Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • انسٹاگرام پر 40 کروڑ 50 لاکھ یورو کا جرمانہ عائد

    انسٹاگرام پر 40 کروڑ 50 لاکھ یورو کا جرمانہ عائد

    ڈبلن: آئرش ڈیٹا پروٹیکشن کمیشن نے میٹا کی ذیلی کمپنی انسٹاگرام پر جنرل ڈیٹا پروٹیکشن قواعد (GDPR) کی خلاف ورزی کرنے پر 40 کروڑ 50 لاکھ یورو کا جرمانہ عائد کردیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق آئرلینڈ کے ڈیٹا پروٹیکشن کمیشن نے پیر کو کہا کہ اس نے انسٹاگرام پر بچوں کے ڈیٹا کو ہینڈل کرنے سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر ریکارڈ 405 ملین یورو جرمانہ کیا ہے۔

    ڈی پی سی نے 2020 کے آخر میں ان خدشات کے بارے میں ایک تحقیقات کا آغاز کیا کہ فوٹو اور ویڈیو شئیرنگ سوشل میڈیا پلیٹ فارم بچوں کے ذاتی ڈیٹا کو کیسے ہینڈل کرتا ہے تحقیقات کا مرکز بچوں کے لیے انسٹاگرام پروفائل اور اکاؤنٹ کی ترتیبات کی "مناسبیت” اور فرم کی "بطور کمزور افراد کے ڈیٹا کے تحفظ کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری” پر تھا۔

    یہ جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن (GDPR) کےتحت منعقد کیا گیا تھا ڈیٹا کے حقوق کے EU چارٹر جو مئی 2018 میں نافذ ہوا تھا GDPR ڈیٹا ریگولیٹرز کو خلاف ورزیوں پر سخت جرمانے عائد کرنے کا اختیار دیتا ہےچونکہ انسٹاگرام میٹا کی ملکیت ہے جس کا یورپی ہیڈکوارٹر ڈبلن میں ہے، یہ ضابطوں کو نافذ کرنے کے لیے ڈیٹا پروٹیکشن کمیشن پر آتا ہے۔

    آئرش کمیشن کی جانب سے جرمانے کی تصدیق کردی گئی لیکن کمیشن مزید کسی قسم کا کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا آئرش کمیشن میں ابھی بھی میٹا کی ذیلی کمپنیوں کے حوالے کم از کم چھ مزید تحقیقات موجود ہیں۔

    کمیشن کی جانب سے انسٹاگرام پر بچوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی یعنی بچوں کے ای میل ایڈریس اور فون نمبر شائع کرنے کی وجہ سے عائد کیا گیا یہ جرمانہ میٹا کی کسی بھی ذیلی کمپنی پر اس سے قبل لگائے جانے والے جرمانے سے زیادہ ہے۔

    میٹا ترجمان کے مطابق یہ تحقیقات پُرانی سیٹنگز کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کی گئیں جن کو کمپنی کی جانب سے ایک سال قبل اپ ڈیٹ کردیا گیا تھا اور تب سے اب تک کمپنی نے کئی نئے فیچر متعارف کرائے تاکہ نوعمروں کو محفوظ رکھنے میں مدد ملے اور ان کی معلومات خفیہ رہے۔

    ترجمان نے کہا کہ 18 سال سے کم عمر کا کوئی بھی شخص جب انسٹاگرام میں شامل ہوتا ہےتو ان کا اکاؤنٹ خود بخود پرائیویٹ ہو جاتا ہے، اس لیے صرف وہی لوگ دیکھ سکتے ہیں جنہیں وہ جانتے ہیں،اور بالغ افراد ان نوجوانوں کو پیغام نہیں بھیج سکتے جو ان کو فالو نہیں کرتے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی اس بات سے متفق نہیں کہ جرمانے کا حساب کیسے لیا گیا اور وہ اپیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    آئرش ادارے کی جانب سے میٹا کےپلیٹ فارمز پر عائد کیا گیا یہ تیسرا جرمانہ ہے البتہ یہ جرمانہ مالیت کے اعتبار سےاب تک کا دوسرا بڑا جرمانہ ہے سب سے زیادہ جرمانہ 74 کروڑ 60 یوروز کی مالیت کا تھا جو ایمازون پر عائد کیا گیا تھا۔

    علاوہ ازیں پچھلے سال، اس نے واٹس ایپ پر جرمانہ عائد کیا، جو میٹا کی ملکیت ہے، جو ڈیٹا کے تحفظ کے قوانین کو توڑنے پر اس وقت کا ریکارڈ 225 ملین یورو تھا میٹا کو بھی مارچ میں ڈیٹا کی 12 خلاف ورزیوں پر 17 ملین یورو جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا-

  • چینی سائنسدانوں کا خلاء میں چاول اگانے کا کامیاب تجربہ

    چینی سائنسدانوں کا خلاء میں چاول اگانے کا کامیاب تجربہ

    برف کے پودوں کو پہلی بار ایک تجربے میں خلا میں بیجوں سے کاشت کیا گیا ہے تجربے کے مستقبل کے طویل مدتی مشنز پر اہم اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: چینی خلاء نوردوں جن کو ٹائیکونوٹس کے نام سے جانا جاتا ہے، نے یہ تجربہ وینٹیئن اسپیس لیبارٹری پر کیا اس لیبارٹری کو 24 جولائی کو لانچ کیا گیا تھا جو ابھی ٹیانگونگ اسپیس اسٹیشن کے مرکزی موڈیول سے جُڑی ہے۔

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

    ایسا پہلی بارہوا ہے کہ سائنس دانوں نے چاول کے اگنے کا مکمل عمل، یعنی بیج سے ایک ایسا پودا بننا جو خود بیج پیدا کر سکے، عدم کششِ ثقل کے ماحول میں کرنے کی کوشش کی ہے۔

    ٹائیکوناٹس یعنی چینی خلانورد خلا میں عربائیڈوپسِس تھالیانا نامی ایک پودےکا بھی تجربہ کررہےہیں یہ پودا سرسوں کے گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور اکثرموسمیاتی تغیرات کے مطالعے کے استعمال کیا جاتا ہے۔

    چائینیز اکیڈمی آف سائنسز کے سنٹر فار ایکسی لینس ان مالیکیولر پلانٹ سائنسز کے ایک محقق پروفیسر ہوئی قیونگ ژینگ کا کہنا تھا کہ چاولوں کی اچھی نمو ہو رہی ہے۔

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کی تحقیقات کرنا چاہتے ہیں کہ مالیکیولر سطح پر مائیکرو گریویٹی کس طرح پودے کے پھول دینے کے وقت کو متاثر کر سکتی ہے اور آیامتعلقہ عمل کو قابو کرنے کے لیے مائیکرو گریویٹی ماحول کااستعمال ممکن ہے۔

    بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر سب سے مقبول غذاؤں میں سے ایک غذا چاول ہے اور اپولو مشنز کے بعد سے یہ خلاء بازوں کے لیے مرکزی اہمیت رکھتی ہے۔

    ناسا کے خلاء باز نیل آرمسٹرونگ، مائیکل کولنس اور بز آلڈرِن اپولو 11 مشن کے دوران خشک جمی ہوئی چکن اور چاول کی غذا کھاتے تھے۔

    تب سے، خلابازوں نے زمین پر اگائی اور کاشت کی جانے والی خوراک پر انحصار کیا ہے، تاہم مریخ اور اس سے آگے طویل مشنوں کی امیدیں خلا میں پودوں اور فصلوں کو اگانے کی صلاحیت پر منحصر ہو سکتی ہیں۔

    پروفیسرژینگ نے کہا کہ اگر ہم مریخ پر جانا اور دریافت کرنا چاہتے ہیں، تو زمین سے خوراک لانا خلابازوں کے طویل سفر اور خلا میں مشن کے لیے کافی نہیں ہے ہمیں طویل مدتی خلائی تحقیق کے لیے ایک پائیدار خوراک کا ذریعہ تلاش کرنا ہوگا-

    ماہرین فلکیات نے نیپچون جیسا سیارہ دریافت کر لیا

  • 2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع

    2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع

    میری لینڈ: ایک ارب نوری سال کے فاصلے پر واقع ایک کہکشاں کا عجیب و غریب رویہ بتاتا ہے کہ یہ اپنے اندر جدید فلکیات کے انتہائی غیرمتوقع وقوعات رکھتی ہے۔

    باغی ٹی وی : "سائنس الرٹ” کے مطابق SDSS J1430+2303 نامی کہ ایک بہت بڑے بلیک ہولز کےجوڑے، جس کا مجموعی وزن تقریباً 20 کروڑ سورج کے برابر ہے،کے دونوں بلیک ہولز کا تصادم قریب الوقوع ہے۔

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ 26 ستمبر کو سیارچے سے ٹکرائے گا،ناسا

    فلکیاتی اصطلاحات میں ’قریب الوقوع‘ اکثر پوری زندگی کا عرصہ ہوسکتا ہے۔ خوش قسمتی سے اس معاملے میں ماہرینِ فلکیات نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر یہ سگنل دیو ہیکل بلیک ہولز سے آئے ہیں تو ان کا تصادم آئندہ تین سالوں میں ہوجائے گا۔

    یہ ممکنہ طور پر کیمرے کی آنکھ میں قید کیا گیا ایک منفرد منظر کاسب سے بہترین شاٹ ہوسکتا ہے لیکن سائنس دانوں کو ابھی تک علم نہیں کہ J1429+2303 کے مرکز میں کیا ہونے جارہا ہےسائنس دانوں کا مشورہ ہے کہ ہم اس عجیب و غریب کہکشاں کو دیکھتے رہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا اس کی حتمی شناخت کی جا سکتی ہے۔

    بلیک ہولز کے تصادم کی سب سے پہلی نشان دہی 2015 میں کی گئی تھی جس کے بعد فلکیات کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ تب سے اب تک گریویٹیشنل لہروں کی مدد سے کئی بار نشان دہی کی جاچکی ہے جو بڑے بڑے وقوعات کے نتیجے میں زمان و مکان میں سفر کرتی آئیں۔

    زمین سے 100 سال کے نوری فاصلے پرسمندر سے ڈھکا سیارہ دریافت

     

    آج تک، ان میں سے تقریباً تمام انضمام بلیک ہولز کے بائنری جوڑے رہے ہیں جن کا بڑے پیمانے پر انفرادی ستاروں سے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کی ایک بہت اچھی وجہ ہے LIGO اور Virgo، کشش ثقل کی لہر کے آلات جو پتہ لگانے کے لیے ذمہ دار ہیں، اس بڑے پیمانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔

    ہم جانتے ہیں کہ کہکشاؤں کے اپنے مراکز میں بہت بڑے بلیک ہولز ہوتے ہیں، اور ہم نے نہ صرف کہکشاؤں کے جوڑے اور گروہوں کو آپس میں ٹکراتے ہوئے دیکھا ہے، بلکہ ضم ہونے کے بعد کی کہکشاؤں کے مراکز میں مداروں میں ایک دوسرے کے گرد چکر لگاتے ہوئے ہم نے دیکھا ہے۔ ان کا اندازہ ان کہکشاں کےمرکزسے خارج ہونے والی روشنی سے لگایا جاتا ہے، باقاعدہ ٹائم اسکیل پر جو مدار کی تجویز کرتے ہیں۔

    تاہم، یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہے کہ J1430+2303 کے مرکز میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بلیک ہول بائنری کا نتیجہ ہے-

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

  • بے روزگاری، نوجوان اور سائنس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بے روزگاری، نوجوان اور سائنس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہم جس دنیا میں رہتے ہیں وہاں ہمارے ارگرد ٹیکنالوجی کا ایک وسیع جال پھیلا ہوا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکنالوجی کا استعمال روزمرہ زندگی کے تمام شعبوں میں نمایاں ہے۔ نئے سے نئے معاشرتی حل ٹیکنالوجی کی بدولت سامنے آ رہے ہیں۔ مسائل کے حل پر نیے نئے سٹارٹ اپ یعنی نوزائیدہ کمپنیاں بن رہی ہیں۔ حال ہی میں مجھے ہالینڈ جانے کا اتفاق ہوا جہاں میرے ایک دوست نے ایک کمپنی کھولی ہے۔ کمپنی کا آئیڈیا کیا تھا؟ کھانے پینے کی اشیاء پر بہتر اور تیز تر مارکنگ کرنا۔

    یعنی مارکیٹ میں بیچی جانے والی اشیاء جیسے کہ پانی کی بوتلیں، کین یا دودھ کی پیکنگ پر اُسکی معیاد اور دیگر تفصیلات لیزر کے ذریعے لکھنا۔ اب یہ کام مختلف بڑی بڑی کمپنیاں پہلے سے رائج ٹیکنالوجی کے ذریعے کرتی ہیں مگر اس میں اشیاء کی پیکنگ پر تفصیلات پرنٹ کی جاتی ہے۔ سو اس میں تین مسائل ہیں۔ اول اس میں سیاہی کا استعمال ہوتا ہے، دوسرا پرنٹنگ کا عمل تیز نہیں اور تیسرا سیاہی کے مٹ جانے یا خراب ہونے کی صورت مارکیٹ میں کسی چیز کو قانوناً بیچا نہیں جا سکتا ۔اس مسئلے کا حل اُنہوں نے کیا ڈھونڈا ؟

    جینوا سوئٹزرلینڈ میں سرن کے اندر ہونے والی ایک تحقیق سے ایک ٹیکنالوجی دریافت ہوئی۔ جس میں لیزر کے ذریعے مختلف شکل (گول، تکونی، چکور) اشیاء کو مختلف میٹریل (پلاسٹک، ٹن وغیرہ) سے بنتی ہیں، پر مارکنگ کرنا بے ءد آسان ہو گیا۔ یعنی لیزر کے ذریعے بے حد صاف اور سیاہی کے استعمال کے بغیر کسی طرح کی سطح پر لفظ یا جملے کندہ کیے جا سکتے تھے۔ یہ بے حد صاف اور تیز عمل تھا۔ اس سے چند سیکنڈ میں ہزاروں لفظ بذریعہ لیزر کندہ کیے جا سکتے تھے۔

    اب جب ایک مسئلے کا حل نکل آئے جو پہلے سے موجود حل سے بہتر ہو تو اسکی بنیاد پر ایک سٹارٹ اپ یا کمپنی بنائی جا سکتی ہے۔ جب کوئی ایسا نیا حل مل جائے جس سے ایک وسیع پیمانے پر انڈسٹریوں کو یا معاشرے کو فائدہ ہو سکتا ہو تو باہر کے ممالک میں لوگ حکومت سے تحقیق یا اپنی کمپنی کے قیام کے لیے معاونت طلب کرتے ہیں۔ ان ممالک کی حکومتیں ان سٹارٹ اپ کی مدد کرنے کے لئے مختلف پروگرامز شروع کرتی ہیں۔ اسکے علاوہ بزنس اور پرائیوٹ سیکٹر سے لوگ ان نئی کمپنیوں میں پیسہ انوسٹ کرتے ہیں۔ یوں سائنس میں ہوئی پیشرفت اور تحقیق پر مبنی ٹیکنالوجی نئی نئی کمپنیوں کی بنیاد بنتی ہے۔ آج دنیا میں بہت سی کمپنیاں اسکی مثال ہیں۔

    جیسے کہ گوگل، مائکروسافٹ ، فیسبک۔وغیرہ انہی طریقوں اور انہی عوامل سے گزر کر اتنی بڑی بڑی کمپنیاں بن پائیں جن سے لاکھوں لوگوں کا روزگار جڑا ہے۔گویا ٹیکنالوجی، دماغ اور بہتر مالی وسائل کے ذریعے کسی بھی معیشت میں اربوں ڈالر کا اضافہ کیا جا سکتا ہے، نئے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں اور ملکوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

    پاکستان میں اس وقت 64 فیصد سے زائد آبادی 30 سال کی عمر سے کم ہے۔ یہ پاکستانی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ اتنے کم عمر نوجوان اتنی زیادہ تعداد میں موجود ہیں اور یہ تعداد 2050 تک متواتر بڑھے گی۔ پاکستان میں ہر سال تقریباً 40 لاکھ نوجوان ورک فورس میں شامل ہوتے ہیں۔ یعنی وہ کمانے کی عمر میں آتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ہر سال تقریباً 9 لاکھ نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں مگر معیشت کا پہیہ چلانے اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے اس وقت ملک کو ہر سال کم سے کم مزید 13 لاکھ نوکریاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ مواقع کیسے پیدا ہونگے؟ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے۔ جیسا کہ اوپر کی مثال دی۔ یونیورسٹیوں کو معاشرے کے مسائل کے مطابق سائنس میں تحقیق کر کے، یونیورسٹی کے گریجویٹس کو نئی سے نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے مسائل کے حل تلاش کر کے کمپنیاں بنانے سے، حکومت کا اس سلسلے میں ان نوزائیدہ کمپنیوں کو بہتر سے بہتر تربیت اور ٹیکس میں چھوٹ دیکر۔

    پرائیویٹ اور کاروباری شخصیات کو ان کمپنیوں میں پیسہ لگا کر۔۔ حکومتی سطح پر اس حوالے سے بہتر پالیساں بنا کر۔ یونیورسٹیوں میں ایسے کلچر کو فروغ دیکر۔ سائنس کی سمجھ بوجھ کو بہتر بنا کر۔ تعلیمی نصاب میں بہتری لا کر۔ جدید علوم سے واقفیت دلا کر۔ معاشرے اور دنیا کے مسائل کا ادراک حاصل کر کے۔ بہتر کاروباری مواقع پیدا کر کے، بہتر سیکھنے کا ماحول پیدا کر کے۔۔تعمیری سوچ اپنا کر۔ ایک سمت کا تعین کر کے۔

    اگر جلد پالیسی سازوں نے یہ فیصلے نہ کیے تو آبادی کا ٹائم بم تو ویسے ہی پھٹنے کو ہے۔ ایسا نہ ہو کہ یہی نوجوان زومبی بن کر اشرافیہ کی موٹی اور سریے سے بھری گردنوں کا پھندہ بن جائیں۔اور پچھلی بے کار ، موٹی توندوں، خالی عقل والی نسل کا قرض چکاتے چکاتے نئی نسلیں بھی تباہ ہو جائیں۔

  • پلاسٹک سے ہیرے بنائیں!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پلاسٹک سے ہیرے بنائیں!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کیا پلاسٹک سے ہیرے بن سکتے ہیں؟ وہ بھی اصلی ہیرے۔ اُس پلاسٹک سے جو عام پانی یا کولڈ ڈرنک کی بوتلوں میں استعمال ہوتا ہے، جسکا ایک مشکل سا نام ہے مگر اسکا مخفف آسان ہے پی ای ٹی یعنی PET ، مگر ہیرے کیسے ؟

    اسے سمجھنے کے لیے پہلے یہ سمجھتے ہیں کہ پلاسٹک دراصل ہوتا کیا ہے ۔ پلاسٹک عمومی طور پر تین عناصر کے ایٹموں سے مل کر بنتا ہے۔۔کاربن، ہائیڈروجن اور آکسیجن ۔ ان ایٹموں سے بنے پیچیدہ اور لمبے لمبے مالیکول ایک خاص ترتیب میں پلاسٹک میں زنجیروں کی طرح ایک دوسرے سے آپس میں جکڑے ہوتے ہیں (محض سمجھانے کے لیے)۔ مختلف طرح کے مالیکول اور مختلف قسم کی ترتیب کے کمبینیشن بنائیں ان میں کچھ اور عناصر ڈالیں اور طرح طرح کی خاصیت کے پلاسٹک بنائیں۔ پلاسٹک کی تاریخ دلچسپ ہے مگر اس پر بات پھر کبھی۔

    اب آتے ہیں اس پر کہ ہیرے کیا ہوتے ہیں۔ ہیرے دراصل کاربن کی ہی شکل ہوتے ہیں جس میں کاربن کے ایٹم ایک خاص ترتیب میں آپس میں جڑے ہوتے ہیں۔ کاربن کے ایٹم مختلف طرح سے جڑیں تو انکی ظاہری اور کیمیائی خاصیتیں بدل جاتی ہیں۔ اب تک کاربن کے ایٹم 8 مختلف طرح کی ترتیبوں میں قدرت اور لیبارٹریوں میں جڑے ہوئے پائے گئے ہیں۔ ہر اس طرح کی ترتیب سے پیدا ہونے والی کاربن کی صورت کو ایلوٹروپ کہتے ہیں۔ سو کاربن کا عنصر ہیرے یا ڈائمنڈ کی شکل میں، گرافائٹ کی طرح ، عام کوئلے جیسا(اس میں کاربن ایٹم بے ترتیب ہوتے ہیں)، نینو ٹیوب کیطرح وغیرہ وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔

    سو اب اگر ہم کاربن کے ایٹموں کو لیبارٹری میں ایسے ترتیب دیں جیسے قدرت میں یہ ہیرے کے اندر موجود ہوتے ہیں تو ہم نقلی ہیرے بنا سکتے ہیں۔ قدرت میں پائے جانے والے ہیرے دراصل زمین کے اندر موجود کاربن یا کوئلے پر صدیوں پڑنے والے شدید دباؤ اور درجہ حرارت سے بنتے ہیں۔ دنیا بھر میں اسی طرح سے نقلی ہیرے بنائے جاتے ہیں۔ لیبارٹریوں میں ایک خاص عمل کے تحت کاربن کے ایٹموں کو بے حد درجہ حرارت (1400 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ) اور دباؤ (5 گیگا پاسکل یعنی زمین پر ہوا کے دباؤ سے تقریباً 49 ہزار گنا زیادہ) کے زیرِ اثر لا کر ہیروں میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ گویا ہیرے بنانے کے لئے تین اہم چیزیں درکار ہیں۔ کاربن، حرارت اور دباؤ ۔

    اب پلاسٹک میں کاربن تو موجود ہے مگر آکسیجن اور ہائڈروجن سے جڑی ہوئی۔ تو اسے کیسے شدید درجہ حرارت اور شدید دباؤ کے زیر اثر لایا جائے؟ اسکا جواب ہے انتہائی طاقتور لیزر۔ حال ہی میں کیے گئے تجربات جب پلاسٹک کے ٹکڑے پر جرمنی کے روسٹک یونیورسٹی کے محققین نے طاقتور اور انتہائی کم دورانیے کی لیزر پلسس پھینکیں تو ہوا کچھ یوں کہ پلاسٹک کے اُن حصوں پر شدید حرارت اور دباؤ پڑا ۔ اس سے ان میں موجود مالیکیولز کے اندر کاربن آکسیجن اور ہائڈروجن ایٹموں سے الگ ہوئے اور پھر ننھے ننھے ہیروں میں تبدیل ہوتے گئے۔ یہ ہیرے سائز میں نینومیٹر میں تھے یعنی ہائڈروجن ایٹم کے قطر سے تقریباً 20 گنا بڑے۔

    اس تحقیق سے سائنسدانوں کو یہ جاننے میں بھی مدد ملے گی کہ نظامِ شمسی کے سیارے نیپچون اور یورینس پر ہیروں کی بارش کیسے ہوتی ہے۔کیونکہ وہاں بھی ہائڈروجن، آکسیجن اور کاربن کے کئی طرح کے کیمیائی مرکبات اُنکی فضا میں موجود ہیں اور وہاں بھی سیاروں کے اندر شدید درجہ حرارت اور دباؤ کاربن کو ہیروں میں بدل سکتا ہے۔

    اوپر کے بیان کردہ تجربات سے بننے والے یہ ننھے منے ہیرے اس عمل سے کیسے نکالے جائیں یہ ابھی معلوم نہیں ۔ مگر نینو ڈائمنڈ کے جدید ٹیکنالوجی میں کئی مصرف ہیں جیسا کہ کوانٹم کمپیوٹر اور کوانٹم کمیونکیشن میں استعمال ہونے والے آلات کی تیاری میں یا نینو بیٹریوں میں۔

    فطرت کے اُصولوں کوجاننے اور سمجھنے کے لیے ضروری نہیں کہ آپ ہر جگہ خود جا کر یا دیدے پھاڑ کر دیکھیں۔ اگر آپ لیبارٹریوں میں بگ بینگ کے حالات پیدا کر سکتے ہیں یا سورج میں ہونے والے کروڑوں میل دور کے فیوژن کے عمل کو زمین پر پیدا کر سکتے ہیں تو آپ فطرت کو یہیں زمین پر بھی جان سکتے ہیں۔ ایک گیند دیوار پر مارنے پر جب واپس آتی ہے تو یہی اایکشن ری ایکشن کا اُصول کائنات کے کسی بھی کونے میں لاگو ہو گا۔ چاند پر بھی، سورج پر بھی، سیاروں پر بھی اور ہم سے لاکھوں نوری سال دور کسی ستارے پر بھی۔

    Reference:

    Z. He et al. Diamond formation kinetics in shock-compressed C-H-O samples recorded by small-angle X-ray scattering and X-ray diffraction. Science Advances. Published online September 2, 2022. doi: 10.1126/sciadv.abo0617.

  • پیرس اور بحریہ کا ایفل ٹاور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پیرس اور بحریہ کا ایفل ٹاور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ایفل ٹاور کا نام لیں تو ذہن میں پیرس آتا ہے۔ جسکے ویسے تو کئی ریپلیکا دنیا بھر میں موجود ہیں مگر مجھے اصلی ٹاور کے علاوہ بحریہ ٹاؤن لاہور کا "ایفل ٹاور” دیکھنے کا شرف بھی حاصل ہے۔

    اصلی ایفل ٹاور جو پیرس میں واقع ہے، انسانی آرٹ سے زیادہ انجنئیرنگ کا خوبصورت نمونہ ہے۔ اتنا کہ لوگ اسے دیکھنے دنیا بھر سے آتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر سے سالانہ 60 لاکھ سے زائد افراد اس ٹاور کی "زیارت” کو آتے ہیں۔

    ایفل ٹاور کی تاریخ دلچسپ ہے۔ خوبصورت انجنیرنگ کے اس شاہکار کی اونچائی تقریبا 330 میٹر ہے۔ تقابل میں لاہور کا مینارِ پاکستان تقریباً 70 میٹر ہے۔ مگر ایفل ٹاور کو بنایا کیوں گیا؟

    دراصل اسے 1889 میں پیرس میں ہونے والے ورلڈ فیئر کے لیے تعمیر کیا گیا۔ یہ ورلڈ فئیر 1789 میں آیے انقلاب ِفرانس کےصد سالہ جشن کی خوشی میں تھا۔ ایفل ٹاور جو پیرس کے دل میں دریائے سین کے کنارے ایستادہ ہے، اسے 2 سال کی قلیل مدت میں 1887 سے 1889 میں تعمیر کیا گیا۔ اسکا نام ایفل ٹاور اس لیے ہے کہ اسے فرانس کے ایک سویل انجنئیر الیکسینڈر گستاو ایفل کی کمپنی کے انجینئرز اور آرکیٹکٹس نے بنایا۔ شروع شروع میں جب یہ بنایا گیا تو اسکی فرانس کے کئی مشہور آرٹس اور دانشوروں نے مخالفت کی مگر آج یہ فرانس کی پہچان ہے۔

    اس ٹاور کے تین فلورز ہیں جو سیاحوں کے لئے کھلے ہیں۔ ان پر سیاحوں کے لیے ریستوران بھی موجود ہیں جہاں وہ لذیذ کھانے کھا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ پیرس کا نظارہ بھی۔ان فلورز پر جانے کے لئے سیڑھیاں بھی ہیں اور ایک لفٹ بھی، جنکا ٹکٹ ہوتا ہے۔ 600 قدم کی سیڑھیاں دوسرے فلور تک جاتی ہیں جبکہ لفٹ تیسرے فلور پر۔ سب سے اوپر کی فلور پر آپکو ٹاور سے مختلف ملکوں کے دارلحکومت کی سمت اور فاصلہ تحریر کی صورت لکھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ٹاور کی تیسرے فلور تک جانے کا لفٹ کا ٹکٹ تقریباً 25 یورو یعنی تقریباً ساڑھے پانچ ہزار پاکستانی روپے ہے۔ جبکہ سیڑھیوں کے ذریعے دوسرے فلور تک جانے کا ٹکٹ تقریباً سوا چار ہزار روپے ہے۔

    ٹاور سے متصل ایک بہت بڑا پارک ہے جہاں مقامی لوگ اور سیاح اکثر شام کو وقت بتانے آتے ہیں۔ ٹاور پر باقاعدہ لائیٹنگ کا انتظام ہے جس میں کل ملا کر 20 ہزار کے قریب برقی قمقمے اور بلب نصب ہیں۔ جو شام ہوتے ہی اس ٹاور کو روشنی سے سجا دیتا ہے اور دیکھنے والے اسکے حسن سے کھو سے جاتے ہیں۔

    اس ٹاور کو بنانے میں اُس دور میں تقریباً ڈیڑھ ملین ڈالر خرچ ہوئے۔ یہ مکمل طور پر لوہے کا بنا ہوا ہے۔ اسے زنگ سے بچانے کے لیے اس پر تقریباً ہر سات سال بعد رنگ کیا جاتا ہے۔ مختلف ادوار میں اسکا رنگ تبدیل کیا گیا۔ شروع شروع میں جب یہ بنا تو اسکا رنگ سرخی مائل بادامی تھا جبکہ آج اسکا رنگ بادامی سا ہے۔ اسے رنگنے کے لئے 3 ٹن پینٹ استعمال ہوتا ہے جبکہ ٹاور کا کل وزن کل وزن 10 ہزار ٹن سے بھی زائد ہے۔

    بحریہ ٹاؤن لاہور کا ایفل ٹاور 80 میٹر اونچا پے۔اسے 2013 میں بنایا گیا۔ اسکا ٹکٹ شاید ہزار روپے سے کم ہے۔ پاکستان میں انسٹاگرام اور ٹک ٹاک سٹارز کے لیے سٹوریز بنانے کے لیے اچھی جگہ ہے۔

  • صنعتی وبا اور چینی ٹیکس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    صنعتی وبا اور چینی ٹیکس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آپ کرونا کے بارے میں تو جانتے ہیں۔ یہ وہ وبا تھی جو انسانوں میں ایک وائرس کے ذریعے پھیلی مگر کیا آپ چینی کے بارے میں جانتے ہیں جو وہ وبا ہے جو صنعتی ترقی سے پھیلی۔

    چینی کی کہانی ہے تو پرانی یعنی تقریباً 25 سو سال پہلے، کی، جب بھارت میں اسے پہلی بار بنایا گیا مگر اسکا دنیا میں اس پیمانے پر استعمال جو آج ہو رہا ہے، تاریخ میں نہیں ملتا۔ چینی اور تمباکو دونوں کی کہانی قدرِ مشترک ہے۔

    ان دونوں کی فصل یعنی گنا اور تمباکو کی کاشت بڑے پیمانے پر لاطینی اور وسطی امریکہ میں ماضی میں افریقہ سے لائے گئے لاکھوں غلاموں سے کرائی جاتی۔ ان دونوں اشیا کو شروع میں صحت کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا۔ دُنیا نے دونوں کے استعمال میں بے پناہ اضافہ سترویں صدی میں وسط میں دیکھا جب اِنہیں صنعتی بنیادوں ہر تیار کیا جانے لگا۔

    چینی ہے تو میٹھی مگر اسکی تاریخ بے حد کڑوی ہے۔

    برازیل اور کیریبین جزائر پر گنے کی فصل اُگانے کے لیے بڑی تعداد میں مزدوروں کی ضرورت رہتی۔ اسے پورا کرنے کے لئے 16 ویں صدی سے 19ویں صدی تک افریقہ سے امریکہ کے دونوں براعظموں تک سوا ایک کروڑ انسانوں کو، غلام بنا کر کشتیوں پر لایا گیا۔ یہ سمندری سفر اتنا کٹھن اور طویل ہوتا کہ اس میں 25 فیصد لوگ منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ جاتے۔ مانا جاتا ہے کہ اس پورے دور میں 10 سے 20 لاکھ لوگوں کی لاشیں سمندر میں پھینکی گئی ہونگی۔ اُس زمانے میں غلامی عام تھی۔ یورپ، افریقہ، مشرقِ وسطیٰ یا ایشیا ان تمام جگہوں پر غلامی کوئی جرم نہیں تھا۔ جدید دنیا سے غلامی کی یہ سفاکانہ روایت باقاعدہ طور پر امریکہ کے صدر ابراہم لنکن نے 1863 میں ختم کروائی جب اُنہوں نے اعلان کیا کہ امریکہ میں تمام غلاموں کو فوراً آزاد کر دیا جائے۔

    اگر چند صدیاں پیچھے جائیں تو چینی کھانوں میں شاز و نادر ہی استعمال ہوتی مگر آج یہ صورتحال ہے کہ دنیا کی کل استعمال ہونے والی غذائی کیلیوریز میں چینی سے حاصل کردہ کیلوریز کا تناسب 20 فیصد ہیں۔ قیمت کے اعتبار سے گنے کی فصل چاول اور گندم کے بعد دنیا کی تیسری بڑی فصل پے۔

    چینی کی بڑے پیمانے پر صنعتی پیداوار کے باعث سترویں صدی سے اسکا استعمال وبا کی طرح پھیلا۔ اور آج میں سالانہ 180 ملین ٹن سے بھی زائد چینی پیدا ہوتی ہے جس میں پاکستان کا حصہ تقریباً 7 ملین ٹن ہے۔

    امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق چینی سے منسلک بیماریوں سے بچاؤ اور صحت مند زندگی کے لیے اس کا استعمال کم سے کم ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے اّنکی سفارش کردہ حد کے مطابق: ایک دن میں مرد حضرات کو زیادہ سے زیادہ 36 گرام (9 چینی کے چمچ) جبکہ خواتین کو 24 گرام (6 چینی کے چمچ) چینی استعمال کرنی چاہئیے۔ مگر اس سے جتنی کم استعمال کی جائے، اُتنی ہی صحت کے لیے بہتر ہے۔ 2019 کے اعداو شمار کے مطابق پاکستان میں فی کس سالانہ 21.5 کلو چینی "رگڑتا” ہے۔ جسکا مطلب یہ ہے کہ ہر روز ایک پاکستانی تقریباً 58 گرام (15 چینی کے چنچ) استعمال کرتا ہے۔ گویا یہ صحتمندانہ حد سے تقریباً دو گنا زیادہ ہے!!

    انٹرنیشنل ڈائبیٹیز فیڈریشن کے مطابق پاکستان میں ہر چار میں سے ایک شخص ذیابیطس کا شکار ہے جسکی بڑی وجوہات میں سے ایک چینی کا زائد استعمال بھی بتایا جاتا ہے۔ خطرناک صورتحال یہ ہے کہ ملک میں آبادی اور تیار کھانوں کی مصنوعات میں اضافےکے باعث چینی کی کھپت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو 2023 میں یہ کھپت 2021 -2022 کے مقابلے میں تقریباً 3 فیصد بڑھ جائے گی۔

    پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کے اٹرات سے گزر رہا ہے اور آنے والے سالوں میں زیرِ کاشت رقبے میں کمی اور ہانی کی قلت کے باعث یہاں خوراک کی غیر یقینی صورتحال متوقع ہے۔ اس وقت کاشت ہونے والے گنے کی فصل کا ایک بڑا حصہ چینی کی پیداوار میں استعمال ہو رہا ہے۔ ملک کے کل زیر کاشت رقبے میں 1 ملین ہیکٹرز گنے کی کاشت کے لیے وقف ہے۔جبکہ گنے کی فصل آبپاشی کے لیے استعمال ہونے والے پانی کا تقریباً 10 فیصد حصہ استعمال کرتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دیگر فصلیں خاص کر کپاس کی پیداوار کم ہو رہی ہے جسکے باعث کسان زیادہ ہانی استعمال کرنے والی گنے کی فصل لگانے پر مجبور ہیں۔ پاکستان میں فی ایکڑ گنے کی پیداوار بھارت سے بھی کم ہے۔ یہاں ہر ایک ہیکٹر پر اوسط 46 ٹن گنا اُگتا ہے جو دنیا کی اوسط یعنی 60 ٹن فی ہیکٹر سے کافی کم ہے۔ ( ایک ہیکٹر میں 2.41 ایکڑ ہوتے ہیں)۔ گویا ہم کر طرف سے مار کھا رہے ہیں۔

    شوگر مافیہ، زراعت میں کسان دوست پالیسیوں کے فقدان، مہنگی کیڑے مار ادوایات، کھاد کی خراب کوالٹی، ناکافی تربیت اور دیگر ایسے کئی مسائل ہیں جو اس فصل کی پیداوار اور اس سے جڑے معاشی اور معاشرتی نقصانات کو جنم دے رہے ہیں۔ اسکے علاوہ عوام میں چینی کی کھپت کے غیر صحتمندانہ اور غیر ذمہ دارنہ استعمال سے صورتحال آنے والے دنوں میں مزید ابتر دکھائی دیتی ہے۔ ایسے میں اربابِ اختیار کو سوچنا ہو گا کہ عوام کی صحت، ماحولیاتی تبدیلیوں اور آئندہ آنے والے غذائی بحران سے نمٹنے کے لیے کیا حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔

    باہر کے ممالک میں چینی کے غیر ذمہ دارنہ استعمال کی حوصلہ شکنی کے لئے شوگر ٹیکس کی تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے 2016 میں برطانیہ میں ایک بل کے ذریعے شوگر ڈرنکس پر ٹیکس عائد کیا گیا۔ اب تک 50 سے زائد ممالک شوگر ٹیکس کسی نہ کسی صورت عائد کر چکے ہیں۔ جس سے یہ دیکھا گیا ہے کہ عوام میں چینی کے استعمال میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ پاکستان میں حالیہ بجٹ میں حکومت نے۔ چینی پر 10 فیصد ٹیکس "سپر ٹیکس” کے نام سے عائد کیا ہے۔ کیا اس سے ملک میں چینی کی کھپت میں کمی آئے گی؟ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔ آپ فی الحال کم چینی والی چائے پیجئے۔

  • دنیا کا سب سے بڑا صحرا اور مریخ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دنیا کا سب سے بڑا صحرا اور مریخ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دنیا کا سب سے بڑا صحرا کونسا ہے؟

    انٹارکٹیکا !!

    مگر کیوں؟ انٹارکٹیکا میں تو برف ہی برف ہے۔ اور صحراؤں میں تو پانی نہیں ہوتا. یے ناں!! اسے سمجھنے کے لیے ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ صحرا دراصل کہتے کسے ہیں۔ صحرا زمین کا ایسا حصہ ہوتا ہے جہاں سارا سال بہت کم بارش ہو اور جہاں جانور، پرندے یا درخت وغیرہ باقی زمینی علاقوں کی نسبت بے حد کم ہوں۔ جہاں دراصل زندہ رہنا محال ہو۔

    انٹارکٹیکا زمین کا سب سے سرد علاقہ ہے۔ یہاں سالانہ اوسط درجہ حرارت منفی 57 ڈگری سے بھی کم رہتا ہے۔

    لہذا ایسے سرد موسم میں بارش نہیں ہوتی۔ البتہ انٹارکٹیکا چونکہ زمین کے جنوبی قطب پر واقع ہے تو یہاں دو ہی موسم ہوتے ہیں۔۔طویل سردیاں اور طویل گرمیاں۔ ایسے میں گرمیوں میں جب اسکے قریب ساحلی پٹی پر درجہ حرارت صفر سے اوپر جاتا ہے تو کبھی کبھی بارش ہو جاتی ہے ۔ ایسے ہی یہاں برف باری بھی یہاں سال بھر میں بےحد کم ہوتی ہے۔ اور رہی بات جانورں کی تو اسکے اردگرد سمندروں میں کچھ ہی جانور رہتے ہیں جن میں پینگوئین، سیل، وہیل مچھلیاں یا کچھ آبی پرندے شامل ہیں۔ پینگوئین انٹارکٹیکا پر یہاں کے قریب ساحلوں پر جمی برف پر کالونیوں کی صورت رہتی ہیں۔ یہ تعداد میں اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ انٹارکٹیکا پر کام کرنے والے سائنسدان انہیں گن نہیں سکتے لہذا وہ خلا میں سٹلائیٹ سے لی گئی تصاویر سے انکے کالونیوں اور تعداد کا اندازہ لگاتے ہیں۔ سفید انٹارکٹیکا پر خلا سے انکی کالونیوں کو ڈھونڈنا آسان ہے۔ وجہ؟ ان کے پاخانے کا رنگ جو سرخی مائل بادامی ہوتا ہے۔ سفید برف پر خلا سے دیکھنے پر اس رنگ کی لکیریں نظر آتی ہیں جن سے انکی کالونیاں با آسانی ڈھونڈی جا سکتی ہیں۔

    اور رہی بات پودوں کی تو اتنے ٹھنڈے علاقے میں جہاں ہر طرف برف ہی برف ہو کونسا درخت یا ہودا اُگ سکتا ہے؟ البتہ کہیں کہیں پانیوں کے پاس ایلجی یا کائی موجود ہے۔ اسی طرح انٹارکٹیکا کے شمالی علاقے میں قریب بارہ قسم کے پھولدار پودے بھی پائے جاتے ہیں۔اتنی ٹھنڈ میں اور دنیا کے ایک الگ تھلگ سے کونے میں یہ پودے کہاں سے آئے؟ اسکی کہانی کچھ طویل ہے۔ مگر مختصر یہ کہ آج سے قریب 20 کروڑ سال پہلے انٹارکٹیکا ، افریقہ، انڈیا ، آسٹریلیا اور جنوبی امریکہ یہ سب ایک بڑے سے بر اعظم کا حصہ تھے جسے گونڈوانہ کہتے ہیں۔ زمین کے اندر ٹیکٹانک پلیٹس جن پر تمام بر اعظم تیر رہے ہیں ، ان پلیٹس کی آہستہ آہستہ حرکت سے یہ بر اعظم ایک دوسرے سے الگ ہوتے گئے اور ان پر موجود پودے بھی انہی کے ساتھ جاتے رہے۔ انٹارکٹیکا، گونڈوانہ سے آہستہ اہستہ جدا ہوتے، کھسکتے ہوئے آج سے تقریباً 7 کروڑ سال پہلے زمین کے شمالی قطب تک آ پہنچا۔

    یہاں سخت موسموں کے باعث بہت سے جاندار وقت کیساتھ ساتھ معدوم ہوتے گئے مگر چند ہی پودوں نے ارتقاء سے گزرتے زندہ رہنے کا فن سیکھ لیا۔ہم یہ سب کیسے جانتے ہیں؟

    کیونکہ ہمیں انٹارکٹیکا پر اور دنیا کی دوسرے بر اعظموں پر پرانے دور کے ایک جیسے جانداروں کے فوسلز ملے ہیں جو اس کہانی کو مکمل کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ زمین کی ٹیکٹانک پلیٹس کی ہونے والی حرکت کی رفتار اور سمت کو جان کر سائنسدان کمپوٹر ماڈلز کے تحت یہ بتا سکتے ہیں کہ ماضی میں یہ تمام برِ اعظم کیسے آپس میں جڑے ہوئے تھے۔۔ ویسے تمام برا اعظم اب بی آہستہ اہستہ اہنی موجود جگہیں بدل رہے ہیں اور آج سے 25 کروڑ سال بعد یہ تمام برا اعظم ایک بار پھر سے ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے۔

    انٹارکٹیکا سائنسدانوں کے لیے کئی حوالوں سے اہم ہے۔ یہاں سارا سال، دنیا بھر کے سائنسدان مشکل حالات اور سخت سردی میں رہتے ہوئے سائنسی تجربات اور دریافتیں کرتے رہتے ہیں۔ ناسا بھی انٹارکٹیکا کے موسم اور یہاں ہونے والی تبدیلیوں کو خلا سے مانیٹر کرتا رہتا ہے ۔۔جسکا مقصد دنیا میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر جاننا ہے۔

    انٹارکٹیکا میں برف اگر تیزی سے پگلنا شروع ہو جائے تو پوری دنیا کے سمندروں میں پانی کی سطح کئی فٹ بلند ہو جائے گی جس سے دنیا کے تمام ساءلی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ ناسا یہاں خلا میں انسانوں کی خوراک کی ضروریات کے حوالے سے بھی تجربات کرتا ہے۔ دراصل خلا میں بھی سورج کی روشنی خلابازوں کے جسم پر نہیں پڑتی اور ہم جانتے ہیں کہ سورج کی روشنی سے وٹامن بنتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے انٹارکٹیکا پر رہنے والے سائنسدان جو طویل عرصہ سورج کی روشنی حاصل نہیں کر پاتے ، اُن پر جسمانی اور نفسیاتی اثرات کو جانا جاتا ہے۔

    مگر سب سے اہم یہ کہ ناسا یہاں کئی ایسے روبوٹس کو بھی ٹیسٹ کرتا ہے جو مریخ پر بھیجے جانے ہوں۔ وجہ یہ کہ انٹارکٹیکا اور مریخ دونوں سرد ہیں اور دونوں صحرا کی طرح خشک ہیں۔

    ایک اور اہم بات، زمین پر گرنے والے شہابیوں کے ٹکڑے انٹارکٹیکا میں بھی گرتے ہیں اور یہاں سائنسدان انکو سفید برف میں آسانی سے ڈھونڈ سکتے ہیں۔ یہاں کے موسم کے باعث قدرے اچھی حالت میں محوفظ رہتے ہیں۔ اس طرح ہم ان شہابیوں کا تجزیہ کر کے نظام شمسی اور زمین کے ماضی کے بارے میں بی بہتر جان سکتے ہیں۔

  • واٹس ایپ نے 23 لاکھ  87 ہزار بھارتی اکاؤنٹس بلاک کر دیئے

    واٹس ایپ نے 23 لاکھ 87 ہزار بھارتی اکاؤنٹس بلاک کر دیئے

    کیلیفورنیا: میسجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ نے جولائی میں 23 لاکھ 87 ہزار بھارتی اکاؤنٹس بلاک کر دیئے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق بلاک کیے گئے اکاؤنٹس میں 14 لاکھ 20 ہزار اکاؤنٹس کو کسی صارف کی جانب سے رپورٹ کیے جانے سے قبل ہی بلاک کیا گیا۔

    واٹس ایپ شادی شدہ جوڑوں کا رشتہ بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے،تحقیق

    کمپنی نے جمعرات کو کہا کہ متعدد اکاؤنٹس کو کمپنی کے شکایات کے چینل سے شکایات موصول ہونے اور آلات کے ذریعے مشتعل سرگرمیوں کی نشان دہی پر بلاک کیا گیا جولائی کے مہینے میں واٹس ایپ کو 574 شکایتی رپورٹس موصول ہوئیں۔

    میسجنگ پلیٹ فارم، جس کو بھارت سمیت دنیا بھر میں گمراہ کن معلومات کے پھیلنے کا ذریعہ ہونے کی وجہ سے کڑی تنقید کا سامنا تھا، کی جانب سے جون کے مہینے میں 22 لاکھ 10 بھارتی اکاؤنٹس بلاک کیے گئے۔

    کمپنی کے ترجمان نے کہا کہ آئی ٹی رولز 2021 کے مطابق، ہم نے جولائی 2022 کے مہینے کے لیے اپنی رپورٹ شائع کی ہے جیسا کہ تازہ ترین ماہانہ رپورٹ میں دیکھا گیا ہے، واٹس ایپ نے جولائی کے مہینے میں 2.3 ملین سے زیادہ اکاؤنٹس (2,387,000) پر پابندی لگا دی ۔

    انفارمیشن ٹیکنالوجی (انٹرمیڈیری گائیڈلائنز اینڈ ڈیجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ) رولز، 2021 کے رول 4(1)(d) کے مطابق شائع کی گئی، رپورٹ میں بھارت میں صارفین کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کی روشنی میں واٹس ایپ کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا ڈیٹا موجود ہے۔

    واٹس ایپ کی ڈیلیٹ میسجز کے حوالے سے فیچر کی آزمائش

    اعتراضات شکایات کے طریقہ کار کے ذریعے موصول ہوئے تھے اور قوانین یا اس کی سروس کی شرائط کی خلاف ورزی کے لیے اس کی روک تھام اور پتہ لگانے کے طریقوں کے ذریعے کارروائی کی گئی تھی۔ اپ گریڈ شدہ آئی ٹی رولز 2021 کےتحت، بڑے ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، جن کے 50 لاکھ سے زیادہ صارفین ہیں، کو ماہانہ تعمیل کی رپورٹ شائع کرنی ہوگی۔

    کمپنی کے ترجمان نے کہا کہ واٹس ایپ ، اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ میسجنگ سروسز کے درمیان بدعنوانی کو روکنے میں ایک انڈسٹری لیڈر ہے ہمارے پلیٹ فارم پر اپنے صارفین کو محفوظ رکھنے کے لیے گزشتہ برسوں میں، ہم نے مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ترین ٹیکنالوجی، ڈیٹا سائنسدانوں اور ماہرین، اور عمل میں مسلسل سرمایہ کاری کی ہے ۔

    واٹس ایپ کا 3 نئے پرائیویسی فیچرز کا اعلان

  • مصنوعی ذہانت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مصنوعی ذہانت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ذہانت کیا ہے؟

    آج ہم جن روبوٹس کو اور کمپوٹرکے پروگرامز کو مصنوعی ذہانت دے رہیں وہ دراصل کیا ہے؟ ذہانت کی تعریف پیچدہ ہے مگر اس میں سب اہم جُز پیٹرن رکگنیشن ہے۔ یہ کیا ہے؟ فرض کریں آپکے سامنے ایک تصویر ہو جس میں ایک ہی قطار میں گلاب کے، چنبیلی کے اور ٹیولپ کے پھول پڑے ہوں مگر ایک خاص ترتیب میں۔

    اگر آپ میں یہ صلاحیت ہے کہ آپ یہ جان سکیں کہ یہ تمام پھول کونسے ہیں اور کس ترتیب میں پڑے ہیں اور اگر آپ اس بنیاد پر آپ یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس قطار کو لمبا کیا جائے تو باقی پھول کس ترتیب میں آئیں گے تو آپ پیٹرن رکگنیشن کر رہے ہیں۔

    انسان، جانور اور فطرت کے تمام جانداروں میں کسی نہ کسی درجے پر کسی نہ کسی عمل میں پیٹرن رکگنیشن پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور ایک بکری کے سامنے گوشت اور گھاس رکھی جائے تو وہ یہ بتا سکتی ہے کہ گوشت کونسا ہے اور گھاس کونسی۔ یہ سب وہ کس طرح سے کرتی ہے؟ سونگھ کر یا دیکھ کر یا چکھ کر۔

    مصنوعی ذہانت بھی دراصل پیڑن رکگنیشن پر قائم ہے۔ آپ ایک روبوٹ کو اس طرح سے پروگرام کرتے ہیں کہ وہ اپنے ماحول سے سیکھے، اس میں موجود پیڑنز کو پہچانے اور پھر اسکے مطابق کوئی فیصلہ کرے، خود کو ڈھالے، تبدیل کرے یا بہتر ہو۔ یعنی وہ اپنے اندر سیکھنے کے عمل سے خود تبدیلیاں رونما کر سکے۔ اسے مشین لرننگ کہتے ہیں۔

    بالکل ایسے ہی فیسبک یا یوٹیوب کے پیچھے کارفرما مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز آپکی کسی خاص طرح کی ویڈیوز کو دیکھنے، اُن پر وقت گزارنے یا اّن پر کمنٹس اور ری ایکشن کی بنیاد پر یہ سیکھتی ہے کہ آپ کس مزاج کے آدمی ہیں اور آپکو کونسی چیزیں متوجہ کرتی ہیں۔ لہذا ویڈیو ختم ہونے کے بعد وہ آپکے مزاج کو مدِ نظر رکھتے ہوئے آپکو اگلی ویڈیو وہ تجویز کرے گا جسے دیکھنے کے آپکے قوی امکانات ہوں۔ یہ پیشنگوئی بہتر سے بہتر ہوتی جائے گی جب آپ زیادہ سے زیادہ وقت ان پلیٹفرمز پر گزاریں گے۔

    جتنا زیادہ ڈیٹا مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز کے پاس آپکا ہو گا، وہ اّتنا صحیح اندازہ آپکے بارے میں لگائے گا۔ یہ سب کرنے کے پیچھے ان کمپنیوں کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ آپ زیادہ وقت فیسبک یا یوٹیوب پر گزار سکیں اور زیادہ سے زیادہ اشتہارات دیکھ سکیں تاکہ ان سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کو اشتہارات کی مد میں کمائی ہو۔ جسکی بنیاد پر یہ چل رہے ہوتے ہیں۔

    گویا مصنوعی ذہانت کسی نہ کسی شکل میں آپکے اردگرد موجود ہے اور آپکی زندگی اور سوچ پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ اور ایسے ہی اپ بھی اُسے انسانوں کے بارے میں سکھا رہے ہیں۔

    دنیا کا مستقبل اب مصنوعی ذہانت یا آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے جڑا ہے۔ آسکا ایک مقصد تمام شعبوں میں اس ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر انہیں خودکار اور مزید موثر بنانا ہے۔ مثال کے طور پر انکی بدولت ہم آج موسم کی صورتحال، سیلاب کی یا طوفان کی پیشنگوئیاں پہلے کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر کر سکتے ہیں کہ یہ موسموں کے پیٹرنز کو بھی سمجھ سکتے ہیں۔

    اسی طرح طب کے شعبے میں مختلف بیماریوں جیسے کہ کینسر می تشخیص میں بھی مریض کے اعضا کی لی گئی تصاویر کو دنیا بھر کے کینسر کے مریضوں کی تصاویر کے ڈیٹا سے موازنہ کر کے پیٹرن دیکھا جا سکتا ہے کہ کینسر ہے یا نہیں۔

    مصنوعی ذہانت کے کئی فوائد ہیں مگر اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ مستقبل قریب میں مصنوعی ذہانت انسانوں سے بھی آگے نکل جائے اور ہم اسے قابو کرنے میں ناکام رہیں۔ اس حوالے سے سائنس کی کمیونٹی اور محققین میں مخلتف آرا پائی جاتی ہے مگر سب اس بات سے متفق نظر آتے ہیں کہ ہمیں اس ٹیکنالوجی کی تحقیق اور استعمال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے تاکہ ان خدشات کو دور کیا جا سکے۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹس مستقبل میں دنیا پر قبضہ کر لیں ؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ فی الحال آپ فیسبک کی وہ ویڈیوز دیکھئے جو مصنوعی ذہانت اپکو تجویز کر رہی ہے۔