدی علاقوں سے تھا۔

    2019 کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ملیریا کے علاج کے لیے فی کس تقریباً 3 ہزار روپے سے زائد خرچ اُٹھتا ہے۔ یہ رقم شاید کچھ لوگوں کے لیے معمولی ہو مگر پاکستان کی زیادہ تر آبادی گاؤں اور دیہاتوں میں رہتی ہے جنکی فی کس ماہانہ آمدنی 30 ہزار روپے سے بھی کم ہو(2016 پاکستان شماریاتی ادارے کی رپورٹ)۔ اُنکے لیے یہ رقم خرچ کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ملیریا جیسے قابلِ علاج مرض سے مرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔

  • ہاتھی دانت سے پلاسٹک تک!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہاتھی دانت سے پلاسٹک تک!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پلاسٹک کا لفظ یونانی زبان کے لفظ "پلاسسٹیکوس” سے نکلا ہے جسکے معنی مختلف اشکال میں تبدیل ہونے کی صلاحیت کے ہیں۔

    انیسویں صدی کے وسط تک صنعتی ترقی کے باعث جانوروں سے حاصل کردہ مصنوعات کی کھپت میں اضافہ ہونے لگا۔ اُس زمانے میں ہاتھی دانت کا استعمال مختلف اہم اشیا میں ہوتا جیسے کہ پیانو کے کی بورڈ میں یا سنوکر بالز میں۔ اسی طرح کچھوؤں کے خول سے کنگھی بنائی جاتی۔ اور دیگر جانوروں کی ہڈیوں یا سینگوں سے مختلف طرح کی روزمرہ کے استعمال کی اشیاء ۔ ایسے میں کئی جانوروں کی نسل معدوم ہونے کا خطرہ بڑھتا گیا۔

    اس مسئلے کے حل کے لیے مصنوعی میٹریل کی تلاش تھی جو پائیدار اور مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ سستا بھی ہو۔ یہ بات آپکو حیران کن لگے مگر پلاسٹک کی ایجاد دراصل ماحول اور جانوروں کو بچانے کے لیے کی گئی۔ 1862 میں برطانیہ کے ایک کیمیاء دان الییکسنڈر پارکِس نے ایسا میٹریل ایجاد کیا جسے دنیا کا سب سے پہلا پلاسٹک کہا جا سکتا ہے۔ (ویسے فطرت میں بھی کچھ قدرتی پلاسٹک پائے جاتے ہیں). اس پلاسٹک کا نام پارکیسائن رکھا گیا۔ اسے مختلف اشیاء میں ہاتھی دانت اور کچھوے کے خول کے متبادل کے طور پر استعمال کرنا مقصود تھا۔ یہ پلاسٹک دراصل کپاس کے دھاگوں کو گندھگ اور نائیٹرک ایسیڈ میں حل کر کے بنایا جاتا جسکے بعد اس میں سبزیوں سے نکلا تیل شامل کیا جاتا۔ بعد میں اس پلاسٹک کا استعمال سینما گھروں کی ریلز میں، کنگھوں میں اور بلیئرڈ کی گیندوں میں عام ہونے لگا۔ سستا ہونے کے باعث اب یہ عوام میں مقبول ہونے لگا۔ مگر اسکا استعمال ابھی بھی محدود تھا۔

    1907 میں بیلجیم کے ایک کیمیا دان لیو بائیکی لینڈ نے پہلا ستنھیٹک پلاسٹک متعارف کرایا۔ یہ محض دو کیمیکلز کے کو لیبارٹری میں حرارت اور دباؤ کے زیرِ اثر لا کر بنایا گیا۔

    دوسری جنگِ عظیم کے بعد خام تیل اور پلاسٹک انڈسٹری کے اشتراک سے پلاسٹک ٹیکنالوجی مزید بہتر آئی اور اسکا استعمال پیکنک اور روزمرہ کی اشیاء میں بڑھتا گیا۔

    بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تمام طرح کا پلاسٹک ماحول کے لئے برا ہے۔ یہ بت مکمل نہیں ۔ دراصل ایک بار استعمال ہونے والا پلاسٹک ماحول کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ہے۔

    چند اور اہم مسائل بھی پلاسٹک سے جڑے ہیں۔جن میں اس کی تیار ہونے کے عمل میں زیریلی اور مضرِ صحت گیسوں اور کیمکلز کا اخراج اور قدرتی ماحول میں ڈی کمپوز نہ ہونا شامل ہے۔ پلاسٹک کی عمر بے حد طویل ہوتی ہے۔ایک پلاسٹک کے ٹکڑے کو جو بوتلوں، پییکنگ یا گھریلو استعمال کے کام اتا ہے، ماحول میں ڈی کمپوز جعنی گلنے سڑنے ہونے میں صدیاں لگ جاتی ہیں۔وجہ یہ کہ اسےقدرت میں موجود بیکٹریا یا دیگر مائیکروب آسانی سے کیمیائی طور پر توڑ نہیں سکتے۔اسکے علاوہ یہ آکسیجن یا فضا میں موجود دیگر گیسوں یا پانی میں موکود کئی کیمکلز سے کیمیائی تال میل نہیں رکھتا۔

    یہی وجہ ہے کہ پلاسٹک کے فضلے کو صحیح طور پر ٹھکانے لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔یہ نکاسی آب کے راستے دریاؤں، ندی نالوں سے ہوتا ہوا سمندروں تک جا پہنچتا ہے۔

    ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ 80 لاکھ ٹن پلاسٹک سمندروں میں جاتا ہے۔

    پلاسٹک محض سمندروں میں نہیں، اسکے چھوٹے چھوٹے ذرات ہماری خوراک، ہوا اور پینے کے پانی میں بھی موجود ہوتے ہے۔ اسے مائیکرپلاسٹک کہتے ہیں۔ یہ محض انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں بلکہ اس سے پودوں اور جانوروں کی نشونما پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    دنیا بھر میں پلاسٹک کی آلودگی کے حوالے سے آج سنجیدگی سے کام ہو رہا ہے۔اسکے استعمال کو روکنے یا کم کرنے کے لئے پلاسٹک کی آلودگی کے حوالے سے بہت سی حکومتیں اور فلاحی تنظیمیں آگاہی مہم چلا رہی ہیں ۔ اسکے علاہ پلاسٹک کی ری سائیکلنگ کے حوالے سے حکومتی اور پرائیویٹ سطح پر پلانٹس لگائے جا رہے ہیں۔

    کولڈ ڈرنک اور دیگر خوراک بنانے والی کمپنیوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی مصنوعات میں استعمال ہونے والے پلاسٹک کی زیادہ سے زیادہ ری سائیکلنگ کریں۔

    مثال کے طور پر جرمنی یا دیگر یورپی ممالک میں آپ کولڈ رنکس یا پانی کی بوتلیں خریدنے جائیں تو اس کی کل قیمت پر آپکو اضافی 25 سے 30 سینٹ دینے پڑتے ہیں۔ یہ رقم پلاسٹک کی بوتل کی ہوتی ہے جو بوتل خالی ہونے کے بعد جب آپ سپر مارکیٹ کے باہر لگی مشین میں ڈالتے ہیں تو آپکو واپس کر دی جاتی ہے۔ مقصد گاہک کو مجبور کر کے پلاسٹک کی بوتلوں کی ری سائیکلنگ کو یقینی ںنانا ہوتا ہے ۔
    بالکل ایسے ہی کئی ممالک میں پلاسٹک، پیپر اور کھانے پینے کے کوڑے کے لیے جگہ جگہ الگ رنگ کے کوڑے دان موجود ہوتے ہیں۔ تاکہ بہتر طریقے سے مختلف قسم کے کوڑے کو الگ کر کے اسے ری سائیکل کیا جا سکے۔

    پلاسٹک کی آلودگی کو روکنے کے لیے 30 مائیکرمیٹر سے موٹے تھیلے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ وہ اُڑ نہ سکیں، پائیدار ہوں اور بار بار استعمال کیے جا سکیں۔ جبکہ ہماری ہاں عوام دہی کے لیے بھی کہتے ہے کہ شار ڈبل کروا رہی ہوتی ہے اور زرا سی ہوا چلنے سے شاپر قوم کی مہنگائی کو دیکھ کر اُڑنے والی نیندوں کیطرح اُڑ رہے ہوتے ہیں۔

    پاکستان میں پلاسٹک کی آلودگی ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ چونکہ یہ زرعی ملک ہے لہذا یہاں ایک وسیع آب پاشی کا نظام ہے۔

    شہروں میں آبادی بڑھنے، ، پہاڑی علاقوں کی سیاحت اور عوام میں بے حسی کے اضافے کے باعث ہماری آبی گزرگاہیں، شہر، دیہات سب پلاسٹک کی لپیٹ میں ہیں۔۔یوں لگتا ہے کچھ عرصے بعد پورا ملک پلاسثک کا بن جائے گا۔

    مگر اس آلودگی کو لیکر حکومتی سنجیدگی، واضح پالیسی یا حکمت عملی کا مکمل فقدان ہے۔اشرافیہ میں بیٹھے "محترم” بابے خود شاپر کی شکل کے ہوتی جا رہے ہیں۔ توندیں اور بے حسی بڑھتی اور عقل اور سر کے بال گھٹتے جا رہے ہیں۔

    پلاسٹک کے تھیلوں پر کسی خاص علاقے یا شہر میں پابندی لگا دینا ہی کافی نہیں ۔ اس حوالے سے آگاہی مہم چلانا، پلاسٹک کے تھیلوں کی کوالٹی کو بہتر بنانا، ایک سے زائد بار پلاسٹک کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا، پلاسٹک کے متبادل ماحول دوست پیپر یا کپڑے کے تھیلے استعمال کرنا، غیر ضروری طور پر پلاسثک کے استعمال کو روکنا وغیرہ وغیرہ یہ وہ سنجیدہ اقدامات ہیں جن سے ملک میں پلاسٹک کی آلودگی کو کم کر کے انسانوں، اور دیگر جانداروں کے لیےرہنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔

    ملک کو صاف رکھ کر اسکی خوبصورتی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اور دنیا کے سامنے پاکستان کا ایک مثبت اور ماحول دوست چہرا سامنے لا کر اسے غیر ملکی سیاحت کے لیے پُر کشش بنایا جا سکتا ہے۔ غیر ملکی سیاحوں کو مفت کی روٹیاں اور "گورے کمپلیکس” کے علاوہ بھی کئی طریقے ہیں سیاحت کے فروغ کے لیے جو تادیر اثر رکھتے ہیں۔جن میں سب سے اہم یہ پلاسٹک کی آلودگی کا خاتمہ اور ملک کو صاف کرنا ہے۔

    ضرورت واضح حکمت عملی اور شعور کی ہے۔

  • سائنسدانوں نے دنیا کے تنہا ترین درخت سے امیدیں باندھ لیں

    سائنسدانوں نے دنیا کے تنہا ترین درخت سے امیدیں باندھ لیں

    سائنسدانوں نے ماحولیات کے سوال پر دنیا کے تنہا ترین درخت سے امیدیں باندھ لیں-

    باغی ٹی وی: نیوزی لینڈ کے سائنسدانوں کو امید ہے کہ کیمپ بیل جزیرے پر موجود دنیا کا تنہا ترین بوڑھا درخت ماحولیاتی تبدیلیوں کے سوال کے راز افشا کرنے میں ان کی مدد کر سکتا ہے۔

    اداسی محسوس ہو تو دریا یا نہر پر چلے جانا مزاج کو بہتر کر سکتا ہے،تحقیق

    نیوزی لینڈ کے جنوبی سمندر کے ایک جزیرے پر موجود 9 میٹر طویل صنوبر (Sitka Spruce) کا یہ درخت کب لگایا گیا اس حوالے سے کوئی حتمی ثبوت موجود نہیں تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ اسے 1900 کے قریب لگایا گیا تھا۔

    مستقل طور پر غیر آباد سبانٹرکٹک کیمبل جزیرے کے وسط میں بیٹھا، نو میٹر لمبا سیٹکا سپروس اپنے قریبی ساتھی سے 250 کلومیٹر دور ہے۔ اصل میں، یہ جزیرے پر واحد درخت ہے تاہم، تکنیکی طور پر، یہ تنہا درخت یہاں نہیں ہونا چاہئے اس کا وجود اب موسمیاتی تبدیلی کی زمینی تحقیق کو آگے بڑھانے میں مدد کر رہا ہے۔

    صنوبر کا یہ درخت دنیا کا تنہا ترین درخت تصور کیا جاتا ہے اور گنیز بک آف رکارڈز میں بھی اسکا نام ’’ریموٹیسٹ ٹری آن دی پلینٹ‘‘ کے طور پر درج ہے اور یہ 222 کلومیٹرز کے دائرے میں موجود واحد درخت ہے۔

    یہ درخت ویسےبھی سائنسدانوں کیلئےدلچسپی کا باعث بن سکتا ہےلیکن جی این ایس سائنس میں ریڈیو کاربن سائنس کےسربراہ ڈاکٹر جوسلن ٹرنبل کا خیال ہےکہ یہ درخت جنوبی سمندر کے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار جذب کرنے کی مقدار جاننے کیلئے ایک اہم اوزار ثابت ہو سکتا ہے۔

    تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

    جی این ایس سائنس نیوزی لینڈ کے ریڈیو کاربن سائنس لیڈر کے طور پر، ڈاکٹر ٹرن بل انٹارکٹک سائنس پلیٹ فارم کے ایک بڑے تحقیقی پروجیکٹ کی رہنمائی کرتے ہیں، جو کہ حکومت کے تعاون سے چلنے والا ایک تحقیقی پروجیکٹ ہے جس کا مقصد زمین کے نظام پر انٹارکٹیکا کے اثرات کی سمجھ کو بہتر بنانا ہے۔

    ڈاکٹر ٹرن بل اور ان کی ٹیم ریڈیو کاربن کی پیمائش میں مہارت رکھتی ہے تاکہ جنوبی بحر میں جیواشم ایندھن کے CO2 کے اخراج کے ماخذ کی چھان بین کے لیے کاربن سنک کے طور پر اس کے کردار کو سمجھ سکے۔

    ڈاکٹر جوسلن کا کہنا ہے کہ فاسل فیول کے استعمال سے ہم جو کاربان ڈائی آکسائیڈ پیدا کرتے ہیں اس کا صرف نصف حصہ پیچھے رہ جاتا ہے جبکہ باقی نصف حصہ زمین اور سمندر جذب کر لیتے ہیں۔

    ڈاکٹر جوسلن کا کہنا ہے کہ جنوبی سمندر میں کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی مقدار کے حوالے سے ہونے والی تحقیقوں میں متضاد نتائج سامنے آئے تھے لیکن موجودہ نظریہ یہ ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے جذب ہونے کی مقدار میں اضافہ ہوا ہے اور ہم یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ اگر ایسا ہے تو کس چیز کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

    دنیا کا واحد زہریلا پرندہ دریافت

    انہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے ڈیٹا جمع کرنے کا سب سے بہترین طریقہ CO2 کنسٹریشن والے ماحول سے ہوا کے سیمپل جمع کرنا ہے یا گہرے سمندر سے پانی کے سیمپل لے کر ان کی کاربن ڈیٹنگ کرنا ہے لیکن آپ ایسی ہوا کا سیمپل نہیں لے سکتے جو 30 سال پہلے تھی کیوںکہ اب اس کا کوئی نام و نشان وہاں باقی نہیں ہے-

    ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اس خیال پر کام کرنے کا ارادہ کیا کہ ہم درختوں کی رنگز کا مطالعہ کر سکتے ہیں کیوں کہ درخت نشونما پاکر بڑھتے رہتے ہیں اور ہوا سے جذب کی گئی کاربان ڈائی آکسائیڈ ان کی رنگز میں قید رہ جاتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں درخت بہت ہی کارگر معلومات کا ذریعہ بن سکتے ہیں لیکن جنوبی سمندر کے پاس درخت بہت ہی نایاب ہیں اور صنوبر کے اس تنہا ترین اور بوڑھے درخت کے حوالے سے ہماری ٹیم کا خیال ہے کہ یہ بہت معلوماتی ڈیٹا مہیا کر سکتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ صنوبر کے درخت خطے میں موجود کسی بھی دوسری چیز کی نسبت تیزی سےنشونما پاتے ہیں اور ان سے ریکارڈ لینا بھی آسان ہوتا ہے کیونکہ ان کی رنگز بڑی ہوتی ہیں اورانہیں الگ کرنا بھی آسان ہوتا ہے۔

    برازیل میں ایمیزون کے جنگلات کی کٹائی کا نیا ریکارڈ

  • ایپل نے آئی فون 14متعارف کرا دیا, جسمیں سیٹلائٹ کنکٹیویٹی اور کار کریش ڈٹیکشن ٹیکنالوجی بھی موجود

    ایپل نے آئی فون 14متعارف کرا دیا, جسمیں سیٹلائٹ کنکٹیویٹی اور کار کریش ڈٹیکشن ٹیکنالوجی بھی موجود

    امریکی کمپنی ایپل نے آئی فون 14 کی نمائش کر دی، نئی آئی فون سیریزمیں ایمرجنسی سیٹلائٹ کنکٹیویٹی اور کار کریش ڈٹیکشن ٹیکنالوجی بھی موجود ہے۔

    باغی ٹی وی : کمپنی کی جانب سے فون کے چار ورژن متعارف کروائے گئے ہیں، آئی فون 14 کے دو سائزز آئی فون 14 اور آئی فون 14 پلس متعارف کرایا گیا ہے، نئے فونز میں سیٹلائٹ کے ذریعے ایمرجنسی کال بھیجنے کی صلاحیت ہے۔

    صارفین جو 24 اکتوبر سے واٹس ایپ استعمال نہیں کرسکیں گے

    اور اس تقریب کے دوران عالمی وبا کے آغاز کے بعد سےپہلی مرتبہ عام لوگوں کو شریک ہونےکی اجازت تھی ایپل کی جانب سے دی واچ الٹرا کی بھی رونمائی کی گئی تام اس تقریب میں اگلی جنریشن کے آئی فون، گھڑی، اور ایئر پاڈ جیسی مصنوعات پر توجہ مرکوز رہی۔


    بی بی سی کے مطابق فون میں خلا میں موجود سیٹلائٹس سے متعلق معلومات ہوتی ہیں اور ڈیوائس کو ان کی جانب صحیح انداز میں پوائنٹ کرنے کے بارے میں بھی بتایا جاتا ہے۔

    ٹیکنالوجی تجزیہ کار پاؤلو پیسکاٹور کا کہنا ہےکہ اُن کاماننا ہے کہ یہ جدت ایسے صارفین کے لیے ایک اچھی خبر ہے جو دور دراز علاقوں میں رہتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ خوش آئند ہے کہ اب فون بنانے والی کمپنیاں سیٹلائٹ کے استعمال کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہی ہیں کیونکہ صارفین کے لیے فوری اور مؤثر مواصلاتی نظام اب بھی انتہائی اہم ہے۔

    انسٹاگرام پر 40 کروڑ 50 لاکھ یورو کا جرمانہ عائد

    ایپل کے مطابق آئی فون صارفین نے گذشتہ 12 ماہ کے دوران تین کھرب سے زیادہ تصاویر بنائی ہیں، تقریب میں آئی فون 14 کے نئے 12 میگاپکسل کیمرے کی بھی رونمائی کی گئی ، کمپنی کا دعوی ہے کہ کیمرہ تیزی سے حرکت کرنے والی چیزوں اور انتہائی کم روشنی میں تصویر بنانے میں گذشتہ فونز سے 49 فیصد بہتر ہے-

    فرنٹ کیمرے میں آٹو فوکس کی آپشن بھی شامل کی گئی ہے جس سے سیلفیز کی کوالٹی بہتر ہو گی، آئی فون 14 کی قیمت امریکہ میں 799 ڈالر جبکہ برطانیہ میں 849 پاؤنڈ ہے آئی فون 14 پرو اور آئی فون 14 پرو میکس کے ڈیزائن میں سب سے بڑی تبدیلی اس کی سکرین کے اوپری حصے میں کی گئی ہے۔

    ہینڈ سیٹ گہرے جامنی رنگ، سیاہ، سلور اور گولڈ میں بھی دستیاب ہے۔ آئی فون 14 پرو کی قیمت امریکہ میں 999 ڈالر جبکہ برطانیہ میں 1099 پاؤنڈ ہے۔

    نتپ فیچر ’ڈائنیمک آئی لینڈ‘ بلیک نوچ کی جگہ لایا گیا ہے جس کے بارے میں اکثر آئی فون صارفین شکایت کر چکے ہیں۔ یہ نوٹیفیکشنز کی بنیاد پر اپنی شکل تبدیل کر دیتا ہے۔ دوسری بڑی تبدیلی یہ ہے کہ یہ فون ہمیشہ آن رہ سکتا ہے۔

    2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع

  • ہارپ ٹیکنالوجی اور موسم!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہارپ ٹیکنالوجی اور موسم!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں انٹرنیٹ کے پھیلاؤ سے کئی سازشی تھیوریوں کے پنپنے اور پھیلاؤ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایسا نہیں کہ انٹرنیٹ کے دور سے پہلے کوئی سازشی تھیوری یا غلط اطلاع یا افواہیں نہیں پھیلتی تھیں۔ ایک خاندان کی مثال ہی لے لیجیے۔ گھر میں بھی ساس، نندیں، دیور، بھاوج، سسر، ماموں ، تایا، پھوپھی، خالو، دادا، لکڑ دادا، پر دادا، لکڑ کا بھی لکڑ دادا وغیرہ وغیرہ سب کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی گھریلو افواہوں کی لپیٹ میں ایک دوسرے کے خلاف سازشیں یا سازشی ذہن رکھتے ہیں۔

    افواہ یا غلط معلومات کا تبادلہ خاندان سے لیکر معاشرے کی ہر اکائی میں ہوتا ہے۔ غاروں میں رہنے والے انسان یا جنگلوں میں جانوروں کا شکار کرتے لوگ سبھی افواہوں کا شکار یا افواہ پھیلانے کا آلہ کار بنتے رہے ہیں۔ اور کوئی بھی افواہ یا غلط معلومات سازشی تھیوری کی بنیاد بن جاتی ہے۔ مگر ایسا کیوں ہے؟

    یہ ایک دلچسپ انسانی رویہ ہے۔ انسان دراصل کسی کمپیوٹر پروگرام کی طرح من و عن ایک خبر کو یا ایک معلومات کو دوسرے تک نہیں پہنچا پاتے۔ فرض کیجئے میں نے ایک واقعہ دیکھا اور اب جب میں آپکو اسکی تفصیل بتاؤ گا تو آپکا دماغ اسے اپنے مطابق سمجھے یا تصور کرے گا۔ یہاں میں آپکو واقعہ سنانے کے دوران جہاں جہاں آپکی دلچسپی بڑھتی دیکھوں گا وہاں وہاں غیر شعوری طور پر اُس بات کو مزید کھینچوں گا۔ اس میں مزید تفصیل بتانے کی کوشش کرونگا۔ یوں معلومات ہو بہو آپ تک نہیں پہنچے گی۔ اس میں کچھ بدلاؤ آئے گا۔

    بالکل ایسے ہی جب آپ میرا سنایا گیا واقعہ کسی اور کو سنائیں گے تو وہاں آپ اپنے مطابق بات کو تبدیل کر دیں گے۔ ایسا کرتے کرتے اصل بات کا مطلب و معانی بالکل ہی تںدیل ہوتا چلا جائے گا۔ سازشی تھیوریاں کچھ ایسے ہیں پھیلتی ہیں۔ مگر اس میں ایک فرق اور بھی ہوتا ہے۔ اور وہ یہ کہ آپ جس بیز پر پہلے سے ہی یقین کیے ہوتے ہیں یہ ساشی تھیوری اسے مزید پختہ کرتی ہے۔ جب وہ تھیوری آپکے کسی یقین کی کسی بھی بات کو دور کی کوڑی لاتے ہوئے بھی کنفرم کر دے تو آپ پکے ہو جاتے ہیں۔ آپ ثبوت نہیں مانگتے۔ آپکے دلائل کا محور کسی کی کہی بات یا کسی کے سنے جملے پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ آپ مکمل حقائق نہیں دیکھتے۔

    اب مثال لیتے ہیں ہارپ ٹیکنالوجی کی سازشی تھیوری کی۔ ہمارے ہاں یہ عام تاثر پایا جاتا ہے کہ امریکہ ہر وقت ہمارے خلاف سازش کر رہا ہے اور امریکہ ہمیں تباہ کرنا چاہتا ہے۔ اس بات کے پیچھے ماضی کے کئی واقعات، امریکہ کے دنیا بھر میں غاصبانہ تسلط اور امریکہ کی خارجہ پالیسیوں سے جڑے ہیں۔

    مزید یہ کہ ہماری اشرافیہ کے لیے یہ آسان ہے کہ وہ امریکہ کو دشمن ثابت کر کے اصل مسائل اور اپنی صدیوں کی نااہلی کا مکمل ملبہ امریکا یا مغربی ممالک پر ڈال دے۔ ایسے میں عام عوام میں آمریکہ کے خلاف بد اعتمادی ایک قابلِ فہم بات ہے۔ تو اب ہم یہ تو سمجھ گئے کہ امریکہ کے خلاف بداعتمادی موجود ہے تو ایسے میں اگر کوئی آپکو آ کر یہ کہے کہ آج پاکستان میں جو سیلاب آئے ہیں یہ سب امریکہ کی سازش ہے تو آپ اسے ماننے میں ذرا بھی تردد نہیں کریں گے بھلے آپکے پاس اسکے ثبوت ہوں یا نہ ہوں۔

    انٹرنیٹ کے آنے سے البتہ یہ ہوا کہ ان سازشی تھیوریوں کو لوگوں نے سائنسی اصطلاحوں سے بھر کر انہیں بظاہر ایسا بنا دیا کہ لوگ ان پر یقین کرنا شروع کر دیں۔ مثال کے طور پر ہارپ ٹیکنالوجی کا تعلق زمین سے اوپر فضا میں 50 سے 1 ہزار کلومیٹر کے فضائی حصے کی تحقیق کے حوالے سے ہے۔ اس فضائی حصے کو آئینوسفیر کہا جاتا ہے۔ اب وہ لوگ جو سائنس سے یا موسموں کی سائنس سے ناواقف ہیں وہ یہ نہیں جانتے کہ زمین پر موسم جنکا تعلق دراصل پانی کے بادلوں سے ہے، یہ بادل کتنے اوپر تک ہوتے ہیں؟ کم سے کم دو کلومیٹر اور زیادہ سے زیادہ تقریباً 7 کلومیٹر اوپر۔

    ہارپ ٹیکنالوجی کا تعلق بادلوں سے کیسے ہو سکتا ہے جبکہ یہ آئنوسفیر (جو 50 کلومیٹر سے اوپر شروع ہوتی ہے) کے کسی خاص حصے کو ہائی فریکوئنسی ریڈیائی لہروں کے ذریعے متحرک کر کے اسکے اثرات کو سمجھنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ اسکا ایک مقصد سورج کی تابکاری شعاعوں کا فضا کے اس حصے پر سثرات کو جاننا ہے اور دوسرا خکا میں سٹللائیٹس کمیونیکشن کے خلل کا اس فضائی حصے میں بدلاؤ سے تعلق سمجھنا ہے۔ اس پراجیکٹ میں ہائی فریکوئنسی ریڈیو اینٹنیا اور ریڈیو رسیور شامل ہیں۔

    ہارپ ٹیکنالوجی کے حوالے سے تحقیقاتی ادارہ امریکی ریاست الاسکا میں موجود ہے۔ یہ 1993 میں قائم ہوا اور 2015 کے بعد یہ اب الاسکا کی ایک یونیورسٹی کے زیر انتظام ہے۔ اس ادارے کو عام عوام بھی دیکھ سکتی ہے۔ ہارپ ٹیکنالوجی کے حوالے سے سازشوں کے بارے میں اس ادارے کے ماہرین کو علم ہے اور وہ اس حوالے سے شفافیت کا مکمل مظاہرہ کرنے کی پوری کوشش کرتے رہتے ہیں۔ آپ انکی ویب سائٹ پر جا کر ہارپ ٹیکنالوجی کے بارے میں مزید پڑھ سکتے ہیں۔

    انٹرنیٹ کا ایک قانون ہے کہ غلط انفارمیشن کو غلط ثابت کرنے میں اس اس انفارمیشن کے پھیلانے سے دس گنا زیادہ توانائی خرچ ہوتی ہے۔ ایسا ہر سازشی تھیوری کے پھیلاؤ میں ہوتا ہے۔ ماننے والوں کی تعداد، حقیقت جاننے والوں سے زیادہ ہوتی ہے۔۔کیونکہ سمجھنے یا سمجھانے کا عمل وقت کیساتھ مشکل ہوتا جاتا ہے۔

    موجودہ سیلاب یا آئندہ آنے والے سیلابوں کا تعلق ہارپ ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہے جسکی ذمہ داری چین، انڈیا، برطانیہ، روس، امریکہ جیسے بڑے ممالک کے کندھوں پر آتی ہے کیونکہ یہ فضا کو گرین ہاؤس گیسوں سے بھر رہے ہیں۔ جسکی وجہ سے دنیا کا بالعموم اور ہمارے خطے کا بالخصوص درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور موسموں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

  • صارفین جو 24 اکتوبر سے واٹس ایپ استعمال نہیں کرسکیں گے

    صارفین جو 24 اکتوبر سے واٹس ایپ استعمال نہیں کرسکیں گے

    آئی فون کے آئی او ایس 10 اور 11 دنیا بھر میں مقبول میسجنگ ایپ واٹس ایپ استعمال نہیں کر سکیں گے-

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کی اپ ڈیٹس پر نطر رکھنے والی ویب سائٹ ویب بِیٹا انفو (WABetaInfo) کے مطابق آئی فون کے آئی او ایس 10 اور 11 استعمال کرنے والے صارفین 24 اکتوبر سے واٹس ایپ استعمال نہیں کرسکیں گے۔

    واٹس ایپ نے 23 لاکھ 87 ہزار بھارتی اکاؤنٹس بلاک کر دیئے

    بِیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق آئی فون کے ماڈل 5 اور 5سی کے صارفین اگر اپنے فون پر واٹس ایپ استعمال کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے فون کو اپ گریڈ کرنا پڑے گا کیونکہ 24 اکتوبر کے بعد صرف آئی او ایس 12 پر ہی واٹس ایپ میسر ہوگا۔

    دوسری جانب اس حوالے سے جاری بیان میں ایپل کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار کے مطابق اس کے بیشتر صارفین کو اس اپ گریڈیشن سے کوئی مسئلہ نہیں گا-

    ان کا کہنا ہے کہ اس کے 89 فیصد صارفین آئی او ایس 15 استعمال کر رہے ہیں یا اپنے فون کو آئی او ایس 15 پر اپ گریڈ کرلیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اب صرف 4 فیصد آئی فون صارفین ہی آئی او ایس 13 یا اس سے پہلے کا ورژن استعمال کررہے ہیں۔

    واٹس ایپ شادی شدہ جوڑوں کا رشتہ بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے،تحقیق

    قبل ازیں ویب بیٹا انفو نے اپنی رپورٹ میں واٹس ایپ کے ایک نئے فیچر کے بارے بتایا تھا کہ صارفین ایس ایم ایس کی طرح واٹس ایپ پر بھی خود کو میسجز ارسال کر سکیں گے صارفین کو اپنا نمبر ‘You’ کے نام سے نظر آئے گا جس پر آپ کوئی بھی میسج کرسکیں گے۔

    واٹس ایپ کا کہنا تھا کہ اس نئے فیچر سے صارفین کو چیزیں یاد رکھنے میں مدد ملے گی۔صارفین اس کی مدد سے نوٹس کا کام کرسکیں گے اس کام کے لیے پہلے ہی نوٹس کی ایپلیکیشن موجود ہے لیکن صارفین کا زیادہ تر وقت واٹس ایپ پر گزرتا ہے تو اس نئے فیچر سے انہیں ضروری چیزیں یاد رکھنے میں آسانی ہوگی جلد یہ فیچر اینڈرائیڈ ، آئی فون اور ویب کے صارفین کے لیے بیک وقت متعارف کروایا جائے گا۔

    واٹس ایپ کی ڈیلیٹ میسجز کے حوالے سے فیچر کی آزمائش