Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • ٹماٹر کی کہانی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ٹماٹر کی کہانی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پاکستان میں اس وقت ٹماٹر بے حد مہنگا بک رہا ہے۔ بڑے شہروں میں غالباً 500 روپے کلو سے بھی زیادہ۔ آئے روز ملک میں روزمرہ کی مختلف سبزیوں کی مارکیٹ میں شارٹیج یا کمی رہتی ہے جس سے انکی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو جاتا ہے۔ مگر رکیے ٹماٹر سبزی نہیں بلکہ ایک پھل ہے۔ ویسے بینگن بھی پھل ہے۔ ٹماٹر کا سائنسی نام Solanum lycopersicum L ہے۔ گھبرائے نہیں آپ اسے ٹماٹر ہی کہیئے۔

    یہ بات سن کر آپ شاید حیران ہوں کہ ہمارے آباؤ اجداد اور پُرکھوں کے کھانوں میں ٹماٹر نہیں ڈلتا تھا۔ زیادہ نہیں تین چار صدیاں پیچھے چلے جائیں تو برصغیر میں ٹماٹر تھا ہی نہیں۔ ٹماٹر دراصل لاطینی امریکہ اور میکسیکو میں اُگا کرتے تھے۔ پندرویں اور سولہویں صدی میں جب ہسپانویوں نے ان علاقوں پر قبضہ کیا تو یہاں کے مقامی لوگ ٹماٹروں کو اپنے کھانوں میں استعمال کیا کرتے تھے مگر یہ ٹماٹر سائز میں آج کے ٹماٹروں سے بے حد چھوٹے اور مٹر کے دانوں جتنے ہوتے۔ سولویں صدی میں ٹماٹر یورپ آئے مگر انہیں کھانوں میں نہیں بلکہ زیادہ تر سجاوٹ کے طور پر اُگایا جاتا۔ برِ صغیر میں بھی ٹماٹر سولہویں صدی میں پرتگالیوں نے متعارف کرایا۔ پرتگالیوں نے ہی یہاں آلو اور مرچیں بھی متعارف کرائیں گویا برِ صغیر میں پہلے نہ ٹماٹر تھا، نہ آلو اور نہ مرچیں۔ یہ تصور کرنا کچھ مشکل ہے کہ ہمارے پّرکھوں کے کھانے ان تمام سبزیوں اور پھلوں کے بغیر کیسے ہوتے ہونگے۔

    مگر برِ صغیر کے کھانوں میں بھی سولہویں یا سترویں صدی میں ٹماٹر نہیں ڈلتا تھا۔ انیسویں صدی تک جب یورپ اور برطانیہ میں ٹماٹروں کو کھانوں میں استعمال کیا جانے لگا اور یہ مقبول ہوئے تو انگریزوں کو ٹماٹروں کی ضرورت پڑی۔ ایسے میں برِ صغیر کا موسم اور یہاں کی آب و ہوا ٹماٹر اُگانے کے لیے موافق تھی۔ لہذا انگریزوں نے بھارت میں ٹماٹر کو بڑے پیمانے پر کاشت کروانا شروع کیا جسے برطانیہ اور یورپ کی منڈیوں میں بھیجا جاتا۔ اُس زمانے میں بھی ہندوستانی کھانوں میں ٹماٹر محض ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال ہوتا مگر آہستہ آہستہ یہ کھانوں کا بنُیادی جُز بنتا گیا۔

    آج بھارت اور پاکستان میں 8 ہزار سے بھی اوپر کی ورائٹی کے ٹماٹر اُگتے ہیں۔ 2015 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ٹماٹروں کی کل سالانہ پیداوار تقریباً 57 ہزار ٹن ہے اور اسکی کاشت ملک کے ڈیڑھ لاکھ ہیکٹر کے رقبے پر ہوتی ہے۔ دنیا بھر کی کل ٹماٹروں کی پیدوار میں پاکستان کا حصہ محض 0.3 فیصد ہے۔ پاکستان میں ٹماٹروں کی تقریباً چالیس فیصد پیداور سندھ میں ہوتی ہے جسکے بعد بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب شامل ہیں۔ پنجاب میں ٹماٹروں کی پیداوار دوسرے صوبوں کی نسبت کم ہے۔ ٹماٹر کی سب سے زیادہ پیداوار فی ایکڑ بلوچستان میں ہوتی ہے۔

    گو ٹماٹر ایک منافع بخش فصل ہے مگر کئی اہم مسائل کی وجہ سے کسانوں تک اسکا مناسب منافع نہیں پہنچتا۔ بلوچستان کے ٹماٹر اّگانے والا کاشتکار کو فی ایکڑ منافع پنجاب کے کاشتکار سے زیادہ ملتا ہے۔ اسکی ایک وجہ تو زیادہ پیداور فی ایکڑ جو سستی مزدوری اور مناسب موسم سے جّڑی ہے جبکہ دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ پنجاب کا ٹماٹر مارکیٹ میں کٹائی کے سیزن کے عروج پر آتا ہے جس سے مارکیٹ میں زیادہ رسد ہونے کے باعث اسکی قیمت کم لگتی ہے۔ جبکہ بلوچستان اور سندھ کا ٹماٹر باقی موسموں میں بھی آتا ہے۔

    چونکہ پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ہے لہذا سندھ اور بلوچستان سے آنے والے ٹماٹر کی ترسیل اور فاصلے کے باعث منڈیوں تک پہنچتے اسکی قیمت میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسی لئے ٹماٹر کی قیمت سارا سال بدلتی رہتی ہے کیونکہ مناسب سپلائی چین، سٹوریج اور منڈیوں میں حکومت کی جانب قیمتوں پر مناسب کنٹرول نہ ہونے کے باعث ناجائز منافع خوری کے نتیجے میں اسکی قیمت عام شہری اور کسان کو ادا کرنی پڑتی ہے۔

    ٹماٹر کے کاشتکاروں کے مسائل دیکھیں جائیں تو بہتر کوالٹی کا بیج نہ ہونا، ہائیبریڈ یا امپورٹڈ بیج کا مقامی موسم کی تبدیلیوں کو برداشت نہ کرنا، جڑی بوٹیوں اور کیڑوں کے تدارک کی ادوایات کی خراب کوالٹی، کھاد کی خراب کوالٹی اور قیمتوں میں اضافہ، پیکجنگ کے مسائل، مناسب تربیت اور جدید طریقوں کا فقدان اور کٹائی کے دنوں میں مزدورں کی کمی جیسے اہم مسائل پاکستان میں ٹماٹر کی کاشت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔

    ِان مسائل کا حل کیا ہے؟ حکومت کی کسان دوست پالیسیاں!!

    1. کاشتکاروں کو مناسب اور جدید تربیت فراہم کرنا جس میں بیج کے چناؤ سے لیکر پیکجنگ تک تمام عوامل شامل ہوں۔

    2.مقامی بیج پر تحقیق اور اسکی پیداوار کو مزید بہتر بنانا۔ شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلوں سے مزاحمت کرنے والے بیج پر کام

    3. امپورٹڈ اور ہائبریڈ بیج کی کوالٹی کی حکومت کی جانب سے مناسب جانچ کے بعد ہی اسے مارکیٹ میں فروخت کی اجازت

    4. کھاد اور کیڑے مار ادوایات کی کوالٹی اور قیمت پر کنٹرول

    5. آڑھتی اور کمیشن ایجنٹوں پر کنٹرول اور اس حوالے واضح قانون سازی اور حکمتِ عملی جس سے کسانوں کے استحصال کو روکا جا سکے

    6. خوراک کی مصنوعات پیدا کرنے والی پرائیویٹ کمپنیاں مثال کے طور پر نیسلے یا اینگرو وغیرہ سے معاہدے جو کسانوں کو اُنکی فصل کی مناسب قیمت بلا تاخیر ادا کریں۔

    7. مارکیٹ میں ٹماٹروں کی قیمت کے اُتار چڑھاؤ کو روکنے کے لیے اس بات پر غور کہ اگر بھارت سے ٹماٹر درآمد کیے جائیں تو اسکے کیا فوائد اور نقصان ہو سکتے ہیں؟

    پاکستان جیسے زرخیز اور زرعی ملک میں مقامی پیداوار ہونے کے باوجود سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں کا غریب عوام کی پہنچ سے دور ہونا اپنے آپ میں ایک سوالیہ نشان اور ریاستی اداروں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

  • اداسی محسوس ہو تو  دریا یا نہر پر چلے جانا مزاج کو بہتر کر سکتا ہے،تحقیق

    اداسی محسوس ہو تو دریا یا نہر پر چلے جانا مزاج کو بہتر کر سکتا ہے،تحقیق

    ندن: ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ جب آپ اداس محسوس کر رہے ہوں تو سیر کے لیے دریا یا نہر پر چلے جانا آپ کے مزاج کو بہتر کر سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : 31 اگست 2022 کو پلس ون ( Plos One journal) نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں مزید کہا گیا کہ نہریں اور دریا کی سیر 24 گھنٹے تک آپ کی صحت کو بہتر بنا سکتی ہیں۔

    گرین لینڈ میں پگھلنے والی برف سطح سمندرمیں ایک فِٹ تک کا اضافہ کرسکتی ہے، تحقیق

    کنگز کالج لندن میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ایسی جگہیں جہاں پانی اور سبزہ زار سمیت جنگلی حیات موجود ہو اس کا ہماری صحت پر صرف سبز ماحول کی نسبت زیادہ بہتر اثرات ہوتے ہیں۔

    محققین نے اربن مائنڈ نامی ایک فون ایپ کا استعمال کرتے ہوئے ہزاروں لوگوں کی جگہ اور ذہنی صحت کے متعلق اس وقت کے احساسات اکٹھے کیے اس تحقیق میں مجموعی طور پر 299 افراد کے 7,975 جائزے مکمل کیے، جن میں سے 87 افراد ذہنی مسائل میں مبتلا تھے-

    پروفیسر اینڈریا میکلی نے کہا کہ نہروں اور ندیوں میں نہ صرف پانی ہوتا ہے بلکہ درختوں اور پودوں کی بھی کثرت ہوتی ہے، جس کا مطلب ہےکہ سبزے اور پانی سے جُڑے کئی گُنا فوائد کی وجہ سے یہ ماحول ذہنی صحت کو بہتر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نہریں اور دریا متعدد جنگلی حیات کا مسکن ہوتے ہیں اور ایک دوسرے مطالعے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جنگلی حیات کے بھی ذہنی صحت پر مثبت اثرات ہوتے ہیں-

    اپنی نوعیت کی منفرد تحقیق کے نتائج میں ذہنی صحت اور دریاؤں اور نہروں کی سیر کے درمیان مثبت تعلق پایا گیا۔ تحقیق میں اس ماحول کا دیگر ماحول کی نسبت تحفظ کا احساس اور سماجی شمولیت کے حوالےسے مثبت تجربہ بھی پایا گیا۔

    رشتہ دار نہ ہونے کےباوجود 2 افراد کی شکلیں ایک جیسی کیوں ہوتی ہیں؟

    وہ لوگ جنہوں نے آبی ذخائر کے قریب زیادہ وقت گزارا انہوں نے دیگر تمام مقامات کے مقابلے میں حفاظت اور سماجی شمولیت کے جذبات کا اظہار کیا، جیسے گھر کے اندر، باہر شہری ماحول میں، یا پانی سے محروم علاقوں کے قریب۔عمر، جنس، تعلیمی سطح اور دماغی صحت کے مسئلے کی تشخیص سمیت متغیرات پر غور کرنے کے بعد بھی یہ ربط برقرار رہا۔

    مطالعہ میں بتایا گیا کہ ذہنی صحت کے مسائل کو منظم کرنے کے لیے سماجی تجویز کردہ پروگراموں میں دریاؤں اور نہروں کے دورے کو شامل کیا جانا چاہیے۔

    میکلی نے مزید کہا، یہ نتائج اس بات کا ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ ہم پانی اور بہبود کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور اس تجویز کی حمایت کرتے ہیں کہ نہروں اور دریاؤں کے دورے سماجی تجویز کردہ اسکیموں کا حصہ بن سکتے ہیں، جو دماغی صحت کی حمایت میں کردار ادا کرتے ہیں۔

    زیادہ سوچنا دماغ میں زہریلے کیمیکلز کی نشوونما کا باعث بن سکتا ہے،تحقیق

    مطالعہ کے نتائج میں نوٹ کیا گیا کہ شہری اور دیہی مناظر کی منصوبہ بندی اور تخلیق کرنے کے لیے جو تمام باشندوں کی ذہنی صحت کو سپورٹ کرتے ہیں، ان ماحولیاتی نظام کے اثرات کے بارے میں زیادہ گہرے علم کی ضرورت ہوگی۔

    شرکاء نے اپنے اسمارٹ فونز پر اربن مائنڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کی اور مخصوص تحقیقی مطالعہ تک رسائی کے لیے پاس کوڈ ‘واٹر’ درج کیا۔ انہیں متعدد اسکرینیں دکھائی گئیں جن میں ان کی باخبر رضامندی کی درخواست کرنے سے پہلے مطالعہ کے اہداف کی تفصیل دی گئی تھی۔

    اس کے بعد، شرکاء کو ایک بنیادی سروے مکمل کرنے کی ضرورت تھی جس میں ان سے ان کی عمر، جنس، نسل، تعلیم کی سطح اور دیگر سماجی-آبادیاتی تفصیلات کے ساتھ ساتھ ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔

    شرکاء سے 14 دنوں میں، تقریباً 2 منٹ تک جاری رہنے والا ایک مختصر ماحولیاتی لمحاتی جائزہ (EMA) مکمل کرنے کی درخواست کی گئی۔ EMAs کے لیے پش نوٹیفیکیشنز شرکاء کو روزانہ تین بارمختلف وقفوں میں تقسیم کیے گئے-

    تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

  • واٹس ایپ شادی شدہ جوڑوں کا رشتہ بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے،تحقیق

    واٹس ایپ شادی شدہ جوڑوں کا رشتہ بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے،تحقیق

    ہرزلیا: میٹا کی زیرملکیت ایپلیکشن واٹس ایپ شادی شدہ جوڑوں کا رشتہ بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

    باغی ٹی وی : جہاں نوجوان ڈیجیٹل دنیا میں پیدا ہوئے ، پرانی نسلوں کو یہ سیکھنا پڑا کہ اس کے مطابق کیسے ڈھالنا ہے۔ ایسی ہی عمر کا ایک گروہ جنریشن X (جو 1965-1980 کے درمیان پیدا ہوا) ہے،جو زندگی میں نسبتاً دیر سے ڈیجیٹل دنیا سے ہم آہنگ ہوا اور اسے "ڈیجیٹل تارکین وطن” کہا جاتا ہے۔

    واٹس ایپ کی ڈیلیٹ میسجز کے حوالے سے فیچر کی آزمائش

    ریچ مین یونیورسٹی کے محققین کی طرف سے کی گئی ایک نئی تحقیق میں ڈاکٹر گیلی ایناو، ایڈلسن سکول آف انٹرپرینیورشپ کے محقق اور فیکلٹی ممبر، اور سیمی اوفر سکول آف کمیونیکیشنز کے تال نادیل ہارونی اور پروفیسر یائر گیلی نے اس بات کا جائزہ لیا کہ ہم اپنے تعلقات کو واٹس ایپ کے ذریعے کیسے چلاتے ہیں اور چاہے یہ اس سے ملتا جلتا ہو یا اس سے مختلف جس طرح سے ہم انہیں حقیقی زندگی میں ہینڈل کرتے ہیں۔

    اسکالر جان گوٹ مین، ایک طبی ماہر نفسیات اور ریاضی دان، نے رشتے میں لڑائی کی اہمیت کو تسلیم کیا، اور دعویٰ کیا کہ تنازعات سے نمٹنے کی صلاحیت ہی ایک مستحکم رشتے کی بنیاد ہے۔ اس نے رشتے میں تنازعات کے انتظام کے تین نمونوں کی بھی نشاندہی کی جو اس کے استحکام کی پیش گوئی کرنے میں بھی مدد کر سکتے ہیں۔

    جرنل نیو میڈیا اینڈ سوسائٹی میں شائع تحقیق میں ماہرین نے دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ واٹس ایپ جوڑوں کے لیے لڑائی اور صلح کا بہترین مقام ثابت ہوسکتی ہے محققین کا کہنا تھا کہ واٹس ایپ سے لوگوں کو اپنے شریک حیات کا نکتہ نظر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

    محققین نے کہا کہ ایموجیز سے جذبات اور غصے کا اظہار زیادہ بہتر طریقے سے کرنا ممکن ہوتا ہے واٹس ایپ چیٹ رشتے کو بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہےاس تحقیق میں 35 سے 50 سال کی عمرکے ایسے 18 جوڑوں کو شامل کیا گیا تھا جن کی شادی کو 5 سال کا عرصہ ہوچکا تھا۔

    واٹس ایپ کا 3 نئے پرائیویسی فیچرز کا اعلان

    اس کے بعد دیکھا گیا کہ جھگڑے کی صورت میں ان جوڑوں کی جانب سے کس طرح کے رویے کا اظہار کیا جاتا ہے جیسے سرد مہری، جذباتی انداز یا دیگر،پھر یہ دیکھا گیا کہ یہی جھگڑا میسجنگ ایپ میں کرنے سے تعلق پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    نتائج سے معلوم ہوا کہ حقیقی زندگی میں جوڑے جھگڑے کے بعد ایک دوسرے سے بات کرنا چھوڑ سکتے ہیں مگر میسجنگ ایپ پر ایک دوسرے کے پیغامات کو کئی بار پڑھتے ہیں تاکہ نکتہ نظر کو سمجھ سکیں۔

    محققین نے کہا کہ 1960 یا 1970 کی دہائی میں پیدا ہونے والے افراد ڈیجیٹل طریقوں کی بجائے براہ راست بات کرنا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں، مگر ہم نے دریافت کیا کہ ضروری نہیں یہ خیال واقعی درست ہو۔

    انہوں نے کہا کہ واٹس ایپ سے زندگی بھر کے اس رشتے کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اضافی پلیٹ فارم مل جاتا ہے۔

    واٹس ایپ نے اسٹیٹس سے متعلق دلچسپ فیچر پر کام شروع کر دیا

  • ڈارٹ اسپیس کرافٹ 26 ستمبر کو سیارچے سے ٹکرائے گا،ناسا

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ 26 ستمبر کو سیارچے سے ٹکرائے گا،ناسا

    ناسا کا پہلا سیاروی دفاعی اسپیس کرافٹ، جس کو زمین سے 1 کروڑ 9 لاکھ کلو میٹر دور سیارچے کا رخ بدلنے بھیجا گیا ہے،رواں ماہ ستمبر میں 24 ہزار 140 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے خلائی چٹان سے ٹکرائے گا۔

    باغی ٹی وی : ڈبل ایسٹیرائڈ ری ڈائریکشن ٹیسٹ (DART) کو گزشتہ برس نومبر میں خلاء میں بھیجا گیا تھا جو تقریباً ایک سال کے سفر کے بعد اب ڈائمورفس نامی ایک چھوٹے سیارچے سے جا کر ٹکرائے گا۔ یہ سیارچہ ڈائڈِموس نامی بڑے سیارچے کے گرد گھومتا ہے۔

    زمین سے 100 سال کے نوری فاصلے پرسمندر سے ڈھکا سیارہ دریافت

    جوڈائڈِموس ( Didymos) نامی ایک بڑے سیارچےکےگرد چکر لگاتا ہےناسا کا کہنا ہے کہ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ نہ تو کوئی سیارچہ زمین کی طرف بڑھ رہا ہے، لیکن ڈیمورفوس، ایک اندازے کے مطابق 520 فٹ لمبا سیارچہ ہے جو زمین سے ٹکرانے کی صورت میں کافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    نتائج سے قطع نظر، یہ مشن ماہرین فلکیات اور سائنس دانوں کو اہم ڈیٹا فراہم کرے گا کہ اگر کوئی سیارچہ زمین سے ٹکرانے کے راستے پر ہو تو اس کا ردعمل کیا ہوگا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اب کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    قبل ازیں ناسا کے سیاروں کے دفاعی افسر لنڈلی جانسن نے کہا تھا کہ ہم ایسی صورتحال میں نہیں رہنا چاہتے جہاں ایک سیارچہ زمین کی طرف بڑھ رہا ہو اور پھر اسے اس قسم کی صلاحیت کی جانچ کرنی پڑے۔ ہم دونوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں کہ خلائی جہاز کیسے کام کرتا ہے اور اس کا ردعمل کیا ہوگا کبھی بھی اس طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے-

    دو طا قتورترین ٹیلی اسکوپ سے چھ راتوں کے مشاہدے کے بعد اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ ڈائڈِموس کا مدار امریکی خلائی ایجنسی کے ڈارٹ کرافٹ کی سیدھ میں آ چکا ہے۔ان مشاہدات نے 2021 میں کی جانے والی مدار کی پیمائشوں کی تصدیق کی ہے یہ مشاہدے جولائی کے مہینے میں ایریزونا کی لویل ڈِسکوری ٹیلی اسکوپ اور چلی کی میگیلن ٹیلی اسکوپ سے کیے گئے۔

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    جان ہوپکنزیونیورسٹی سےتعلق رکھنےوالے ڈارٹ اِنویسٹی گیشن ٹیم کے شریک سربراہ اینڈی رِوکِن کا کہنا تھا کہ ٹیم نے جو پیمائشیں 2021 کے ابتداء میں حاصل کیں تھیں وہ ڈارٹ کو صحیح مقام تک پہنچانےکےلیے اور ڈائمورفس کے ساتھ صحیح وقت پر تصادم کے لیے اہم تھیں۔

    انہوں نے کہا کہ اُن پیمائشوں کی نئے مشاہدات سے تصدیق یہ بتاتی ہے کہ ہمیں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں اور ہم ہدف کے تعاقب کے لیے درست سمت میں گامزن ہیں ڈائڈِموس اور ڈائمورفس اس سال ستمبر کے آخر میں زمین کے قریب سے یعنی 1 کروڑ 8 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزریں گے۔

    32 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کی لاگت سے بنائے گئے اس 548.8 کلوگرام وزنی اسپیس کرافٹ کا مقصد اس کو ڈائمورفس سے ٹکرا کر سیارچے کی رفتار کا عشرِعشیر حصہ بدلنا ہے اسپیس کرافٹ سیارچے سے ستمبر کی 26 تاریخ کو ٹکرائے گا۔

    DART 26 ستمبر کو شام 7:14 بجے خلا میں اپنا 10 ماہ کا سفر مکمل کرے گا۔ ای ٹی ناسا کی لائیو کوریج شام 6 بجے شروع ہوگی۔

    ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار

  • گرین لینڈ میں پگھلنے والی برف سطح سمندرمیں ایک فِٹ تک کا اضافہ کرسکتی ہے، تحقیق

    گرین لینڈ میں پگھلنے والی برف سطح سمندرمیں ایک فِٹ تک کا اضافہ کرسکتی ہے، تحقیق

    کوپن ہیگن: ایک نئی تحقیق کے مطابق گرین لینڈ میں پگھلنے والی برف کی چادر کے سبب سمندر کی سطح میں تقریباً ایک فِٹ تک کا اضافہ ہوسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : جرنل نیچر کلائمیٹ چینج میں شائع ہونےو الی تحقیق میں بتایا گیا کہ برف کی چادر کا 3.3 فی صد حجم پگھلنے کے سبب موجودہ سطح سمندر تقریباً 11 انچ تک بڑھ سکتی ہے۔

    کلینیکل ٹرائل جس میں انسانی جسم کے اندر پہلی بار ایک سے زیادہ جگر اگائے جائیں گے

    تحقیق میں بتایا گیا کہ سمندروں کی سطح میں بلندی کے اسباب میں بڑے پیمانے پر آسمان سے نیچے آنے والا پانی (خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو)، برف کا پہاڑوں سے پھسل کر سمندر میں گِرنا(آئس ڈس چارج) اور برف کا پگھل کر پانی بن جانا شامل ہیں۔

    گرین لینڈ کی برف کی چادر کا پگھلنا موجودہ سطح سمندر میں اضافے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور یہ 1980 کی دہائی میں ابھر کر سامنے آیا ہے۔

    پرتگال: یورپ کے سب سے بڑے ڈائنوسار کی ہڈیاں برآمد

    جیولوجیکل سروے آف ڈینمارک اینڈ گرین لینڈ کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں محققین کا کہنا تھا کہ اگر پوری دنیا آج فاسل ایندھن جلانا بند کردے تب بھی گرین لینڈ میں 10 ہزار کھرب ٹن برف پگھل جائے گی۔

    محققین نے واضح کیا کہ برف کے پگھلنے کے سبب سطح سمندر میں اضافہ 2100 تک ہوگا۔ اگرچہ تحقیق میں صرف گرین لینڈ کی برف کی چادروں کے متعلق بات کی گئی ہے، اس میں انٹارکٹیکا میں موجود دیگر گلیشیئرز شامل نہیں ہیں۔

    تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

  • دنیا کی پہلی اسپورٹس کارہوا میں پرواز کرنے کے لیے تیار

    دنیا کی پہلی اسپورٹس کارہوا میں پرواز کرنے کے لیے تیار

    ریسنگ کار اب دوڑنے کے ساتھ اڑیں گی بھی، دنیا کی پہلی تین پہیوں والی اسپورٹس کار دو سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوا میں پرواز کرنے کے لیے تیار ہے۔

    باغی ٹی وی : 14 سال کی ترقی کے بعد، دنیا کی پہلی تین پہیوں والی اڑنے والی اسپورٹس کار – سوئچ بلیڈ – کو بالآخر پرواز کی جانچ شروع کرنے کی منظوری مل گئی ہے،گاڑی نے رن وے پر کامیاب آزمائشی مراحل طے کیے۔

    کلینیکل ٹرائل جس میں انسانی جسم کے اندر پہلی بار ایک سے زیادہ جگر اگائے جائیں گے

    سیمسن اسکائی کی طرف سے تیار کردہ زمین پر پروٹوٹائپ اس کار کی رفتار 125 میل فی گھنٹہ جبکہ فضا میں 200 میل فی گھنٹہ (322 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے تیرہ ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اسے ایک DIY کٹ سے تیار کیا گیا ہے لینڈنگ کے ساتھ ہی کار ڈرائیونگ موڈ میں تبدیل ہو کر پروں اور دم کو محفوظ رکھنے کے لیے فولڈ کرلیتی ہے۔

    امریکی سیمسون سکائی کمپنی کی بنائی گئی اس فلائینگ کار کو تیار کرنے میں 14 سال کا وقت لگا جبکہ اس پر 3 کروڑ 70 لاکھ روپے کی لاگت آئی۔ کمپنی کے مطابق 52 ممالک کے 21 سو افراد گاڑی کی پہلے سے ہی بکنگ کرا چکے ہیں۔

    زمین پر رہتے ہوئے، سوئچ بلیڈ اسپورٹس کار اپنے تین پہیوں پر اور، صرف 16.8 فٹ (5.1 میٹر) لمبائی اور 6 فٹ (1.8 میٹر) چوڑی پر، گیراج میں تھوڑی سی جگہ گھیرتی ہے-

    ایلون مسک کا ٹیسلا کار کو اسٹار لنک سیٹلائٹ سے منسلک کرنے کا اعلان

    اوریگون میں قائم کمپنی کے مطابق، 52 ممالک اور امریکہ کی تمام 50 ریاستوں کے 2,100 افراد نے گاڑیوں کی ایک کٹ پہلے ہی اس کے لیے بُک کروا رکھی ہے سیمسن اسکائی کہتے ہیں کہ ابتدائی اختیار کرنے والوں میں ناسا کے انجینئر، ایئر لائن پائلٹ، کاروباری وغیرہ شامل ہیں۔

    امریکی فضائی کمپنی FAA کی منظوری نے گزشتہ چند ہفتوں میں 360 نئے ریزرویشنز کو راغب کیا ہے اور یہ قابل ذکر ہے کہ ان میں سے 58 فیصد ابھی تک پائلٹ نہیں ہیں۔

    سڑک پر سوئچ بلیڈ لے جانے کے لیے ڈرائیور کا لائسنس درکار ہوگا، اور اسے اڑانے کے لیے پائلٹ کا لائسنس ضروری ہے، جو کہ کسی سرکاری یا نجی ہوائی اڈے کا ہونا چاہیے یہ عمودی ٹیک آف اور لینڈنگ (VTOL) گاڑیوں سے مختلف ہے، جو سڑک سے ٹیک آف کر سکتی ہیں۔

    نان اسٹک فرائی پین کا استعمال جگر کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے،تحقیق

    خریدار کو کٹ خریدنے کے بعد اپنی گاڑی کا 51 فیصد بنانا ہوگا، کیونکہ FAA طیارے کو ‘تجرباتی/ہوم بلٹ’ زمرے میں رکھتا ہے ہر سوئچ بلیڈ کٹ کی لاگت تقریباً$170,000 (£145,000) ہوگی اور اس میں انجن، ٹرانسمیشن، ایویونکس، انٹیریئرز اور سیمسن بلڈر اسسٹ پروگرام تک رسائی شامل ہے۔

    مؤخر الذکر تعمیراتی کام میں مدد حاصل کرنے کے لیے بلڈر کو سیمسن بلڈر اسسٹ سنٹر کا دورہ کرنے کی اجازت دیتا ہے، جس میں تقریباً ایک ہفتہ لگے گا۔

    سوئچ بلیڈ کی ڈرائیونگ کی زیادہ سے زیادہ رفتار 125 میل فی گھنٹہ (201 کلومیٹر فی گھنٹہ) سے زیادہ ہے، اور سیمسن اسکائی کا دعویٰ ہے کہ یہ ‘ایک اعلیٰ کارکردگی والی اسپورٹس کار کے طور پر سمیٹنے والے منحنی خطوط کے ذریعے چلتی ہے لیکن جب اڑاتی ہے تو یہ 200 میل فی گھنٹہ (305 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے 13,000 فٹ (4 کلومیٹر) کی بلندی تک پہنچ سکتا ہے۔

    یہ 450 میل (724 کلومیٹر) کا فاصلہ طے کرنے کے قابل بھی ہے اس سے پہلے کہ اس کے 113-لیٹر فیول ٹینک کو ری فلنگ کی ضرورت ہو ایک بار جب یہ زمین پر اترتی ہے، تو یہ تیزی سے واپس ڈرائیونگ موڈ میں تبدیل ہو جاتی ہے-

    اپنے خیالات میں کھو جانا مسائل کے حل کے لیے فائدہ مند ہے،تحقیق

  • رشتہ دار نہ ہونے کےباوجود 2 افراد کی شکلیں ایک جیسی کیوں ہوتی ہیں؟

    رشتہ دار نہ ہونے کےباوجود 2 افراد کی شکلیں ایک جیسی کیوں ہوتی ہیں؟

    ایک دوسرے سےکوئی تعلق نہ ہونے کےباوجود 2 افراد کی شکلیں ایک جیسی کیوں ہوتی ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہےجس کا جواب سائنسدان ڈھونڈنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں تاہم اب وہ اس کا ممکنہ جواب تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : "سی این این” کے مطابق اسپین کے محققین نے اس سوال کا جواب جاننے کی کوشش کی اور اس کے نتائج جرنل سیل رپورٹس میں شائع ہوئے۔

    چہرے کی شناخت کرنے والے سافٹ ویئر کو بھی ایک جیسے جڑواں بچوں کے علاوہ انہیں بتانے میں مشکل پیش آئی لیکن اب سائنس دانوں کا خیال ہے کہ وہ اس بات کی وضاحت کر سکتے ہیں کہ وہ کیا چیز ہے جس کی وجہ سے وہ اتنے مماثل نظر آتے ہیں اور یہ بتا سکتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کو ڈوپل گینگر کیوں ہو سکتا ہے۔

    بہت زیادہ گرم چائے یا کافی پینے سےغذائی نالی کے کینسر کا تقریباً تین گناہ خطرہ بڑھ…

    ایک نئی تحقیق کےمطابق، جو لوگ ایک دوسرے سےمشابہت رکھتےہیں، لیکن ان کا براہ راست تعلق نہیں ہےتب بھی ان میں جینیاتی مماثلت پائی جاتی ہے تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ رشتے دار نہ ہونے کے باوجود جن افراد کی شکلیں ایک دوسرےسے ملتی ہیں وہ حیران کن طور پر جینیاتی طور پربھی ایک جیسے ہوتے ہیں ایسی جینیاتی مماثلت رکھنےوالےافراد کا وزن، طرز زندگی اورعادات بھی ایک جیسی ہوسکتی ہیں، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ جینز بھی ہماری شکل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

    سائنس دانوں نے طویل عرصے سے سوچا ہے کہ یہ کیا چیز ہے جو کسی شخص کے ڈوپل گینگر کو تخلیق کرتی ہے۔ یہ فطرت ہے یا پرورش؟

    اسپین کے شہربارسلونا میں جوزپ کیریرس لیوکیمیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے محقق ڈاکٹر مینیل ایسٹیلر نے کہا کہ وہ ماضی میں جڑواں بچوں پر تحقیقی کام کرتے رہے ہیں اوراسی وجہ سے انہیں ایسےافراد میں دلچسپی تھی جو ہم شکل توہوتے ہیں مگرآپس میں رشتے دار نہیں ہوتے اس مقصد کے لیے انہوں نے 32 ہم شکل افراد کی خدمات حاصل کیں اور ایک فوٹو پراجیکٹ شروع کیا۔

    محققین نے ان افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کرائے، زندگی کے بارے میں سوالنامے بھروائے اور چہرے شناخت کرنے والے 3 مختلف پروگرامز کا استعمال بھی کیا۔

    ذیابیطس سے بینائی سے محروم ہونیوالوں کیلئے کم لاگت والا نیا لیزر علاج دریافت

    نتائج میں دریافت ہوا کہ 16 ہم شکل جوڑوں کا اسکور ہم شکل جڑواں بہن بھائیوں جیسا تھا، یعنی کمپیوٹر سسٹم ان کے چہرے درست شناخت نہیں کرسکا جبکہ ہم شکل افراد کے باقی 16 جوڑے انسانی آنکھ کے لیے تو ایک جیسے تھے مگر کمپیوٹر الگورتھم نے انہیں شناخت کرلیا۔

    اس کے بعد ڈی این اے کی گہرائی میں جاکر جانچ پڑتال کی گئی تو معلوم ہوا کہ جن افراد کو کمپیوٹر سسٹم پہچان نہیں سکا، ان کے جینز دیگر کے مقابلے میں ایک دوسرے سے بہت زیادہ ملتے جلتے تھے۔

    محققین نے بتایا کہ ایسے ہم شکل افراد جینیاتی طور پر بھی ایک دوسرے سے بہت زیادہ مماثلت رکھتے تھے، یہی جینز ناک، آنکھوں، منہ، ہونٹوں اور ہڈیوں کی ساخت پر بھی اثرانداز ہوئے البتہ ان افراد کی زیادہ گہرائی میں جاکر جانچ پڑتال سے معلوم ہوا کہ کچھ حد تک وہ ایک دوسرے سے مختلف بھی تھے۔

    ماحول اور رویے کسی فرد کے جینز کے افعال میں بھی تبدیلیاں لاتے ہیں اور یہی ان میں بنیادی فرق تھا تحقیق کے نتائج سے چہرے کو شناخت کرنے والے سافٹ وئیر کے محدود ہونے کا عندیہ بھی ملتا ہے۔

    تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

  • بہت زیادہ گرم چائے یا کافی پینے سےغذائی نالی کے کینسر کا تقریباً تین گناہ خطرہ بڑھ جاتا ہے،تحقیق

    بہت زیادہ گرم چائے یا کافی پینے سےغذائی نالی کے کینسر کا تقریباً تین گناہ خطرہ بڑھ جاتا ہے،تحقیق

    سوئیڈن میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ بہت زیادہ گرم چائے یا کافی پینے کے نتیجے میں غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : کیمبرج یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گرم کافی یا چائے پینے سے آپ کے گلے کے کینسر کا خطرہ تقریباً تین گنا بڑھ جاتا ہے-

    برطانیہ میں ہر سال تقریباً 10,000 افراد غذائی نالی کے کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں اور تازہ ترین نتائج بتاتے ہیں کہ کوئی شخص گرم مشروبات ترک کر کے اپنے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔

    محققین عطیہ کیے گئے گردے کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیاب

    یوکے بائیوبینک سے برطانیہ میں نصف ملین سے زیادہ لوگوں کے ڈیٹا میں ان لوگوں کو دیکھا جو دوسروں کے مقابلے زیادہ کافی پیتے ہیں اور ان کے کینسر کے خطرے کو دیکھا۔

    مطالعہ کے مصنف ڈاکٹر اسٹیفن برجیس نے ٹیلی گراف کو بتایا کہ ہم اس جینیاتی اسکور کو جانتے ہیں جسے ہم دیکھ رہے ہیں کہ کافی پینے کے رجحان میں اضافہ ہوتا ہے لیکن یہ زیادہ چائے پینے کے رجحان کو بھی بڑھاتا ہے۔”

    جرنل کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ کافی کے استعمال سے غذائی نالی کے علاوہ کسی بھی قسم کے کینسر کا خطرہ نہیں بڑھتا ہے۔

    کیرولینسکا انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں مشروبات کےدرجہ حرارت اور غذائی نالی کے کینسر کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا اس تحقیق میں فن لینڈ اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 5 لاکھ 80 ہزار افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔

    نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ کافی زیادہ پینے کے عادی ہوتے ہیں ان میں غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں 2.8 گنا زیادہ ہوتا ہےدرحقیقت لوگ جتنے زیادہ گرم مشروب کو پینا پسند کرتے ہیں، اتنا ہی ان میں کینسر کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔

    سینے کی جلن اور تیزابیت کا سبب بننے والی غذائیں

    تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ کافی یا چائے زیادہ گرم پیتےہیں ان میں کینسرکا خطرہ 5.5 گنا زیادہ ہوتا ہے جو افراد ہلکی گرم چائے یا کافی پیتے ہیں ان میں 4.1 فیصد اسی طرح جو افراد معتدل حد تک گرم کافی پیتے ہیں ان میں غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ 2.7 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

    ٹیم نے اس بارے میں ڈیٹا اکٹھا نہیں کیا کہ ایک شخص نے کتنی کافی پیی، اس لیے یہ بتانے سے قاصر ہے کہ آیا گرم مشروبات کی مقدار زیادہ خطرے سے منسلک ہے۔

    ڈاکٹر برجیس نے کہا کہ کافی پینے سے غذائی نالی کے کینسر میں اضافہ ہونے کے سبب کے اثرات کے ثبوت موجود ہیں، یہاں تک کہ ان لوگوں میں بھی جو گرم مشروبات کو ترجیح دیتے ہیں۔

    تحقیق میں گرم مشروبات اور کینسر کی دیگر اقسام کے درمیان کوئی تعلق دریافت نہیں ہوا، جس کے باعث محققین کا خیال ہے کہ کافی یا چائے کا درجہ حرارت غذائی نالی کو نقصان پہنچاتا ہے۔

    تحقیق کے مطابق گرم مشروبات غذائی نالی کے کینسر کا سامنا ہوسکتا ہے، جبکہ چوہوں میں گرمی پانی پینے سے اس کینسر کو دریافت کیا گیا ہے۔

    لیکن محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کافی سے دوسرے کینسر کا کوئی خطرہ نہیں ہے، لیکن اس کی سب سے زیادہ وضاحت یہ ہے کہ گرم مشروبات کی گرمی گلے کو نقصان پہنچاتی ہے، جس سے خطرناک خلیات بننے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    ڈاکٹر برجیس نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ تھرمل انجری سب سے زیادہ قابل فہم مفروضہ ہے، اور یہ اس بات کی وضاحت کرے گا کہ ہم کافی نہ پینے والوں میں بھی اثر کے ثبوت کیوں دیکھ رہے ہیں جن کےبارےمیں ہمارا خیال ہےکہ وہ چائے پینے والے ہوں گے یہ کہنا غیر معقول ہو گا کہ یہ لوگوں کو کہہ رہا ہے کہ ‘کافی کے بجائے، آپ کو چائے پینی چاہیے اور آپ بالکل ٹھیک ہو جائیں گے-

    آواز کی لہروں سے کینسر ختم کرنے کا تجربہ کامیاب

    مجھے لگتا ہے کہ یہ اس کے برعکس ہے جو ہم اصل میں کہہ رہے ہیں۔ یہ کافی یا کیفین کے بارے میں کسی خاص چیز کے بجائے تھرمل چوٹ لگتی ہےبہت زیادہ درجہ حرارت پر کافی پینے سے گریز کرنا واقعی نتیجہ ہے۔ اگر آپ محسوس کر رہے ہیں جیسے آپ کے گلے کو یہ نقصان پہنچا ہے تو یہ ایسی چیز ہے جس کے بارے میں آگاہ ہونا اور ممکنہ طور پر دوبارہ ڈائل کرنے کے قابل ہے۔

    تاہم، انہوں نے مزید کہا کہ کافی پینے والوں کو زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس تحقیق میں کینسر کی عام شکلوں سے کوئی تعلق نہیں ملا۔

    ڈاکٹر برجیس نے مزید کہا کہ میرے خیال میں مجموعی طور پر کافی پینے والوں کے لیے یہ اچھی خبر ہے کہ کافی کا تعلق کینسر کی زیادہ تر اقسام اور یقینی طور پر کینسر کی سب سے عام شکلوں سے نہیں تھا۔

    ڈاکٹر سوزانا لارسن، کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ میں مقیم ایک وبائی امراض کے ماہر، جو اس تحقیق میں شامل تھے، نے کہا: "ہمارے نتائج اس ثبوت کو تقویت دیتے ہیں کہ کافی کا استعمال عام کینسر کے خطرے پر غیر جانبدار اثر ڈالتا ہے۔

    ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے تحقیق

  • پرتگال: یورپ کے سب سے بڑے ڈائنوسار کی ہڈیاں برآمد

    پرتگال: یورپ کے سب سے بڑے ڈائنوسار کی ہڈیاں برآمد

    پرتگال : یورپ میں اب تک پائے جانے والے سب سے بڑے ڈائنوسار کی ہڈیاں برآمد ہوئی ہیں جو سبزہ خور سوروپوڈ سے تعلق رکھتی ہے۔

    باغی ٹی وی : یورپ میں اب تک پائے جانے والے سب سے بڑے ڈائنوسار کی ہڈیاں پرتگال کے وسط سے پومبل شہر سے برآمد ہوئی ہیں جس کا قد 12 میٹر اور سر سےدم تک کی لمبائی 25 میٹر تھی یہ جانور پتوں اور سبزے پرگزارہ کرتے تھے اورچاروں پیروں پر چلا کرتے تھے-

    2017 میں ایک شخص کو اپنے پلاٹ پر کئی غیرمعمولی بڑی ہڈیاں دکھائی دیں یہ ہڈیاں تعمیراتی عمل میں ملی برآمد ہوئی تھیں اس کے بعد سائنسدانوں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے باقاعدہ تحقیق شروع کی۔

    مراکش:9 میٹر لمبی سمندری چھپکلی کی باقیات دریافت


    بعد اگست 2022 میں پرتگالی اور ہسپانوی ماہرین ایک جگہ جمع ہوئے اور یہاں باضابطہ تحقیق کی اس کے بعد وہاں سے سوروپوڈ کی مزید ہڈیاں ملیں جس کے بعد ماہرین نے اسے یورپ سے دریافت ہونے والا سب سے بڑا ڈائنوسار قرار دیا ہے۔

    سائنسدانوں کا ایک صدی قبل معدوم ہوئےتسمانین ٹائیگر کودوبارہ وجود میں لانے کا اعلان

    تحقیقی ٹیم میں شامل لزبن یونیورسٹی کی فیکلٹی آف سائنسز سے تعلق رکھنے والی ماہر حیاتیات ، ایلزبتھ میلافایا نے کہا کہ اس طرح کے آثار کی دریافت عام بات نہیں، کیونکہ اس ڈائنوسار کی پسلیاں اچھی حالت میں ملی ہیں دوسری اہم بات یہ ہے کہ جس طرح اس کے رکازات دریافت ہوئے ہیں وہ عام حالات میں ممکن نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ جراسک عہد کی یہ دریافت غیرمعمولی ہے۔

    ایک اندازے کےمطابق لگ بھگ 10 سے 16 کروڑ سال قبل سوروپوڈ ڈائنوسار زندہ تھےاور اب تک انہیں سب سے بڑے ڈائنوسار میں شمار کیا جاتا ہے اس کے اعضا مکمل طور پر بن چکے تھے فی الحال اس کے پسلیاں اور گردن کےکئی مہرے دریافت ہوئے ہیں تاہم مزید کھدائی کے بعد کئی اور قیمتی رکازات مل سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ پومبل علاقے میں اس سے قبل بھی ڈائنوسار کے آثار ملے ہیں کیونکہ یہاں کروڑوں سال قدیم جراسک پرتیں بہت واضح ہیں۔

    محققین نے سمندر میں ڈولفن کے خوفناک راز پتا لگا لئے

  • کلینیکل ٹرائل جس میں انسانی جسم کے اندر پہلی بار ایک سے زیادہ جگر اگائے جائیں گے

    کلینیکل ٹرائل جس میں انسانی جسم کے اندر پہلی بار ایک سے زیادہ جگر اگائے جائیں گے

    سائنسدانوں کی جانب سے ایک نئے طریقہ علاج پر کام ہورہا ہے جس کے تحت انسانی جسم میں 5 جگر اگانے کی کوشش کی جائے گی۔

    باغی ٹی وی:دنیا کے ایسے پہلے کلینیکل ٹرائل میں ایک فرد کےجسم کے اندر ایک سے زیادہ جگر اگائے جائیں گے جو بعد میں مریضوں میں ٹرانسپلانٹ کیے جائیں گے۔

    ذیابیطس سے بینائی سے محروم ہونیوالوں کیلئے کم لاگت والا نیا لیزر علاج دریافت

    آنے والے ہفتوں میں، بوسٹن، میساچ وسٹس میں ایک سائنسدان ایک نئے علاج کا تجربہ کریں گے جو ان کے جسم میں دوسرا جگر پیدا کر سکتا ہے اور یہ صرف آغاز ہے اس کے بعد آنے والے مہینوں میں، مزید ان خوراکوں کی جانچ کریں گے جو ان کے جسم میں چھ جگر اگا سکیں-

    علاج کے پیچھے کمپنی، LyGenesis، ان لوگوں کو جگر کی تباہ کن بیماریوں سے بچانے کی امید رکھتی ہے جو ٹرانسپلانٹ کے اہل نہیں ہیں ماہرین کےخیال میں اس طریقہ علاج سے 6 ‘چھوٹے جگر’ اگائے جاسکتے ہیں اس مقصد کےلیے ڈونر کےجگر کے خلیات کو جگر کے امراض کے شکار مریض کے لمفی نوڈز میں اس توقع کے ساتھ داخل کیا جائے گا کہ نئے عضو اگانے میں کامیابی مل سکے گی۔

    ماہرین نے بتایا کہ اگر اس میں کامیابی حاصل ہوئی تو مستقبل میں مزید افراد پر اس کے تجربات کیے جائیں گے اور اس طریقہ کار سے تیار ہونےوالےاعضا کواستعمال کرکےمریضوں کی مدد کرنا انقلابی قدم ثابت ہوگا ویسے انسانی جگر میں خود کو نیا بنانےکی زبردست صلاحیت ہوتی ہے مگر کچھ کیسز میں عضو کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی ممکن نہیں ہوتی اور ٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہوتی ہے گر بیماری کی شدت بہت زیادہ ہونے پر مریضوں کا ٹرانسپلانٹ نہیں ہوتا کیونکہ ان کی حالت سرجری کے قابل نہیں ہوتی۔

    ذیابیطس سے بینائی سے محروم ہونیوالوں کیلئے کم لاگت والا نیا لیزر علاج دریافت

    یہ طریقہ چوہوں، سوروں اور کتوں میں کام کرتا ہے اس سے توقع پیدا ہوئی ہے کہ انسانی ٹرائل میں بھی کامیابی حاصل ہوسکتی ہے اب معلوم کریں گے کہ آیا یہ لوگوں میں کام کرتا ہے

    ٹرائل میں جگر کے امراض سے بہت زیادہ بیمار 12 افراد کو شامل کیا جائے گا، ایک رضاکار کے جسم میں جگر کے 5 کروڑ خلیات کو داخل کیا جائے گا اور جسم میں جانے کے بعد ان کی تعداد 25 کروڑ تک پہنچنے کا امکان ہے جو 5 چھوٹے جگر تیار کرنے کے لیے کافی ہے۔

    عطیہ دہندگان کے اعضاء کی فراہمی بہت کم ہے، اور عطیہ کیے گئے ان میں سے بہت سے استعمال نہیں کیے جا سکتے ہیں- مثال کے طور پر بعض اوقات ٹشو کو بہت زیادہ نقصان پہنچتا ہےنیا طریقہ ان اعضاء کا استعمال کر سکتا ہےجو دوسری صورت میں ضائع کر دیئے جاتے اور محققین کا خیال ہے کہ وہ عطیہ کیے گئے ایک عضو سے تقریباً 75 افراد کا علاج کروا سکتے ہیں۔

    اس ٹرائل کا اختتام 2 سال کے دوران ہوگا اور ابھی کچھ کہنا ممکن نہیں مگر محققین کامیابی کے لیے پرامید ہیں۔

    تجرباتی دوا سے کینسر کے تمام مریض شفایاب ،ماہرین نے تحقیق کو معجزہ قرار دیدیا